Mutala-e- Chakbast Ki Ek Nai Jehat

Articles

مطالعہ ٔ چکبستؔ کی ایک نئی جہت

ڈاکٹرجمال رضوی

مطالعہ ٔ چکبستؔ کی ایک نئی جہت

پنڈت برج نرائن چکبستؔ کا شمار نشاۃ الثانیہ کی اردو شاعری کے قابل ذکر شعرا میں ہوتا ہے۔ عددی اعتبار سے چکبستؔ کا شعری سرمایہ گرچہ مختصر ہے لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے قوم پرستی اور حب وطن کو اپنی شاعری کا بنیادی موضوع بنایا اور اس موضوع کی تشریح و توضیح مختلف حوالوں سے کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ انسان کی کامیابی و کامرانی کا راز وطن کی ترقی میں مضمر ہے۔ چکبستؔ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے لیکن انھوں نے غزلیں اور رباعیات بھی کہی ہیں۔چکبست ؔ کی شاعری اپنے عہد کے سیاسی و سماجی حالات و مسائل کا بیانیہ ہے لیکن انھوں نے ان موضوعات کو جس انداز میں برتا ہے ایک حد تک ان کی معنویت آج بھی باقی ہے ۔ چکبستؔ کا شمار اردو کے ان چند شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے قلیل سے شعری سرمایہ کے باوصف نمایاں شہرت حاصل کی۔چکبستؔ کی زندگی کے شب و روز بھی محض ۴۴؍ برس کی مدت پر محیط ہیں اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے اگر ان کی عمر طویل ہوتی تو ان کا شعری سرمایہ بھی نسبتاً زیادہ ہوتا۔ چکبستؔ کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کی شاعری کا آغاز نظم گوئی سے ہوا۔ انھوں نے مشق سخن کا آغاز ۱۸۹۴ء میں اس نظم سے کیا تھا جو کشمیری پنڈتوں کی سوشل کانفرنس کے چوتھے اجلاس میں پڑھی گئی تھی جبکہ پہلی غزل انھوں نے ۱۹۰۸ء میں کہی تھی۔ اردو کی شعری روایت پر نظر ڈالیں تو ایسے شعرا بہت کم تعداد میں ملیں گے جن کی شاعری کا آغاز موضوعاتی شاعری سے ہوا ہو۔ بیشتر شعرا ، شاعری کا آغاز عموماً غزل سے کرتے ہیں اور بعد ازاں شاعری کی دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ غالباً یہی سبب ہے کہ اردو شعرا کا ذکر کرتے ہوئے بیشتر نے اس طرح کے روایتی جملے لکھے ہیں کہ ’’ شاعری کا آغاز غزل گوئی سے ہوا اور بعد میں نظمیں بھی لکھیں ۔‘‘ چکبستؔ کے بارے میں بھی ادبی تاریخ کے بعض مرتبین نے اسی روایت کو باقی رکھا جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اردو ادب کی تاریخ مرتب کرنے والوں میں نورالحسن نقوی کا بھی شمار ہوتا ہے اور ان کی کتاب ’’ تاریخ ادب اردو‘ کو مستند کتاب مانا جاتا ہے۔نقوی صاحب نے بھی چکبستؔ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ چکبستؔ نے روایتی انداز سے شاعری شروع کی اور غزلیں بھی کہیں مگر جلد ہی طبیعت کا اصلی رجحان غالب آگیا۔ وہ نظم گوئی کی طرف متوجہ ہو گیے اور وطن پرستی کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔‘‘ ؎۱اسی طرح چکبستؔ کی جائے پیدائش بھی مذکورہ کتاب میں غلط درج ہے لیکن جو عبارت ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلطی مرتب کی نہیں کاتب کی ہے۔ عبارت اس طرح ہے:’’ برج نرائن کے بزرگوں کا وطن لکھنؤ تھا لیکن ان کی ولادت ۱۸۸۲ء میں لکھنؤ میں ہوئی ۔‘‘ ؎۲
چکبستؔ کی شاعری میں موضوعات کا تنوع نہیں ہے لیکن زبان و بیان پر ان کی ماہرانہ قدرت انھیں اردو کے چند نمایاں شعرا میں جگہ دیتی ہے۔ ان کی شاعری پر انیسؔ اور غالبؔ کا رنگ بہت گہرا ہے اور بعض مقامات پر آتشؔ کا پرتو بھی نظر آتا ہے۔ بعض ناقدین نے تو چکبستؔ کو انیسؔ و غالبؔ کا خوشہ چیں تک کہا ہے۔ پروفیسر شبیہ الحسن نے اپنے مضمون ’’ مرانیسؔ کی خوشہ چینی اور ان کے خوشہ چین‘ میں چکبستؔ کو واضح طور پر انیسؔ کا خوشہ چیں قرار دیتے ہوئے لکھا ہے’’ چکبستؔ کی منظر نگاری ہر چند کہ انیسؔ کی منظر نگاری کے مقابلے میں کارچوب کی الٹی سمت ہے لیکن اسلوب و خاکہ میر انیسؔ کا ہی رکھتی ہے۔‘‘ ؎۳میرانیسؔ کی منظر نگاری کے علاوہ انیسؔ کی شاعری کے رزمیہ عنصر نے بھی چکبستؔ کو بہت گہرائی تک متاثر کیا تھا اور چکبستؔ کی بعض نظموں میں اس کی باز گشت صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ شعری اسلوب کے معاملے میں بھی چکبستؔ، انیسؔ و غالبؔ سے بہت زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ خصوصاً ان کی نظموں میں بعض مصرعوں میں ہوبہو انیسؔ کا رنگ نمایاں ہے۔ نظمیہ شاعری میں چکبستؔ نے صرف اسلوب کی سطح پر ہی انیسؔ سے استفادہ نہیں کیا بلکہ ہیئت بھی بیشتر وہی اختیار کی جو انیسؔ کے مرثیوں کی ہے۔غزلوں میں چکبستؔ نے بیشتر غالبؔ سے استفادہ کیا ہے اور کئی غزلیں ان کی زمین میں کہی ہیں جس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
چکبستؔ کے سیاسی و سماجی تصورات سے اختلاف کے باوصف اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حب وطن اور قوم پرستی ان کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھی۔ ان کی زندگی تصنع اور ظاہر پرستی سے مبرا تھی اور ان کی شخصیت کو بجا طور پر مشرقی اقدار حیات کا آئینہ دار کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف شاعری بلکہ عملی طور پر بھی اصلاح معاشرہ کے لیے صالح کوششیں کیں۔ چکبستؔ کشمیری مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے عمر بھر سرگرم عمل رہے ۔ جہاں تک ان کے سیاسی و سماجی تصورات کی بات ہے تو اس میں اتنا عمق اور وسعت نہیں جو ہندوستان جیسے کثیر مذہبی و ثقافتی ملک کے لیے بہت زیادہ کار آمد ثابت ہو۔وہ ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت کے مخالف تھے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر انگریز ہندوستانیوں کے استحصال سے باز آجائیں اور ملکی نظام ہندوستانیوں کے سپرد کردیں تو ان کے یہاں رہنے پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ سیاست اور سماج کے متعلق ان کا نظریہ بہت سیدھا اور سپاٹ تھا جو کہ بیسویں صدی کے پیچیدہ ہندوستانی معاشرہ کے لیے بہت موزوں نہیں کہا جا سکتا۔
چکبستؔ ہندوستان کے قومی وثقافتی تشخص پر فخر کرنے کے ساتھ ہی نئی تہذیب کے صالح اور کار آمد عناصر کو بھی قبول کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ وہ نئے زمانے کی ان ایجادات سے بھی استفادہ کرنے کا مشورہ دیتے تھے جو کہ انسانی تمدن کی تاریخ میں ترقی کے نئے باب وا کریں۔ وہ صنعتی انقلاب اور سائنسی ایجادات کے مثبت پہلوؤں پر زور دیتے تھے ۔ اس معاملے میں ان کا انداز فکر اکبر ؔ الہ آبادی سے مختلف تھا۔ اکبرؔ نے مغربی تہذیب کی پروردہ عریانیت اور فحاشی کو ہدف بنانے کے علاوہ ان تمام چیزوں کی مخالفت کی جو مغرب کے ذریعہ ہندوستان میں آئی تھیں اور انگریزی تعلیم بھی ان میں شامل تھی۔چکبستؔ نے نہ صرف جدید تعلیم کے حصول پر زور دیا بلکہ ان فرسودہ روایات کی پرزور مخالفت بھی کی جن سے ترقی کی راہ مسدود ہوتی تھی۔ بحیثیت شاعر چکبستؔ کو اردو کے ان شعرا میں شمار کیا جا سکتا ہے جن کے شعری افکار کا محور وطن پرستی اور قوم پرستی ہے۔ چکبستؔ کی شعری کائنات کی تشکیل میں ان دو اجزا کے علاوہ جو تیسرا عنصر ہے وہ مظاہر قدرت کا بیان ہے۔چکبستؔ کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے حالیؔ اور آزادؔ کی ان اصلاحی کوششوں کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا جن کی وجہ سے اردو شاعری اسلوب اور موضوع ہر دو اعتبار سے نیا قالب اختیار کر رہی تھی ۔ ان اصلاحی کوششوں میں آورد، تصنع اور مبالغہ کو معیوب قرار دیا گیا تھااور ایسی شاعری کو بہتر اور معیاری کہا گیا تھا جس میں انسان اور سماج کا حقیقی عکس نظر آئے۔ چکبست ؔ کی شاعری انسانی سماج کا حقیقی عکس نظر تو آتا ہے لیکن انھوں نے جس مخصوص زاویہ سے معاشرہ کا مشاہدہ کیا تھا اسے مجموعی حقیقت نہیں کہا جا سکتا ۔
شاعر کی حیثیت سے چکبستؔ کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کی مشق سخن کا آغاز موضوعاتی شاعری سے ہوا تھا۔ ۱۸۹۴ء میں ۱۲؍ برس کی عمر میں انھوں نے ایک نظم ’ حب قومی‘ کے عنوان سے لکھی تھی ۔ اس نظم میں وطن پرستی اور قومی یکجہتی پرزور دیتے ہوئے کشمیری افراد کو تلقین کی گئی ہے کہ اتحاد و اتفاق سے ہی زندگی کامیاب و کامراں ہوتی ہے۔ یہ نظم گرچہ چکبستؔ کی پہلی کاوش ہے لیکن اس کے بعض اشعار فن شاعری سے ان کی کماحقہ واقفیت کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں ۔ مثلاً:
لطف یکتائی میں جو ہے وہ دوئی میں ہے کہاں
برخلاف اس کے جو ہو سمجھو کہ وہ دیوانہ ہے
نخل الفت جن کی کوشش سے اگا ہے قوم میں
قابل تعریف ان کی ہمت مردانہ ہے
نظموں کی بہ نسبت غزلیہ شاعری کی طرف چکبستؔ کی توجہ تاخیر سے ہوئی۔ ان کی پہلی غزل ۱۹۰۸ء کی ہے ۔اس طرح نظم نگاری میں تقریباً ۱۵؍ برس تک مختلف موضوعات کو ضبط قلم میں لانے کے بعد وہ غزل کی طرف متوجہ ہوئے۔ نظم اور غزل کے علاوہ چکبستؔ نے رباعیات بھی کہی ہیں ۔ چکبستؔ کا مجموعہ ٔ کلام ’صبح وطن‘ کے نام سے ۱۹۲۶ء میں ان کے انتقال کے بعد شائع ہوا تھا جس پر سر تیج بہادر سپرو نے مقدمہ لکھا تھا۔ ان کے مجموعہ ٔ کلام کی اشاعت کے سلسلے میں ڈاکٹر عطیہ نشاط نے چکبستؔ کے ڈراما’ کملا‘ کے مقدمے میں اور سرراس مسعود نے ’انتخاب زریں‘ میں لکھا ہے کہ اس کی اولین اشاعت ۱۹۱۸ء میں ہوئی تھی۔ اس مجموعے میں شامل کلام اور چکبستؔ کی دیگر شعری تخلیقات کو یکجا کر کے کالی داس گپتا رضاؔ نے ۱۹۸۱ء میں ’کلیات چکبستؔ‘ شائع کیا تھا۔ اس کلیات میں نظموں کی تعداد ۴۵؍، غزلیں ۴۴؍ اور ۱۰؍ رباعیات شامل ہیں۔
کلیات چکبستؔ میں شامل ۱۰؍ رباعیات میں سے ایک رباعی ان کی وکالت کے ابتدائی دنوں کے حالات کی ترجمانی کرتی ہے:
کرسی سے عیاں جنبش یک پائی ہے
میز ایسی ہے گویا کہ پڑی پائی ہے
منشی کا ہے خطرہ نہ موکل کا گزر
آفس بھی عجب گوشہ ٔ تنہائی ہے
ایک رباعی میں پنڈت رتن ناتھ سرشار کے انتقال پر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے چکبستؔ نے لکھا ہے:
سرشارِ فصح و نکتہ پرور نہیں رہا
سرمایہ ٔ نازِ اہل جوہر نہیں رہا
اعجاز قلم کے جس کے سب قائل تھے
وہ نثر کا اردو کی پیمبر نہیں رہا
غالباً یہ رباعی ۱۹۰۲ء کی تخلیق ہے کیوں کہ اسی سن میں سرشار کا انتقال حیدرآباد میں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ باقی ۸؍رباعیوں میں دنیا کی بے ثباتی ، زندگی میں عزم وعمل کی اہمیت، قوم کی ناعاقبت اندیشی ، معاشرتی زندگی میں حلم، مروت، خلق و اخلاص اور محبت کی ضرورت کو موضوع بنایا ہے۔چکبستؔ کی غزلوں میں بھی بیشتر یہی موضوعات نظر آتے ہیں۔ان کی غزلوں پر غالبؔ اور آتشؔ کا رنگ نمایاں ہے۔ انھوں نے کئی غزلیں ان شعرا کی زمین میں کہی ہیں۔ چکبستؔ کی غزلوں کی زبان پر کلاسیکی شعرا کا رنگ غالب ہے لیکن موضوع کے اعتبار سے ان کی غزلیں ماقبل اور معاصرین شعرا کے درمیان اپنی انفرادیت قائم کرتی ہیں۔چکبستؔ کی غزلوں میں عشق کا روایتی تصور نظر نہیں آتا بلکہ یہ وہ عشق ہے جو انسان کو کچھ ایسا کارہائے نمایاں کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو اس کے ، اس کی قوم اور اس کے وطن کی سرخروی کا ضامن بنے۔
چکبستؔ کی غزلوں میں عشق کا بیان وطن اور قوم سے محبت کے حوالے سے ہی بیشتر ہوا ہے۔ ان کی غزلوں میں جس عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ محبوب کے قرب کا خواہاں ہونے کے بجائے وطن کی محبت سے سرشار اور کی ترقی و نیک نامی کا متمنی ہے۔ اگر کسی غزل میں چکبستؔ نے قیس و فرہاد اور لیلیٰ و شریں کا ذکر کیا بھی ہے تو وہ روایتی اندا ز میں ہے۔ اس قبیل کے اشعار اس امر کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ شاعر اردو کی شعری روایت کو نبھانے کی غرض سے عشق کا بیان ان تمثیلات کے حوالے سے کر رہا ہے۔ چکبستؔ نے وطن اور قوم سے وابستہ اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار جن اشعار میں کیا ہے وہاں ان کی تخلیقیت اپنے فطری پن کے ساتھ نظر آتی ہے۔ وطن سے محبت کا یہ عالم ہے کہ چکبستؔ کو خود اپنی بھی پروا نہیں رہتی :
قوم کا غم مول لے کر دل کا یہ عالم ہوا
یاد بھی آتی نہیں اپنی پریشانی مجھے
چکبستؔ کی بیشتر غزلوں میں یہی تخلیقی رجحان نظر آتا ہے۔
انسان کی حیات اور موت کے متعلق چکبستؔ کا وہ مشہور شعر جوان کی شاعری میں ایک ناگزیر حوالے کی حیثیت رکھتا ہے وہ بھی غالبؔ کی زمین میں ہے ۔یہ غزل ۱۹۰۹ء کی تخلیق ہے۔ اس غزل کا مطلع غالبؔ کے مطلعے کا جواب معلوم ہوتا ہے بلکہ چکبستؔ نے غالبؔ کے خیال کی تردید کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ آدمی کا انسان ہونا کوئی مشکل امر نہیں ہے اس کے لیے بس کچھ صفات کو اپنی ذات کا جزو بنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن خیال کی جو سطح غالبؔکے مطلعے میں ہے چکبستؔ اس سطح تک نہیں پہنچ پائے۔ چکبستؔ کا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ زندگی اور معاملات زندگی کے بارے میں ایک مثالی تصور قایم کر لیتے تھے اور پھر اسی تصور کو شعری پیکر عطا کر دیتے تھے۔بعض اوقات ان کے قایم کردہ تصورات انسان کی ذات اور اس کے متعلقات سے بالکل برعکس بھی ہوتے ہیں اور یہی کچھ اس غزل کے مطلعے میں بھی ہے۔پہلے غالبؔ کی غزل کا مطلع دیکھیے:
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
اب چکسبتؔ کا مطلع ملاحظہ ہو:
دردِ دل، پاسِ وفا، جذبہ ٔ ایماں ہونا
آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا
غالبؔ کا مطلع فطرت انسانی کی نیرنگیوں کی جانب اشارہ کرتا ہے ۔ چکبستؔ کا مطلع غالبؔ کے مطلعے کی معنویت اور بہ ظاہر سادہ سے شعر میں خیال کی نزاکت اور تہہ داری کو مزید نمایاں کر دیتا ہے۔ چکبستؔ نے انسان ہونے کے لیے جن صفات کا ذکر کیا ہے ان سے متصف اشخاص بھی اکثر ایسے کام کر گزرتے ہیں جو انسانیت کے منافی ہوتے ہیں۔ غالبؔ نے مصرعہ ٔ اولیٰ میں ’ہر کام‘ کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسانی اعمال کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا۔ غالبؔ نے اس شعر کے ذریعہ ان اسباب و محرکات کے اثرات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو مختلف حالات کے تحت انسان کی شخصیت پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔
چکبستؔ کی غزلوں میں اصلاح ذات و معاشرہ اور قوم و وطن پرستی کے علاوہ جو موضوع اپنی طرف متوجہ کرتا ہے وہ منظر نگاری خصوصاً مظاہر قدرت کی عکاسی ہے۔ ان کی غزلوں کے علاوہ نظموں میں بھی یہ موضوع اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے۔ اس قبیل کی شاعری سے ان کی مشاہداتی قوت کا پتہ چلتا ہے ۔ وہ جس منظر کو بیان کرتے ہیں اس کی واضح تصویر نظروں میں پھر جاتی ہے۔ انھوں نے غزلوں میں اکثر ایسے اشعار کہے ہیں جو کسی منظر کو بیان کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں ان کی غزل جس کی ردیف ہی ’ بہار ‘ ہے قابل ذکر ہے۔ یوں تو اس غزل کے تمام شعر بہار کی مختلف کیفیات کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن ذیل کے شعر کو منظریہ شاعری میں امیجری کی بہترین مثال کہا جا سکتا ہے:
عکسِ مہ قطرہ ٔ شبنم میں ہے شبنم گل پر
پردہ ٔ شب میں چمک اٹّھی ہے تقدیر بہار
بہار کے حوالے سے صبح کے سماں کا بیان اردو کے اکثر شعرا کے یہاں ملتا ہے لیکن رات کے حوالے سے یہ ذکر چکبستؔ کی انفرادیت ہے۔ حالیؔ نے شاعر کے اوصاف بیان کرتے ہوئے مطالعہ ٔ کائنات کے جس نکتے کو اپنے مقدمے میں بیان کیا ہے وہ چکبستؔ کی اس قبیل کی شاعری میںجابجا نظر آتا ہے۔ چکبستؔ کی غزلوں کو اردو کی کلاسیکی شعری روایت کی ایک کڑی کہا جا سکتا ہے۔ ان کی غزلیہ شاعری کا ڈھانچہ انھیں لوازم سے تعمیر ہوتا ہے جو فارسی شاعری کے ذریعہ اردو میں آئے تھے۔ چکبستؔ کی غزلوں کی تفہیم کے لیے اردو غزل کی روایت ، اس روایت سے وابستہ تصورات اور ان تصورات کی ترجمانی کرنے والی مخصوص زبان سے واقفیت ضروری ہے۔
چکبست ؔ کی اصل شہرت ان کی نظموں کی وجہ سے ہے ۔ ان کی نظموں کو ہندوستان کی قومی شاعری میں نماماں مقام حاصل ہوا۔یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ چکبستؔ کی شاعری کا آغازہی موضوعاتی شاعری سے ہوا تھا ۔ صنف نظم سے ان کی رغبت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ انھوں نے شاعری کے ذریعہ جن مقاصد کے حصول کو نصب العین بنایا تھا اس کے لیے وہی شاعری موزوں ہو سکتی تھی جس میں اپنی بات کو اشاروں اور کنایوں میں کہنے کے بجائے تشریح و توضیح کے ساتھ بیان کیا جائے۔ چکبستؔ کی شاعری بحیثیت مجموعی مقصدی شاعری ہے لیکن نظموں میں یہ رنگ نسبتاً زیادہ نمایاں ہے۔ان کی نظمیہ شاعری کے بین السطور شاعری سے متعلق حالیؔ کے اس تصور کو محسوس کیا جا سکتا ہے جس کی رو سے شاعری گرچہ براہ راست یا قصداً اخلاق کی تربیت یا سماج کی اصلاح کا فریضہ نہیں انجام دیتی لیکن معیاری شاعری کے ذریعہ ان مقاصد کی بھی تکمیل ہوتی ہے۔ ہر چند کہ شاعر معلم اخلاق نہیں ہوتا لیکن سماج کے ایک فرد کی حیثیت سے ملک و معاشرہ سے وہ بالکل لاتعلق ہو کر بھی نہیں رہ سکتا۔ اس اعتبار سے چکبستؔ کے یہاں یہ شعوری کوشش نظر آتی ہے کہ ملک و معاشرہ سے مسلسل ربط قائم رکھتے ہوئے وہ ان کی بہتری کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ اپنی پہلی نظم ’ حب قومی‘ میں چکبستؔ نے قوم سے اپنے والہانہ لگاؤ کا ذکر بڑے خلوص کے ساتھ کیا ہے ۔ اس کے بعد دوسری تصنیف ’ جلوہ ٔ صبح‘ (۱۸۹۸ء)میں صبح کی آمد کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے ۔ اس نظم میں چکبستؔ نے جس کمال فن کے ساتھ جزئیات نگاری کو برتا ہے وہ ان کی مشاہداتی قوت اور پھر خیالات و جذبات کی موزوں زبان میں شعری تجسیم کی بہترین مثال ہے۔یہ نظم مسدس کی ہیئت میں ہے اور اس کے بعض بند اس صبح کا منظر پیش کرتے ہیں جو انیسؔ کے مرثیوں میں نظر آتی ہے۔ ذیل کے دو بند میں چکبستؔ نے مصرعوں کی ترتیب و تنظیم میں جن الفاظ کا انتخاب کیا ہے وہ ان کے افکار پر انیسؔ کے اثر کی واضح عکاسی کرتے ہیں:
والشمس تھا کندہ شہ خاور کے نگیں پر
واللیل کا باقی تھا نشاں بھی نہ کہیں پر
تھی مہر کی پھیلی جو ضیا چرخ بریں پر
آنے لگا رہ رہ کے وہی نور زمیں پر
ذروں کا ستارہ بھی چمکتا نظر آیا
پیمانہ ٔ خورشید چھلکتا نظر آیا
وہ صبح کا عالم وہ چمن زار کا عالم
مرغانِ ہوا نغمہ زنی کرتے تھے باہم
ہنگام سحر بادِ سحر چلتی تھی پیہم
آرام میں سبزہ تھا تہ چادر شبنم
ہر سمت بندھی نعرہ ٔ بلبل کی صدا تھی
غنچوں کی نسیم سحری عقدہ کشا تھی
اس نظم میں چکبستؔ نے جو استعارے اور تراکیب استعمال کی ہیں وہ بھی طرز انیسؔ سے اثرپذیری کا صاف پتہ دیتی ہیں۔ صبح صادق کے وقت آسمان کا دامن ستاروں سے خالی ہونے کا نقشہ کھینچتے ہوئے چکبستؔ نے ایک نادر ترکیب’ خرمن انجم‘ استعمال کی ہے۔ یہ ترکیب نظم کے پہلے بند کی بیت کے مصرعہ ٔ ثانی میں آئی ہے اور مصرعہ ٔ اولیٰ میں نور سحر کی آمد کو بجلی سے تشبیہ دے کر چکبستؔ نے خرمن انجم کی ترکیب کی معنویت کو واضح کردیا ہے:
جب زنگِ شبِ آئینہ ٔ ہستی ہوا دور
ہنگام سحر کون و مکاں ہوگیے پرنور
تبدیل ہوئی صورت کوہ شب دیجور
چمکا وہ تجلّے سحر سے صفت طور
بجلی کی طرح چرخ پر نور سحر آیا
آنکھوں کو نہ پھر خرمن انجم نظر آیا
’جلوۂ صبح‘ کے بعد چکبستؔ کی دوسری اہم نظم ’ مرقع ٔ عبرت‘ ہے ۔ یہ نظم بھی ۱۸۹۸ء کی تخلیق ہے۔ کلیات چکبستؔ کے مرتب کالی داس گپتا رضا کے مطابق اس نظم کے ۵۲؍ بند اکتوبر ۱۹۰۵ء کے ’زمانہ‘ میں شائع ہوئے تھے اور پھر جب یہ نظم ’ صبح وطن‘ میں شائع ہوئی تو اس میں ۹؍ بندوں کا اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ نظم خصوصی طور سے انجمن نوجوانانِ کشمیر کی کانفرنس کے لیے کہی گئی تھی۔ اس طویل نظم کا آغاز بہت کچھ انیسؔ کے طرز پر ہے جس میں شاعر اپنے سخن کی مقبولیت کی خواہش کرتے ہوئے اپنی قادرالکلامی کے مستند ہونے کا ذکر کرتا ہے۔اس کے بعد کشمیر کے خوبصورت مناظر کو بیان کرتے ہوئے چکبستؔ نے اپنی قوم اور خصوصاً نوجوانوں کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس نظم میں چکبستؔ نے ان کشمیری نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے جنھیں اپنے وطن کو چھوڑ کر ملک کے مختلف علاقوں کو اپنا مستقر بنانا پڑا تھا۔ ان نوجوانوں کی بے عملی پر طنز کرتے ہوئے چکبستؔ نے کہا تھا کہ عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنے حالات و مسائل سے آگاہی اور ان کے تدارک کے لیے مخلصانہ سعی کرنا لازمی ہے۔ کسی قوم کی حالت زار کو تبدیل کرنے کے لیے دولت کو لازمی قرار دیتے ہوئے چکبستؔ نے کئی بندوں میں دولت کے مثبت و منفی استعمال سے انسانی سماج کو ہونے والے فوائد اور نقصانات بیان کیے ہیں ۔اس طرز کے دو بند ذیل میں ملاحظہ کریں:
۱۔ کوشش کبھی زر دار کی جاتی نہیں بے سود
رہتا ہے سدا سایہ فگن طالع ٔ مسعود
انسان کی نیت میں اگر شر نہ ہو موجود
زر ہاتھ میں اس کے ہے کلید در مقصود
کب گوہر امید کو رولا نہیں اس نے
تھا کون سا در بند جو کھولا نہیں اس نے

۲۔ لیکن وہ زر و مال نہیں قابل تحسیں
انساں کو بنا دے جو شکم پرور و خود بیں
زردار وہ ہے جس میں شرافت کے ہوں آئیں
ہو بزم ِ محبت کے لیے باعثِ تزئیں
سرسبز رہے قوم، یہ انعام ہو اس کا
باراں کی طرح فیض کرم عام ہو اس کا
اس نظم کے علاوہ اور بھی کئی نظمیں چکبستؔ نے مذکورہ کانفرنس میں پڑھنے کے لیے کہی تھیں۔ان نظموں کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے احیا کے لیے بہت فکر مند تھے اور اس کے لیے وہ شاعری کے علاوہ عملی طور پربھی کوشش کرتے رہتے تھے۔انھوں نے کشمیری مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے عملی طور پر بہت سے کام کیے۔
چکبستؔ کی نظمیہ شاعری کے سرمایہ میں ایسی نظموں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے جس میں شاعر نے وطن سے اپنی محبت کا اظہا ر کیا ہے۔ اس قبیل کی نظموں میں سیاسی و سماجی حوالوں نیز تاریخ ہند کی سربرآوردہ شخصیات کا ذکر کرنے کے علاوہ منظریہ شاعری کے بھی بہترین نمونے پیش کیے ہیں۔وطن پرستی کے جذبات کی عکاسی کرنے والی ۲؍ایسی نظمیں بھی چکبستؔ کے شعری سرمایہ میں شامل ہیں جو خصوصی طور سے بچوں کے لیے کہی تھی۔ ان نظموں کے عنوانات ‘وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک‘ اور ’ہمارا وطن دل سے پیارا وطن‘ ہیں۔ اس کے علاوہ لڑکیوں کے لیے ایک نظم ’ پھول مالا‘ کے عنوان سے لکھی تھی۔ اس میں بھی زبان کے استعمال میں چکبستؔ نے فنکارانہ مہارت کا اظہار کیا ہے لیکن اپنی مشہور زمانہ نظم ’رامائن کا ایک سین‘ میں وہ کردار اور حالات کے حسب حال زبان کا استعمال کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اس نظم پر بارہا یہ اعتراض کیا گیا کہ اس نظم کی تخلیق کے دوران چکبستؔ پوری طرح انیسؔ کے فنکارانہ طلسم میں اسیر نظر آئے۔ انھوں نے رام چندر جی کے بن باس پر جانے اور اپنی والدہ سے رخصت ہونے کا جو منظر بیان کیا ہے اس میں رام کے اجودھیا چھوڑ کر جانے سے زیادہ مراثی ٔ انیسؔ میں گروہ حسینی کے کسی جوان کے میدان کارزار میں جانے کا تاثر زیادہ نمایاں ہے۔
چکبستؔ کی سنجیدہ شاعری میں اکثر مقامات پر مزاح کا رنگ نظر آتا ہے۔ اس رنگ کے ہونے کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بیشتر نظموں میں سماج یا انسانی رویہ کو ہدف بنایا اور پھر اس کے اظہار کے لیے جو طرز اختیار کیا اس میں طنز کے ساتھ ساتھ مزاح بھی ہے۔ لیکن چکبستؔ نے باقاعدہ طور پر ظریفانہ رنگ میں ایک نظم ’ لارڈ کرزن سے جھپٹ‘ کہی تھی۔ یہ نظم ادوھ پنچ کے ایڈیٹر منشی سجاد حسین کی فرمائش پر کہی گئی تھی۔ اس نظم میں چکبستؔ نے لارڈ کرزن کی قابلیت پر سوال کرتے ہوئے اسے انگریزی حکومت کا ایک ناائل افسر قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شخصیات پر ان کی نظمیں خصوصاً مسز اینی بسنٹ کے نام، مہادیو گووند رانا ڈے، گوپال کرشن گوکھلے اور بشن نرائن درؔ پر لکھی گئی نظمیں فکر و فن ہر دو لحاظ سے قابل ذکر ہیں۔
چکبستؔ کی شاعری کے متعلق بعض ارباب ادب کی رائے ہے کہ حالیؔ وآزادؔ کی اصلاحی کوششوں کا رنگ ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہے اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے تخلیق شعر کا جو انداز اختیار کیا تھا اس پر بھی حالیؔ کے مقدمہ ٔ شعر و شاعری میں بیان کردہ شعری اصولوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ شعر و ادب کے ایسے رمز شناسوں کا اصرار ہے کہ بہترین اور معیاری شاعری کے لیے حالیؔ نے سادگی، جوش اور اصلیت کی جو شرط قایم کی ہے وہ چکبستؔ کے کلام میں بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن چکبستؔ کی شاعری کے سلسلے میں اسے کلیہ نہیں قرار دیا جا سکتا کیوں کہ بعض نظموں میں اگر یہ لوازم نظر آتے ہیں تو دیگر کئی میں اس کے برعکس تصنع اور مبالغہ شاعر کے مافی الضمیر کے ترسیلی عمل کو متاثر کرتا ہے۔ چکبستؔ نے حب قوم اور وطن پرستی کے موضوع کو مختلف حوالوں سے نظموں میں بیان کیا ہے اور اس موضوع کا تقاضا بھی یہ تھا کہ اس کی شعری تجسیم میں ان لوازم کو مد نظر رکھا جائے لیکن اس مرحلے پر چکبستؔ اکثر جذباتی ہیجان کا شکار ہو گیے ہیں جس کی وجہ سے شاعری میں بیان کردہ حقائق بھی اصلی لگنے کے بجائے بناوٹی محسوس ہوتے ہیں۔
چکبستؔ کی شاعری میں جوش کی فراوانی تو ایک حد تک ہے لیکن اصلیت اور سادگی خال خال ہی نظر آتی ہے۔ قوم اور وطن کی محبت پر آمادہ کرنے والے اشعار میں انداز بیان پر جوش ہونا ضروری بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اصلیت اور سادگی بھی لازمی ہوتی ہے۔ ان میں سادگی کا تعلق بڑی حدتک اسلوب شاعری سے ہوتا ہے ۔ شاعر کا طرز بیان ہی شعر کو سادہ یا پرتکلف بناتا ہے ۔ اس سلسلے میں کہا جا سکتا ہے کہ چکبستؔ نے جس شعری ماحول میں تربیت پائی تھی وہاں شاعری میں سادگی کو بہت زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ غدر کے بعد لکھنؤ کے حالات یکسر تبدیل ہو گیے تھے اور شاعری میں بھی وہ روایتیں اب باقی نہیں رہی تھیں جو کہ اس دبستان کا امتیاز سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن اس عہد میں بھی شاعری کو بڑی حد تک مرصع سازی سمجھا جاتا تھا۔ یہی سبب ہے کہ چکبستؔ اور ان کے معاصرین لکھنوی شعرا کے یہاں بھی شعر میں ظاہری حسن پیدا کرنے کے لیے نادر تشبیہیں، استعارات اور تراکیب و ضع کرنے کا رجحان نظر آتا ہے ۔ چکبستؔ کی شاعری بھی اس رجحان سے متاثر نظر آتی ہے وہ کسی ایک خیال کو بیان کرتے وقت مختلف زاویہ سے اس کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیںاور اس کے لیے وہ تشبیہ، استعارہ اور تمثیل کا سہارا لیتے ہیں جن کی وجہ سے شعر میں ظاہری حسن تو پیدا ہوتا ہے لیکن سادگی اور اثر پذیری متاثر ہونے کے علاوہ بعض اوقات شاعر کے بیان میں تضاد کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے ان کی دو نظموں خاک ہند (۱۹۰۵ء)اور فریاد قوم(۱۹۱۴ء)کا ذکر بطور خاص کیا جا سکتا ہے۔ ان نظموں میں چکبستؔ نے وطن اور قوم کے حالات بیان کرتے ہوئے تاریخ ہند کی جن چند اہم شخصیات کا ذکر کیا ہے ان میں مغل حکمراں اکبر بھی شامل ہے۔ پہلی نظم میں وہ اکبر کو ہندوستان میں محبت و الفت کو رواج دینے والے حکمراں کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن دوسری نظم میں جس انداز میں اکبر کا ذکر ہے وہ اولذکر کے برعکس نظر آتا ہے۔
ان نظموں سے چکبستؔ کے تاریخی شعور کی عدم پختگی کا بھی اظہار ہوتاہے۔ وہ ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے نمایاں کارناموں سے صرف نظر کرتے ہوئے ہند کی عظمت کو صرف اپنے ہم مسلک حکمرانوں سے منسوب کرتے ہیں۔ یہ عمل ایک طرح سے تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے اور ہندوستان جیسے ملک کی ترقی کے خواہاں شاعر کے افکار کی محدودیت اور تنگ نظری اسے سچا محب وطن بنانے کے بجائے ایک ایسے شاعر کے طور پر منعکس کرتی ہے جو ہذہبی عقیدت کے دائرے سے باہر نہیں نکلنا چاہتا۔ ان کی نظموں میں جوش اور ولولہ تو ہے لیکن اکثر ان کا حقائق سے سروکار نہیں ہوتا۔ اس کی ایک نمایاں مثال ان کی نظم ’گائے‘(۱۹۱۲ء) ہے۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق گائے ایک مقدس جانور ہے اور اس کے وجود سے ایک ماں کی محبت و شفقت ظاہر ہوتی ہے ۔ ہندو اپنے مذہبی عقیدے کی بنا پراس کی پوجا بھی کرتے ہیں۔ یہاں مذہبی عقیدے سے بحث نہیں چکبستؔ کی ا س نظم میں دوچیزوں کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اول یہ کہ گائے کا ذکر کرتے ہوئے بعض مقامات پر اس قدر مبالغہ آرائی کی گئی ہے کہ وہ گائے کے بجائے ایسی مخلوق نظر آتی ہے جس کے مرتبے کا اندازہ ذہن انسانی کے حدود سے باہر ہے ۔گائے نے نوع انساں کو کس طرح فائدہ پہنچایا اس نظم میں اسے بیان کرنے کے علاوہ چکبستؔنے گائے سے خود کے مستفید ہونے کا ذکر اس قدر مبالغہ آمیز زبان میں کیا ہے جس کا حقیقت سے تعلق بہت کم رہ جاتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بند ملاحظہ ہو:
میرے دل میں ہے محبت کا تری سرمایا
ماں کے دامن سے ہے بڑھ کر مجھے تیرا سایا
یاد ہے فیض طبیعت نے جو تجھ سے پایا
عین قسمت جو ترا نام زباں پر آیا
اس حلاوت سے داعوائے سخن گوئی ہے
دودھ سے تیرے لڑکپن میں زباں دھوئی ہے
درج بالا بند کے دوسرے مصرعے میں چکبستؔ کا مبالغہ غلو کی حد تک پہنچ گیا ہے۔ اس نظم سے متعلق جو دوسری اہم بات ہے وہ یہ کہ گرچہ نے چکبستؔ نے براہ راست مسلمانوں کو ہدف نہیں بنایا ہے لیکن نظم کے بین السطور میں اس کو محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وہ گائے کے ذبیحہ کے متعلق انگریزوں کے ذریعہ پیدا کیے گیے تنازع کے دام میں پوری طرح گرفتار ہیں۔ ۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے انگریزوں نے اس تنازع کو بھی استعمال کیا تھا۔
چکبست ؔنے غزلوں اور نظموں میں جس طرح کے موضوعات منتخب کیے ان کا بیشتر تعلق سماج اور سیاست سے رہا ہے۔ انھوں نے ان موضوعات کو کامیابی کے ساتھ برتنے کی کوشش بھی کی لیکن ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت کو مد نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ ان کی فکر میں وہ وسعت نہیں تھی جو کہ ہندوستان جیسے تکثیری ملک کے لیے ضروری ہے۔شاعری کو اعتبار تبھی حاصل ہوتا ہے جب شاعر ایسے تحفظات سے بالاتر ہو کر کسی بھی موضوع یا مسئلے کے تمام تر پہلوؤں کا غیر جانب داری کے ساتھ جائزہ لے۔اس ضمن میں چکبستؔ کے ہی ہمعصر اقبال ؔ کا ذکر کیا جا سکتا ہے جن کی شاعری کا بنیادی موضوع گرچہ مسلمانوں کے حالات و مسائل تھے لیکن انھوں نے قوم کے علاوہ وطن کا ذکر بھی اسی انداز میں کیا ہے اور خاص طور سے ہندوستانی تہذیب و تمدن سے وابستہ ان کے شعری افکار میںعصبیت یا جانب داری نہیں نظر آتی ۔چکبست ؔسیاست کا بھی اتنا پختہ شعور نہیں رکھتے تھے جتنا کہ اکبر آلہ آبادی اور حسر ت موہانی کے یہاں نظر آتا ہے۔ وہ وطن کی محبت کے نغمے تو گاتے ہیں لیکن ان نغموں میں بھی صرف ایک مخصوص قوم اور اس کے کارناموں کا ذکر ہی بیشتر ہوتا ہے۔ افکار کی یہ محدودیت شاعری کی اثر پذیری کو بھی متاثر کرتی ہے اور پھر یہ شاعری قاری کے جذبات کو گہرائی تک متاثر کرنے کے بجائے اوپر اوپر سے گزر جاتی ہے۔ چکبستؔ نے اپنی فکر و نظر میں وسعت کو راہ دی ہوتی تو بلاشبہ ان کی شاعری کے اثرات لافانی ہوتے۔
————–
ؔؔؔؔؔؔ ؎۱ تاریخ ادب اردو، نورالحسن نقوی صفحہ ۱۵۹؍
ؔؔ ؎۲ ایضاً صفحہ ۱۵۸؍
؎۳ انیسؔ شناسی ، مرتبہ گوپی چند نارنگ صفحہ ۱۹۳؍

Ghazals by Akhtar Muslami

Articles

اختر مسلمی کی منتخبہ غزلیں

اختر مسلمی

(۱)
ہر شب تارِ خزاں صبح بہاراں کردیں
خارِ بے جاں کو بھی رشک چمنستاں کردیں

کر کے رنگیں در و دیوار لہو سے اپنے
ہم اگر چاہیں تو زنداں کو گُلستاں کردیں

عیش میں اپنے نہ ہو جن کو غریبوں کا خیال
اُن کے ہر عیش کا شیرازہ پریشاں کردیں

چیخ چیخ اُٹھتے ہیں جس درد کی بیتابی سے
دلِ مظلوم کے اس درد کا درماں کردیں

کر کے باطل کے خدائوں کی خدائی نابود
دوستو آئو علاجِ غمِ دوراں کردیں

ہر طرف بغض و عداوت کی گھٹا چھائی ہے
دہر میں شمعِ محبت کو فروزاں کردیں

ہے اخوّت کا اثر جن کے دلوں سے مفقود
ان درندہ صفت انسانوں کو انساں کردیں

ظلمتِ شب میں بھٹکتا ہے زمانہ اخترؔ
آئو ہر ذرّے کو خورشید درخشاں کردیں
———

(۲)
غم کی خلش بھی رہتی ہے شاید خوشی کے ساتھ
آنکھوں سے اشک بہتے ہیں اکثر ہنسی کے ساتھ

ظاہر ہے التفاتِ نظر بے رُخی کے ساتھ
لہجے میں ان کے پیار بھی ہے برہمی کے ساتھ

یہ بارگاہِ حُسن ہے اے چشمِ شوق دیکھ
لازم ہے احترام بھی وارفتگی کے ساتھ
آیا کبھی نہ رازِ محبت زبان تک
اتنا ہے مجھ کو ہوش بھی دیوانگی کے ساتھ

غنچے جو ہیں اُداس تو بے رنگ پھول ہیں
رخصت ہوئی بہار بھی شاید کسی کے ساتھ

طے ہوتے مرحلے نہ کبھی راہِ شوق کے
دیوانگی نہ ہوتی اگر آگہی کے ساتھ

ہر گام رہزنوں سے پڑا سابقہ مجھے
جب راستہ چلا ہوں کبھی راستی کے ساتھ

اخترؔ کہوں نہ شعر تو گُھٹ جائے دم مرا
وابستہ زندگی ہے مری شاعری کے ساتھ
———-
(۳)
میں گلہ اگر کروں گا اسے ناروا کہو گے
جو ستم سے مر گیا تو مجھے بے وفا کہو گے

مجھے تم سے ہے جو نسبت اسے اور کیا کہو گے
کرم آشنا نہیں تو ستم آ شنا کہو گے

مرے دل کی اُلجھنوں کو مری چشمِ نم سے پوچھو
میں زباں سے کچھ کہوں گا تو اُسے گلہ کہو گے

یہ نہ جانے کون گذرا ابھی جادئہ نظر سے
وہ عجیب نقش پا ہے کہ تم آئینہ کہو گے

میں تو پوجتا ہوں ناصح کسی بُت کو بُت سمجھ کر
تمہیں سابقہ پڑے گا تو اُسے خدا کہو گے

میں بتا ہی دوں نہ اختر ؔتمہیں رازِ نیک نامی
وہ بُرا نہیں کہے گا جسے تم بھلا کہو گے
———-
(۴)
تری جفا پہ گمانِ وفا کیا میں نے
گناہِ عشق کی یوں جھیل لی سزا میں نے

رہِ وفا میں لٹا کر متاعِ قلب و جگر
کیا ہے تیری محبت کا حق ادا میں نے

ہجومِ غم میں نکل آئی ہے جو آہ کبھی
توکی ہے بے اثری کی بھی پھر دعا میں نے

وفا ہو یا کہ جفا جو بھی مل گیا تم سے
ہر اک کو سینے سے اپنے لگا لیا میں نے

جلا کے دل میں تری شمعِ آرزو اے دوست
ہر اک چراغ تمنّا بجھا دیا میں نے

کسی کی چشم ندامت سے پالیا اخترؔ
تمام حسرت ناکام کا صلہ میں نے
———-

(۵)
رہا نہ ضبطِ غمِ دل اگر تو کیا ہوگا
نہ آہ کا بھی ہوا کچھ اثر تو کیا ہوگا

نہ دیکھ یوں نگہ التفات سے اے دوست
یہ کر گئی جو کہیں دل میں گھر تو کیا ہوگا

یہ تارِ اشکِ مسلسل یہ آہ نیم شبی!
کسی کو ہوگئی اس کی خبر تو کیا ہوگا

متاعِ قلب و نظر جھک کے لوٹ لی اس نے
جو اُٹھ گئی نگہہ فتنہ گر تو کیا ہوگا

مرا نہیں نہ سہی تیرا اختیار تو ہے
رہا نہ دل پہ ترا بھی اثر تو کیا ہوگا

یہ تیری یاد کی محویّتیں ارے توبہ
تو آئے، پھر بھی رہوں بے خبر تو کیا ہوگا

ابھی تو ہیں مہ و انجم ہی زد میں انساں کی
یہ بے خبر، جو ہوا باخبر تو کیا ہوگا

سجی ہے گوہرِ فن سے مری غزل اخترؔ
نہ دے گا داد کوئی کم نظر تو کیا ہوگا
——

Ghazals by Irtiza Nishaat

Articles

ارتضیٰ نشاط کی غزلیں

ارتضیٰ نشاط

ارتضیٰ نشاط کی غزلیں

1

مجھے چند باتیں بتا دی گئیں
سمجھ میں نہ آئیں تو لادی گئیں

مسائل کی تہہ تک نہ پہنچا گیا
مصائب کی فصلیں اُگا دی گئیں

بڑا شور گونجا ، بڑا شر اُٹھا
رگیں دکھ رہی تھیں ہلا دی گئیں

سہولت سے مہمان کھیلیں شکار
درختوں پہ چڑیاں سجا دی گئیں

سفر واپسی کا بھی ہے ناگزیر
تو پابندیاں کیوں لگا دی گئیں

کڑی دھوپ میں دوپہر کی نشاط
درختوں کی شاخیں جلا دی گیں
———

2

کیا رات کوئی کاٹ سکے رات کی طرح
گھر میں بھرے ہیں لوگ حوالات کی طرح

یہ زندگی کہ جس کا کوئی اُور ہے نہ چھور
ہم سب میں بٹ گئی ہے کرامات کی طرح

یہ دور ، شکر ہے کہ بڑی مدتوں کے بعد
الجھا ہوا ہے میرے خیالات کی طرح

ارمان یوں تو دل کے نکلتے ہیں دوستو
لیکن کسی غریب کی بارات کی طرح

میرے ہی شعر مجھ کو لگے ہیں بصد خلوص
کچھ بے تکے عجیب سوالات کی طرح

مرنے کے بعد خواب میں آتے ہیں کس لیے
ماں باپ بد نصیب علامات کی طرح

حیرت ہے اپنے گھر کے بھی حالات ارتضیٰ
نازک بہت ہیں ، ملک کے حالات کی طرح
———

3

اردو ادب کے ساتھ رہیں پستیاں بہت
ساحر کی اک کتاب بکی تلخیاں بہت

اے دوست بتاﺅ کہ مقصد ہے اس سے کیا
تم ہال میں بچھا تو چکے کرسیاں بہت

میں سو گیا تو خواب میں پیچھا کیا مرا
کل رات مجھ پہ چھائی رہیں مستیاں بہت

رسّی خدا کی ہم بھی پکڑ لیں کہ ان دنوں
بٹنے لگے ہیں لوگ نئی رسّیاں بہت

اس احتمال سے کہ مبادا غلط چلوں
چلتی ہیں میرے ساتھ پریشانیاں بہت

روداد کیا ہے میرے سفر کی ابھی نہ پوچھ
دیکھی نہیں ہیں میں نے ابھی بستیاں بہت

تنگ آکے کینسر نے کہا بند کر نشاط
جب لے چکا شراب کی میں چُسکیاں بہت
———-

4

زندگی ڈوبتی نبضوں کی صدا لگتی ہے
کوئی رد کی ہوئی مخصوص دعا لگتی ہے

پیٹ کی آگ بھی لگتی ہے تو کیا لگتی ہے
نیند بھی سو کے جو اٹھتا ہوں غذا لگتی ہے

جیسے ہر شخص کوئی جرم کیے بیٹھا ہو
گھر میں گھستے ہی عجب گھر کی فضا لگتی ہے

سب سے دلچسپ یہی غم ہے مری بستی کا
موت پسماندہ علاقے میں دوا لگتی ہے

آئیے آج اسی سوچ کو پختہ کرلیں
بے حسی حد سے گزرتی ہے تو کیا لگتی ہے
———-

5

اچانک یوں کوئی بھولا ہوا سا خواب ملتا ہے
سمندر میں سفینہ جس طرح غرقاب ملتا ہے

نہ جانے کیوں تمھارے در پہ آجاتا ہوں میں ورنہ
جہاں میں ہوں ، سکوں میرے لیے بے تاب ملتا ہے

بڑی تیزی سے کشتی ، جس طرف بہتی چلی جائے
ہمیشہ یاد رکھنا اس طرف گرداب ملتا ہے

ہماری بدنصیبی ہے کہ ہم کھدّر پہنتے ہیں
اسی قیمت پہ لینے جائیں تو کمخواب ملتا ہے

ہمیشہ کے لیے اے کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں
کہ میری نیند سے اِس وقت اس کا خواب ملتا ہے

محبت میں ہمیشہ مرتبے نیچے اترتے ہیں
صدف سے ابرِ گوہر بار زیرِ آب ملتا ہے

حقیقت ارتضیٰ کی آم کے پھل کی طرح سمجھو
بہت بکتا ہے لیکن پھر بہت نایاب ملتا ہے
————

6

ایک سے ایک ہے رستم کے گھرانے والا
ہے کوئی قبلہ¿ اول کو چھڑانے والا

قہر آلود نگاہیں ، نہ بڑے دانت مگر
چہرہ چہرہ نظر آتا ہے ڈرانے والا

دھوپ سے آبلے پتھر میں پڑے جاتے ہیں
کون ہے ، کون ہے دنیا کو چلانے والا

میرے چہرے پہ ندامت کی کہانی لکھ کر
آئینہ دیکھنے لگتا ہے دکھانے والا

اپنے سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ زباں پھیر چکا
پیاس اک عمر زمانے کی بجھانے والا

خوف کی ایک لہر ریڑھ کی ہڈی میں مری
اور ایک سانپ مرے سر میں خزانے والا

آپ بھی ساتھ اگر ہوں تو مزا آجائے
رات کے ساتھ اندھیرا بھی ہے آنے والا
————-

7

مری زندگی کا عجب بھاﺅ ہے
خدا کی طرح سب کا برتاﺅ ہے

کٹی ہیں پتنگیں تو لوٹی ہے ڈور
نہ جوجھو بہت اس میں الجھاﺅ ہے

بڑی تلخ ہوتی ہے سرکار کی
گلے سے کلیجے تلک گھاﺅ ہے

نہ سوچو کسی میں محبت نہیں
دلوں میں اترتے چلے جاﺅ ، ہے

سمندر میں منجھدار کی راز دار
کنارے پہ ٹوٹی ہوئی ناﺅ ہے

اجل کے ہوئے دستخط اور پھر
نمک ہے نہ زخموں پہ چھڑکاﺅ ہے

سنادی غزل ، خوب تھی ارتضیٰ
مگر اب یہ مونچھوں پہ کیوں تاﺅ ہے
———-

8

نظروں سے گرے دل سے اتر کیوں نہیں جاتے
حد ہوگئی ہم حد سے گزر کیوں نہیں جاتے

وہ قبر نئی کس کی بنی ہے یہ بتا دو ! !
کیا بات ہے دانستہ اُدھر کیوں نہیں جاتے

اُکساتے ہو کیوں غوطہ لگانے پہ ہمیں تم
موتی ہو تو ساحل پہ بکھر کیوں نہیں جاتے

صحرا میں روانی سے گزرنا نہیں ممکن
اے اہل جنوں خاک بسر کیوں نہیں جاتے

محرومی کا اپنی یہ سبب ہے کہ ابھی تک
سوچا ہی نہیں ہم نے کہ مر کیوں نہیں جاتے

ساغر کو مرے موت کے زہراب سے بھر دو
میخانے میں کہتے ہو کہ گھر کیوں نہیں جاتے

اللہ کا ڈر ارتضیٰ جب دل سے نکالا
ہم اپنے ہی پھر سائے سے ڈر کیوں نہیں جاتے
———

9

دیکھئے اور ابھی سامنے آتا کیا ہے
آئینہ دیکھنے والوں کو دکھاتا کیا ہے

ہم کو معلوم ہے پانی پہ کھڑی ہے دنیا
ڈوبنا سب کا مقدر ہے ڈراتا کیا ہے

کیا عجب ہے کہ سفر تیرا سفارت بن جائے
لوٹ کے آنے کی امید میں جاتا کیا ہے

بیل بوٹے سے کوئی راہ میں کاڑھے جیسے
ہر قدم پھول کھلاتا ہے وہ آتا کیا ہے

یاد میری نہ مٹا ، نام مٹا دے میرا
نقش مٹتا ہے تو دیوار گراتا کیا ہے

شاعری ہے کوئی نوشاد کا میوزک تو نہیں
شعر اچھا ہے تو پھر گا کے سناتا کیا ہے

میں تو آدھا نہ رہا ارتضیٰ دے دے کے ادھار
دیکھ لے میری طرف ہاتھ بڑھاتا کیا ہے
———-

10

مجھے بات آگے بڑھانی نہیں ہے
سمندر میں پینے کا پانی نہیں ہے

اٹھوں منہ اندھیرے چلوں سیر کو بھی
مری صبح اتنی سہانی نہیں ہے

بڑا معجزانہ تھا انداز اُن کا
کسی دور میں کوئی ثانی نہیں ہے

خدا کی ہے ، گھر کی ہے ، کچھ دوستو کی
ہماری تو یہ زندگانی نہیں ہے

ضروری سمجھتا ہے تردید ، کردے
حقیقت ہے کوئی کہانی نہیں ہے

ہواﺅں کا رُخ موڑ سکتے ہیں یوں بھی
ہمارا ہنر بادبانی نہیں ہے

قیامت زبردست ہتھیار ہوگا
خدا نے مری بات مانی نہیں ہے

تخلص نشاط اس لیے رکھ لیا ہے
کہ تقدیر میں شادمانی نہیں ہے
——-

Ghazals by Dagh Dehlavi

Articles

داغ دہلوی

داغ دہلوی

داغ دہلوی کی کچھ غزلیں 

​(۱)

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں

الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا

ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میں 

سنسان گھر یہ کیوں نہ ہومہمان تو گیا

کیا آئے راحت آئی جو کنج مزار میں

وہ ولولہ وہ شوق وہ ارمان تو گیا 

دیکھا ہے بتکدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھ 

ایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا

افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیں

لیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا

گو نامہ بر سے خوش نہ ہواپر ہزار شکر

مجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا

بزم عدو میں صورت پروانہ دل مرا

گو رشک سے جلا ترے قربان تو گیا 

ہوش وحواس و تاب تواں داغ جا چکے

اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

(۲)

عجب اپنا حال ہوتا تو وصال یار ہوتا 

کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا 

کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھرآشکار ہوتا 

ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا 
جو تمھاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا 

تمھیں منصفی سے کہہ دو تمھیں اعتبار ہوتا 

غم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے

یہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوش گوار ہوتا 

یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی

نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا 

نہ مزہ ہے دشمنی میں نہ ہے لطف دوستی میں

کوئی غیر غیر ہوتا کوئی یار یار ہوتا 

ترے وعدے پرستم گر ابھی اور صبر کرتے 

اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا 

یہ وہ درد دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئی 

اگر ایک بار مٹتا تو ہزار بار ہوتا 

مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے 

در یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا 

تمھیں ناز ہو نہ کیوں کر کہ لیا ہے داغ دل کا 

یہ رقم نہ ہاتھ لگتی نہ یہ افتخار ہوتا 

(۳)

محبت میں آرام سب چاہتے ہیں 

مگر حضرت داغ کب چاہتے ہیں

خطا کیا ہے ان کی جو اس بت کو چاہا 

خدا چاہتا ہے تو سب چاہتے ہیں

وہی ان کا مطلوب و محبوب ٹھہرا

بجا ہے جو اس کی طلب چاہتے ہیں 

مگر عالم یاس میں تنگ آکر

یہ سامان آفت عجب چاہتے ہیں

اجل کی دعا ہر گھڑی مانگتے ہیں

غم ودرد رنج وتعب چاہتے ہیں

قیامت بپا ہو نزول بلا ہو

یہی آج کل روزوشب چاہتے ہیں

نہ معشوق فرخار سے ان کو مطلب

نہ یہ جام بنت العنب چاہتے ہیں

نہ جنت کی حسرت نہ حوروں کی پروا

نہ کوئی خوشی کا سبب چاہتے ہیں

نرالی تمنا ہے اہل کرم سے 

ستم چاہتے ہیں غضب چاہتے ہیں

نہ ہو کوئی آگاہ راز نہاں سے 

خموشی کو یہ مہر لب چاہتے ہیں

خدا ان کی چاہت سے محفوظ رکھے

یہ آزار بھی منتخب چاہتے ہیں

غم عشق میں داغ مجبور ہوکر

کبھی جو نہ چاہا وہ اب چاہتے ہیں

(۴)

ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں

ناز والے نیاز کیا جانیں

شمع رو آپ گو ہو ئے لیکن

لطف سوزوگداز کیا جانیں

کب کسی در جبہہ سائی کی

شیخ صاحب نماز کیا جانیں

جو رہ عشق میں قدم رکھیں 

وہ نشیب و فراز کیا جانیں

پوچھیئے مے کشوں سے لطف شراب

یہ مزا پاک باز کیا جانیں

بلے چتون تری غضب ری نگاہ 

کیا کریں گے یہ ناز کیا جانیں

جن کو اپنی خبر نہیں اب تک 

وہ مرے دل کا راز کیا جانیں

حضرت خضر جب شہید نہ ہوں 

لطف عمر دراز کیا جانیں

جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے 

آپ بندہ نواز کیا جانیں

(۵)

ناروا کہیے ناسزا کہیے

کہیے؎کہیے مجھے برا کہیے

تجھ کو بد عہد وبے وفا کہیے

ایسے جھوٹے کو اور کیا کہیے

مجھ کہیے برا نہ غیر کے 

جو ہو کہنا جدا جدا کہیے

انتہا عشق کی خدا جانے 

دم آخر کو ابتدا کہیے

میرے مطلب سے کیا غرض مطلب

آپ اپنا تو مدعا کہیے

ایسی کشتی کا ڈوبنا اچھا

کہ جو دشمن کو ناخدا کہیے

صبر فرقت میں آہی جاتا ہے

پر اسے دیر آشنا کہیے

آگئی آپ کو مسیحائی

مرنے والے کو مرحبا کہیے

آپ کا خیر خواہ میرے سوا

ہے کوئی اور دوسرا کہیے

ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر 

مجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہیے

ہوش جاتے رہے رقیبوں کو 

داغ کو اور باوفا کہیے

(۶)

کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے 

مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے

سن کے مرا فسانہ انھیں لطف آگیا

سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے

پیغامبر کی بات پر آپس میں رنج کیا

میری زبان کی ہے نہ تمھاری زباں کی ہے

کچھ تازگی ہو لذت آزار کے لیے

ہردم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے

جاں بر بھی ہوگئے ہیں بہت مجھ سے نیم جاں

کیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہو

حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پر

کہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے

وقت خرام ناز دکھا دو جداجدا

یہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے

فرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملے

دن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے

سن کر مرا فسانۂ غم اس نے یہ کہا

ہوجائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے

دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھا

خنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے

ہرہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبار

کیا جانے گرد راہ یہ کس کارواں کی ہے 

کیونکہ نہ آتے خلد سے آدم زمین پر

موزوں وہیں وہ خوب ہے سنتے جہاں کی ہے 

تقدیر سے یہ پوچھ رہاہوں کہ عشق میں

تدبیر کوئی بھی ستم ناگہاں کی ہے

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ 

ہندوستاں دھوم ہماری زباں کی ہے

 

Ghazals by Moomin Khan Moomin

Articles

مومن خان مون کی غزلیں

مومن خان مون

غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا​
میری طرف بھی غمزہءغماز دیکھنا​
اڑتے ہی رنگ رخ مرا نظروں سے تھا نہاں​
اس مرغِ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا​
دشنامِ یار طبعِ حزیں پر گراں نہیں​
اے ہم نفس ، نزاکتِ آواز دیکھنا​
دیکھ اپنا حال زار منجم ہوا رقیب​
تھا سازگار طالعِ ناساز دیکھنا​
بد کام کا مآل برا ہے جزا کے دن​
حالِ سپہر تفرقہ انداز دیکھنا​
مت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدم​
پامال ہو نہ جائے سر افراز دیکھنا​
کشتہ ہوں اس کی چشمِ فسوں گر کا اے مسیح​
کرنا سمجھ کے دعویء اعجاز دیکھنا​
میری نگاہِ خیرہ دکھاتے ہیں غیر کو​
بے طاقتی پہ سرزنشِ ناز دیکھنا​
ترکِ صنم بھی کم نہیں سوزِ جحیم سے​
مومن غمِ مآل کا آغاز دیکھنا​

———-

محشر میں پاس کیوں دمِ فریاد آگیا
رحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آگیا
الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں‌ صیّاد آگیا
ناکامیوں میں تم نے جو تشبیہ مجھ سے دی
شیریں کو درد تلخیِ فرہاد آگیا
ہم چارہ گر کو یوں ہی پہنائیں گے بیڑیاں
قابو میں اپنے گر وہ پری زاد آگیا
دل کو قلق ہے ترکِ محبت کے بعد بھی
اب آسماں کو شیوہء بے داد آگیا
وہ بدگماں ہوا جو کبھی شعر میں مرے
ذکرِ بتانِ خلخ و نوشاد آگیا
تھے بے گناہ جراءتِ پابوس تھی ضرور
کیا کرتے وہم خجلتِ جلاد آگیا
جب ہوچکا یقیں کہ نہیں طاقتِ وصال
دم میں ہمارے وہ ستم ایجاد آگیا
ذکرِ شراب و حور کلامِ خدا میں دیکھ
مومن میں کیا کہوں مجھے کیا یاد آگیا

————

دیدہ حیراں نے تماشا کیا​
دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا​
​ضبط فغاں گو کہ اثر تھا کیا​
حوصلہ کیا کیا نہ کیا، کیا کیا​
​انک نہ لگنے سے سب احباب نے​
آنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا​
​مر گئے اس کے لب جاں بخش پر​
ہم نے علاج آپ ہی اپنا کیا​
​غیر عیادت سے برا مانتے​
قتل کیا آن کے اچھا کیا​
​جاے تھی تیری میرے دل میں سو ہے​
غیر سے کیوں شکوۂ بے جا کیا​
​رحم فلک اور مرے حال پر​
تو نے کرم اے ستم آرا کیا​
​مومن دشمن ہی رہے بت سدا ​
مجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا

بے وفا کہنے کی شکایت ہے
تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا

ذکرِ اغیار سے ہوا معلوم
حرفَ ناصح برا نہیں ہوتا

کس کو ہے ذوقَ تلخ کامی لیک
جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر
دل کسی کام کا نہیں ہوتا

امتحاں کیجیے مرا جب تک
شوق زور آزما نہیں ہوتا

ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے
تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا

Ghazals by Meer Taqi Meer

Articles

غزلیں

میر تقی میر

منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک
شیخ میخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب
ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
بحر کم ظرف ہے بسان حباب
کاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اٹھا
آج دامن وسیع ہے اس کا
تاب کس کو جو حال میرؔ سنے
حال ہی اور کچھ ہے مجلس کا

————-

جنوں نے تماشا بنایا ہمیں
رہا دیکھ اپنا پرایا ہمیں
سدا ہم تو کھوئے گئے سے رہے
کبھو آپ میں تم نے پایا ہمیں
یہی تا دم مرگ بیتاب تھے
نہ اس بن تنک صبر آیا ہمیں
شب آنکھوں سے دریا سا بہتا رہا
انھیں نے کنارے لگایا ہمیں
ہمارا نہیں تم کو کچھ پاس رنج
یہ کیا تم نے سمجھا ہے آیا ہمیں
لگی سر سے جوں شمع پا تک گئی
سب اس داغ نے آہ کھایا ہمیں
جلیں پیش و پس جیسے شمع و پتنگ
جلا وہ بھی جن نے جلایا ہمیں
ازل میں ملا کیا نہ عالم کے تئیں
قضا نے یہی دل دلایا ہمیں
رہا تو تو اکثر الم ناک میر
ؔترا طور کچھ خوش نہ آیا ہمیں

———–

الٰہی کہاں منھ چھپایا ہے تو نے
ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے
جو خواہش نہ ہوتی تو کاہش نہ ہوتی
ہمیں جی سے مارا تری آرزو نے
نہ بھائیں تجھے میری باتیں وگرنہ
رکھی دھوم شہروں میں اس گفتگو نے
رقیبوں سے سر جوڑ بیٹھو ہو کیونکر
ہمیں تو نہیں دیتے ٹک پاؤں چھونے
پھر اس سال سے پھول سونگھا نہ میں نے
دوانہ کیا تھا مجھے تیری بو نے
مداوا نہ کرنا تھا مشفق ہمارا
جراحت جگر کے لگے دکھنے دونے
کڑھایا کسو کو کھپایا کسو کو
برائی ہی کی سب سے اس خوبرو نے
وہ کسریٰ کہ ہے شور جس کا جہاں میں
پڑے ہیں گے اس کے محل آج سونے
تری چال ٹیڑھی تری بات روکھی
تجھے میرؔ سمجھا ہے یاں کم کسو نے

————-

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
چشم دل کھول اس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
نقطۂ خال سے ترا ابرو
بیت اک انتخاب کی سی ہے
میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
آتش غم میں دل بھنا شاید
دیر سے بو کباب کی سی ہے
دیکھیے ابر کی طرح اب کے
میری چشم پر آب کی سی ہے
میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

Writing in today’s time by Intezar Husain

Articles

لکھنا آج کے زمانے میں

انتظار حسین

لکھنا آج کے زمانے میں

انتظار حسین
میں سوچتا ہوں کہ ہم غالب سے کتنے مختلف زمانے میں جی رہے ہیں۔ اس شخص کا پیشہ آبا سپہ گری تھا۔ شاعری کو اس نے ذریعہ¿ عزت نہیں سمجھا۔ غالب کی عزت غالب کی شاعری تھی۔ شاعری اس کے لیے کسی دوسری عزت کا ذریعہ نہ بن سکی۔ اب شاعری ہمارے لیے ذریعہ¿ عزت ہے مگر خود شاعری عزت کی چیز نہیں رہی اور میں سوچتا ہوں کہ خازن تو لوگ غالب کے زمانے میں بھی بنتے ہوں گے اور اس پر خوش ہوتے ہوں گے۔ عہدوں اور مراتب اور ہاتھی اور بگھی کی سواری کی فکریں اوروں کو بھی تھیں اور خود غالب کو بھی ستاتی تھیں۔ اسی قسم کی فکریں سر سیّد اور اکبر کے زمانے میں بھی آدمی کی جان کے ساتھ لگی ہوئی ہوں گی۔ لیکن کبھی عقائد کے اثر و رسوخ نے اور کبھی قومی تحریکوں نے ہمارے معاشرہ میں ایسی پنچائتی فکریں پیدا کردیں کہ نجی فکریں محض نجی بن کر رہ گئیں۔ وہ معاشرہ پر حاوی نہیں ہوپائیں ۔ پچھلے سو برس سے ہمیں بڑی فکر یہ چلی آتی تھی کہ ہم نے صدیوں کے فکر و عمل سے جو سچائیاں دریافت کی ہیں اور جو، اب ہماری زندگی ہیں ،ان سچائیوں کا تحفظ ہونا چاہیے۔اس قسم کے فکر کے یہ معنی ہیں کہ لوگ اپنی نجی ضرورتوں کے ساتھ بلکہ ان سے بڑھ کر کسی اجتماعی ضرورت میں بھی یقین رکھتے ہیں۔ اس یقین کی بدولت وہ اپنی ذات سے بلند ہوکر کسی اجتماعی مقصد سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صلاحیت کو ایمان کہاجاتا ہے اور ٹی ایسایلیٹ کا یہ کہنا ہے کہ جو قوم ایمان سے محروم ہے وہ اچھی نثر پیدا نہیں کرسکتی مگر اس میں نثر کی کیا تخصیص ہے۔ ایک بے ایمان قوم اچھی نثر نہیں پیدا کرسکتی تو اچھی شاعری کیا پیدا کرے گی۔ویسے اس بیان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے معاشرہ میں اچھے نثر نگار یا شاعر سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتے۔ ہوتے تو ہیں مگر وہ ایک موثر ادبی رجحان نہیں بن سکتے اور ادب ایک معاشرتی طاقت نہیں بن پاتا۔

ہم لکھنے والے ایک بے ایمان معاشرہ میں سانس لے رہے ہیں۔ ذاتی منفعت اس معاشرہ کا اصل الاصول بن گئی ہے اور موٹر کار ایک قدر کا مرتبہ حاصل کرچکی ہے۔ جب اصل الاصول ذاتی منفعت ہوتو دولت کمانے کے آسان نسخوں کے لیے دوڑ دھوپ روحانی جد و جہد کا سارنگ اختیار کرجاتی ہے۔ عام لوگ موٹر کار کی چابی کی آرزو میں صابون کی ٹکیاں خریدتے ہیں اور معمے حل کرتے ہیں اور اہلِ قلم حضرات انعاموں کی تمنا میں کتابیں لکھتے ہیں۔ جن کے قلم کو زنگ لگ چکا ہے وہ ادب ، زبان اور کلچر کی ترقی کے لیے یا ادبیوں کی بہبود کے لیے ادارے قائم کرتے ہیں اور ادارے والے تو روز افزوں ترقی کرتے ہیں مگر ادب ، زبان اور کلچر دن بدن تنزل کرتے چلے جاتے ہیں۔ ادب ، زبان اور کلچر کی ترقی کی کوشش میں زیرِ آسمان ترقی کی نئی راہیں نکلتی ہیں اور ستاروں سے آگے کے جہان دریافت کیے جاتے ہیں۔

ایسے عالم میں جو ادیب افسانہ اور شعر لکھتا رہ گیا ہے وہ وقت سے بہت پیچھے ہے ۔ اس کے لیے لکھنا بنفسہ عشق کا امتحان بن جاتا ہے۔
ٍ
جب سب سچ بول رہے ہوں تو سچ بولنا ایک سیدھا سادا معاشرتی فعل ہے لیکن جہاں سب جھوٹ بول رہے ہوں وہاں سچ بولنا سب سے بڑی اخلاقی قدر بن جاتا ہے۔اسے مسلمانوں کی زبان میں شہادت کہتے ہیں اور شہادت اسلامی روایت میں ایک بنیادی اور مطلق قدر کا مرتبہ رکھتی ہے۔ جب ایک معاشرہ تخلیق کے فریضہ کو فریضہ سمجھنا ترک کردے اور اسے ترقی کا ذریعہ سمجھے تو جو شخص اس فریضہ کو ادا کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتا ہے وہ گویا شہادت پیش کرتا ہے۔

لفظ خود ایک شہادت ہے ۔ جس انسان نے پہلی مرتبہ لفظ بولا تھا اس نے تخلیق کی تھی پھر یہ تخلیق فعل و عمل میں شیر و شکر ہوگئی اور زبان ایک معاشرتی فعل بن گئی۔ ادب معاشرتی عمل میں پیوست تخلیقی جوہر کی تلاش ہے۔ صدیوں کے قول و عمل ، دکھ درد اور خارجی و داخلی مہمات کے وسیلہ سے جو سچائیاں دریافت کی جاتی ہیں اور بعد میں اقدار کہلاتی ہیں۔ ان کی کارفرمائی سے معاشرتی عمل تخلیقی عمل بن جاتا ہے۔ جب تک ایک معاشرہ ان اقدار میں ایمان رکھتا ہے اور ان کی بدولت تخلیقی طور پر فعال رہتا ہے اس کا اس تخلیقی عمل کی تلاش پر بھی ایمان رہتا ہے۔ یعنی ادب بنفسہ اس کے لیے ایک قدر کا، ایک عظیم سچائی کا مرتبہ رکھتا ہے۔ شاید اسی لیے میر و غالب اپنے اپنے زمانے میں ہماری قدروں کے امین بھی تھے اور خود اپنی اپنی جگہ بھی ایک قدر کا مرتبہ رکھتے تھے ۔ان کی عظمت میں کچھ ان کے تخلیقی جوہر کا حصہ ہے اور کچھ اس معاشرہ کے تخلیقی جوہر کا جس میں وہ پیدا ہوئے تھے۔بڑا ادیب فرد کے تخلیقی جوہر اور معاشرہ کے تخلیقی جوہر کے وصال کا حاصل ہوتا ہے۔ بڑا ادیب ہمارے عہد میں پیدا نہیں ہوسکتا ، اس لیے کہ یہ عہد اپنا تخلیقی جوہر کھو بیٹھا ہے اور ان اقدار پر اس کا ایمان برقرار نہیں ہے جو اس کی تاریخ کا حاصل ہیں۔ اسے اپنے تخلیقی جوہر کی تلاش میں بھی کوئی معنی نظر نہیں آتے۔ صُمً بُکمً عُمیً فہم لایرجِعونَ۔ یہ لوگ کرکٹ کی کمنٹری سنتے ہیں، موٹر کار اور غیر ملکی وظیفوں کی باتیں کرتے ہیں، ہالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں سمجھتے۔

آج کا لکھنے والا غالب اور میر نہیں بن سکتا۔ وہ شاعرانہ عظمت اور مقبولیت اس کا مقدر نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ ایک بہرے، گونگے، اندھے معاشرے میں پیدا ہوا ہے۔ مگر وہ غالب اور میر سے زیادہ اہم فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اس لیے کہ وقت نے اسے ایسی قدر کا امین بنا دیا ہے جو اس کی تاریخ کی سب سے اہم قدر ہے۔ آج لکھنا شہادت کا مرتبہ رکھتا ہے۔لکھنا آج اُس ایمان کا اعادہ ہے کہ موٹر کار حاصل کرنے کی چٹیک سے بھی زیادہ اہم کوئی چٹیک ہے۔ شعر اور افسانہ بے شک معاشرتی سطح پر معنی کھو بیٹھیں اس کے باوجود ایک سنجیدہ بلکہ مقدس مشغلہ ہیں۔ لکھنا آج غالب کے زمانے سے بھی بڑی سچائی ہے۔ اس لیے کہ آج کا جھوٹ غالب کے زمانے کے جھوٹ سے زیادہ سنگین ہے۔ اُس جھوٹ کو غیر قوم کی حاکمیت نے پیدا کیا تھا۔ یہ جھوٹ ہم نے آپس میں جھوٹ بول کر اپنی کوکھ سے جنا ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ آج کچھ نہیں لکھا جارہا ہے، اچھا ادب تقسیم سے پہلے تخلیق ہوگیا اور اچھے شاعر 1857ءسے پہلے گزر گئے وہ شخص جھوٹا ہے۔ وہ اس لیے جھوٹا ہے کہ یہ کہہ کر وہ آج کے ادب یعنی آج کے جھوٹ اور سچ سے آنکھ چرانا چاہتا ہے۔ نقاد اور پروفیسر اور تہذیبی اداروں کے سربراہ جھوٹ بولتے رہیں لیکن اگر کوئی ایسی سبھا ہے جہاں جیتے جاگتے ادیب بیٹھتے ہیں تو اس کا درد سر اولاً آج کا ادب ہونا چاہیے۔ اگر آج کی تحریر کے کوئی معنی ہیں تو میر اور غالب کی شاعری کے بھی کوئی معنی ہیں۔ آج کچھ نہیں لکھا جارہا ہے یا بے معنی لکھا جارہا ہے تو پھر میراور غالب کے معنی بھی کتنے دن باقی رہیں گے مگر آج لکھنا کیا معنی رکھتا ہے۔ آج کا ادب اگر وہ صحیح اور سچے معنوں میں آج کا ادب ہے تو وہ آج کے چالو معاشرتی معیارات کا ترجمان نہیں ہوسکتا۔ وہ تو اس قدر کو واپس لانے کی کوشش ہوگی جسے ہمارا معاشرہ گم کر بیٹھا ہے۔ آج کا ادب معاشرہ کا نہیں تاریخ کا ترجمان ہے۔ گویا اس کے وسیلہ سے نہ آپ خازن بن سکتے ہیں ، نہ آپ کو موٹر کار نصیب ہوسکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ادیبوں کی تو اتنی بہتات ہے کہ پانچ سو تک گنتی پہنچ گئی ہے مگر لکھنے والا اکیلا رہ گیا ہے۔ زمانے کی قسم آج کا لکھنے والا خسارے میں ہے اور بے شک ادب کی نجات اسی خسارے میں ہے۔ یہ خسارہ ہماری ادبی روایت کی مقدس امانت ہے۔
٭٭٭

Riyaz Khirabadi Ki Khumriya Shaeri By Prof. Saheb Ali

Articles

ریاض خیرآبادی کی خمریہ شاعری

پروفیسر صاحب علی

ریاض خیرآبادی کی خمریہ شاعری
پروفیسر صاحب علی

یہ بات پورے وثوق اور بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اگر ریاض خیرآبادی کی منفرد رنگ سخن میں شرابور ممتاز شاعری نہ ہوتی تو اردو شاعری کا ایک مکمل و دل نشین باب غائب ہوجاتا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاض تکلفاََ شاعر ہرگز نہ بنے تھے بلکہ وہ پیدائشی شاعر تھے۔ باوجودیہ کہ انھوں نے تلمیذ غلام ہمدانی مصحفی امروہوی یعنی تدبیر الدولہ ، مدبر الملک، بہادر جنگ منشی سید مظفر علی اسیر امیٹھوی (۱۸۰۱تا ۱۸۸۲) اور منشی امیر احمد مینائی (۱۸۲۹ تا ۱۹۰۰) سے استفادہ کیا لیکن اپنی ندرت فکر ، مطالعۂ کائنات اور قوت اختراع کی مدد سے رفتہ رفتہ وہ خود درجۂ استادی پر فائز ہوگئے۔

اردو شاعری میں خمریہ شاعری کی روایت بہت قدیم ہے ۔ اس کے اولین نمونے ہمیں قلی قطب شاہ کے یہاںملتے ہیں ۔اردو شاعری میں کم وبیش سبھی کلاسیکی شعرا کے یہاں خمریہ شاعری کا رنگ کسی نہ کسی روپ میں نظر آجاتا ہے۔اس تعلق سے غالب اور جگر کے نام خصوصی طور سے لیے جاسکتے ہیںلیکن ریاض خیرآبادی اردوزبان وادب کے واحد شاعرہیںجنھیں اردو شاعری میںخمریات کے فن کو روشناس کرانے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس ضمن میں رئیس احمد جعفری کا یہ قول نہایت سبق آموز ہے:

’’ ریاض نے شراب کے مضمون کو اردو زبان میں اپنا لیا ہے۔ جو لوگ شراب پی پی کر شعر کہتے ہیں اور شعر کہہ کہہ کر شراب پیتے ہیں ، ان کے یہاں بھی شراب کے مضامین میں وہ بے ساختگی، وہ ادائے بیان وہ جذباتی و ندرت نہیں ملے گی جو ریاض کے یہاں نظر آتی ہے‘‘
(رند پارسا، ص۱۵۱)

ریاض خیرآبادی کی خمریہ شاعری کے ذیل میں سب سے پہے ہم شراب مجازی کا ذکر کریں گے ۔ شراب مجازی دراصل وہ شراب ہے جو دنیا کے کونے کونے میں نظر آتی ہے۔ یہ وہ شراب ہے جسے علمائے دین اپنی اصطلاح فقہ میں ام الخبائث کہتے ہیںلیکن اردو کے مشہور شاعر علی سکند رجگر مرادآبادی نے اس کے بارے میں کہا ہے ؎

اے محتسب نہ پھینک ، مرے محتسب نہ پھینک

ظالم شراب ہے ، ارے ظالم شراب ہے

ریاض نے شراب مجازی کا ذکر کرتے ہوئے اکثر اسے شباب سے وابستہ کردیا ہے ۔ اس طرح شعر کو پڑھنے میں دو آتشے کا مزہ ملتا ہے ۔اس امتزاج شراب وشباب کو ریاض خیرآبادی نے اپنے بڑھاپے میں بھی قائم رکھا۔اس کا سب سے اہم سبب ریاض کاماضی یعنی گورکھپورکی رنگین محفلیں اوران کی حرماں نصیبی تھا۔خمریہ شاعری کے ضمن میں ریاض کے یہاں شراب پہلے معمولی ضرورت رہتی ہے پھر رفتہ رفتہ احتیاج کی شکل اختیار کرلیتی ہے جہاں اس کے بغیر گزر ہی نہ ہوسکے۔ ریاض کے یہ اشعار اسی کیفیت کے غماز ہیں ؎

چھیڑ ساقی کی ہے، دیتا جو نہیں جام ریاض
توبہ کی ہے نہ کبھی ہم نے قسم کھائی ہے
آیا جو محتسب تو بنی رزم ، بزم مے
مجروح خم ، شہید ہمارا سبو ہوا

درحقیقت یہ دعویٰ اپنے مقام پر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ ذکر شراب وعشق کلام ریاض کی روح رواں ہیں۔ ریاض نے رندانہ روش بطور فیشن اختیار نہیں کی بلکہ اس کے جراثیم ان کی فطرت میں شامل تھے اور ان کے خمیر کا ایک جزولاینفک تھے۔ رندانہ طرز کی تشکیل میں شوخی کا وجود بے حد اہم ہے۔ کلام ریاض میں جرات رندانہ کے چند نمونے ملاحظہ کیجیے ؎

شراب پیتے ہی مسجد میں ہم کو گرنا تھا
یہ شغل بیٹھ کے اچھا تھا قبلہ رو کرتے
فرشتے عرصہ گاہ حشر میں ہم کو سنبھالے ہیں
ہمیں بھی آج لطف لغزش مستانہ آتا ہے

ریاض کی خمریہ شاعری کے ضمن میں سب سے پہلے شراب مجازی کا ذکر کرسکتے ہیں جس کے دلدادہ مرزا غالب، اختر شیرانی، مجاز، جگر، ساحر، کیفی، جوش اور بہت سے دوسرے شعرا وادبا تھے ۔ ریاض خیرآبادی شراب مجازی کے اس علت سے کوسوں دور تھے لیکن کمال تو یہ ہے کہ انھوں نے شراب مجازی کا ذکر بھی اپنے اشعار میں کچھ اس طرح کیا ہے گویاوہ بہت ہی بڑے استاد شرابی ہوں ۔ شراب مجازی کا ذکر کرتے وقت وہ اسے محبوب کے شباب سے ملادیتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح وہ شراب کی تلخی و زود اثری کو شباب کی لذت و کیفیت سے ترتیب دے کر ایک کیف مرکب پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ریاض فرماتے ہیں ؎

اس کے آغاز جوانی کا کہوں کیا عالم؟
کچھ سے نشّہ سا تھا نشّے میں وہ چور نہ تھا
حقیقت بھی یہی ہے کہ نام نہاد شراب مجازی کو نہ کبھی انھوں نے منہ لگایا اور نہ یہ شراب ان کے مافی الضمیر کی مکمل عکاسی کرتی تھی ورنہ وہ ایسا کیوں کہتے کہ ؎
وہ چیز اور تھی وہ نشّہ اور تھا ساقی
مرے شباب کا بنتی ہے کیوں جواب شراب
ریاض کو ناز تھاکہ ان کا دل اور ان کے حوصلے جوان ہیں ۔ نہ ان کے خیالات میں عادی شرابیوں کا زوال ہے نہ جذبات پر بڑھاپا طاری ہوسکا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک وہ اسی طرح شوخ اور چونچال رہے جیسے کوئی جوان رعنا۔ ایسے صحت مند خیالات کی دین ہے یہ شعر ؎
پیری میں ریاض ، اب بھی جوانی کے مزے ہیں
یہ ریش سفید اور میٔ ہوش ربا سرخ!
ریاض خیرآبادی کی شراب مجازی کی شاعری کے حوالے سے ایک نہایت درجہ قابل تعریف بات یہ ہے کہ شراب مجازی سے نفرت کرنے کے باوجود محض اپنی تخیل اور منفرد قوت اختراع سے یا برسوں کے مشاہدے سے کام لیتے ہوئے ریاض نے اتنی کامیابی اور صفائی سے تمام لوازم شراب خواری پر روشنی ڈالی ہے کہ بڑے سے بڑا استاد شرابی انھیں اپنا پیر مغاں بنانے پر تیار ہوجائے گا۔درحقیقت یہ دعویٰ اپنے مقام پر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ ذکر شراب وعشق کلام ریاض کی روح رواں ہیں۔ ریاض نے رندانہ روش بطور فیشن اختیار نہیں کی بلکہ اس کے جراثیم ان کی فطرت میں شامل تھے اور ان کے خمیر کا ایک جزولاینفک تھے۔ رندانہ طرز کی تشکیل میں شوخی کا وجود بے حد اہم ہے۔ کلام ریاض میں جرات رندانہ کے چند نمونے ملاحظہ کیجیے ؎
شراب پیتے ہی مسجد میں ہم کو گرنا تھا
یہ شغل بیٹھ کے اچھا تھا قبلہ رو کرتے
فرشتے عرصہ گاہ حشر میں ہم کو سنبھالے ہیں
ہمیں بھی آج لطف لغزش مستانہ آتا ہے

ریاض کو ناز تھاکہ ان کا دل اور ان کے حوصلے جوان ہیں ۔ نہ ان کے خیالات میں عادی شرابیوں کا زوال ہے نہ جذبات پر بڑھاپا طاری ہوسکا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک وہ اسی طرح شوخ اور چونچال رہے جیسے کوئی جوان رعنا۔ ایسے صحت مند خیالات کی دین ہے یہ شعر ؎
پیری میں ریاض ، اب بھی جوانی کے مزے ہیں
یہ ریش سفید اور میٔ ہوش ربا سرخ!
ریاض خیرآبادی کی خمریاتی شاعری کا دوسرا روپ شراب حقیقی کا ذکر ہے ۔ اسے ہم شراب عرفان بھی کہہ سکتے ہیں ۔ ریاض کی غزلوں کا ایک معتد بہ حصہ شراب حقیقی یا شراب معرفت الٰہی سے لبریز ہے۔ریاض نے درج ذیل شعر میں شراب کا استعمال بطور کنایہ مہارت کے ساتھ کیا ہے۔ اس عارفانہ شعر کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ؎
تجھے مے فروش خبر بھی ہے کہ مقام کون ہے کیا ہے شے
یہ رہ حرم میں دوکان مے تو یہاں سے اپنی دوکاں اٹھا
ریاض نے شراب حقیقی کے ذریعے عارفانہ شاعری کے جو اعلیٰ نمونے پیش کیے ہیں اس کی عظمت اور تقدس سے انکار ممکن نہیں۔ ریاض رضواں میں شامل بعض غزلیں ایسی ہیںجس میںاسلامی تاریخ مثلاََ حضور صلی علیہ وسلم کی ہجرت کے واقعات، فتح مکہ اور حوض کوثرکا ذکر بڑے ہی موثر انداز میں کیا ہے۔ مثال کے طور پر یہ شعر دیکھئے :
اہلِ حرم بھی آکے ہوئے تھے شریک دور
کچھ اور رنگ آج مری مے کشی کا تھ
نسخہ بیاض ساقیِ کوثر سے مل گیا
گھر بیٹھے اب تو بادۂ کوثر بنائیں گے
ریاض فطرتاََ بہت شوخ اور زندہ دل واقع ہوئے تھے ۔ بات میں بات پیدا کرنا اور سنجیدہ معاملات کو اپنی خمریہ شاعری کا موضوع بنانا بھی انھیں بہت اچھا لگتا تھا۔شراب فطرت سے اپنی پیاس بجھانا یہ ایک بالکل اچھوتا لیکن دلچسپ انداز فکر ہے۔ ریاض کی شراب خوری کچھ ایسی انوکھی اور عالمگیر ہے کہ بہت سے ایسے اشعار ہیں جو زبان زد خاص و عام ہوچکے ہیں ۔ اکثر اشعار ایسے ہیں جنھیں بر محل سمجھ کر ہر جگہ لوگ اس طرح پڑھتے ہیں کہ انھیںیہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ شعر کس شاعر کا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھیں ؎

جہاں ہم خشت خم رکھ دیں ، بنائے کعبہ پڑتی ہے
جہاں ساغر پٹک دیں ، چشمۂ زم زم نکلتا ہے
ارے واعظ ، کہاں کا لا مکاں ، عرش بریں کیسا
چڑھی ہوتی جو کچھ ، تو ہم خدا جانے کہاں ہوتے

ریاض خیرآبادی کی شاعری کا ایک اور وصف ان کی زبان کا تھا ۔ خمریات تو بلا شبہ ان کی عالمگیر شناخت تھی لیکن زبان کا خوب صورت استعمال اور مضمون کے لحاظ سے ان کے فنی محاسن ، یہ ایسی خوبی تھی جس کا جواب نہ تو ریاض کی زندگی میں ممکن تھا اور نہ آج تک ممکن ہوسکا، افسوس کہ یہ لطیف اور وجد آور فنی محاسن تعداد میں اتنے زیادہ ہیں کہ نہ تو مکمل طریقے پر ان کا شمار کیا جاسکتا ہے اور نہ ان کی خاطر خواہ وضاحت ممکن ہے ۔جس طرح غالب کا کلام ان کی شوخی ِکلام کے لیے معروف ہے ۔اس سے کہیں زیادہ نادر شوخیاں ریاض خیرآبادی کے یہاں مل جاتی ہیں۔ شوخی کا مفہوم کیا ہے اس کا حسن استعمال ہم بڑی آسانی سے کلام ریاض میں تلاش کرلیتے ہیں ؎
کوئی منھ چوم لے گا اس نہیں پر
شکن رہ جائے گی یوں ہی جبیں پر
بلائیں بن کے ، وہ آئیں ہمیں پر
دعائیں ، جو گئیں عرش بریں پر

اس میں کوئی شک نہیں کہ شراب وشباب کے بعد ریاض خیرآبادی کے کلام میں شوخی و سرمستی کا عنصر بدرجۂ اتم موجود ہے جس کی وجہ سے ان کے یہاں رجائی اور صحت مند جذبات کی فراوانی محسوس ہوتی ہے۔ڈاکٹر اعجاز حسین (سابق صدر شعبۂ اردو، الہ آباد یونیورسٹی)ریاض کے شوخیِ کلام کے تعلق سے لکھتے ہیںکہ:
’’ ریاض صاحب کی عشقیہ شاعری میں شوخی کے ساتھ پر لطف طنز مزید شرارت اور حقیقت آمیز معاملات کی دنیا نظر آتی ہے‘‘
( مختصر تاریخ ادب اردو، ادارۂ فروغ اردو لکھنؤ ۱۹۶۵،ص۲۴۵ )
اس قول کی صداقت ریاض خیرآبادی کے حسب ذیل اشعارمیں ملتی ہے:

بوسے گن کر کبھی لیتے نہیں معشوقوں کے
ہمیں گنتی نہیں آتی نہ حساب آتا ہے
کتنے بوسے لیے اس بت کے بتا دیں کاتب
میں تو سنتا ہوں فرشتوں کو حساب آتا ہے
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ریاض خیرآبادی اپنے خاندانی ماحول اور خود اپنی فطری ذہنیت کے حساب سے ایک رند
پارسا تھے ۔ خمریہ شاعری تو بس ان کا ایک اسلوب ادا اور پیرایۂ اظہار تھا جس نے ان کے کلام پر انفرادیت کی مہر ثبت کردی ہے۔ رئیس احمد جعفری نے ایک انتہائی دلچسپ اور بلیغ ترکیب’’ رند پارسا‘‘ وضع کرکے ریاض خیرآبادی کی فطرت اور ان کی شاعری کا عطر مجموعہ پیش کردیا ہے۔

جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر ہوچکا ہے کہ تذکرۂ شراب وکباب غزلیات ریاض کا طرۂ امتیاز ہیں ۔ بلا مبالغہ ان کی کم ازکم 75 فیصد غزلیں مے خواری کی تفصیلات سے پُرہیں۔ شراب اور اس کے متعلقات پرکم وبیش ہرشاعر نے کچھ نہ کچھ ضرور لکھا ہے لیکن ریاض نے اسے اپنا مستقل موضوع بنایاہے حد تو یہ ہے کہ جب وہ کبھی میکدہ کا ذکر کرتے ہیں تو اس انداز سے کہ لفظ لفظ سے شراب ناب چھلکی پڑتی ہے ؎
جمع ہوجائیں گے مے نوش قیامت میں جہاں
حشر کا شور وہاں قلقل مینا ہوگا

ریاض کی شاعری میں شراب حقیقی سے مراد نہ توFrench Liquor نہ مرزا غالب کیEnglish Tomبلکہ یہ بادۂ عرفان الٰہی یا صوفی صافیوں کی شراب ہے۔ دراصل یہی وہ شراب ہے جو خوش نصیب ایمانداروں کو حاصل ہوا کرتی ہے۔ فارسی اور اردو کے اکثر شعرا تذکرۂ بادہ و میکدہ کو اپنے ساقی ناموں کا موضوع بناتے ہیں۔

کلام ریاض پر عمیق نظریں ڈالیں تو ان کی مختلف غزلوں میں شراب حقیقی کے ایمان افروز مناظر ہماری آنکھوں کو خیرہ کردینے کے لیے موجود ہیں۔ان کے مجموعۂ کلام ریاض رضواں کی تمہید ان ایمان پرور شراب حقیقی کے حوالواں سے ہوتی ہے ؎

کیا تجھ سے مرے مست نے مانگا مرے اللہ
ہر موج شراب اٹھ کے بنی ہاتھ دعا کا

ریاض کی شاعری میں شراب حقیقی یعنی شراب معرفت کا مقام نہایت بلند وبالا ہے ۔ انھوں نے رسول اکرم سے اپنی عقیدت اور تخلیقی قوت سے شراب حقیقی کے ذریعے اپنی پوری حمدیہ و نعتیہ شاعری کے جو نادرو نایاب نمونے پیش کیے ہیں اس کی نظیراردو کی خمریہ شاعری میں بہت کم لوگوں کے یہاںملے گی۔ ان کے نعتیہ کلام میں ایسے بے شمار اشعار موجود ہیںجن میںخود ریاض کی اپنی ذات پورے آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہے ۔ مثال کے طورپر ریاض رضواں میں شراب حقیقی کے زائیدہ یہ اشعار بھی بڑے کیف آور ہیں ؎
گئے ساتھ شیخ حرم کے ہم ، نہ کوئی ملا نہ لیے قدم
نہ تو خم بڑھا ، نہ سبو جھکا ، جو اٹھا تو پیر مغاں اٹھا
ملتی ہے درِ ساقیِ کوثر سے یہ خدمت
اس طرح کوئی پیر مغاں ہو نہیں سکتا

ریاض کا فیصلہ ہے کہ بغیر توفیق الٰہی کے کسی بڑے سے بڑے عابد وزاہد کی پیشانی سے نور توحید ضوفشاں نہیں ہوا کرتا۔مئے توحید کی سچی جھلک دیکھنی ہو توریاض کے یہ اشعارجو معرفت الٰہی کے جذبے سے سرشار ہیںدیکھئے ذیل کے دونوں اشعار میں ریاض نے ایسی بات کہی ہے جو شراب معرفت کا اصل مفہوم سمجھنے والا ہی کہہ سکتا ہے ؎
پی کر بھی جھلک نور کی منھ پر نہیں آتی
ہم رندوں میں جو صاحب ایماں نہیں ہوتا
بنائے کعبہ پڑتی ہے جہاں ہم خشت خم رکھ دیں
جہاں ساغر پٹک دیں چشمۂ زم زم نکلتا ہے

شراب فطرت بھی ریاض کے فلسفۂ خمریات کا ایک اچھوتا اور دلچسپ پہلو ہے ۔ اس شراب کے مختلف روپ ان کے غزلیہ اشعار میں نظر آتے ہیں جہاں شاعر نے مناظر قدرت کی براہ راست یا بالواسطہ عکاسی کی ہے ۔ غور کیجیے تو یہاں وہ انگریزی زبان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر ولیم ورڈز ورتھ ،ہمارے شعرا اسمٰعیل میرٹھی، نظیر اکبرآبادی، حامداللہ افسر، درگا سہائے سرور اور شفیع الدین نیر کے ہم پایہ قرار پاتے ہیںکیونکہ انھوں نے مناظر قدرت ، باغ وبہار، جھیلوں پہاڑوں،چاند تاروں، موسموں کی آمد ورفت ، انسانوں کے مختلف النوع جذبات ، چرند پرند اور نفسیات انسانی کی شاعرانہ ترجمانی کی ہے۔ان چیزوں کے بیان میںبھی ریاض کی آنکھوں سے شراب کی عینک نہیں چھٹی۔اسے ان کے خمریاتی شعور کی معراج سمجھنا چاہیے۔مثال کے طور پر یہ شعر دیکھئے ؎

در کھلا صبح کو پَو پھٹتے ہی میخانے کا
عکس سورج ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا

اس شعر میںقدرتی منظر تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ کئی صنائع و بدائع لفظی و معنوی کا بے ساختہ اور بڑا فن کارانہ استعمال بھی ملتا ہے ۔ پہلے مصرعے میں صنعت محاکات کی بڑی خوب صورت کیفیت ہے۔ ’’ پَو پھٹنا‘‘ اس حقیقت کا غماز ہے کہ بہت تڑکے شاعر کا کاروبار مشاہدہ شروع ہوا۔ فارسی کا بہت عمدہ ہم معنی شعر بے ساختہ یاد آتا ہے کہ ؎
چُو صبح دم ہمہ مردم بہ کاروبار ، رَوَند
بلا کشان محبت ، بہ کوئے یار روند
مصرعۂ ثانی میں صبح کا گول اور سرخ سورج شاعر کو چھلکتے ہوئے پیمانے کی یا د دلاتاہے ۔ یہ پسند یقینا شاعر کے شدید شعور جمال کی نشاندہی کرتی ہے۔
ریاض کی شراب خوری کچھ ایسی انو کھی اور عالمگیر ہے کہ موسم بہار میں ابر سیاہ کے ٹکڑے خوشامدانہ انداز میں ریاض خیرآبادی کو دعوت مے نوشی دیتے ہیں ۔ یہ موسم بہار کا معجزہ ہے کہ شاعر کو پانی پی کر بھی نشہ سا محسوس ہوتا ہے۔سچ پوچھیے تو ریاض کا کلام شروع سے آخر تک شراب و شباب،رنگینی اور حسن و عشق کاایک جزو لاینفک ہے جو ان کی عملی زندگی کوتمام تر جزئیات کے ساتھ منعکس کرتا ہے ۔ اول تو ان کے سبھی مادی عشق کامیاب نظر آتے ہیں اور اگر کبھی ہجر وفراق یا رقیب رو سیاہ کا سامنا بھی ہوا تو انھوں نے اس کا اظہار معنی خیز تبسم سے کیا۔ ان کا معشوق مثالی یا خیالی ہزگز نہیں بلکہ انہی کی طرح گوشت پوست والا انسان ہے جس کی صرف جنس بدلی ہوئی ہوتی ہے۔ ریاض کی عشقیہ شاعری میں کسی حد تک دبستان لکھنؤ کا خاص رنگ شامل ہے ۔
٭٭٭

Online Kasyno Vavada

Articles

Online Kasyno Vavada

Kasyno Vavada jest całkiem nowym serwisem, który umożliwia swoim użytkownikom korzystanie z interaktywnego hazardu. Kasyno online traktuje graczy z Polski lojalnie i przyjaźnie, każdy nowy gracz ma możliwość wzięcia udziału w programie bonusowym. Vavada to kasyno, które oferuje szeroki wachlarz rozrywki dla poszukiwaczy szczęścia, uczciwe warunki gry oraz szybkie, klarowne wypłaty.

O kasynie

Oficjalna strona prezentuje się dość barwnie, kasyno Vavada od razu stara się przyciągnąć uwagę łowców fortuny kolorowymi slotami. Rejestracja w serwisie jest zakazana wyłącznie dla użytkowników ze Stanów Zjednoczonych, Włoch, Hiszpanii, Wielkiej Brytanii i Kanady. Graczy z innych krajów, administracja klubu hazardowego zawsze chętnie zobaczy podczas swoich gier. Strona jest w pełni przetłumaczona na język polski i angielski. Jeśli chodzi o waluty w grze, dostępnych jest ich siedem:

  • Amerykański dolar.
  • Euro (EUR).
  • Polski złoty.
  • Ukraińska hrywna.
  • Turecka lira.
  • Brazylijski real.
  • Rosyjski rubel.
  • Kazachski tenge.

Gracze z Polski jako walutę gry mogą wybrać dolara amerykańskiego lub euro. Serwis działa na podstawie licencji wydanej w Curacao, więc w wielu krajach świata ma reputację kasyna offshore, które mimo to zdołało się pozytywnie zaprezentować w całej przestrzeni WNP.

Bonusy i promocje

Jedną z najbardziej oczywistych zalet serwisu jest hojny program lojalnościowy, który obejmuje prezenty zarówno dla nowych, jak i stałych graczy. Bonusy od kasyna Vavada to okazja do uzyskania większej wygranej, przy tej samej inwestycji, a niektóre prezenty, takie jak darmowe spiny, mogą nauczyć nowych fanów hazardu podstaw gry na slotach bez ryzyka i strat.

Bonusy kasyno bez depozytu

Pierwszy bonus, który wita graczy to darmowe spiny przy rejestracji. Wystarczy założyć osobiste konto na oficjalnej stronie, a darmowe spiny będą dostępne. Jak na każdej platformie, program lojalnościowy w Vavadzie ma swoje własne warunki obstawiania i zasady aktywacji:

  • Ilość darmowych spinów – 100.
  • Slot – Great Pigsby Megaways.
  • Zakład – Х20.

Na obstawianie gracz ma 14 dni od momentu rejestracji, przy czym za wszystkie pieniądze wygrane na spinach, będzie musiał zakręcić przynajmniej 20 razy. Zakład X20 jest dość prosty dla darmowych spinów.

Bonus powitalny

Kolejnym bonusem, który wychodzi naprzeciw polskim graczom jest bonus od pierwszego depozytu. Jest on automatycznie aktywowany natychmiast po uzupełnieniu salda gry w wysokości co najmniej 1$ lub równowartości w innej walucie. Sedno programu bonusowego sprowadza się do tego, że serwis podwaja pierwszy depozyt użytkownika, a oprócz kwoty głównej otrzymuje on 100% od kwoty depozytu na konto bonusowe. Maksymalna wysokość bonusu, który może zostać przyznany – równowartość 1000$.

Otrzymane środki bonusowe również muszą zostać postawione. Zakład ustalony przez kasyno do obstawiania – Х35. Wszystkie zakłady są przyjmowane tylko za prawdziwe pieniądze, dopóki główne saldo gracza nie będzie mniejsze niż minimalna stawka zakładu. Następnie pod uwagę brane są środki z konta bonusowego. Bonus należy odegrać w ciągu 14 dni od dokonania pierwszej wpłaty. Obowiązują również dodatkowe warunki programu bonusowego:

  1. Wypłaty są ograniczone albo do momentu skutecznego obstawienia bonusu, albo do momentu wygaśnięcia programu.
  2. W przypadku pomyślnego postawienia zakładu, całe saldo na koncie bonusowym zostanie automatycznie przelane na konto główne (nie więcej niż kwota otrzymanego bonusu).
  3. Możesz wycofać się z Programu Lojalnościowego tylko do postawienia pierwszej stawki uczestniczącej w zakładzie.

Ten bonus jest znacznie trudniejszy do zdobycia, ale nadal pozwala na podwojenie puli początkowej.

Program Lojalnościowy

Podczas gdy pierwsze dwa bonusy są przeznaczone dla nowych graczy, to program VIP jest przeznaczony dla doświadczonych graczy. Jego istota sprowadza się do ustalenia ilości pieniędzy wydanych w ciągu miesiąca, im wyższa kwota, tym wyższy status łowcy fortuny i tym więcej różnych przywilejów. Główną zaletą tego statusu jest możliwość wypłaty dużych wygranych. Na przykład, początkujący gracz może wypłacić tylko 1000 USD, podczas gdy członek ze statusem Platinum może wypłacić do 100 000 USD.

Turnieje

Serwis regularnie organizuje turnieje, w których każdy może wziąć udział. Może to być loteria z kosmicznymi nagrodami, jak również zwykły turniej na slotach. Nagrodą może być wszystko:

  • Darmowe spiny.
  • Środki bonusowe.
  • Punkty do programu VIP.
  • Prawdziwe pieniądze.

Warunki turniejów na automatach są bardzo proste: ten, kto postawił najwięcej zakładów, wygrywa i zgarnia długo wyczekiwaną wygraną. Czasami nagroda jest dzielona na kilku graczy jednocześnie.

Rodzaje dostępnych gier

Wśród prezentowanych gier użytkownicy mogą znaleźć nie tylko kolorowe sloty, ale także ruletkę, szeroki wybór gier karcianych i video pokera. Vavada może również zaoferować graczom możliwość spróbowania swoich sił w grach na żywo z prawdziwymi krupierami. Wachlarz dostępnych rozrywek mile zaskoczy, każdego kto chce łatwo znaleźć to czego potrzebuje. Wszystkie gry są dostępne natychmiast po rejestracji, a w wersje demo ulubionych slotów możesz wypróbować po prostu odwiedzając oficjalną stronę.

Dostawcy gier

Serwis współpracuje tylko z globalnymi i licencjonowanymi markami w zakresie produkcji oprogramowania hazardowego. W sumie, na oficjalnej stronie jest ponad 15 dostawców, wśród których można wyróżnić tych najlepszych:

  • Playn’Go;
  • NetEnt;
  • Microgaming;
  • Relax Gaming;
  • Evolution;
  • Push Gaming.

Gracz może zawsze przefiltrować gry, i cieszyć się tylko produktami swoich ulubionych producentów.

Wersja mobilna

Użytkownicy mogą również uzyskać dostęp do mobilnej wersji strony, która została zaprojektowana specjalnie dla graczy, którzy wolą cieszyć się grą na swoich smartfonach. Kasyno daje również możliwość pobrania na telefon komórkowy specjalnych aplikacji, które gwarantują nieprzerwany dostęp do serwisu. Aplikacja na iPhone’a może być pobrana z oficjalnego sklepu, a plik instalacyjny na Androida z zasobów stron trzecich.

Metody płatności

Wszystkie transakcje finansowe dokonywane są w koncie osobistym gracza. Tutaj może on uzupełnić saldo gry, zostawić prośbę o wypłatę środków i przejrzeć historię swoich płatności. Vavada współpracuje z wieloma systemami płatności, dlatego gracze nie mają żadnych problemów z wpłatami.

Depozyty

Możesz uzupełnić saldo gry za pomocą kart bankowych (Visa, Mastercard), portfeli elektronicznych (Monetix, Piastrix, Webmoney), kryptowaluty Bitcoin, Ethereum, USDT, Litecoin, TRX, BNB, płatności sms oraz systemów płatniczych Skrill, Neteller. Minimalna kwota depozytu – 1 USD. Wszystkie wpłaty są realizowane w ciągu minuty, po której użytkownik może rozpocząć grę.

Wypłata środków

Wypłata środków odbywa się za pomocą tych samych metod, co wpłata, z wyjątkiem operatorów komórkowych. Minimalna kwota dostępna do wypłaty – 10 USD. Limit wypłat kryptowalut wynosi 1 000 000 USD miesięcznie. Restrykcje dotyczące wypłat zależą jedynie od statusu gracza w kasynie:

Status Na dzień (USD) Na tydzień (USD) Na miesiąc (USD)
Początkujący 1 000 5 000 10 000
Gracz 1 000 5 000 10 000
Brązowy 1 500 7 000 15 000
Srebrny 2 000 12 000 20 000
Złoty 5 000 20 000 30 000
Platynowy 10 000 50 000 100 000

Szybkość wypłaty

Na wypłaty nie trzeba długo czekać, ponieważ maksymalne opóźnienie przelewów nie przekracza 24 godzin, ale z reguły wszystkie zaksięgowania następują w ciągu kilku godzin. Do portfeli elektronicznych środki trafiają znacznie szybciej niż na karty bankowe. Prowizja za przelew dla kasyna nie jest naliczana, jeśli gracz wpłacił ostatni depozyt co najmniej 3 razy, w przeciwnym razie naliczana jest prowizja w wysokości 10%.

Zespół wsparcia

W przypadku jakichkolwiek sporów, gracz może skontaktować się z pomocą techniczną. Usługa wsparcia działa w trybie 24/7, dzięki czemu operatorzy są gotowi do udzielenia pomocy w każdej chwili. Jest kilka sposobów na skontaktowanie się z pomocą techniczną:

  • Napisać na czacie LIVE na oficjalnej stronie kasyna.
  • Napisać email.

Niezależnie od wybranej metody, menedżerowie kasyna postarają się odpowiedzieć tak szybko, jak to możliwe.

Zalety i wady

Jak każdy klub hazardowy, kasyno Vavada ma swoje mocne i słabe strony.

Zalety:

  • Szeroki wybór dostępnych gier.
  • Gry tylko od licencjonowanych dostawców.
  • Szybka wypłata wygranych.
  • Hojny program bonusowy
  • Szybko dodawane są nowe sloty.
  • Łatwa rejestracja.

Wady:

  • Gry karciane są trochę słabo przedstawione

Podsumowanie

Kasyno Vavada to miejsce, w którym gracze mogą nie tylko dobrze się bawić, ale także wygrać niezłe pieniądze. Ciągłe losowania, turnieje i hojne bonusy tylko to ułatwią. Stoły na żywo pozwolą Ci poczuć się jak w prawdziwej sali hazardowej, pełnej emocji i pragnienia wygranej. W sieci można znaleźć wiele pozytywnych opinii o klubie hazardowym, najczęściej użytkownicy zwracają uwagę na wygodną obsługę i ciekawe, kolorowe sloty z odpowiednimi zwrotami.

Często zadawane pytania

Jaka jest minimalna kwota depozytu?

Minimalna kwota depozytu wynosi $1.

Czy kasyno wymaga weryfikacji użytkownika?

Tak, jeśli wypłata przekracza 10,000 USD.

Jak mogę wypłacić pieniądze ze strony kasyna?

Aby wypłacić pieniądze, po prostu zostaw prośbę o wypłatę na swoim koncie osobistym i wybierz metodę, z pomocą której wpłaciłeś depozyt.

Czy istnieje aplikacja mobilna?

Tak, zarówno na iPhone’a, jak i na Androida.

Jaką kwotę mogę wypłacić w ciągu miesiąca?

Limit wypłat kryptowalut wynosi 1 000 000 USD miesięcznie.

Jakie dane muszę podać podczas rejestracji?

Tylko numer telefonu komórkowego lub e-mail.

Czy mogę wypłacić wygraną na moją kartę bankową?

Tak, na kartę Visa lub Mastercard.

Jak mogę skontaktować się z zespołem wsparcia?

Możesz wysłać wiadomość e-mail lub napisać na czacie na żywo.