Hagia Sophia a Historical background

Articles

آیا صوفیا : ایک تاریخی پس منظر

مفتی محمد تقی عثمانی

Ek Jhooti Kahani Ka sach by Asrar Gandhi

Articles

ایک جھوٹی کہانی کا سچ

اسرار گاندھی

Wooden horse a Short Story by Ratan Singh

Articles

کاٹھ کا گھوڑا

رتن سنگھ

اس وقت بندو کا ٹھیلہ تو ٹھیلہ، خود بندو ایسا بے جان کاٹھ کا گھوڑا بن کر رہ گیا ہے جو اپنے آپ نہ ہل سکتا ہے نہ ڈول سکتا ہے، نہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے، بندو کی ہی وجہ سے اندھیر دیو کے تنگ بازار میں راستہ قریب قریب بند ہوکر رہ گیا ہے۔ ضرورت سےزیادہ بوجھ سےلدا ہوا بندو کا ٹھیلہ سڑک پر چڑھائی ہونے کی وجہ سے رک سا گیا ہے۔رہ رہ کر اگر چلتا بھی ہے تو جوں کی رفتار سے رینگتا ہے، اور پھر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس کے پیچھے کاریں، ٹرک، بسیں، موٹرسائیکل، اسکوٹر غرض یہ کہ سبھی تیز رفتار گاڑیوں کی لمبی قطار ٹھہر سی گئی ہے اور انہی کے بیچ میں تانگے اور رکشے بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

ان گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں وزیر، ملک کے بڑے بڑے کارخانے دار، کاروباری سیٹھ، دفتروں کے افسر، دوکاندار، وردیوں والے فوجی اور پولس والے، سفید کالروں والے بابو، عام آدمی، سودا سلف خریدنے کےلیے گھروں سے نکلی عورتیں، اسکولو ں اور کالجوں کے بچے،ڈ اکٹر، نرس، انجینئر سبھی کے سبھی ٹھہر گئے ہیں۔ لگتا ہے جیسے بندو کی سست رفتاری کی وجہ سے سارے بازار، سارے شہر، بلکہ ایک طرح سے کہا جائے تو سارے ملک، ساری دنیا کی رفتار دھیمی پڑگئی ہے۔

یوں تو وزیر اپنی کار میں بیٹھا کچھ لوگوں سے گفتگو کر رہا ہے لیکن بے چینی سے بار بار گھڑی دیکھ رہا ہے کیونکہ کسی غیرملکی وفد سے ملنے کا وقت قریب آرہا ہے۔ اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ آگے سے راستہ اس طرح بند کیوں ہوگیا ہے۔ اس کا ڈرائیور گھبرایا ہوا بار بار کار سے اترتا ہے، کچھ دور جاکر دیکھ کر آتا ہے اور پھر مایوس ہوکر گاڑی میں بیٹھا انتظار کرنے لگتا ہے۔ وہ لوگ جو کار میں بیٹھے وزیر سے باتیں کر رہے ہیں، دل ہی دل میں خوش ہیں کہ راستہ بند ہونے کی وجہ سے کار کھڑی ہے اور انہیں وزیر کے سامنے اپنی بات رکھنے کا پورا پورا موقعہ مل رہاہے۔ کارخانے دار اور کاروباری سیٹھ البتہ اپنی کاروں کی گدیوں پر بیٹھے بے چین ہو رہے ہیں۔ ان کے لیے ہر بیتتے ہوئے پل کے معنی ہیں لاکھوں کاگھاٹا۔

ریلوے کا ایک ڈرائیور بار بار اپنی سائیکل کااگلا پہیہ اٹھا اٹھاکر پٹک رہا ہے۔ پریشانی کی وجہ سے اس کے ماتھے پر پسینہ آرہا ہے، کیونکہ جس گاڑی کو لے کر اسے جانا ہے، اس کے چھوٹنے کا وقت ہوچکا ہے اور وہ یہاں راستے میں قید ہوکر رہ گیا ہے۔اسکولوں اور کالجوں کے زیادہ تر بچے خوش ہیں۔ جتنے پیریڈ نکل جائیں اتنا ہی اچھا ہے لیکن کچھ ایک کو افسوس بھی ہے کہ ان کی پڑھائ پیچھے رہ جائے گی۔اسی طرح سر پر لوہے کی ٹوپی پہنے ہوئے فوجی بار بار موٹر سائیکل کاہارن بجارہا ہے۔ لیکن آگے نہیں بڑھ پا رہاہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر دفتر پہنچنے میں دیر ہوگئی تو اس کاکمانڈنٹ آفیسر چالیس کلو کا وزن پیٹھ پر لدواکر دس کلومیٹر کا روڈ مارچ کروادے گا۔

لیکن بندو ان سب سے بےخبر ہے۔ بے نیاز ہے۔

آج اس سے ٹھیلہ کھنچ بھی نہیں پارہا۔ ایک تو سیٹھ کے بچے نے زیادہ بوجھ لاد دیا ہے۔ دوسرے اس کے ٹھیلے کادھرا جام ہو رہا ہے۔ تیسرے خاموش سی چڑھائی کاراستہ ہے اور چوتھے یہ کہ اس کا من ہی نہیں ہو رہا ہے ٹھیلہ کھینچنے کا۔ وہی کاٹھ کے گھوڑے والی بات ہو رہی ہے، جو اپنے آپ سرک نہیں سکتا۔ جب کبھی اس کا من اداس ہوتا ہےتو اس کی کیفیت اس کاٹھ کے گھوڑے جیسی ہوجاتی ہے جسے وہ بچپن میں ایک میلے سے خرید کر بڑا دکھی ہوا تھا۔

کاٹھ کا رنگین گھوڑا لے کر جب وہ بڑے فخر سے گلی کے بچوں کے بیچ گیا تو اس نے دیکھا کہ کسی کے پاس چابی والی موٹر تھی جو گھوں گھوں کرتی ہوئی تیز بھاگتی تھی اور کسی کے پاس ریل گاڑی تھی، انجن سمیت اپنے آپ چلنے والی گاڑی۔ جن کے پاس ایسے دوڑنے والے کھلونے نہیں تھے ان کے پاس لتی کے سہارے گھومنے والے رنگین لٹو تھے۔ تیزی سے گھومتے ہوئے وہ ایسے لگتے تھے جیسے وہ سارے میدان کو اپنے گھیرے میں لے رہے ہوں۔ ان کھلونوں کے سامنے اس کا کاٹھ کا گھوڑا ساکت بے جان تھا۔

ویسے بچوں کے سامنے کھیلتے ہوئے اس نے بھی اپنے گھوڑے کو ٹانگوں کے بیچ پھنسا کر دوڑنے کا سوانگ کیا تھا لیکن دل ہی دل میں وہ جانتا تھا کہ اس کا کھلونا دوسروں کے کھلونے کے سامنے بے کار اور بے معنی ہے۔ اسی لیے گھر آکر اس نے کاٹھ کے گھوڑے کو چولہے کی آگ میں جھونک دیا تھا۔ لیکن جلنے کےباوجود جیسے وہ بےجان کاٹھ کا گھوڑا اس کی شخصیت کے ساتھ چپک کر رہ گیا تھا۔ کیونکہ ہوا یہ تھا کہ گلی کے وہی بچے جو اس کے ساتھ کھیلا کرتے تھے، ان میں سے کوئی پڑھ لکھ کر منیم بن گیا تھا تو کوئی وکیل، کوئی اسکول کا ماسٹر ہوگیا تھا تو کوئی بڑا افسر۔ اور اس کے برعکس بندو وہی کاٹھ کا گھوڑا ہی رہ گیا۔ باپ ٹھیلہ چلاتا تھا تو وہ بھی ٹھیلہ ہی کھینچ رہا ہے۔

وہ اکثر سوچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیسے ہوا کہ ایک ہی گلی میں رہتے ہوئے باقی لوگ آگے بڑھ گئے اور وہ پیچھے رہ گیا۔ ایسا کیوں کر ہوگیا؟ لیکن وہ سوچے بھی تو کیا؟ کاٹھ کا گھوڑا بھلا سوچ ہی کیا سکتا ہے؟

لیکن آج وہی کاٹھ کا گھوڑا یہی سوچ کر اداس ہو رہا ہے کہ اس کے آٹھ نو سال کے لڑکے چندو نے محض اس لیے اسکول جانا بند کردیا ہے کہ وہ اس کے لیے ضرورت کی چیزیں جٹا نہیں پاتا۔ جب میں اپنی زندگی کی گاڑی ٹھیک سے نہیں کھینچ پاتا تو پھر اس ٹھیلے کے بوجھ کو کیوں کھینچوں؟ بندو سوچ رہا ہے۔اس کا دل کیا کہ ٹھیلہ جو پہلے ہی سرک نہیں پا رہا ہے اسے چھوڑ چھاڑ کر الگ کھڑا ہوجاؤں۔ اس کی ہمت پہلے ہی جواب دے رہی ہے۔ رہ رہ کر اس کے دل میں خیال اٹھ رہے ہیں کہ ایک دن اس کے چندو کو بھی اسی طرح ٹھیلے کے بوجھ کو کھینچنا پڑے گا۔ اور اس خیال کے ساتھ اسے اپنی جان ٹوٹتی ہوئی سی محسوس ہو رہی ہے اور اس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا بھی دشوار ہو رہا ہے۔

لیکن اس کے پیچھے جو لوگ کھڑے ہیں وہ اتاولے ہو رہے ہیں۔ کھیج رہے ہیں۔ بار بار ہارن بجارکر اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ان میں سے ایک اس کے پاس آیا اور بولا،’’بھیا جلدی کرو۔ تہارے پیچھے پوری دنیا رکی پڑی ہے۔ اٹکی پڑی ہے۔‘‘

’’اٹکی ہے تو اٹکی رہے‘‘۔ بندو جھنجھلاکر بولا۔’’ جو لوگ تیز جانا چاہتے ہیں ان سے کہو کہ میرے پیروں میں بھی پہیے لگوادیں۔‘‘

’’بات تو ٹھیک کہتا ہے۔‘‘ کسی نے کہا۔ ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ اتنے تیز ہو جائیں کہ وہ ہوا سے باتیں کرنے لگیں اور کچھ کو اتنا مجبور کردیا جائے کہ ان کے لیے ایک قدم اٹھانا بھی دشوار ہوجائے۔‘‘

یہ سب باتیں گاڑیوں کے ہارن کی آوازوں اور لوگوں کے شور میں دبی جارہی ہیں۔ کاٹھ کے گھوڑے میں قدم اٹھانے کی ہمت نہیں۔ وہ آگے نہیں بڑھ پارہا۔ اور اس کے پیچھے بھیڑ میں وہ وزیر رکا ہوا ہے جسے کسی غیرملکی وفد سے وقت مقررہ پر بات کرنا ہے، وہ ڈرائیور اٹکا ہوا ہے، جسے ملک کے کسی دوسرے شہر کی طرف ریل گاڑی لے کر جانا ہے، اسکول کے وہ بچے رکے ہوئے ہیں جو کل کے مالک ہوں گے۔ ڈاکٹر ،نرس ،انجینئر سب کے قدم بندھ کر رہ گئے ہیں۔

اور بندو کاٹھ کاگھوڑا بنا اندھیر دیو کے بازار میں اپنے ٹھیلے کے ساتھ کھڑا ہوگیا ہے۔ اس کے پاؤں میں حرکت آئے تو زندگی آگے بڑھے۔
————————————-
kaath ka ghorha, Wooden horse, best story

Mother of all a Short Story by Mushtaq A. Wani

Articles

سب کی ماں

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی

   بوڑھی بہاراں؛ بیاسی سال کی ہوچکی تھی۔زندگی  کی بیاسی بہاریں دیکھنے کے بعد بھی اس کے حواس خمسہ میں ضعف کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔البتہ لاٹھی ٹیکنے کی عادی تھی اور کہا کرتی تھی کہ آدمی شہر کا ہو یا دیہات کا اسے گھر سے باہر جاتے وقت ہاتھ میں لاٹھی ضرور رکھنی چاہیے۔کیونکہ کیا معلوم کب کہاں کوئی بندر؛کتا؛بھینسہ؛بیل؛گھوڑا یا کوئی اور جانور حملہ آور ہوجائے۔اس کے چہرے کی جھریوں کی جھالر یہ عیاں کررہی تھی کہ وہ زندگی کے کئی نشیب وفراز دیکھ چکی ہے۔دو بیٹے اور دو بیٹیوں کی ماں تھی۔اس کا   رفیق حیات اپنا حق رفاقت ادا کرتے ہوئے بہت پہلے دنیا سے چل بسا تھا۔دونوں بیٹے وفادار بھی تھے اور خوشحال بھی۔اس کے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں تک کی شادی ہوچکی تھی۔اس کی آنکھوں نے اپنے قصبے کے راج محل کی زیب وزینت دیکھی تھی؛ راجکماروں کے پالنوں کو جھلایا تھا؛اپنے ملک کے بٹوارے کی خبر سن کر آنسو بہاے تھے اور پھر آدمی کی شکل میں حیوانی درندگی کا بھیانک رقص دیکھا تھا۔پھر ایک وقت اس کی زندگی میں ایسا بھی آیا تھا جب اس کی آنکھوں نے اپنے قصبے کے ویران وسنسان راج محل میں دور سے “جانی دشمن”فلم کی شوٹینگ دیکھی تھی۔زندگی کا اتنا تلخ وشیریں رس پینے کے باوجود بوڑھی بہاراں  کے چہرے سے نورانیت ٹپکتی تھی اور لب ولہجے میں بزرگانہ طمطراق موجود تھا۔لگتا تھا کہ زندگی اسے تھکا دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔مقام حیرت تو یہ تھا کہ وہ اس عمر میں بھی نماز؛روزے اور ذکر واذکار کی پابند تھی۔قرآن پاک  پڑھنا نہیں جانتی تھی لیکن اس کے باوجود بڑی عظمت و عقیدت کے ساتھ قرآنی حروف پہ شہادت کی انگلی پھیرتی۔اس سے اس کے دل کو تسکین پہنچتی اور آنکھوں میں آنسو آجاتے۔اس کی خوشی کی کوئی حد اس وقت نہیں رہتی جب وہ اپنے قصبے کے مرکزی مقام چنار چھاوں میں ہندو؛مسلم؛ سکھ اور عیسائی برادری کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور پھل کھاتے دیکھتی؛ تب اسے یوں محسوس ہوتا کہ جیسے یہ سب اسکے بطن سے پیدا ہوئے ہوں۔اس کے اس احساس مسرت کا تعلق اسکی عملی زندگی سے بھی تو رہا تھا کیونکہ وہ اپنے قصبے کی مشہور ہنر مند دائی تھی۔اس لیے  وہ یہ جانتی تھی کہ اسکے سامنے یہ مشترکہ نئی نسل اس کے ہاتھوں شکم مادر سے اس جہان رنگ وبو میں آئی ہے۔ بہاراں؛ بے لوث خدمت کے سبب  اپنے قصبے میں مشترکہ تہذیب کا استعارہ بن کے رہ گئی تھی۔وہ تو اس وقت سے دائی کا کام کرتی آرہی تھی جب اسکے قصبے کے مکانات کچے ہوا کرتے تھے اور انٹر نیٹ کے غلط استعمال نے انسانی رشتوں کے تقدس کو پامال نہیں کیا تھا۔سینکڑوں بچوں کو اس نے ماں کی کوکھ سے زمین کی کوکھ پہ قدم رکھتے دیکھا تھا۔اللہ تعالے نے نہ جانے اس کے ہاتھوں میں کیا جادو رکھا تھا کہ جس بھی حاملہ عورت کے درد زہ کو دیکھ کے ڈاکٹر لوگ گھبرا کے بڑے شہر میں لے جانے کو کہتے اسے  بہاراں اپنی تحویل میں لیتی اور ایک دو بار ہاتھ پھیرتے ہی بچی  یا بچہ  تولد ہوتا۔ایک بار جب  رات کو دھنو دھوبی کی بیوی آرتی کے شریر میں درد زہ کی ترنگ اٹھی تھی تو وہ حواس باختہ سا دوڑتا بھاگتا  بہاراں کے گھر پہ آیا تھا اور زور سے پکار اٹھا تھا
    “دائی—-میری دھرم پتنی کو بچہ درد تڑپائے جات ہے؛چل کے دیکھونا”

     بہاراں؛ اپنے کچے مکان میں میٹھی نیند سوئی ہوئی تھی۔دھنو دھوبی کی پکار سے وہ جاگ گئی تھی۔اس کے ماتھے پہ شکنیں سی ابھر آئی تھیں اور تب اس نے دھنو دھوبی کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا
     ” ابے ایسے نہیں بولتے؛مجھے تمہارا بولنا اچھا
  نہیں لگا۔جب ایسی بات ہو تو مجھے اس طرح
  آواز دیا کرو
“اماں——درد”میں سمجھ جایا کروں گی کہ میرے قصبے کی کوئی بہو؛ بیٹی درد زہ کے باعث زندگی اور موت کی کشمش میں ہے”
دھنو نے کہا تھا
“ہاں میں ایسے ہی پکاروں گا اور دوسروں کو بھی
یہ بات بتاوں گا۔مگر اماں آپ چلیں تو سہی”
     بوڑھی بہاراں ایک چھوٹا سا تھیلا بغل میں دبائے دھنو کے ساتھ چل پڑی تھی۔آگے دھنو کے گھر
میں اسکی بیوی آرتی درد زہ سے پچھاڑیں کھارہی تھی۔اسکی دلدوذ چیخیں سن کے دھنو کا دل دہل جاتا۔ بہاراں نے جاتے ہی اپنے ہاتھوں میں پتا نہیں کون سا تیل لگایا تھا اور پھر آہستہ آہستہ آرتی کے شریر پہ ہاتھ پھیرا تھا۔چند ہی لمحوں  بعد آرتی کی کوکھ سے ایک سندر سلونا سا بچہ اس جہان فانی میں آگیا تھا۔نومولود کی پہلی چیخ سن کر دھنو دھوبی کے جسم میں جان آگئی تھی۔اس کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا تھا
  “اماں—بھگوان آپ کو سدا سکھی رکھے۔آپ جگ
جگ جیں”
وہ ذچہ اور بچہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا۔پھر اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تھا اور پانچ سو روپے کا نوٹ بہاراں کو دیتے ہوئے کہنے لگا تھا
“اماں؛ یہ لیجیے میرا دل آج خوش ہوا ہے” بہاراں نے لینے سے انکار کیا تھا۔لیکن دھنو نے زبردستی پانچ سو روپے کا نوٹ پکڑا دیا تھا۔پھر وہ دھنو کے گھر سے رخصت ہوگئی تھی اور ٹارچ کی روشنی میں اکیلی اپنے کچے مکان میں پہنچ گئی تھی۔
     لالہ نند لال؛ بہاراں کے قصبے کا  سب سے بڑا
سیٹھ تھا۔دیوالی؛ہولی اور نوراتروں میں ان کے گھر میں دیسی گھی کے چراغ جلا کرتے تھے۔ایک رات جب ان کی بہو شادی کے سات سال بعد پہلی مرتبہ درد زہ سے کراہ اٹھی تھی تو لالہ نند لال اسپتال جانے کے بجائے خود بہاراں کے کچے مکان میں آئے تھے۔انھوں نے آواز دی تھی
  “اماں—-درد” بہاراں نماز تہجد پڑھ چکی تھی اور دعامانگنے میں مشغول تھی۔سیٹھ نند لال نے دوبارہ آواز دی تھی
“اماں—— درد”
بوڑھی بہاراں اندر سے بولی تھی
“ٹھہر جایئے آرہی ہوں”
چند لمحوں بعد وہ لالہ نندلال کے حویلی نما مکان میں پہنچ گئی تھی۔جاتے ہی اس نے اپنے ہاتھوں میں تیل لگایا تھا۔اللہ کانام لے کر آہستہ آہستہ لالہ نندلال کی بہو کے مخملیں شریر پہ دونوں ہاتھ پھیرے تھے ۔دیکھتے دیکھتے اسکے دردزہ میں افاقہ
ہوا تھا اور بہو نے ایک خوبصورت سی بالکہ کو جنم دیا تھا۔لالہ نند لال خوش ہوئے تھے لیکن ان کا بیٹا نیرج کسی حد مایوس ہوا تھا۔لالہ نند لال نے بہاراں
کی گود گری چھواروں سے بھر دی تھی۔  ایک ہزار روپے کا نوٹ؛تانبے کی تھالی اور پیتل کی بالٹی دی تھی اور ان کی بیوی نے اپنے کان میں لگی سونے کی ایک بالی اتار کے دی تھی۔
     اپنے کچے مکان میں پہنچتے ہی بہاراں کے پوتے پوتیوں نے اسکے ہاتھ میں گری چھواروں سے بھری پوٹلی دیکھ کر اسے گھیر لیا تھا۔دادی دادی کی رٹ لگائے وہ اس سے پوٹلی لینا چاہتے تھے۔مگر اس نے کسی کو بھی پوٹلی نہیں دی تھی ۔اس نے سب کو نیچے بٹھایا تھا اور اپنے ہاتھ سے ان میں برابر گری چھوارے بانٹ دیے تھے۔اسکے دونوں بیٹوں کے پکے مکان  تھے۔دونوں سرکاری ملازم تھے۔دونوں ماں کا بہت خیال رکھتے تھے ۔بہاراں نے ساس بہو کے رشتے کو ماں بیٹی کے رشتے میں بدل دیا تھا۔وہ اکثر کہا
   کرتی تھی
“ہر ساس اگر بہو کو اپنی بیٹی کی طرح سمجھے
  تو کوئی بھی گھر برباد نہیں ہوگا”
       بہاراں کو اپنے چھوٹے سے کچے مکان میں بہت سکون ملتا تھا۔کھانا تو وہ خود نہیں پکاتی تھی البتہ صبح لپٹن جائے کا ایک کپ  خود بناکر پی لیتی تھی۔اسے رسی کی کھاٹ پہ سونا بہت اچھا لگتا تھا۔ دونوں بیٹوں نے جب اسے ایک خوبصورت بیڈ اور بستر خرید کر دیا تھا تو وہ ان سے ناراض ہوئی تھی اور کہنے لگی تھی
     “میں رات کو تہجد پڑھتی ہوں ۔تمہارے اس نرم
   گرم بستر پہ جب لیٹوں گی تو میں کہاں جاگ
  پاوں گی۔قبر میں یہ نرم گرم بستر تو نہیں ہوگا”
       بہاراں کے قصبے میں مثالی قسم کی رواداری اور بھائی چارہ موجود تھا۔ہندو ؛ مسلم؛سکھ اور عیسائی آپس میں ایک خاندان کی طرح رہتے تھے۔دیوالی اور عید کی خوشیاں آپس میں بڑی دھوم دھام سے مناتے تھے؛ لیکن اس خوش کن   ہندو مسلم بھائی چارے کو اس وقت نظر بد لگ گئی تھی جب قصبے میں نہ جانے کہاں سے دو لنگور آکے بندروں پہ جھپٹ پڑے تھے اور انھیں نوچنا کھسوٹنا شروع کردیا تھا۔لنگوروں اور بندروں کے درمیان مہا بھارت دیکھنے کے لیے مرد عورتیں اور بچے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ چند ہندو لڑکوں نے بندروں کو اس لیے بچانے کی کوشش کی تھی کہ بندر ہمارے اس قصبے میں 80 سال سے رہ رہے ہیں جب کہ لنگور پہلی بار اس قصبے میں کہیں سے آنکلے ہیں۔ مسلمان لڑکے یہ چاہتے تھے کہ لنگور ؛بندروں کو پٹک پٹک کے ماریں کیونکہ ان بندروں نے
پورے  قصبے کے لوگوں کاناک میں دم کردیا تھا۔بندر گھروں میں گھستے تھے اور اندر سے کپڑے؛کھانے پینے کی چیزیں لے جاتے تھے  اور بعض اوقات بوڑھوں اور بچوں پہ جھپٹ پڑتے تھے۔ہندو اور مسلمان لڑکے دو متضاد نظریے کے تحت چل رہے  تھےکہ ان میں آپس میں توتو میں میں اور دھکا مکی کی نوبت آگئی تھی۔بندر اور لنگور دونوں قسم کے جانور تو وقتی طور پر قصبے کی فصیل پھاند کر کہیں دور چلے گئے تھے۔لیکن قصبے میں فرقہ پرستی کا زہر چھوڑ گئے تھے۔”بولو شری ہنومان جی کی جے” اور “اسلام زندہ باد”کے نعرے فضا میں گونجنے لگے تھے کہ اتنے میں پولیس آگئی تھی اور
اس نے ان مشتعل نوجوانوں کو حراست میں لے لیا تھا۔دوسرے ہی دن قصبے کے کچھ سنجیدہ ہندو؛مسلم؛سکھ اور عیسائی لوگوں نے گذشتہ روز ہندو مسلم نوجوانوں کی نازیبا و ناشائستہ حرکت کے بارے میں ایک میٹنگ بلائی تھی۔دونوں فرقوں کے لڑکے اس میٹنگ میں شامل ہوئے تھے۔ بہاراں بھی اس میٹنگ میں بن بلائے چلی آئی تھی۔اس کے آتے ہی سب لوگ کھڑے ہوکر بیٹھ گئے تھے۔سب نے نوجوان لڑکوں کی سرزنش کی تھی؛انھیں اپنی غلطی کا احساس دلایا تھا۔آخر پر بہاراں نے بڑے رقت آمیز لہجے میں کہا تھا
  “تم سب کو اپنے خاندان کے لوگ سمجھتی ہوں۔
  میرے ہاتھوں تمہارا جنم ہوا ہے۔میری آنکھوں نے
   تمہارا بچپن؛ لڑکپن اور جوانی کا زمانہ دیکھا ہے
   اور اس عمر میں اب تمہارا بڑھاپا دیکھ رہی ہوں۔
  میں خود اب ڈوبتے سورج کی کرن کی مانند ہوں۔
   دنیا کی سب سے انمول نعمت دل کا سکون ہے۔
اتفاق واتحاد کی نعمت کو نہ کھونا۔میرے قصبے
  میں رہنے والے مسلمان اور ہندو میری آنکھیں ہیں؛
    سکھ اور عیسائی میرے بازو۔کل جن بچوں نے
غلط حرکت کی ہے وہ آپس میں ایک دوسرے سے
   معافی مانگیں اور ایک دوسرے کے ساتھ گلے ملیں
    ورنہ مجھ بوڑھی کا دل روتا رہے گا”
          آخری جملہ کہتے ہوئے بہاراں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔میٹینگ ایک خوشگوار ماحول میں اختتام پزیر ہوئی تھی۔آخر پر حلوہ بانٹا گیا تھا۔
   ایک ہفتے کے بعد  بہاراں نے اپنی دونوں بہووں کو اپنے پاس بلایا تھا۔اپنی چھوٹی سی المونیم کی صندوقچی کھولی تھی؛ اس میں سے بیس ہزار روپے نکال کر دونوں کو دس دس ہزار  دے دیے تھے ۔دوسرے دن اپنی بیٹیوں کو بلایا تھا اور ان کو بھی دس دس ہزار روپے دے دیے تھے۔ایسا کرنے سے اسے سکون سا ملا تھا۔تیسرے دن ہلکی سی بارش ہوئی تھی۔ نماز عصر کا وقت تھا۔وہ وضو بنانے کے
لیے جونہی اندر سے باہر نکلی تھی تو اسکے دونوں پیر پھسل گئے تھے اور وہ چاروں شانے چت نیچے گر گئی تھی۔اسکی چیخ سن کر گھر کے تمام افراد اسکی طرف دوڑ پڑے تھے۔پوتے پوتیاں چیختے ہوئے دادی دادی پکارنے لگے تھے اور دونوں بہو؛ بیٹے ماں کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھ کر روتے ہوئے اماں  اماں پکارنے لگے تھے۔انھوں نے فورا”ماں کو اٹھایا تھا اور گاڑی میں رکھ کر اسپتال لے گئے تھے۔
اسپتال پہنچتے ہی اس نے اپنی دونوں آنکھیں کھول دی تھیں اور پھر کلمہ پڑھتے ہوئے دم توڑ دیا تھا۔اس کے باغ کے تمام پھول بیک وقت اسکے صدمے سے مرجھا گئے تھے۔اک کہرام سامچ گیا تھا۔یہ مایوس کن خبر پورے قصبے میں چند لمحوں میں پھیل گئی تھی۔جس نے جہاں سنا تھا وہ وہیں سے اسپتال کی جانب دوڑ پڑا تھا۔جب لاش گھر پہنچائی گئی تھی تو سب نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ میت کی تحجیز وتکفین کل ہوگی۔ ساری رات گھر کے تمام افراد نے  روتے بلکتے گزار دی تھی۔دوسرے دن قصبے کے تمام دکان داروں نے دکانیں بند رکھی تھیں۔پورے قصبے میں سناٹا چھایا
ہوا تھا۔میت کو غسل اور کفنانے کے بعد جب تابوت
میں رکھا گیا تھا تو آخری دیدار کے لیے گھر کے تمام افراد کو بلایا گیا تھا۔بہاراں دائی کا چہرہ بہت زیادہ
نورانی نظر آرہا تھا۔یوں معلوم ہورہاتھا کہ جیسے وہ
مسکرارہی ہوں۔جونہی تابوت اٹھانے لگے تھے تو ہندو اورسکھ برادری کے لوگ آگے آئے تھے۔انھوں نے میت کو پہلے کندھا دیا تھا۔لالہ نندلال نے روتے ہوئے  ایک سفید قیمتی چادر تابوت کے اوپر ڈال دی تھی۔دھنو دھوبی دھاڑیں مارمار کر رورہا تھا۔سکھ رشپال سنگھ نے روتے ہوئے ایک آدمی سے کہا تھا
  “بہاراں مائی؛ کی موت ہم سب کی موت ہے۔کیونکہ
  اب ہمارے قصبے کی کوئی بھی عورت بغیر آپریشن
   کے بچہ نہیں جنے گی”
                                 **
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔
——————————————
sab ki maa , Mother of all, best story

Poor Eid a Short Story by Meer Saheb Hasan

Articles

غریب عید

میر صاحب حسن

ابھی چند ہی دن ہوئے تھے مجھے مع فیملی اس علاقے میں شفٹ ہوا تھا مگر پہچان زیادہ تر لوگوں سے ہوگئی تھی شاید اس میں اہم کردار میرے پیشے کا تھا ۔ ہر کوئی صحافی سے ملنا پسند کررہا تھا ۔میں جہاں رہتا تھا وہ علاقہ Re-development میں چلا گیا تھا اب دو یا تین سال مجھے کرائے کے مکان میں رہنا تھا ۔کرایہ مجھے اچھا مل رہا تھا اس لئے میں نے سوچا کیوں نہ کچھ رقم بچائی جائے اس لئے ایسے علاقے میں کرایہ کا مکان تلاش کیا جو سستا تھا اور ساتھ ہی آفس سے قریب۔

میرے ساتھ میری اہلیہ شگفتہ ،ایک بیٹی سارہ اور ایک بیٹاصادق تھے۔ ہم نئے نئے شفٹ ہوئے تو لوگ ملنے آئے ۔جب سنا کہ میں ممبئی کے ہی کسی اخبار میں بطور کرائم رپورٹر کام کرتا ہوں تو وہ سبھی خوش ہوئے کہ چلو اپنے علاقے کے مسائل بھی اخبار میں آجایا کریں گے۔

میں جس علاقے کی بات کررہا ہوں اکثروبیشتر اخبارات میں اس کا تعارف ان لفظوں میں کیا جاتا ہے۔’’مسلم اکثریتی علاقہ ‘‘۔یہ سچ بھی ہے ۔ممبئی کے مضافات میں چیمبور سے واشی جانے کے لئے آگے بڑھتے ہیں تو گورنمنٹ بلڈنگ کہیئے یا مہاڈا کالونی کہہ لیجئے کہ آگے ایک بڑا سگنل پڑتا ہے جہاں قانون کا پالن اسی صورت میں ہوتا ہے جب وہاں کوئی ٹرافک کانسٹبل کھڑا ہو ورنہ پھر سب کی مرضی چلتی ہے جدھر جانا ہے بچ کے نکل جائو ورنہ گالی گلوج برداشت کرو۔ سگنل کے بائیں طرف سڑک اندر جاتی ہے ۔ہاں اسے سڑک ہی کہاجائے گا کیونکہ میونسپل کارپوریشن نے اسے سڑک کا نام دیا ہے۔اسی سڑک سے لگ کر ایک اور سڑک ہے جو دور تک آگے چلی جاتی ہے اور ایک ایسی جگہ سے مڑ جاتی ہے جہاں پہنچ کر ناک پر رومال ڈالنا ضروری ہوجاتا ہے ۔دور سے دیکھنے والے اسے پہاڑ سمجھتے ہیں مگر قربت حاصل کرلینے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوڑا کرکٹ کا ڈھیر ہے اسے ’’ڈمپنگ گرائونڈ ‘‘کہتے ہیں۔اس ڈمپنگ گرائونڈ سے پہلے ہی ایک بڑا نالا ہے جس پر ایک چھوٹا سا پل بنا ہوا ہے۔یہ پورا علاقہ ایک جیسا ہی نظر آتا ہے پہلی بار آنے والا گھنٹوں گلیوں کی خاک چھانتا رہے گا۔ اوہ……..سوری…..سوری علاقہ کانام تو بتایا ہی نہیں ،ممبئی میں رہنے والے بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ گوونڈی ہے۔ ہاں یہ گوونڈی ہے جہاں غربت ،گندگی،بھوکمری غرض کیا نہیں ہے ۔غٖربت کی ہر تصویر یہاں نظر آتی ہے۔

میں ایک صحافی ہوں ،صحافی تو غریب ہی ہوتے ہیں اور پھر اردو صحافی وہ تو ……… صحافی جان کر مجھے پڑوس میں رہنے والے روز ہی ملنے لگے۔میرا بیٹا سات سال کا تھا اس کی بھی دوستی مقامی بچوں سے ہوگئی۔ پڑوسی اچھے ہوں تو رہنا بھی اچھالگتا ہے وہی ہمارے ساتھ ہوا تھا۔اچھے پڑوسی ملے تھے،سکون تھا۔

  ایک شام، میں گھر پہنچا تو ایک خاتون کو موجودپایا جن کے متعلق شگفتہ  نے بتایا کہ یہ نسرین بھابھی ہیں۔اپنے سات آٹھ سالہ اکلوتے بیٹے نثارکے ساتھ رہتی ہیں۔ جو قریب ہی اسکول میںپڑھتا ہے۔ اِن کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے اور دوسری بیوی کو لے کر افریقہ چلا گیاہے۔نسرین بھابھی کی گزر بسرمشکل سے ہوتی ہے۔سامنے والی گلی کی کسی کھولی میں رہتی ہیں۔ مجھے نسرین بھابھی کے حالات جان کر دکھ ہوا۔

جس جگہ میری کھولی تھی وہاں میری لائن میں اور سامنے ،کُل ملا کر بیس کھولیاں تھیں۔زیادہ تر لوگ ذری کا کام کرتے تھے۔وہ لوگ زیادہ پڑھے لکھے تو نہ تھے مگر اب بچوں کی تعلیم پر کافی دھیان دے رہے تھے۔

—————————

مجھے اس علاقے میں رہتے ہوئے کئی ماہ ہوگئے تھے پڑوسیوں سے اکثر اتوار کو ملاقات ہوجایا کرتی تھی۔بقیہ دنوں میں صبح دس بجے میں گھر سے آفس کے لئے روانہ ہوجاتا اور واپسی دیر رات گئے ہوا کرتی تھی ۔ ہمارے علاقے میں پانی ، بجلی اور گندگی بڑا مسئلہ تھی۔میں خود وہیں رہ رہا تھا چنانچہ کئی بار اخبار میں بھی اس کے متعلق خبر لگائی تھی۔میری کھولی سے دس فیٹ کی دوری پر حاجی چاچا کا نل تھا وہی سب کو پانی سپلائی کرتے تھے ۔دس منٹ پانی لیجئے اور دو سو روپئے ماہانہ دیجئے۔ایک بار رات میں بجلی چلی گئی تو میں نے بجلی محکمہ میں فون کردیا اور کچھ ہی دیر میں محکمہ والے آئے اور بجلی بحال ہوگئی تھی۔سامنے کھولی میں رہنے والے پپو بھائی نے کہا ۔

’’واہ ناصر بھائی!کمال ہوگیا آپ کے فون کرتے ہی لائٹ والے آگئے۔یہ ہوتا ہے فائدہ پترکار ہونے کا۔‘‘

اس کے بعد سے معمول سا بن گیا تھا کہ جب رات میں بجلی جاتی تو لوگ مجھے ہی آواز دیتے کہ بجلی محکمہ کو فون کردوں۔ایسی ہی ایک رات بجلی چلی گئی تھی۔فون کرنے پر معلوم ہوا کہ قریب ہی لوٹس کالونی کا ٹرانسفارمر جل گیا ہے دو گھنٹے لگ جائیں گے بجلی بحال ہونے میں۔شدت کی گرمی میں دوگھنٹے گزار پانا مشکل تھا ۔ابھی رات کے دس ہی بجے تھے ۔چنانچہ میں اپنے بیٹے صادق کو ساتھ لے کر باہر نکل گیا کہ کچھ دیر ٹہل آئوں۔

تھوڑی دیر تک میں بیٹے کو لئے ادھر ادھر ٹہلتا رہا۔پھر سوچا کیوں نہ مین روڈ کی کسی ہوٹل میں چائے پی لوں۔مین روڈپر جانے کے لئے ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ ایک گھر کے دروازے پر میں نے نثار کو کھڑا دیکھا۔میرے بیٹے صادق نے بتایا کہ یہ اس کا گھر ہے۔تب تک نسرین بھابھی بھی باہر نکل آئیں شاید نثار نے مجھے دیکھ کر اپنی والدہ کو بتا دیاتھا۔سلام دعا کے بعد نسرین بھابھی نے کہا۔

’’بھائی صاحب! آپ پہلی بار میرے گھر کی طرف آئے ہیں چائے پی کر جائیے۔‘‘میں تو چائے پینے کی غرض سے ہی مین روڈ جارہا تھا۔شکریہ کہتے ہوئے ان کے گھر میں داخل ہوا۔

نسرین بھابھی کے گھر میں پہلی بار آیا تھا مگر ایسا گھر بھی میں نے پہلی بار ہی دیکھاتھا جو شروع ہوتے ہی ختم بھی ہوجاتا ہے۔یہ ایک 6×7کی کھولی رہی ہوگی۔دائیں طرف تین فٹ کی جگہ اور بائیں طرف ایک پلنگ رکھی ہوئی تھی کچھ گٹھریاں ،اسکول بیگ،کپڑے پلنگ پر قرینے سے رکھے ہوئے تھے۔نیچے خالی جگہ پر اسٹو تھا۔ساتھ ہی پانی کا ایک چھوٹا سا ڈرم اور ڈھر ساری پانی کی کچھ خالی کچھ بھری بوتلیں۔میں تعجب سے یہ منظر دیکھ ہی رہا تھاکہ آواز آئی۔

’’بھائی بیٹھئے نا بس دو منٹ میں چائے حاضر ہے۔‘‘میں نے کھولی دیکھتے ہوئے نسرین بھابھی سے سوال کیا۔

’’اتنی بوتلیں کیوں رکھی ہیں؟‘‘

’’پانی بھر کے لاتی ہوں بھائی،پھر کوئی مٹکا بھی نہیں ہے اسلئے ایسے ہی رکھتی ہوں۔پانی پیتے جاتے ہیں بوتلیں خالی ہوتی جاتی ہیں پھر دوسرے دن بھر لاتے ہیں۔‘‘

’’بھر لاتے ہیں……..کیا مطلب……پانی پائپ سے نہیں لیتے؟‘‘میں نے سوال کیا۔

’’نہیں بھائی! پائپ سے لینے کے لئے مہینہ دو سو روپیہ دینا ہوگا۔میں کہاں سے دوں گی۔بڑی مشکل سے تو نثار کو پڑھا رہی ہوں۔‘‘

’’تو پانی کہاں سے لیتی ہیں آپ؟‘‘

’’یہ سب بوتلیں مانخورد ریلوے اسٹیشن سے بھرکرلاتی ہوں‘‘۔میں یہ سن کر دنگ رہ گیا۔

جہاں یہ کھولی تھی وہاں سے تقریباً تین کلومیٹر کی دوری پر یہ اسٹیشن واقع ہے۔کچھ ہی دیر میں نسرین بھابھی نے چائے میرے حوالے کی ۔کسی طرح جلدی جلدی میں نے حلق میں اتاری اور کھولی سے باہر یہ سوچ کر نکل آیا۔

اس دنیا میں کتنا غم ہے

میرا غم کتنا کم ہے

٭٭٭

میں کئی دنوں تک اسی فکر میں لگا رہا کہ کیسے نسرین بھابھی کی پریشانیاں دور ہوں مگر بہت کچھ میرے بس میں نہ تھا ۔پھر بھی میں نے حاجی چاچا سے کہا کہ نسرین بھابھی کو بھی پانچ منٹ کے لئے پائپ دے دیا کرو ۔سو روپئے مہینہ میں دے دیا کروں گا۔

میں صحافی تھا اور میری روزی روٹی اخبارات سے جڑی ہوئی تھی اسلئے روزانہ میرے پاس کئی اخبارات آیا کرتے تھے۔پڑوسیوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ میرے گھر ردی جمع رہتی ہے چنانچہ کسی ضرورت کے موقع پر اکثر کوئی نہ کوئی ردی لے جاتا۔

٭٭٭

ماہ رمضان کی آمد تھی۔

اخبار کے مینجنگ ڈائریکٹردل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے اسپتال میں تھے ان کی بائی پاس سرجری ہونے والی تھی۔آفس میں سب پریشان تھے کہ عید میں کیا ہوگا۔گھر میں وائف کو فکر تھی کہ بچوں کا کپڑا جلد سے جلد آجائے۔کئی بار شگفتہ نے بھی اس ضمن میں ذکر کیا ۔میں نے امید بندھائی کہ ڈائیرکٹر صاحب تو اسپتال میں ہیں مگر ہم لوگوں نے ان کے لڑکے سے بات کی ہے کہ پوری نہ سہی کچھ رقم ہی مل جائے تاکہ عید اچھے سے گزر جائے۔

’’چلئے جو منظور خدا ہوگا ہوکے رہے گا انشاء اللہ‘‘۔یہ کہہ کر شگفتہ نے میری ہمت بندھائی۔

عید کو دو روز باقی تھے۔

پوری گلی میں شور شرابہ تھا ۔بزمِ فلاح والوں نے اندر آنے والی سڑک سے لے کر پوری گلی میں ڈیکوریشن کردیا تھا ۔جسے دیکھئے وہ شاپنگ میں مصروف تھا۔ غرض ہر کوئی عید کی تیاریوں میں تھا۔

اخبار کے ڈائیرکٹر صاحب اب تک اسپتال میں تھے مگر ان کے فرزند ارجمند نے اخبار میں کام کرنے والے سبھی افراد کو تھوڑے تھوڑے پیسے دئے اس وعدے کے ساتھ کہ باقی عید کے دوچار روز بعد ادا کردیا جائے گا۔

مغرب بعد میں گھر پہنچا تو قریبی مسجد سے اعلان ہورہا تھا کہ چاند ہوگیا ہے اور کل عید ہے۔ کھانے کے بعد ہم لوگ لوگوں نے بھی شاپنگ کی ۔

 شگفتہ اور بچوں کے کپڑے ،چپلیں،جوتے ،سوئیاں،مہندی وغیرہ سب خریدا گیا۔شگفتہ نے بہت ضدکی کہ میں اپنے لئے بھی پٹھانی سوٹ خرید لوں۔

’’شگفتہ! بچوں کے اور تمہارے کپڑے وغیرہ زیادہ ضروری تھے ‘‘۔

’’تو ٹھیک ہے پھر ہمارے لئے کیوں لے لیاآپ نے؟آپ نہیں پہنیں گے توہم بھی نہیں پہنیں گے‘‘۔

’’چلو بھئی! اب صبح دیکھوں گا‘‘۔

’’نہیں نہیں دیکھنا نہیں ہے صبح نمازبعد پٹھانی سوٹ لے لیجئے گاپھر ہم لوگ امی کے یہاں چلیں گے‘‘۔

’’ٹھیک ہے بابا‘‘۔

صبح آٹھ بجے نماز عیدباجماعت اداکی۔لوگوں سے گلے ملے۔ مسجد و اطراف میں بچے بوڑھے سبھی کے چہرے دمکتے نظر آرہے تھے ۔بھلا ایسا کیوں نہ ہوتا؟ پورے مہینے انتظار رہتا ہے عید کا۔عید خوشیوں کا دن ہوتا ہے۔

٭٭٭

بعد نماز عید پڑوسیوں سے مل کر گھر آیا۔گھر میں داخل ہوتے ہی شگفتہ نے کہا۔

’’دس بجے تک جاکر سوٹ خرید لیجئے پھر امی کے یہاں چلا جائے گا‘‘۔

’’ارے بھئی!اب کیا کہوں؟………میرے پاس قریب دوہزار روپئے بچے ہیں اور عید کے تین چار دن بعد ہی آفس سے بقیہ پیسے مل پائیں گے‘‘۔

’’کوئی بات نہیں ……..ہزار روپئے تک سوٹ آجائے گااور باقی ہزار تین چار دن کے لئے کافی ہے‘‘۔شگفتہ کے ساتھ بچے بھی ضد کرنے لگے۔

سب کے زور دینے پر میں نے ایک ہزار روپئے شگفتہ کے حوالے یہ کہتے ہوئے کیا ۔

’’یہ رہے ہزار روپئے ،دو تین دن خرچ سنبھالنا۔ہزار میں رکھ لیتا ہوں ابھی کچھ دیر میں جاکر پٹھانی یا کرتا پائیجامہ خرید لوں گا‘‘۔میرے یہ کہنے پر سب خوش ہوگئے اور ہم سبھی سوئیاں پینے لگے۔

ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ نسرین بھابھی کا بیٹا آگیا۔اس نے کہا۔

’’ گھر میں کچھ کام ہے امی نے ردی پیپر مانگے ہیں اور کہا ہے زیادہ پیپر لانا،صفائی کرنا ہے‘‘۔

’’آئو بیٹا بیٹھو! شیر خرما پی لو پھرردی پیپر لے جانا ‘‘میں نے کہا۔

’’نہیں انکل!امی بولی ہے صادق کے یہاں سے ردی پیپر لے کر جلدی آجائو‘‘۔

’’اچھا بیٹا!ردی پیپر ،امی کو دے کر آجانا‘‘۔یہ کہتے ہوئے میں نے گھر میں جمع سارے ردی اخبارات نکال کر ایک جمبو تھیلی میں رکھ کر اس کے حوالے کئے کہ کہیں گرا نہ دے۔وہ دونوں ہاتھوں سے تھیلی سنبھالتے ہوئے چلا گیا۔

شگفتہ نے مجھے یاد دلایا۔

’’ دس بج رہے ہیں جائیے کرتا پائیجامہ لے کر جلدی آجائیں‘‘۔نہ چاہتے ہوئے بھی میں باہر نکلا۔سوچا چلو سگنل کی طرف جو عید بازار ہے وہیں سے خرید لیتے ہیں۔

 ابھی میں گلی سے نکل کر مین روڈ کی طرف جانے ہی والا تھا کہ میری نظر نثار پر پڑی جو سامنے ایک دکان پر کھڑا تھا اور دکان والا اس جمبو تھیلی سے ردی اخبارات نکال کر تول رہا تھا۔جو کچھ دیر پہلے میں نے اپنے گھر پر نثار کے حوالے کئے تھے۔دکاندار نے ردی کو تول کر کچھ روپئے نثار کے ہاتھوں پر رکھ دیے۔نثار دکان سے نکل کر سڑک پر آیا تو میں نے اسے روک لیا۔

’’یہاں کیا کررہے ہو بیٹا؟‘‘میں نے سوال کیا۔

’’امی بولی یہ ردی بیچ کر پانچ روپئے کا دودھ،دو روپئے کی چائے پتی اور پانچ پائو لے کر آئو۔تومیں نے ردی دکان والے کو دے دیا اور دودھ لینے جارہا‘‘۔

’’دکان والے نے ردی پیپر کے کتنے روپئے دیے؟‘‘

’’وہ انکل نے چالیس روپئے دیے ہیں‘‘۔نثار نے جواب دیا۔

’’کیوں بیٹا! تم لوگ چائے نہیں پیئے‘‘۔

’’نہیں انکل! امی کے پاس پیسہ نہیں ہے اور رات میں ہم لوگ کھانا بھی نہیں کھائے‘‘۔

’’کیوں ؟تمہاری امی نے کھانا نہیں پکایا تھا؟‘‘

’’نہیں انکل !بہت دن سے امی کی طبیعت کھراب ہے اور پیسہ بھی نہیں ہے۔اس لئے امی کھانا نہیں پکاتی ہے۔ہم لوگ روجانہ، روجا مسجد میں کھولتے تھے اور کھانا بھی وہیں کھا لیتے تھے۔کل شام پانی لینے کے لئے مانکوراسٹیشن گئے تھے ،دیر سے آئے تو کھانا کھتم ہوگیا تھا۔ہم لوگ بھوکے رہے۔میں ردی امی کے پاس لے گیا تو امی بولی جلدی سے بیچ کر دودھ پائو لا،پھر ہم چائے پیتے ہیں‘‘۔

نثار کی باتیں میرے لئے کسی تازیانے سے کم نہ تھیں۔میں نے جیب سے ہزار روپئے نکال کر اُس کی جیب میں رکھتے ہوئے سمجھایا۔

’’بیٹا!یہ روپئے گرا مت دینا،سیدھے اپنی امی کو جاکر دو۔شیر خرما کھائو اور اپنے لئے امی سے کپڑا لانے کے لئے کہنا……..جائو پہلے گھر جائو‘‘۔

نثار جیب تھامے خاموشی سے تیز قدم اٹھاتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔

میں وہیں کھڑا سوچتا رہا کہ نثار غریب ہے؟

یامیں غریب ہوں جو اپنے پڑوسی کی خبرگیری نہ کرسکا؟

یا معاشرہ ہی غریب ہے جو اندھا بہرا ہوچکا ہے

 یا پھریہ عید ہی غریب ہے؟
—————————————————–
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔
Ghareeb ki Eid, Best urdu short story

What happened on the ship? Story by Anwar Khan

Articles

جہاز پر کیا ہوا؟

انور قمر

موٹرویسل گاندھی (Motor Vessel Gandhi) نام کا جہاز صوبہ گجرات کی مشہور بندرگاہ کانڈلہ سے، صبح سات بجے صوبہ بنگال کے تاریخی شہر کلکتہ کی جانب روانہ ہوا تھا۔ بحیرۂ عرب کی موجوں میں ہلکا سا تلاطم تھا، ذرا تیز ہوا بہہ رہی تھی، اکادکا سمندر پرندے جہاز کا طواف کرتے اب بھی دیکھے جاسکتے تھے۔ گیارہ بج چکے تھے، کپتان عرش الرحمن اور چیف آفیسر بمل دت کے درمیان دبے دبے سے غصے کے ساتھ بحث ہورہی تھی۔

بمل دت کہہ رہا تھا، ’’سر، کیا آپ نے شنڈلرزلسٹ (Schindler’s List) نہیں دیکھی؟‘‘

کپتان نے جہاز کی چرخی کو کسی قدر بائیں کو موڑتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ہم تم دونوں ہی نے ساتھ دیکھی تھی، غالباً کلکتہ کے میٹروتھئیٹر میں، مگر اس فلم کا ہماری بحث سے کیا تعلق؟‘‘

’’تعلق ہے صاحب اور لازماً ہے۔ کیا اس میں شنڈلر کے نائب نے جو مذہب کے اعتبار سےیہودی تھا اپنے یہودی بھائیوں کی جان نہیں بچائی تھی؟‘‘

’’یقیناً بچائی تھی، مگر شنڈلر کو ان کی جانوں کا بھاری تاوان بھی تو ادا کرنا پڑا تھا۔‘‘ کپتان نے چرخی کو راست وضع پر قائم رکھتے ہوئے کہا۔ پھر کچھ رک کر بولا:

’’اگر وہ نازیوں کو بصورت جنس یا نقد اس قدر بھاری تاوان ادا نہ کرتا تو یقیناً کئی یہودی نظر بندی ڈیروں میں مار دیے جاتے۔‘‘

’’ہاں صاحب یہی تو میں کہہ رہا ہوں اور ایک مسلمان کی حیثیت سے نہ ایک ہندو کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں، بلکہ ایک انسان کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں کہ آپ انھیں کلکتہ لے چلیے۔ وہاں دیکھیں گے کہ وہاں کی مارکسی حکومت ان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ وہ انھیں پناہ میں لے لے گی۔‘‘

ابھی کچھ دیر پہلے کوارٹر ماسٹر شمسی نے آکر اطلاع دی تھی کہ جہاز پر رکھے ہوئے ایک کنٹینر (Container) کے اندر سے بچے کے رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ جب کپتان نے اس بات کی وضاحت طلب کی تو اس نے کہا:

’’جناب میں حسب معمول ڈیک صاف کر رہا تھا۔ صفائی کرتاہوا جب میں کنٹینر نمبر ستائیس تک پہنچا تو اس کے اندر سے مجھے بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔ پھر مجھے محسوس ہوا کہ کسی نے بچے کا منہ داب دیا ہے۔ پہلے تو مجھے خوف محسوس ہوا کہ کنٹینر سے بچے کی آواز آنے کا کیا مطلب؟ کوئی بچہ تو اس کے اندر موجود نہیں؟ اگر ہے تو اس کا منہ داب دینے کا کیا مطلب؟ اس کے علاوہ بھی اس کنٹینر میں کوئی موجود تو نہیں؟ میں دبے پاؤں وہاں سے چلتا ہوا برج پر آگیا تاکہ یہ ماجرا آپ سے بیان کر سکوں۔‘‘

موٹر ویسل گاندھی ایک خستہ حال جہاز تھا۔ اسے کئی سال سے مرمت درکار تھی۔ ڈرائی ڈاکنگ (Dry Docking) کے لیے جہاز کو وزاگا پٹم لے جانے کے کپتان عرش الرحمن کو احکام مل چکے تھے تاکہ وہاں اس کی ازسرنو مرمت ہو، مگر آخری لمحوں میں وہ احکام منسوخ کردیے گئے تھے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ گاندھی کے مالکان کو گجرات کی ایک بڑی چرم ساز کمپنی سے مال و اسباب کی باربرداری کا بڑا ٹھیکہ مل گیا تھا۔’’نور تم داس پر شوتم داس‘‘جہاز رانی کی کوئی سو سال پرانی کمپنی تھی جس کے مالکان اپنے پرکھوں کے قائم کردہ تجارتی اصولوں پر کام کرتے چلے آئے تھے۔ انہوں نے نہ تو کبھی صوبائی حکومت کے مقرر کردہ قوانین کو لانگھنا چاہا تھا،نہ مرکزی حکومت کی مرتب کردہ پالیسی کے خلاف بلاوجہ آزادی لینے کی کوشش کی تھی۔

چنانچہ جب کپتان عرش الرحمن نے کمپنی ہیڈکوارٹر کو بذریعہ فیکس اطلاع دی کہ ایک کنٹینر میں کوئی چالیس کے قریب گجرات کے مہاجر ہیں۔ ان میں نو بچے ہیں، پچیس عورتیں ہیں اور گیارہ ضعیف مرد ہیں۔ ان کا فہرست میں کوئی ذکر نہیں، اس لیے مجھے مطلع کیجئے کہ میں ان کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کروں۔‘‘

کچھ دیر پہلے کپتان کے حکم دینے پر کنٹینر نمبر ستائیس کی مہر توڑ دی گئی تھی۔ پھر تالا کھولا گیا تھا، کنٹینر کا بولٹ اتارا گیا تھا۔ پھر شمسی نے جوں ہی کنٹینر کا دروازہ کھولا تو اندر سے سخت بدبو کا ایک بھپکا باہر آیا۔ انہوں نے دیکھا کہ اندر بچے، عورتیں اور مرد تقریباً الگ الگ قطاروں میں بیٹھے تھر تھر کانپ رہے تھے۔ ان سب کی آنکھیں ان کے ہاتھوں میں تھیں۔ نہ جانے کتنے عرصے سے وہ گھپ اندھیرے اور غلاظت میں بند تھے۔ کپتان نے ان کو عرشے کے ایک گوشے میں لے جاکر،حمام کرانے اور حمام کے بعد انھیں ہلکی غذا دینے کی ہدایت کی۔

کمپنی کے ڈائریکٹر چھبیل داس کی میز پر، آفس منیجر مسٹر ڈی کو سٹانے، موٹر ویسل گاندھی سے آیا ہوا فیکس رکھ دیا اور ان کا احکام سننے کے لیے وہاں کھڑا رہا۔ انہوں نے فوراً کمپنی کے بڑے عہدے داروں کی بیٹھک طلب کی اور حاضرین کو وہ فیکس پڑھ کر سنایا اور کہا کہ موجودہ صورت میں کپتان ہی مناسب شخص ہے جو اس موقع پر صحیح فیصلہ کرسکتا ہے۔

اوبیرائے صاحب نے کہا:

’’مجھے تو آج سے پچپن ساٹھ سال پرانے ملکی تقسیم کے بعد پیش آنے والے واقعات یاد آنے لگے کہ کیسے لوگوں نے چھکڑوں پر، تانگوں میں، پیدل اور مال گاڑی کے ڈبوں میں سرحد پار کی تھی۔ یہ خانماں برباد بھی انھیں کے سے بلکہ ہم جیسے دکھائی دے رہے ہیں۔ بھائی چھبیل داس جی! ٹوبہ ٹیک سنگھ سے امر تسر اور امرتسر سے دہلی کے سفر کا حال کیا سناؤں۔ کیا کچھ نہ دیکھا ان آنکھوں نے، اب تو اس کے تصور ہی سے، اندھیری راتوں میں اٹھ بیٹھتا ہوں اور بھوت بھوت کہہ کر چلانے لگتا ہوں۔‘‘

چھبیل داس نے منیجر ڈی کوسٹا سے رائے مانگی۔ اس نے کہا کہ میں بین الاقوامی قوانین جہاز رانی کے مینول دیکھ رہا تھا، تاکہ فوری طور پر ان سے رہنمائی حاصل کرسکوں۔ ضابطوں میں 1973 کے حوالے سے یہ بات درج ہے، کہ بندرگاہ چھوڑ دینے کے بعد، اگر کپتان کو یہ اطلاع ملے کہ اس کے جہاز پر کوئی ایسا شخص سوار ہے، جس کا جہاز کے مسافروں یا عملے کی فہرست میں نام درج نہیں، تو ایسے شخص کو، اپنی منزل پر پہنچ کر، انتظامیہ کے حوالے کر دے، یا اسے محسوس ہو کہ وہ زیادہ وقت گنوائے اسی بندرگاہ کو لوٹ کر جاسکتا ہے، جہاں سے وہ شخص جہاز پر سوار ہوا تھا تو لوٹ جائے اور وہاں بندرگاہ کی انتظامیہ کے اس شخص کو حوالے کردے۔‘‘

چھبیل داس جی نے کہا: ’’ٹھیک ہے وہ تو سات روز کے بعد کلکتہ پہنچیں گے۔ ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ واپس ہوجائیں اور کانڈلہ پر وہ کنٹینر انتظامیہ کی تحویل میں دے دیں۔‘‘

پچھتر سالہ اوبرائے صاحب نے کہ جن کا شمار بھی ڈائریکٹروں میں ہوتا تھا، کہا:

’’چھیبل داس جی یہ ہمارے لیے سب سے سہل راستہ ہے کہ ہم، ان مہاجروں کو، پھر سے گجرات حکومت کے حوالے کردیں۔ اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ میں نے مرحوم کرشن چندر کی ایک کتاب پڑھی تھی ’’ہم وحشی ہیں۔‘‘ اسے پڑھ کر میں نے انہیں لکھا تھا کہ آپ نے برصغیر کے دو بڑے فرقوں سے بلند ہو کر نہ سینتالیس کے حالات پر افسانے لکھے ہیں۔ اور انسان کے اندرون میں بسے ہوئے اس وحشی سے اپنے قاری کو متعارف کیا ہے، جس سے آشنا ہو کر آپ کا قاری، دم بخود رہ جاتا ہے۔

’’کرشن جی نے میرے خط کے جواب میں لکھا تھا کہ دونوں ہی فرقوں کے ہاتھوں قتل و غارت ہوا، آتش زنی اور لوٹ مار کی وارداتیں دونوں ہی نے سر انجام دیں، عصمت دری اور عورتوں کو داغ دینے کے واقعات کے ذمے دار دونوں ہی فرقے کے لوگ ہیں۔ لیکن اب ہمیں اتنا کچھ جھیل جانے کے بعد یہ خیال رکھنا چاہئے کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔

’’تو چھیبل داس جی آپ عرش الرحمن سے کہیے کہ وہ کنٹینر لے کر سیدھا کلکتہ چلا آئے۔ ہم یہاں دیکھیں گے کہ ہماری ہوم منسٹری ان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ ان کے کلکتہ پہچنے تک، ہم مسٹر اہلوالیہ، ہوم سکریٹری سے رابطہ قائم کر کے اس معاملے میں مشورہ طلب کر لیں گے۔‘‘

کمپنی کی جانب سے جب ایم وی گاندھی پر چھبیل داس جی کا دستخط کیا ہوا فیکس پہنچا، تو اس وقت جہاز کانڈلہ کی جانب موڑ لیا گیا تھا، کیوں کہ عرش الرحمن ایک سینئر کپتان تھا اور جہاز رانی کے قوانین اور احکامات سے بخوبی واقف تھا۔

اس نے بمل دت کو فیکس دکھاتے ہوئے کہا، ’’یہ دنیا والے کبھی کسی کو اپنے غیر جانب دار ہونے کا موقع نہیں دیتے۔ گوکہ اس کنٹینر میں آئے ہوئے تمام لوگ میرے بہن بھائی ہیں۔ مگر میں ان کے ساتھ کیوں کر امتیازی سلوک کر سکتا تھا؟ اچھا ہوا جو یہ حکم آگیا۔‘‘

’’سر، ہمارے پاس قوت اختیار تو تھی۔ مگر آپ دوسرا حق انتخاب استعمال کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔‘‘ بمل دت نے جواب دیا۔

عرش الرحمن مسکرایا اور بولا:

’’اچھا جاؤ اور اسٹور میں دیکھ آؤ کہ راشن پانی مناسب مقدار میں موجود ہے کہ نہیں۔‘‘

اسی لمحے شمسی پھر دوڑتا ہوا برج میں آیا۔

’’کیا بات ہے شمسی، تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں لگ رہے ہو؟‘‘

’’سر! سر! کنٹینر نمبر سولہ سے بھی، میں نے ابھی ابھی ایک بچے کو رونے کی آواز سنی ہے۔‘‘
————————————————–

From lockdown to lockup by Dr. Salim Khan

Articles

لاک ڈاون سے لاک اپ تک

ڈاکٹر سلیم خان

کورونا کے غم کی لہر کو لاک ڈاون نے خوشی میں بدل دیا ۔ جمال کے گھر میں اس کی بیوی جمیلہ کے سوا ہر کوئی خوشی سے پھولا نہیں سمارہا تھا۔ جمال کے والد کمال صاحب اس لیے خوش تھے کہ پہلی بھر سارے گھر کے لوگ ایک ساتھ جمع تھے ۔ کوئی کہیں آجانہیں رہا تھا ۔ اپنے آپ میں مست لوگ کم ازکم گھر کے اندر تو تھے ۔ اپنی بہو ، بیٹے اور پوتوں و پوتیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر ان کو بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ کمال صاحب کی اہلیہ افسری بیگم کو خوشی اس بات کی تھی اب گھر کا سارا کام ان کی بہو کو کرنا پڑ رہا تھا۔ جمیلہ بہو بننے سے قبل ٹیچر بن چکی تھی۔ اس لیے گھریلو کاموں سے خود کو الگ تھلگ رکھنے کے اس کے پاس ہزار بہانے ہوتے تھے ۔ اسکول کے اندر نہایت چاک و چوبند رہنے والی جمیلہ گھر آتے ہی تھک کر چور ہوجاتی تھی ۔
جمیلہ کا ابتداء میں یہ معمول تھا کہ دو پہر کو ساس کے ہاتھ کا بناکھاکر سونا اور شام میں اٹھ کر بچوں کے پرچے جانچنا۔ افسری بیگم پوچھتیں کہ بہو تم پڑھاتی بھی ہو یا امتحان ہی لیتی رہتی ہو تو اس کا جواب ہوتا ۵ کلاسوں کو پڑھاتی ہوں ۔ ہر ایک کا ماہانہ ٹسٹ ہوتا ہے۔ پہلے پرچہ ترتیب دینا ہوتا ہے اور پھر جانچنا اس طرح پورا مہینہ اسی کی نذر ہوجاتا۔ جمیلہ کے ببلو اور ببلی جب اسکول جانے لگے تو ان کے پڑھانے کا کام بڑھ گیا ۔ اسی کے ساتھ محلے بھر کے بچے گھر میں پڑھنے کے لیے آنے لگے ۔ اس طرح چونکہ اضافی آمدنی ہوجاتی تھی اس لیے افسری بیگم نے اسے بھی برداشت کرلیا اور شام کا کھانا بھی خود بنانے لگیں ۔ سچ تو یہ ہے افسری بیگم کو لاک ڈاون کی بدولت پہلی بار اپنی بہو سے خدمت لینے کا موقع ملا تھا ۔
افسری بیگم کی زندگی میں سب سے اچھا وقت سرما اور گرما کی تعطیلات میں آتا ۔ چھٹیوں میں نتائج تقسیم کرنے تک جمیلہ بے حد مصروف رہتی اور اگلے ہی دن اپنے شوہر بچوں سمیت میکے ملکا پور چلی جاتی ۔ افسری بیگم کو اس کا کوئی افسوس نہ ہوتا کیونکہ اول تو ان کے کام کا بوجھ کم ہوجاتا اور ایک دو دن کے اندر ان کی دبیٹیاں اپنے میکے آجاتیں ۔ پھر کیا خدمت ہی خدمت۔ سچ تو یہ ہے کہ کمال صاحب اور افسری بیگم کے لیے وہی سب سے اچھا زمانہ ہواکرتا تھا لیکن اس زمانے نہ جمال موجود ہوتا اور نہ ببلو و ببلی ۔ بچوں کی کمی دادا اور دادی کو بہت کھلتی لیکن وہ بیچارے کر بھی کیا کرسکتے تھے۔ لاک ڈاون نے سب کچھ بدل دیا تھا۔ اسکول اور ٹیوشن سب بند ہوگئے تھے ۔ بچے خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے ۔ انہیں نہ جانے کس نے بتا دیا تھا کہ اس سال امتحان بھی نہیں ہوں گے اور وہ بغیر کسی ابتلاء وآزمائش کے اگلی کلاس میں ڈھکیل دیئے جائیں گے ۔
ان سب سے زیادہ خوش جمال تھا کیونکہ وہ جس بین الاقوامی کمپنی میں کام کرتا تھا اس کے دفاتر ہانگ کانگ اور سنگاپور سے لے نیویارک اور لاس اینجلس تک پھیلے ہوئے تھے ۔ صبح آنکھ کھلتی تو مشرق بعید کے ای میل اس کے جواب کا منہ کھولے انتظار کررہے ہوتے۔ اس لیے کہ دفتر کا سارا ریکارڈ اس کے کمپیوٹر میں بند تھا اور اس کام مختلف دفاتر کو معلومات فراہم کرنا تھا۔ اس کو بستر پر چائے پیتے ہوئے بھی دوچار ضروری جوابات دینا پڑجاتے تھے۔ دفتر پہنچنے تک ہندوستان اور جنوب ایشیا کا سلسلہ جاری ہوجاتا۔ دوپہر بعد یوروپ سے آنے والے خطوط کا اضافہ ہوجاتا اور شام میں جب ہانگ اور سنگاپور والے سونے کی تیاری کرنے لگتے تو امریکہ بیدار ہوجاتا ۔ یہاں تک کہ بستر پر جانے تک بھی کچھ نہ کچھ کام بچ ہی جاتا تھا ۔
وقت کی چکی میں بری طرح پسنے والا جمال یہ سمجھنے سے قاصر تھاکہ آخر اس کا ہر گاہک اور ہر افسر گھوڑے پر سوار ہوکر کیوں آتا ہے ۔ ان کو اتنی جلدی کیوں ہوا کرتی ہے۔ جیسے اگر یہ معلومات فوراً نہ ملے تو آسمان پھٹ جائے۔ ان گھڑسواروں کو جمال کے ٹاپ کے نیچے روندے جانے کا احساس تک نہیں ہوتا تھا لیکن کورونا کی وباء نے وقت کا پہیہ روک دیا تھا اور اب وہ گھوڑے بیچ کر سونے لگا تھا ۔ وہ اپنا ایک ایک ارمان نکال رہا تھا ۔ یو ٹیوب پر ایسی ساری ویڈیوز اس نے دیکھ ڈالی تھیں جن سے مستفید ہونا اس کے تصور بھی محال تھا۔ ایسے ایسے دوستوں سے فون اور فیس بک پر رابطہ استوار کرچکا تھا جو ماضی کے دھندلکے میں نہ جانے کہاں کہاں کھوگئے تھے۔
اس بیچ اپنے موبائل میں کھوئے ہوئے جمیل کو جمیلہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا اب سبزی ترکاری لاوگے یا پھر سے دال چڑھا دوں ۔
جمیل سر اٹھائے بغیر بولا چڑھا دو دال ۔ میں نے کب اعتراض کیا ہے؟
آپ کے اعتراض کی مجھے پروا کب ہے؟ لیکن اب تو بچے بھی دال روٹی کھاتے کھاتے بور ہونے لگے ہیں ۔
تو ان کو سمجھاو کہ لاک ڈاون ہے ۔ گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔
وہ نہیں مانتے ۔ کہتے ہیں سبزی ترکاری بک رہی ہے۔ دوستوں اور سہیلیوں کے یہاں سب بنتا ہے تو ہمارے یہاں کیوں نہیں بن سکتا؟
جمال کسمساتے ہوئے اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھا تو افسری بیگم نے پوچھا بیٹے لاک ڈاون میں ایسے منہ اٹھائے کہاں چل دیئے؟
بازار جارہا ہوں امی۔ کچھ سبزی ترکاری لے آوں ۔ بچے روز روز دال چاول کھاتے کھاتے بیزار ہوگئے ہیں ۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن کم ازکم ماسک تو لگا لو ۔ میں نے سنا ہے بغیر ماسک کے جانے پر جرمانہ لگتا ہے۔
کمال صاحب بولے جرمانہ کے ساتھ ڈنڈے بھی پڑتے ہیں ۔ میں تو کہتا ہوں حفظ ماتقدم کو طور پر دستانے بھی پہن لو۔
جمال کے باہر نکلنے کے بعد ببلو نے اپنے دادا سے پوچھا ہمارے ابو کو ڈنڈے سے کون مار سکتا ہے؟
کمال صاحب بولے پولس والے اور کون ؟
ببلی نے پوچھا کیا پولس بھی ہماری ٹیچر کی طرح بلاوجہ مار پیٹ کرتی ہے ۔
افسر بیگم نے موقع غنیمت جانتے ہوئے کہا بیٹی یہ سوال تم اپنی امی سے کرو۔
باورچی خانے سے جمیلہ کی آواز آئی ۔ دادی پوتی میں کیا کھچڑی پک رہی ہے؟
ببلو بولا امی یہ گھچڑی نہیں بریانی ہے ۔ دم بریانی اور سب ہنسنے لگے ۔
جمال نے اپنی بلڈنگ سے نکل کر بازار کی جانب چلتے ہوئے بس اسٹاپ پر دیکھا تو وہاں بنچ پر ایک آدمی سویا ہواتھا ۔ پاس میں جمال کی طرح کورونا سے بے خوف ایک مور ناچ رہا تھا ۔ جمال کبھی خواب میں بھی سوچ نہیں سکتا تھا اس چہل پہل کے وقت کوئی مور بھی اس طرف آسکتا ہے۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہورہا تھا ۔عام طور پر دن بھر اس بس اسٹاپ پر بھیڑ لگی ہوتی ۔ بسوں کا تانتہ لگا رہتا تھا ۔ ایک نکلتی تو دوسری آتی دکھائی دیتی لیکن اب سب کچھ بدل گیا تھا ۔ بس اسٹاپ کے قریب پہنچ کر جمال نے لیٹے ہوئے نوجوان کو دیکھا تو اس کا پیٹ پیٹھ سے لگا ہواتھا ۔ اس کو فوراً وزیر اعظم کی نصیحت یاد آگئی ۔ ہر انسان دوسرے کا درد محسوس کرے اور اسے کھانے کو دے لیکن اس کا جھولا اس وقت خالی تھا۔ اس کی جیب نوٹ تو تھے لیکن اس سے پیٹ نہیں بھرتا تھا ۔
بازار میں جمال نے سبزیوں تین چار گنا بھاو سنے تو اسے وزیر اعلیٰ کی تقریر یاد آگئی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ کسی کو منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اس نے سبزی والے سے کہا خدا سے ڈرو، کم ازکم اس مشکل وقت میں تو لوٹ مار نہ کرو ؟
سبزی فروش بولا صاحب ہم کیا کریں ۔ جو بھاو مال ملتا اسی میں دو پیسہ بڑھا کر بیچتے ہیں ۔ آخر ہمارے بھی تو بال بچے ہیں؟
ارے لیکن یہ بھی کوئی بھاو ہے ؟میں پولس کو شکایت کروں گا ۔
ہم تو کورونا سے نہیں ڈرتے ۔ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر آپ لوگوں کو سیوا کررہے ہیں اوپر سے آپ دھمکا رہے ہیں ۔ لینا ہے لیجیے ورنہ اپنا راستہ ناپیے۔
جمال کو ایسے جواب کی توقع نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہیں جمیلہ نے اس کے ذریعہ انتقام تو نہیں لے لیا لیکن کہاں جمیلہ اور کہاں یہ سبزی والا؟ سبزی ترکاری لے کر لوٹتے ہوئے جمال کو پھل والا دکھائی دیا ۔ وہ پھلوں کے لیے ہفتہ بھر سے ترس گیا تھا ۔ اس نے سیب ، انگور، کیلے اور نہ جانے کیا کیا خرید لیے یہاں تک کہ پھلوں کا تھیلا سبزی سے زیادہ بھاری ہوگیا ۔ اس ناپسندیدہ مہم سے فارغ ہوکر گھر لوٹتے ہوئے جمال جب بس اسٹاپ پر پہنچا تو اسے بنچ پر وہی لڑکا سویا ہوا نظر آیا۔ نیچے ایک کتا بیٹھارال ٹپکا رہا تھا ۔ بے حس و حرکت پڑی ہوئی لاش کو دیکھ جمال کو گمان گزرا کہیں یہ شخص مرمرا تو نہیں گیا۔ اس نے قریب آکر غور سے دیکھا تو سانس چل رہی تھی لیکن پیٹ وہی پیٹھ سے چپکا ہوا تھا۔ جمال نے سوچا اگر یہ کورونا سے نہیں تو بھوک سے مرجائے گا۔ اس نے اپنےبڑے تھیلے سے سیب کی چھوٹی تھیلی نکالی اور اس نوجوان کو جگایا۔
نوجوان نے آنکھ کھولتے ہی پوچھا کون ہو تم ؟ میرے پاس کیوں آئے ہو ؟ مجھ سے کیا چاہیے ؟
مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ میں تمہیں یہ پھل دے رہا ہوں ۔ تم اسے کھالو۔
پھل ۰۰۰؟پھل مجھے کیوں دینا چاہتے ہو؟؟ ۰۰۰۰تم ہو کون پہلے یہ تو بتاو؟؟ ؟۰۰۰۰۰۰۰کون ہو تم؟ ؟؟؟
تم کو اس سے کیا غرض کہ میں کون ہوں ؟ میں تمہیں پھل دے رہا ہوں ۔ اسے کھاو اور مجھے دعا دو بس۔میں کچھ اور نہیں چاہتا۔
دعا ۰۰۰۰۰دعا ۰۰۰۰۰۰سمجھ گیا ۰۰۰۰۰۰۰سب سمجھ گیا ۰۰۰۰۰۰۰کیا نام ہے تمہارا؟ ۰۰۰۰۰۰پہلے اپنا نام بتاو ؟
جمال کی سمجھ میں اس کی بوکھلاہٹ نہیں آرہی تھی پھر بھی وہ بولا ۔ جمال ۰۰۰۰محمد جمال ہے ۰۰۰۰۰۰نام میرا۔
یہ الفاظ اس پر نوجوان پر بجلی بن کر گرے اور اس نے جمال پر گھونسوں اور مکوں کی برسات کردی ۔ اپنے آپ کو ایک ناگہانی حملے سے بچانے سے قبل جمال بے ہوش ہوچکا تھا ۔ کتا زور زور سے بھونکنے لگا تھا ۔یہ سن آس پاس کی بلڈنگ کے چوکیدار دوڑ پڑے اور اس نوجوان کو دھر دبوچا۔ وہ اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگا لیکن بے بس کردیا گیا۔ ان میں ایک واچ میں نے جمال کو پہچان لیا ۔ اتفاق سے وہاں پولس کی گشتی گاڑی پہنچ گئی ۔ چوکیداروں نے اس نوجوان کو پولس کے حوالے کردیا ۔ پولس نے چوراہے پر کھڑے تنہا رکشا کو بس اسٹاپ پر بھجوادیا۔ جمال کا چہرا سوج گیا تھا اورگرنے کے سبب سر پر لگی چوٹ سے خون بہہ رہا تھا ۔ اس رکشا میں ڈال کر قریب ہی جمال کی بلڈنگ تک پہنچایا گیا۔ اس بیچ جمال کو ہوش بھی آگیا اور اپنے چوکیدار کی مدد سے پہنچ گیا۔
جمال کی حالتِ زار دیکھ کر اس کی امی کمال صاحب پر بھڑک گئی ۔ دیکھا آپ کی بدشگونی کا اثر میرے بیٹے پر کیا ہوا ۔
ببلو نے کمال صاحب سے پوچھا دادا جی پولس والوں نے ہمارے ابو کے ساتھ یہ کیوں کیا ؟
ببلی نے امی سے سوال کیا یہ پولس والے ایسے ظالم کیوں ہوتے ہیں ؟
باورچی خانے میں افسری بیگم ہلدی کا لیپ بناتے ہوئے کینہ توز نظروں سے کمال صاحب کو دیکھ رہی تھیں اوروہ احساس جرم کے بوجھ تلے ایک طرف بت بنے کھڑے ہوئےتھے ۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا بولیں ۔وہ ایسا محسوس کرنے لگے تھے گویا سارا قصورا انہیں کا ہے۔
جمیلہ نے جلدی چہرہ صاف کیا ۔سر پر لگے زخم پر پٹی باندھتے ہوئے بولی اس کورونا کے زمانے میں تو دماغ ٹھنڈا رکھا کرو۔ کس لڑائی کرلی ؟
جمیل بولا میں نے کسی سے لڑائی نہیں کی ۔ میں تو اسے سیب دینے گیا تھا مگر وہ مجھ پرٹوٹ پڑا۔
کون تھا وہ ؟ کس پر رحم آگیا تھا آپ کو ؟؟ جمیلہ نے پھر سوال کیا
میں نہیں جانتا وہ کون تھا ؟
نہیں جانتے؟ نہیں جانتے تھے تو اس کو سیب دینے کی ضرورت کیا تھی؟
کیسی باتیں کرتی ہو بیگم ؟ کسی بھوکے کو کچھ دینے کے لیے اس کو جاننا ضروری ہوتا ہے کیا؟
جمیلہ بے یقینی سے بولی لیکن کسی کی مدد کرو تو اس کے جواب میں وہ مکےّ تھوڑی نا برساتا ہے؟ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ آپ کچھ چھپا رہے ہیں؟
میں کیوں چھپاوں بیگم ۔ جاو یہاں سے اور میرا پیچھا چھوڑو ۔ میرا سر درد سے پھٹا جارہا ہے۔
افسری بیگم ہلدی کا لیپ لے آئیں اور بولیں بیٹے سیدھے لیٹ جا۔ میں یہ لگاتی ہوں ابھی آرام ہوجائے گا۔ بہو بیگم تم دودھ میں تھوڑا ہلدی ڈال کر ابال لاو ۔ اس سے یہ سوجن اتر جائے گی ۔ جمیلہ باورچی خانے کے اندر گئی اور جمال لیپ کے لگتے ہی سو گیا ۔ اس بیچ ببلو نے پڑوس میں جاکر اپنے دوست جگو کو سارا ماجراسنادیا جسے اس کے والد آنند شریواستو نے بھی سن لیا ۔
وہ فوراً دوڑ کر کمال صاحب کے پاس آئے اور پرنام کرکے پوچھا انکل یہ جمال بھائی کو کیا ہوگیا ؟ کس درندے نے ان کا یہ حال کردیا ۔
کمال صاحب بولے وہ کہہ رہا تھا کہ کسی نے بس اسٹاپ پر حملہ کردیا ۔
اچھاً لیکن اس نے ایسا مہاپاپ کیوں کیا ؟
جمال نے بتایا کہ وہ تو غریب سمجھ کر مدد کرنے کے لیے گیا تھا مگر اس نامراد ناہنجار نے گھونسوں کی بارش کردی ۔
ارے ! کمال ہے ۔ لگتا ہے چوری چکاری کا چکر ہوگا۔ آج کل لاک ڈاون کی وجہ لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں، لوٹ مار بڑھ گئی ۔ کون جانےآگے کیا ہوگا ؟
کمال صاحب بولے لیکن جمال نے تو کہا کہ اس نےروپیہ یا سامان چرانے کی کوشش نہیں کی ۔
شاید اسے موقع نہیں ملا ہوگا۔ خیر کیا وہ حملہ آور بد معاش فرار ہوگیا ؟
جی نہیں اس کوپکڑ پولس کے حوالے کردیا گیا ہے ۔
یہ بہت اچھا ہوا۔ مقامی تھانیدار میرا دوست ہے۔ میں اس سے ساری حقیقت جان لگا لوں گا اور ایسی سزا دلواوں گا کہ وہ سات جنم تک یاد رکھے گا ۔
جمال نیند سے اٹھا تو بغل والی بلڈنگ سے ڈاکٹراشوک شاہ نے آکر مرہم پٹی کردی اور کچھ گولیاں دے گئے ۔ دوست و احباب کے فون کا تانتہ لگ گیا ۔ ہرکوئی یہی سوال کرتا کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا ؟ جمال سب کو دوسرے سوال کا جواب دیتا مجھے نہیں پتہ ۔ اس طرح ایک تحیر پیر پسار رہا تھا۔ کوئی جمال پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن جمال کے پاس ان کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی معقول جواب نہیں تھا ۔ ان میں سب سے زیادہ بے چینی وکیل شریواستو کو تھی ۔ اس کی پیشہ ورانہ زندگی میں یہ پہلا واقعہ تھا جس میں بلا وجہ کوئی حملہ ہوگیا تھا۔
گھر آکر شریواستو نے پولس تھانے میں فون لگایا اور اردلی سے اپنا تعارف کرا کر کہا کہ انسپکٹر وشواس راو کو فون دے ۔
وشواس راو آواز پہچان کر بولے فرمائیے آنند صاحب لاک ڈاون کے زمانے میں کیسے یاد کیا ؟
شریواستو بولے میں نے ایک چور کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے آپ کو فون کیا ہے جو فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا؟
چور! کون سا چور ؟ شریواستو جی یقین مانیں جب سے کورونا آیا ہے اپنے علاقہ میں چوری کا ایک بھی معاملہ درج نہیں ہوا۔
اچھا ، کل تو میں نے ایک ویڈیو دیکھی کہ ماسک لگا کر اور دستانے پہن کر چوری کی جارہی ہے ۔
ارے شریواستو صاحب وہ اپنی ممبئی کا نہیں بلکہ پونہ کا واقعہ ہے اور چور اپنا چہرہ کورونا کی وجہ سے نہیں چھپاتے اور دستانے وبا کے سبب نہیں پہنتے ۔
اچھا یہ آپ کو کیسے پتہ ؟
کامن سینس وکیل صاحب ۔ آج کل جگہ جگہ کیمرے لگے ہوئے ہیں ۔ آپ نے جووہ ویڈیو دیکھی وہ بھی ایسے ہی ایک پوشیدہ کیمرے کا کمال تھا ۔
لیکن کیمرے کا ماسک سے کیا لینا دینا ؟
ارے بھائی کوئی چور پکڑا جانا نہیں چاہتا اس لیے اپنا چہرہ چھپاتا ہے اور اپنی انگلیوں کا نشان چھپانے کے لیے دستانے پہنتا ہے ۔
یار تب تو چوری کا ڈر کورونا سے زیادہ ہے کیونکہ ایک مستقل اور دوسرا عارضی ہے ۔
جی ہاں لیکن آپ کس چور کی بات کررہے تھے۔
وہی جس کو ابھی دوگھنٹے قبل ٹیگور روڈ چوراہے سے گرفتار کرکے چوکی میں بھیجا گیا۔
اوہو!سمجھ گیا ۰۰۰شریواستو جی وہ چوری کا نہیں بلکہ کوئی معاملہ ہے ۔
اور معاملہ! میں نہیں سمجھا ۔ مجھے تو چوری کی واردات نظر آتی ہے لیکن جمال بھی یہی کہہ رہا ہے اور آپ بھی اس کی تائید کررہے ہیں ۔
جمال کی بات درست ہے لیکن اس کا کیا خیال ہے؟ اس پر کیوں حملہ کیا گیا؟؟
وشواس راو صاحب وشواس کریں وہ کہتا ہے کہ اسے وجہ تو نہیں معلوم لیکن یہ چوری کا معاملہ نہیں ہے ۔
دیکھیے شریواستو صاحب یہ ذرا نازک بات ہے۔ میں نے کمشنر صاحب سے بات کی ہے۔ انہوں نے بھی اس پرخاموشی اختیار کرنے کی تلقین کی ہے
وہ کیوں؟ ایک آدمی پر جان لیوا حملہ ہوگیا۔ وہ تو خیر جمال اچھا صحتمند آدمی تھا ۔ میرے جیسا دبلا پتلا ہوتا تو بھگوان کو پیارا ہوجاتا ۔
جی ہاں لیکن اگر یہ بات میڈیا میں پھیل جائے تو بدنامی ہوگی اس لیے اسے رفع دفع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تو کیا آپ نے اس بدمعاش کو چھوڑ دیا ہے؟
جی نہیں ، جب تک جمال اجازت نہ دے ہم اس کونہیں چھوڑیں گے۔
ٹھیک ہے اور میں بھی اس کو نہیں چھوڑوں گا۔ جمال میرا بہت اچھا ہم سایہ ہے ۔ میں اس پر ہاتھ اٹھانے والے کو سزا دلا کر رہوں گا۔
آپ کی بات سر آنکھوں پر، مگر یہ تو بتائیے کہ اب جمال کا کیا حال ہے؟
اس کی طبیعت سنبھل رہی ہے۔ ڈاکٹر شاہ کا کہنا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہفتہ دس دن میں پتہ بھی نہیں چلے گا کیا ہوا تھا ۔
ٹھیک ہے تو جب اس کا من کرے آپ مجھے فون کرکے آجائیں ۔ ہم لوگ پولس تھانے میں بات کریں گے ۔
اچھا لیکن تب تک ہم کیا کریں؟
آپ لاک ڈاون میں بند رہیں وہ لاک اپ میں بند رہے گا۔ اسی کے ساتھ فون بند ہوگیا ۔
اس گتھی نے شریواستو کی بے چینی بڑھا دی تھی ۔ وہ جمال اور اس کے گھروالوں سے زیادہ پریشان تھا اور چاہتا تھا کہ جلد ازجلد پولس تھانے میں وشواس راو اور اس بدمعاش سے مل کر اس معمہ کو سلجھائے۔ تین دن بعد جمال قدرے ٹھیک ہوگیا اور شریواستو نے اس کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے تیار کرلیا۔ وہ لوگ پولس تھانے پہنچے تو وشواس راو کو منتظرپایا ۔ اپنے کمرے میں لے جاکروہ جمال سے بولا آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا مجھے بہت افسوس ہے۔
شریواستو بیچ میں بول پڑا ۔ صاحب مجھے اس کی وجہ جاننا اور وہ ایف آئی آر دیکھنی ہے ۔ میں جاننا چاہتا ہوں اس پر کون سی دفعات اس پر لگائی گئی ہیں ۔
وشواس راو بولے شریواستو جی دھیرج رکھیے ۔ ایسی بھی کیا جلدی ہے؟
جمال بولا صاحب مجھے تو صرف وجہ جاننے میں دلچسپی ہے۔ میں تو اس کی مدد کرنے کے لیے گیا تھا ۔
جی ہاں، یہی میں آپ سے جاننا چاہتا ہوں کہ اس دن کیا ہوا؟
کچھ نہیں۔ میں نے اس کا پچکا ہوا پیٹ دیکھا تو سوچا کہ بھوکا ہوگا ۔ اس لیے اس کو سیب دینے کی پیشکش کی ۔
اچھا تو پھراس کے بعد کیا ہوا؟
اس نے میرا نام پوچھا اور مجھ پر پِل پڑا۔ میں اس غیر متوقع حملے کے لیے تیار نہیں تھا اس لیے بے ہوش ہوگیا ۔
جی ہاں اس نے بھی یہی کہا ہے۔
شریواستو بولے لیکن یہ کیا پاگل پن ہے کہ کوئی مدد کرنے کے لیے آئے تو اس پر ہلہّ بول دیا جائے ۔
یہ سوال میں نے اس سے پوچھا تو اس کا جواب تھا کہ سیب کے اندر کورونا کا وائرس تھا ۔
یہ سن کر دونوں ہکا بکارہ گئے ۔ کورونا کا وائرس ؟ یہ اس کو کیسے پتہ چل گیا۔جمال نے پوچھا
کیا بتائیں صاحب یہی سوشیل میڈیا کا زہر ۔ اس نے کئی پیغامات اور ویڈیوز دیکھ رکھے تھے جن میں بتایا گیا کہ مسلمان کورونا پھیلا رہے ہیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ نیند کے اندر خواب میں بھی وہی دیکھ رہا تھا کہ کسی اجنبی نے اس کو جگا کر سیب دے دئیے ۔ نام سن کر اس کا شک یقین میں بدل گیا ۔
جمال کے لیے یہ انکشاف حیرت انگیز تھا لیکن شریواستو خود ایسے پیغامات دیکھ چکے تھے وہ بولے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ زہر اتنا زوداثر ہوگا؟
اب اس کا کیا حال ہے ؟جمال نے سوال کیا ۔
وہ اب اپنی حرکت پر نادم ہے ۔
شریواستو بولے ندامت سے کیا ہوتا ہے ؟ اس کو اپنے کیے کی قرار واقعی سزا بھگتنی پڑے گی۔
وشواس راو بولے ہم بھی اس کو سزا دینا چاہتے ہیں لیکن یہ گزارش ہے کہ اسے ماب لنچنگ کے بجائے صرف مارپیٹ کا معاملہ بنایا جائے تاکہ سرکار کی بدنامی نہ ہو اور فرقہ پرست عناصر اس کا بیجا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
جمال بولا مجھے تو وہ قابلِ رحم لگتا ہے۔ اس بیچارے کا برین واش کیا گیا ہے۔ کیا وہ واقعی نادم ہے۔
وشواس راو نے کہا یہ میرا قیاس ہے ۔ آپ خود اس سے مل کر اس کا فیصلہ کریں ۔آپ چاہیں تو میں اس کو بلوا بھیجوں ۔
جمال بولا جی ہاں اس کو بلوائیے۔ تھوڑی دیر بعد اردلی نے آکر کہا نہال سنگھ نہیں آنا چاہتا ۔ اس کا کہنا ہے مجھے سولی چڑھا دو تب بھی میں نہیں آوں گا۔
وشواس راو نے اٹھتے ہوئے کہا میں اس سے بات کرتا ہوں اور نہال سنگھ کے کوٹھری میں جاکربولے باہر آکر مل لے ۔ وہ بھلا مانس ہے ہاتھ پیر جوڑ تو معاف بھی کرسکتا ہے ورنہ تیری خیر نہیں ہے ۔ پانچ چھے سال تک تو نہ فیصلہ ہوگا اورنہ ضمانت ہوگی ۔ پھر دوچار سال کی جیل ہوجائے گی ۔
نہال بولا جو بھی ہو صاحب میں اس کے سامنے نہیں جاسکتا ۔ کوٹھری کے باہر شریواستو اور جمال یہ گفتگو سن رہے تھے۔
وشواس راو نے کہا پاگل نہ بن ۔ کیوں اپنی جوانی خراب کرتا ہے۔ چل میرے ساتھ ۔ وہ رحمدل انسان لگتا ہے۔
وہ تو ہے لیکن میں ۰۰۰۰۰میں ۰۰۰۰۰کیا میں انسان ہوں ۔ میں انسان نہیں حیوان ہوں ۔
یہ سن کر جمال کی پلکیں نم ہوگئیں ۔ وہ واپس آکر وشواس راو کے کمرے میں بیٹھ گیا کچھ دیر بعد نہال سنگھ بھی سرجھکا کر وہاں پہنچ گیا ۔ جمال نے اس کو دیکھ کر کہا دیکھو نہال غلطی حیوان نہیں کرتا ۔ غلطی انسان سے یا شیطان سے سرزد ہوتی ہے ۔
جی ہاں ۔ شریواستو بولے اس شیطان نے بہت مہا پاپ کیا ہے ۔ اس کو سزا ضرور ملے گی۔
جمال نے کہا نہیں ۔ شیطان اپنی غلطی پر اڑ جاتا ہے اور انسان نادم ہوتا ہے ۔ یہ شیطان نہیں انسان ہے۔
یہ جملہ سن کر نہال آگے بڑھا اور جمال کے قدموں پر گرگیا ۔ اس نے کہا صاحب آپ انسان نہیں بھگوان ہیں ۔
جمال نے اس کا کندھا پکڑ اٹھا یا اور کہا نہیں نہال میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں ۔ انسان کی غلطی انسان معاف کردیتا ہے لیکن دیکھو آئندہ اس راکشس سے بچ کر رہنا جس نے تمہیں شیطان بنانے کی کوشش کی ۔یہ کہہ کر جمال لاک اپ سے نکل کر لاک ڈاون کی جانب چل پڑے۔
———————————————————–

T O D a Short Story by Zakir Faizi

Articles

ٹی او ڈی

ڈاکٹر ذاکر فیضی

وہ اسٹوری ٹیلر کے نام سے اس قدر مشہور ہو چکی تھی کہ لوگ اس کا اصل نام تک نہیں جانتے تھے۔کبھی کبھی اس کے فن اور شخصیت پر کوئی مضمون شائع ہوتا تو اس کا اصل نام سامنے آجاتا تھا ورنہ وہ زمانے کے لئے اسٹوری ٹیلر ہی تھی۔ دنیا کے بہت سے ملکوں کے بڑے بڑے شہروں میں اس نے اپنے شو کئے تھے۔وہ کئی زبانوں پر عبور رکھتی تھی،اس نے کہانی سنانے کے فن کو بلندیاں عطا کی تھیں۔وہ شاندار قصّہ گو تھی۔اس کی تخلیق کردہ کہانیاں بے حد دلچسپ اور نرالی ہوتی تھیں۔ اس نے اپنی کہانیاں سنانے کے لئے داستانوی انداز اختیار کیا تھا۔اسٹوری ٹیلر کے خیال میں لوگ وہاٹس اپ،فیس بک اور سوشل میڈیا کی دیگر مصروفیات سے اکتا چکے تھے۔اس نے کتابیں لکھنے اور فلم یا ٹی وی کے لئے اسکرپٹ لکھنے کے بجائے اسٹوری ٹیلنگ کا طریقہ اختیا ر کیا۔
وہ ایک پروگرام کی بڑی رقم وصول کیا کرتی تھی۔اس کے شو بڑی بڑی کمپنیاں منعقد کراتی تھیں۔ جس کے ٹکٹ مہنگے دام میں فروخت ہوتے تھے۔پروگرام کے منتظمین کو با مشکل تمام اس کی تاریخ ملا کرتی تھی۔اس کی شہرت امیر اور اعلی طبقے میں زیادہ تھی۔وہ معاشرے کی ہائی سوسائٹی کے لئے تفریح اور لطف اندوز ہونے کا نیا انداز بن کر ابھری تھی۔ اس کے مداحوں میں بڑے آفیسر،ڈاکٹر، بزنس مین، فنکار،اسپورٹس مین اورفلم اسٹار بھی شامل تھے۔ اس کے شو دیکھنے والوں کو سماج میں عزّت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
آج کی اس کی یہ اسٹوری ٹیلنگ ایک بڑے ملک کی راجدھانی کے ایک عظیم الشان آڈیٹوریم میں منعقد کی جا رہی تھی۔وہ اس ملک میں اپنی داستان پہلی بار سنا رہی تھی۔لوگ بے قراری سے اسٹوری ٹیلر کے اسٹیج پر جلوہ افروز ہونے کے منتظر تھے کہ پروگرام کا آرگنائزر اسٹیج پر آیا اور سامعین سے مخاطب ہوا:
”دوستوں! آپ کا انتظار اب ختم ہونے جا رہا ہے۔ہمارے ملک کے لئے، ہم سب کے لئے یہ فخر کا مقام ہے کہ اسٹوری ٹیلر نے ہماری درخواست پر ہمارے ملک میں شو کرنے کی منظوری دی۔اب آپ کچھ ہی دیر میں اسٹوری ٹیلر آپ سے روبرو ہونگی۔ہم اپنے ملک کی طرف سے، اپنی کمپنی کی طرف سے اور آپ سب کی طررف سے اسٹوری ٹیلر کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہیں۔ تو صاحبوں استقبال کریں اسٹوری ٹیلر کا۔“
ارگنائزر شکریہ ادا کر کے چلا گیا تو اسٹوری ٹیلر اپنے مخصوص انداز میں اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئی، وہ بے حد حسین اور دلفریب لگ رہی تھی۔اس کا چست لباس اس کی دلکشی کو ابھار رہا تھا۔ اس نے ایک ادائے دلربائی سے سامعین کی طرف فلائنگ کس اچھالی۔ مگر اسے بے حد حیرانی ہوئی کہ ناظرین محض اسے دیکھے جا رہے تھے۔ اسے اپنی کس کا کوئی بھی ردِعمل ان کی طرف سے نہیں ملا۔ ایسے موقعوں پر اکثر ناظرین سیٹیاں بجانا شروع کر دیتے تھے اور تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے ہال کی دیواریں دہل جاتی تھیں۔
”دوستوں!“ اسٹوری ٹیلر نے کان میں لگے مائک کو اپنے ہونٹوں کے آگے درست کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” امید ہے کہ میری آج کی یہ کہانی، یہ تخلیق آپ کو ضرور پسند آئے گی۔آپ اس سے یقینا لطف اندوز ہوں گے۔
میری آج کی کہانی کا نام ہے ٹی او ڈی۔“
اس نے چند لمحے سامعین پر نگاہ دوڑائی تاکہ کہانی کے عنوان کا تاثر جان سکے، سارا مجمع دم بخود تھا۔ سب کی سانسیں تھم سی گئی تھیں۔ایک سکوت کا عالم تھا۔ اسٹوری ٹیلر کو عجیب سا محسوس ہوا۔
اس نے کہانی سنانی شروع کی۔
”ایک بہت عظیم الشان ملک تھا۔ جس کا نام گلستان تھا۔ اس کی شاندار تاریخ، اس کی تہذیب و تمدّن،ثقافت، اس کی شان و شوکت اور عظمت کا چرچہ دنیا بھر میں تھا۔مگر چند دہائیوں سے جن حکمرانوں نے ملک کی ذمہ داری سنبھالی تھی وہ اس کی عظمت کو برقرار نہ رکھ سکے تھے۔“
یہ کہہ کر اسٹوری ٹیلر نے چند لمحوں کے لئے خاموشی اختیار کی اور ہال میں موجود لوگوں کی جانب نگاہ دوڑائی۔ خاموشی
مکمّل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔اس نے آگے کہا۔۔۔۔۔”پھر اس ملک کی باگ ڈور ایک ایسے شخص نے اپنے ہاتھوں میں لے لی جو مکّار، چالاک اور موقع پرست تھا۔اس نے اپنے آس پاس خوشامد کرنے والوں فوج تیّار کر رکھی تھی،جو اس کے اشارے پر کام کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ملک کے کچھ دانشوروں کی خیال میں وہ بہت بڑا احمق تھا۔ اسی مناسبت سے وہ عوام کے ایک بڑے طبقے میں احمق ہی مشہور ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔احمق کی ’حماقت ‘ کے چرچے ملک سے نکل کر غیر ممالک میں بھی ہونے لگے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ملک جادونگری کو اس کی حماقتوں کا علم ہوا تو اس کے حاکم جادوگر نے فوراََ حکمتِ عملی تیار کی اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے احمق کے ملک کے سفر کا ارادہ کیا اور احمق کو بھی جادونگری میں آنے کی دعوت دی۔“
اسٹوری ٹیلر کچھ دیر رکی اور لمبا سانس کھینچ کر پھیپھڑوں کو تازگی بخشنے کے بعد گویا ہوئی۔۔۔۔۔۔” معزز حاضرین! یہ بات واضع رہے کہ جادونگری نے اپنی جادوگری سے کئی ملکوں پر غیر اعلانیہ قبضہ کر لیاتھا۔ جادوگر تمام دنیا پر اپنا جادو چلانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔اب اس کی نظریں گلستان پر تھیں۔اس کے لئے یہ سنہری موقع تھا۔جادوگر گلستان پر اور بالخصوص احمق کی کارگزاریوں پر گدھ کی نگاہ رکھے ہوئے تھا۔ملک گلستان کی بائیں بازو کی خفیہ رپورٹ تو یہ بھی بتاتی تھی کہ احمق کا گلستان کا حاکم بننے میں جادوگر کا ہاتھ تھا۔ احمق نے اب جادو نگری کی چوکھٹ پر حاضری دینا شروع کر دی تھی۔
اس بار جب احمق جادونگری کے سفر پر گیا تو جادوگر اسے اپنے طلسماتی محل کے خفیہ کمرے میں لے گیا اور بولا۔۔۔۔۔ ”دیکھئے حاکمِ گلستاں! ہم چاہتے ہیں کہ گلستان ترقی کرے، مگر۔۔۔۔۔۔۔۔“ جادوگر خاموش ہو گیا۔
”مگر کیا حضور۔۔۔“ احمق نے اپنی نہ نظر آنے والی دم ہلاکر وفاداری کا ثبوت دیا۔۔۔۔”آپ تو بس حکم کریں۔۔“
”دراصل بات یہ ہے کہ گلستان کی عوام بیدار مغز نہیں ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ خوابوں کی دنیا میں رہتی ہے،اپنی خیالی دنیا سے باہر ہی نہیں آتی۔“ جادوگر نے اپنے چہرے پر زبردستی فکر کے تاثرات لاتے ہوئے کہا۔
”میں جانتا ہوں حضور، مجھے اپنے ملک کی عوام کی نادانیوں کا اعتراف ہے۔“احمق نے مایوسی کا اظہار کیا۔”حضور، آپ کچھ مدد کریں، میری رہنمائی فرمائیں۔“
ہاں ہاں کیوں نہیں۔“ جادوگر کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھا۔اس کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی۔۔”اگر آپ چاہتے ہیں تو میں مدد کو تیار ہوں۔ اس کے لیے آپ کو اپنی عوام سے ایک ٹیکس وصول کرنا ہوگا۔ اس ٹیکس کی وصولی کے لیے جس طرح کی بھی مدد کی ضرورت ہوگی جادونگری کرے گی۔“
ایک اور نئے ٹیکس کے نام پر احمق خوش ہو گیا، اسے جنتا پر نئے نئے ٹیکس لگانے کا خبط تھا۔
”حضور! اب یہ بھی بتا دیجئے، یہ ٹیکس کس طرح کا ہوگا اور مجھے کیا کرنا ہے؟“ احمق نے پوچھا۔
”دیکھئے، ہم چاہتے ہیں کہ۔۔۔۔“ جادوگر نے نہایت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔”دنیا کا ہر ملک ترقّی کرے۔ پسماندہ ملک ہو یا پھر ترقی پذیر۔ترقی کرنا، آگے بڑھنا، ہر انسان،طبقے، قوم اور ملک کا حق ہے۔ ہم نے ’عالمی جادوئی تنظیم‘میں بھی اس بات کا اظہار کیا تھا کہ عوام کو ایک دوسرے سے نفرت اور خود غرضی سے دور رکھا جائے اور عالمی سطح پر بھی امن اور بھائی چارہ پھیلے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کا ملک خوب آگے بڑھے، کیوں کہ آپ ہمارے دوست ہیں۔“جادوگر نے ٹیبل سے مشروب اٹھا کر احمق کی طرف بڑھایا۔ جادوگر کے اس رویّہ میں مہمان نوازی کا عنصر کم اور شکار کو پھانسنے کا معاملہ زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ جادوگر نے آگے کہا۔۔۔۔۔
”دیکھیے حاکم ِ گلستاں!جادونگری کے ایک سائنسداں نے ایک ایسی ایجاد کی ہے، جس سے کسی بھی انسان کے خوابوں کو ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ایک بہت چھوٹی سی چپ کو جس انسان کے بازو میں معمولی سے آپریشن کے ذریعے فٹ کر دیا جائے گا، وہ جب بھی کوئی خواب دیکھے گا، ایک مخصوص کمپیوئٹر میں ریکارڈ ہو جائے گا، وہ خواب جاگتی آنکھوں کا ہو پھر نیند میں آنے والا خواب ہو۔“
”تو پھر۔۔۔۔؟“ احمق نے اپنی حماقت دکھائی۔
”پھر کیا۔۔۔سمجھو۔۔۔۔“ جادوگر نے جھنجھلا کر کہا۔ ” پھر یہ کہ آپ کو اپنے ملک کے ہر باشندے کے بازو میں یہ چپ فٹ کرانی ہوگی اور تب جو بھی کوئی دیکھے گا، اس سے ٹیکس وصول کرنا ہوگا۔ اس سے دو فائدے ہوں گے، اوّل یہ کہ ٹیکس کی رقم سے فلاحی کام کرائیے گا اور دوسرے آپ کی عوام خوابوں سے نکل کر عملی دنیا میں میں آجائے گی۔ آپ کا ملک تیز رفتاری سے ترقّی کرے گا۔“
یہ سن کر احمق کو کچھ تشویش ہوئی، اس نے اپنی ساری ہمّت و حوصلہ سمیٹ کر کہا۔۔۔۔۔ ”حضور جان کی امان پاؤں تو عرض کروں؟۔۔۔۔۔۔اس چپ کا استعمال آُ پ اپنے ملک کی عوام پربھی کر رہے ہیں؟“
جادوگر نے احمق کو ایسے دیکھا جیسے یہ سمجھنے کوشش کر رہا ہوکہ اتنی سمجھداری کی بات اس کے دماغ میں آئی کیسے۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا جواب دوں۔۔۔۔”جادونگری کی عوام خواب نہیں دیکھتی عمل کرتی ہے۔“ یہ جملہ تیزی سے کہہ کر جادوگر نے میٹنگ کے خاتمے کا اشارہ کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمق نیا سبق سیکھ کر اپنے ملک گلستان واپس آیا۔اس نے فوراََ ایمرجنسی میٹنگ بلائی۔ جس میں اس نے تمام وزیروں اور عہدِ داروں کو اس چپ کی اطلاع دی۔ پھر اس نے باضابطہ اعلان کیا۔۔۔۔”ایک نیا محکمہ خواب و خیال قائم کیا جائے۔ اس محکمے کی تمام ذمہ داریاں میں خود سنبھالوں گا۔اس کی ضروری کاروائیاں جلد سے جلد شروع کی جائیں، اس کام میں کسی بھی طرح کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔“
کہانی سناتے سناتے اسٹوری ٹیلر اچانک خاموش ہو گئی، وہ مجمع پر نگاہیں دوڑانے لگی۔ ہر طرف خاموشی تھی، پوری طرح سنّاٹا۔ اس کا اندازہ غلط ثابت ہوا، وہ سوچ رہی تھی کہ لوگ اس پر سوال کریں گے، بھلا ایسے کیسے ہو سکتا ہے۔ مگر خاموشی بتا رہی تھی کہ انھوں نے اس بات کو قبول کر لیا ہے۔
اسٹوری ٹیلر نے اپنے مخصوص انداز میں دونوں ہاتھوں کو اوپر لے جا کر نیچے جھٹکا اور آگے کہا۔۔۔”اورجب یہ خبر عوام تک پہنچی تو پورے ملک میں ہنگامہ ہو گیا۔ اس نئے قانون کی زبردست مخالفت کی گئی۔لوگ یہ ٹیکس دینے پر کسی صورت راضی نہ تھے۔ ان کا کہنا تھا ہم یہ آپریشن کرائیں گے ہی نہیں۔
مرکزی سطح پر جو محکمہ خواب خیال قائم کیا گیا تھا، اس کی صوبائی شاخیں بنائی جانے لگیں۔ ساتھ ہی ہر ضلع میں اس کے مراکز قائم کئے گئے۔ہر ضلع کے سرکاری اسپتالوں میں اس کا مخصوص شعبہ تیار کیا جانے لگا۔ حکومت نے اس کام کو تحریک کی شکل دے دی تھی۔دیگر محکموں سے بھی مدد لی جا رہی تھی۔ عوام الناس سے سیدھا تعلق بنانے کے لئے سرکاری کارندے جو نئیر ڈاکٹر کے ہمراہ گھر گھر جا کر آپریشن کرکے گیہوں کے دانے کے برابر چپ ہر شخص کے بازو میں لگا رہے تھے اور اس کا رابطہ ضلع کے محکمہ خواب وخیال کے دفاتر میں رکھے کمپیوٹر سے جوڑا جا رہا تھا تاکہ دیکھے گئے خوابوں کو ریکارڈ کیا جا سکے اور اس کا بل بناکر رقم وصول کی جائے۔
ظاہر ہے یہ کوئی معمولی اور چھوٹا کام نہ تھا۔اس کے لئے وقت درکار تھا۔اس کام میں خرچ ہونے والی رقم کے لئے جادونگری فنڈنگ کر رہی تھی اور ساتھ ہی اس نے اس کام کے لئے سائنس داں، ڈاکٹر اور دیگر ’ماہرین‘ کا بھی انتظام کیا تھا۔
دوسری طرف حکومت میں بائیں بازو کی طاقت اس ٹیکس کے سخت خلاف تھی۔مگر ان کی ایک نہ چلی۔حکومت کا کام جاری رہا۔عوام میں زبردست ہلچل تھی، اس کے خلاف جلسے، جلوس اور دھرنا پردرشن ہو رہا تھا۔ملک کا ذہین دانشور طبقہ بھی سڑکوں پر اتر آیا تھا۔ہر شہر کے پبلک پارکوں میں آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔
دفتروں اور چائے خانوں میں بھی اسی کا ذکرہو رہا تھا۔ ایک دفتر میں بڑے بابونے کہا۔۔۔۔ ”میرے خیال میں اس ٹیکس سے ملک کو بہت فائدہ ہوگا۔“
”جناب! آپ کس بنیاد پر ایسا کہہ رہے ہیں؟“ دوسرے بابو نے مخالفت کی۔
”دیکھو بھائی، میں تو اتنا جانتا ہوں کہ ہمارے ملک کا حکمراں اور اس کی ٹیم بہت قابل لوگ ہیں۔ انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہے تو کچھ سوچ کرہی کیا ہوگا۔“ پاس میں بیٹھے کلرک نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔
”وہی تو میں کہہ رہا ہوں۔“ بڑے بابو نے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔۔۔۔”ہم سب کو خوابوں کی دنیا سے باہر نکلنا ہی ہوگا۔“
”یہ مت بھولو، دنیا میں جس کسی طرح کی بھی ایجادات ہوئی ہیں یا انسان نے کامیابی حاصل کی ہے اس کے پیچھے انسانوں کے خواب ہی تھے۔“ کلرک نے فائل کو ایک طرف کرتے ہوئے جھنجھلاہٹ سے کہا۔
”مگر میرے بھائی ایسے لوگ دنیا میں چند ہوتے ہیں، جن کے خواب انسانی نسل کے لئے مفید ہوں۔“ دوسرے بابو نے کہا۔
”ہمارے ملک کی عوام جس خوابوں کی دنیا کی دنیا میں رہتی ہے، وہ بے حد خطرناک ہے۔“بڑے بابو بولے۔
”آپ درست فرما رہے ہیں۔خوابوں پر ٹیکس لگنا ہی چاہئے۔“ کلرک نے چاپلوسی والے انداز میں کہا۔
”خوابوں پر ٹیکس۔۔۔اونہہ۔۔۔“ دوسرے بابو نے جھنجھلا کر اخبار کو ٹیبل پر پٹخ دیا اور دفتر سے باہر چلا گیا۔
ملک کی یونیورسٹیوں میں بھی اس کے خلاف چرچے ہو رہے تھے۔ ملک کی ایک مرکزی یونیور سٹی میں برابر احتجاج ہو رہا تھا۔ہزاروں کی تعداد میں طالب علم آزادی کا پرچم اٹھائے نعرے لگاتے گھوم رہے تھے۔۔۔۔۔
”ہم کیا چاہیں، آزادی!“
”سپنے دیکھنے کی آزادی“
”جینے کی آزادی“
”آزادی۔۔۔۔ آزادی۔۔۔آزادی۔۔“
مگر ان سارے ہنگاموں کا حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔“
اسٹوری ٹیلرنے دائیں جانب دیکھا جہاں کونے میں ٹیبل پر پانی کی چھوٹی چھوٹی بوتلیں رکھی ہوئیں تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ٹیبل کے قریب گئی۔اس نے پانی کی بوتل اٹھائی ایک ہی سانس میں بوتل خالی کر دی۔اس کے حلق سے پانی اندر جانے کی ’غڑپ غڑپ‘ کی آوازیں کان میں لگے مائک کی وجہ سے سب کو سنائی دے رہی تھیں۔
اسٹوری ٹیلر بہت پریشان تھی آخر کیوں آج کوئی ہاتھ اٹھا کر سوال نہیں کر رہا۔ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کہانی پر کسی کوکوئی اعتراض نہیں ہوا؟ دوسرے ملکوں میں تو اس کہانی پر کئی اعتراض ہوئے تھے۔۔۔۔ وہ آگے بولی۔۔۔”۔۔۔اور دوستوں آخر کار وہی ہوا جو احمق چاہتا تھا۔۔۔غریب اور لاچار عوام پر ایک اور ٹیکس لاد دیا گیا۔۔۔۔خواب دیکھنے کا ٹیکس۔جی ہاں ٹی او ڈی۔ یہ ٹیکس دو قسم کا تھا، ایک جاگتی آنکھوں والے خوابوں کا ٹیکس اور دوسرا نیند میں آنے والے خوابوں کا ٹیکس۔ دوسرے قسم کے ٹیکس کی رقم، پہلے والے ٹیکس سے کم تھی۔
سرکاری خزانے میں لگاتار رقم جمع ہو رہی تھی۔لوگ خود کو خواب دیکھنے سے باز نہیں رکھ پا رہے تھے۔وہ بہت کوشش کرتے کہ خواب نہ دیکھیں مگر۔۔۔۔بے خیالی میں خوا بوں میں کھو جاتے اور گھر پر لگا خوابی میٹر چل پڑتا۔غریب لوگ جتنا کماتے تھے، اس کا زیادہ تر حصّہ ٹیکس میں چلا جاتا تھا۔کبھی کبھی آمدنی سے زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑ تا تھا۔امیر اور اعلی طبقے کے لوگوں کو شروع میں ٹیکس ادا کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی مگر بعد میں وہ بھی لگاتار پیسہ دیتے دیتے اکتا چکے تھے۔تب ان لوگوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اب کبھی کسی بھی حالت میں خواب نہیں دیکھیں گے۔“
اسٹوری ٹیلر کا گلا خشک ہو چکا تھا۔وہ تھکان محسوس کر رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر پانی پیا۔ اور نئی توانائی کے ساتھ کہانی کو آگے بڑھایا۔
”۔۔۔۔ تو دوستوں آپ کو کیا لگتا ہے کہ آگے کیا ہوا ہوگا۔؟۔۔۔۔“
اسٹوری ٹیلر خاموش ہوگئی اور جواب کا انتظار کرتے ہوئے،آگے کی قظار میں بیٹھے لوگوں کا چہرہ تکنے لگی۔ کوئی کچھ نہیں بولا۔ اسٹوری ٹیلر کو اس بات کی بالکل توقع نہیں تھی۔ وہ مایوسی کے انداز میں کہانی کو اختتام کی طرف لے جانے لگی۔
”کئی لوگوں پر تو اس بات کا ہی ٹیکس لگا دیا گیا کہ وہ خواب دیکھنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ تو پھر دوستوں! چند سالوں میں ہی صورتِ حال کچھ اس طرح ہو گئی کہ امیر اور اعلی طبقے کے لوگ غیر ممالک میں جا بسے۔ متوسط طبقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں خود کشی کر لی۔بے شمار لوگ حکومت سے بغاوت کرنے، فسادات اور بھوک سے مارے گئے۔
ایک سروے کے مطابق کل ۳۳ فیصد آبادی باقی رہ گئی تھی جس نے بنا خوابوں کے جینا سیکھ لیا تھا۔یہ وہ لوگ تھے جو ایک مشین میں تبدیل ہو چکے تھے، ان میں انسانی احساسات و جذبات ختم ہو چکے تھے۔یہ لوگ سانس لیتے تھے، مشین کی طرح کام کرتے تھے، مشین میں ڈالے جانے والے تیل،پیٹرول کی طرح کھانا کھاتے تھے اور جس طرح مشینوں کی کبھی کبھی صفائی ہوتی ہے، اس انداز میں سیکس کرتے تھے۔کچھ دیر بستر پر آرام کے لئے ایسے جاتے تھے جیسے مشین چلتے چلتے گرم ہو جاتی ہے تو اس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے معمولی وقت کے لئے بند کر دیا جاتا ہے۔ترقّی تنزلّی، عزّت، ذلّت، اچھّائی برائی ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ تمام طرح کی جمالیاتی حس سے وہ ناواقف ہوچکے تھے۔“
اسٹوری ٹیلر ایک بار پھر خاموش ہو گئی۔ اس نے مایوسی کا ایک لمبا سانس چھوڑا۔۔۔۔ اور بولی۔۔۔۔۔ ”احمق جو ایک بار پھر ملک کا حکمراں منتخب ہو گیا تھا۔، وہ جادونگری کی چوکھٹ پر بیٹھا اپنے ملک کی بربای کے لئے آنسو بہا رہا تھا۔۔۔۔
”میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں سرکار، اب میں کیا کروں۔۔۔۔تمام طرح کی صلاحتیں گلستان سے ناپید ہو گئی ہیں، اب گلستان برباد ہو چکا ہے۔“
یہ سن کر جادوگر مسکرایا اور بولا۔۔۔۔”ارے تو اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے؟ہم گلستان کی حفاظت کے لئے نہ کہ صرف یہ کہ اپنی فوجی طاقت کو آپ کے یہاں بھیجیں گے بلکہ ساتھ ہی ہر طرح کی صلاحتیں بھی بھیجیں گے اور یہی نہیں بلکہ ملک کو نئے سرے سے آباد کرنے کے لئے ہم جادونگری کی عوام بھی وہاں بھیجیں گے۔۔۔۔۔ اب تو خوش ہو نہ حاکمِ گلستاں۔۔۔۔۔ اور بولو۔۔۔۔“
یہ سن کر احمق خوش ہو گیا اور شکریہ ادا کرنے کے لئے جادوگر کے جوتے اپنی قمیض کی دامن سے صاف کرنے لگا۔“
اسٹوری ٹیلر نے ایک لمبی سانس چھوڑی اور تھک کر قریب رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
”بس اتنی سی تھی یہ کہانی۔“
اسٹوری ٹیلر کہانی مکمّل کر چکی تھی۔مگر اسٹوری ٹیلر کے لئے مقامِ حیرت تھا کہ سامعین میں سے کسی نے تالیاں نہیں بجائی تھیں، کسی بھی طرح کے ردِعمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔وہ سوچ رہی تھی کہ یہ کیسے لوگ ہیں ہر احساس سے عاری۔ سارے سامعین کہانی سن کر آڈیٹوریم سے اس طرح باہر نکل رہے تھے جیسے ان کے بازو میں بھی کوئی چپ نصب ہو۔
٭٭٭

Chopati Beach a Short Story by Mohtashim Akbar

Articles

چوپاٹی بیچ

محتشم اکبر

سمرین جب آفس سے گھر پہنچی تو تھک کر چور ہوچکی تھی۔ آفس میں آج کام زیادہ ہی تھا۔ جس نے تھکان پیدا کردی تھی۔وہ گھر میں داخل ہوکر پرس ایک طرف پھینکا اور بستر پر گر پڑی۔ اس میں ذرّہ برابر قوت نہیں تھی کہ وہ فریش ہوکر اپنے لیے ایک کپ چائے بنائے۔ پلنگ پر لیٹتے ہی خوابوں کی دنیا میں پہنچ کر خوابوں کے سمندر میں غوطے کھانے لگی۔ اسے اس بات کا بھی خیال نہ رہا کہ ناصر کے آنے کا وقت ہوگیا ہے۔ ابھی رات کا کھانا بنانا بھی باقی ہے۔ دوپہر کا کھانا تو اکثر باہر ہی کھاتے تھے۔ ایک ساتھ نہیں بلکہ اپنے اپنے دفتر میں اور رات کا کھانا وہ ہمیشہ ساتھ ہی کھاتے ۔
دروازہ کی بیل لگاتار بج رہی تھی۔ سمرین نیند کی آغوش سے باہر آئی۔کچھ دیر تک تو وہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ کہاں ہے۔ آفس میں ہے یا گھر میں۔ بڑی عجلت میں اس نے دروازہ کھولا۔ سامنے اس کی زندگی کا رکھوالا ، اس کا ہم سفر ناصر کھڑا تھا۔ اس نے روزانہ کی طرح ناصر کو دیکھ کر اپنے چہرے پر ایک بھر پور مسکراہت بکھیری۔ ناصر نے گھر میں آنے کے بعد سمرین کو سینے سے لگا لیا اور پیار کرنے لگا۔ اس نے ناصر کو ہٹاتے ہوئے کہا رات ابھی باقی ہے۔ اوراس نے اُسے پانی پلاکر ٹھنڈا کیا ۔ مسکراتے ہوئے چائے بنانے چلی گئی۔ ناصر اخبار اٹھاکر پڑھنے میں محو ہوگیا۔ وہ خبریں بھی پڑھتا جارہا تھا اور سوچ بھی رہا تھا کہ آج کے لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔ آپس میں کیوں لڑ رہے ہیں۔ ملک کا کیا حال ہورہا ہے کسی کو اس کی فکر نہیں۔ سب اپنی جیبیں بھرنے میں لگے ہیں۔ سارے گھوٹالے ہمارے ہی ملک میں کیوں ہورہے ہیں۔ ہمارے لیڈروں کا ضمیر کتنا مردہ ہوگیا ہے۔ کہیں کہیں تو زِنا کے واقعات کثرت سے ہورہے ہیں۔ مذہبی تفرقہ کو ہوا دی جارہی ہے۔ اپنے بچاؤ کے لیے کیسی کیسی گھناؤنی سازشیں کرنے میں مصروف ہیں ہماری اعلیٰ کمان ۔ کہیں ریڈیو پر یہ گانا بج رہا تھا ؎ دیکھ تیرے سنسار کی حالت کیا ہوگئی بھگوان کتنا بدل گیا ہے انسان
صبح بڑی اجلی اجلی تھی۔ دونوں کے چہرے خوشیوں سے ایسے دمک رہے تھے جیسے سورج کی پہلی کرن سے سنسار دمکنے لگتا ہے۔ انھوں نے آفس جانے کی تیاری شروع کردی ۔ناصر کو آفس جلدی جانا تھا اُس لیے وہ سمرین کے لیے بغیر ہی چلا گیا۔ وہ اکیلی رہ گئی۔ آفس جانے میں ابھی دیر تھی۔ اُس نے سوچا کیوں نہ تھوڑی دیر بیٹھ کر اخبار کا مطالعہ کرلوں ۔ جیسے ہی اس کی نظریں جلی سرخیوں پہ آکر رک گئی اس میں لکھا تھا کہ ایک بوڑھے نے بارہ سالہ لڑکی کی عصمت دری کی۔ خبر پڑھ کر وہ سہم گئی۔ اس کے چہرہ پر ڈرو خوف کے سائے منڈرانے لگے۔ وہ اکثر آتے جاتے سفر کے دوران لوگوں کی ہوس بھری نظروں کو اپنے اندر اترتا محسوس کرتی۔ کبھی تو اس کو ایسا محسوس ہوتا کے یہ سارے مرد اپنی آنکھوں کے ذریعے اس کی لگاتارعصمت دری کر رہے ہیں۔ یہ سب سوچتے ہوئے وقت کا احساس نہیں رہا ۔
سمرین معمول کے مطابق بس اسٹاپ پر پہنچی ۔ وہاں بھیڑ کا یہ عالم تھا کہ تِل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی۔ اس کو سب سے آخر میں کھڑے رہنے کی جگہ ملی۔ اس بھیڑ میں اُسے سب مرد ہی مرد نظر آرہے تھے۔ وہ اُن مردوں کا جائزہ لینے لگی۔ اُسے ایسا محسوس ہوا کہ ان مردوں کی آنکھوں میں اسے ہوس نظر نہیں آئی بلکہ ناصر کی طرح شرمیلا پن نظر آیا۔ اس نے لائن میں کھڑی دوسری عورتوں کی طرف دیکھا تو اُسے اُن کی آنکھوں میں ایک عجیب طرح کی ہوس نظر آئی۔ سمرین کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ عورتیں بھی مردوں کو میری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ وہ سوچنے لگی کہ کم سے کم کوئی بوڑھا ہی ناصر کے اندر سما جائے ۔ وہ کبھی کبھی تو اپنے آپ کو بہت معذور محسوس کرتی ۔ وہ سوچتی کہ یہ ساری باتیں ناصر کو صاف صاف بتا دے۔ لیکن وہ اپنے آپ میں یہ سب کہنے کی ہمت نہیں جٹاپاتی۔ اس نے کئی مرتبہ یہ بھی سوچا کہ نوکری چھوڑ دے ۔ گھر کے حالات اور ناصر کی ضد کی آگے اس کی ایک نہ چلی۔
ناصر پر اپنے بوڑھے ماں باپ ، پانچ جوان بہنوں کی ذمہ داری بھی تھی۔ وہ سمرین کی تنخواہ میں گھر چلاتا اپنی تنخواہ اپنے بوڑھے ماں باپ کو گاؤں بھیج دیتا تھا۔ اُس نے کئی بار کوشش کی کہ اس کے ماں باپ بھی اسی کے ساتھ شہر میں رہے ۔ لیکن ساس اور پانچ نندوں کو برداشت کرنے کی ہمت سمرین میں نہیں تھی۔ اس نے ہمیشہ ناصر کی مخالفت ہی کی ۔
سمرین اور ناصر چھٹی کے دن چوپاٹی گئے ۔ شادی سے پہلے وہ روزانہ ہی چوپاٹی کی بکھری ریت پر بیٹھ کر سمندر کی موجوں میں گم ہوکر اپنے مستقبل کے لیے نئے نئے خواب بنتے ، سجاتے۔ سمرین ریت میں اپنے پاؤں دھنساکر ایک گھر بناتی اور اس سے کہتی دیکھو ہم اپنا گھر ایسا ہی بنائیںگے۔ آس پاس سے ایک گانے کی آواز آرہی تھی۔
؎ جھل مل ستاروں کا ایک آنگن ہوگا رم جھم برستا ساون ہوگا۔ گانا سن کر دونوں اپنے خوابوں میں کھو جاتے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کی محبت بھی بڑھنے لگی۔ محبت کی بپھری ہوئی موجوں نے دونوں کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا۔ وہ چوپاٹی کی ٹھنڈی ریت پھر بیٹھے ماضی کے خیالوں سے باہر آئے تو انھیں ایسا لگا کہ دنیا بہت بدل چکی ہے۔ سمندر کی موجوں میں پہلے جیسا جوش نہیں ہے۔ سمرین نے ریت میں پاؤں دھنسا کر گھر بنانے کی کوشش کی تو اسے لگا کہ وہ گھر نہیں بنا پائے گی۔ جب اس نے اپنے پیر ریت سے نکالے تو اسے محسوس ہوا کے پیر زمین کے اندر دھنستے جارہے تھے اور وہ بہت کوشش کہ باوجود بھی انھیں باہر نہیں نکال پارہی تھی۔ ناصر کی طرف دیکھا تو اسے سمندر کی موجوں میں گم پایا۔ اس کو سمندر کی موجوں سے کھینچ کر سمرین نے اپنی بانہوں کے حالے میں قید کرتے ہوئے کہنے لگی۔ ہم نے اپنے مستقبل کے بارے میں تو سوچا ہی نہیں ۔ میں چاہتی ہوں کہ آج کے بعد ہم اپنی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے اولاد کی چاہت کرے۔جو ہمارے بڑھاپے کا سہارا بنے۔
ان کی سوچ آسمان کی اونچائی کو چھو رہی تھی۔دونوںایک دوسرے میں اس طرح کھو گئے کہ وقت گزرنے کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔ ان کی شادی کو پانچ سال ہوگئے تھے۔ زمانے کی تلخیوں سے ہٹ کر اُن کے پیار میں جولانی تھی ۔ دونوں ایک دوسرے کی ضرورتوں کو سمجھتے تھے۔ اس نے ناصر کی دیکھ کر کہنے لگی ۔ ناصر… کیوں نہ ہم گھر چل کر اپنے بڑھاپے کے سہارے کے لیے کوشش کریں۔
ناصر نے سمرین کو پیار بھری نظروں سے دیکھا اور گویا ہوا … سمرین ابھی حالات ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ گھر میں کوئی نیا مہمان آئے اور ہمارا خرچ بڑھا دے۔ پھر اس کی دیکھ ریکھ کے لیے بھی تو کوئی گھر میں چاہیے۔اُس نے ناصر کو دیکھ کر منہ تیڑھا کیا اور خاموشی سے خلاؤ ںمیں گھورنے لگی ۔ دور اُفق میں اُسے اپنے خواب منتشر ہوتے نظر آئے۔
دونوں جب گھر پہنچے تو کافی رات بیت چکی تھی ۔ دونوں کے بیچ ایک ہلکی سے دراڑ نظر آرہی تھی جسے ناصر محسوس نہیں کرسکا ۔ صبح کی ضروریات سے فارغ ہوکر ناصر کو آوازدی ناشتہ تیار ہے۔ دونوں نے ناشتہ ایسے کیا جیسے انھیں زبردستی ناشتے کے لیے بٹھادیا گیا۔ دونوںنے ایک دوسرے بہت کم بات کی اور آفس جانے کے لیے نکل پڑے۔ باہر کا سماں بھی کچھ تلخ تلخ سا نظر آریا تھا ۔ ہوائیں بھی بغیر کسی آہٹ کے ، بغیر کسی تغیر کے اپنا سفر طے کررہی تھیں۔
آفس پہنچ کر ناصر نے اخبار اٹھایا اس کی نظر اخبار کی جلی سرخیوں پہ پڑی۔ خبر تھی کہ کل رات چوپاٹی بیچ پر ایک نا بالغ و معصوم لڑکی کی مسخ شدہ لاش ملی۔ پولیس کی خبر کے مطابق پہلے اس کی عصمت دری کے بعد اس کا قتل کر دیا گیا۔ یہ خبر پڑھ کر وہ دہل گیا ۔ کچھ دیر کے لیے اس پر سکتہ طاری ہوگیا۔ ا سے کل چوپاٹی بیچ کی شام یاد آرہی تھی ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر اس نے سمرین کو وہاں کچھ پل کے لیے بھی اکیلا چھوڑا ہوتا تو ہوسکتا تھا کہ یہ ہیبت ناک واقعہ اُس کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو کیا کرتا۔ ہمارا معاشرہ کتنا خونخوار ہوتا جارہا ہے۔
یہ خبر پورے ملک میں فیس بک اور واٹس آپ کے ذریعے پھیلتی جارہی تھی ۔ سمرین نے یہ خبر پڑھی اور اُس کا دل خوف سے کانپ اُٹھا۔ اپنے آپ کو وہ بالکل معذور سا محسوس کرنے لگی اور سوچنے لگی کہ انسان کتنا بدلتا جارہا ہے۔ درندوں کی صفت اس میں کہاں سے آتی جارہی ہے ۔جب وہ آفس سے گھر جانے کے لیے نکلی تو راستے میں ایسا لگا کہ کوئی اس کا تعاقب کررہا ہو۔ جب وہ بس میں سوار ہوئی تو اس نے دیکھا کہ بس میں اکیلی ہے۔ بس مردوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس نے سارے مردوں کو اپنی طرف ہوس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پایا ۔اسے ایسا لگا کہ جیسے آسمان میں اڑتا ہوا باز زمین پر اپنے شکار کو دیکھ کر اس پر جھپٹ پڑنے کے لیے پَر تولتا ہے۔ اس کے چہرے پر ڈروخوف کے آثار پھیلنے لگے۔ وہ سوچنے لگی کہ کہیںدلّی میں ہوئے ہولناک ، ہیبت ناک حادثہ کی طرح اس کے ساتھ بھی نہ پیش آئے۔ وہ لوگو کے نگاہوں میں بسی درندگی کو دیکھ کر سہم گئی۔ کیوںکہ وہ جانتی تھی کہ چہرہ انسان کی اضطرابیت کو ظاہر کردیتا ہے۔ چہرے ہی تو انسان کو بے قابو ہونے پر مجبور کردیتے ہیں۔آج تک جتنے بھی واقعات ہوئے ان سب کے محرک چہرے ہی تو بنے ہیں۔
سمرین جب گھر پہنچی تو ناصر کو گھر میں موجود پایا۔ وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ وہ شاید اس کی آنکھوں میں وہی درندگی دیکھنا چاہتی تھی جو اس نے بس میں سوار لوگوں کے آنکھوں میں دیکھا تھا۔ لیکن اُس کی آنکھوں میں اسے کچھ بھی ایسا نظر نہیں آیا۔ سمرین کے دماغ میں ناصر کے متعلق بہت کچھ چل رہا تھا۔ کیوں کہ اُس نے چوپاٹی پر بیٹھ کر سمرین کی کئی خواہشوں کو ریت میں دفن کردیا تھا۔ وہ سوچنے لگی کہ کاش کوئی درندہ ہی ناصر کے اندر اتر آئے۔
——————————————–
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

The fourth Artist a Story by Shabbir Ahmad

Articles

چوتھا فنکار

شبیر احمد

بوڑھے نے بڑی احتیاط سے ہونٹوں کے ایک کونے میں بیڑی دبائی اور پھر سے وہی قصہ چھیڑا۔ یہ قصہ سناتے وقت بوڑھے پر ایک اضطرابی کیفیت چھا جاتی تھی۔

’’چاردوست تھے۔ چاروں نے بھگوان وشو کرما سے پرارتھنا کی۔ اے بھگوان! ہمیں کوئی انوکھا فن سکھلادے۔ بھگوان وشوکرمانے ان کی پرارتھنا سوئیکار کرلی۔ انھیں بارہ برس تک سکھاتے رہے۔ وہ بھی پورے جی جان سے سیکھتے رہے ۔ پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنانا سیکھا۔ دوسرے نے اس پر ماس جمانا سیکھا، تیسرے نے اس پر چمڑے کا غلاف چڑھانا سیکھا۔‘‘

حسب عادت بوڑھے نے کئی باریہ قصہ دہرایا اور خاموش ہوگیا۔ بوڑھے کو خاموش دیکھ کر اس مرتبہ بھی لڑکے کو تجسس ہوا! اس نے پھروہی سوال پوچھا، ’’اور چوتھے نے؟‘‘

بوڑھا گم صم کھڑا رہا۔ وہ شاید چوتھے فن کار کے بارے میں کچھ بتانا نہیں چاہتا تھا یا پھر اسے اس کے بارے میں کوئی علم ہی نہ تھا۔

لڑکے کا تجسس ہنوز برقرار تھا اورجب بوڑھے کو اس کے تجسس کا احساس ہوا تو اس نے بیڑی کے ٹکڑے کو پھونک مار کر پھینکا اور کہا، ’’ابے !گھبراتا کیوں ہے؟ اس کے بارے میں بھی بتاؤں گا! دھیرج دھر!! ‘‘

اور لڑکا پھر سے بانس کی ٹھٹری میں پوال باندھنے لگا۔ بوڑھے نے ایک اور بیڑی سلگائی۔ جلدی جلدی دو چار کش لگائے، کمر میں گمچھا باندھا، انگلیوں کے درمیان اپنے پچکے گال رکھے، داڑھی کے بال اینٹھے، تھوڑی دیرکچھ سوچا اور کام میں جٹ گیا۔

اب اس کا ہاتھ تیزی سے چل رہاتھا۔ رفتہ رفتہ پوال نظروں سے اوجھل ہورہی تھی۔ وہ بائیں ہاتھ سے ڈھانچے کو سہارا دیئے دائیں ہاتھ سے مٹی تھوپ رہاتھا۔ ہتھیلی کے نچلے حصے سے تھپکیاں بھی لگا رہاتھا۔ جہاں مٹی زیادہ ہو جاتی وہاں انگلیوں سے کاڑھ لیتا، جہاں مٹی کم پڑ جاتی وہاں چپکا دیتا۔ رہ رہ کر بیڑی کاسرا انگارے کی طرح دھکنے لگتا اور دوسرے ہی لمحہ اس پر راکھ کی تہہ جم جاتی۔

لڑکا پوال باندھ رہا تھا لیکن نظریں بوڑھے کی ہتھیلیوں اور انگلیوں کی جنبش پر ٹکی ہوئی تھیں۔

اورجب بوڑھا لڑکے کو دیکھتا تو مسکرا دیتا۔ ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا، ’’ابے ، مورتی ہاتھ میں نہیں ہوتی ہے۔‘‘ اور پھر دایاں ہاتھ سینے پر زور سے تھپک کر کہتا، ’’مورتی یہاں ہوتی ہے۔ سمجھا، یہاں، اس کے اندر!‘‘

لڑکا حیرت سے بوڑھے کا سینہ تکنے لگتا۔ اوبڑ کھابڑ ،ہڈیاں ہی ہڈیاں ،گوشت کا نام و نشاں نہیں!! بوڑھے کاہاتھ تیزی سے چلنے لگا۔

اور جب بانس کی ٹھٹری پر پوال باندھنے کا کام مکمل ہو گیا تو لڑکے نے ڈھانچے کو گھما پھرا کر دیکھا۔ جسم کے نشیب و فراز کامختلف زاویوں سے معائنہ کیا۔ انگلیوں سے کھینچ تان کر ڈوری کے دم خم کاجائزہ لیا۔ ’’بابا کو ایسا ہی کسا ہوا ڈھانچہ پسند ہے۔‘‘ اس نے من ہی من کہا اور پھر سے بوڑھے کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا، ’’بابا کے ہاتھوں میں جادو ہے! چھوتے ہی ہاتھ، پاؤں، پیٹ، سینہ، نابھی، گردن سب ایک ایک کر کے ماٹی سے نکلنے لگتے ہیں!! ‘‘

بوڑھے نے چھاتی پر مٹی تھوپ کر چھوٹے چھوٹے دو ٹیلے بنادیئے تھے۔ اب وہ ان ٹیلوں پر ہتھیلیاں پھیررہاتھا اور جب وہ ایسا کرتا تھا تو اس پر عجیب سی ایک کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ چہرہ تمتمانے لگتاتھا۔ آنکھوں کی پتلیاں ناچنے لگتی تھیں، ہونٹ کپکپانے لگتے تھے۔ سانس ٹوٹنے لگتی تھی۔ پہلے پہل لڑکے نے گھبرا کر اسے جھنجوڑا تھا۔ جواباً نرم اور نازک رخسار پر طمانچہ کھایا تھا۔ اس کے بعد کبھی اس کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ایسی حالت میں بوڑھے کے قریب پھٹکے۔

اورجب سینے کا تناؤ پوری آب و تاب سے نمایاں ہو جاتا تو بوڑھے کے چہرے پر سرور و انبساط کی ہزاروں لہریں دوڑ جاتیں۔ وہ مسکراتے ہوئے لڑکے کی طرف دیکھنے لگتا۔ سو اس نے اس بار بھی دیکھا۔ صرف دیکھا ہی نہیں بلکہ ایک بے تکا سا سوال بھی پوچھ لیا، ’’اچھا، بتا تو بے، تو نے کبھی کسی ناری کا سریر دیکھا ہے؟ ایک دم ننگ دھڑنگ سریر!! ‘‘

لڑکاہکّا بکّا بوڑھے کو تکنے لگا۔ وہ تو اس کی بڑی عزت کرتا تھا۔ اسے بھگوان سمجھت اتھا۔ بھلا بھگوان بھی اس طرح کے سوال کرتے ہیں!! لڑکا پس و پیش میں پڑ گیا۔

’’کیا بے، جواب کیوں نہیں دیتا؟‘‘

لڑکے سے کچھ کہا نہ گیا۔

پاٹ اور مٹی کا گلاوا گڑھے میں پڑا پڑا سڑ چکا تھا۔ بدبو آنے لگی تھی۔ نالے میں کیچڑ کے سڑ جانے سے بھی ایسی ہی بدبوآتی ہے۔ بدبو لڑکے کے نتھنوں کو چھونے لگی اور یکسر اس کی نظروں کے سامنے کا منظر بدل گیا!!

**

بھادوں کی امس اور ہوا بند! گرمی ایسی کہ دم گھٹ جائے۔ سڑک اور فٹ پاتھ کے درمیان چوڑا ایک نالہ، کیچڑ سے اٹا ہوا۔ نالے کا پانی سڑ چکا ہے۔ چھوٹے چھوٹے کیڑے کلبلا رہے ہیں۔ ناک نہیں ٹھہرتی۔ نالے سے لگا ایک چھوٹا سا جھونپڑا ہے ۔ جھونپڑے میں بچہ ماں کی چھاتی سے چپکا سو رہا ہے۔ اچانک بچے کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ حیرت میں پڑ گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اب وہ راستے پر اکیلا پڑا ہے۔ چاند میں بیٹھی بڑھیا چکی پیس رہی ہے۔ ہر طرف چاندنی پھیلی ہے۔

’’میں یہاں کیسے ؟ ‘‘ بچہ اپنے ننھے سے ذہن کو جھٹکتا ہے۔ لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔اس کی نگاہ جھونپڑے پر پڑتی ہے۔ ایک شخص جھونپڑے سے باہر آتا ہے اور لنگی باندھتا ہوا پُر پیچ راستوں میں گم ہو جاتا ہے۔ بچہ جھونپڑے کی طرف لپکتا ہے اور جیسے ہی قدم اندر رکھتا ہے ٹھٹک کر رہ جاتا ہے۔ ماں کے جسم پر ایک دھاگا بھی نہیں۔ وہ آہٹ سنتی ہے۔ بدن پر ساری کھینچ لیتی ہے۔ پیٹھ پھیر کرسو جاتی ہے۔ بچہ کھڑا کانپنے لگتا ہے۔

لڑکا بھی کانپنے لگا۔ بوڑھے نے سوال دہرایا، ’’کیابے! جواب کیوں نہیں دیتا، دیکھا ہے؟‘‘

لڑکے نے نفی میں سر ہلایا۔

بوڑھے نے کہا ،’’جا پہلے دیکھ کر آ، پھر میں تجھے آگے کا سبق سکھاؤں گا۔۔۔۔ اور ہاں سن جیسے تیسے مت دیکھنا۔ غور سے دیکھنا۔ ایک ایک چیز دیکھنا، اچھی طرح سے دیکھنا۔ بھوئیں کتنی کھنچی ہوئی ہیں، پیشانی کتنی چوڑی ہے ، گردن کوتاہ ہے یا صراحی دار، پیٹ پر بل کتنے ہیں، چھاتیاں تنی ہوئی ہیں یا جھولی ہوئیں ، پھول نیلا ہے یا بھونرا ، ہونٹ گلابی ہیں یا کتھئی، نابھی گہری ہے یا ابھری ہوئی۔ ٹانگیں چکنی ہیں یا روئیں دار…‘‘

لڑکے کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ بوڑھے کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ بوڑھے نے مزید کہا، ’’سن ماٹی کو ہاتھ لگانے سے پہلے دونوں آنکھیں بند کر لینا۔ ذہن کے پردے پر اس ننگ دھڑنگ ناری کی چھبی دیکھنا۔ آنکھ، ناک، کان، ہونٹ، کپال، کندھا، چھاتی، پیٹ، نابھی، چوتڑ، کمر، ٹانگیں، بانہیں سب اچھی طرح من میں بسا لینا۔ اس کے بعد بچالی (پوال) کے اس ڈھانچے میں ماٹی جماتے جانا۔ یاد رہے نظروں سے وہ چھبی اوجھل نہ ہونے پائے۔‘‘

بوڑھا تھوڑی دیر خاموش رہا۔ پھر مسکرایا اور بولا، ’’اچھا ایک کام کر، ماٹی میں چال کی تھوڑی سی بھوسی اور ملادے ۔‘‘

لڑکے نے پوچھا،’’اور پاٹ؟‘‘

’’نہیں پاٹ ملانے کی ضرورت نہیں۔‘‘

لڑکا مٹی کے گڑھے میں بھوسی ڈال کر کچھ دیر پیروں سے رَلایا پھر دھیمی آواز میں بولا، ’’بابا، ایک بات پوچھوں؟ ‘‘

بوڑھے نے اثبات میں سر ہلادیا۔

لڑکے نے پوچھا،’’بابا، آپ کی ماں نہیں ہے؟ ‘‘

’’ارے جب تیری ماں نہیں ہے تو مجھ جیسے بوڑھے کی ماں کیسے ہو سکتی ہے! ہاں، ایک بیوی ضرور ہے لیکن میرے ساتھ رہنا اسے گوارا نہیں۔ وہ جو کھال کے پاس نیا اسٹیشن بنا ہے۔ کولکاتا اسٹیشن! حرام زادی، وہیں رہتی ہے۔ دارو بیچتی ہے اور سنا ہے، دھندہ بھی کرتی ہے۔ ریلوے کے جتنے سپاہی ہیں اس کے گاہک ہیں۔ ان کے ساتھ سوتی ہے۔ سوتی رہے سالی، میں کسی کی پروا نہیں کرتا۔۔۔۔ اور تو سن عورتوں کا صرف بدن دیکھنا، غور سے دیکھنا، ایک ایک انگ دیکھنا لیکن خبردار ان کے ساتھ سونا نہیں! عورت کے ساتھ سونے سے آدمی نشٹ ہو جاتا ہے! کسی کام کا نہیں رہتا!‘‘

بوڑھے کا لہجہ بھرّا گیا۔ آنکھیں نم ہونے لگیں۔ رات بھر بوڑھا اسی طرح بکتا رہا۔ خوب دارو پیتارہا۔ اوراپنی بیوی کو گالیاں دیتا ہوا زمین پر بدحواس سو گیا۔

**

بوڑھا دن چڑھے تک سوتا رہتا تھا۔ اس نے پارک کی پچھلی باونڈری وال سے پولیتھین باندھ کر چھوٹی سی ایک جھونپڑی بنا رکھی تھی۔ جھونپڑی کے سامنے ہی وہ مورتیاں بناتا تھا۔ پارک کے دوسرے سرے پر واٹر سپلائی کے پائپ میں ایک جوڑ تھا جس سے خاصا پانی رستا تھا۔ تھوڑی دور فٹ پاتھ کی بائیں طرف کئی جھونپڑیاں تھیں۔ ان جھونپڑیوں میں رہنے والے صبح ہی سے وہاں بھیڑ لگا دیتے تھے۔ عورتیں برتن اور کپڑا دھونے بیٹھ جاتیں، تو ٹلنے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں۔ لڑکا علی الصباح جاگ جاتا اوروہاں سے پرانے پلاسٹک کے جار میں پانی بھر لاتا۔ گڑھے میں مٹی اور پانی ڈال کر پیروں سے گوندھتا۔ غرض یہ کہ بوڑھے کے جاگنے تک اوپر کا تمام کام نپٹا دتیا تھا۔ گڑھے میں سوکھی مٹی ڈال کرجب وہ پانی ملاتا تو آس پاس کی فضا سوندھی سوندھی خوشبو سے مہک اٹھتی تھی۔ لڑکے کو یہ خوشبو اچھی لگتی تھی ۔ بملا کو بھی بھاتی تھی۔

ہاں، وہاں چھوٹی سی ایک بچی بھی رہتی تھی۔اس کی پیاری پیاری باتیں لڑکے کو کھینچنے لگیں۔ ایک دن اس نے بچی سے کہا،’’میرے ساتھ چل، ماٹی کی گڑیاں دوں گا۔‘‘

اور جب بچی آتی تو وہ اسے چھوٹی چھوٹی گڑیاں بنا کر دے دیتا تھا۔ اگرچہ ان گڑیوں میں ہزاروں عیب ہوتے تھے، لیکن بچی انھیں بڑے چاؤ سے لے لیتی تھی ۔

شروع شروع میں تو وہ گڑیوں کے لالچ میں چلی آتی تھی لیکن رفتہ رفتہ اس کا ذہن بڑی بڑی مورتیوں کی طرف مائل ہونے لگا۔ وہ گھنٹوں بوڑھے کو مورتیاں بناتے دیکھا کرتی تھی۔ اپنی پیاری پیاری باتوں سے بوڑھے کا بھی من موہ لیتی تھی۔

اور جب بوڑھا وہی پرانا قصہ سناتا تو وہ بھی غور سے سنتی؛

’’چار دوست تھے۔ چاروں نے بھگوان وشو کرما سے پرارتھنا کی۔ اے بھگوان ! ہمیں کوئی انوکھا فن سکھلا دے۔ بھگوان وشوکرما نے ان کی پرارتھنا سوئیکار کر لی۔ انھیں بارہ برس تک سکھاتے رہے۔ وہ بھی پوری جی جان سے سیکھتے رہے ۔ پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنانا سیکھا۔ دوسرے نے اس پر ماس جمانا سیکھا، تیسرے نے اس پر چمڑے کا غلاف چڑھاناسیکھا۔‘‘

اور جب بوڑھا خاموش ہو جاتا تو لڑکے کے ساتھ ساتھ وہ بھی تجسس بھرے لہجے میں وہی سوال دہراتی،’’اور چوتھے نے؟‘‘

جب بوڑھے سے کوئی جواب نہیں بن پاتا تو بچی بے باکی سے کہتی،’’ چھوڑیئے چھوڑیئے ،آپ کو پتہ نہیں ہے!‘‘

لیکن بوڑھا اس کی بات کا برا نہیں مانتا تھا، بس ہنس دیتا تھا۔

***

بچی روزانہ صبح سویرے آنکھیں ملتی ہوئی چلی آتی تھی اور لڑکے کے ساتھ بیٹھ کر کبھی گڈا، کبھی گڑیا، کبھی توتا، کبھی مینا، کبھی شیر اور ہاتھی بنایا کرتی تھی۔ سامنے سیمنٹ کا ایک بوسیدہ ڈرین پائپ پڑا تھا۔ وہ اس پر بیٹھ جاتی اور دیر تک اس سے باتیں کیا کرتی تھی۔

ایک دن لڑکے نے کہا، ’’ بملا، دیکھ میں نے رات بھر جاگ کر تیرے لیے ماں کالی کی پرتیما بنائی ہے۔ دیکھ اس کی زبان دیکھ، کتنی لمبی ہے!! اس کے گلے میں منڈیوں کی یہ مالا دیکھ !! کتنی محنت سے ایک ایک سر بنایا ہے۔ انھیں دھاگے میں پرویا ہے۔ دیکھ ، اس کے ایک ہاتھ میں کٹی ہوئی ایک بڑی سی منڈی لٹکاؤں گا اوردوسرے میں یہ داؤ۔۔۔۔ اور یہ سیار بھی بنایا ہے، جو منڈی سے ٹپکنے والا خون چاٹے گا۔ اور دیکھ یہ بابا بھولے ناتھ کا پتلا ہے ۔ اسے چت لٹا کر ماں کالی کی پرتیما اس پررکھ دوں گا۔۔۔۔۔‘‘

بچی نے ہونٹ بچکا کر کہا، ’’نہیں ،ٹھیک نہیں ہوا۔ ماں کالی کے تو چار ہاتھ ہوتے ہیں، اس کے دو ہیں۔ شیو ٹھاکر کی جٹا بھی نہیں ہے۔ شیر کی چھال کہاں ہے؟‘‘

لڑکا اداس ہو گیا۔ اس نے تمام مورتیاں توڑ ڈالیں۔

ویسے بھی وہ ہر روز بوڑھے کے جاگنے سے پہلے اپنی بنائی ہوئی تمام مورتیاں توڑ کر گڑھے میں ڈال دیتا تھا اور مٹی کو اس طرح ملا دیتا تھا کہ بوڑھے کو اس کی بھنک بھی نہیں مل پاتی تھی۔ اسے ڈر تھا ،کہیں بوڑھا ناراض نہ ہو جائے۔

دوسرے دن پھر بچی آئی۔ ابھی وہ ڈرین پائپ پر ٹھیک سے بیٹھی بھی نہ تھی کہ لڑکے نے مسکرا کر کہا، ’’بملا، آنکھیں بند کر !‘‘

بملانے آنکھیں بند کرلیں۔کچھ دیر بعد لڑکے نے کہا، ’’اب کھول ! دیکھ آج میں نے کیا بنایا ہے؟ بتا تو یہ کس کی مورتی ہے؟‘‘

بچی کے چہرے پر اتنی حیرت نہ تھی جتنا کہ اس نے امید لگائی تھی۔ بچی تتلاتے ہوئے بولی ،’’لگتی تو درگا جیسی ہے۔ لیکن…‘‘

بچی غور سے مورتی دیکھنے لگی اورگال پر دایاں ہاتھ رکھ کرشہادت کی انگلی ہلاتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔ لڑکے کا تجسس بڑھ گیا۔

’’لیکن !‘‘

لڑکے نے بڑی بے صبری سے پوچھا،’’لیکن کیا؟‘‘

’’لیکن۔۔۔۔ اس کی ناک میں نتھ اور کانوں میں مندری کہاں ہے؟ ماتھے پرٹیکا، گلے میں ہار، ہاتھ میں چوڑی، پاؤں میں پائل، بھی نہیں۔ دھت یہ بھی کوئی ماں درگا ہوئی۔‘‘

اس بار بھی لڑکا اداس ہو گیا۔ اس نے یہ مورت بھی گڑھے میں ڈال دیا اسے مٹی میں ملا دیا۔ لڑکے کو اداس دیکھ کر بچی نے کہا،’’جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو میں ناک میں نتھ، کان میں جھمکے،ہاتھ میں چوڑی پہنوں گی۔ گلے میں ہار، ماتھے پر ٹیکا، پاؤں میں پائل بھی پہنوں گی۔‘‘

لڑکا سوچنے لگا، ’’جب بملا بڑی ہوجائے گی تو وہ کس کی طرح دکھے گی؟ درگا ماں کی پرتیما کی طرح، کالی مائی کی پرتیما کی طرح یا پھر ماں سرسوتی کی پرتیما جیسی؟ کیا اس کا کولھا اور سینہ بھی اسی طرح ابھر آئے گا۔ کیا اس کا جسم بھی اسی طرح کا ہو جائے گا جیسا بابا کو اپنی پرتیماؤں کے لیے پسند ہے۔ نہیں نہیں، وہ پرتیمائیں تو بول نہیں سکتیں۔ سب کی سب بے جان ہیں۔ ان میں آتما کہاں؟ میری بملا تو بولتی ہے! ٹپ ٹپ بولتی ہے، مینا کی طرح!! یہ تو زندہ ہے۔ ‘‘

لیکن افسوس کہ اس کی مینا زیادہ دنوں تک زندہ نہ رہ سکی!!

ہوا یوں کہ اس علاقے میں تیزی سے مہاماری پھیلنے لگی! بھادوں کے مہینے میں یہاں اکثر ایسا ہوتاتھا۔ جب وہ کئی روز تک نہیں آئی تو لڑکے کو فکر لاحق ہوئی۔ وہ اس کے گھر پہنچ گیا۔ بملا بے ست پڑی تھی۔ جسم پر لال لال چٹّے پڑ گئے تھے۔ لڑکے کو دیکھ کراس کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری۔ لڑکے نے پوچھا،’’بملا، بڑا کشٹ ہو رہا ہے کیا؟”

بملا کچھ نہیں بولی۔ اس نے اثبات میں صرف دھیرے سے گردن ہلا دی۔ سرہانے اس کی ماں بیٹھی سر پر پانی پٹّی چڑھا رہی تھی۔ سسکتے ہوئے بولی، ’’کئی دنوں سے بخار لگا ہے۔ اترنے کا نام نہیں لیتا۔ کہتی ہے، سر میں بہت دردہے! بدن کاجوڑ جو ڑ دکھ رہاہے!!‘‘

لڑکے سے اس کی حالت دیکھی نہیں گئی۔ اس نے دل ہی دل پرارتھنا کی،’’اے ٹھاکر، میری بملا کو اچھا کر دے…!!‘‘

اس کے بعد وہ روزانہ جانے لگا۔ بملا کی ماں نے منع کیا،’’بیٹا، تواس کے پاس مت جایا کر۔ اسے چھوت کی بیماری ہوگئی ہے۔ تجھے بھی ہو جائے گی۔‘‘

لیکن لڑکا کب ماننے والاتھا۔ وہ بملا کی ہتھیلیاں اور تلوے سہلاتا، سر پر پٹی چڑھاتا۔ گھنٹوں اس کے سرہانے بیٹھا رہتا۔ کہتا،’’بملا، تو جلدی سے ٹھیک ہو جا۔ میں اس دفعہ تیری مورتی بناؤں گا۔‘‘

لیکن اس کی بملا ٹھیک نہیں ہوئی۔ اسے قے آنے لگی۔ پیٹ میں شدیددرد شروع ہوگیا۔ ناک اور منہ سے خون بہنے لگا۔ جسم زرد پڑتا گیا۔ لوگوں نے کہا، ’’ڈینگو بخار ہوا ہے۔ یہ نہیں بچے گی۔‘‘

اور واقعی وہ نہیں بچی۔ لوگوں کاماننا تھا کہ مہاماری میں مرنے والے بچے کی لاش جلانی نہیں چاہئے۔ سچ تو یہ تھا کہ اس کی غریب ماں کے پاس اتنا پیسہ ہی کہاں تھا کہ وہ لکڑیاں خریدتی۔ اپنی بچی کی چتا جلاتی ۔ چنانچہ اس کی لاش نہر کنارے مٹی میں دبا دی گئی۔ لڑکا پھر سے تنہا ہو گیا۔ اب اس کا جی کسی کام میں لگتا نہ تھا۔ بچی کی موت کا صدمہ بوڑھے کو بھی کم نہ تھا لیکن وہ اس صدمے کو دل میں دبائے لڑکے کو بہلانے کی کوشش کرتا۔ اس نے ایک بارپھر وہی قصہ چھیڑا؛

’’چاردوست تھے ۔چاروں نے بھگوان وشو کرما سے پرارتھنا کی۔ اے بھگوان! ہمیں کوئی انوکھا فن سکھلادے۔ بھگوان وشوکرما نے ان کی پرارتھنا سوئیکار کر لی۔ انھیں بارہ برس تک سکھاتے رہے۔ وہ بھی پوری جی جان سے سیکھتے رہے ۔ پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنانا سیکھا۔ دوسرے نے اس پر ماس جمانا سیکھا، تیسرے نے اس پر چمڑے کا غلاف چڑھانا سیکھا۔‘‘

لیکن اس بار بوڑھے کو خاموش دیکھ کر اس نے اپنا سوال نہیں دہرایا۔

اورتب بوڑھے نے کہا، ’’ آ، میں تجھے ماس جمانا اور چمڑے کا غلاف چڑھانا سکھلا دوں ۔‘‘

لیکن لڑکا تو کسی اور خیال میں گم تھا۔ خاموش کھڑا رہا۔

دوسرے دن وہ نہر کنارے اداس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک اس کی نگاہ پیلی سی ایک چیز پر پڑی۔ اس نے غور سے دیکھا، ’’کہیں یہ بملا کے پیر کی ہڈی تو نہیں؟ تو کیا جانوروں نے اس کی قبر کھود کر اس کی لاش کھا لی ہے!!‘‘

ہاں، بملا کی لاش کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ اس نے ایک ایک ہڈی ڈھونڈی اور انھیں اٹھا کر لے آیا۔

چاندنی رات تھی۔ لڑکے نے آسمان کی طرف نگاہ کی۔ دور دور تک بادل کانام و نشاں نہ تھا۔ چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا مگر درخت کا ایک پتا بھی نہیں ہل رہا تھا۔ فضا میں عجیب سی گھٹن تھی۔

وہ کچھ دیر تک ٹکٹکی باندھے چاند کو تکتا رہا۔ بڑھیا چاند میں بیٹھی چکّی پیس رہی تھی۔ پھر اس نے جھونپڑے کی طرف دیکھا۔ بوڑھا ہر دن کی طرح آج بھی دارو پی کر اوندھا پڑا ہوا تھا۔

لڑکا ہڈیاں جوڑتا گیا اور بڑبڑاتا گیا، ’’پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنایا…!‘‘

اورجب ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا تو لڑکا اس ڈھانچے پر مٹی تھوپتا گیا اور بڑبڑاتا گیا، ’’پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنایا، دوسرے نے ماس جمایا …!‘‘

اب وہ مورتی کو ہتھیلیوں سے لیپ رہا تھا اور بڑبڑاتا جارہا تھا، ’’پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنایا،دوسرے نے ماس جمایا، تیسرے نے غلاف چڑھایا … ‘‘

**

پوَ پھٹ چکی تھی۔ فضا میں گھٹن کا احساس بڑھنے لگا تھا۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی بوڑھا خوابِ غفلت میں پڑا تھا کہ اچانک اس کے کانوں میں ایک آواز آئی۔ وہ چونک کر جاگ گیا۔

پہلے تو اسے یقین ہی نہ ہوا۔ اس نے ہتھیلیوں سے آنکھیں ملیں، کان سہلائے اور اپنے آپ سے کہا، ’’نہیں، یہ خواب نہیں! یہ خواب نہیں ہے!!‘‘

بوسیدہ ڈرین پائپ پر بملا کی پرتیما تھی!! لڑکا پرتیما کے سامنے نیم بے ہوشی کے عالم میں پڑا تھا۔ وہ بڑبڑاتا جا رہا تھا، ’’پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنایا، دوسرے نے ماس جمایا، تیسرے نے غلاف چڑھایا۔ پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنایا، دوسرے نے ماس جمایا، تیسرے نے غلاف چڑھایا… ‘‘

بوڑھے کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ ڈرتا ڈرتا پرتیما کے قریب آیا۔ دم بخود کچھ دیرتک اسے دیکھتا رہا۔ پھر لڑکے کی طرف مڑا۔ا سے ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا! پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا!! اوردھم سے اس کے قدموں پر گر پڑا !!!

پرتیما اب بھی بول رہی تھی،’’ اور چوتھے نے روح پھونکی!۔۔۔۔۔۔ اور چوتھے نے روح پھونکی۔۔۔۔۔!!!‘‘
————————————–
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔