Surandar Parkash ke Afsane by Dr. Nisar Ahmad

Articles

سریندر پرکاش کے افسانے

ڈاکٹر نثار احمد

۱۹۶۰ کے آس پاس اردو میں علامتی و تجریدی افسانے کا چلن عام ہوا۔ یہ اتنا حاوی رجحان تھا کہ کم و بیش اردو کا ہر قابلِ ذکر افسانہ نگار ادب میں اپنے وجود کی بقا کے لیے علامت و تجرید کا سہارا لینے پر مجبور ہوا۔ افسانوں میں تجرید پیدا کرنے کے لیے کہانی کے بنیادی صنفی عناصر یعنی پلاٹ ، کردار، واقعہ اور فضا کی ناگزیریت سے انکار کیا گیا اور منجھی ہوئی مانوس اور مربوط زبان کے بجائے نسبتاً ناہموار اور کھردری زبان کے ذریعے پر اسرار فضا کی تخلیق کی سعی کی گئی۔ اس کے جواز کے لیے کہا گیا کہ چونکہ افسانے میں فرد کے باطنی انتشار کی ترجمانی کی جارہی ہے اس لیے اس میں منطقی ربط کے بجائے بے ربط اظہار ضروری ہے۔ کہانی میں علامتی اظہار کے لیے داستان ، حکایت، دیومالا، بودھ جاتک ، یونانی دیومالا اور آسمانی صحائف سے جردار اور واقعات مستعار لیے گئے اور انھیں جدید زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے علامت کی تخلیق میں مدد لی گئی۔ بعض افسانہ نگاروں نے ذاتی علامتیں بھی وضع کیں۔ ان افسانوں میں جدید معاشرے کے ذہنی مسائل مثلاً تنہائی کا احساس ، عدم تحفظ کا کرب، بے سمتی و بے معنویت ، بے چہرگی کا احساس، اخلاقی و روحانی زوال، رشتوں کی بے معنویت، تشکیک اور فطرت سے ہجرت وغیرہ جیسے موضوعات کو پیش کیا گیا۔ اگر سیاسی جبر اور معاشی ناہمواری کو دکھایا گیا تو افسانہ نگار کی پوری توجہ اس کے انسانی باطن پر پڑنے والے اثرات پر رہی۔ اس طرح کے جدید افسانے لکھنے والوں میں ایک منفرد نام سریندر پرکاش کا ہے۔
سریندر پرکاش کے تین افسانوی مجموعے ’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘ (۱۹۶۸)، ’برف پر مکالمہ‘ (۱۹۸۱ء) اور ’بازگوئی‘ (۱۹۸۸) منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ ان کے علاوہ درجن بھر افسانے مختلف رسائل کی زینت بن چکے ہیں۔ سریندر پرکاش جدید افسانہ نگاروں میں اس اعتبار سے منفرد و ممتاز ہیں کہ انھیں اپنے میڈیم پر فنکارانہ دسترس حاصل ہے۔ وہ الفاظ کو روایتی تلازمات سے آزاد کرکے استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جدید انسان کی ذہنی و جذباتی کیفیات کی ایسی تصویر سامنے آتی ہے جو دوسروں سے نمایاں طور پر منفرد ہوتی ہے ۔ وہ تجرید اور اسطور دونوں کو فنکارانہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ قدیم ہندو دیومالائی اساطیر اور اسلامی اساطیر سے کام لیتے ہیں اور خود اساطیر خلق بھی کرتے ہیں اور ان کے پرسے میں صنعتی دور کے تھکے ہوئے اور ستائے ہوئے انسان کے روحانی کھوکھلے پن ، ذہنی پراگندگی، رشتوں کی شکست و ریخت، اقدار کی پامالی، رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر نفاق اور تشدد نیز سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے نتیجے میں انسانی ذہن پر پڑنے والے اثرات کی عکاسی فنکارانہ انداز میں کرتے ہیں۔ ان کے یہاں موضوع سے زیادہ اس کی پیشکش پر زور ملتا ہے اور وہ موضوع کی پیشکش کے لیے مختلف فنی تدابیر اختیار کرتے ہیں جس کے سبب ان کی کہانیاں ایک دوسرے کی فوٹو اسٹیٹ کاپی نہیں معلوم ہوتیں جیسا کہ بعض جدید افسانہ نگاروں کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں ایک پراسرار ، خوابناک، مبہم اور انجانی دنیا خلق کرتے ہیں جن میں کردار پرچھائیں نما معلوم ہوتے ہیں۔ ان کرداروں کی شناخت ان کے ظاہری اعمال اور ان کے ناموں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی باطنی صورتِ حال سے ہوتی ہے۔ یہ کردار اپنے ظاہر میں نہیں بلکہ اپنے باطن میں پھیلتے اور سمٹتے ہیں۔ نیم بیداری کی کیفیتوں سے بنے گئے ان افسانوں میں تحیر و استعجاب کے عناصر پائے جاتے ہیں اور ان کے واقعات میں منطقی ربط نہیں ہوتا بلکہ خواب کی دنیا کے واقعات کی طرح ہم ان میں غیر متوقع اور بعید از فہم واقعات سے دوچار ہوتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے سریندر پرکاش کی علامتوں کو خواب کی علامتوں اور افسانوںکی بافت کو انوکھی بے بدنی سے تعبیر کیا ہے۔ فاروقی صاحب سریندر پرکاش کے پہلے افسانوی مجموعے کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
’’یہ افسانے محض بے پلاٹ کے نہیں ہیں۔ اگر پلاٹ نہ ہو لیکن کردار زمان میں حرکت کرتا رہے تو بھی افسانے کو ایک داخلی ربط میسر ہوجاتا ہے۔ ان کہانیوں کے کردار بھی کسی نقطۂ وقت پر ٹھہرے ہوئے اور اس میں گرفتار ہیں۔ اگر وہ حرکت بھی کرتے ہیں تو اپنے ذہنوں کی خلائوں میں۔ اس طرح ان کہانیوں میں ایک انوکھی بے بدنی (Bodylessness) پائی جاتی ہے جو بیک وقت مضطربھی کرتی ہے اور متحیر بھی۔‘‘
سریندر پرکاش کے پہلے مجموعے ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ میں چودہ کہانیاں ہیں۔ ’’رونے کی آواز‘‘ اندورنی اظہار کی کہانی ہے جس میں جگہ جگہ خود کلامی کے ذریعے حزنیہ کیفیت پیدا کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ شعور کی رو کی تکنیک کے ذریعے متضاد خیالات کی لہروں کو افسانہ نگار کی بے جا مداخلت کے بغیر بہنے دیا گیا ہے۔ کہانی کا واحد متکلم ایک وجودی کردار ہے جو جدید معاشرے کے مختلف مسائل سے دوچار ہے۔ اس کا وجود مختلف حصوں میں بٹ گیا ہے۔ وہ بے چہرگی ، تنہائی اور مایوسی کا شکار ہوکر باطنی کرب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ رشتوں کی ناپائیداری فرد کی بے بسی اور خود غرضی دیکھ کر اسے رونا آتا ہے۔ اس طرح رونے کی آواز مرکزی کردار کے ضمیر کی آواز کی علامت ہے۔ کہانی میں وشنو بابا کو پہلے سرسوتی سے پھر لکشمی سے شادی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وشنو بابا دوسری شادی کے بعد سرسوتی کو روتا بلکتا چھوڑ جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سرسوتی علم کی دیوی ہے اور لکشمی دولت کی۔ ان دیومالائی علامتوں کے ذریعے سریندر پرکاش نے جدید معاشرے میں علم سے بے رغبتی اور دولت سے بے پناہ محبت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کہانی کی فضا خوابناک اور پر استعجاب ہے اور زبان میں روانی ہے۔ کہانی کے بنیادی ڈھانچے میں اتنی توڑ پھوڑ نہیں کی گئی ہے کہ کہانی پن مجروح ہوجائے۔
’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ کو عام طور پر سریندر پرکاش کے پہچان کے وسیلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کہانی نہایت پیچیدہ علامتوں کی حامل ہے۔ کہانی میں زرعی معاشرے سے جدید معاشرے کی طرف ہجرت کی داستان بیان کی گئی ہے۔ کہانی کا ایک اقتباس دیکھئے تو بات زیادہ روشن ہوجائے گی:
’’ وادی میں بے ترتیب درخت جابجا پھیلے ہوئے تھے جن کے جسموں کی خوشبو فضا میں گھل مل گئی تھی ۔ نئے راستوں پر چلنے سے دل میں رہ رہ کر امنگ سی پیدا ہوتی۔ سورج مسکراتا ہوا پہاڑ پر سیڑھی در سیڑھی چڑھ رہا تھا۔ میں گرد آلود پگڈنڈیوں کو چھوڑ کر صاف شفاف چکنی سڑکوں پر آگیا۔ پختہ سڑکوں پر صرف میرے پائوں سے جھڑتی ہوئی گرد تھی جو میں پگڈنڈیوں سے لے کر آیا تھا یا پھر میرے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔‘‘
وادی کے بے ترتیب درخت زرعی معاشرے کی علامت ہے جس میں وسعت اور پھیلائو کے علاوہ فطرت سے قربت کا احساس ہوتا ہے۔ گرد آلود پگڈنڈیوں کو چھوڑ کر صاف ستھری چکنی سڑک پر آنا زرعی معاشرے سے جدید معاشرے کی طرف ہجرت ہے۔ پختہ سڑک پر آکر گرد کو جھاڑنا ماضی کے آثار و نقوش سے دستبردار ہونے کا اشاریہ ہے۔ بہر حال پوری کہانی نہایت پیچیدہ ہے اور قاری کے فہم و ادراک کو چیلنج کرنے والی ہے۔ کہانی میں صنعتی معاشرے کی تنہائی ، بے رخے پن اور رشتوں کی ناپائیداری کی طرف بھی بلیغ اشارے کیے گئے ہیں۔
’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘ میں ’بدوشک کی موت‘ نسبتاً کم پیچیدہ ہے۔ اس کہانی میں جنگ کے دہشت نال ماحول میں عام لوگوں کی مسرتوں اور مسکراہٹوں کے چھن جانے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ’بدوشک‘ دراصل ہندی لفظ ’ودوشک‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنی مسخرہ کے ہوتے ہیں۔ بہ ظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بدوشک راوی کا دوست ہے جو مسخرے پن کی حرکتیں کرتا رہتا ہے لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بدوشک کوئی کردار نہیں بلکہ راوی کی بٹی ہوئی شخصیت ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب بدوشک کی موت واقع ہوجاتی ہے تو راوی اور اس کے گھر والے کہتے ہیں وہ ان کی شخصیت کا اٹوٹ انگ تھا اور ان کے ساتھ ۳۵ برسوں سے رہ رہا تھا۔ راوی کی عمر بھی ۳۵ برس کے آس پاس ہے۔ یہ دراصل جنگ کے دہشت ناک ماحول میں مسکراہٹوں اور خوشیوں کے چھن جانے کی علامت ہے۔ کہانی میں جگہ جگہ بارود، ٹینک اور بلیک آئوٹ کا ذکر ہے۔ بدوشک کو اگر کہانی کا ایک کردار بھی تسلیم کرلیا جائے تب بھی کہانی کی علامتی معنویت میں فرق نہیں پڑے گا۔
سریندر پرکاش نے اپنی کہانیوں ’نئے قدموں کی چاپ، پوسٹر، پیاسا سمندر، خشت و گل، رہائی کے بعد، رات روتی ہے، جنگل مہاراج روڈ‘ وغیرہ میں زرعی معاشرے سے ہجرت کرکے صنعتی معاشرے میں آمد اور پھر صنعتی معاشرے کی لعنتوں سے تنگ آکر قدیم تہذیب اور مذہب کی طرف مراجعت کو بڑی فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ’نئے قدموں کی چاپ‘ میں دونوں تہذیبوں کی کشمکش کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ ماضی میں اکتارے پر برہا کے گان کے ذریعے ذہنی سکون حاصل کیا جاتا تھا لیکن جدید معاشرے میں میاں بیوی دونوں روزگار کے سبب مختلف شہروں کی خاک چھانتے ہیں لیکن انھیں کہیں بھی اطمینان اور سکون میسر نہیں آتا۔ اس طرح مادیت کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کے سبب ہر شخص پریشان ہے۔ رشتے ناطے اور بھائی چارہ سب کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ یہاں پر ہابیل اور قابیل کے قرآنی اسطور کے وسیلے سے بھائی چارگی کے خاتمے کو پیش کیا گیا ہے۔ بالآخر اس سارے شکست و ریخت کا حل ماضی میں نظر آتا ہے جہاں مذہبی نظریات اور عقائد اسے ذہنی سکون عطا کرتے ہیں۔ ’پوسٹر‘ میں بھی جدید معاشرتی نظام اور پاپ کلچر کی لعنتوں کو موضوع بنایا گیا ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ مادی آسائش کے حصول کے لیے جائز و ناجائز طریقوں میں امتیاز نہیں رہا۔ شوہر اپنی بیوی کو غیر کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دیکھتا ہے لیکن سوری کہہ کر بغیر کسی ردِّعمل کے وہاں سے ہٹ جاتا ہے۔ پریم ودا جنسی آزادی کے وسیلے سے زندگی کی مسرتوں کو کشید کرنا چاہتی ہے لیکن بالآخر ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب اسے وجودی خلا کا احساس ہوتا ہے۔ اس کی بے قراری ، تنہائی اور خودشکستگی کا مداوا سریندر پرکاش مذہب میں دکھاتے ہیں۔ ’خشت و گل‘ میں بھی قدیم و جدید تہذیبوں کی کشمکش کو دکھایا گیا ہے۔ اس میں قرآن پاک کے حضرتِ نوح کے قصے اور ہندو دیومالا میں منو، برہما، وشنو، مہیش اور گوتم بدھ کے واقعات اور ان سے متعلق تصورات گھلا ملا کر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ اس طرح کا کامیاب تکنیکی تجربی انتظار حسین نے اپنے افسانوں میں کیا ہے۔
مذکورہ کہانیوں میں سریندر پرکاش نے کہانی کے بنیادی صنفی عناصر کو یکسر مسترد نہیں کیا ہے بلکہ کہانی پن اور فضا سازی کے سبب یہ کہانیاں دوسری جدید کہانیوں سے منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ ان کے برخلاف ’نقب زن‘ اور ’تلقارمس‘ خالص تجریدی کہانیاں ہیں۔ اول الذکر افسانے میں مختلف دائروں کے ذریعے تجریدیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور موخر الذکر کہانی اس اعتبار سے بے حد اہم ہے کہ سریندر پرکاش کی پیچیدہ تر کہانیوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اس کہانی کا انگریزی ترجمہ Linda Wentinkنے Indian Literatureکے لیے کیا تھا اور اسے اردو کی نمائندہ تجریدی کہانی قرار دیا تھا۔ بہر حال تلقارمس لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی عبرانی یا لاطینی لفظ ہے۔ خاطر نشان رہے کہ سریندر پرکاش کے بعد کی دو کہانیوں ’بازگوئی‘ اور ’ جمغورۃ الفریم‘ میں تلقارمس ایک کردار کے طور پر بھی سامنے آیا ہے۔ پوری کہانی میں کہیں کوئی وقفہ ،سکتہ یا کوئی دوسری علامت نہیں ہے۔ اس کے ذریعے سریندر پرکاش غالباً یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ جس دور کو یہ کہانی پیش کر رہی ہے اس میں زندگی بھی بغیر رکاوٹ کے ایک ہی رفتار پر چل رہی ہے۔ کہانی کا ایک اقتباس دیکھئے:
’’ستمبر کے مہینے میں آنسو گیس کا استعمال ٹھیک نہیں۔ ان دنوں کسان شہر سے راشن کارڈ کا بیج لینے آیا ہوتا ہے۔ وہ بڑے مہمان نواز قسم کے لوگ تھے۔ انھوں نے انڈوں کی جگہ اپنے بچوں کے سر ابال کر اور روٹیوں کی جگہ عورتوں کے پستان کاٹ کر پیش کردئے۔ مگر آخری وقت جب میں نزع کے عالم میں تھا وہ میرا راشن کارڈ چرانے کی ترکیبیں سوچ رہے تھے۔ انھوں نے اپنے خوانچے اونچی اونچی دیواروں پر لگا رکھے تھے اور نیچے وادی میں جھونپڑیاں جل رہی تھیں۔ جھونپڑیاں جلنے تک گاڑی پلیٹ فارم پر آجاتی ہے اور سب لوگ آگے بڑھ کر اپنی لاش پہچان لیتے ہیں پھر وہ گرم کباب کی ہانک لگاتے کوئی نہ پوچھتا کس عزیز کے گوشت کے کباب ہیں۔‘‘
اس اقتباس میں جملے جوڑ کر معنی بر آمد کیے جاسکتے ہیں لیکن اس میں کہانی پن کی تلاش سعی لاحاصل ہوگی البتہ اس میں کچھ واقعات اور کچھ باتیں شعور کی رو کی تکنیک کے ذریعے یکجا کردیئے گئے ہیں۔ اس کہانی کی نہ کوئی تھیم ہے نہ کوئی پلاٹ اور نہ ہی کوئی کردار۔ اس میں جدید دور کے بے شمار مسائل کو شعور کی رو کی تکنیک کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح یہ اینٹی اسٹوری کی نمایاں مثال ہے۔
مجموعہ ’’ برف پر مکالمہ‘‘ میں گیارہ افسانے ہیں۔ اس مجموعے کے افسانوں میں دیومالائی عناصر کار فرما نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھیں انتظار حسین سے مدد ملی۔ ’بن باس ۸۱‘ میں رامائن کے اسطور سے اور ’گاڑی بھر رسد‘ میں داستانوں سے مدد لی گئی ہے۔ ان کے برخلاف ’جمغورۃ الفریم، جبی ژان‘ اور ’برف پر مکالمہ‘ میں اسطور سازی کا رجحان ملتا ہے۔ اس مجموعے کی ایک اہم کہانی ’گاڑی بھر رسد‘ ہے جس کو عام طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس کہانی کا موضوع حکمراں طبقے کے ذریعے عوام کا استحصال ہے۔ آزادی سے قبل ہندوستان کے عوام انگریزوں کے ظلم و جبر اور استحصال کا شکار تھے۔ آزادی کے بعد انگریزوں کے ظلم و جبر سے نجات پانے پر انھوں نے خوشیاں منائیں لیکن جب آزادی کے بعد اپنے ہی ملک کے حکمرانوں نے ان کا استحصال شروع کردیا تو ان کے توقعات کی شکست ہوگئی۔اس تھیم کی پیشکش کے لیے سریندر پرکاش نے داستانوں سے مدد لی ہے۔ کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ پہاڑوں کے پیچھے سے ایک پر اسرار سواری آتی ہے اور کچھ کھانے پینے کے سامان کے علاوہ ایک خوبرو نوجوان کو لے کر روانہ ہوجاتی ہے۔ یہ عمل برسوں سے جاری ہے۔ یہ ایک اجتماعی آشوب ہے جس سے بستی والوں کو نجات دلانے والا کوئی نہیں۔ اس کہانی میں سریندر پرکاش نے سواری کا تصور داستان سے لیا ہے لیکن اس میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے نیا مفہوم پیدا کیا ہے۔ داستانوں میں ہوتا یوں ہے کہ قریہ والوں کو اس اجتماعی آشوب سے نجات دلانے کے لیے بالاآخر ایک خطر پسند شہزادہ یا سبز پوش بزرگ آتے ہیں اور بستی والوں کو نجات دلاتے ہیں لیکن اس کہانی میں کوئی نجات دہندہ نہیں آتا ہے۔ اس سے سریندر پرکاش یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ آج آدم زاد جس اجتماعی آشوب میں گرفتار ہے اس سے نجات ممکن نہیں، موجودہ نظام حکومت سے بے اطمینانی کے اظہار کے لیے سواری کے اس تصور سے خالدہ حسین نے اپنی نہایت کامیاب اور پر قوت علامتی کہانی ’سواری‘ میں فائدہ اٹھایا ہے۔ خاطر نشان رہے کہ جدید کہانیوں میں نجات دہندہ کے غائب ہوجانے کے نکتے کی طرف پہلی بار ’سواری‘ پر بحث کرتے ہوئے انتظار حسین نے اشارہ کیا ہے۔ بہر کیف کہانی میں سریندر پرکاش نے جہاں گاڑی کی آمد کو بیان کیا ہے وہاں گاڑی اور گاڑی بان کی جزئیات کو اس طرح پیش کیا ہے کہ اس سے نہ صرف پر اسراریت پیدا ہوتی ہے بلکہ خوف و دہشت کی ایک انوکھی اور پر ہول فضا تیار ہوتی ہے۔ کہانی کی نثر نہایت خوبصورت ہے۔
اس کے بر خلاف ’ بن باس ۸۱‘ میں سریندر پرکاش نے اسطور کے ماخذ کے مطابق کتھا کی زبان سے کام لیا ہے جو نہایت دلکش معلوم ہوتی ہے۔ کہانی میں رام کے بن باس کے اسطور سے کام لیا گیا ہے۔ رامائن کے برخلاف اس کہانی میں بھی رام چندر جی چودہ برس کے بن باس کے بعد واپس نہیں آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ رام چندر جی ہندو قوم کے نجات دہندہ تھے۔داستانوں کی طرح اس کہانی کا آغاز بھی پر اسرار انداز سے ہوا ہے۔ کہانی میں جگہ جگہ طنز سے کام لیا گیا ہے۔ اجودھیا میں رام چندر جی کے نہ آنے کے سبب جو تجارتی صورتِ حال ہے وہ ہمارے دور کا آئینہ ہے۔ وٹھل سیٹھ بھیکو کسان کے اناج لوہے کے باٹ سے تول کر خریدتا ہے اور نمک سونے کے باٹ سے تول کر دیتا ہے۔ کہانی کے آخر میں رامائن کے اسطور کو اسلامی اسطور سے ملا دیا گیا ہے۔ غالباً اس کے ذریعے حقیقت کے ایک ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کہانی کی ایک بڑی خوبی اس کی روانی ہے اور اسطور کے ماخذ کے مطابق زبان ہے۔ اس سلسلے میں کہانی کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’مجھے شما کردیجئے پتا جی۔ رام کو ایودھیا واپس لانے میں اسپھل رہا ہوں۔ ان کی ہٹ کے آگے میری ایک نہ چلی۔ وہ آپ کی آگیا اور ماں کی اکچھا کا پالن کرنے پر ووش ہیں اور مجھے ان کی آگیا کا پالن کرنے پر ووش ہونا پڑ رہا ہے۔ راج سنگھاسن پر ششوبھت ہونے کے لیے اپنی کھڑاویں دی ہیں۔ وہ تو بن باس ہی رہیں گے پرنتو مجھے آدیش دیا ہے کہ میں ان کھڑائوں کی سہایتا سے راج کاج چلائوں۔ مجھے آشیرواد دیجئے کہ اس کٹھن پریکشا میں سپھل ہوسکوں۔‘‘
اس کے برخلاف ’جپی ژان ، برف پر مکالمہ‘ اور ’ جمغورۃ الفریم‘ میں اسطور سازی کا رجحان ملتا ہے۔ ’جپی ژان‘ سریندر پرکاش کا نمائندہ افسانہ ہے جس پر اس کی اشاعت سے اب تک بحثیں ہوتی رہی ہیں۔ کہانی کا موضوع جدید معاشرے میں مادیت کے غلبے کے سبب پیدا ہونے والی انجانی ذہنی بے اطمینانی سے نجات حاصل کرنے کے لیے روحانیت کی طرف مراجعت ہے۔ سریندر پرکاش نے ’جپی ژان‘ کو ایک نجات دہندہ روحانی پیشوا کے علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ سریندر پرکاش نے اس کے ایک ہاتھ میں کھتری اور دوسرے میں سنکھ دکھایا ہے۔ کھتری کہیں مہرِ نبوت تو نہیں ؟ اور سنکھ کہیں صورِ اسرافیل تو نہیں؟ جس کو قیامت برپا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ نبی کی حیثیت بشیر اور نذیر دونوں کی ہوتی ہے۔ جپی ژان ایک روحانی پیشوا کی علامت ہے اس خیال کو تقویت اس واقعے سے ملتی ہے جس میں عورتیں جپی ژان کے انتظار میں ایک میدان میں اکٹھا ہیں۔ ظاہر ہے کہ عورتیں زیادہ مذہبی ہوتی ہیں اور معجزات و کرامات پر زیادہ یقین رکھتی ہیں۔ بہر حال کہانی میں جپی ژان کا شدت سے انتظار کیا جارہا ہے لیکن جب اس کو بوسیدہ حالت میں دریافت کرلیا جاتا ہے تو ان کے توقعات کی شکست ہوجاتی ہے۔ کہانی میں جدید دور کے دوسرے مسائل کی طرف بھی اشارے کیے گئے ہیں۔ خوبصورت نثر اور پراسراریت کے سبب کہانی کامیاب ہے۔
’جمغورۃ الفریم‘ میں ہندوستان کے تقسیم در تقسیم کے المیے کو موضوع بنایاگیا ہے۔ جمغورہ غالباً جمہوریت کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ سریندر پرکاش عام طور پر پراسراریت پیدا کرنے کے لیے اس طرح کے حربے اختیار کرتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر جپی ژان اور تلقارمس جیسے ناموں کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔ سریندر پرکاش نے تقسیم کے المیے کو بالکل انوکھے انداز سے برتا ہے۔ ایک کمرہ ہے جس میں ایک کٹی پھٹی لاش پڑی ہے۔ کہیں دور فوارہ چل رہا ہے۔ ایک آدمی سائیکل پر چلا جارہا ہے اور کتا بھونک رہا ہے۔ کتے کو چپ کرانے کے لیے لاش کے کچھ حصے کاٹ کر کتے کے سامنے ڈال دیا جاتا ہے گویا آزادی کے وقت ہندوستان کی حیثیت ایک لاش کی طرح تھی اور اس پر طرہ یہ ہوا کہ کچھ لوگوں نے تقسیم ہند کا مطالبہ شروع کردیا لہٰذا اس لاش کا ایک حصہ کاٹ کر ان کے سامنے ڈال دیا گیا۔ اس طرح تقسیم کے واقعے کو علامتی انداز میں سریندر پرکاش نے پیش کیا ہے۔ کہانی میں داخلی خود کلامی کی تکنیک استعمال کی گئی ہے اور کہانی میں خوف و دہشت کی فضا ہے۔ ’برف پر مکالمہ‘ میں جدید معاشرے کے زوال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ برف در اصل جمود کی علامت ہے اور یہ اخلاقی و روحانی جمود کا اشاریہ ہے۔ کہانی میں اسطور سازی کا عمل ہے۔ اس کے علاوہ ’مردہ آدمی کی تصویر‘ اور ’ ہم صرف جنگل سے گزر رہے تھے‘ میں بھی معاشرے کے زوال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مذکورہ تینوں کہانیاں نہایت پیچیدہ علامتی نظام کی حامل ہیں اس لیے کہانی کی ترسیل میں دشواری ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ اس مجموعہ کی کہانیوں میں خوبصورت نثر، تحیر کا عنصر ، سیاسی و سماجی حوالے اور معمولی چیزوں کو گھما پھرا کر بیان کرنے کے اندازنے ان کو انفرادی رنگ عطا کردیا ہے۔
’بازگوئی‘ سریندر پرکاش کی افسانہ نگاری کے نئے موڑ کا اشاریہ ہے۔ اس مجموعے کی کہانیوں میں فکر کا غلبہ ضرور ہے لیکن اسی کے ساتھ سیاسی و سماجی حوالوں کی کثرت بھی ہے۔ ان افسانوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سریندر رکاش ’تلقارمس‘ جیسے چونکانے والے تجربوں کے جادو سے باہر نکل آئے ہیں۔ اس مجموعے کی کہانیاں نسبتاً آسان ہیں۔ ان کی علامتیں اور تمثیلیں قدرے آسان ، مانوس ، واضح اور غیر مبہم ہیں۔ اس لیے قاری کو بہت جلد اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں حالانکہ ان میں بھی سریندر پرکاش نے انہی فنی چابکدستیوں سے کام لیا جو ان کا امتیاز ہے۔
’بازگوئی‘، بجوکا، خواب صورت، جمغورۃ الفریم دو، جنگل سے کاٹی ہوئی لکڑیاں‘ اور ’ساحل پر لیٹی ہوئی عورت‘ میں اسطور سازی کا رجحان ہے۔ ’بازگوئی‘ سریندر پرکاش کی نمائندہ کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کہانی کی پوری فضا داستانی ہے۔ کرداروں ، جگہوں اور شہروں کے نام کے ذریعے بھی داستانی فضا تیار کرنے میں مدد لی گئی ہے۔ بظاہر کہانی مصر کے کسی قدیم شہر کی معلوم ہوتی ہے لیکن اسے اپنے زمانے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سریندر پرکاش نے کہانی کے درمیان مداخلت کرکے ایمرجنسی کے زمانے کی سیاسی صورتِ حال کا ذکر کیا ہے۔ سریندر پرکاش نے یہ تکنیکی تجربہ کم ہمت اور کم کوش قاری کے لیے کیاہے۔ اگر کہانی کو جگہ جگہ مداخلت کرکے سریندر پرکاش نہ کھولتے تو کہانی غیر معمولی طور طاقتور ہوجاتی۔ بہر کیف کہانی کے وسیلے سے سریندر پرکاش یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اقتدار ایک اندھی قوت ہے جو اس کو کنیز بنانا چاہتا ہے خود اس کا اسیر بن جاتا ہے اور اقتدار پر ہمیشہ قابض رہنے کے لیے حاکم ہر طرح کی گھناونی حرکتیں کرتا ہے۔ مختلف زمانوں اور جگہوں پر یہی عمل دہرایا جاتا رہا ہے۔ لطف کی بات تو ہے کہ حاکم اور مخالف دونوں دستور کی دہائی دیتے ہیں۔ ملکۂ شبروزی اسی اقتدار کی علامت ہے۔ تلقارمس ان باغی کرداروں کا نمائندہ ہے جو اقتدار کی ہوا لگنے کے بعد اپنی ساری بغاوت بھول جاتے ہیں۔ کہانی اپنی بے مثال خوبصورت نثر اور پر اسرار داستانی فضا کے سبب قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ اس طرح کی خوبصورت ، گداز اور نغماتی نثر اور داستانی رنگ و آہنگ ’جمغورۃ الفریم دو‘ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ کہانی وحدتِ آدم کے محور پر گردش کرتی ہے۔ انسان کو وقت اور سیاسی و سماجی صورتِ حال نے مذہب ، رنگ ، نسل اور قبیلہ وغیرہ کے خانوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے جدا کردیا ہے۔ کہانی لمحے بھر خارج میں چلتی ہے پھر داخل میں سفر کرنے لگتی ہے۔ اس کے لیے سریندر پرکاش کرداروں کو خوابناک کیفیت سے دوچار کرکے ایک انہونی اور انجانی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ جہاں ایسے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں جن کا حقیقت کی دنیا میں گزر ممکن نہیں۔ بہر حال کہانی میں ہزاروں سال کی تاریخ بولتی ہے۔ ’ساحل پر لیٹی ہوئی عورت‘ بھی بے مثال داستانی رنگ کی کہانی ہے ۔ کہانی کے سیاسی و سماجی حوالوں کو آسانی سے شناخت کرنا ممکن نہیں ہے۔
سریندر پرکاش اپنی افسانوی روایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے استفادہ کرکے اپنی کہانیوں کو روشن کرتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے بیدی کی کہانی ’بھولا‘ کو بنیادی بناکر ’بھولا کی واپسی‘ کے عنوان سے کہانی لکھی ہے۔ بیدی کی کہانی میں بھولا اپنے ماموں کی تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے لیکن سریندر پرکاش کی کہانی میں دونوں ایک دوسرے کو تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ بھولا کا ماموں دہشت گردوں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ اس طرح انھوں نے اپنی بے حد خوبصورت اور طاقتور کہانی ’بجوکا‘ میں پریم چند کے ہوری کو کردار بنایا ہے۔ پریم چند کا ہوری آزادی سے پہلے کا ہندوستانی کسان تھا لیکن سریندر پرکاش کا ہوری آزادی کے بعد کے ہندوستانی عوام کا نمائندہ ہے اور بجوکا موجودہ جمہوری نظام کی علامت ہے۔ سریندر پرکاش نے اس کہانی کے ذریعے موجودہ طرزِ حکومت سے اپنی بے زاری اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس کہانی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ سریندر پرکاش نے کہانی میں بہت کم مداخلت کی ہے۔
’بازگوئی‘ کے بعد کی کہانیوں میں ’جیلخانی، ترپوسیاں، چیچو کی ملیاں، بالکنی‘ اور ’ایک اور پناہ گزیں‘ میں پاکستان جانے والے مہاجرین کے دکھوں کی داستان سنائی گئی ہے۔ پچاس برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی پاکستانی معاشرہ نے انھیں قبول نہیں کیا ہے اور ان کے ساتھ سیاسی و سماجی اور معاشی اعتبار سے امتیاز برتا جاتا ہے۔ ان کہانیوں میں حزنیہ کیفیت حاوی ہے۔ ان کہانیوں کے کردار ماضی کی یادوں کے اپنے سینے سے لگائے نظر آتے ہیں۔ ان کہانیوں میں سریندر پرکاش خود راوی کی حیثیت سے موجود معلوم ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود مہاجر ہیں۔ ذاتی تجربے نے کہانیوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ سریندر پرکاش کی ان کہانیوں میں مشترکہ تہذیب کے فنا ہونے کا بھی شدید احساس ہے۔
مختصر یہ کہ سریندر پرکاش کا شمار اردو کے ممتاز علامتی افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے یہاں موضوعات ، اسالیب اور تکنیک میں تنوع پایا جاتا ہے۔ زبان و بیان پر غیر معمولی قدرت داستانی فضا کی تعمیر میں چابکدستی ، بظاہر غیر متعلق اور غیر اہم واقعات کو نزاکت و لطافت سے جوڑنے اور تجریدی علامتی رنگ و آہنگ تیار کرنے کی بے پناہ صلاحیت نے ان کے افسانوں کو انفرادیت کا حامل بنا دیا ہے۔

Naat Rang Issue No 25 , Editor: Sabeeh Rahmani

Articles

نعت رنگ (شمارہ ۲۵) مدیر :صبیح رحمانی

صبیح رحمانی

Naatiya Shairi ke Farogh mein Naat Rang ki Khidmaat

Articles

نعتیہ شاعری کے فروغ میں نعت رنگ کی خدمات

حلیمہ سعدیہ منگلوری

Naat Rang ke 25 Shumare by Dr. Shahzad Ahmad

Articles

نعت رنگ کے پچیس شمارے ڈاکٹر شہزاد احمد

ڈاکٹر شہزاد احمد

Unique Verbs Dictionary by Shamsi Mohd. Hydar

Articles

یونک ورب ڈکشنری

شمسی محمد حیدر

MYSTICISM AND SCIENCE by Dr. Rasheed Ashraf Khan

Articles

تصوف اور سائنس

ڈاکٹر رشید اشرف خان

 

زیر مطالعہ عنوان گفتگو یعنی ’’ تصوف اور سائنس‘‘ بظاہر مفکر یگانہ مہد ی افادی کے الفاظ میں ’’ گول چیز میں چوکھنٹی ‘‘ کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔یعنی دو متضاد چیزوں کا یکجا ہونا یا بقول امام الہند مولانا ابولکلام آزادعلمی اصطلاح میں ’’اجتماع النقیضین‘‘ ۔ تصوف کا موضوع خالص روحانیت ہے جب کہ سائنس کا نقطۂ پرکار مادیت ہے۔ اگر ہم اپنے زاویۂ نظر کو عالی ظرفی ، وسیع النظری اور باریک بینی سے اپنی نگاہوں کے سامنے لائیں اور قدرے عمیق نظر سے دیکھیں تو ہم بھی شاید اس عالم طلائی کی خیالی دنیا کا جلوہ دیکھ سکیں گے جس کا نظارہ ایک انگریز شاعر نے اپنی شہرۂ آفاق نظمTHE ELDORADOمیں دکھایا ہے۔ یعنی اس کے تخیل نے ایک ایسا تصوراتی خاکہ پیش کیا ہے جہاں پورا شہر سونے میں نہایا ہوا تھا۔جہاںہر چیز سونے کی تھی۔ اس مثال کی مدد سے ہم نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ تصوف میں روحانیت کے ساتھ ساتھ کسی قدر مادیت بھی ہے اور سائنس خالص مادیت ہی نہیں بلکہ اس میں روحانیت کی آمیزش بھی ہے۔
تصوف کو انگریزی زبان میں Mysticism اور ہندی بھاشا میں رہسواد کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ عربی اور فارسی زبان کا لفظ ہے ۔تصوف کی تاریخ ۱۴۳۶ سال پرانی ہے ۔اس زمانے میں صوفی پیدائشی نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کا فطری رجحان قرآن کریم کو سننے سمجھنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریروں اور سنتوں پر عمل کرنے کے باعث تعلیمات قرآنی میں ڈھل جانے کی وجہ سے ہوجاتا تھا ۔ سیدھی سادی زندگی ، دنیوی معاملات میں میانہ روی ، اقوال و افعال میں شفافیت ، عبادت الٰہی کا شغف ، اوامرونواہی کا احتساب، خوف الٰہی، اور حقوق العباد کا خیال اور جہنم سے نجات کا تصور یہ تمام باتیں ایک سچے صوفی کی پہچان تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات تک بس اتنے ہی اصول تصوف کے تھے۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابۂ کرام ، تابعین اور تبع تابعین تک ایک سچے صوفی کی مندرجہ ٔ بالا شناختیں کم وبیش قائم رہیں مگر افسوس کہ دائم نہ رہ سکیں۔ عشق الٰہی جو ایوان تصوف کا بنیادی پتھر تھا رفتہ رفتہ دنیاداری اور ریاکاری کی نذر ہوگیا۔ علامہ اقبال نے اس ملمع کاری کو اس طرح سے پیش کیا ہے:
رہنے دے جستجو میں ، خیالِ بلند کو
حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو
جس کی بہار تو ہو ، یہ ایسا چمن نہیں
قابل تری نمود کے ، یہ انجمن نہیں
یہ انجمن ہے کُشتۂ نظارۂ مجاز
مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز
ہر دل مئے خیال کی مستی میں چور ہے
کچھ اور آج کل کے کلیموں کا طور ہے
’’تصوف ‘‘ شروع شروع میں صرف ایک طریقۂ کار یا لائحۂ عمل تھا جس میں صرف عبادت وریاضت پر زیادہ زور دیا جاتا تھا اور اس کے احکام ومسائل سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہتے تھے ۔ رفتہ رفتہ ان احکام و مسائل کو مختلف درجات یا مراحل میں تقسیم کیا گیا ۔ ان مراحل کی شرائط کی روشنی میں جو صوفی عمل پیرا ہوتا تھا تواس صوفی کو اصطلاح صوفیہ میں سالک ( بمعنی چلنے والا) طریقے کو (مسلک) راستہ اور مقامات کو منزل مانا جاتا تھا۔ اس ضمن میں خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی فرماتے ہیں:
بہ مَے سجادہ رنگیں کن ، گَرَت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نہ بُوَد ز راہ رسمِ منزلہا
(یعنی اگر پیر مغاں تجھ سے یہ کہے کہ اپنے مصلے کو شراب میں ڈبو کر بھگا دو تو مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے کیوں کہ تو راہ تصوف میں چلنے والا صوفی (سالک ) ہے جومنزلوں کے طور طریقوں سے بے خبر نہیں ہوتا )
جب تصوف عرب سے ہندوستان آیا تو یہاں صوفی مبلغین اسلام کی اچھی خاصی تعداد پیدا ہوگئی ۔جب علوم کی تدوین و کتابت شروع ہوئی اور اہل تصوف نے زہد ورع اور افعال واعمال پر محاسبے کے طور طریقوں پر کتابیں لکھیں جیسا کہ علامہ قشیری نے اپنے رسالہ میں اور شیخ سہر وردی نے اپنی مشہور کتاب ’’عوارف المعارف‘‘ میں لکھا ہے کہ بعض دوسرے اکابر صوفیہ آئے تو علم تصوف ملت اسلامیہ میں ایک مرتب اور مدّون علم کی حیثیت سے سامنے آیا۔
ہندوستان آنے کے بعد تصوف دو خاص حصوں میں بٹ گیا ۔ اسلامی تصوف و غیر اسلامی تصوف ۔ اسلامی تصوف کی بنیاد قرآن کریم ، سنت نبی ، احادیث صحیحہ اور صحابۂ کرام کے اقوال پر تھی جب کہ غیر اسلامی تصوف میں ویدانت اوربھکتی تحریک کے اصول شامل کردیے گئے۔ کرم، یوگ اور مایا کے ہندو نظریات تصوف میں دخیل ہونے کے بعد فلسفہ کی اس شاخ کو وسعت تو بے شک بڑھی اور ہزاروں ہندوؤں نے اسے اپنالیالیکن مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تصوف کے اس روپ کو ناپسند بھی کرتے تھے ۔
صوفیاے کرام اور ان کی سائنسی بصیرت کے ضمن میں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ آج سے صدیوں پہلے سائنسی ایجادات یا علوم سائنس کے طور طریقے نہ تو معلوم تھے اور نہ ان کی طرف کچھ زیادہ توجہ کی گئی تھی لیکن ہم لاشعوری طور پر ان سے واقف بھی تھے اور روزمرہ زندگی میں ان کا استعمال بھی ہوتا تھا ۔ مثال کے طور پر جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ علم العلمان علم الادیان و علم الابدان ، تو اس وقت آپ نے دو سائنسی علوم یعنی علم الٰہیات (Theology)اور علم الابدان (Physical Science)کی خصوصی اہمیت کا اعلان فرمایا تھا ۔ علم الٰہیات کے ذیل میں قرآن کریم مع جملہ علوم القرآن ، علوم الحدیث اور سنن رسول سبھی آجاتے ہیں ۔ اسی طرح علم الابدان، علوم معرفت الانسان (Physiology)علوم حفظان الصحت(Hygiene)بشریات (Anthropology)علم النفس(Psychology)نیز جملہ سماجی علوم(Social Science)اور ماحول کے تعلق سے جانداروں کے توضیحی مطالعہ (Ecology)کا مجموعہ ہے۔
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود شہر علم تھے لہٰذا مذکورہ ٔ بالا علوم سے کما حقہ واقف ہونا آپ کے لیے کوئی نئی بات نہ تھی۔بہر حال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے اور پھر اپنی سنت کے ذریعے مسلمانوں کو مخاطب کرکے وقتاََ فوقتاََ سائنسی علوم سے آشنا کیا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ احادیث کی شکل میں منضبط کر لیے گئے۔
آج دنیا سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہے ۔دنیا کے بڑے بڑے ماہرین فلکیات اور ماہرین طبیعات نے جو جدید انکشافات کیے ہیں ،وہ انکشافات آج سے تقریباََ چودہ سو سال قبل احادیث نبویہ میں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں ۔جس کی دو مثالیں یہاں پیش کرنا غیر ضروری نہ ہوگا۔
حدیث نمبر۱: { عن ابی موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
لاتقوم الساعتہ حتیٰ یکون القرآن عارا ویتقاالزمان}
’’ جب تک قرآن کریم کو باعث عار نہ سمجھا جانے لگے لگا اور زمانہ جلدی جلدی گزرنے اور اس کے گوشے سمٹنے نہ لگیں گے اس وقت تک قیامت برپا نہ ہوگی‘‘
(مجمع الزوائد: حدیث نمبر ۱۲۴۳۷، جلد نمبر ۷ ص ۳۲۴)
مذکورہ حدیث کے عربی متن میںلفظ ’’ تقارب‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں دو چیزوں کا قریب ہونا۔اس میں جہاں ایک طرف زمانے کی اضافی حیثیت یعنی(Relative)کی طرف اشارہ ملتا ہے تو دوسری طرف یہ اشارہ بھی ہے کہ زمانۂ قدیم میں جن کاموں میں لمبے عرصے گزرجاتے تھے وہی کام مستقبل میں نہایت کم عرصے میں انجام دیے جانے لگیں گے،جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ آج سائنس اور ٹکنالوجی ہر شعبۂ حیات میں غیر معمولی ترقی کر چکی ہے۔یہ حدیث دور حاضر کے ذرائع حمل و نقل اور سرعت رفتا رکی غماز ہے۔اس حدیث میں’’ تقارب الزمان ‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانے کے تغیرات کا انکشاف کیا ہے۔
حدیث نمبر۲: {عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی علیہ وسلم قال تغسل
الاناء اذا ولغ فیہ الکلب سبع مرات اولھن او اخراھن بالتراب}
’’ اگر تمھارے برتن کو کتا چاٹ جائے تو وہ سات مرتبہ دھونے سے پاک ہوگا ،جن میں پہلی دفعہ مٹی سے دھویا جائے‘‘
( ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ص ۶۸)
عہد رسالت میں ایسی ادویات کا نام ونشان تک نہ تھا جوجراثیم پر اثر انداز ہوسکیں لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کے جراثیم کو ختم کرنے کے لیے مٹی سے برتن دھونے کا حکم فرمایا۔حضور صلی علیہ وسلم کی سائنسی بصیرت کا اعتراف اس وقت ہوا جب سائنسی تحقیق نے مٹی میں Tetraliteاور Tetracyclineجیسے اجزا کی نشان دہی کی۔یہ اجزا جراثیم کش دواؤں کے لیے بطور خاص استعمال ہوتے ہیں۔کتوں کے چاٹے ہوئے برتن کے ذریعے ان کے جراثیم انسانوں پر اثر انداز ہونے کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے،اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی سے برتن دھونے کی تاکید کی ہے۔یوروپ کے بعض انگریزمحققین نے اس موضوع پر کئی تحقیقی مضامین قلم بند کیے جس میں اس حدیث کا اعتراف بڑی شدت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
بہ خوف طوالت صرف ایک مثال پر اکتفا کی جاتی ہے جو اس ثبوت کے لیے کافی ہے کہ خانقاہوں اور عبادت گاہوں میں قیام کرنے والے صوفیاے کرام ، فخر روحانیت وخدا شناس ، شاہان بے تاج وتخت تھے۔مذکورہ مثال پر مشتمل میر تقی میرؔ کاشعر درج ہے:
فقیرانہ آئے ، صدا کرچلے
میاں خوش رہو ہم دعا کرچلے
جسے اللہ کی معرفت حاصل ہوگی پھر اسے دنیا نہیں ڈھونڈ سکتی۔وہ اپنے خالق حقیقی کی زندگی میں بھر پور جذب ہوجاتاہے۔تصوف اور سائنس کے حوالے سے عہد رسالت کے دو صوفی سائنس دانوں لبیب بن سعد اور حبیب بن سعد کا ذکر غیر ضروری نہ ہوگا جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکہ معظمہ میں تھے اور بعد میں آپ کے ساتھ مہاجر بن کرمدینہ پہنچے۔ یہ دونوں سگے بھائی تھے ۔ صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ علم نجوم(Astronomy)سے خاطر خواہ دلچسپی رکھتے تھے۔علم ریاضی میں کافی درک حاصل تھا۔ان نجومیوں کا وطیرہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بہ غرض تجارت دور دراز کا سفر کرتے یا برائے غزوات تشریف لے جاتے تو یہ حضور اکرم کی خاص اجازت سے قافلے یا لشکر اسلامی کے ساتھ بطور بدرِقہ(Escort)ضرور جاتے تھے اور اندھیری رات میں اپنی خانہ ساز دوربینوں (Binoculors) کی مدد سے پتہ لگا لیتے تھے کہ رات میں ستاروں کی مدد سے راستہ کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے ؟ قمر در عقرب کب ہوگا، اچھی بری ساعتیں کون سی ہیں ۔چاند گہن اور سورج گہن(کسوف وخسوف) Eclipseکب ہوگا۔ان کے اثرات مخلوق الٰہی پر کیا کیا اور کس طرح پڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ قدرت ، دنیاوی علوم اور اپنے خاص احکام میں ہمیشہ سے ایک خط امتیاز (Line of Demarcation)کھینچتی چلی آئی ہے تاکہ دنیا کی نگاہ میں خدا اور بندگان خدا کے افعال میں تعینِ حدود نظر آسکے ۔ مثال کے طور پر ایک مرتبہ دشمنان اسلام نے ایک دفاعی جنگ کا اعلان کیا ۔پہلے تو سرکار دوعالم نے رفعِ شر کی کوشش کی ،جسے دشمنان اسلام نے بزدلی سمجھااور اپنے موقف پر اڑے رہے تب حضور نے حضرت علی کو بلایا اور فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام اللہ کا پیغام لائے ہیںکہ علی کی قیادت میں جنگ کی جائے۔حضور کا یہ فیصلہ سن کر دونوں نجومی بھائیوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ ساعت جنگ کے لیے بہت منحوس ہے ۔اگر اس وقت کوچ کیا گیا تو خدا ناخواستہ لشکر اسلام کی شکست یقینی ہے ۔ایک نحس ستارہ ہمارے لشکر پر مخالف نظر رکھتا ہے ۔ حضور نے ان کی بات ان سنی کردی اور حضرت علی سے فرمایا: بسم اللہ مجریھا باذن اللہ مرسٰھا۔دونوں نجومی شکست کے خوف سے لشکر کے ساتھ نہیں گئے اور اپنے حجرے میں بیٹھ کر زائچے بناتے رہے۔ایک وقت ایسا آیا جب دونوں نجومی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کرکے سجدۂ الٰہی میں گر گئے اور کہا یا رسول اللہ مبارک ہو حضرت علی بہ حیثیت فاتح مع لشکر تشریف لارہے ہیں ۔ حضور نے فرمایا جبرئیل امین نے پہلے ہی یہ خوش خبری سنادی ہے مگر تمھیں اس بات کا علم کیسے ہوا؟ انھوں نے عرض کیا کہ وہ منحوس ستارہ جو دوسال کی مدت میں اپنی جگہ سے ہٹنے والا تھا لیکن جوں ہی ہمارا لشکر روانہ ہوا وہ ستارہ دو دنوں میں اپنے مقام سے ہٹ گیا۔بس ہمیں اطمینان ہوگیا کہ اب ہماری فتح یقینی ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ میںنے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ علم نجوم فی نفسہ برا نہیں ہے اسے ضرور سیکھو لیکن اسے عقیدے سے نہ ٹکراؤ ورنہ الحاد اور بے دینی کی طرف لے جائے گا۔
عرب ممالک کے علاوہ ایران اور ہندوستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں بھی تصوف کا اسلامی فلسفہ تیزی سے مقبول ہوا ۔ ایک ہندو مصنفDr. N.K. Singh نے لکھا ہے کہ ایک ہندوستانی صوفی حضرت شیخ ابوسعد ابوالخیر نے ایک حقیقی صوفی کی تعریف درج ذیل الفاظ میں کی ہے:
“That is the true Man of God, who sits in the midst of his fellowmen, and rises up and eats and sleeps and buys and sells and gives and takes in the bazaars amongst other folk, and yet is never for one moment forgetful of God” .
(Dr. N. K. SINGH: SUFIS of India, Pakistan and Bangladesh. Vol. One
First Edition – 2002. (Preface) PP. X – XI.)
شیخ ابو سعد ابوالخیر کے مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں نہایت اختصار کے ساتھ طوطیِ ہند حضرت ابوالحسن یمین الدین امیر خسروؔ کے نمایاں افادات کا ذکر ضروری ہے۔ جنھوں نے حضرت نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ کے نامور مرید کی حیثیت سے شہرت دوام حاصل کی۔حضرت امیر خسروؔ کے تعلق سے حسن الدین احمد لکھتے ہیں:
’’ اگر سطحی طور پر دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امیر خسروؔ کی صوفیانہ منش شاعرانہ طبیعت اور دربارداری کے درمیان تضاد ہے، لیکن اس زمانے کے حالات اور امیر خسروؔ کے خاندانی ماحول پر نظر رکھی جائے ، ان کی زندگی کے تنوع کا تجزیہ کیا جائے اور جس انداز سے انھوں نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو نبھایا اسے پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان کی زندگی میں مکمل ہم آہنگی تھی‘‘
( مضمون: امیر خسرو کے درباری تعلقات ، مطبوعہ ماہنامہ آجکل نئی دہلی ، نومبر ۱۹۷۴ء ص ۴۴)
فارسی ، اردو اور سبک ہندی کے ادیب وشاعر ہونے کی وجہ سے امیر خسروؔ کاجو بلند مرتبہ ہے وہ تو ہے ہی لیکن موسیقی اور ساز وآواز کی دنیا میں انھوں نے جو کمالات دکھائے اور اختراعات کیں ان سے بھی صرف نظر ممکن نہیں۔ اس ضمن میں نقی محمد خاں خورجوی لکھتے ہیںـ:
’’امیر خسروؔ نے سب سے پہلے عجمی موسیقی کے انداز پر ترانہ ، قول نقش ونگارِ گل وغیرہ گانے ایجاد کیے۔ باوجودیکہ اسلام میں علما نے موسیقی کو ناجائز قرار دیا تھا لیکن ایک گروہ صوفیوں کا ہر زمانے میں ایسا ہی رہا ہے جو تصوِ فانہ غزلیں گا کر روحانی سرور حاصل کیا کرتے تھے‘‘
( مضمون: امیر خسرو ؔ کی موسیقی، مطبوعہ ماہنامہ آجکل نئی دہلی نومبر ۱۹۷۴ء ص ۱۶)
ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ امیر خسروؔ بنیادی طور پر ایک شاعر تھے اور وہ شاعر سے زیادہ ایک صوفی بھی تھے ۔ سماع کی وجہ سے موسیقی کے بھی دلدادہ تھے شاعری اور موسیقی کا شمار فنون لطیفہ میں ہوتا ہے لیکن انھیں سائنس داں اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے آلات موسیقی کی اختراعات کیں ۔ اگر آلات موسیقی ایجاد و اختراع کو آپ فنون لطیفہ کا سر ٹیفکٹ دیں گے تو پھر گراموفون ، ریڈیو ، ٹیلی فون، موبائیل اور کمپیوٹر وغیرہ سبھی فن لطیف کے خاندانی رشتہ دار بن جائیں گے ۔لہٰذا سماع وغیرہ میں کام آنے والے سبھی آلے فن لطیف کے مددگار ومعاون تو بنیں گے لیکن وہ اپنے مقام پر آلات سائنس(Scientific Devices) ہی کہلائیں گے۔
آلات موسیقی دراصل سائنسی اصولوں پر بنائے گئے ہیں اور ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے جنھیں دو خاص گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ (۱) باد سازی(Wind Instrument) (۲) زہی ساز(Bow Instrument) پہلی قسم میں ساز بین ، بانسری ، فلوٹ وغیرہ ہیں جب کہ دوسری قسم میں خنجری وغیرہ ہیں ۔ انھیں میں ضربی ساز (Pluck Percussion) بھی ہیں۔ ضربی سازوں میں سِتار بہت مشہور ہے اور اس کے مؤجد حضرت امیر خسروؔ تھے۔ اس ساز میں راگ پیش کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ امیر خسرو نے اپنی کتاب ’’ قِران السعدین‘‘ اور ’’نہہ سپہر‘‘ میں آلات موسیقی اور ان کے استعمال کے بارے میں ایسی باتیں لکھی ہیں جو ایک ماہر فن ہی لکھ سکتا تھا۔ امیر خسرو نے ایرانی عود اور وینا کے استفادے کے بعد سہ تار کی تشکیل کی ۔ امیر خسرو کی علم موسیقی میں مہارت کا ایک واضح ثبوت اس قطعے میں ملتا ہے جو ’’ اربعہ عناصر دواوین خسرو ‘‘ میں موجود ہے ۔ ’’خسروی سِتار ‘‘ کی ابتدائی شکل وہ کشمیری سِتار ہے جو صوفیانہ موسیقی (کلاسیکی موسیقی کشمیر) میں استعمال ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عظمت حسین خاں میکش کا یہ اقتباس کافی اہمیت کا حامل ہے:
’’ صدیوں پہلے جب ہماری موسیقی نے الفاظ کا جامہ پہنا تو دُھرپد کی ابتدا ہوئی (جو موسیقی کی ایک صنف ہے ) جس میں دیوتاؤں کی استُتھی(تعریف)ہوتی تھی یا مذہبی واقعات کا ذکر ہوتا تھا لیکن دُھرپد شروع کرنے سے پہلے راگ کے وستار (پھیلاؤ) کے لیے چند الفاظ وضع کیے گئے جن میں عبادت یا پرارتھنا کا مفہوم یا تاثر تھا اس اندازکو ’’ الاپ جاری‘‘ کہا گیا ۔ حضرت امیر خسرو نے قوت ایجاد سے کام لے کر ’’الاپ جاری ‘‘ میں بھی ایک نئی چیز پیدا کردی جس کا نام ’’ترانہ‘‘ تھا ۔ ’’ خیال‘‘ گانے والے کے لیے ترانہ گانا بھی ضروری ہے ، کیوں کہ خیال اور ترانہ ، دونوں امیر خسرو کی مو سیقی سے منسوب ہیں‘‘
( مضمون : ترانہ اور خسرو۔ مطبوعہ قومی راج بمبئی ، خسرو نمبر نومبر ۱۹۷۵ء ص ۵۶)
قول اور قوالی بھی امیر خسرو کی ایجاد ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیر خسرو اپنی سائنسی اختراعات کی بنا پر ساز وآواز دونوں میں مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔
اب ہم مولانا محمد جلال الدین رومیؔ کی عالمی شہرت یافتہ مثنویِ معنوی کی بنیاد پر ان کے صوفیانہ خیالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سائنس سے متعلق ان کے نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں مولانا روم کے سائنسی نظریات کو سمجھنے کے لیے ان کے فارسی کلام کا عام فہم اردو ترجمہ بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تجارب اجسام(The Gravity of Bodies) کا نظریہ انگریز سائنس داں اسحاق نیوٹن نے۱۶۶۶ء میں پیش کیاتھا کہ درخت سے نیچے گرنے والا سیب آخر زمین ہی کی طرف کیوں آتا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ زمین میں قوت کشش(Gravity) پائی جاتی ہے یہی واقعہ تمام اجسام کے ساتھ پیش آسکتا ہے ۔ اس ضمن میں علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ:
’’ اس مسئلہ کی نسبت تمام یورپ کا بلکہ تمام دنیا کا خیال ہے کہ نیوٹن کی ایجاد ہے ، لیکن لوگوں کو سن کر یہ حیرت ہوگی کہ سیکڑوں برس پہلے یہ خیال مولانا روم نے ظاہر کیا تھا‘‘
( سوانح مولانا روم : دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ ۲۰۱۰ء ص ۱۵۳)
مولانا جلال الدین رومی نے نیوٹن سے سیکڑوں سال قبل جس قانون قدرت کو اپنی مثنوی میں پیش کیا ہے اس کے فارسی اشعاراور اس کا اردو ترجمہ کچھ اس طرح سے ہے:
فارسی اشعار
جملہ اجزائے جہاں زاں حکم پیش
جُفت جُفت و عاشقانِ جفت خویش
ہَست ہر جُفتے ز عالم جُفت خواہ
راست ہم چوں کہر با و برگ کاہ
آسماں گوید زمیں را مرحبا
با تو اَم چوں آہن و آہن ربا
اردو ترجمہ
تیرے حکمِ خاص سے جتنے ہیں اجزائے جہاں
ہم نوا کی جستجو میں غرق مثلِ عاشقاں
ہم نوا سب کو سکھائیں ہم نوائی کا سبق
جیسے بجلی اور پتی گھاس کی مانگے ہیں حق
آسماں دیتا ہے شاباشی زمینِ پست کو
جیسے آہن دیکھ لے آہن ربائے مست کو
اگر کوئی شخص حکیم کامل مولانا جلال الدین رومی کی روح پُر فتوح سے ان کے شاگرد علامہ اقبال کی طرح سوال کرے کہ یہ بتایئے کہ فضائے بسیط میں زمین کس طرح نظر آتی ہے تو پیر رومی ، مرید ہندی کو مخاطب کرکے فرمائیں گے کہ:
فارسی اشعار
گُفت سائل ، چوں بماندِ این خاک داں
درمیانِ این محیطِ آسماں
ہم چو قندیلے معلّق در ہَوا؟
نے بَر اسفل می رَوَد نَے بر عُلا
آں حکیمش گفت کز جذبِ سما
از جہاتِ شش (چھ) ، بماند اندر ہَوا
چوں ز مقناطیس قبّہ ریختہ
درمیاں ماند آہنے اویختہ
اردو ترجمہ
پوچھا سائل نے کہ قبلہ راز کیوں پوشیدہ ہے
یہ زمیں کیوں وسعتِ افلاک میں پاشیدہ ہے
کس لیے ہے وہ معلّق مثل قندیلِ ہَوا؟
نیچے جانے کو ہے راضی اور نہ اوپر راستہ
بولے اس سے یہ حکیمِ دیدہ ور سن تو ذرا
ہے چہوں جانب سے بے چاری کشش میں مبتلا
سوچ لے گنبد بنایا تو نے مقناطیس کا
اور بیچوں بیچ اک لوہے کا تختہ ہو پڑا
مختصر طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دور حاضر میں بہتوں کا مشاہدہ اور قیاس ہے کہ بالعموم ہماری نئی نسلوں کے پاس نہ وہ جنون عشق الٰہی ہے نہ شعور نعت نبی۔ دین وایمان کی وہ روح ، سائنسی بصیرت اور عبادتوں کا خضوع و خشوع دیکھنے کو نہیں ملتا جو ہمارے سیدھے سادے فرشتہ صفت بزرگوں میں پایا جاتا تھا۔ بالخصوص جب یہ ماحول ان تمام ممالک میں ہو، جو ’’اسلامی ‘‘ کہلاتے ہیں یا ان علاقوں اور خطہ ہائے زمین میں ہو جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتاََ زیادہ ہے۔ مادیت ، گندی سیاست ، غلط روایات ، تخریب اخلاق ، خوف خدا کی کمی اور جذباتی بے راہ روی نے ہم سے اُس اطمینان قلب اور ذہنی یک سوئی کو چھین لیا ہے جو صحت مند فلسفۂ تصوف کی جان تھی۔ اب تو صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ موبائل ، انٹر نیٹ ، کمپیوٹر ،ٹی وی اور اسی طرح دوسرے سائنسی آلات کی مدد سے صوفیانہ خیالات اور تجربات کی عملی تبلیغ دانش مندانہ طورپرکی جائے ۔ممکن ہے کہ یہ طریقۂ کار کسی قدر کامیاب ثابت ہو۔
٭٭٭٭

مضمون نگار اردو کے جواں سال نثر نگار ، شاعر اور شعبۂ اردو ، ممبئی یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Sanah E Karbala ki Asri Ma’nwiat by Qamar Siddiqui

Articles

سانحۂ کربلا کی عصری معنویت

قمر صدیقی

۱۰ محرم ۶۱ ھجری میں کربلا کی سرزمین پر پیغمرِ اسلام حضرت محمد ؐ کے نواسے حضرت امام حسین ؓ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت نے بنی نوع انسان کو انسانیت کی سربلندی کے لیے برائی کی خلاف جد جہد کا درس دیا۔ان کی اس قربانی کو تاقیامت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔امام حسینؓ نے اُس وقت جبراً تبدیل کی جارہی سیاسی، معاشی اور تہذیبی صورتِ حال کے خلاف عَلم بلند کیا تھا جب اسلامی طرزِ حکومت یعنی ’’خلافت‘‘ کو مٹانے کے اقدامات ہورہے تھے، جب خلافت ’ملوکیت‘ میں تبدیل ہورہی تھی، جب اسلامی تمدن کو غیر اسلامی اور خاندانی عصبیت کے رُخ پر موڑنے کے مذموم سازشیں کی جارہی تھیں، جب مذہبی مجالیس میں سب شتم نے اپنی جگہ بنا لی تھی، جب عہد اور بد عہدی میں تفریق کرنے والوںکو گوشہ نشینی پر مجبور کیا جانے لگا تھا ۔ ایک ایسے وقت میں جب برائی نے مختلف جہتوں سے اپنے پائوں پسارنے شروع کردیئے تھے، امام حسینؓ نے ان برائیوں کے سد باب کے لیے عملی قدم اٹھایا۔ کربلا کی تاریخ سے کیا اہل علم و دانش اور کیا ہم جیسے معمولی علم رکھنے والے سبھی واقف ہیں۔لہٰذا آج کے اس پر فتن دور میں اس کی اشد ضرورت ہے کہ ہم غور کریں کہ کربلا کی تاریخ سے ہم نے کیا سیکھا ہے۔
دونوں عالمی جنگوں کی ہولناک تباہی اور ایٹمی دھماکوں کے سبب موت کی ہیبت کا آنکھوں میں بس جانا، خانہ جنگی، دہشت گردی اور ان سب وجوہات کی باعث موجودہ صدی میں انسانی زندگی کی بے وقعتی کی وجہ سے دانشوروں کی فکر، جذ بے اور اعصاب پر خاتمے کا احساس کچھ اس درجہ حاوی ہوگیا ہے کہ ہمارے دور کو ’’عہدِ مرگ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جانے لگا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارا ذہن فنا کےتصور سے بالکل عاری ہے بلکہ ہمارے حافظے میں آتشِ نمرود سے ریگزارِ کربلا تک کی داستانِ شجاعت اب بھی محفوظ ہے ۔ طوفانِ نوح کا علم سب کو ہے اور قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا اس سے بھی ہم آگاہ ہیں۔ لیکن آج جس طرح سماج دشمن اور انسان دشمن لوگوں نے ٹکنالوجی کے مخصوص استعمال کے ذریعے انسانوں کی موت کو اتنا سستا اور آسان بنا دیا ہے کے اس باعث خاتمے کے احساس نے انسان کو اندرسے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صرف اکیسویں صدی کے اِن 18برسوں میںتشدد کے سبب اتنی اموات ہوئی ہیں ،کہ اتنی اموات پچھلے دو سو سال میں نہیں ہوئیں۔ شاید ولیم فاکنر نے صحیح کہا تھا: ’’آج ہر آدمی کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ میں کب کہاں بھَک سے اُڑ جائوں ‘‘۔
ایک ایسے دور میں جب احساسِ مرگ نہ صرف انسان کے ذہن بلکہ اعصاب پر بھی سوار ہوچکا ہے، ’کربلا‘ سے حاصل کیے گئے سبق کا اعادہ کرنا اور بھی ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ کربلا تاریخ کا ایک واقعہ ہی نہیں بلکہ مسلسل جد و جہد کا استعارہ بھی ہے۔
سال بیلو نے تحریر کیا تھا کہ ’’ انسان ہونے کے کیا معنی ہیں؟ایک شہر میں، ایک صدی میں، ایک ہجوم میں ، ایک تغیر میں جسے سائنس نے ایک منٹ میں بدل دیا ہے۔ ایک منظم قوت جس نے کئی طرح کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جو میکانکی عمل سے وجود میں آئی ہے۔ ایک ایسا سماج ہے جس میں برادری نہیں ہے اور فرد کی حیثیت ختم ہورہی ہے۔‘‘ یہاں بنیادی سوال یہ نہیں ہے کہ بشمول سماج و فرد تاریخ ، ادب ، آرٹ اور انسان کی ایک منفی تعبیر و تشریح سامنے آرہی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس طرح کے نظریات کو فروغ دینے کی وجوہات کیا ہیں؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ آخر کیوں رائج قدروں کی نفی کرتے ہوئے انسان کو محض طبقاتی کشمکش، جنسی جبلت اور لاشعوری جبریت کا پُتلا گردانا جا رہا ہے۔ غور کیا جائے تو یہ ساری صورتِ حال سائنسی دریافتوں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ پیدا ہوئیں۔ ٹیکنالوجی شروع سے ہی صاحبِ زر کے ہاتھوں گروی رہی ہے۔ یورپ کے نشاۃالثانیہ کے بعد جب وہاں کےعوام م چرچ اور سرمایہ داروں کی جکڑ بندی سے آزاد ہوئے تو ٹکنالوجی کے اسپانسرس بہت گھبرائے۔ انھوں نے اس صورتِ حال سے بچائو کی یہ تدبیر کی کہ ٹکنالوجی کے ساتھ ساتھ نظریات بھی اسپانسر کرنے لگے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب یورپ کے دیہات اُجڑ رہے تھے اور شہر کانکریٹ کے جنگل بن رہے تھے اس وقت ایک طرف مساوات ، بھائی چارے اور انسانی حقوق کی باتیں ہورہی تھیں اور دوسری طرف مزدوروں کے حقوق پامال ہورہے تھے۔ جب یہی مزدور بھوک سے بلبلا کر احتجاج کرتے تو نظریات کی افیون انھیں سلادینے کے لیے کارگر ثابت ہوتی۔ یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ ہمارے زمانے میں بودریلا جیسے دانشور نے عراق امریکہ جنگ سے متعلق یہ تحریر کیا:
Gulf war did not happen, and was only as televized simulation of a war
(خلیجی جنگ واقع نہیں ہوئی ، یہ صرف ٹیلی ویژن کے ذریعے پیش کی گئی جنگ کی شبییہ محض تھی۔)
ہم دیکھ رہے ہیں ہمارے زمانے میں اظہار و دانش کے تقریباً تمام ذرائع فروخت ہوچکے ہیں۔ دانشور، تخلیق کار، صحافی ایک لمبی فہرست ہے بازار میں اپنے دام لگانے والوں کی۔ دراصل کارپوریٹ ایک ایسا سماج تیار کررہا ہے جو مارکیٹ یا بازاری سماج ہو۔ جہاں ٹوتھ پیسٹ سے لے کر انسانی رشتے سبھی بازار کے بکائو مال بن جائیں۔اس کام کی ابتدا دنیا کو ایک عالمی گائوں بنانے کی کوشش سے شروع ہوچکی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس نئے سماج کی تشکیل کچھ مخصوص لوگوں کے ہاتھوں تک محدود ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس خزانے تک پہنچنے کا پاس ورڈ موجود ہے۔ وہ اپنی اتھاہ دولت کے بوتے پر پیپسی کلچر رائج کررہے ہیں، ناچنے گانے والوں کو عوامی ہیرو بنا رہے ہیں، ٹی وی چینلس، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے من چاہے رواج کو عوام میں رائج کررہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ تازہ ہوا ہر ذی نفس کی بنیادی ضرورت ہے مگر تازہ ہوا کے نام پر طرح طرح کی کثافت کو برداشت کرنا کہاں کی دانش مندی ہے۔ ہمیں اس ثقافتی ، سیاسی اور معاشی یلغار کا مقابلہ کبھی نہ کبھی کرنا ہی ہوگا۔ ایک ایسی یلغار جو صرف لامحدود ہی نہیں متنوع جہات کی حامل بھی ہے اور جس کے پاس وقتی فوائد اور سرور و نشاط کی الف لیلیٰ بھی ہے۔
اس برائی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ہمیں ایندھن تاریخ سے ہی حاصل کرنا ہوگا۔ امام حسینؓ سے ہم آج بھی برائی کے خلاف عَلم بلند کرنے کا سبق سیکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ کربلا کی سرزمین کو اپنے لہو کی خوشبو سے معطر کرتے وقت امامَ حسینؓ اور ان کے قافلے کا مقصد نہ حصولِ خلافت تھا نہ حصولِ زر بلکہ ان کے نزدیک تو ایک عظیم مقصد تھا، تبدیلی کے اس عمل کے خلاف سینہ سپر ہوجانا جس کا غالب پہلو برائی تھی۔
آج ہمارے سامنے بھی تبدیلی کا ویسا ہی عمل جاری ہے جس میں غالب پہلو برائی کا ہی ہے۔ مگر ہمارے درمیان امامِ حسینؓ نہیں ہیں ، ہوبھی نہیں سکتے:
قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گر چہ ہے تابدار ابھی گیسوے دجلہ و فُرات
لیکن اس پر فتن دور میں ہم اتنا تو کرہی سکتے ہیں کہ برا کو برا کہیں۔ ہر چند کہ آہ بھی بھرنے میں بدنام ہونے کا خطرہ ہے تاہم یہ بھی تو سچ ہے :
مشکیزے سے پیاس کا رشتہ بہت پرانا ہے

_______________________________________

مضمون نگارمعروف ادبہ سہ ماہی ’’اردو چینل‘‘ اور ادبی پورٹل ’’اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘کے مدیر ہیں۔

agedy of Karbala by Dr. Asrar Ahmad

Articles

سانحۂ کربلا ڈاکٹر اسرار احمد

ڈاکٹر اسرار احمد

Nadi A Short Story by Salam Bin Razzaq

Articles

ندی سلام بن رزاق

سلام بن رزاق

ندی بہت بڑی تھی۔ کسی زمانے میں اس کا پاٹ کافی چوڑا رہا ہوگا۔ مگر اب تو بے چاری سوکھ ساکھ کر اپنے آپ میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ ایک زمانہ تھا جب اس کے دونوں کناروں پر تاڑ اور ناریل کے آسمان گیر درخت اگے ہوئے تھے جن کے گھنے سائے ندی کے گہرے، شانت اور شفاف پانی میں یوں ایستادہ نظر آتے جیسے کسی پر جلال بادشاہ کے دربار میں مصاحب سرنیوڑ ھائے کھڑے ہوں۔ مگر اب درختوں کی ساری شادابی لُٹ چکی تھی اور ان کے ٹُنڈ مُنڈ خشک صورت تنے کسی قحط زدہ علاقے کے بھوکے کنگال لوگوں کی طرح بے رونق اور نادار لگ رہے تھے۔
ندی بہت بڑی تھی اور اس کا پاٹ اب بھی گزری ہوئی عظمت اور وسعت کی غمازی کرتا نظر آتا۔ مگر اب اس طرح خشک ہوگئی تھی کہ جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے بے ڈھگے ٹاپو ابھر آئے تھے۔ حدِّ نظر تک چھوٹے بڑے بے شمار ٹاپو۔
اب ان ٹاپوئوں پر کہیں کہیں خودرو گھاس اور جنگلی جھاڑیاں بھی اُگ آئی تھیں، جن میں ہزاروں لاکھوں ٹڈے اور جھینگر شب وروز پُھدکتے رہتے۔ گھاس کے نیچے کیچڑ میں لاکھوں کیڑے رینگتے کلبلاتے رہتے اور جب دوپہر کی تپا دینے والی دھوپ میں کم کم گدلا بدبودار پانی تپنے لگتا تو ندی کی مچھلیاں اس طرح ادھر اُدھر منہ چھپاتی پھرتیں جیسے کسی پردہ دار گھرانے کی بہو بیٹیاں بھرے بازار میں بے نقاب کردی گئی ہوں۔ مچھلیوں کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جارہی تھی اور ٹڈے، جھینگر،کیڑے مکوڑوں اور مینڈکوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ دوپہر ڈھلے ندی کے نیم گرم، گدلے پانی سے چھوٹے بڑے بے شمار مینڈک نکلتے اور ان ٹاپوئوں پر بیٹھ کر ٹراتے رہتے۔ ہر ٹاپو پر ایک بڑے مینڈک کا قبضہ تھا اور ہر ایک کے چھوٹے چھوٹے سیکڑوں معتقد یا حلقہ بگوش تھے۔ جو ہر دم اس کی ٹراہٹ کی تائید میں خود بھی ٹراتے رہتے۔
’’میں اس ندی کا وارث ہوں۔‘‘ بڑا مینڈک۔
’’ہاں! آپ اس ندی کے وارث ہیں۔‘‘ چھوٹے مینڈک۔
’’اس ندی کے ایک ایک ٹاپو پر میرا اختیار ہے۔‘‘
’’اس ندی کے ایک ایک ٹاپو پر آپ کا اختیار ہے۔‘‘
’’میں… میں… چاہوں تو ……‘‘
بڑا مینڈک مناسب دعوے کے لیے آنکھیں مٹکا مٹکا کر ادھر ادھر دیکھتا اور ذرا سے توقف کے بعد کہتا۔
’’میں چاہوں تو ایک جست میں اس چمکتے سورج کو آسمان سے نوچ کر پاتال میں پھینک دوں۔‘‘
’’آپ چاہیں تو…‘‘ چھوٹے مینڈک دھوپ سے اپنی آنکھوں کو مچماتے ہوئے حسبِ عادت بڑے مینڈک کی تائید کرتے کہ بڑے مینڈک کی خوشنودی ان کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔
پھر پاس ہی کے کسی ٹاپو سے ایک موٹے پیٹ اور پتلی ٹانگوں والا کوئی مینڈک گمبھیر آواز میں اپنے معتقد سے پوچھتا۔
’’کون ہے یہ؟ کون ہے یہ احمق؟‘‘
ایک طراّر مینڈک پُھدک کر کہتا۔
ـ’’وہی ہمارا ذلیل پڑوسی ہے۔ جس کے اجداد حضور کے کفش برداررہ چکے ہیں۔‘‘
’’اوہو، اس نمک حرام سے کہو کہ سورج پر کمند ڈالنے سے پہلے ہمارے قدم چومے کہ خورشید ہمارے نقشِ کف پاکے سوا کچھ نہیں۔‘‘
اس کی لن ترانی کے جواب میں کسی تیسرے ٹاپو سے آواز آتی۔
’’یہ کون گستاخ ہے۔ اسے آگاہ کردو، اپنی زبان کو قابو میں رکھے کہ ہم زبان دروازوں کی زبانیں یوں کھینچ لیتے ہیں جیسے ملک الموت جسم سے روح۔‘‘
’’خاموش، خاموش، اس ندی کا ایک ایک ٹاپو ہماری زد میں ہے۔‘‘
اس کے بعد ہر ٹاپو سے ایک نئی آواز بلند ہونے لگتی۔ ہر آواز پہلی آواز سے زیادہ تیز ہر دعویٰ پہلے دعوے سے زیادہ بلند ورافع۔ ایسا شور مچتا کہ بے چاری مچھلیاں خوفزدہ ہوکر چہ بچوں کی تہوں میں جا چھپتیں۔ درختوں کی شاخوں پر بیٹھے پرند پھڑ پھڑا کر اڑتے اور جدھر جس کا سینگ سماتا چلا جاتا ٹرّا ٹراّ کر مینڈکوں کے گلے رُندھ جاتے، پھول پھول کر پیٹ پھٹ جاتے اور بیسوں مینڈک اپنے ہی بلند بانگ دعووںکے وزن تلے دب دب کر کچل جاتے۔ اور پھر دھیرے دھیرے تمام ٹاپوئوں پر ایک خوفناک سکوت طاری ہوجاتا نہ کسی مینڈک کی ٹرٹرنہ کسی جھینگرکی جھائیں جھائیں۔ مگر یہ سکوت ایک مختصر سے وقفے کے لیے ہوتا۔ دوسرے دن پھر مینڈک اپنے اپنے ٹاپوئوںپر جمع ہوتے اور پھر وہی لاف گزاف۔ ایک دن اسی طرح بڑے چھوٹے مینڈک اپنے اپنے ٹاپوئوں سے گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہے تھے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے تھے۔ ایک دوسرے کو ذلیل کر رہے تھے، گالیاں بک رہے تھے۔ مچھلیاں چھوٹے چھوٹے چہ بچوں میں اوپری سطح پر تیرتی اس لڑائی کو خوف اور حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے گھاس اور پودوں کی جڑوں میں دبک گئے تھے۔ ندی کے کنارے پھدکتی چڑیاں دم بخود اس بحث کو سن رہی تھیں۔
تبھی ندی کے ایک گوشے میں کچھ ہلچل سی ہوئی۔ پہلے تو سطح آب پر بڑے بڑے بلبلے پیدا ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کوئی پانی کی سطح پر نمودار ہوا۔ یہ ایک بے حد بوڑھا مگر مچھ تھا۔ اتنا بوڑھا کہ اس کی کیچلیاں جھڑ چکی تھیں۔ دُم کے دانتے کندے پڑگئے تھے اور اس کی پشت پر باریک باریک سبزہ اگ آیا تھا۔ اس نے اپنی پوری قوت سے دُم کو اس کیچڑ آلود پانی کی سطح پر دے مارا۔ ایک زور کا چھپا کا ہوا اور پانی کے چھینٹے اڑ کر دور دور تک پہنچے۔ مختلف ٹاپوئوں پر شور مچاتے مینڈک یک بیک چپ ہوگئے۔ سب اپنی پچھلی ٹانگوں پر اچک اچک کر اس آواز کی سمت دیکھنے لگے۔ آخر سبوں نے بوڑھے مگر مچھ کو دیکھ لیا۔ سبھی مینڈک بوڑھے مگرمچھ کا بے حد احترام کرتے تھے بلکہ بعض اس سے خوف زدہ بھی رہتے تھے۔ کیوں کہ ان کے آباواجداد کے مطابق بوڑھا مگر مچھ اس ندی کی بدلتی ہوئی تاریخ کا چشم دید گواہ تھا۔
اس کی عمر کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ اس کی ہستی صدیوں کے دوش پر قرنوں کا فاصلہ طے کر چکی تھی۔ تمام مینڈکوں نے ٹراّ ٹرا کر بوڑھے مگرمچھ کی جے جے کار کی۔ بوڑھے مگرمچھ نے اپنی بھاری دُم پٹک کر اور اپنا لمبا چوڑا جبڑا کھول کر خوشی کا اظہار کیا۔ پھر رینگتا ہوا ایک اونچی چٹان پر چڑھ گیا۔ چٹان پر پہنچ کر اس نے ندی کے اطراف نگاہ ڈالی… اب ندی… ندی کہاں تھی؟ وہ تو بس چند ٹاپوئوں اور چہ بچوں کا مجموعہ ہوکر رہ گئی تھی۔ جگہ جگہ ریت کے خشک تو دے ابھر آئے تھے۔ کہیں کہیں گڈھوںمیں پانی کے بجائے صرف کیچڑ تھا۔ ندی کے دونوں کناروں پر خود روگھاس ضرور اگی ہوئی تھی مگر پانی کی کمی کے کارن گھاس کا رنگ بھی زرد پڑتا جارہا تھا۔ ناریل، سپاری اور تاڑ کے درخت بانس کے جنگل کی طرح خشک اور ویران لگ رہے تھے۔ ندی کی اس بدلی ہوئی کیفیت کو دیکھ کر مگرمچھ کا دل بھر آیا۔ قریب تھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کے جھرنے بہہ نکلتے۔ اس نے کمالِ ضبط سے ان آنسوئوں کو روکا۔ مباداندی کے یہ بے ضمیر باسی انھیں حسبِ روایت مگرمچھ کے آنسو کہہ کر ان کی تضحیک نہ کریں پھر اس نے اپنے دیدے گھما کر ادھر ادھر ٹاپوئوں پر بیٹھے مینڈکوں کو دیکھا۔ سارے مینڈک دم سادھے بیٹھے تھے۔ مگرمچھ نے پھنکار کر گلا صاف کیا، پھر بھرائی آواز میں بولا:
’’اے ندی کے باسیو! کبھی تم نے اس بلند چٹان سے ندی کو دیکھا ہے؟‘‘
تمام مینڈک ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر سبوں نے بیک زبان اعتراف کیا۔
’’نہیں… ہم نے اس بلند چٹان سے کبھی ندی کو نہیں دیکھا۔‘‘
’’دیکھو! یہاں سے ندی کو دیکھو تو تم پر تمہارے بے بضاعت ٹاپوئوں کی حقیقت آشکار ہوجائے گی۔‘‘
’’مگر ہم وہاں سے ندی کو کیوں دیکھیں کہ ندی تو ہمارے لہو میں جاری و ساری ہے۔‘‘
’’عریاں حقیقتوں کو سیمابی لفظوں کا لباس نہ پہنائو کہ الفاظ جذبے کے اظہار کا بہت ادنیٰ ذریعہ ہیں۔ خود تسلّی، عارضی اطمینان کی سبیل ضرور ہے مگر یہی اطمینان مکمل تباہی کا پہلا بگل بھی ہے۔‘‘
تبھی ایک کونے سے ایک پستہ قد زرد فام مینڈک نے ٹرا کر کہا:
’’میں دیکھ سکتا ہوں۔ بلندی سے میں ندی کا نظارہ کر سکتا ہوں۔‘‘
تمام مینڈک اس زرد فام مینڈک کی طرف مڑے۔ وہ پندرہ بیس مینڈکوں کے کاندھوں پر چڑھا سینہ پھلائے نہایت حقارت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے مگرمچھ سے مخاطب ہوکر کہا:
’’اے دانائے راز! کیا میں ان تمام سفالی ہستیوں سے سر بلند نہیں ہوں کہ یہ ندی کراں تا کراں میری نگاہ کی زد میں ہے۔‘‘
ابھی اس کے الفاظ فضا میں گونج ہی رہے تھے کہ مینڈکوںکا اہرام لرزا اور ایک دوسرے کے کاندھوں پر چڑھے ہوئے مینڈک دھپ دھپ نیچے لڑھک گئے۔ دو چار کمزور مینڈکوں کی تو آنتیں نکل آئیں۔ بعض وہیں ڈھیر ہوگئے۔ ارد گرد کے ٹاپوئوں کے مینڈک بے تحاشا قہقہے لگانے لگے۔ ہنسی قہقہے، فقرے بازی اور شور و غوغا سے تھوڑی دیر تک کان پڑی آواز سنائی نہیں دی۔
آخر مگرمچھ کو مداخلت کرنی پڑی۔
’’خاموش، خاموش اے ندی کے باسیو! خاموش، یہ جائے مسرت نہیں مقام عبرت ہے کہ تمہاری چھوٹی چھوٹی نفرتوںنے تمہارے قد گھٹا دیے ہیں اور تم… تم سب اپنی ہی لاشوں پر قہقہے لگانے کے لیے زندہ ہو۔‘‘
’’اے صاحب عقل و دانش! کیا ہمیں اپنے دشمن کی مات پر خوش ہونے کا حق نہیں۔ یہ فتنۂ حرام عرصۂ دراز سے دوسروں کے کاندھوں پر چڑھ کر ہمیں دھمکاتا رہتا تھا۔‘‘
’’دشمن!‘‘ مگرمچھ نے ایک گہری سانس کھینچی۔
’’تم نہیں جانتے کہ بعض اوقات دشمنی بھی تمہارے ظرف کا پیمانہ بن جاتی ہے۔ آنکھیں کھول کر دیکھو مرنے والے کی صورت میں تمہیں اپنی صورت دکھائی دے گی۔ کان کھول کر سنو۔ اس کی آواز میں تمہیں اپنی آواز سنائی دے گی۔ دشمن کی شناخت مشکل ہے اس لیے کہ دوست کی شناخت مشکل ہے۔‘‘
’’اے مدّبر وقت! تو ہی ہمیں کوئی تدبیر بتا کہ ہمارے دل نفرتوں کے غبار سے دُھل جائیں اور ہمارے سینے محبتوں کے نور سے معمور ہوجائیں۔ تجھے ہم عقل و فہم کا پتلا اور تجربات کا مرقع جانتے ہیں۔‘‘
’’اگر ماحول ساز گارنہ ہوتو تدّبر تضحیک کا نشانہ اور تجربہ تہمت کا بہانہ بن جاتا ہے یاد رکھو گھورے پر کبھی گلاب نہیں کھلتے۔ تم نے نفرت بوئی تھی نفرت ہی کاٹو گے……‘‘
’’مگر تیرے سوا کون ہماری رہنمائی کر سکتا ہے کہ ہم بالاتفاق رائے تجھے اپنا مرّبی سمجھتے ہیں۔‘‘
ایک چتکبرا مینڈک پھدک کر مگرمچھ کے قریب ہوتا ہوا مکھن چپڑے لہجے میں بولا۔ اور پھر اس انداز سے چاروں طرف دیدے گھمائے جیسے اپنے ہم جلیسوں سے کہہ رہا ہو۔ میرا کاٹا کبھی بھولے سے نہ پانی مانگے۔
بوڑھا مگرمچھ اس چالاک مینڈک کی نیت بھانپ گیا۔ ایک نگاہ غلط انداز اس پر ڈالی اور پھر دوسرے مینڈکوںسے مخاطب ہوا۔
’’مرّبی ایک ایسے بد طینت شخص کو کہتے ہیں جو زیر دستوں کی دست گیری محض اس لیے کرتا ہے کہ وہ تاحیات اس کی غلامی کا دم بھرتے رہیں۔‘‘
مگرمچھ کے اس کرارے جواب نے مختلف ٹاپوئوں میں ایک غلغلہ ڈال دیا۔ دیر تک مینڈک ٹراتے اور قہقہے لگاتے رہے اور وہ چت کبرا مینڈک غصے اور ندامت سے پیچ و تاب کھانے لگا۔ جب شور ذراکم ہوا تو چت کبرا مینڈک ہوا میں قلابازی کھاتا ہوا چیخا۔
’’اَنا… اے ناصح نامہربان، تیری تلخ نوائی نے میری انا کو لہو لہان کر دیا۔ اپنی انا کی حفاظت میری زندگی کا مقصد اعلیٰ ہے۔ میں تلوار کا گھائوسہہ سکتا ہوں۔ اپنی انا پر ضرب نہیں سہہ سکتا۔‘‘
’’اَنا‘‘…… مگرمچھ نے اس چھوٹے سے مینڈک کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے حقارت سے کہا۔
’’چیونٹی اپنے منہ میں شکر کا دانہ لیے چلتی ہے تو اپنی دانست میں سات پہاڑوں کا بوجھ اس پر لدا ہوتا ہے۔ تم اپنی ڈیڑھ انچ کی انانیت کو آخر اس قدر اہمیت کیوں دیتے ہو جو پانی کے ایک ریلے سے بہہ جاتی ہے، ہوا کے ایک معمولی جھونکے سے اڑجاتی ہے۔ جب تک تمہاری انانیت تمہارے وجود کا حصہ نہیں بنتی، وہ چھپکلی کی کٹی دُم کی مانند بے حقیقت اور حقیر ہے۔ تمہاری مشکل یہ ہے کہ تم سب چھوٹے چھوٹے جزیروں میںبٹے ہو اور ہر کوئی اپنے جزیرے کو کرّہ ارض کے برابر سمجھتا ہے۔‘‘
مگرمچھ کا یہ وار بہت صاف اور تیکھا تھا۔ شدید تکلیف سے ان کے لہو میں گرہیں پڑ گئیں۔ انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ غصہ ذلّت اور ندامت نے ان کی عجیب کیفیت کردی تھی۔ انھیں لگ رہا تھا کوئی انھیں رسّی کی طرح بٹتا جارہا ہے۔ مگر وہ کیا کر سکتے تھے کہ ان کے پاس نہ سانپ کا سا پھن تھا، نہ بچھو کا ساڈنک۔ البتہ وہ چیخ سکتے تھے کہ اب ان کی چیخ ہی ان کے وجود کی گواہی بن سکتی تھی۔ لہذا ایک لمحے کی خاموشی کے بعد وہ بیک زبان ٹرّانے لگے۔ اپنی ہستی کی انتہائی بنیادوں سے ٹرّانے لگے۔ مگرمچھ ضبط و تحمل سے ان کی ٹراہٹ سنتا رہا۔ اور خاموشی سے ان کے گلوں کی پھولتی پچکتی جھلیوں کو دیکھتا رہا۔ جب ٹراتے ٹراتے ان کی گردنوں کی جھلیاں لٹک گئیں، پیٹ پچک گئے۔ تب مگرمچھ نے آہستہ سے گردن اٹھائی۔ یہاں سے وہاں تک بکھرے ہوئے مینڈکوں پر ایک متاسفانہ نگاہ ڈالی، چھوٹے بڑے، نیلے پیلے، کالے، سفید، دبلے پتلے، موٹے تگڑے۔ سارے کے سارے مینڈک منہ کھولے، گردنیں ڈالے گہری گہری سانسیں لے رہے تھے۔ اب ان کی آخری چیخ بھی ان کے سینے کی لحد میں سوچکی تھی۔ آخر ایک طویل وقفے کے بعد مگرمچھ گویا ہوا۔
’’اے ندی کے باسیو! تم میں سے ہر کوئی خود غرضی کے محور پر پھرکی کی طرح گھوم رہا ہے۔ تمہاری نظروں میں سارے رنگ یوں گڈ مڈ ہوگئے ہیں کہ اب رنگوں کی تمیز ممکن نہیں۔ لہذا اب میرے پاس تم سب کے لیے ایک سفّاک دعا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ میں دعا مانگتا ہوں۔ دعا کے اختتام پر بآوازِ بلند ’آمین‘ کہنا۔ یہی تمہاری نجات کا آخری حیلہ ہے۔‘‘
مینڈکوں نے مگرمچھ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ بس اپنے کرچی کرچی وجود کے ساتھ ٹُکر ٹُکر اسے گھورتے رہے۔ اب اجالے کے پر سمٹنے لگے تھے۔ سورج ایک کیکرکے دوشاخے میں پھنسا پھڑ پھڑا رہا تھا۔ اس کے خون کی لالی قطرہ قطرہ ندی کے چہ بچوں میں سونا گھول رہی تھی۔ فضا میں ایک عجب سی دل کو مسوس دینے والی اداسی بس گئی تھی۔ تبھی مگرمچھ نے آسمان کی طرف منہ اٹھایا۔ آنکھیں بند کرلیں اور دعا مانگنے لگا۔
’’اے بحروبر کے مالک! اے خشکی کو تری اور تری کو خشکی میں بدلنے والے… زمانہ بیت گیا یہ ندی سوکھتی جارہی ہے اور ہم کہ جنھیں ایک ہی ندی کے باسی کہلانا تھا، الگ الگ ٹاپوئوں میں بٹ گئے ہیں۔ اے قطرے سے دریا بہانے والے اور ندیوں کو سمندر سے ملانے والے ہمارے رب! ہماری اس سوکھی ندی میں کسی صورت باڑھ کا سامان پیدا کر، تاکہ ہم جوان چھوٹے چھوٹے ٹاپوئوں میں تقسیم ہوگئے ہیں پھر اسی ندی میں گھل مل جائیں۔ اور اس کے وسیع دامن میں جذب ہوکر اسی کا ایک حصہ بن جائیں!
سیلاب! صرف ایک تندو تیز سیلاب!!‘‘
مگرمچھ دعا ختم کرکے تھوڑی دیر تک آنکھیں موندے مینڈکوں کے ’آمین‘ کہنے کا منتظر رہا۔ مگر جب کافی دیر گزر جانے کے بعد بھی کہیں سے ’آمین‘ کی صدا نہیں آئی تب اس نے آنکھیں کھول دیں۔ ارد گرد کے ٹاپو خالی پڑے تھے۔ تمام مینڈک ندی کے کم کم، گدلے اور بدبودار پانی میں ڈبکیاں لگا چکے تھے……
٭٭٭

Nabe E Kareem Batoor Mahir E Nafsiyat

Articles

نبیِ اکرم بطور ماہرِ نفسیات سیّد سعدیہ غزنوی

سیّد سعدیہ غزنوی