Urdu Hindi dictionary Part 1 by Taha Naseem

Articles

اردو ہندی ڈکشنری حصہ اول

طہٰ نسیم

Urdu Hindi dictionary by Taha Naseem

Articles

اردو ہندی ڈکشنری

طہٰ نسیم

Faiz ki Ghazal: Tajaziati Mutalah by Dr. Naaz Begum

Articles

فیض کی غزل : تجزیاتی مطالعہ

ڈاکٹر ناز بیگم

Tareekh e Adab e Urdu P1 by Noorul Hasan Naqvi

Articles

تاریخِ ادبِ اردو حصہ اول

پروفیسر نور الحسن نقوی

Tareekh e Adab e Urdu P.2 by Noorul Hasan Naqvi

Articles

تاریخِ ادبِ اردو حصہ دوم

پروفیسر نور الحسن نقوی

London ki aik Raat by Sajjad Zaheer

Articles

لندن کی ایک رات

سجاد ظہیر

Allama Semab Akbarabadi by Zahida Hamid Iqbal

Articles

علامہ سیماب اکبرآبادی، شخصیت اور ادبی خدمات

زاہدہ حامد اقبال صدیقی

Allama Semab Akbarabadi

بیسویں صدی کے اوائل میں کائناتِ اردو ادب میں ایسے کئی روشن ستارے نمودار ہوئے جو اپنی وسعتوں میں ایک پوری کہکشاں سمیٹے ہوئے تھے ان میں اقبال کے ساتھ ساتھ فانی بدایونی، جلال لکھنوی، ریاض خیر آبادی، مضطر خیرآبادی، عزیز لکھنوی، اکبرالہ آبادی، برج نرائن چکبست، حسرت موہانی، آغا شاعر قزلباش، بے خود دہلوی، صفی لکھنوی، جلیل مانکپوری، نوح ناروی، احسن مارہروی، وحشت کلکتوی، شاد عظیم آبادی، ظفر علی خان، تاجور نجیب آبادی، آرزو لکھنوی، جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، جگر مرادآبادی، برجموہن دتاتریہ کیفی، نیاز فتح پوری، یاس یگانہ چنگیزی، ماہرالقادری اور ایسے ہی کئی لافانی نام کہ جنھوں نے اس پورے عہد کو اردو ادب کا عہدِ زریں بنادیا، لیکن یہ فہرست سیماب اکبرآبادی کے نام کے بغیر ہرگز مکمل نہیں ہوسکتی۔
علاّمہ سیماب اکبرآبادیؒ کا اصل نام شیخ عاشق حسین صدیقی تھا، وہ 5 جون 1882 ء کو اکبر آباد (آگرہ) میں علمی ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا شیخ محمد حسین صدیقی عالمِ دین اور واعظ و نعت خواں تھے، شاعر بھی تھے مگر عام طرزِ شاعری سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں تھی، کئی کتابوں کے مصنف تھے گلدستۂ عطّار،مجموعۂ شہادت اور کراماتِ غوثیہ ان کی مقبول تصانیف ہیں۔ سیماب کی ابتدائی تعلیم مروّجہ دستور کے مطابق عربی فارسی اور اردو سے شروع ہوئی، قرآن و حدیث کا درس اپنے والد سے لیا۔ مولانا محمد حسین اجمیر میں ٹائمز آف انڈیا پریس کی شاخ کے مینیجر تھے، اجمیر ہی میں گورنمینٹ کالج کے برانچ انگلش اسکول میں سیماب کو شریک کروادیا لیکن بچپن ہی سے فطری موذونیت اور شعری میلان کے سبب انھیں زمانۂ طالبِ علمی ہی میں زبان و بیان اور عروض پر خاصہ عبور حاصل ہوگیا تھا اور وہ امتحانات میں پوچھے گئے سوالات کے جواب بھی منظوم لکھتے تھے۔ اپنے والد سے چھُپ چھُپا کر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے تھے والد کو جب پتہ چلا تو انھوں نے کئی احکامات اور پابندیوں کے ساتھ مشاعروں کی اجازت دے دی۔ اس دوران انھوں نے سنسکرت اور ہندی زبانیں بھی سیکھ لیں۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی میں سیماب تخلص اختیار کر لیا تھا۔
ابھی سیماب ایف اے کے آخری سال ہی میں تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا اور گھریلو اخراجات کی پوری ذمے داری ان کے کاندھوں پر آپڑی لہٰذا تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی اور مختلف ملازمتیں اختیار کیں جن میں ریلوے کی ملازمت بھی شامل ہے۔
1898 ء میں سیماب اکبرآبادی فصیح الملک مرزا داغ دہلوی کے شاگرد ہو گئے۔ داغ کے دو ہزار سے زائد شاگردوں میں علاّمہ اقبال اور ان کے بعد علاّمہ سیماب کو جو شہرتیں ملیں کسی اور کو میسّر نہ ہوئیں۔1899 ء میں حضرت حاجی وارث علی شاہؒ (دیوہ شریف) کے ہاتھوں پر بیعت کا شرف حاصل ہوا اور اسی نسبت سے کبھی کبھی وارثی تخلص بھی استعمال کرتے تھے۔
1923 ء میں انھوں نے آگرہ میں ایک علمی ادبی اور اشاعتی ادارے قصرالادب کی کی بنیاد ڈالی جس کے تحت کتابوں کی اشاعت کے علاوہ کئی اخبارات و رسائل بھی جاری کئے جن میں ماہنامہ پیمانہ، پندرہ روزہ ثریّا، ہفت روزہ پرچم ہفت روزہ تاج اور ماہنامہ شاعر قابلِ ذکر ہیں۔ماہنامہ شاعر 1930 ء میں جاری ہوا، جلد ہی اس کی ادارت سیماب نے اپنے فرزند اور جانشین اعجاز صدیقی کے سپرد کردی، شاعر تا حال ممبئی سے جاری ہے اور اپنی اشاعت کے 88برس مکمل کر چکا ہے، اعجاز صدیقی کے فرزندان افتخار امام صدیقی، ناظر نعمان صدیقی اور حامد اقبال صدیقی اس ادبی روایت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
علاّمہ سیماب اکبر آبادی نے تقریباً سبھی مروّجہ اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کی اور 300 سے زائد کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔ وہ نظم کو غزل پر فوقیت دیتے تھے اور نظم میں ہیئت کے کئی تجربے بھی کیےوہ بلا شبہ جدید اردو نظم کے بنیاد گزاروں میں تھے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ان کی نظموں کے مقابلے غزلوں کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی تصانیف میں وحیِ منظوم، الہامِ منظوم، کلیمِ عجم، سدرۃ المنتہی، لوحِ محفوظ، نیستاں، کارِ امروز، سازو آہنگ، شعرِ انقلاب، عالم آشوب، نفیرِ غم، سرودِ غم ،رازِ عروض اور دستور الاصلاح شامل ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کا مکمل منظوم ترجمہ وحیِ منظوم ہے اس کے علاہ مولانا رومی کی مشہور مثنوی کا مکمل منظوم ترجمہ الہامِ منظوم بھی ان کا ایک نہایت اہم کارنامہ ہے۔
داغ دہلوی کے شاگردوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ تھی اور شاید ان سے قبل اردو شاعری کی تاریخ میں اتنے شاگرد کسی استاد کے نہیں ہوئے لیکن یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیماب اپنے استاد سے بھی کہیں آگے نکل گئے، ان کے تین ہزار سے زیادہ شاگر دہوئے، چند مشہور نام یہ ہیں: اعجاز صدیقی، ساغر نظامی، راز چاند پوری، بسمل سعیدی، شفا گوالیاری، قمر نعمانی، مختار صدیقی، مخمور جالندھری، سراج الدین ظفر، الطاف مشہدی، صبا متھراوی، خموش سرحدی، شہ زور کاشمیری، ضیا فتح آبادی، طُرفہ قریشی، آغاز برہانپوری، منظر صدیقی، جالب مظاہری، مبشر علی صدیقی، حبیب اشعر، مفتوں کوٹوی، علیم اختر مظفر نگری، رونق دکنی، مفتوں کوٹوی وغیرہ۔ سیماب کے کئی تلامذہ کے بہت سے شاگرد آج نامورانِ ادب میں شمار کیے جاتے ہیں مثلاً انور شعور، مخمور سعیدی، یعقوب راہی، عبدالاحد ساز وغیرہ، یہ فہرست بہت طویل ہو سکتی ہے اگر اس پر باقاعدہ تحقیقی کام کیا جائے۔
علاّمہ سیماب نے مشاعروں کو وقتی تفریح بنانے کی شدید مخالفت کی اور مشاعروں میں علمی ادبی موضوعات پر مشتمل صدارتی خطبوں کو رواج دیا۔ شاعری میں فحش موضوعات، شراب اور اس کے متعلقات اور تعیّش پرستی کی بھی مخالفت کی نیز شعرِ مہذّب کو رواج دیا۔ انھوں نے ادبی نظریات اور زبان کے برتاؤ کی بنیاد پر آگرہ اسکول کا تصوّر دیا، شعرِ مہذّب کو رواج دیا غزل میں فحش نگاری اور اخلاق سوز موضوعات کی مخالفت کرتے ہوئے فکر، فلسفہ، نفسیات اور احوالِ واقعی کو جگہ دی، عربی اور فارسی کی بوجھل تراکیب اور فرسودہ استعاروں سے اجتناب کیا، انھیں جدید غزل کے ابتدائی نقوش کہا جاسکتا ہے۔
1948 ء میں وہ اپنی کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں لاہور تشریف لے گئے، قصد تھا کہ کام مکمل ہوتے ہی لوٹ آئیں گے، وہاں سے شدیدعلالت کے سبب کراچی منتقل ہوئے ، اس دوران بھی ان کی ادبی خدمات کا سلسلہ جاری رہا اور تاج کمپنی کی فرمائش پر سیرت النبویﷺ تحریر کی اس کے علاوہ کئی احادیث کے منظوم ترجمے بھی کیے۔ انھوں نے کراچی میں اپنی نوعیت کا اوّلین انسٹی ٹیوٹ جامعہ ادبیہ قائم کیا جس کے نصاب میں اردو صرف و نحو، فنِ شاعری، نثر نگاری اور صحافت کی تربیت شامل تھی، یہ جامعہ زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکا اور مروّجہ اکیڈمک اسکول ہوگیا مگر اردو شاعری اور اردو صحافت کی تدریس کا اسےسب سے پہلا ادارہ کہا جاسکتا ہے۔
کراچی میں ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا اور 31 جنوری 1951 ء کواردو ادب کا یہ عظیم مجدّد اپنے مالکِ حقیقی سے جاملا۔کراچی کے قائد آباد علاقے میں تدفین ہوئی اور قبر کے کتبے پر ان کا یہ شعر کندہ کروایا گیا:
کہانی ہے تو اتنی ہے فریبِ خوابِ ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہوجائے
یہ علامہ سیماب کی حیات اور خدمات کا ایک مختصر سا جائزہ ہے، ان پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے اور لکھا جارہا ہے، برِ صغیر کے چھے ریسرچ اسکالرس ان پر کام کرکے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرچکے ہیں لیکن اب بھی ان کی شخصیت اور کاموں کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر کام کیا جانا چاہیے، خود ان ہی کے بقول
بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائیں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں
————————————–

 

علاّمہ سیماب اکبرآبادی کے منتخب اشعار

یہ کس نے شاخِ گل لاکر قریبِ آشیاں رکھ دی
کہ میں نے شوقِ گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

سحر ہوگی تو پھر ہوں گے افق سے ضو فگن ہم بھی
کہ سورج کی طرح ڈوبے ہیں اے شامِ وطن ہم بھی

پھیلے تو یوں کہ چھا گئے کُل کائنات پر
سمٹے تو اس قدَر کہ رگِ جاں میں رہ گئے

مِری نگاہ میں ہے ایک زندہ مستقبل
میں اپنے ماضیِ مردہ کا سوگوار نہیں

بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائیں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں

وحدت و کثرت کے جلوے خلقتِ انساں میں دیکھ
ایک ذرّہ اس قدر پھیلا کہ دنیا ہو گیا

دل ہے چراغ خانۂ مفلس، نہ توڑ اسے
پھر غم کی رات آئی تو ہم کیا جلائیں گے

ہم اپنے سر کہاں اچھا بُرا الزام لیتے ہیں
مقدّر خود بناتے ہیں، خدا کا نام لیتے ہیں

امید و عزم میرے کارواں کی شاہراہیں ہیں
جو ہو مایوس منزل سے، وہ میرا ہم سفر کیوں ہو
کھینچی ہے مصوّر نے عجب شان سے تصویر
جیسے کوئی میری ہی طرف دیکھ رہا ہے

بظاہر ہیں یہی اسباب دنیا سے نہ ملنے کے
کسی سے ہم نہیں ملتے، کسی سے دل نہیں ملتا

مبارک تجھ کو اپنی خود رَوی، لیکن یہ سنتا جا
کہ دنیا اپنے رستے پر لگا لیتی ہے انساں کو

تضحیک و التفات میں رہنے دے امتیاز
یوں مسکرا نہ دیکھ ، ہاں مسکرا کے دیکھ

بہت محتاط ہوکر لطف اٹھائے عمرِ فانی کے
ذرا سی زندگی جی کھول کر برباد کیا کرتے

مرکز پہ اپنے دھوپ سمٹتی ہے جس طرح
یوں رفتہ رفتہ تیرے قریب آرہا ہوں میں

بڑھا لیتے ہیں خود دشواریاں منزل کی گِن گِن کر
قدم اٹھنے سے پہلے میٖلِ منزل دیکھنے والے

فقط احساسِ آزادی سے آزادی عبارت ہے
وہی دیوار گھر کی ہے وہی دیوار زنداں کی

غزل ہی کہہ لی سنانے کو حشر میں سیمابؔ
پڑے پڑے یونہی تنہا لحد میں کیا کرتے

دنیا سے اِک افسانہ کہنے کو تھے، پھر سوچا
دنیا ہے خود افسانہ، افسانے سے کیا کہیئے
کچھ وقت کٹ گیا تھا تِری یاد کے بغیر
ہم پر تمام عمر وہ لمحے گراں رہے

دیوانگیِ عشق بڑی چیز ہے سیمابؔ
یہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے

قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے
کہ ہر بجلی قریبِ آشیاں معلوم ہوتی ہے

کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

کہانی ہے تو اتنی ہے فریبِ خوابِ ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہوجائے

اُڑ رہے ہیں گَردِ بربادی میں کچھ اوراقِ دل
ان میں وہ صفحہ نہ ہو جس پر تِری تصویر تھی

تجھے کر لیتے ہیں یوں اپنی مصیبت میں شریک
تیری تصویر پہ کچھ اشک گرا لیتے ہیں

دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں
اِک آئینہ تھا، ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

دنیا ہے خواب، حاصلِ دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

محبت میں اِک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر
ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگِ جاں پر

English Grammar by Mohad. Zuaim Abid

Articles

انگریزی گرامر

محمد زعیم عابد

Ye Dhuwan Sa by Salam Bin Razzak

Articles

یہ دھواں سا

سلام بن رزّاق

جب اس کی آنکھ کھلی تو فجر کی اذان ہورہی تھی۔ وہ اٹھ بیٹھا۔ بغل میں بیوی بے خبر سورہی تھی بلکہ ہلکے ہلکے خراٹے بھی لے رہی تھی۔ وہ مسکرایا، بیوی اکثر اس کے خرّاٹوں کا ذکر کیا کرتی ہے مگر اب وہ خود خرّاٹے لے رہی تھی اور اپنے خرّاٹوں سے بے خبر تھی۔ یہ خرّاٹے بھی عجیب چیز ہیں۔ خرّاٹے لینے والاتو گہری نیند کے مزے لے رہا ہوتا ہے اور اسے پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ دوسروں کو کس قدر ڈسٹرب کررہا ہے۔ وہ پلنگ سے اُترا واش روم سے فارغ ہوا۔ وضو کیا اور الماری سے مصلّٰی نکال کر فجر کی نماز ادا کی۔ مصلّٰی لپیٹ کر دوبارہ الماری میں رکھ دیا۔ بیوی اسی طرح خرّاٹے لے رہی تھی۔ وہ اپنے بیڈروم سے باہر نکلا۔ پورا گھر سنّاٹے میں ڈوبا ہوا تھا۔ بیٹے بہو کے کمرے کی طرف دیکھا۔ دروازہ بند تھا۔ بہو عموماً اس وقت اُٹھ جاتی تھی۔ شاید آج اس کی بھی آنکھ لگ گئی تھی۔ اس کے لیے سیر پر جانے سے پہلے صبح کی چائے بہو ہی بناتی تھی۔ بیوی گٹھیا کی پرانی مریضہ تھی عرصہ ہوا اس نے اسے صبح جگانا چھوڑ دیا تھا۔
 اس نے سوچا خود ہی ایک کپ چائے بنالے مگر برتنوں کی کھٹر پٹر سے خواہ مخواہ سب کے آرام میں خلل پڑنے کے خیال سے ارادہ ترک کردیا۔ سوچا آج باہر ہی کسی ٹپری پر چائے پی لے گا۔ شال کاندھے پر ڈالی، جوتے پہنے اور آہستگی سے دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔سپیدۂ صبح نمودار ہوچکی تھی۔ آسمان کا رنگ ہلکا پڑگیا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی فرحت بخش ہوا چل رہی تھی۔ سڑک سنسان تھی، سڑک کے کنارے درختوں پر چڑیاں چہچہانے لگی تھیں۔ ایک طرف دو کتّے خوش فغلیوں میں مصروف تھے۔ اس کے قدم جو گرس پارک کی طرف اٹھ رہے تھے۔ وہ آج اپنے آپ کونسبتاً بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔ عموماً صبح اُٹھنے کے بعد تھوڑی دیر تک جو کسلمندی کا احساس ہوتا تھا وہ آج ندارد تھا، گٹھیا کی شکایت تو اسے بھی تھی مگر روزانہ صبح کی سیر سے کافی افاقہ تھا، ایک زمانے میں وہ فٹ بال کا اچھا کھلاڑی تھا۔ ریاستی سطح پر اس نے کئی میچوں میں حصہ لیا تھا اور کئی میڈل بھی جیتے تھے مگر آگے چل کر گھریلو ذمہ داریوں اور بڑھتی عمر کے ساتھ دھیرے دھیرے فٹ بال کا شوق ماند پڑتا چلا گیا۔ تِس پر گٹھیا کے مرض نے تو بالکل لاچار کردیا۔ اب فٹ بال صرف اس کی یادوں میں زندہ تھا۔ آج بھی کہیں فٹ بال کا میچ ہورہا ہو تو وہ بڑے شوق سے دیکھنے جاتا ہے۔ ٹی وی پر تو روزانہ وہ اسپورٹس چینل پر صرف فٹ بال کا میچ ہی دیکھتا ہے۔ فٹ بال کے خیال کے ساتھ اس کی ایک سنہری یاد بھی جڑی ہوئی تھی۔
پونے میں ریاست کا فائنل میچ تھا۔ مقابل ٹیم برابر کی ٹکّر دے رہی تھی۔ دونوں کے چار چار گول ہوچکے تھے۔ آخری پانچ منٹ باقی تھے۔ دونوں ٹیم کہ کھلاڑی جان کی بازی لگائے ہوئے تھے۔ وہ بھی پورے فارم میں تھا۔ ٹیم کے چار گول میں سے دو گول اس نے بنائے تھے۔ گیند دھیرے دھیرے مقابل ٹیم کے گول پوسٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ میدان میں تماشائیوں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی ٹیم کا ایک کھلاڑی ڈربلنگ Dribbling کرتا ہوا اس کی طرف آرہا ہے۔ وہ چوکنّا ہوگیا کھلاڑی نے گیند اسے پاس کی وہ نیٹ کے قریب تھا۔ جوں ہی گیند آئی اس نے سرعت سے کک لگائی۔ گیند گول کیپر کے سر پر سے ہوتی ہوئی سیدھے گول پوسٹ کے اندر چلی گئی۔ آخری گول ہوگیا۔ ان کی ٹیم جیت گئی۔ میدان خوشی کے نعروں سے گونجنے لگا، ساتھی کھلاڑی اس پر ٹوٹ پڑے وہ ان کی گرفت سے نکل کر پویلین کی طرف دوڑنے لگا۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ تماشائیوں میں ایک سیاہ فام لڑکی بیریئر پھلانگ کر دوڑتی ہوئی اس کی طرف آرہی ہے۔ اس نے پیلے رنگ کی شارٹ اسکرٹ پہن رکھی تھی۔ اس کی نصف سے زیادہ چمکدار رانیں دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں۔ وہ غالباً افریقہ کے کسی علاقے کی باشندہ معلوم ہوتی تھی۔ اس کے سر پر سیاہ گھنگرویالے بالوں کو دیکھ کر شہد کے بڑے سے چھتّے کا گمان ہوتا تھا۔ وہ سیدھے اس کی پاس آئی اور گلے میں بانہیں ڈال کر اپنے گرم گرم گداز ہونٹ اس کے ہونٹوں پر پیوست کردیے۔ یہ سب اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ سٹ پٹا گیا۔ لمحہ بھر کو اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ البتہ اس کے دونوں ہاتھ اضطراری طور پر اس کی کمر کے گردحمائل ہوگئے، اور اس نے بھی پوری گرم جوشی کے ساتھ اسے بھینج لیا۔ ہنسی، قہقہوں اور نعروں سے میدان گویا ہوا میں اڑا جارہا تھا۔ اتنے میں گراؤنڈ کے سیکوریٹی گارڈز ان کی طرف دوڑے مگر اس سے پہلے کہ وہ اُن تک پہنچتے وہ اس سے چھٹک کر بجلی کی سرعت کے ساتھ ایک طرف بھاگ گئی۔ گارڈز اس کے پیچھے لپکے مگر وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی تماش بینوں کی بھیڑ میں گم ہوگئی۔ اس کے ساتھی کھلاڑی اسے کاندھے پر اٹھائے پویلین کی طرف جارہے تھے۔ مگر وہ مڑ مڑ کر اسی طرف دیکھتا رہا جہاں لڑکی تماشائیوں کے درمیان غائب ہوئی تھی۔
یہ واقعہ اس کے ذہن پر ایسا نقش ہوا کہ اس کے بعد جب بھی وہ میدان میں اترتا اس کی متجسس نگاہیں تماشائیوں میں اسے تلاش کرنے لگتیں اور ہر سیاہ فام لڑکی پر اس کا گمان گزرتا مگر وہ لڑکی اسے پھر کبھی نظر نہیں آئی۔ البتہ اس کے بوسے کی تپش کو وہ تا عمر محسوس کرتا رہا۔ اس کی شادی ہوگئی۔ سہاگ رات پر جب اس نے بیوی کا پہلا بوسہ لیا تو ایک دم اسے اس لڑکی کے سرخ گداز اور گرم ہونٹ یاد آگئے۔ اس کے بعد اس نے اپنی بیوی کے ہزاروں بوسے لیے ہوں گے مگر اس سیاہ فام لڑکی کے آتشیں بوسے کی حرارت کو وہ کبھی فراموش نہیں کرسکا۔
وہ سوچنے لگا بعض اوقات معمول واقعات بھی زندگی کے کینواس پر کیسا گہرا نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ اس نے ایک اچھی اور اطمینان بخش زندگی گزاری تھی۔ سلیقہ مند، خوبصورت بیوی، ہونہار بیٹا، خدمت گزار بہو، ہیرے جیسے دوپیارے پیارے پوتے، پنشن کے علاوہ کئی لاکھ کی فکس ڈپازٹ، بیٹا ایک بڑی فرم میں منیجر، موٹی تنخواہ، بہو ٹیچر، گھر میں روپیوں کی ریل پیل، کسی چیز کی کمی نہیں، کوئی حسرت نہیں، چار سال قبل میاں بیوی حج سے بھی سرفراز ہوچکے تھے۔ پچھلے سال پوری فیملی عمرہ بھی کر آئی۔ اسے مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا مگر ریٹائرمینٹ کے بعد فجر اور مغرب کی نمازیں پڑھ لیا کرتا، البتہ جمعہ کی نماز کبھی ناغہ نہ کرتا۔ رمضان میں کبھی کبھی گنڈے دار روزے بھی رکھ لیا کرتا۔
وہ ایک سیدھا سادہ عام سا شخص تھا۔ کلرک تھا تب اپنے باس کا احترام کرتا اور اس کے احکامات کی پیروی کرنا اپنا فرض سمجھتا۔ جب خود آفیسر بنا تو اپنے ماتحتین سے نرم روی اور کشادہ قلبی سے پیش آتا، وہ اپنے اسٹاف میں کافی ہر دلعزیز تھا۔ جب وہ ریٹائر ہوا تو اس کے اسٹاف نے اسے ایک شاندار سینڈ آف پارٹی دی اور بطور گفٹ قیمتی سونے کی گھڑی پیش کی۔
ریٹائرمینٹ کے بعد چند ماہ میں ہی اس کا وزن بڑھنے لگا۔ فیملی ڈاکٹر نے بتایا کہ بڑھاپے میں وزن بڑھنا خطرے سے خالی نہیں۔ کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھو اور روزانہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ واک کرو۔ گھر سے ذرا فاصلے پر جوگرس پارک تھا اس نے پہلی فرصت میں جوگرس پارک کی ممبرشپ لے لی اور روزانہ صبح واک کرنا اپنا معمول بنا لیا۔
چلتے چلتے اچانک اسے ٹھوکر لگی۔ وہ گرتے گرتے بچا۔ ایک روڑا جوتے کی نیچے آگیا تھا۔ اس نے ہلکی سی ٹھوکر کے ساتھ روڑے کو ایک طرف ہٹا دیا۔ ایک موٹر سائیکل پھٹ پھٹاتی ہوئی اس کے قریب سے نکل گئی۔ اس نے ارد گرد نگاہ ڈالی۔ اچانک اس نے محسوس کیا کہ وہ بے خیالی میں کسی اور طرف نکل آیا ہے۔ جوگرس پارک کا راستہ تو پیچھے چھوٹ گیا تھا۔ اسے کوفت بھی ہوئی اور حیرت بھی کہ ایسا کیسے ہوا؟ روزانہ کا دیکھا بھالا راستہ وہ کیسے بھول گیا۔ وہ کافی دُور نکل آیا تھا مگر واپس مڑنے کی بجائے وہ آگے بڑھتا رہا۔ سوچااگلے کسی موڑ پر جوگرس پارک کی طرف مڑ جائے گا۔ سورج نکل آیا تھا اور کنکنی دھوپ میں تمازت محسوس ہونے لگی تھی۔ اس نے شال کو لپیٹ کر ہاتھ میں لے لیا۔ جیب سے رومال نکال کر پیشانی سے پسینہ پونچھا۔ اسے تھکن محسوس ہورہی تھی۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا سامنے ایک بس اسٹاپ نظر آرہا تھا مگر وہاں کوئی مسافر دکھائی نہیں دیا۔ اس نے سوچا بس اسٹاپ پر تھوڑا سُستا لینا چاہئے۔ وہ بس اسٹاپ کے قریب پہنچا۔ بس اسٹا پ کی پیشانی پر کینسل لکھا ہوا تھا اور اس کی حالت بڑی خستہ تھی۔ وہ بس اسٹاپ کی شکستہ نشست پر بیٹھ گیا۔ کافی دن نکل آیا تھا۔ اس نے سوچا اب جوگرس پارک جانا بیکار ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ تھوڑا سُستا کر وہ واپس گھر چلا جائے گا۔ سڑک پر اکّا دکّا سواری آجارہی تھی۔ اس نے نشست کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلیں۔ اسے بڑی راحت ملی۔ اس پر ہلکی سے غنودگی طاری ہونے لگی۔ پھر اسے پتا نہیں وہ کتنی دیر تک اسی کیفیت میں بیٹھا رہا۔ جب آنکھ کھلی تو اس نے مچ مچاتی آنکھوں سے اپنے ارد گرد دیکھا۔ چاروں طرف ایک غبار آلود سنّاٹا پھیلا ہوا تھا۔ اس نے آنکھیں ملیں۔ عینک اتار کر شیشے صاف کئے اور دوبارہ عینک لگا کر اپنے چاروں طرف نگاہ ڈالی۔ یہ تو قبرستان ہے۔ وہ قبرستان میں بچھی ایک بینچ پر بیٹھا تھا۔ اس نے غور سے دیکھا یہ تو وہی قبرستان ہے جو جوگرس پارک سے ذرا سے فاصلے پر واقع تھا اور وہ کئی بار مختلف جنازوں کے ساتھ یہاں آچکا تھا۔
 اسے یاد آیا کہ بس اسٹاپ پرسُستاتے وقت اس کی آنکھ جھپک گئی تھی۔ تو کیا وہ غنودگی کے عالم میں چلتا ہوا جوگرس پارک کی بجائے قبرستان آگیا تھا۔ مگر اسے کبھی نیند میں چلنے کا مرض تو نہیں تھا۔ اس نے سوچا یہ تو بڑی تشویش کی بات ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ لینا پڑے گا۔ وہ کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھا اور قبروں کے درمیان بنی ہوئی روش پر چلتا ہوا گیٹ کی طرف بڑھا۔ چند قدم چلا تھا کہ سامنے گیٹ سے ایک جنازہ داخل ہوتا نظر آیا۔ لوگ سفید گول ٹوپیاں اوڑھے یا سروں پر رومال باندھے جنازے کو کاندھا دیتے ہوئے چلے آرہے تھے۔ وہ چلتے چلتے رک گیا۔ جنازے کو پیٹھ دکھانا مناسب نہیں تھا، اسے جنازے میں کچھ شناسا چہرے بھی نظر آئے۔ اسے تشویش ہوئی۔ کس کا جنازہ ہے؟ لوگ جنازہ لئے ایک تازہ کُھدی ہوئی قبر کے پاس پہنچ گئے۔ جنازے کو اتار کر زمین پر رکھا۔ وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ہوا بھیڑ کے قریب پہنچا۔ ایک شناسا چہرے والے سے پوچھا ’’کون تھا؟‘‘ وہ کوئی جواب دیئے بغیر آگے بڑھ گیا۔ شاید اس نے اس کا سوال ہی نہیں سنا۔
جنازے میں شریک لوگ قبرستان میں اِدھر اُدھر بکھر گئے تھے۔ کچھ قبرستان میں بچھی بینچوں میں بیٹھ گئے۔ بعض چار چار پانچ پانچ کی ٹکڑیوں میں بٹے دھیمے دھیمے بتیا رہے تھے۔ دن ڈھل رہا تھا۔ سایے لمبے ہوتے جارہے تھے۔ اسے ایک بار پھر حیرت نے آگھیرا۔ پورا دِن گزر گیا اور اسے پتا بھی نہیں چلا۔ اتنے میں کسی نے آواز دی۔ ’’میّت کے رشتے دار آخری دیدار کرلیں‘‘ اس نے سوچا کسی سے کچھ پوچھنے کی بجائے خود چل کی دیکھ لینا چاہئے کہ میّت کس کی ہے؟
لوگ قبر کو گھیرے کھڑے تھے وہ لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتا ہوا قبر کے کنارے پہنچ گیا۔ قبر میں جھانک کر دیکھا۔ میّت کو قبر میں لٹا دیا گیا تھا۔ کوئی شخص قبر میں ہی کھڑا تھا۔ ارے یہ تو غوث محمد تھا۔ جو اکثر محلے والوں کی موت مٹّی یا شادی بیاہ میں پیش پیش رہتا تھا۔ مولوی صاحب کی آواز آئی
’’چہرہ دکھاؤ۔‘‘
غوث محمد نے جھک کر میّت کے چہرے سے کفن ہٹایا۔ اس نے میّت کو غور سے دیکھا۔ اسے جھٹکا سا لگا۔ میت کی شکل اس سے ملتی جلتی تھی۔ یہاں تک کہ اس کے سیدھے گال پر بڑا سا مسا بھی صاف نظر آرہا تھا۔ اس نے بے اختیار اپنے گال پر ہاتھ پھیرا۔ اس کے گال پر بھی ویسا ہی مسّا موجود تھا۔ اس نے گھبرا کر اطراف کے لوگوں پر نگاہ ڈالی۔ بیشتر اس کے عزیز رشتے دا ر تھے۔ چھوٹا بھائی اختر، اس کا بیٹا اکرم، غفور چچا، اس کا دوست امین مرزا، اس نے دیکھا اکرم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ منہ پر رومال رکھے اپنی سسکیوں کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا۔
چھوٹے بھائی کا بھی تقریباً وہی حال تھا۔ غوث محمد نے جھک کر میّت کا چہرہ کفن سے ڈھک دیا اور جلدی جلدی قبر میں برگے لگانے لگا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اس نے بیٹے کو آواز دی۔ ’’اکرم!‘‘ پھر چھوٹے بھائی کو پکارا ۔۔۔ ’’اختر!‘‘ مگر اس کی آواز کوئی سن ہی نہیں رہا تھا۔ غوث محمد برگے لگانے کے بعد اچک کر قبر کے باہر آگیا۔ مولوی صاحب نے آواز لگائی۔
’’قل کی مٹّی دیجئے۔۔۔‘‘ لوگ مٹھیاں بھر بھر کر قبر میں مٹّی ڈالنے لگے۔ غوث محمد اور گورکن پھاوڑوں کے ذریعے تیزی سے قبر میں مٹّی سرکانے لگے۔ اس نے ایک چیخ ماری۔
’’ارے سنو! آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ کسے گاڑ رہے ہیں۔ میری طرف دیکھو۔ میں زندہ ہوں۔ کیا تم سب لوگ اندھے بہرے ہوگئے ہو؟ کیا تمہیں میں دکھائی نہیں دے رہا ہوں؟ کیا تمہیں میری چیخیں سنائی نہیں دے رہی ہے؟‘‘
بھر بھر ۔۔۔ بھر بھر ۔۔۔ قبر مٹّی سے بھرتی جارہی تھی۔ وہ چیختا، روتا، بلبلاتا، وہیں قبر کے سرہانے اُکڑوں بیٹھ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قبر مٹّی سے بھر دی گئی۔ غفور چچا نے اگربتّیوں کا بنڈل نکالا اور ایک ساتھ دس پندرہ اگربتّیاں سُلگائیں اور انہیں قبر کی مٹّی میں کھبو دیا۔ وہ اُسی طرح قبر کے سرہانے اکڑوں بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اب اس میں رونے کی سکت بھی باقی نہیں تھی۔ مولوی صاحب نے فاتحہ پڑھی اور لوگوں کی بھیڑ چھٹنے لگی۔ اس کا بیٹا، بھائی چچا اور دوست رشتہ دار سب ایک ایک کرکے قبرستان سے باہر نکل گئے۔ وہ اس طرح گم سم قبر کے سرہانے بیٹھا رہا۔ اگر بتیاں سلگ رہی تھیں اور ان کا دھواں بل کھاتا ہوا، ہوا میں تحلیل ہوتا جارہا تھا۔ اگربتیوں کی راکھ جھڑ جھڑ کر زمین پر گر رہی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ اب اس کا وجود بھی اگر بتیوں کی راکھ کی طرح جھڑ جھڑ ۔۔۔ جھڑ جھڑ کر زمین پر گر رہا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں اس کا پورا وجود ریزہ ریزہ ہوکر مٹی میں مٹی ہوگیا، اور آخر میں اس کے ہونے کا احساس بھی دھوئیں کی طرح دھیرے دھیرے فضا میں تحلیل ہوتے ہوئے گم ہوگیا۔

Faiz Pur mein Maulana Aazad ko Yaad Kiya Gaya

Articles

فیض پور میں مولانا آزاد کو یاد کیا گیا

وسیم عقیل شاہ

فیض پور 11 نومبر : خدمت ملت گروپ کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم، محب اردو اور بھارت رتن *مولانا ابوالکلام آزاد* کے یوم پیدائش کے پیش نظر ایک تعزیتی جلسے کا انعقاد نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ عمل میں آیا ـ واضح رہے اس تقریب کی صدارت علاقہ خاندیش کے مشہور سیاست دان، سماجی خدمت گار اور ریاست مہاراشٹر کے سابق ایم ایل اے شریش چودھری نے انجام دی ـ اس موقع پر شریف ملک نے مولانا آزاد کی سماجی نظریات کو واضح کیا تو رویندر نارکھیڑے نے مولانا آزاد کے سیکولر کردار پر روشنی ڈالی ـ اسی طرح وسیم عقیل شاہ نے مولانا کے تعلیمی تصورات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ـ خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے سابق ایم ایل اے سریش چودھری نے اس طرح کے پروگرام کا انعقاد کرنے پر خدمت ملت گروپ کے اراکین کو مبارکباد دی اور مولانا آزاد کی شخصیت کے متعدد پہلوؤں پر روشنی ڈالی ـ انھوں نے مولانا کے سیاسی کردار کو سامعین کے روبرو اجاگر کیا نیز مولانا کے تعلیمی خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ـ اس جلسے میں نے بطور مہمانان خصوصی کلیم خان (صدر بدلیہ ) ،کیتن کرنگے، رویندر ہولے شرکت فرما تھے ـ ساتھ ہی شہر فیض پور کے کوثر علی (شہر صدر کانگریس ) آصف شیخ ، ریاض ممبر، وحید سر، شہباز خان گرو سر، شیخ عرفان اور رئیس مومن جیسے علمی، سماجی و سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کر کے اپنی سماجی و تعلیمی ذمہ داری کا ثبوت فراہم کیا ـ پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں خدمت ملت گروپ کے صدر مدثر نظر، نائب صدر سید فاروق، رکن عمران خان، شیخ شفیق، اختر شیخ اور ناظم شیخ کا خاص تعاون حاصل رہا ـ نظامت کے فرائض مدثر نظر نے بہ حسن و خوبی انجام دیے جبکہ رسم شکریہ عمران خان نے پیش کی ـ