Mushaira, Urdu Department, Mumbai University
Articles
Mumtaz shiireen
Articles
ممتاز شیریں: شخصیت اور فن (خطوط کے آئینے میں)
ڈاکٹر تنظیم الفردوس
ممتاز شیریں 12 ستمبر 1924ء کوہندو پور، آندھرا پردیش ، ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ ممتاز شیریں کے نانا ٹیپو قاسم خان نے اپنی اس نواسی کو تعلیم و تربیت کی خاطر اپنے پاس میسور بلا لیا ۔اس طرح وہ بچپن ہی میں اپنے ننھیال میں رہنے لگیں۔ ممتاز شیریں کے نانا اور نانی نے اپنی اس ہو نہار نواسی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ وہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اور گھر میں علمی و ادبی ماحول بھی میسر تھا ۔ممتاز شیریں ایک فطین طالبہ تھیں انھوں نے تیرہ (13)برس کی عمر میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ ان کے اساتذہ ان کی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کے معترف تھے ۔1941ء میں ممتاز شیریں نے مہارانی کالج بنگلور سے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔1942ء میں ممتاز شیریں کی شادی صمد شاہین سے ہو گئی۔ ممتاز شیریں نے 1944ء میں اپنے شوہر صمد شاہین سے مل کر بنگلور سے ایک ادبی مجلے “نیا دور” کی اشاعت کا آغاز کیا۔اس رجحان ساز ادبی مجلے نے جمود کا خاتمہ کیا اور مسائل ادب اور تخلیقی محرکات کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے لانے کی سعی کی گئی ۔صمد شاہین پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے ۔انھوں نے وکالت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد وہ حکومت پاکستان میں سرکاری ملازم ہو گئے۔ وہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے بیورو آف ریفرنس اینڈ ریسرچ میں جوائنٹ ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ ممتاز شیریں نے زمانہ طالب علمی ہی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔ان کی سنجیدگی ،فہم و فراست ،تدبر و بصیرت اور وسیع مطالعہ نے انھیں سب کی منظور نظر بنا دیا۔ ہر جماعت میں وہ اول آتیں اور ہر مضمون میں امتحان میں وہ سر فہرست رہتیں۔ ملک کی تقسیم کے بعد ممتاز شیریں کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا۔ کراچی آنے کے بعد ممتاز شیریں نے اپنے ادبی مجلے نیا دور کی اشاعت پر توجہ دی اور کراچی سے اس کی باقاعدہ اشاعت کاآغاز ہو گیا لیکن 1952ء میں ممتاز شیریں اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک چلی گئیں اور یوں یہ مجلہ اس طرح بند ہو ا کہ پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آئی۔ ادبی مجلہ نیادور ممتاز شیریں کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ ممتاز شیریں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد وہ برطانیہ چلی گئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید انگریزی تنقید میں اختصاصی مہارت فراہم کرنے والی تدریسی کلاسز میں داخلہ لیا اور انگریزی ادب کے نابغہ روزگار نقادوں اور ادیبوں سے اکتساب فیض کیااور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا۔ ممتاز شیریں کی دلی تمنا تھی کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان کی تعلیم جاری رہے اور وہ اس عظیم جامعہ سے ڈاکٹریٹ (ڈی فل ) کریں لیکن بعض ناگزیر حالات اور خاندانی مسائل کے باعث وہ اپنا نصب العین حاصل نہ کر سکیں اور انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پاکستان وا پس آنا پڑا۔ اس کا انھیں عمر بھر قلق رہا۔
ممتاز شیریں نے 1942ء میں تخلیق ادب میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ان کا پہلا افسانہ انگڑائی ادبی مجلہ ساقی دہلی میں 1944ء میں شائع ہو ا تو ادبی حلقوں میں اسے زبردست پذیرائی ملی ۔اس افسانے میں ممتاز شیریں نے فرائڈ کے نظریہ تحلیل نفسی کو جس مو ثر انداز میں پیش نظر رکھا ہے وہ قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔ افسانہ کیا ہے عبرت کا ایک تازیانہ ہے ۔ایک لڑکی بچپن میں اپنی ہی جنس کی ایک دوسری عورت سے پیمان وفا باندھ لیتی ہے۔ جب وہ بھر پور شباب کی منزل کو پہنچتی ہے تو اس کے مزاج اور جذبات میں جو مد و جزر پیدا ہوتا ہے وہ اسے مخالف جنس کی جانب کشش پر مجبور کر دیتا ہے۔ جذبات کی یہ کروٹ اور محبت کی یہ انگڑائی نفسیاتی اعتبار سے گہری معنویت کی حامل ہے ۔بچپن کی نا پختہ باتیں جوانی میں جس طرح بدل جاتی ہیں، ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ اس ا فسانے کا اہم موضوع ہے۔ مشہور افسانہ انگڑائی ممتاز شیریں کے پہلے افسانوی مجموعے اپنی نگریا میں شامل ہے ۔وقت کے ساتھ خیالات میں جو تغیر و تبدل ہوتا ہے وہ قاری کے لیے ایک انوکھا تجربہ بن جاتا ہے ۔یہ تجربہ جہاں جذباتی اور نفسیاتی اضطراب کا مظہر ہے وہاں اس کی تہہ میں روحانی مسرت کے منابع کا سراغ بھی ملتاہے ۔ وہ ایک مستعد اور فعال تخلیق کار تھیں ۔ان کے اسلوب کوعلمی و ادبی حلقوں نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔
اردو ادب میں حریت فکر کی روایت کوپروان چڑھانے میں ممتاز شیریں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔وہ عجز و انکسار اور خلوص کا پیکر تھیں ۔ظلمت نیم روز ہو یا منٹو نوری نہ ناری ہر جگہ اسلوبیاتی تنوع کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب اور محمود ہاشمی کے اسلوب کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں ۔قدرت اللہ شہاب کی تصنیف “یا خدا” اور محمود ہاشمی کی تصنیف “کشمیر اداس ہے” کا پیرایۂ آغاز جس خلوص کے ساتھ ممتاز شیریں نے لکھا ہے وہ ان کی تنقیدی بصیرت کے ارفع معیار کی دلیل ہے ۔وطن اور اہل وطن کے ساتھ قلبی لگاؤ اور والہانہ محبت ان کے قلب ،جسم اور روح سے عبارت تھی ابتدا میں اگرچہ وہ کرشن چندر کے فن افسانہ نگاری کی مداح رہیں مگر جب کرشن چندر نے پاکستان کی آزادی اور تقسیم ہند کے موضوع پر افسانوں میں کانگریسی سوچ کی ترجمانی کی تو ممتاز شیریں نے اس انداز فکر پر نہ صرف گرفت کی بلکہ اسے سخت نا پسند کرتے ہوئے کرشن چندر کے بارے میں اپنے خیالات سے رجوع کر لیااور تقسیم ہند کے واقعات اور ان کے اثرات کے بارے میں کرشن چندر کی رائے سے اختلاف کیا۔ممتاز شیریں نے اردو ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی پر جنس کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ان کے اسلوب کو بہ نظر تحسین دیکھا۔ممتاز شیریں کا تنقیدی مسلک کئی اعتبار سے محمد حسن عسکری کے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ سب کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے لبریز ان کا سلوک ان کی شخصیت کاامتیاز ی وصف تھا ۔ان کے اسلوب کی بے ساختگی اور بے تکلفی اپنی مثال آپ ہے۔ زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس اور اسلوب کی ندرت کے اعجاز سے انھوں نے ادب ،فن اور زندگی کو نئے آفاق سے آشنا کیا ۔ان کے ہاں فن کار کی انا، سلیقہ اور علم و ادب کے ساتھ قلبی لگاﺅ، وطن اور اہل وطن کے ساتھ والہانہ وابستگی کی جو کیفیت ہے وہ انھیں ایک اہم مقام عطا کرتی ہے ۔ادب کو انسانیت کے وقاراور سر بلندی کے لیے استعمال کرنے کی وہ زبردست حامی تھیں ۔انھوں نے داخلی اور خارجی احساسات کو جس مہارت سے پیرایہ ءاظہار عطا کیا ہے وہ قابل غور ہے ۔
ممتاز شیریں کو انگریزی ، اردو ،عربی، فارسی اور پاکستان کی متعدد علاقائی زبانوں کے ادب پر دسترس حاصل تھی ۔عالمی کلاسیک کا انھوں نے عمیق مطالعہ کیا تھا۔ زندگی کے نت نئے مطالب اور مفاہیم کی جستجو ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔ اپنی تخلیقی تحریروں اور تنقیدی مقالات کے معجز نما اثر سے وہ قاری کو زندگی کے مثبت شعور سے متمتع کرنے کی آرزو مند تھیں۔ ان کی تخلیقی اور تنقیدی تحریریں ید بیضا کا معجزہ دکھاتی ہیں اور حیات و کائنات کے ایسے متعدد تجربات جن سے عام قاری بالعموم نا آشنا رہتا ہے ممتاز شیریں کی پر تاثیر تحریروں کے مطالعے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ تو گویا پہلے ہی سے اس کے نہاں خانہ دل میں جا گزیں تھا ۔اس طرح فکر و خیال کی دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو تا ہے جس کی وجہ سے قاری کے دل میں اک ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے ۔ ترجمے کے ذریعے وہ دو تہذیبوں کو قریب تر لانا چاہتی تھیں۔ تراجم کے ذریعے انھوں نے اردو زبان کو نئے جذبوں، نئے امکانات، نئے مزاج اور نئے تخلیقی محرکات سے روشناس کرانے کی مقدور بھر کوشش کی ۔ان کے تراجم کی ایک اہم اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان کے مطالعہ کے بعد قاری ان کے تخلیق کار کی روح سے ہم کلام ہو جاتا ہے مترجم کی حیثیت سے وہ پس منظر میں رہتے ہوئے قاری کو ترجمے کی حقیقی روح سے متعارف کرنے میں کبھی تامل نہیں کرتیں ۔ان کے تراجم سے اردو کے افسانوی ادب کی ثروت میں اضافہ ہوا اور فکر و خیال کو حسن و دلکشی اور لطافت کے اعلیٰ معیار تک پہنچانے میں کامیابی ہوئی۔افسانوی ادب کی تنقید میں ممتاز شیریں کا دبنگ لہجہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گزشتہ آٹھ عشروں میں لکھی جانے والی اردو تنقید پر نظر ڈالیں تو کوئی بھی خاتون نقاد دکھائی نہیں دیتی ۔ممتاز شیریں نے اردو تنقید کے دامن میں اپنی عالمانہ تنقید کے گوہر نایاب ڈال کر اسے عالمی ادب میں معزز و مفتخر کردیا ۔ زندگی کی صداقتوں کو اپنے اسلوب کی حسن کاریوں سے مزین کرنے والی اس عظیم ادیبہ کے تخلیقی کارنامے تاریخ ادب میں آب زر سے لکھے جائیں گے اور تاریخ ہر دور میں ان کے فقیدالمثال اسلوب لا ئق صد رشک و تحسین کا م اور عظیم نام کی تعظیم کرے گی۔
1954ء میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ا س عالمی ادبی کانفرنس میں عالمی ادب اور انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں وقیع مقالات پیش کیے گئے ۔ممتاز شیریں کو اس عالمی ادبی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔اس عالمی ادبی کانفرنس میں ممتاز شیریں نے دنیا کے نامور ادیبوں سے ملاقات کی اور عالمی ادب کے تناظر میں عصری آگہی کے موضوع پر ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ادب کو وہ زندگی کی تنقید اور درپیش صورت حال کی اصلاح کے لیے بہت اہم سمجھتی تھیں ۔
اپنی تخلیقی کامرانیوں سے ممتاز شیریں نے اردو دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ۔رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے ان کے توانا اور ابد آشنا اسلوب میں سمٹ آئے تھے۔ ان کی تمام تحریریں قلب اورروح کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جانے والی اثرآفرینی سے لبریز تھیں۔ ممتاز شیریں کی درج ذیل تصانیف انھیں شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں بلند مقام پر فائز کریں گی ۔
افسانوی مجموعے
- اپنی نگریا
- حدیث دیگراں
- میگھ ملہار
- ظلمت نیم روز (فسادات کے افسانے) ترتیب: ڈاکٹر آصف فرخی
تنقید
- معیار
- منٹو، نوری نہ ناری
مدیر
- نیا دور (ادبی جریدہ)
تراجم
- درشہوار (جان اسٹین بیک کا ناول دی پرل کا ترجمہ)
- پاپ کی زندگی ( امریکی افسانوں کا مجموعہ)
ممتاز شیریں پر کتب
- ممتاز شیریں – ناقد، کہانی کار ، ابو بکر عباد، مطبوعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی، 2006ء
- ممتاز شیریں: شخصیت و فن، ڈاکٹر تنظیم الفردوس، اکادمی ادبیات پاکستان
ملازمت
ممتاز شیریں اپنی زندگی کے آخری دنوں میں حکومت پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم میں بہ حیثیت مشیر خدمات پر مامور تھیں ۔
وفات
ممتاز شیریں کو 1972ء میں پیٹ کے سرطان کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔مرض میں اس قدر شدت آگئی کہ 11 مارچ 1973ء کو پولی کلینک اسلام آباد میں وہ انتقال کر گئیں ۔ تانیثیت (Feminism) کی علم بردار حرف صداقت لکھنے والی اس با کمال ،پر عزم ،فطین اور جری تخلیق کار کی الم ناک موت نے اردو ادب کو نا قابل اندمال صدمات سے دوچار کر دیا۔
ممتاز شیریں: شخصیت اور فن
(خطوط کے آئینے میں)
ڈاکٹر تنظیم الفردوس
اُردو ادب میں ممتاز شیرین چند نہایت عالمانہ بصیرت کی حامل مصنفوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ وہ اُردو کے تین بہترین افسانہ نگاروں میں بے شک شامل نہ کی جائیں لیکن اس فن میں ان کی ہنرمندی، ادبی شعور، تخلیقی حساسیات اور ذہانت نے شامل ہوکر اُردو افسانے اور اس کی تنقید کو بہت کچھ دیا ہے۔ فنِ تنقید کے عمومی موضوعات کے حوالے سے بھی شیرین نے ستھرا اور اعلٰی درجے کا کام کیا اور عملی تنقید کے بہترین نمونے بھی فراہم کیے۔ ایک صحافی اور اپنے وقت کے اہم ادبی رسالے کی مدیرہ و منتظمہ کی حیثیت سے بھی انہوں نے نمایاں شناخت حاصل کی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے عالمی افسانوی ادب کے تراجم کا سلسلہ بھی شروع کیا جو ان کی ادبی تنوع پسندی کی ایک انفرادی جہت ہے۔
اسی طرح مشاہیر، ہمعصر ادیبوں اور دوستوں کے نام اُن کے خطوط نہ صرف ان کی شخصیت کے مختلف النوع پہلووں کو اُجاگر کرتے ہیں بلکہ اپنے عصر کے حالات، ادبی تاریخ، رُجحانات، مسائل اور سرگرمیوں کا احاطہ بھی بڑی خوبی سے کرتے ہیں۔ اِن خطوط سے ممتاز شیریں کی زندگی کے اُن گوشوں کی نقاب کشائی بھی ہوتی ہے جن کی مدد سے ان کی رواداری اور متواضع شخصیت کا علم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کے جتنے خط منظرِ عام پر آنے چاہئے تھے وہ نہ آسکے جب کہ وہ برسوں ایک اہم رسالے کی ادارت کرتی رہیں۔ محض اس ایک ذمہ داری کی وجہ سے اپنے عہد کے بے شمار مشاہیرکو انھوں نے خطوط تحریر کیے ہوں گے۔ اگر وہ تمام خط سامنے آسکیں تو یقیناً ادبی دُنیا کو اُن کے افکار و تصورات کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکیں گی۔
ہر لکھنے والے کے لیے خط تحریر کرتے ہوئے نہ کوئی محّرک ضرور ہوتا ہے اور اسی محّرک کی بنا پر مکتوب نگار اپنی حد تک مکتوب نویسی کا کوئی نہ کوئی ضابط متعین کر لیتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مکتوب نگار کی آواز سو فیصد ذاتی ہوتی ہے۔ حالاں کہ اپنی عملی زندگی میں وہی مکتوب نگار اپنی ایک منفرد سماجی آواز بھی رکھتا ہے اور اس کی ادبی تخلیقات میں بھی اس کی ایک علیحدہ آواز گونجتی ہے۔ لیکن خطوط میں مکتوب نگار کی آواز ایک ایسے انسان کی آواز “ایک ایسے انسان دوست کی ہوتی ہے جو عظیم فنکار ہوتے ہوئے بھی ایک عام انسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جو خلوت کدے میں اپنے چہرے اور تہہ دار تہہ شخصیت سے تمام پردے ہٹا دیتا ہے۔”۱
بے شک ایک اچھے خط کو ایسا ہی ہونا چاہیے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب مکاتیب کی تحریر کے وقت اس کی اشاعت کا کوئی منصوبہ ذہن میں نہ ہو۔ ہمارے مشہور مکتوب نگاروں کے مجموعہ مکاتیب کے حوالے سے یہ دونوں صورتیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ کسی بھی صورت میں اگر اسلوب میں روانی، بیان میں پختگی اور ہمعصر رجحانات پر گہری نظر مکاتیب کا خاصہ ہو تو ان کی ادبی حیثیت مسلمہ ہے۔
ممتاز شیرین نے رشتہ داروں، دوستوں ہم عصروں اور ادبی دُنیا کے نامور مدیروں کو بے شمار خطوط لکھے۔ ان خطوط میں ان کے ذاتی معاملات کا بیان بھی ہے، ادبی مباحثوں پر تبصرے بھی ہیں، ادبی دُنیا کی بے مہری کے تذکرے بھی ملتے ہیں اور اپنی تصانیف پر بے لاگ تنقید کا انداز بھی دکھائی دیتا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ افسانہ نگاری اور افسانہ نگاری کی تنقید کے حوالے سے بہت سے خطوط میں وہ اپنے ادبی موقف کا اظہار کرتی ہیں۔ یہ خطوط زیادہ خالص اور حقیقی جذبات کی موثر نشاندہی کرتے ہیں۔
ابوبکر عباد اپنی کتاب میں ممتاز شیرین کے خطوط کو بلحاظِ موضوع چار اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔
۱۔ اپنے اور اپنے فن کے بارے میں
۲۔ دوسرے افراد اور ان کے رویوں سے متعلق
۳۔ ذاتی نوعیت کے
۴۔ سیاحت کے احوال و واقعات پر مشتمل۔ ۲
پہلے دو اقسام کے خطوط اکثر ادبی دوستوں، رسالوں کے مدیروں اور اپنے فن کے کھرے نقادوں کو لکھے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ انہی میں کچھ افراد سے نجی مراسم بھی گہرے تھے۔ لٰہذا انھیں اور بعض عزیزوں کو ذاتی حالات و معاملات پر مبنی خطوط بھی تحریر کیے گئے ہیں۔ چوتھی قسم کے خطوط میں اہم ترین خط وہ ہیں جو انھوں نے مختلف ممالک میں قیام کے دوران صمد شاہین کی بھانجی اور اپنی عزیز دوست زینت جہاں کو لکھے تھے۔ تاج سعید نے ان کے انتقال کے بعد جب “قند” کا “ممتاز شیرین نمبر” نکالنے کا منصوبہ بنایا تو صمد شاہین کی وساطت سے انھین انگریزی میں لکھے گئے ان خطوط کا اسی (۸۰) سے زائد صفحات پر مشتمل مسودہ موصول ہوا۔ جن میں سے انتخاب کے بعد ان میں کچھ کا ترجمہ کرواکے مذکورہ نمبر میں شامل کر لیا گیا۔
ان کے فن اور شخصیت کے حوالے سے اہم خطوط میں محمد سلیم الرحمٰن کے نام خطوط مشمولہ “قومی زبان” ۱۹۹۰ء ونیز “سوغات” (بنگلور( شمارہ نمبر۳، ستمبر ۱۹۹۲ء ضمیر الدین احمد کے نام مشمولہ “سوغات” (کراچی) شمارہ نمبر ۶، مارچ ۱۹۹۴ء۔ شاہد حمید کے نام مشمولہ “صحرابیں” (لاہور) ۱۹۹۲ء۔ محمود ایاز کے نام مشمولہ “سوغات” (بنگلور)، شمارہ نمبر ۳، ستمبر ۱۹۹۲ء۔ اوپندر ناتھ اشک کے نام۔ ۳ بنام نظیر صدیقی مشمولہ “نامے میرے نام آئے” کے علاوہ مدیر نقوش محمد طفیل کے نام ۴۲ خطوط “تحقیق نامہ” : جی سی یونیورسٹی، ۲۰۰۶ میں صفحہ نمرب ۳۴۵ تا ۳۸۶ میں شائع ہوئے۔ /لاہور کے خصوصی شمارہ ۲۰۰۵
اپنے افسانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بسا اوقات مبصرین کی رائے سے اتفاق کرتی ہیں، کھبی وضاحتی انداز اختیار کرتی ہیں اور کھبی ناقدین کی رائے سے قطعی عدم اتفاق کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ مثلاً محمد سلیم الرحمٰن نے ان کے مجموعے “میگھ ملہار” پرپاکستان ٹائمز میں تبصرہ کیا تھا جس کا لہجہ بے حد سخت تھا۔ ۱۹۶۳ء میں سلیم الرحمٰن کی ممتاز شیرین سے براہِ راست خط و کتابت جاری تھی تو شاید کسی موقع پر سلیم الرحمٰن نے ندامت ظاہر کی ہوگی۔ اس کے جواب میں وہ لکھتی ہیں:
“نادم ہونے کی بھی آپ نے ایک کہی۔ جب آپ نے یہ سب کچھ سچائی سے محسوس کرکے
لکھا ہے تو اس میں نادم ہونے کی کیا بات ہے۔ ویسے بھی میں ان زود حِس قسم کے ادیبوں
میں سے نہیں ہوں جو ذراسی بھی تنقید کا برامان جاتے ہیں جب میں خود نقاد ہوں تو اپنی
تحریروں پر دوسروں کی تنقید کو بھی برداشت کرسکتی ہوں۔” ۴
لیکن شاہد حمید کے نام ۱۶ ستمبر ۱۹۵۰ء کے خط میں وہ شاہد حمید کی اپنے افسانوں سے متعلق رائے کو بالکل مسترد کردیتی ہیں۔ الگ الگ افسانوں کا ذکر کرتے ہوئے ان افسانوں سے متعلق اپنے نقطہ نظر کا حوالہ دیتی ہیں اور اپنے افسانے “آئینہ” کو وقیع اور بلند قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں:
“دوسروں کے افسانوں پر تنقید کرتے ہوئے اگر میں معروضیت برت سکتی ہوں تو اپنے متعلق بھی مرا رویہ مختلف نہیں ہوتا۔ اور اپنے افسانوں کے بارے میں اگر میں بہت زیادہ خوش فہم نہیں (کیوں کہ برائے ادب کا مجھے کچھ اندازہ ہے) تو بدظن بھی نہیں ہوں۔ اتنی خود اعتمادی مجھ میں ہے”۔۵
اسی خود اعتمادی کا مظاہرہ وہ ضمیر الدین احمد کے نام اپنے خط میں اس انداز میں کرتی ہیں:
“آپ کو اس کی شکایت ہے کہ وقار عظیم صاحب نے “ساقی” میں میرے بارے میں مضمون میں آپ کو یونہی ذکر کردیا ہے۔ اب اسے کیا کہیے گا کہ عبادت بریلوی نے “ساقی” میں پچیس سالہ تنقید پر مضمون میں میرا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا ہے۔ حالاں کہ بعض اونچے ادبی حلقوں میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں دو ہی وقیع نقاد ہیں۔ ایک عسکری صاحب ایک میں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ جان بوجھ کر مجھے نظراندازکرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی وجہ کا بھی اندازہ ہے کہ کیوں؟ میں لحاظ سے داد نہیں چاہتی کہ عورتوں میں میں ایک ہی نقاد ہوں۔ ادب میں عورت مرد کی تفریق کیوں لایا جائے۔ دونوں کی ادبی حیثیت ساتھ ساتھ متعین کی جاسکتی ہے۔ لیکن ایک ایسے مضمون میں جس میں ان تک کا ذکر ہو جنھوں نے صرف ایک ایک تنقیدی مضامین لکھے ہیں، میرا نام تک نہ لیا جائے تعجب خیز ہے۔” ۶
اس طرح اپنے تراجم کے سلسلے میں کئی خطوط میں تذکرہ کرتی ہیں۔ کامیوں کے ناول “اجنبی” کے ترجمے کے حوالے سے ۲۹ جنوری ۱۹۶۳ء نظیر صدیقی کو لکھتی ہیں:
“اس وقت میں کاموکی کتاب کا ترجمہ کر رہی ہوں۔ یہ ابھی ممکن نہیں ہوا ہے۔ مکتبہ جدید کا تقاضا ہے کہ جلد از جلد مکمل کرلوں۔ ترجمے کے علاوہ دیباچہ کے طور پر ۔۔۔۔۔۔۔ ایک سیر حاصل مضمون بھی چاہتے ہیں۔ اسی کام میں لگی ہوئی ہوں۔” ۷
لیکن محمد سلیم الرحمٰن کے نام اپنے خط میں لکھتی ہیں کہ:
“اجنبی” کا یا کسی اور کتاب کا ترجمہ نہیں کررہی۔ جن دنوں میں “اجنبی” کا ترجمہ کر رہی تھی مجھے معلوم ہوا کہ ایک اور مکتبے والے کسی اور صاحب سے اس کا ترجمہ پہلے ہی کراچکے ہیں۔” ۸
اس خط کے حاشیے میں سلیم الرحمٰن لکھتے ہیں کہ:
“ترجمہ “بشیر چشتی” نے کیا تھا۔ ممتاز شیرین ترجمہ کرتیں تو خوب ہوتا۔ نامکمل ترجمے کا مسودہ شاید ان کاغذات میں موجود ہو۔” ۹
محمد سلیم الرحمٰن ہی کے نام ایک اور خط میں وہ “میگھ ملہار” پر ان کے کیے ہوئے تبصرے کو سراہتے ہوئے لکھتی ہیں کہ:
“آپ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے کہ “میگھ ملہار” میں میرے فن کی سب سے نمائندہ، بہترین اور اصل تخلیق “کفارہ” ہی ہے۔ “کفارہ” میگھ ملہار” کی طرح صرف ادبی تجربہ نہیں ہے بلکہ ایک سچا تجربہ ہے۔ ایک روح کا نہیں لکھا۔ میں نے اسے بھی ایک کیفColdbloodeallyاور Calculatinglyتجربہ۔ ویسے “میگھ ملہار” بھی نے
اور Learningاور سرشاری میں ڈوب کر لکھا تھا۔ البتہ اس افسانے میں آگے چل کر جیسا کہ آپ نے لکھا ہے،
میں توازن قائم کرنا مشکل ہوگیا۔”۱۰Creativity
اسی افسانے کے بارے میں محمود ایاز کو لکھتی ہیں:
ہو رہی ہے۔ مضامین لکھے جا رہے ہیں۔ مظفر علی سید کے اس Controversial “آج کل یہ کتاب خوب
مضمون کے علاوہ ڈاکٹر احسن فاروقی نے “سات رنگ” کے سالنامے کے لیے بہت تفصیلی مضمون لکھا ہے۔ “نیا رہی اور یہ تو آپ کوRunner Upدور” میں سلیم احمد طویل مضمون لکھ رہے ہیں۔ آدم جی پرائیز کے لیے یہ کتاب
معلوم ہی ہوگا کہ بہترین افسانے کا انعام “کفارہ” کو ملا۔” ۱۱
“سوغات” (بنگلور) میں شیرین کے ایک خط کے حاشیے میں محمود ایاز نے لکھا ہے:
“مرحومہ کی خواہش پر اس کا انگریزی سے ترجمہ میں نے کیا تھا”۱۲
اگرچہ ممتاز شیرین نے اپنی بہت سی تحریروں میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ “کفارہ” بنیادی طور پرکے نام سے تحریر کیا گیا تھا۔ مگر اتفاق سے کسی مقام پر بھی انھوں نے“The Atonement”انگریزی میں
“کفارہ” کے مترجم کا ذکر نہیں کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے کئی افسانوں اور مضامین کے ترجمے لوگوں نے کیے۔ بلکہ ایک خط میں محمود ایاز ہی کو ۹ مئی ۱۹۶۳ء کو لکھتی ہیں:
“اگر اب بھی گنجائش ہو تو ایک چیز بھیج رہی ہوں۔ ایک مختصر سا انگریزی مضمون جو مجھ سے پطرس بخاری نے لکھوایا تھا۔ وہ ایک کتاب مرتب کر رہے تھے جس کے لیے انھوں نے دنیا بھر کے فلسفیوں، سائنس دانوں اور ادیبوں وغیرہ سے اس طرح کے تاثرات طلب کیے تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مجھے بھی لکھا تھا۔ پھر نہیں معلوم اس کتاب کا کیا ہوا۔ شاید کتاب مرتب ہونے سے پہلے ہی پطرس بخاری صاحب وفات پاگئے۔ میں جانتی ہوں آپ بے حد مصروف ہیں لیکن مضمون چھوٹا سا ہے اگر مریم زمانی ایز ترجمے کے لیے تھوڑا سا وقت نکال سکتی ہوں تو پھر ان کے سپرد کر دیجیے۔” ۱۳
گویا محمود ایاز اور ان کی بیگم سے ترجمے کے سلسلے میں ان کی مراسلت رہا کرتی تھی۔ لیکن زینت جہاں کو کراچی سے خط میں تحریر کرتی ہیں کہ:
“تمھیں میرا افسانہ “کفارہ” پڑھنے کی بڑی خواہش تھی۔ حقیقت میں یہ افسانہ میں نے انگریزی زبان میں ۔۔۔ تخلیق کیا تھا اور اس کا ترجمہ اُردو میں “کفارہ” کی سرخی کے ساتھ کیا، انگریزی افسانہ نسبتاً زیادہ موثر ہے۔” ۱۴
مذکورہ بالا جملہ اس قدر صریح معنویت کا حامل ہے کہ اس کے سامنے “محمود ایز” صاحب کے محولہ بالا جملے کا استناد محلِ نظر معلوم ہوتا ہے۔
ان کے چند اہم خطوط میں سے ایک “اوپندرناتھ اشک” کے نام لکھا گیا ہے۔ جس کا طویل اقتباس ابوبکر عباد نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔ اس خط سے نیا دور اور ترقی پسندوں کے مناقشے کی تفصیل معلوم ہوتی ہے۔ “نظام” میں ترقی پسند تحریک کے اجلاس کی روداد چھپی تھی جس سے معلوم ہوا کہ “قدوس صہبائی” نے “نیا دور” سمیت رجعت پسند رسائل پر پابندی کی تحریک پیش کی تھی۔ قدوس صہبائی کی ناراضگی کی وجہ بھی بیان کرتی ہیں کہ ممتاز شیریں نے صہبائی کے افسانوں پر سخت تنقید کی تھی اور “نیا دور” میں ان کے غیر معیاری افسانے کی اشاعت سے انکار کردیا تھا۔ لہٰذا قدوس صہبائی سخت ناراض ہوگئے اور ممتاز شیرین اور “نیا دور” کی مخالفت پر اتر گئے۔ راقم الحروف نے ممتاز شیرین کے کاغذات کے درمیان قدوس صہبائی کا ایک خط دیکھا ہے۔ جو درشت لہجے میں ہے۔ شیرین، اشک کے خط میں قدوس صہبائی کے بارے میں لکھتی ہیں:
“جو کچھ ہم نے محسوس کیا لکھا اور وہ برامان گئے اور اس وقت سے ہم پر بہت بگڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے اگر “نظام” کے ہرایڈیٹوریل میں اور ان کی بائیکاٹ والی تحریک میں “نیا دور” رجعت پسند رسالوں کے لیے سرِ فہرست پیش کیا گیا تو ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا۔ البتہ جناب سجاد ظہیر کو “نیا دور” میں کون سی چیز کھٹکی ہے، نہیں معلوم۔ ” ۱۵
مدیر نقوش محمد طفیل کے نام “تحقیق نامہ” کے خصوصی شمارے میں شامل صفحہ نمبر ۳۴۵۔۳۸۶ پر ۴۲خطوط ۱۹۴۶ء سے ۱۹۶۴ء عرصے میں لکھے گئے ہیں۔ “نیا دور” کی اشاعت کے عرصے کے دوران اِن خطوط میں مضامین، افسانے، تراجم اور تصویر کے تبادلے کے موضوعات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ممتاز شیرین کی ادبی و ضعداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے “نیا دور” کے لیے مخصوص کیا ہوا اپنا مضمون “کشمیر اداس ہے” کا دیباچہ نقوش میں اشاعت کے لیے بھجوادیا ہے۔ کیوں کہ طفیل صاحب کو انکار کرنا مناسب نہ تھا۔ ۱۶۔
اسی طرح سے احمد علی صاحب کا بڑی محنت سے تیار کیا ہوا ایک مضمون و قار عظیم صاحب کے پاس ترجمے کے لیے گیا۔ اطلاع ملی کہ گم ہوگیا ہے۔ کیوں کہ مضمون شیرین کے توسط سے گیا تھا لہٰذا وہ بڑی بے چینی سے مضمون کی تلاش پر اصرار کرتی ہیں۔ ۱۷
۲۳اکتوبر ۱۹۵۱ء کے خط سے بات پر افسوس کا اظہار کرتی ہیں کہ محمد طفیل صاحب نے نقوش کا “الوداعی نمبر” نکالنے کے فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے بعد والے خط میں قدرے تفصیل سے ان مسائل اور معاملات پر اظہارِ خیال کرتی ہیں جو اچھے ادبی رسائل کے اجرا اور تسلسل کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ اسی خط میں وہ انھیں ایک مخلصانہ مشورہ دیتی ہیں:
“آپ اسے ماہانہ کی بجائے سہہ ماہی بنادیں یوں مضامین کی فراہمی میں اتنی دشواری محسوس نہ ہوگی اور پھر اچھے مضامین جمع ہوسکیں گے اور پرچہ کا معیار برقرار رہے گا۔۔۔۔۔۔ آپ “نقوش” کو سہہ ماہی بنائیں تو پر چہ خاصا ضخیم ہوگا اور ہر پرچہ ایک “خاص نمبر” کی حیثیت رکھے گا۔ آپ کسی نہ کسی خصوصیت کے ساتھ ہر پرچہ کو خاص نمبر ہی کی طرح شائع کریں تو بہتر رہے گا۔” ۱۸
اس خط میں وہ طفیل صاحب کے استفسار پر یہ بھی بتاتی ہیں کہ میں “نقوش” کے لیے سال بھر میں کتنا لکھ سکتی ہوں اس سلسلے میں کوئی قطعی بات نہیں کہہ سکتی کیوں کہ ایک تو میں بہت کم لکھتی ہوں اور دوسرے یہ کہ “نیا دور” ہی کی ضروریات پوری ہو جائے تو کافی ہے۔۔۔۔۔ آگے چل کر خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ “نقوش” کی اشاعت تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور رسالے نے اپنا معیار خوبی سے برقرار رکھا ہے۔ ان خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ طفیل صاحب سے شیرین اور صمد شاہین کے بے تکلفی پر مبنی مراسم تھے۔ اسی لیے وہ نجی احوال اور صمد شاہین کی منصبی مصروفیات کو بھی اکثر بیان کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی دیگر مصروفیات مثلاً سیر وسیاحت وغیرہ سے، بچوں کے تعلیمی مدارج سے بھی طفیل کو آگاہ کرتی رہتی ہیں۔
۱۹۵۴ء اور ۱۹۵۵ء میں تحریر کیے گئے چند خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ “نقوش” کے شخصیات نمبر کے منصوبے سے شیرین کو دلچسپی رہی۔ طفیل صاحب چاہتے تھے کہ کوئی صاحبِ علم شیرین کی شخصیت پر جامع مضمون لکھ دے۔ انھوں نے خود شیرین سے ایسے کسی لکھاری کا نام تجویز کرنے کی فرمائش کی۔ انھوں نے کچھ نام اور ان کے پتے طفیل صاحب کو بھجوادیے۔ لیکن وہ خود اس مقصد کے لیے کسی سے فرمائش کرنے پر آمادہ نہ ہوئیں۔ کیوں کہ یہ ان کے خیال میں مناسب بات نہیں تھی۔ شخصیت پر مضمون لکھنے کے لیے وہ سر سری اور عمومی مراسم کو کافی نہیں سمجھتی تھیں۔ اسی لیے احمد علی پر مضمون لکھنے سے معذرت کر لیتی ہیں۔ اسی طرح اپنے حوالے سے بھی بعض اشخاص کی معذرت (مثلاً کشفی صاحب کی) کو بجا اور روا سمجھتی ہیں۔ “نقوش” شخصیات نمبر (ا) میں ممتاز شیرین پر مضمون نہ آسکا۔ ۱۹
انہی خطوط میں منٹو میموریل کمیٹی کے حوالے سے اپنی مصروفیات کا بیان کرتی ہیں اس کمیٹی میں لاہور سے نمائندگی کے لیے طفیل صاحب کے نام کی تجویز کی اطلاع بھی فراہم کرتی ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ منٹو کے بہترین افسانوں کا اعلٰی درجہ کا انتخاب اور فن و شخصیت پر مبنی مضامین سے سجی کتاب اہلِ ادب کی جانب سے منٹو کی ادبی خدمات کے خراجِ تحسین کے لیے آنی چاہیے۔ ۲۰
انہی دنون وہ تیزی سے منٹو پر کتاب بھی مکمل کرنا چاہتی ہیں۔ ایک خط میں طفیل صاحب کو اطلاع دیتی ہیں۔ کہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی ہو رہا ہے اور انگریزی و اُردو میں یہ کتاب ایک ساتھ چھپے گی۔ ۲۱
معلوم نہیں بعد میں انگریزی کتاب کا ترجمہ کہاں تک پہنچا۔ اُردو میں یہ نامکمل کتاب تو شائع ہو گئی ۲۲ اکتوبر ۱۵۵۶ء کے ایک خط میں “نقوش” شخصیات نمبر ۲ کی اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں فرمائش کرکے اپنے اوپر مضمون نہیں لکھوا سکتی تھی البتہ اپنے دیور کے ایک مضمون کا تذکرہ کرتی ہیں۔ جنھوں نے عصمت چغتائی پر ان کے دیور کا مضمون دیکھ کر اپنی بھاوج یعنی ممتاز شیرین پر بڑی محنت سے مضمون لکھا تھا۔ لیکن بیجھنے سے پہلے ہی رسالہ چھپ گیا۔ لہٰذہ مضمون نگار کو افسوس ہوا۔ اپنے بارے میں لکھتی ہیں کہ “اب کے تو میں نے محسوس بھی نہیں کیا۔” ۲۲
۲۳ اپریل ۱۹۵۷ء کے خط میں اپنے افسانوں کے فرانسیسی تراجم کا احوال بیان کرتے ہوئے ایملی برو نٹے کے ناول “وُدِرنگ ہائٹس” کے ترجمے کا ذکر کرتی ہیں۔ یہ ذمہ داری مکتبہ جدید والوں نے ان کے سپرد کی تھی۔ ۲۳ چند خط بنکاک میں قیام کے دوران لکھے گئے۔ جن میں “نقوش” کے “طنز و مزاح” نمبر کے لیے ستائش کے ساتھ ساتھ رفیق حسین کی افسانہ نگاری کو بھی بڑے جچے تلے انداز میں سراہا گیا ہے۔ ۲۴ ۱۶ اگست ۱۹۶۲ء کے خط میں “میگھ ملہار” کی اشاعت کی اطلاع دیتی ہیں۔ اور اپنے حالیہ افسانے “کفارہ” کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
“اسے آپ ضرور پڑھیں۔ اس میں میں نے ان لمحات کو فنی گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے۔ جب موت مجھ سے بہت قریب تھی۔ مجروح مامتا کے ذاتی المیے کو یہاں آفاتی حیثیت دی گئی ہے۔ مجھے یقین ہے آپ یہ افسانہ کرسکیں گے۔” ۲۵Appreciateواقع
چند خطوط میں ناسازی طبع کا احوال اور مضمون کی ترسیل میں تاخیر پر معذرت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چند خطوط صمد شاہین کی ڈھاکہ پوسٹنگ کے دوران لکھے گئے ہیں۔
جون ۱۹۴۳ء کے چند خطوط سے “نقوش” کے آپ بیتی نمبر کی تیاری کے سلسلے میں استفسار ہے۔ اور اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں اپنی خود نوشت “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے” کے لیے تحریک اس نمبر کی بنا پر ہوئی تھی۔ ۱۷ جنوری ۱۹۶۴ء کو انقرہ سے لکھے گئے خط میں تحریر کرتی ہیں:
“اب یہاں انقرہ پہنچتے ہی میں نے پہلا کام یہی کیا کہ پھر سے آپ بیتی لکھنی شروع کی۔۔۔۔۔۔ بہر حال مکمل کرلے ہے۔ اگر اب بھی “آپ بیتی نمبر” میں گنجائش ہے تو از راہِ کرم فوراً مطلع فرمائیں، بھیج دوں گی۔” ۲۶
بعض دیگر احباب، مدیر ان اور صاحبانِ علم کو لکھے گئے خطوط کے مقابلے پر محمد طفیل کے نام ان خطوط میں بے تکلف مراسم کی جھلک نمایاں ہے۔ اس بے تکلفی کی وجہ سے خطوط کا اسلوب رواں اور شگفتہ ہے۔ اور اس قسم کی پیچیدگی پیدا نہیں ہوتی جیسی کہ پر تکلف اور رسمی خطوط کے اسلوب میں نمایاں ہوکر ممتاز شیریں کی تحریر کے حسن کو متاثر کرتی ہے۔
ان کے خطوط کے معلوم اور مطبوعہ حصے میں سے زینت جہاں کے نام لکھے گئے بے حد اہمیت کے حامل خط انقرہ اور اسلام آباد میں آخری قیام تک کے عرصے میں ضبطِ تحریر میں لائے گئے۔ انقرہ سے لکھے گئے ان کے خطوط سوانحی بھی ہیں اور سیاحتی بھی۔ یوں تو ممتاز شیرین بنگلور سے کراچی کے سفر ہجرت کو اپنے لیے سب سے اہم سفر قراردیتی ہیں لیکن دنیا کے مختلف خطوں اور علاقوں کی سیر کے دوران ان کے اندر چھپا ہوا دلنشین اسلوب کا انشائیہ نگار نمایاں ہو جاتا ہے اور اسی نمائندگی کی بناء پر زینت جہاں کے نام لکھے گئے ان خطوط کے اکثر حصے مختلف ممالک کے جغرافیائی، تہذیبی اور سماجی سفر نامے یا سیاحت نامے بن گئے ہیں۔ اگر انھوں نے محض خارجی مناظر کے بیان پر زور دیا ہوتا تو شاید یہ محض جغرافیائی منظر نامے ہوتے لیکن ممتاز شیرین نے جغرافیائی تفصیلات کی فراہمی میں محسوسات کی شمولیت کے ذریعے ایک اچھوتا، منفرد اور اپنے گزشتہ اسالیب کے مقابلے پر زندہ تر اسلوب کا سراغ پالیا ہے۔ ان خطوط میں ہندوستان، روم، ترکی اور پاکستان کے مختلف شہروں کے بارے میں تفصیلات قلم بند کی ہیں۔ ان کے یہ مکاتیب صرف مکتوب ہی نہیں رہتے بلکہ ان میں مضمون یا انشائیے کی خصوصیات بھی پیدا ہوگئی ہیں۔ ۲۷
جب وہ ہندوستان کی سیر کرتی ہیں تو ایک جانب لکھنو اور جے پور کی دید سے محرومی کا دکھ بیان کرتی ہیں، دوسری جانب دہلی، آگرہ، علی گڑھ ، چندی گڑھ اور امرتسر کے علاوہ بہت سے دوسرے شہروں کی سیر کا لطف بیان کرتے ہوئے اس گہرے اور ابدی تاثر کا بینا کرتی ہیں جو تاج محل کے صاف، شفاف اور لطیف حسن نے ان کے ذہن پر چھوڑا اور اس کے بعد “ہمالیہ کے شاندار جاہ و جلال نے بھی مجھے بڑا متاثر کیا۔ جس کی تحیر انگیز عظمت و رفعت خدائے بزرگ وبر ترکی شانِ کبریائی کی شہادت دیتی ہے۔ اور ہم وہاں اسے بہت قریب محسوس کرتے ہیں۔” ۲۸
پہاڑوں کی یہ ہیبت و عظمت ترکی کے رفیع الشان پہاڑوں کی سیاحت کے دوران بھی قائم رہتی ہے لیکن یہاں اس عظمت میں ان پہاڑوں کے تاریخی پس منظر اور دیو مالائی مقبولیت کی شمولیت دکھائی دیتی ہے اور تفصیل بیان کرتی چلی جاتی ہیں۔
پہاڑ کی سیر کو گئے۔ یہ پہاڑ یونانیPagasns “اولمپس یونانی دیوتاوں کا استھان ہے۔ ازمیر کے مقام پر ہم
رہتا تھا اور یہیں اس پہاڑ پر اس نے عظیم رزمیہ Homerدیو مالا میں شاعری کی علامت ہے۔ ازمیر میں ہومر
تخلیق کی تھی۔ سکندر نے یہاں جو قلعہ تعمیر کیا تھا وہ ابھی تک اچھی حالت میں موجود ہے۔Illiad and Odessy
ہے۔ ٹرائے آف ہیلن ازمیرHellenic Worldتمہیں معلوم ہوگا کہ جسے اب مغربی ترکی کہتے ہیں وہ عہد سلف کی
کے بالکل قریب ہے۔ اور یہاں پہنچ کر یونانی تاریخ، یونانی دیو مالا اور یونانی ادب ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ ازمیر سے چند میل دور ہے۔ یہاں ہم نے یونانی اور باز نطینی تہذیب کے عظیم الشان کھنڈراتEuphesusیوفیسس
کے معبد اور اپالو کے مجسمہ کے خرابے موجود ہیں۔ میرے Diana میں Pergamumدیکھے۔ یوفیسس اور پرگیمم
کو دوبارہ زندہIpheginiaاس خط کے لفافہ پر اپالو ہی کے مجسمہ کی تصویر ہے۔ یہیں پر قربانی کی بھینٹ چڑھی
کو شہر افسوس کہا جاتا ہے۔ یہی وہ شہرِ گناہ ہے جہاں Euphesusکرکے اسے پجارن اور پروہت بنایا گیا۔۔۔۔۔۔
اصحابِ کہف نے بھاگ کر ایک غار میں پناہ لی تھی۔ شہر سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر وہ غار ہے جہاں Mount of اصحابِ کہف (قرآن شریف کے مطابق) تین سو نوسال تک سوتے رہے۔ اس سے آگے کوہ عنادل
ہے۔ ترکی میں اب اسے بلبل ڈاگ کہا جاتا ہے۔ اس کی چوٹی پر دوشیزہ مریم نے اپنی زندگی کے Nightingales
آخری سال بسر کیے تھے۔ حضرت عیسّی کے مصلوب ہونے کے بعد سینٹ جان نامی مبلغ انجیل مریم کو ایشیائے کوچک لے آئے تھے اور مریم کا قیام وہیں رہا ہم نے دوشیزہ مریم کی مقدس قیام گاہ کی بھی زیارت کی۔” ۲۹
ایک اور خط میں ترکی کی ثقافت، رہن سہن اور لوگوں کے عمومی رجحانات مثلاً گفتگو کے آداب، اخلاقی حیثیت، خوراک اور رہائش کے طرز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپنی ایک ترکی سہیلی کے خاندان اور ان کے رکھ رکھاو کا تعارف پیش کرتی ہیں۔ قدیم و جدید کے امتزاج سے نشونما پانے والی لڑکیوں اور بے ریا، زمانہ سازی سے دور نئی نسل کے ترک انھیں بڑے “بامروت، مخلص اور خوش اخلاق” نظر آتے ہیں۔ ۳۰۔
جب روم اور اٹلی کے سیر کا احوال بیان کرتی ہیں تو ان تمام تاریخی، روایتی اور اساطیری واقعات و مقامات کا تذکرہ کرتی ہیں جنھوں نے مغرب و ایشیا کے بہت سے ادبی تصورات کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اُردو ادب کو بھی وسعت بخشی ہے۔ وسعت کی نئی شکلوں کو ہم نئے نئے رموزوں اور اساطیری اشاروں کی صورت میں اپنے ادب کی مختلف ہئیتوں میں جلوہ گر ہوتا دیکھ سکتے ہیں، زینت جہاں کو ایک خط میں روم اور نیپلز کے بارے میں اپنے ادب کی مختلف ہئیتوں میں جلوہ گر ہوتا دیکھ سکتے ہیں، زینت جہاں کو ایک خط میں روم اور نیپلز کے بارے میں تحریر کرتی ہیں:
“اٹلی کے شہر روم اور نیپلز ہم نے بارہ سال قبل بھی دیکھے تھے لیکن اس مرتبہ روم نئے روپ میں تھا۔ اس شاندار اور عظیم تاریخی شہر نے کچھ زیادہ ہی متاثر کیا۔ روم کا ذرہ ذرہ اس کی گزشتہ عظمت کے گن کاتا ہے۔
سے اور جولیس سیزر، آگسٹس اور طورجان کے فورم کے کھنڈرات سے اب بھی ماضی کیCollosseumنیرو کے
شان و شوکت جھلکتی ہے اور ان جگہوں کو دیکھے ہی ذہن ایک دم کسی داستان میں کھو جاتا ہے۔ کبھی خیال آتا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں انٹونی نے سیزر کی میت پر اپنی مشہور عالم تقریر کی تھی۔ ” ۳۱
ایک اور خط میں شیرین یوں رقم طراز ہیں:
“انطالیہ کی سیر نے بڑا لطف دیا۔ اس کا قدرتی حسن لاجواب اور سکون بخش ہے۔ بحرِ روم کے نیلگوں پانی کا نظارہ قابل دید ہے کو کناروں کے پاس فیروزی، پھر آگے ہلکا نیلا اور رفتہ رفتہ بیچ سمندر میں گہرا نیلا کاپہاڑی سلسلہ ہے جو ایک عجیب رنگ بخشتا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے “Tourus”دکھائی دیتا ہے۔ پس منظر میں
جیسے یہ پہاڑ سراسر سمندرہی سے اٹھے ہوں۔ ہم نے بہت سے تاریخی مقامات اور کھنڈرات بھی دیکھے۔ مثلاً
۔۔۔۔۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے قلو پطرہ غروب آفتاب کا نظارہ کیا کرتی تھی۔” ۳۲As Pendos
سفر کے ان مراحل میں انھوں نے مختلف ممالک کی سیر کی۔ نئے نئے انداز کے لوگ دیکھے۔ جدید سے جدید شہر کے حسنِ تعمیرکو سراہا لیکن جس شہر نے انھیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اس بارے میں وہ اپنے محسوسات کا آغاز ان الفاظ میں کرتی ہیں:
دنیا کے ایک قدیم ترین اور عظیم ترین اور عظیم الشان دارالحکومت استنبول کا کوئی جواب نہیں۔ اس شہر کے مختلف نام رہے ہیں۔ بازنطینہ، نیا روم، قسطنطنیہ، استنبول وغیرہ۔ اسے مہا آنند (روحانی مسرت) کا استھان کہنا چاہیے۔” ۳۳
قیام انقرہ کے دوران مختصر مدت کے لیے پاکستان جانا ہوا تو کئی شہر کی سیر کی اس کی روداد بھی زینت جہاں کے ایک خط میں کچھ یوں ہے:
“ہم مری، ایبٹ آباد، ٹیکسلہ کے علاوہ اسلام آباد کی سیر کو بھی گئے جو پاکستان کا نیا دارلخلافہ ہے اور راولپنڈی سے صرف چند میل کے فاصلے پر ہے۔ راولپنڈی میں ہم ایک بڑے بنگلے میں مقیم تھے جس کے پائیں باغ میں سرو، سورج مکھی اور رنگا رنگ گلابوں کے جھرمٹ تھے۔ چاندنی میں وہاں کے کھلے سبزہ زاروں میں بیٹھ کر سبز چائے پینے میں کیا لطف آتا تھا؟ ۔۔۔۔ میں پشاور میں تقریباً تین چار روز مشکور بھائی اور ان کے اہل و عیال کے ساتھ رہی اور وہاں تقریباً تمام قابلِ دید مقامات کی سیر کی۔ یونیورسٹی کا شاندار کمیپس، وارسک ڈیم، لنڈی کوتل، تاریخی درہ خیبر اور افغانستان کی سرحد تورخم، کیا تھا جو نہیں دیکھا۔” ۳۴
مختلف ممالک کی سیر، ملازمت کی زنجیر سے کھنچتی ہوئی انھیں اسلام آباد لے آئی۔ یہ ایک تو آباد شہر ہے شیرین کے خیال میں تین سال کے اندر بیابان میں مکمل شہر بسا دینا کسی کمال سے کم نہیں۔۔۔۔ ان کے خیال میں:
“اسلام آباد کی خاص کشش اس کی تازہ ہوا، سبزہ اور دیہی علاقے کا فطری حسن ہے جس کے ساتھ اسے ایک جدید شہر کی تمام سہولتیں بھی مل گئی ہیں۔ فطرت یہاں اچھوتے حسن کے ساتھ موجود ہے۔ ہر طرف سے مری کی خاکستری رنگ کی پہاڑیوں سے گھرا ہوا اسلام آباد نہایت خوش کن منظر ہے۔ چناں چہ اس کے مختلف حصوں کو بھی رومانی اور اشاریاتی قسم کے نام دیے گئے ہیں۔ مثلاً روپ، پھلواری، گلشن، سنبل، کہسار، آب پارہ۔”۳۵
اس شہر میں انھیں سب سے خوبصورت آواز سنبل والی مسجد سے آنے والی اذان کی آواز محسوس ہوتی تھی۔ اگرچہ دفتری اور سرکاری ضابط بندی نے یہاں ماحول میں یکسانیت پیدا کردی تھی لیکن ان کے خیال میں “یہ بہت پیارا شہر ہے۔ شیشے کی طرح صاف، وسیع میدانوں، سبزہ زاروں، ہواوں اور سکون کا گہوارہ۔” ۳۶
زینت جہاں کے نام انہی خطوط سے ہمیں ممتاز شیرین کے مرض الموت کے آغاز کا علم ہوتا ہے۔ جو ۱۹۷۰ء سے ہوا اور مارچ ۱۹۷۳ء میں وہ اس مرض سے ہار مان گئیں ۔۔۔۔ اسی عرصے میں ان کے اوپر ذہنی سکوت کا وہ حملہ ہوا جس نے ان کی تخلیقی صلاحتوں کو بے طرح متاثر کیا۔ ۲۳ اگست ۱۹۷۱ء کے ایک خط میں جب بیرونِ ملک صمد شاہین کی پھر سے تقرری کا امکان ہوا تو زینت جہاں کو لکھتی ہیں:
” کچھ عرصہ پہلے مجھے ایسا لگتا تھا جیسے لکھنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ معلوم ہوتا تھا کہ زندگی بالکل ہی رک گئی ہے۔ کوئی چونکا دینے والی یا خاص خبر باقی نہیں رہی تھی، مستقبل کے لیے کوئی خاص منصوبے نہیں تھے۔” ۳۷
لیکن اسلام آباد سے ترکِ سکونت سے قبل وہ قرب و جوار کی مکمل سیاحت کرلینا چہتی تھی اسی لیے سوات کی سیر بھی کی اور پہاڑوں کے درمیان دم بخود کردینے والے مناظر سے خوب حظ اٹھایا۔ ۳۸
دنیا ک اہم ترین مقامات کی سیر کے دوران ممتاز شیریں نے محض کھلی آنکھوں سے خارج کا مشاہدہ نہیں کیا بلکہ باطنی نگاہوں کی گہرائی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس عظمتِ رفتہ کا مشاہدہ بھی کیا تھا۔ جس عظمت کی نشانی وہ شخصیات تھی جنھوں نے حیاتِ ابدی حاصل کرلی ہے۔ دنیا بھر کی چیدہ چیدہ جاویداں شخصیات، جو ہمارے ادب میں بھی علامت بن کر اس کی نئی معنویت کی صورت گری کر رہے ہیں۔ ادبی شخصیات کو لکھے گئے شیریں کے خطوط میں لہجے کی سنجیدگی اور بیان کی علمیت کی وجہ سے
“زبان کو اظہار کی پوری قوت رکھنے کے باوجود بہت زیادہ صحیح اور ستھری نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے مقابلے میں زینت جہاں کے نام جو خطوط ہیں ان میں زبان و بیان کی کمزوریاں نہیں ہیں۔ اندازِ بیان نہایت شگفتہ اور تاثیر ہے۔ ان خطوط کی نثر نپی تلی ہے۔ اظہارمیں ایک روانی بھی ہے اور بیان میں ایک قوت بھی۔” ۳۹
اظہار کی یہ روانی اور بیان کی یہ قوت کسی مربوط اور منضبطہ سفر نامے کی متقاضی تھیں، اس قسم کا سفرنامہ یا انشائیہ تحریر کرنے کی خواہش کا اظہار خود شیرین نے زینت جہاں سے ایک خط میں کیا تھا۔ ۳۹ لبنٰی شاہین کے تصرف میں ممتاز شیرین کے مسودات کی چھان پھٹک کے دوران ایک نامکمل سفری انشائیہ “مشرق و مغرب کے درمیان” ملا۔ اس انشائیے میں اسی اسلوب اور قوت اظہار کا تسلسل ملے گا جو مذکورہ خطوط میں دکھائی دیتا ہے۔ ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں:
“رات گہری ہوچلی تھی،
فضا میں ایک بھاری سی سیٹی کی آواز گونج اٹھی۔ ساکت جہاز میں ایک حرکت، ایک تھرتھراہٹ سی پیدا ہوئی اور یہ مرمریں، شفاف، حسین اطالوی جہاز بحیرہ روم کے گہرے نیلے پانیوں کو کاٹتا ہوا نکل گیا۔
جہاز اس سرزمین کو چھوڑ رہا تھا جسے “مغرب” کہتے ہیں اور “سوئے مشرق” روانہ ہو رہا تھا۔ “مشرق” اور “مغرب”، یہ دو الفاظ سمت کا اشارہ کرنے کے علاوہ اور کتنے مہینوں کے حامل بن گئے ہیں۔ تہذیب و تمدن کا امتیاز، رنگ و نسل کا امتیاز ۔۔۔۔۔ صدیوں کی آقائی اور غلامی۔۔۔۔۔
لیکن یہ اطلالیہ تھا، اطالیہ جو یوں مغرب کا دوروزہ ہے، لیکن مشرق سے کہیں زیادہ قریب۔ اطالیہ جہاں مغربی ممالک میں گھوم پھر کر آئیں تو اچانک یوں محسوس ہوتا ہے ہم پھر مشرق میں آگئے ہیں۔
ہم سب عرشے پر کھڑے ہاتھ ہلا ہلا کر گویا نیپلز کو الودع کہہ رہے تھے۔” ۴۰
اسلوب کے اس تسلسل کو ہم کچھ اور پہلے ان کی نامکمل خودنوشت “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے” میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ رواں، پُر جوش اور اظہار کی قوت سے لبریز یہ اسلوب بیان جیسے جیسے بڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے ان کے طبعی اور جسمانی نظام میں درد کا جال پھیلتا جا رہا تھا۔ موت وہ اٹل، حتمی اور یقینی قوت تھی Fascinateجو ساٹھویں دہائی کے آخری چند برسوں میں ان کی تحریروں کے ساتھ ساتھ ان کے محسوسات کی بھی
کر رہی تھی۔
سب سے پہلے ۲۴ مئی ۱۹۵۷ء کو محمد طفیل مدیر نقوش کو لکھے گئے ایک خط سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں “باشو بھائی کی نانی اماں بستر مرگ پر تھیں۔ دو ہفتے ان کی حالت بہت خراب رہی۔ آخر چند دن ہوئے انتقال فرما گئیں۔ “انا اللہ و انا الیہ راجعون” وہ میرے لئے بالکل “آئینہ” کی نانی بی کی طرح یوں ان کی موت سے “آئینہ” کی کہانی پھر سے دہرائی گئی!
موت سے کچھ اتنی بڑی حقیقت ہے اور فنا اور اہدیت کا ایسا احساس قائم کرتی ہے کہ عام دُنیوی وقت کا احساس بھلا دیتی ہے۔ گھنٹے،دن ماہ و سال کے لیے بیرونی وقت بے حقیقت بن جاتا ہے۔” ۴۱
ان کی خود نوشت میں موت کے بیان کا یہ اسلوب دیکھیے۔
“عائشہ خانم جنھیں ہم عاشو پھوپھی بلایا کرتے تھے۔ وہ اکثر ہمیں ۔۔۔۔۔ قیامت کے آثار اور روزِ حشر کے قصے سنایا کرتی تھیں کچھ ان کی باتیں ذہن میں رہ گئی تھیں اور قرآن شریف کے وہ حصے پڑھ کر جن میں قیامت خواب دیکھتی رہی۔۔۔۔۔ خوف کی کپکپی طاری ہے اورNightmarishکا ذکر ہے، میں مسلسل کئی دن تک قیامت کے
میں سجدہ ریزہ ہوگئی ہوں، عجب خدا ترسی کا عالم تھا۔ پھر اچانک یہ سب کچھ نظروں سے غائب ہوگیا اور ہر طرف نور ہی نور چھا گیا۔ مجھے احساس ہوا یہ نور الٰہی ہے۔ جو خیرہ کن ہونے کے باوجود انتہائی طمانیت بخش ہے۔ پھر برسوں بعد آج سے تین سال پہلے جب حقیقت میں میں نے موت کے اپنے بہت قریب محسوس کیا تھا۔ مجھے اس طمانیت بخش نور کی، اس نفسِ مطمئنہ کی جستجو تھی۔” ۴۲
اور زینت جہاں کے خطوط میں ۱۹۷۱ء کے بعد کے خطوط کے وہ حصے جب وہ اپنی بیماری، عزیزوں
سے دوری اور اپنی تنہائی کا ذکر کرتی ہیں تب بھی نفسِ مطمئنہ کی یہ جستجو ان کے اسلوب کا نمایاں حصہ ہی رہتی ہے۔ جس نے ان کے فن کو ایک مخصوص انفرادیت بخشی تھی۔ یہی انفرادیت ممتاز شیرین کی خطوط میں بھی نظر آتی ہے۔
حوالہ جات
۱۔ خطوطِ غالب، حصہ اول، مرتبہ خلیق انجم، نجمن ترقی اردو پاکستان ۱۹۹۲ء ص ۱۲۶، ۱۲۷
۲۔ ابوبکر عباد، “ممتاز شیرین ناقد، کہانی کار”، دہلی، ۲۰۰۶ء ص ۲۸۶
۳۔ ایضاً، ص ۲۹۱
۴۔ ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحٰمن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء مشمولہ “قومی زبان”، کراچی، اکتوبر ۱۹۹۲ء
ص ۱۹
۵۔ ممتاز شیرین بنام شاہد حمید مورخہ ۱۶ ستمبر ۱۹۵۰ء مشمولہ “محرابیں”، لاہور ۱۹۹۲ء ص ۱۵
۶۔ ممتاز شیرین بنام ضمیر الدین احمد بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۷
۷۔ متاز شیرین بنام نظیر صدیقی مورخہ ۲۹ جنوری ۱۹۶۳ء مشمولہ “نامے جو میرے نام آئے”، مرتبہ مصطفٰی
راہی، اشاعتِ ادب، روال پنڈی، ۱۹۸۴ء ص ۲۱۳
۸۔ ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء “مشمولہ “قومی زبان”، کراچی، اکتوبر ۱۹۹۲ء
ص ۱۹
۹۔ ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۹
۱۰۔ ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء “مشمولہ قومی زبان”، اکتوبر ۱۹۹۲ء ص ۱۸
۱۱۔ ممتاز شیرین بنام محمود ایز بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۹
۱۲۔ ممتاز شیرین بنام محمود ایز بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۹
۱۳۔ ممتاز شیرین بنام محمود ایاز مورخہ ۹ مئی ۱۹۶۳ء مشمون “سوغات”، بنگلور، شمارہ نمبر ۳، ۱۹۹۲ء ص
۳۱۹
۱۴۔ ممتاز شیرین بنام زینت جہاں مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۶۳ء مشمولہ “قند” مردان، ممتاز شیریں نمبر، ستمبر،
اکتوبر ۱۹۷۳ء ص ۱۱۳
۱۵۔ ممتاز شیرین بنام اوپندرناتھ اشک، بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۹۱
۱۶۔ ممتاز شیرین بنام محمد طفیل مورخہ ۱۲ اپریل ۱۹۵۰، مشمولہ “تحقیق نام” شعبہ اردو، جی،سی یونیورسٹی،
لاہور شمارہ ۲۰۰۵ء ۲۰۰۶ ء ص ۳۴۸
۱۷۔ ایضاً، مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۵۱ء ص ۳۵۰
۱۸۔ ایضاً، مورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۵۲ء ص ۳۵۲
۱۹۔ ایضاً، مورخہ فروری ۱۹۵۵ء ص ۳۵۹
۲۰۔ ایضاً، ص ۳۶۰
۲۱۔ ایضاً، مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۵۵ء ص ۳۶۴
۲۲۔ ایضاً، مورخہ ۲۲ اکتوبر ۱۹۵۶ء ص ۳۶۴
۲۳۔ ایضاً مورخہ ۲۳ اپریل ۱۹۵۷ء ص ۳۶۸
۲۴۔ ایضاً مورخہ ۱۰ جون ۱۹۵۹ء ص ۳۷۳
۲۵۔ ایضاً مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۶۲ء ص ۳۷۵، ۳۷۶
۲۶۔ ایضاً مورخہ ۱۸ جنوری ۱۹۶۴ء ص ۳۸۴
۲۷۔ ابوبکر عباد، ص ۲۹۱
۲۸۔ ممتاز شیرین بنام زینت جہاں مورخہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۶۳ء مشمولہ “قند” ، ممتاز شیرین نمبر، ص ۱۱۴
۲۹۔ ایضاً، مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۶۴ء ص ۱۱۴، ۱۱۵
۳۰۔ ایضاً، س ں، ص ۱۱۸
۳۱۔ ایضاً
۳۲۔ ایضاً مورخہ ۷ مارچ ۱۹۶۵ء ص ۱۱۷
۳۳۔ ایضاً مورخہ ۸ اکتوبر ۱۹۶۶ء ۱۱۹
۳۴۔ ایضاً مورخہ ۱۳ اکتوبر ۱۹۶۳ء ۱۱۴
۳۵۔ ایضاً مورخہ ۷ اپریل ۱۹۶۷ء ص ۱۲۱
۳۶۔ ایضاً مورخہ ۱۹ اپریل ۱۹۶۹ء ص ۱۲۳
۳۷۔ ایضاً مورخہ ۲۳ اگست ۱۹۷۱ء ص ۱۲۷
۳۸۔ ایضاً
۳۹۔ ابوبکر عباد، ص ۲۹۵
۴۰۔ ممتاز شیرین، “مشرق و مغرب کے درمیان” (غیر مطبوعہ)، مخزونہ ذاتی کاغزات
۴۱۔ ممتازشیرین رین بنام محمد طفیل مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۵۷ء، مشمولہ “تحقیق نامہ”، ص ۳۷۰
۴۲۔ ممتاز شیرین “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے”، مشمولہ “قند”، ممتاز شیرین نمبر، ص ۱۰۶
کتابیات
۱۔ ابوبکر عباد،:ممتاز شیرین ناقد، کہانی کار” دہلی، ۲۰۰۶ء
۲۔ غالب، “خطوطِ غالب”، حصہ اول، مرتبہ خلیق انجم، نجمن رقی اُردو پاکستان، ۱۹۹۲ء
۳۔ نظیر صدیقی، “نامے جو میرے نام آئے”، مرتبہ مصطفٰی راہی، اشاعتِ ادب، راول پنڈی، ۱۹۸۴ء
۴۔ ممتاز شیرین، “مشرق و مغرب کے درمیان” (غیر مطبوعہ)، مخزونہ لبنٰی شاہین صاحبہ کراچی
۵۔ ممتاز شیرین، “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے”، مشمولہ “قند”، ممتاز شیرین نمبر ستمبر، اکگوبر ۱۹۷۳ء
۶۔ ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء، مشمولہ “قومی زبان”، کراچی، اکتوبر ۱۹۹۲ء
۷۔ ممتاز شیرین بنام شاہد حمید مورخہ ۱۶ ستمبر ۱۹۵۰ء مشمولہ “سوغات”، بنگلور، شمارہ نمبر ۳، ۱۹۹۲ء
۸۔ ممتاز شیرین بنام محمود ایاز مورخہ ۹ مئی ۱۹۶۳ء مشمولہ “سوغات”، بنگلور،شمارہ نمبر ۳، ۱۹۹۲ء۔ؤ
۹۔ ممتاز شیرین بنام زینت جہاں (مکاتیب) مشمولہ “قند” مردان، ممتاز شیرین نمبر، ستمبر، اکتوبر ۱۹۷۳ء
۱۰۔ ممتاز شیرین بنام محمد طفیل (مکاتیب) مشمولہ “تحقیق نامہ”، شعبہ اُردو، ج۔ سی یونیورسٹی، لاہور، شمارہ ۲۰۰۵ء ۲۰۰۶ء
Intekhab E Kalam Jigar Muradabadi
Articles
انتخابِ کلام جگر مراد آبادی
جگر مراد آبادی
1
نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
ہم اُن میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں
شروعِ راہِ محبت، ارے معاذ اللہ
یہ حال ہے کہ قدم ڈگمگائے جاتے ہیں
یہ نازِ حسن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کر
نظر ملاتے نہیں، مسکرائے جاتے ہیں
مرے جنون تمنا کا کچھ خیال نہیں
لجائے جاتے ہیں، دامن چھڑائے جاتے ہیں
جو دل سے اُٹھتے ہیں شعلے وہ رنگ بن بن کر
تمام منظر فطرت پہ چھائے جاتے ہیں
میں اپنی آہ کے صدقے کہ میری آہ میں بھی
تری نگاہ کے انداز پائے جاتے ہیں
رواں رواں لئے جاتی ہے آرزوئے وصال
کشاں کشاں ترے نزدیک آئے جاتے ہیں
کہاں منازلِ ہستی، کہاں ہم اہلِ فنا
ابھی کچھ اور یہ تہمت اُٹھائے جاتے ہیں
مری طلب بھی اسی کے کرم کا صدقہ ہے
قدم یہ اُٹھتے نہیں ہیں اُٹھائے جاتے ہیں
الہٰی ترکِ محبت بھی کیا محبت ہے
بھلاتے ہیں انہیں، وہ یاد آئے جاتے ہیں
سنائے تھے لب ِ نے سے کسی نے جو نغمے
لبِ جگر سے مکرر سنائے جاتے ہیں
2
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد
میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد
شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد
چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے
اب تک ہے وہ اک نغمۂ بے ساز و صدا یاد
کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤں
کیجیے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد
جب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرمِ نوازش
اس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد
کیا جانیے کیا ہو گیا ارباب جنوں کو
مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد
میں ترکِ رہ و رسمِ جنوں کر ہی چکا تھا
کیوں آ گئی ایسے میں تری لغزشِ پا یاد
مدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو لیکن
اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد
3
یہ مصرع کاش نقشِ ہر در و دیوار ہو جائے
جسے جینا ہو ، مرنے کے لئے تیار ہو جائے
وہی مے خوار ہے ، جو اس طرح مے خوار ہو جائے
کہ شیشہ توڑ دے اور بے پئے سرشار ہو جائے
دلِ انساں اگر شائستہ اسرار ہو جائے
لبِ خاموشِ فطرت ہی لبِ گفتار ہو جائے
ہر اک بےکار سی ہستی بہ روئے کار ہو جائے
جنوں کی رُوحِ خوابیدہ اگر بیدار ہو جائے
سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اُسے بے پردہ دیکھے گی
مجھے ڈر ہے ، نہ توہین جمالِ یار ہو جائے
حریم ناز میں اس کی رسائی ہو تو کیوں کر ہو ؟
کہ جو آسودہ زیر سایۂ دیوار ہو جائے ؟
معاذ اللہ ، اس کی وارداتِ غم ، معاذ اللہ
چمن جس کا وطن ہو ، اور چمن بیزار ہو جائے
یہی ہے زندگی تو زندگی سے خودکشی اچھی
کہ انساں عالمِ انسانیت پر بار ہو جائے
اک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھرتھرا اُٹھے
نظر تلوار بن جائے ، نفس جھنکار ہو جائے
یہ روز و شب ، یہ صبح و شام ، یہ بستی ، یہ ویرانہ
سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے
4
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا
لہروں سے کھیلتا ہوا، لہرا کے پی گیا
بے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیا
توبہ کو توبہ تاڑ کے، تھرا کے پی گیا
زاہد، یہ میری شوخیِ رندانہ دیکھنا!
رحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا
سر مستیِ ازل مجھے جب یاد آ گئی
دنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیا
آزردگیِخاطرِ ساقی کو دیکھ کر
مجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیا
اے رحمتِ تمام! مری ہر خطا معاف
میں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا
پیتا بغیرِ اذن، یہ کب تھی مری مجال
در پردہ چشمِ یار کی شہ پا کے پی گیا
اس جانِ مے کدہ کی قسم، بارہا جگر!
کل عالمِ بسیط پہ میں چھا کے پی گیا
5
جہلِ خرد نے دن یہ دکھائے
گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے
ہائے وہ کیونکر دل بہلائے
غم بھی جس کو راس نہ آئے
ضد پر عشق اگر آ جائے
پانی چھڑکے، آگ لگائے
دل پہ کچھ ایسا وقت پڑا ہے
بھاگے لیکن راہ نہ پائے
کیسا مجاز اور کیسی حقیقت؟
اپنے ہی جلوے، اپنے ہی سائے
جھوٹی ہے ہر ایک مسرت
روح اگر تسکین نہ پائے
کارِ زمانہ جتنا جتنا
بنتا جائے، بگڑتا جائے
ضبط محبت، شرطِ محبت
جی ہے کہ ظالم امڈا آئے
حسن وہی ہے حسن جو ظالم
ہاتھ لگائے ہاتھ نہ آئے
نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو
روح سنے اور روح سنائے
راہِ جنوں آسان ہوئی ہے
زلف و مژہ کے سائے سائے
6
آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے
وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے
آج کیا بات ہے کہ پھولوں کا
رنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے
مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا
ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے
کاروبار جہاں سنوارتے ہیں
ہوش جب بے خودی سے ملتا ہے
7
دل میں کِسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میں
کِتنا حسیں گناہ کیے جا رہا ہوں میں
دنیائے دل تباہ کئے جا رہا ہوں میں
صرفِ نگاہ و آہ کیے جا رہا ہوں میں
فردِ عمل سیاہ کیے جا رہا ہوں میں
رحمت کو بے پناہ کیے جا رہا ہوں میں
ایسی بھی اک نگاہ کیے جا رہا ہوں میں
ذروں کو مہر و ماہ کیے جا رہا ہوں میں
مجھ سے لگے ہیں عِشق کی عظمت کو چار چاند
خود حُسن کو گواہ کیے جا رہا ہوں میں
دفتر ہے ایک معنیِ بے لفظ و صوت کا
سادہ سی اک نگاہ کیے جا رہا ہوں میں
آگے قدم بڑھائیں ، جنہیں سوجھتا نہیں
روشن چراغِ راہ کیے جا رہا ہوں میں
معصومیِ جمال کو بھی جن پہ رشک ہے
ایسے بھی کچھ گناہ کیے جا رہا ہوں میں
تنقیدِ حسنِ مصلحت ِ خاصِ عشق ہے
یہ جرم گاہ گاہ کیے جا رہا ہوں میں
اٹھتی نہیں ہے آنکھ مگر اس کے رو برو
نادیدہ اک نگاہ کیے جا رہا ہوں میں
گُلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز
کانٹوں سے بھی نِباہ کیے جا رہا ہوں میں
یُوں زندگی گزار رہا ہوں میں تیرے بغیر!
جیسے کوئی گُناہ کیے جا رہا ہوں میں
مجھ سے اَدا ہوا ہے جگر جستجو کا حق
ہر ذرّے کو گواہ کیے جا رہا ہوں میں
8
ہم کو مٹا سکے ، یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے ، زمانے سے ہم نہیں
بے فائدہ الم نہیں ، بے کار غم نہیں
توفیق دے خُدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں
میری زباں پہ شکوہَ اہلِ ستم نہیں
مجھ کو جگا دیا ، یہی احسان کم نہیں
یارب ہجومِ درد کو دے اور وسعتیں
دامن تو کیا ابھی ، میری آنکھیں بھی نم نہیں
شکوہ تو ایک چھیڑ ہے ، لیکن حقیقتاً
تیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں
اب عشق اس مقام پہ ہے جستجو نورد
سایہ نہیں جہاں، کوئی نقشِ قدم نہیں
ملتا ہے کیوں مزہ ستم، روزگار میں! !
تیرا کرم بھی خود جو شریک ِ سفر نہیں
زاہد کچھ اور ہو نہ ہو مے خانے میں مگر
کیا کم یہ ہے کہ فتنۂ دیر و حرم نہیں
مرگِ جگر پر کیوں تیری آنکھیں ہیں اشک ریز؟
اک سانحہ سہی، مگر اتنا اہم نہیں
9
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے، وہی فاتح زمانہ
یہ ترا جمالِ کامل، یہ شباب کا زمانہ
دلِ دشمناں سلامت، دلِ دوستاں نشانہ
کبھی حسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہ
وہی نازِ بے نیازی، وہی شانِ خُسروانہ
میں ہوں اس مقام پر اب کہ فراق و وصل کیسے؟
مرا عشق بھی کہانی، ترا حسن بھی فسانہ
مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے
مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہئیے بہانہ
ترے عشق کی کرامت، یہ اگر نہیں تو کیا ہے
کبھی بے ادب نہ گزرا مرے پاس سے زمانہ
تری دُوری و حضوری کا عجیب ہے یہ عالم
ابھی زندگی حقیقت، ابھی زندگی فسانہ
مرے ہم صفیر بلبل، مرا تیرا ساتھ ہی کیا
میں ضمیرِ دشت و دریا، تو اسیرِ آشیانہ
میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں ، ہے جو فرق مجھ میں تجھ میں
ترا درد دردِ تنہا ، مرا غم غمِ زمانہ
ترے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیا!
تجھے اے جگر! مبارک یہ شکستِ فاتحانہ
10
لالہ و گل کو دیکھتے کیا یہ بہار دیکھ کر
رہ گئے بےخودی میں ہم صورتِ یار دیکھ کر
ہائے، وہ جوش ربط و ضبط، ہائے، یہ لاتعلقی!
اشک بھر آئے آنکھ میں کوچۂ یار دیکھ کر
یاد کسی کی آہ، کیا کہہ گئی آ کے کان میں
زورِ جنوں سوا ہوا جوشِ بہار دیکھ کر
شوق نے چٹکیاں سی لیں،حسرتِ دل مچل گئی
میری طرف بڑھا ہوا دامنِ یار دیکھ کر
ان سے بھی ہو سکا نہ ضبط، ان کو بھی رحم آ گیا
پائے برہنہ دیکھ کر، جسمِ فگار دیکھ کر
تھی یہ ہوس کہ دیکھتے خال و خط بہارِ حسن
آنکھیں ہی چوندھیا گئیں جلوۂ یار دیکھ کر
————————
problems of Urdu teaching at University Level
Articles
یونیورسٹی سطح پر اردو تدریس کے مسائل
سیّد اقبال
ہم بڑے خوش نصیب ہیں کہ ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہماری زندگی اپنی پچھلی نسل سے قدرے بہتر ہے۔ ہم بہتر گھروں میں رہتے ہیں، اُن سے بہتر کھانا ہمیں نصیب ہے، اُن سے بہتر کپڑے میّسر ہیں اور ہماری تنخواہیں بھی اُن کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ پچھلے پچاس برسوں کے مقابلے میں تعلیم آج کہیں زیادہ عام ہے۔حکمت کا نظام بھی قدرے بہتر ہوچلا ہے اور ہم اپنے پرکھوں کے مقابلے میں دس پندرہ سال زیادہ جی رہے ہیں،مواصلاتی نظام تو اِس قدر ترقی کرگیا ہے کہ گھر بیٹھے ہم جس سے چاہیں اور جب چاہیں منٹوں میں گفتگو کر سکتے ہیں، انٹرنیٹ نے دنیا ہماری گود میں ڈال دی ہے اور سارے عالم کی ہر طرح کی معلومات صرف ایک بٹن دباتے ہی اسکرین پر نمودار ہو جاتی ہے۔ یہی نہیں ہم اتنے پُرامن حالات میں جی رہے ہیں کہ ہمیں آزادی¿ تحریر اور آزادی¿ تقریر کا احساس تک نہیں ہوا۔اس کے باوجود ہم نہایت بدنصیب بھی ہیں کہ اب ہمیں ایک ایسے دور میں جینا پڑ رہا ہے جہاں معیشت کی حکمرانی ہے اور بازار ہماری زندگی کی کہانی لکھتے ہیں ۔سیاسی خداﺅں نے ٹکنالوجی کی مدد سے ہماری ذاتی زندگی کو ریکارڈ کرنا شروع کردیا ہے۔ لہذا کسی حکومت کے لیے صرف ایک بٹن دبا کر اس کے شہری کی پوری زندگی ، اس کی مالی حالت، اس کا بینک اکاﺅنٹ، اُس کے تعلقات، اُس کی ذاتی اہلیت، اُس کی پسندنا پسند ، یہاں تک کہ اُس کی بیماریاں اور ماضی میں کئے گئے سارے انکار کی تفصیل رکھنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ایک طرف مشینوں نے ہمیں فارغ اوقات کی نعمتوں سے نوازا ہے،دوسری طرف جرائم اور خودکشی کی شرح بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ انسانی تعلقات میں اتنی دراڑیں پیدا ہوگئی ہیں کہ پچاس سال میں اُن کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ خاندانی نظام تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا ہی تھا، ملٹی نیشنل کارپوریشن نے ہماری روایتی ہنر مندی اور چھوٹے چھوٹے فنکاروں کی روزی پر بھی قدغن لگادی ہے۔تعلیم کا حصول بھی عام ہوا ہے اور نت نئے کورسیس بھی متعارف ہوئے ہیں۔ مگر اِن تعلیمی اداروں سے علم اور ذوق و شوق غائب ہوگئے ہیں ۔ طلباءکو ڈگریاں تو درکار ہیں مگر اُس کے لئے جو محنت اور عرق ریزی درکار ہے آج مفقود ہے۔علم فن کا عروج کیا ہوتا ہے اور اُسے حاصل کرنے کے لئے کتنی تگ ودو کرنی ہوتی ہے اُس سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی ۔ آج اخلاقیات باقی ہے نہ خیر خواہی، باقی ہے تو صرف مادی ترقی مادی ترقی کی زبردست خواہش ، اور جوابدہی کے تصور سے عاری ایک ایسی زندگی جہاں ایک فرد کی اپنی حیثیت اہم ہے نہ کہ معاشرے کی اہمیت اور ترقی ۔ ظاہر ہے جس معاشرے میں بازار اہم ہو چکے ہوں ، وہاں اخلاقیات، فلسفہ ، سماجی علوم اور زبان و ادب کی اہمیت کیا ہوگی۔اس لئے ہمیں زبان و ادب کی تدریس کے مسائل پر اگر بحث کرنی بھی ہے تو موجودہ معاشرے کے تناظر میں دیکھنا ہوگا، جہاں نصاب سے لیکر اساتذہ کا تقرر اور تحقیق کا کام، طلباءکی ذہنی صلاحیتیں ، معاشرے کے انھیں عوامل سے جڑی ہوئی ہیں۔وہ عوامل جو ہمارے لئے آئیڈیل یا کتابی نہیں رہے ۔یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے کالیجز اور یونیورسٹیوں میں ان موضوعات پر سمینار اور ورکشاپ ہوتے رہیں گے(اور ہم اُن کے حل تلاش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہیں گے) شاید اس لئے کہ ان عنوانات پر سمینار اور ورکشاپ منعقد کرنا صدر شعبہ کی محض ذمّہ داری ہے اور مجھ ایسے کم علم کو اور نا اہل کو اُن عنوانات پر بولنے کی دعوت دینا ، اُن کی مجبوری ۔ سچ تو یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ہمیں بھی کچھ نہ کچھ بولنے کی عادت ہو چلی ہے ہاں یہ دعا ضرور کرتے ہیں کہ “کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی”
جہاں تک نصاب کا تعلق ہے اُس کی تیاری ایک بورڈ یا کمیٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جس میں اکثر و بیشتر وہی اساتذہ ہوتے ہیں جو برسہا برس سے کالجوں یا یونیورسٹیوں میں اردو پڑھا رہے ہیں ۔انھیں خوب اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے نصاب میں کیا کمی تھی جو اِس بار انھیں دور کرنی چاہئے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ پچھلا نصاب پڑھاتے وقت طلباءکا رسپانس(response) کیا تھا۔اور خود انھیں کتنی پریشانیاں اٹھانی پڑی تھیں۔لہذا ایک خاموش سمجھوتے کے تحت بورڈ کے ممبران عموماً ایسا نصاب تیار کرتے ہیں جس کو پڑھانے میں انھیں زیادہ دشواری نہ ہواور اُن عنوانات پر ایک یا دو کتابیں بآسانی دستیاب ہوں۔ غرض نصاب بنانے میں فوکس(focus) استاد ہوتا ہے، نہ طالبِ علم۔ بالفاظ دیگر اپنی تساہلی اور مواد کی دستیابی ایسے نصاب کی سب سے اہم ترجیح ہوا کرتی ہے۔اور یہ تیاری بھی اتنی رواروی میں کی جاتی ہے کہ لگتا ہے موصوف نے میٹنگ سے ایک دن قبل ہی اس کا ڈرافٹ تیار کیا تھا۔اور کالج یا یونیورسٹی کی لائبریری سے مطلوبہ کتابیں حاصل کر کے اُن کی فہرست سے نصاب کے لئے عنوانات تجویز کر لئے تھے ۔ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ سارے کالجوں اور شعبہ کے سارے اساتذہ کے مشورے سے نصاب تیار کیا جائے۔اور یہ تو بہت کم ہوتا ہے کہ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں کے نصاب کو سامنے رکھ کر اپنا نصاب تیار کیا جائے۔ نتیجتاً نثر و نظم پڑھانے کے نام پر کسی شاعر اور ایک ناول نگار کو منتخب کرلیا اور شاعر کی دس بیس نظمیں اور ناول نگار کا ایک یا دو مشہور ناول تجویز کردیا۔ یہی حال کلاسیکی ادب کا ہوتا ہے۔ایک کلاسیکی شاعر اور کلاسیکی نثر و نگار غرض نصاب اس قدر مختصر ہوتا ہے کہ اگر کوئی سنجیدہ ، ایماندار اور صاحبِ علم استاد اُس ایک پرچے کو پڑھانا چاہے تو بڑی آسانی سے اُسے تین ماہ میں ختم کر سکتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہم اپنی سہولت کی خاطر طلباءکو ادب کے ایک بڑے حصّہ سے محروم کردیتے ہیں ۔ وہ اگر غالب کا مطالعہ کرتے ہیں تو میر اور اقبال سے محروم ہوجاتے ہیں اور سردار جعفری کو پڑھ لیں تو فیض اور فراق سے متعارف نہیں ہو پاتے۔نظیر اوراکبر کا ذکر کیا کریں اسی طرح طلباءکی کثیرتعدادمنٹو، عصمت ،بیدی اور قرة العین حیدر کے نام تو جانتی ہی ہے ، مگر ان کی ادبی قدرو قیمت سے واقف نہیں ہو پاتی ۔ کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کہ آج ایسے اساتذہ کا فقدان ہے جو کسی ایک ادیب کو پڑھانے سے قبل اردو فکشن کا احاطہ کرتے ہوئے سارے اہم ادیبوں سے طلباءکو متعارف کراتے ہیں۔ نہ ہی ایسے پڑھے لکھے اساتذہ نظر آتے ہیں جنھوں نے اردو شاعری کا عمیق مطالعہ کیا ہو۔ لکھنﺅ اور دہلی اسکول کی خوبیوں کے ساتھ ترقی پسند اور جدید شعراءکی منظومات سے بھی طلباءکو متعارف کراسکیں۔ یہاں تک کہ ایک یونیورسٹی نے بڑی خاموشی سے اپنے نصاب سے علامہ اقبال کو حذف کردیا ہے کہ اُن کے کلام کو پڑھانے والے اساتذہ مل نہیں پائے۔ شاید آپ اِس پر بھی یقین نہ کریں مگر اب شاید ہی کسی یونیورسٹی کے نصاب میں قصیدہ شامل ہو۔یہ اور بات ہے کہ اردو والے اپنے آقاﺅں کی قصیدہ خوانی میں دن رات لگے رہتے ہیں۔
اِس ضمن میں ایک اور بات قابلِ غور ہے ، ہم اردو طالبِ علموں کی محدود سوچ کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے محبوب دائروں سے باہر نہیں نکل پاتے، کبھی غزلیں پکڑ لیتی ہیں تو کبھی کوئی خوبصورت کہانی پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتی ہیں ۔ جبکہ عالم کاری کے اِس زمانے میں ضرورت ہے کہ ہم دیگر علوم کے سے بھی کما حقہ واقفیت حاصل کریں ۔ ہندوستان کی مختلف IIT میں انجنیئرنگ کے کورسیز کے ساتھ Humanities کا کورس بھی پڑھایا جانا چا ہیے تا کہ ایک انجنیئرکو یہ علم ہوسکے کہ انسانی سماج کیسے بنتے بگڑتے ہیں اور عالمی سیاسی بساط پر کیا کچھ ہو رہا ہے۔کیا ہم یونیورسٹی کی سطح پر اپنے نصاب میں سماجی علوم کا ایک پرچہ رکھ کر اپنے طلباءکے ذہنی افق کو وا نہیں کر سکتے؟اسی طرح ہم اردو کے قواعد اور مضمون نویسی کے پرچے میں ترجمے کا چاہے وہ دس بیس نمبر کا ہی ہو ایک سوال ضرور رکھتے ہیں ۔ وہ اساتذہ جو انگریزی میں مہارت رکھتے ہیں وہ ترجمے کے فن سے طلباءکو کو متعارف بھی کراتے ہیں ۔مگر کیا ایک یا دو سوالوں کا حل کردینا بچوں کو انگریزی زبان سے واقف کرا پاتا ہے۔کیوں نہ ہم یونیورسٹی کی سطح پر طلباءکو انگریزی کا ایک باقاعدہ نصاب پڑھائیں یا انھیں انگریزی زبان کے ساتھ ادب کے اہم شہ پاروں کے متعارف کرائیں تا کہ جب یہ ڈگریاں لیکر نکلیں تو آج طاقت کی سب سے بڑی زبان سے اُن کی شناسائی تو ہو۔جواہر لال یونیورسٹی کے ڈاکٹر نامور سنگھ نے اپنی نوعیت کا ایک انوکھا تجربہ کیا تھا۔انھوں نے پوسٹ گریجویشن کی سطح پر ہندی کے طلباءکواردو اور اردو طلباءکو ہندی کے ایک ایک پرچے سے متعارف کرایا تھا تاکہ اِس بہانے وہ ایکدوسرے کے ادب سے واقف ہوں اور یوں زبان کی سطح پر سہی دو مختلف زبان کے طلباءکی دوریاں کچھ کم ہو سکیں ۔
سچی بات تو یہ ہے کہ آپ چاہے کتنا ہی اعلیٰ اور معیاری نصاب بنالیں مگر اُسے پڑھانے والا اچھا استاد میسّر نہ ہو، تو پھر بھی وہ نصاب نرا نصاب ہی رہ جاتا ہے۔ بلکہ اکثر صورتوں میں ایک غیر معیاری ا ستاد اُس کاناس مار دیتا ہے ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک اچھے استاد نے ایک معمولی نصاب کو اتنا دلچسپ بنا کر پڑھایا کہ طلباءکی دلچسپی کورس کے خاتمے تک باقی رہی۔ غرض زبان و ادب کے پڑھانے کے لئے ایک اچھا استاد بے حد ضروری ہے کیوں کہ وہ صرف نصاب ہی نہیں پڑھاتا زبان کی باریکیوں سے روشناس کراتا ہے اور اپنے طلباءکو ذوقِ سلیم کی اس دولت سے نوازتا ہے جس کے سہارے وہ زندگی بھر دنیائے ادب کے سفر سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ان کی تدریسی صلاحیتیں ہمارے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہےتو ہمیں تھوڑی دیر رک کر اپنے آپ سے یہ پوچھنا چاہئے کہ آخر ان کم نصیبوں کو کس نے پڑھایا تھا۔ کیا ان کے اساتذہ واقعی قد آور اساتذہ تھے ۔ کیا وہ علم و ادب سکھانے کے جنون میں مبتلا تھے؟ کیا ادب ان کا اوڑھنا بچھونا تھا؟کیا اپنے طلبا کی تربیت میں وہ دل و جان سے مصروف تھے؟ اگر اُن کے اساتذہ بھی معمولی صلاحیتوں کے افراد تھے تو پھر اُن کی اہلیت کا شکوہ کیوں کریں۔ در اصل آج اساتذہ کی وہ کھیپ ناپید ہے جن کے لئے زبان و ادب پڑھانا زندگی کا واحد مقصد ہوا کرتا تھا۔جو اپنی ساری زندگی ادب کے مطالعہ، علمی تحقیقی کام اور اپنے شاگردوں کی تربیت میں صرف کردیتے تھے۔ یہ اساتذہ اُن گھرانوں سے آئے تھے جہاں تہذیبی قدریں زندہ تھیں جہاں مادی آسائشوں اور نام و نمود کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔اِس لئے ساٹھ اور ستر کی دہائی تک آپ کو اردو کے ایسے اساتذہ کے نام سنائی پڑتے ہیں جو اپنے شعبوں کی شناخت تھے۔ علی گڑھ میں رشید احمد صدیقی ، خورشیدالاسلام، مسعود حسین خان، دہلی میں خواجہ احمد فاروقی، الہ باد میں اعجاز حسین ، احتشام حسین، ممبئی میں نجیب اشرف ندوی ظہیرالدین مدنی، عالی جعفری وغیرہ۔پھر زمانے نے کروٹ بدلی اور علم و تعلیم کا زوال شروع ہوا، اداروں کو گُھن لگنے لگی اور تہذیبی قدریں مدھم پڑتی گئیں ۔ لہذا بعد کی کھیپ جو آئی وہ پچھلی کھیپ سے کمتر نکلی ۔ پھر تو جو سلسلہ شروع ہوا تو علم تعلیم کے زوال کے ساتھ ساتھ دانشوری کی روایت بھی زوال پذیر ہوئی اور اساتذہ کی تقرری میں وہ سارے عوامل کام کرنے لگے جن کا تعلق کسی طورعلم و تعلیم سے نہیں تھا۔ کہیں سفارش کا سکّہ چلا تو کہیں کسی سیاسی قائد کا دباﺅ بڑھا، کہیں کسی شاگرد کو وفاداری کا صلہ دیا گیا۔تو کہیں علاقائیت کو مستحکم کیا گیا۔in-breeding کی اصلاح کا ذکر کیا کریں اقرباءپروری اور دوست نوازی نے بھی اردو کے شعبوں کو نہیں بخشا۔غرض حال یہ ہوا کہ تقرر کرنے والا تو پستہ قد تھا ہی ،جس کا تقرر کیا گیا وہ اُس سے بھی کوتاہ قد تھا۔ہارورڈ یونیورسٹی میں آج بھی جب کوئی اسامی خالی ہوتی ہے اُس کے لئے عالمی سطح پر تلاش شروع کردیتے ہیں ۔ کنیڈا کی ایک یونیورسٹی میں لکچرر شپ کے لئے وہاں کے صدر شعبہ نے ممبئی کے ایک پی۔ایچ۔ڈی کے طالبِ علم کو دعوت دی تھی۔صرف اس لئے کہ اس طالبِ علم کی پی۔ایچ۔ڈی کا مقالہ صدر موصوف نے پڑھا تھااور حیران تھے کہ اِس صاحبزادے نے اتنا معیاری مقالہ کیسے لکھ لیا۔ہمارے یہاں جب آپ شعبہ میں ایک بار داخل ہو جائیں تو پھر آپ ہر طرح کے امتحان سے بری ہو جاتے ہیں جبکہ غیر ملکی یونیورسٹیوں میں آج بھی اساتذہ کو صرف ایک سال کا کنٹریکٹ دیا جاتا ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کا باقاعدہ تجزیہ کرکے جس میں صدر شعبہ کی رائے، رفقائے کار کی رائے اور طلبا کی آراءاور پھر استاد کے علمی کاموں کی جانچ کے بعد ہی استاد محترم کو ان کے منصب پر باقی رکھا جاتا ہے۔ہم اِس طرح کا کوئی اصول بنائیں تو اساتذہ کی یونین ایک ہنگامہ کھڑا کردے گی۔ لہذا نا اہل سے نا اہل امیدوار بھی کالج یا یونیورسٹی کی لکچرر شپ کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے کیوں کہ اسے پتہ ہے،ایک بار اُسے تقرری کا پروانہ مل گیا پھر دنیا کی کوئی طاقت اُسے مات نہیں دے سکتی۔اب وہ سماج میں اونچے منصب پر فائز ہوگا اور چھٹے پے کمیشن کے حساب سے اچھی خاصی تنخواہ پائے گا۔ رہا پڑھنا پڑھانا ، تو نصاب ہی تو پڑھانا ہے کچھ نوٹس بنا لیں گے اور کچھ سابق طالبِ علموں سے لے لیں گے کچھ نہیں بن پڑا تو پوری کتاب زیروکس کرالیں گے۔اس دوران صدر شعبہ یا پرنسپال صاحب سے پینگیں بڑھنے لگیں تب تو سارے کام آسان ہو جائیں گے، اور کسی سے مقابلہ تو کرنا ہے نہیں ، خود کو بہتر کرنے کا جذبہ بھی عرصہ پہلے سرد ہوچکا ہے، ہاں اپنے jobکو permanent کرنے کے لئے جو لازمی قابلیت درکار ہوتی ہے جیسے orientation کورسیز اور ریفریشر کورسیز وغیرہ وہ بھی اب routine بن چکا ہے۔ اور ہر لیکچرر دیر سویر مکمل کرہی لیتا ہے۔رہی سمیناروں اور کانفرنسوں میں شرکت ، تو یہ آپ حضرات سے کہنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ مرحلے بھی بڑی آسانی سے طے ہوجاتے ہیں
ہوتے نہ لیکچرر تو کئی لوگ جعفری
ساحل پہ بیچتے کہیں چھولے دہی بڑے
رہے ہمارے اساتذہ کے تحقیقی کام تو اس پر کچھ کہتے شرم آتی ہے۔کالج ہوں یا یونیورسٹی ،اردو کے شعبوں کی پی۔ایچ۔ڈی کی علمی دنیا میں کوئی وقت نہیں رہی پچھلے بیس پچیس برسوں میں اکادکا کوئی تحقیقی کام ہوگا جس نے اردو دنیا پر اپنے اثرات چھوڑے ہوں۔ورنہ یہ ایسی مشق ہو چکی ہے کہ آپ کا گائڈ آپ کے مقالے کو یہاں وہاں سے دیکھ کر یونیورسٹی میں پیش کردیتا ہے اور اپنے دوست ممتحن کو مطلع کردیتا ہے کہ بھائی مع اہل و عیال ہمارے شہر تشریف لے آئیے میرا شاگرد آپ کی مہمان نوازی کے لئے بے تاب ہے۔اب یہ لیکچرر صاحب کی ذمہ داری ہے کہ ممتحن صاحب کی آﺅ بھگت کریں ، اُن کے آرام کا خیال رکھیں انھیں اسٹیشن یا ائیرپورٹ لینے اور چھوڑنے جائیں اور انھیں یہ باور کرادیں کہ ان سے زیادہ پڑھا لکھا شخص اس قطعہءارض پر ابھی تک پیدا نہیں ہوا، مزید یہ کہ آپ نے ان کی ساری کتابیں اور مقالے پڑھ رکھے ہیں اور اپنے لکچرس میں صرف اُن سے ہی استفادہ کرتے ہیں۔ غرض یہ ڈرامہ اتنی پابندی اور اس مہارت سے کھیلا جاتا ہے کہ اب ہر مقالہ نگار کو پتہ ہے کہ اُسے اپنے گائڈ اور مہمان ممتحن کو ان کی محنت کا کتنا صلہ دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ کے مقالے یونیورسٹی لائبریریوں کے کسی کونے میں ڈال دئیے جاتے ہیں اور وہ خود بھی کالج یا یونیورسٹی کے رجسٹرار کو اُس کی رسید دے کر بھول جاتے ہیں کہ انھوں نے بھی کبھی کوئی علمی کارنامہ انجام دیا تھا۔ہاں اب یہ بات بھی کوئی راز نہیں رہ گئی کہ ایسے Ghost رائٹر بھی موجود ہیں جو مناسب حقِ محنت پر آپ کو مقالہ لکھ کر دیں گے۔ ظاہر ہے جب یونیورسٹی کا سارا نظام کرپٹ ہوچکا ہو وہاں شاطر قسم کے افراد کے لئے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری کا حصول کوئی مشکل کام نہیں رہ جاتا۔ چونکہ اردو والوں کے ہاں ایسا کوئی میکانزم بھی نہیں ہے جو آزادانہ طور پر ان مقالوں کی علمی حثیت جانچ سکے۔اس لئے ان مقالوں کی اکثریت صرف پی۔ایچ۔ڈی کی لازمی قابلیت کی خانہ پُری کے کام آتی ہے جس سے تنخواہ میں اضافہ مقصود ہوتا ہے اور بس۔
مختصراً یہ کہ اردو اساتذہ میں علم کے حصول کی خواہش نہیں رہ گئی ہے اور اب وہ بھی خود کو ڈگری تفویض کرنے کی فیکٹری کا ایک فرد سمجھنے لگے ہیں ۔ انھیں اب اپنے increment کی فکر رہتی ہے۔اور اُن کی ساری سہولتوں کی جس کا وہ خود کو مستحق سمجھتے ہیں۔انھیں اس بات کی فکر نہیں کہ اردو کے طالبِ علموں کی تعداد دن بدن گھٹتی جا رہی ہے۔ انھیں اس بات کا بھی دکھ نہیں کہ شہر کے مختلف کالجوں میں اردو کے شعبے بند ہونے لگے ہیں۔ یہ تو مہاراشٹرا آندھرا پردیش ایسی ریاستیں ہیں جہاں آج بھی اردو اسکول جاری ہیںاور کالجوں اور یونیورسٹیوں کو اردو کے طلباءمل جاتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ہماری اسکولی تعلیم کا حال بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔بلکہ اسکولوں میں اردو کا معیار اس قدر ناقص ہوچلا ہے کہ اردو میں بی۔اے کرنے والے طلباءبھی ڈھنگ کا مضمون نہیں لکھ پاتے، اُن کا اِملا درست ہوتا ہے نہ تلفّظ، ادب سے شناسائی تو دور کی بات رہی، وہ تو صرف اِس لئے شعبہءاردو کا رخ کرتے ہیں کے ان کے نمبرات اتنے خراب ہوتے ہیں کہ وہ کسی اور شعبہ میں داخل ہو کر کامیاب ہو ہی نہیں سکتے۔ویسے بھی آرٹس فیکلٹی آج سارے ملک میں بحران کا شکار ہے اور ایک سروے کے مطابق آرٹس کے صرف دس فیصد طلباءہی عالمی معیار پر پورے اترتے ہیں۔(اردو والے تو شاید اس صد فیصد میں نظر بھی نہ آئیں)
بہر حال اگر ہمیں اردو کی تدریس کی بہتری کی طرف قدم بڑھانا ہے تو سب سے پہلے اسکول میں اردو کی تدریس پر دھیان دینا ہوگا۔ اپنے شعبوں میں ایسے افرادکا تقرر کرنا ہوگا جو اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کو اپنی زندگی کی اہم ترجیحات سمجھتے ہوں وہ ایسے افراد ہوں جو نہ صرف خود مطالعہ کا شوق رکھتے ہوں بلکہ طلباءکو مطالعہ پر مائل کر سکتے ہوں۔جو اپنی کلاسوں میں طلبا کو صرف ادب کی اعلیٰ قدروں سے متعارف کرانے کا ہنر ہی نہ جانتے ہوں بلکہ اپنے حسن سلوک اور کردار سے انھیں متاثر بھی کریں۔ وہ طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور انھیں تخلیقی سوچ اور تجزیہ کرنے پر بھی مائل کر سکیں اور تحریر و تقریر کے رموز و آداب سے بھی روشناس کراسکیں ۔ گو ایک مخصوص مدت میں نصاب کی تکمیل ایک استاد کی محض ذمہ داری قرار دی گئی ہے، مگر وہ چاہے تو اپنے اسی محدود وقت میں طلباءکو نصاب سے کچھ زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ البتہ اس کے لئے ایک کھلا ذہن اور غیر جانب دارانہ اندازِ تدریس درکار ہے، جو ایک اچھا استاد چاہے تو تھوڑی سی محنت سے یقیناً حاصل کر سکتا ہے۔ ہمارے اساتذہ اسی محنت کو اپنا شعار بنالیں اور اپنے کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرنے لگیں تو اردو کی بے رنگ اور بے کیف تدریس میں انقلاب آسکتا ہے۔ اردو تدریس کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے نکل کر دیگر کالجوں اور یونیورسٹیوں سے رابطہ رکھیں ،جو تحقیقی کاموں میں شراکت کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔اور اساتذہ اور طلباءکے Excange پروگراموں کے انعقاد میں بھی۔ لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ ہم ایک لگے بندھے ڈھرے سے ہٹ کر صرف اور صرف اردو زبان و ادب کی محبت میں انتھک محنت پر راضی ہیں؟ یہ نہ بھولئے کہ کسی شعبہ کی شناخت اس کا معیار اور اُس کی ترقی اس بات پر منحصر ہے کہ اس شعبہ نے کتنے ذہین اور با ذوق طلباءکو اپنی طرف مائل کیا ، وہاں کے اساتذہ کتنے معیاری، کتنے محنتی،کتنے جنونی اور کتنے عالم ہیں، اور وہاں کس معیار کے علمی کام ہو رہے ہیں۔
٭٭٭
The Role of Literature in Current World Scenario
Articles
موجودہ عالمی صورتِ حال میں ادب کے تقاضے
ڈاکٹر سیّد جعفر احمد
اکیسویں صدی کے عصری منظر نامے کی تفہیم اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے اقتصادی محرکات اور عوامل کا بھی شعور حاصل نہ کرلیا جائے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارا آج کا سیاسی منظر نامہ ہمارے اقتصادی منظر نامے سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اس وقت ہر طرف گلوبلائزیشن کا دور دورہ ہے اور یہ اصطلاح سکہ¿ رائج الوقت کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ غور سے دیکھیں تو گلوبلائزیشن بھی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ دنیا نے جب سے سرمایہ دارانہ نظام کا تجربہ کیا ہے یہ گلوبلائزیشن ہمیشہ ہی افق پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح موجود رہی ہے۔ سرمائے کی سرشت میں ہے کہ وہ پھیلتا ہے۔ اس کی طبع میں ہے کہ یہ’ رُکتی ہے تو ہوتی ہے رواں اور ‘۔ اس کے آگے بند باندھنا مشکل ہوتا ہے۔ سو گزشتہ تین چار سو سال سے سرمایہ Globalizeہونے ہی کی طرف مائل تھا اور آج اس کی بن آئی ہے، چنانچہ ملٹی نیشنل کمپنیاں دنیا پر اپنے پھریرے لہراتی پھر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کے بجٹ تیسری دنیا کے کئی کئی ملکوں کے بجٹوں سے زیادہ ہیں۔ یہ حکومتوں کو بنواتی ہیں اور گراتی ہیں، آبادیوں کو تہہ تیغ کرتی ہیں، لاکھوں نفوس ان کی مصنوعات کی تجربہ گاہ بنتے ہیں۔ یہ عالمی مالیاتی نظام اور عالمی تجارت پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انھوں نے اطلاع کو ایک صنعت بناکر اس کو بھی اپنے قبضے میں کرلیا ہے۔ پھر ان کثیر القومی کمپنیوں میں امریکی اور یورپی کمپنیوں کی اکثریت ہے۔یہ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کی چیرہ دستیاں ہیں جن سے آج کا نیا عالمی نظام اپنی شناخت پاتا ہے۔
اس نئے عالمی نظام اور گلوبلائزیشن کے نتیجے میں دنیا میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ امیر اور غریب ملکوں کے درمیان تفاوت بڑھا ہے۔ چھوٹے ملکوں کی مختاری اور آزادی جو پہلے ہی بہت محدود تھی اب تقریباً معدوم ہوچکی ہے۔ غریب ملکوں کے بالا دست طبقات تو نئے نظام کا دُم چھلا بن کر اپنی مطلب براری کرلیتے ہیں لیکن زیر دست طبقات کا کوئی پرسان حال نہیں۔ خود امیر ملکوں میں امیر اور غریب کا تضاد روز افزوں ہے۔ معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مقامی آبادی اور تارکینِ وطن کے درمیان خلیج بڑھتی جاتی ہے جس کا مظہر آئے دن کے فرقہ وارانہ اور نسلی ہنگامے ہیں۔
گلوبلائزیشن کے سماجی اثرات سے مربوط اس کے تہذیبی اثرات ہیں۔ گلوبلائزیشن نے چھوٹی ریاستوں اور ان کے تشخص کو ہی پامال نہیں کیا ہے بلکہ اس نے چھوٹے ملکوں اور چھوٹی آبادیوں کی ثقافتوں کو بھی حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی کوشش کی ہے۔ گلوبلائزیشن کے زیرِ اثر وہی زبان یا زبانیں برقرار رہنے کا پروانہ حاصل کرپاتی ہیں جو بڑی منڈیوں کی زبانیں ہیں۔ جو زبان بازار میں نہیں بولی جاتی یا بازار میں جس کے لیے مناسب جگہ نہیں بن سکی ، اس کا مستقبل تاریک ہوتا جاتا ہے۔ بیسیوں زبانیں پچھلے چند برسوں میں لسانی منظر نامے سے غائب ہوچکی ہیں اور بہت سی زبانیں ممکنہ مخدوش مستقبل سے دوچار ہیں۔ زبانوں کا معدوم ہوجانا شاید مملکتوں اور ریاستوں کے معدوم ہوجانے سے بھی زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے کیونکہ زبانیں تہذیب کی امانت دار ہوتی ہیں۔ وہ ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ ان میں ہمارے پُرکھوں کے خواب محفوظ ہوتے ہیں، وہ ہمارے خیالات میں ارتفاع پیدا کرتی ہیں، ان کے وسیلے سے ہم اپنی اُمنگوں کو آئندہ نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔ ایک زبان کا مَر جانا بہت سے خوابوں ، ان گنت خیالوں اور بہت سی قدروں کا مَر جانا ہوتا ہے۔ گلوبلائزیشن سے آج یہی خواب ، خیال اور قدریں مَر رہی ہیں۔ ہماری تہذیب کا ایک بہت درخشاں حصہ خزاں کے پت چھڑ کی طرح شاخوں سے ٹوٹ کر ختم ہورہا ہے۔
نئے عالمی نظام اور گلوبلائزیشن نے تہذیب کی سطح پر جو دوسرا بڑا وار کیا ہے وہ ثقافتوں اور زبانوں پر حملے سے بھی سنگین ہے اور وہ ہے ذہنوں کو کنٹرول کرنے کا وار۔ بظاہر اس وقت دنیا میں ایک نام نہاد اطلاعات کا انقلاب آیا ہوا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی نے معلومات کے ذخیرے کو کہاں سے کہاں پہنچادیا ہے۔ کمپیوٹر نے انسان کے ذخیرہ¿ معلومات میں جس رفتار سے اضافہ کیا ہے خود اس رفتار کو ناپنا بھی اب کمپیوٹر کے بغیر ناممکن ہوچکا ہے۔ سیٹیلائٹس نے انسان کی رسائی ہزاروں چینلز تک کردی ہے اور خبریں جو کبھی ڈھونڈنے سے ملا کرتی تھیں اب سیلاب کی شکل میں ہمارے وجود کو غرق کرنے پر تلی نظر آتی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کس خبر کو درست سمجھا جائے اور کس کو غلط، یا درست اور غلط کے درمیان جو ہزاروں رنگ ہیں ان میں سے کس رنگ پر اعتبار کیا جائے ۔میڈیا نے گلوبلائزیشن کی محرک قوتوں کے اور نئے عالمی نظام کی قیادت پر فائز حکومتوں کے ہاتھ میں ذہنوں کو کنٹرول کرنے کا ایسا آلہ فراہم کردیا ہے جس کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو کیا رائے قائم کرنی چاہیے، ان کو کس چیز کو منتخب اور کس کو رَد کرنا چاہیے، ان کو اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے کس قسم کے فیصلے کرنے چاہیے ، ان کو کیا پینا چاہیے ، کیا کھانا چاہیے ، کیا سوچنا چاہیے اور کون سے خواب دیکھنے چاہیے ، آج یہ سب کچھ انسان کے اپنے اختیار سے نکل کر میڈیا کو کنٹرول کرنے والے ہاتھوں میں جا چکا ہے۔ مغربی جمہوریتوں میں شہریوں کے سوچنے اور سمجھنے پر میڈیا کے ذریعے کنٹرول کا حربہ وہاں کے کارپوریٹ سیکٹر اور ریاست کا اب تک کا سب سے کارآمد حربہ ہے۔ نام چومسکی اس صورتِ حال کو Necessary Illussionsسے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ Water Lippmann کے اتّباع میں مغربی جمہوریت کو ’تماش بینوں‘ کی جمہوریت قرار دیتے ہیں۔ Lippmannکے خیال میں یہ ایسی جمہوریتیں ہیں جہاں بھٹکے ہوئے ہجوم رہنمائی کے طالب تو ہوتے ہیں، با اختیار ہونے کا حق نہیں رکھتے۔ چومسکی کا کہنا ہے کہ ’پروپیگنڈہ مغربی جمہوریت میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو ایک آمرانہ ریاست میں ڈنڈے کو حاصل ہوتی ہے۔ دونوں کا کام لوگوں کو ہانکنا اور ان کو ایک خاص سمت میں لے جانا ہوتا ہے۔‘اپنی کتاب ’ذرائع ابلاغ کا کنٹرول‘ (Media Control) میں چومسکی نے بتایا ہے کہ کس طرح ووڈرو ولسن (Woodrow Wilson) کے زمانے میں صرف چھ ماہ میں ایک خاموش طبع آبادی کو ایک ہیجان اور جنگی جنون میں سرشار آبادی میں ڈھال دیا گیا اور کس طرح بش سینئر کے زمانے میں قوم کو میڈیا کے ذریعے اور پبلک ریلیشننگ کی صنعت کے ذریعے جنگ بازی کے لیے تیار کرلیا گیا۔ چومسکی اور ان جیسے دانشور غلط نہیں ہیں۔ ہم خود بھی دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ کی ہولناک جنگی کاروائیوں ، عراق میں اس کی انسانیت کش سرگرمیوں اور افغانستان اور دنیا کے دوسرے خطوں میں اس کی بربریت کی تہہ در تہہ تفصیلات کے منظرِ عام پر آنے کے باوجود امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد آج بھی اپنی حکومت کے قبضہ¿ قدرت میں ہے۔
گلوبلائزیشن کا تیسرا بڑا حملہ جو بہت خاموشی اور غیر محسوس طریقے سے ہوا ہے ، وہ ہماری زبان ، ہمارے لغت بلکہ یہاں تک کہا جاسکتا ہے کہ ہماری ترقی پسند زبان اور لغت کے اغوا کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ آج ہماری اصطلاحیں ، ہمارے نعرے، ہمارے استعارے اُن انسان دشمن اور تہذیب ناشناس قوتوں کے تصرف میں ہیں جن کے خلاف ہم جد و جہد کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں۔ چنانچہ صدر بس اور ٹونی بلیئر عراق کو ’آزاد‘ کرواتے ہیں۔ امریکہ عراق اور افغانستان میں ’جمہوری آزادیاں‘ لے کر آرہا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ’حقوقِ انسانی‘ کا شور مچاتی نظر آتی ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو ’بچوں کی محنت‘ شاق گزرتی ہے۔ امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں کو بنیاد پرستی بُری لگنے لگی ہے اور وہ ’مذہبی ہم آہنگی‘ اور ’رواداری‘ کے علمبردار بن چکے ہیں۔ چھوٹے ملکوں کے کاسہ لیس حکمراں اپنے اپنے ملکوں میں ’جمہوریت کو نچلی سے نچلی سطح‘ تک پہنچانے میں مصروف ہیں اور فوجی آمریتیں ‘میانہ رَوئی اور روشن خیالی‘ کی علمبردار نظر آتی ہیں۔ الفاظ و اصطلاحات ، زبان و لغت کے اس اغوا کے بعد ہم جیسے لوگوں کے لیے اب ایک اضافی آزمائش یہ بھی قرار پاتی ہے کہ ہم کس طرح اپنی زبان اور اپنے لفظیات کی بازیافت کرتے ہیں۔
٭٭٭
Coffee by Mushtaq Ahmad Yusufi
Articles
کافی
مشتاق احمد یوسفی
میںنے سوال کیا “آپ کافی کیوں پیتے ہیں؟“
انھوں نے جواب دیا “آپ کیوں نہیں پیتے؟“
“مجھے اس میں سگار کی سی بو آتی ہے۔“
“اگر آپ کا اشارہ اس کی سوندھی سوندھی خوشبو کی طرف ہے تو یہ آپ کی قوتٍ شامہ کی کوتاہی ہے۔“
گو کہ ان کا اشارہ صریحاً میری ناک کی طرف تھا، تاہم رفعٍ شر کی خاطر میںنے کہا
“تھوڑی دیر کے لیے یہ مان لیتا ہوں کہ کافی میں سے واقعی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ مگر یہ کہاں کی منطق ہے کہ جو چیز ناک کو پسند ہو وہ حلق میں انڈیل لی جائے۔ اگر ایسا ہی ہے تو کافی کا عطر کیوں نہ کشید کیا جائے تاکہ ادبی محفلوں میں ایک دوسرے کے لگایا کریں۔“
تڑپ کر بولے “صاحب! میں ماکولات میں معقولات کا دخل جائز نہیں سمجھتا، تاوقتیکہ اس گھپلے کی اصل وجہ تلفظ کی مجبوری نہ ہو—–کافی کی مہک سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایک تربیت یافتہ ذوق کی ضرورت ہے۔ یہی سوندھا پن لگی ہوئی کھیر اور دُھنگارے ہوئے رائتہ میں ہوتا ہے۔“
میں نے معذرت کی “کُھرچن اور دُھنگار دونوں سے مجھے متلی ہوتی ہے۔“
فرمایا “تعجب ہے! یوپی میں تو شرفا بڑی رغبت سے کھاتے ہیں“۔
“میں نے اسی بنا پر ہندوستان چھوڑا۔“
چراندے ہو کر کہنے لگے “ آپ قائل ہو جاتے ہیں تو کج بحثی کرنے لگتے ہیں۔“
جواباً عرض کیا “گرم ممالک میں بحث کا آغاز صحیح معنوں میںقائل ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ دانستہ دل آزاری ہمارے مشرب میں گناہ ہے۔ لہٰذا ہم اپنی اصل رائے کا اظہار صرف نشہ اور غصہ کے عالم میںکرتے ہیں۔ خیر، یہ تو جملہ معترضہ تھا، لیکن اگر یہ سچ ہے کہ کافی خوش ذائقہ ہوتی ہے تو کسی بچے کو پلا کر اس کی صورت دیکھ لیجئے۔“
جھلا کر بولے “ آپ بحث میں معصوم بچوں کو کیوں گھسیٹتے ہیں؟“
میں بھی الجھ گیا “آپ ہمیشہ ‘بچوں‘ سے پہلے لفظ ‘معصوم‘ کیوں لگاتے ہیں؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ کچھ بچے گناہ گار بھی ہوتے ہیں؟ خیر، آپ کو بچوں پر اعتراض ہے تو بلی کو لیجئے۔“
“بلی ہی کیوں؟ بکری کیوں نہیں؟“ وہ سچ مُچ مچلنے لگے۔
میں نے سمجھایا “بلی اس لئے کہ جہاں تک پینے کی چیزوں کا تعلق ہے، بچے اور بلیاں بُرے بھلے کی کہیں بہتر تمیز رکھتے ہیں۔“
ارشاد ہوا “کل کو آپ یہ کہیںگے کہ چونکہ بچوں اور بلیوں کو پکے گانے پسند نہیں آسکتے اس لیے وہ بھی لغو ہیں۔“
میں نے انہیں یقین دلایا “میں ہرگز یہ نہیں کہ سکتا۔پکے راگ انھیںکی ایجاد ہیں۔ آپ نے بچوں کا رونا اور بلیوں کا لڑنا۔۔۔۔۔“
بات کاٹ کر بولے “بہرحال ثقافتی مسائل کے حل کا نتیجہ ہم بچوں اور بلیوں پر نہیں چھوڑ سکتے۔“
آپ کو یقین آئے یا نہ آئے، مگر یہ واقعہ ہے کہ جب بھی میں نے کافی کے بارے میں استصوابٍ رائے کیا اس کا انجام اسی قسم کا ہوا۔ شائقین میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے اُلٹی جرح کرنے لگتے ہیں۔ اب میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوںکہ کافی اور کلاسیکی موسیقی کے بارے میں استفسارٍ رائے عامہ کرنا بڑی ناعاقبت اندیشی ہے۔ یہ بالکل ایسی ہی بدمذاقی ہے جیسے کسی نیک مرف کی آمدنی یا خوب صورت عورت کی عمر دریافت کرنا (اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک مرد کی عمر اور خوب صورت عورت کی آمدنی دریافت کرنا خطرے سے خالی ہے)۔ زندگی میں صرف ایک شخص ملا جو واقعی کافی سے بیزار تھا۔ لیکن اس کی رائے اس لحاظ سے زیادہ قابلٍ التفات نہیں کہ وہ ایک مشہور کافی ہاؤس کا مالک نکلا۔
ایک صاح تو اپنی پسند کے جواز میںصرف یہ کہ کر چپ ہو گئے کہ
چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافی لگی ہوئی
میںنے وضاحت چاہی تو کہنے لگے “دراصل یہ عادت کی بات ہے۔ یہ کم بخت کافی بھی روایتی چنے اور ڈومنی کی طرحایک دفعہ منہ سے لگنے کے بعد چھڑائے نہیں چھوٹتی۔ ہے ناں؟“
اس مقام پر مجھے اپنی معذوری کا اعتراف کرنا پڑا کہ بچپن ہی سے میری صحت خراب اور صحبت اچھی رہی۔ اس لئے ان دونوںخوب صورت بلاؤں سے محفوظ رہا۔
بعض احباب تو اس سوال سے چراغ پا یر کر ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ ایمان کی بات ہے کہ چھوٹے الزام کو سمجھ دار آدمی نہایت اعتماد سے ہنس کر ٹال دیتا ہے مگر سچے الزام سے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ اس ضمن میں جو متضاد باتیں سننا پڑتی ہیں، ان کی دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔
ایک کرم فرما نے میری بیزاری کو محرومی پر محمول کرتے ہوئے فرمایا:
ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں
ان کی خدمت میں حلفیہ عرض کیا کہ دراصل بیسیوں گیلن پینے کے بعد ہی یہ سوال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ دوسرے صاحب نے ذرا کھل کر پوچھا کہ کافی سے چٍڑ کی اصل وجہ معدے کے وہ داغ (Ulcers) تو نہیں جن کو میں دو سال سے لیے پھررہا ہوں اور جو کافی کی تیزابیت سے جل اٹھے ہیں۔
اور اس کے بعد وہ مجھے نہایت تشخیص ناک نظروں سے گھورنے لگے۔
استصوابٍ رائے عامہ کا حشر تو آپ دیکھ چکے۔ اب مجھے اپنے تاثرات پیش کرنے کی اجازت دیجئے۔ میرا ایمان ہے کہ قدرت کے کارخانے میں کوئی شئے بےکار نہیں۔ انسان غوروفکر کی عادت ڈالے (یا محض عادت ہی ڈال لے) تو ہر بری چیز میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور نکل آتی ہے۔ مثال کے طور پر حقہ ہی کو لیجئے۔ معتبر بزرگوں سے سنا ہے کہ حقہ پینے سے تفکرات پاس نہیں پھٹکتے۔ بلکہ میں تو یہ عرض کروں گا کہ اگر تمباکو خراب ہو تو تفکرات ہی پر کیا موقوف ہے، کوئی بھی پاس نہیں پھٹکتا۔ اب دیگر ملکی اشیائے خوردونوش پر نظر ڈالیے۔ مرچیں کھانے کا ایک آسانی سے سمجھ آجانے والا فائدہ یہ ہے کہ ان سے ہمارے مشرقی کھانوں کا اصل رنگ اور مزہ دب جاتا ہے۔ خمیرہ گاؤ زبان اس لیے کھاتے ہیں کہ بغیر راشن کارڈ کے شکر حاصل کرنے کا یہی ایک جائز طریقہ ہے۔ جوشاندہ اس لیے گوارا ہے کہ اس کے نہ صرف ایک ملکی صنعت کو فروغ ہوتا ہے بلکہ نفسٍ امارہ کو مارنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ شلغم اس لیے زہر مار کرتے ہیں کہ ان میں وٹامن ہوتا ہے۔ لیکن جدید طبی ریسرچ نے ثابت کردیا ہے کہ کافی میں سوائے کافی کے کچھ نہیں ہوتا۔ اہل ذوق کے نزدیک یہی اس کی خوبی ہے۔
معلوم نہیں کہ کافی کیوں، کب اور کس مردم آزار نے دریافت کی۔ لیکن یہ بات وثوق کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ یونانیوں کو اس کا علم نہیں تھا۔ اگر انھیں ذرا بھی علم ہوتا تو چرائتہ کی طرح یہ بھی یونانی طب کا جزوٍاعظم ہوتی۔ اس قیاس کو اس امر سے مزید تقویت پہنچتی ہے کہ قصبوں میں کافی کی بڑھتی ہوئی کھپت کی غالباً ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عطائیوں نے “اللہ شافی اللہ کافی“ کہ کر مؤخرالذکر کا سفوف اپنے نسخوں میں لکھنا شروع کر دیا ہے۔ زمانہ قدیم میں اس قسم کی جڑی بوٹیوں کا استعمال عداوت اور عقدٍثانی کے لیے مخصوص تھا۔ چونکہ آج کل ان دونوں باتوں کو معیوب خیال کیا جاتا ہے، اس لیے صرف اظہارٍ خلوصٍ باہمی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
سنا ہے کہ چائے کے باغات بڑے خوبصورت ہوتے ہیں۔ یہ بات یوں بھی سچ معلوم ہوتی ہے کہ چائے اگر کھیتوں میں پیدا ہوتی تو ایشیائی ممالک میں اتنی افراط سے نہیں ملتی بلکہ غلہ کی طرح غیر ممالک سے درآمد کی جاتی۔ میری معلوماتٍ عامہ محدود ہیں مگر قیاس یہی کہتا ہے کہ کافی بھی زمین ہی سے اگتی ہوگی۔ کیونکہ اس کا شمار ان نعمتوں میں نہیں جو اللہ تعالٰی اپنے نیک بندوں پر آسمان سے براہٍ راست نازل کرتا ہے۔ تاہم میری چشمٍ تخیل کو کسی طور یہ باور نہیں آتا کہ کافی باغوں کی پیداوار ہو سکتی ہے۔ اور اگر کسی ملک کے باغوں میں یہ چیز پیدا ہوتی ہے تو اللہ جانے وہاں کے جنگلوں میںکیا اُگتا ہوگا؟ ایسے اربابٍ ذوق کی کمی نہیں جنھیں کافی اس وجہ سے عزیز ہے کہ یہ ہمارے ملک میں پیدا نہیں ہوتی۔ مجھ سے پوچھئے تو مجھے اپنا ملک اسی لیے اور بھی عزیز ہے کہ یہاں کافی پیدا نہیں ہوتی۔
میں مشروبات کا پارکھ نہیں ہوں۔ لہٰذا مشروب کے اچھے یا برے ہونے کا اندازہ ان اثرات سے لگاتا ہوں جو اسے پینے کے بعد رونما ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے میں نے کافی کو شراب سے بدرجہا بدتر پایا۔ میں نے دیکھا ہے کہ شراب پی کر سنجیدہ حضرات بے حد غیر سنجیدہ گفتگو کرنے لگتے ہیں جو بے حد جاندار ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے کافی پی کر غیر سنجیدہ لوگ انتہائی سنجیدہ گفتگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے سنجیدگی سے چڑ نہیں بلکہ عشق ہے۔ اسی لیے میںسنجیدہ آدمی کی مسخرگی برداشت کر لیتا ہوں، مگر مسخرے کی سنجیدگی کا روادارن ہیں۔ شراب کے نشے میں لوگ بلا وجہ جھوٹ نہیں بولتے۔ کافی پی کر لوگ بلا وجہ سچ نہیں بولتے۔ شراب پی کر آدمی اپنا غم اوروں کو دے دیتا ہے مگر کافی پینے والے اوروں کے فرضی غم اپنا لیتے ہیں۔ کافی پی کر حلیف بھی حریف بن جاتے ہیں۔
یہاں مجھے کافی سے اپنی بیزاری کا اظہار مقصود ہے۔ لیکن اگر کسی صاحب کو یہ سطور شراب کا اشتہار معلوم ہوں تو اسے زبان و بیان کا عجز تصور فرمائیں۔ کافی کے طرفدار اکثر یہ کہتے ہیں کہ یہ بے نشے کی پیالی ہے۔ بالفرضٍ محال یہ گزارشٍ احوال واقعی یا دعویٰ ہے تو مجھے ان سے دلی ہمدردی ہے۔ مگر اتنے کم داموں میں آخر وہ اور کیا چاہتے ہیں؟
کافی ہاؤس کی شام کا کیا کہنا! فضا میں ہر طرف ذہنی کہرا چھایا ہوا ہے۔ جس کو سرمایہ دار طبقہ اور طلبا سرخ سویرا سمجھ کر ڈرتے اور ڈراتے ہیں۔ شوروشغب کا یہ عالم کہ اپنی آواز تک نہیں سنائی دیتی اور بار بار دوسروں سے پوچھنا پڑتا ہے کہ میں نے کیا کہا۔ ہر میز پر تشنگانٍ علم کافی پی رہے ہیں۔ اور غروبٍ آفتاب سے غرارے تک، یا عوام اور آم کے خواص پر بقراطی لہجے میں بحث کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے کافی اپنا رنگ لاتی ہے اور تمام بنی نوعٍ انسان کو ایک برادری سمجھنے والے تھوڑی دیر بعد ایک دوسرے کی ولدیت کے بارے میںاپنے شکوک کا سلیس اردو میں اظہار کرنے لگتے ہیں، جس سے بیروں کو کلیتہً اتفاق ہوتا ہے۔ لوگ روٹھ کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سوچ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ گھر جائیں گے
گھر میں بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
کافی پی پی کر سماج کو کوسنے والے ایک اٹلیکچوئل نے مجھے بتایا کہ کافی سے دل کا کنول کھل جاتا ہے اور آدمی چہکنے لگتا ہے۔ میںبھی اس رائے سے متفق ہوں۔ کوئی معقول آدمی یہ سیال پی کر اپنا منہ نہیںبند رکھ سکتا۔ ان کا یہ دعویٰ بھی غلط نہیںمعلوم ہوتا کہ کافی پینے سے بدن میں چستی آتی ہے۔ جبھی تو لوگ دوڑ دوڑ کر کافی ہاؤس جاتے ہیں اور گھنٹوں وہیں بیٹھے رہتے ہیں۔
بہت دیر تک وہ یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ کافی نہایت مفرح ہے اور دماغ کو روشن کرتی ہے۔ اس کے ثبوت میں انہوںنے یہ مثال دی کہ “ابھی کل ہی کا واقعہ ہے۔ میں دفترسے گھر بے حد نڈھال پہنچا۔ بیگم بڑی مزاج ہیں۔ فوراً کافی کا TEA POT لا کر سامنے رکھ دیا۔“
میں ذرا چکرایا “پھر کیا ہوا؟“ میں نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔
“میں نے دودھ دان سے کریم نکالی“ انھوں نے جواب دیا۔
میں نے پوچھا “شکر دان سے کیا نکلا؟“
فرمایا “شکر نکلی، اور کیا ہاتھی گھوڑے نکلتے؟“
مجھے غصہ تو بہت آیا مگر کافی کا سا گھونٹ پی کر رہ گیا۔
عمدہ کافی بنانا بھی کیمیا گری سے کم نہیں۔ یہ اس لیے کہ رہا ہوںکہ دونوںکے متعلق یہی سننے میں آیا ہے کہ بس ایک آنچ کی کسر رہ گئی۔ ہر ایک کافی ہاؤس اور خاندان کا ایک مخصوص نسخہ ہوتاہے جو سینہ بہ سینہ، حلق بہ حلق منتقل ہوتا رہتا ہے۔ مشرقی افریقہ کے اس انگریز افسر کا نسخہ تو سبھی کو معلوم ہے جس کی کافی کی سارے ضلعے میں دھوم تھی۔ ایک دن اس نے ایک نہایت پر تکلف دعوت کی جس میں اس کے حبشی خانساماں نے بہت ہی خوش ذائقہ کافی بنائی۔ انگریز نے بہ نظر حوصلہ افزائی اس کو معزز مہمانوںکے سامنے طلب کیا اور کافی بنانے کی ترکیب دریافت پوچھی۔
حبشی نے جواب دیا “بہت ہی سہل طریقہ ہے۔ میں بہت سا کھولتا ہوا پانی اور دودھ لیتا ہوں۔ پھر اس میںکافی ملا کر دم کرتا ہوں۔“
“لیکن اسے حل کیسے کرتے ہو۔ بہت مہین چھنی ہوتی ہے۔“
“حضورکے موزے میں چھانتا ہوں۔“
“کیا مطلب؟ کیا تم میرے قیمتی ریشمی موزے استعمال کرتے ہو؟“ آقا نے غضب ناک ہو کر پوچھا۔
خانساماںسہم گیا “نہیں سرکار! میں آپ کے صاف موزے کبھی استعمال نہیں کرتا۔“
سچ عرض کرتا ہوںکہ میں کافی کی تندی اور تلخی سے ذرا نہیں گھبراتا۔ بچپن ہی سے یونانی دواؤں کا عادی رہا ہوں اور قوتٍ برداشت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کڑوی سے کڑوی
گولیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا!
لیکن کڑواہٹ اور مٹھاس کی آمیزش سے جو معتدل قوام بنتا ہے وہ میری برداشت سے باہر ہے۔ میری انتہا پسند طبیعیت اس میٹھے زہر کی تاب نہیں لا سکتی۔ لیکن دقت یہ آن پڑتی ہے کہ میں میزبان کے اصرار کو عداوت اور وہ میرے انکار کو تکلف پر محمول کرتے ہیں۔
لہٰذا جب وہ میرے کپ میں شکر ڈالتے وقت اخلاقاً پوچھتے ہیں:
“ایک چمچہ(یہ ایک لفظ نہیں پڑھا جارہا)؟
تو مجبوراً یہی گزارش کرتاہوںکہ میرے لیے شکر دان میں کافی کے دو چمچ ڈال دیجئے۔
صاف ہی کیوں نہ کہ دوں کہ جہاںتک اشیائے خوردونوش کا تعلق ہے، میںتہذیب حواس کا قائل نہیں۔ میںیہ فوری فیصلہ ذہن کی بجائے زبان پر چھوڑنا پسند کرتا ہوں۔ پہلی نظر میں جو محبت ہو جاتی ہے، اس میں بالعموم نیت کا فتور کارفرما ہوتا ہے۔ لیکن کھانے پینے کے معاملے میںمیرا یہ نظریہ ہے کہ پہلا ہی لقمہ یا گھونٹ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ بدذائقہ کھانے کی عادت کو ذوق میں تبدیل کرنے کے لیے بڑا پٍتا مارنا پڑتا ہے۔ مگر میں اس سلسلہ میں برسوںتلخیٍ کام و دہن گوارا کرنے کا حامی نہیں، تاوقیکہ اس میں بیوی کا اصرار یا گرہستی کی مجبوریاں شامل نہ ہوں۔ بنا بریں، میں ہر کافی پینے والے کو جنتی سمجھتا ہوں۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو لوگ عمر بھی ہنسی خوشی یہ عذاب جھیلتے رہے، ان پر دوزخ اور حمیم حرام ہیں۔
کافی امریکہ کا قومی مشروب ہے۔ میں اب بحث میں نہیں الجھنا چاہتا کہ امریکی کلچر کافی کے زور سے پھیلا، یا کافی کلچر کے زور سے رائج ہوئی۔ یہ بعینہ ایسا سوال ہے جیسے کوئی بے ادب یہ پوچھ بیٹھے کہ “غبارٍ خاطر“ چائے کی وجہ سے مقبول ہوئی یا چائے “غبارٍ خاطر“ کے باعث؟ ایک صاحب نے مجھے لاجواب کرنے کی خاطر یہ دلیل پیش کی امریکہ میں تو کافی اس قدر عام ہے کہ جیل میںبھی پلائی جاتی ہے۔ عرض کیا کہ جب خود قیدی اس پر احتجاج نہیں کرتے تو ہمیںکیا پڑی کہ وکالت کریں۔ پاکستانی جیلوںمیںبھی قیدیوں کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جائے تو انسدادٍ جرائم میں کافی مدد ملے گی۔ پھر انھوں نے بتایا کہ وہاں لا علاج مریضوں کو بشاش رکھنے کی غرض سے کافی پلائی جاتی ہے۔ کافی کے سریع التاثیر ہونے میں کیا کلام ہے۔ میرا خیال ہے کہ دمٍ نزع حلق میں پانی چوانے کی بجائے کافی کے دو چار قطرے ٹپکا دیے جائیں تو مریض کا دم آسانی سے نکل جائے۔ بخدا، مجھے تو اس تجویز پر بھی کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ گناہ گاروں کی فاتحہ کافی پر دلائی جائے۔
سنا ہے کہ بعض روادار افریقی قبائل کھانے کے معاملے میں جانور اور انسان کے گوشت کو مساوی درجہ دیتے تھے۔ لیکن جہاںتک پینے کی چیزوں کا تعلق ہے، ہم نے ان کے بارے میں کوئی بری بات نہیںسنی۔ مگر ہم تو چینیوں کی رچی ہوئی، حسٍ شامہ کی داد دیتے ہیں کہ نہ منگول حکمرانوں کا جبروتشدد انہیں پنیر کھانے پر مجبور کر سکا کہ امریکہ انہیں کافی پینے پر آمادہ کر سکا۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان کی نفاست نے سخت قحط کے زمانے میںبھی فاقے اور اپنے فلسفےکو پنیر اور کافی پر ترجیحدی۔
ہمارا منشا امریکی یا چینی عادات پر نکتہ چینی نہیں۔ ہر آزاد قوم کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے منہ اور معدے کے ساتھ جیساسلوک چاہے، بے روک ٹوک کرے۔ اس کے علاوہ جب دوسری قومیں ہماری رساول، نہاری اور فالودے کا مذاق نہیں اڑاتیں تو ہم دخل در ماکولات کرنے والے کون؟ بات دراصل یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میںپیاس بجھانے کے لیے پانی کے علاوہ ہر رقیق شئے استعمال ہوتی ہے۔ سنا ہے کہ جرمنی (جہاں قومی مشروب بیئر ہے) ڈاکٹر بدرجہء مجبوری بہت ہی تندرست و توانا افراد کو خالص پانی پینے کی اجازت دیتے ہیں، لیکن جن کو آب نوشی کا چسکا لگ جاتا ہے، وہ راتوںکو چھپ چھپ کر پانی پیتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ پیرس کے کیفوںمیںرنگین مزاج فن کار بورژوا طبقہ کو چڑانے کی غرضسے کھلم کھلا پانی پیا کرتے تھے۔
مشرقی اور مغربی مشروبات کا موازنہ کرنے سے پہلے یہ بنیادی اصول ذہن نشین کر لینا ازبس ضروری ہے کہ ہمارے یہاںپینے کی چیزوں میں کھانے کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ اپنے قدیم مشروبات مثلاً یخنی، ستو اور فالودے پر نظر ڈالئے تو یہ فرق واضحہو جاتا ہے۔ ستو اور فالودے کو خالصتاً لغوی معنوں میں آپ نہ کھا سکتے ہیں اور نہ پی سکتے ہیں۔ بلکہ اگر دنیا میںکوئی ایسی شئے ہے جسے آپ بامحاورہ اردو میں بیک وقت کھا اور پی سکتے ہیں تو یہی ستو اور فالودہ ہے جو ٹھوس غذا اور ٹھنڈے شربت کے درمیان ناقابلٍ بیان سمجھوتہ ہے، لیکن آج کل ان مشروبات کا استعمال خاص خاص تقریبوں میں ہی کیا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اب ہم نے عداوت نکالنے کا ایک اور مہذب طریقہ اختیار کیا ہے۔
آپ کے ذہن میںخدانخواستہ یہ شبہ نہ پیدا ہو گیا ہو کہ راقم السطور کافی کے مقابلے میں چائے کا طرف دار ہے تو مضمون ختم کرنے سے پہلے اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا از بس ضروری سمجھتا ہوں۔ میںکافی سے اس لیے بیزار نہیں ہوںکہ مجھے چائے عزیز ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافی کا جلا چائے بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیںکہ جنہیںچائے کے ارماںہوںگے
Chaarpai aur culture by Mushtaq Ahmad Yusufi
Articles
چارپائی اورکلچر
مشتاق احمد یوسفی
ایک فرانسیسی مفکرّکہتاہےکہ موسیقی میں مجھےجوبات پسندہےوہ دراصل وہ حسین خواتین ہیں جواپنی ننھی ننھی ہتھیلیوں پرٹھوڑیاں رکھ کر اسے سنتی ہیں ۔ یہ قول میں نےاپنی بریّت میں اس لیےنقل نہیں کیاکہ میں جوقوّالی سےبیزارہوں تواس کی اصل وجہ وہ بزرگ ہیں جومحفلِ سماع کورونق بخشتےہیں۔اورنہ میرایہ دعویٰ کہ میں نےپیانواورپلنگ کےدرمیان کوئی ثقافتی رشتہ دریافت کرلیاہے۔ حالانکہ میں جانتاہوں کہ پہلی باربان کی کھّری چارپائی کی چرچراہٹ اورادوان کاتناؤ دیکھ کربعض نوواردسیّاح اسےسارنگی کےقبیل کاایشیائی سازسمجھتےہیں۔ کہنایہ تھاکہ میرےنزدیک چارپائی کی دِلکشی کاسبب وہ خوش باش لوگ ہیں جو اس پراُٹھتےبیٹھتےاورلیٹتےہیں۔اس کےمطالعہ سےشخصی اورقومی مزاج کےپرکھنےمیں مددملتی ہے۔ اس لیےکہ کسی شخص کی شائستگی وشرافت کااندازہ آپ صر ف سےلگاسکتےہیں کہ وہ فرصت کےلمحات میں کیاکرتاہےاوررات کوکِس قِسم کےخواب دیکھتاہے۔
چارپائی ایک ایسی خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہےجونئےتقاضوں اورضرورتوں سےعہدہ برا ہونےکےلیےنِت نئی چیزیں ایجادکرنےکی قائل نہ تھی۔ بلکہ ایسےنازک مواقع پرپُرانی میں نئی خوبیاں دریافت کرکےمسکرادیتی تھی۔ اس عہدکی رنگارنگ مجلسی زندگی کاتصّورچارپائی کےبغیر ممکن نہیں۔اس کاخیال آتےہی ذہن کےافق پرپہت سےسہانےمنظراُبھر آتے ہیں-اُجلی اُجلی ٹھنڈی چادریں،خس کےپنکھی، کچّی مٹّی کی سن سن کرتی کوری صُراحیاں، چھڑکاؤ سےبھیگی زمین کی سوندھی سوندھی لپٹ اور آم کےلدےپھندےدرخت جن میں آموں کےبجائےلڑکےلٹکےرہتےہیں-اوراُن کی چھاؤں میں جوان جسم کی طرح کسی کسائی ایک چارپائی جس پردِن بھرشطرنج کی بساط یارمی کی پھڑجمی اورجوشام کودسترخوان بچھاکرکھانےکی میزبنالی گئی۔ ذراغورسےدیکھئےتویہ وہی چارپائی ہےجس کی سیڑھی بناکرسُگھڑبیویاں مکڑی کےجالےاورچلنلےلڑکےچڑیوں کےگھونسلےاتارتےہیں۔ اسی چارپائی کووقتِ ضرورت پٹیوں سےبانس باندھ کراسٹیریچربنالیتےہیں اوربجوگ پڑجائےتوانھیں بانسوں سےایک دُوسرےکواسٹیریچرکےقابل بنایاجاسکتاہے۔ اسی طرح مریض جب گھاٹ سےلگ جائےتوتیماردارمؤخرالذِکرکےوسط میں بڑاساسوراخ کرکےاوّل الذِکرکی مشکل آسان کردیتےہیں۔ اورجب ساون میں اُودی اُودی گھٹائیں اُٹھتی ہیں توادوان کھول کرلڑکیاں دروازےکی چوکھٹ اوروالدین چارپائیوں میں جُھولتےہیں۔اسی پربیٹھ کرمولوی صاحب قمچی کےذریعہ اخلاقیات کےبنیادی اُصول ذہن نشین کراتےہیں۔ اسی پرنومولودبچّےغاؤں غاؤں کرتی، چُندھیائی ہُوئی آنکھیں کھول کراپنےوالدین کودیکھتےہیں اور روتے ہیں اوراسی پردیکھتےہی دیکھتےاپنےپیاروں کی آنکھیں بندہوجاتی ہیں۔
اگر یہ اندیشہ نہ ہوتاکہ بعض حضرات اس مضمون کوچارپائی کاپرچہ ترکیب ِ استعمال سمجھ لیں گےتواس ضمن میں کچھ اورتفصیلات پیش کرتا۔ لیکن جیسا کہ پہلےاشارہ کرچکاہُوں، یہ مضمون اس تہذیبی علاقت کاقصیدہ نہیں، مرثیہ ہے۔ تاہم بہ نظرِاحتیاط اِتنی وضاحت ضروری ہےکہ:
ہم اس نعمت کےمُنکرہیں نہ عادی
نام کی مناسبت سےپائےاگرچارہوں تومناسب ہےورنہ اس سےکم ہوں، تب بھی خلقِ خداکےکام بندنہیں ہوتے۔ اسی طرح پایوں کےحجم اورشکل کی بھی تخصیص نہیں۔ انھیں سامنےرکھ کرآپ غبی سےغبی لڑکےکواقلیدس کی تمام شکلیں سمجھا سکتے ہیں۔ اوراس مہم کوسرکرنےکےبعدآپ کواحساس ہوگاکہ ابھی کچھ شکلیں ایسی رہ گئی ہیں جن کاصرف اقلیدس بلکہ تجریدی مصّوری میں بھی کوئی ذکرنہیں۔ دیہات میں ایسےپائےبہت عام ہیں جو آدھے پٹُیوں سےنیچےاورآدھےاُوپرنِکلےہوتےہیں۔ ایسی چارپائی کااُلٹاسیدھادریافت کرنےکی آسان ترکیب یہ ہےکہ جس طرف بان صاف ہووہ ہمیشہ ”اُلٹا“ ہوگا۔راقم الحروف نےایسےان گھڑپائےدیکھےہین جن کی ساخت میں بڑھئی نےمحض یہ اصول مدنظررکھاہوگاکہ بسولہ چلائےبغیرپیڑکواپنی قدرتی حالت میں جوں کاتوں پٹیوں سےوصل کردیاجائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہماری نظر سےخرادکےبنےایسےسڈول پائےبھی گزرےہیں جنھیں چوڑی دارپاجامہ پہنانےکوجی چاہتاہی۔اس قسم کےپایوں سےنٹومرحوم کوجووالہانہ عشق رہاہوگااس کااظہارانھوں نےاپنےایک دوست سےایک میم کی حسین ٹانگیں دیکھ کراپنےمخصوص اندازمیں کیا۔کہنےلگے:
”اگرمجھےایسی چارٹانگیں مل جائیں توانھیں کٹواکراپنےپلنگ کےپائےبنوالوں۔“
غورکیجئےتومباحثےاورمناظرےکےلیےچارپائی سےبہترکوئی جگہ نہیں۔ اس کی بناوٹ ہی ایسی ہےکہ فریقین آمنےسامنےنہیں بلکہ عموماً اپنے حریف کی پیٹھ کا سہارا لےکرآرام سےبیٹھتےہیں۔ اوربحث وتکرارکےلیےاس سےبہترطرزِنشست ممکن نہیں، کیونکہ دیکھا گیا ہےکہ فریقین کوایک دوسرےکی صورت نظرنہ آئے توکبھی آپےسےباہرنہیں ہوتے۔ اسی بناپرمیراعرصےسےیہ خیال ہےکہ اگربین الاقوامی مذکرات گول میز پرنہ ہوئےہوتےتولاکھوں جانیں تلف ہونےسےبچ جاتیں۔ آپ نےخودیکھاہوگاکہ لدی پھندی چارپائیوں پرلوگ پیٹ بھرکےاپنوں کےغیبت کرتےہیں مگردل برےنہیں ہوتے۔ اس لیےکہ سبھی جانتےہیں کہ غیبت اسی کی ہوتی ہےجسےاپناسمجھتےہیں۔ اورکچھ یوں بھی ہےکہ ہمارےہاں غیبت سےمقصودقطع محبت ہےنہ گزارش احوال واقعہ بلکہ محفل میں
لہوگرم رکھنےکاہےاِک بہانہ
لوگ گھنٹوں چارپائی پرکسمساتےرہتےہیں مگرکوئی اٹھنےکانام نہیں لیتا۔ اس لیےکہ ہرشخص اپنی جگہ بخوبی جانتاہےکہ اگروہ چلاگیاتوفوراًاس کی غیبت شروع ہوجائےگی۔ چنانچہ پچھلےپہرتک مردایک دوسرےکی گردن میں ہاتھ ڈالےبحث کرتےہیں اورعورتیں گال سےگال بھڑائےکچرکچرلڑتی رہتی ہیں۔فرق اتناہےکہ مردپہلےبحث کرتےہیں ، پھرلڑتےہیں۔ عورتیں پہلےلڑتی ہیں اوربعدمیں بحث کرتی ہیں ۔ مجھےثانی الذکرطریقہ زیادہ معقول نظرآتاہے، اس لیےکہ اس میں آئندہ سمجھوتےاورمیل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
رہایہ سوال کہ ایک چارپائی پربیک وقت کتنےآدمی بیٹھ سکتے ہیں توگزارش ہےکہ چارپائی کی موجودگی میں ہم نےکسی کوکھڑانہیں دیکھا۔ لیکن اس نوع کےنظریاتی مسائل میں اعدادوشمارپربےجازوردینےسےبعض اوقات عجیب وغریب نتائج برآمدہوئےہیں۔آپ نےضرورسناہوگاکہ جس وقت مسلمانوں نےاندلس فتح کیاتووہاں کےبڑےگرجامیں چوٹی کےمسیحی علماوفقہااس مسئلہ پرکمال سنجیدگی سےبحث کررہےتھےکہ سوئی کی نوک پرکتنےفرشتےبیٹھ سکتےہیں۔
ہم تواتناجانتےہیں کہ تنگ سےتنگ چارپائی پربھی لوگ ایک دوسرےکی طرف پاؤں کیےاًاٍکی شکل میں سوتےرہتےہیں ۔چنچل ناری کاچیتےجیسااجیت بدن ہویاکسی عمررسیدہ کی کمان جیسی خمیدہ کمر- یہ اپنےآپ کو ہرقالب کےمطابق ڈھال لیتی ہے۔ اورنہ صرف یہ کہ اس میں بڑی وسعت ہےبلکہ اتنی لچک بھی ہےکہ آپ جس آسن چاہیں بیٹھ اورلیٹ جائیں۔ بڑی بات یہ ہےکہ بیٹھنےاورلیٹنےکی درمیانی صورتیں ہمارےہاں صدیوں سےرائج ہیں ان کےلیےیہ خاص طورپرموزوں ہے۔یورپین فرنیچرسےمجھےکوئی چڑنہیں،لیکن اس کوکیاکیجئےکہ ایشیائی مزاج نیم درازی کےجن زاویوں اورآسائشوں کاعادی ہوچکا ہے، وہ اس میں میسرنہیں آتیں۔مثال کےطورپرصوفےپرہم اکڑوں نہیں بیٹھ سکتے۔کوچ پردسترخوان نہیں بچھاسکتے۔اسٹول پرقیلولہ نہیں کر سکتے۔ اور کرسی پر،بقول اخلاق احمد، اردو نہیں بیٹھ سکتے۔
ایشیا نے دنیا کو دو نعمتوں سے روشناس کیا۔چائےاور چارپائی! اوران میں یہ خاصیت مشترک ہےکہ دونوں سردیوں میں گرمی اورگرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاتی ہیں۔ اگرگرمی میں لوگ کھری چارپائی پرسواررہتےہیں توبرسات میں یہ لوگوں پرسواررہتی ہےاورکھلےمیں سونےکےرسیااسےاندھیری راتوں میں برآمدےسےصحن اورصحن سےبرآمدےمیں سرپراٹھائےپھرتےہیں۔ پھرمہاوٹ میں سردی اوربان سےبچاؤکےلیےلحاف اورتوشک نکالتےہیں۔ مثل مشہور ہے کہ سردی رُوئی سےجاتی ہےیادُوئی سی۔لیکن اگریہ اسباب ناپیدہوں اورسردی زیادہ اورلحاف پتلاہوتوغریب غربامحض منٹوکےافسانےپڑھ کرسورہتےہیں۔
عربی میں اونٹ کےاتنےنام ہیں کہ دوراندیش مولوی اپنےہونہارشاگردوں کوپاس ہونےکایہ گُربتاتےہیں کہ اگرکسی مشکل یاکڈھب لفظ کےمعنی معلوم نہ ہوں توسمجھ لوکہ اس سےاُونٹ مرادہے۔ اسی طرح اُردومیں چارپائی کی جتنی قسمیں ہیں اس کی مثال اورکسی ترقی یافتہ زبان میں شایدہی مل سکیں:-
کھاٹ، کھٹا، کھٹیا، کھٹولہ، اڑن کھٹولہ، کھٹولی، کھٹ ،چھپرکھٹ، کھرّا، کھری، جِھلگا، پلنگ ، پلنگڑی، ماچ، ماچی، ماچا، چارپائی، نواری، مسہری، منجی۔
یہ نامکمل سی فہرست صرف اردوکی وسعت ہی نہیں بلکہ چارپائی کی ہمہ گیری پردال ہےاورہمارےتمّدن میں اس کامقام ومرتبہ متّعین کرتی ہے۔
لیکن چارپائی کی سب سےخطرناک قسم وہ ہےجس کےبچےکھچےاورٹوٹےادھڑےبانوں میں اللہ کےبرگزیدہ بندےمحض اپنی قوت ایمان کے زور سے اٹکے رہتے ہیں۔ اس قسم کےجھلنگےکوبچےبطورجھولااوربڑےبوڑھےآلہ تزکیہ نفس کی طرح استعمال کرتےہیں۔ اونچےگھرانوں میں اب ایسی چارپائیوں کوغریب رشتےداروں کی طرح کونوں کھدروں میں آڑےوقت کے لیے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔خودمجھےمرزاعبدالودودبیگ کےہاں ایک رات ایسی ہی چارپائی پرگزارنےکااتفاق ہواجس پرلیٹتےہی اچھابھلاآدمی نون غنہ (ں)بن جاتاہے۔
اس میں داخل ہوکرمیں ابھی اپنےاعمال کاجائزہ ہی لےرہاتھاکہ یکایک اندھیراہوگیا،جس کیوجہ غالباًیہ ہوگی ایک دوسراملازم اوپرایک دری اوربچھاگیا۔اس خوف سےکہ دوسری منزل پرکوئی اورسواری نہ آجائے،میں نےسرسےدری پھینک کراُٹھنےکی کوشش کی توگھٹنےبڑھ کےپیشانی کی بلائیں لینےلگی۔کھڑبڑسن کرمرزاخودآئےاورچیخ کرپوچھنےلگےبھائی آپ ہیں کہاں؟میں نےمختصراًاپنےمحل وقوع سےآگاہ کیاتوانھوں نےہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچا۔ انھیں کافی زورلگاناپڑااس اس لیےکہ میراسراورپاؤں بانوں میں بری طرح الجھےہوئےتھےاوربان سرسےزیادہ مضبوط ثابت ہوئی۔بمشکل تمام انھوں نے مجھے کھڑاکیا۔
اورمیرےساتھ ہی،مجھ سےکچھ پہلی،چارپائی بھی کھڑی ہوگئی!
کہنےلگی” کیابات ہے؟ آپ کچھ بےقرارسےہیں۔ معدے کا فعل درست نہیں معلوم ہوتا۔“
میرےجواب کاانتظارکیےبغیروہ دوڑکراپناتیارکردہ چُورن لےآئےاوراپنےاوراپنےہاتھ سےمیرےمنہ میں ڈالا۔پھنکی منہ میں بھرکرشکریہ کےدوچارلفظ ہی کہنے پایا ہوں گاکہ معاًنظران کےمظلوم منہ پرپڑگئی جوحیرت سےکھلاہواتھا۔میں بہت نادم ہوا۔لیکن قبل اس کےکہ کچھ اورکہوں انھوں نےاپناہاتھ میرےمنہ پررکھ دیا۔پھرمجھےآرام کرنےکی تلقین کرکےمنہ دھونےچلےگئے۔
میں یہ چارپائی اوڑھےلیٹاتھاکہ ان کی منجھلی بچی آنکلی ۔تتلاکرپوچھنےلگی:
”چچاجان!اکڑوں کیوں بیٹھےہیں؟“
بعدازاں سب بچےمل کراندھابھینساکھیلنےلگے۔بالاخران کی امی کومداخلت کرناپڑی۔
”کم بختو!اب توچپ ہوجاؤ!کیاگھرکوبھی اسکول سمجھ رکھاہے؟“
چندمنٹ بعدکسی شیرخوارکےدہاڑنےکی آوازآئی مگرجلدہی یہ چیخیں مرزاکی لوریوں میں دب گئیں جن میں ڈانٹ ڈانٹ کرنیندکوآنےکی دعوت دے رہے تھے۔چندلمحوں بعدمرزااپنےنقش فریادی کوسینہ سےچمٹائےمیرےپاس آئےاورانتہائی لجاجت آمیزلہجےمیں بولے:
”معاف کیجئے! آپ کوتکلیف توہوگی۔مگرمنّومیاں آپ کی چارپائی کےلیےضدکررہےہیں۔انھیں دوسری چارپائی پرنیندنہیں آتی۔آپ میری چارپائی پر سو جائیے،میں اپنی فولڈنگ چارپائی پرپڑرہوں گا۔“
میں نےبخوشی منومیاں کاحق منومیاں کوسونپ دیااورجب اس میں جھولتےجھولتےان کی آنکھ لگ گئی توان کےوالدبزرگوارکوزبان تالوسےلگی۔
اب سنئےمجھ پرکیاگزری۔مرزاخودتوفولڈنگ چارپائی پرچلےگئےمگرجس چارپائی پرمجھ خاص منتقل کیاگیا۔اس کانقشہ یہ تھاکہ مجھےاپنےہاتھ اورٹانگیں احتیاط سےتہ کرکےبالترتیب سینہ اورپیٹ پررکھنی پڑیں۔اس شب تنہائی میں کچھ دیرپہلےنیندسےیوں دوچشمی ھ بنا، یونانی پروقراط کےبارےمیں سوچتا رہا۔اس کےپاس دوچارپائیاں تھیں۔ ایک لمبی اوردوسری چھوٹی۔ٹھنگنےمہمان کووہ لمبی چارپائی پرسلاتااورکھینچ تان کراس کاجسم چارپائی کے برابر کردیتا۔اس کےبرعکس لمبے آدمی کووہ چھوٹی چارپائی دیتااورجسم کےزائدحصوں کوکانٹ چھانٹ کرابدی نیندسلادیتا۔
اس کےحدوداربعہ کےمتعلق اتناعرض کردیناکافی ہوگاکہ انگڑائی لینےکےلیےمجھےتین چارمرتبہ نیچےکودناپڑا۔کودنےکی ضرورت یوں پیش آئی کہ اس کی اونچائی”درمیانہ“تھی۔ یہاں درمیانہ سےہماری مرادوہ پست بلندی یاموزوں سطح مرتفع ہی، جس کو دیکھ کریہ خیال پیداہوکہ:
نہ توزمیں کےلیےہےنہ آسماں کےلیے
گوکہ ظاہربین نگاہ کویہ متوازی الاضلاغ نظرآتی تھی مگرمرزانےمجھےپہلےہی آگاہ کردیاتھاکہ بارش سےپیشتریہ مستطیل تھی۔ البتہ بارش میں بھیگنے کے سبب جوکان آگئی تھی،اس سےمجھےکوئی جسمانی تکلیف نہیں ہوئی۔اس لیےکہ مرزانےازراہ تکلف ایک پائےکےنیچےڈکشنری اور دوسرے کے نیچے میرا نیا جوتارکھ کرسطح درست کردی تھی۔ میراخیال ہےکہ تہذیب کےجس نازک دورمیں غیورمردچارپائی پردم توڑنےکی بجائےجنگ میں دشمن کےہاتھوں بےگوروکفن مرناپسندکرتےتھے، اسی قسم کی مردم آزارچارپائیوں کارواج ہوگا۔لیکن اب جب دشمن سیانےاورچارپائیاں زیادہ آرام دہ ہوگئے ہیں، مرنے کے اور بھی معقول اورباعزت طریقےدریافت ہوگئےہیں۔
ایک محتاط اندازےکےمطابق ہمارےہاں ایک اوسط درجہ کےآدمی کی دوتہائی زندگی چارپائی پرگزرتی ہے۔اوربقیہ اس کی آرزومیں!بالخصوص عورتوں کی زندگی اسی محورکےگردگھومتی ہےجوبساطِ محفل بھی ہےاورمونسِ تنہائی بھی۔اس کےسہارےوہ تمام مصائب انگیزکرلیتی ہیں۔خیرمصائب تومردبھی جیسےتیسےبرداشت کرلیتے ہیں مگرعورتیں اس لحاظ سےقابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کےعلاوہ مردوں کوبھی برداشت کرناپڑتاہی۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ مئی جون کی جھلسادینےوالی دوپہرمیں کنواریاں بالیاں چارپائی کےنیچےہنڈیاکلہیاپکاتی ہیں اوراوپربڑی بوڑھیاں بیتےہوئےدونوں کو یاد کر کے ایک دوسرےکالہوگرماتی رہتی ہیں(قاعدہ ہےکہ جیسےجیسےحافظہ کمزور ہوتا جاتا ہے، ماضی اوربھی سہانامعلوم ہوتاہے!)اسی پربوڑھی ساس تسبیح کےدانوں پرصبح وشام اپنےپوتوں اورنواسوں کوگنتی رہتی ہےاورگڑگڑاگڑگڑاکردعامانگتی ہےکہ خدااس کاسایہ بہوکےسرپررہتی دنیا تک قائم رکھے۔ خیرسےبہری بھی ہے۔ اس لیےبہواگرسانس لینےکےلیےبھی منہ کھولےتوگمان ہوتاہےکہ مجھےکوس رہی ہوگی۔قدیم داستانوں کی روٹھی رانی اسی پر اپنے جوڑے کاتکیہ بنائےاٹواٹی کھٹواٹی لےکرپڑتی تھی اورآج بھی سہاگنیں اسی کی اوٹ میں ادوان میں سےہاتھ نکال کرپانچ انگلی کی کلائی میں تین انگلی کی چوڑیاں پہنتی اورگشتی نجومیوں کوہاتھ دکھاکراپنےبچوں اورسوکنوں کی تعدادپوچھتی ہیں۔لیکن جن بھاگوانوں کی گودبھری ہو،ان کے بھرے پرےگھرمیں آپ کوچارپائی پرپوتڑےاورسویاں ساتھ ساتھ سوکھتی نظرآئیں گی۔ گھٹنیوں چلتےبچےاسی کی پٹی پکڑکرمیوں میوں چلنا سیکھتے ہیں اوررات برات پائینتی سےمدمچوں کاکام لیتےہیں۔لیکن جب ذراسمجھ آجاتی ہےتواسی چارپائی پرصاف ستھرےتکیوں سےلڑتےہیں۔نامورپہلوانوں کےبچپن کی چھان بین کی جائےتوپتہ چلےگاکہ انھوں نےقینچی اوردھوبی پاٹ جیسےخطرناک داؤاسی محفوظ اکھاڑےمیں سیکھے۔
جس زمانےمیں وزن کرنےکی مشین ایجادنہیں ہوئی تھی توشائستہ عورتیں چوڑیوں کےتنگ ہونےاورمردچارپائی کےبان کےدباؤسےدوسرےکےوزن کاتخمینہ کرتےتھے۔اس زمانےمیں چارپائی صرف میزان جسم ہی نہیں بلکہ معیاراعمال بھی تھی۔نتیجہ یہ کہ جنازےکوکندھادینےوالےچارپائی کےوزن کی بناپرمرحوم کےجنتی یااس کےبرعکس ہونےکااعلان کرتے تھے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہمارےہاں دبلےآدمی کی دنیااورموٹےکی عقبےعام طورخراب ہوتی ہے۔
برصغیرمیں چندعلاقےایسےبھی ہیں جہاں اگرچارپائی کوآسمان کی طرف پائینتی کرکےکھڑاکردیاجائےتوہمسائےتعزیت کوآنےلگتےہیں۔سوگ کی یہ علامت بہت پرانی ہےگوکہ دیگرعلاقوں میں یہ عمودی(١)نہیں،افقی(-)ہوتی ہے۔اب بھی گنجان محلوںمیں عورتوں اسی عام فہم استعارے کا سہارا لے کر کوستی سنائی دیں گی۔”الٰہی!تن تن کوڑھ ٹپکے۔ مچمچاتی ہوئی کھاٹ نکلے!“ دوسرابھرپورجملہ بددعاہی نہیں بلکہ وقت ضرورت نہایت جامع ومانع سوانح عمری کاکام بھی دےسکتاہےکیونکہ اس میں مرحومہ کی عمر،نامرادی،وزن اورڈیل ڈول کےمتعلق نہایت بلیغ اشارےملتےہیں۔نیزاس بات کی سندملتی ہےکہ راہی ملک عدم نےوہی کم خرچ بالانشین وسیلہ نقل وحمل اختیارکیاجس کی جانب میراشارہ کرچکےہیں:
تیری گلی سدااےکشندہ عالم
ہزاروں آتی ہوئی چارپائیاں دیکھیں
قدرت نےاپنی رحمت سےصفائی کاکچھ ایساانتظام رکھاہےکہ ہرایک چارپائی کوسال میں کم ازکم دومرتبہ کھولتےپانی سےدھارنےکی ضرورت پیش آتی ہی۔جونفاست پسندحضرات جان لینےکایہ طریقہ جائزنہیں سمجھتےوہ چارپائی کوالٹاکرکےچلچلاتی دھوپ میں ڈال دیتےہیں۔پھردن بھرگھروالےکھٹمل اورمحلےوالےعبرت پکڑتےہیں۔اہل نظرچارپائی کوچولوں میں رہنےوالی مخلوق کی جسامت اوررنگت پرہی سونےوالوں کی صحت اورحسب نسب کاقیاس کرتےہیں(واضح رہےکہ یورپ میں گھوڑوں اورکتوں کےسوا،کوئی کسی کاحسب نسب نہیں پوچھتا) الٹی چارپائی کوقرنطینہ کی علامت جان کر راہ گیرراستہ بدل دیں دیں توتعجب نہیں۔حدیہ کہ فقیربھی ایسےگھروں کےسامنےصدالگانابندکردیتےہیں۔
چارپائی سےپراسرارآوازیں نکلتی ہیں،ان کامرکزدریافت کرنااتناہی دشوارہےجتناکہ برسات کی اندھیری رات میں کھوج لگاناکہ مینڈک کےٹرانےکی آواز کدھر سےآئی یاکہ یہ تشخیص کرناکہ آدھی رات کوبلبلاتےہوئےشیرخواربچےکےدردکہاں اٹھ رہاہے۔چرچراتی ہوئی چارپائی کومیں نہ گل نغمہ سمجھتاہوں،نہ پردہ ساز،اورنہ اپنی شکست کی آواز! درحقیقت یہ آوازچارپائی کااعلان صحت ہےکیونکہ اس کےٹوٹتےہی یہ بندہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں ایک خودکارالام کی حیثیت سےیہ شب بیداری اورسحرخیزی میں مدددیتی ہے۔ بعض چارپائیاں اس قدرچغل خورہوتی ہیں کہ ذراکروٹ بدلیں تودوسری چارپائی والاکلمہ پڑھتاہواہربڑاکراٹھ بیٹھتا ہے۔اگرپاؤں بھی سکیڑیں توکتےاتنےزورسےبھونکتےہیں کہ چوکیدارتک جاگ اٹھتےہیں۔ اس یہ فائدہ ضرورہوتاہےکہ لوگ رات بھر نہ صرف ایکدوسرےکی جان ومال بلکہ چال چلن کی بھی چوکیداری کرتےرہتےہیں۔ اگرایسانہیں ہےتو پھرآپ ہی بتائیےکہ رات کوآنکھ کھلتےہی نظرسب سے پہلے پاس والی چارپائی پر کیوں جاتی ہے
———————————
San by Mustaq Ahmad Yusufi
Articles
سن
مشتاق احمد یوسفی
اوروں کا حال معلوم نہیں، لیکن اپنا تو یہ نقشہ رہا کہ کھیلنےکھانےکےدن پانی پت کی لڑائیوں کے سن یاد کرنے، اور جوانی دیوانی نیپولین کی جنگوں کی تاریخیں رٹنے میں کٹی۔ اس کا قلق تمام عمر رہے گا کہ جو راتیں سکھوں کی لڑائیوں کے سن حفظ کرنے میں گزریں،وہ ان کےلطیفوں کی نذر ہو جاتیں تو زندگی سنور جاتی۔ محمود غزنوی لائق صد احترام سہی، لیکن ایک زمانے میں ہمیں اس سے بھی یہ شکایت رہی کہ سترہ حملوں کی بجائےاگر وہ جی کڑا کر کے ایک ہی بھرپور حملہ کر دیتا تو آنے والی نسلوں کی بہت سی مشکلات حل ہوجاتیں۔بلکہ یوں کہنا چاہیےکہ وہ پیدا ہی نہ ہوتیں (ہمارا اشارہ مشکلات کی طرف ہے)۔
اولاد آدم کے سر پر جوگزری ہے، اس کی ذمہ داری مشاہیر عالم پرعائدہوتی ہے۔ یہ نری تہمت طرازی نہیں بلکہ فلسفہ تاریخ ہے، جس سےاس وقت ہمیں کوئی سروکارنہیں۔ہم تواتناجانتےہیں کہ بنی نوع آدم کوتواریخ نےاتنانقصان نہیں پہنچایاجتنامورخین نے۔ انھوں نےاس کی سادہ اورمختصرسی داستان کو یادگار تاریخوں کاایک ایساکیلنڈربنادیاجس کےسبھی ہندسےسرخ نظر آتے ہیں۔ چنانچہ طلبابوجوہ معقول ان کےحق میں دعائےمغفرت نہیں کر سکتے اور اب ذہن بھی ان تعینات زمانی کااس حد تک خوگرہوچکاہےکہ ہم وجودانسانی کاتصوربلاقیدسن دسمبت کرہی نہیں سکتے:
“جوسن نہ ہوتےتوہم نہ ہوتے، جو ہم نہ ہوتےتوغم نہ ہوتا“ معلوم ایسا ہوتاہےکہ مورخین سن کوایک طلسمی طوطاسمجھتےہیںجس میں وقت کےظالم دیو کی روح مقید ہے۔ کچھ اسی قسم کے عقیدے پر میل بورن کےخضرصورت آرچ بشوپ مانکس نےتین سال پہلےطنزکیاتھاکہ جب ان کی ٣٩ویں سالگرہ پر ایک اخبار کے رپورٹر نے اپنی نوٹ بک نکالتے ہوئے بڑے گمبھیر لہجے میں دریافت کیا:
”آپ کےنزدیک ٣٩کی عمرتک پہنچنےکی اصل وجہ کیاہے؟“
”برخودار! اس کی اصل وجہ یہ ہےکہ میں1845 میں میٹرک کےامتحان سےکچھ دن قبل مرزاعبدالودودبیگ نےاس رازکوفاش کیا(ہرچندکہ طلبااس کھولانہیں کرتے)کہ شقی القلب ممتحن بھی سن ہی سےقابومیں آتے ہیں۔ چنانچہ زیرک طالب علم ہر جواب کی ابتداکسی نہ کسی سن سےکرتےہیں۔خواہ سوال سے اس کادورکاتعلق بھی نہ ہو۔ذاتی مشاہدےکی بناپرعرض کرتاہوں کہ ایسےایسےغبی لڑکےجونادرشاہ درانی اوراحمدشاہ ابدالی میں کبھی تمیزنہ کرسکے، آج تک چنگیزخاں کومسلمان سمجھتےہیں، محض اس وجہ سےفرسٹ کلاس آئےکہ انھیں قتل عام کی صحیح تاریخ اورپانی پت کی حافظہ شکن جنگوں کےسن ازبر تھی۔ خود مرزا، جو میٹرک میں بس اس وجہ سےاول آگئےکہ انھیں مرہٹوں کی تمام لڑائیوں کی تاریخیں یادتھیں، پرسوں تک اہلیہ بائی کوشیواجی کی رانی سمجھےبیٹھےتھے۔ میں نےٹوکاتوچمک کربولے:
”یعنی کمال کرتےہیں آپ بھی!اگرشیواجی نےشادی نہیں کی تونانافرنویس کس کالڑکاتھا؟“
ترقی یافتہ ممالک میں مارچ کامہینہ بےحدبہارآفرین ہوتا ہے۔ یہ وہ رت ہےجس میں سبزہ اوس کھاکھاکرہراہوتاہےاورایک طرف دامن صحراموتیوں سےبھر جاتاہےتودوسری طرف
موجہ گل سےچراغاں ہےگزرگاہ خیال
اس تمہیددل پذیرسےمیرایہ مطلب نہیں کہ اس کےبرعکس پس ماندہ ممالک میں اس مست مہینےمیں پت جھڑہوتاہےاور
بجائےگل چمنوں میں کمرکمرہےکھاد
توجہ صرف اس امرکی جانب دلاناچاہتاہوں کہ برصغیرمیں یہ فصل گل آبادی کےسب سےمتصوم اوربےگناہ طبقےکےلیےہرسال ایک نئےذہنی کرب کاپیغام لاتی ہے، جس میں چارسال سےلےکرچوبیس سال کی عمرتک کےسبھی مبتلانظرآتےہیں۔ہمارےہاں یہ سالانہ امتحانوں کاموسم ہوتاہے۔ خداجانےمحکمہ تعلیم نےاس زمانےمیں امتحانات رکھنےمیں کونسی ایسی مصلحت دیکھی،ورنہ عاجزکی رائےمیں اس ذہنی عذاب کےلیےجنوری اورجون کےمہینےنہایت مناسب رہیں گے۔ یہ اس لیےعرض کررہاہوں کہ کلاسیکی ٹریجڈی کےلیےخراب موسم انتہائی ضروری تصورکیاگیاہے۔
بات سےبات نکل آئی،ورنہ کہنایہ چاہتاتھاکہ اب جوپیچھےمڑکےدیکھتاہوںتویک گونہ افسوس ہوتاہےکہ عمرعزیزکی پندرہ سولہ بہاریں اورمیوہ ہائےباغ جوانی اسی سالانہ جانکنی کی نذرہوگئی۔ یادش بخیر!وہ سلوناموسم جس کواگلےوقتوں کی زبان میں ’جوانی کی راتیں،مرادوں کےدن،کہتےہیں،شاہ جہان کےچاروں بیٹوں کی لڑائیاں اورفرانس کےتلےاوپراٹھارہ لوئیوں کےسن ولادت ووفات یادکرنےمیں بسر ہوااورتنہافرانس کاسفرکیامذکور۔برطانیہ کی تاریخ میں بھی چھ عددجارج اور آٹھ آٹھ ایڈورڈاورہنری گزرےہیں،جن کی پیدائش اورتخت نشینی کی تاریخیں یادکرتےکرتےزبان پرکانٹےاورحافظےمیںنیل پڑگئے تھے۔ ان میں ہنری ہشتم سب سےکٹھن اورکٹھورنکلا۔اس لیےکہ اس کی اپنی تخت نشینی کےعلاوہ ان خواتین کی تاریخ وفات بھی یادکرناپڑی جن کو اس نےاپنےاوپرحلال کررکھاتھااورجنھیں باری باری تختہ نصیب ہوا۔
قیاس کہتاہےکہ تاریخی نام رکھنےاورتاریخ وفات کہنےکارواج اسی مشکل کوحل کرنےکی غرض سےپھیلاہوگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی مدد سے حافظے کوایسی تاریخیں یادرکھنےمیں آسانی ہوتی ہے، جن کابھول جاناہی بہترہوتا۔بعض شعراءبہ نظراحتیاط ہرسال اپنا قطعہ تاریخ وفات کہہ کررکھ لیتے ہیں تاکہ مرنےکی سندرہےاوروقت ضرورت پس ماندگان کےکام آئے۔کون واقف نہیں کہ مرزاغالب نےجو مرنےکی آرزومیں مرتےتھے، متعددباراپنی تاریخ رحلت کہہ کرشاگردوں اوقرض خواہوں کوخوامخواہ ہراساں کیاہوگا۔لیکن جب قدرت نےان کومرنےکاایک سنہری موقع فراہم کیاتو یہ کہہ کرصاف ٹال گئےکہ وبائےعام میں مرناہماری کسرشان ہے۔
مارچ 1942 کاذکرہے۔ بی ،اےکےامتحان میں ابھی ایک ہفتہ باقی تھا۔ میں روہیلوں کی لڑائیوں سےفارغ ہوکرمرزاعبدالودودبیگ کےپاس پہنچاتودیکھاکہ وہ جھوم جھوم کرکچھ رٹ رہےہیں۔پوچھا”خیام پڑھ رہےہو؟“
کہنےلگی”نہیں تو!ہسٹری ہے۔“
”مگرآثارتوہسٹیریاکےہیں!“
اپنی اپنی جگہ دونوں سچےتھے۔ انھوں نےغلط نہیں کہا،اگرچہ میرا خیال بھی صحیح نکلاکہ وہ شعرسےشغل فرمارہےہیں۔البتہ شعرپڑھتےوقت چہرے پر مرگی کی سی کیفیت میں نےقوالوں کےسواکسی اورکےچہرےپراس سےپہلےنہیں دیکھے تھے۔ پھرخودہی کہنےلگے ”چلوہسٹری کی طرف تواب بےفکری ہوگئی۔قبلہ ناناجان نےپچاس مشاہیرکی تاریخ ولادت ووفات کےقطعےکہہ کرمیرےحوالےکردئےہیں۔جن میں سے آدھےحفظ کرچکاہوں۔“اس کےبعد انھوں نےتیمورلنگ کی پیدائش اوررنجیت سنگھ کی رحلت کےقطعات بطورنمونہ گاکرسنائے۔
گھرپہنچ کرتخمینہ لگایاتواس نتیجہ پرپہنچاکہ فی کس دوقطعات کےحساب سےاس شاہنامہ ہندکےچارسومصرعےہوئےاوراس میں وہ ذیلی قطعات شامل نہیں جن کاتعلق دیگرواقعات وموضوعات(مثلاًجاناپرتھوی راج کاسوئمبرمیں بھیس بدل کراورلےبھاگناسنجوگتاکوگھوڑےپر۔آنا نادر شاہ کاہندوستان میں واسطےلینےکوہ نورہیرابرابرانڈےمرغابی کے۔ داخل ہوناواجدعلی شاہ کاپہلےپہل مٹیابرج میں معہ چھ بیگمات کےاوریادکرنابقیہ بیگمات کو)یاتاریخی چھٹ بھیوں(ثانوی ہیرو)مثلاً راناسانگا،ہیموں بقال،نظام سقہ وغیرہ سےتھا۔ایک قطعہ میں توضلع جگت پراترآئےتھے۔ یہ اس نیم تاریخی حادثےسےمتعلق تھا،جب نورجہاں کےہاتھ سےکبوتر اڑگیااورجہانگیرنےاس کو(یعنی نورجہان کو)پہلی بار”خصم گیں“ نگاہوں سےدیکھا۔
حالانکہ دماغی طورپرمیں پانی پت کی لڑائیوں میں بری طرح زخمی ہوچکاتھا،لیکن آخری قطعہ کوسن کر میں نےاسی وقت دل میں فیصلہ کرلیا کہ امتحان میں باعزت طریقےسےفیل ہونااس اوچھےہتھیار سےہزار درجہ بہترہوگا۔بہرحال مرزانےایک ہفتےبعداس کلیدکامیابی کوامتحان میں بےدریغ استعمال کیا،جس میں انھیں دودشواریوں کاسامناکرناپڑا۔بڑی دشواری تویہ کاپی میں قطعات اورحروف ابجدکاحساب دیکھ کرکمرہ امتحان کانگراں،جوایک مدراسی کرسچین تھا،بارباران کےپاس لپک کرآتااورسمجھاتا کہ اردوکاپرچہ کل ہے۔مرزاجھنجھلاکرجواب دیتےکہ یہ ہمیں بھی معلوم ہےتووہ نرمی سے پوچھتا کہ پھریہ تعویزکیوں لکھ رہےہو؟پایان کارمرزانےوہیں کھڑے کھڑے اس کوفن تاریخ گوئی اوراستخراج سنین کےرموزونکات سےغلط انگریزی میں آگاہ کیا۔حیرت سےاس کا منہ ٧ کےہندسہ کی ماندپھٹاکاپھٹارہ گیا۔حروف واعدادکوبہکی بہکی نظروں سےدیکھ کرکہنےلگا:
”تعجب ہےکہ تم لوگ ماضی کےواقعات کاپتہ بھی علم نجوم سےلگالیتےہو!“
اس مجسم دشواری کےعلاوہ دوسری دقت یہ ہوئی کہ ابھی پانچوں سوالات کےجملہ بادشاہوں ،راجاؤں اورمتعلقہ جنگو ں کےعدداورسن بہ سہولت تمام نکلےبھی نہ تھےکہ وقت ختم ہوگیااورنگراں نےکاپی چھین لی۔بڑی منت وسماجت کےبعدمرزاکوکاپی پراپنارول نمبرلکھنےکی اجازت ملی۔
جیساکہ عرض کرچکاہوں،مجھےسن یادنہیں رہتااورمرزاکووہ واقعہ یادنہیں رہتاجواس سن سےمتعلق ہو۔فرض کیجئے۔ مجھےکچھ کچھ یادپڑتاہےکہ فرانسیسی انقلابیوں نےکسی صدی کےآخرمیں قلعہ باستیل کامحاصرہ کیاتھا۔ لیکن سن یادنہیں آتا۔اب مرزاکویقینا اتنایادہوگاکہ 1799 میں کچھ گڑبڑ ضرورہوئی تھی۔ لیکن کہاں ہوئی اوراورکیوں ہوئی-یہ وہ بغیراستخارہ کیےنہیں بتاسکتے۔ چنانچہ مارچ 1924 ہی کاذکرہے۔ہم دونوں ایک دوسرےکی کمزوری پرافسوس کررہےتھےاورلقمہ دیتےجاتےتھے۔ وہ اس طرح کہ وہ مجھےروس کہ بیوہ ملکہ کیتھرین اعظم کاسن ولادت اورتاریخ تاج پوشی وغیرہ بتارہےتھےاورمیں ان کواس کےمنہ بولےشوہروں کےنام رٹوارہاتھا۔اچانک مرزابولےیار!
یہ بڑےمرکےبھی چین سےنہیں بیٹھنےدیتی۔
مرنےوالےمرتےہیں لیکن فناہوتےنہیں
میں نےکہا”کارلائل کاقول ہےکہ تاریخ مشاہیرکی سوانح عمری ہے۔“
کہنےلگے ”سچ تو کہتا ہے بچارا! تاریخ بڑے آدمیوں کااعمال نامہ ہےجوغلطی سےہمارےہاتھ تھمادیاگیا۔اب یہ نہ پوچھوکس نےکیاکیا،کیسےکیااورکیوں کیا۔بس یہ دیکھوکہ کب کیا۔“
عرض کیا”دیکھوتم پھرسن اورسمبت کےپھیر میں پڑگئے۔ایک مفکر کہتا ہے٠٠٠٠“
بات کاٹ کر بولے” بھئی تم اپنےاچھےبھلےخیالات بڑے آدمیوں سےکیوں منسوب کردیتےہو؟لوگ غورسےنہیں سنتے۔“
مکررعرض کیا”واقعی ایک مفکرکہتاہےکہ عظیم انقلابات کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی۔تم دیکھوگےزبردست تبدیلیاں ہمیشہ دبےپاؤں آتی ہیں۔تاریخی کیلنڈرمیں ان کاکہیں ذکرنہیں۔سب جانتےہیں کہ سکندرنےکس سن میں کون ساملک فتح کیا۔لیکن یہ کوئی نہیں بتاسکتاکہ بن مانس کون سےسن میں انسان بنا۔اتناتواسکول کےبچےبھی بتادیں گےکہ سیفوکب پیداہوئی اورسقراط نےکب زہرکاپیالہ اپنےہونٹوں سےلگایالیکن آج تک کوئی مورخ یہ نہیں بتاسکاکہ لڑکپن کس دن رخصت ہوا۔لڑکی کس ساعت نایاب میں عورت بنی۔جوانی کس رات ڈھلی۔ادھیڑپن کب ختم ہوااوربڑھاپاکس گھڑی شروع ہوا۔“
کہنےلگے”برادر!ان سوالات کاتعلق تاریخ یونان سےنہیں،طب یونانی سے ہے۔“
سنہ عیسوی سےکہیں زیادہ مشکل ان تاریخوں کایادرکھناہےجن کےبعدمیں ”قبل مسیح “ آتاہے۔اس لیےکہ یہاں مورخیں گردش ایام کوپیچھےکی طرف دوڑاتےہیں۔ان کوسمجھنےاورسمجھانےکےذہنی شیس آسن کرناپڑتاہےجواتنادشوارہےجتناالٹےپہاڑےسنانا۔اس کوطالب علم کی خوشی قسمتی کہیےکہ تاریخ قبل میلادمسیح نسبتاً مختصراورادھوری ہے۔ اگرچہ مورخیںکوشاں ہیں کہ جدیدتحقیق سےبےزبان بچوں کی مشکلات میں اضافہ کردیں۔بھولےبھالےبچوں کوجب یہ بتایاجاتاہےکہ روم کی داغ بیل ٣٥٧ قبل مسیح میں پڑی توننھےمنےہاتھ اٹھاکریہ سوال کرتےہیں کہ اس زمانہ کےلوگوں کویہ پتہ کیسےچل گیاہےکہ حضرت عیسیٰ کےپیداہونےمیں ابھی ٣٥٧ سال باقی ہیں۔ان کی سمجھ میں یہ بھی نہیں آتا کہ ٣٥٧ ق۔م کوساتویں صدی شمارکریں یا آٹھویں ۔عقل منداستادان جاہلانہ سوالات کاجواب عموماً خاموشی سےدیتےہیں۔ آگےچل کہ جب یہی بچےپڑھتےہیں کہ سکندر٦٥٣ق۔م میں پیداہوااور٣٢٣ق ۔م میں فوت ہواتووہ اسےکتابت کہ غلطی سمجھتےہوئےاستادسےپوچھتےہیں کہ یہ بادشاہ پیداہونےسےپہلےکس طرح مرا؟ استادجواب دیتاہےکہ پیارےبچو!اگلےوقتوں میں ظالم بادشاہ اسی طرح مراکرتےتھے۔
کلاسیکی شاعراورانشاپروازکچھ سوچ کرچپ ہوجانےکہ نازک فن سےآشنا ہے۔بالخصوص ان مقامات پرجہاں لطف گویائی کولذت خموشی پرقربان کردینا چاہیے۔ وہ اس ”جادواں ،پیہم دواں،ہردم جواں“ زندگی کووقت کےپیمانوں سےنہیں ناپتااورسن وسال کی الجھنوں میں نہیں پڑتا۔چنانچہ وہ یہ صراحت نہیں کرتاکہ جب مصرکوانطونی نےاورانطونی کوقلوپطرہ نےتسخیرکیاتواس گرم وسیزرچشیدہ ملکہ کی کیاعمرتھی۔شیکسپیئر محض یہ کہہ کرآگےبڑھ جاتاہےکہ وقت اس کےلازوال حسن کےسامنے ٹھہر جاتا ہے، اورعمراس کاروپ اوررس نہیں چراسکتی۔اس کےبرخلاف مورخیں نےدفترکےدفتراس لایعنی تحقیق میں سیاہ کرڈالےہیں کہ اپنےصندلی ہاتھوں کی نیلی نیلی رگوں پراترانےوالی اس عورت کی اس وقت کیاعمرہوگی۔اب ان سےکوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ جب خودانطونی نےامورسلطنت اورسن ولادت کےبارےمیں تجاہل عارفانہ سےکام لیاتو آپ کیوں اپنےکو اس غم میں خواہ مخواہ ہلکان کیے جارہے ہیں؟ اسی طرح جس وقت ہماراانشاپروازاس جنسی جھٹ پٹےکی طرف اشارہ کرناچاہتاہےجب دھوپ ڈھل جاتی ہےمگردھرتی بھیترہی بھیترمیٹھی میٹھی آنچ میں تپتی رہتی ہے، تواپنی پسندکےجوازمیں بس اتناکہہ کرآنکھوں ہی آنکھوں مسکرادیتاہےکہ”چھڑھتی دوپہرسےڈھلتی چھاؤں زیادہ خوش گوارہوتی ہے۔“
اس اعتبارسےان خواتیں کاکلاسیکی طرزعمل لائق تحسین وتقلیدہی،جواپنی پیدائش کی تاریخ اورمہینہ ہمیشہ یادرکھتی ہیں۔لیکن سن بھول جاتی ہیں۔
اوریہ واقعہ ہےکہ حافظہ خراب ہوتوآدمی زیادہ عرصہ تک جوان رہتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہےکہ وقت احساس بذات خودایک آزارہے، جس کواصلاحاً بڑھاپا کہتےہیں۔ڈاکٹرجانسن نےغلط نہیں کہا”یوں تومجھےدو بیماریاں ہیں- دمہ اورجلندھر۔لیکن تیسری بیماری لاعلاج ہےاوروہ ہےعمرطبعی!“ لیکن غور کیجئے تو عمربھی ضیمراورجوتےکی مانندہے،جن کی موجودگی کااحساس اس وقت تک نہیں ہوتاجب تک وہ تکلیف نہ دینےلگیں۔ میں یہ ثابت کرنےکی کوشش نہیں کررہاکہ اگرسن پیدائش یادرکھنےکارواج بیک گردش چرخ نیلوفری اٹھ جائے، توبال سفیدہونےبندہوجائیں گے۔یااگرکیلنڈرایجادنہ ہواہوتاتوکسی کےدانت نہ گرتے۔ تاہم اس میں کلام نہیں کہ جس شخص نےبھی ناقابل تقسیم رواں دواں وقت کوپہلی بارسکینڈ،سال اورصدی میں تقسیم کیا،اس نے انسان کوصحیح معنوں میں پیری اورموت کاذائقہ چکھایا۔وقت کوانسان جتنی بارتقسیم کرےگا،زندگی کی رفتاراتنی ہی تیزاورنتیجہ موت اتنی ہی قریب ہوتی جائےگی۔اب جب کہ زندگی اپنےآپ کوکافی کےچمچوں اورگھڑی کی ٹک ٹک سےناپتی ہے، تہذیب یافتہ انسان اس لوٹ کرنہ آنےوالےنیم روشن عہد کی طرف پیچھےمڑمڑکردیکھتاہے، جب وہ وقت کاشماردل کی دھڑکنوں سےکرتاتھااورعروس نورات ڈھلنےکااندازہ کانوں کےموتیوں کے ٹھنڈے ہونے اور ستاروں کےجھلملانےسےلگاتے تھے :
نہ گھڑی ہےواں نہ گھنٹہ نہ شماروقت وساعت
———————-
Intekhab E Kalam Saleem Ahmad
Articles
انتخابِ کلام سلیم احمد
سلیم احمد
دلوں میں درد بھرتا آنکھ میں گوہر بناتا ہوں
جنہیں مائیں پہنتی ہیں میں وہ زیور بناتا ہوں
غنیم وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے
میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں
پرانی کشتیاں ہیں میرے ملاحوں کی قسمت میں
میں ان کے بادباں سیتا ہوں اور لنگر بناتا ہوں
یہ دھرتی میری ماں ہے اس کی عزت مجھ کو پیاری ہے
میں اِس کا سر چھپانے کے لیے چادر بناتا ہوں
یہ سوچا ہے کہ اب خانہ بدوشی کر کے دیکھوں گا
کوئی آفت ہی آ تی ہے اگر میں گھر بناتا ہوں
میرے خوابوں پے جب تِیرہ شبی یلغار کرتی ہے
میں کِرنیں گوندھ کر چاند سے پیکر بناتا ہوں
2
جس کا انکار بھی انکار نہ سمجھا جائے
ہم سے وہ یارِطرحدار نہ سمجھا جائے
اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے
تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے
اب جو ٹھہری ہے ملاقات تو اس شرط کے ساتھ
شوق کو درخورِ اظہار نہ سمجھا جائے
نالہ بلبل کا جو سنتا ہے تو کھل اُٹھتا ہے گل
عشق کو مفت کی بیگار نہ سمجھا جائے
عشق کو شاد کرے غم کا مقدر بدلے
حسن کو اتنا بھی مختار نہ سمجھا جائے
بڑھ چلا آج بہت حد سے جنونِ گستاخ
اب کہیں اس سے سرِ دار نہ سمجھا جائے
دل کے لینے سے سلیمؔ اُس کو نہیں ہے انکار
لیکن اس طرح کہ اقرار نہ سمجھا جائے
ترک ان سے رسم و راہِ ملاقات ہو گئی
یوں مل گئے کہیں تو کوئی بات ہو گئی
دل تھا اُداس عالمِ غربت کی شام تھی
کیا وقت تھا کہ تجھ سے ملاقات ہو گئی
رسمِ جہاں نہ چھوٹ سکی ترکِ عشق سے
جب مل گئے تو پُرسشِ حالات ہو گئی
خو بُو رہی سہی تھی جو تجھ میں خلوص کی
اب وہ بھی نذرِ رسمِ عنایات ہو گئی
وہ دشتِ ہول خیز وہ منزل کی دھن وہ شوق
یہ بھی خبر نہیں کہ کہاں رات ہو گئی
کیوں اضطراب دل پہ تجھے آ گیا یقیں
اے بدگمانِ شوق یہ کیا بات ہو گئی
دلچسپ ہے سلیمؔ حکایت تری مگر
اب سو بھی جا کہ یار بہت رات ہو گئی
ہر چند ہم نے اپنی زباں سے کہا نہیں
وہ حال کون سا ہے جو تونے سنا نہیں
ایسا بھی اب نہیں ہے کہ نازِ صبا اُٹھائیں
محفل میں دیکھتا ہے تو پہچانتا نہیں
یوں بھی ہزار روگ ہیں دل کو لگے ہوئے
پھر اس پہ یہ ملال کہ وہ پوچھتا نہیں
کتنا دیارِ درد کا موسم بدل گیا
تجھ کو نگاہِ ناز ابھی کچھ پتہ نہیں
تو بدگماں سہی پہ کبھی مل سلیمؔ سے
یہ امرِ واقعہ ہے کہ دل کا بُرا نہیں
جنابِ دل کی بھی خوش فہمیاں بلا کی ہیں
اسی سے داد کے طالب ہیں جس سے شاکی ہیں
جو چپ رہے ہیں کبھی لب بنازِ خوش گوئی
تو اس نگاہ نے ہزار ہا باتیں کی ہیں
خبر تو زُلف کی کچھ دے تری گلی کی ہوا
کہ الجھنیں تو وہی جانِ مبتلا کی ہیں
تمہارے حسن کی باتیں بھی لغزشیں ٹھہریں
تو لغزشیں یہ محبت میں با رہا کی ہیں
Telegram by Jogindar Paul
Articles
ٹیلی گرام
جوگندر پال
جوگندر پال 5 ستمبر 1925ء کو سیالکوٹ، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ تقسیم ہند کے وقت بھارت آگئے۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی تاہم ان کی ابتدائی اور وسطانوی تعلیم اردو ذریعہ تعلیم سے مکمل ہوئی اور یہی ان کے ادبی اظہار خیال کی زبان بنی۔
جوگندر نے ایم اے انگریزی ادب میں کیے اور پیشہ درس وتدریس سے جڑگئے۔ وہ مہاراشٹر کے ایک پوسٹ گریجویٹ کالج کے پرنسپل کے طور پر وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔
جوگندر کی تخلیقات میں دھرتی کا کال (1961ء)، میں کیوں سقیم؟ (1962ء)، کھودو بابا کا مقبرہ (1994ء)، پرندے (2000ء) (سبھی افسانے)، نہیں رحمان بابو (افسانوں کا مجموعہ جس میں کچھ دوسطری تھے)، آمدورفت (1975ء)، بیانات (1975ء) (دو مختصر ناول)، بے محاورہ (1978ء)، بے ارادہ (1981ء)، نادید (1983ء)، خواب رو (1991ء) (دونوں ناول) زیادہ مشہور ہوئے تھے۔
22 اپریل ، 2016ء کو جوگندر پال کا انتقال ہوگیا۔
—————————————————-
ٹیلی گرام
پچھلے بارہ برس سے شیام بابو تار گھر میں کام کر رہا ہے، لیکن ابھی تک یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ بے حساب الفاظ برقی تاروں میں اپنی اپنی پوزیشن میں جوں کے توں کیوں کر بھاگتے رہتے ہیں، کبھی بدحواس ہو کر ٹکرا کیوں نہیں جاتے؟ ٹکرا جائیں تو لاکھوں کروڑوں ٹکراتے ہی دم توڑ دیں اور باقی کے لاکھوں کروڑوں کی قطاریں ٹوٹ جائیں تو وہ اپنی سمجھ بوجھ سے نئے رشتوں میں منسلک ہو کر کچھ اس حالت میں ری سیونگ سٹیشنوں پر پہنچیں “بیٹے نے ماں کو جنم دیا ہے سٹاپ مبارک باد!” یا “چوروں نے قانون کو گرفتار کر لیا ہے۔” یا “افسوس کہ زندہ بچہ پیدا ہوا ہے۔”یا ہاں اس میں کیا مضائقہ ہے؟ شیام بابو مشین کی طرح بے لاگ ہو کر میکانکی انداز میں برقی پیغامات کے کوڈ کو رومن حروف میں لکھتا جا رہا ہے لیکن اس مشین کے اندر ہی اندر ان بوکھلائی ہوئی انسانی سوچوں کا تالاب بھر رہا ہے کیا مضائقہ ہے؟ جیسی زندگی، ویسے پیغام “کرتا ہوں سٹاپ کشور ” اس نے کسی کشور کے تار کے کوڈ کے آخری الفاظ کاغذ پر اتار لئے ہیں اور وہ اس بات سے برآمد ہوتے ہوئے ایک ایک لفظ کو قلم بند کرتا جائے۔ سوچنا سمجھنا اس کا کام ہے جس کے نام پیغام موصول ہوا جب دھیرج کو کوئی پکارے تو آواز کو تو سارا ہجوم سن لیتا ہے لیکن صرف دھیرج ہی مڑ کر دیکھتا ہے کہ کیا ہے خلاف معمول نہ معلوم کیا سوچ کر شیام بابو تار کا مضمون پڑھنے لگا ہے “شادی روک لو سٹاپ۔ میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں سٹاپ کشور ۔” وہ ہنس پڑا ہے وہ دوسرے ہنگامے میں۔ بے چارہ تھوڑی سی محبت کر کے باقی محبت کرنا بھول گیا ہو گا، مگر اب کوئی راہ نہیں سوجھ رہی ہے تو باقی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر محبت ہی محبت کئے جانے کا اعلان کر رہا ہے۔ محبت ہی محبت کرنے سے کیا ہوتا ہے بے بی؟ طلاق، ڈارلنگ! طلاق ہو جائے مگر محبت قائم رہے۔
اور۔شیام بابو ایک اور تار کا یہ مضمون پڑھنے لگا ہے آپ کی باپ کی موت کی خبر پا کر مجھے بے حد دکھ ہوا ہے شیام بابو پھر ہنس دیا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، اپنے باپ کی موت پر مجھے اتنا افسوس ہوا ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔
تو کیوں کر رہے ہو بھائی؟”\ تاکہ میرا رونا نکل آئے۔ آیئے، آپ بھی میرے ساتھ رویئے۔
سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ بندروں کو چپ کیسے کرایا جائے۔ سب کے سب روتے ہی چلے جا رہے ہیں۔
ارے بھائی، کیوں رو رہے ہو؟
مجھے کیا پتہ؟ اس سے پوچھو۔
تم ہی بتا دو بھائی، کیوں رو رہے ہو؟
مجھے کیا پتہ؟ اس سے پوچھو۔
تم؟” مجھے کیا پتہ؟
تم تو آخری بندر ہو بھائی بتاؤ، کیوں رو رہے ہو؟”\ بس یوں ہی سوچا کہ ذرا فرصت میسر آئی ہے تو ایک بار جی جان سے رولوں۔ میرا ایک کام کیجئے۔ آپ کو زحمت تو ہو گی، مگر میرے رونے کو کسی تگڑی سی الم ناک خبر میں پیش کرنے کے لئے ایک ارجنٹ ٹیلی گرام کا ڈرافٹ تیار کر دیجئے۔ لکھئے میری ماں مر گئی ہے ٹھہریئے، وہ تو غریب اسی روز مر گئی تھی جب بیوہ ہوئی تھی۔ اس دن سے ہم نے اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا لکھئے! میرا بھائی مرگیا ہے ہاں، یہی لکھئے مگر نہیں، سب کو معلوم ہے کہ ہماری آپس میں بالکل نہیں بنتی میری بہن نہیں، وہ تو پہلے ہی مر چکی ہے میں ارے ہاں! یہی لکھئے، میں ہی مرگیا ہوں۔ مجھے سب کو فوری طور پر خبر کرنا ہے کہ میں ہی مرگیا ہوں۔
مبارک باد پیش کرتا ہوں سٹاپ شیام بابو کے خود کار قلم نے جلدی جلدی لکھا اور وہ اپنی تحریر سے بے خبر سا سوچ رہا ہے، مجھے دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ میں زندہ ہوں۔ میں زندہ ہوں تو یہ میز بھی زندہ ہے جس پر جھک کر میں اپنا کام کئے جا رہا ہوں۔ چونکہ یہ میز کھائے پئے سوئے بغیر زندہ رہ سکتی ہے۔ اس لئے اس کی ڈیوٹی یہ ہے کہ ہمارے دفتر کے اس کمرے میں چوبیس گھنٹے خدمت بجا لانے کے لئے اپنی چاروں ٹانگوں پر کھڑی رہے اور مجھے چونکہ اپنی مشین کی ٹک ٹک کو بھی چلائے رکھنا ہوتا ہے اس لئے میرے لئے یہ آرڈر ہے کہ آٹھ گھنٹے یہاں ڈٹ کرکام کرو او ر باقی وقت میں اپنی مشین کی دیکھ بھال کے سارے دھندے سنبھالو ہاں، یہی تو ہے۔ میں جیتا کہاں ہوں؟ دفتر میں تو صرف پروڈیکشن کا کام ہے۔ مشین چلنا بند ہو جائے تو پروڈیکشن پر برا اثڑ پڑے گا۔ اس لئے سارے دفتری ٹائم میں تو مشین یہاں چلتی رہتی ہے اور اس کے بعد مجھے ہر روز ساری مشین کو کھول کر صاف کرنا پڑتا ہے، اس کی آئیلنگ گریزنگ کرنا پڑتی ہے، اس کے ایک ایک ڈھیلے پرزے کو کسنا پڑتا ہے۔۔اور یہ سارا کام بھی مجھے اکیلے ہی انجام دینا ہوتا ہے۔
پچھلے ساڑھے سات برس سے، جب سے شیا م بابو کی شادی ہوئی ہے، اس کی بیوی وہیں اپنے ماں باپ کے گاؤں میں ان ہی کے ساتھ رہ رہی ہے۔ شادی کے موقع پر وہ اس کی ڈولی اٹھوا کر گاؤں سے باہر تولے آیا، لیکن پھر جب سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کہاں لے جائے تو ڈولی کا مونسہ واپس گاؤں کی طرف مڑوا لیا یہ تم نے بہت اچھا کیا بیٹا اس کی ساس نے کہا تھا کہ ایک بار ہماری بیٹی کو گاؤں سے باہر لے گئے۔ کم سے کم رسم تو پوری ہو گئی۔ اب چاہو تو بے شک ساری عمر یہیں رہے۔ یہ گھر بھی تو اسی کا ہے لیکن اس کا کوئی اپنا گھر کیوں نہیں جہاں اسے وہ لے آتا تو اس میں بوئی ہوئی انسانیت کی آبیاری ہوتی رہتی۔
شروع شروع میں تو شیام با بو کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ سوتے میں بھی بیوی کے گاؤں کا رخ کئے ہوتا تم گھبراؤ نہیں سنیہ دتی۔ میں دن رات کرائے پر کوئی اچھا سا کمرہ لینے کی مہم میں جٹا ہوا ہوں۔ جیسے ہی کوئی مل گیا، تمہیں اسی دم یہاں لے آؤں گا مگر برا ہو اس بڑے شہر کا، جو اپنے چھوٹے دل میں ایک کے اوپر ایک کئی کمرے بنائے ہوئے ہے مگر اتنی اونچائی پر رہائش کے کرائے کے خیال سے اسے یہاں رہنے کی بجائے یہاں سے لڑھک کر خود کشی کی سوجھتی ہے۔ پورے ساڑھے سات برس اسی طرح گزر گئے ہیں۔ وہ میاں اور بیوی ساڑھے پانچ سو میل کے فاصلے پر وہاں۔ شیام بابو تین سو پینسٹھ دن تک اپنی بیس دن کی ارنڈ لیو کا انتظار کرتا رہتا اور وقت آنے پر گاڑیوں، بسوں اور تانگوں کو بدل بدل کر وہ گویا اپنے دو پیروں سے سرپٹ بھاگتے ہوئے وہاں جا پہنچتا اور اس کی خواہش اتنی شدید ہوتی کہ اپنی تیار بیٹھی ہوئی بیوی پر وہ بے اختیار کسی درندے کی طرح ٹوٹ پڑتا۔ ایک دو تین سال تک تو وہ ہر سال گیا، لیکن چوتھے سال عین چھٹی کے دنوں میں وہ بیمار ہو گیا، پھر پانچویں سال جو جانا ہوا تو اس کے بعد ڈھائی سال میں ایک بار بھی نہیں جا سکا۔ جو پیسے وہاں جانے میں ضائع ہوں گے۔ ان میں سے آدھے بھی منی آرڈر کرا دوں گا تو بیسیوں کام نکال لے گی ہاں، اس کا ایک دو سالہ لڑکا بھی ہے جس کے بارے میں اس کی بیوی نے اسے لکھا تھا کہ وہ اسے اپنی پانچویں سال کی چھٹی پر اس کی کوکھ میں ڈال آیا تھا ؒ لیکن شیام بابو اپنا حساب کتاب کر کے اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اس کا بیٹا اس کا بیٹا نہیں۔ شاید اسی وجہ سے ڈھائی سال کے اس عرصے میں وہ ایک بار بھی اس کے پاس نہیں گیا تھا لیکن اس سلسلے میں اس نے بیوی کو کبھی کچھ نہیں لکھاجو ہے سو ٹھیک ہےوہ بھی کیا کرے؟ اور میں بھی کیا کروں؟کبھی اچھے دن آ گئے تو سب اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا۔
اسے اور اس کے ہمارے بچے کو اس کا ہوا تو ہم دونوں کا ہی ہوا یہیں اپنے پاس لے آؤں گا اور پھر ہم چین سے رہیں گے، بڑے چین سے رہیں گے۔
اس کے دفتر کا کوئی ساتھی اس کا کندھا جھٹک رہا ہے۔ مشین میں شاید کوئی نقص پیدا ہو گیا ہے اور وہ رکی پڑی ہے شیام بابو!
آں ں! شیام بابو نے ہڑبڑا کر اپنی آنکھیں کھول لی ہیں۔
طبیعت خراب ہے تو گھر چلے جاؤ۔
کون سا گھر؟ نہیں ٹھیک ہوں، یوں ہی ذرا اونگھنے لگا تھا ٹک ٹک ٹک ٹک!مشین پھر چلنے لگی ہے۔ تمہارے لئے پانی منگواؤں؟”
ارے بھائی، کہہ دیا نا، ٹھیک ہوں۔
اس کے ساتھی نے تعجب سے اس کے کام پر جھکے ہوئے سر کی طرف دیکھا ہے اور اپنے کام میں الجھ گیا ہے۔
شیام بابو کو اپنا جی اچانک بھر ابھرا سا لگنے لگا ہے۔ عام طور پر تو یہی ہوتا ہے کہ اسے اپنی خوشی کی خبر ہوتی ہے نہ اداسی کی۔ اسے بس جو بھی ہوتا ہے بے خبری میں ہی ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور یوں ہی سب کچھ بخوبی ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ بے خبر سا اپنے آپ دفتر میں آ پہنچتا ہے اور اسی حالت میں سارے دن قلم چلا چلا کر اپنے ٹھکانے پر لوٹ آتا ہے اور پھر دوسرے دن صبح کو عین ویسے کا ویسا ڈیوٹی پر آ بیٹھتا ہے۔ یعنی معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کون ہے، کیوں ہے، کیا ہے؟ کوئی ہو تو معلوم بھی ہو اس دن تو حد ہو گئی؛ وہ یہاں اپنی سیٹ پر بیٹھا ہے اور اس کا باس یہاں اس کے قریب ہی کھڑا پوچھ رہا ہے، بھئی، شیام بابو آج کہاں ہے؟”\شیام بابو شیام بابو!شیام بابو یقینی طور پر اس کی آواز سن رہا ہے، مگر سن رہا ہے تو فوراً، جواب کیوں نہیں ہیں دیتا۔س سر!ایسے بھولے بھٹکے چہرے شاید ہماری آنکھوں میں ٹھہرنے کی بجائے روحوں میں لڑھک جاتے ہیں۔ ان سے مخاطب ہونا ہو تو اپنے ہی اندر ہولو، اپنی ہی تھوڑی سے جان سے انہیں زندہ کرلو، ورنہ یہ تو جیسے ہیں ویسے ہی ہیں۔
گوشت کو رگوں میں خون دوڑنے کی اطلاع ملتی رہے تو یہ زندہ رہتا ہے، ورنہ بے خبری میں مٹی ہو جاتا ہے۔ جب شیام بابو کی اپنی زندگی بے پیغام ہے تو اسے کیسے محسوس ہو کہ ٹیلی گراموں کے ٹیکسٹ برقی کوڈ کی اوٹ میں کھلکھلا کر ہنس رہے ہیں، یا دھاڑیں مار مارکر رو رہے ہیں، یا تجسس سے اکڑے پڑے ہیں۔ سوکھی مٹی کے دل پر آپ کچھ بھی لکھ دیجئے، اسے اس سے کیا؟ شیام بابو کو اس سے کیا، کہ کوئی کسے کیا پیغام بھیج رہا ہے؟ اس کی قسمت میں تو کسی کا پیغام نہیں، محبت کا یا نفرت، خوشی یا غم کا اسے کیا؟ ٹیلی گراموں کے گرم گرم ٹیکسٹ کا کوڈ اس کے ٹھنڈے قلم سولی سے لٹک کر سپاٹ سی صورت لئے کاغذ پر ڈھیر ہوتا رہتا ہے یہ لو، الفاظ تو نرے الفاظ ہیں، بس الفاظ ہیں، الفاظ کیوں ہنسیں یا روئیں گے؟ ان کو پڑھ کے ہنسو، روؤ، یا جو بھی کرو، تم ہی کرو یہ لو!
لیکن اس وقت یہ ہے کہ شیام بابو کو اپنا جی یک بارگی بہت بھرا بھرا لگنے لگا ہے۔ سوچوں کا تالاب شاید بھر بھر کے اس کے دل تک آپہنچا ہے اور وہ انجانے میں تیرنے لگا ہے اور سوکھی مٹی میں جان پڑنے لگی ہے۔
سٹاپ میں بدیس سے لوٹ آیا ہوں سٹاپ اور عین اس وقت صاحب کے چپراسی نے اس کی آنکھوں کے نیچے ہیڈ آفس کا ایک لیٹر رکھ دیا ہے۔ اس نے لیٹر پر نظر ڈالی ہے اور پھر چونک کر خوشی سے کانپتے ہوئے اسے دوبارہ پڑھنے لگا ہے۔ اسے سرکاری طور پر اطلاع دی گئی ہے کہ تمہارے نام دو کمروں کا کوارٹر منظور ہو گیا ہے!
کیدار بابو جمیلکشن!ادھر دیکھو دوستو۔ دیکھو، میرا کیا لیٹر آیا ہے؟”
کیا کیا ہے؟
میرا کوارٹر منظور ہو گیا ہے!
تو کیا ہوا؟ہائیں، کیا کہا کوارٹر منظور ہو گیا ہے؟!ہاں!
بہت اچھا!بہت اچھا! سب کے لئے چائے ہو جائے شیام بابو!
ارے چائے ہی کیا، کچھ ادھارے دے سکتے ہو تو جو چاہو منگوا لو۔
ہاں، تم فکر نہ کرو۔ میں سارا بندوبست کئے دیتا ہوں یہ تو بہت ہی اچھا ہو گیا شیا م بابو!راموادھر آؤ رامو، جاؤ ہوٹل والے کو بلا لاؤ جاؤاب بھابی کو کب لا رہے ہو شیام بابو؟
آج چھٹی کی درخواست دے کر ہی جاؤں گا کیدار بابو! شیا م بابو قصور میں اپنے کوارٹر میں بیٹھا کھانا کھا رہا ہے اور اس کے کندھوں پر اس کا لڑکا کھیل رہا ہے کیا نام ہے اس کا؟دیکھو نا، دماغ پر زور ڈالے بغیر اپنے اکلوتے بچے کا اپنا ہی تو ہے نام بھی یاد نہیں آتا۔ کوئی بات نہیں شکر اور دودھ کھلتے ملتے ہی گاڑھے اور میٹھے ہو جاتے ہیں اری سن رہی ہو بھلی لوگ؟ اگلی چپاتی کب بھیج وگی؟ دفتر کے لئے دیر ہو رہی ہے۔
لو، شیام بابو، ہوٹل والا تو آگیا ہے بس ایک ایک چاٹ، ایک ایک گلاب جامن اور کیا؟ ایک ایک سموسہ چلے گا نا شیام بابو؟لکھو ہمارا آرڈر بھائی پر نانند!
شیام بابو کو پتہ ہی نہیں چلا ہے کہ دفتر میں باقی سارا وقت کیسے بیت گیا ہے۔ وہاں سے اٹھنے سے پہلے اس نے سب ساتھیوں سے وعدہ کیا ہے کہ کل سویرے وہ ان سب کو ان کی بھابی کی تصویر دکھائے گا۔
اتنی بھولی ہے کہ ڈرتا ہوں اس شہر میں کیسے رہے گی۔
ڈرو مت شیام بابو۔ بھابی کو لانا ہے تو اب شیرببر بن جاؤ۔
دفتر سے نکل کر تیز تیز قدم اٹھائے ہوئے شیام بابو چوراہے پر آگیا ہے اور پان اور سگریٹ لینے کے لئے رک گیا ہے اور پھر تمباکو والے پان کا لعاب حلق سے اتارتے ہوئے نتھنوں سے سگریٹ کا دھواں بکھیرتے ہوئے ہلکی ہلکی سردی میں حدت محسوس کرتے وہ بڑے اطمینان سے اپنے رہائش کے اڈے کی طرف ہولیا ایک چھوٹی سی کھولی جس میں مشکل سے ایک چارپائی آتی ہے۔ ابھی پچھلے ہی مہینے خان سیٹھ نے اسے دھمکی دی تھی۔ بھاڑے کے دس روپے بڑھاؤ، نہیں تو چلتے بنو ہاں!
چوہے کے اس بل کا کرایہ پہلے ہی پچاس روپے وصول کرتے ہو خان سیٹھ۔ اپنے خدا سے ڈرو!
لیکن خان سیٹھ نے اپنے خدا کو ڈرانے کے لئے ایک بھیانک قہقہہ لگایا بلی شریف نہ ہوتی بابو، تو بولو، کیا ہو جاتا؟ ساٹھ روپے، نہیں تو خالی کرو ہاں!
اسی مہینے خالی کر دوں گا اور سیٹھ سے کہوں گا، لو سنبھالو اپنی کھولی خان سیٹھ۔ تمہاری قبر کی پورے سائز کی ہے لو!نہیں جھگڑے وگڑے کا کیا فائدہ؟ چپکے سے اس کی کھولی اس کے حوالے کر کے اپنی راہ لوں گا۔
بس سٹاپ آگیا ہے اور بس بھی کھڑی ہے، لیکن بہت بھری ہوئی ہے۔ شیام بابو نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ پیدل ہی جائے گا۔ یہاں سے تھوڑا ہی فاصلہ تو ہے اس کا سگریٹ جل جل کر انگلیوں تک آ پہنچا ہے، لیکن ابھی اس کی خواہش نہیں مٹی ہے۔ اس نے ہاتھ کا ٹکڑا پھینک کر ایک اور سگریٹ سلگا لیا ہے ساوتری کو میری سگریٹ پینا بالکل پسند نہیں پیسے بھی جلاتے ہو اور پھیپھڑے بھی۔ اس سے تو اچھا ہے میرا ہی ایک سرا جلا کر دوسرے کو ہونٹوں میں دبا لو اور دھواں چھوڑتے جاؤ! میرا مزہ کیا سگریٹ سے کم ہے؟ اری بھلی لوگ، ایک تمہارا ہی مزہ تو ہے۔ سگریٹ وگریٹ کی لت کو گولی مارو آؤ!اس نے خیال ہی خیال میں بیوی کو سینے سے لگا لیا ہے اور مخالف سمت سے آتی ہوئی ایک عورت سے ٹکرا گیا ہے، گویا اس کی ساوتری نے اس سے الگ ہونے کے لئے اپنے آپ کو جھٹکا ہوارے! اس نے اندھے پن میں اپنا ہاتھ اس عورت کی طرف پھیلا دیا ہے ایڈی اٹ! وہ عورت غصے سے پھنکارتی ہوئی آگے بڑھ گئی ہے اور شیام بابو شرمندہ ہو جانے کے باوجود خوش خوش ہے اور عورت کی پیٹھ کی طرف مونہہ لٹکا کر اس نے بہ آواز بلند کہا ہے۔ آئی ایم ساری میڈم لیکن اس عورت کی پھنکار پھر اس کے بند کانوں کے باہر ٹکرائی ہے۔ ایڈی اٹ!
شیام بابو اپنے ذہن کو جھاڑ رہا ہے اور اڑتی ہوئی گرد میں اس کی بیوی زور زور سے ہنس رہی ہے اور ٹکراؤ پرائی عورتوں سے! ایک میں ہوں جو بلا روک ٹوک ساری دراز دستیاں سہہ لیتی ہوں۔ میں اور کی طرف ذرا نظر اٹھا کر دیکھوں کسی اور کی طرف ذرا نظر اٹھا کر تو دیکھوںکسی اور کی طرف دیکھنے کی مجھے ضرورت ہی کیا ہے؟ میرے لئے تو بس جو بھی ہو تم ہو شیام بابو نے اپنے آپ کو ڈانٹ کر کہا ہے نیں، تم نے اپنی بیوی کے ماتھے پر خواہ مخواہ کلنک کا ٹیکہ لگا رکھا ہے۔ تمہارا بچہ تمہارا ہی ہےاور اگر مان بھی لیں کہ وہ تمہارا نہیں، تو اس میں ساوتری کا کیا دوش؟ اس کا سارا سال تمہاری ارنڈ لیو کے دس بیس روز کا تو نہیں چل سب ٹھیک ہے، میرا بچہ میرا ہی ہے ہمارے نیٹو کی آنکھیں اس کی طرح چھوٹی چھوٹی ہیں۔ ماتھ مجھ پرگیا ہے، مگر ناک میں بھی کیسا باپ ہوں کہ دو سال اوپر کا ہولیا ہے مگر میں نے ابھی تک اسے ایک بار بھی نہیں دیکھا۔ پچھلے سال مجھے ایک چکر کاٹ آنا چاہئے تھا آج چھٹی کی درخواست دینا بھی بھول گیا ہوں۔ اب کل پہلا کام یہی کروں گا اور اس ہفتے کے آخر میں یہاں سے نکل جاؤں گا ساوتری کو چٹھی بھی نہ لکھوں گا اور اچانک اس کے سامنے جاکھڑا ہوں گا ساوتری!اور وہ آنکھیں مل مل کر میری طرف دیکھتی رہ جائے گی ساوتری وہ رو دے گی یہ مجھے کس کی آواز سنائی دی ہے۔ہائے اب تو اٹھتے بیٹھتے تمہاری ہی صورت دکھائی دیتی ہے نیٹو کے باپو۔ اب تو آ جاؤ!میں آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لوں گا اور وہ میرے بازوؤں میں بے ہوش ہو جائے گی۔ ساوتری! ساتری!اپنی کھولی کے سامنے پہنچ کر اس نے بے اختیار اپنی بیوی کا نام پکارا ہے لیکن وہاں اس کے تارگھر کے رامو نے آگے بڑھ کر اسے جواب دیا ہے بابوجی؟”
ارے رامو، تم!کیسے آئے؟شیام بابو اپنے حواس درست کر رہا ہے۔ بابوجی!رامو کی آواز بھاری ہے اور وہ بولتے ہوئے تامل برت رہا ہے۔
اتنے اکھڑے اکھڑے کیوں ہو؟بولو نا!
آپ کا تار لایا ہوں۔
میرا تار؟” ہاں بابوجی، یہ تار آپ کے ہاتھ سے ہی لکھا ہوا ہے، مگر آپ کا دھیان ہی نہیں گیا کہ آپ کا ہے۔ تار کا لفافہ ایک طرف سے کھلا ہے لیکن شیام بابو اسے دوسری طرف سے چاک کر رہا ہے۔ ڈسپیچ والے کشن سنگھ کو بھی خیال نہ آیا شیام بابو، کہ یہ تار آپ کا ہے۔
شیام بابو نے تار کا فارم کھول کر دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کے سامنے فٹ کر لیا ہے۔
مجھے بھی آدھا راستہ طے کر کے اچانک خیال آیا بابوجی، ارے، یہ تار تو اپنے بابوجی کا ہے میں اسے پڑھ چکا ہوں۔ بہت افسوس ہے کہ ساوتری نے خودکشی کر لی ہے سٹاپ
