Firaq Ki Shairi by Prof. Siddiqur Rahman Kidwai

Articles

فراق کی شاعری میں عشق و وصل

صدیق الرحمن قدوائی

کسی تہذیب کی روایت جو تاریخ کی آزمائش سے گزرتی ہوئی مختلف نسلوں میں منتقل ہوتی رہتی ہتے، تمام انقلابات کے باوجود مکمل طور پر فنا نہیں ہوتی۔ ساتھ ہی ساتھ ترمیم اور تبدیلی کا عمل ضرور جاری رہتا ہے۔ شعوری طور پر بھی اورغیر شعوری سطح پر بھی۔ مگر اردو کے ادبی کلچر میں روایت کی جڑیں کچھ زیادہ ہی مضبوط ہیں۔ انحراف نکی کوششیں تو ہوتی رہتی ہیں۔ خصوصاً ہمارے زمانے میں تو اس کا دعویٰ بہت ہورہا ہے مگر اس کا اظہار سطح کے اوپر اوپر زیادہ نظر آتا ہے۔ معنی خیز اور دیرپا تبدیلیوں کی رفتار بہت دھیمی ہے۔ اور روایت اپنے گہرے سائے ساتھ ساتھ لیے ہوئے چلتی ہے۔ چنانچہ اردو والوں کے مزاج و مذاق کی تربیت میں غزل کا اثر عام طور پر ہر جگہ موجود ہے۔ اس سے نظر چرانے یا اس پر توبہ توبہ کرنے کی ’دانش ورانہ‘ اور ’نقادانہ‘ مشقتوں کے باوجود یہ ہے اور مدتوں رہے گا۔ اس کی بناء پر وہ سارے خطرات بھی ہیں جن کا بار بار ذکر ہوتا رہتا ہے اور وہ فائدے بھی ہیں جن کا پتہ ہمارے اچھے تخلیق کاروں کے کلام سے چلتا ہے۔ خطرہ اس وقت بالکل عیاں ہوجاتا ہے جب ہم ایک ’فارمولا نثر‘ اور ’فارمولہ شاعری‘ کو نہ صرف اپنے ہاں پنپتا ہوا بلکہ داد وصول کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ الفاظ، استعارات، تشبیہات، تلمیحات غرض کہ جو کچھ بھی موجود ہے انھیں جوڑ بٹور کر طرح طرح سے ترتیب دے دیجیے اور مشاعرہ لوٹ لیجیے۔ سننے والے یا پڑھنے والے کا تخیل و تصور خود بخود ہر لفظ کی مناسب تاویل اپنے بس بھر کرلیتا ہے یہ اس لیے مشکل نہیں کہ تصوف اور عشق نے تلازمات کی ایک پوری بھیڑ ہر لفظ کے پیچھے پیچھے لگادی ہے، جن سے دو تین صدیوں کے اندر ہم سب مانوس ہوگئے ہیں۔ اور یہ نہ ہو تو ایہام کا اپنا جادو بھی خوب چلتا ہے۔
مگر اس سے الگ اچھے فن کاروں نے ان ہی سب شعری وسائل کو کچھ اس طرح بھی برتا کہ وہی الفاظ پہلے جتنا کچھ کہتے تھے اس سے کچھ زیادہ ہی کہنے لگے۔ یعنی جانے بوجھے الفاظ میں نئی Spacesاور زیادہ گہرائیاں دریافت ہوگئیں۔ اور اسی بناء پر غزل کی روایت میں ہمیشہ ہر زمانے کی رعایت سے ایک ’عصریت‘ Con temporariness رہی جس نے اسے کبھی پرانا نہیں ہونے دیا۔ اور آج بھی اپنے خلاف تمام تنقیدی فیصلوں کے باوجود وہ ہمارے مجموعی تہذیبی اثاثے کا سب سے قیمتی، موثر اور مقبول حصہ ہے اور اس سطح کی شاعری سے ہی پتہ چلتا ہے کہ ’عشق‘ محض ہماری لغت کا ایک لفظ نہیں بلکہ مشرق کی عہد بعہد ارتقاء پذیر تہذیب کے متعدد عناصر کا حامل ایک تصور ہے۔ اور جب چاہیں اسے نئی نئی معنیاتی صورتوں میں تبدیل کردیں۔ وہ رومی کی زبان میں ’’طبیب جملہ علت ہائے ما‘‘ لے کر اشخاص کے درمیان جنسی تعلق تک سب کچھ اندر سمیٹے ہوئے ہے وہ اقبال کے فلسفیانہ نظام میں بھی اسی طرح ٹھیک بیٹھ جاتا ہے جیسے فیض کے ہاں انقلاب کے تصور میں۔ غرضکہ اردو شاعری کی کلاسیکی روایت کے زیر اثر تربیت پانے والا کوئی بھی شخص عشق سے بچ کر نہیں نکل سکا۔ فراق بھی ان ہی لوگوں میں ہیں۔ مگر ان کا عشق اور اسی کے سبب ان کا لمحۂ وصل بھی اوروں سے مختلف ہے۔ فراق کا زمانہ، ان کی ذات، ان کے مطالعے و مشاہدے انھیں اس منزل سے آسان گزرنے نہیں دیتے۔ غزل کی بنائی ہوئی صدیوں سے پلنے والی ذہنی و جذباتی فضا میں سانس لیتے رہنے کی بدولت ’’عشق‘‘ تو ان کے رگ و پے میں ضرور سرایت کرگیا۔ مگر وہ اس کے اس مفہوم سے مطمئن نہیں جو ان سے پہلے یا ان کے عہد کی غزل میں عام تھا۔ چنانچہ وہ اس کے ایک ایسے مفہوم کی تلاش میں ہیں جو فکر، جذبہ اور احساس کی ساری کائنات کو اپنے اندر سمیٹ لے۔ وہ اپنے عشق کو بہ یک وقت حسیں اور تہہ دار بنانے کی تمنا میں اسے وسیع مگر اور زیادہ مبہم کرتے چلے جاتے ہیں۔ شاید ان کے ذہن کے گوشوں میں کہیں یہ بھی خواہش ہو کہ وہ اقبال سے آگے جاکر کسی جہان تازہ کا پتہ لگا آئیں۔مگر یہ سب ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ وہ کسی خاص فلسفیانہ نظام سے ربط و ضبط نہیں رکھتے۔ وہ بیسویں صدی کے ایک لبرل ذہن رکھنے والے حساس، ہوش مند انسان ہیں جو اپنی اور اپنے عہد کی زندگی کے عام تقاضوں اور مسئلوں کو خواہ وہ سیاسی و سماجی ہوں یا ذاتی معاملات کے پروردہ ہوں، رومانی تعبیرات کے ذریعے سمجھنا چاہتے ہیں۔ وہ شاعر ہیں اور غزل کے راستے فلسفہ، مذہب، سیاست اور اخلاقیات وغیرہ تک پہنچتے ہیں۔ فراق کے عشق میں وہ ساری خواہشات سما گئی ہیں جو ان کے زمانے ایک مہذب انسان کو عزیز ہیں۔ اس تصور کی شاعرانہ تعبیرات وہ طرح طرح سے کرتے ہیں، کہیں کہیں وجد آفریں اندا زمیں اور کہیں سپاٹ نثریت لیے ہوئے:
تاریخِ زندگی کے سمجھ کچھ محرکات
مجبور اتنی عشق کی بے چارگی نہیں

نگاہ اہل دل سے انقلاب آتے ہیں
یقیں رکھ عشق اتنا بے سروساماں نہیں ہوتا

امید و یاس، وفا و جفا، فراق و وصال
مسائل عشق کے ان کے سوا کچھ اور بھی ہیں

رفتہ رفتہ عشق مانوسِ جہاں ہوتا چلا
خود کو تیرے عشق میں تنہا سمجھ بیٹھے تھے ہم
فراق کے ابتدائی کلام میں اساتذہ کے رنگ کا گہرا اثر ہے، مگر رفتہ رفتہ وہ اس سے نکلتے ہیں اور پھر اسی زور میں وہ زبان، عروض اور اردو شعریات کے مانوس اصولوں کی توڑ پھوڑ کرنے لگتے ہیں۔ طویل غزلیں کہنے، بعض مصرعوں کو مختلف غزلوں میں دہراتے رہنے اور ایک ایک بات کا بار بار کہتے رہنے کی عادت بڑھتی جاتی ہے۔ یہ ان کی تکمیل Perfectionکی تلاش ہے جو کہیں کام آتی ہے اور کہیں ناکام ہوجاتی ہے۔ فراق نے صوفیوں کے عشق کی سپردگی، اقبال کے عشق کے تحرک اور قوت نمو اور عام جنسی عشق کے بھرپور لذت انگیز اضطرار سب کو یکجا کرنا چاہا جو وہ نہ کرسکے مگر اس خواہش سے کچھ ایسے شرارے اٹھے جو ان کی شاعری میں ہر طرف دوڑتے ہوئے ملتے ہیں۔ خصوصاً اس وقت جب ان کا عشق انھیں وصل کی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
وصل کی اصل اساس کو متحرک کرنے والیب ۔۔۔۔ ہے جس کی وجہ سے اس کے جلو میں آنے والی لذت کی تمنا جسم و جاں میں سرایت کر جاتی ہے مگر یہ وصل محض دو جسموں کے ملاپ کی سہل نہیں۔ یہاں غالب کا شعر یاد آتا ہے:
ہمارے ذہن میں اس فکر ہے نام وصال
کہ گر نہ ہو کہاں جائیں، ہو تو کیوں کر ہو!
بات کو بہ یک وقت سلجھانے اور الجھانے سے احساس بھی اس دام میںہمیشہ کے لیے گرفتار ہوجاتا ہے اور اسی میں ساری لذتیں ہیں۔ خیر یہ تو معاملہ ہوا غالب کا ، ذکر تو ان کا نہ تھا مگر ایسی باتیں ان کے بغیر بھی کیسے ہوسکتی ہیں۔ ان جیسوں کا ذکر کہیں بھی ٓٓآئے جملۂ معترضہ نہیں ہوسکتا۔ خصوصاً ایک ایسے کے تعلق سے جسے وہ پہلے ہی جگمگا گئے ہیں۔ یہی گوشہ بیسویں صدی کے شاعروں میں ہمیں فراق کے ہاں سب سے زیادہ روشن اور نیا نیا سا لگتا ہے۔ زمانہ گزر گیا جب پہلی بار ان کا یہ شعر پڑھا تھا:
کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
ترے دم بھر کے آجانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں
مگر اس نے جس عالم حیرت میں پہنچایا اسی کے اندر ایک جہت سے دوسری جہت تک ڈولتے پھرنے میں جو لطف آج بھی آتا ہے اس کا اظہار ممکن نہیں۔ اسی طرح کے اشعار جو نئی نئی کیفیتیں پیدا کرتے ہیں اور احساس پر اپنا نقش چھوڑ جاتے ہیں انھیں بیان کرنے کی کوشش ان لذتوں کا خون کرنے کے سوا کچھ نہی، مگر اس شعر کی بدولت فراق کی شاعری کے محض ایک پہلو کی طرف دل و دماغ کچھ اس طرح متوجہ ہوا کہ اس جیسے دوسرے اشعار پر بھی نظر ٹھہرتی چلی گئی اور پھر ایسا لگا کہ وہ محض کوئی آتی جاتی کیفیت نہیں ہوگی جس نے فراق سے یہ شعر کہلوایا بلکہ ان کا احساس انھیں ایک مخصوص سطح پر بار بار لے جاتا ہے جہاں یہ کیفیت ان سے جدا ہو ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ اس طرح کے سب اشعار باہم مل کر ہم آہنگ احساسات و جذبات کی ایک اکائی تشکیل کرتے ہیں۔
وصل یہاں محض محبوب سے ہمکنار ہونا نہیں بلکہ ابدی ناآسودگی اور لازوال تشنگی کو اور اجاگر کرنے والا لمحہ ہے۔ اب محبوب سے مل کر سارے غم دور نہیں ہوتے بلکہ ایک نیا اور پہلے سے زیادہ گھلا دینے والا دکھ نس میں اتر جاتا ہے۔ یہا ں عاشق کی ذات محبوب سے مل کراداسیوں میں ڈوب جاتی ہے اور وصل تنہائی کا مداوا کرنے کی بجائے تنہائی کے احساس کو اور زیادہ گہرا کردیتا ہے:
بتائیں کیا دل غمگین اداس کتنا تھا
کہ آج توع نگہِ ناز نے بھی سمجھایا

فضا تبسمِ صبحِ بہار تھی لیکن
پہنچ کے منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی
فراق کے محبوب کی ذات اردو شاعری کے روایتی محبوب کے ناقابل شناخت وجود سے بھی مختلف ہے۔ یہاں محبوب کا ایک آزادانہ وجود ہے، وہ محض عاشق کا خواب نہیں بلکہ اس کے ہاں بھی جذبہ و احساس کی ایک دنیا ہے جسے پانے کی خواہش عشق کو عام انسانی رشتوں کے مقابلے میں زیادہ دلکش بنادیتی ہے اور پیچیدہ بھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ لمحۂ وصل بھی عشق کی تکمیل کا لمحہ نہیں ہوسکتا:
عشق اگر ایسے سے ہوجائے تو کیا کیجیے فراق
جس کو کھو کر جاں بلب ہوں جس کو پا کر جی بھر آئے

ہم آغوشی بھی چٹکی سی لیے جاتی ہے سینے میں
کہ یہ ارمان بھی نکلا ہوا ارماں نہیں ہوتا
وصل یہاں آنے والی تنہائیوں کا پیغام ہے اور وصل کی گھڑی پر بھی ہجر کے سائے منڈلاتے ہیں، جس کا انتظار تھا وہ جب آیا تو وہ شاعر کی جذباتی دنیا سے مختلف نہیں بلکہ اسی جیسا ہے۔ شاید عشق ہے بھی اسی کیفیت کا نام جب دو وجود باہم اس قدر قریب ہوجائیں کہ دونوں ایک دوسرے کے دکھ میں شامل ہوکر اور زیادہ اداس ہوجائیں۔ فراق کے ہاں وصل تمام جسمانی لذتوں اور سرمستیوں کے ساتھ ہوتا ہے جس کی سب سے اچھی مثالیں روپ میں ملتی ہیں۔ لمس کی لذتوں سے بھرپور اشعار اور رباعیاں اس کے بغیر وجود میں نہیں آسکتیں تھیں، مگر یہ انتہا نہیں۔
تجھے تو ہاتھ لگایا ہے بارہا لیکن
ترے خیال کو چھوتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

ترا وصال بڑی چیز ہے مگر اے دوست
وصال کو مری دنیائے آرزو نہ بنا

کہاں وہ خلوتیں دن رات کی اور اب یہ عالم ہے
کہ جب ملتے ہیں دل کہتا ہے کوئی تیسرا بھی ہو

عجب کیا کھوئے کھوئے سے جو رہتے ہیں ترے آگے
ہمارے درمیاں اے دوست لاکھوں خواب ہائل ہیں

اک فسوں ساماں نگاہ آشنا کی دیر تھی
اس بھری دنیا میں ہم تنہا نظر آنے لگے

حسن کو ایک حسن ہی سمجھے نہ ہم اور اے فراق
مہرباں نامہرباں کیا کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم
اور پھر آدھی رات والی نظم اپنے ہالے میں زمین و آسمان کے سارے حسن اور سارے کرب کو سمیٹے ہوئے آخر تک پہنچتی ہے تو فراق درد و لذت کے سارے تلاطم کو یوں ہمکنار کرلیتے ہیں:
اب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سوجاؤ
٭٭

Tanqeedi Tahrireen by Ahmed Sohail

Articles

تنقیدی تحریریں ۔۔۔۔ احمد سہیل

Shibli Ka Nazarya E Shairi

Articles

شبلی کا نظریۂ شاعری

ڈاکٹر پرویز احمداعظمی

شبلیؔ نعمانی کی شخصیت اردو ادب میں ناقد،شاعر، مورخ، سوانح نگار اورسیرت نگار کی حیثیت سے مسلم اور لاثانی ہے ۔ ان کے شعر اور شاعری سے متعلق نظریات و افکار ’شعرالعجم‘ اور’ موازنۂ انیس و دبیر‘ کے علاوہ ان کے مختلف مضامین میں بکھرے ہوئے ہیں لیکن اتنی بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کو شاعری، اس کے فنی لوازمات اوراس کی تنقید سے خاص انسیت رہی ہے۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے نظریاتِ شاعری اور اس کے دیگرامورسے متعلق اپنے خیالات کوتفصیل اور توضیح کے ساتھ ’’شعرالعجم‘‘ میں پیش کیا بلکہ عملی تنقید کے نمونے بھی ’’ موازنۂ انیس و دبیر‘‘ میں پیش کیے۔ شبلیؔ نے ’’موازنے ‘‘میں مرثیہ نگاری کے فن پر اصولی بحث کے علاوہ فصاحت، بلاغت، تشبیہ ، مبالغہ، روز مرہ اور محاورہ اور دیگر شعری محاسن کی تعریف و توضیح اور ان کے مختلف پہلوئوں پر بھی روشنی ڈالی ہے، جن سے ہمیں ان کے شعری شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔ شبلیؔ کے نظریۂ شاعری اور شعری تنقید کو سمجھنے کے لیے ان کی مذکورہ دونوں کتابیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔
انہوں نے ’’شعرالعجم‘‘ کی پہلی جلدمیں ’شعر کی حقیقت‘ ،’ شاعری کے متعلق ارسطو اور مِل کی رائیں‘ اور چوتھی جلدمیں ’شاعری کی حقیقت‘،’ شاعری کے اصلی عناصر‘، ’محاکات‘،’ تخیل‘، ’حسنِ الفاظ‘ اور لفظوں کی نوعیتوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس لحاظ سے ان کی یہ تصنیف خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہے کہ اسی میں انہوں نے اردو شاعری کے تعلق سے اپنی گراں قدر آرأ کا اظہار کرنے کی کوشش کی ہے۔اردو شاعری کی شعریات کو سمجھنے کے لیے حالیؔ اور شبلیؔ کی آرأ اور کتابیں اردو ادب میں نوادر کی حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ انہیں دونوں اکابرین نے اردو شاعری کی شعریات کے اصول و ضوابط طئے کرنے کی ابتدائی کوششیں کی ہیں۔
در اصل شعرالعجم شبلیؔ کی وہ کتاب ہے،جس میں انہوں نے اپنے شاعری اور امورِ شاعری سے متعلق خیالات ؛مطالعے ، مشاہدے اور تجربے کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کی حتی المقدور سعی کی ہے۔ شاعری کے اصلی عناصر، تاریخ اور شعر کا فرق، شاعری اور واقعہ نگاری کا فرق جیسے مسائل پر مدلل بحث کی ہے تاکہ شاعری کے جملہ معاملات واضح ہو جائیں۔ اس کے لیے وہ لفظ اور معنیٰ کی بھی بحث کرتے ہیں اور ان کی مختلف نوعیتوں پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ شاعری کو ذوقی اور وجدانی شے کہتے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ شاعری کی جامع تعریف پیش کرنا آسان نہیں لہٰذا وہ مختلف انداز سے اس کی وضاحت کرتے ہوئے تحریرکرتے ہیں:
’’ شاعری چونکہ وجدانی اور ذوقی چیز ہے، اس لئے اس کی جامع و مانع تعریف چند الفاظ میں نہیں کی جا سکتی اِس بنا پر مختلف طریقوں سے اس کی حقیقت کا سمجھانا زیادہ مفید ہوگا کہ ان سب کے مجموعہ سے شاعری کا ایک صحیح نقشہ پیش نظر ہو جائے۔‘‘ ۱؎
شاعری کی حتمی تعریف چند لفظوں میں بیان کرنا واقعتاً مشکل ہے۔ اس لیے شبلیؔ نے حتمی تعریف کے بجائے مختلف مثالوں سے اس کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک شاعری کا منبع ادراک نہیں بلکہ احساس ہے ۔ اس کے بعد وہ ادراک اور احساس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’ خدا نے انسان کو مختلف اعضا اور مختلف قوتیں دی ہیں۔۔۔ان میں سے دو قوتیں تمام افعال اور ارادات کا سر چشمہ ہیں، ادراک اور احساس، ادراک کا کام اشیا کا معلوم کرنا اور استدلال اور استنباط سے کام لینا ہے۔ ہر قسم کی ایجادات ، تحقیقات ، انکشافات اور تمام علوم و فنون اسی کے نتائج عمل ہیں۔
احساس کا کام کسی چیز کا ادراک کرنا ، یا کسی مسئلے کا حل کرنا، یا کسی بات پر غور کرنا اور سوچنا نہیں ہے۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب کوئی موثر واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے، غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے، خوشی کی حالت میں سرور ہوتا ہے، حیرت انگیز بات پر تعجب ہوتا ہے، یہی قوت جس کو انفعال یا فیلنگ سے تعبیر کر سکتے ہیں شاعری کا دوسرا نام ہے، یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہے تو شعر بن جاتا ہے،‘‘ ۲؎
علامہ شبلیؔ کے شاعری سے متعلق یہ بنیادی خیالات ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مختلف واقعات اس پر اثر کرتے ہیں ، جس کے باعث اس پر مختلف کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ان کے نزدیک حیوانات پر جب کوئی جذبہ طاری ہوتا ہے تو وہ متفرق حرکتوں یا آوازوں سے اس کاا ظہار کرتے ہیں جو’ شیر کو گرجنے ، مور کو چنگھاڑنے، کوئل کو کوکنے ، مور کو ناچنے اور سانپ کو لہرانے‘ پر مجبور کرتے ہیں۔ اسی طرح جب انسان پر کوئی جذبہ طاری ہوتا ہے تو اس کی زبان سے موزوں الفاظ نکلتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاعری میں جذبات اور کیفیت کی اہمیت کے خاصے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جذبات کے بغیر شاعری کا وجود نہیں ہوتا اور وہ جذبات ہی سے پیدا ہوتی ہے ۔ اپنے خیالات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:
’’جو جذبات الفاظ کے ذریعے ادا ہوں وہ شعر ہیں۔۔۔شعر کی تعریف یوں بھی کر سکتے ہیںکہ جو کلام انسانی جذبات کو بر انگیختہ کرے اور ان کو تحریک میں لائے وہ شعر ہے،‘‘ ۳؎
شبلی کا کہنا ہے کہ شاعری کا کام جذبات کو تحرک دینا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے خیالات کو مزید واضح کرتے ہیں ۔ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ تمام عالم ایک شعر ہے۔ زندگی میں ہر جگہ شاعری بکھری پڑی ہے اور جہاں شاعری موجود ہے وہاں زندگی ہے۔ وہ ایک یوروپین مصنف کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
’’ ہر چیز جو دل پر استعجاب یا حیرت یا جوش اور کسی قسم کا اثر پیدا کرتی ہے، شعر ہے ۔ اس بناپر فلک نیلگوں ، نجمِ درافشاں ، نسیم سحر، گلگونۂ شفق، تبسمِ گل، خرامِ صبا، نالۂ بلبل، ویرانیِ دشت، شادابی چمن، غرض تمام عالم شعر ہے۔۔۔جو چیزیں دل پر اثر کرتی ہیں، بہت سی ہیں، موسیقی، مصوری، صنعت گری وغیرہ لیکن شاعری کی اثر انگیزی کی حد سب سے زیادہ وسیع ہے،‘‘ ۴؎
فنون لطیفہ کا ذکر اور ان کا تقابل کرتے ہوئے وہ کہتے ہیںکہ شاعری دیگر فنون کے مقابلے بہتر ہے کیوں کہ شاعر ان کیفیات کی بھی تصویر کشی کر سکتا ہے، جن کی پیش کش مصور اوربت تراش نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ساری زندگی میں شعریت پائی جاتی ہے ۔ قدرتی مناظر، صبح کی دل آویزیاور شام کا دل کش سماں، ان سب میں ایک مسحور کن کیفیت ہوتی ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شبلیؔ کے نظریاتِ شاعری، شاعری کے جمالیاتی پہلو پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر سید عبداللہ ’’اشاراتِ تنقید‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:
’’ شبلیؔ نے اصناف شعر کی بھی تجزیاتی بحث کی ہے ۔ اور کئی امور میں حالی سے آگے بڑھ گئے ہیں۔۔۔شعرالعجم اور موازنہ انیس و دبیر کی تشریحات ذوق کے لیے یوں ہیں’’گویا دبستان کھل گیا‘‘۔۔۔یہ تو ظاہر ہے کہ شبلیؔ کی تنقید میں اجتماعی اور عمرانی نقطۂ نظر بھی ہے مگر اس کے باوجود ان کا مزاج ، جمالیاتی اور تاثراتی رویے کی طرف خاص جھکائو رکھتا ہے۔‘‘ ۵؎
مذکورہ اقتباس کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شبلی کے بارے میں اس طرح کی رائے کئی ناقدین کی ہے کہ وہ جمالیاتی اور تاثراتی نقاد ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم لیکن وہ فن کی خوبیوں اور خامیوں دونوں پر برابر نگاہ رکھتے ہیں۔ ’موازنے ‘میں، جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے صرف میر انیس کی شاعری کی تعریف کے لیے یہ کتاب لکھی، اس میں بھی انہوں نے میر انیس کی شاعری کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔
شبلیؔ کے نزدیک شاعری تمام فنون ِ لطیفہ میں بلند تر حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ تاثر کے لحاظ سے بہت سی چیزیں مثلاً: موسیقی ، مصوری ، صنعت گری وغیرہ اہم ہیں مگر شاعری کی اثر انگیزی کی حد سب سے زیادہ وسیع ہے۔ شاعری کے سلسلے میں وہ محاکات کا ذکر کرتے ہیں اور پھراس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ محاکات کے معنیٰ کسی چیز یا کسی حالت کا اس طرح ادا کرنا ہے کہ اس شے کی تصویر آنکھوں میں پھر جائے۔ تصویر اور محاکات میں یہ فرق ہے کہ تصویر میں اگرچہ مادی اشیا کے علاوہ حالات یا جذبات کی بھی تصویر کھینچی جا سکتی ہے۔ ۔۔تاہم تصویر ہر جگہ محاکات کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ سینکڑوں گوناگوں حالات و واقعات تصور کی دسترس سے باہر ہیں۔‘‘ ۶؎
وہ صرف محاکات کی تعریف ہی پر بس نہیں کرتے بلکہ محاکات کن کن چیزوں سے قائم ہوتی ہے ۔اس کی بھی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تخیل ، جدت ادا اورالفاظ کی نوعیت ، کیفیت اور اثر کی بات بھی کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک لفظ جسم ہیں اور مضمون روح ہے۔ اس مسئلے پر اہل فن کے دو گروہ ہیں ایک لفظ کو ترجیح دیتا ہے اور دوسرا معنیٰ کو۔ شبلیؔ کا زور لفظ پر زیادہ ہے۔ لفظ اور معنی کی بحث میں لفظوں کی اقسام اور ان کی نوعیت کی صراحت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں :
’’الفاظ متعدد قسم کے ہوتے ہیں، بعض نازک ، لطیف، شستہ، صاف، رواں اور شیریں اور بعض پر شوکت، متین، بلند، پہلی قسم کے الفاظ عشق و محبت کے مضامین ادا کرنے کے لیے موزوں ہیں، عشق اور محبت انسان کے لطیف اور نازک جذبات ہیں، اس لیے ان کے ادا کرنے کے لیے لفظ بھی اسی قسم کے ہونے چاہییں،‘‘ ۷؎
لفظ اور معنیٰ کی بحث نہایت دلچسپ ہے۔ فصیح اورمانوس الفاظ کا اثر، سادگی ادا، جملوں کے اجزا کی ترکیب پر اپنی آرأ کا اظہار کرتے ہوئے شبلیؔ اس کے اثر کی بھی بات کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ، یہ ہے کہ خیال یا مضمون کتنا ہی عمدہ کیوں نہ ہو اگر لفظ عمدہ نہیں ہوں گے تو خیال کا اثر جاتا رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خیال کی عمدگی کے ساتھ ساتھ الفاظ کا عمدہ ہونا بھی ضروری ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کہ شبلیؔ کا نقطۂ نظر تاثراتی اور جمالیاتی ہے، کو مضائقہ نہیں لیکن ان کی نگاہ شاعری کی دوسری خوبیوں پر بھی رہتی ہے ۔ موازنۂ انیس و دبیر میں انہوں نے شعری صنعتوں کی جس طرح تشریح پیش کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس لیے کہ جس صنعت کے ضمن میں انہوں نے جو شعر نقل کیے ہیں ۔ وہی شعر اکثر کتابوں میں نقل کیے گئے ہیںیعنی چراغ سے چراغ جلانے کا کام ہوا ہے۔
اردو شاعری کی نظریاتی بحث ، اسے پرکھنے، پرکھنے کے لیے کسوٹی تیار کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر امور مثلاً: لفظ و معنیٰ، محاکات، تخیل، جدت ادا، بداعت اسلوب وغیرہ کی اہمیت اور شعری محاسن کے بارے میں جس طرح سے انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ آج بھی ہمارے لیے بیش بہا خزانے کی مانند ہیں۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حالیؔ اور شبلیؔ کی نظریاتی بحث نے ہی اردو شاعری کو ایک مثبت سمت عطا کی اور شاعری کو کلی طور سے پرکھنے کا کام شروع ہوا۔اسی لیے اردو شاعری کی نظریاتی بحث کے سلسلے میں حالیؔ اور شبلیؔ نہایت اہم ہیں۔ انہیں دونوں اکابرین کی بدولت اردو شاعری کی تنقید اور چھان پھٹک کا چراغ روشن سے روشن تر ہوا۔
حواشی
۱؎ شعر العجم، جلد چہارم، ص: ۱
۲؎ ایضاً، ص: ۲۔۱
۳؎ ایضاً، ص:۲
۴؎ ایضاً، ۳۔۲
۵؎ اشاراتِ تنقید، ص: ۲۸۹۔۲۸۸
۶؎ شعر العجم، جلد چہارم، ص: ۶
۷؎ شعر العجم، جلد چہارم، ص: ۶
کتابیات
۱؎سید عبداللہ(ڈاکٹر)، اشارات تنقید،
۲؎شبلی نعمانی ، شعرالعجم، جلد اول، دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، ۱۹۷۲ (طبع ششم)
۳؎شبلی نعمانی ، شعرالعجم، جلد چہارم، دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، ناقص الاول
۴؎شبلی نعمانی ، موازنۂ انیس و دبیر، دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، ۲۰۰۴
٭٭٭
مشمولہ ششماہی ’’اردو نامہ‘‘ شمارہ 9 ص:200تا 207

 

Urdu Channel Issue No. 4

Articles

اردو چینل شمارہ نمبر ۴

قمر صدیقی

Deepti Mishra ki Shairi by Qasim Imam

Articles

دیپتی مشرا کی شاعری ۔۔۔۔ تقریر : قاسم امام

قاسم امام

Adab Aur Awami Zaraye Tarseel by Md. Mohsin Raza

Articles

ادب اور عوامی ذرائع ترسیل

محمد محسن رضا

ادب میں ادیب اور قاری کی اہمیت اور مقام و مرتبہ کا مسئلہ ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ مگر آج کے اطلاعاتی، صنعتی اورجدید ٹکنالوجی کے دور میں خود ادب کی شناخت اور اس کا وجود ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے جس کو شمیم حنفی نے اپنے ایک مضمون ’’اردو ادب کی موجودہ صورت حال‘‘ میں اشوک باجپئی کے اداریے کے حوالے سے کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
’’خبر ادھر عرصے سے یہ پھیلتی رہی ہے کہ اکیسویں صدی میں ادب اور زبانوں کا خاتمہ قریب ہے۔ جو نیا اطلاعاتی سماج بنے گا، جسے علم پر مبنی سماج بھی کہاجاسکتا ہے، اپنے لیے ایک عالمی زبان گڑھے گا اور اس میں تخلیقیت کا اظہار ادب سے مناسبت رکھنے والے روایتی وسیلے کے بجائے کسی زیادہ مستقبل شناس کا انتخاب کرے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کتاب نامی انقلابی ایجاد کی موت کا وقت آگیا ہے۔ـ‘‘
سائنس و ٹیکنالوجی نے زندگی اور سماج کے ہر شعبے کو بے حد متاثر کیا ہے اور ان پر اس کے مثبت و منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ صنعتی ترقی و جدید سائنسی ایجادات و انکشافات نے انسان کو ایک طرح سے ماضی و مستقبل کے دوراہے پرلا کھڑاکیا ہے جہاں ایک طرف اپنے ماضی اور اپنی تہذیب و ثقافت سے بچھڑنے کا درد و غم ستا رہا ہے تو دوسری طرف مادی ترقی، خوش حال زندگی اور روشن مستقبل کی خواہش بھی سر اٹھا رہی ہے۔ اور انسان اسی دوراہے پر کھڑا ماضی و مستقبل کے پیچ و خم میں الجھ کر کشمکش بھری زندگی گذارنے پرمجبور ہے۔ وہ ان دونوں میں توازن قائم کرنے میں ناکام ہے۔ انسانوں کے اندر یہ کیفیت پیدا کرنے میں جدید سائنسی ایجادات و انکشافات اور غیر متوازن صنعتی و معاشی ترقی کا رول سب سے اہم اور زیادہ ہے۔ جس میں عوامی ذرائع ترسیل خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا شامل ہیں۔
ادب لفظوں کے ذریعہ حسن ترتیب و تنظیم کے ساتھ جذبات و احساسات اورافکار و خیالات کے اظہار کا نام ہے۔ ادب سماج کا پروردہ بھی ہوتا ہے اور سماج کا رہنما اور پیش رو بھی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو نہ ’’انگارے‘‘ کو ضبط کیا جاتا اور نہ ’’سوز وطن‘‘ کو۔ اور نہ ہی ہٹلر کے ذریعہ جرمنی کے ادب کا معیار متعین کیا جاتا یہاںتک کہ افلاطون بھی شاعری کو ملک بدر نہیں کر پاتا۔ بہرکیف، ادب فکر و فن کے مجموعے کا نام ہے جس میں ایک کو جسم اور دوسرے کو اس کی روح قرار دیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک واقعہ اگرکوئی رپورٹر بیان کر رہا ہے تو وہ واقعہ خبر ہے، اور وہی واقعہ اگر کسی فنکار کا موضوع بن جائے تو ادبی شاہکار ہے۔ ادب میں فکر و فن دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔ ادب کا مقصدکیا ہے اور کیا ہونا چاہیے قطع نظر اس سے ادب اپنے مقصد سے اسی وقت ہم آہنگ ہو سکتا ہے جب اس کی ترسیل ممکن ہو۔
تحریر کے وجودمیں آنے سے قبل انسان اشاروں کے ذریعہ یا مکمل زبانی بول کر ابلاغ و ترسیل کا کام انجام دیتا رہا اور اپنے جذبات و احساسات اور خیالات و تجربات کو ایک دوسرے سے شیئر کر تا رہا۔ پھر حروف، الفاظ اور رسم الخط کے وجود میں آنے کے بعد تحریری ترسیل کا دور شروع ہوا۔ یہ تحریری ترسیل اشاراتی اور زبانی ابلاغ و ترسیل پر بہت جلد حاوی ہوگئی اور ایک عرصۂ دراز تک ذرائع ابلاغ پر اپنی بالادستی قائم رکھی۔ اس تحریری ترسیل کی بالادستی کو سب سے پہلے طباعتی ترسیل نے متاثر کیا جس کا دور تقریباً 1500ء سے 1900ء تک ہے جس میں چھاپہ خانے کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ پھر میڈیا اور صحافت کا دور شروع ہوا جس میں پرنٹ میڈیا اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے تحریری ترسیل کی بالادستی تقریباً ختم کردی اور عوامی ذرائع ترسیل و ابلاغ میں سر فہرست آگئی۔
عوامی ذرائع ترسیل سے مراد ابلاغ و ترسیل کے وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعہ عوام و خواص بڑے پیمانے پر ایک دوسرے کے خیالات و نظریات، جذبات و احساسات اور واقعات و حادثات سے آگہی حاصل کرتے ہیں، اسے ماس میڈیا اور پاپولر کلچر بھی کہاجاتا ہے۔ اس میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں شامل ہیں۔
عوامی ترسیل و ابلاغ ایک دوطرفہ عمل ہے اس کے مثبت پہلو ہیں تو منفی اثرات بھی ہیں۔ یہ ایک دو دھاری ہتھیار کے مانند ہے جس کا استعمال ایک طرف سماجی، معاشی ترقی کو تیز کرنے اور آزادی و جمہوریت کے آفاق کو وسعت دینے کے ساتھ بین الاقوامی ربط و ضبط اور اپنے وقار کو قائم کرنے کے لیے کیا جاسکتا ہے تو دوسری طرف آزادی کو کچلنے، جمہوری نظام کی جڑیں اکھاڑنے، ملک اور اقوام کے درمیان نفرت و دشمنی پیدا کرنے اور عوام کو کسی خاص رجحان یا نظریے کی طرف مائل کرنے کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے۔ عوامی ذرائع ترسیل سے جہاں علوم و فنون، سائنس اور تعلیم و تفریح کے وافر سامان مہیا ہو رہے ہیں۔ وہیں یہ انسانی جذبات و احساسات اور فکر و خیالات کو بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر متاثر کر رہی ہے۔ جس میں ادب بھی شامل ہے۔
آج ہم جس دور میں اور جس سماج میں زندگی بسر کر رہے ہیں اسے اطلاعی سماج کا دور کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ زندگی اور سماج کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو انفارمیشن ٹکنالوجی سے متاثر نہ ہوا ہو۔ اخبارات، رسائل، اشتہارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن، کیسٹ، سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ نے ترسیل و ابلاغ کی دنیا کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے بالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے دنیا میں نشریات کا ایسا جال بچھا دیا ہے کہ وسیع و عریض دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
زندگی کے ہر شعبے کی طرح ادب پر بھی جدید عوامی ذرائع ترسیل کے مثبت اور منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ ماس میڈیا ادب کے فروغ میں نمایاںکردار ادا کر رہا ہے۔ اس نے ادب کو درباروں اور مجلسوں کی چہار دیواری سے نکال کر عوام کے گھروں میں داخل کر دیا۔ آج سینکڑوں اخبارات، ادبی رسائل شائع ہو رہے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، سوشل سائٹسsocial sitesکے ذریعہ بھی ادب کو فروغ مل رہا ہے اور انٹرنیٹ نے تو ان سب کو یکجا کر کے عوام کی رسائی کو مزید آسان کر دیا ہے۔ ان کی مدد سے ادبی تخلیقات عوام تک بآسانی پہنچ رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے ادب کے قارئین کی تعداد میںبھی آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ ادب کی تخلیق میں اضافے کا سبب بن چکا ہے۔ یہ عوامی ذرائع کی مدد سے ادب کے فروغ کا مثبت پہلو ہے۔
بلاشبہ ادب کی نشرو اشاعت میں عوامی ذرائع ابلاغ و ترسیل کلیدی رول ادا کر رہا ہے اور اس سے زبان و ادب کا ارتقا ہو رہا ہے اگرچہ ان کا بنیادی مقصد ادب کی ترویج و اشاعت نہیں ہے پھر بھی ضمناً ادب کا فروغ ہو رہا ہے مگر فائدہ سے کہیں زیادہ ادب کا نقصان ہو رہا ہے، کئی زاویے سے ادب پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ادب کی روح مجروح ہو رہی ہے اور سنجیدہ ادب اور قارئین کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔
جدید عوامی ذرائع ترسیل نے نہ صرف ادب کی روح کو متاثر کیا ہے بلکہ ہمارے جذبات و احساسات کو بھی کچل کر رکھ دیا ہے۔ آج بھی کفن، اپنے دکھ مجھے دے دو، ہتک جیسے واقعات ہوتے ہیں۔ بدھیا، سوگندھی، کالوبھنگی، اندو، سکینہ جیسے کردار بھی ہیں اور ان پر کہانیاں بھی لکھی جاتی ہیں مگر ان میں جذبات و احساسات کی وہ شدت نہیں ملتی جو ہمیں متاثر کرسکے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کے واقعات و حادثات سے عوامی ذرائع ترسیل کی مدد سے ہر روز ہمارا سابقہ پڑتا ہے اس طرح کے واقعات بلکہ کوئی بھی واقعہ اب ہمارے لیے بہت زیادہ اہمیت نہیںرکھتا ہے۔ چوری، ڈکیتی، قتل، ظلم، استحصال، ناانصافی یہ سب عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے یہ ہمارے قوت احساس کو نہیں جگا سکتے۔ یہ اس وقت کے ادب میںبھی ہو تو ایک خبر کے سوا کچھ نہیں جو ہمیں پہلے سے معلوم ہے۔
جدید ذرائع ترسیل نے ہماری ذہنی و فکری آزادی کو غلام بنا کر ادب کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ہمارے حال و مستقبل بلکہ روزمرہ کی معمولات کا بھی فیصلہ ماس میڈیا کرتا ہے کہ ہم کیا سوچیں، کیا دیکھیں، کیا کھائیں، کیا پہنیں، کیا خریدیں، کیا پسند کریں، کیا ناپسند کریں، کیا پڑھیں، کیانہ پڑھیں وغیرہ۔ اس میں بھی سیاسی نظام کا اہم رول ہوتا ہے۔ یہ ہمیں بلا واسطہ اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے اور بالواسطہ ماس میڈیا کی مدد سے ہماری رائے کی نوعیت کا فیصلہ خود کرتا ہے۔ یہ ذہنی و فکری غلامی بنام آزادی ادب اور ادیب دونوں کے لیے مہلک ہے۔ یہ برسراقتدار طبقہ میڈیا پر جن کا کنٹرول ہے ادیب کو ایک طرف یا تو صرف تفریح نگار بنا دیتے ہیں یا دوسری طرف محض پرچارک، جو کسی سیاسی پارٹی کی ہر آن بدلتی ہوئی پالیسی کے مطابق اپنی تحریر بدل سکے۔ جبکہ یہ بات واضح ہے کہ جبر ادب پیدا نہیں کرسکتا، جب تک ادیب بے ساختگی سے آزادی سے نہیں لکھتا ادبی تخلیق ناممکن ہے۔ ادبی تخلیق کو ذہنی ایمانداری سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ تخیل قید میں بار آور نہیں ہوسکتا۔ جب ذہنی آزادی فنا ہوجاتی ہے تو بقول ممتاز شیریں ’’ادب مرجاتا ہے۔‘‘
عوامی ذرائع ابلاغ و ترسیل کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں چوتھے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ بالواسطہ یا بلا واسطہ برسر اقتدار طبقے کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ اور ان کی پالیسی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں خود غیر جانب دار ہوتے ہوئے بھی جانبداری کا ثبوت پیش کرنا ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ ہم ان سے ادب کی آفاقیت اور غیر جانبدارانہ رویے کو برقرار رکھنے کی امید رکھیں۔ ان کا بنیادی مقصد تجارت و معیشت ہے اور یہ اپنے مقصد میں اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب ان کے قارئین، ناظرین اور سامعین کی تعداد میں اضافہ ہو۔ اس لیے وہ اپنی ادبی تخلیقات کو قابل نشر و اشاعت سمجھتے ہیں جو ان کے مقصد کے حصول میں معاون ہوں۔ جس سے نہ صرف ادیب و قاری کے جذبات و احساسات اور افکار و نظریات متاثر ہوتے ہیں بلکہ زبان و اسلوب بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جدید عوامی ذرائع ترسیل ادبی تخلیقات کی ترسیل و ابلاغ میں معاون ضرور ہیں مگر یہ فیصلہ کرنا ذرا مشکل ہے کہ یہ کیا ادب کے فروغ میں بھی معاون ہیں؟
_______________
MD MOHSIN RAZA
126. JELUM HOSTEL JNU, NEW DELHI
E. Mail ID.mohsinrazajnu@gmail.com
Mob.no. 8506928945
کتابیات:
(1) دیویندر اسر۔ ادب کی آبرو۔سنجو آفسیٹ پرنٹرز کرشن نگر، دہلی۔ 1996ء
(2) محمد خاور نوازش۔ (مرتب) ادب، زندگی اور سیاست۔ مثال پبلشرز، فیصل آباد۔ 2012ء
(3) دیویندر اسر۔ عوامی ذرائع ابلاغ، ترسیل اور تعمیر و ترقی۔ (مترجم ) شاہد پرویز۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،د ہلی۔ 2002ء

Tafheem E Kalam E Ghalib by Prof. Hameedi Kashmiri

Articles

تفہیم کلام غالب اکتشافی تنقید کے تناظر میں

پروفیسر حامدی کاشمیری

 

 

اکتشافی طریق نقد ہر اچھے اور بڑے شاعر کی طرح غالبؔ پر بھی پوری امکان خیزی کے ساتھ صادق آتا ہے۔بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ کلام غالب پر اسکی تطبیق اور عمل آوری کے امکانات لامحدود ہیں۔ اول اس لیے کہ تنقید کے اس طریقِ کار کی نتیجہ خیزی کے لیے یہ (کلامِ غالبؔ)زرخیزیت سے مالا مال ہے۔ دوم خود غالبؔ نے کئی جگہوں پر نظم اور نثرمیں اس نوع کے تنقیدی نظر یے سے ملتے جلتے نکات کی نشان دہی کی ہے۔اس طریق نقد کی روسے بلاشبہ غالب فہمی کے لیے ایک نیا تناظر فراہم ہوتا ہے اور غالب کی تخلیقی شخصیت آب و تاب اور آن بان کے ساتھ جلوہ گر ہوجاتی ہے۔
اس نظریے کی رو سے غالبؔ کے بارے میں بہ تکرار پیش کیا گیا یہ مفروضہ ختم ہوجاتا ہے کہ انہوں نے شاعری میں شخصی زندگی ،معاصرت،تاریخ یا عقائد کے بارے میں اپنے خیالات کا راست اظہار کیا ہے،ان کے اشعار سے میکانکی انداز سے مختلف خیالات کے استحزاج کا عمل تنقیدی عمل سے نہ صرف مغایئر ہے بلکہ یہ غالب کی تخلیقیت کے نظام کو پس پشت ڈالنے کی مترادف ہے ۔شاعری خیالات سے نہیں بلکہ حسیاتی تجربات سے تشکیل پاتی ہے اور حسیاتی تجربات شاعر کی باطنی شخصیت کی تمام تر توانائیوں کا احاطہ کرتے ہیںجبکہ خیالات ،خواہ کتنے ہی گراتقدر کیوں نہ ہوں دانش مندی اور عقلیت کے ہی مظہر ہوتے ہیں جو کسی طرح شخصیت کی تکمیلیت کے دعویدار نہیں ہوسکتے۔
کلام غالب کو منطقی خیالات کے تشدد سے نجات دلانے اور اس کی آزاد نامیاتی خاصیت کے زیر اثر نادیدہ جہات کی جانب سفر کرنے والے تخلیقی تجربات کی شناخت کا عمل غالب فہمی کے لیے رازمے کی حیثیت رکھنا ہے۔یہ غالب سے صحیح معنوں میں متعارف ہونے کا عمل ہے۔ یہ عمل بنیادی طور پر نقاد سے شعر میں زبان کے مخصوص برتاؤ کے اصول وجوضوا بط سے گہری واقفیت کا متقاضی ہے۔شعر میں نثر کے خلاف زبان کا برتاؤ ترسیلیت کے روایتی معائر کی نفی کرتا ہے۔زبان فی نفسیہ اظہاریت کا وسیلہ ہے اور زبان ہی شعرکا وسیلہ اظہار بھی ہے لیکن شعر میں یہ روزمرّہ کی ترسیلی ضرورت کے برعکس شاعر کے کسی خیال، عندیے، عقیدے یا تصور کا اظہار نہیں کرتی۔یہ کہنا درست ہوگا کہ شعر میں برتاؤ میں آتے ہی اس کا ترسیلی برتاؤ کا لعدم ہوجاتا ہے ۔نثر میں بھی روزمرہ کی صورت قائم رہتی ہے،نثرنگار واضح اور برمحل الفاظ سے اپنے معنی کو سامع یا قاری تک پہنچاتا ہے اور اس کی ترسیلیت مددکا درجہ حاصل کرتی ہے ۔اس کے علی الرغم شعر میں جہاں متکلم شاعر کی نمائندگی نہیں کرتا ہے وہ ایک فرضی کردار کا روپ اختیار کرتاہے اور تمامتر تخٔیلی دنیا میں اپنے وجود کو منواتا ہے۔
اگر کلام غالبؔ میں زبان کا برتاؤ ترسیلیت اور واقعیت کی نفی کرتا ہے تو پھر اس کا تفاعل کیا ہے؟شعر ظاہر ہے زبان ہی سے شکل پذیر ہوتا ہے ،اس لئے اس کے تقاعل کا زیر بحث آنا ناگزیر ہے۔شعر میں زبان کا ایک منفرد اور مخصوص تفاعل ہے۔اس تفاعل کی شناخت انتقال معنی کے بجائے انسلا کاتی امکان پذیری سے ہوسکتی ہے ۔دراصل شعری عمل میں شاعر کے باطن میں اظہار طلب، سیال،اجنبی اور مختلف النوع مشاہدات،محسوسات اور واردات شعور اورلاشعور کے خطِ امتیاز کو مٹاکر کسی نئی صورت میں ڈھلنے کا امکان پیدا کرتے ہیں،الفاظ قواعد اور تزئیں کاری سے صرف نظر کرکے اس طرح ترکیب پذیر ہوتے ہیں کہ وہ معانی کی بندشوں سے نکل کر زیادہ سے زیادہ امکانی توسیعات کے ساتھ نادر اور نادیدہ تجربات سے معمور ہوجاتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ الفاظ کی ترتیب تجربے کو بے پردہ کرتی ہے،یہ کسی قطعہ زمین پر بسیرنے کی چادر کی طرح سعحی طور پر پھیل نہیں جاتا بلکہ یہ آئس برگ کی طرح زیر آب رہتا ہے۔یہ الفاظ میں منتقل ہونے کے باوجود الفاظ میں مستور ہوتا ہے،اگر الفاظ کی ترتیب تجربے کو آشکار کرتی تو تفہیم کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہوتا۔شاعری مثلاً غالب کی شاعری اصلاً تفہیم کا مسئلہ پیدا کرتی ہے اور قاری کے لیے اس کے اسرار کی تہہ تک پہنچنا آسان نہیں۔
نقاد شعر میں لسانیاتی عمل کو مرکز توجہ بناتے ہوئے ان انسلا کاتی امکانات کو دریافت کرتا ہے جو تجربے کے وسیع تر آفاق پر حاوی ہوں۔تجربہ بالعموم دوانواع کی صورتیں اختیار کرتا ہے۔اول یہ توسیع پذیر اطراف کی شناخت کرکے ایک عضوی کل میں ڈھلنے کے میلان کو ظاہر کرتا ہے ۔مختلف الاعناصر ہونے کے باوجود عضویت یا تکمیلیت پذیری کی طرف راغب ہوتا ہے ۔دوم موسیقی کی طرح لاجہتیت کی طرف نادیدہ،نوبہ نو اور متغیر پہلوؤں کو راہ دیتا ہے۔اول الذکر شناخت اورنمایاں ہونے کے رحجان کو راہ دیتا ہے جبکہ موخر الذکر مرکز گریز ہوجاتا ہے اور انار کے رنگوں کی طرح پھیل جاتا ہے۔دونوں صورتوں میں بہرحال یہ الفاظ ہی کا عمل ہے جو معجز نمائی کرتا ہے ۔کلام غالب سے صحیح رابطہ قائم کرنے کے لئے لازمی ہے کہ ہم ان کے کلام میں اس نوح کے لسانیاتی عمل پر نظر رکھیں۔یہ الفاظ کے لغوی معانی کی نشاندہی کا عمل نہیں اور نہ ہی الفاظ کے ربط باہم سے کسی وسیع تر معنی کی تلاش ہے۔یہ دراصل الفاظ کی اپنے سیاق میں تجربے یعنی تخیلی صورت حال کی امکان پذیری کی دریافت کا عمل ہے۔ شاعر کے ہاتھوں الفاظ کی ترتیب مکمل ہوجاتی ہے تو شعر شاعر کی مداخلت سے بے نیاز ہوجاتا ہے ۔ یہ اپنے طور پر اپنے وجود کا اثبات کرتا ہے اور آزادانہ عمل سے کرتا ہے۔اس کا یہی خود وضع کردہ انداز الفاظ کے تخلیقی برتاؤ کی توثیق کرتا ہے۔اسی نقطۂ نظر سے غالب کی منتخبہ شاعری معنی یا خیال کی عائد کردہ جبریت سے نجات پاتی ہے۔
الفاظ کے اس خود کارانہ عمل سے جو تجربہ شکل پذیر ہوتا ہے وہ نقاد کی حسی گرفت میں تو آسکتا ہے،لیکن یہ قاری کے لئے بہر طور گریزاں رہے گا،کیونکہ قاری خواہ کتنا ہی باذوق کیوں نہ ہو الفاظ کی تلازمی باریکیوں ،سیاقی روابط،معنوی امکانات اور ہئیتی ضوابط سے مطلوبہ واقفیت نہیں رکھتا۔لا محالہ وہ شعری تجربے میں شرکت کے لئے نقاد کی دست گیری کا طالب ہوتا ہے اور نقاد یہ ذمہ داری قبول کرتا ہے کہ وہ قاری کو شعری تجربے سے حتی الامکان روشناس کرائے گا ،وہ شعر کا مفہوم یا اس کا مرکزی خیال یا نثری روپ قاری تک منتقل نہیں کرتابلکہ وہ اس جہات آشناتجربے سے خود گزرتا ہے اور قاری کو بھی گزارتا ہے، چونکہ یہ کام اسے نثری زبان میں انجام دیتا ہے اس لئے ضروری طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا شعری تجربے کی اپنی رمزیت اور نزاکت کے ساتھ نثری زبان میں منتقلی ممکن ہے؟یہ منتقلی ممکن ہے بشرطیکہ نقاد نظم کے اجزا کی تشریح پر اترآئے اور نہ ہی تنقید کے نام پر نظم پر نظم لکھے۔وہ تجربے تک رسائی حاصل کرنے کیلئے قاری کو الفاظ کے معنی کے بجائے متنی سطح پر انسلاکاتی توسیعات کی جانب اشارہ کرے۔وہ اشارات سے کام لیتا ہے،یہ ضرور ہے کہ بعض الفاظ ،جو نظم کے سیاق میں اور اپنی انفرادی صورت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی توضیح طلب ہوجاتے ہیں حالانکہ یہ توضیح نظم کی داخلی صورت سے پوری مطابقت رہتی ہے، یہ برہنہ توضیحی عمل کے مترادف نہیں۔یہ الفاظ کے اپنے سیاق میں اپنے برتاؤ (Behaviour) کا عمل ہے اور یہی عمل صورت پذیر تجربے کی اکشافیت کو خود نقاد کے لئے ممکن بناتا ہے اور اس کے توسط سے قاری کے لئے ممکن ہوجاتا ہے۔
ضمناًاس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ کوئی نقاد یہ دعوٰی نہیں کرسکتا کہ جو تجربہ اس پر منکشف ہوا ہے وہ حتمی ہے یعنی تجربے کی جملہ اسراریت اس پر منکشف ہوجاتی ہے،چونکہ قاری اساس تنقید کے موئدین نے فن کی تفہیم کے ضمن میں قاری اور قاری میں فرق کیا ہے۔ یہاں تک کہ زمانی اعتبار سے بھی قارئین اور قارئین میں فرق روا رکھا گیا ہے،اس لئے نقاد اور نقاد میں بھی فرق ہوسکتا ہے ۔ہر نقاد اپنی زباں شناسی ،علمیت،ادراکیت اور احتیاسیت کے مطابق شعری لسانیات سے اپنا رابطہ قائم کرتا ہے۔نتیجتاً ہر نقاد پر اپنی استعداد کے مطابق تجربے کی اکتشافیت ممکن ہوگی۔لفظوں سے جو تجربہ نمود کرتا ہے وہ تخلیقیت کا کامل مظہر ہوتا ہے،وہ اسی فطری انداز میں لفظوں سے نمود کرتا ہے۔
جس طرح زمین سے پودا اگتا ہے یا لاوا پھوٹتا ہے،نقاد اپنی پوری احتساسی قوتوں کی بدولت اس کا ادراک کرتا ہے ۔یہ ایک نادرالوجود حیاتیاتی فنا منا کے ادراک کا عمل ہے۔ایک اجنبی حسین اور دلکش نامیاتی تجربہ ابھرتا ہے اور نقاد(قاری)کو حیرت ومسرت سے دوچار کرتا ہے اور اپنے بدلتے رنگوں اور متغیر اوضاع کی بنا پر تجسس کو راہ دیتا ہے ۔یہ تجربہ خالصاً حسیاتی ہوتو جمالیاتی نشاط پرمنتبح ہوتا ہے،یہ حسیاتی ہوتے ہوئے بھی مابعد طبیعاتی اور تمدنی نوعیت کا بھی ہوسکتا ہے یعنی یہ تحیر کے ساتھ ساتھ تفکر کو بھی انگیخت کرسکتا ہے۔غالبؔ کے تجربے بوقلموںہیں وہ خالصاً جمالیاتی بھی ہیں اور جمالیات سے مابعد الطبیعات کی جانب رواں ہوتے ہیںاور نشاط و تفکر کے امتزاج کو بھی پیش کرتے ہیں۔
شعری تجربہ کی نوعیت اور اسکی پہچان کے لئے شعر کی قرأت بھی توجہ طلب ہے۔شعر کے چند ابتدائی الفاظ میںنہ صرف بیاں کندہ کے خد وخال کو اجاگر کرتے ہیں ،بلکہ اس کی قرأت بھی تجربے کے ادراک کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے۔اس کے ساتھ ہی کردار واقعہ کے ارتباط و آمیز ش کو بھی سامنے لاتی ہے۔اس طرح سے اس ڈرامائی صورتِ حال کی نشاندہی ہوتی ہے جو کردار کے علاوہ منظر ، فضا، تنائو، تضاد اور طنزکی مدد سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ گویا لسانیاتی عمل سے ایک اجنی اور منفرد شعری کائنات کی نمود کی شناخت ہے۔ یہ کائنات حقیقی کائنات سے الگ ہے۔اس کے زمین و آسماں اور شمس و قمر الگ ہیں۔اس کے مظاہرسے و موجدات اور مخلوقات الگ ہیں۔ اس کے کردار اپنے عمل کا خود جواز ہیں جومربوط ہیں۔اس کائنات میں جو بھی ڈراما واقعہ ہوتا ہے،وہ اجنبیت کے باوجود انسانی ذہن کے لیے قابل قبول ہوتا ہے۔دراصل کوئی بھی چیز فن کی صورت میں ڈھل جانے کے باوجود ارضیت سے لاتعلق نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ فنکار آسمانوں سے آگے پرواز کرنے کے باوجود زمین سے پیوستہ ہوتا ہے اور اسکے حسی اور لاشعوری تجربات انسانی معنویت رکھتے ہیں۔
غالبؔ ایک بڑے فنکار ہیں۔انہوں نے لسانیاتی عمل سے معجزہ کاری کی ہے۔ انہوں نے اپنے باطنی وجود سے پھوٹنے والے لاتعداد تجربات کی ایک نادرہ کار ثروت مند اور رنگا رنگ کائنات خلق کی ہے۔ یہ کائنات انتہا نا آشنا اور زمانی اور مکانی اعتبار سے لا محدود ہے۔ یہی خود گرو خود آگاہ کائنات غالب کی بے بایاں تخلیقی قوتوں کا علامتی اظہار ہے اور اس میں باریابی کے لیے شعری لسانیات کی کارگزاری سے بھرپور واقفیت لازمی ہے۔
٭٭٭

Bare Aaloo ke Kuch bayaN Hujaye

Articles

بارے آلو کا کچھ بیاں ہوجائے

مشتاق احمدیوسفی

 

دوسروں کو کیا نا م رکھیں،ہم خود بیسیوں چیزوں سے چڑتے ہیں۔کرم کلا ،پنیر،کمبل اور کافکا،عورت کاگانا،مرد کا ناچ،گیندے کا پھول،اتوار کا ملاقاتی،مرغی کا گوشت،پاندان،غرارہ، خوبصورت کا شوہر۔۔۔۔ زیادہ حد ادب کہ مکمل فہرست ہماری فرد گناہ سے بھی زیادہ طویل اور ہری بھری نکلے گی ۔ گنہ گار سہی لیکن مرزا عبدالودود بیگ کی طرح یہ ہم سے آج تک نہ ہواکہ اپنے تعصبات پر معقولات کا نیم چڑھا کر دوسروں کو اپنی بے لطفی میں برابر کا شریک بنانے کی کوشش کی ہو۔مرزا تو بقول کسے ،غلط استدلا ل کے بادشاہ ہیں ،ان کی حمایت ووکالت سے معقول سے معقول ’’کاز‘‘نہایت لچر معلوم ہونے لگتا ہے۔اسی لیے ہم سب انھیں تبلیغ دین اور حکومت کی حمایت سے بڑی سختی سے باز رکھتے ہیں ۔ ان کی ایک چڑ ہوتو بتائیں۔فہرست رنگارنگ ہی نہیں ،اتنی غریب پرور بھی ہے کہ اس میں فقیر بے تقصیر کا نام بھی خاصی اونچی پوزیشن پر شامل رہ چکا ہے ۔بعد میں ہم سے یہ پوزیشن بینگن کے بھر ُتے نے چھین لی اور اس سے جیکی کینیڈی کے دولہا اونا سس نے ہتھیا لی ۔ مرزا کو آج جو چیز پسند ہے کل وہ دل سے اتر جائے گی اور پرسوں تک چڑ بن جائے گی۔ لوگ ہمیں مرزا کا ہمدم ہی نہیں ،ہمزاد بھی کہتے ہیںلیکن اس یگانگت وتقرب کے باوجود ہم و ثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ مرزا نے آلو اور ابو الکلا م آزادکو اول اول اپنی چڑ کیسے بنایا۔نیز دونوں کو تہائی صدی سے ایک ہی بریکٹ میں کیوں بند کر رکھا ہے؟
بوئے یاسمن با قیست :
مولانا کے باب میں مرزا کوجتنا کھرچا ،تعصب کے ملمع کے نیچے خالص منطق کی یہ موٹی موٹی تہیں نکلتی چلی گئیں۔ایک دن کئی وار خالی جانے کے بعد ارشاد فرمایا’’ایک صاحب طرز انشاء پر داز نے بانی ند وۃ العلما ء کے بارے میں لکھا ہے کہ شبلی پہلایونانی تھا جو مسلمانوں میں پیدا ہوا ۔اس پر مجھے یہ گرہ لگانے کی اجازت دیجیے کہ یونا نیوں کی اس اسلامی شاخ میں اابو الکلا م آخری اہل قلم تھا جس نے اردو رسم الخط میں عربی لکھی!‘‘ہم نے کہا’’ان کی شفاعت کے لئے یہی کافی ہے کہ انھوں نے مذہب میں فلسفے کا رس گھولا۔ اردو کو عربی کا سوز وآہنگ بخشا‘‘ فرمایا،’’ان کی نثر کا مطالعہ ایسا ہے جیسے دلدل میں تیرنا !اسی لیے مولوی عبدالحق اعلانیہ انھیں اردو کا دشمن کہتے تھے۔علم و دانش اپنی جگہ ،مگر ا س کو کیا کیجیے کہ وہ اپنی انا اور اردو پر آخری دم تک قابو نہ پاسکے ۔کبھی کبھار رمضا ن میں ان کا ترجمان القرآن پڑھتا ہوں تو (اپنے دونوں گالوں پر تھپڑ مارتے ہوئے )نعوذ باللہ محسوس ہوتا ہے گویا کلام اللہ کے پردے میں ابوالکلا م بول رہا ہے !‘‘ ہم نے کہا ’’ لاحول ولا قوۃ! اس بزرگ کی تمام کردہ ونا کر دہ خطائیں تمھیں صرف اس بنا پر معاف کر دینی چاہئیں کہ تمھاری طرح وہ بھی چائے کے رسیا تھے ۔ کیا نام تھا ان کی پسند یدہ چائے کا؟اچھا سا نام تھا۔ ہاں !یاد آیا۔وہائٹ جیسمین !یا سمن سفید !‘‘
شگفتہ ہوئے فرمایا ’’ مولانا کا مشروب بھی ان کے مشرب کی مانند تھا۔ٹوٹے ہوئے بتوں کو جوڑ جوڑ کر امام الہند نے ایسا معبود تر ا شنے کی کوشش کی جو اہل سومنات کو بھی قابل قبول ہو۔ یونانی فلسفے کی عینک سے جب انھیں دین میں دنیا اور خد امیں ناخداکا جلوہ نظر آنے لگا تو وہ مسلما ن ہوگئے اور سچے دل سے اپنے آپ ایمان لے آئے ۔اسی طرح یہ چینی چائے محض اس لیے ان کے دل کو بھا گئی کہ اس میں چائے کے بجائے چنبیلی کے گجرے کی لپٹ آتی ہے۔ حالانکہ کوئی شخص جو چائے پینے کا ذرا بھی سلیقہ رکھتا ہے،اس لیے چائے پیتا ہے کہ اس میں چائے کی۔۔۔۔۔۔۔۔فقط چائے کی۔۔۔۔۔۔۔مہک آتی ہے ،نہ کہ چنبیلی کے تیل کا بھبکا!‘‘
ہم نے کہا،’’تعجب ہے! تم اس بازاری زبان میں اس آبِ نشاط انگیز کا مضحکہ اڑارہے ہو، جو بقول مولانا’طبع شورش پسند کو سرمستیوں کی اور فکر ِعالم آشوب کو آسودگیوں کی دعوت دیا کرتی تھی۔‘ اس جملے سے ایسے بھڑکے کہ بھڑکتے چلے گئے۔ لال پیلے ہوکر بولے،’’تم نے لپٹن کمپنی کاقدیم اشتہار ’چائے سردیوں میں گرمی اور گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاتی ہے‘دیکھا ہوگا۔ مولانا نے یہاں اسی جملے کا ترجمہ اپنے مداحوں کی آسانی کے لیے اپنی زبان میں کیا ہے۔!‘‘ بحث اور دل شکنی کا یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہالیکن مزید نقلِ کفر کرکے ہم اپنی دنیا وعاقبت خراب کرنا نہیں چاہتے ۔ لہٰذا اس تشبیب کے بعد مرزا کی دوسری چڑ یعنی آلو کی طرف گریز کرتے ہیں۔
یہ دانت سلامت ہیں جب تک :
مرزا کا ’’باس‘‘ دس سال بعد پہلی مرتبہ تین دن کی رخصت پر جارہا تھااور مرزا نے اپنے مشیروںاوربہی خواہوںکو جشن نجات منانے کے لیے بیچ لکژری ہوٹل میں لنچ پر مدعو کیاتھا۔وہاںہم نے دیکھا کہ سمندری کچھوے کا شوربہ سُڑ سُڑپینے کے بعد مرزا مسلم کیکڑے (مسلّم کے معنی یہ ہیں کہ مرحوم کی سالم ٹانگیں،کھپرے، آنکھیں اور مونچھیں پلیٹ پر اپنی قدرتی حالت میں نظر آرہی تھیں) پر ٹوٹ پڑے۔ہم نے کہا،’’مرزا! ہم نے تمھیں چہکا مارتی خمیری نان کھاتے دیکھا ہے، کھروں کے چٹپٹے سریش میں ڈبو ڈبوکر ،جسے تم دلّی کے نہاری پائے کہتے ہو۔ مفت کی مل جائے تو سڑاندی سارڈین یوں نگلتے ہوگویا ناک نہیں رکھتے اور تواور رنگاماٹی میں چکماقبیلے کی ایک دوشیزہ کے ہاتھ سے نشیلاکسیلا جیک فروٹ لپ لپ کھاتے ہوئے فوٹو کھنچواچکے ہو۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔اس کے بعد پشاور میں چڑوں کے پکوڑے کھاتے ہوئے بھی پکڑے جاچکے ہو۔تمھارے مشربِ اکل وشرب میں ہر شے حلال ہے سوائے آلو کے!‘‘
کھِل گئے ،فرمایا،’’ہم نے آج تک کسی مولوی ۔۔۔۔۔کسی فرقے کے مولوی کی تندرستی خراب نہیں دیکھی۔ نہ کسی مولوی کا ہارٹ فیل ہوتے سنا۔ جانتے ہو کیا وجہ ہے؟ پہلی وجہ تو یہ کہ مولوی کبھی ورزش نہیں کرتے۔دوسری وجہ یہ کہ سادہ غذا اور سبزی سے پرہیز کرتے ہیں!‘‘
ہوٹل ہـٰذا اور آلو کی عمل داری :
سبزی نہ کھانے کے فوائد ذہن نشین کرانے کی غرض سے مرزا نے اپنی زیر تجربہ زندگی کے ان گوشوں کو بے نقاب کیا جو آلو سے کیمیائی طور پر متاثر ہوئے تھے۔ ذکر آلو کا ہے۔انہی کی زبان غیبت بیان سے اچھا معلوم ہوگا۔تمھیں تو کیا یاد ہوگا؟دسمبر ۱۹۵۱ء میں منٹگمری گیاتھا۔پہلی دفعہ کراچی سے باہر جانے کی مجبوری لاحق ہوئی تھی۔ منٹگمری کے پلیٹ فارم پراترتے ہی محسوس ہوا گویا سردی سے خون رگوں میں جم گیا ہے۔ادھر چائے کے اسٹال کے پاس ایک بڑے میاں گرم چائے کے بجائے مالٹے کا رس پیے چلے جارہے تھے۔ اس بندۂ خدا کو دیکھ دیکھ کر اور دانت بجنے لگے۔ کراچی کا دائمی حبس اور بغیر کھڑکیوں والا کمرہ بے طرح یاد آئے ۔قلی اور ٹانگے والے سے صلاح ومشورے کے بعد ایک ہوٹل میں بستر لگادیا۔جس کا اصلی نام آج تک معلوم نہ ہوسکا۔لیکن منیجر سے لے کر مہتر تک سبھی اسے ہوٹل ہٰذا کہتے تھے۔ کمرہ صرف ایک ہی تھا جس کے دروازے پر کوئلے سے بحروفِ انگریزی واردو’’کمرہ نمبرا‘‘ لکھاتھا۔ ہوٹل ہٰذا میں نہ صرف یہ کہ کوئی دوسرا کمرہ نہیں تھا ، بلکہ مستقبل قریب یا بعید میں اس کی تعمیر کاامکان بھی نظر نہیں آتا تھاکیونکہ ہوٹل کے تین طرف میونسپلٹی کی سڑک تھی اور چوتھی طرف اسی ادارے کی مرکزی نالی جو شہر کی گندگی کو شہر ہی میں رکھتی تھی، جنگل تک نہیں پھیلنے دیتی تھی۔جزیرہ نمائے کمرہ نمبر۱، میں ’’اٹیجڈ باتھ روم‘ تو نہیںتھا،البتہ ایک اٹیجڈتنور ضرور تھا۔ جس سے کمرہ اس کڑاکے کی سردی میں ایسا گرم رہتاتھاکہ بڑے بڑے سنٹرلی ہیٹیڈ(Centrally Heated) ہوٹلوں کو مات کرتا تھا۔ پہلی رات ہم بنیان پہنے سورہے تھے کہ تین بجے صبح جو تپش سے ایکا ایکی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ امام دین بیرا ہمارے سرہانے ہاتھ بھر لمبی خون آلود چھری لیے کھڑا ہے۔ ہم نے فوراً اپنی گردن پر ہاتھ پھیرکر دیکھا۔ پھر چپکے سے بنیان میں ہاتھ ڈال کر پیٹ پر چٹکی لی اور پھر کلمہ پڑھ کے اتنی زور سے چیخ ماری کہ امام دین اچھل پڑااورچھری چھوڑکربھاگ گیا۔تھوڑی دیر بعددوتین بیرے سمجھا بجھاکراسے واپس بلالائے۔ اس کے اوسان بجا ہوئے تو معلوم ہوا کہ چھری سے وہ ننھی منی بٹیریں ذبح کر رہاتھا۔ ہم نے ایک وقار کے ساتھ کہا،’’ عقلمندآدمی! یہ پہلے کیوں نہ بتایا؟‘‘اس لیے فوراً اپنی بھول کی معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ پہلے ہی بتا دیاکرے گا کہ چھری سے بٹیر ہی ذبح کرناچاہتا ہے نیز اس نے آسان پنجابی میں یہ بھی یقین دلایا کہ آئندہ وہ چیخ سن کر ڈرپوکوں کی طرح خوفزدہ نہیں ہوا کرے گا۔
ہم نے رسان سے پوچھا،’’تم انھیں کیوں ذبح کررہے تھے؟‘‘ بولا’’ جناب ! ضلع منٹگمری میں جانور کو حلال کرکے کھاتے ہیں۔ آپ بھی کھائیں گے ؟‘‘ ہم نے قدرے ترش روئی سے جواب دیا ’’ نہیں!‘‘ اور ریلوے ٹائم ٹیبل سے پنکھا جھلتے ہوئے سوچنے لگے کہ جولوگ دودھ پیتے بچوں کی طرح جلدی سوتے اور جلدی اٹھتے ہیں ،وہ اس رمز کو کیا جانیں کہ نیند کا اصل مزہ اور سونے کا صحیح لطف آتا ہی اس وقت ہے جب آدمی اٹھنے کے مقررہ وقت پر سوتا رہے کہ اسی ساعت ِ دزدیدہ میں نیند کی لذتوں کا نزول ہوتا ہے۔ اسی لیے کسی جانور کو صبح دیر تک سونے کی صلاحیت نہیں بخشی گئی۔ اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر خودکو مبارکباد دیتے دیتے صبح ہوگئی اور ہم پوری اور آلو چھولے کا ناشتہ کرکے اپنے کام پر چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد معدے میں گرانی محسوس ہوئی،لہٰذا دوپہر کوآلو پلائو اور رات کو آلو اور پنیرکاقورمہ کھاکر تنور کی گرمائی میں ایسے سوئے کہ صبح چار بجے بیرے نے اپنے مخصوص طریقے سے ہمیں جگایا۔جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
ناشتے سے پہلے ہم سر جھکا ئے قمیص کا بٹن نوچ کر پتلون میں ٹانکنے کی کوشش کررہے تھے کہ سوئی کھچ سے انگلی میںبھک گئی۔بالکل اضطراری طور پر ہم نے انگلی اپنی قمیص کی جیب پر رکھ کر زور سے دبائی ،مگر جیسے ہی دوسری غلطی کا احساس ہوا تو خون کے گیلے دھبے پر سفید پائوڈر چھڑک کر چھپانے لگے اور دل میں سوچنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے بیوی بھی کیا چیز بنائی ہے لیکن انسان بڑ اہی نا شکرا ہے ۔اپنی بیوی کی قدر نہیں کرتا۔اتنے میں بیرا مقامی خالص گھی میں تلی ہوئی پوریاں لے آیا۔منٹگمری کا اصلی گھی پاکستان بھر میں سب سے اچھا ہوتا ہے۔اس میں چار فی صد گھی ہوتاہے۔بیرے نے حسب معمول اپنے ابروئے تساہل سے ہمیں کرسی پر بیٹھنے کا اشا رہ کیااور جب ہم اس پر ۴ کے ہندسے کی طرح تہرے ہوکر بیٹھ گئے تو ہمارے زانوپر گیلا تولیہ بچھایا اور اس پر ناشتے کی ٹرے جما کر ر کھ دی ۔ ۱؎
ہم نے نگاہ اٹھا کر دیکھاتو اسے جھاڑن منہ میں ٹھونسے بڑے ادب سے ہنستے ہوئے پایا ۔ہم نے پوچھا ’’کیوں ہنس رہے ہو؟‘‘ وہ تو منیجر صاحب ہنس رہے تھے۔بولتے تھے،’’ہم کو لگتا ہے کہ کراچی کاپسنجر بٹیر کو تلئیر سمجھ کے نہیں کھاتا!‘‘

ممکن ہے بعض شکی مزاج قارئین کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر کمرے میں میز یا اسٹول نہیں تھا تو بان کی چار پائی پر ناشتہ کیوں نہ کر لیا۔ شکایتہ نہیں ،اطلاعاً عرض ہے کہ جیسے ہی منٹگمری کا پہلا مرغ پہلی بانگ دیتا ،بیرا ہماری پیٹھ اور چار پائی کے درمیان سے بستر ایک ہی جھٹکے میں گھسیٹ لیتا۔ اپنے زوربازو اور روز مرہ کی مشق سے ا س کام میں اتنی صفائی اور مہارت پیدا کرلی تھی کہ ایک دفعہ سرہا نے کھڑے ہوکر جو بستر گھسیٹا تو ہما را بنیان تک اتر کر بستر کے ساتھ لپٹ کر چلا گیا اور ہم کھری چارپائی پر کیلے کی طرح چھلے ہوئے پڑ ے رہ گئے ۔پھر چارپائی کو پائینتی سے اٹھا کر ہمیں سر کے بل پھسلاتے ہوئے کہنے لگا ،’’صاحب !فرنیچر خالی کرو !‘‘وجہ یہ ہے کہ اس فرنیچر پر سارے دن ’’پروپرائٹر اینڈ منیجر ہوٹل ہٰذا ‘‘ کادربار لگا رہتا تھا۔ایک د ن ہم نے اس بے آرامی پر پرُ زور احتجاج کیا تو ہوٹل کے قواعد وضوابط کا پنسل سے لکھا ہوا ایک نُسخہ ہمیں دکھایا گیا،جس کے سرورق پر’’ضابطہ فوجداری ہوٹل ہٰذا ‘‘ تحریرتھا۔اس دفعہ ۹کی رُو سے فجر کی اذان کے بعد ’’پسنجر ‘‘کو چارپائی پر سو نے کا حق نہیں تھا۔البتہ قریب المرگ مریض ۔زچہ اور یہود و نصارٰی ا س سے مستثنیٰ تھے لیکن آگے چل کر دفعہ ۲۸(ب)نے ان سے بھی یہ مراعات چھین لی تھیں۔اس کی رُو سے زچہ اورقریب المرگ مریض کو زچگی اور موت سے تین دن پہلے تک ہوٹل میں آنے کی اجازت نہیں تھی ۔ خلاف ورزی کرنے والوںکو بیروں کے حوالے کردیا جائے گا۔

ہر چیز کے دو پہلو ہوا کرتے ہیں ۔ایک تاریک،دوسرا زیادہ تاریک لیکن ایمان کی بات ہے اس پہلو پر ہماری نظر بھی نہیں گئی تھی اور اب اس غلط فہمی کا ازالہ ہم پر واجب ہوگیا تھا۔پھولی ہوئی پوری کا لقمہ پلیٹ میں واپس رکھتے ہوئے ہم رندھی ہوئی آواز میں اس جعل ساز پرند کی قیمت دریافت کی بولا’’زندہ یا مردہ؟‘‘ہم نے جواب دیا کہ ہم تو شہر میں اجنبی ہیں ۔فی الحال مردہ کو ہی ترجیح دیں گے۔کہنے لگا’’دس آنے پلیٹ ملتی ہیں ۔ایک پلیٹ میں تین بٹیریں ہوتی ہیںمگر جناب کے لئے تو ایک ہی راس کافی ہوگی!‘‘
قیمت سن کر ہمارے منہ میں بھی پانی بھر آیا ۔پھر یہ بھی تھاکہ کراچی میںمویشیوں کا گوشت کھاتے کھاتے طبیعت اکتا گئی تھی۔لہٰذا دل ہی دل میں عہد کرلیا کہ جب تک منٹگمری کا آب ودانہ ہے ،طیور کے سوا کسی چیز کے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔لنچ پر بھنی ہوئی بٹیر،چائے کے ساتھ بٹیر کا تنوری چرغا،سونے سے پہلے بٹیرکا آب جوش۔اس رہائشی تنور میں فرد کش ہوئے ہمیں چوتھا دن تھا‘‘اور تین دن سے ہی یہی اللّے تللّے تھے۔
(طویل مضمون سے اقتباس)
٭٭٭
(مشمولہ سپ ماہی ’’نقیبِ تعلیم‘‘ ، بھیونڈی، دسمبر 2013)

Saamraj, Nai Nauaabadiyat aur Radd e Nauaabadiyat

Articles

سامراج نئی نوآبادیات اور رد نوآبادیات

احمد سہیل

 

نوآبادیات کوئی ’جدید مظہر‘ نہیں ہے۔ قدیم ادوار میں یونانی ، رومن مورز اور عثمانیہ میں نوآبادیات کو فروغ حاصل ہوا۔ بعد ازاں اس نوآبادیاتی نظام کو برطانیہ، فرانس، اسپین، جرمن، ہالینڈ، پرتگال اور بلیجیم نے توسیع دی۔ ’کالونی‘ کی اصطلاح ’کالونوس‘ (Colonus)سے اخذ کی گئی ہے۔ جس کے معنی ’کسان‘ کے ہیں۔ جدیدنوآبادیات پندرہویں صدی کے لگ بھگ شروع ہوا۔ جب ۱۴۸۸ء میں جنوبی افریقی ساحلوں پر مغربی قوموں نے نوآبادیات قائم کی۔ امریکا کو ۱۴۶۲ء میں نوآبادیات بنایا گیا۔ نوآبادیاتی نظام سے یہ معنی لیے جاتےہیں کہ لوگوں کو ایک علاقے سے نقل مکانی کرکے نئی نوآبادیاں قائم کرتے ہیں اور وہاں کی زمینوں، قوانین، صفت و حرفت ، ثقافت اور نظام حکومت پر قبضہ کرتے ہیں اور مقامی آبادی کو ان کے تہذیبی ورثے اور نظام معاشرت کو کم تر محسوس کرواتے ہیں اور اپنی احساس برتری کو ان پر حاوی کردیتے ہیں اور اتنی ناانصافیاں کرتے ہیں جو جبر یہ بشری استحصال بھی ہے جس میں نوآبادیاتی قوتیں مقامی آبادی پر خودمختاری اور بالواسطہ طریقے سے اپنا غاضبانہ نظام چلاتی ہے۔ نوآبادیات ایک قوم کا دوسری قوم پر غلبے کے لیے بھی جانی جاتی ہے۔ یورپی اقوام نے اپنی نوآبادیات قائم کرنے کے لیے جو جنگیں لڑیں وہ عام طور پر ان سرحدوں سے بہت دور لڑی گئی۔ ان جنگوں کے تمام منفی اثرات ایشیا اور افریقی قوموں پر پڑے مگر ان نوآبادیاتی تباہ کاریوں اور انسانی استحصال کے بعد یورپی سامراجی قوتیں اپنے طور پر امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور یورپ میں ہونے والی سائنسی ترقیوں کو نوآبادیات سے آنے والے دولت، وسائل اور غلاموں کے سبب ان کی معیارِ زندگیوں کو بلند سے بلند مقام تک پہنچادیا۔
نوآبادیاتی نظام کا مظہر فلحال غیر وضاحتی اور غیر واضح ہے۔ مشکل یہ ہے کہ نوآبادیات، پس نوآبادیات، نئی نوآبادیات اور نئی نئی نوآبادیات کی اصطلاحوں کی تشریح و تفہیم کے لیے ایک دوسرے سے تقابل کرنا پڑتا ہے۔ پھر اسے ایک ماڈل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں سامراجی اور نوآبادیاتی متغیرات کے حسب مراتبیات کے متغیروں کے طور پر شناخت کرواتا ہے مگر اس سے جو نتائج اخذ ہوتے ہیں اس میں اس نظریے کے نظریہ دان اور محققین ترمیم اور ردِّوبدل کرنا پسند نہیں کرتے اور نوآبادیات… سامراج کی تعریف سے اپنے لہجے کے ماڈل کے ساتھ سامنے لاتا ہے۔
اب بشریات میں بھی نوآبادیات کی نئی مباحث ہوئیں ہیں جن میں نوآبادیاتی نظام و نظریے کو تاریخ ادب اور نوآبادیاتی ماضی کا تناظر میں مطالعہ کرکے ان کے درمیان حدود کو مٹایا یا کم کیا جارہا ہے۔ سفریات (سیاحت) کے مطالعوں اور ’نسل نگاری‘ ، بشریاتی نوآبادیاتی مطالعوں کو نئی نوآبادیات کو معکوسی سمت بھی دی۔ ۱۹۶۰ء کے نوآبادیاتی بشری مطالعوں میں دو فردعی نمائندگی کو ایک جدوجہد اور فکری مکالمے کے تجزیات کے سیاق میں پیش کیا گیا۔جس نے نوآبادیاتی آقاؤں کو تاریخ اور نوآبادیات پر ازسرِ نو سوچنے اور لکھنے پر مجبور کیا۔ کیونکہ نوآبادیاتی حکومتوں نے اپنی ہی نہیں بلکہ محکوم قوموں کی تاریخ اور ثقافت کی شکل بھی بگاڑدی۔ جس میں تہذیبی مسماریت اور نوآبادیاتی قوموں کی ’احساس برتری‘ حاوی تھی۔ ثقافتی مطالعوں میں ثقافتی، تہذیبی افتراقات سے ہی ’نسلی دبستان‘ کی بنیاد پڑی جس میں اولین موضوعات نوآبادیات سے متعلقہ مباحث کے ہی ہوتے ہیں۔
مغرب سے بھی نوآبادیات ایک عرصے اخلاقی، معاشرتی و سیاسی اہلِ فکر کے لیے تشویش کا باعث رہا اور صلیبی جنگوں کے بعد اور امریکہ کی سول وار تک سیاسی دانشور سیاسی دانشور نے غیر ملکی ؍مغرب کی سازشی حکمت عملیاں، قدرتی قانون اور انصاف کے التباسات پر سوچا گیا اور یہ تناؤ، کشمکش،تصادم کی کیفیت، لبرل، روایتی اور نوآبادیاتی حرکیات کی صورت میں شدت سے ابھرا اور اس میں بایاں بازو نے نظریہ دان رجحان کے حامل فلاسبہ اور ادیبوں نے اس کے معیارات وضع کرتے ہوئے انسانی مساوات اور عدل سے منسلک کیا۔ جن کی نوآبادیات کے حق میں دلیل دینے والی قوتیں یہ کہتی رہی کہ یہ ’وحشی معاشروں‘ کے لیے ضروری تھا۔ جو ایک ’نوآبادیاتی مشن‘ ہے۔ نوآبادیاتی مطالعوں میں فطرت قانون اور نئے عہد کی بازیافت لبرل ازم، شہنائیت، مارکسزم، لنین ازم اور پس نوآبادیات کے نظریے کے تحت کیے جاتے ہیں۔
برطانیہ جیسی طاقت ور حکومت کو جنوبی افریقہ میں پچاس سے کم بوئر کسانوں کو شکست دینے کے لیے دس برس کا عرصہ لگا۔ سوڈان کے حریت پسند عسکری رہنما مہدی سوڈانی نے برطانیہ کو شکست دی اور جنرل گورڈن ان کی فوجوں کے ہاتھوں ہی مارا گیا۔ ادھر ہندوستان میں ’ریشمی رومال‘ اور ’روٹی‘ والی نوآبادیات شکن تحریکیں شروع ہوگئی تھیں۔ ہندستان میں جلیانوالہ باغ کا واقعہ پیش آیا۔ بھگت سنگھ اور ادھم سنگھ کی سامراج دشمنی سے کون واقف نہیں اور اس زمانے میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جن سے انگریزوں کی سامراجی سفاکی اور بربریت ابھر کےسامنے آئی۔ اس کے ساتھ کی چھوٹی اور بڑی سامراجی طاقتوں کے مابین کشمکش شروع ہوگئی اور اس صدی کے اختتام سے پہلے فرانس اور جرمنی کی افریقا کے ممالک میں فوج کشی اور سازشیں شروع ہوگئی اور اس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتارہا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں نوآبادیاتی ممالک بڑے پیمانے پر جنگ کی تیاری کررہے تھے۔ پہلی عالمی جنگ کی صورت میں سامراجیوں کے درمیان ہولناک تصادم ہوا جس کے لیے چودہ سال کے اور اسی زمانے میں ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ پارہ پارہ ہوئی جو برطانوی سامراج کی بڑی سازشی فتح تھی۔
موجودہ سامراجی دور میں دو عالمگیر جنگیں لڑی گئیں۔ ان کی شروعات کے لیے بظاہر وقتی حادثات کچھ بھی ہوئے ہوں، بنیادی طور پر ان جنگوں کی وجہ سے سامراجی طاقتوں کی طرف سے نوآبادیات کی تقسیم پر جھگڑا تھا۔ پہلی جنگ عظیم میں بھی ایک طرف برطانیہ، فرانس، روس، بلجیم، ہالینڈ وغیرہ کے ممالک تھے، جن کے پاس دنیا بھر میں بے شمار نوآبادیات تھیں اور دوسری طرف جرمنی اور اس کے اتحادی ممالک کا گروہ تھا۔ جنھوں نے صنعتی لحاظ سے خوب ترقی کرلی تھی۔ لیکن سرمایہ دارانہ ترقی کے باعث تیار شدہ مال کے لیے منڈیاں نوآبادیات کی شکل میں موجود نہ تھیں۔ ان منڈیوں اور نوآبادیات کے حصول کی خاطر ہی پہلی جنگِ عظیم لڑی گئیں۔ جن میں جرمنی اور اس کے اتحادیوں کو نہ صرف ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ورسیلز معاہدہ کے تحت ذلت آمیز شرائط صلح بھی تسلیم کرنا پڑیں۔ جرمنی کے سرمایہ دار طبقے نے اس ذلت اور رسوائی کا انتقام لینے اور ایک بار پھر نوآًادیات کی تقسیم کے لیے جنگ کی تیاریاں شروع کرلیں۔ بنیادی طور پر دوسری عالمگیر جنگ نوآبادیات کی تقسیم کے لیے ہی تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک دنیا میں سامراج موجود ہے۔ جنگ کا خطرہ موجود رہے گا۔ ان دنوں اگرچہ سرد جنگ ختم ہونے کے بعد گرم جنگ کے امکانات کو نظر انداز کیا جارہا ہے لیکن جس طرح سے پرانے نوآبادیاتی نظام کی جگہ نیا نوآبادیاتی نظام قائم کیا جارہا ہے، جو کسی ملک میں پرانے نوآبادیات نظام کی طرح فوج کشی کرکے قبضہ تو نہیں کرتا۔ لیکن اقتصادی اور معاشی لوٹ کھسوٹ مقامی ایجنٹوں کے ذریعے حسب سابق ہی کرتا ہے۔ پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی لوٹ کھسوٹ کی خاطر جہاں ایک طرف امریکا، جرمنی، فرانس اور برطانیا جاپان وغیرہ میں سامراجی تضادات موجود ہیں، وہاں ان دبی کچلی قوموں میں سامراج کے خلاف شدید جذبہ پایا جاتا ہے۔ اگرچہ فلحال نہ توبین السامراجی تفاوات اس قدر ہگرے ہوئے ہیں کہ سامراجی طاستوں کے درمیان جنگ کی صورت اختیار کریں اور نہ ہی دبی کچلی قوتوں میں سامراج کے خلاف بغاوت کے جذبے کی شدت پائی جاتی ہے۔ اس لیے عالمی جنگ کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔ تاہم سامراجی لوٹ کھسوٹ کے جاری رہنے اور اس لوٹ کھسوٹ کے لیے سامراجی طاقتوں کے درمیان تفاوات کی موجودگی کے باعث جنگ کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جساکتا ہے۔ کسی وقت بھی یہ تفاوات شدید ہوکر جنگ کے امکانات پیدا کرسکتے ہیں جنگ کو دائمی طو رپر ختم کرنے کے لیے سامراج کا خاتمہ ضروری ہے جب تک سامراج ختم نہیں ہوتا جنگ کے امکانات موجود رہیں۔ اس لیے دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کا بنیادی سبق یہ ہے کہ انسانیت کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے سامراج کے خاتمے کی جدوجہد ضروری تھی۔ مورّخ مبارک علی کا کہنا کہ یہ التباس ہوتا ہے۔ اس سبب استعماری قوتوں کے بارے میں رویہ کبھی نوآبادیاتی عوام کے لیے سودمند اور دوستانہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر ہر قسم کے تشدد کو روا رکھنا اپنا حق سمجھتی ہے۔
پس نوآبادیاتی تنقید کے علم برداروں نے مغربی سامراج کے پنجے سے آزاد ہونے والے ممالک کے ادب پر سیر حاصل بحث کی۔ خاص کر ہندوستان کی آزادی کے بعد آنے والی ادبی تنقید کو اس رجحان سے متعارف کروایا۔ ساٹھ کی دہائی میں ایشیا اور افریقا کے کئی ممالک استعماری قوتوں سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس عالمی سیاسی تناظر کے زیر اثر نوآبادیاتی تنقید نے تیسری دنیا کے مزاحمتی احتجاجی تناظر میں بھی اپنی فکری اور تنقیدی حصّہ داری کااحساس دلوایا۔ ان رجحانات کے ڈانڈے مابعدجدیدیت اور رد تشکیل کے ادبی اور لسانی نظریوں سے بھی ملائے گئے۔ پس نوآبادیاتی تنقید میں یقیناً مشرق اور مغرب کی امتیازات ، تعصبات، تشدد، سفاکی کی عمیق آگہی موجود تھی۔ اس میں ماضی کی ستم، انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال کا ادراک اس قدر حاوی تھا کہ اپنی مقامی شناخت کی تلاش میں پسماندہ، ترقی پذیر اور تیسری دنیا کا ادب بھٹک گیا اور ان اقدار کو تلاش کرنے لگا جو مغرب کی اقدار اور روایت کی دین تھیں۔ یہ رویہ سراسر واہماتی عینیت پسندی کے زمرے میں آتا تھا۔ لہذا انھی سابقہ مغربی اور بدیسی آقاؤں کی فکری گرفت سے چھٹکارا نہ مل سکا۔
یہ کہا جاسکتا ہے کہ رد نوآبادیاتی تنقید نے نسبتاً ایک ایسے وسیع النظر تناظر کو جنم دیا جو پہلے نہیں تھا، یہ نظریہ ابھی بھرپور طور پر ابھر کے سامنے نہ آسکا، کیونکہ نئے آزاد ہونے والے ممالک اسی پروانے خول میں بند ہیں۔ نوآبادیاتی نظام سے آزادی کے بعد چاہیے وہ ہندستان ہو یا الجزائر، سوڈان ہو یا انڈونیشیا، تقریباً ادب وفن پر سابقہ سامراجی اثرات قائم رہے کیونکہ نوآبادیاتی نظام کی جڑیں مکمل طور پر نہیں کاٹی گئیں تھیں۔ لہذا ان ممالک کے فکری افق پر منافقت، سودے بازی اور نعرے بازی کی قوتیں کچھ ایسی حاوی رہیں کہ نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارا پانا ان کے لیے مشکل ہوگیا۔ فرد ہو یا حکومت ایک طبقہ ہو یا ایک معاشرہ، ہر مقام پر سمجھوتے کیے گئے اور پس نوآبادیاتی ادب و فکر میں التباس کی دھند پھیلی۔ پس نوآبادیاتی تنقید میں انھی پرانے نظریوں اور دانش سے رہنمائی حاصل کی گئی اور کوئی آئیڈیالوجی راسخ نہ ہوسکی۔ تقریباً سبھی چھوٹے بڑے، سابقہ غلام ممالک کسی واضح فکری قدر کو نہ اپنا سکے اور نہ ہی کوئی مستحکم نظام ان کے حصّے میں آیا۔ وہی دو ممالک جو ایک ہی نوآبادیاتی شکنجے سے آزاد ہوئے ایک دوسرے کے دشمن ٹھہرے جن خوابوں کو پانے کے لیے سامراجی نظام سے ٹکر لی گئی، بعد میں وہ سب ہی منافقت، زرپرستی اور اقتدار پسندی کے نذر ہوگئے۔ فرد سے فردکا قلبی رشتہ کٹ گیا۔ فکری اور عمرانیاتی آدرش بکھر بکھر کر ریزہ ریزہ ہوگئے تو فرد کو اپنے پھسپھسے اور کھوکھلے نظریات اور جحانات کا احساس ہوا یہ احساس قرۃالعین کے ناولوں سے جابجا ملتا ہے۔ خاص کر ان کا ناول ’چاندنی بیگم‘ میں ہندستان کی آزادی کے بعد دو ملکوں کی تہذیبی، سیاسی، معاشی پامالی کی نوحہ گری ہے۔ جن میں نوآبادیاتی نظام سے آزادی کے بعد نئے اقتدار کی ترجیحات ایک ارب عوام کی ترجیحات سے مختلف تھیں، فرد مجہول اور نفسیاتی مریض بن کے رہ گیا۔ رد نوآبادیاتی تنقید نے نیم جاگیردارانہ نظام، سیاست، قانون، صحافت، نئے سرمایہ دارانہ نظام (چھوٹے) شوبزنس پاپولر ذرائع ابلاغ، سستی اور سطحی تفریحی پر ڈراموں سے فرد ہی کا نہیں بلکہ معاشرے کی بنیادی اکائی ’خاندان‘ کے سکوں کو تباہ و برباد کردیا۔ نوآبادیاتی نظام کے باطن سے پیدا ہونے والے استحصالی نظام کو خوش آمدید کہنے پر مجبور ہوگیا۔ اسی طرح خدیجہ مستور کے ناول ’آنگن‘ میں خاندانی اکائی کا تتر بتر ہوجانا اور زریں اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر حالات سے معاشی اور معاشرتی مفاہمت کرلینا ظاہر ہوتا ہے، شوکت صدیقی کے ناول ’خدا کی بستی‘ میں ہجرت کے حوالے سے نئی تبدیلی کی اذیت ناکی ملتی ہے۔ جس کے پس منظر میں سامراجی رجحان کا حاوی محرک نمایاں ہے، جہاں فرد کے آدرش ٹوٹ پھوٹ گئے اور کوئی نظریہ حیات نہ ابھرسکا۔ عبداللہ حسین کا ناول ’نادار لوگ‘ میں پاکستانی حوالے سے فرد کی باطنی سچائی کو اجاگر کرتے ہوئے معاشی منعفت پسندی کو ٹھکرا دیا گیا۔ ساٹھویں دہائی میں تیسری دنیا کے لیے سابقہ نوآبادیاتی ممالک کی ادبیات میں رد نوآبادیاتی تناظر کو محسوس کیا گیا خاص کر اردو کے جدیدیت پسند رجحان میں فرد کی جو ٹوٹ پھوٹ ہوئی اور قنوطی سیاق میں جو کچھ لکھا گیا وہ انحطاطِ ذات تو تھا ہی، مگر اصل میں اس کے پس منظر میں ردنوآبادیاتی کا نظریہ لاشعور بھی چھپا ہوا تھا۔
انہ۔۔۔۔ سویت روس، انقلاب ایران، سقوط مشرقی پاکستان اور دیگر عالمی تبدیلیوں نے رد نوآبادیاتی تنقید کی راہیں مستحکم کیں۔
ایک جاپانی شاعر کیوکروڈا (Kio-Kuroda)نے کچھ سال قبل ایک نظم ’ہنگرین قہقہہ‘ لکھی۔ اس طویل نظم میں ردنوآبادیاتی رجحان کو شناخت کیا جاسکتا ہے۔
میں کل ضرور لکھوں گا
ہنگری کے متعلق ایک نظم
لوکاشیؔ کون ہے
جسے پھانسی دی گئی
ناگےؔ کہاں ہے
جسے ہم بھلا چکے ہیں
جیسے میں گم شدہ ہوں
ہنگری میں روس کے نوآبادیاتی تسلط کے خلاف بغاوت کے حوالے سے اس نظم کو دیکھیں تو ردنوآبادیاتی رجحان کے عناصر کی کارکردگی کا اس میں صریحاً بیاں نظر آتا ہے۔
خاص کر ۱۹۷۰ء کے بعد تیسری دنیا کی فکری بساط پر نوآبادیاتی پس منظر میں نئے تاریخی تناظر اور عقل پسندی کے مہروں کو اپنایا گیا یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ ہر ادب اپنے مخصوص احوال کے تناظر میں ایک نوآبادیاتی کو اپنے ذہن کے اصل فکری التباس اور حقیقی صورتِ حال کا پتہ چلا کہ ایک مصنوعی آئیڈیالوجی، قدامت پسندی اور اقتدار پسندی کے رجحان نے علم و ادب کا کس صفائی سے استحصال کیا۔ پس نوآبادیاتی فکر میں بغاوت کا شور شرابا بہت تھا جس فکر جذباتی اور سطح ہوگئی اور سیاسی اور گروہی اہداف کو پالینے کے لیے اسے استعمال کیا گیا۔ مثلاً پاکستان میں جب بھی مارشل لا لگا تو ظاہراً تو مزاحمتی شعرا کی ایک فوج ابھر کر سامنے آئی لیکن چونکہ ان کے پاس نظریاتی قوت کی کمی تھی اس لیے ان کے تمام جذبات و دانش مثل حباب ثابت ہوئے اور ان کی شاعری افادیت پسندی اور شوبزنس سے آگے نہ بڑھ سکی۔
آئرلینڈ کے شاعر ولیم بٹلر یٹس ( William Butler Yeats)کو جدید انگریزی ادبیات کے مخاطبے (ڈسکورس) اس سبب امتیاز و مقام حاصل ہے کہ انھوں نے یورپ کے ہائی ماڈرن ازم کے باطن میں پویشدہ نوآبادیاتی رویوں کا سراغ لگایا۔ یٹسؔ نے آئرلینڈ کی روایت تاریخ اور سیاسی سیاق میں اس بات کاشدت سے احساس دلوایا کہ اس کڑے وقت میں قوم پرست آئرلینڈ تکالیف کا شکار ہے، انگریزی شعرا اور اردو ادیب آئرلینڈ کے سلسلے میں نوآبادیاتی ذہنیت کا اظہار کررہی ہے کیونکہ آئرلینڈ کی ثقافت و ادب مغربی جدیدیت سے قطعاً محتلف ہے۔
یٹس (Yeats)کو آئرلینڈ کے قومی شعرا میں شمار کیا جاتا ہے جو کہ سامراج شکن ہیں۔ انگریز ثقافت کا حاوی عنصر آئرلینڈپر نوآبادیات پنجے کو ثابت کرنے کےلیے کافی ہے۔ آئرلینڈ کی ثقافتی خود مختاری کا خواب اصل میں رد نوآبادیاتی رجحان ہے۔ آئرلینڈ کی تاریخ مسخ کی گئی ہے۔ یٹس ؔ کا خیال ہے کہ رد نوآبادیاتی مزاج کے سبب آئرلینڈ کی تاریخ کے موضٰعات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کی نظم ’ماہی گیر‘ (Fisherman)رد نوآبادیاتی تجربے کا حساس اظہار ہے۔
یہ طویل ہے، میری ابتدا سے
آنکھوں تک پکارتا ہوں
یہ نیک اور سادہ آدمی
میں تمام دن چہرے میں دیکھتا ہوں
کیا میں امید کروں
کہ اپنی نسل پر لکھوں
اور حقیقت (۱)
ایڈورڈ ولیم سعید نے لکھا ہے کہ یٹسؔ کی شاعری نے نوآبادیاتی رویوں کو دریافت کیا ہے۔ ایڈورڈ سعید کے بقول انگریزی زبان پر آئرلینڈ کے اس شاعر کی شعری فطائت کاادراک نہ ہوسکا ( یا انھیں دانستہ طو رپر نظر انداز کیا گیا) کیونکہ آئرلینڈ پر انگریز ثقافت ، ادب اور یورپ کی جدیدیت کی یلغار ہمیشہ سے ہوتی رہی ہے۔ یٹس ؔ نے آئرلینڈ کے ساحلوں پر برطانوی سامراج کی ریشہ روائیوں کو محسوس کیا۔ وہ اپنی شاعری میں اپنے تجربات کے حوالے سے سامراج شکن رویوں کو جگہ دیتے ہیں رد نوآبادیاتی وساطت سے ایڈورڈ سعید نے مصر، ترکی سیلوں (سری لنکا) انڈونیشیا، چین اور ہندستان کی مشالیں دیتے ہیں اور ادبی اور ثقافتی حوالوں سے تیسری دنیا کے ان ممالک میں رد نوآبادیاتی رجحان کا پتہ لگاتے ہیں۔ (۲)
یورپ میں چند لکھنے والے ایسے بھی ملتے ہیں جنھوں نے اپنی تخلیقات میں رد نوآبادیاتی رویوں کو جگہ دی۔ ان میں سب سے نمایاں نام فرانسیسی ڈراما نگاری ژان ژینے ( Jean Genet)کا ہے۔ ان کے ڈرامے ’دی بلیک‘ (The Black)میں سیاہ فام طوائف نوآبادیاتی نظام کے کارندوں کو یک بعد دیگرے موت کے گھاٹاتار دیتی ہے۔ دیکھنے میں یہ نسلی نوعیت کا احتجاج ڈراما ہے لیکن اصل میں ژان ژینے نے اس کھیل میں مغرب کے نوآبادیاتی نظام کے رد کو ابھارہ ہے۔
برٹینڈرسل (Bertrand Russell)جنھیں فلسفہ اور ریاضی کے میدان میں شہرت حاصل ہے وہ مغرب کی گوری تہدیب کے نشاۃ الثانیہ کے اس حد کت خواہاں ہیں کہ ان کی فکر نوآبادیاتی رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ یہ وہی برٹینڈرسل ہیں جنھو ںنے ژان پال سارتر کی رفاقت میں ویت نام کی جنگ کے دوران امریکا کے نوآبادیاتی اور سامراجی عزائم کا پردہ چاک کرتے ہوئے امریکا پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا اور امریکا کو جنگی مجرم قرار دیا۔
اسی طرح انگلستان کے افادیت پسند فلسفی جاں اسٹیورٹ مل (Mills)کے نظریات میں ہندستان سے نفرت آسمان کو چھوتی ہے۔ برصغیر میں انگریزوں کانوآبادیاتی نظام اخلاقی مذہبی اور نسلی برتری کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوا بلکہ یورپ کی عقلیت پسندی، منطقی ہیئت، ثنوتیت اور سائنسی ترقی نے ہندستان کے روایتی معاشرے پر باآسانی تسلط قائم کرلیا۔ انگریز کو بھی علم تھا کہ انھیں ہندستان میں خوش آمدید نہیں کہا گیا بلکہ کمزور معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے اور داخلی خلفشار اور بحران کا فائدہ اٹھا کر انھیں ہندستان میں اپنی نوآبادیات قائم کی اور انھیں یہ خام خیال تھی کہ اعلا اصولوں، اخلاقی اور تہذیبی اوصاف کے سبب ’سونے کی چڑیا‘ ان کے ہاتھ لگی ہے۔ ایک انگریز جان لارنس جو ۱۸۵۷ء میں پنجاب میں متعین تھا، اس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا، ’’ہم یہاں لوگوں کی مرضی یا ان کے انتخاب سے نہیں آئے ہیں۔ بلکہ ہم اپنی اخلاقی برتری، حالات کی موافقت اور مثیت ایزاری کی مرضی کے تحت اقتدار میں آئے ہیں۔ یہی وہ چار ٹر ہے جس کی بنیاد پر ہم ہندستان میں حکومت کررہے ہیں۔ (۳)
لاطینی امریکا میں رد نوآبادیاتی رجحان اب خاصا پرانا ہوچکا ہے۔ نوآبادیات کا فکری احساس خاصا حساس بھی نہیں بلکہ اس کا اظہار لاطینی امریکا اور امریکا کے ’چکانو ادب ‘ (Chicano Literature) امریکا میں بسنے والے لاطینی امریکی نژاد باشندوں بالخصوص میکسیکو کے باشندوں کا ادب جو انگریزی زبان میں لکھا گیا۔ میں نمایاں طو رپر محسوس کیا جاسکتا ہے جو اصل میں یورپی نسل کے امریکی باشندوں کے سامراجی رویوں کے سبب وجود میں آیا۔ میکسیکو نے ۱۸۲۱ء میں اسپین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد میکسیکو کے شمالی صوبہ جات پر مشتمل ’’Aztlan‘‘کے نام سے ایک ریاست ری پبلک آف میکسیکو میں شامل کردی۔ اس تسلط کے خلاف ۱۸۴۸ء تک خاصی مزاحمت کی گئی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ ابھی اس نوآبادیاتی تسلط سے نجات حاصل نہ ہوپائی تھی کہ امریکا نے اپنی نوآبادیات کو بڑھانے کے لیے جنوبی سرحدوں کی جانب ریلوے لائن بچھانا چاہی لہذا ۱۹۱۰ء سے ۱۹۲۰ء تک میکسیکو کے مقامی باشندوں اور مغربی استعمار کے درمیاں گھماسان کا رن پڑا۔ جس میں ملین کے قریب میکسیکو کے باشندے مارے گئے۔ شکست کے بعد ٹیکسس، نیو میکسیکو ، ایرے زونا، کیلے فورنیا اور آدی گن (آدھا) کو بندوق کے مور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا کا حصّہ قرار دے دیا گیا اور بڑی صفائی سے مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کردیا گیا۔ لہذا آج بھی امریکا کے چکانو ادب اور بالخصوص شاعری میں Aztlanصوبے کا نوآبادیاتی ناسٹلجیائیہ احساس شدت کے ساتھ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ نوآبادیات کے رد میں معاشرتی اور سیاسی حوالے سے معاشرتی نمونوں (روٹی، مکھن، لوبیا) کی علامتوں کی مدد سے نوآبادیاتی نظام کے خلاف احتجاج اور مزاحمت کی تصویر بھرپور طور پر سامنے آتی ہے۔
تم کچرا کھاتے ہو
تمھاری روٹی اور مکھن کے ساتھ
اور میں، میرا کھاتا ہوں، لوبیے کے ساتھ
اور ٹوٹریے ** کے ساتھ منہ مارتا ہوں
(میکیسکن روٹی (Tortilla))
البرٹ کامیوؔ نے ہزار الجزائر کی آزادی کے نغمے گائے ہوں مگر وہ فرانسیسی نوآبادیات سے الجزائر کو آزاد ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے اور کسی صورت میں بھی الجزائر ( جو ان کی جنم بھوی بھی تھی) کو خود مختار ملک کا رتبہ دینے کے حق میں نہ تھے، وہ ہر طور سے فرانسیسی نوآبادیاتی نظام کو برقرار رکھنا چاہتے تھے اور اس نظام کے تحفظ کے بھی خواہاں تھے۔ ٹی ایس ایلیٹ (T.S.Eliot)نے عیسوی شریعت کو رائج کرنے کے متمنی تھے۔ انھوں نے ’ویسٹ لینڈ‘ میں روحانیت اور قنوطیت کا ڈراما رچا کر مغربی ثقافت کو مغربیت رائج کرنے کا عندیہ دیااور جدیدیت کی آڑ میں مغرب کی نوآبادیاتی توسیع پسندی اور سامراج پرستی کا خواب دیکھا۔ دریردا (Derrida)نے دبے الفاظ میں نوآبادیاتی تصورات کو اپنی تحریروں میں جگہ دی۔ دریردا مغربی مابعدالطبیعات کو ’گوری اساطیر‘ سے تعبیر کرتے ہیں جو ان کی نظر میں مغربی ثقافت کا جبر ہے۔ دریردا کے ان خیالات نے نئے نقادوں کو مزید سوچنے پر اکسایا۔ باختنؔ کے Dialogisگرماسکی (Gramsci)کے مماثلتی تصور، فوکو کا قوت دور آگہی کا تصور اصل میں نوآبادیات شکن تصورات ہیں۔ ان افکار نے مغرب کے آون گارڈ اہرام یا ماڈل کی کوتاہ شعوری کا احساس دلوایا۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب ’Orientalism‘میں چار ہزار سال کی تاریخی تناظر میں پس نوآبادیاتی تنقید کے حوالے سے فلسطین سے سیاسی سے اپنی فکری رفاقت کا احساس دلوایا۔ (۴)
دوسری جنگ عظیم کے ہیرو جنرل مٹگمری، جو نوآبادیاتی تسلط پسندی کے حامی تھے مگر اسی شدت سے وہ نوآبادیات خطوں میں عیسائیت کے احیا کے خواہش مند بھی رہے انھوں نے مغرب کی برتری کو کمزور نوآبادیات اور نئے آزاد ہونے والے سابقہ نوآبادیاتی ممالک پر ٹھونسنے کے لیے ، ناٹو، سیٹو، سینٹو جیسے سامراجی دفاعی معاہدات کی منصوبہ بندی کی۔ اس صورتِ حال کو بھاپ کر الفریڈ سیووئے (Alferad Sauvy)کے نظریہ تیسری دنیا کو ابھارہ گیا۔ پھر غیر وابستہ ممالک کی تحریک چلی۔ یہ سب رویوں اور جحانات در نوآبادیات کے سلسلے میں ہی تھے جس سے تیسری دنیا کے ممالک دوچار تھے۔
اسی طرح نوبیل انعام یافتہ ناول نگار گیبریل مارکیوز گارشیا، اکتاویوپاز، البرٹو اپسنووزا (Espinosa)کی تحریروں میں ردنوآبادیاتی احساس خاصا ترش ہے جو فکری سط پر خاصا گہرا بھی ہے۔ چلی کے شاعر پابلو نرودا نے رد نوآبادیات کی وساطت سے اپنے خدشات کااظہار کیا ہے۔ خاص طور پر وہ چلی کی داخلی نوآبادیات اور لاطینی امریکا میں پھیلے ہوئے مغربی سامراج کی توسیع پسندی کو اپنی شاعری میں بیاں کیا ہے۔
I knew that man, and when i could
when I still bad eyes in my head
when I still bad a voice in my throat,
I sought him among the tombs and I said to him
pressing his arms that still was not dust
“Everything will pass, you will still be living,
you set fire to life
you made what is yours”
So let no one be perturbed when
I seem to be alone and am not alone
I am not without company and I speak for as
Someone is bearing me without knowing it
But those I sing of those who know
go on being born and will over flow the world (5)
میکسیکو کے ناول نگار کارلوس فونیتیس (Carlos Fuentes)نے اپنی تحریروں میں امریکی نوآبادیاتی زمین کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے ان کی ناول ’’The Old Gringo‘‘ (لاطینی امریکا، بالخصوص میکسیکو میں امریکیوں کو طنزاً ’گرینگو‘ کہتے ہیں) میں اس بات کا احساس دلوایا ہے کہ میکسیکو کے شمالی علاقوں میں امریکا نے پروٹسٹنٹ مذہب اور سرمایہ دارانہ ثقافت کی آڑ میں نوآبادیات کو فروغ دیا جس کا سلسلہ جنوبی میڈی ٹیرین ( Mediter ranean)تک جاتا ہے۔ نوآبادیاتی سلسلے میں ریگنؔ انتظامیہ نے نکارا گوا میں جو کچھ گُل کھلائے وہ تاریخی تناظر میں پریشان کن ہے۔ فونیتیس ؔ نے بل مائر ؔ (Billmoyer)کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ۱۹۵۴ء میںگوئتے مالا میں جوکچھ ہوا وہ سب امریکا کی سامراجی قوت کے سبب ہوا۔ لہذا لوگوں نے اسے Vietnamization of Central America یا Central Americanization of Vietnamکا نام دیا۔ (۶)
یہ ڈراما تو ویت نام کے خونی ڈرامے سے ایک صدی پہلے لاطینی امریکا میں کھیلا جاچکا تھا۔ جس کی سب سے بھاری قیمت میکسیکو کو ہی ادا کرنی پڑی اور آج تک یہ ملک خسارے میں جارہا ہے۔
قونیتین ایک ماہر نفستیا ہیں۔ انھوں نے ۱۹۶۱ء میں اپنی کتاب ’بدنصیب زمین‘ میں طبی فطرت نوعیت کا نوآبادیاتی تجزیہ کیا ہے جو معاشروں کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔ ان کے خیال میں نوآبادیات اپنی شناخت کے ساتھ مقامی علاقوں میں داخل ہوکر ان علاقوں پر قبضہ کرلیتی ہے اور اپنی نوآبادیاتی صفات کو انسان قرار دیتی ہے اور مقامی باشندوں کو ان کی کمتری کااحساس دلوا کر غلامانہ ذہنیت پیدا کرجاتی ہے جس کے لیے ذہنی اور جسمانی تشدد کیا جاتا ہے جو مکمل طور پر ’نسلی‘ نوعیت کا ہوتا ہے۔ فونتین اسے ’متشدد مزاحمت‘ کہتے ہیں جو مقامی نفسی حسیت، عزت نفس کے پردے میں نوآبادیاتی خوشامدی ٹولہ پیدا کرتا ہے۔ انھو ںنے الجزائری جنگ آزادی کی کھل کر حمایت کی۔ ان کے خیال میں نوآبادیات مکمل طور پر معاشی نظریہ بھی ہے کیونکہ سامراج اعلا درجے کی سرمایہ داریت ہوتی ہے جس میں سرمایہ ’منافع‘ کو پیدا کرتا ہے۔ فونتین کا خیال ہے کہ تیسری دنیا کے بدترین استحصال کا نشانہ ہونے والے انسانوں کو ’افتادگان خاک‘ کہا۔ یہ ان کی کتاب کا عنوان بھی ہے۔ جس کا اصل اور بنیادی مقولہ ہے کہ مغربی سرمایہ کار طبقہ بیک وقت تعمیری اور طفیلی کردار کاحامل ہے اور نوآبادیاتی گماشتے کا کردار ادا کیا۔ اس عمل کے دوران استحصالی نوآبادیاتی نظام مقامی محنت کشوں اور کسانوں کا سفّاک اور بے رحمانہ استحصال کرتا ہے۔ فونتین کا نوآبادی نظریہ اصل میں ’تیسری دنیا کی انقلابی جدوجہد‘ کے مکالمے میں پوشیدہ ہے…. اس سلسلے میں کولمبیا کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار گیبریل مارکیز گارشیا نے لکھا ہے ’’سیاست کے تناظر میں دیکھنے سے لاطینی امریکا کی نوآبادیات اور پس نوآبادیات کی معاشرت کاادراک تو ہوسکتا ہے مگر لاطینی امریکا کو آپ اس نظریے سے دیکھنے سے محروم ہوجائیں…. اس نظر سے گارشیا نے نوآبادیات کو لاطینی امریکا کے تناظر میں دیکھا۔
اردو میں باقاعدہ طور پر نوآبادیاتی فکرکا آغاز ۱۷۹۹ء میں فورٹ ولیم کالج کی بنیاد پڑنے کے بعد ہوا۔ جس نے ہندومسلم روابط میں دراڑیں ڈالیں۔ میر امد دہلوی نے گل گرسٹ کی سرپرستی میں ’باغ و بہار‘ لکھی اور میر امن نے اپنے مربی ڈاکٹر گل گرسٹ کو سر آنکھوں پر بھی بٹھایا۔ سوداؔ کے ’شہر آشوب‘، واجد علی شاہ کی ’مثنوی حزں اختر‘، نظیر اکبرآبادی کی نظمیں، پنڈت رتن ناتھ سرشار کا ’فسانہ آزاد‘ میں دبے الفاظ نوآبادیاتی رویوں کے خلاف فکری مزاحمت ملتی ہے۔ بہادر شاہ ظفر نے اپنی آخری عمر کی شاعری میں کنارتاً نوآبادیاتی رجحان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اکبر الہ آبادی کی طنزیہ شاعری میں نوآبادیاتی نظام کی نفی کی گئی ہے۔ جوش ملیح آبادی جذباتی انداز میں بکنگھم پیلس کو بم سے اڑا دینے کی خواہش کرتے ہیں۔ ایک طبقہ سرسید احمد خان پر انگریز نوازی کا الزام لگاتا ہے حالانکہ سرسید نے ہندستان کے ٹوٹے پھوٹے ہریمت زدہ معاشرے اور فکری ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے تھے لہذاوہ کچھ وقت کے لیے انگریزوں سے مزاحمت کے حق میں نہ تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندستان مغرب سے اچھی چیزیں اخذ کرے اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ہندستان میں نہ آج اردو ہوتی اور نہ ہی فکری ارتقا کی صورت نکل پاتی نہ ’مقدمہ شعر و شاعری‘ ہوتا، نہ ’آبِ حیات‘ نہ ’بانگ درا‘ ہوتی نہ ’ضربِ کلیم‘… اور نہ ہی ترقی پسند تحریک نظر آتی نہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی کباحث اردو معاشرے کو جلا بخشتے اور نہ ہی عبدالسلام جیسا سائنس دان پیدا ہوتا۔
نظم جدید کی تحریک کے بعد اردو کو کئی فکری تغیرات سے گزرنا پڑا ۔ ترقی پسند تحریک نے یقیناً نوآبادیاتی رجحان کو رد کردیا۔ یہ ایک بڑی مزاحمتی تحریک بھی تھی لیکن جب ہم گوری نوآبادیاتی ذہنی ساخت کے پس منظر میں چلتے ہوئے ۵۰ء کے دہے تک پہنچتے ہیں تو ہمیں یکبارگی یہ احساس ہوتا ہے کہ روسی انقلاب سے متاثر آزادی کی وہ تحریکیں جو اشتراکیت کے حوالے سے اپنی جدوجہد برقرار رکھے ہوئے تھیں انھیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ روسی ذہنی ساخت عالمی اشتراکیت کے سیاق و سباق میں گوری نوآبادیاتی نظام کا نعم البدل بن جائے گی۔ اس کا سب سے واضح ثبوت برصغیر کے ادب بالخصوص اردو میں ملتا ہے۔ ہنگری پر جب روسی ٹینک چڑ دوڑے تو فیض احمد فیضؔ سے لندن کے ایک صحافی نے اس پر اظہارِ رائے کے لیے کہا، فیض کا جواب تھا، ’’روسی ٹینک آزادی کو پامال کرنے کے لیے نہیں بلکہ آزادی کی حفاظت کرنے کے لیے وہاں پہنچے ہیں۔‘‘ جب کہ ہنگری اور چیکوسلواکیہ میں روس نے اپنی فوجیں داخل کیں تو ژان پال سارتر نے روس کی شدید مذمت کی۔
اسی طرح روسی فوجوں کے افغانستان میں دخول کے بعد جب بھارتی وزیر اعظم نے یہ موقوف اختیار کیا کہ یہ اس وقت کی افغانی حکومت کی دعوت پر وہاں پہنچے ہیں تو ہندستان کی کمیونسٹ پارٹی کے زیر اثر ترقی پسند دانشوروں میں، جن میں علی سردار جعفری پیش پیش تھے اس موقوف کی حمایت کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ دونوں حالتوں میں یہ Neo Colonialismمطمع نظر تھا جس میں اردو کی ترقی پسند تحریک کے دو رہنما فیض احمد فیضؔ اور علی سردار جعفری کی تاریخی سطح پر سیاسی جبر اور جارجیت کے سلسلے میں مصلحت کوشی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ آئیڈیالوجی کے جبر کے تحت ان جیسے کئی سکہ بند ادیبو ں اور دانشوروں نے ہنگری اور چیکوسلواکیہ کے قابل مذمت واقعے کو تاریخی سطح پر درست قرار دیا لہذا آج نہیں تو کجل ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کون تاریخ کا مجرم ہے؟ ان دانشوروں کو مغربی سامراج اور نوآبادیات کے ظلم و جبر تو نظر آتے ہیں مگر سرخ نوآبادیاتی نظام اور آئیڈیالوجی سے جو نوآبادیات وجود میں آئیں وہ ان کی نظروں سے اوجھل رہی۔
سامراجیت (امپریلزم) کی اصطلاح دوسری جنگ عظیم سے پہلے کی اصطلاح ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امپیریلزم کو ’نوآبادیات‘ کی اصطلاح میں تبدیل کردیا گیا۔ تھرڈ نیو انٹرنیشنل ڈکشنری میں نوآبادیات کو کسی قوم کا ماتحت علاقہ حاصل کرنا اور اپنا تسلط قائم کرنا ہے اور اپنی معاشی اور دفاعی اقتدار کو قوت کے ذریعے زیر کرکے اپنا جارہانہ تسلط قائم کرنا ہے۔ تاکہ نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔ ۱۷۸۷ء کے بعد جن عالمی قوتوں نے دوسرے براعظموں کے پسماندہ ملکوں پر اپنا تسلط جمایا۔ ان میں برتانیا ، پرتگال، فرانس، ہالینڈ، اسپین، پرتگال پیش پیش تھا۔ بہرحال برتانیا نوآبادیاتی نظام کا سب سے کامیاب ملک رہا۔ جہاں اس کی نوآبادیات میں کبھی سورج غروب ہی نہیں ہوتا تھا۔ ۱۹۵ ممالک نے نوآبادیات سے آزادی حاصل کی مگر بدقسمتی سے وہ نئی نوآبادیات کے چنگل میں پھر پھنس گئے اور نئی معاشی، معاشرتی، ثقافتی اور سیاسی غلامی پر مجبور ہوگئے۔

خلاصہ کلام
بیسویں صدی کی چالیسویں دہائی سے قبل نوآبادیاتی اصطلاحات معرض وجود میں نہیں آئی تھی۔ ’سامراج‘ کو ہی نوآبادیاتی معنوں میں لیا جاتا تھا۔ ۱۹۴۰ء کے بعد پس نوآبادیاتی رویہ تنقید میں عام ہوا۔ پس نوآبادیاتی تنقید نوآبادیاتی تنقید سے کلی طور پر انحراف کرتی ہے لیکن رد نوآبادیاتی تنقید کا مسلک جداگانہ ہے یہ نہ تو پس نوآبادیاتی تنقید کی ضد ہے اور نہ ہی اس کی تائید مزید ہے۔ اپنے حس کارکردگی میں یہ نوآبادیاتی تقندی کا رد ہوتے ہوئے بھی تعمیری (Constructive)کردار ادا کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ رد نوآبادیاتی تنقید، نوآبادیاتی تنقید کارد ہے لیکن یہ پس نوآبادیاتی تنقید کی توسیع ہے جو کہ مغربی اور اشتراکی سامراجیت سے اپنی برہمی کا اظہار کرتی ہے اور فرد اور گروہ کو اسے نوآبادیاتی ماضی کے شعور، مستحکم منطقی تاویلات کی وساطت سے بیاں کرتی ہے۔ رد نوآبادیاتی تنقید مخاطبے (ڈسکورس) کے نئے مسائل اور قادیانہ مزاج کو پس نوآبادیاتی سیاق میں پرکھتے ہوئے سب سے پہلے اقتدار کی عفریت سے نجات دلوانا چاہتی ہے کیونکہ یہی عنصر فکر و ادب کا کاغذی پیراہن ہوتا ہے۔ اقتدار پسند طبقے کے رویوں اور جحانات کا عمیق گہرائیو ںسے مطالعہ کیے بغیر ردنوآبادیاتی تنقید کا کوئی جواز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی تنقید خود میں منفی اقدار کی حامل نہیں۔
اب گروہ، ممالک اور آئیڈیالوجی کی جنگ نہیں ہوتی، اس دور میں تمام جنگیں ثقافت کے مابین ہیں۔ جیسے مذہبی، سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی اصطلاحات میں بات کر انسان کے گلے میں نئے التباسات کے طوق ڈالے جارہے ہیں۔
ردنوآبادیاتی تنقید، سامراجی قدروں اور نظریات کو ہی نشانِ ہدف نہیں بناتی بلکہ دیگر جمہوری، معاشرتی اور سیاسی نظاموں میں چھپے ہوئے نوآبادیاتی اور سامراجی عنصر (عزائم) کو بھی شناخت کرلیتی ہے کیونکہ ان نظاموں میں فرد کی آزادی ایک دھوکہ ہے جب یہ نظام ہائے جیات مغرب سے سابقہ نوآبادیاتی خطوں میں برآمد کیے جاتے ہیں تو نراجیت، فاششت اور آمریت کا روپ دہار لیتے ہیں۔
اردو میں سامراج اور نوآبادیات کے حوالے سے چند اصطلاحات کے اردو تراجم اور منفردات درج کیے جارہ ہیں۔ جو عموماً نوآبادیاتی مطالعوں میں استعمال ہوتے ہیں۔
استعماریت- استعماریت پسندی – عادات Colonisalism
نوآبادیایہ – کالونی طریقے سے – مستعمرانہ Colonally
آبادکار-مستعمر – نوآبادی کا باشندہ Colonist
نوآبادیات نظام – استعماریت پسند Clonization
افسر نوآبادیات Colonization Officer
آباد کار Colonizer
نئی بستی قائم کرنا Colonize
نوآبادیاتی استعماری Colonial
نیا استعمار- نئی نوآبادیات Neo Colonisalism
پس استعماریت – پس نوآبادیات Post Colonisalism
رد استعماریت – ردنوآبادیات De Colonisalism
سابقہ نوآبادیاتی نیو کلیائی مخاطبہ Former Colonist Nuclear Discourse

1. W.B.Yeats, Collected Poems, New York: Macmillan, 1959. P. 146.
2. Said Edward W., Culture and Imperialism, New York: Alfred A. Knopf, 1993. PP 220-238.
3-رابرٹ سلیل (ترجمہ مبارک علی)، ’’کلچر امپیریلزم‘ ، لاہور: ماہ نو جولائی ۱۹۸۶ء ، ص: ۲۳
4. Said, Edward. Orientalism, New York: Pantheon, 1978.
5. Neruda, Pablo, Fully empowered, trans. Alastair Reid, New york: Farrar Straus & Ciroux, 1986, P 131.
6. Moyers Bill, World of Ideas, New York: Doubleday 1989 PP 506-513. (Conversation with carlos Fuentes)
ll

Jadeediyat, Maba’d Jadediyat aur PasNauaabadiyat

Articles

جدیدیت، مابعدجدیدیت اور پس نوآبادیات

احمد سہیل

 

جدیدیت، مابعدجدیدیت اور پس نوآبادیات کا مخاطبہ وسیع، پیچیدہ، مخالق نامطابق میدانوں میں بٹا ہوا ہے۔ ان تینوں نظریاتی مباحث سے بھی روابط، انسلاک کے کثیر الجہت معنی پوشیدہ ہوتے ہوئے بھی ان کی محدودیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ یہ اپنے مزاج اور اس کے پس منظر میں مابعد پر ہی مکالمہ نہیں کرتی بلکہ اپنے قریبی اور اختتامی ’مابعد‘ تصورات کو بھی حدود المکان اپنے مباحث میں شامل کرتی ہے۔ بہرحال ان تینوں تصورات کے انسلاکی پہلوؤں میں متن کو مختلف اندازسے تجزیہ کیا جاتا ہے اور انھی متنی تجزیات کے مباحثی بطن سے فکر کے وسیع تر دروازے کھل جاتے ہیں اور متن کی صورتِ حال میں نئے امکانات تلاش کرکے ان کے فکری روابط کو دریافت کرنے کے بعد کئی فکری اور اضافی پہلوؤں کا انکشاف بھی ہوپاتا ہے۔ لہذا مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیاتی فکر رویوں کی یکسانیت اور تفاوت کے کئی دلچسپ نکات ابھرتے ہیں۔ مثال کے طور پر لسان کے حوالے سے ہی بیانیہ آوازیں مابعد جدیدیت کے عام چوکھٹے (فریم ورک) میں اپنی جلوہ نمائی کرتی ہیں اور اسی حوالے سے عدم تسلسل، عدم مقامیت، عدم مرکزیت، نایقینیت اور نوآبادیات شکنی جیسے تصورات ذہن میں آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ نکات ، شناخت ، تاریخ اور موضوعیت جیسے متنازعہ فی مسائل پر سوچنے پر اکساتے ہیں۔

انسانی موضوعات سے آئیڈیالوجی اور لسانی مخاطبوں کا ممکن ہونا:

مابعد جدیدیت اور بالخصوص پس ساختیات کے ہدوف میں موضوع اور تنقیدی انسان پسندی کے قیاسات کے انسانی موضوعات کو لامرکز کرنا، شامل ہوتا ہے۔ موضوعات اور فلسفیانہ فکر شکنی کے صورتِ حال میں مسلسل شناخت کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ادبی تحریروں کے ڈھانچوں کو شعوری طور پر کار گر معنیات عطا کرتےہیں، جیسے کہ وہ ان پہلوؤں سے فکری مخاطبہ کرتی ہے جس کا تعلق نوآبادیاتی خطوں میں لینے والے لوگوں ےس ہوتا ہے اور ان کی پہچان اور ان کی صورتِ حال پر ’موضوعیات‘ کا حاوی عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ موضوع اور موضوعیاتی عنصر کے یہی انسلاکی رویے لسان سے ہی متعلق ہوتے ہیں کیونکہ موضوعیت کے تساولی عنصر سے ہی موضوعیت لسان سے متعلق و منسلک ہوجاتی ہے اور انسانی فطرت کے متبادلیات قیاس ہی نہیں کیے جاتے بلکہ اس سے فکری تشکیلات بھی جنم لیتی ہیں اور انسانی موضوعات سے ہی آئیڈیالوجی اور لسانی مخاطبہ بھی ممکن ہوپاتا ہے۔ جو موافق طور پر پس نوآبادیات کے مخاطبے میں مثبت طور پر اور مابعد جدیدیت کو بھی متعارف کرواتا ہے جو کہ مثبت اقدار اور افتراقات کو ایک دوسرے سے اپنی شراکت داری کا احساس بھی دلواتے ہیں اور آئیڈیالوجی پر کلیت اور یکسانیت کو مستحکم بناتے ہیں۔ جس طرح جدیدیت کے تصورات مجّرد اور مغائرتی چیلنجوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کردیتےہیں اور مابعد جدیدیت کے مخفی اور ثنوئی مرابتیاتی افکار کو ’ذات دیگر‘ کے حوالے سے منظر عام پر لاتے ہیں اور اپنی سفارشات میں افتراقات کی کثیرالجہت اور مخٓلق نا مطابق کثریت کو ثنوتی تضادات سے جدا بھی کرتی ہیں۔

بورژواژی لبرل ازم سے بیزاری:

لنڈا ہیچن (Linda Hutcheon)نے ژان فرانسرز (Jean Francois)کے مابعد ثقافت کے تناظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کا لبرل انسان دوست ثقافت کا حاوی لیبل انکے برخلاف جاتا ہے۔ اس سے زیادہ صحیح اور نمایاں طور پر ان کے خیالات کو اس طور پر لیا جاسکتا ہے جیسا کہ ہیچن نے لیوتاغ (لیوتار) کے بارے میں لکھا ہے کہ :
حقیقت پسندانہ مابعدجدیدیت ثقافت کے لیے ضروری ہے کہ مہابیانیہ کے جوابی اقدار کے تصور سے آگاہ ہو جیسا کہ اسطور اور فن میں ہوتا ہے، یہ جدیدیت کے لیے بھی اطمینان بخش قرار پاتا ہے۔ ہیچن کا خیال ہے کہ لیوتاغ نے مابعد جدیدیت کی وساطت سے مہابیانیہ پر جس قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا ہے وہ اصل میں بورژواژی لبرل ازم سے بیزاری ہے۔ ہیچن کے بقول لیوتاغ کا مابعد جدیدیت کے حوالے سے مہا یا مابعد بیانیہ کے لیے یہ خیالات بے اعتقادیت سے تعبیر کیے جاسکتے ہیں۔ جو کہ اصل میں ’معنویت کی گم شدگی‘ کا رنج و غم ہے۔ جس کے پس منظر میں اصل ماتم اس بات کا ہوتا ہے کہ آگہی کے عمل اور فن یا دنیا میں بنیادی طور پر بیانیہ کی آگہی کا کسی قسم کا وجود نہیں ہوتا۔

 

مہا بیانیے کا تصور جدیدیت کے یہاں ناقابل قبول ہے:

لیوتاغ نطشے کی طرح عیسائیت، روشن خیالی اور مارکزم پر بحث کرتے ہیں۔ جو کہ اصل میں مغربی تہذیب کا مہابیانیہ تصور کیا جاتا ہے جو کہ مابعد جدیدیت کی تشکیک کی وجہ سے آنکھیں کھولتا ہے اور عظیم کہانیوںکی کل تشریح اور توجیہات کو انسانی فطرت، حریّت ، ترقی اور تاریخ کے مخصوص ماحول میں ہی پروان چڑھاتا ہے۔ بہرحال لیوتاغ کا چھوٹا بیانیہ تکثرتی معاشرے میں نطشے کے Overmanکے مرابتیاتی منصوبے اور ’غلام‘ کام کرنے والوں سے بہت مختلف نوعیت کا ہے۔ دریرداؔ اور نطشےؔ کی طرح لیوتاغ بھی اس بات کا تاثر دیتے ہیں کہ مہابیانیہ کی ضروری بنیادیں مزید قبول نہیں کی جاسکیں۔ بہرحال نطشے اور لیوتاغ دونوں کا ہی تاریخی تناظر چارو ناچار ایک مخصوص دائرے میں گردش کرکے اپنا سفر مکمل کرتا ہے ۔ لیوتاغ کا خیال ہے کہ ’مکمل طور پر مہابیانیے کا یہ تصور جدیدیت کے یہاں ناقابل قبول ہے کیونکہ مابعدجدیدیت کی تشکیلیت سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔

فن کا انفرادیت اور اجتماعیت سے غیر واضح انسلاک:

مابعد جدیدیت کا ’پتلاپن‘ مابعدبیانیہ انفرادی انسانی موضوع کو اتفاق و موافقیت کے نظریے کی ’دریافت‘ میں بہادیتا ہے، چاہے بیانیہ کا نظام ہمیں اس بات پر سوچنے کی اجازت دے دے کہ ہم تساولی اور آفاقی سطح پر نظیرے اور فنکارانہ عمل کی عوامی بحث کو افتراق کے بیاں میں واضح کریں۔ اتفاق اور موافقت کے وجدان کو تساولی التباس کے اس انسلاک کے ساتھ ابھارے جس کا تعلق فرد اور معاشرے سے ہوتا ہے جس میں انسان زندگی بسر کررہا ہوتا ہے لیکن فن کا انفرادیت اور اجتماعیت سے انسلاک غیر واضح ہوتا ہے جو درحقیقت انسان کی زندگی اور فن سے علیحدگی کا عندیہ دیتی ہے جو کہ انسانی پیکریت کے مقابلے میں ابتری اور انشتار کو ابھارتے ہوئے اسے گرفت میں نہیں لے پاتی اور مابعد جدیدیت کے فن کے بارے میں برعکس قسم کی غلط بیانی بھی ایک مخصوص نظام کے ساتھ ترتیب پاتی ہے لہذا انفرادی انسانی موضوع، فن، معاشرہ اور نظریہ مجبوریوں میں لپٹا محسوس ہوتا ہے۔

مابعد جدیدیت-مابعد بیانیہ کی جانب بے اعتقادی ہے:

لیوتاغ نے مابعد جدیدیت کے سیاق کو سائنسی تناطر میں موضوع بحث بناتا ہے اور ان کے تفتیشی رسائی کے شعبدے تجربی مطالعوں سے بہت پیچھے ہیں۔ لیوتاغ نے ’جدید‘ کی اصطلاح کو سائنس اور قانونی حوالے سے ظاہر کرتے ہوئے مابعد بیانیے کے تصور کو ابھارہ ہے جو کہ مہابیانیے کے لیے واضح طور پر جازبیت کو ابھارتی ہے جیسے ’روح کی جدلیات‘ ۔ تفہیماتی معنویت، عقلی آزادی یا موضوع کے اعمال اور دولت کی تخلیق کاری سے متعلق ہے۔
لیوتاغ کا خیال ہے کہ روشن خیالی بیانیہ قیاسی طور پر پیغام دینے والے اور پیغام وصول کرنے والے کے درمیان ایک طرح کی موافقیت ہے اس رابطے میں اصل’مقولہ ‘ پیش کی قدر کا ہوتا ہے۔ جو اس وساطت سے عقلی ذہن کی متوقع ہم کلامی ہوتی ہے۔ لیوتاغ نے مابعد جدیدیت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ مابعد بیانیہ کی جانب بے اعتقادی ہے۔ اور اس سے زیادہ بیانیہ کے وظائف زبان کے بیانیے کے عناصر کے سبب جبر کا شکار ہوجاتے ہیں اور یوں بیانیہ ادراک اور مظاہر کو نئی معنویت سے آشکار کرتا ہے لہذا مابعدجدیدیت کی اصطلاح کی تساولی وجوہات کی بنا پر مہابیانیہ کا عدم امتیاز بھی ہے جس پر روایت کے حوالے سے زبان کی تلوار لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور اسی دنیا اور زبان کا آپسی رابطہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے جیسا کہ دریرداؔ کے تصور ’لفظ کی مرکزیت‘ میں پوشیدہ ہے جو کہ معنی کی مرکزیت میں توازن پیدا کرنے کے لیے قطبین کے تناؤ کے درمیان افتراقات کو بھی تلاش کرتا ہے۔
دریرداؔ کے رد تشکیل کے اس مخاطبے کو رومان سیلڈن (Roman Selden)نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے ، ’معنی کی مرکزیت‘ کی خواہش میں یہ موجودگی کی ضمانت ہوتی ہے۔ جیسے کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ذہنی اور طبیعی وجود ایک مرکز پر مجتمع ہوتا ہے اور اس کیفیت کی ساخت اس کے مکاں پر آکر جمع ہوجاتا ہے۔ بہرحال فرد کی آزادی کے بغیر چھوٹا بیانیہ یا مہابیانیہ ایک دھوکہ ہے اور مائیکرو بیانیے سے ہی میکرو بیانیہ تشکیل پاتا ہے۔ اجزا ہی مل کر ’کل‘ بیانیے کو بناتے ہیں۔ ریاستی جبر ہویا ریاستی استبداد ان سب سے چھوٹے برے بیانیے ہی فرد سے ابلاغ کی جہتیں ابھر کر فرد اور اجتماع کو تاریخی جبر اور معاشرتی و سیاسی استبداد کی صورتِ حال سے آگاہ کرتا ہے اور اسی سے نوآبادیاتی بیانیہ اور مخاطبہ کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔
نطشے، فورائیڈ، فوکو اور دریردا کے مدِّ نظر مرکزیت کا قیاس مختلف سطح پر ایک کل کی صورت میں عقلی موضوعیت ہے اور اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ مرکزیت کے اصولوں سے باہر رہ کر اس پر سوچا جائے جیسا کہ ہم وجود جوہر، ہرستی، سچائیہ، ہیئت، ابتداور اختتام۔ شعور، فرد، خدا پر فکری مکالمہ کرتے ہیں جو شاید قطبین کے مجموعے کے حاوی ثنوتی اختلافات یا تضادات سے نظریں چراتے ہیں اور اس کام میں ’عمل‘ کی مرکزیت کی شناخت کو پالینے کے لیے ’خیال دیگر‘ سے انکار بھی کردیا جاتا ہے۔

مشرق اور مغرب کے ثنوئی اختلافات کی تشکیلات:

ثافتی انتشار مخاطبوں کے ان بیانیوں میں انتشار فکر اور گرمگو صورتِ حال پیدا کردیتے ہیں۔ جس سے نوآبادیاتی قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ’ثقافت اور سامراجیت‘ میں ایڈورڈ ولیم سعید اسی قسم کی عدم یکسانیت کے التباس کو مرکزیت کی شناخت اور موضوعیت میں دریافت کیا جو انفرادیت اور اجتماعیت میں ابھرتی ہے، یوں زبان بیانیہ کی دوسری قسم بھی تسلیم کی جاتی ہے۔ ایڈورڈ سعید نے مغرب اور مشرق کے جوغے دار اضداد کی تشکیلات پ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مشرق اور مغرب کو پارہ پارہ کرنے کے لیے نوآبادیات کی مشیری اور سامراجیت کو ثقافتی ثمر کے طور پر پیش کرتے ہوئے نوآبادیاتی معاشروں نے محکوم آبادیوں پر اپنے فن اور ادب کو اعلا ترین بناکر پیش کیا۔ جس طرح شیکسپیئر کا کیلیبن (Caliban)پس نو آبادیاتی اسطوری کردار ہے جس کا قریبی انسلاک زبان و تاریخ کسے ہے اور اس کی زبان انسانی کاوشوں سے ہی جنم لیتی ہے کیونکہ نوآبادیات کبھی نہ کبھی اپنے لسانی روپ کو سامنے لاتی ہے اور بعض دفعہ یہ اپنی شناخت کی بحالی کے لیے ہاتھ پاؤں مارتی ہے اور وہ پس قطبین میں پہنچ کر قوم پرستانہ اقتدار اور آزادی کو بیاں بالیقین میں تبدیل کردیتی ہے۔ لہذا اس سلسلے میں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ مختلف اقسام کی شناخت ہمیشہ ناکام رہتی ہیں یوں بھی ثنوئی اختلاف کے تصور میں قوم پرستانہ اور سامراج متعلقات بہت پسندیدہ ہوتے ہیں، سوائے اس کے کہ پرانا اقتدار آسانی سے نئے اقتدار کی جگہ نہیں لے سکتا اور یوں نئے تصورات، خیالات حدود اور جوہر تیزی سے زمین میں آتے ہیں اور اس طور پر تصورات کی نئی صف بندی، فکر کے نئے اور بنیادی نوعیت کے سکونی تصورات کی شناخت کی درجہ بندی ہوپاتی ہے جو کہ سامراجی عہد کے دوران ثقافت کے افکار کی پہچان قرار پاتے ہیں۔ نوآبادیاتی شناخت کے سلسلے میں ’شناختی بیت‘ بھی نمود کھاتی ہے۔ جس کا مقولہ ’ہم‘ اور ’وہ‘ ہوتا ہے۔ اس قسم کی میکانیت نئی ہیئت، سیاسی افتراقات کی حرکیات سے جنم لیتی ہیںباوجود اس کے کہ ردِّ تشکیل حدود اور تجدیدات نوآبادیوں اور نوآبادیوں کے درمیاں ایک کٹھن عمل ہوتا ہے۔

 

مابعد جدیدیت سے پس نوآبادیات کا ابھرنا، اور اختتام محیط ارض سرمایہ داریت پر ہونا

ایڈورڈ سعید کے خیال میں نوآبادیاتی صورتِ حال اس سیاق میں ہوتی ہے کہ کیسے فن و ادب ایک دوسرے سے باہم ہوکر نوآبادیات کی سیاست کے رویوں کو ابھارتا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے لکھا ہے کہ نوآبادیاتی ادب عموماً مغربی سامراج کے مہابیانیہ کو تہہ بالا کرتا ہے اور محمبّر (Concrete)دعوؤں کے ساتھ نوآبادیاتی موضوعات سے رابطہ کرتی ہے۔ شناخت اور موضوعیت کے حوالے سے ایڈورڈ سعید بنیادی مسائل کو چھیڑتے ہوئے سامراجی تجربے کو ادراکِ نو کے حوالے سے Compartmentalisedکی اصطلاح سے علیحدہ کرکے بیاں کیا ہے اور ایڈورڈ سعید ان حدود کو بآسانی مغربیت اور مشرقیت میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔ عارف ڈارلک (Arif dirlik)کا اس سلسلے میں یہ خیال ہے کہ ان مسائلی حدود کو سیاسی اور معاشی متعلقات سے باہم کردیا جاتا ہے۔ عارف ڈارلک نے اپنے ایک مقالے Borderland Radicalismمیں مابعد جدیدیت اور پسِ نوآبادیات کے تنقیدی رویوں کی وساطت سے حدود، موضوعیت اور تاریخ کو موضوع بحث بنایا ہے۔ عارف ڈارلک نے انکشاف کیا ہے کہ مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیات کا رجحان نوآبادیت کی پس سرمایہ داریت پر زور دیتا ہے کیونکہ مابعدجدیدیت کی صورتِ حال نمایاں طور پر اعتدال پسند عہد کی پیداواریت ہے۔ جو کہ نظری فرائض کے تحت تاریخ اور معاشرتی نظریات کو چیلنج کرتی ہے اور اس کو حاصل کرنے کےلیے سیاسی قیمت بھی ادا کرتی ہے۔ بہرحال ساتھ ہی وہ تاریخ کے موضوعات کا صفایا کردیتی ہے۔ یہ تمام صورتِ حال سیاسی عمل کے طور پر سامنے آتی ہیں اور تاریخ کے موضوعات کو تہس نہس کردیتے ہیں اور ساتھ ہی کئی موضوعات کی ’خطرناکی‘ کو بھی کم کردیتے ہیں۔ یہ قبل تصوراتی نوعیت کے نظریات ہوتے ہیں اور اپنے مزاج میں دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
عارف ڈارلک کا دعوا ہے کہ یہ پسن نوآبادیات کی انبساطی تکثریت ہے جو کہ سرحدوں کے حدود کے بہاؤ کے محدود مکاں (Space)پر زور دیتے ہیں اور اشرفیہ کے مشابہ بیانیہ اور ثقافت سے بہت زیادہ اختلاف نہیں کرتے جیسا کہ انھیں کرنا چاہیے۔ ڈارلک نے بہتے ہوئے موضوعات کے مقام کے رجحانات میں پائے جانے والے روابط کا بھی سراغ لگانے کی کوشش کی ہے کہ مابعد جدیدیت سے پس نوآبادیات ابھرتی ہے اس کی انتہا محیط ارض سرمایہ داریت پر آکر اپنا دم توڑتی ہے۔ پیدواریت کے اس لچک دار دور میں ہم سب سرحدوں میں مقید زمینوں پر رہتے ہیں۔ سرمایہ، عدم علاقائیت اور عدم مرکزیت، سرحدوں کے علاقے تشکیل دیتے ہیں جہاں آسانی سے گھوما پھرا جاسکتا ہے، فرد، ریاست اور معاشرے کے کنٹرول سے دور رہتا ہے لیکن پھر بھی ریاست اور معاشرے کا تصادم بھی مشاہدے میں آتا ہے۔ بہرحال مسئلہ یہی ہوتاہے کہ پس نوآبادیاتی مخاطبہ ہی اس کو منظرِ عام پر لاتا ہے اور مادی زندگی آزادی کے مخاطبے کے مسئلے اور اس کی علیحدگی اور بذاتِ خود اس کی مادی زندگی کی صورتِ حال اسی حالت میں عصری، آفاقی معاشرے بنیادی اصولوں کو محیط ارِ سرمایہ داریت کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔
عارف ڈارلک کا خیال ہے کہ دانش ور طبقہ محیط ارض سرمایہ دارانہ نظام کا ہی حصہ ہے جو ان کے یہاں زماں و مکاں کا ملا جلا تصور ہے۔ بہرحال مابعدجدیدیت اور پس نوآبادیاتی ادب انارکی اور انتشار ہی برپا نہیں کرتا بلکہ وہ جدیدیت کی فکریات (آئیڈیالوجی) کے خلاف باغی بھی پیدا کرتے ہیں اور لازمیت کی شناخت کے کل بیانیے کو بھی رائج کرنا چاہتے ہیں۔ عالمی نوعیت کا سرمایہ دارانہ نظام کا کسی انسان دوستی یا آئیڈیالوجی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ آزاد غلاموں کی منڈیوں میں مقامیوں کا استحصال کرنا اور اپنی برتری کو محیط ارض پر پھیلانے کے لیے ہر قسم کے جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرکے ہر اس فکر و آئیڈیالوجی کو کچل دیتے ہیں جو ان کی راہ میں آتے ہیں اور فکری بیانیہ اور اس کا مخاطبہ ممکن نہیں ہوپاتا۔

مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیاتی مباحث روشن خیال پروجکٹ کا نقد ہے:

عارف ڈارلک کا موقف یہ ہے کہ جدیدیت کا پروجکٹ انیسویں صدی کی اس فکری روشن خیالی کے بعد تشکیل پاتا ہے جب اس کے بطن سے آفاقی اخلاقیات، قانون، آزادنہ فنون اور معروضی سائنس کو تشکیل دینے کی سعی کی گئی ہے کیونکہ اس سے یہ امید ہوچلی تھی کہ فن اور سائنس نہ ہی فطرت کی قوتوں کو کنٹرول ہی نہیں کریں گے بلکہ آفاق، ذات، اخلاقی طریقۂ کار، اداروں کے قوانین اور انسانی وجود کے انسباط کی آگہی کو بھی اپنی گرفت میں لاسکے گی۔
لگتا تو ایسا ہے کہ مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیاتی مباحث بذاتِ خود روشن خیال پروجکٹ کا نقد ہے جو کہ عدم تسلسل، تدبیلی اور غیر یقینیت کی راہوں کو مٹانا چاہتی ہیں۔ اس کے مصنوعی پن کا مظاہرہ عموماً ذات کے انعکاس کی صورت میں نمودار ہوتا ہے جیسا کہ ناول نگار، افسانہ نگار تھامس پنچن ، سلمان رشدی، کارلوس فونٹین، مارکیز اور اردو میں جوگندر پال، سریندر پرکاش، احمد ہمیش، الیاس احمد اور آغا گل کے افسانوی متن کا بنیادی مقولہ ہے۔ یہ چلن بیانیہ آرکی ٹیکچر کے انتشار میں شامل ہوجاتے ہیں۔ جس میں کسی زمانی خاکے، منصوبے اور فریم ورک کے وجود کا سراغ نہیں لگایا جاسکتا لیکن لسانیات کے نظام میں یہ رد تشکیل اور تشکیل نو کے مباحث کو ابھار دیتا ہے۔ ایک نقطۂ نظر سے مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیات کو نقطۂ اتصال فراہم کرتا ہے اور بیانیہ اور لسان میں نئی تعبیرات کھولتے ہوئے ہائی ماڈرن ازم کو دریافت کرتا ہے جیسا کہ جیمس جوائس کے Finnegans Wakeمیں نئی زبان و الفاظ کے کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔ جس طرح ناصر کاظمی کے شاعرانہ بیانیے میں نئی لسان و لفظیات اور معنیات کی نئی گرہیں کھلتی ہیں۔ حبیب جالب کی شاعری کابنیادی مخاطبہ اسی نوآبادیات کی باقیات کے خلاف احتجاج اور فکری مزاحمت کا مہابیانیہ ہے جبکہ ن م راشد کے یہاں سامراجی قوتوں کے خلاف آگہی اور اعصابی تناؤ دراصل جدید تر فرد کی وہ بے چینی پائی جاتی ہے۔ جو پس نوآبادیاتی معاشروں کا المناک سانحہ بنا۔ راشد کی شاعری نئی نئی جدیدیت اور مقامی نوآبادیاتی رویوں کا درد بھرا اور حقیقت پسندانہ مخاطبہ ہے اور ہائی ماڈرن ازم کا پردہ چاک بھی کرتی ہیں جس ک پس منظر میں نوآبادیاتی فکر کا بھیانک منظر نامہ ادراک میں آتا ہے۔ یہی آگہی راشد کے شعری بیانیے میں داخل ہوکر نئے نوآبادیاتی رجحان کو ابھارتی ہیں جو کہ مقامیت کے حصار میں تیسری دنیا کے فرد کی اذیت ناک سیاسی، معاشرتی اور آئیڈیا لوجیکل تجزیوں کا قنوطی اور دل خراش تجزیوں کا مشاہدہ ہے۔

نوآبادیاتی شناخت اور باہمی افتراقات کو دریافت کرتی ہیں:

پس نوآبادیاتی دیگر Post-ismsکی طرح نہ ہی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ نہ ہی نوآبادیاتی مطالعوں کا اختتام ہے اور ن ہی یہ اسے منفرد کرتا ہے بلکہ وہ نئی آگاہیوں اور رسائیوں کے تحت نوآبادیاتی تصورات اور اس کے واقعات و مظاہر کو قدرے قریب ترین تناظر فراہم کرتے ہیں۔ جس سے نوآبادیاتی موضوعات کے تاریخی سیاق میں نئی شناخت تشکیل پاتی ہیں۔ اور جو نوآبادیاتی شناخت میں مطالعہ کیے جانے والے ثقافتی، معاشرتی گروہوں کے باہمی افتراقات کو دریافت کرتے ہیں۔ پارتھا چٹرجی (Partha Chaterjee)کے بقول ’قوم اور اس کا انتشار کے وصف نوآبادیاتی پروجکٹ ہیں جو کہ اقتداری اور اقتدار پسندطبقے سے مختلف طبقہ ہوتا ہے۔ یہ اصل میں اعتدال پسند طبقہ ہوتا ہے۔ اور اقتدار پسند طبقے سے مغائرتی فاصلہ رکھے ہوئے ہوتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ متن ان افتراقات سے دھند صاف کرتا ہے۔ جس میں ’دوسروں‘ کو کم تر اور ریڈیکل سطح پر مختلف بتایا جاتا ہے۔

قوت و اقتدار کا شعور پر قابض ہونا

نوآبادیاتی پروجکٹ سیاسی اور معاشی قوتوں کے اس عدم مساوات کو بھی اپنی تعریفات میں شامل کرتا ہے جو ان کے عالمی انسلاکات کے تناظر میں ہوتے ہیں۔ اس طریقۂ کار میں ثقافتی اور مذہبی متعلقات ہی نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی حرکیات اور رجحانات کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے جو کہ آلتھیوسے (Althuseer)کی درجہ بندی کے حوالے سے ریاست کے ادارتی اور جبریاتی آلات (Apparatues)ہوتے ہیں۔
بلاشبہ ہم اس وقت جس صورتِ حال کا مطالعہ کررہے ہیں وہ نوآبادیاتی کو بحیثیت کلیاتی واقعات کے قریبی تناظر میں پرکھنا چاہتی ہے کہ نوآبادیات کی اصطلاح دنیا کو پہلے ہی نوآبادیاتی آقاؤں اور نوآبادیاتی نظام میں کچلے ہوئے لوگوں کے انسلاک کے ماجرے کی صورت میں ادارک میں آچکی ہے جو کہ حاشیائی سطح پر ابھر کر مرکوز ہوجاتی ہے جیسا کہ ایڈورڈ ولیم سعید نےمشرقیت کے حوالے سے یہ اشارہ کیا ہے کہ ’’سامراجی قوتوں کو ایک دوسروں کو خلق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ مشرق کے فکریاتی نظام میں یہ تعریف خود ان کے مرکز میں برپا ہوتی ہے۔ سامراج کی سیاست اس مرکز کے دوسرے قطبین سے بھی خوف زدہ ہوتی ہے جو حاشیاتی سطح پر ایک منصوبے کے تحت ’دوسرے‘ کے طور پر نوآبادیات کے محکوم لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان تمام کا تمام انسلاک ایک مرکز پر ہی محیط ہوتا ہے۔

سیاست اور معاشرت پر ثقافت کا غلبہ:

نگووگی واتھیونگ (Naugi Wathoings)اپنے نظریہ اور فکشن میں نوآبادیات کی اثر پذیری کو ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ سیاسی اور معاشری سیاق کے موضوعات ہی نہیں ہوتے بلکہ اس سے زیادہ ثقافتی نوآبادیاتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر اصرار کرتے ہیں جو کہ نوآبادیات میں بسے ہوئے لوگوں کی مدد سے ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے ارتباط اور یک جہتی کی کوئی صورت نکال لیتے ہیں انھوں نے The Cultural Factor in Neo-coloialeraمیں اپنے اس موقف کااظہار کیا ہے کہ ’’سیاسی اور معاشی کنٹرول پر ثقافت کا غلبہ ہوتا ہے اور یہ آہستہ آہستہ گہرا سے گہرا تر ہوتا چلاجاتا ہے جو کہ تعلیم، ابلاغ، ادب، مذہب، زبان کے تحفظ، حکمتِ عملی اور حرکت پذیری کو کلی طور پر کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ اقتدار اور قوت کا جبری تصور ہے جو کہ رویوں، مطمع نظر، اقدار محسوسات کی صدرت میں مخصوص آئیڈیالوجی پر حاوی ہونا چاہتا ہے اور بعدازاں قوت کی یہ صورتِ حال شعور کے تمام حصّوں پر غلبہ جمالیتی ہے۔ ذاتی پیکروں سے لے کر انفرادی اور اجتماعی سطح پر بھی انھیں محسوس کیا جاتا ہے۔ جس میں حاوی رجحان طبقات اور اسکی تمثالوں کو ثقافتی اور نفسیاتی سطح پر کنٹرول کرتے ہیں اور جبری تصورات اور طبقاتاس بات کی کوش کرتے ہیں کہ ’غلامی‘ کے طوق کو وہ عام سی انسانی صورتِ حال کے طور پر رائج کردیں۔
ثقافتی نوآبادیات کی منصوبہ بندی نو (Neo)نوآبادیاتی اصطلاح اور معنویت کو نئی طور پر روشناس کرواتے ہوئے وہ اشرافیائی طبقے کے معاشی ہدوف کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جو کہ سابقہ نوآبادیاتی نظام کی اساس ہوتی ہے۔ ثقافتی نوآبادیات سابقہ نوآبادیات میں فلم، ریڈیو، ٹیلی وژن، انٹرنیٹ، فیشن اور شو بزنس کے افقی التباس کو رواج دے کر سابقہ نوآبادیات میں بسنے والے عوام کو فکری جمود کے حصار میں مقید کردیتے ہیں۔

پس نوآبادیاتی ادب، سامراجی قوتوں کی ساخت سے برآمد ہوتا ہے

جب پس نوآبادیاتی نظام میں تعلیمی نظام اور زماں ثقافتی پیداوار کا روپ دہار لیتی ہے تو اس کے نتیجے میں پس نوآبادیاتی ادب ابھرتا ہے۔ ’’پس نوآبادیاتی ادب یورپی رزمیہ اور بیانیہ سے ہوتی ہوئی یورپی بورژوا ناول کی بنیادوں پر تناسب کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ جو بہت ہی عمیق طریقے سے تاریخی اور ثقافتی امتیازات کو بڑی صفائی سے مٹا کر پس نوآبادیاتی افتراق کو ابھارتے ہیں اور اس ردعمل کے طور پر غیر فطری پس نوآبادیات ابھرتی ہے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہی اپنا گلاخود ہی گھونٹ دیتی ہے اور اپنے اختلافات اور اپنی ڈاڑاروں کو خود ہی منظرِ عام پرلاتی ہے…..!‘‘
(’’پس نوآبادیات کیا ہے؟‘‘ از مشرا وارہیجن) لیکن اب نئے محیط ارض کا عالمی منصوبہ نئی نوآبادیات کی تشکیل بندی کرکے ثقافت اور ادب کو نئے رنگ میں پیش کرتے ہوئے تیسری دنیا کے عوام کا آبادی کی منصوبہ بندی سے لے کر مذہبی درس گاہوں پر نقب لگانے سے بھی باز نہیں رہتا اور یوں نوآبادیات کا نیا بیانیہ بھی تجربے میں آتا ہے اور اس کے بیانیے کو اس کے ذرائع ابلاغ اعلا قسم کا بیانیہ اور طاقت ور مخاطبہ قرار دے کر عالمی سطح پر اس کی رونمائی کی جاتی ہے۔
پس نوآبادیاتی صورتِ حال دراصل نوآبادیات کے معاشرتی سیاسی، معاشی اور ثقافتی ردعمل کے مزاحمت اور احتجاج کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ مشرا او ر ہیچن کا موقف ہے کہ پس نوآبادیاتی ادب سامراجی قوتوں کی ساخت میں سے برآمد ہوتے ہیں جو اس کے ترتیب وار طریقۂ کار کے ثقافتی غلبے سے تشکیل پاتے ہیں اور اس مقام پر پس نوآبادیات کی نبضوں کو تلاش کرتے ہیں جن کے بطن میں نوآبادیاتی مخاطبہ چھپا ہوتا ہے اور پس نوآبادیاتی ثقافتی رویوں کے مثبت اور منفی نتائج سے پیشگی طور پر آگاہ بھی ہوتا ہے اور اپنی ثقافت کو مقفل کردیتا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتا کہ کسی طور پر بھی نوآبادیاتی ادب اور ثقافت کی تشریح اور ترجمہ ان کی زبانوں میں ہو اور یہ بھی چاہتا ہے کہ یورپی مطالعے اور قرات کو لا مرکز کرکے اس کو نوآبادیاتی متن کے حصوں میں شامل کردے جس میں مسخ چہروں والے نام اور بے شناخت لوگوں اور ان کی آئیڈیالوجی کو پیش کرتے ہیں۔ یہ قوت اور حاوی اقتدار کا حصہ ہوتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ قوت کے اس انسلاک کو موثر طور پر پھیلا جائے۔ نوآبادیات سے نوآبادیاتی صورتِ حال پھوٹتی ہے۔ ارتقائی حالت میں وہ نوآبادیاتی نظام سے اختلاف بھی کرتی ہے۔ نوآبادیاتی تناظر میں ادب کے تنقیدی پہلوؤں کو تجزیہ کیا جاتا ہے۔ مغرب کے انسان دوست مابعد بیانیے کی بنیادوں میں کئی مسئلے مسائل ہیں جنھیں نوآبادیاتی رجحانات اور تصورات جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یوں نوآبادیات بذات خود سیاست اور تاریخ کا محرک بن جاتے ہیں اور نوآبادیات کے تنقیدی فریم ورک کے باہر وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتا اور یوں وہ اپنے تناظر کو شناخت کے لیے پس نوآبادیاتی تناظر کا محتاج ہوجاتا ہے۔

عینیت: جواز اور عقلیت کا استحقاق ہے:

مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیات کا جب بھی قریبی طور پر تقابل کرنا مقصود ہو تو ذہن میں جدیدیت بطور پس نوآبادیات کے آتی ہے۔ ان کے انسلاکات دریافت ہوتے ہیں جو کہ نوآبادیات کی کوکھ سے جنم لیتی ہے ۔ اس تعلق سے جدیدیت اور نوآبادیاتی مطالعوں میں پیچیدگی بھی پیدا ہوتی ہے جو بلاشبہ دلچسپ بھی ہے اور کسی طور پر موضوع سے الگ بھی نہیں اور وہ اپنے مطالعوں اور تجزیات کا جواز خود ہی پیش کرتی ہے۔ دونوں ہی روشن خیال بیانے کے مبادزت (Chalenges)کے مسئلے سے دو چار ہیں۔ جدیدیت عرصے سے اپن طو رپر کچھ حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہی تھی۔ بقول لیوتاغ مابعد بیانیے نے مغرب کے انسان دوست افکار کو دوبارہ منفرد کیے ہوئے دیوتا میں تبدیل کردیا۔ اس سلسلے میں اس قسم کے تجزیات ہوئے کہ سرمایہ داریت کے عروج اور مغربی قوتوں کی سامراجی دلچسپی نے جدیدیت کے تصورات کو ابھارتے ہوئے اس کی کلیت میں ارتقا کے عنصر کو بازیافت کرنا چاہا۔ یہ عینی نوعیت کا ارتقائی تصور بہرحال روشن خیال پروجکٹ سے کشید ہوتا ہے اور یہ جواز اور عقلیت کا استحقاق بھی ہے کیونکہ ذہن اور جواز اور ’کنٹرول‘ قسم کی فطرت سے مکمل طو رپر علیحدہ وہتی ہے جو کہ ’اندر‘ اور ’باہر‘ کی جنگ کا سبب بنتی ہے۔ اس کا تمام کا تمام ڈھانچہ منطقی ہئیت اور اس کاخلاصہ موضوعی (Substantive)سیاق میں ہوتا ہے۔ جو کہ موضوعی وجودی کیفیت اور معروضی حقیقت کو بھی احاطہ مشاہدہ میں لاتا ہے۔ جدلیات کی روشن خیالی میں ہورک ہائمر (Hork Heimer)اور اودونو (Adorno)نے لکھا ہے کہ تخلیقی دیوتا کی روح فطرت کے قوانین جیسی ہوتی ہے مینز (Mans)کا کہنا ہے کہ خدا کا اقتدار اعلا دنیا کے اوپر ہوتا ہے اور قیادت ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ مینرز کی اس تعریف میں قوت کی مشق جو کہ موضوع اور معروض کے مابیں ایک قسم کے التباس کے انسلاک کا عندیہ دیتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ اس کو کس طرح بڑے سے بڑا کیا جائے اور یہی ’آقا‘ کا تصور معاشرے کے نظام میں ’آقا‘ اور ’غلام‘ کی حرکیات کے غلبے کا سبب بنتا ہے پھر کلی سطح پر معاشرے میں وہ بذات خود قوت کی علامت ہی نہیں بنتا بلکہ یہ اپنے طور پر اپنے آپ کو مستحکم سے مستحکم تر بناتا رہتا ہے اس بات کو ہورک ہائمر اور ادودنو نے ’ثقافتی صنعت‘ (Cultural Industry)کہا جو کہ اپنی ہی خدمات کو اپنی ہی ذات کی بقا کے لیے ایک مرکز پر لے آتی ہے اور یہ ثقافتی اشیا سامراج کو آفاقی اور فطری غلبے کی شدت کے ساتھ ابھارتی ہے۔ ہورک ہائمر اور ادودنو نے اپنے مطالعوں اور تجزیات میں خارجی نوآبادیات کا تذکرہ نہیں کیا جس کی مدد سے روشن خیالی اور سامراج کے انسلاک کو آگہی میں لایا جاسکے۔ اسی حوالے سے یہ مقامی لوگوں کو ’ترقی‘ کا جھانسہ دے کر مغربی غلبے کا جواز پیش کرتے ہیں، اسی طرح کی صورتِ حال کئی نوآبادیاتی بیانیوں میں نظر آتی ہے۔ خاص طو رپر کانریڈ ( Conrad)کیپلنگ (Kipling)وار ڈینیسن (Dinesen)پال ڈی ایووا (Paul D. Ivo)کے مخاطبے میں مقامی آبادیوں کے لوگوں کی معاشرتی حرکیات اور ماحولیاتی احوال نظر آتا ہے اور لگتا ہے کہ یہ تمام مخاطبے فطرت کی تمثالوں کو تشریح کررہے ہوں۔ لیکن یہ تمام کے تمام بیانیے عمیق قسم کے سیاسی ردعمل میں تبدیل ہوکر کبھی کبھار بشریات کے سوالوں کو اٹھاتے ہیں۔ ان بیانیوں میں ’مقامی‘ (آدمی) فطری سطح پر غیر تہذیبی انسان ہوتا ہے۔ فکر کا یہ تمام کا تمام ڈھانچہ ثنوئی اخلافات کے نظام کو ابھارتا ہے جس سے فرد فطرت سے علیحدہ ہوکر مغائرت کی نئی سطحوں کو بنتے دیکھتا ہے جس میں زیادہ تر صورتِ حال اس قسم کی ثنوئی اختلافات کی ہوتی ہے۔

فطرت؍ ثقافت
دائیں ؍ بائیں
جنگ ؍ امن
دن ؍رات
آقا ؍ غلام
ثواب ؍ گناہ
اچھا ؍ برا
عروج ؍زوال
ہار ؍ جیت
مہذب ؍ جنگلی
زندگی ؍ موت
ملاپ ؍ جدائی
زمین ؍ آسمان
مغرب ؍ مشرق
اندھیرا ؍ اجالا
لڑکا ؍ لڑکی
محبت ؍ نفرت
گرم ؍ سرد
بہادر ؍ بزدل
جھوٹ ؍ سچ
جنت ؍ دوزخ
چاند ؍ سورج
غریب ؍ امیر
جدید ؍ قدیم
اور انھی ثنوئی اختلافات کی مدد سے نوآبادیاتی فکر کو عقلیت کا روپ دے دیا جاتا ہے جو اس وقت سیاسی اور معاشی محرکات سے مالا مال ہوتے ہیں۔ اصل میں مغربی عقلیت اپنے آپ کو تاریک ابتریت (Chaotic)اور فطرتی دنیاؤں میں آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ ان نوعیتوں کی قراتوں میں نوآبادیاتی قاری ادیرداؔ کے رد تشکیل کے افتراق (Differance)کی اصطلاح کو پالیتا ہے۔
مابعد جدیدیت، جدیدیت کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتا۔ بیچن نے اسے Rhetoric of rupureکہا ہے۔جس میں ماضی کی مثنیت کو Remainsجانا گیا ہے اور اس بات کا درس بھی دیا جاتا ہے کہ معاشرتی حقیقتوں کی ساخت مخاطبوں کے بعد تشکیل پاتا ہے اور ہیچن نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ مابعد جدیدیت کا مابعد بیانیہ کی جدیدیت کا انسلاک ایک قسم کا تنقیدی Revisitingاور طنزیاتی مکالمہ ہے جو کہ فن اور معاشرے کے ماضی سے متعلق ہوتا ہے اور اس کمشکش میں بعض دفعہ نئے مظاہر بھی ادراک کا حصہ بنتے ہیں، عموماً مابعدجدیدیت نوآبادیاتی تاریخی متعلقات کو اپنی مباحث سے بے دخل نہیں کرتا۔ بہرحال یہ لازمی نوعیت کا رد نوآبادیات اور پس نوآبادیات کا شناختی پیمانہ ہے جو مابعد جدیدیت کے نظر انداز کیے ہوئے معاشرتی نظریے کی عملیات سے روشن خیالی کی نئی کرنوں کو ابھرتا محسوس کرتا ہے تاکہ نوآبادیات کی قراتِ نو ممکن ہوسکے کیونکہ یہ بیانیے پر حاوی خیال کیا جاتا ہے۔

لبرل انسان دوست بدیعیات، تشکیک سے عبارت ہے:

چٹرجی (Chaterjee)نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ رد نوآبادیات کے شروع کے زمانے میں جس قسم کی ’قومیت‘ کو فروغ حاصل ہوا، وہ پیچیدہ تھا کیونکہ یہ ثقافتی اعتدال پسندی تھی، وہ اس طرح کہ وہ نوآبادیاتی حکومتوں سے اپنی خود مختاری ایک محکوم حالت میں کرتی تھیں جو کہ پس روشن خیال معاشرتی افکار کے آفاقی جواز کے ماخذات سے تشکیل پاتا تھا۔ یہ پس نوآبادیاتی نظریے کے پھلنے پھولنے کے لیے تذبذب کا مقام تھا۔ جو اس بارے میں زور دیتا تھا کہ آزادی کو تسلیم کروانے کے لیے صرف سیاسی اور معاشی خود مختاری پر ہی تکیہ نہیں کیا جاسکتا اور یہ بات بھی صاف ہے کہ نوآبادیات منصوبے اور اس کا مخاطبہ سابقہ نوآبادیات سے ہی ترتیب پاتا ہے۔ بعد ازاں یہ لبرل انسان دوستی کی بدیعیات کے طریقے کار کی تشکیک کی صورت میں ابھرا اور آفاقی مہا بیانیے کو پس نوآبادیات اور مابعد جدیدیت کے پروجکٹ سے جوڑ دیا گیا۔

نئے نوآبادیاتی موضوعات کی لاتشکیلیت اور مزاحمتی ماڈل کی فراہمی:

مابعدجدیدیت کے زیر اثر پس نوآبادیاتی فکر ایک خطرناک اور حساس قسم کا وظیفہ ہے کیونکہ اس سے پس نوآبادیات ایک دوسرے سامراجی پروجکٹ میں داخل ہوجاتی ہے۔ جب بھی پس نوآبادیات کو مابعدجدیدیت کی اصطلاح میں رکھ کر مطالعہ کیا جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اس نے مابعدجدیدیت کے بطن سے جنم لیا ہے اور پس نوآبادیات کے سیاسی اور تاریخی جہتیں بھی وہیں سے پھوٹتی ہیں حالانکہ یہ اس کا نوآبادیاتی فکر کے تناظر کا کلیدی نکتہ ہوتا ہے۔
مشرا اور بیچن نے اس سلسلے میں (۱) نسل (۲) زمان اور (۳) سیاسی کشمکش کا ایک دوسرے سے فرق واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان تینوں تصورات کو پس نوآبادیات کے کسی بھی نظریے میں جوڑا جاسکتا ہے۔ اگر پس نوآبادیات کے نظریے اور اس کی عملیات کو اگر غیر موثر بنادیا جائے تو روشن خیال پروجکٹ اس کو عقلی بنادیتا ہے۔ وہ نوآبادیاتی موضوعات کو خلق کرنے کے علاوہ موضوع کی صورتِ حال اور اس کے موضوعات کی ہیئت بندی کرنے کے لیے سوالات اٹھاتا ہے جو بعد میں رد نوآبادیات کے منصوبے کا لازمی حصّہ بن جاتا ہے اور اس سے رد نوآبادیاتی پروجکٹ میں کئی عنوانات کی توسیع ممکن ہوپاتی ہے۔
بہت سے پس نوآبادیاتی لکھنے والے نوآبادیاتی یا نئے نوآبادیاتی موضوعات کو لاتشکیل کرکے قوت کی ساخت کو نوآبادیاتی موضوع سے Intertellateکرتے ہیں۔ یہ موضوعات کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں اور کسی طو رپر د تشکیل کا وظیفہ بھی قرار پاتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ اقتصادی اور ثقافتی سامراجیت کے درمیاں پیچیدگیاں کھڑی کردیتے ہیں تاکہ مزاحمت کے ماڈل اور نظریات مہیا کیے جائیں۔

مزاحمتی مابعد جدیدیت اور معاشرتی کشمکش سے معنی کا پیدا ہونا:

بیچن کے بقول مابعدجدیدیت بنیادی طور پر متنازعہ ہے کیونکہ یہ سیاسی اور تاریخی متعلقات کو الجھا دیتی ہے۔ ٹریسا ایبرٹ (Teresa Ebert)اسے مزاحمتی مابعدجدیدیت کہتی ہیں۔ جو کہ لفظ اور دنیا کے مابین ایک تصور ہے۔ اس میں زبان اور معاشرتی حقائق یا مختصر طور پر افتراق میں متن کے نتائج نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی لیکن یہ معاشرتی کشمکش کے لیے کوشش ضرور کرتا ہے۔
زبان رسمی نظام سے معنی حاصل نہیں کرتی لیکن معاشرتی کشمکش سے معنی جنم لیتے ہیں۔ لہذا یہ عیاں ہے کہ ’مزاحمتی مابعد جدید کی اصطلاح دو ’’Postism‘‘کو رسائی عطا کرتے ہوئے زبان کی مادّی کارکردگی میں جبر کے خلاف کشمکش کرنے کے لیے ’علاقہ‘ فراہم کرتی ہے اور یوں معنیاتی خصائص کا خلاصہ مابعدجدیدیت اور نوآبادیات کے مابین شراکت داری کا احساس دلواتا ہے۔ مادّی زبان کی اختراع نوآبادیاتی فرد کے شعور اور سائیکی میں اس سبب داخل کی جاتی ہے کہ وہ جبر کے خلاف مزاحمت کو بھول جائے اور لمحہ گزارنے میں لگ جائے کیونکہ سامراجی نظام نوآبادیاتی فرد پر لمحوں کو بہت بھاری کردیتا ہے تاکہ فرد روئی اور بنیادی ضرورتوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلے اور سامراجی نظام کا دیا ہوا نظریہ زیست اپنالے۔ زندگی سے سمجھوتہ اور معاملہ کرکے خود کو مٹادے تاکہ معاشرتی کشمکش کی فکری معنویت خود ہی دم توڑ دے۔

درخاتمہ:

مابعدجدیدیت کی وساطت سے جب بھی نوآبادیاتی مطالعوں سے متعلقہ موضوعات پر بحث کی جاتی ہے تو ضروری نہیں کہ ہر نوآبادیاتی مظہر کو ہم اس حوالے سے سمجھ پائیں۔ مابعدجدیدیت سے نوآبادیات کا تقابل ایک صحت مندانہ فکری تصّور ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ابھی مابعد جدیدیت اتنی واضح نہیں کہ وہ نوآبادیاتی مطالعوں کو کامل اور مکمل طور پر اپنے ادراک میں لاسکے۔ مابعدجدیدیت، جدیدیت کے دوسرے قطبین پر کھڑی دکھائی دیتی ہے لیکن اس میں کہیں نہ کہیں جدیدیت کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور نوآبادیات، پس نوآبادیات، رد نوآبادیات، نئی نوآبادیات علاقاتی ؍ مقامی نوآبادیات وغیرہ چاہے کوئی بھی مطالعہ ہو وہ جدیدیت اور ہر اس مغربی بازگشتوں اور اس کے ثقافتی مطالعوں سے دور رہتا ہے جس میں دوسری جنگ عظیم سے پہلے والا ’سامراج‘ اور دوسری جنگ عظیم کے بعد والے ’نوآبادیات‘ مظاہر کا جبر دکھائی دیتا ہے۔
مابعدجدیدیت کی بحث عرصے سے ہونے کے باوجود بھی اس کی بہت سی باتیں انسانی فہم میں نہیں آرہی کیونکہ ان کی تفہیم اور تشریح گرمگو ہے۔ مابعدجدیدیت کے حوالے سے جب بھی نوآبادیاتی بحث ہوتی ہے تو مابعدجدیدیت نوآبادیوں مطالعوں پر جبری طور پر غالب ہوجاتی ہے کیونکہ مابعدجدیدیت میں ’مغربی سائیکی‘ چھپی ہوتی ہے جس کا تناسب کچھ زیادہ ہی ہے۔ جب بھی نوآبادیاتی مطالعے کیے جائیں تو ضروری ہے کہ علاقائی ؍ مقامی مابعدجدیدیت کے فکر احوال اور حوالوں کے ساتھ اسے گرفتِ بحث میں لایا جائے۔ اگر ’مغربی‘ مابعدجدیدیت کے مجرد تصورات کا جوں کا توں لے کر اور اس کی مخفی رجعت پسندی کے منفی رجحان اور مخصوص سائیکی کی تہذیبی نامیات کو آگہی میں لائے بغیر نوآبادیاتی مطالعہ کیا جائے تو یہ ریت کے محل کی طرح پل بھر میں ڈھیر ہوجاتا ہے۔ نوآبادیاتی مطالعے بنیادی طو رپر ’مغربیت‘ کی اس سامراجی قوتوں کے خلاف کھلا احتجاج اور مزاحمت ہی نہیں بلکہ ماضی میں مغرب کی ان سامراجی قوتوں نے ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کے خطوں میں جو گل کھلائے ان زخموں کا دور اور سفّاکی نوآبادیات میں بسنے والا فرد اب بھی اپنے جسموں پر محسوس کرسکتا ہے۔ نوآبادیاتی چنگل سے آزاد ہوجانے کے بعد نوآبادیاتی باقیات اور اس کا استحصالی نظام اب بھی ان سابقہ نوآبادیاتوں میں اپنے مقامی مہروں کی معاونت سے قائم ہے۔ آدھی صدی سے زائد گمرجانے کے بعد بھی نوآبادیاتی باقیات کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا کیونکہ مغرب کی جدیدیت اور مابعدجدیدیت کے فکری سیاق وسباق کا حاوی غلبہ نوآبادیاتی مطالعوں میں تشکیک، ایہام کو ابھار کر نوآبادیاتی فرد کو فکری سطح پر الجھا کر اس کا میٹھی چھری سے قتلِ عام کرتا ہے ان کی آگے پڑھنے اور ترقی کی جتنی بھی کوشش ہوتی دکھائی دیتی ہیں وہ اصل میں ’مغربیت‘ کے تصورات اور عزائم کا سانحہ ہوتی ہیں اس منفی فکر اور عملی حرکیات نے وہ گل کھلائے اور کھلا رہی ہے۔ جس میں آزاد فکر اور آزاد فرد کا تصور مفقود ہے جبکہ ’آزاد غلاموں‘ کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مابعدجدیدیت میں معاشرتی معاشی اور تمدنی اختتاصیت کو کمال ہوشیار سے ایک دوسرے میں مدغم کرکے نئے مخاطبے کو تشکیل دے دیا جاتا ہے اور نوآبادیاتی تاریخ کو غیر اہم گردان کر اس کو سرمایہ دارانہ سامراجیت کو نوآبادیاتی فکر سے مصنوعی انسلاک کی کوشش بھی کی جاتی ہے، اور حقیقی تاریخی حرکیات کو وہ بنادیا جاتا ہے جو حقیقت میں سچی نہیں ہوتیں، اس میں بصریت کا خلا بھی ہوتا ہے اور جب یہ فکری ’نمونے‘ نوآبادیاتی خطوں میں برآمد کیے جاتے ہیں تو وہ ترسیل کی تشکیک کا شکار ہوکر خود ہی غیر موثر ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ مابعدجدیدیت اور نوآبادیاتی مطالعوں کی قرأت کی منہاجیات ایک دوسرے سے مختلف اندام کی ہوتی ہے اس کا بیانیہ، جمالیاتی مخاطبہ کچھ ایسے قیاسات کو بھی جنم دیتا ہے جو فکری متغیرات کی صورت میں ایک دوسروں کو مسترد بھی کردیتے ہیں کیونکہ ان دونوں مطالعوں میں تاریخ اور ثقافتی راہیں اور رسائیاں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔
نوآبادیاتی فکر میں فرعد اور گروہ قابلِ تقسیم ہوتے ہیں۔ انھیں با آسانی تقسیم کیا جاسکتا ہے اور ان کو بانٹ کر ان کے حقوق کو غصب کرلیا جاتا ہے اور ان کو ان کی ہی سرزمین پر دوسرے درجے کا شہری بنادیا جاتا ہے یوں سامراجی نظام بڑی ہوشیاری سے اکثریت پر غلبہ جمالیتا ہے۔ استغراب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ مغرب کی اجتہادی تحریک نے کلیسا کو چیلنج کیا اور نشاۃ ثانیہ نے مغرب کے فرد کو آفاقی مرکزیت عطا کی، انساں دوستی کے تصور، سائنسی، تجربی اور عملیاتی ترقی نے ادعائیت اور تنگ نظری کو مسترد کرتے ہوئے کشادہ دل کا جھانسہ دیا۔ جبکہ مغرب کی یہی روشن خیالی ایشا، افریقا اور لاطینی امریکا کی قوموں کو عیارانہ طور پر اپنا غلام بنانے کےلیے ایک عمیق نوعیت کا استحصال اور سامراجی پیمانہ ثابت ہوا۔ ان کی فکری معنیت نے سامراج کے شکنجے کو نوآبادیاتی علاقوں میں گہرا سے گہرا تر کردیا۔ جدیدیت نے نوآبادیاتی تسلط میں آئے ہوئے علاقوں میں فرد کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے بکھیردیا۔ اصغری (Micro)اور اکبری (Macro)نامیات کو بڑی ہوشیاری سے تہس نہس کیا گیا اور احساس دلوایا کہ سامراجی حکمران ہی تاریخ بناتے ہیں اور تاریخ لکھتے ہیں، اس کے موئف بھی وہی ہوتے ہیں۔ اصل میں ثقافتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی جبر کا تسلسل ہی تاریخ کو رقم کرتا ہے۔ تاریخ اجتماعی جبر سے عبارت ہوتی ہے۔ مابعدجدیدیت کا مغربی تناظر اپنی تاریخ کو بناتا ہے۔ تاریخ گری کے بعد وہ دوسروں کی تاریخ کو بڑی ہوشیاری و صفائی سے بگاڑ بھی دیتا ہے اور نوآبادیاتی فکر کو ابہام، تشکیک، عدم شناخت اور ادھورے پن میں مبتلا کرکے اس کے نامکمل ہونے کا جواز پیش کرتا ہے۔ مابعدجدیدیت ہزار واحدنی نظریے کی نفی کرے لیکن جب بھی وہ نوآبادیاتی مطالعوں میں اپنا نفوذ کرتی ہے تو وہ، وہ نہیں رہتا جس کا وہ عموماً اعادہ کرتا ہے۔ وہ ادبی مخاطبے کو بھی بیاں کرتی ہے لیکن ثقافتی مخاطبے کے سلسلے میں ان کا ذہن صاف نہیں ہوتا۔ یہی سبب ہے کہ نوآبادیاتی مطالعے اور اس کی فکری جہتیں سب کے سب چشم زن میں مسمار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرد کا احزان اس میں ہے نہ کسی ثقافتی جہت کا بھرپور اخصار مابعد جدیدیت کے متعلقہ احقاق مکیں نمو پذیر ہوتا ہے۔ مابعدجدیدیت بعض دفعہ نویساریت پسندوں کے تصورات سے نوآبادیاتی مطالعوں کی تفہیم کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ مابعدجدیدیت نویساریت پسندوں کے احصار میں رہ کر اپنی نوآبادیاتی آگہی کو انشراح کے تفہیمی نظام میں تبدیل کردیتے ہیں اور ان باتوں سے اغماض برتے ہیں جو کہ ان کے فکری وار ذہنی نظام کے ادراک میں شامل نہیں اور مابعد جدیددیت کے فکری اہمال نوآبادیاتی مطاعلوں میں جب بھی نفوذ کرتے ہیں تو اس میں مغربی سامراج کی ایالت بھر کر نوآبادیاتی نوآبادیات تصورات کو مدھم کرنا چاہتی ہے۔ مابعدجدیدیت کا سامراجی نظام نئی مغربیت کے روپ میں اپنی نمو چاہتا ہے جو فکرکا ایک ایسا تاریخی جبر ہے جس میں انخفاف بہت ہے اور نوآبادیاتی نظریاتی مطالعوں میں منازعت کا باعث بھی بنتا ہے۔ مابعدجدیدیت اور نوآبادیاتی اپنے مزاج میں ایک دوسرے کی ضد ہرگز نہیں مگر ان کے فکری افتراقات بہت وسیع اور عمیق ہیں۔ کوئی مطالعاتی اور تنقیدی ماڈل کو ہم سرے سے مسترد نہیں کرسکتے۔ موضوعیت ہو یا معروضیت یا اس کی تکنیکی مباحث، یہ سب ادبی نظریوں کے لیے ضروری ہیں۔ نظریاتی ماڈل ہیئتی ہوتا ہے یا نظریاتی، جس میں جبریاتی عنصر حاوی ہوتا ہے۔ تمام مطالعے قرأت سے ابتدا کرتے ہیں پھر تفہیم، تمدنی حرکیات اور تاریخی جبر کا تناظر فکرِ آگہی کو نئی راہوں سے متارف کرواتے ہیں اور فرد کی فکر کو سیراب کرتے ہیں۔

مابعدجدیدیت اور پس نوآبادیاتی مطالعوں کے لیے مناجیاتی اور فکری سفارشات:
(۱) موضوع کی لامرکزیت اور تاریخانہ
lنسل، طبقہ اور جنسی گروہوں کی موضوعاتی صورتِ حال
lفطرت کے موضوعات کی تشکیل پر زور دینا
lمابعدجدیدیت کو انسان دوست نظریے کے طور پر تشریح و تعریف
lمابعدجدیدیت کو بطور سامراجیت کے نظریے کے طور پر تشریح و تعریف
lتقابلی موضوعات کو مرکوز نکتے پر لاکر یکساں نوعیت کے عمومی سوالات کی گرہیں کھولنا۔
مرکزیت کبھی بھی متن کو مکمل طور پر گرفت میں نہیں لے پاتا اور رد تشکیلیت کے تناظر میں حاشیائی اور سابقہ مرکزیت اپنے آپ کو تسلیم کروانے کے لیے اپنی ہی ثقافت کو بے شناخت بنادیتی ہے، جس کاقیاس کیا جاسکتا ہے۔

(۲) متنی حکمت عملیوں کو حاوی مخاطبے کو تہس نہس کرنے کے لیے منظرِ عام پر لانا:
lسامراج کی نشاہندی کرنا اور عام بدیعیاتی حکمت عملیوں کو حاضر مخاطبے کو مقابلے کے لیے زمانی اور مکانی سطح پر پیش کرنا
lمتن کے ساتھ معاملہ : قبل نوآبادیاتی متن کا زبانی اور تحریری انسلاک (کہانی گو؍ واقعہ گو کو بطور راوی جاننا – اسطور کا استعمال ) جادوئی حقیقت پسندی (عقلیت کے بنے بنائے تناظر کے رویوں سے مبارزت)
lلسانی نظام کے افتراق کو نمایاں کرنا
lکھلے بیانیے
lتصمین:  تنقیدی فاضلوں کو دہرورانا، جب یکسانیت کو قلب میں طنزیہ افتراقات کا رمز بنتے ہیں اور ثقافتی تبدیلی کے تسلسل کو قائم رکھتے ہیں۔
lبیانیہ تناظر کو ناپیدار کرنا

(۳) متن کے اندر رد تشکیلیت کی حرکیت:
lبطور ایک سیاسی ایجنڈے کے کھلے اور مہابیانیے کو لاتشکیل کرنا اور کردار بندی کے باہر رہ کر انسانی تجربے کی تدوین کرنا جو مثبت ردتشکیل میں مغربی فلسفے سے متعلق ہوتی ہے۔
lمنطقی مبادزت کی منطقی درجہ بندی کو اختلافات کے ساتھ تشریح و تفہیم کرنا جس طرح اسپیوک کا کہنا ہے کہ ’ردتشکیل مغربی تاریخی بیانیے کے تصور سے بنیادپاتا ہے۔‘
lمہابیانیے کو نوآبادیاتی مرکز سے توڑ کر علیحدہ کردینا، اس کی کھوج کرنا اور ان کے متعلق منطقی درجہ بندی کے حوالے سے سوچ و بچار کرنا جو ہم خود سے بھی مغائرت کیے ہوئے ہو۔

(۴) ادبی روایت اور مکمل متن کا تساولی انسلاک:
lہمیشہ حاوی مخاطبے کو مدنظر رکھے جانا
lادبی ماضی کے تنقیدی تناظر کو مدِّنظر رکھنا

(۵) تاریخی یقینیت کے سوالات:
lتاریخی بیانیے کی تشکیلی فطرت پر زور دینا
lگم شدہ مہابیانیے کو دریافت کرنے کےلیے اسے نوآبادیاتی بیانیے سے الگ رکھنا (یہ مسئلہ نسوانی اور گے اور لزبن متن میں مشاہدہ کیا جاتا ہے)
lانسانی تاریخ کو بطور اجتماعیت جاننا، لیکن جس کے تجربات انفرادی ہوتے ہیں اور انسان دوستی اور آفاقیت سے اختلاف کرتے ہیں۔
lمتبادل ، نظرثانی، تاریخ کا جغرافیائی ردعمل

(۶) حقیقت پسندی پر نقد:
lدوسری قوموں پر غلبہ حاصل کرنے کے سوالات اور اس کے تشریح و بیاں کے لیے حقیقت پسندانہ تناظر کی ضرورت۔ اس صورتِ حال میں ’اصل‘ کو دوبارہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جو پہلے ہوچکا ہے ، وہی سامنے لایا جائے۔

(۷) آفاقیت اور لازمیت کو مسترد کیے جانا:
lمرکز کے مرکزی مخاطبے کے سوالات
lمغربی افکار اور اس کے تاریخانہ کے بنیادی سوالات
lعمومی اور مقامی مظاہر کا مرکوز مطالعہ
lغیر یقینیت اور تبدیلی کی خواہش کو تسلیم کیا جانا
lاختلافات

(۸) ذیلی نوآبادیات کا مطالعہ:
lسابقہ نوآبادیاتی خطوں میں پائے جانے والے متن اور مخاطبوں میں ذیلی نوآبادیات کا سراغ
lنوآبادیاتی نظام سے نجات حاصل کیے ہوئے ممالک میں بڑے لسانی، معاشی، مذہبی یا سیاسی گروہوں کے چھوٹے گروہوں کے استحصال سے آگہی۔
lسابقہ نوآبادیاتی علاقوں میں ذیلی نوآبادیات کی حرکیات، جبر اور مزاحمتی احتجاج کا نیا بیانیہ اور اس کا کھوج لگانا۔
lسابقہ نوآبادیات میں نئی نوآبادیات (نوآبادیات کی باقیات) کی آگہی و تشریح
lذیلی نوآبادیات میں پائے جانے والے ذیلی گروہوں کا آپسی نظریاتی تصادم- تصادم کی یہ صورتِ حال سیاسی، انسانی حقوق، مذہبی آزادی، لسانی، معاشی اور ثقافتی مسائل کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔
lعسکری اور دفتر شاہانہ طبقے کا نوآبادیاتی نظام کی باقیات سے جڑا رہنا
lذیلی نوآبادیات میں جاگیردارانہ نظام کا برقرار رہنا

Works Cited

Abrams, M. H. A. Dictionary of Literary Terms: Seventh Edition, USA, : Harcourt Brace, 1999.
Adam, Ian, (Ed) “Past the Last Post” Areil: A Review of English Literature, Vol 4, No.4, Oct – 1989.
Ashcroft B., Griffiths G. and Tiffin H. “Key Concepts in Post-colonial Studies”. New York: Routledge. 1998.
Brodber, Erna. “Fiction in the Scientific Procedure.” (Essay)
Brodber, Erna. Jane and Louisa Will soon come home. London: New Beacon Books. 1980.
Deane, Seamus. Introduction to James Joyce’s “Finnegan’s Wake”. Penguin, 1992.
Dirlik, Arif. “Borderlands Radicalism” in After the Revolution: Waking to Global Capitalism. Hanover. Wesleyan UP, 1994
Hutcheon, Linda. “Postmodernism” in Encyclopedia of Contemporary Literary Theory. Ed Irena R. Makaryk. Toronto: University of Toronto Press, 1993.
Hutcheon, Linda. A Poetics of Postmodernism: History, Theory, Fiction. New York: Routledge, 1988.
Robinson, Dave. Nietzsche and Postmodernism. New York: Totem, 1999.
Rushdie, Salman. Imaginary Homelands: Essays and Criticism, 1981-1991. New York: Viking, 1991
Said, Edward. Culture and Imperialism. New York: Random House, 1993.
Selden, Raman and Widdowson, Peter. A Reader’s Guide to Contemporary Literary Theory (Third Edition). Kentucky, USA: University Press of Kentucky, 1993
ll