Sawa Ser Gehun

Articles

سوا سیر گیہوں

منشی پریم چند

 

 

 

کسی گاؤ ں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں، نہ کسی کے دینے میں، چھکاپنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھو ت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جا نے کی فکر نہ تھی۔ ود یانہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو کھا لیا نہ ملا تو چربن پر قنا عت کی۔ چر بن بھی نہ ملا تو پانی لیا اور راما کا نام لے کر سو رہا۔ مگر جب کوئی مہمان درواز ے پر آ جاتا تو اسے یہ غنا کا راستہ تر ک کر دینا پڑ تا تھا۔ خصوصاً جب کوئی سادھومہا تما آ جاتے تھے تو اسے لا زماً دنیا وی باتو ں کا سہا را لینا پڑ تا۔ خود بھو کا سو سکتا تھا مگر سادھو کو کیسے بھو کا سلا تا۔ بھگو ان کے بھگت جو ٹھہرے۔
ایک روز شام کو ایک مہاتما نے آکر اس کے درواز ے پر ڈ یر ا جمادیا۔ چہرے پر جلال تھا۔ پیتا میر گلے میں، جٹا سر پر، پیتل کا کمنڈ ل ہاتھ میں، کھڑ اؤ ں پیر میں، عینک آنکھوں پر، غر ض کہ پو را بھیس ان مہا تما کا ساتھا جو رؤسا کے محلو ں میں ریاضت، ہوا گاڑیوں پر مندروں کا طواف اور یو گ (مراقبہ ) میں کمال حال کرنے کے لیے لذیذ غذائیں کھا تے ہیں۔ گھر میں جو کا آ ٹا تھا وہ انہیں کیسے کھلا تا؟ زمانۂ قدیم میں جو کی خواہ کچھ اہمیت رہی ہو، مگر زمانہ حال میں جو کی خورش مہاتما لوگو ں کے لیے ثقیل اور دیر ہضم ہوئی ہے، بڑی فکر ہوئی کہ مہا تما جی کو کیا کھلاؤں؟ آخر طے کیا کہ کہیں سے گیہوں کا آٹا ادھا ر لا ؤ ں۔ گاؤ ں بھر میں گیہوں کا آٹا نہ ملا۔ گاؤں بھر میں سب آدمی ہی آدمی تھے، دیو تا ایک بھی نہ تھا، دیوتا ؤ ں کو خورش کیسے ملتی؟ خوش قسمی سے گاؤں کے پر وہت جی کے یہاں تھو ڑے سے گیہوں مل گئے۔ ان سے سوا سیر گیہوں ادھار لیے اور بیوی سے کہا کہ پیس دے۔ مہا تما نے کھا یا۔ لمبی تا ن کر سوئے اور صبح آشیر واددے کر اپنا راستہ لیا۔
پر وہت جی سال میں دوبار کھلیانی لیا کرتے تھے۔ شنکر نے دل میں کہا کہ سوا سیر گیہوں کیا لوٹا ؤں۔ پنسیر ی کے بدلے کچھ زیادہ کھلیانی دے دوں گا۔ وہ بھی سمجھ جائیں گے، میں بھی سمجھ جاؤں گا۔ چیت میں جب وہ پر وہت جی پہنچے تو انھیں ڈیڑ ھ پنسیر ی کے قریب گیہوں دے دیے اور اپنے کو سبکد وش سمجھ کر اس کا کوئی تذکرہ نہ کیا۔ پروہت جی نے بھی پھر کبھی نہ مانگا۔ سید ھے سادھے شنکر کو کیا معلوم کہ یہ سوا سیر گیہوں چکانے کے لیے مجھے دوبارہ جنم لینا پڑے گا۔
سات سال گذ ر گئے۔ پر وہت جی برہمن سے مہاجن ہوئے۔ شنکر کسان سے مزور ہو گیا۔ اس کا چھو ٹا بھائی منگل اس سے الگ ہو گیا تھا۔ ایک ساتھ رہ کر دونو ں کسان تھے، الگ ہو کر دونو ں مزدور ہوگئے تھے۔ شنکر نے بہت چاہا کہ نفا ق کی آگ بھڑ کنے نہ پاوے۔ مگر حالت نے اس کو مجبور کر دیا۔ جس وقت الگ چولھے جلے وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ آج سے بھائی بھا ئی دشمن ہو جائیں گے۔ ایک روئے تو دوسر ا ہنسے گا، ایک کے گھر میں غمی ہو گی تو دوسرے کے گھر گلگلے پکیں گے۔ محبت کا رشتہ، دودھ کا رشتہ آج ٹو ٹا جاتا ہے۔ اس نے سخت محنت کر کے خاندانی عزت کا یہ درخت لگایا تھا۔ اسے اپنے خون سے سینچا تھا، اس کا جڑ سے اکھڑ نا دیکھ کر اس کے دل کے ٹکڑ ے ہو ئے جاتے تھے۔ سات روز تک اس نے دانے کی صورت بھی نہ دیکھی۔ دن بھر جیٹھ کی دھو پ میں کا م کرتا اور رات میں لپیٹ کرسورہتا۔ اس سخت رنج اور ناقابل برداشت تکلیف نے خون کو جلا یا دیا، گوشت اور چربی کو گھُلا دیا۔ بیمار پڑا تو مہینوں چار پائی سے نہ اٹھا۔ اب گزر بسر کیسے ہو؟ پانچ بیگھے کے آدھے کھیت رہ گئے، ایک بیل رہ گیا۔ کھیتی کیا خاک ہوتی۔ آخر یہا ں تک نوبت پہنچی کہ کھیتی صرف نام بھر کو رہ گئی۔ معاش کا سارا بھار مزدوری پر آپڑا۔
سا ت سال گزر گئے۔ ایک دن شنکر مزدوری کر کے لو ٹا تو راستہ میں پر وہت جی نے ٹو ک کر کہا۔ شنکر کل آکے اپنے بیج بینک کا حساب کر لے۔ تیرے یہاں ساڑھے پانچ من گیہوں کب سے باقی پڑے ہیں اور تو دینے کا نام نہیں لیتا۔ کیا ہضم کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘۔
شنکرنے تعجب سے کہا’’میں نے تم سے کب گیہوں لیے تھے کہ ساڑھے پانچ من ہو گئے؟تم بھو لتے ہو، میرے یہاں نہ کسی چھٹانک بھرا ناج ہے، نہ ایک پیسہ ادھار‘‘۔
پروہت۔ ’’اسی نیت کا تو یہ پھل بھو گ رہے ہو کھانے کو نہیں جڑتا۔
یہ کہہ پر وہت جی نے اس کا سوا سیر گیہوں کا ذکر کیا جو آج سے سال قبل شنکر کو دیے تھے۔ شنکر سن کر ساکت رہ گیا۔ میں نے کتنی بار انہیں کھلیانی دی۔ انہوں نے میرا کون سا کا م کیا۔ جب پو تھی پتر اد یکھنے، ساعت شگون بچارنے دوار پر آتے تھے تو کچھ نہ کچھ دچھنا لے ہی جا تے تھے۔ اتنا سوارتھ۔ سوا سیر اناج کولے انڈے کی طرح یہ بھو ت کھڑا کر دیا۔ جو مجھے نگل ہی جائے گا۔ اتنے دنوں میں ایک بار بھی کہہ دیتے تو گیہوں دے ہی دیتا۔ کیا اسی نیت سے چپ بیٹھے رہے۔ بولا۔ ’’مہا راج نام لے کر تو میں نے اتنا انا ج نہیں دیا، مگر کئی با ر کھلیانی میں سیر سیر، دودوسیر دے دیا ہے۔ اب آپ آج ساڑھے پانچ من مانگتے ہو، میں کہاں سے دوں گا؟
پروہت۔ ’’لیکھا جَو جَو بکسیں سوسو۔ تم نے جو کچھ دیاہوگا، کھلیانی میں دیاہوگا، اس کا کوئی حساب نہیں۔ چاہے ایک کی جگہ چار پنسیر ی دے، تمہارے نام ہی میں ساڑھے پانچ من لکھا ہوا۔ جس سے چاہے حساب لگو ا لو۔ دے دو تو تمہارا نام جھیک (کاٹ )دوں، نہیں تو اور بڑھتا رہے گا‘‘۔
شنکر’’پانڈ ے، کیوں ایک غریب کو ستانے ہو میر ے کھانے کا ٹھکا نا نہیں، اتنا گیہوں کس کے گھر تو دو گے‘‘۔
پر وہت۔ ’’جس کے گھر سے چاہے لا ؤ، میں چھٹا نک بھر بھی نہ چھوڑوں گا۔ یہاں نہ دوگے، بھگوان کے گھر تو دو گے‘‘۔
شنکر کا نپ اٹھا۔ ہم پڑھے لکھے لو گ ہوتے تو کہہ دیتے۔ ’’اچھی بات ہے، ایشو ر کے گھر ہی دیں گے وہا ں کی تو ل یہاں سے کچھ بڑی تو نہ ہو گی۔ کم سے کم اس کا کو ئی ثبو ت ہمارے پاس نہیں۔ پھر اس کی کیا فکر؟ ‘‘مگر شنکر اتنا عقل مند، اتنا چالاک نہ تھا۔ ایک تو قرض، وہ بھی بڑہمن کا! بہی میں نام رہے گا تو سید ھے نرک میں جاؤں گا۔ اس خیال سے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ بو لا۔ مہاراج تمہار اجتنا ہو گایہیں دوں گا۔ ایشو ر کے یہاں کیوں دوں؟ اس جنم میں تو ٹھو کر کھا ہی رہاہوں اُس جنم کے لیے کیوں کا نٹے بو ؤں؟ مگر یہ کو ئی نیا ئے نہیں ہے۔ تم نے رائی کا پر بت بنا دیا۔ برہمن ہو کے تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہتے تھا۔ اسی گھڑی تقاضا کر کے لیا ہوتا تو آج میر ے اوپر بڑا بوجھ کیوں پڑتا؟ میں تو دے دوں گا، لیکن تمہیں بھگوان کے یہاں جواب دینا پڑے گا؟
پر وہت:’’وہاں کا ڈر تمہیں ہوگا۔ مجھے کیوں ہونے لگا۔ وہاں تو سب اپنے ہی بھائی بند ہیں۔ رشی مُنی سب تو برہمن ہی ہیں۔ کچھ بنے بگڑے گی، سنبھال لیں گے۔ تو کب دیتے ہو؟۔ ‘‘
شنکر۔ ’’میرے پاس دھرا تو ہے نہیں، کسی سے مانگ جا نچ کر لا ؤ ں گا تبھی دوں گا‘‘۔
پروہت۔ ’’میں یہ مانوں گا۔ سات سال ہو گئے۔ اب ایک کا بھی ملا حظہ نہ کر وں گا۔ گیہوں نہیں دے سکتے تو دستاو یزلکھ دو۔
شنکر۔ ’’مجھے تو دینا ہے۔ چاہیے گیہوں لے لو۔ چاہے دستاویزلکھاؤ کس حساب سے دام رکھو گے؟
پروہت۔ ’’جب دے ہی رہا ہوں تو بازار بھاؤ کا ٹوں گا۔ پاؤ بھر چھڑا کر کیوں بُر ا بنوں ‘‘۔
حساب لگایا گیا توگیہوں کی قیمت ساٹھ روپیہ بنی۔ سا ٹھ کا دستاویز لکھا گیا۔ تین روپیہ سیکڑہ سود۔ سال بھر میں نہ دینے پر سود کی شر ح ساڑہے تین روپے سیکڑہ۔ آٹھ آنے کا اسٹا مپ، ایک روپیہ دستاویز کی تحر یر شنکر کو علیحدہ دینی پڑی۔
سا رے گاؤں نے پروہت جی کی مذمت کی مگر سامنے نہیں۔ مہاجن سے سبھی کو کام پڑتاہے اس کے منہ کون لگے؟

شنکرنے سال بھر تک سخت ریاضت کی میعاد سے قبل اس نے روپیہ ادا کرنے کابرَت سا کرلیا۔ دوپہر کو پہلے بھی چولھا نہ جلتا تھا، صرف چربن پر بسر ہوتی تھی۔ اب وہ بھی بند ہوا۔ صرف لڑکے کے لیے رات کو روٹیاں رکھ دی جاتیں۔ ایک پیسہ کی تمباکو روزپی جاتا تھا۔ یہی ایک لت تھی جسے وہ کبھی نہ چھو ڑ سکا تھا۔ اب وہ بھی اس کٹھن برت کے بھینٹ ہو گئی۔ اس نے چلم پٹک دی، حقہ تو ڑ دیا اور تمبا کو کی ہانڈی چور چور رکرڈالی۔ کپڑے پہلے بھی تر ک کی انتہا ئی حد تک پہنچ چکے تھے۔ اب وہ باریک ترین قدر تی کپڑوں میں منسلک ہو گئے۔ ماگھ کی ہڈیو ں تک میں سیرایت کر جانے والی سردی کو اس نے آگ کے سہارے کا ٹ دیا۔
ا س اٹل ارادے کا نتیجہ امید سے بڑھ کر نکلا۔ سال کے آخر تک اس کے پا س ساٹھ روپے جمع ہو گئے۔ اس نے سمجھا کہ پنڈت جی کواتنے روپے دے دوں گااور کہوں گامہاراج باقی روپے بھی جلدی آپ کے سامنے حاضر کردوں گا۔ پندرہ کی تو اور بات ہے۔ کیا پنڈت جی اتنا بھی نہ مانیں گے۔ اس نے روپے لیے اور لے جا کر پنڈت جی کے قدموں پر رکھ دیے۔
پنڈ ت جی نے متعجب ہو کر پوچھا۔ ’’کسی سے ادھار لے کیا؟‘‘
’’شنکر‘‘۔ نہیں مہاراج !آپ کی اسیس سے اب کی مجوری اچھی ملی‘‘۔
پنڈ ت جی، ’’لیکن یہ تو ساٹھ ہی ہیں‘‘۔
شنکر۔ ’’ہاں مہاراج !اتنے ابھی لے لیجیے۔ باقی دوتین مہینے مین دے دوں گا۔ مجھے ارن کر دیجیے‘‘۔
پنڈ ت جی۔ ’’ارن تو جبھی ہوں گے، جب میری کوڑی کوڑی چکا دوگے؟جاکر میرے پندرہ او رلاؤ‘‘۔
شنکر۔ ’’مہاراج !اتنی دیا کرو۔ اب سانجھ کی روٹیوں کا بھی ٹھکانا نہیں ہے۔ گاؤ ں میں ہوں توکبھی نہ کبھی دے ہی دوں گا‘‘۔
پنڈت۔ ’’میں یہ روگ نہیں پالتا۔ نہ بہت باتیں کرنا جانتاہوں۔ اگر میرے پورے روپے نہ ملیں گے تو آج سے ساڑے تین روپے سیکڑہ کا بیاج چلے گا۔ اتنے روپے چاہے اپنے گھر میں رکھو چاہے میر ے یہاں چھوڑ جاؤ‘‘۔
شنکر۔ ’’اچھا، جتنالایا ہوں، اتنا رکھ لیجیے۔ میں جاتاہوں، کہیں سے پندرہ اور لانے کی فکر کرتا ہوں ‘‘۔
شنکر نے سارا گاؤ چھان مارا مگر کسی نے روپے نہ دیے۔ اس لیے نہیں کہ اس کا اعتبا ر نہ تھا، یا کسی کے پاس روپے نہ تھے، بلکہ پنڈت جی کے شکار کو چھیڑنے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔

عمل کے بعد رد عمل کا قدرتی قاعدہ ہے۔ شنکر سال بھر تک تپسیاکرنے پر بھی جب قر ض بیباق کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو اس کی احتیاط مایوسی کی شکل میں تبدیل ہوگئی۔ اس نے سمجھ لیاکہ جب اتنی تکلیف اٹھا نے پر سال بھر میں ساٹھ روپے سے زیادہ نہ جمع کر سکا تو اب کون سا اپا ئے ہے جس سے اس کے دونے روپے جمع ہوں۔ جب سرپر قر ض کا بو جھ ہی لدنا ہے توکیا من بھر اور کیا سوا من کا۔ اس کی ہمت پست ہوگئی محنت سے نفرت ہوگئی۔ امید ہی حوصلہ کی پیدا کرنے والی ہے۔ امید میں رونق ہے، طاقت ہے، زندگی ہے، امید ہی دنیا کی متحرک کرنے والی قوت ہے۔ شنکر مایوس ہوکر بے پر وا ہوگیا۔ وہ ضرور تیں جن کو اس نے سال بھر تک ٹال رکھا تھا۔ اب دروازے پر کھڑی ہونے والی بھکارنیں نہ تھیں، بلکہ سر پر سوار ہونے والی چڑیلیں تھیں جو اپنا چڑھا وا لیے بغیر جان ہی نہیں چھوڑتیں۔ کپڑوں میں پیوندلگنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اب شنکر کو حساب ملتا تو روپے جمع نہ کرتا۔ کبھی کپڑے لاتا اور کبھی کھانے کی کوئی چیز۔ جہاں پہلے تمباکو پیا کرتا تھاوہاں اب گانجہ اور چرس کا چسکا بھی لگا۔ اسے اب روپے ادا کرنے کی کوئی فکر نہ تھی۔ گویا اس پر کسی کا ایک پیسہ بھی نہ تھا۔ پہلے لرزہ آجانے پر بھی وہ کا م کرنے ضرور جاتا تھا۔ اب کام پر نہ جانے کا بہانہ تلاش کیا کرتا۔
اس طرح تین سال گزر گئے۔ پنڈت جی مہاراج نے ایک بار بھی تقاضانہ کیا۔ وہ ہوشیاری شکاری کی طرح تیر بہد ف نشانہ لگانا چاہتے تھے۔ پہلے سے شکار کو بھڑ کا دینا ان کے شیوہ کے خلاف تھا۔
ایک روز پنڈ ت جی نے شنکر کوبلایا۔ حساب دکھایا۔ ساٹھ روپے جمع تھے وہ منہا کرنے پر بھی اب شنکر کے ذمے ایک سو بیس روپے نکلے۔
’’اتنے روپے تو اُسی جنم میں دوں گا۔ اس جنم میں نہیں ہوسکتا؟‘‘
پنڈ ت۔ ’’میں اسی جنم میں لوں گا۔ اصل نہ سہی سود تو دینا ہی پڑ ے گا ‘‘۔
شنکر۔ ’’ایک بیل ہے وہ لے لیجیے۔ ایک جھو نپڑی ہے، وہ لے لیجیے ‘‘اور میر ے پاس رکھاکیاہے؟‘‘۔
پنڈت۔ ’’مجھے بیل بد ہیالے کریکا کرنا ہے۔ مجھے دینے کو تمہارے پاس بہت کچھ ہے‘‘۔
شنکر۔ ’’اورکیا ہے مہاراج‘‘۔
پنڈت۔ ’’کچھ نہیں ہے، تم تو ہو؟ آخر تم بھی کہیں مزدوری کرنے ہی جاتے ہو۔ مجھے بھی کھیتی کرنے کے لیے ایک مزدور رکھناہی پڑتا ہے۔ سود میں تم ہما رے یہاں کام کیا کرو۔ جب سبھیتاہواصل بھی دے دینا۔ سچ تویہ ہے کہ اب تم دوسری جگہ کام کرنے کے لیے جانہیں سکتے۔ جب تک میر ے روپے نہ چکادو۔ تمہارے پاس کوئی جائیداد نہیں ہے۔ اتنی بڑی گٹھری میں کس اعتبار پر چھوڑدوں؟ کون اس کاذمہ لے گاتم مجھے مہینے مہینے سود دیے جاؤ گے۔ اور کہیں کما کر جب تم مجھے سود بھی نہیں دے سکتے تو اصل کی کو ن کہے؟‘‘۔
شنکر۔ ’’مہاراج !سود میں تو کا م کروں گا اور کھاؤ گاکیا؟‘‘۔
پنڈت ’’تمہاری گھر والی ہے، لڑکے ہیں۔ کیا وہ ہاتھ پیر کٹا بیٹھیں گے، تمہیں آدھ سیر جور وز چربن کے لیے دے دیا کروں گا۔ اوڑھنے کے لیے سال میں کمبل پاجاؤ گے۔ ایک سلوکا بھی بنو ادیا کروں گا، اورکیا چاہیے؟ یہ سچ ہے کہ اور لو گ تمہیں چھ آنے روز دیتے ہیں لیکن مجھے ایسی غرض نہیں ہے۔ میں تو تمہیں اپنے روپے بھر انے کے لیے رکھتا ہوں‘‘۔
شنکر نے کچھ دیر تک گہر ے سوچ میں پڑے رہنے کے بعد کہا۔ ’’مہاراج !یہ تو جنم بھر کی گلامی ہوئی؟۔
پندت۔ ’’غلامی سمجھو، چاہے مجوری سمجھو۔ میں اپنے روپے بھرائے بنا تمہیں نہ چھوڑوں گا۔ تم بھا گو گے تو تمہارا لڑکا۔ ہا ں جب کوئی نہ رہے گاتب کی بات دوسری ہے‘‘۔
اس فیصلہ کی کہیں اپیل نہ تھی۔ مزدور کی ضمانت کون کرتا؟ کہیں پناہ نہ تھی؟ بھاگ کر کہاں جاتا؟ دوسرے روز سے اس نے پنڈت جی کے ہاں کام کرنا شروع کردیا۔ سوا سیر گیہوں کی بدولت عمر بھر کے لیے غلامی کی بیڑ یا ں پاؤں میں ڈالنی بڑیں۔ اس بد نصیب کو اب اگر کسی خیال سے تسکین ہوتی تھی۔ تو اسی سے کہ یہ سب میرے پچھلے جنم کا بھو گ ہے۔ عورت کووہ کا م کرنے پڑے تھے جو اس نے کبھی نہ کیے تھے۔ بچے دانے دانے کو ترستے تھے، لیکن شنکر چپ دیکھنے کے سوااور کچھ نہ کر سکتا تھا۔ وہ گیہوں کے دانے کسی دیوتا بد ھا کی طرح تمام عمر اس کے سر سے نہ اترے۔

شنکر نے پنڈت جی کے یہاں بیس برس تک غلامی کرنے کے بعد اس غم کدے سے رحلت کی۔ ایک سو بیس ابھی تک اس کے سر پر سوار تھے۔ پنڈت جی نے اس غریب کو ایشور کے دربار میں تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔ پس انہوں نے اس کے جوان بیٹے کی گردن پکڑی۔ آج تک وہ پنڈت جی کے یہاں کام کرتا ہے۔ اس کا ادھار کب ادا ہو گا، ہو گا بھی یا نہیں، ایشور ہی جانے۔
ناظرین! اس قصہ کوفرضی نہ سمجھئے، یہ سچا واقعہ ہے ایسے شنکروں اور ایسے پروہتوں سے دنیا خالی نہیں ہے۔

———————————-

Doo(2) Bayl by Munshi Premchand

Articles

دو بَیل

پریم چند

 

جھوری کاچھی کے پاس دو بیل تھے ۔ ایک کا نام تھا ہیرا اور دوسرے کا موتی ۔ دونوں دیکھنے میں خوب صورت، کام میں چوکس، ڈیل ڈول میں اونچے ۔ بہت دِنوں سے ایک ساتھ رہتے رہتے ، دونوں میں محبت ہوگئی تھی ۔ جس وقت یہ دونوں بیل ہَل یا گاڑی میں جوتے جاتے اور گردنیں ہِلا ہِلا کر چلتے تو ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی کہ زیادہ بوجھ میری ہی گردن پر رہے ۔ ایک ساتھ ناند میں مُنھ ڈالتے ۔ ایک منھ ہٹا لیتا تو دوسرا بھی ہٹا لیتا اور ایک ساتھ ہی بیٹھتے ۔

ایک مرتبہ جھوری نے دونوں بیل چند دنوں کے لیے اپنی سُسرال بھیجے ۔ بیلوں کو کیا معلوم وہ کیوں بھیجے جارہے ہیں ۔ سمجھے مالک نے ہمیں بیچ دیا ۔ اگر اِن بے زبانوں کی زبان ہوتی تو جھوری سے پوچھتے :’’ تم نے ہم غریبوں کو کیوں نکال دیا؟ ہم نے کبھی دانے چارے کی شکایت نہیں کی ۔ تم نے جو کچھ کھِلایا ، سر جھکا کر کھالیا، پھر تم نےہمیں کیوں بیچ دیا۔ ‘‘

کسی وقت دونوں بیل نئے گاؤں جا پہنچے ۔ دِن بھر کے بھوکے تھے ، دونوں کا دِل بھاری ہو رہا تھا ۔ جسے اُنھوں نے اپناگھر سمجھا تھا ، وہ اُن سے چھوٹ گیا تھا ۔ جب گاؤں میں سوتا پڑگیا ، تو دونوں نے زور مار کر رسّے تڑالیے اور گھر کی طرف چلے ۔ جھوری نے صبح اُٹھ کر دیکھا تو دونوں بیل چرنی پر کھڑے تھے ۔ دونوں کے گھٹنوں تک پاؤں کیچڑ میں بھرے ہوئے تھے ۔ دونوں کی آنکھوں میں محبت کی ناراضگی جھلک رہی تھی ۔ جھوری اُن کو دیکھ کر محبت سے باؤلا ہوگیااور دوڑ کر اُن کے گلے سے لپٹ گیا ۔ گھر اور گاؤں کے لڑکے جمع ہوگئے اور تالیاں بجا بجا کر اُن کا خیر مقدم کرنے لگے ۔ کوئی اپنے گھر سے روٹیاں لایا ، کوئی گُڑ اور کوئی بھوسی ۔

جھوری کی بیوی نے بیلوں کو دروازے پر دیکھا تو جل اُٹھی، بولی :’’ کیسے نمک حرام بیل ہیں ۔ ایک دن بھی وہاں کام نہ کیا، بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ‘‘
جھوری اپنے بیلوں پر یہ اِلزام برداشت نہ کرسکا ، بولا: ’’ نمک حرام کیوں ہیں ؟ چارہ نہ دیا ہوگا، تو کیا کرتے ۔ ‘‘
عورت نے تک کر کہا :’’بس تمھیں بیلوں کو کھِلانا جانتے ہو، اور تو سبھی پانی پِلا پِلا کر رکھتے ہیں ۔ ‘‘
دوسرے دِن جھوری کا سالا جس کا نام گیا تھا ، جھوری کے گھر آیا اور بیلوں کو دوبارہ لے گیا ۔ اب کے اُس نے گاڑی میں جوتا ۔ شام کو گھر پہنچ کر گیا نے دونوں کو موٹی رسّیوں سے باندھا اور پھر وہی خشک بھوسا ڈال دیا۔

ہیرا اور موتی اِس برتاؤ کے عادی نہ تھے ۔ جھوری اُنھیں پھول کی چھڑی سے بھی نہ مارتا تھا ، یہاں مار پڑی ، اِس پر خشک بھوسا، ناند کی طرف آنکھ بھی نہ اُٹھائی ۔ دوسرے دِن گیانے بیلوں کو ہل میں جوتا ، مگر اُنھوں نے پاؤں نہ اُٹھایا ۔ ایک مرتبہ جب اُس ظالِم نے ہیرا کی ناک پر ڈنڈا جمایا ، تو موتی غُصّے کے مارے آپے سے باہر ہوگیا ، ہل لے کے بھاگا۔ گلے میں بڑی بڑی رسیّاں نہ ہوتیں تو وہ دونوں نکل گئے ہوتے ۔ موتی تو بس اِینّٹھ کر رہ گیا۔ گیا آپہنچا اور دونوں کو پکڑ کر لے چلا ۔ آج دونوں کے سامنے پھر وہی خشک بھوسا لایا گیا۔ دونوں چُپ چاپ کھڑے رہے ۔ اُس وقت ایک چھوٹی سی لڑکی دو روٹیاں لیے نکلی اور دونوں کے منھ میں ایک ایک روٹی دے کر چلی گئی ۔ یہ لڑکی گیا کی تھی ۔ اُس کی ماں مرچکی تھی ۔ سوتیلی ماں اُسے مارتی رہتی تھی ۔ اُن بیلوں سے اُسے ہمدردی ہوگئی ۔

دونوں دِن بھر جوتے جاتے ۔ اُلٹے ڈنڈے کھاتے ، شام کو تھان پر باندھ دیے جاتے اور رات کو وہی لڑکی اُنھیں ایک ایک روٹی دے جاتی ۔

ایک بار رات کو جب لڑکی روٹی دے کر چلی گئی تو دونوں رسیّاں چبانے لگے ، لیکن موٹی رسّی منھ میں نہ آتی تھی ۔ بے چارے زور لگا کر رہ جاتے ۔ اتنے میں گھر کا دروازہ کھُلا اور وہی لڑکی نکلی ۔ دونوں سرجھکا کر اس کا ہاتھ چاٹنے لگے ۔ اُس نے اِن کی پیشانی سہلائی اور بولی :’’کھول دیتی ہوں ، بھا گ جاؤ ، نہیں تو یہ لوگ تمھیں مار ڈالیں گے ۔ آج گھر میں مشورہ ہو رہا ہے کہ تمھاری ناک میں ناتھ ڈال دی جائے ۔ ‘‘ اُس نے رسّے کھول دیے اور پھر خود ہی چلاّئی :’’ او دادا ! او دادا ! دونوں پھوپھا والے بیل بھاگے جارہے ہیں ۔دوڑو__دوڑو!‘‘

گیا گھبرا کر باہر نکلا ، اُس نے بیلوں کا پیچھا کیا وہ اور تیزہوگئے ۔ گیا نے جب اُن کو ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو گاؤں کے کچھ اور آدمیوں کو ساتھ لینے کے لیے لوٹا ۔ پھر کیا تھا دونوں بیلوں کو بھاگنے کا موقع مِل گیا ۔ سیدھے دوڑے چلے گئے ۔ راستے کا خیال بھی نہ رہا ، بہت دور نکل گئے ، تب دونوں ایک کھیت کے کِنارے کھڑے ہو کر سوچنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیے ؟ دونوں بھوک سے بے حال ہو رہے تھے ۔ کھیت میں مٹر کھڑی تھی ، چرنے لگے ۔ جب پیٹ بھر گیا تو دونوں اُچھلنے کودنے لگے ۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک موٹا تازہ سانڈ جھومتا چلا آرہا ہے ۔ دونوں دوست جان ہتھیلیوں پر لے کر آگے بڑھے ۔ جوں ہی ہیرا جھپٹا ، موتی نے پیچھے سے ہَلّہ بول دیا۔ سانڈ اُس کی طرف مڑا تو ہیرا نے ڈھکیلنا شروع کردیا۔ سانڈ غُصّے سے پیچھے مڑا تو ہیرا نے دوسرے پہلو میں سینگ رکھ دیے ۔ بے چارہ زخمی ہو کر بھاگا دونوں نے دور تک تعاقب کیا ۔ جب سانڈ بے دم ہو کر گِر پڑا ، تب جاکر دونوں نے اُس کا پیچھا چھوڑا۔

دونوں فتح کے نشے میں جھومتے چلے جارہے تھے ۔ پھرمٹر کے کھیت میں گُھس گئے۔ ابھی دو چار ہی منھ مارے تھے کہ دو آدمی لاٹھی لے کر آگئے اور دونوں بیلوں کو گھیر لیا ۔ دوسرے دن دونوں دوست کانجی ہاؤس میں بند تھے ۔

اُن کی زندگی میں پہلا موقع تھا کہ کھانے کو تِنکا بھی نہ ملا ۔ وہاں کئی بھینسیں تھیں ، کئی بکریاں ، کئی گھوڑے ، کئی گدھے ، مگر چارہ کسی کے سامنے نہ تھا۔ سب زمین پر مردے کی طرح پڑے تھے ۔ رات کو جب کھانا نہ ملا تو ہیرا بولا :’’ مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ جان نکل رہی ہے ۔ ‘‘ موتی نے کہا :’’ اتنی جلدی ہمّت نہ ہارو،بھائی یہاں سے بھاگنے کا کوئی طریقہ سوچو۔‘‘ ’’ باڑے کی دیوار کچّی تھی ۔ ہیرا نے اپنے نکیلے سینگ دیوار میں گاڑ کر سوراخ کیا اور پھر دوڑ دوڑ کر دیوار سے ٹکرّیں ماریں ۔ ٹکرّوں کی آواز سُن کر کانجی ہاؤس کا چوکیدار لالٹین لے کر نکلا۔ اُس نے جو یہ رنگ دیکھا تو دونوں کو کئی ڈنڈے رسید کیے اور موٹی رسّی سے باندھ دیا ہیرا اور موتی نے پھر بھی ہمّت نہ ہاری ۔ پھر اُسی طرح دیوار میں سینگ لگا کر زور کرنے لگے ۔ آخر دیوار کا کچھ حِصّہ گر گیا۔ دیوار کا گرنا تھا کہ جانور اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ گھوڑے ، بھیڑ، بکریاں ، بھینسیں سب بھاگ نکلے ۔ ہیرا، موتی رہ گئے صبح ہوتے ہوتے منشیوں ، چوکیداروں اور دوسرے ملازمین میں کھَلبَلی مچ گئی ۔ اُس کے بعد اُن کی خوب مرمّت ہوئی۔ اب اور موٹی رسّی سے باندھ دیا گیا ۔

ایک ہفتے تک دونوں بیل وہاں بندھے پڑے رہے ۔ خدا جانے کانجی ہاؤس کے آدمی کتنے بے درد تھے ، کسی نے بے چاروں کو ایک تنکا بھی نہ دیا۔ ایک مرتبہ پانی دکھا دیتے تھے ۔ یہ اُن کی خوراک تھی ۔ دونوں کمزور ہوگئے ۔ ہڈّیاں نکل آئیں ۔

ایک دِن باڑے کے سامنے ڈگڈگی بجنے لگی اور دوپہرہوتے ہوتے چالیس پچاس آدمی جمع ہوگئے ۔ تب دونوں بیل نکالے گئے ۔ لوگ آکراُن کی صورت دیکھتے اور چلے جاتے اِن کمزور بیلوں کو کون خریدتا ! اتنے میں ایک آدمی آیا ، جس کی آنکھیں سُرخ تھیں ، وہ منشی جی سے باتیں کرنے لگا ۔ اس کی شکل دیکھ کر دونوں بیل کانپ اُٹھے ۔ نیلام ہو جانے کے بعد دونوں بیل اُس آدمی کے ساتھ چلے ۔

اچانک اُنھیں ایسا معلوم ہوا کہ یہ رستہ دیکھا ہوا ہے ۔ ہاں ! اِدھر ہی سے تو گیا اُن کو اپنے گاؤں لے گیا تھا ، وہی کھیت ، وہی باغ ، وہی گاؤں، اب اُن کی رفتار تیز ہونے لگی۔ ساری تکان ، ساری کمزوری ، ساری مایوسی رفع ہوگئی ۔ ارے ! یہ تو اپنا کھیت آگیا ۔ یہ اپنا کنواں ہے ، جہاں ہر روز پانی پیا کرتے تھے ۔

دونوں مست ہو کر کُلیلیں کرتے ہوئے گھر کی طرف دوڑے اوراپنے تھان پر جاکر کھڑے ہوگئے ۔ وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے دوڑاآیا ۔ جھوریدروازے پر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا ، بیلوں کو دیکھتے ہی دوڑا اور انھیں پیار کرنے لگا۔ بیلوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔

اُس آدمی نے آکر بیلوں کی رسیاں پکڑ لیں ۔ جھوری نے کہا :’’ یہ بیل میرے ہیں ۔‘‘ ’’تمہارے کیسے ہیں ۔ میں نے نیلام میں لیے ہیں ۔ ‘‘ وہ آدمی زبردستی بیلوں کو لے جانے کے لیے آگے بڑھا ۔ اُسی وقت موتی نے سینگ چلایا ، وہ آدمی پیچھے ہٹا ۔ موتی نے تعاقب کیا اور اُسے کھدیڑتا ہوا گاؤں کے باہر تک لے گیا۔ گاؤں والے یہ تماشا دیکھتے تھے اورہنستے تھے ۔ جب وہ آدمی ہار کر چلا گیا تو موتی اکڑتا ہوا لوٹ آیا۔

ذراسی دیر میں ناند میں کھلی ، بھوسا ، چوکر ، دانا سب بھردیا گیا۔ دونوں بیل کھانے لگے ۔ جھوری کھڑا اُن کی طرف دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا، بیسیوں لڑکے تماشا دیکھ رہے تھے ۔ سارا گاؤں مُسکراتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

اُسی وقت مالکن نے آخر دونوں بیلوں کے ماتھے چوم لیے ۔

—————————

Shikwa Shikayat by Munshi Prem Chand

Articles

شکوہ شکایت

منشی پریم چند

 

 

 

زندگی کا بڑا حصّہ تو اسی گھر میں گزر گیا مگر کبھی آرام نہ نصیب ہوا۔ میرے شوہر دُنیا کی نگاہ میں بڑے نیک اور خوش خلق اور فیاض اور بیدار مغز ہوں گے لیکن جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔ دُنیا کو تو ان لوگوں کی تعریف میں مزا آتا ہے جو اپنے گھر کو جہنم میں ڈال رہے ہوں اور غیروں کے پیچھے اپنے آپ کو تباہ کئے کئے ڈالتے ہوں۔ جو گھر والوں کے لئے مرتا ہے اس کی تعریف دُنیا والے نہیں کرتے۔ وہ تو ان کی نگاہ میں خود غرض ہے، بخیل ہے، تنگ دل ہے، مغرور ہے، کور باطن ہے۔ اسی طرح جو لوگ باہر والوں کے لئے مرتے ہیں ان کی تعریف گھر والے کیوں کرنے لگے۔ اب ان ہی کو دیکھوصبح سے شام تک مجھے پریشان کیا کرتے ہیں۔ باہر سے کوئی چیز منگواؤ تو اسی دُکان سے لائیں گے جہاں کوئی گاہک بھول کر بھی نہ جاتا ہے۔ ایسی دُکانوں پر نہ چیز اچھی ملتی ہے نہ وزن ٹھیک ہوتا ہے۔ نہ دام ہی مناسب۔ یہ نقائص نہ ہوتے تو وہ دُکان بدنام ہی کیوں ہوتی۔ انہیں ایسی ہی دُکانوں سے سودا سلف خریدنے کا مرض ہے۔ با رہا کہا کسی چلتی ہوئی دُکان سے چیزیں لایا کرو وہاں مال زیادہ کھپتا ہے۔ اس لئے تازہ مال آتا رہتا ہے۔ مگر نہیں ٹٹ پونجیوں سے ان کو ہمدردی ہے اور وہ انہیں اُلٹے استرے سے مونڈتے ہیں۔ گیہوں لائیں گے تو سارے بازار سے خراب گھنا ہوا، چاول ایسا موٹا کہ بیل بھی نہ پوچھے۔ دال میں کنکر بھرے ہوئے۔ منوں لکڑی جلا ڈالو، کیا مجال کہ گلے۔ گھی لائیں گے تو آدھوں آدھ تیل اور نرخ اصلی گھی سے ایک چھٹانک کم۔ تیل لائیں گے تو ملاوٹ کا۔ بالوں میں ڈالو تو چیکٹ جائیں، مگر دام دے آئیں گے اعلیٰ درجے کے، چنبیلی کے تیل کے۔ چلتی ہوئی دُکان پر جاتے تو جیسے انہیں ڈر لگتا ہے۔ شاید”اونچی دُکان اور پھیکا پکوان” کے قائل ہیں۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ نیچی دُکان پر سڑے پکوان ہی ملتے ہیں۔ ایک دن کی بات ہو تو برداشت کر لی جائے۔ روز روز کی یہ مصیبت برداشت نہیں ہوتی ہے۔ کہتی ہوں آخر ٹٹ پونجیوں کی دُکان پر جاتے ہی کیوں ہیں، کیا ان کی پرورش کا ٹھیکہ تم ہی نے لے لیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں”مجھے دیکھ کر بلانے لگتے ہیں۔” خوب! ذرا انہیں بلا لیا اور خوشامد کے دو چار الفاظ سنا دئے، بس آپ کا مزاج آسمان پر جا پہنچا۔ پھر انہیں سدھ نہیں رہتی کہ وہ کوڑا کرکٹ باندھ رہا ہے یا کیا۔ پوچھتی ہوں تم اس راستے سے جاتے ہیں کیو ں ہو؟ کیوں کسی دوسرے راستے سے نہیں جاتے؟ ایسے اٹھائی گیروں کو منہ ہی کیوں لگاتے ہو؟ اس کا کوئی جواب نہیں۔ ایک خموشی سو بلاؤں کو ٹالتی ہے۔

ایک بار ایک زیور بنوانا تھا۔ میں تو حضرت کو جانتی تھی۔ ان سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ ایک پہچان کے سنار کو بلا رہی تھی۔ اتفاق سے آپ بھی موجود تھے۔ بولے یہ فرقہ بالکل اعتبار کے قابل نہیں، دھوکا کھاؤ گی۔ میں ایک سنار کو جانتا ہوں۔ میرے ساتھ کا پڑھا ہوا ہے۔ برسوں ساتھ ساتھ کھیلے ہیں۔ میرے ساتھ چالبازی نہیں کر سکتا۔ میں نے سمجھا جب ان کا دوست ہے اور وہ بھی بچپن کا، تو کہاں تک دوستی کا حق نہ نبھائے گا۔ سونے کا ایک زیور اور پچاس روپے ان کے حوالے کئے اور اس بھلے آدمی نے وہ چیز اور روپے نہ جانے کس بے ایمان کو دے دئے کہ برسوں کے پیہم تقاضوں کے بعد جب چیز بن کر آئی تو روپے میں آٹھ آنے تانبا اور اتنی بدنما کہ دیکھ کر گھن آتی تھی۔ برسوں کاارمان خاک میں مل گیا۔ رو پیٹ کر بیٹھ رہی۔ ایسے ایسے وفادار تو ان کے دوست ہیں جنہیں دوست کی گردن پر چھری پھیرنے میں عار نہیں۔

ان کی دوستی بھی انہیں لوگوں سے ہے جو زمانہ بھر کے فاقہ مست، قلانچ، بے سرو سامان ہیں، جن کا پیشہ ہی ان جیسے آنکھ کے اندھوں سے دوستی کرنا ہے۔ روز ایک نہ ایک صاحب مانگنے کے لئے سرپر سوار رہتے ہیں اور بلا لئے گلا نہیں چھوڑتے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے روپے ادا کئے ہوں۔ آدمی ایک بار کھو کر سیکھتا ہے، دو بار کھو کر سیکھتا ہے، مگر یہ بھلے مانس ہزار بار کھو کر بھی نہیں سیکھتے۔ جب کہتی ہوں روپے تو دے دئے اب مانگ کیوں نہیں لاتے۔ کیا مر گئے تمہارے دوست؟ تو بس بغلیں جھانک کر رہ جاتے۔ آپ سے دوستوں کو سوکھا جواب نہیں دیا جاتا۔ خیر سوکھا جواب نہ دو، میں یہ بھی نہیں کہتی کہ دوستوں سے بے مروّتی کرو۔ مگر ٹال تو سکتے ہیں۔ کیا بہانے نہیں بنا سکتے؟ مگر آپ انکار نہیں کر سکتے۔ کسی دوست نے کچھ طلب کیا اور آپ کے سر پر بوجھ پڑا۔ بے چارے کیسے انکار کریں۔ آخر لوگ جان جائیں گے یہ حضرت بھی فاقہ مست ہیں۔ دُنیا انہیں امیر سمجھتی ہے چاہے میرے زیور ہی کیوں نہ گروی رکھنے پڑیں۔ سچ کہتی ہوں بعض اوقات ایک ایک پیسے کی تنگی ہو جاتی ہے اور اس بھلے آدمی کو روپے جیسے گھر میں کاٹتے ہیں۔ جب تک روپے کے وارے نیارے نہ کر لے اسے کسی پہلو قرار نہیں۔ ان کے کرتوت کہاں تک کہوں۔ میرا تو ناک میں دم آگیا۔ ایک نہ ایک مہمان روز بلائے بے درماں کی طرح سر پر سوار۔ نہ جانے کہاں کے بے فکرے ان کے دوست ہیں۔ کوئی کہیں سے آ کر مرتا ہے، کوئی کہیں سے۔ گھر کیا ہے اپاہجوں کو اڈہ ہے۔ ذرا سا گھر، مشکل سے دو تو چارپائیاں۔ اوڑھنا بچھونا بھی بافراط نہیں مگر آپ ہیں کہ دوستوں کو دینے کے لئے تیار۔ آپ تو مہمان کے ساتھ لیٹیں گے۔ اس لئے انہیں چارپائی بھی چاہئے۔ اوڑھنا بچھونا بھی چاہئے ورنہ گھر کا پردہ کھل جائے، جاتی ہے تو میرے اور بچوں کے سر۔ زمین پر پڑے سکڑ کر رات کاٹتے ہیں، گرمیوں میں تو خیر مضائقہ نہیں لیکن جاڑوں میں تو بس قیامت ہی آ جاتی ہے۔ گرمیوں میں بھی کھلی چھت پر تو مہمانوں کا قبضہ ہو جاتا ہے۔ اب میں بچوں کو لئے قفس میں پڑی تڑپا کروں۔ اتنی سمجھ بھی نہیں کہ جب گھر کی یہ حالت ہے تو کیوں ایسوں کو مہمان بنائیں جن کے پاس کپڑے لتے تک نہیں۔ خدا کے فضل سے ان کے سبھی دوست ایسے ہی ہیں۔ ایک بھی خدا کا بندہ ایسا نہیں، جو ضرورت کے وقت ان کے دھیلے سے بھی مدد کر سکے۔ دو ایک بار حضرت کو اس کا تجربہ اور بے حد تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ مگر اس مردِ خدا نے تو آنکھیں نہ کھولنے کی قسم کھا لی ہے۔ ایسے ہی ناداروں سے ان کی پٹتی ہے، ایسے ایسے لوگوں سے آپ کی دوستی ہے کہ کہتے شرم آتی ہے۔ جسے کوئی اپنے دروازے پر کھڑا بھی نہ ہونے دے، وہ آپ کا دوست ہے۔ شہر میں اتنے امیر کبیر ہیں، آپ کا کسی سے ربط ضبط نہیں، کسی کے پاس نہیں جاتے۔ امرا مغرور ہیں، مُدَمِّغ ہیں، خوشامد پسند ہیں، ان کے پاس کیسے جائیں، دوستی گانٹھیں گے ایسوں سے جن کے گھر میں کھانے کو بھی نہیں۔

ایک بار ہمارا خدمت گار چلا گیا اور کئی دن دوسرا خدمت گار نہ ملا۔ میں کسی ہوشیار اور سلیقہ مند نوکر کی تلاش میں تھی مگر بابو صاحب کو جلد سے جلد کوئی آدمی رکھ لینے کی فکر سوار ہوئی۔ گھر کے سارے کام بدستور چل رہے تھے مگر آپ کو معلوم ہو رہا تھا کہ گاڑی رکی ہوئی ہے۔ ایک دن جانے کہاں سے ایک بانگڑو کو پکڑ لائے۔ اس کی صورت کہے دیتی تھی کہ کوئی جانگلو ہے مگر آپ نے اس کی ایسی ایسی تعریفیں کیں کہ کیا کہوں! بڑا فرماں بردار ہے، پرلے سرے کا ایمان دار، بلا کا محنتی، غضب کا سلیقہ شعار اور انتہا درجے کا با تمیز۔ خیر میں نے رکھ لیا۔ میں بار بار کیوں کر ان کی باتوں میں آ جاتی ہوں، مجھے خود تعجب ہے۔ یہ آدمی صرف شکل سے آدمی تھا، آدمیت کی کوئی علامت اس میں نہ تھی۔ کسی کام کی تمیز نہیں۔ بے ایمان نہ تھا مگر احمق اوّل نمبر کا۔ بے ایمان ہوتا تو کم سے کم اتنی تسکین تو ہوتی کہ خود کھاتا ہے۔ کم بخت دُکان داروں کی فطرتوں کا شکار ہو جاتا تھا۔ اسے دس تک گنتی بھی نہ آتی تھی۔ ایک روپیہ دے کر بازار بھیجوں تو شام تک حساب نہ سمجھا سکے۔ غصہ پی پی کر رہ جاتی تھی۔ خون جوش کھانے لگتا تھا کہ سور کے کان اکھاڑ لوں۔ مگر ان حضرت کو کبھی اسے کچھ کہتے نہیں دیکھا۔ آپ نہا کر دھوتی چھانٹ رہے ہیں اور و ہ دور بیٹھا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ میرا خون کھولنے لگتا، لیکن انہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ جب میرے ڈانٹنے پر دھوتی چھانٹنے جاتا بھی تو آپ اسے قریب نہ آنے دیتے۔ اس کے عیبوں کو ہنر بنا کر دکھایا کرتے تھے اور اس کوشش میں کامیاب نہ ہوتے تو ان عیوب پر پردہ ڈال دیتے تھے۔ کم بخت کو جھاڑو دینے کی بھی تمیز نہ تھی۔ مردانہ کمرہ ہی تو سارے گھر میں ڈھنگ کا ایک کمرہ ہے، اس میں جھاڑو دیتا تو ادھر کی چیز اُدھر، اوپر کی نیچے گویا سارے کمرے میں زلزلہ آ گیا ہو۔ اور گرد کا یہ عالم کہ سانس لینی مشکل مگر آپ کمرے میں اطمینان سے بیٹھے رہتے۔ گویا کوئی بات ہی نہیں۔ ایک دن میں نے اسے خوب ڈانٹا اور کہہ دیا، “اگر کل سے تو نے سلیقے سے جھاڑو نہ دی تو کھڑے کھڑے نکال دوں گی۔”

سویرے سو کر اٹھتی تو دیکھتی ہوں کمرے میں جھاڑو دی ہوئی ہے۔ ہر ایک چیز قرینے سے رکھی ہے۔ گرد و غبار کا کہیں نام نہیں۔ آپ نے فوراً ہنس کر کہا، “دیکھتی کیا ہو، آج گھورے نے بڑے سویرے جھاڑو دی ہے۔ میں نے سمجھا دیا، تم طریقہ تو بتلاتی نہیں ہو، الٹی ڈانٹنے لگتی ہو۔” لیجئے صاحب! یہ بھی میری ہی خطا تھی۔ خیر، میں نے سمجھا اس نالائق نے کم سے کم ایک کام تو سلیقے کے ساتھ کیا۔ اب روز کمرہ صاف ستھرا ملتا اور میری نگاہوں میں گھورے کی کچھ وقعت ہونے لگی۔ اتفاق کی بات ایک دن میں ذرا معمول سے سویرے اٹھ بیٹھی اور کمرے میں آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ گھورے دروازے پر کھڑا ہے اور خود بدولت بڑی تن دہی سے جھاڑو دے رہے ہیں۔ مجھ سے ضبط نہ ہو سکا۔ ان کے ہاتھ سے جھاڑو چھین لی اور گھورے کے سر پر پٹک دی۔ حرام خور کو اسی وقت دھتکار بتائی۔ آپ فرمانے لگے، اس کی تنخواہ تو بیباق کر دو۔ خوب! ایک تو کام نہ کرے، دوسرے آنکھیں دکھائے، اس پر تنخواہ بھی دے دوں۔ میں نے ایک کوڑی بھی نہ دی۔ ایک کرتا دیا تھا وہ بھی چھین لیا۔ اس پر حضرت کئی دن مجھ سے روٹھے رہے۔ گھر چھوڑ کر بھاگے جا رہے تھے، بڑی مشکلوں سے رکے۔

ایک دن مہتر نے اتارے کپڑوں کا سوال کیا۔ اس بے کاری کے زمانے میں فالتو کپڑے کس کے گھر میں ہیں۔ میرے یہاں تو ضروری کپڑے بھی نہیں۔ حضرت ہی کا توشہ خانہ ایک بغچی میں آ جائے گا جو ڈاک کے پارسل سے کہیں بھیجا جا سکتا ہے۔ پھر اس سال سردی کے موسم میں نئے کپڑے بنوانے کی نوبت بھی نہ آئی تھی۔ میں نے مہتر کو صاف جواب دے دیا۔ سردی کی شدت تھی اس کا مجھے خود احساس تھا۔ غریبوں پر کیا گزرتی ہے، اس کا بھی علم تھا لیکن میرے یا آپ کے پاس افسوس کے سوا اور کیا علاج ہے۔ جب رؤسا اور امرا کے پاس ایک مال گاڑی کپڑوں سے بھری ہوئی ہے تو پھر غربا کیوں نہ برہنگی کا عذاب جھیلیں۔ خیر! میں نے تو اسے جواب دے دیا۔ آپ نے کیا کیا، اپنا کوٹ اُتار کر اس کے حوالے کر دیا۔ میری آنکھوں میں خون اتر آیا۔ حضرت کے پاس یہی ایک کوٹ تھا۔ یہ خیال نہ ہوا کہ پہنیں گے کیا۔ مہتر نے سلام کیا، دعائیں دیں اور اپنی راہ لی۔ آخر کئی دن سردی کھاتے رہے، صبح کو گھومنے جایا کرتے تھے، وہ سلسلہ بھی بند ہو گیا۔ مگر دل بھی قدرت نے انہیں عجیب قسم کا دیا ہے۔ پھٹے پرانے کپڑے پہنتے آپ کو شرم نہیں آتی۔ میں تو کٹ جاتی ہوں، آپ کو مطلق احساس نہیں۔ کوئی ہنستا ہے تو ہنسے۔ آپ کی بلا سے۔ آخر مجھ سے دیکھا نہ گیا تو ایک کوٹ بنوا دیا۔ جی تو جلتا تھا کہ خوب سردی کھانے دوں مگر ڈری کہ کہیں بیمار پڑ جائیں تو اور بھی آفت آ جائے۔ آخر کام تو انہیں کو کرنا ہے۔ یہ اپنے دل میں سمجھتے ہوں گے کہ میں کتنا نیک نفس اور منکسر المزاج ہوں۔ شاید انہیں ان اوصاف پر ناز ہو۔ میں انہیں نیک نفس نہیں سمجھتی ہوں۔ یہ سادہ لوحی نہیں، سیدھی سادی حماقت ہے۔ جس مہتر کو آپ نے اپنا کوٹ دیا اسی کو میں نے کئی بار رات کو شراب کے نشے میں بد مست جھومتے دیکھا ہے اور آپ کو دکھا بھی دیا ہے، تو پھر دوسروں کی کج روی کا تاوان ہم کیوں دیں؟ اگر آپ نیک نفس اور فیاض ہوتے تو گھر والوں سے بھی تو فیاضانہ برتاؤ کرتے یا ساری فیاضی باہر والوں کے لئے ہی مخصوص ہے۔ گھر والوں کو اس کا عشرِ عشیر بھی نہ ملنا چاہئے؟ اتنی عمر گزر گئی مگر اس شخص نے کبھی اپنے دل سے میرے لئے ایک سوغات بھی نہ خریدی۔ بے شک جو چیز طلب کروں اسے بازار سے لانے میں انہیں کلام نہیں، مطلق عذر نہیں مگر روپیہ بھی دے دوں یہ شرط ہے۔ انہیں خود کبھی توفیق نہیں ہوتی۔ یہ میں مانتی ہوں کہ بچارے اپنے لئے بھی کچھ نہیں لاتے۔ میں جو کچھ منگوا دوں اسی پر قناعت کر لیتے ہیں۔ مگر انسان کبھی کبھی شوق کی چیزیں چاہتا ہی ہے اور مردوں کو دیکھتی ہوں، گھر میں عورت کے لئے طرح طرح کے زیور، کپڑے، شوق سنگھار کے لوازمات لاتے رہتے ہیں۔ یہاں یہ رسم ممنوع ہے۔ بچوں کے لئے مٹھائی، کھلونے، باجے، بگل شاید اپنی زندگی میں ایک بار بھی نہ لائے ہوں، قسم سی کھا لی ہے۔ اس لئے میں تو انہیں بخیل کہوں گی، مردہ دل ہی کہوں گی۔ فیاض نہیں کہہ سکتی۔

دوسروں کے ساتھ ان کا جو فیاضانہ سلوک ہے اسے مَیں حرص نمود اور سادہ لوحی پر محمول کرتی ہوں۔ آپ کی منکسر المزاجی کا یہ حال ہے کہ جس دفتر میں آپ ملازم ہیں اس کے کسی عہدہ دار سے آپ کا میل جول نہیں۔ افسروں کو سلام کرنا تو آپ کے آئین کے خلاف ہے۔ نذر یا ڈالی کی بات تو الگ ہے اور تو اور کبھی کسی افسر کے گھر جاتے ہی نہیں۔ اس کا خمیازہ آپ نہ اُٹھائیں تو کون اُٹھائے اوروں کو رعایتی چھٹیاں ملتی ہیں، آپ کی تنخواہ کٹتی ہے اوروں کی ترقیاں ہوتی ہیں آپ کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ حاضری میں پانچ منٹ بھی دیر ہو جائے تو جواب طلب ہو جاتا ہے۔ بچارے جی توڑ کر کام کرتے ہیں۔ کوئی پیچیدہ، مشکل کام آ جائے تو انہیں کے سر منڈھا جاتا ہے۔ انہیں مطلق عذر نہیں، دفتر میں انہیں گھسو اور پسو وغیرہ خطابات ملے ہوئے ہیںمگر منزل کتنی ہی دشوار طے کریں ان کی تقدیر میں وہی سوکھی گھاس لکھی ہے۔ یہ انکساری نہیں ہے۔ میں تو اسے زمانہ شناسی کا فقدان کہتی ہوں۔ آخر کیوں کوئی شخص آپ سے خوش ہو۔ دُنیا میں مروت اور رواداری سے کام چلتا ہے، اگر ہم کسی سے کھنچے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہم سے نہ کھنچا رہے، پھر جب دل میں کبیدگی ہوتی ہے تو وہ دفتری تعلقات میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ جو ماتحت افسر کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جس کی ذات سے افسر کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے، جس پر اعتبار ہوتا ہے، اس کا لحاظ وہ لازمی طور پر کرتا ہے۔ ایسے بے غرضوں سے کیوں کسی کو ہمدردی ہونے لگی۔ افسر بھی انسان ہیں۔ ان کے دل میں جو اعزاز و امتیار کی ہوس ہوتی ہے وہ کہاں پوری ہو۔ جب اس کے ماتحت ہی فرنٹ رہیں۔ آپ نے جہاں ملازمت کی وہاں سے نکالے گئے۔ کبھی کسی دفتر میں سال دو سال سے زیادہ نہ چلے۔ یا تو افسروں سے لڑ گئے یا کام کی کثرت کی شکایت کر بیٹھے۔

آپ کو کنبہ پروری کا دعویٰ ہے۔ آپ کے کئی بھائی بھتیجے ہیں۔ وہ کبھی آپ کی بات بھی نہیں پوچھتے۔ مگر آپ برابر ان کا منہ تاکتے رہتے ہیں۔ ان کے ایک بھائی صاحب آج کل تحصیل دار ہیں۔ گھر کی جائیداد انہی کی نگرانی میں ہے۔ وہ شان سے رہتے ہیں، موٹر خرید لی ہے۔ کئی نوکر ہیں، مگر یہاں بھولے سے بھی خط نہیں لکھتے۔ ایک بار ہمیں روپے کی سخت ضرورت ہوئی، میں نے کہا اپنے برادر مکرم سے کیوں نہیں مانگتے؟ کہنے لگے انہیں کیوں پریشان کروں۔ آخر انہیں بھی تو اپنا خرچ کرنا ہے۔ کون سی ایسی بچت ہو جاتی ہو گی۔ میں نے بہت مجبور کیا، تو آ پ نے خط لکھا۔ معلوم نہیں خط میں کیا لکھا، لیکن روپے نہ آنے تھے نہ آئے۔ کئی دنوں کے بعد میں نے پوچھا، “کچھ جواب آیا حضور کے بھائی صاحب کے دربار سے؟” آپ نے ترش ہو کر کہا، “ابھی ایک ہفتہ تو خط بھیجے ہوا۔ ابھی کیا جواب آ سکتا ہے؟ ایک ہفتہ اور گزرا۔ اب آپ کا یہ حال ہے کہ مجھے کوئی بات کرنے کا موقع ہی نہیں عطا فرماتے۔ اتنے بشاش نظر آتے ہیں کہ کیا کہوں۔ باہر سے آتے ہیں تو خوش خوش۔ کوئی نہ کوئی شگوفہ لئے ہوئے۔ میری خوشامد بھی خوب ہو رہی ہے۔ میرے میکے والوں کی بھی تعریف ہو رہی ہے۔ میں حضرت کی چال سمجھ رہی تھی۔ یہ ساری دلجوئیاں محض اس لئے تھیں کہ آپ کے برادرم مکرم کے متعلق کچھ پوچھ نہ بیٹھوں۔ سارے، ملکی، مالی، اخلاقی تمدنی مسائل میرے سامنے بیان کئے جاتے تھے، اتنی تفصیل اور شرح کے ساتھ کہ پروفیسر بھی دنگ رہ جائے۔ محض اس لئے کہ مجھے اس امر کی بابت کچھ پوچھنے کا موقع نہ ملے لیکن میں کیا چُوکنے والی تھی، جب پورے دو ہفتے گزر گئے اور بیمہ کمپنی کے روپے روانہ کرنے کی تاریخ موت کی طرح سر پر آ پہنچی تو میں نے پوچھا کیا ہوا؟ تمہارے بھائی صاحب نے دہن مبارک سے کچھ فرمایا یا ابھی تک خط ہی نہیں پہنچا۔ آخر ہمارا حصہ بھی گھر کی جائیداد میں کچھ ہے یا نہیں یا ہم کسی لونڈی باندی کی اولاد ہیں؟ پانچ سو روپے سال کا منافع نو دس سال قبل تھا، اب ایک ہزار سے کم نہ ہو گا۔ کبھی ایک جھنجی کوڑی بھی ہمیں نہ ملی۔ موٹے حساب سے ہمیں دو ہزار ملنا چاہئے۔ دو ہزار نہ ہو، ایک ہزار ہو، پانچ سو ہو، ڈھائی سو ہو، کچھ نہ ہو تو بیمہ کمپنی کے پریمیم بھرنے کو تو ہو۔ تحصیل دار کی آمدنی ہماری آمدنی سے چوگنی ہے، رشوتیں بھی لیتے ہیں۔ تو پھر ہمارے روپے کیوں نہیں دیتے۔ آپ ہیں ہیں، ہاں ہاں کرنے لگے۔ بچارے گھر کی مرمت کراتے ہیں۔ عزیز و اقارب کی مہمان داری کا بار بھی تو انہیں پر ہے۔ خوب! گویا جائداد کا منشا محض یہ ہے کہ اس کی کمائی اسی میں صرف ہو جائے۔ اس بھلے آدمی کو بہانے بھی گھڑنے نہیں آتے۔ مجھ سے پوچھتے، میں ایک نہیں تو ہزار بتا دیتی۔ کہہ دیتے گھر میں آگ لگ گئی۔ سارا اثاثہ جل کر خاک ہو گیا۔ یا چوری ہو گئی۔ چور نے گھر میں تنکا تک نہ چھوڑا۔ یا دس ہزار کا غلّہ خریدا تھا۔ اس میں خسارہ ہو گیا۔ گھاٹے سے بیچنا پڑا۔ یا کسی سے مقدمہ بازی ہو گئی اس میں دیوالیہ پٹ گیا۔

آپ کو سوجھی بھی تو لچر سی بات۔ اس جولانئ طبع پر آپ مصنف اور شاعر بھی بنتے ہیں۔ تقدیر ٹھونک کر بیٹھی رہی۔ پڑوس کی بی بی سے قرض لئے تب جا کر کہیں کام چلا۔ پھر بھی آپ بھائی بھتیجوں کی تعریف کے پل باندھتے ہیں تو میرے جسم میں آگ لگ جاتی ہے۔ ایسے برادرانِ یوسف سے خدا بچائے۔

خدا کے فضل سے آپ کے دو بچے ہیں، دو بچیاں بھی ہیں۔ خدا کا فضل کہوں یا خدا کا قہر کہوں، سب کے سب اتنے شریر ہو گئے کہ معاذ اللہ۔ مگر کیا مجال کہ یہ بھلے مانس کسی بچے کو تیز نگاہ سے بھی دیکھیں۔ رات کے آٹھ بج گئے ہیں، بڑے صاحب زادے ابھی گھوم کر نہیں آئے۔ میں گھبرا رہی ہوں۔ آپ اطمینان سے بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں۔ جھلائی ہوئی آتی ہوں اور اخبار چھین کر کہتی ہوں، “جا کر ذرا دیکھتے کیوں نہیں لونڈا کہاں رہ گیا۔ نہ جانے تمہارے دل میں کچھ قلق ہے بھی یا نہیں۔ تمہیں تو خدا نے اولاد ہی ناحق دی۔ آج آئے تو خوب ڈانٹنا۔” تب آپ بھی گرم ہو جاتے ہیں۔ “ابھی تک نہیں آیا۔ بڑا شیطان ہے۔ آج بچوُ آتے ہیں تو کان اکھاڑ لیتا ہوں، مارے تھپڑوں کے کھال ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔ یوں بگڑ کر طیش کے عالم میں آپ اس کو تلاش کرنے نکلتے ہیں۔ اتفاق سے آپ ادھر جاتے ہیں، ادھر لڑکا آ جاتا ہے۔ میں کہتی ہوں کدھر سے آ گیا۔ وہ بچارے تجھے ڈھونڈنے گئے ہوئے ہیں۔ دیکھنا آج کیسی مرمت ہوتی ہے۔ یہ عادت ہی چھوٹ جائے گی۔ دانت پیس رہے تھے آتے ہی ہوں گے۔ چھڑی بھی ہاتھ میں ہے۔ تم اتنے شریر ہو گئے ہو کہ بات نہیں سنتے۔ آج قدر و عافیت معلوم ہو گی۔ لڑکا سہم جاتا ہے اور لیمپ جلا کر پڑھنے لگتا ہے۔ آپ ڈیڑھ دو گھنٹے میں لوٹتے ہیں۔ حیران و پریشان اور بدحواس، گھر میں قدم رکھتے ہی پوچھتے ہیں، “آیا کہ نہیں؟”

میں ان کا غصہ بھڑکانے کے ارادے سے کہتی ہوں، “آ کر بیٹھا تو ہے جا کر پوچھتے کیوں نہیں، پوچھ کر ہار گئی کہاں گیا تھا۔ کچھ بولتا ہی نہیں۔”

آپ گرج پڑتے ہیں، “منو! یہاں آؤ”

لڑکا تھر تھر کانپتا ہوا آ کر آنگن میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ دونوں بچیاں گھر میں چھپ جاتی ہیں کہ خدا جانے کیا آفت نازل ہونے والی ہے۔ چھوٹا بچہ کھڑکی سے چوہے کی طرح جھانک رہا ہے۔ آپ جامے سے باہر ہیں۔ ہاتھ میں چھڑی ہے۔ میں بھی وہ غضب ناک چہرہ دیکھ کر پچھتانے لگتی ہوں کہ کیوں ان سے شکایت کی۔ آپ لڑکے کے پاس جاتے ہیں مگر بجائے اس کے کہ چھڑی سے اس کی مرمت کریں۔ آہستہ سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بناوٹی غصے سے کہتے ہیں۔ “تم کہاں گئے تھے جی! منع کیا جاتا ہے۔ مانتے نہیں ہو۔ خبردار جو اب اتنی دیر کی۔ آدمی شام کو گھر چلا آتا ہے یا ادھر ادھر گھومتا ہے؟”

میں سمجھ رہی ہوں یہ تمہید ہے۔ قصیدہ اب شروع ہو گا، گریز تو بری نہیں لیکن یہاں تمہید ہی خاتمہ ہو جاتی ہے۔ بس آپ کا غصہ فرو ہو گیا۔ لڑکا اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے اور غالباً خوشی سے اچھلنے لگتا ہے۔ میں احتجاج کی صدا بلند کرتی ہوں۔ “تم تو جیسے ڈر گئے، بھلا دو چار تمانچے تو لگائے ہوتے۔ اس طرح تو لڑکے شیر ہو جاتے ہیں۔ آج آٹھ بجے آیا ہے۔ کل نو بجے کی خبر لائے گا۔ اس نے بھی دل میں کیا سوچا ہو گا۔”

آپ فرماتے ہیں، “تم نے سنا نہیں میں نے کتنی زور سے ڈانٹا۔ بچے کی روح ہی فنا ہو گئی۔ دیکھ لینا جو پھر کبھی دیر میں آئے۔” “تم نے ڈانٹا تو نہیں ہاں آنسو پونچھ دیئے۔”

آپ نے ایک نئی اپج نکالی ہے کہ لڑکے تادیب سے خراب ہو جاتے ہیں۔ آپ کے خیال میں لڑکوں کو آزاد رہنا چاہئے۔ ان پر کسی قسم کی بندش یا دباؤ نہ ہونا چاہئے۔ بندش سے آپ کے خیال میں لڑکے کی دماغی نشو و نمامیں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے، کبھی گولیاں، کبھی کنکوے۔ حضرت بھی انہیں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ چالیس سال سے تو متجاوز آپ کی عمر ہے مگر لڑکپن دل سے نہیں گیا۔ میرے باپ کے سامنے مجال تھی کہ کوئی لڑکا کنکوا اڑا لے یا گلی ڈنڈا کھیل سکے۔ خون پی جاتے۔ صبح سے لڑکوں کو پڑھانے بیٹھ جاتے۔ اسکول سے جوں ہی لڑکے واپس آتے پھر لے بیٹھتے۔ بس شام کو آدھے گھنٹے کی چھٹی دیتے۔ رات کو پھر کام میں جوت دیتے۔ یہ نہیں کہ آپ تو اخبار پڑھیں اور لڑکے گلی گلی کی خاک چھانتے پھریں۔

کبھی آپ بھی سینگ کٹا کر بچھڑے بن جاتے ہیں، لڑکوں کے ساتھ تاش کھیلنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسے باپ کا لڑکوں پر کیا رعب ہو سکتا ہے۔ ابا جان کے سامنے میرے بھائی سیدھے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ان کی آواز سنتے ہی قیامت آ جاتی تھی۔ انہوں نے گھر میں قدم رکھا اور خاموشی طاری ہوئی۔ ان کے رو برو جاتے ہوئے لڑکوں کی جان نکلتی تھی اور اسی تعلیم کی برکت ہے کہ سبھی اچھے عہدوں پر پہنچ گئے۔ صحت البتہ کسی کی بہت اچھی نہیں ہے۔ تو ابا جان کی صحت ہی کون سی بہت اچھی تھی۔ بچارے ہمیشہ کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا رہتے۔ پھر لڑکوں کی صحت کہاں سے اچھی ہو جاتی لیکن کچھ بھی ہو تعلیم و تادیب میں انہوں نے کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی۔ ایک روز میں نے حضرت کو بڑے صاحبزادے کی کنکوا کی تعلیم دیتے دیکھا۔ یوں گھماؤ، یوں غوطہ دو، یوں کھینچو، یوں ڈھیل دو۔ ایسا دل و جان سے سیکھا رہے تھے، گویا گرو منتر دے رہے ہوں۔ اس دن میں نے بھی ان کی ایسی خبر لی کہ یاد کرتے ہوں گے۔ میں نے صاف کہہ دیا تم کون ہوتے ہو میرے بچوں کو بگاڑنے والے۔ تمہیں گھر سے کوئی مطلب نہیں ہے، نہ ہو، لیکن میرے بچوں کو خراب مت کیجئے، برے برے شوق نہ پیدا کیجئے۔ اگر آپ انہیں سدھا نہیں سکتے تو کم سے کم بگاڑیئے تو مت۔ لگے باتیں بنانے، ابا جان کسی لڑکے کو میلے تماشے نہ لے جاتے تھے۔ لڑکا سر پٹک پٹک کر مر جائے مگر ذرا بھی نہ پسیجتے تھے اور ان بھلے آدمی کا یہ حال ہے کہ ایک ایک سے پوچھ کر میلے لے جاتے ہیں۔ چلو چلو، وہاں بڑی بہار ہے، خوب آتش بازیاں چھوٹیں گی، غبارے اڑیں گے۔ ولایتی چرخیاں بھی ہیں، ان میں مزے سے بیٹھنا اور تو اور آپ لڑکوں کو ہاکی کھیلنے سے بھی نہیں روکتے۔ یہ انگریزی کھیل بھی کتنے خوف ناک ہوتے ہیں۔ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی ایک سے ایک مہلک۔ گیند لگ جائے تو جان ہی لے کر چھوڑے۔ مگر آپ کو ان کھیلوں سے بڑی رغبت ہے۔ کوئی لڑکا میچ جیت کر آ جاتا ہے تو کتنے خوش ہوتے ہیں، گویا کوئی قلعہ فتح کر آیا ہو۔ حضرت کو ذرا بھی اندیشہ نہیں کہ کسی لڑکے کے چوٹ لگ گئی تو کیا ہو گا۔ ہاتھ پاؤں ٹوٹ گیا تو بچاروں کی زندگی کیسے پار لگے گی۔

پچھلے سال لڑکی کی شادی تھی۔ آپ کو یہ ضد تھی کہ جہیز کے نام کھوٹی کوڑی بھی نہ دیں گے۔ چاہے لڑکی ساری عمر کنواری بیٹھی رہے۔ آپ اہل دُنیا کی خبیث النفسی آئے دن دیکھتے رہتے ہیں۔ پھر بھی چشم بصیرت نہیں کھلتی۔ جب تک سماج کا یہ نظام قائم ہے اور لڑکی کا بلوغ کے بعد کنواری رہنا انگشت نمائی کا باعث ہے اس وقت تک یہ رسم فنا نہیں ہو سکتی۔ دو چار افراد بھلے ہی ایسے بیدار مغز نکل آئیں جو جہیز لینے سے انکار کریں لیکن اس کا اثر عام حالات پر کم ہوتا ہے اور برائی بدستور قائم رہتی ہے۔ جب لڑکوں کی طرح لڑکیوں کے لئے بھی بیس پچیس برس کی عمر تک کنواری رہنا بدنامی کا باعث نہ سمجھا جائے گا۔ اس وقت آپ ہی آپ یہ رسم رخصت ہو جائے گی۔ میں نے جہاں جہاں پیغام دئے، جہیز کا مسئلہ پیدا ہوا اور آپ نے ہر موقع پر ٹانگ اڑا دی۔ جب اس طرح ایک سال پورا گزر گیا اور لڑکی کا سترھواں سال شروع ہو گیا تو میں نے ایک جگہ بات پکی کر لی۔ حضرت بھی راضی ہو گئے کیوں کہ ان لوگوں نے قرارداد نہیں کی۔ حالانکہ دل میں انہیں پورا یقین تھا کہ ایک اچھی رقم ملے گی اور میں نے بھی طے کر لیا تھا کہ اپنے مقدور بھر کوئی بات اُٹھا نہ رکھوں گی۔ شادی کے بخیر و عافیت انجام پانے میں کوئی شبہ نہ تھا، لیکن ان مہاشے کے آگے میری ایک نہ چلتی تھی۔ یہ رسم بے ہودہ ہے۔ یہ رسم بے معنی ہے۔ یہاں روپے کی کیا ضرورت؟۔ یہاں گیتوں کی کیا ضرورت؟ ناک میں دم تھا۔ یہ کیوں وہ کیوں؟ یہ تو صاف جہیز ہے۔ تم نے میرے منہ میں کالک لگا دی۔ میری آبرو مٹا دی۔ ذرا خیال کیجئے بارات دروازے پر پڑی ہوئی۔ دن لڑکی کے ماں باپ برت رکھتے ہیں۔ میں نے بھی برت رکھا لیکن آپ کو ضد تھی۔ کہ برت کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب لڑکے کے والدین برت نہیں رکھتے تو لڑکی کے والدین کیوں رکھیں اور سارا خاندان ہر چند منع کرتا رہا لیکن آپ نے حسب معمول ناشتہ کیا، کھانا کھایا۔ خیر رات کو شادی کے وقت کنیا دان کی رسم آئی۔ آپ کو کنیا دان کی رسم پر ہمیشہ سے اعتراض ہے۔ اسے آپ مہمل سمجھتے ہیں۔ لڑکی دان کی چیز نہیں۔ دان روپے پیسے کا ہوتا ہے جانور بھی دان دئے جا سکتے ہیں لیکن لڑکی کا دان ایک لچر سی بات ہے۔ کتنا سمجھتی ہوں۔ “صاحب پرانا رواج ہے، شاستروں میں صاف اس کا حکم ہے۔ عزیز و اقارب سمجھا رہے ہیں مگر آپ ہیں کہ کان پر جوں نہیں رینگتی۔ کہتی ہوں دُنیا کیا کہے گی؟ یہ لوگ کیا بالکل لا مذہب ہو گئے مگر آپ کان ہی نہیں دھرتے۔ پیروں پڑی، یہاں تک کہا کہ بابا تم کچھ نہ کرنا جو کچھ کرنا ہو گا میں کر لوں گی۔ تم صرف چل کر منڈپ میں لڑکی کے پاس بیٹھ جاؤ اور اسے دُعا دو۔ مگر اس مرد خدا نے مطلق سماعت نہ کی۔ آخر مجھے رونا آگیا۔ باپ کے ہوتے میری لڑکی کا کنیا دان چچا یا ماموں کرے، یہ مجھے منظور نہ تھا۔ میں نے تنہا کنیا دان کی رسم ادا کی۔ آپ گھر جھانکے تک نہیں اور لطف یہ ہے کہ آپ ہی مجھ سے روٹھ بھی گئے۔ بارات کی رخصتی کے بعد مجھ سے مہینوں بولے نہیں۔ جھک مار کر مجھی کو منانا پڑا۔

مگر کچھ عجیب دل لگی ہے کہ ان ساری برائیوں کے باوجود میں ان سے ایک دن کے لئے بھی جدا نہیں رہ سکتی۔ ان سارے عیوب کے باوجود میں انہیں پیار کرتی ہوں۔ ان میں وہ کون سی خوبی ہے جس پر میں فریفتہ ہوں۔ مجھے خود نہیں معلوم۔ مگر کوئی چیز ہے ضرور جو مجھے ان کا غلام بنائے ہوئے ہے۔ وہ ذرا معمول سے دیر میں گھر آتے ہیں تو میں بے صبر ہو جاتی ہوں۔ ان کا سر بھی درد کرے تو میری جان نکل جاتی ہے۔ آج اگر تقدیر ان کے عوض مجھے کوئی علم اور عقل کا پتلا، حسن اور دولت کا دیوتا بھی دے تو میں اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھوں۔ یہ فرض کی بیڑی نہیں ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ رواجی وفاداری بھی نہیں ہے بلکہ ہم دونوں کی فطرتوں میں کچھ ایسی رواداریاں کچھ ایسی صلاحیتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ گویا کسی مشین کے کل پرزے گھس گھسا کر فٹ ہو گئے ہوں۔ ا ور ایک پرزے کی جگہ دوسرا پرزہ کام نہ دے سکے چاہے وہ پہلے سے کتنا ہی سڈول، نیا اور خوشنما کیوں نہ ہو۔ جانے ہوئے رستے سے ہم بے خوف، آنکھیں بند کئے چلے جاتے ہیں، اس کے نشیب و فراز، موڑ اور گھماؤ اب ہماری آنکھوں میں سمائے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس کسی انجان رستے پر چلنا کتنی زحمت کا باعث ہو سکتا ہے۔ قدم قدم پر گمراہ ہو جانے کے اندیشے، ہر لمحہ چور اور رہزن کا خوف، بلکہ شاید آج میں ان کی برائیوں کو خوبیوں سے تبدیل کرنے پر بھی تیار نہیں۔

—————————

APNE DUKH MUJHE DEDO BY BEDI

Articles

اپنے دُکھ مجھے دے دو

راجندر سنگھ بیدی

اپنے دُکھ مجھے دے دو

 

اندو نے پہلی بار ایک نظر اوپر دیکھتے ہوئے پھر آنکھیں بند کر لیں اور صرف اتنا سا کہا۔ “جی” اسے خود اپنی آواز کسی پاتال سے آئی ہوئی سنائی دی۔

دیر تک کچھ ایسا ہی ہوتا رہا اور پھر ہولے ہولے بات چل نکلی۔ اب جو چلی سو چلی۔ وہ تھمنے ہی میں نہ آتی تھی۔ اندو کے پتا، اندو کی ماں، اندو کے بھائی، مدن کے بھائی بہن، باپ، ان کی ریلوے سیل سروس کی نوکری، ان کے مزاج، کپڑوں کی پسند، کھانے کی عادت، سبھی کا جائزہ لیا جانے لگا۔ بیچ بیچ میں مدن بات چیت کو توڑ کر کچھ اور ہی کرنا چاہتا تھا لیکن اندو طرح دے جاتی تھی۔ انتہائی مجبوری اور لاچاری میں مدن نے اپنی ماں کا ذکر چھیڑ دیا جو اسے سات سال کی عمر میں چھوڑ کر دق کے عارضے سے چلتی بنی تھی۔ “جتنی دیر زندہ رہی بیچاری” مدن نے کہا۔ “بابو جی کے ہاتھ میں دوائی کی شیشیاں رہیں۔ ہم اسپتال کی سیڑھیوں پر اور چھوٹا پاشی گھر میں چیونٹیوں کے بل پر سوتے رہے اور آخر ایک دن28 مارچ کی شام” اور مدن چپ ہو گیا۔ چند ہی لمحوں میں وہ رونے سے ذرا ادھر اور گھگھی سے ذرا اُدھر پہنچ گیا۔ اندو نے گھبرا کر مدن کا سر اپنی چھاتی سے لگا لیا۔ اس رونے نے پل بھر میں اندو کو اپنے پن سے ادھر اور بیگانے پن سے ادھر پہنچا دیا تھامدن اندو کے بارے میں کچھ اور بھی جاننا چاہتا تھا لیکن اندو نے اس کے ہاتھ پکڑ لئے اور کہا۔ “میں تو پڑھی لکھی نہیں ہو ں جیپر میں نے ماں باپ دیکھے ہیں، بھائی اور بھابھیاں دیکھی ہیں، بیسیوں اور لو گ دیکھے ہیں۔ اس لئے میں کچھ سمجھتی بوجھتی ہوںمیں اب تمہاری ہوںاپنے بدلے میں تم سے ایک ہی چیز مانگتی ہوں۔”

روتے وقت اور اس کے بعد بھی ایک نشہ سا تھا۔ مدن نے کچھ بے صبری اور؟؟؟؟کے ملے جلے شبدوں میں کہا”کیا مانگتی ہو؟ تم جو بھی کہو گی میں دو ں گا۔”

“پکی بات؟” اندو بولی۔

مدن نے کچھ اتادلے ہو کر کہا۔ “ہاں ہاں کہا جو پکی بات۔”

لیکن اس بیچ میں مدن کے من میں ایک وسوسہ آیامیرا کاروبار پہلے ہی مندا ہے، اگر اندو کوئی ایسی چیز مانگ لے جو میری پہنچ ہی سے باہر ہو تو پھر کیا ہو گا؟ لیکن اندو نے مدن کے سخت اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ملائم ہاتھوں سے سمیٹتے ہوئے ان پر اپنے گال رکھتے ہوئے کہا۔

“تم اپنے دکھ مجھے دو۔”

مدن سخت حیران ہوا۔ ساتھ ہی اپنے آپ پر ایک بوجھ اترتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے چاندنی میں ایک بار پھر اندو کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ نہ جان پایا۔ اس نے سوچا یہ ماں یا کسی سہیلی کا رٹا ہوا فقرہ ہو گا جو اندو نے کہہ دیا۔ جبھی یہ جلتا ہوا آنسو مدن کے ہاتھ کی پشت پر گرا۔ اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا۔

“دئے!” لیکن ان سب باتوں نے مدن سے اس کی بہیمت چھین لی تھی۔

مہان ایک ایک کر کے سب رخصت ہوئے۔ چکلی بھابھی دو بچوں کو انگلیوں سے لگائے سیڑھیوں کی اونچ نیچ سے تیسرا پیٹ سنبھالتی ہوئی چل دی۔ دریا آباد والی پھوپھی جو اپنے “نولکھے ” ہار کے گم ہو جانے پر شور مچاتی واویلا کرتی ہوئی بے ہوش ہو گئی تھی اور جو غسل خانے میں پڑا ہو ا مل گیا تھا، جہیز میں سے اپنے حصے کے تین کپڑے لے کر چلی گئی۔ پھر چاچا گئے۔ جن کو ان کے جے پی ہو جانے کی خبر تار کے ذریعے ملی تھی اور جو شاید بد حواسی میں مدن کی بجائے دلہن کا منہ چومنے چلے تھے۔

گھر میں بوڑھا باپ رہ گیا تھا اور چھوٹے بہن بھائی۔ چھوٹی دلاری تو ہر وقت بھابی کی ہی بغل میں گھسی رہتی۔ گلی محلے کی کوئی عورت دلہن کو دیکھے یا نہ دیکھے۔ دیکھے تو کتنی دیر دیکھے۔ یہ سب اس کے اختیار میں تھا۔ آخر یہ سب ختم ہوا اور آہستہ آہستہ پرانی ہو نے لگی لیکن کا کا جی کی اس نئی آبادی کے لوگ اب بھی آتے جاتے۔ مدن تو اس کے سامنے رک جاتے اور کسی بھی بہانے سے اندر چلے آتے۔ اندو انہیں دیکھتے ہی ایک دم گھونگٹ کھینچ لیتی لیکن اس چھوٹے سے وقفے میں جو کچھ دکھائی دے جاتا وہ بنا گھونگٹ کے دکھائی ہی نہ دے سکتا تھا۔

مدن کا کاروبار گندے بروزے کا تھا۔ کہیں بڑی سپلائی والے دو تین جنگلوں میں چیڑ اور دیودار کے پیڑوں کی جنگل میں آگ نے آ لیا تھا اور وہ دھڑا دھڑ جلتے ہوئے خاک سیاہ ہو کر رہ گئے تھے۔۔ شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پھسلا کر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی اندھیرے کا بھاگ بنی جا رہی تھی۔ باہر چکلی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانیوں میں مصری کی طرح دھیرے دھیرے گھل رہی تھی۔ عورتیں سب یہی سمجھتی تھیں کہ اتنا بڑا ہو جانے پر بھی مدن کچھ نہیں جانتا۔ کیونکہ جب اسے بیچ رات سے جگایا گیا تو وہ ہڑبڑا رہا تھا۔ “کہاں، کہاں لئے جا رہی ہو مجھے؟”

ان عورتوں کے اپنے اپنے دن بیت چکے تھے۔ پہلی رات کے بارے میں ان کے شریر شوہروں نے جو کچھ کہا اور مانا تھا، اس کی گونج ان کے کانوں میں باقی نہ رہی تھی۔ وہ خود رس بس چکی تھیں اور اب اپنی ایک اور بہن کو بسانے پر تلی ہوئی تھیں۔ زمین کی یہ بیٹیاں مرد کو تو یوں سمجھتی تھیں جیسے بادل کا ٹکڑا ہے جس کی طرف بارش کے لئے منہ اٹھا کر دیکھنا ہی پڑتا ہے۔ نہ برسے تو منتیں ماننی پڑتی ہیں۔ چڑھاوے چڑھانے پڑتے ہیں۔ جادو ٹونے کرنے ہوتے ہیں۔ حالانکہ مدن کالکا جی کی اس نئی آبادی میں گھر کے سامنے کی جگہ میں پڑا اسی وقت کا منتظر تھا۔ پھر شامتِ اعمال پڑوسی سبطے کی بھینس اس کی کھاٹ ہی کے پاس بندھی تھی جو بار بار پھنکارتی ہوئی مدن کو سونگھ لیتی تھی اور وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اسے دور رکھنے کی کوشش کرتا۔ ایسے میں بھلا نیند کا سوال ہی کہاں تھا؟

سمندر کی لہروں اور عورت کے خون کو راستہ بتانے والا چاند ایک کھڑکی کے راستے سے اندر چلا آیا تھا اور دیکھ رہا تھا۔ دروازے کے اس طرف کھڑا مدن اگلا قدم کہاں رکھتا ہے۔ مدن کے اپنے اندر ایک گھن گرج سی ہو رہی تھی اور اسے اپنا آپ یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے بجلی کا کھمبا ہے جسے کان لگانے سے اسے اندر کی سنسناہٹ سنائی دے جائے گی۔ کچھ دیر یونہی کھڑے رہنے کے بعد اس نے آگے بڑھ کر پلنگ کو کھینچ کر چاندنی میں کر دیا تاکہ دلہن کا چہرہ تو دیکھ سکے۔ پھر وہ ٹھٹک گیا۔ جب اس نے سوچااندو میری بیوی ہے۔ کوئی پرائی عورت تو نہیں جسے نہ چھونے کا سبق بچپن ہی سے پڑھتا آیا ہوں۔ شالو میں لپٹی ہوئی دلہن کو دیکھتے ہوئے اس نے فرض کر لیا، وہاں اندو کا منہ ہو گا۔ اور جب ہاتھ بڑھا کر اس نے پاس پڑی گٹھڑی کو چھوا تو وہیں اندو کا منہ تھا۔ مدن نے سوچا تھا وہ آسانی سے مجھے اپنا آپ نہ دیکھنے دے گی لیکن اندو نے ایسا نہ کیا۔ جیسے پچھلے کئی سالوں سے وہ بھی اسی لمحے کی منتظر ہو اور کسی خیالی بھینس کے سونگھتے رہنے سے اسے بھی نیند نہ آ رہی ہو۔ غائب نیند اور بند آنکھوں کا کرب اندھیرے کے باوجود سامنے پھڑپھڑاتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ ٹھوڑی تک پہنچتے ہوئے عام طور پو چہرہ لمبوترا ہو جاتا ہے لیکن یہاں تو سبھی گول تھا۔ شاید اسی لئے چاندنی کی طرف گال اور ہونٹوں کے بیچ ایک سائے دار کھوہ سی بنی ہوئی تھی۔ جیسی دو سر سبز اور شاداب ٹیلوں کے بیچ ہوتی ہے۔ ماتھا کچھ تنگ تھا لیکن اس پر سے ایکا ایکی اٹھنے والے گھنگھریالے بال۔

جبھی اندو نے اپنا چہرہ چھڑا لیا جیسے وہ دیکھنے کی اجازت تو دیتی ہو لیکن اتنی دیر کے لئے نہیں۔ آخر شرم کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے۔ مدن نے ذرا سخت ہاتھوں سے یوں ہی سی ہوں ہاں کرتے ہوئے دلہن کا چہرہ پھر سے اوپر کو اٹھا دیا اور شرابی سی آواز میں کہا۔ “اندو!”

اندو کچھ ڈر سی گئی۔ زندگی میں پہلی بار کسی اجنبی نے اس کا نام اس انداز سے پکارا تھا اور وہ اجنبی کسی خدائی حق سے رات کے اندھیرے میں آہستہ آہستہ اس اکیلی بے یار و مددگار عورت کا اپنا ہوتا جا رہا تھا۔۔

“میں نے تو ابھی سے چار سوٹ اور کچھ برتن الگ کر ڈالے ہیں اس کے لئے اور جب مدن نے کوئی جواب نہ دیا تو اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولی۔ “تم کیوں پریشان ہوتے ہویاد نہیں اپنا وچن؟ تم اپنے دکھ مجھے دے چکے ہو۔”

“ایں؟” مدن نے چونکتے ہوئے کہا اور جیسے بے فکر ہو گیا لیکن اب کے جب اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹایا تو وہاں ایک جسم ہی نہیں رہ گیا تھا ساتھ ایک روح بھی شامل ہو گئی تھی۔

مدن کے لئے اندو روح ہی روح تھی۔ اندو کا جسم بھی تھا لیکن وہ ہمیشہ کسی نہ کسی وجہ سے مدن کی نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ ایک پردہ تھا۔ خواب کے تاروں سے بنا ہوا۔ انہوں کے دھوئیں سے رنگین قہقہوں کی زر تاری سے چکا چوند جو ہر وقت اندو کو ڈھانپے رہتا تھا۔ مدن کی نگاہوں اور اس کے ہاتھوں کے دو شاسن صدیوں سے اس درو پدی کا چیر ہرن کرتے آئے تھے جو کہ عرفِ عام میں بیوی کہلاتی ہے لیکن ہمیشہ اسے آسمانوں سے تھانوں کے تھان، گزوں کے گز، کپڑا ننگا پن ڈھانپنے کے لئے ملتا آیا تھا۔ دو شاسن تھک ہار کے یہاں وہاں گرے پڑے تھے لیکن درو پدی وہیں کھڑی تھیں، عزت اور پاکیزگی کی ایک سفید اور بے داغ ساری میں ملبوس وہ دیوی لگ رہی تھی۔ اور مدن کے لوٹتے ہوئے ہاتھ خجالت کے پسینے سے تر ہوئے، جسے سکھانے کے لئے وہ انہیں اوپر ہوا میں اٹھا دیتا اور پھر ہاتھ کے پنجوں کو پورے طور پر پھیلا تا ہوا، ایک تشنجی کیفیت میں اپنی آنکھوں کی پھیلتی پھٹتی ہوئی پتلیوں کو سامنے رکھ دیا اور پھر انگلیوں کے بیچ میں سے جھانکتااندو کا مر مریں جسم خوش رنگ اور گداز سامنے پڑا ہوتا۔ استعمال کے لئے پاس، ابتذال کے لئے دورکبھی جب اندو کی ناکہ بندی ہو جاتی تو اس قسم کے فقرے ہوتے

“ہائے جی” گھر میں چھوٹے بڑے ہیں۔ وہ کیا کہیں گے؟

مدن کہتا۔ “چھوٹے سمجھتے نہیںبڑے انجان بن جاتے ہیں۔”

اسی دوران میں بابو دھنی رام کی تبدیلی سہارنپور ہو گئی۔ وہاں وہ ریلوے میل سروس میں سیلیکشن گریڈ کے ہیڈ کلرک ہو گئے۔ اتنا بڑا کوارٹر ملا کہ اس میں آٹھ کنبے رہ سکتے تھے لیکن بابو دھنی رام اس میں اکیلے ہی ٹانگیں پھیلائے کھڑے رہتے۔ زندگی بھر وہ بال بچوں سے کبھی علیٰحدہ نہیں ہوئے تھے۔ سخت گھریلو قسم کے آدمی۔ آخری زندگی میں اس تنہائی نے ان کے دل میں وحشت پیدا کر دی لیکن مجبوری تھی، بچے سب دلی میں مدن اور اندو کے پاس تھے اور وہیں اسکول میں پڑھتے تھے۔ سال کے خاتمے سے پہلے انہیں بیچ میں اٹھانا ان کی پڑھائی کے لئے اچھا نہ تھا۔ بابو جی کے دل کے دورے پڑنے لگے۔

بارے گرمی کی چھٹیاں ہوئیں۔ ان کے بار بار لکھنے پر مدن نے اندو کو کندن، پاشی اور دلاری کے ساتھ سہارنپور بھیج دیادھنی رام کی دنیا چمک اٹھی۔ کہاں انہیں دفتر کے کام کے بعد فرصت ہی فرصت تھی اور کہاں اب کام ہی کام تھا۔ بچے بچوں ہی کی طرح جہاں کپڑے اتارتے ہیں وہیں پڑے رہنے دیتے اور بابو جی انہیں سمیٹتے پھرتے۔ اپنے مدن سے دور السانی ہوئی رتی، اندو تو اپنے پہناوے تک سے غافل ہو گئی تھی۔ وہ رسوئی میں یوں پھرتی تھی جیسے کانجی ہاؤس میں گائے، باہر کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر اپنے مالک کو ڈھونڈا کرتی ہو۔ کام وام کرنے کے بعد وہ کبھی اندر ٹرنکوں پر لیٹ جاتی۔ کبھی باہر کنیر کے بوٹے کے پاس اور کبھی آم کے پیڑ تلے جو آنگن میں کھڑا سینکڑوں ہزاروں دلوں کو تھامے ہوئے تھا۔

ساون بھادوں میں ڈھلنے لگا۔ آنگن میں سے باہر کا دریچہ کھلتا تو کنواریاں، نئی بیاہی ہوئی لڑکیاں پینگ بڑھاتے ہوئے گاتیںجھولا کن تے ڈارورے امریاںاور پھر گیت کے بول کے مطابق دو جھولتیں اور دو جھلاتیں اور کہیں چار مل جاتیں تو بھول بھلیاں ہو جاتیں۔ ادھیڑ عمر کی بوڑھی عورتیں ایک طرف کھڑی تکا کرتیں۔ اندو کو معلوم ہوتا جیسے وہ بھی ان میں شامل ہو گئی ہے۔ جبھی وہ منہ پھیر لیتی اور ٹھنڈی سانسیں بھرتی ہوئی سو جاتی۔ بابو جی پاس سے گزرتے تو اسے جگانے، اٹھانے کی ذرا بھی کوشش نہ کرتے۔

میسور اور آسام کی طرف سے منگوایا ہوا بیروزہ مہنگا پڑتا تھا اور لوگ اسے مہنگے داموں خریدنے کو تیار نہ تھے۔ ایک تو آمدنی کم ہو گئی تھی۔ اس پر مدن جلدی ہی دکان اور اس کے ساتھ والا دفتر بند کر کے گھر چلا آتا۔ گھر پہنچ کر اس کی ساری کوشش یہی ہوتی کہ سب کھائیں پئیں اور اپنے اپنے بستروں میں دبک جائیں۔ جب وہ کھاتے وقت خود تھالیاں اٹھا اٹھا کر باپ اور بہن کے سامنے رکھتا اور ان کے کھا چکنے کے جھوٹے برتنوں کو سمیٹ کر نل کے نیچے رکھ دیتا۔ سب سمجھتے بہو۔ بھابی نے مدن کے کان میں کچھ پھونکا ہے اور اب وہ گھر کے کام کاج میں دلچسپی لینے لگا ہے۔ مدن سب سے بڑا تھا۔ کندن اس سے چھوٹا اور پاشی سب سے چھوٹا۔ جب کندن بھابی کے سواگت میں سب کے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانے پر اصرار کرتا تو باپ دھنی رام وہیں ڈانٹ دیتا۔

“کھاؤ تم۔ ” وہ کہتا “وہ بھی کھا لیں گے” اور پھر رسوئی میں ادھر ادھر دیکھنے لگتا اور جب بہو کھانے پینے سے فارغ ہو جاتی اور برتنو ں کی طرف متوجہ ہوتی تو بابو دھنی رام اسے روکتے ہوئے کہتے۔ “رہنے دے بہو برتن صبح ہو جائیں گے۔”

اندو کہتی “نہیں بابو جیمیں ابھی کئے دیتی ہوں جھپاکے سے۔”

تب بابو دھنی رام ایک لرزتی ہوئی آواز میں کہتے “مدن کی ماں ہوتی بہو، تو یہ سب تمہیں نہ کرنے دیتی۔؟ اور اندو ایک دم اپنے ہاتھ روک لیتی۔

چھوٹا پاشی بھابی سے شرماتا تھا۔ اس خیال سے کہ دلہن کی گود جھٹ سے ہری ہو، چمکی بھابی اور دریا باد والی پھوپھی نے ایک رسم میں پاشی ہی کو اندو کی گود میں ڈالا تھا۔ جب سے اندو اسے نہ صرف دیور بلکہ اپنا بچہ سمجھنے لگی تھی۔ جب بھی وہ پیار سے پاشی کو اپنے بازوؤں میں لینے کی کوشش کرتی تو وہ گھبرا اٹھتا اور اپنا آپ چھڑا کر دو ہاتھ کی دوری پر کھڑا ہو جاتا۔ دیکھتا اور ہنستا رہتا۔ پاس آتا تو دور ہٹتا۔ ایک عجیب اتفاق سے ایسے میں بابو جی ہمیشہ وہیں موجود ہوتے اور پاشی کو ڈانٹتے ہوئے کہتے “ارے جانا بھابی پیا ر کرتی ہے ابھی سے مرد ہو گیا تو؟” اور دلاری تو پیچھا ہی نہ چھوڑتی اس کا۔ “میں تو بھابی کے ساتھ ہی سوؤں گی۔”کے اصرار نے بابو جی کے اندر کوئی جنا ردھن جگا دیا تھا۔ ایک رات اس بات پر دلاری کو زور سے چپت پڑی اور وہ گھر کی آدھی کچی، آدھی پکی نالی میں جا گری۔ اندو نے لپکتے ہوئے پکڑا تو سر سے دوپٹہ اڑ گیا۔ بالوں کے پھول اور چڑیاں، مانگ کا سیندور، کانوں کے کرن پھول سب ننگے ہو گئے۔ “بابو جی۔” اندو نے سانس کھینچتے ہوئے کہاایک ساتھ دلاری کو پکڑنے اور سر پر دوپٹہ اوڑھنے میں اندو کے پسینے چھوٹ گئے۔ اس بے ماں بچی کو چھاتی سے لگائے ہوئے اندو نے اسے ایک ایسے بستر میں سلا دیا جہاں سرہانے ہی سرہانے، تکئے ہی تکئے تھے۔ نہ کہیں پائنتی تھی نہ کاٹھ کے بازو۔ چوٹ تو ایک طرف کہیں کو چبھنے والی چیز بھی نہ تھی۔ پھر اندو کی انگلیاں دلاری کے پھوڑے ایسے سر پر چلتی ہوئی اسے دکھا بھی رہی تھیں اور مزا بھی دے رہی تھیں۔ دلاری کے گالوں پر بڑے بڑے اور پیارے پیارے گڑھے پڑتے تھے۔ اندو نے ان گڑھوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا “ہائے ری منی! تیری ساس مرے، کیسے گڑھے پڑ رہے ہیں گالوں پر!”

منی نے منی کی طرح کہا۔ “گڑھے تمہارے بھی تو پڑتے ہیں بھابی۔”

“ہاں منو!” اندو نے کہا اور ایک ٹھنڈا سانس لیا۔

مدن کو کسی بات پر غصہ تھا۔ وہ پاس ہی کھڑا سب کچھ سن رہا تھا۔ “میں تو کہتا ہوں ایک طرح سے اچھا ہی ہے۔”

“کیوں اچھا کیوں ہے؟” اندو نے پوچھا۔

“ہاںنہ اُگے بانس نہ بجے بانسریسانس نہ ہو تو کوئی جھگڑا نہیں رہتا۔” اندو نے ایکا ایکی خفا ہوتے ہوئے کہا۔ “تم جاؤ جی سو رہو جا کربڑے آئے ہوآدمی جیتا ہے تو لڑتا ہے نا؟ مر گھٹ کی چپ چاپ سے جھگڑے بھلے۔ جاؤ نہ رسوئی میں تمہارا کیا کام؟”

مدن کھسیانا ہو کر رہ گیا۔ بابو دھنی رام کی ڈانٹ سے باقی بچے تو پہلے ہی اپنے اپنے بستروں میں یوں جا پڑے تھے جیسے دفتروں میں چھٹیاں سٹارٹ ہو تی ہیں۔

لیکن مدن وہیں کھڑا رہا۔ احتیاج نے اسے ڈھیٹ اور بے شرم بنا دیا تھا لیکن اس وقت جب اندو نے بھی اسے ڈانٹ دیا تو وہ روہانسا ہو کر اندر چلا گیا۔

دیر تک مدن بستر میں پڑا کسمساتا رہا لیکن بابو جی کے خیال سے اندو کو آواز دینے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اس کی بے صبری کی حد ہو گئی تھی۔ جب منی کو سلانے کے لئے اندو کی لوری کی آواز سنائی دی”تو آ نندیا رانی، بورائی مستانی۔”

وہی لوری جو دلاری منی کو سلا رہی تھی، مدن کی نیند بھگا رہی تھی۔ اپنے آپ سے بیزار ہو کر اس نے زور سے چادر سر پر کھینچ لی۔ سفید چادر کے سر پر لپیٹنے اور سانس کے بند کرنے سے خواہ مخواہ ایک مردے کا تصور پیدا ہو گیا۔ مدن کو یوں لگا جیسے وہ مر چکا ہے اور اس کی دلہن اندو اس کے پاس بیٹھی زور زور سے سر پیٹ رہی ہے، دیوار کے ساتھ کلائیاں مار مار کر چوڑیاں توڑ رہی ہے اور پھر باہر لپک جاتی ہے اور بانہیں اٹھا اٹھا کر اگلے محلے کے لوگوں سے فریاد کرتی ہے۔ “لوگو! میں لٹ گئی۔ ” اب اسے دوپٹے کی پرواہ نہیں۔ قمیض کی پرواہ نہیں۔ مانگ کا سیندور، بالوں کے پھول اور چوڑیاں، جذبات اور خیالات کے طوطے تک اڑ چکے ہیں۔

مدن کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو بہہ رہے تھے۔ حالانکہ رسوئی میں اندو ہنس رہی تھی۔ پل بھرمیں اپنے سہاگ کے اجڑنے اور پھر بس جانے سے بے خبر۔ مدن جب حقائق کی دنیا میں واپس آیا تو آنسو پونچھتے ہوئے اپنے اس رونے پر ہنسنے لگاادھر اندو تو ہنس رہی تھی لیکن اس کی ہنسی دبی دبی تھی۔ بابو جی کے خیال سے وہ کبھی اونچی آواز میں نہ ہنستی تھی جیسے کھلکھلاہٹ کوئی ننگا پن ہے، خاموشی، دوپٹہ اور دبی دبی ہنسی ایک گھونگٹ۔ پھر مدن نے اندو کا ایک خیالی بت بنایا اور اس سے بیسیوں باتیں کر ڈالیں۔ یوں اس سے پیار کیا جیسے ابھی تک نہ کیا تھاوہ پھر اپنی دنیا میں لوٹا جس میں ساتھ کا بستر خالی تھا۔ اس نے ہولے سے آواز دیاندوایک اونگھ سی آئی لیکن ساتھ ہی یوں لگا جیسے شادی کی رات والی، پڑوسی سبطے کی بھینس منہ کے پاس پھنکارنے لگی ہے۔ وہ ایک بے کلی کے عالم میں اٹھا، پھر رسوئی کی طرف دیکھتے، سر کو کھجاتے ہوئے دو تین جمائیاں لے کر لیٹ گیاسو گیا

مدن جیسے کانوں کو کوئی سندیسہ دے کر سویا تھا۔ جب اندو کی چوڑیاں بستر کی سلوٹیں سیدھی کرنے سے کھنک اٹھیں تو وہ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ یوں ایک دم جاگنے میں محبت کا جذبہ اور بھی تیز ہو گیا تھا۔ پیار کی کروٹوں کو توڑے بغیر آدمی سو جائے اور ایکا ایکی اٹھے تو محبت دم توڑ دیتی ہے۔ مدن کا سارا بدن اندر کی آگ سے پھنک رہا تھا۔ اور یہی اس کے غصے کا کرن بن گیا۔ جب اس نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔

“تو تم آ گئیں؟”

“ہاں۔”

“سنیسو مر گئی؟”

اندو جھکی جھکی ایک دم سیدھی کھڑی ہو گئی۔ “ہائے رام” اس نے ناک پر انگلی رکھتے ہوئے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ “کیا کہہ رہے ہومرے کیوں بیچاری۔ ماں باپ کی ایک نہ ہی بیٹی۔”

“ہاںمدن نے کہا۔”بھابھی کی ایک ہی نند۔” اور ایک دم تحکمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے بولا۔ “زیادہ منہ مت لگاؤ اس چڑیل کو۔”

“کیوں اس میں کیا پاپ ہے؟”

“یہی پاپ ہے” مدن نے اور چڑتے ہوئے کہا۔ “وہ پیچھا ہی نہیں چھوڑتی تمہارا۔ جب دیکھو جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔ دفان ہی نہیں ہوتی۔”

“ہااندو نے مدن کی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ “بہنوں اور بیٹیوں کو یوں تو دھتکارنا نہیں چاہئے۔ بیچاری دو دن کی مہمان۔۔ آج نہیں تو کل۔ کل نہیں تو پرسوں۔ ایک دن تو چل ہی دے گی۔” اس کے بعد اندو کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن وہ چپ ہو گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے ماں باپ، بھائی بہن چچا بھی گھوم گئے۔ کبھی وہ بھی ان کی دلاری تھی۔ جو پلک جھپکتے ہی نیاری ہو گئی۔ اور پھر دن رات اس کے نکالے جانے کی باتیں ہو نے لگیں۔ جیسے گھر میں کوئی بڑی سی باہنی ہے جس میں کوئی ناگن رہتی ہے اور جب تک وہ پکڑ کر پھنکوائی نہیں جاتی۔ گھر کے لوگ آرام کی نیند سو نہیں سکتے۔ دور دور سے کیلنے والے لتھن کرنے والے۔ دات چھوڑنے والے ماندری بلوائے گئے اور بڑے دھتورے اور موتی ساگر۔ آخر ایک دن اتر پچھم کی طرف سے لال آندھی آئی جو صاف ہوئی تو ایک لاری کھڑی تھی جس میں گوٹے کنری میں لپٹی ہوئی ایک دلہن بیٹھی تھی۔ پیچھے گھر میں ایک سر پر بجھتی ہوئی شہنائی بین کی آواز معلوم ہورہی تھی۔ پھر ایک دھچکے کے ساتھ لاری چل دی۔ مدن نے کچھ برافروختگی کے عالم میں کہا”تم عورتیں بڑی چالاک ہوتی ہو۔ ابھی کل ہی اس گھر میں آئی ہو اور یہاں کے سب لوگ تمہیں ہم سے زیادہ پیار کرنے لگے ہیں؟”

“ہاں!” اندو نے اثبات میں کہا۔

“یہ سب جھوٹ ہےیہ ہو ہی نہیں سکتا۔”

“تمہارا مطلب ہے میں”

“دکھاوا ہے یہ سب ہاں!”

“اچھا جی؟” اندو نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے کہا۔ “یہ سب دکھاوا ہے میرا؟ اور اندو اٹھ کر اپنے بستر میں چلی گئی۔ اور سرہانے میں منہ چھپا کر سسکیاں بھرنے لگی۔ مدن اسے منانے والا ہی تھا کہ اندو خود ہی اٹھ کر مدن کے پاس آ گئی اور سختی سے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی۔ “تم جو ہر وقت جلی کٹی کہتے رہتے ہوہوا کیا ہے تمہیں؟” مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔”

“تمہیں کچھ نہیں لینا مجھے تو لینا ہے۔” اندو بولی۔ زندگی بھر لینا ہے اور وہ چھینا جھپٹی کرنے لگی۔ مدن اسے دھتکارتا تھا اور وہ اس سے لپٹ لپٹ جاتی تھی۔ وہ اس مچھلی کی طرح تھی جو بہاؤ میں بہہ جانے کی بجائے آبشار کے تیز دھارے کو کاٹتی ہوئی اوپر ہی اوپر پہنچانا چاہتی ہو۔

چٹکیاں لیتے ہوئے، ہاتھ پکڑتی، روتی ہنستی وہ کہہ رہی تھی

“پھر مجھے پھاپھا کٹنی کہو گے؟”

“وہ تو سبھی عورتیں ہوتی ہیں۔”

“ٹھہروتمہاری تو” یوں معلوم ہوا جیسے اندو کوئی گالی دینے والی ہواور اس نے منہ میں کچھ منمنایا بھی۔ مدن نے مڑتے ہوئے کہا۔ “کیا کہا؟” اور اندو نے اب کی سنائی دینے والی آواز میں دہرایا۔ مدن کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اگلے ہی لمحے اندو مدن کے بازوؤں میں تھی اور کہہ رہی تھی “تم مرد لوگ کیا جانو؟جس سے پیار ہوتا ہے اس کے سبھی عزیز پیارے معلوم ہوتے ہیں۔ کیا باپ کیا بھائی اور کیا بہن” اور ایکا ایکی کہیں دور سے دیکھتے ہوئے بولی۔ “میں تو دلاری منی کا بیاہ کروں گی۔”

“حد ہو گئی” مدن نے کہا۔ “ابھی ایک ہاتھ کی ہوئی نہیں اور بیاہ کی سوچنے لگیں۔”

“تمہیں ایک ہاتھ کی لگتی ہے نا؟” اندو بولی اور پھر اپنے ہاتھ مدن کی آنکھوں پر رکھتے ہوئے کہنے لگی۔ “ذرا آنکھیں بند کرو اور پھر کھولو۔” مدن نے سچ مچ ہی آنکھیں بند کر لیں اور جب کچھ دیر تک نہ کھولیں تو اندو بولی۔ “اب کھولو بھیاتنی دیر میں تو میں بوڑھی ہو جاؤں گی۔ جبھی مدن نے آنکھیں کھول دیں۔ لمحہ بھر کے لئے اسے یوں لگا جیسے سامنے اندو نہیں منی بیٹھی ہے اور وہ کھو سا گیا۔ بلکہ موقع نہ پا کر اس شلوار کو جو بہو دھوتی سے بدل آتی اور جسے وہ ہمیشہ اپنی ساس والے پرانے صندل کے صندوق پر پھینک دیتی، اٹھا کر کھونٹی پر لٹکا دیتے۔ ایسے میں انہیں سب سے نظریں بچانا پڑتیں لیکن ابھی شلوار کو سمیٹ کر مڑتے ہی تو نیچے کونے میں نگاہ بہو کے محرم پر پڑ جاتی۔ تب ان کی ہمت جواب دے جاتی اور وہ شتابی کمرے سے نگل بھاگتے۔ جیسے سانپ کا بچہ بل سے باہر آگیا ہو۔ پھر برآمدے میں ان کی آواز سنائی دینے لگی۔ اوم نموم بھوتے دا سو دیوا

اڑوس پڑوس کی عورتوں نے بابو جی کی خوبصورتی کی داستانیں دور دور تک پہنچا دی تھیں۔ جب کوئی عورت بابو جی کے سامنے بہو کے پیارے پن اور سڈول جسم کی باتیں کرتی تو وہ خوشی سے پھول جاتے اور کہتے “ہم تو دھنیہ ہو گئے، امی چند کی ماں! شکر ہے ہمارے گھر میں بھی کوئی صحت والا جیو آیا۔” اور یہ کہتے ہوئے ان کی نگاہیں کہیں دور پہنچ جاتیں۔ جہاں دق کے عارضے تھے۔ دوائی کی شیشیاں، اسپتال کی سیڑھیاں یا چیونٹیوں کے بل، نگاہ قریب آتی تو موٹے موٹے گدرائے ہوئے جسم والے کئی بچے بغل میں جانگھ پر، گردن پر چڑھتے اترتے ہوئے محسوس ہوتے اور ایسا معلوم ہوتا جیسے ابھی اور آ رہے ہیں۔ پہلو پر لیٹی ہوئی بہو کی کمر زمین کے ساتھ اور کولہے چھت کے ساتھ لگ رہے ہیں اور وہ دھڑا دھڑ بچے جنتی جا رہی ہے اور ان بچوں کی عمر میں کوئی فرق نہیں۔ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔ سبھی ایک سےجڑواںتوام اوم نمو بھگوتے

آس پاس کے سب لوگ جان گئے تھے۔ اندو بابو جی کی چہیتی بہو ہے۔ چنانچہ دودھ اور چھاچھ کے مٹکے دھنی رام کے گھر آنے لگے اور پھر ایک دم سلام دین گوجر نے فرمائش کر دی۔ اندو نے کہا “بی بی میرا بیٹا آر۔ ایم۔ ایس میں قلی رکھوا دو۔ اللہ تم کو اچھا دے گا۔ ” اندو کے اشارے کی دیر تھی کہ سلام دین کا بیٹا نو کر ہو گیا۔ وہ بھی سارٹر، جو نہ ہو سکا اس کی قسمت، آسامیاں زیادہ نہ تھیں۔

بہو کے کھانے پینے اور اس کی صحت کا بابو جی خیال رکھتے تھے۔ دودھ پینے سے اندو کو چڑ تھی۔ وہ رات کے وقت خود دودھ کو بالائی میں پھینٹ، گلاس میں ڈال، بہو کو پلانے کے لئے اس کی کھٹیا کے پاس آ جاتے۔ اندو اپنے آپ کو سمیٹتے ہوئے اٹھتی اور کہتی۔”نہیں بابو جی مجھ سے نہیں پیا جاتا۔” “تیرا تو سسر بھی پئے گا۔ ” وہ مذاق سے کہتے۔

“تو پھر آپ پی لیجیئے نا۔” اندو ہنستی ہوئی جواب دیتی اور بابو جی ایک مصنوعی غصے سے برس پڑتے۔ “تو چاہتی ہے بعد میں تیری بھی وہی حالت ہو جو تیری ساس کی ہوئی؟”

ہوںہوںاندو لاڈ سے روٹھنے لگی۔ آخر کیوں نہ روٹھتی۔ وہ لوگ نہیں روٹھتے جنہیں منانے والا کوئی نہ ہو لیکن یہاں منانے والے سب تھے، روٹھنے والا صرف ایک۔ جب اندو بابو جی کے ہاتھ سے گلاس نہ لیتی تو وہ اسے کھٹیا کے پاس سرہانے کے نیچے رکھ دیتےاور “لے یہ پڑا ہے”، تیری مرضی ہے تو پی نہیں مرضی تو نہ پی” کہتے ہوئے چل دیتے۔

اپنے بستر پر پہنچ کر دھنی رام دلاری منی کے پاس کھیلنے لگتے۔ دلاری کو بابو جی کے ننگے پنڈے کے ساتھ پنڈا گھسانے اور پھر پیٹ پر منہ رکھ کر پھنکڑا پھلانے کی عادت تھی۔ آج جب بابو جی اور منی یہ کھیل کھیل رہے تھے۔ ہنس ہنسا رہے تھے، تو منی نے بھابی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “دودھ تو خراب ہو جائے گا بابو جی۔ بھابی تو پیتی ہی نہیں۔”

“پئے گی ضرور پئے گی بیٹا” بابو جی نے دوسرے ہاتھ سے پاشی کو لپٹاتے ہوئے کہا۔ “عورتیں گھر کی کسی چیز کو خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتیں۔”

ابھی یہ فقرہ بابو جی کے منہ ہی میں ہوتا کہ ایک طرف سے “ہشہے خصم کھانی” کی آواز آنے لگتی۔ پتہ چلتا بہو بلی کو بھگا رہی ہے اور پھر غٹ غٹ سی سنائے دیتی اور سب جان لیتے بہوبھابی نے دودھ پی لیا۔ کچھ دیر کے بعد کندن بابو جی کے پاس آتا اور کہتا “بوجیبھابی رو رہی ہے۔”

“ہائیں؟” بابو جی کہتے اور پھر اٹھ کر اندھیرے میں دور اسی طرف دیکھنے لگتے جدھر بہو کی چارپائی پڑی ہوتی۔ کچھ دیر یوں ہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ پھر لیٹ جاتے اور کچھ سمجھتے ہوئے کندن سے کہتے۔ “جاتو سو جاوہ بھی سو جائے گی اپنے آپ۔”

اور پھر لیٹتے ہوئے بابو دھنی رام آسمان پر کھلے ہوئے پرماتما کے گلزار کو دیکھنے لگتے اور اپنے من میں بھگوان سے پوچھتے” چاندی کے ان کھلتے بند ہوئے ہوئے پھولوں میں میرا پھول کہا ہے؟” اور پھر پورا آسمان انہیں درد کا ایک دریا دکھائی دینے لگتا اور کانوں میں مسلسل ایک ہاؤ کی آواز سنائی دیتی جسے سنتے ہوئے وہ کہتے۔”جب سے دنیا بنی ہے انسان کتنا رویا ہے!” اور روتے روتے سو جاتے۔

اندو کے جانے سے بیس پچیس روز ہی میں مدن نے واویلا شروع کر دیا۔ اس نے لکھا۔ میں بازار کی روٹیاں کھاتے کھاتے تنگ آگیا ہوں۔ مجھے قبض ہو گئی ہے۔ گردے کا درد شروع ہو گیا ہے۔ پھر جیسے دفتر کے لوگ چھٹی کی عرضی کے ساتھ ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ بھیج دیتے ہیں۔ مدن نے بابو جی کو ایک دوسرے سے تصدیق کی چھٹی لکھوا بھیجی۔ اس پر بھی جب کچھ نہ ہوا تو ایک ڈبل تارجوابی۔ جوابی تار کے پیسے مارے گئے لیکن بلا سے۔ اندو اور بچے لوٹ آئے تھے۔ مدن نے اندو سے دو دن سیدھے منہ بات ہی نہ کی۔ یہ دکھ بھی اندو ہی کا تھا۔ ایک دن مدن کو اکیلے میں پا کر وہ پکڑ بیٹھی اور بولی۔ “اتنا منہ پھلائے بیٹھے ہومیں نے کیا کیا ہے؟”

مدن نے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوئے کہا۔ “چھوڑدور ہو جا میر آنکھوں سے کمی”

“یہی کہنے کے لئے اتنی دور سے بلوایا ہے؟”

“ہاں!”

“ہٹاؤ اب۔”

“خبرداریہ سب تمہارا ہی کیا دھرا ہے جو تم آنا چاہتی تو کیا بابو جی روک لیتے؟”

اندو نے بے بسی سے کہا۔ “ہائے جیتم بچوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ میں انہیں بھلا کیسے کہہ سکتی تھی؟ سچ پوچھو تو تم نے مجھے بلوا کر بابو جی پر تو بڑا جلم کیا ہے۔”

“کیا مطلب ؟”

“مطلب کچھ نہیںان کا جی بہت لگا ہوا تھا بال بچوں میں۔”

“اور میرا جی؟”

“تمہارا جی؟” تم تو کہیں بھی لگا سکتے ہو۔ اندو نے شرارت سے کہا اور اس طرح سے مدن کی طرف دیکھا کہ اس کی مدافعت کی ساری قوتیں ختم ہو گئیں۔ یوں بھی اسے کسی اچھے سے بہانے کی تلاش تھی۔ ا س نے اندو کو پکڑ کر سینے سے لگا لیا۔ اور بولا۔ “بابو جی تم سے بہت خوش تھے؟”

“ہاں” اندو بولی۔ “ایک دن میں جاگی تو دیکھا سرہانے کھڑے مجھے دیکھ رہے ہیں۔”

“یہ نہیں ہو سکتا۔”

“اپنی قسم!”

“اپنی قسم نہیںمیری قسم کھاؤ۔”

“تمہاری قسم تو میں نہیں کھاتیکوئی کچھ بھی دے۔”


“ہاں!” مدن نے سوچتے ہوئے کہا۔ “کتابوں میں اسے سیکس کہتے ہیں۔”

“سیکس؟” اندو نے پوچھا وہ کیا ہوتا ہے؟۔

“وہی جو مرد اور عورت کے بیچ ہوتا ہے۔”

“ہائے رام!” اندو نے ایک دم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ “گندے کہیں کے شرم نہیں آئی بابو جی کے بارے میں ایسا سوچتے ہوئے؟”

“تو بابو جی کو نہ آئی تجھے دیکھتے ہوئے؟”

“کیوں؟” اندو نے بابو جی کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔ “وہ اپنی بہو کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے۔”

“کیوں نہیں۔ جب بہو تم ایسی ہو۔”

“تمہارا من گندا ہے۔ اندو نے نفرت سے کہا۔ اس لئے تمہارا کاروبار بھی گندے بروزے کا ہے۔ تمہاری کتابیں سب گندگی سے بھری پڑ ی ہیں۔ تمہیں اور تمہاری کتابوں کو اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے تو جب میں بڑی ہو گئی تھی تو میرے پتا جی نے مجھ سے ادھک پیار کر نا شروع کر دیا تھا۔ تو کیا وہ بھیوہ تھا نگوڑاجس کا تم ابھی نام لے رہے تھے۔” اور پھر اندو بولی۔ “بابو جی کو یہاں بلا لو۔ ان کا وہاں جرا بھی جی نہیں لگتا۔ وہ دکھی ہوں گے تو کیا تم دکھی نہیں ہو گے؟”

مدن اپنے باپ سے بہت پیا ر کرتا تھا۔ گھر میں ماں کی موت نے بڑا ہونے کے کارن سب سے زیادہ اثر مدن پر ہی کیا تھا۔ اسے اچھی طرح سے یاد تھا۔ ماں کے بیمار رہنے کے باعث جب بھی اس کی موت کا خیال مدن کے دل میں آتا تو آنکھیں موند کر پرارتھنا شروع کر دیتااوم نمو بھگوتے دا سوویوا۔ اوم نمواب وہ نہیں چاہتا تھا کہ باپ کی چھتر چھایا بھی سر سے اٹھ جائے۔ خاص طور پر ایسے میں جبکہ وہ اپنے کاروبار کو بھی جما نہیں پایا تھا۔ اس نے غیر یقینی لہجے میں اندو سے صرف اتنا کہا۔ “ابھی رہنے دو بابو کو۔ شادی کے بعد ہم دونوں پہلی بار آزادی کے ساتھ مل سکتے ہیں۔”

تیسرے چوتھے روز بابو جی کا آنسوؤں میں ڈوبا ہوا خط آیا۔ میرے پیارے مدن کے تخاطب میں میرے پیارے کے الفاظ شور پانیوں میں دھل گئے تھے۔ لکھا تھا۔ “بہو کے یہاں ہونے پر میر ے تو وہی پرانے دن لوٹ آئے تھے، تمہاری ماں کے دن، جب ہماری نئی شادی ہوئی تھی تو وہ بھی ایسی ہی الہڑ تھی۔ ایسے میں اتارے ہوئے کپڑے ادھر ادھر پھینک دیتی۔ اور پتا جی سمیٹتے پھرتے۔ وہی صندل کا صندوق، وہی بیسویں خلجنمیں بازار جا رہا ہوں۔ آ رہا ہوں۔ کچھ نہیں تو دہی بڑے یا ربڑی لا رہا ہوں۔ اب گھر میں کوئی نہیں۔ وہ جگہ جہاں صندل کا صندوق پڑا تھا، خالی ہے” اور پھر ایک آدھ سطر اور دھل گئی تھی۔ آخر میں لکھا تھا۔ “دفتر سے لوٹتے سمے، یہاں کے بڑے بڑے اندھے کمروں میں داخل ہوتے ہوئے میرے من میں ایک ہول سا اٹھتا ہے۔ ” اور پھر”بہوکا خیال رکھنا۔ اسے کسی ایسی ویسی دایہ کے حوالے مت کرنا۔”

اندو نے دونوں ہاتھوں سے چٹھی پکڑ لی۔ سانس کھینچ لی، آنکھیں پھیلاتی شرم سے پانی پانی ہوتی ہوئی بولی۔ “میں مر گئی۔ بابو جی کو کیسے پتہ چل گیا؟”

مدن نے چٹھی چھڑاتے ہوئے کہا۔ “بابو جی کیا کہتے ہیں؟دنیا دیکھی ہے۔ ہمیں پیدا کیا ہے۔

“ہاں مگر۔” اندو بولی۔ “ابھی دن ہی کے ہوئے ہیں۔”اور پھر اس نے ایک تیز سی نظر اپنے پیٹ پر ڈالی جس نے ابھی بڑھنا بھی شروع نہیں کیا تھا اور جیسے بابو جی یا کوئی اور دیکھ رہا ہو۔ اس نے ساری کا پلو اس پر کھینچ لیا اور کچھ سوچنے لگی۔ جبھی ایک چمک سی اس کے چہرے پر آئی اور وہ بولی۔”تمہاری سسرال سے شیرینی آئے گی۔”

“میری سسرال؟”اور ہاں۔ مدن نے راستہ پاتے ہوئے کہا۔ “کتنی شرم کی بات ہے۔ ابھی چھ آٹھ مہینے شادی کے ہوئے ہیں اور چلا آ رہا ہے۔ “اور اس نے اندو کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔

مدن کی ٹانگیں ابھی تک کانپ رہی تھیں۔ اس وقت خوف سے نہیںتسلی سے۔

“چلا آیا ہے یا تم لائے ہو؟”

“تمیہ سب قصور تمہارا ہے۔ کچھ عورتیں ہوتی ہی ایسی ہیں۔”

“تمہیں پسند نہیں؟”

“ایک دم نہیں”

“کیوں؟”

“چار دن تو مزے لے لیتی زندگی کے۔”

“کیا یہ جندگی کا مجا نہیں؟” اندو نے صدمہ زدہ لہجے میں کہا۔ مرد عورت شادی کس لئے کرتے ہیں؟ بھگوان نے بن مانگے دے دیا نا؟ پوچھو ان سے جن کے نہیں ہوتا۔ پھر وہ کیا کچھ کرتی ہیں۔ پیروں فقیروں کے پاس جاتی ہیں۔ سمادھیوں، مجاوروں پر چوٹیاں باندھتی ہیں، شرم و حیا تج کر دریاؤں کے کنارے ننگی ہو کر سرکنڈے کاٹتی، شمسانوں میں مسان جگاتی۔”

“اچھا! اچھا!” مدن بولا۔ “تم نے بکھان ہی شروع کر دیا۔ اولاد کے لئے تھوڑی عمر پڑی تھی۔؟”

“ہو گا تو!” اندو نے سرزنش کے انداز میں انگلی اٹھاتے ہوئے کہا۔”جب تم اسے ہاتھ بھی مت لگانا۔ وہ تمہارا نہیں، میرا ہو گا۔ تمہیں تو اس کی جرورت نہیں، پر اس کے دادا کو بہت ہے۔ یہ میں جانتی ہوں۔” اور پھر کچھ خجل، کچھ صدمہ زدہ ہو کر اندو نے اپنا منہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا۔ وہ سوچتی تھی پیٹ میں اس ننھی سی جان کو پالینے کے سلسلے میں، اس جان کا ہوتا سوتا تھوڑی بہت ہمدردی تو کرے گا ہی لیکن مدن چپ چاپ بیٹھا رہا۔ ایک لفظ بھی اس نے منہ سے نہ نکالا۔ اندو نے چہرے پر سے ہاتھ اٹھا کر بدن کی طرف دیکھا اور ہونے والی پہلوٹن کے خاص انداز میں بولی۔ “وہ تو جو کچھ میں کہہ رہی ہوں سب پیچھے ہو گا۔ پہلے تو میں بچوں گی ہی نہیںمجھے بچپن سے وہم ہے اس بات کا۔”

مدن بھی جیسے خائف ہو گیایہ خوبصورت “چیز” جو حاملہ ہو جانے کے بعد اور بھی خوبصورت ہو گئی ہے مر جائے گی؟ اس نے پیٹھ کی طرف سے اندو کو تھام لیا اور پھر کھینچ کر اپنے بازوؤں میں لے آیا اور بولا۔ “تجھے کچھ نہ ہو گا اندومیں تو موت کے منہ سے بھی چھین کر لے آؤں گا تجھےاب ساوتری کی نہیں، سیہ دان کی باری ہے”

مدن سے لپٹ کر اندو بھول ہی گئی کہ اس کا اپنا بھی کوئی دکھ ہے

اس کے بعد بابو جی نے کچھ نہ لکھا۔ البتہ سہارنپور سے ایک سارٹر آیا جس نے صرف اتنا بتایا کہ بابو جی کو پھر سے دورے پڑنے لگے ہیں۔ ایک دورے میں تو وہ قریب قریب چل ہی بسے تھے۔ مدن ڈر گیا۔ اندو رونے لگی۔ سارٹر کے چلے جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح مدن نے آنکھیں موند لیں اور من ہی من میں پڑھنے لگااوم نمو بھگوتے

دوسرے روز ہی مدن نے باپ کو چٹھی لکھیبابو جی! چلے آؤبچے بہت یاد کرتے ہیں اور آپ کی بہو بھی ” لیکن آخری نوکری تھی۔ اپنے بس کی بات تھوڑی تھی۔ دھنی رام کے خط کے مطابق وہ چٹھی کا بندوبست کررہے تھےان کے بارے میں دن بہ دن مدن کا احساس جرم بڑھنے لگا۔”اگر میں اندو کو وہیں رہنے دیتا تو میرا کیا بگڑجاتا؟”


وجے دشمی سے ایک رات پہلے مدن اضطراب کے عالم میں بیچ والے کمرے کے باہر برآمدے میں ٹہل رہا تھا کہ اندر سے رو نے کی آواز آئی اور وہ چونک کر دروازے کی طرف لپکا۔ بیگم دایہ باہر آئی اور بولی۔ “مبارک ہو۔ “مبارک ہو بابو جیلڑکا ہوا ہے۔”

“لڑکا ؟” مدن نے کہا اور پھر متفکرانہ لہجے میں بولا۔ “بی بی کیسی ہے؟”۔

بیگم بولی۔ “خیر مہر ہےمیں نے ابھی تک اسے لڑکی ہی بتائی ہےزچہ زیادہ خوش ہو جائے تو ا س کی آنول نہیں گرتی نا۔”

“تو” مدن نے بیوقوفوں کی طرح آنکھیں جھپکتے ہوئے کہا اور کمرے میں جانے کے لئے آگے بڑھا۔ بیگم نے اسے وہیں روک دیا اور کہنے لگی۔ “تمہارا اندر کیا کام؟” اور پھر ایکا ایکی دروازہ بھیڑ کر اندر لپک گئی یا شاید اس لئے کہ جب کوئی اس دنیا میں آتا ہے تو ارد گرد کے لوگوں کی یہی حالت ہوتی ہے۔ مدن نے سن رکھا تھا جب لڑکا پیدا ہوتا ہے تو گھر کے در و دیوار لرزنے لگتے ہیں۔ گویا ڈر رہے ہیں کہ بڑا ہو کر ہمیں بیچے گا یا رکھے گا۔ مدن نے محسوس کیا کہ جیسے سچ مچ ہی دیواریں کانپ رہی تھیںزچگی کے لئے چکلی بھابی تو نہ آئی تھیں کیونکہ اس کا اپنا بچہ تو بہت چھوٹا تھا البتہ دریا آباد والی پھوپھی ضرور پہنچی تھیں جس نے پیدائش کے وقت رام، رام، رام، رام کی رٹ لگا دی تھی اور اب وہی رٹ مدھم ہو رہی تھی۔

زندگی بھر مدن کو اپنا آپ اس قدر فضول اور بیکار نہ لگا تھا۔ اتنے میں پھر دروازہ کھلا اور پھوپھی نکلی۔ برآمدے کی بجلی کی مدھم روشنی میں اس کا چہرہ بھوت کے چہرے کی طرح ایک دم دودھیا نظر آ رہا تھا۔ مدن نے اس کا راستہ روکتے ہوئے کہا”اندو ٹھیک ہے نا پھوپھی۔”

“ٹھیک ہے ٹھیک ہے ٹھیک ہے! پھوپھی نے تین چار بار کہا اور پھر اپنا لرزتا ہوا ہاتھ مدن کے سر پر رکھ کر اسے نیچا کیا، چوما اور باہر لپک گئی”

پھوپھی برآمدے کے دروازے میں سے باہر جاتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ وہ بیٹھک میں پہنچی جہاں باقی بچے سو رہے تھے۔ پھوپھی نے ایک ایک کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور پھر چھت کی طرف آنکھیں اٹھا کر منہ میں کچھ بولی اور پھر نڈھال سی ہو کر منی کے پاس لیٹ گئی اوندھیاس کے پھڑکتے ہوئے شانوں سے پتہ چل رہا تھا جیسے رو رہی ہے۔ مدن حیران ہواپھوپھی تو کئی زچگیوں سے گزر چکی ہے، پھر کیوں اس کی روح کانپ اٹھی ہےپھر ادھر کے کمرے سے ہر مل کی بو باہر لپکی۔ دھوئیں کا ایک غبار سا آیا۔ جس نے مدن کا احاطہ کر لیا۔ اس کا سر چکرا گیا۔ جبھی بیگم دایہ کپڑے میں کچھ لپیٹے ہوئے باہر نکلی۔ کپڑے پر خون ہی خون تھا۔ جس میں کچھ قطرے نکل کر فرش پر گر گئے۔ مدن کے ہوش اڑ گئے۔ اسے معلوم نہ تھا کہ وہ کہا ں ہے۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔ بیچ میں اندو کی ایک نر گھلی سی آواز آئی۔”ہائےئے” اور پھر بچے کے رونے کی آواز۔”

تین چار دن میں بہت کچھ ہوا۔ مدن نے گھر کے ایک طرف گڑھا کھو د کر آنول کو دبا دیا۔ کتوں کو اندر آنے سے روکا لیکن اسے کچھ یاد نہ تھا۔ اسے یوں لگا جیسے ہرمل کی بو دماغ میں بس جانے کے بعد آج ہی اسے ہوش آیا ہے، کمرے میں وہ اکیلا ہی تھا اور اندونند اور جسووھااور دوسری طرف نند لالاندو نے بچے کی طرف دیکھا اور کچھ ٹوہ لینے کے سے انداز میں بولی۔ “بالک تم ہی پر گیا ہے۔”

“ہو گا۔” مدن نے ایک اچٹتی ہوئی نظر بچے پر ڈالتے ہوئے کہا۔ “میں تو کہتا ہوں شکر ہے بھگوان کا کہ تم بچ گئیں۔”

“ہاں!” اندو بولی۔ “میں تو سمجھتی تھی”

“شبھ شبھ بولو۔”مدن نے ایک دم اندو کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ “یہاں تو جو کچھ ہوا ہےمیں تو اب تمہارے پاس بھی نہیں پھٹکوں گا۔” اور مدن نے زبان دانتوں تلے دبا لی۔”

“توبہ کرو۔” اندو بولی۔

مدن نے اسی دم کان اپنے ہاتھ سے پکڑ لئےاور اندو نحیف آواز میں ہنسنے لگی۔

بچہ ہونے کے کئی روز تک اندو کی ناف ٹھکانے پر نہ آئی۔ وہ گھوم گھوم کر اس بچے کی تلاش کر رہی تھی جو اب اس سے پرے، باہر کی دنیا میں جا کر اپنی اصلی ماں کو بھول گیا تھا۔ اب سب کچھ ٹھیک تھا اور اندو شانتی سے اس دنیا کو تک رہی تھیمعلوم ہوتا تھا اس نے مدن ہی کے نہیں دنیا بھر کے گناہگاروں کے گناہ معاف کر دئے ہیں اور دیوی بن کر دیا اور کرونا کے پرساد بانٹ رہی ہےمدن نے اندو کے منہ کی طرف دیکھا اور سوچنے لگا۔ اس سارے خون خرابے کے بعد کچھ دبلی ہو کر اندو اور بھی اچھی لگنے لگی ہےجبھی ایکا ایکی اندو نے دونوں ہاتھ اپنی چھاتیوں پر رکھ لئے۔

“کیا ہوا؟” مدن نے پوچھا۔

“کچھ نہیں۔ اندو تھوڑا سا اٹھنے کی کوشش کر کے بولی۔ “اسے بھوک لگی ہے” اور اس نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔

“اسے؟بھوک؟”مدن نے پہلے بچے کی طرف اور پھر اندو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا “تمہیں کیسے پتہ چلا؟”

“دیکھتے نہیں” اندو نیچے کی طرف نگاہ کرتے ہوئے بولی۔ “سب کچھ گیلا ہو گیا ہے۔”

مدن نے غور سے ڈھیلے ڈھالے گلے کی طرف دیکھا۔ جھر جھر دودھ بہہ رہا تھا اور ایک خاص قسم کی بو آ رہی تھی۔ پھر اندو نے بچے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔

“اسے مجھے دے دو!”

مدن نے ہاتھ پنگھوڑے کی طرف بڑھایا اور اسی دم کھینچ لیا۔ پھر کچھ ہمت سے کام لیتے ہوئے اس نے بچے کو یوں اٹھایا جیسے وہ کوئی مرا ہوا چوہا ہے۔ آخر اس نے بچے کو اندو کی گود میں دے دیا۔ اندو مدن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ “تم جاؤباہر۔”

“کیوں؟”باہر کیوں جاؤں؟” مدن نے پوچھا۔

“جاؤ نا۔ اندو نے کچھ مچلتے، کچھ شرماتے ہوئے کہا۔”تمہارے سامنے میں دودھ نہیں پلا سکوں گی۔” “ارے؟ مدن حیرت سے بولا” میرے سامنے؟نہیں پلا سکے گی۔” اور پھر نا سمجھی کے انداز میں سر کو جھٹکا دے کر باہر کی طرف چل نکلا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے مڑتے ہوئے اندو پر ایک نگاہ ڈالی۔ اتنی خوبصورت اندو آج تک نہیں لگی تھی۔

بابو دھنی رام چھٹی پر گھر لوٹے تو وہ پہلے سے آدھے دکھائی پڑتے تھے۔ جب اندو نے پوتا ان کی گود میں دیا تو وہ کھل اٹھے۔ ان کے پیٹ کے اندر کوئی پھوڑا نکل آیا تھا جو چوبیس گھٹنے انہیں سولی پر لٹکائے رکھتا۔ اگر منا روتا تو بابو جی کی اس سے دس گنا بری حالت ہوتی۔

کئی علاج کئے گئے۔ بابو جی کے آخری علاج میں ڈاکٹر نے ادھنی کے برابر پندرہ بیس گولیاں روز کھانے کو دیں۔ پہلے ہی دن انہیں اتنا پسینہ آیا کہ دن میں تین تین چار چار بار کپڑے بدلنے پڑے۔ ہر بار مدن کپڑے اتار کر بالٹی میں نچوڑتا۔ صرف پسینے سے ہی بالٹی ایک چوتھائی ہو گئی تھی۔ رات انہیں متلی سی محسوس ہونے لگی تھی اور انہوں نے پکارا”بہو ذرا داتن تو دینا ذائقہ بہت خراب ہو رہا ہے۔” بہو بھاگی ہوئی گئی اور داتن لے کر آئی۔ بابو جی اٹھ کر داتن چبا ہی رہے تھے کہ ایک ابکائی آئی۔ ساتھ ہی خون کا پرنالہ لے آئی۔ بیٹے نے واپس سرہانے کی طرف لٹایا تو ان کی پتلیاں پھر چکی تھیں اور کوئی ہی دم میں وہ اوپر آسمان کے گلزار میں پہنچ چکے تھے جہاں انہوں نے اپنا پھول پہچان لیا تھا

منے کو پیدا ہوئے کُل بیس پچیس روز ہوئے تھے۔ اندو نے منہ نوچ کر، سر اور چھاتی پیٹ پیٹ کر خود کو نیلا کر لیا۔ مدن کے سامنے وہی منظر تھا جو اس نے تصور میں اپنے مرنے پر دیکھا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اندو نے چوڑیاں توڑنے کی بجائے اتار کر رکھ دی تھیں۔ سر پر راکھ نہیں ڈالی تھی لیکن زمین پر سے مٹی لگ جانے اور بالوں کے بکھر جانے سے چہرہ بھیانک ہو گیا تھا۔ “لوگو! میں لٹ گئی۔” کی جگہ اس نے ایک دل دوز آواز میں چلانا شروع کر دیا تھا۔ “لوگو! ہم لٹ گئے!”

گھر بارکا کتنا بوجھ مدن پر آ پڑا تھا۔ اب کا ابھی مدن کو پوری طرح اندازہ نہ تھا۔ صبح ہونے تک اس کا دل لپک کر منہ میں آگیا۔ وہ شاید بچ نہ پاتا۔ اگر وہ گھر کے باہر بدرو کے کنارے سیل چڑھی مٹی پر اوندھا لیٹ کر اپنے دل کو ٹھکانے پر نہ لاتادھرتی ماں نے چھاتی سے لگا کر اپنے بچے کو بچا لیا تھا۔ چھوٹے بچے کندن، دلاری منی، پاشی یوں چلا رہے تھے جیسے گھونسلے پر شکرے کے حملے پر چڑیا کے بونٹ چونچیں اٹھا اٹھا کر چیں چیں کرتے ہیں۔ انہیں اگر کوئی پروں کے اندر سمیٹتی ہے تو اندونالی کے کنارے پڑے پڑے مدن نے سوچا اب تو یہ دنیا میرے لئے ختم ہو گئی ہے۔ کیا میں جی سکوں گا؟ زندگی میں کبھی ہنس بھی سکوں گا؟ وہ اٹھا اور اٹھ کر گھر کے اندر چلا آیا۔

سیڑھیوں کے نیچے غسل خانہ تھا جس میں گھس کر اندر سے کواڑ بند کرتے ہوئے مدن نے ایک بار پھر اس سوال کو دہرایا”میں کبھی ہنس بھی سکوں گا؟” اور وہ کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔ حالانکہ اس کے باپ کی لاش ابھی پاس ہی بیٹھک میں پڑی تھی۔

باپ کو آگ میں حوالے کرنے سے پہلے مدن ارتھی پر پڑے ہوئے جسم کے سامنے ڈنڈوت کے انداز میں لیٹ گیا۔ یہ اس کا اپنے جنم داتا کو آخری پرنام تھا۔ تس پر بھی وہ رو نہ رہا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر ماتم میں شریک ہونے والے رشتہ دار محلہ سن سے رہ گئے۔ پھر ہندو راج کے مطابق سب سے بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے مدن کو چتا جلانی پڑی۔ جلتی ہوئی کھوپڑی میں کپال کرپا کی لاٹھی مارنی پڑتیعورتیں باہر ہی سے شمشان کے کنویں پر سے نہا کر لوٹ چکی تھیں۔ جب مدن گھر پہنچا تو وہ کانپ رہا تھا۔ دھرتی ماں نے تھوڑی دیر کے لئے جو طاقت اپنے بیٹے کو دی تھی، رات گھر کے گھر آنے پر پھر سے ہول میں ڈھل گئیاسے کوئی سہارا چاہئے تھا، کسی ایسے جذبے کا سہارا جو موت سے بھی بڑا ہو۔ اس وقت دھرتی ماں کی بیٹی جنک دلاری اندو نے کسی گھڑے میں سے پیدا ہو کر اس رام کو اپنی بانہوں میں لے لیااس رات کو اگر اندو اپنا آپ یوں اس پر نثار نہ کرتی تو اتنا بڑا دکھ مدن کو لے ڈوبتا۔

دس ہی مہینے کے اندر اندر ان کا دوسرا بچہ چلا آیا۔ بیوی کو اس دوزخ کی آگ میں دھکیل کر خود اپنا دکھ بھول گیا تھا۔ کبھی کبھی اسے خیال آتا اگر میں شادی کے بعد بابو جی کے پاس گئی ہوتی تو اندو کو نہ بلا لیتا تو شاید وہ اتنی جلدی نہ چل دیتے لیکن پھر وہ باپ کی موت سے پیدا ہونے والے خسارے کو پورا کرنے میں لگ جاتاکاروبار جو پہلے بے توجہی کی وجہ سے بند ہو گیا تھامجبوراً چل نکلا ان دنوں بڑے بچے کو مدن کے پاس چھوڑ کر، چھوٹے کو چھاتی سے گلے لگائے اندو میکے چلی گئی۔ پیچھے منا طرح طرح کی ضد کرتا تھا جو کبھی مانی جاتی تھی اور کبھی نہیں بھی۔ میکے سے اندو کا خط آیامجھے یہاں اپنے بیٹے کے رونے کی آواز آ رہی ہے، اسے کوئی مارتا تو نہیں؟ مدن کو بڑی حیرت ہوئیایک جاہل ان پڑھ عورت ایسی باتیں کیسے لکھ سکتی ہے؟ پھر اس نے اپنے آپ سے پوچھاکیا یہ بھی کوئی رٹا ہوا فقرہ ہے؟

سال گزر گئے۔ پیسے کبھی اتنے نہ آئے کہ ان میں سے کچھ پیش ہو سکے لیکن گزارے کے مطابق آمدنی ضرور ہو جاتی تھی۔ دقت اس وقت پر ہوتی جب کوئی بڑا خرچ سامنے آ جاتاکندن کا داخلہ دینا ہے، دلاری منی کا شگن بھجوانا ہے۔ اس وقت مدن منہ لٹکا کر بیٹھ جاتا اور پھر اندو ایک طرف سے آتی مسکراتی ہوئی اور کہتی “کیوں دکھی ہو رہے ہو؟” مدن امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا۔ “دکھی نہ ہوں؟ کندن کا بی اے کا داخلہ دینا ہے منی” اندو پھر ہنستی اور کہتی۔ “چلو میرے ساتھ ” اور مدن بھیڑ کے بچے کی طرح اندو کے پیچھے چل دیتا۔ اندو صندل کے صندوق کے پاس پہنچتی جسے کسی کو، مدن سمیت ہاتھ لگانے کی اجازت نہ تھی۔ کبھی کبھی اس بات پر خفا ہو کر مدن کہتا۔ “مرو گی تو اسے بھی چھاتی پر ڈال کے لے جانا۔”اور اندو کہتی۔ “ہاں! لے جاؤں گی۔” پھر اندو وہاں سے مطلوبہ رقم نکال کر سامنے رکھ دیتی۔

“یہ کہاں سے آ گئے؟”

“کہیں سے بھیتمہیں آم کھانے سے مطلب ہے۔”

“پھر بھی؟”

“تم جاؤ اپنا کام چلاؤ۔”

اور جب مدن زیادہ اصرار کرتا تو اندو کہتی۔ “میں نے ایک سیٹھ دوست بنایا ہے نا۔” اور پھر ہنسنے لگتی۔۔

جھوٹ جانتے ہوئے بھی مدن کو یہ مذاق اچھا نہ لگتا۔ پھر اندو کہتی۔ “میں پورا لٹیرا ہوںتم نہیں جانتے؟” سخی اور لٹیراجو ایک ہاتھ سے لوٹتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے گریب گربا کو دبا دیتا ہے”اس طرح منی کی شادی ہوئی جس پر ایسی ہی لوٹ کے زیور بکے۔ قرضہ چڑھا اور پھر اتر بھی گیا۔ ایسے ہی کندن بھی بیاہا گیا۔ ان شادیوں میں اندو ہی “ہتھ بھرا” کرتی تھی اور ماں کی جگہ کھڑی ہو جاتی۔ آسمان سے بابو جی اور ماں دیکھا کرتے اور پھول برساتے جو کسی کو نظر نہ آتے۔ پھر ایسا ہوا، اوپر ماں اور بابو جی میں جھگڑا چل گیا۔ ماں نے بابو جی سے کہا “تم تو بہو کے ہاتھ کی پکی کھا کر آئے ہو۔ اس کا سکھ بھی دیکھا ہے۔ پر میں نصیبوں جلی نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔ ” اور یہ جھگڑا دشنو، مہیش اور شیو تک پہنچا۔ انہوں نے ماں کے حق میں فیصلہ دے دیااور یوں ماں، مات لوک میں آ کر بہو کی کوکھ میں پڑیاور اندو کے یہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی پھر اندو ایسی دیوی بھی نہ تھی۔ جب کوئی اصول کی بات ہوتی تو نند دیور کیا خود مدن سے بھی لڑ پڑتیمدن راست بازی کی اس پتلی کو خفا ہو کر ہریش چند ر کی بیٹی کہا کرتا تھا۔ چونکہ اندو کی باتوں میں الجھاؤ ہونے کے باوجود سچائی اور دھرم قائم رہتے تھے، اس لئے مدن اور کنبے کے باقی سب لوگوں کی آنکھیں اندو کے سامنے نیچے رہتی تھیں۔ جھگڑا کتنا بھی بڑھ جائے۔ مدن اپنے شوہر ی زعم میں کتنا بھی اندو کی بات کو رد کر دے لیکن آخر سب ہی سر جھکائے ہوئے اندو ہی کی شرن میں آتے تھے اور اسی سے چھما مانگتے تھے۔

نئی بھابھی آئی۔ کہنے کو تو وہ بھی بیوی تھی لیکن اندو ایک عورت تھی، جسے بیوی کہتے ہیں۔ اس کے الٹ چھوٹی بھابھی رانی ایک بیوی تھی جسے عورت کہتے ہیں۔ رانی کے کارن بھائیوں میں جھگڑا ہوا اور جے پی چاچا کی معرفت جائیداد تقسیم ہوئیں جس میں ماں باپ کو جائیداد تو ایک طرف اندو کی اپنی بنائی ہوئی چیزیں بھی تقسیم کی زد میں آ گئیں اور اندو کلیجہ مسوس کر رہ گئی۔ جہاں سب کچھ ہو جانے کے بعد اور الگ ہو کر بھی کندن اور رانی ٹھیک سے نہیں بس سکے تھے، وہاں اندو کا نیا گھر دنوں ہی میں جگ مگ جگ مگ کرنے لگا تھا۔

بچی کی پیدائش کے بعد اندو کی صحت وہ نہ رہی۔ بچی ہر وقت اندو کی چھاتیوں سے چمٹی رہتی جہاں سبھی گوشت کے اس لوتھڑے پر تھو تھو کرتے تھے وہاں ایک اندو تھی جو اسے کلیجے سے لگائے پھرتی لیکن کبھی خود پریشان ہو اٹھتی اور بچی کو سامنے جھلنگے میں پھینکتے ہوئے کہہ اٹھتی۔ “تو مجھے بھی جینے دے گیماں؟” اور بچی چلا چلا کر رونے لگتی۔

مدن اندو سے کٹنے لگا۔ شادی سے لے کر اس وقت تک اسے وہ عورت نہ ملی تھی جس کا وہ متلاشی تھا۔ گندہ بروزہ بکنے لگا اور مدن نے بہت سا روپیہ اندو سے بالا بالا خرچ کرنا شروع کر دیا۔ بابو جی کے چلے جانے کے بعد کوئی پوچھنے والا بھی تو نہ تھا۔ پوری آزادی تھی۔

گویا پڑوسی سبطے کی بھینس پھر مدن کے منہ کے پاس پھنکارنے لگی۔ بلکہ بار بار پھنکارنے لگی۔ شادی کی رات والی بھینس تو بک چکی تھی لیکن اس کا مالک زندہ تھا۔ مدن اس کے ساتھ ایسی جگہوں پر جانے لگا جہاں روشنی اور سائے عجیب بے قاعدہ سی شکلیں بناتے ہیں۔ نکڑ پر بھی کبھی اندھیرے کی تکون بنتی ہے اور اوپر کھٹ سے روشنی کی ایک چوکور لہر آ کر اسے کاٹ دیتی ہے۔ کوئی تصویر پوری نہیں بنتی۔ معلوم ہوتا ہے بغل سے ایک پاجامہ نکلا اور آسمان کی طرف اڑ گیا۔ یا کسی کوٹ نے دیکھنے والا کا منہ پوری طرح سے ڈھانپ لیا۔ اور کوئی سانس کے لئے تڑپنے لگا۔ جبھی روشنی کی ایک چوکور لہر ایک چوکٹھا بن گئی اور اس میں ایک صورت آ کر کھڑ ہو گئی۔ دیکھنے والے نے ہاتھ بڑھایا تو وہ آر پار چلا گیا۔ جیسے وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ پیچھے کوئی کتا رونے لگا۔ اوپر طبل نے اس کی آواز ڈبو دی۔

مدن کو اس کے تصور کے خد و خال ملے لیکن ہر جگہ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے آرٹسٹ سے ایک خط غلط لگ گیا یا ہنسی کی آواز ضرورت سے زیادہ بلند تھی اور مدنداغ صناعی اور متوازن ہنسی کی تلاش میں کھو گیا۔۔

سبطے نے اس وقت اپنی بیوی سے بات کی جب اس کی بیگم نے مدن کو مثالی شوہر کی حیثیت سے سبطے کے سامنے پیش کیا۔ پیش ہی نہیں کیا بلکہ منہ پہ مارا۔ اس کو اٹھا کر سبطے نے بیگم کے منہ پر دے مارا۔ معلوم ہوتا تھا کسی خونین تربوز کا گودا ہے جس کے رگ و ریشے بیگم کی ناک اس کی آنکھوں اور کانوں پر لگے ہوئے ہیں۔ کروڑ کروڑ گالی بکتی ہوئی بیگم نے حافظے کی ٹوکری میں سے گودا اور بیج اٹھائے اور اندو کے صاف ستھرے صحن میں بکھیر دئے۔

ایک اندو کی بجائے دو اندو ہو گئیں۔ ایک تو اندو خود تھی اور دوسری ایک کانپتا ہوا خط جو اندو کے پورے جسم کا احاطہ کئے ہوئے تھا اور جو نظر نہیں آ رہا تھامدن کہیں بھی جاتا تھا تو گھر سے ہو کرنہا دھو، اچھے کپڑے پہن، مگھئی کی ایک گلوری جس میں خوشبودار قوام لگا ہو، منہ میں رکھ کرلیکن اس دن مدن گھر آیا تو اندو کی شکل ہی دوسری تھی۔ اس نے چہرے پر پوڈر تھوپ رکھا تھا۔ گالوں پر روج لگا رکھی تھی۔ لپ اسٹک نہ ہونے پر ہونٹ ماتھے کی بندی سے رنگ لئے تھےاور بال کچھ اس طریقے سے بنائے تھے کہ مدن کی نظریں ان میں الجھ کر رہ گئیں۔ “کیا بات ہے آج ؟” مدن نے حیران ہو کر پوچھا۔

“کچھ نہیں” اندو نے مدن سے نظریں بچاتے ہوئے کہا۔ “آج فرصت ملی ہے۔”

شادی کے پندرہ بیس برس گزر جانے کے بعد اندو کو آج فرصت ملی تھی اور وہ بھی اس وقت جب چہرے پر جھائیاں آ چلی تھیں۔ ناک پر ایک سیاہ کاٹھی بن گئی تھی اور بلاؤز کے نیچے ننگے پیٹ کے پاس کمر پر چربی کی دو تہیں سی دکھائی دینے لگی تھیںآج اندو نے ایسا بندوبست کیا تھا کہ ان عیوب میں سے ایک بھی چیز نظر نہ آتی تھییوں بنی ٹھنی۔ کسی کسائی وہ بے حد حسین لگ رہی تھی”یہ نہیں ہو سکتا” مدن نے سوچا اور اسے ایک دھچکا سا لگا۔ اس نے پھر ایک بار مڑ کر اندو کی طرف دیکھا جیسے گھوڑوں کے بیوپاری کسی نامی گھوڑی کی طرف دیکھتے ہیںوہاں گھوڑی بھی تھی اور لال لگام بھییہاں جو غلط خط لگے تھے، شرابی آنکھوں کو نہ دیکھ سکےاندو سچ مچ خوبصورت تھی۔ آج بھی پندرہ سال کے بعد پھولاں، رشیدہ، مسز رابرٹ اور ان کی بہنیں ان کے سامنے پانی بھرتی تھیںپھر مدن کو رحم آنے لگا اور ایک ڈرآسمان پر کوئی خاص بادل بھی نہ تھے لیکن پانی پڑنا شروع ہو گیا۔ ادھر گھر کی گنگا طغیانی پر تھی اور اس کا پانی کناروں سے نکل نکل کر پوری اترائی اور اس کے آس پاس بسنے والے گاؤں اور قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسی رفتار سے اگر پانی بہتا رہا تو اس میں کیلاش پربت بھی ڈوب جائے گاادھر بچی رونے لگی۔ ایسا رونا جو وہ آج تک نہ روئی تھی۔ مدن نے اس کی آواز سن کر آنکھیں بند کر لیں۔ کھولیں تو وہ سامنے کھڑی تھی۔ جوان عورت بن کرنہیں نہیں، وہ اندو تھی، اپنی ماں کی بیٹی، اپنی بیٹی کی ماں۔ جو اپنی آنکھوں کے دنیالے سے مسکرائی اور ہونٹوں کے کونے سے دیکھنے لگی۔

اسی کمرے میں جہاں ایک دن ہرمل کی دھونی نے مدن کو چکرا دیا تھا، آج اس کی خوشبو نے بوکھلا دیا تھا۔ ہلکی بارش تیز بارش سے خطرناک ہوتی ہے۔ اس لئے باہر کا پانی اوپر کسی کڑی میں سے رستا ہوا اندو اور مدن کے بیچ ٹپکنے لگالیکن مدن تو شرابی ہو رہا تھا۔ اس نشے میں اس کی آنکھیں سمٹنے لگیں اور تنفس تیز ہو کر ا نسان کا تنفس نہ رہا۔

“اندو” مدن نے کہا۔ اور اس کی آواز شادی کی رات والی پکار سے دو سر اوپر تھیاور اندو نے پرے دیکھتے ہوئے کہا۔ “جی ” اور اس کی آواز دو سر نیچے تھیپھر آج چاندنی کی بجائے اماؤس تھی اس سے پہلے کہ مدن اندو کی طرف ہاتھ بڑھاتا۔ اندو خود ہی مدن سے لپٹ گئی۔ پھر مدن نے ہاتھ سے اندو کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی اور دیکھنے لگا۔ اس نے کیا کھویا، کیا پایا ہے؟۔ اندو نے ایک نظر مدن کے سیاہ ہوتے ہوئے چہرے کی طرف پھینکی اور آنکھیں بند کر لیں۔


“یہ کیا؟” مدن نے چونکتے ہوئے کہا۔ “تمہاری آنکھیں سوجی ہوئی ہیں۔”

“یوں ہی” اندو نے کہا اور بچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ “رات بھر جگایا ہے اس چڑیل میا نے۔”

بچی اب تک خاموش ہو چکی تھی۔ گویا وہ دم سادھے دیکھ رہی تھی۔ اب کیا ہونے والا ہے؟ آسمان سے پانی پڑنا بند ہو گیا تھا؟ واقعی آسمان سے پانی پڑنا بند ہو گیا تھا۔ مدن نے پھر غور سے اندو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “ہاں مگر یہ آنسو؟”

“خوشی کے ہیں” اندو نے جوا ب دیا۔ آج کی رات میری ہے۔ اور پھر ایک عجیب سی ہنسی ہنستے ہوئے وہ مدن سے چمٹ گئی۔ ایک تلذذ کے احساس سے مدن نے کہا۔ “آج برسوں کے بعد میرے من کی مراد پوری ہوئی اندو! میں نے ہمیشہ چاہا تھا”

“لیکن تم نے کہا نہیں۔” اندو بولی۔ “یاد ہے شادی والی رات میں نے تم نے سے کچھ مانگا تھا؟”

“ہاں!” مدن بولا۔ “اپنے دکھ مجھے دے دو۔”

“تم نے کچھ نہیں مانگا مجھ سے”

“میں نے ؟” مدن نے حیران ہوتے ہوئے کہا “میں کیا مانگتا؟ میں تو جو کچھ مانگ سکتا تھا وہ سب تم نے دے دیا۔ میرے عزیزوں سے پیاران کی تعلیم، بیاہ شادیاںیہ پیارے پیارے بچےیہ کچھ تو تم نے دے دیا۔”

“میں بھی یہی سمجھتی تھی۔” اندو بولی “لیکن اب جا کر پتہ چلا، ایسا نہیں۔”

“کیا مطلب؟”

“کچھ نہیں۔” پھر اندو نے رک کر کہا۔ ” میں نے بھی ایک چیز رکھ لی۔”

“کیا چیز رکھ لی؟”

اندو کچھ دیر چپ رہی اور پھر اپنا منہ پرے کرتے ہوئے بولی “اپنی لاجاپنی خوشیاس وقت تم بھی کہہ دیتےاپنے سکھ مجھے دے دوتو میں” اور اندو کا گلا رندھ گیا۔ اور کچھ دیر بعد بولی۔ “اب تو میرے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔”

مدن کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ وہ زمین میں گڑ گیا۔ یہ ان پڑھ عورت؟کوئی رٹا ہوا فقرہ؟ نہیں تو یہ تو ابھی ہی زندگی کی بھٹی سے نکلا ہے۔ ابھی تو اس پر برابر ہتھوڑے پڑ رہے ہیں اور آتشیں برادہ چاروں طرف اڑ رہا ہے

کچھ دیر بعد مدن کے ہوش ٹھکانے آئے اور بولا۔ “میں سمجھ گیا اندو” پھر روتے ہوئے مدن اور اندو ایک دوسرے سے لپٹ گئےاندو نے مدن کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایسی دنیاؤں میں لے گئی جہاں انسان مر کر ہی پہنچ سکتا ہے۔

GEND,DASA BY AHMAD NADEEM QASMI

Articles

گنڈاسا

احمد ندیم قاسمی

 

 

اکھاڑہ جم چکا تھا۔ طرفین نے اپنی اپنی “چوکیاں” چن لی تھیں۔ “پڑکوڈی” کے کھلاڑی جسموں پر تیل مل کر بجتے ہوئے ڈھول کے گرد گھوم رہے تھے۔ انہوں نے رنگین لنگوٹیں کس کر باندھ رکھی تھیں۔ ذرا ذرا سے سفید پھینٹھئے ان کے چپڑے ہوئے لانبے لابنے پٹوں کے نیچے سے گزر کر سر کے دونوں طرف کنول کے پھولوں کے سے طرے بنا رہے تھے۔ وسیع میدان کے چاروں طرف گپوں اور حقوں کے دور چل رہے تھے اور کھلاڑیوں کے ماضی اور مستقبل کو جانچا پرکھا جا رہا تھا۔ مشہور جوڑیاں ابھی میدان میں نہیں اتری تھیں۔ یہ نامور کھلاڑی اپنے دوستوں اور عقیدت مندوں کے گھیرے میں کھڑے اس شدت سے تیل چپڑوا رہے تھے کہ ان کے جسموں کو ڈھلتی دھوپ کی چمک نے بالکل تانبے کا سا رنگ دے دیا تھا، پھر یہ کھلاڑی بھی میدان میں آئے، انہوں نے بجتے ہوئے ڈھولوں کے گرد چکر کاٹے اور اپنی اپنی چوکیوں کے سامنے ناچتے کودتے ہوئے بھاگنے لگے اور پھر آناً فاناً سارے میدان میں ایک سرگوشی بھنور کی طرح گھوم گئی۔”مولا کہاں ہے؟”

مولا ہی کا کھیل دیکھنے تو یہ لوگ دور دراز کے دیہات سے کھنچے چلے آئے تھے۔ “مولا کا جوڑی وال تاجا بھی تو نہیں!” دوسرا بھنور پیدا ہوا لوگ پوربی چوکوں کی طرف تیز تیز قدم اٹھاتے بڑھنے لگے، جما ہوا پڑ ٹوٹ گیا۔ منتظمین نے لمبے لمبے بیدوں اور لاٹھیوں کو زمین پر مار مار کر بڑھتے ہوئے ہجوم کے سامنے گرد کا طوفان اڑانے کی کوشش کی کہ پڑ کا ٹوٹنا اچھا شگون نہ تھا مگر جب یہ سرگوشی ان کے کانوں میں سیروں بارود بھرا ہوا ایک گولا ایک چکرا دینے والے دھماکے سے پھٹ پڑا۔ ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ لوگ پڑ کی چوکور حدوں کی طرف واپس جانے لگے۔ مولا اپنے جوڑی وال تاجے کے ساتھ میدان میں آگیا۔ اس نے پھندنوں اور ڈوریوں سے سجے اور لدے ہوئے ڈھول کے گرد بڑے وقار سے تین چکر کاٹے اور پھر ڈھول کو پوروں سے چھو کر یا علیؓ کا نعرہ لگانے کے لئے ہاتھ ہوا میں بلند کیا ہی تھا کہ ایک آواز ڈھولوں کی دھما دھم چیرتی پھاڑتی اس کے سینے پر گنڈاسا بن کر پڑی مولے” “اے مولے بیٹے۔ تیرا باپ قتل ہو گیا!”

مولا کا اٹھا ہوا ہاتھ سانپ کے پھن کی طرح لہرا گیا اور پھر ایک دم جیسے اس کے قدموں میں نہتے نکل آئے۔ “رنگے نے تیرے باپ کو ادھیڑ ڈالا ہے گنڈاسے سے!” ان کی ماں کی آواز نے اس کا تعاقب کیا!

پڑ ٹو ٹ گیا۔ ڈھول رک گئے۔ کھلاڑی جلدی جلدی کپڑے پہننے لگے۔ ہجوم میں افراتفری پیدا ہوئی اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔ مولا کے جسم کا تانبا گاؤں کی گلیوں میں کونڈتے بکھیرتا اڑا جا رہا تھا۔ بہت پیچھے اس کا جوڑی وال تاجا اپنے اور مولا کے کپڑوں کی گٹھڑی سینے سے لگائے آ رہا تھا اور پھر اس کے پیچھے ایک خوف زدہ ہجوم تھا۔ جس گاؤں میں کسی شخص کو ننگے سر پھرنے کا حوصلہ نہ ہو سکتا تھا وہاں مولا صرف ایک گلابی لنگوٹ باندھے پہناریوں کی قطاروں، بھیڑوں، بکریوں کے ریوڑوں کو چیرتا ہوا لپکا جا رہا تھا اور جب وہ رنگے کی چوپال کے بالکل سامنے پہنچا تو سامنے ایک اور ہجوم میں سے پیر نور شاہ نکلے اور مولا کو للکار کر بولے۔ “رک جا مولے!”

مولا لپکا گیا مگر پھر ایک دم جیسے اس کے قدم جکڑ لئے گئے اور وہ بت کی طرح جم کر رہ گیا۔ پیر نور شاہ اس کے قریب آئے اور اپنی پاٹ دار آواز میں بولے۔ “تو آگے نہیں جائے گا مولا!”

ہانپتا ہوا مولا کچھ دیر پیر نور شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا رہا۔ پھر بولا “آگے نہیں جاؤں گا پیر جی تو زندہ کیوں رہوں گا؟”۔

“میں کہہ رہا ہوں” پیر جی “میں پر زور دیتے ہوئے دبدبے سے بولے۔”

مولا ہانپنے کے باوجود ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا۔ “تو پھر میرے منہ پر کالک بھی مل ڈالئے اور ناک بھی کاٹ ڈالئے میری، مجھے تو اپنے باپ کے خون کا بدلہ چکانا ہے پیر جی۔ بھیڑ بکریوں کی بات ہوتی تو میں آپ کے کہنے پر یہیں سے پلٹ جاتا۔”

مولا نے گردن کو بڑے زور سے جھٹکا دے کر رنگے کے چوپال کی طرف دیکھا۔ رنگا اور اس کے بیٹے بٹھوں سر گنڈاسے چڑھائے چوپائے پر تنے کھڑے تھے۔ رنگے کا بڑا لڑکا بولا۔

“آؤ بیٹے آؤ۔ گنڈاسے کے ایک ہی وار سے پھٹے ہوئے پیٹ میں سے انتڑیوں کا ڈھیرا نہ اگل ڈالوں تو قادا نام نہیں، میرا گنڈاسا جلد باز ہے اور کبڈی کھیلنے والے لاڈلے بیٹے باپ کے قتل کا بدلا نہیں لیتے، روتے ہیں اور کفن کا لٹھا ڈھونڈنے چلے جاتے ہیں۔”

مولا جیسے بات ختم ہونے کے انتظار میں تھا۔ ایک ہی رفتار میں چوپال کی سیڑھیوں پر پہنچ گیا۔ مگر اب کبڈی کے میدان کا ہجوم بھی پہنچ گیا تھا اور گاؤں کا گاؤں اس کے راستے میں حائل ہو گیا تھا۔ جسم پر تیل چپڑ رکھا تھا اس لئے وہ روکنے والوں کے ہاتھوں سے نکل نکل جاتا مگر پھر جکڑ لیا جاتا۔ ہجوم کا ایک حصہ رنگے اور اس کے تینوں بیٹوں کو بھی روک رہا تھا۔ چار گنڈاسے ڈوبتے ہوئے سورج کی روشنی میں جنوں کی طرح بار بار دانت چمکا رہے تھے کہ اچانک جیسے سارے ہجوم کو سانپ سو نگ گیا۔ پیر نور شاہ قرآن مجید کو دونوں ہاتھوں میں بلند کئے چوپال کی سیٹرھیوں پر آئے اور چلائے۔”اس کلام اللہ کا واسطہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ ورنہ بدبختو گاؤں کا گاؤں کٹ مرے گا۔ جاؤ تمہیں خدا اور رسولؑ کا واسطہ، قرآن پاک کا واسطہ، جاؤ، چلے جاؤ۔”

لوگ سر جھکا کر ادھر ادھر بکھرنے لگے۔ مولا نے جلدی سے تائے سے پٹکا لے کر ادب سے اپنے گھٹنوں کو چھپا لیا اور سیٹرھیوں پر سے اتر گیا۔ پیر صاحب قرآن مجید کو بغل میں لئے اس کے پاس آئے اور بولے۔”اللہ تعالی تمہیں صبر دے اور آج کے اس نیک کام کا اجر دے۔”

مولا آگے بڑھ گیا۔ تاجا اس کے ساتھ تھا اور جب وہ گلی کے موڑ پر پہنچے تو مولا نے پلٹ کر رنگے کی چوپال پر ایک نظر ڈالی۔

“تم تو رو رہے ہو مولے؟” تاجے نے بڑے دکھ سے کہا۔

اور مولا نے اپنے ننگے بازو کو آنکھوں پر رگڑ کر کہا۔ “تو کیا اب روؤں بھی نہیں؟”

“لوگ کیا کہیں گے؟” تاجے نے مشورہ دیا۔

“ہاں تاجے!” مولا نے دوسری بار بازو آنکھوں پر رگڑا۔ “میں بھی تو یہی سوچ رہا ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے، میرے باپ کے خون پر مکھیاں اڑ رہی ہیں اور میں یہاں گلی میں ڈورے ہوئے کتے کی طرح دم دبائے بھاگا جا رہا ہوں ماں کے گھٹنے سے لگ کر رونے کے لئے!”

لیکن مولا ماں کے گھٹنے سے لگ کر رویا نہیں۔ وہ گھر کے دالان میں داخل ہوا تو رشتہ دار اس کے باپ کی لاش تھانے اٹھا لے جانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ منہ پیٹتی اور بال نوچتی ماں اس کے پاس آئی اور “شرم تو نہیں آتی” کہہ کر منہ پھیر کر لاش کے پاس چلی گئی۔ مولا کے تیور اسی طرح تنے رہے۔ اس نے بڑھ کر باپ کی لاش کو کندھا دیا اور برادری کے ساتھ روانہ ہو گیا۔

اور ابھی لاش تھانے نہیں پہنچی ہو گی کہ رنگے کی چوپال پر قیامت مچ گئی۔ رنگا چوپال کی سیڑھیوں پر سے اترکر سامنے اپنے گھر میں داخل ہونے ہی لگا تھا کہ کہیں سے ایک گنڈاسا لپکا اور انتڑیوں کا ایک ڈھیر اس کے پھٹے ہوئے پیٹ سے باہر ابل کر اس کے گھر کی دہلیز پر بھاپ چھوڑنے لگا۔ کافی دیر کو افراتفری کے بعد رنگے کے بیٹے گھوڑوں پر سوار ہو کر رپٹ کے لئے گاؤں سے نکلے، مگر جب وہ تھانے پہنچے تو یہ دیکھ کر دم بخود رہ گئے کہ جس شخص کے خلاف وہ رپٹ لکھوانے آئے ہیں وہ اپنے باپ کی لاش کے پاس بیٹھا تسبیح پر قل ھو اللہ کا ورد کر رہا تھا۔ تھانے دار کے ساتھ انہوں نے بہت ہیر پھیر کی کوشش کی اور اپنے باپ کا قاتل مولا ہی کو ٹھہرایا مگر تھانیدار نے انہیں سمجھایا کہ “خواہ مخواہ اپنے باپ کے قاتل کو ضائع کر بیٹھو گے، کوئی عقل کی بات کرو۔ ادھر یہ میرے پاس اپنے باپ کے قتل کی رپٹ لکھوا رہا ہے ادھر تمہارے باپ کے پیٹ میں گنڈاسا بھی بھونک آیا ہے۔”

آخر دونوں طرف سے چالان ہوئے، لیکن دونوں قتلوں کا کوئی چشم دید ثبوت نہ ملنے کی بناء پر طرفین بری ہو گئے اور جس روز مولا رہا ہو کر گاؤں میں آیا تو اپنی ماں سے ماتھے پر ایک طویل بوسہ ثبت کرانے کے بعد سب سے پہلے تاجے کے ہاں گیا۔ اسے بھینچ کر گلے لگایا اور کہا۔ “اس روز تم اور تمہارا گھوڑا میرے کام نہ آتے تو آج میں پھانسی کی رسی میں توری کی طرح لٹک رہا ہوتا۔ تمہاری جان کی قسم جب میں نے رنگے کے پیٹ کو کھول کر رکاب میں پاؤں رکھا ہے، آندھی بن گیا خدا کی قسم اسی لئے تو لاش ابھی تھانے بھی نہیں پہنچی تھی کہ میں ہاتھ جھاڑ کر واپس بھی آگیا۔”

سارے گاؤں کو معلوم تھا کہ رنگے کا قاتل مولا ہی ہے، مگر مولے کے چند عزیزوں اور تاجے کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ سب کچھ ہوا کیسے پھر ایک دن گاؤں میں یہ خبر گشت کرنے لگی کہ مولا کا باپ تو رنگے کے بڑے بیٹے قادر کے گنڈاسے سے مرا تھا رنگا تو صرف ہشکار رہا تھا بیٹوں کو۔ رات کو چوپالوں اور گھروں میں یہ موضوع چلتا رہا اور صبح کو پتہ چلا کہ قادر اپنے کوٹھے کی چھت پر مردہ پایا گیا اور وہ بھی یوں کہ جب اس کے بھائیوں پھلے اور گلے نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو اس کا سر لڑھک کر نیچے گرا اور پرنالے تک لڑھکتا چلا گیا، رپٹ لکھوائی اور مولا پھر گرفتار ہو گیا۔ مرچوں کا دھواں پیا، تپتی دوپہروں میں لوہے کی چادر پر کھڑا رہا۔ کتنی راتیں اسے اونگھنے تک نہ دیا گیا مگر وہ اقبالی نہ ہوا اور آخر مہینوں کے بعد رہا ہو کر گاؤں میں آ نکلا اور جب اپنے آنگن میں قدم رکھا تو ماں بھاگی ہو ئی آئی۔ اس کے ماتھے پر طویل بوسہ لیا اور بولی۔ “ابھی دو اور باقی ہیں میرے لال۔ رنگے کا کوئی نام لیوا نہ رہے، تو جبھی بتیس دھاریں بخشوں گی۔ میرے دودھ میں تیرے باپ کا خون تھا۔ مولے اور تیرے خون میں میرا دودھ ہے اور تیرے گنڈاسے پر میں نے زنگ نہیں چڑھنے دیا۔ “مولا اب علاقے بھر کی ہیبت بن گیا تھا۔ اس کی مونچھوں میں دو دو بل آ گئے تھے۔ کانوں میں سونے کی بڑی بڑی بالیاں، خوشبودار تیل اس کے لہرئیے بالوں میں آگ کی قلمیں سی جگائے رکھتا تھا۔ ہاتھی دانت کا ہلالی کنگھا اتر کر اس کی کنپٹی پر چمکنے لگا تھا۔ وہ گلیوں میں چلتا تو پٹھے کے تہبند کا کم سے کم آدھا گز تو اس کے عقب میں لوٹتا ہوا جاتا۔ باریک ململ کا پٹکا اس کے کندھے پر پڑا رہتا اور اکثر اس کا سرا گر کر زمین پر گھسٹنے لگتا۔ اور گھسٹتا چلا جاتا۔ مولا کے ہاتھ میں ہمیشہ اس کے قد سے بھی لمبی تلی پلی لٹھ ہوتی اور جب وہ گلی کے کسی موڑ یا کسی چوراہے پر بیٹھتا تو یہ لٹھ جس انداز سے اس کے گھٹنے سے آ لگتی اسی انداز سے لگی رہتی اور گلی میں سے گزرنے والوں کو اتنی جرأت نہ ہوتی کہ وہ مولا کی لٹھ ایک طرف سرکانے کے لئے کہہ سکیں۔ اگر کبھی لٹھ ایک دیوار سے دوسری دیوار تک تن گئی تو لو گ آتے، مولا کی طرف دیکھتے اور پلٹ کر کسی دوسری گلی میں چلے جاتے۔ عورتوں اور بچوں نے تو وہ گلیاں ہی چھوڑ دی تھیں جہاں مولا بیٹھنے کا عادی تھا۔ مشکل یہ تھی کہ مولا کی لٹھ پر سے الانگنے کا بھی کسی میں حوصلہ نہ تھا۔ ایک بار کسی اجنبی نوجوان کا اس گلی میں سے گزر ہوا۔ مولا اس وقت ایک دیوار سے لگا لٹھ سے دوسرے دیوار کو کریدے جا رہا تھا۔ اجنبی آیا اور لٹھ پر سے الانگ گیا۔ ایکا ایکی مولا نے بپھر کر ٹینک میں سے گنڈاسا نکالا اور لٹھ پر چڑھا کر بولا۔”ٹھہر جاؤ چھوکرے، جانتے ہو تم نے کس کی لٹھ الانگی ہے یہ مولا کی لٹھ ہے۔ مولے گنڈاسے والے کی۔”

نوجوان مولا کا نام سنتے ہی یک لخت زرد پڑ گیا اور ہولے سے بولا۔ “مجھے پتہ نہیں تھا، مولے۔” مولا نے گنڈاسا اتار کر ٹینک میں اڑس لیا اور لٹھ کے ایک سرے کو نوجوان کے پیٹ پر ہلکے سے دبا کر بولا۔ “تو پھر جا کر اپنا کام کر۔” اور پھروہ لٹھ کو یہاں سے وہاں تک پھیلا کر بیٹھ گیا۔

مولا کا لباس، اس کی چال، اس کی مونچھیں اور سب سے زیادہ اس کا لا ابالی انداز، یہ سب پہلے گاؤں کے فیشن میں داخل ہوئے اور پھر علاقے بھر کے فیشن پر اثر انداز ہوئے لیکن مولا کی جو چیز فیشن میں داخل نہ ہو سکی وہ اس کی لانبی لٹھ تھی۔ تیل پلی، پیتل کے کوکوں سے اٹی ہوئی، لوہے کی شاموں میں لپٹی ہوئی، گلیوں کے کنکروں پر بجتی اور یہاں سے وہاں تک پھیل کر آنے والوں کو پلٹا دینے والی لٹھ اور پھر وہ گنڈاسا جس کی میان مولا کی ٹینک تھی اور جس پر اس کی ماں زنگ کا ایک نقطہ تک نہیں دیکھ سکتی تھی۔

لوگ کہتے تھے کہ مولا گلیوں کے نکڑوں پر لٹھ پھیلائے اور گنڈاسا چھپائے گلے اور پھلے کی راہ تکتا ہے۔ قادرے کے قتل اور مولے کی رہائی کے بعد پھلا فوج میں بھرتی ہو کر چلا گیا تھا اور گلے نے علاقہ کے مشہور رسہ گیر چوھدری مظفر الٰہی کے ہاں پناہ لی تھی، جہاں وہ چوھدری کے دوسرے ملازموں کے ساتھ چناب اور راوی پر سے بیل اور گائیں چوری کر کے لاتا۔ چوھدری مظفر اس مال کو منڈیوں میں بیچ کر امیروں، وزیروں اور لیڈروں کی بڑی بڑی دعوتیں کرتا اور اخباروں میں نام چھپواتا اور جب چناب اور راوی کے کھوجی مویشیوں کے کھروں کے سراغ کے ساتھ ساتھ چلتے چوھدری مظفر کے قصبے کے قریب پہنچتے تو جی میں کہتے۔ “ہمارا ماتھا پہلے ہی ٹھنکا تھا! انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ کھروں کے سراغ کے ساتھ ساتھ چلتے چودھری کے گھر تک جا پہنچے تو پھر کچھ دیر بعد لوگ مویشیوں کی بجائے خود کھوجیوں کا سراغ لگاتے پھریں گے اور لگا نہ پائیں گے۔ وہ چوھدری کے خوف کے مارے قصبے کے ایک طرف سے نکل کر اور تھلوں کے ریتے میں پہنچ کر یہ کہتے ہوئے واپس آ جاتے “کھروں کے نشان یہاں سے غائب ہو رہے ہیں۔”

مولا نے چوھدری مظفر اور اس کے پھیلے ہوئے بازوؤں کے بارے میں سن رکھا تھا۔ اسے کچھ ایسا لگتا تھا کہ جیسے علاقہ بھر میں صرف یہ چوھدری ہی ہے جو اس کی لٹھ الانگ سکتا ہے لیکن فی الحال اسے رنگے کے دونوں بیٹوں کا انتظار تھا۔

تاجے نے بڑے بھائیوں کی طرح مولے کو ڈانٹا “اور کچھ نہیں تو اپنی زمینوں کی نگرانی کر لیا کر، یہ کیا بات ہوئی کہ صبح سے شام تک گلیوں میں لٹھ پھیلائے بیٹھے ہیں اور میراثیوں، نائیوں سے خدمتیں لی جا رہی ہیں۔ تو شاید نہیں جانتا پر جان لے تو اس میں تیرا ہی بھلا ہے کہ مائیں بچوں کو تیرا نام لے کر ڈرانے لگی ہیں، لڑکیاں تو تیرا نام سنتے ہی تھوک دیتی ہیں، کسی کو بد دعا دینی ہو تو کہتی ہیں اللہ کرے تجھے مولا بیاہ کر لے جائے۔ سنتے ہو مولے!”

لیکن مولا تو جس بھٹی میں گودا تھا اس میں پک کر پختہ ہو چکا تھا۔ بولا “ابے جا تاجے اپنا کام کر، گاؤں بھر کی گالیاں سمیٹ کر میرے سامنے ان کا ڈھیر لگانے آیا ہے؟ دوستی رکھنا بڑی جی داری کی بات ہے پٹھے، تیرا جی چھوٹ گیا ہے تو میری آنکھوں میں دھول کیوں جھونکتا ہے۔ جا اپنا کام کر، میرے گنڈاسے کی پیاس ابھی تک نہیں بجھیجااس نے لاٹھی کو کنکروں پر بجایا اور گلی کے سامنے والے مکان میں میراثی کو بانگ لگائی۔ “ابے اب تک چلم تازہ نہیں کر چکا الو کے پٹھے جا کر گھر والوں کی گود میں سو گیا چلم لا۔”

تاجا پلٹ گیا مگر گلی کے موڑ پر رک گیا اور مڑ کر مولے کو کچھ یوں دیکھا جیسے اس کی جواں مرگی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دے گا۔

مولا کنکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا اٹھا اور لٹھ کو اپنے پیچھے گھسیٹتا تاجے کے پاس آ کر بولا دیکھ تاجے مجھے ایسا لگتا ہے تو مجھ پر ترس کھا رہا ہے اس لئے کہ کسی زمانے میں تیری یاری تھی پر اب یہ یاری ٹوٹ گئی ہے تاجے تو میرا ساتھ نہیں دے سکتا تو پھر ایسی یاری کو لے کر چاٹنا ہے۔ میرے باپ کا خون اتنا سستا نہیں تھا کہ رنگے اور اس کے ایک ہی بیٹے کے خون سے حساب چک جائے، میرا گنڈاسا تو ابھی اس کے پوتے، پوتیوں، نواسے، نواسیوں تک پہنچے گا، اس لئے جا اپنا کام کر۔ تیری میری یار ختم۔ اس لئے مجھ پر ترس نہ کھایا کر، کوئی مجھ پر ترس کھائے تو آنچ میرے گنڈاسے پر جا پہنچتی ہے جا۔”

واپس آ کر مولا نے میراثی سے چلم لے کر کش لگایا تو سلفہ ابھر کر بکھر گیا۔ ایک چنگاری مولا کے ہاتھ پر گری اور ایک لمحہ تک وہیں چمکتی رہی۔ میراثی نے چنگاری کو جھاڑنا چاہا تو مولا نے اس کے ہاتھ پر اس زور سے ہاتھ مارا کہ میراثی بل کھا رہ گیا اور ہاتھ کو ران اور پنڈلی میں دبا کر ایک طرف ہٹ گیااور مولا گرجا۔ “ترس کھاتا ہے حرامزادہ۔”

اس نے چلم اٹھا کر سامنے دیوار پر پٹخ دی اور لٹھ اٹھا کر ایک طرف چل دیا۔

لوگوں نے مولا کو ایک نئی گلی کے چوراہے پر بیٹھے دیکھا تو چونکے اور سرگوشیاں کرتے ہوئے ادھر ادھر بکھر گئے۔ عورتیں سر پر گھڑے رکھے آئیں اور “ہائیں” کرتی واپس چلی گئیں۔ مولا کی لٹھ یہاں سے وہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور لوگوں کے خیال میں اس پر خون سوار تھا۔

مولا اس وقت دور مسجد کے مینار پر بیٹھی ہوئی چیل کو تکے جا رہا تھا۔ اچانک اسے کنکروں پر لٹھ کے بجنے کی آواز آئی۔ چونک کراس نے دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکی نے اس کی لٹھ اٹھا کر دیوار کے ساتھ رکھ دی ہے اور ان لانبی سرخ مرچوں کو چن رہی ہے جو جھکتے ہوئے اس کے سر پر رکھی ہوئی گٹھڑی میں سے گر گئی تھیں۔ مولا سناٹے میں آگیا لٹھ کو الانگنا تو ایک طرف رہا اس نے یعنی ایک عورت ذات نے لٹھ کو گندے چیتھڑے کی طرح اٹھا کر پرے ڈال دیا ہے اور اب بڑے اطمینان سے مولا کے سامنے بیٹھی مرچیں چن رہی ہے اور جب مولا نے کڑک کر کہا۔ “جانتی ہو تم نے کس کی لاٹھی پر ہاتھ رکھا ہے جانتی ہو میں کون ہوں تو اس نے ہاتھ بلند کر کے چنی ہوئی مرچیں گٹھڑی میں ٹھونستے ہوئے کہا کوئی سڑی لگتے ہو۔”

مولا مارے غصے کے اٹھ کھڑا ہوا۔ لڑکی بھی اٹھی اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نرمی سے بولی اسی لئے تو میں نے تمہاری لٹھ تمہارے سر پر نہیں دے ماری ایسے لٹے لٹے سے لگتے تھے مجھے تو تم پر ترس آگیا تھا۔”

“تر س آگیا تھا تمہیں مولا پر؟ مولا دھاڑا۔

“مولا!”لڑکی نے گٹھڑی کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور ذرا سی چونکی۔

“ہاں، مولا، گنڈاسے والا” مولا نے ٹھسے سے کہا اور وہ ذرا سی مسکرا کے گلی میں جانے لگی۔ مولا کچھ دیر وہاں چپ چاپ کھڑا رہا اور پھر ایک سانس لے کر دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔ لٹھ کو سامنے کی دیوار تک پھیلا لیا تو پرلی طرف سے ادھیڑ عمر کی ایک عورت آتی دکھائی دی۔ مولا کو دیکھ کر ٹھٹکی۔ مولا نے لٹھ اٹھا کر ایک طرف رکھ دی اور بولا۔ “آ جاؤ ماسی، آ جاؤ میں تمہیں کھا تھوڑی جاؤں گا۔”

حواس باختہ عورت آئی اور مولے کے پاس سے گزرتے ہوئے بولی۔ “کیسا جھوٹ بکتے ہیں لوگ، کہتے ہیں جہاں مولا بخش بیٹھا ہو وہاں سے باؤ کتا بھی دبک کر گزرتا ہے، پر تو نے میرے لئے اپنی لٹھ۔”

“کون کہتا ہے؟” مولا اٹھ کھڑا ہوا۔

“سب کہتے ہیں، سارا گاؤں کہتا ہے، ابھی ابھی کنویں پر یہی باتیں ہو رہی تھیں، پر میں نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مولا بخش”

لیکن مولا اب تک اس گلی میں لپک کر گیا تھا جس میں ابھی ابھی نوجوان لڑکی گئی تھی۔ وہ تیز تیز چلتا گیا اور آخر دور لمبی گلی کے سرے پر وہی لڑکی جاتی نظر آئی، وہ بھاگنے لگا۔ آنگنوں میں بیٹھی ہوئی عورتیں دروازوں تک آ گئیں اور بچے چھتوں پر چڑھ گئے۔ مولا کا گلی سے بھاگ کر نکلنا کسی حادثے کا پیش خیمہ سمجھا گیا۔ لڑکی نے بھی مولا کے قدموں کی چاپ سن لی تھی، وہ پلٹی اور پھر وہیں جم کر کھڑ ی رہ گئی۔ اس نے بس اتنا ہی کیا کہ گٹھڑی کو دونوں ہاتھوں سے تھا م لیا، چند مرچیں دہکتے ہوئے انگاروں کی طرح اس کے پاؤں پر بکھر گئیں۔

“میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔” مولا پکارا۔ “کچھ نہیں کہوں گا تمہیں۔”

لڑکی بولی۔ “میں ڈر کے نہیں رکی۔ ڈریں میرے دشمن۔”

مولا رک گیا، پھر ہولے ہولے چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور بولا۔ “بس اتنا بتا دو تم ہو کون؟”

لڑکی ذرا سا مسکرا دی۔

عقب سے کسی بڑھیا کی آواز آئی۔ “یہ رنگے کے چھوٹے بیٹے کی منگیتر راجو ہے، مولا بخش۔”

مولا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر راجو کو دیکھنے لگا۔ اسے راجو کے پاس رنگا اور رنگے کا سارا خاندان کھڑا نظر آیا۔ اس کا ہاتھ ٹینک تک گیا اور پھر رسے کی طرح لٹک گیا۔ راجو پلٹ کر بڑی متوازن رفتار سے چلنے لگی۔

مولا نے لاٹھی ایک طرف پھینک دی اور بولا۔ “ٹھہرو راجو، یہ اپنی مرچیں لیتی جاؤ۔”

راجو رک گئی۔ مولا نے جھک کر ایک ایک مرچ چن لی اور پھر اپنے ہاتھ سے انہیں راجو کی گٹھڑی میں ٹھونستے ہوئے بولا۔ “تمہیں مجھ پر ترس آیا تھا نا راجو؟”۔

لیکن راجو ایک دم سنجیدہ ہو گئی اور اپنے راستے پر ہولی۔ مولا بھی واپس جانے لگا۔ کچھ دور ہی گیا تھا کہ بڑھیا نے اسے پکارا۔ “یہ تمہاری لٹھ تو یہیں رکھی رہ گئی مولا بخش!”

مولا پلٹا اور لٹھ لیتے ہوئے بڑھیا سے پوچھا۔

“ماسی! یہ لڑکی راجو کیا یہی کی رہنے والی ہے؟ میں نے تو اسے کبھی نہیں دیکھا۔”

“یہیں کی ہے بھی بیٹا اور نہیں بھی۔” بڑھیا بولی۔ “اس کے باپ نے لام میں دونوں بیٹوں کے مرنے کے بعد جب دیکھا کہ وہ روز ہل اٹھا کر اتنی دور کھیتوں میں نہیں جا سکتا تو گاتن والے گھر کی چھت اکھیڑی اور یہاں سے یوں سمجھو کہ کوئی دو ڈھائی کوس دور ایک ڈھوک بنا لی۔ وہیں راجو اپنے باپ کے ساتھ رہتی ہے، تیسرے چوتھے دن گاؤں میں سودا سلف خریدنے آ جاتی ہے اور بس۔”

مولا جواب میں صرف “ہوں” کہہ کر واپس چلا گیا، لیکن گاؤں بھر میں یہ خبر آندھی کی طرح پھیل گئی کہ آج مولا اپنی لٹھ ایک جگہ رکھ کر بھول گیا۔ باتوں باتوں میں راجو کا ایک دو بار نام آیا مگر دب گیا۔ رنگے کے گھرانے اور مولا کے درمیان صرف گنڈاسے کا رشتہ تھا نا اور راجو رنگے ہی کے بیٹے کی منگیتر تھی اور اپنی جان کسے پیاری نہیں ہوتی۔”

اس واقعہ کے بعد مولا گلیوں سے غائب ہو گیا۔ سارا دن گھر میں بیٹھا لاٹھی سے دالان کی مٹی کریدتا رہتا اور کبھی باہر جاتا بھی تو کھیتوں چراگاہوں میں پھرپھرا کر واپس آ جاتا۔ ماں اس کے رویے پر چونکی مگر صرف چونکنے پر اکتفا کی۔ وہ جانتی تھی کہ مولا کے سر پر بہت سے خون سوار ہیں، وہ بھی جو بہا دئے گئے اور وہ بھی جو بہائے نہ جا سکے۔

یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ نقارے پٹ پٹا کر خاموش ہو گئے تھے۔ گھروں میں سحری کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ دہی بلونے اور توے پر روٹیوں کے پڑنے کی آواز مندروں کی گھنٹیوں کی طرح پر اسرار معلوم ہو رہی تھیں۔ مولا کی ماں بھی چولہا جلائے بیٹھی تھی اور مولا مکان کی چھت پر ایک چارپائی پر لیٹا آسمان کو گھورے جا رہا تھا۔ یکا یک کسی گلی میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔ مولا نے فوراً لٹھ پر گنڈاسا چڑھایا اور چھت پر سے اتر کر گلی میں بھاگا۔ ہر طرف گھروں میں لالٹینیں نکلی آ رہی تھیں اور شور بڑھ رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر مولا کو معلوم ہوا کہ تین مسافر جو نیزوں، برچھیوں سے لیس تھے، بہت سے بیلوں اور گائے بھینسوں کو گلی میں سے ہنکائے لئے جا رہے تھے کہ چوکیدار نے انہیں ٹوکا اور جواب میں انہوں نے چوکیدار کو گالی دے کر کہا کہ یہ مال چوھدری مظفر الٰہی کا ہے، یہ گلی تو خیر ایک ذلیل سے گاؤں کی گلی ہے، چوھدری کا مال تو لاہور کی ٹھنڈک سڑک پر سے بھی گزرے تو کوئی اف نہ کرے۔

مولا کو کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے چوھدری مظفر خود، بہ نفسِ نفیس گاؤں کی اس گلی میں کھڑا اس سے گنڈاسا چھیننا چاہتا ہے، کڑک کر بولا۔ “چوری کا یہ مال میرے گاؤں سے نہیں گزرے گا، چاہے یہ چوھدری مظفر کا ہو چاہے لاٹ صاحب کا۔ یہ مال چھوڑ کر چپکے سے اپنی راہ لو اور اپنی جان کے دشمن نہ بنو!” اس نے لٹھ کر جھکا کر گنڈاسے کو لالٹینوں کی روشنی میں چمکایا۔ “جاؤ۔”

مولا گھرے ہوئے مویشیوں کو لٹھ سے ایک طرف ہنکانے لگا۔ “جا کر کہہ دو اپنے چوھدری سے کہ مولا گنڈاسے نے تمہیں سلام بھیجا ہے اور اب جاؤ اپنا کام کرو۔”

مسافروں نے مولا کے ساتھ سارے ہجوم کے بدلے ہوئے تیور دیکھے تو چپ چاپ کھسک گئے۔ مولا سارے مال کو اپنے گھر لے آیا اور سحری کھاتے ہوئے ماں سے کہا کہ “یہ سب بے زبان ہمارے مہمان ہیں، ان کے مالک پرسوں تک آ نکلیں گے کہیں سے اور گاؤں کی عزت میری عزت ہے ماں۔” مالک دوسرے ہی دن دوپہر کو پہنچ گئے۔۔

یہ غریب کسان اور مزارعے کوسوں کی مسافتیں طے کر کے کھوجیوں کی ناز برداریاں کرتے یہاں تک پہنچے تھے اور یہ سوچتے آ رہے تھے کہ اگر ان کا مال چوھدری کے حلقۂ اثر تک پہنچ گیا تو پھر کیا ہو گا اور جب مولا ان کا مال ان کے حوالے کر رہا تھا تو سارا گاؤں باہر گلی میں جمع ہو گیا تھا اور اس ہجوم میں راجو بھی تھی۔ اس نے اپنے سر پر اینڈوا جما کر مٹی کا ایک برتن رکھا ہوا تھا اور منتشر ہوتے ہوئے ہجوم میں جب راجو مولا کے پاس سے گزری تو مولا نے کہا۔ “آج بہت دنوں بعد گاؤں میں آئی ہو راجو۔”

“کیوں؟” اس نے کچھ یوں کہا جیسے “میں کسی سے ڈرتی تھوڑی ہوں” کا تاثر پیدا کرنا چاہتی ہو۔ میں تو کل آئی تھی اور پرسوں اور ترسوں بھی۔ ترسوں تھوم پیاز خریدنے آئی۔ پرسوں بابا کو حکیم کے پاس لائی، کل ویسے ہی آ گئیں اور آج یہ گھی بیچنے آئی ہوں۔”

“کل ویسے ہی کیوں آ گئیں؟” مولا نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔

“ویسے ہی بس جی چاہا آ گئے، سہیلیوں سے ملے اور چلے گئے، کیوں؟”

“ویسے ہی” مولا نے بجھ کر کہا، پھر ایک دم اسے ایک خیال آیا۔ “یہ گھی بیچو گی؟”

“ہاں بیچنا تو ہے، پر تیرے ہاتھ نہیں بیچوں گی۔”

“کیوں؟”

“تیرے ہاتھوں میں میرے رشتہ داروں کا خون ہے۔”

مولا کو ایک دم خیال آیا کہ وہ اپنی لٹھ کو دالان میں اور گنڈاسے کو بستر تلے رکھ کر بھول آیا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں چل سی ہونے لگی۔ اس نے گلی میں ایک کنکر اٹھایا اور اسے انگلیوں میں مسلنے لگا۔

راجو جانے کے لئے مڑی تو مولا ایک دم بولا۔ “دیکھو راجو میرے ہاتھوں پر خون ہے ہی اور ان پر ابھی جانے کتنا اور خون چڑھے گا، پر تمہیں گھی بیچنا ہے اور مجھے خریدنا ہے، میرے ہاتھ نہ بیچو، میری ماں کے ہاتھ بیچ دو۔”

راجو کچھ سوچ کر بولی”چلوآؤ”

مولا آگے آگے چلنے لگا۔ جاتے جاتے جانے اسے وہم سا گزرا کہ راجو اس کی پیٹھ اور پٹوں کو گھورے جا رہی ہے۔ ایک دم اس نے مڑ کر دیکھا راجو گلی میں چگتے ہوئے مرغی کے چوزوں کو بڑے غور سے دیکھتی ہوئی آ رہی تھی۔ وہ فوراً بولا”یہ چوزے میرے ہیں۔”

“ہوں گے۔” راجو بولی۔

مولا اب آنگن میں داخل ہو چکا تھا، بولا “ماں یہ سب گھی خرید لو، میرے مہمان آنے والے ہیں تھوڑے دنوں میں۔”

راجو نے برتن اتار کر اس کے دہانے پر سے کپڑا کھولا تاکہ بڑھیا گھی سونگھ لے، مگر وہ اندر چلی گئی تھی ترازو لینے اور مولا نے دیکھا کہ راجو کی کنپٹیوں پر سنہرے روئیں ہیں اور اس کی پلکیں یوں کمانوں کی طرح مڑی ہوئی ہیں جیسے اٹھیں گی تو اس کی بھنووں کو مس کر لیں گی اور ان پلکوں پر گرد کے ذرے ہیں اور اس کے ناک پر پسینے کے ننھے ننھے سوئی کے ناکے سے قطرے چمک رہے ہیں اور نتھنوں میں کچھ ایسی کیفیت ہے جیسے گھی کے بجائے گلاب کے پھول سونگھ رہی ہو۔ اس کے اوپر ہونٹ کی نازک محراب پر بھی پسینہ ہے اور ٹھوڑی اور نچلے ہونٹ کے درمیان ایک تل ہے جو کچھ یوں اچٹا ہوا لگ رہا ہے جیسے پھونک مارنے سے اڑ جائے گا۔ کانوں میں چاندی کے بندے انگور کے خوشوں کی طرح لس لس کرتے ہوئے لرز رہے ہیں اور ان بندوں میں اس کے بالوں کی ایک لٹ بے طرح الجھی ہوئی ہے۔ مولے گنڈاسے والے کا جی چاہا کہ وہ بڑی نرمی سے اس لٹ کو چھڑا کر راجو کے کانوں کے پیچھے جما دے یا چھڑا کر یونہی چھوڑ دے یا اسے اپنی ہتھیلی پر پھیلا کر ایک ایک بال کو گننے لگے یا

ماں ترازو لے کر آئی تو راجو بولی۔ “پہلے دیکھ لے ماسی، رگڑ کے سونگھ لے۔ آج صبح ہی کو تازہ تازہ مکھن گرم کیا تھا۔ پر سونگھ لے پہلے!”

“نہ بیٹی میں تو نہ سونگھوں گی۔” ماں نے کہا “میرا تو روزہ مکروہ ہوتا ہے!۔”

“لو” مولا نے لٹھ کی ایک طرف گرا دیا۔ پانچوں آہستہ آہستہ ا س کی طرف بڑھنے لگے۔ ہجوم جیسے دیوار سے چمٹ رہ گیا۔ بچے بہت پیچھے ہٹ کر کمہاروں کے آوے پر چڑھ گئے تھے۔

“کیا بات ہے؟” مولا نے گلے سے پوچھا۔

گلا جواب اس کے پاس پہنچ گیا تھا بولا۔

“تم نے چوھدری مظفر کا مال روکا تھا!”

“ہاں” مولا نے بڑے اطمینان سے کہا۔”پھر؟”

گلے نے کنکھیوں سے اپنے ساتھیوں کو دیکھا اور گلا صاف کرتے ہوئے بولا۔ چوھدری نے تمہیں اس کا انعام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ ہم یہ انعام ان سارے گاؤں والوں کے سامنے تمہارے حوالے کر دیں۔” “انعام!” مولا چونکا۔ “آخر بات کیا ہے؟”

گلے نے تڑاخ سے ایک چانٹا مولا کے منہ پر مارا اور پھر بجلی کی سی تیزی سے پیچھے ہٹتے ہوئے بولا۔ “یہ بات ہے۔”

تڑپ کر مولا نے لٹھ اٹھائی، ڈوبتے ہوئے سورج کی روشنی میں گنڈاسا شعلے کی طرح چمکا، پانچوں نووارد غیر انسانی تیزی سے واپس بھاگے، مگر گلا لاری کے پرلی طرف کنکروں پر پھسل کر گر گیا۔ لپکتا ہوا مولا رک گیا، اٹھا ہوا گنڈاسا جھکا اور جس زاویے پر جھکا تھا وہیں جھکا رہ گیادم بخود ہجوم دیوار سے اچٹ اچٹ کر آگے آ رہا تھا۔ بچے آوے کی راکھ اڑاتے ہوئے اتر آئے، نورا دکان میں سے باہر آگیا۔

گلے نے اپنی انگلیوں اور پنجوں کو زمین میں یوں گاڑ رکھا تھا۔ جیسے دھرتی کے سینہ میں اتر جانا چاہتا ہے اور پھر مولا، جو معلوم ہوتا تھا کچھ دیر کے لئے سکتے میں آگیا ہے، ایک قدم آگے بڑھا، لٹھ کو دور دکان کے سامنے اپنے کھٹولے کی طرف پھینک دیا اور گلے کو بازو سے پکڑ کر بڑی نرمی سے اٹھاتے ہوئے بولاچوھدری کو میرا سلام دینا اور کہنا کہ انعام مل گیا ہے، رسید میں خود پہنچانے آؤ ں گا۔”

اس نے ہولے ہولے گلے کے کپڑے جھاڑے، اس کے ٹوٹے ہوئے طرے کو سیدھا کیا اور بولا۔ “رسید تم ہی کو دے دیتا پر تمہیں تو دولہا بننا ہے ابھی اس لئے جاؤ، اپنا کام کرو”

گلا سر جھکائے ہولے ہولے چلتا گلی میں مڑ گیامولا آہستہ آہستہ کھاٹ کی طرف بڑھا، جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہا تھا ویسے ویسے لوگوں کے قدم پیچھے ہٹ رہے تھے اور جب اس نے کھاٹ پر بیٹھنا چاہا تو کمہاروں کے آوے کی طرف سے اس کی ماں چیختی چلاتی بھاگتی ہوئی آئی اور مولا کے پاس آ کر نہایت وحشت سے بولنے لگی۔”تجھے گلے نے تھپڑ مارا اور تو پی گیا چپکے سے! ارے تو تو میرا حلالی بیٹا تھا۔ تیرا گنڈاسا کیوں نہ اٹھا؟ تو نے” وہ اپنا سر پیٹتے ہوئے اچانک رک گئی اور بہت نرم آواز میں جیسے بہت دور سے بولی۔ “تو تو رو رہا ہے مولے؟”

مولے گنڈاسے والے نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے اپنا ایک بازو آنکھوں پر رگڑا اور لرزتے ہوئے ہونٹوں سے بالکل معصوم بچوں کی طرح ہولے بولا “تو کیا اب روؤں بھی نہیں!۔”

GADARIYA BY ASHFAQ AHMAD

Articles

گڈریا

اشفاق احمد

گڈریا

اشفاق احمد

یہ سردیوں کی ایک یخ بستہ اور طویل رات کی بات ہے۔ میں اپنے گرم گرم بستر میں سر ڈھانپے گہری نیند سو رہا تھا کہ کسی نے زور سے جھنجھوڑ کر مجھے جگا دیا۔

“کون ہے۔”میں نے چیخ کر پوچھا اور اس کے جواب میں ایک بڑا سا ہاتھ میرے سر سے ٹکرایا اور گھپ اندھیرے سے آواز آئی “تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیا۔”

“کیا؟” میں لرزتے ہوئے ہاتھ کو پرے دھکیلنا چاہا۔ “کیا ہے؟”

اور تاریکی کا بھوت بولا “تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیااس کا فارسی میں ترجمہ کرو۔”

“داؤ جی کے بچے” میں نے اونگھتے ہوئے کہا “آدھی آدھی رات کو تنگ کرتے ہودفع ہو جاؤ میں نہیں میں نہیں آپ کے گھر رہتا۔ میں نہیں پڑھتا داؤ جی کے بچےکتے!” اور میں رونے لگا۔

داؤ جی نے چمکار کر کہا “اگر پڑھے گا نہیں تو پاس کیسے ہو گا! پاس نہیں ہو گا تو بڑا آدمی نہ بن سکے گا، پھر لوگ تیرے داؤ کو کیسے جانیں گے؟”

“اللہ کرے سب مر جائیں۔ آپ بھی آپ کو جاننے والے بھیاور میں بھی میں بھی”

اپنی جواں مرگی پر ایسا رویا کہ دو ہی لمحوں میں گھگھی بندھ گئی۔

داؤ جی بڑے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے تھے اور کہہ رہے تھے “بس اب چپ کر شاباشمیرا اچھا بیٹا۔ اس وقت یہ ترجمہ کر دے، پھر نہیں جگاؤں گا۔”

آنسوؤں کا تار ٹوٹتا جا رہا تھا۔ میں نے جل کر کہا “آج حرامزادے رانو کو پکڑ کر لے گئے کل کسی اور کو پکڑ لیں گے۔ آپ کا ترجمہ تو”

“نہیں نہیں” انہوں نے بات کاٹ کر کہا “میرا تیرا وعدہ رہا آج کے بعد رات کو جگا کر کچھ نہ پوچھوں گاشاباش اب بتا “تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیا۔” میں نے روٹھ کر کہا “مجھے نہیں آتا۔”

“فوراً نہیں کہہ دیتا ہے” انہوں نے سر سے ہاتھ اٹھا کر کہا “کوشش تو کرو۔” “نہیں کرتا!” میں نے جل کر جواب دیا۔

اس پر وہ ذرا ہنسے اور بولے “کارکنانِ گزمہ خانہ رانو را توقیف کردندکارکنانِ گزمہ خانہ، تھانے والے۔ بھولنا نہیں نیا لفظ ہے۔ نئی ترکیب ہے، دس مرتبہ کہو۔”

مجھے پتہ تھا کہ یہ بلا ٹلنے والی نہیں، نا چار گزمہ خانہ والوں کا پہاڑہ شروع کر دیا، جب دس مرتبہ کہہ چکا تو داؤ جی نے بڑی لجاجت سے کہا اب سارا فقرہ پانچ بار کہو۔ جب پنجگانہ مصیبت بھی ختم ہوئی تو انہوں نے مجھے آرام سے بسترمیں لٹاتے ہوئے اور رضائی اوڑھاتے ہوئے کہا۔ “بھولنا نہیں! صبح اٹھتے ہی پوچھوں گا۔” پھر وہ جدھر سے آئے تھے ادھر لوٹ گئے۔

شام کو جب میں ملا جی سے سیپارے کا سبق لے کر لوٹتا تو خراسیوں والی گلی سے ہو کر اپنے گھر جایا کرتا۔ اس گلی میں طرح طرح کے لوگ بستے تھے۔ مگر میں صرف موٹے ماشکی سے واقف تھا جس کو ہم سب “کدو کریلا ڈھائی آنے” کہتے تھے۔

ماشکی کے گھر کے ساتھ بکریوں کا ایک باڑہ تھا جس کے تین طرف کچے پکے مکانوں کی دیواریں اور سامنے آڑی ترچھی لکڑیوں اور خار دار جھاڑیوں کا اونچا اونچا جنگلا تھا۔ اس کے بعد ایک چوکور میدان آتا تھا، پھر لنگڑے کمہار کی کوٹھڑی اور اس کے ساتھ گیرو رنگی کھڑکیوں اور پیتل کی کیلوں والے دروازوں کا ایک چھوٹا سا پکا مکان۔ اس کے بعد گلی میں ذرا سا خم پیدا ہوتا اور قدرے تنگ ہو جاتی پھر جوں جوں اس کی لمبائی بڑھتی توں توں اس کے دونوں بازو بھی ایک دوسرے کے قریب آتے جاتے۔ شاید وہ ہمارے قصبے کی سب سے لمبی گلی تھی اور حد سے زیادہ سنسان! اس میں اکیلے چلتے ہوئے مجھے ہمیشہ یوں لگتا تھا جیسے میں بندوق کی نالی میں چلا جا رہا ہوں اور جونہی میں اس کے دہانے سے باہر نکلوں گا زور سے “ٹھائیں” ہو گا اور میں مر جاؤں گا۔ مگر شام کے وقت کوئی نہ کوئی راہگیر اس گلی میں ضرور مل جاتا اور میری جان بچ جاتی۔ ان آنے جانے والوں میں کبھی کبھار ایک سفید سی مونچھوں والا لمبا سا آدمی ہوتا جس کی شکل بارہ ماہ والے ملکھی سے بہت ملتی تھی۔ سر پر ململ کی بڑی سی پگڑی۔ ذرا سی خمیدہ کمر پر خاکی رنگ کا ڈھیلا اور لمبا کوٹ۔ کھدر کا تنگ پائجامہ اور پاؤں میں فلیٹ بوٹ۔ اکثر اس کے ساتھ میری ہی عمر کا ایک لڑکا بھی ہوتا جس نے عین اسی طرح کے کپڑے پہنے ہوتے اور وہ آدمی سر جھکائے اور اپنے کوٹ کی جیبوں کی ہاتھ ڈالے آہستہ آہستہ اس سے باتیں کیا کرتا۔ جب وہ میرے برابر آتے تو لڑکا میری طرف دیکھتا تھا اور میں اس کی طرف اور پھر ایک ثانیہ ٹھٹھکے بغیر گردنوں کو ذرا ذرا موڑتے ہم اپنی اپنی راہ پر چلتے جاتے۔

ایک دن میں اور میرا بھائی ٹھٹھیاں کے جوہڑ سے مچھلیاں پکڑنے کی ناکام کوشش کے بعد قصبہ کو واپس آ رہے تھے تو نہر کے پل پر یہی آدمی اپنی پگڑی گود میں ڈالے بیٹھا تھا اور اس کی سفید چٹیا میری مرغی کے پر کی طرح اس کے سر سے چپکی ہوئی تھی۔ اس کے قریب سے گزرتے ہوئے میرے بھائی نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر زور سے سلام کیا۔”داؤ جی سلام” اور داؤ جی نے سر ہلا کر جواب دیا۔ “جیتے رہو۔”

یہ جان کر کہ میرا بھائی اس سے واقف ہے میں بے حد خوش ہوا اور تھوڑی دیر بعد اپنی منمنی آواز میں چلایا۔ “داؤ جی سلام۔”

“جیتے رہو۔ جیتے رہو!!” انہوں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا اور میرے بھائی نے پٹاخ سے میرے زناٹے کا ایک تھپڑ دیا۔

“شیخی خورے، کتے” وہ چیخا۔ جب میں نے سلام کر دیا تو تیری کیا ضرورت رہ گئی تھی؟ ہر بات میں اپنی ٹانگ پھنساتا ہے کمینہ”بھلا کون ہے وہ؟”

“داؤ جی” میں نے بسور کر کہا۔

“کون داؤ جی” میرے بھائی نے تنک کر پوچھا۔

“وہ جو بیٹھے ہیں” میں نے آنسو پی کر کہا۔

“بکواس نہ کر” میرا بھائی چڑ گیا اور آنکھیں نکال کر بولا۔ ہر بات میں میری نقل کرتا ہے کتاشیخی خورا۔”

میں نہیں بولا اور اپنی خاموشی کے ساتھ راہ چلتا رہا۔ دراصل مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ داؤ جی سے تعارف ہو گیا۔ اس کا رنج نہ تھا کہ بھائی نے میرے تھپڑ کیوں مارا۔ وہ تو اس کی عادت تھی۔ بڑا تھا نا اس لئے ہر بات میں اپنی شیخی بگھارتا تھا۔

داؤ جی سے علیک سلیک تو ہو ہی گئی تھی اس لئے میں کوشش کر کے گلی میں سے اس وقت گزرنے لگا جب وہ آ جا رہے ہوں۔ انہیں سلام کر کے بڑا مزا آتا تھا اور جواب پا کر اس سے بھی زیادہ اس سے بھی زیادہ۔ جیتے رہو کچھ ایسی محبت سے کہتے کہ زندگی دو چند ہو سی جاتی اور آدمی زمین سے ذرا اوپر اٹھ کر ہوا میں چلنے لگتاسلام کا یہ سلسلہ کوئی سال بھر یونہی چلتا رہا اور اس اثناء میں مجھے اس قدر معلوم ہو سکا کہ داؤ جی گیرو رنگی کھڑکیوں والے مکان میں رہتے ہیں اور چھوٹا سا لڑکا ان کا بیٹا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے ان کے متعلق کچھ اور بھی پوچھنا چاہا مگر وہ بڑا سخت آدمی تھا اورمیری چھوٹی بات پر چڑ جاتا تھا۔ میرے ہر سوال کے جواب میں ا س کے پاس گھڑے گھڑائے دو فقرے ہوتے تھے۔ “تجھے کیا” اور “بکواس نہ کر” مگر خدا کا شکر ہے میرے تجسس کا یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہ چلا۔ اسلامیہ پرا ئمری سکول سے چوتھی پاس کر کے میں ایم۔ بی ہائی سکول کی پانچویں جماعت میں داخل ہوا تو وہی داؤ جی کا لڑکا میرا ہم جماعت نکلا۔ اس کی مدد سے اور اپنے بھائی کا احسان اٹھائے بغیر میں یہ جان گیا کہ داؤ جی کھتری تھے اور قصبہ کی منصفی میں عرضی نویسی کا کام کرتے تھے۔ لڑکے کا نام امی چند تھا اور وہ جماعت میں سب سے زیادہ ہشیار تھا۔ اس کی پگڑی کلاس بھر میں سب سے بڑی تھی اور چہرہ بلی کی طرح چھوٹا۔ چند لڑکے اسے میاؤں کہتے تھے اور باقی نیولا کہہ کر پکارتے تھے مگر میں داؤ جی کی وجہ سے اس کے اصلی نام ہی سے پکارتا تھا۔ اس لئے وہ میرا دوست بن گیا اور ہم نے ایک دوسرے کو نشانیاں دے کر پکے یار بننے کا وعدہ کر لیا تھا۔


گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے میں کوئی ایک ہفتہ ہو گا جب میں امی چند کے ساتھ پہلی مرتبہ اس کے گھر گیا۔ وہ گرمیوں کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر تھی لیکن شیخ چلی کی کہانیاں حاصل کرنے کا شوق مجھ پر بھوت بن کر سوار تھا اور میں بھوک اور دھوپ دونوں سے بے پرواہ ہو کر سکول سے سیدھا اس کے ساتھ چل دیا۔

امی چند کا گھر چھوٹا سا تھا لیکن بہت ہی صاف ستھرا اور روشن۔ پیتل کی کیلوں والے دروازے کے بعد ذرا سی ڈیوڑھی تھی۔ آگے مستطیل صحن، سامنے سرخ رنگ کا برآمدہ اور اس کے پیچھے اتنا ہی بڑا کمرہ۔ صحن میں ایک طرف انار کا پیڑ۔ عقیق کے چند پودے اور دھنیا کی ایک چھوٹی سی کیار ی تھی۔ دوسری طرف چوڑی سیڑھیوں کا ایک زینہ جس کی محراب تلے مختصر سی رسوئی تھی۔ گیرو رنگی کھڑکیاں ڈیوڑھی سے ملحقہ بیٹھک میں کھلتی تھیں اور بیٹھک کا دروازہ نیلے رنگ کا تھا۔ جب ہم ڈیوڑھی میں داخل ہوئے تو امی چند نے چلا کر “بے بے نمستے!” کہا اور مجھے صحن کے بیچوں بیچ چھوڑ کر بیٹھک میں گھس گیا۔ برآمدے میں بوریا بچھائے بے بے مشین چلا رہی تھی اور اس کے پاس ہی ایک لڑکی بڑی سی قینچی سے کپڑے قطع کر رہی تھی۔ بے بے نے منہ ہی منہ میں کچھ جواب دیا اور ویسے ہی مشین چلا تی رہی۔ لڑکی نے نگاہیں اٹھا کر میری طرف دیکھا اور گردن موڑ کر کہا۔ “بے بے شاید ڈاکٹر صاحب کا لڑکا ہے۔”

مشین رک گئی۔

“ہاں ہاں” بے بے نے مسکرا کر کہا اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنی طرف بلایا۔ میں اپنے جز دان کی رسی مروڑتا اور ٹیڑھے ٹیڑھے پاؤں دھرتا برآمدے کے ستون کے ساتھ آ لگا۔

“کیا نام ہے تمہارا” بے بے نے چمکار کر پوچھا اور میں نے نگاہیں جھکا کر آہستہ سے اپنا نام بتا دیا۔ “آفتاب سے بہت شکل ملتی ہے۔” اس لڑکی نے قینچی زمین پر رکھ کر کہا۔ “ہے نا بے بے ؟”

“کیوں نہیں بھائی جو ہوا۔”

“آفتاب کیا؟” اندر سے آواز آئی، آفتاب کیا بیٹا؟”

“آفتاب کا بھائی ہے داؤ جی” لڑکی نے رکتے ہوئے کہا۔ “امی چند کے ساتھ آیا ہے۔”

اندر سے داؤ جی برآمد ہوئے۔ انہوں نے گھٹنوں تک اپنا پائجامہ چڑھا رکھا اور کرتہ اتارا ہوا تھا۔ مگر سر پر پگڑی بدستور تھی۔ پانی کی ہلکی سی بالٹی اٹھا وہ برآمدے میں آ گئے اور میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولے۔ “ہاں بہت شکل ملتی ہے مگر میرا آفتاب بہت دبلا ہے اور یہ گولو مولو سا ہے۔” پھر بالٹی فرش پر رکھ کے انہوں نے میرے سر ہاتھ پھیرا اور پاس کا ٹھ کا ایک اسٹول کھینچ کر اس پر بیٹھ گئے۔ زمین سے پاؤں اٹھا کر انہوں نے آہستہ سے انہیں جھاڑا اور پھر بالٹی میں ڈال دئے۔ “آفتاب کا خط آتا ہے؟” انہوں نے بالٹی سے پانی کے چلو بھر بھر کر ٹانگوں پر ڈالتے ہوئے پوچھا۔ “آتا ہے جی” میں نے ہولے سے کہا۔ “پرسوں آیا تھا۔”

“کیا لکھتا ہے؟”۔

“پتا نہیں جی، ابا جی کو پتہ ہے۔”

“اچھا” انہوں نے سر ہلا کر کہا۔ “تو ابا جی سے پوچھا کرنا! جو پوچھتا نہیں اسے کسی بھی بات کا علم نہیں ہوتا۔”

میں چپ رہا۔

تھوڑی دیر انہوں نے ویسے ہی چلو ڈالتے ہوئے پوچھا۔ “کونسا سیپارہ پڑھ رہے ہو؟”

“چوتھا” میں نے وثوق سے جواب دیا۔

“کیا نام ہے تیسرے سیپارے کا؟” انہوں نے پوچھا۔

“جی نہیں پتہ۔ “میری آواز پھر ڈوب گئی۔

“تلک الرسل” انہوں نے پانی سے ہاتھ باہر نکال کر کہا۔ پھر تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ جھٹکتے اور ہوا میں لہراتے رہے۔ بے بے مشین چلاتی رہی۔ وہ لڑکی نعمت خانے سے روٹی نکال کر برآمدے کی چوکی پر لگانے لگی اور میں جزدان کی ڈوری کو کھولتا لپیٹتا رہا۔ امی چند ابھی تک بیٹھک کے اندر ہی تھا اور میں ستون کے ساتھ ساتھ جھینپ کی عمیق گہرائیوں میں اترتا جا رہا تھا، معاً داؤ جی نے نگاہیں میری طرف پھیر کر کہا

“سورة فاتحہ سناؤ۔”

“مجھے نہیں آتی جی” میں نے شرمندہ ہو کر کہا۔

انہوں نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور پوچھا “الحمدللہ بھی نہیں جانتے؟”

“الحمدللہ تو میں جانتا ہوں جی” میں نے جلدی سے کہا۔

وہ ذرا مسکرائے اور گویا اپنے آپ سے کہنے لگے۔ “ایک ہی بات ہے! ایک ہی بات ہے!!” پھر انہوں نے سر کے اشارے سے کہا سناؤ۔ جب میں سنانے لگا تو انہوں نے اپنا پائجامہ گھٹنوں سے نیچے کر لیا اور پگڑی کا شملہ چوڑا کر کے کندھوں پر ڈال دیا اور جب میں نے وَلَا الضَّالِّیْنَ کہا تو میر ے ساتھ ہی انہوں نے بھی آمین کہا۔ مجھے خیال ہوا کہ وہ ابھی اٹھ کر مجھے کچھ انعام دیں گے کیونکہ پہلی مرتبہ جب میں نے اپنے تایا جی کو الحمدللہ سنائی تھی تو انہوں نے بھی ایسے ہی آمین کہا تھا اور ساتھ ہی ایک روپیہ مجھے انعام بھی دیا تھا۔ مگر داؤ جی اسی طرح بیٹھے رہے بلکہ اور بھی پتھر ہو گئے۔ اتنے میں امی چند کتاب تلاش کر کے لے آیا اور جب میں چلنے لگا تو میں نے عادت کے خلاف آہستہ سے کہا “داؤ جی سلام” اور انہوں نے ویسے ہی ڈوبے ڈوبے ہولے سے جواب دیا۔ “جیتے رہو۔”

بے بے نے مشین روک کر کہا “کبھی کبھی امی چند کے ساتھ کھیلنے آ جایا کرو۔”

“ہاں ہاں آ جایا کر” داؤ جی چونک کر بولے۔ “آفتاب بھی آیا کرتا تھا” پھر انہوں نے بالٹی پر جھکتے ہوئے کہا “ہمارا آفتاب تو ہم سے بہت دور ہو گیا اور فارسی کا شعر سا پڑھنے لگے۔

یہ داؤ جی سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات تھی اور اس ملاقات سے میں یہ نتائج اخذ کر کے چلا کہ داؤ جی بڑے کنجوس ہیں۔ حد سے زیادہ چپ ہیں اور کچھ بہرے سے ہیں۔ اسی دن شام کو میں نے اپنی اماں کو بتایا کہ میں داؤ جی کے گھر گیا تھا اور وہ آفتاب بھائی کو یاد کر رہے تھے۔

اماں نے قدرے تلخی سے کہا “تو مجھ سے پوچھ تو لیتا۔ بے شک آفتاب ان سے پڑھتا رہا ہے اور ان کی بہت عزت کرتا ہے مگر تیرے اباجی ان سے بولتے نہیں ہیں۔ کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا سو اب تک ناراضگی چلی آتی ہے۔ اگر انہیں پتہ چل گیا کہ تو ان کے ہاں گیا تھا تو وہ خفا ہوں گے، پھر اماں نے ہمدرد بن کر کہا “اپنے ابا سے اس کا ذکر نہ کرنا۔”

میں ابا جی سے بھلا اس کا ذکر کیوں کرتا، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ میں داؤ جی کے ہاں جاتا رہا اور خوب خوب ان سے معتبری کی باتیں کرتا رہا۔


وہ چٹائی بچھائے کوئی کتا ب پڑھ رہے ہوتے۔ میں آہستہ سے ان کے پیچھے جا کر کھڑا ہو جاتا اور وہ کتاب بند کر کے کہتے “گول آ گیا” پھر میری طرف مڑتے اور ہنس کر کہتے “کوئی گپ سنا” اور میں اپنی بساط کے اور سمجھ کے مطابق ڈھونڈ ڈھانڈ کے کوئی بات سناتا تو وہ خوب ہنستے۔ بس یونہی میرے لئے ہنستے حالانکہ مجھے اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسی دلچسپ باتیں بھی نہ ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے رجسٹر سے کوئی کاغذ نکال کر کہتے لے ایک سوال نکال۔ اس سے میری جان جاتی تھی لیکن ان کا وعدہ بڑا رسیلا ہوتا تھا کہ ایک سوال اور پندرہ منٹ باتیں۔ اس کے بعد ایک اور سوال اور پھر پندرہ منٹ گپیں۔ چنانچہ میں مان جاتا اور کاغذ لے کر بیٹھ جاتا لیکن ان کے خود ساختہ سوال کچھ ایسے الجھے ہوتے کہ اگلی باتوں اور اگلے سوالوں کا وقت بھی نکل جاتا۔ اگر خوش قسمی سے سوال جلد حل ہو جاتا تو وہ چٹائی کو ہاتھ لگا کر پوچھتے یہ کیا ہے؟ “چٹائی” میں منہ پھاڑ کر جواب دیتا “اوں ہوں” وہ سر ہلا کر کہتے “فارسی میں بتاؤ” تو میں تنک کر جواب دیتا “لو جی ہمیں کوئی فارسی پڑھائی جاتی ہے” اس پر وہ چمکار کر کہتے “میں جو پڑھاتا ہوں گولومیں جو سکھاتا ہوںسنو! فارسی میں بوریا، عربی میں حصیر” میں شرارت سے ہاتھ جوڑ کر کہتا “بخشو جی بخشو، فارسی بھی اور عربی بھی میں نہیں پڑھتا مجھے معاف کرو” مگر وہ سنی ان سنی ایک کر کے کہے جاتے فارسی بوریا، عربی حصیر۔ اور پھر کوئی چاہے اپنے کانوں میں سیسہ بھر لیتا۔ داؤ جی کے الفاظ گھستے چلے جاتے تھےامی چند کتابوں کا کیڑا تھا۔ سارا دن بیٹھک میں بیٹھا لکھتا پڑھتا رہتا۔ داؤ جی اس کے اوقات میں مخل نہ ہوتے تھے، لیکن ان کے داؤ امی چند پر بھی برابر ہوتے تھے، وہ اپنی نشست سے اٹھ کر گھڑے سے پانی پینے آیا، داؤ جی نے کتاب سے نگاہیں اٹھا کر پوچھا۔ “بیٹا؟؟؟؟ کیا ہے۔ اس نے گلاس کے ساتھ منہ لگائے لگائے “ڈیڈ” کہا اور پھر گلاس گھڑونچی تلے پھینک کر اپنے کمرے میں آگیا۔ داؤ جی پھر پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔ گھر میں ان کو اپنی بیٹی سے بڑا پیار تھا۔ ہم سب اسے بی بی کہہ کر پکارتے تھے۔ اکیلے داؤ جی نے اس کا نام قرة رکھا ہوا تھا۔ اکثر بیٹھے بیٹھے ہانک لگا کر کہتے “قرة بیٹی یہ قینچی تجھ سے کب چھوٹے گی؟” اور وہ اس کے جواب میں مسکرا کر خاموش ہو جاتی۔ بے بے کو اس نام سے بڑی چڑ تھی۔ وہ چیخ کر جواب دیتی۔ “تم نے اس کا نام قرۃ رکھ کر اس کے بھاگ میں کرتے سینے لکھوا دئے ہیں۔ منہ اچھا نہ ہو تو شبد تو اچھے نکالنے چاہئیں” اور داؤ جی ایک لمبی سانس لے کر کہتے “جاہل اس کا مطلب کیا جانیں” اس پر بے بے کا غصہ چمک اٹھتا اور اس کے منہ میں جو کچھ آتا کہتی چلی جاتی۔ پہلے کوسنے، پھر بد دعائیں اور آخر میں گالیوں پر اتر آتی۔ بی بی رکتی تو داؤ جی کہتے “ہوائیں چلنے کو ہوتی ہیں بیٹا اور گالیاں برسنے کو، تم انہیں روکو مت، انہیں ٹوکو مت۔ پھر وہ اپنی کتابیں سمیٹتے اور اپنا محبوب حصیر اٹھا کر چپکے سے سیڑھیوں پر چڑھ جاتے۔

نویں جماعت کے شروع میں مجھے ایک بری عادت پڑ گئی اور اس بری عادت نے عجیب گل کھلائے۔ حکیم علی احمد مرحوم ہمارے قصبے کے ایک ہی حکیم تھے۔ علاج معالجہ سے ان کو کچھ ایسی دلچسپی نہ تھی لیکن باتیں بڑی مزیدار سناتے تھے۔ اولیاؤں کے تذکرے، جنوں بھوتوں کی کہانیاں اور حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سبا کی گھریلو زندگی کی داستانیں ان کے تیر بہدف ٹوٹکے تھے۔ ان کے تنگ و تاریک مطب میں معجون کے چند ڈبوں، شربت کی دس پندرہ بوتلوں اور دو آتشی شیشیوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ دواؤں کے علاوہ وہ اپنی طلسماتی تقریر اور حضرت سلیمانؑ کے خاص صدری تعویذوں سے مریض کا علاج کیا کرتے تھے۔ انہی باتوں کے لئے دور دراز گاؤں کے مریض ان کے پاس کھنچے چلے آتے اور فیض یاب ہو کر جاتے۔ ہفتہ دو ہفتہ کی صحبت میں میرا ان کے ساتھ ایک معاہدہ ہو گیا، میں اپنے ہسپتال سے ان کے لئے خالی بوتلیں اور شیشیاں چرا کے لاتا اور اس کے بدلے وہ مجھے داستانِ امیر حمزہ کی جلدیں پڑھنے کے لئے دیا کرتے۔

یہ کتابیں کچھ ایسی دلچسپ تھیں کہ میں رات رات بھر اپنے بستر میں دبک کر انہیں پڑھا کرتا اور صبح دیر تک سویا رہتا، اماں میرے اس رویے سے سخت نالاں تھیں، ابا جی کو میری صحت برباد ہونے کا خطرہ لاحق تھا لیکن میں نے ان کو بتا دیا تھا کہ چاہے جان چلی جائے اب کے دسویں میں وظیفہ ضرور حاصل کروں گا۔ رات طلسم ہوشربا کے ایوانوں میں بسر ہوتی اور دن بینچ پر کھڑے ہو کر، سہ ماہی امتحان میں فیل ہوتے ہوتے بچا۔ ششماہی میں بیمار پڑ گیا اور سالانہ امتحان کے موقع پر حکیم جی کی مدد سے ماسٹروں سے مل ملا کر پاس ہو گیا۔

دسویں میں صندلی نامہ، فسانۂ آزاد اور الف لیلیٰ ساتھ ساتھ چلتے تھے، فسانۂ آزاد اور صندلی نامہ گھر پر رکھے تھے، لیکن الف لیلیٰ سکول کے ڈیسک میں بند رہتی۔ آخری بینچ پر جغرافیہ کی کتاب تلے سند باد جہازی کے ساتھ ساتھ چلتا اور اس طرح دنیا کی سیر کرتابائیس مئی کا واقعہ ہے کہ صبح دس بجے یونیورسٹی سے نتیجہ کی کتاب ایم۔ بی ہائی سکول پہنچی۔ امی چند نہ صرف سکول میں بلکہ ضلع بھر میں اول آیا تھا۔ چھ لڑکے فیل تھے اور بائیس پاس۔ حکیم جی کا جادو یونیورسٹی پر نہ چل سکا اور پنجاب کی جابر دانش گاہ نے میرا نام بھی ان چھ لڑکوں میں شامل کر دیا۔ اسی شام قبلہ گاہی نے بید سے میری پٹائی کی اور گھر سے باہر نکال دیا۔ میں ہسپتال کے رہٹ کی گدی پر آ بیٹھا اور رات گئے تک سوچتا رہا کہ اب کیا کرنا چاہئے اور اب کدھر جانا چاہئے۔ خدا کا ملک تنگ نہیں تھا اور میں عمرو عیار کے ہتھکنڈوں اور سند باد جہازی کے تمام طریقوں سے واقف تھا مگر پھر بھی کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی۔ کوئی دو تین گھنٹے اسی طرح ساکت و جامد اس گدی پر بیٹھا زیست کرنے کی راہیں سوچتا رہا۔ اتنے میں اماں سفید چادر اوڑھے مجھے ڈھونڈتی ڈھونڈتی ادھر آ گئیں اور اباجی سے معافی لے دینے کا وعدہ کر کے مجھے پھر گھر لے گئیں۔ مجھے معافی وافی سے کوئی دلچسپی نہ تھی، مجھے تو بس ایک رات ا ور ان کے یہاں گزارنی تھی اور صبح سویرے اپنے سفر پر روانہ ہونا تھا، چنانچہ میں آرام سے ان کے ساتھ جا کر حسب معمول اپنے بستر پر دراز ہو گیا۔

اگلے دن میرے فیل ہونے والے ساتھیوں میں سے خوشیا کوڈو اور دیسو یب یب مسجد کے پچھواڑے ٹال کے پاس بیٹھے مل گئے۔ وہ لاہور جا کر بزنس کرنے کا پرو گرام بنا رہے تھے۔ دیسو یب یب نے مجھے بتایا کہ لاہور میں بڑا بزنس ہے کیونکہ اس کے بھایا جی اکثر اپنے دوست فتح چند کے ٹھیکوں کا ذکر کیا کرتے تھے جس نے سال کے اندر اندر دو کاریں خرید لی تھیں۔ میں نے ان سے بزنس کی نوعیت کے بارے میں پوچھا تو یب یب نے کہا لاہور میں ہر طرح کا بزنس مل جاتا ہے۔ بس ایک دفتر ہونا چاہئے اور اس کے سامنے بڑا سا سائن بورڈ۔ سائن بورڈ دیکھ کر لوگ خود ہی بزنس دے جاتے ہیں۔ اس وقت بزنس سے مراد وہ کرنسی نوٹ لے رہا تھا۔

میں نے ایک مرتبہ پھر وضاحت چاہی تو کوڈو چمک کر بولا “یار دیسو سب جانتا ہے۔ یہ بتا، تو تیار ہے یا نہیں؟”

پھر اس نے پلٹ کر دیسو سے پوچھا “انار کلی میں دفتر بنائیں گے نا؟”

دیسو نے ذرا سوچ کر کہا “انار کلی میں یا شاہ عالمی کے باہر دونوں ہی جگہیں ایک سی ہیں۔”

میں نے کہا انار کلی زیادہ مناسب ہے کیونکہ وہی زیادہ مشہور جگہ ہے اور اخباروں میں جتنے بھی اشتہار نکلتے ہیں ان میں انار کلی لاہور لکھا ہوتا ہے۔”

چنانچہ یہ طے پایا کہ اگلے دن دو بجے کی گاڑی سے ہم لاہور روانہ ہو جائیں!

گھر پہنچ کر میں سفر کی تیاری کرنے لگا۔ بوٹ پالش کر رہا تھا کہ نوکر نے آ کر شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا “چلو جی ڈاکٹر صاحب بلاتے ہیں۔”

“کہاں ہیں؟” میں نے برش زمین پر رکھ دیا اور کھڑا ہو گیا۔

“ہسپتال میں ” وہ بدستور مسکرا رہا تھا کیونکہ میری پٹائی کے روز حاضرین میں وہ بھی شامل تھا۔ میں ڈرتے ڈرتے برآمدے کی سیڑھیاں چڑھا۔ پھر آہستہ سے جالی والا دروازہ کھول کر اباجی کے کمرے میں داخل ہوا تو وہا ں ان کے علاوہ داؤ جی بھی بیٹھے تھے۔ میں نے سہمے سہمے داؤ جی کو سلام کیا اور اس کے جواب میں بڑی دیر کے بعد جیتے رہو کی مانوس دعا سنی۔

“ان کو پہچانتے ہو؟” اباجی نے سختی سے پوچھا۔

“بے شک” میں نے ایک مہذب سیلزمین کی طرح کہا۔

“بے شک کے بچے، حرامزادے، میں تیری یہ سب۔”

“نہ نہ ڈاکٹر صاحب” داؤ جی نے ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا “یہ تو بہت ہی اچھا بچہ ہے اس کو تو”

اور ڈاکٹر صاحب نے بات کاٹ کر تلخی سے کہا “آپ نہیں جانتے منشی جی اس کمینے نے میری عزت خاک میں ملا دی۔”


“اب فکر نہ کریں ” داؤ جی نے سر جھکائے کہا۔ “یہ ہمارے آفتاب سے بھی ذہین ہے اور ایک دن”

اب کے ڈاکٹر صاحب کو غصہ آگیا اور انہوں نے میز پر ہاتھ مار کر کہا “کیسی بات کرتے ہو منشی جی! یہ آفتاب کے جوتے کی برابری نہیں کر سکتا۔”

“کرے گا، کرے گاڈاکٹر صاحب” داؤ جی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا “آپ خاطر جمع رکھیں۔”

پھر وہ اپنی کرسی سے اٹھے اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے “میں سیر کو چلتا ہوں، تم بھی میرے ساتھ آؤ، راستے میں باتیں کریں گے۔”

اباجی اسی طرح کرسی پر بیٹھے غصے کے عالم میں اپنا رجسٹر الٹ پلٹ کرتے اور بڑبڑاتے رہے۔ میں نے آہستہ آہستہ چل کر جالی والا دروازہ کھولا تو داؤ جی نے پیچھے مڑ کر کہا۔

“ڈاکٹر صاحب بھول نہ جائیے ابھی بھجوا دیجئے گا۔”

داؤ جی نے مجھے ادھر ادھر گھماتے اور مختلف درختوں کے نام فارسی میں بتاتے نہر کے اسی پل پر لے گئے جہاں پہلے پہل میرا ان سے تعارف ہوا تھا۔ اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ کر انہوں نے پگڑی اتار کر گود میں ڈال لی سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ پھر انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور کہا “آج سے میں تمہیں پڑھاؤں گا اور اگر جماعت میں اول نہ لا سکا تو فرسٹ ڈویژن ضرور دلوا دوں گا۔ میرے ہر ارادے میں خداوند تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے اور اس ہستی نے مجھے اپنی رحمت سے کبھی مایوس نہیں کیا”

“مجھ سے پڑھائی نہ ہو گی” میں نے گستاخی سے بات کاٹی۔

“تو اور کیا ہو گا گولو؟” انہوں نے مسکرا کر پوچھا۔

میں نے کہا “میں بزنس کروں گا، روپیہ کماؤں گا اور اپنی کار لے کر یہاں ضرور آؤں گا، پھر دیکھنا” اب کے داؤ جی نے میری بات کاٹی اور بڑی محبت سے کہا “خدا ایک چھوڑ تجھے دس کاریں دے لیکن ایک ان پڑھ کی کار میں نہ میں بیٹھوں گا نہ ڈاکٹر صاحب۔”

میں نے جل کر کہا “مجھے کسی کی پرواہ نہیں ڈاکٹر صاحب اپنے گھر راضی، میں اپنے یہاں خوش۔”

انہوں نے حیران ہو کر پوچھا “میری بھی پرواہ نہیں؟” میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ دکھی سے ہو گئے اور بار بار پوچھنے لگے۔

“میری بھی پرواہ نہیں؟”

“او گولو میری بھی پرواہ نہیں؟”

مجھے ان کے لہجے پر ترس آنے لگا اور میں نے آہستہ سے کہا۔ آپ کی تو ہے مگر” مگر انہوں نے میری بات نہ سنی اور کہنے لگے اگر اپنے حضرت کے سامنے میرے منہ سے ایسی بات نکل جاتی؟ اگر میں یہ کفر کا کلمہ کہہ جاتا تو تو ” انہوں نے فورا پگڑی اٹھا کر سر پر رکھ لی اور ہاتھ جوڑ کہنے لگے۔ “میں حضور کے دربار کا ایک ادنیٰ کتا۔ میں حضرت مولانا کی خاک پا سے بد تر بندہ ہو کر آقا سے یہ کہتا۔ لعنت کا طوق نہ پہنتا؟ خاندانِ ابو جہل کا خانوادہ اور آقا کی ایک نظر کرم۔ حضرت کا ایک اشارہ۔ حضور نے چنتو کو منشی رام بنا دیا۔ لوگ کہتے ہیں منشی جی، میں کہتا ہوں رحمۃ اللہ علیہ کا کفش بردارلوگ سمجھتے ہیں” داؤ جی کبھی ہاتھ جوڑتے، کبھی سر جھکاتے کبھی انگلیاں چوم کر آنکھوں کو لگاتے اور بیچ بیچ میں فارسی کے اشعار پڑھتے جاتے۔ میں کچھ پریشان سا پشیمان سا، ان کا زانو چھو کر آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا “داؤ جی! داؤ جی” اور داؤ جی “میرے آقا، میرے مولانا، میرے مرشد” کا وظیفہ کئے جاتے۔

جب جذب کا یہ عالم دور ہوا تو نگاہیں اوپر اٹھا کر بولے “کیا اچھا موسم ہے دن بھر دھوپ پڑتی ہے تو خوشگوار شاموں کا نزول ہوتا ہے ” پھر وہ پل کی دیوار سے اٹھے اور بولے “چلو اب چلیں بازار سے تھوڑا سودا خریدنا ہے۔” میں جیسا سرکش و بد مزاج بن کر ان کے ساتھ آیا تھا، اس سے کہیں زیادہ منفعل اور خجل ان کے ساتھ لوٹا۔ گھمسے پنساری یعنی دیسو یب یب کے باپ کی دکان سے انہوں نے گھریلو ضرورت کی چند چیزیں خریدیں اور لفافے گود میں اٹھا کر چل دئے، میں بار بار ان سے لفافے لینے کی کوشش کرتا مگر ہمت نہ پڑتی۔ ایک عجیب سی شرم ایک انوکھی سی ہچکچاہٹ مانع تھی اور اسی تامل اور جھجک میں ڈوبتا ابھرتا میں ان کے گھر پہنچ گیا۔

وہاں پہنچ کر یہ بھید کھلا کہ اب میں انہی کے ہاں سویا کرو ں گا اور وہیں پڑھا کروں گا۔ کیونکہ میرا بستر مجھ سے بھی پہلے وہاں پہنچا ہوا تھا اور اس کے پاس ہی ہمارے یہاں سے بھیجی ہوئی ایک ہری کین لالٹین بھی رکھی تھی۔ بزنس مین بننا اور پاں پاں کرتی پیکارڈ اڑائے پھرنا میرے مقدر میں نہ تھا۔ گو میرے ساتھیوں کی روانگی کے تیسرے ہی روز بعد ان کے والدین بھی انہیں لاہور سے پکڑ لائے لیکن اگر میں ان کے ساتھ ہوتا تو شاید اس وقت انار کلی میں ہمارا دفتر، پتہ نہیں ترقی کے کون سے شاندار سال میں داخل ہو چکا ہوتا۔

داؤ جی نے میری زندگی اجیرن کر دی، مجھے تباہ کر دیا، مجھ پر جینا حرام کر دیا، سارا دن سکول کی بکواس میں گزرتا اور رات، گرمیوں کی مختصر رات، ان کے سوالات کا جواب دینے، کوٹھے پر ان کی کھاٹ میرے بستر کے ساتھ لگی ہے اور وہ مونگ، رسول اور مرالہ کی نہروں کے بابت پوچھ رہے ہیں، میں نے بالکل ٹھیک بتا دیا ہے، وہ پھر اسی سوال کو دہرا رہے ہیں، میں نے پھر ٹھیک بتا دیا ہے اور انہوں نے پھر انہی نہروں کو آگے لا کھڑا کیا ہے، میں جل جاتا اور جھڑک کر کہتا “مجھے نہیں پتہ میں نہیں بتاتا” تو وہ خاموش ہو جاتے اور دم سادھ لیتے، میں آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتا تو وہ شرمندگی کنکر بن کر پتلیوں میں اتر جاتی۔

میں آہستہ سے کہتا “داؤ جی۔”

“ہوں” ایک گھمبیر سی آواز آتی۔

’دداؤ جی کچھ اور پوچھو۔”

داؤ جی نے کہا “بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔ اس کی ترکیب نحوی کرو۔”

میں نے سعادت مندی کے ساتھ کہا “جی یہ تو بہت لمبا فقرہ ہے صبح لکھ کر بتا دوں گا کوئی اور پوچھئے۔”

انہوں نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائے کہا “میرا گولو بہت اچھا ہے۔”

میں نے ذرا سوچ کر کہنا شروع کیا بہت اچھا صفت ہے، حرف ربط مل کر بنا مسند اور داؤ جی اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔ ہاتھ اٹھا کر بولے جانِ پدر، تجھے پہلے بھی کہا ہے مسند الیہ پہلے بنایا ہے۔

میں نے ترکیبِ نحوی سے جان چھڑانے کے لئے پوچھا “آپ مجھے جانِ پدر کیوں کہتے ہیں جانِ داؤ کیوں نہیں کہتے؟”

“شاباش” وہ خوش ہو کر کہتے “ایسی باتیں پوچھنے کی ہوتی ہیں۔ جان لفظ فارسی کا ہے اور داؤ بھاشا کا۔ ان کے درمیان فارسی اضافت نہیں لگ سکتی۔ جو لوگ دن بدن لکھتے یا بولتے ہیں سخت غلطی کرتے ہیں، روز بروز کہو یا دن پر دن اسی طرح سے”


اور جب میں سوچتا کہ یہ تو ترکیبِ نحوی سے بھی زیادہ خطرناک معاملے میں الجھ گیا ہوں تو جمائی لے کر پیار سے کہا “داؤ جی اب تو نیند آ رہی ہے!”

“اور وہ ترکیب نحوی؟” وہ جھٹ سے پوچھتے۔۔

اس کے بعد چاہے میں لاکھ بہانے کرتا ادھر ادھر کی ہزار باتیں کرتا، مگر وہ اپنی کھاٹ پر ایسے بیٹھے رہتے، بلکہ اگر ذرا سی دیر ہو جاتی تو کرسی پر رکھی ہوئی پگڑی اٹھا کر سر پر دھر لیتے۔ چنانچہ کچھ بھی ہوتا۔ ان کے ہر سوال کا خاطر خواہ جواب دینا پڑتا۔

امی چند کالج چلا گیا تو اس کی بیٹھک مجھے مل گئی اور داؤ جی کے دل میں اس کی محبت پر بھی میں نے قبضہ کر لیا۔ اب مجھے داؤ جی بہت اچھے لگنے لگے تھے لیکن ان کی باتیں جو اس وقت مجھے بری لگتی تھیں۔ وہ اب بھی بری لگتی ہیں بلکہ اب پہلے سے بھی کسی قدر زیادہ، شاید اس لئے کہ میں نفسیات کا ایک ہونہار طالب علم ہوں اور داؤ جی پرانے مُلّائی مکتب کے پروردہ تھے۔ سب سے بری عادت ان کی اٹھتے بیٹھتے سوال پوچھتے رہنے کی تھی اور دوسری کھیل کود سے منع کرنے کی۔ وہ تو بس یہ چاہتے تھے کہ آدمی پڑھتا رہے پڑھتا رہے اور جب اس مدقوق کی موت کا دن قریب آئے تو کتابوں کے ڈھیر پر جان دے دے۔ صحتِ جسمانی قائم رکھنے کے لئے ان کے پاس بس ایک ہی نسخہ تھا، لمبی سیر اور وہ بھی صبح کی۔ تقریباً سورج نکلنے سے دو گھنٹے پیشتر وہ مجھے بیٹھک میں جگانے آتے اور کندھا ہلا کر کہتے “اٹھو گولو موٹا ہو گیا بیٹا” دنیا جہاں کے والدین صبح جگانے کے لئے کہا کرتے ہیں کہ اٹھو بیٹا صبح ہو گئی یا سورج نکل آیا مگر وہ “موٹا ہو گیا” کہہ کر میری تذلیل کیا کرتے، میں منمناتا تو چمکار کر کہتے “بھدا ہو جائے گا بیٹا تو، گھوڑے پر ضلع کا دورہ کیسا کرے گا!” اور میں گرم گرم بستر سے ہاتھ جوڑ کر کہتا

“داؤ جی خدا کے لئے مجھے صبح نہ جگاؤ، چاہے مجھے قتل کر دو، جان سے مار ڈالو۔”

یہ فقرہ ان کی سب سے بڑی کمزوری تھی وہ فوراً میرے سر پر لحاف ڈال دیتے اور باہر نکل جاتے۔ بے بے کو ان داؤ جی سے اللہ واسطے کا بیر تھا اور داؤ جی ان سے بہت ڈرتے تھے، وہ سارا دن محلے والیوں کے کپڑے سیا کرتیں اور داؤ جی کو کوسنے دئے جاتیں۔ ان کی اس زبان درازی پر مجھے بڑا غصہ آتا تھا مگر دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر نہ ہو سکتا تھا۔ کبھی کبھار جب وہ ناگفتنی گالیوں پر اتر آتیں تو داؤ جی میری بیٹھک میں آ جاتے اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر کرسی پر بیٹھ جاتے۔ تھوڑی دیر بعد کہتے “غیبت کرنا بڑا گناہ ہے لیکن میرا خدا مجھے معاف کرے تیری بے بے بھٹیارن ہے اور اس کی سرائے میں، میں، میری قرة العین اور تھوڑا تھوڑا، تو بھی، ہم تینوں بڑے عاجز مسافر ہیں۔ ” اور واقعی بے بے بھٹیارن سی تھی۔ ان کا رنگ سخت کالا تھا اور دانت بے حد سفید، ماتھا محراب دار اور آنکھیں چنیاں سی۔ چلتی تو ایسی گربہ پائی کے ساتھ جیسے (خدا مجھے معاف کرے) کٹنی کنسوئیاں لیتی پھرتی ہے۔ بچاری بی بی کو ایسی ایسی بری باتیں کہتی کہ وہ دو دو دن رو رو کر ہلکان ہوا کرتی۔ ایک امی چند کے ساتھ اس کی بنتی تھی شاید اس وجہ سے کہ ہم دونوں ہم شکل تھے یا شاید اس وجہ سے کہ اس کو بی بی کی طرح اپنے داؤ جی سے پیار نہ تھا۔ یوں تو بی بی بے چاری بہت اچھی لگتی تھی مگر اس سے میری بھی نہ بنتی۔ میں کوٹھے پر بیٹھا سوال نکال رہا ہوں، داؤ جی نیچے بیٹھے ہیں اور بی بی اوپر برساتی سے ایندھن لینے آئی تو ذرا رک کر مجھے دیکھا پھر منڈیر سے جھانک کر بولی، داؤ جی! پڑھ تو نہیں رہا، تنکوں کی طرح چارپائیاں بنا رہا ہے۔”

میں غصیل بچے کی طرح منہ چڑا کر کہتا “تجھے کیا، نہیں پڑھتا، تو کیوں بڑ بڑ کرتی ہےآئی بڑی تھانیدارنی۔”

اور داؤ جی نیچے سے ہانک لگا کر کہتے “نہ گولو مولو بہنوں سے جھگڑا نہیں کرتے۔”

اور میں زور سے چلاتا “پڑھ رہا ہوں جی، جھوٹ بولتی ہے۔”

داؤ جی آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ جاتے اور کاپیوں کے نیچے نیم پوشیدہ چارپائیاں دیکھ کر کہتے “قرة بیٹا تو اس کو چڑایا نہ کر۔ یہ جن بڑی مشکل سے قابو کیا ہے۔ اگر ایک بار بگڑ گیا تو مشکل سے سنبھلے گا۔”

بی بی کہتی “کاپی اٹھا کر دیکھ لو داؤ جی اس کے نیچے ہے وہ چارپائی جس سے کھیل رہا تھا۔”

میں قہر آلود نگاہوں سے بی بی کو دیکھتا اور وہ لکڑیاں اٹھا کر نیچے اتر جاتی۔ پھر داؤ جی سمجھاتے کہ بی بی یہ کچھ تیرے فائدے کے لئے کہتی ہے ورنہ اسے کیا پڑی ہے کہ مجھے بتاتی پھرے۔ فیل ہویا پاس اس کی بلا سے! مگر وہ تیری بھلائی چاہتی ہے، تیری بہتری چاہتی ہے اور داؤ جی کی یہ بات ہر گز سمجھ میں نہ آتی تھی۔ میری شکایتیں کرنے والی میری بھلائی کیونکر چاہ سکتی تھی!۔

ان دنوں معمول یہ تھا کہ صبح دس بجے سے پہلے داؤ جی کے ہاں سے چل دیتا۔ گھر جا کر ناشتہ کرتا اور پھر سکول پہنچ جاتا۔ آدھی چھٹی پر میرا کھانا سکول بھیج دیا جاتا اور شام کو سکول بند ہونے پر گھر آ کے لالٹین تیل سے بھرتا اور داؤ جی کے یہاں آ جاتا۔ پھر رات کا کھانا بھی مجھے داؤ جی کے گھر ہی بھجوا دیا جاتا۔ جن ایام میں منصفی بند ہوتی، داؤ جی سکول کی گراؤنڈ میں آ کر بیٹھ جاتے اور میرا انتظار کرنے لگتے۔ وہاں سے گھر تک سوالات کی بوچھاڑ رہتی۔ سکول میں جو کچھ پڑھایا گیا ہوتا اس کی تفصیل پوچھتے، پھر مجھے گھر تک چھوڑ کر خود سیر کو چلے جاتے۔ ہمارے قصبہ میں منصفی کا کام مہینے میں دس دن ہوتا تھا اور بیس دن منصف صاحب بہادر کی کچہری ضلع میں رہتی تھی۔ یہ دس دن داؤ جی باقاعدہ کچہری میں گزارتے تھے۔ ایک آدھ عرضی آ جاتی تو دو چار روپے کما لیتے ورنہ فارغ اوقات میں وہاں بھی مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھتے۔ بے بے کا کام اچھا تھا۔ اس کی کتر بیونت اور محلے والوں سے جوڑ توڑ اچھے مالی نتائج پیدا کرتی تھی۔ چونکہ پچھلے چند سالوں سے گھر کا بیشتر خرچ اس کی سلائی سے چلتا تھا، اس لئے وہ داؤ جی پر اور بھی حاوی ہو گئی تھی۔ ایک دن خلاف معمول داؤ جی کو لینے میں منصفی چلا گیا۔ اس وقت کچہری بند ہو گئی تھی اور داؤ جی نانبائی کے چھپر تلے ایک بینچ پر بیٹھے گڑ کی چائے پی رہے تھے۔ میں نے ہولے سے جا کر ان کا بستہ اٹھا لیا اور ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا “چلئے، آج میں آپ کو لینے آیا ہوں” انہوں نے میری طرف دیکھے بغیر چائے کے بڑے بڑے گھونٹ بھرے، ایک آنہ جیب سے نکال کر نانبائی کے حوالے کیا اور چپ چاپ میرے ساتھ چل دئے۔

میں نے شرارت سے ناچ کر کہا “گھر چلئے، بے بے کو بتاؤں گا کہ آپ چوری چوری یہاں چائے پیتے ہیں۔”

داؤ جی جیسے شرمندگی ٹالنے کو مسکرائے اور بولے “اس کی چائے بہت اچھی ہوتی ہے اور گڑ کی چائے سے تھکن بھی دور ہو جاتی ہے پھر یہ ایک آنہ میں گلاس بھر کے دیتا ہے۔ تم اپنی بے بے سے نہ کہنا، خواہ مخواہ ہنگامہ کھڑا کر دے گی۔ پھر انہوں نے خوفزدہ ہو کر کچھ مایوس ہو کر کہا “اس کی تو فطرت ہی ایسی ہے۔” اس دن مجھے داؤ جی پر رحم آیا۔ میرا جی ان کے لئے بہت کچھ کرنے کو چاہنے لگا مگر اس میں میں نے بے بے سے نہ کہنے کا ہی وعدہ کر کے ان کے کے لئے بہت کچھ کیا۔ جب اس واقعہ کا ذکر میں نے اماں سے کیا تو وہ بھی کبھی میرے ہاتھ اور کبھی نوکر کی معرفت داؤ جی کے ہاں دودھ، پھل اور چینی وغیرہ بھیجنے لگیں مگر اس رسد سے داؤ جی کو کبھی بھی کچھ نصیب نہ ہوا۔ ہاں بے بے کی نگاہوں میں میری قدر بڑھ گئی اور اس نے کسی حد تک مجھ سے رعایتی برتاؤ شروع کر دیا۔”

مجھے یاد ہے، ایک صبح میں دودھ سے بھرا تاملوٹ ان کے یہاں لے کر آیا تھا اور بے بے گھر نہ تھی۔ وہ اپنی سکھیوں کے ساتھ بابا ساون کے جوہڑ میں اشنان کرنے گئی تھی اور گھر میں صرف داؤ جی اور بی بی تھے۔ دودھ دیکھ کر داؤ جی نے کہا “چلو آج تینو ں چائے پئیں گے۔ میں دکان سے گڑ لے کر آتا ہوں، تم پانی چولہے پر رکھو۔” بی بی نے جلدی سے چولہا سلگایا۔ میں پتیلی میں پانی ڈال کر لایا اور پھر ہم دونوں وہیں چوکے پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ داؤ جی گڑ لے کر آ گئے تو انہوں نے کہا “تم دونوں اپنے اپنے کام پر بیٹھو چائے میں بناتا ہوں۔”چنانچہ بی بی مشین چلانے لگی اور میں ڈائریکٹ اِن ڈائریکٹ کی مشقیں لکھنے لگا۔ داؤ جی چولہا بھی جھونکتے جاتے تھے اور عادت کے مطابق مجھے بھی اونچے اونچے بتاتے جاتے تھے۔

گلیلیو نے کہا “زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔” گلیلیو نے دریافت کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ نہ لکھ دینا کہ سورج کے گرد گھومتی ہے۔ پانی ابل رہا تھا داؤ جی خوش ہو رہے تھے۔ اسی خوشی میں جھوم جھوم کر وہ اپنا تازہ بنایا ہوا گیت گا رہے تھے۔ او گولو! او گولو! گلیلیو کی بات مت بھولنا، گلیلیو کی بات مت بھولنا۔ انہوں نے چائے کی پتی کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دی۔ برتن ابھی تک چولہے پر ہی تھا اور داؤ جی ایک چھوٹے سے بچے کی طرح پانی کی گلب گل بل کے ساتھ گولو گلیلیو! گولو گلیلیو کئے جا رہے تھے، میں ہنس رہا تھا اور اپنا کام کئے جا رہا تھا، بی بی مسکرا رہی تھی اور مشین چلائے جاتی تھی اور ہم تینوں اپنے چھوٹے سے گھر میں بڑے ہی خوش تھے گویا سارے محلے بلکہ سارے قصبہ کی خوشیاں بڑے بڑے رنگین پروں والی پریوں کی طرح ہمارے گھر میں اتر آئی ہوں۔۔

اتنے میں دروازہ کھلا اور بے بے اندر داخل ہوئی۔ داؤ جی نے دروازہ کھلنے کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا اور ان کا رنگ فق ہو گیا۔ چمکتی ہوئی پتیلی سے گرم گرم بھاپ اٹھ رہی تھی۔ اس کے اندر چائے کے چھوٹے چھوٹے چھلاوے ایک دوسرے کے پیچھے شور مچاتے پھرتے تھے اور ممنوعہ کھیل رچانے والا بڈھا موقع پر پگڑا گیا۔ بے بے نے آگے بڑھ کر چولہے کی طرف دیکھا اور داؤ جی نے چوکے سے اٹھتے ہوئے معذرت بھرے لہجے میں کہا “چائے ہے!”


بے بے نے ایک دو ہتڑ داؤ جی کی کمر پر مارا اور کہا “بڈھے بروہا تجھے لاج نہیں آتی۔ تجھ پر بہار پھرے، تجھے یم سمیٹے، یہ تیرے چائے پینے کے دن ہیں۔ میں بیوہ گھر میں نہ تھی تو تجھے کسی کا ڈر نہ رہا۔ تیرے بھانویں میں کل کی مرتی آج مروں تیرا من راضی ہو۔ تیری آسیں پوری ہوں۔ کس مرن جوگی نے جنا اور کس لیکھ کی ریکھا نے میرے پلے باندھ دیاتجھے موت نہیں آتیاوں ہوں تجھے کیوں آئے گی” اس فقرے کی گردان کرتے ہوئے بے بے بھیڑنی کی طرح چوکے پر چڑھی کپڑے سے پتیلی پکڑ کر چولہے سے اٹھائی اور زمین پر دے ماری۔ گرم گرم چائے کے چھپاکے داؤ جی کی پنڈلیوں اور پاؤں پر گرے اور وہ “اوہ تیرا بھلا ہو جائے! او تیرا بھلا ہو جائے” کہتے وہاں سے ایک بچے کی طرح بھاگے اور بیٹھک میں گھس گئے۔ ان کے اس فرار بلکہ اندازِ فرار کو دیکھ کر میں اور بی بی ہنسے بنا نہ رہ سکے اور ہماری ہنسی کی آواز ایک ثانیہ کے لئے چاروں دیواروں سے ٹکرائی۔ میں تو خیر بچ گیا لیکن بے بے نے سیدھے جا کر بی بی کو بالوں سے پکڑ لیا اور چیخ کر بولی “میری سوت بڈھے سے تیرا کیا ناطہ ہے، بتا نہیں تو اپنی پران لیتی ہوں۔ تو نے اس کو چائے کی کنجی کیوں دی؟” بی بی بیچاری پھس پھس رونے لگی تو میں بھی اندر بیٹھک میں کھسک آیا۔ داؤ جی اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے تھے اور اپنے پاؤں سہلا رہے تھے۔ پتہ نہیں انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے پھر کیوں گدگدی ہوئی کہ میں الماری کے اندر منہ کر کے ہنسنے لگا، انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے پاس بلایا اور بولے “شکرِ کردگار کنم کہ گرفتارم بہ مصیبتے نہ کہ معصیتے۔

تھوڑی دیر رک کر پھر کہا “میں اس کے کتوں کا بھی کتا ہوں جس کے سرِ مُطہّر پر مکے کی ایک کم نصیب بڑھیا غلاظت پھینکا کرتی تھی۔”

میں نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا تو وہ بولے “آقائے نامدار کا ایک ادنیٰ حلقہ بگوش، گرم پانی کے چند چھینٹے پڑنے پر نالہ شیون کرے تو لعنت ہے اس کی زندگی پر۔ وہ اپنے محبوب کے طفیل نارِ جہنم سے بچائے۔ خدائے ابراہیمؑ مجھے جرأت عطا کرے، مولائے ایوبؑ مجھے صبر کی نعمت دے۔”

میں نے کہا “داؤ جی آقائے نامدار کون؟”

تو داؤ جی کو یہ سن کر ذرا تکلیف ہوئی۔ انہوں نے شفقت سے کہا “جان پدر یوں نہ پوچھا کر۔ میرے استاد، میرے حضرت کی روح کو مجھ سے بیزار نہ کر، وہ میرے آقا بھی تھے، میرے باپ بھی اور میرے استاد بھی، وہ تیرے دادا استاد ہیںدادا استاد” اور انہوں نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لئے۔ آقائے نامدار کا لفظ اور کوتاہ و قسمتِ مجوزہ کی ترکیب میں نے پہلی بار داؤ جی سے سنی۔ یہ واقعہ سنانے میں انہوں نے کنتی ہی دیر لگا دی کیونکہ ایک ایک فقرے کے بعد فارسی کے بیشمار نعتیہ اشعار پڑھتے تھے اور بار بار اپنے استاد کی روح کو ثواب پہنچاتے تھے۔”

جب وہ یہ واقعہ بیان کر چکے تو میں نے بڑے ادب سے پوچھا “داؤ جی آپ کو اپنے استاد صاحب اس قدر اچھے کیوں لگتے تھے اور آپ ان کا نام لے کر ہاتھ کیوں جوڑتے ہیں اپنے آپ کو ان کا نوکر کیوں کہتے ہیں؟”

داؤ جی نے مسکرا کر کہا “جو طویلے کے ایک خر کو ایسا بنا دے کہ لوگ کہیں یہ منشی چنت رام جی ہیں۔ وہ مسیحا نہ ہو، آقا نہ ہو تو پھر کیا ہو؟”

میں چارپائی کے کونے سے آہستہ آہستہ پھسل کر بستر میں پہنچ گیا اور چاروں طرف رضائی لپیٹ کر داؤ جی کی طرف دیکھنے لگا جو سر جھکا کر کبھی اپنے پاؤں کی طرف دیکھتے تھے اور کبھی پنڈلیاں سہلاتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے وقفوں کے بعد ذرا سا ہنستے اور پھر خاموش ہو جاتے۔

کہنے لگے “میں تمہارا کیا تھا اور کیا ہو گیاحضرت مولانا کی پہلی آواز کیا تھی! میری طرف سر مبارک اٹھا کر فرمایا، چوپال زادے ہمارے پاس آؤ، میں لاٹھی ٹیکتا ان کے پاس جا کھڑا ہوا۔ چھتہ پٹھار اور دیگر دیہات کے لڑکے نیم دائرہ بنائے ان کے سامنے بیٹھے سبق یاد کر رہے تھے۔ ایک دربار لگا تھا اور کسی کو آنکھ اوپر اٹھانے کی ہمت نہ تھیمیں حضور کے قریب گیا تو فرمایا، بھئی ہم تم کو روز یہاں بکریاں چراتے دیکھتے ہیں۔ انہیں چرنے چگنے کے لئے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جایا کرو اور کچھ پڑھ لیا کروپھر حضور نے میری عرض سنے بغیر پوچھا کہ کیا نام ہے تمہارا؟” میں نے گنواروں کی طرح کہا چنتومسکرائےتھوڑا سا ہنسے بھی فرمانے لگے پورا نام کیا ہے؟ پھر خود ہی بولے چنتو رام ہو گامیں نے سر ہلا دیاحضور کے شاگرد کتاب سے نظریں چرا کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میرے گلے میں کھدر کا لمبا سا کرتہ تھا۔ پائجامہ کی بجائے صرف لنگوٹ بندھا تھا۔ پاؤں میں ادھوڑی کے موٹے جوتے اور سر پر سرخ رنگ کا جانگیہ لپیٹا ہوا تھا۔ بکریاں میری”

میں نے بات کاٹ کر پوچھا “آپ بکریاں چراتے تھے داؤ جی؟”

“ہاں ہاں ” وہ فخر سے بولے “میں گڈریا تھا اور میرے باپ کی بارہ بکریاں تھیں۔”

حیرانی سے میرا منہ کھلا رہ گیا اور میں نے معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے جلدی سے پوچھا۔ “اور آپ سکول کے پاس بکریاں چرایا کرتے تھے۔”داؤ جی نے کرسی چارپائی کے قریب کھینچ لی اور اپنے پاؤں پائے پر رکھ کر بولے “جان پدر اس زمانے میں تو شہروں میں بھی سکول نہیں ہوتے تھے، میں گاؤں کی بات کر رہا ہوں۔ آج سے چوہتر برس پہلے کوئی تمہارے ایم بی ہائی سکول کا نام بھی جانتا تھا؟ وہ تو میرے آقا کو پڑھانے کا شوق تھا۔ ارد گرد کے لوگ اپنے لڑکے چار حرف پڑھنے کو ان کے پاس بھیج دیتےان کا سارا خاندان زیورِ تعلیم سے آراستہ اور دینی اور دنیوی نعمتوں سے مالا مال تھا۔ والد ان کے ضلع بھر کے ایک ہی حکیم اور چوٹی کے مبلغ تھے۔ جدِ امجد مہاراجہ کشمیر کے میر منشی۔ گھر میں علم کے دریا بہتے تھے، فارسی، عربی، جبر و مقابلہ، اقلیدس، حکمت اور علم ہیئت ان کے گھر کی لونڈیاں تھیں۔ حضور کے والد کو دیکھنا مجھے نصیب نہیں ہوا لیکن آپ کی زبانی ان کے تبحرِ علمی کی سب داستانیں سنیں، شیفتہ اور حکیم مومن خاں مومن سے ان کے بڑے مراسم تھے اور خود مولانا کی تعلیم دلی میں مفتی آزردہ مرحوم کی نگرانی میں ہوئی تھی”

مجھے داؤجی کے موضوع سے بھٹک جانے کا ڈر تھا اس لئے میں نے جلدی سے پوچھا۔ “پھر آپ نے حضرت مولانا کے پاس پڑھنا شروع کر دیا۔” “ہاں” داؤ جی اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے، “ان کی باتیں ہی ایسی تھیں۔ ان کی نگاہیں ہی ایسی تھیں جس کی طرف توجہ فرماتے تھے، بندے سے مولا کر دیتے تھے۔ مٹی کے ذرے کو اکسیر کی خاصیت دے دیتے تھےمیں تو ا پنی لاٹھی زمین پر ڈال کر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ فرمایا، اپنے بھائیوں کے بوریے پر بیٹھو۔ میں نے کہا جی اٹھارہ برس دھرتی پر بیٹھے گزر گئے اب کیا فرق پڑتا ہے۔ پھر مسکرا دئے اپنے چوبی صندوقچے سے حروف ابجد کا ایک مقوا نکالا اور بولے الف۔ بے۔ بے۔ تےسبحان اللہ کیا آواز تھی۔ کس شفقت سے بو لے تھے، کس لہجہ میں فرما رہے تھے الف، بے، پے، ت ” اور جی داؤ جی ان حرفوں کا ورد کرتے ہوئے اپنے ماضی میں کھو گئے۔

تھوڑی دیر بعد انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر کہا۔ “ادھر رہٹ تھا اور اس کے ساتھ مچھلیوں کا حوض۔” پھر انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ ہوا میں لہرا کر کہا “اور اس طرف مزارعین کے کوٹھے، دونوں کے درمیان حضور کا باغیچہ تھا اور سامنے ان کی عظیم الشان حویلی۔ اسی باغیچے میں ان کا مکتب تھا۔ درِ فیض کھلا تھا جس کا جی چاہے آئے، نہ مذہب کی قید نہ ملک کی پابندی”

میں نے کافی دیر سوچنے کے بعد با ادب با ملاحظہ قسم کا فقرہ تیار کر کے پوچھا “حضرت مولانا کا اسم گرامی شریف کیا تھا؟” تو پہلے انہوں نے میرا فقرہ ٹھیک کیا اور پھر بولے۔ “حضرت اسماعیل چشتی فرماتے تھے کہ ان کے والد ہمیشہ انہیں جانِ جاناں کہہ کر پکارتے تھے۔ کبھی جانِ جاناں کی رعایت سے مظہر جانِ جاناں بھی کہہ دیتے تھے۔

میں ایسی دلچسپ کہانی سننے کا ابھی اور خواہش مند تھا کہ داؤ جی اچانک رک گئے اور بولے۔ سب سڈی ایری سسٹم کیا تھا؟ ان انگریزوں کا برا ہو یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں آئے یا ملکہ وکٹوریہ کا فرمان لے، سارے معاملے میں کھنڈت ڈال دیتے ہیں۔ سوا کے پہاڑے کی طرح میں نے سب سڈی ایری سسٹم کا ڈھانچہ ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ پھر انہوں نے میز سے گرائمر کی کتاب اٹھائی اور بولے “باہر جا کر دیکھ کے آ کہ تیری بے بے کا غصہ کم ہوا یا نہیں۔” میں دوات میں پانی ڈالنے کے بہانے باہر گیا تو بے بے کو مشین چلاتے اور بی بی کو چکوا صاف کرتے پایا۔”

داؤ جی کی زندگی میں بے بے والا پہلو بڑا ہی کمزور تھا۔ جب وہ دیکھتے کہ گھر میں مطلع صاف ہے اور بے بے کے چہرے پر کوئی شکن نہیں ہے، تو وہ پکار کر کہتے “سب ایک ایک شعر سناؤ” پہلے مجھی سے تقاضا ہوتا اور میں چھوٹتے ہی کہتا:

لازم تھا کہ دیکھو میرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور


اس پر وہ تالی بجاتے اور کہتے “اولین شعر نہ سنوں گا، اردو کا کم سنوں گا اور مسلسل نظم کا ہر گز نہ سنوں گا۔”

بی بی بھی میر ی طرح اکثر اس شعر سے شروع کرتی۔

شنیدم کہ شاپور دم در کشید
چو خسرو بر آتش قلم در کشید

اس پر داؤ جی ایک مرتبہ پھر آرڈر آرڈر پکارتے

بی بی قینچی رکھ کر کہتی:

شورے شد و از خوابِ عدم چشم کشوریم
دیدیم کہ باقی ست شبِ فتنہ غنودیم

داؤ جی شاباش تو ضرور کہہ دیتے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے “بیٹا یہ شعر تُو کئی مرتبہ سنا چکی ہے۔”

پھر وہ بے بے کی طرف دیکھ کر کہتے۔ “بھئی آج تمہاری بے بے بھی ایک سنائے گی” مگر بے بے روکھا سا جواب دیتی “مجھے نہیں آتے شیر، کبت۔”

اس پر داؤ جی کہتے۔ “گھوڑیاں ہی سنا دے۔ اپنے بیٹوں کے بیاہ کی گھوڑیاں ہی گا دے۔

اس پر بے بے کے ہونٹ مسکرانے کو کرتے لیکن وہ مسکرا نہ سکتی اور داؤ جی عین عورتوں کی طرح گھوڑیاں گانے لگتے۔ ان کے درمیان کبھی امی چند اور کبھی میرا نام ٹانک دیتے۔ پھر کہتے “میں اپنے اس گولو مولو کی شادی پر سرخ پگڑی باندھوں گا۔ برات میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ساتھ چلوں گا اور نکاح نامے میں شہادت کے دستخط کروں گا۔ میں دستور کے مطابق شرما کر نگاہیں نیچی کر لیتا تو وہ کہتے۔ “پتہ نہیں اس ملک کے کسی شہر میں میری چھوٹی بہو پانچویں یا چھٹی جماعت میں پڑھ رہی ہو گی، ہفتہ میں ایک دن لڑکیوں کی خانہ داری ہوتی ہے۔ اس نے تو بہت سی چیزیں پکانی سیکھ لی ہو گی۔ پڑھنے میں بھی ہوشیار ہو گی۔ اس بدھو کو تو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مادیاں گھوڑیاں ہوتی ہے یا مرغی۔ وہ تو فر فر سب کچھ سناتی ہو گی۔ میں تو اس کو فارسی پڑھاؤں گا پہلے اس کو خطاطی کی تعلیم دوں گا پھر خطِ شکستہ سکھاؤں گا۔ مستورات کو خطِ شکستہ نہیں آتا۔ میں اپنی بہو کو سکھا دوں گاسن گولو! پھر میں تیرے پاس ہی رہو گا۔ میں اور میری بہو فارسی میں باتیں کریں گے۔ وہ بات بات پر بفرمائید بفرمائید کہے گی اور تو احمقوں کی طرح منہ دیکھا کرے گا۔ پھر وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے “خیلے خوب خیلے خوب” کہتے۔ جانِ پدر چرا ایں قدر زحمت می کشیخوبیاد دارماور پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہتے۔ بچارے داؤ جی! چٹائی پر اپنی چھوٹی سی دنیا بسا کر اس میں فارسی کے فرمان جاری کئے جاتے

ایک دن جب چھت پر دھوپ پر بیٹھے ہوئے وہ ایسی ہی دنیا بسا چکے تھے تو ہولے سے مجھے کہنے لگے۔ “جس طرح خدا نے تجھے ایک نیک سیرت بیوی اور مجھے سعادت مند بہو عطا کی ہے ویسے ہی وہ اپنے فضل سے میرے امی چند کو بھی دے۔”

اس کے خیالات مجھے کچھ اچھے نہیں لگتے، یہ سوانگ یہ مسلم لیگ یہ بیلچہ پارٹیاں مجھے پسند نہیں اور امی چند لاٹھی چلانا گٹکا کھیلنا سیکھ رہا ہے میری تو وہ کب مانے گا، ہاں خدائے بزرگ و برتر اس کو ایک نیک مومن سی بیوی دلا دے تو وہ اسے راہِ راست پر لے آئے گی۔

اس مومن کے لفظ پر مجھے بہت تکلیف ہوئی اور میں چپ سا ہو گیا۔ چپ محض اس لئے ہوا تھا کہ اگر میں نے منہ کھولا تو یقیناً ایسی بات نکلے گی جس سے داؤ جی کو بڑا دکھ ہو گامیری اور امی چند کی تو خیر باتیں ہی تھیں، لیکن بارہ جنوری کو بی بی کی برات سچ مچ آ گئی۔ جیجا جی رام پرتاب کے بارے میں داؤ جی مجھے بہت کچھ بتا چکے تھے کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور اس شادی کے بارے میں انہوں نے جو استخارہ کیا تھا اس پر وہ پورا اترتا ہے۔ سب سے زیادہ خوشی داؤ جی کو اس بات کی تھی کہ ان کے سمدھی فارسی کے استاد تھے اور کبیر پنتھی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ بارہ تاریخ کی شام کو بی بی وداع ہونے لگی تو گھر بھرمیں کہرام مچ گیا، بے بے زار و قطار رو رہی ہے امی چند آنسو بہا رہا ہے اور محلے کی عورتیں پھس پھس کر رہی ہیں۔ میں دیوار کے ساتھ لگا کھڑا ہوں اور داؤ جی میرے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں آج زمین کچھ میرے پاؤ ں نہیں پکڑتی۔ میں توازن قائم نہیں رکھ سکتا۔ جیجا جی کے باپ بولے۔ “منشی جی اب ہمیں اجازت دیجئے” تو بی بی پچھاڑ کر گر پڑی۔ اسے چارپائی پر ڈالا، عورتیں ہوا کرنے لگیں اور داؤ جی میرا سہارا لے کر اس کی چارپائی کی طرف چلے۔ انہوں نے بی بی کو کندھے سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا “یہ کیا ہوا بیٹا۔ اٹھو! یہ تو تمہاری نئی اور خود مختار زندگی کی پہلی گھڑی ہے۔ اسے یوں منحوس نہ بناؤ۔ بی بی اس طرح دھاڑیں مارتے ہوئے داؤ جی سے لپٹ گئی، انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا “قرة العین میں تیرا گنہگار ہوں کہ تجھے پڑھا نہ سکا۔ تیرے سامنے شرمندہ ہوں کہ تجھے علم کا جہیز نہ دے سکا۔ تو مجھے معاف کر دے گی اور شاید برخوردار رام پرتاب بھی لیکن میں اپنے کو معاف نہ کر سکوں گا۔ میں خطا کار ہوں اور میرا خجل سر تیرے سامنے خم ہے۔” یہ سن کر بی بی اور بھی زور زور سے رونے لگی اور داؤ جی کی آنکھوں سے کتنے سارے موٹے موٹے آنسوؤں کے قطرے ٹوٹ کر زمین پر گرے۔ ان کے سمدھی نے آگے بڑھ کر کہا۔ “منشی جی آپ فکر نہ کریں میں بیٹی کو کریما پڑھا دوں گا” داؤ جی ادھر پلٹے اور ہاتھ جوڑ کر کہا۔ “کریما تو یہ پڑھ چکی ہے، گلستان بوستان بھی ختم کر چکا ہوں، لیکن میری حسرت پوری نہیں ہوئی۔” اس پر وہ ہنس کر بولے۔ “ساری گلستان تو میں نے بھی نہیں پڑھی، جہاں عربی آتی تھی، آگے گزر جاتا تھا’داؤ جی اسی طرح ہاتھ جوڑے کتنی دیر خاموش کھڑے رہے، بی بی نے گوٹہ لگی سرخ رنگ کی ریشمی چادر سے ہاتھ نکال کر پہلے امی چند اور پھر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور سکھیوں کے بازوؤں میں ڈیوڑھی کی طرف چل دی۔ داؤ جی میرا سہارا لے کر چلے تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ زور سے بھینچ کر کہا۔ “یہ لو یہ بھی رو رہا ہے۔ دیکھو ہمارا سہارا بنا پھرتا ہے۔ او گولواو مردم دیدہتجھے کیا ہو گیاجانِ پدر تو کیوں”

اس پر ان کا گلا رندھ گیا اور میرے آنسو بھی تیز ہو گئے۔ برات والے تانگوں اور اکوں پر سوار تھے۔ بی بی رتھ میں جا رہی تھی اور اس کے پیچھے امی چند اور میں اور ہمارے درمیان میں دا ؤ جی پیدل چل رہے تھے۔ اگر بی بی کی چیخ ذرا زور سے نکل جاتی تو داؤ جی آگے بڑھ کر رتھ کا پردہ اٹھا تے او ر کہتے۔ “لا حول پڑھو بیٹا، لاحول پڑھو۔”اور خود آنکھوں پر رکھے رکھے ان کی پگڑی کا شملہ بھیگ گیا تھا۔

رانو ہمارے محلے کا کثیف سا انسان تھا، بدی اور کینہ پروری اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھر ی تھی۔ وہ باڑہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اسی کا تھا۔ اس میں بیس تیس بکریاں اور گائیں تھیں جن کا دودھ صبح و شام رانو گلی کے بغلی میدان میں بیٹھ کر بیچا کرتا تھا۔ تقریباً سارے محلے والے اسی سے دودھ لیتے تھے اور اس کی شرارتوں کی وجہ سے دبتے بھی تھے۔ ہمارے گھر کے آگے سے گزرتے ہوئے وہ یونہی شوقیہ لاٹھی زمین پر بجا کر داؤ جی کو “پنڈتا جے رام جی کی “کہہ کر سلام کیا کرتا۔


داؤ جی نے اسے کئی مرتبہ سمجھایا بھی کہ وہ پنڈت نہیں ہیں معمولی آدمی ہیں کیونکہ پنڈت ان کے نزدیک بڑے پڑھے لکھے اور فاضل آدمی کو کہا جا سکتا تھا لیکن رانو نہیں مانتا تھا وہ اپنی مونچھ کو چبا کر کہتا۔ “ارے بھئی جس کے سر پر بودی (چٹیا) ہو وہی پنڈت ہوتا ہے” چوروں یاروں سے اس کی آشنائی تھی شام کو اس کے باڑے میں جوا بھی ہوتا اور گندی اور فحش بولیوں کا مشاعرہ۔ بی بی کے جانے کے ایک دن بعد جب میں اس سے دودھ لینے گیا تو اس نے شرارت سے آنکھ میچ کر کہا۔ “مورنی تو چلی گئی بابو اب تو اس گھر میں رہ کر کیا لے گا۔” میں چپ رہا تو اس نے جھاگ والے دودھ میں ڈبہ پھیرتے ہوئے کہا۔ “گھر میں گنگا بہتی تھی سچ بتا کہ غوطہ لگایا کہ نہیں۔” مجھے اس بات پر غصہ آگیا اور میں نے تاملوٹ گھما کر اس کے سر پر دے مارا۔ اس ضربِ شدید سے خون وغیرہ تو برآمد نہ ہوا لیکن وہ چکرا کر تخت پر گرپڑا اور میں بھاگ گیا۔ داؤ جی کو سارا واقعہ سنا کر میں دوڑا دوڑا اپنے گھر گیا اور ابا جی سے ساری حکایت بیان کی۔ ان کی بدولت رانو کی تھانہ میں طلبی ہوئی اور حوالدار صاحب نے ہلکی سی گو شمالی کے بعد اسے سخت تنبیہ کر کے چھوڑ دیا۔ اس دن کے بعد رانو دا ؤ جی پر آتے جاتے طرح طرح کے فقرے کسنے لگا۔ وہ سب سے زیادہ مذاق ان کی بودی کا اڑایا کرتا تھا اور واقعی داؤ جی کے فاضل سر پر وہ چپٹی سی بودی ذرا اچھی نہ لگتی تھی۔ مگر وہ کہتے تھے۔ “یہ میری مرحوم ماں کی نشانی ہے اور مجھے اپنی زندگی کی طرح عزیز ہے۔ وہ اپنی آغوش میں میرا سر رکھ کر اسے دہی سے دھوتی تھی اور کڑوا تیل لگا کر چمکاتی تھی۔ گو میں نے حضرت مولانا کے سامنے کبھی بھی پگڑی اتارنے کی جسارت نہیں کی، لیکن وہ جانتے تھے اور جب میں دیال سنگھ میموریل ہائی سکول سے ایک سال کی ملازمت کے بعد چھٹیوں میں گاؤں آیا تو حضور نے پوچھا “شہر جا کر چوٹی تو نہیں کٹوا دی؟” تو میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا تم سا سعادت مند بیٹا کم ماؤں کو نصیب ہوتا ہے اور ہم سا خوش قسمت استاد بھی خال خال ہو گا جسے تم ایسے شاگردوں کو پڑھانے کا فخر حاصل ہوا ہو، میں نے ان کے پاؤں چھو کر کہا حضور آپ مجھے شرمندہ کرتے ہیں۔ یہ سب آپ کے قدموں کی برکت ہے، ہنس کر فرمانے لگے چنت رام ہمارے پاؤں نہ چھوا کرو بھلا ایسے لمس کا کیا فائدہ جس کا ہمیں احساس نہ ہو۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے کہا اگر کوئی مجھے بتا دے تو سمندر پھاڑ کر بھی آپ کے لئے دوائی نکال لاؤں۔ میں اپنی زندگی کی حرارت حضور کی ٹانگوں کے لئے نذر کر دوں لیکن میرا بس نہیں چلتاخاموش ہو گئے اور نگاہیں اوپر اٹھا کر بولے خدا کو یہی منظور ہے تو ایسے ہی سہی۔ تم سلامت رہو کہ تمہارے کندھوں پر میں نے کوئی دس سال بعد سارا گاؤں دیکھ لیا ہے” داؤ جی گزرے ایام کی تہہ میں اترتے ہوئے کہہ رہے تھے۔

“میں صبح سویرے حویلی کی ڈیوڑھی میں جا کر آواز دیتا “خادم آ گیا” مستورات ایک طرف ہو جاتیں تو حضور صحن سے آواز دے کر مجھے بلاتے اور میں اپنی قسمت کو سراہتا ہاتھ جوڑے جوڑے ان کی طرف بڑھتا۔ پاؤں چھوتا اور پھر حکم کا انتظار کرنے لگتا، وہ دعا دیتے میرے والدین کی خیریت پوچھتے، گاؤں کا حال دریافت فرماتے اور پھر کہتے “لو بھئی چنت رام ان گناہوں کی گٹھڑی کو اٹھا لو” میں سبدِ گل کی طرح انہیں اٹھاتا اور کمر پر لاد کر حویلی سے باہر آ جاتا۔ کبھی فرماتے، ہمیں باغ کا چکر دو کبھی حکم ہوتا سیدھے رہٹ کے پاس لے چلو اور کبھی کبھار بڑی نرمی سے کہتے چنت رام تھک نہ جاؤ تو ہمیں مسجد تک لے چلو۔ میں نے کئی بار عرض کیا کہ حضور ہر روز مسجد لے جایا کروں گا مگر نہیں مانے یہی فرماتے رہے کہ کبھی جی چاہتا ہے تو تم سے کہہ دیتا ہوں۔ میں وضو کرنے والے چبوترے پر بٹھا کر ان کے ہلکے ہلکے جوتے اتارتا اور انہیں جھولی میں رکھ کر دیوار سے لگ کر بیٹھ جاتا۔ چبوترے سے حضور خود گھسٹ کر صف کی جانب جاتے تھے۔ میں نے صرف ایک مرتبہ انہیں اس طرح جاتے دیکھا تھا اس کے بعد جرأت نہ ہوئی۔ ان کے جوتے اتارنے کے بعد دامن میں منہ چھپا لیتا اور پھر اسی وقت سر اٹھاتا جب وہ میرا نام لے کر یاد فرماتے۔ واپسی پر میں قصبے کی لمبی لمبی گلیوں کا چکر کاٹ کر حویلی کو لوٹتا۔ تو فرماتے ہم جانتے ہیں چنت رام تم ہماری خوشنودی کے لئے قصبہ کی سیر کراتے ہو لیکن ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ ایک تو تم پر لدا لدا پھرتا ہوں اور مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک ہما ہے دوسرے تمہارا وقت ضائع کرتا ہوں۔ اور حضور سے کون کہہ سکتا کہ آقا یہ وقت ہی میری زندگی کا نقطۂ عروج ہے اور یہ تکلیف ہی میری حیات کا مرکز ہے۔

اور حضور سے کون کہہ سکتا کہ آقا یہ وقت ہی ایک ہما ہے جس نے اپنا سایہ محض میرے لئے وقف کر دیا ہےجس دن میں نے سکندر نامہ زبانی یاد کر کے انہیں سنایا۔ اس قدر خوش ہوئے گویا ہفت اقلیم کی بادشاہی نصیب ہو گئی۔ دین و دنیا کی ہر دعا سے مجھے مالا مال کیا۔ دستِ شفقت میرے سر پر پھیرا اور جیب سے ایک روپیہ نکال کر انعام دیا۔ میں نے اسے حجرِ اسود جان کر بوسہ دیا۔ آنکھوں سے لگایا اور سکندر کا افسر سمجھ کر پگڑی میں رکھ لیا۔ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر دعائیں دے رہے تھے اور فرما رہے تھے جو کام ہم سے نہ ہو سکا وہ تو نے کر دکھایا۔ تو نیک ہے خدا نے تجھے یہ سعادت نصیب کی۔ چنت رام تیرا مویشی چرانا پیشہ ہے تُو شاہ بطحا کا پیرو ہے اس لئے خدائے عز و جل تجھے برکت دیتا ہے وہ تجھے اور بھی برکت دے گا۔ تجھے اور کشائش میسر آئے گی”

داؤ جی یہ باتیں کرتے کرتے گھٹنوں پر سر رکھ کر خاموش ہو گئے۔

میرا امتحان قریب آ رہا تھا اور داؤ جی سخت ہوتے جا رہے تھے۔ انہوں نے میرے ہر فارغ وقت پر کوئی نہ کوئی کام پھیلا دیا تھا۔ ایک مضمون سے عہدہ برا ہوتا تو دوسرے کی کتابیں نکال کر سر پر سوار ہو جاتے تھے۔ پانی پینے اٹھتا تو سایہ کی طرح ساتھ ساتھ چلے آتے اور نہیں تو تاریخ کے سن ہی پوچھتے جاتے۔ شام کے وقت سکول پہنچنے کا انہوں نے وطیرہ بنا لیا تھا۔ ایک دن میں سکول کے بڑے دروازے سے نکلنے کی بجائے بورڈنگ کی راہ پر کھسک لیا تو انہوں نے جماعت کے کمرے کے سامنے آ کر بیٹھنا شروع کر دیا۔ میں چڑچڑا اور ضدی ہونے کے علاوہ بد زبان بھی ہو گیا تھا۔ داؤ جی کے بچے، گویا میرا تکیہ کلام بن گیا تھا اور کبھی کبھی جب ان کی یا ان کے سوالات کی سختی بڑھ جاتی تو میں انہیں کتے کہنے سے بھی نہ چوکتا۔ ناراض ہو جاتے تو بس اس قدر کہتے “دیکھ لے ڈومنی تو کیسی باتیں کر رہا ہے۔ تیری بیوی بیاہ کر لاؤں گا تو پہلے اسے یہی بتاؤں گا کہ جانِ پدر یہ تیرے باپ کو کتا کہتا تھا۔ ” میری گالیوں کے بدلے وہ مجھے ڈومنی کہا کرتے تھے۔ اگر انہیں زیادہ دکھ ہوتا تو منہ چڑی ڈومنی کہتے۔ اس سے زیادہ نہ انہیں غصہ آتا تھا نہ دکھ ہوتا تھا۔ میرے اصلی نام سے انہوں نے کبھی نہیں پکارا میرے بڑے بھائی کا ذکر آتا تو بیٹا آفتاب، برخوردار آفتاب کہہ کر انہیں یاد کرتے تھے لیکن میرے ہر روز نئے نئے نام رکھتے تھے۔ جن میں گولو انہیں بہت مرغوب تھا۔ طنبورا دوسرے درجہ پر مسٹر ہونق اور اخفش اسکوائر ان سب کے بعد آتے تھے اور ڈومنی صرف غصہ کی حالت میں۔ کبھی کبھی میں ان کو بہت دق کرتا۔ وہ اپنی چٹائی پر بیٹھے کچھ پڑھ رہے ہیں، مجھے الجبرے کا ایک سوال دے رکھا ہے اور میں سارے جہان کی ابجد کو ضرب دے دے کر تنگ آ چکا ہوں تو میں کاپیوں اور کتابوں کے ڈھیر کو پاؤں سے پرے دھکیل کر اونچے اونچے گانے لگتا۔

تیرے سامنے بیٹھ کے رونا تے دکھ تینوں نیو دسنا

دا ؤ جی حیرانی سے میری طرف دیکھتے تو میں تالیاں بجانے لگتا اور قوالی شروع کر دیتا۔ نیوں نیوں نیوں دسنا۔ تے دکھ تینوں نیوں دسنادسنا دسنا دسناتینوں تینوں تینوں۔ سارے گاما رونا رونا سارے گاما رونا روناتے دیکھ تینوں نیوں دسنا۔ وہ عینک کے اوپر سے مسکراتے۔ میرے پاس آ کر کاپی اٹھاتے، صفحہ نکالتے اور تالیوں کے درمیان اپنا بڑا سا ہاتھ کھڑا کر دیتے۔

“سن بیٹا” وہ بڑی محبت سے کہتے “یہ کوئی مشکل سوال ہے! ” جونہی وہ سوال سمجھانے کے لئے ہاتھ نیچے کرتے میں پھر تالیاں بجانے لگتا۔ “دیکھ پھر، میں تیرا داؤ نہیں ہو؟” وہ بڑے مان سے پوچھتے۔

“نہیں” میں منہ پھاڑ کر کہتا۔

“تو اور کون ہے ؟” وہ مایوس سے ہو جاتے۔

“وہ سچی سرکار” میں انگلی آسمان کی طرف کر کے شرارت سے کہتا۔ وہ سچی سرکار، وہ سب کا پالنے والابول بکرے سب کا والی کون؟”

وہ میرے پاس سے اٹھ کر جانے لگتے تو میں ان کی کمر میں ہاتھ ڈال دیتا “داؤ جی خفا ہو گئے کیا۔” وہ مسکرانے لگتے۔ “چھوڑ طنبورے! چھوڑ بیٹا! میں تو پانی پینے جا رہا تھامجھے پانی تو پی آنے دے۔

میں جھوٹ موٹ برامان کر کہتا۔ “لوجی جب مجھے سوال سمجھنا ہوا داؤ جی کو پانی یاد آگیا۔”

وہ آرام سے بیٹھ جاتے اور کاپی کھول کر کہتے۔ “اخفش اسکوائر جب تجھے چار ایکس کا مربع نظر آ رہا تھا تو تو نے تیسرا فارمولا کیوں نہ لگایا اور اگر ایسا نہ بھی کرتا تو”اور اس کے بعد پتہ نہیں داؤ جی کتنے دن پانی نہ پیتے۔


فروری کے دوسرے ہفتہ کی بات ہے۔ امتحان میں کل ڈیڑھ مہینہ رہ گیا تھا اور مجھ پر آنے والے خطرناک وقت کا خوف بھوت بن کر سوار ہو گیا تھا۔ میں نے خود اپنی پڑھائی پہلے سے تیز کر دی تھی اور کافی سنجیدہ ہو گیا تھا لیکن جیومیٹری کے مسائل میری سمجھ میں نہ آتے تھے۔ داؤ جی نے بہت کوشش کی لیکن بات نہ بنی۔ آخر ایک دن انہوں نے کہا کُل باون پراپوزیشنیں ہیں زبانی یاد کر لے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چنانچہ میں انہیں رٹنے میں مصروف ہو گیا لیکن جو پراپوزیشن رات کو یاد کرتا صبح کو بھول جاتا۔ میں دل برداشتہ ہو کر ہمت چھوڑ سی بیٹھا۔ ایک رات داؤ جی مجھ سے جیومیٹری کی شکلیں بنوا کر اور مشقیں سن کر اٹھے تو وہ بھی کچھ پریشان سے ہو گئے تھے۔ میں بار بار اٹکا تھا اور انہیں بہت کوفت ہوئی تھی۔ مجھے سونے کی تاکید کر کے وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تو میں کاپی پینسل لے کر پھر بیٹھ گیا اور رات کے ڈیڑھ بجے تک لکھ لکھ کر رٹا لگاتا رہا مگر جب کتاب بند کر کے لکھنے لگتا تو چند فقروں کے بعد اٹک جاتا۔ مجھے داؤ جی کا مایوس چہرہ یاد کر کے اور اپنی حالت کا اندازہ کر کے رونا آگیا اور میں باہر صحن میں آ کر سیڑھیوں پر بیٹھ کے سچ مچ رونے لگا، گھٹنوں پر سر رکھے رو رہا تھا اور سردی کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ اسی طرح بیٹھے بیٹھے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا تو میں نے داؤ جی کی عزت بچانے کے لئے یہی ترکیب سوچی کہ ڈیوڑھی کا دروازہ کھول کر چپکے سے نکال جاؤں اور پھر واپس نہ آؤں۔ جب یہ فیصلہ کر چکا اور عملی قدم آگے بڑھانے کے لئے سر اوپر اٹھایا تو داؤ جی کمبل اوڑھے میرے پاس کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے بڑے پیار سے اپنے ساتھ لگایا تو سسکیوں کا لامتناہی سلسلہ صحن میں پھیل گیا۔ داؤ جی نے میرا سر چوم کر کہا۔ “لے بھئی طنبورے میں تو یوں نہ سمجھتا تھا تو تو بہت ہی کم ہمت نکلا۔” پھر انہوں نے مجھے اپنے ساتھ کمبل میں لپیٹ لیا اور بیٹھک میں لے آئے۔ بستر میں بٹھا کر انہوں نے میرے چاروں طرف رضائی لپیٹی اور خود پاؤں اوپر کر کے کرسی پر بیٹھ گئے۔

انہوں نے کہا “اقلیدس چیز ہی ایسی ہے۔ تو اس کے ہاتھوں یوں نالا ں ہے، میں اس سے اور طرح تنگ ہوا تھا۔ حضرت مولانا کے پاس جبر و مقابلہ اور اقلیدس کی جس قدر کتابیں تھیں انہیں میں اچھی طرح پڑھ کر اپنی کاپیوں پر اتار چکا تھا۔ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس سے الجھن ہوتی۔ میں نے یہ جانا کہ ریاضی کا ماہر ہو گیا ہوں لیکن ایک رات میں اپنی کھاٹ پر پڑا متساوی الساقلین کے ایک مسئلہ پر غور کر رہا تھا کہ بات الجھ گئی۔ میں نے دیا جلا کر شکل بنائی اور اس پر غور کرنے لگا۔ جبر و مقابلہ کی رو سے اس کا جواب ٹھیک آتا تھا لیکن علمِ ہندسہ سے پایۂ ثبوت کو نہ پہنچتا تھا۔ میں ساری رات کاغذ سیاہ کرتا رہا لیکن تیری طرح سے رویا نہیں۔ علی الصبح میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اپنے دستِ مبارک سے کاغذ پر شکل کھینچ کر سمجھانا شروع کیا لیکن جہاں مجھے الجھن ہوئی تھی وہیں حضرت مولانا کی طبعِ رسا کو بھی کوفت ہوئی۔ فرمانے لگے۔ “چنت رام اب ہم تم کو نہیں پڑھا سکتے۔ جب استاد اور شاگرد کا علم ایک سا ہو جائے تو شاگرد کو کسی اور معلم کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ ” میں نے جرأت کر کے کہہ دیا کہ حضور اگر کوئی اور یہ جملہ کہتا تو میں اسے کفر کے مترادف سمجھتا لیکن آپ کا ہر حرف اور ہر شوشہ میرے لئے حکمِ ربانی سے کم نہیں۔ اس لئے خاموش ہو ں۔ بھلا آقائے غزنوی کے سامنے ایاز کی مجال! لیکن حضور مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ فرمانے لگے “تم بے حد جذباتی آدمی ہو۔ بات تو سن لی ہوتی، میں نے سر جھکا کر کہا ارشاد! فرمایا “دلی میں حکیم ناصر علی سیستانی علمِ ہندسہ کے بڑے ماہر ہیں اگر تم کو اس کا ایسا ہی شوق ہے تو ان کے پاس چلے جاؤ اور اکتسابِ علم کرو۔ ہم ان کے نام رقعہ لکھ دیں گے۔ میں نے رضا مندی ظاہر کی تو فرمایا اپنی والدہ سے پوچھ لینا اگر وہ رضامند ہوں تو ہمارے پاس آناوالدہ مرحومہ سے پوچھا اور ان سے اپنی مرضی کے مطابق جواب پانا انہونی بات تھی۔ چنانچہ میں نے ان سے نہیں پوچھا۔

حضور پوچھتے تو میں دروغ بیانی سے کام لیتا کہ گھر کی لپائی تپائی کر رہا ہوں جب فارغ ہوں گا تو والدہ سے عرض کروں گا۔”

چند ایام بڑے اضطرار کی حالت میں گزرے۔ میں دن رات اس شکل کو حل کرنے کی کوشش کرتا مگر صحیح جواب برآمد نہ ہوتا۔ اس لا ینحل مسئلہ سے طبیعت میں اور انتشار پیدا ہوا۔ میں دلی جانا چاہتا تھا لیکن حضور سے اجازت مل سکتی تھی نہ رقعہ، وہ والدہ کی رضامندی کے بغیر اجازت دینے والے نہ تھے اور والدہ اس بڑھاپا میں کیسے آمادہ ہو سکتی تھیںایک رات جب سارا گاؤں سو رہا تھا اور میں تیری طرح پریشان تھا تو میں نے اپنی والدہ کی پٹاری سے اس کی کل پونجی دو روپے چرائے اور نصف اس کے لئے چھوڑ کر گاؤں سے نکل گیا۔ خدا مجھے معاف کرے اور میرے دونوں بزرگوں کی روحوں کو مجھ پر مہربان رکھے! واقعی میں نے بڑا گناہ کیا اور ابد تک میرا سر ان دونوں کرم فرماؤں کے سامنے ندامت سے جھکا رہے گاگاؤں سے نکل کر میں حضور کی حویلی کے پیچھے ان کی مسند کے پاس پہنچا جہاں بیٹھ کر آپ پڑھاتے تھے۔ گھٹنوں کے بل ہو کر میں نے زمین کو بوسہ دیا اور دل میں کہا۔ “بد قسمت ہوں، بے اجازت جا رہا ہوں لیکن آپ کی دعاؤں کا عمر بھر محتاج رہوں گا۔ میرا قصور معاف نہ کیا تو آ کے قدموں میں جان دے دوں گا۔ اتنا کہہ کر اٹھا اور لاٹھی کندھے پر رکھ کر میں وہاں سے چل دیاسن رہا ہے؟” داؤ جی نے میری طرف غور سے دیکھ کر پوچھا۔

رضائی کے بیچ خارپشت بنے، میں نے آنکھیں جھپکائیں اور ہولے سے کہا۔ “جی؟”

داؤ جی نے پھر کہنا شروع کیا “قدرت نے میری کمال مدد کی۔ ان دنوں جاکھل جنید سرسہ حصار والی پٹڑی بن رہی تھی۔ یہی راستہ سیدھا دلی کو جاتا تھا اور یہیں مزدوری ملتی تھی۔ ایک دن میں مزدوری کرتا اور ایک دن چلتا، اس طرح تائیدِ غیبی کے سہارے سولہ دن میں دلی پہنچ گیا۔ منزل مقصود تو ہاتھ آ گئی تھی لیکن گوہرِ مقصود کا سراغ نہ ملتا تھا۔ جس کسی سے پوچھتا حکیم ناصر علی سیستانی کا دولت خانہ کہاں ہے، نفی میں جواب ملتا۔ دو دن ان کی تلاش جاری رہی لیکن پتہ نہ پا سکا۔ قسمت یاور تھی صحت اچھی تھی۔ انگریزوں کے لئے نئی کوٹھیاں بن رہی تھیں۔ وہاں کام پر جانے لگا۔ شام کو فارغ ہو کر حکیم صاحب کا پتہ معلوم کرتا اور رات کے وقت ایک دھرم شالہ میں کھیس پھینک کر گہری نیند سو جاتا۔ مثل مشہور ہے جوئندہ یابندہ! آخر ایک دن مجھے حکیم صاحب کی جائے رہائش معلوم ہو گئی، وہ پتھر پھوڑوں کے محلہ کی ایک تیرہ و تاریک گلی میں رہتے تھے شام کے وقت میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں فروکش تھے اور چند دوستوں سے اونچے اونچے گفتگو ہو رہی تھی۔ میں جوتے اتار کر دہلیز کے اندر کھڑا ہو گیا۔ ایک صاحب نے پوچھا۔”کون ہے؟” میں نے سلام کر کے کہا۔ “حکیم صاحب سے ملنا ہے۔” حکیم صاحب دوستوں کے حلقہ میں سر جھکائے بیٹھے تھے اور ان کی پشت میری طرف تھی۔ اسی طرح بیٹھے بولے “اسم گرامی” میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ “پنجاب سے آیا ہوں اور ” میں بات پوری بھی نہ کرپا یا تھا کہ زور سے بولے “اوہو! چنت رام ہو؟” میں کچھ جواب نہ دے سکا۔ فرمانے لگے۔ “مجھے اسماعیل کا خط ملا ہے لکھتا ہے شاید چنت رام تمہارے پاس آئے۔ ہمیں بتائے بغیر گھر سے فرار ہو گیا ہے اس کی مدد کرنا۔ ” میں اسی طرح خاموش کھڑا رہا تو پاٹ دار آواز میں بولے “میاں اندر آ جاؤ کیا چپ کا روزہ رکھا ہے؟” میں ذرا آگے بڑھا تو بھی میری طرف نہ دیکھا اور ویسے ہی عروسِ نو کی طرح بیٹھے رہے۔ پھر قدرے تحکمانہ انداز میں کہا۔ “برخوردار بیٹھ جاؤ۔ میں وہیں بیٹھ گیا تو اپنے دوستوں سے فرمایا، بھئی ذرا ٹھہرو مجھے اس سے دو دو ہاتھ کر لینے دو۔ پھر حکم ہوا بتاؤ ہندسہ کا کونسا مسئلہ تمہاری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا تو انہوں نے اسی طرح کندھوں کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائے اور آہستہ آہستہ کُرتا یوں اوپر کھینچ لیا کہ ان کی کمر برہنہ ہو گئی۔ پھر فرمایا۔ “بناؤ اپنی انگلی سے میری کمر پر ایک متساوی الساقین۔” مجھ پر سکتہ کا عالم طاری تھا۔ نہ آگے بڑھنے کی ہمت تھی نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت۔ ایک لمحہ کے بعد بولے، میاں جلدی کرو۔ نابینا ہوں۔ کاغذ قلم کچھ نہیں سمجھتا۔ میں ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا اور ان کی چوڑی چکلی کمر پر ہانپتی ہوئی انگلیوں سے متساوی الساقین بنانے لگا۔ جب وہ غیر مرئی شکل بن چکی تو بولے اب اس نقطہ”س” سے خط “ب ج” پر عمود گراؤ۔ ایک تو میں گھبرایا ہوا تھا دوسرے وہاں کچھ نہ آتا تھا۔ یونہی اٹکل سے میں نے ایک مقام پر انگلی رکھ کر عمود گرانا چاہا تو تیزی سے بولے ہے ہے کیا کرتے ہو یہ نقطہ ہے کیا؟

پھر خود ہی بولے آہستہ آہستہ عادی ہو جاؤ گے۔ وہ بول رہے تھے اور میں مبہوت بیٹھا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ ابھی ان کے آخری جملے کے ساتھ نور کی لکیر متساوی الساقین بن کر ان کی کمر پر ابھر آئیں گی۔” پھر داؤ جی دلی کے دنوں میں ڈوب گئے۔ ان کی آنکھیں کھلی تھیں وہ میری طرف دیکھ رہے تھے لیکن مجھے نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے بے چین ہو کر پوچھا۔ “پھر کیا ہوا داؤ جی؟”انہوں نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا “رات بہت گزر چکی ہے اب تو سو جا پھر بتاؤں گا۔” میں ضدی بچے کی طرح ان کے پیچھے پڑ گیا تو انہوں نے کہا۔ “پہلے وعدہ کر کہ آئندہ مایوس نہیں ہو گا اور ان چھوٹی چھوٹی پراپوزیشنوں کو پتاشے سمجھے گا” میں نے جواب دیا۔ “حلوہ سمجھوں گا آپ فکر نہ کریں” انہوں نے کھڑے کھڑے کمبل لپیٹتے ہوئے کہا۔ “بس مختصر یہ کہ میں ایک سال حکیم صاحب کی حضوری میں رہا اور اس بحرِ علم سے چند قطرے حاصل کر کے اپنی کور آنکھوں کو دھویا۔ واپسی پر میں سیدھا اپنے آقا کی خدمت میں پہنچا اور ان کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ فرمانے لگے چنت رام اگر ہم میں قوت ہو تو ان پاؤں کو کھینچ لیں۔ اس پر میں رو دیا تو دستِ مبارک محبت سے میرے سر پر پھیر کر کہنے لگے، ہم تم سے ناراض نہیں ہیں لیکن ایک سال کی فرقت بہت طویل ہے۔ آئندہ کہیں جانا ہو تو ہمیں بھی ساتھ لے جانا، یہ کہتے ہوئے داؤ جی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ مجھے اسی طرح گم سم چھوڑ کر بیٹھک میں چلے گئے۔”


امتحان کی قربت سے میرا خون خشک ہو رہا تھا لیکن جسم پھول رہا تھا۔ داؤ جی کو میرے موٹاپے کی فکر رہنے لگی۔ اکثر میرے تھن متھنے ہاتھ پکڑ کر کہتے۔ “اسپِ تازی بن طویلہ خر نہ بن۔” مجھے ان کا یہ فقرہ بہت ناگوار گزرتا اور میں احتجاجاً ان سے کلام بند کر دیتا۔ میرے مسلسل مرن برت نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا اور ان کی فکر، اندیشہ کی حد تک بڑھ گئی۔ ایک صبح سیر کو جانے سے پہلے انہوں نے مجھے آ جگایا اور میری منتوں، خوشامدوں، گالیوں اور جھڑکیوں کے باوجود بستر سے اٹھا کوٹ پہنا کر کھڑا کر دیا۔ پھر وہ مجھے بازو سے پکڑ کر گویا گھسیٹتے ہوئے باہر گئے۔ سردیوں کی صبح کوئی چار بجے کا عمل۔ گلی میں آدم نہ آدم زاد، تاریکی سے کچھ بھی دکھائی نہ دیتا تھا اور داؤ جی مجھے اسی طرح سیر کو لے جا رہے تھے۔ میں کچھ بک رہا تھا اور وہ کہہ رہے تھے ابھی گراں خوابی دور نہیں ہوئی ابھی طنبورا بڑبڑا رہا ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد کہتے کوئی سر نکال طنبورے کی آہنگ پر بجا یہ کیا کر رہا ہے! جب ہم بستی سے دور نکل گئے اور صبح کی یخ ہوا نے میری آنکھوں کو زبردستی کھول دیا تو داؤ جی نے میرا بازو چھوڑ دیا۔ سرداروں کا رہٹ آیا اور نکل گیا۔ ندی آئی اور پیچھے رہ گئی۔ قبرستان گزر گیا مگر داؤ جی تھے کہ کچھ آیتیں ہی پڑھتے چلے جا رہے تھے۔ جب تھبہ پر پہنچے تو میری روح فنا ہو گئی۔ یہاں سے لوگ دوپہر کے وقت بھی نہ گزرتے تھے کیونکہ پرانے زمانے میں یہاں ایک شہر غرق ہو ا تھا۔ مرنے والوں کی روحیں اسی ٹیلے پر رہتی تھیں اور آنے جانے والوں کا کلیجہ چبا جاتی تھیں۔ میں خوف سے کانپنے لگا تو داؤ جی نے میرے گلے کے گرد مفلر اچھی طرح لپیٹ کر کہا۔

سامنے ان دو کیکروں کے درمیان اپنی پوری رفتار سے دس چکر لگاؤ، پھر سو لمبی سانسیں کھینچو اور چھوڑ دو، تب میرے پاس آؤ، میں یہاں بیٹھتا ہوں، میں تھبہ سے جان بچانے کے لئے سیدھا ان کیکروں کی طرف روانہ ہو گیا۔ پہلے ایک بڑے سے ڈھیلے پر بیٹھ کر آرام کیا اور ساتھ ہی حساب لگایا کہ چھ چکروں گا وقت گزر چکا ہو گا، اس کے بعد آہستہ آہستہ اونٹ کی طرح کیکروں کے درمیان دوڑنے لگا اور جب دس یعنی چار چکر پورے ہو گئے تو پھر اسی ڈھیلے پر بیٹھ کر لمبی لمبی سانسیں کھینچنے لگا۔ ایک تو درخت پر عجیب و غریب قسم کے جانور بولنے لگے تھے دوسرے میری پسلی میں بلا کا درد شروع ہو گیا تھا۔ یہی مناسب سمجھا کہ تھبہ پر جا کر داؤ جی کو سوئے ہوئے اٹھاؤں اور گھر لے جا کر خوب خاطر کروں؟ غصہ سے بھرا اور دہشت سے لرزتا میں ٹیلے کے پاس پہنچا۔ داؤ جی تھبہ کی ٹھیکریوں پر گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیوانوں کی طرح سر مار رہے تھے اور اونچے اونچے اپنا محبوب شعر گار ہے تھے۔

جفا کم کن کہ فردا روزِ محشر
بہ پیشِ عاشقاں شرمندہ باشی!

کبھی دونوں ہتھیلیاں زور سے زمین پر مارتے اور سر اوپر اٹھا کر انگشتِ شہادت فضا میں یوں ہلاتے۔ جیسے کوئی ان کے سامنے کھڑا ہو اور اس سے کہہ رہے ہو دیکھ لو، سوچ لو میں تمہیںمیں تمہیں بتا رہا ہوں سنا رہا ہوںایک دھمکی دئے جاتے تھے۔ پھر تڑپ کر ٹھیکریوں پر گرتے اور جفا کم کن جفا کم کن کہتے ہوئے رونے لگتے۔ تھوڑی دیر میں ساکت و جامد کھڑا رہا اور پھر زور سے چیخ مار کر بجائے قصبہ کی طرف بھاگنے کے پھر کیکروں کی طرف دوڑ گیا۔ داؤ جی ضرور اسمِ اعظم جانتے تھے اور وہ جن قابو کر رہے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک جن ان کے سامنے کھڑا دیکھا تھا۔ بالکل الف لیلیٰ با تصویر والا جن تھا۔ جب داؤ جی کا طلسم اس پر نہ چل سکا تو اس نے انہیں نیچے گرا لیا تھا۔ وہ چیخ رہے تھے جفا کم کن جفا کم کن مگر وہ چھوڑتا نہیں تھا۔ میں اسی ڈھیلے پر بیٹھ کر رونے لگاتھوڑی دیر بعد داؤ جی آئے انہوں نے پہلے جیسا چہرہ بنا کر کہا۔ “چل طنبورے” اور میں ڈرتا ڈرتا ان کے پیچھے ہو لیا۔ راستہ میں انہوں نے گلے میں لٹکتی ہوئی کھلی پگڑی کے دونوں کونے ہاتھ میں پکڑ لئے اور جھوم جھوم کر گانے لگے۔

تیرے لمے لمے وال فریدا ٹریا جا!

اس جادو گر کے پیچھے چلتے ہوئے میں نے ان آنکھوں سے واقعی ان آنکھوں سے دیکھا کہ ان کا سر تبدیل ہو گیا۔ ان کی لمبی لمبی زلفیں کندھوں پر جھولنے لگیں اور ان کا سارا وجود جٹا دھاری ہو گیااس کے بعد چاہے کوئی میری بوٹی بوٹی اڑا دیتا، میں ان کے ساتھ سیر کو ہر گز نہ جاتا!

اس واقعہ کے چند ہی دن بعد کا قصہ ہے کہ ہمارے گھر میں مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے اور اینٹوں کے ٹکڑے آ کر گرنے لگے۔ بے بے نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ کتیا کی بچوں کی طرح داؤ جی سے چمٹ گئی۔ سچ مچ ان سے لپٹ کر گئی اور انہیں دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ وہ چلا رہی تھی۔ “بڈھے ٹوٹکی یہ سب تیرے منتر ہیں۔ یہ سب تیری خارسی ہے۔ تیرا کالا علم ہے جو الٹا ہمارے سر پر آگیا ہے۔ تیرے پریت میرے گھر میں اینٹیں پھینکتے ہیں۔ اجاڑ مانگتے ہیں۔ موت چاہتے ہیں۔” پھر وہ زور زور سے چیخنے لگی “میں مر گئی، میں جل گئی، لوگوں اس بڈھے نے میرے امی چند کی جان لینے کا سمبندھ کیا ہے۔ مجھ پر جادو کیا ہے اور میرا انگ انگ توڑ دیا ہے۔” امی چند تو داؤ جی کو اپنی زندگی کی طرح عزیز تھا اور اس کی جان کے دشمن بھلا وہ کیونکر ہو سکتے تھے لیکن جنوں کی خشت باری انہیں کی وجہ سے عمل میں آئی تھی۔ جب میں نے بھی بے بے کی تائید کی تو داؤ جی نے زندگی میں پہلی بار مجھے جھڑک کر کہا “تو احمق ہے اور تیری بے بے ام الجاہلینمیری ایک سال کی تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ تو جنوں بھوتوں میں اعتقاد کرنے لگا۔ افسوس تو نے مجھے مایوس کر دیا، اے وائے کہ تو شعور کی بجائے عورتوں کے اعتقاد کا غلام نکلا۔ افسوس صد افسوس” بے بے کو اسی طرح چلاتے اور داؤ جی کو یوں کراہتے چھوڑ کر میں اوپر کوٹھے پر دھوپ میں جا بیٹھا اسی دن شام کو جب میں اپنے گھر جا رہا تھا تو راستے میں رانو نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ کانی کر کے پوچھا “بابو تیرے کوئی اینٹ ڈھیلا تو نہیں لگا؟ سنا ہے تمہارے پنڈت کے گھر میں روڑے گرتے ہیں۔”

میں نے اس کمینہ کے منہ لگنا پسند نہ کیا اور چپ چاپ ڈیوڑھی میں داخل ہو گیا۔ رات کے وقت داؤ جی مجھ سے جیومیٹری کی پراپوزیشن سنتے ہوئے پوچھنے لگے “بیٹا کیا تم سچ مچ جن، بھوت یا پری چڑیل کو کوئی مخلوق سمجھتے ہو؟” میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ ہنس پڑے اور بولے واقعی تو بہت بھولا ہے اور میں نے خواہ مخواہ جھڑ ک دیا۔ بھلا تو نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ جن ہوتے ہیں اور اس طرح سے اینٹیں پھینک سکتے ہیں۔ ہم نے جو دلی اور پھتے مزدور کو بلا کر برساتی بنوائی ہے، وہ تیرے کسی جن کو کہہ کر بنوا لیتے لیکن یہ تو بتا کہ جن صرف اینٹیں پھینکنے کا کام ہی کرتے ہیں کہ چنائی بھی کر لیتے ہیں۔” میں نے جل کر کہا “جتنے مذاق چاہو کر لو مگر جس دن سر پھٹے گا اس دن پتہ چلے گا داؤ۔” داؤ جی نے کہا “تیرے جن کی پھینکی ہوئی اینٹ سے تو تا قیامت سر نہیں پھٹ سکتا اس لئے کہ وہ نہ ہے نہ اس سے اینٹ اٹھائی جا سکے گی اور نہ میرے تیرے یا تیری بے بے کے سر میں لگے گی۔”

پھر بولے۔ “سن! علمِ طبعی کا موٹا اصول ہے کہ کوئی مادی شے کسی غیر مادی وجود سے حرکت میں نہیں لائی جا سکتی سمجھ گیا۔”

“سمجھ گیا” میں نے چڑ کر کہا۔

ہمارے قصبہ میں ہائی سکول ضرور تھا لیکن میٹرک کا امتحان کا سنٹر نہ تھا۔ امتحان دینے کے لئے ہمیں ضلع جانا ہوتا تھا۔ چنانچہ وہ صبح آ گئی جس دن ہماری جماعت امتحان دینے کے لئے ضلع جا رہی تھی اور لاری کے ارد گرد والدین قسم کے لوگوں کا ہجوم تھا اور اس ہجوم میں داؤ جی کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ اور سب لڑکوں کے گھر والے انہیں خیر و برکت کی دعاؤ ں سے نواز رہے تھے اور داؤ جی سارے سال کی پڑھائی کا خلاصہ تیار کر کے جلدی جلدی سوال پوچھ رہے تھے اور میرے ساتھ ساتھ خود ہی جواب دیتے جاتے تھے۔ اکبر کی اصطلاحات سے اچھل کر موسم کے تغیر و تبدل پر پہنچ جاتے وہاں سے پلٹتے تو “اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا کہ اپنی وضع سے ہندو معلوم ہوتا تھا۔ وہ نشہ میں چور تھا ایک صاحبِ جمال اس کا ہاتھ پکڑ کر لے آئی تھی اور جدھر چاہتی تھی پھراتی تھی ” کہہ کر پوچھتے تھے یہ کون تھا؟

“جہانگیر ” میں نے جواب دیا۔ اور وہ عورت۔ “نور جہان” ہم دونوں ایک ساتھ بولے”صفتِ مشبہ اور اسم فاعل میں فرق؟” میں نے دونوں کی تعریفیں بیان کیں۔ بولے مثالیں؟ میں نے مثالیں دیں۔ سب لڑکے لاری میں بیٹھ گئے اور میں ان سے جان چھڑا کر جلدی سے داخل ہوا تو گھوم کر کھڑکی کے پاس آ گئے اور پوچھنے لگے بریک ان اور بیک ان ٹو کو فقروں میں استعمال کرو۔ ان کا استعمال بھی ہو گیا اور موٹر سٹارٹ ہو چلی تو اس کے ساتھ قدم اٹھا کر بولے طنبورے مادیاں گھوڑیاں ماکیاں مرغیمادیاں گھوڑیاںماکیاںایک سال بعد خدا خدا کر کے یہ آواز دور ہوئی اور میں نے آزادی کا سانس لیا!

پہلے دن تاریخ کا پرچہ بہت اچھا ہوا۔ دوسرے دن جغرافیہ کا اس بھی بڑھ کر، تیسرے دن اتوار تھا اور اس کے بعد حساب کی باری تھی۔ اتوار کی صبح کو داؤ جی کا کوئی بیس صفحہ لمبا خط ملا جس میں الجبرے کے فارمولوں اور حساب کے قاعدوں کے علاوہ اور اور کوئی بات نہ تھی۔


حساب کا پرچہ کرنے کے بعد برآمدے میں میں نے لڑکوں سے جوابات ملائے تو سو میں سے اسی نمبر کا پرچہ ٹھیک تھا۔ میں خوشی سے پاگل ہو گیا۔ زمین پر پاؤں نہ پڑتا تھا اور میرے منہ سے مسرت کے نعرے نکل رہے تھے۔ جونہی میں نے برآمدے سے پاؤں باہر رکھا۔ داؤ جی کھیس کندھے پر ڈالے ایک لڑکے کا پرچہ دیکھ رہے تھے۔ میں چیخ مار کر ان سے لپٹ گیا۔ اور اسی نمبر!! اسی نمبر” کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ انہوں نے پرچہ میرے ہاتھ سے چھین کر تلخی سے پوچھا “کون سا سوال غلط ہو گیا؟” میں نے جھوم کر کہا “چار دیواری والا ” جھلا کر بولے “تو نے کھڑکیاں اور دروازے منفی نہ کئے ہوں گے” میں نے ان کی کمر میں ہاتھ ڈال کر پیڑ کی طرح جھلاتے ہوئے کہا “ہاں ہاں جی گولی مارو کھڑکیوں کو ” داؤ جی ڈوبی ہوئی آواز میں بولے “تو نے مجھے برباد کر دیا طنبورے سال کے تین سو پینسٹھ دن میں پکار پکار کر کہتا رہا سطحات کا سوال آنکھیں کھول کر حل کرنا مگر تو نے میری بات نہ مانی۔ بیس نمبر ضائع کئےپورے بیس نمبر۔”

اور داؤ جی کا چہرہ دیکھ کر میری اسی فیصد کامیابی بیس فیصد ناکامی کے نیچے یوں دب گئی گویا اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ راستہ بھر وہ اپنے آپ سے کہتے رہے۔ “اگر ممتحن اچھے دل کا ہوا تو دو ایک نمبر تو ضرور دے گا، تیرا باقی حل تو ٹھیک ہے۔” اس پرچے کے بعد داؤ جی امتحان کے آخری دن تک میرے ساتھ رہے۔ وہ رات کے بارہ بجے تک مجھے اس سرائے میں بیٹھ کر پڑھاتے جہاں کلاس مقیم تھی اور اس کے بعد بقول ان کے اپنے ایک دوست کے ہاں چلے جاتے۔ صبح آٹھ بجے پھر آ جاتے اور کمرہ امتحان تک میرے ساتھ چلتے۔

امتحان ختم ہوتے ہی میں نے داؤ جی کو یوں چھوڑ دیا گویا میری ان سے جان پہچان نہ تھی۔ سارا دن دوستوں یاروں کے ساتھ گھومتا اور شام کو ناولیں پڑھا کرتا۔ اس دوران میں اگر کبھی فرصت ملتی تو داؤ جی کو سلام کرنے بھی چلا جاتا۔ وہ اس بات پر مصر تھے کہ میں ہر روز کم از کم ایک گھنٹہ ان کے ساتھ گزاروں تاکہ وہ مجھے کالج کی پڑھائی کے لئے بھی تیار کریں لیکن میں ان کے پھندے میں آنے والا نہ تھا۔ مجھے کالج میں سو بار فیل ہونا گوارا تھا اور ہے لیکن داؤ جی سے پڑھنا منظور نہیں۔ پڑھنے کو چھوڑیئے ان سے باتیں کر نا بھی مشکل تھا۔ میں نے کچھ پوچھا۔ انہوں نے کہا اس کا فارسی میں ترجمہ کرو، میں نے کچھ جواب دیا فرمایا اس کی ترکیب نحوی کرو۔ حوالداروں کی گائے اندر گھس آئی میں اسے لکڑی سے باہر نکال رہا ہوں اور داؤ جی پوچھ رہے ہیں cow ناؤن ہے یا ورب۔ اب ہر عقل کا اندھا پانچویں جماعت پڑھا جانتا ہے کہ گائے اسم ہے مگر داؤ جی فرما رہے ہیں کہ اسم بھی ہے اور فعل بھی۔۔

cow to کا مطلب ہے ڈرانا، دھمکی دینا۔ اور یہ ان دنوں کی باتیں ہیں جب میں امتحان سے فارغ ہو کر نتیجہ کا انتظار کر رہا تھاپھر ایک دن وہ بھی آیا جب ہم چند دوست شکار کھیلنے کے لئے نکلے تو میں نے ان سے درخواست کی کہ منصفی کے آگے سے نہ جائیں کیونکہ وہاں داؤ جی ہوں گے اور مجھے روک کر شکار، بندوق اور کارتوسوں کے محاورے پوچھنے لگیں گے۔ بازار میں دکھائی دیتے تو میں کسی بغلی گلی میں گھس جاتا۔ گھر پر رسماً ملنے جاتا تو بے بے سے زیادہ اور داؤ جی سے کم باتیں کرتا۔ اکثر کہا کرتے۔ افسوس آفتاب کی طرح تو بھی ہمیں فراموش کر رہا ہے۔ میں شرارتاً خیلے خوب خیلے خوب کہہ کر ہنسنے لگتا۔

جس دن نتیجہ نکلا اور ابا جی لڈوؤں کی چھوٹی سی ٹوکری لے کر ان کے گھر گئے۔ داؤ جی سر جھکائے اپنے حصیر میں بیٹھے تھے۔ ابا جی کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اندر سے کرسی اٹھا لائے اور اپنے بوریے کے پاس ڈال کر بولے “ڈاکٹر صاحب آپ کے سامنے شرمندہ ہوں، لیکن اسے بھی مقسوم کی خوبی سمجھئے، میرا خیال تھا کہ اس کی فرسٹ ڈویژن آ جائے گی لیکن اس کی بنیاد کمزور تھی”

“ایک ہی تو نمبر کم ہے۔” میں نے چمک کر بات کاٹی۔ اور وہ میری طرف دیکھ کر بولے “تو نہیں جانتا اس ایک نمبر سے میرا دل دو نیم ہو گیا ہے۔ خیر میں اسے منجانب اللہ خیال کرتا ہوں۔ پھر اباجی اور وہ باتیں کرنے لگے اور میں بے بے کے ساتھ گپیں لڑانے میں مشغول ہو گیا۔

اول اول کالج سے میں داؤ جی کے خطوں کا باقاعدہ جواب دیتا رہا۔ اس کے بعد بے قاعدگی سے لکھنے لگا اور آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ چھٹیوں میں جب گھر آتا تو جیسے سکول کے دیگر ماسٹروں سے ملتا ویسے ہی داؤ جی کو بھی سلام کر آتا۔ اب وہ مجھ سے سوال وغیرہ نہ پوچھتے تھے۔ کوٹ، پتلون اور ٹائی دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ چارپائی پر بیٹھنے نہ دیتے۔ “اگر مجھے اٹھنے نہیں دیتا تو خود کرسی لے لے” اور میں کرسی کھینچ کر ان کے پاس ڈٹ جاتا۔ کالج لائبریری سے میں جو کتابیں ساتھ لایا کرتا انہیں دیکھنے کی تمنا ضرور کرتے اور میرے وعدے کے باوجود اگلے دن خود ہمارے گھر آ کر کتابیں دیکھ جاتے۔ امی چند بوجوہ کالج چھوڑ کر بنک میں ملازم ہو گیا تھا اور دلی چلا گیا تھا۔ بے بے کی سلائی کا کام بدستور تھا۔ داؤ جی منصفی جاتے تھے لیکن کچھ نہ لاتے تھے۔ بی بی کے خط آتے تھے وہ اپنے گھر میں خوش تھی کالج کی ایک سال کی زندگی نے مجھے داؤ جی سے بہت دور کھینچ لیا۔ وہ لڑکیاں جو دو سال پہلے ہمارے ساتھ آپو ٹاپو کھیلا کرتی تھیں بنت عم بنت بن گئی تھیں۔ سیکنڈ ائیر کے زمانے کی ہر چھٹی میں آپو ٹاپو میں گزارنے کی کوشش کرتا اور کسی حد تک کامیاب بھی ہوتا۔ گھر کی مختصر مسافت کے سامنے ایبٹ آباد کا طویل سفر زیادہ تسکین دہ اور سہانا بن گیا۔

انہی ایام میں میں نے پہلی مرتبہ ایک خوبصورت گلابی پیڈ اور ایسے ہی لفافوں کا ایک پیکٹ خریدا تھا اور ان پر نہ ابا جی کو خط لکھے جا سکتے تھے اور نہ ہی داؤ جی کو۔ نہ دسہرے کی چھٹیوں میں داؤ جی سے ملاقات ہو سکی تھی نہ کرسمس کی تعطیلات میں۔ ایسے ہی ایسٹر گزر گیا اور یوں ہی ایام گزرتے رہےملک کو آزادی ملنے لگی تو کچھ بلوے ہوئے پھر لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ ہر طرف سے فسادات کی خبریں آنے لگیں اور اماں نے ہم سب کو گھر بلوا لیا۔ ہمارے لئے یہ بہت محفوظ جگہ تھی۔ بنئے ساہو کار گھر بار چھوڑ کر بھاگ رہے تھے لیکن دوسرے لوگ خاموش تھے۔ تھوڑے ہی دنوں بعد مہاجرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا اور وہی لوگ یہ خبر لائے کہ آزادی مل گئی! ایک دن ہمارے قصبے میں بھی چند گھروں کو آگ لگی اور دو ناکوں پر سخت لڑائی ہوئی۔ تھانے والے اور ملٹری کے سپاہیوں نے کرفیو لگا دیا اور جب کرفیو ختم ہوا تو سب ہندو سکھ قصبہ چھوڑ کر چل دئے، دوپہر کو اماں جی نے مجھے دا ؤ جی کی خبر لینے بھیجا تو اس جانی پہنچانی گلی میں عجیب و غریب صورتیں نظر آئیں۔ ہمارے گھر یعنی داؤ جی کے گھر کی ڈیوڑھی میں ایک بیل بندھا تھا اور اس کے پیچھے بوری کا پردہ لٹک رہا تھا۔ میں نے گھر آ کر بتایا کہ داؤ جی اور بے بے اپنا گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور یہ کہتے ہوئے میرا گلا رندھ گیا۔ اس دن مجھے یوں لگا جیسے داؤ جی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے ہیں اور لوٹ کر نہ آئیں گے۔ داؤ جی ایسے بے وفا تھے!

کوئی تیسرے روز غروب آفتاب کے بعد جب میں مسجد میں نئے پنا ہ گزینوں کے نام نوٹ کر کے اور کمبل بھجوانے کا وعدہ کر کے اس گلی سے گزرا تو کھلے میدان میں سو دو سو آدمیوں کی بھیڑ جمع دیکھی، مہاجر لڑکے لاٹھیاں پکڑے نعرے لگا رہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے۔ میں نے تماشائیوں کو پھاڑ کر مرکز میں گھسنے کی کوشش کی مگر مہاجرین کی خونخوار آنکھیں دیکھ کر سہم گیا۔ ایک لڑکا کسی بزرگ سے کہہ رہا تھا۔

“ساتھ والے گاؤں گیا ہوا تھا جب لوٹا تو اپنے گھر میں گھستا چلا گیا۔”

“کون سے گھر میں؟” بزرگ نے پوچھا۔

“رہتکی مہاجروں کے گھر میں” لڑکے نے کہا۔

“پھر کیا انہوں نے پکڑ لیا۔ دیکھا تو ہندو نکلا۔”

اتنے میں بھیڑ میں سے کسی نے چلا کر کہا۔ “اوئے رانو جلد آ اوئے جلدی آتیری سامیپنڈتتیری سامی۔” رانو بکریوں کا ریوڑ باڑے کی طرف لے جا رہا تھا۔ انہیں روک کر اور ایک لاٹھی والے لڑکے کو ان کے آگے کھڑا کر کے وہ بھیڑ میں گھس گیا۔ میرے دل کو ایک دھکا سا لگا جیسے انہوں نے داؤ جی کو پکڑ لیا ہو۔ میں نے ملزم کو دیکھے بغیر اپنے قریبی لوگوں سے کہا۔

“یہ بڑا اچھا آدمی ہے بڑا نیک آدمی ہےاسے کچھ مت کہویہ تویہ تو” خون میں نہائی ہوئی چند آنکھوں نے میری طرف دیکھا اور ایک نوجوان گنڈاسی تول کر بولا۔

“بتاؤں تجھے بھی آگیا بڑا حمایتی بن کرتیرے ساتھ کچھ ہوا نہیں نا” اور لوگوں نے گالیاں بک کر کہا۔ “انصار ہو گا شاید۔”

میں ڈر کر دوسری جانب بھیڑ میں گھس گیا۔ رانو کی قیادت میں اس کے دوست داؤ جی کو گھیرے کھڑے تھے اور رانو داؤ جی کی ٹھوڑی پکڑ کر ہلا رہا تھا اور پوچھ رہا تھا۔ اب بول بیٹا، اب بول” اور داؤ جی خاموش کھڑے تھے، ایک لڑکے نے پگڑی اتار کر کہا۔ “پہلے بودی کاٹو بودی” اور رانو نے مسواکیں کاٹنے والی درانتی سے داؤ جی کی بودی کاٹ دی۔ وہی لڑکا پھر بولا “بلا دیں جے؟” اور رانو ں نے کہا۔”جانے دو بڈھا ہے، میرے ساتھ بکریاں چرایا کرے گا۔” پھر اس نے داؤ جی کی ٹھوڑی اوپر اٹھاتے ہوئے کہا “کلمہ پڑھ پنڈتا” اور داؤ جی آہستہ سے بولے:

“کون سا؟”

رانو نے ان کے ننگے سر پر ایسا تھپڑ مارا کہ وہ گرتے گرتے بچے اور بولا “سالے کلمے بھی کوئی پانچ سات ہیں!”

جب وہ کلمہ پڑھ چکے تو رانو نے اپنی لاٹھی ان کے ہاتھ میں تھما کر کہا۔”چل بکریاں تیرا انتظار کرتی ہیں۔”

اور ننگے سر داؤ جی بکریوں کے پیچھے پیچھے یوں چلے جیسے لمبے لمبے بالوں والا فریدا چل رہا ہو!۔

EID GAH BY MUNSHI PREEMCHAND

Articles

عید گاہ

منشی پریم چند

عید گاہ

منشی پریم چند

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پر تبسم درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب دیکھ کتنا پیارا ہے گویا دُنیا کو عید کی خوشی پر مبارکباد دے رہا ہے۔ گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے۔ عید گاہ جانے کی دھوم ہے۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں تو سوئی تاگا لینے دوڑے جا رہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہو گئے ہیں۔ اسے تیل اور پانی سے نرم کر رہا ہے۔ جلدی جلدی بیلوں کو سانی پانی دے دیں۔ عید گاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہو جائے گی۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں رشتے قرابت والوں سے ملنا ملانا۔ دوپہر سے پہلے لوٹنا غیر ممکن ہے۔ لڑکے سب سے زیادہ خوش ہیں۔ کسی نے ایک روزہ رکھا، وہ بھی دوپہر تک۔ کسی نے وہ بھی نہیں لیکن عید گاہ جانے کی خوشی ان کا حصہ ہے۔ روزے بڑے بوڑھوں کے لئے ہوں گے، بچوں کے لئے تو عید ہے۔ روز عید کا نام رٹتے تھے آج وہ آ گئی۔ اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عید گاہ کیوں نہیں چلتے۔ انہیں گھر کی فکروں سے کیا واسطہ؟ سویّوں کے لئے گھر میں دودھ اور شکر میوے ہیں یا نہیں، اس کی انہیں کیا فکر؟ وہ کیا جانیں ابا کیوں بدحواس گاؤں کے مہاجن چودھری قاسم علی کے گھر دوڑے جا رہے ہیں، ان کی اپنی جیبوں میں تو قارون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔ بار بار جیب سے خزانہ نکال کر گنتے ہیں۔ دوستوں کو دکھاتے ہیں اور خوش ہو کر رکھ لیتے ہیں۔ ان ہی دو چار پیسوں میں دُنیا کی سات نعمتیں لائیں گے۔ کھلونے اور مٹھائیاں اور بگل اور خدا جانے کیا کیا۔ سب سے زیادہ خوش ہے حامد۔ وہ چار سال کا غریب خوب صورت بچہ ہے، جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہو گیا تھا اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مر گئی۔ کسی کو پتہ نہ چلا کہ بیماری کیا ہے؟ کہتی کس سے؟ کون سننے والا تھا؟ دل پر جو گزرتی تھی سہتی تھی اور جب نہ سہا گیا تو دُنیا سے رُخصت ہو گئی۔ اب حامد اپنی بوڑھی دادی امینہ کی گود میں سوتا ہے اور اتنا ہی خوش ہے۔ اس کے ابا جان بڑی دُور روپے کمانے گئے تھے اور بہت سی تھیلیاں لے کر آئیں گے۔ امی جان اللہ میاں کے گھر مٹھائی لینے گئی ہیں۔ اس لئے خاموش ہے۔ حامد کے پاؤں میں جوتے نہیں ہیں۔ سر پر ایک پرانی دھرانی ٹوپی ہے جس کا گوٹہ سیاہ ہو گیا ہے پھر بھی وہ خوش ہے۔ جب اس کے ابّا جان تھیلیاں اور اماں جان نعمتیں لے کر آئیں گے تب وہ دل کے ارمان نکالے گا۔ تب دیکھے گا کہ محمود اور محسن آذر اور سمیع کہاں سے اتنے پیسے لاتے ہیں۔ دُنیا میں مصیبتوں کی ساری فوج لے کر آئے، اس کی ایک نگاہِ معصوم اسے پامال کرنے کے لئے کافی ہے۔

حامد اندر جا کر امینہ سے کہتا ہے، “تم ڈرنا نہیں امّاں! میں گاؤں والوں کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ بالکل نہ ڈرنا لیکن امینہ کا دل نہیں مانتا۔ گاؤں کے بچے اپنے اپنے باپ کے ساتھ جا رہے ہیں۔ حامد کیا اکیلا ہی جائے گا۔ اس بھیڑ بھاڑ میں کہیں کھو جائے تو کیا ہو؟ نہیں امینہ اسے تنہا نہ جانے دے گی۔ ننھی سی جان۔ تین کوس چلے گا تو پاؤں میں چھالے نہ پڑ جائیں گے؟

مگر وہ چلی جائے تو یہاں سوّیاں کون پکائے گا، بھوکا پیاسا دوپہر کو لوٹے گا، کیا اس وقت سوّیاں پکانے بیٹھے گی۔ رونا تو یہ ہے کہ امینہ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس نے فہمین کے کپڑے سیے تھے۔ آٹھ آنے پیسے ملے تھے۔ اس اٹھنی کو ایمان کی طرح بچاتی چلی آئی تھی اس عید کے لئے لیکن گھر میں پیسے اور نہ تھے اور گوالن کے پیسے اور چڑھ گئے تھے، دینے پڑے۔ حامد کے لئے روز دو پیسے کا دودھ تو لینا پڑتا ہے اب کُل دو آنے پیسے بچ رہے ہیں۔

سمیع: سنا ہے چودھری صاحب کے قبضہ میں بہت سے جنات ہیں۔ کوئی چیز چوری چلی جائے، چودھری صاحب اس کا پتہ بتا دیں گے اور چور کا نام تک بتا دیں گے۔ جمعراتی کا بچھڑا اس دن کھو گیا تھا۔ تین دن حیران ہوئے، کہیں نہ ملا، تب جھک مار کر چودھری کے پاس گئے۔ چودھری نے کہا، مویشی خانہ میں ہے اور وہیں ملا۔ جنات آ کر انہیں سب خبریں دے جایا کرتے ہیں۔

اب ہر ایک کی سمجھ میں آ گیا کہ چودھری قاسم علی کے پاس کیوں اس قدر دولت ہے اور کیوں وہ قرب و جوار کے مواضعات کے مہاجن ہیں۔ جنات آ کر انہیں روپے دے جاتے ہیں۔ آگے چلئے یہ پولیس لائن ہے۔ یہاں پولیس والے قواعد کرتے ہیں۔ رائٹ لپ، پھام پھو۔

نوری نے تصحیح کی، “یہاں پولیس والے پہرہ دیتے ہیں۔ جب ہی تو انہیں بہت خبر ہے۔ اجی حضرت یہ لوگ چوریاں کراتے ہیں۔ شہر کے جتنے چور ڈاکو ہیں سب ان سے ملے رہتے ہیں۔ رات کو سب ایک محلّہ میں چوروں سے کہتے ہیں اور دوسرے محلّہ میں پکارتے ہیں جاگتے رہو۔ میرے ماموں صاحب ایک تھانہ میں سپاہی ہیں۔ بیس روپے مہینہ پاتے ہیں لیکن تھیلیاں بھر بھر گھر بھیجتے ہیں۔ میں نے ایک بار پوچھا تھا، ماموں اتنے روپے آپ چاہیں تو ایک دن میں لاکھوں بار لائیں۔ ہم تو اتنا ہی لیتے ہیں جس میں اپنی بدنامی نہ ہو اور نوکری بنی رہے۔

حامد نے تعجب سے پوچھا، “یہ لوگ چوری کراتے ہیں تو انہیں کوئی پکڑتا نہیں؟ ” نوری نے اس کی کوتاہ فہمی پر رحم کھا کر کہا، “ارے احمق! انہیں کون پکڑے گا، پکڑنے والے تو یہ خود ہیں لیکن اللہ انہیں سزا بھی خوب دیتا ہے۔ تھوڑے دن ہوئے ماموں کے گھر میں آگ لگ گئی۔ سارا مال متاع جل گیا۔ ایک برتن تک نہ بچا۔ کئی دن تک درخت کے سائے کے نیچے سوئے، اللہ قسم پھر نہ جانے کہاں سے قرض لائے تو برتن بھانڈے آئے۔”

بستی گھنی ہونے لگی۔ عید گاہ جانے والوں کے مجمعے نظر آنے لگے۔ ایک سے ایک زرق برق پوشاک پہنے ہوئے۔ کوئی تانگے پر سوار کوئی موٹر پر چلتے تھے تو کپڑوں سے عطر کی خوشبو اُڑتی تھی۔

دہقانوں کی یہ مختصر سی ٹولی اپنی بے سر و سامانی سے بے حس اپنی خستہ حالی میں مگر صابر و شا کر چلی جاتی تھی۔ جس چیز کی طرف تاکتے تاکتے رہ جاتے اور پیچھے سے بار بار ہارن کی آواز ہونے پر بھی خبر نہ ہوتی تھی۔ محسن تو موٹر کے نیچے جاتے جاتے بچا۔

وہ عید گاہ نظر آئی۔ جماعت شروع ہو گئی ہے۔ املی کے گھنے درختوں کا سایہ ہے نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے۔ جس پر جاجم بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے پیچھے دوسرے خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں۔ پختہ فرش کے نیچے جاجم بھی نہیں۔ کئی قطاریں کھڑی ہیں جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی۔ یہاں کوئی رُتبہ اور عہدہ نہیں دیکھتا۔ اسلام کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہو گئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے، لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں، ایک ساتھ دو زانو بیٹھ جاتے ہیں اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے ایسا معلوم ہو رہا ہے گویا بجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہو جائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔ کتنا پُر احترام رعب انگیز نظارہ ہے۔ جس کی ہم آہنگی اور وسعت اور تعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ گویا اخوت کا رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کئے ہوئے ہے۔

نماز ختم ہو گئی ہے لوگ باہم گلے مل رہے ہیں۔ کچھ لوگ محتاجوں اور سائلوں کو خیرات کر رہے ہیں۔ جو آج یہاں ہزاروں جمع ہو گئے ہیں۔ ہمارے دہقانوں نے مٹھائی اور کھلونوں کی دُکانوں پر یورش کی۔ بوڑھے بھی ان دلچسپیوں میں بچوں سے کم نہیں ہیں۔

یہ دیکھو ہنڈولا ہے ایک پیسہ دے کر آسمان پر جاتے معلوم ہوں گے۔ کبھی زمین پر گرتے ہیں یہ چرخی ہے لکڑی کے گھوڑے، اُونٹ، ہاتھی منجوں سے لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک پیسہ دے کر بیٹھ جاؤ اور پچیس چکروں کا مزہ لو۔ محمود اور محسن دونوں ہنڈولے پر بیٹھے ہیں۔ آذر اور سمیع گھوڑوں پر۔”


ان کے بزرگ اتنے ہی طفلانہ اشتیاق سے چرخی پر بیٹھے ہیں۔ حامد دور کھڑا ہے تین ہی پیسے تو اس کے پاس ہیں۔ ذرا سا چکر کھانے کے لئے وہ اپنے خزانہ کا ثلث نہیں صَرف کر سکتا۔ محسن کا باپ بار بار اسے چرخی پر بلاتا ہے لیکن وہ راضی نہیں ہوتا۔ بوڑھے کہتے ہیں اس لڑکے میں ابھی سے اپنا پرایا آ گایا ہے۔ حامد سوچتا ہے، کیوں کسی کا احسان لوں؟ عسرت نے اسے ضرورت سے زیادہ ذکی الحس بنا دیا ہے۔ سب لو گ چرخی سے اُترتے ہیں۔ کھلونوں کی خرید شروع ہوتی ہے۔ سپاہی اور گجریا اور راجہ رانی اور وکیل اور دھوبی اور بہشتی بے امتیاز ران سے ران ملائے بیٹھے ہیں۔ دھوبی راجہ رانی کی بغل میں ہے اور بہشتی وکیل صاحب کی بغل میں۔ واہ کتنے خوبصورتبولا ہی چاہتے ہیں۔ محمود سپاہی پر لٹو ہو جاتا ہے خاکی وردی اور پگڑی لال، کندھے پر بندوق، معلوم ہوتا ہے ابھی قواعد کے لئے چلا آ رہا ہے۔ محسن کو بہشتی پسند آیا۔ کمر جھکی ہوئی ہے اس پر مشک کا دہانہ ایک ہاتھ سے پکڑے ہوئے ہے۔ دوسرے ہاتھ میں رسی ہے، کتنا بشاش چہرہ ہے، شاید کوئی گیت گا رہا ہے۔ مشک سے پانی ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ نوری کو وکیل سے مناسبت ہے۔ کتنی عالمانہ صورت ہے، سیاہ چغہ نیچے سفید اچکن، اچکن کے سینہ کی جیب میں سنہری زنجیر، ایک ہاتھ میں قانون کی کتاب لئے ہوئے ہے۔ معلوم ہوتا ہے، ابھی کسی عدالت سے جرح یا بحث کر کے چلے آ رہے ہیں۔ یہ سب دو دو پیسے کے کھلونے ہیں۔ حامد کے پاس کل تین پیسے ہیں۔ اگر دو کا ایک کھلونا لے لے تو پھر اور کیا لے گا؟ نہیں کھلونے فضول ہیں۔ کہیں ہاتھ سے گر پڑے تو چور چور ہو جائے۔ ذرا سا پانی پڑ جائے تو سارا رنگ دُھل جائے۔ ان کھلونوں کو لے کر وہ کیا کرے گا، کس مصرف کے ہیں؟

محسن کہتا ہے، “میرا بہشتی روز پانی دے جائے گا صبح شام۔”

نوری بولی، “اور میرا وکیل روز مقدمے لڑے گا اور روز روپے لائے گا”

حامد کھلونوں کی مذمت کرتا ہے۔ مٹی کے ہی تو ہیں، گریں تو چکنا چور ہو جائیں، لیکن ہر چیز کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ذرا دیر کے لئے انہیں ہاتھ میں لے سکتا۔ یہ بساطی کی دکان ہے، طرح طرح کی ضروری چیزیں، ایک چادر بچھی ہوئی ہے۔ گیند، سیٹیاں، بگل، بھنورے، ربڑ کے کھلونے اور ہزاروں چیزیں۔ محسن ایک سیٹی لیتا ہے محمود گیند، نوری ربڑ کا بت جو چوں چوں کرتا ہے اور سمیع ایک خنجری۔ اسے وہ بجا بجا کر گائے گا۔ حامد کھڑا ہر ایک کو حسرت سے دیکھ رہا ہے۔ جب اس کا رفیق کوئی چیز خرید لیتا ہے تو وہ بڑے اشتیاق سے ایک بار اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگتا ہے، لیکن لڑکے اتنے دوست نواز نہیں ہوتے۔ خاص کر جب کہ ابھی دلچسپی تازہ ہے۔ بے چارہ یوں ہی مایوس ہو کر رہ جاتا ہے۔

کھلونوں کے بعد مٹھائیوں کا نمبر آیا، کسی نے ریوڑیاں لی ہیں، کسی نے گلاب جامن، کسی نے سوہن حلوہ۔ مزے سے کھا رہے ہیں۔ حامد ان کی برادری سے خارج ہے۔ کمبخت کی جیب میں تین پیسے تو ہیں، کیوں نہیں کچھ لے کر کھاتا۔ حریص نگاہوں سے سب کی طرف دیکھتا ہے۔

محسن نے کہا، “حامد یہ ریوڑی لے جا کتنی خوشبودار ہیں۔”

حامد سمجھ گیا یہ محض شرارت کہے۔ محسن اتنا فیاض طبع نہ تھا۔ پھر بھی وہ اس کے پاس گیا۔ محسن نے دونے سے دو تین ریوڑیاں نکالیں۔ حامد کی طرف بڑھائیں۔ حامد نے ہاتھ پھیلایا۔ محسن نے ہاتھ کھینچ لیا اور ریوڑیاں اپنے منھ میں رکھ لیں۔ محمود اور نوری اور سمیع خوب تالیاں بجا بجا کر ہنسنے لگے۔ حامد کھسیانہ ہو گیا۔ محسن نے کہا۔

“اچھا اب ضرور دیں گے۔ یہ لے جاؤ۔ اللہ قسم۔”

حامد نے کہا، “رکھیے رکھیےکیا میرے پاس پیسے نہیں ہیں؟”

سمیع بولا، “تین ہی پیسے تو ہیں، کیا کیا لو گے؟”

محمود بولا، “تم اس سے مت بولو، حامد میرے پاس آؤ۔ یہ گلاب جامن لے لو”

حامد: “مٹھائی کون سی بڑی نعمت ہے۔ کتاب میں اس کی برائیاں لکھی ہیں۔”

محسن: لیکن جی میں کہہ رہے ہو گے کہ کچھ مل جائے تو کھا لیں۔ اپنے پیسے کیوں نہیں نکالتے؟” محمود: اس کی ہوشیاری میں سمجھتا ہوں۔ جب ہمارے سارے پیسے خرچ ہو جائیں گے، تب یہ مٹھائی لے گا اور ہمیں چڑا چڑا کر کھائے گا۔

حلوائیوں کی دُکانوں کے آگے کچھ دُکانیں لوہے کی چیزوں کی تھیں کچھ گلٹ اور ملمع کے زیورات کی۔ لڑکوں کے لئے یہاں دلچسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔ حامد لوہے کی دُکان پر ایک لمحہ کے لئے رک گیا۔ دست پناہ رکھے ہوئے تھے۔ وہ دست پناہ خرید لے گا۔ ماں کے پاس دست پناہ نہیں ہے۔ توے سے روٹیاں اتارتی ہیں تو ہاتھ جل جاتا ہے۔ اگر وہ دست پناہ لے جا کر اماں کو دے دے تو وہ کتنی خوش ہوں گی۔ پھر ان کی انگلیاں کبھی نہیں جلیں گی، گھر میں ایک کام کی چیز ہو جائے گی۔ کھلونوں سے کیا فائدہ۔ مُفت میں پیسے خراب ہوتے ہیں۔ ذرا دیر ہی تو خوشی ہوتی ہے پھر تو انہیں کوئی آنکھ اُٹھا کر کبھی نہیں دیکھتا۔ یا تو گھر پہنچتے پہنچتے ٹوٹ پھوٹ کر برباد ہو جائیں گے یا چھوٹے بچے جو عید گاہ نہیں جا سکتے ہیں ضد کر کے لے لیں گے اور توڑ ڈالیں گے۔ دست پناہ کتنے فائدہ کی چیز ہے۔ روٹیاں توے سے اُتار لو، چولھے سے آگ نکال کر دے دو۔ اماں کو فرصت کہاں ہے بازار آئیں اور اتنے پیسے کہاں ملتے ہیں۔ روز ہاتھ جلا لیتی ہیں۔ اس کے ساتھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سبیل پر سب کے سب پانی پی رہے ہیں۔ کتنے لالچی ہیں۔ سب نے اتنی مٹھائیاں لیں کسی نے مجھے ایک بھی نہ دی۔ اس پر کہتے ہیں میرے ساتھ کھیلو۔ میری تختی دھو لاؤ۔ اب اگر یہاں محسن نے کوئی کام کرنے کو کہا تو خبر لوں گا، کھائیں مٹھائیآپ ہی منہ سڑے گا، پھوڑے پھنسیاں نکلیں گی۔ آپ ہی زبان چٹوری ہو جائے گی، تب پیسے چرائیں گے اور مار کھائیں گے۔ میری زبان کیوں خراب ہو گی۔ اس نے پھر سوچا، اماں دست پناہ دیکھتے ہی دوڑ کر میرے ہاتھ سے لے لیں گی اور کہیں گی۔ میرا بیٹا اپنی ماں کے لئے دست پناہ لایا ہے، ہزاروں دُعائیں دیں گی۔ پھر اسے پڑوسیوں کو دکھائیں گی۔ سارے گاؤں میں واہ واہ مچ جائے گی۔ ان لوگوں کے کھلونوں پر کون انہیں دُعائیں دے گا۔ بزرگوں کی دُعائیں سیدھی خدا کی درگاہ میں پہنچتی ہیں اور فوراً قبول ہوتی ہیں۔ میرے پاس بہت سے پیسے نہیں ہیں۔ جب ہی تو محسن اور محمود یوں مزاج دکھاتے ہیں۔ میں بھی ان کو مزاج دکھاؤں گا۔ وہ کھلونے کھیلیں، مٹھائیاں کھائیں میں غریب سہی۔ کسی سے کچھ مانگنے تو نہیں جاتا۔ آخر ابا کبھی نہ کبھی آئیں گے ہی پھر ان لوگوں سے پوچھوں گا کتنے کھلونے لو گے؟ ایک ایک کو ایک ٹوکری دوں اور دکھا دوں کہ دوستوں کے ساتھ اس طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ جتنے غریب لڑکے ہیں سب کو اچھے اچھے کرتے دلوا دوں گا اور کتابیں دے دوں گا، یہ نہیں کہ ایک پیسہ کی ریوڑیاں لیں تو چڑا چڑا کر کھانے لگیں۔ دست پناہ دیکھ کر سب کے سب ہنسیں گے۔ احمق تو ہیں ہی سب۔ اس نے ڈرتے ڈرتے دُکاندار سے پوچھا، “یہ دست پناہ بیچو گے؟”

دکاندار نے اس کی طرف دیکھا اور ساتھ کوئی آدمی نہ دیکھ کر کہا، وہ تمہارے کام کا نہیں ہے۔

“بکاؤ ہے یا نہیں؟”

“بکاؤ ہے جی اور یہاں کیوں لاد کر لائے ہیں”

“تو بتلاتے کیوں نہیں؟ کے پیسے کا دو گے؟”

“چھ پیسے لگے لگا”

حامد کا دل بیٹھ گیا۔ کلیجہ مضبوط کر کے بولا، تین پیسے لو گے؟ اور آگے بڑھا کہ دُکاندار کی گھرکیاں نہ سنے، مگر دُکاندار نے گھرکیاں نہ دیں۔ دست پناہ اس کی طرف بڑھا دیا اور پیسے لے لئے۔ حامد نے دست پناہ کندھے پر رکھ لیا، گویا بندوق ہے اور شان سے اکڑتا ہوا اپنے رفیقوں کے پاس آیا۔ محسن نے ہنستے ہوئے کہا، “یہ دست پناہ لایا ہے۔ احمق اسے کیا کرو گے؟”

حامد نے دست پناہ کو زمین پر پٹک کر کہا، “ذرا اپنا بہشتی زمین پر گرا دو، ساری پسلیاں چور چور ہو جائیں گی بچو کی”


محمود: “تو یہ دست پناہ کوئی کھلونا ہے؟”

حامد: “کھلونا کیوں نہیں ہے؟ ابھی کندھے پر رکھا، بندوق ہو گیا” ہاتھ میں لے لیا فقیر کا چمٹا ہو گیا، چاہوں تو اس سے تمہاری ناک پکڑ لوں۔ ایک چمٹا دوں تو تم لوگوں کے سارے کھلونوں کی جان نکل جائے۔ تمہارے کھلونے کتنا ہی زور لگائیں، اس کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ میرا بہادر شیر ہے یہ دست پناہ۔”

سمیع متاثر ہو کر بدلا، “میری خنجری سے بدلو گے؟ دو آنے کی ہے”

حامد نے خنجری کی طرف حقارت سے دیکھ کر کہا، “میرا دست پناہ چاہے تو تمہاری خنجری کا پیٹ پھاڑ ڈالے۔ بس ایک چمڑے کی جھلی لگا دی، ڈھب ڈھب بولنے لگی۔ ذرا سا پانی لگے تو ختم ہو جائے۔ میرا بہادر دست پناہ تو آگ میں، پانی میں، آندھی میں، طوفان میں برابر ڈٹا رہے گا۔ میلہ بہت دور پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ دس بج رہے تھے۔ گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ اب دست پناہ نہیں مل سکتا تھا۔ اب کسی کے پاس پیسے بھی تو نہیں رہے، حامد ہے بڑا ہوشیار۔ اب دو فریق ہو گئے، محمود، محسن اور نوری ایک طرف، حامد یکہ و تنہا دوسری طرف۔ سمیع غیر جانبدار ہے جس کی فتح دیکھے گا اس کی طرف ہو جائے گا۔ مناظرہ شروع ہو گیا۔ آج حامد کی زبان بڑی صفائی سے چل رہی ہے۔ اتحادِ ثلاثہ اس کے جارحانہ عمل سے پریشان ہو رہا ہے۔ ثلاثہ کے پاس تعداد کی طاقت ہے، حامد کے پاس حق اور اخلاق، ایک طرف مٹی ربڑ اور لکڑی کی چیزیں دوسری جانب اکیلا لوہا جو اس وقت اپنے آپ کو فولاد کہہ رہا ہے۔ وہ روئیں تن ہے صف شکن ہے اگر کہیں شیر کی آواز کان میں آ جائے تو میاں بہشتی کے اوسان خطا ہو جائیں۔ میاں سپاہی مٹکی بندوق چھوڑ کر بھاگیں۔ وکیل صاحب کا سارا قانون پیٹ میں سما جائے۔ چغے میں، منہ میں چھپا کر لیٹ جائیں۔ مگر بہادر یہ رُستمِ ہند لپک کر شیر کی گردن پر سوار ہو جائے گا اور اس کی آنکھیں نکال لے گا۔

محسن نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کہا، “اچھا تمہارا دست پناہ پانی تو نہیں بھر سکتا۔ حامد نے دست پناہ کو سیدھا کر کے کہا کہ یہ بہشتی کو ایک ڈانٹ پلائے گا تو دوڑا ہوا پانی لا کر اس کے دروازے پر چھڑکنے لگے گا۔ جناب اس سے چاہے گھڑے مٹکے اور کونڈے بھر لو۔

محسن کا ناطقہ بند ہو گیا۔ نوری نے کمک پہنچائی، “بچہ گرفتار ہو جائیں تو عدالت میں بندھے بندھے پھریں گے۔ تب تو ہمارے وکیل صاحب ہی پیروی کریں گے۔ بولئے جناب”

حامد کے پاس اس وار کا دفیعہ اتنا آسان نہ تھا، دفعتاً اس نے ذرا مہلت پا جانے کے ارادے سے پوچھا، “اسے پکڑنے کون آئے گا؟”

محمود نے کہا، “یہ سپاہی بندوق والا”

حامد نے منھ چڑا کر کہا یہ بے چارے اس رستم ہند کو پکڑ لیں گے؟ اچھا لاؤ ابھی ذرا مقابلہ ہو جائے۔ اس کی صورت دیکھتے ہی بچہ کی ماں مر جائے گی، پکڑیں گے کیا بے چارے”

محسن نے تازہ دم ہو کر وار کیا، “تمہارے دست پناہ کا منھ روز آگ میں جلا کر ے گا۔” حامد کے پاس جواب تیار تھا، “آگ میں بہادر کودتے ہیں جناب۔ تمہارے یہ وکیل اور سپاہی اور بہشتی ڈرپوک ہیں۔ سب گھر میں گھس جائیں گے۔ آگ میں کودنا وہ کام ہے جو رُستم ہی کر سکتا ہے۔”

نوری نے انتہائی جدت سے کام لیا، “تمہارا دست پناہ باورچی خانہ میں زمین پر پڑا رہے گا۔ میرا وکیل شان سے میز کرسی لگا کر بیٹھے گا۔ اس جملہ نے مُردوں میں بھی جان ڈال دی، سمیع بھی جیت گیا۔”بے شک بڑے معرکے کی بات کہی، دست پناہ باورچی خانہ میں پڑا رہے گا”

حامد نے دھاندلی کی، میرا دست پناہ باورچی خانہ میں رہے گا، وکیل صاحب کرسی پر بیٹھیں گے تو جا کر انہیں زمین پر پٹک دے گا اور سارا قانون ان کے پیٹ میں ڈال دے گا۔

اس جواب میں بالکل جان نہ تھی، بالکل بے تکی سی بات تھی لیکن قانون پیٹ میں ڈالنے والی بات چھا گئی۔ تینوں سورما منھ تکتے رہ گئے۔ حامد نے میدان جیت لیا، گو ثلاثہ کے پاس ابھی گیند سیٹی اور بت ریزرو تھے مگر ان مشین گنوں کے سامنے ان بزدلوں کو کون پوچھتا ہے۔ دست پناہ رستمِ ہند ہے۔ اس میں کسی کو چوں چرا کی گنجائش نہیں۔”

فاتح کو مفتوحوں سے خوشامد کا مزاج ملتا ہے۔ وہ حامد کو ملنے لگا اور سب نے تین تین آنے خرچ کئے اور کوئی کام کی چیز نہ لا سکے۔ حامد نے تین ہی پیسوں میں رنگ جما لیا۔ کھلونوں کا کیا اعتبار۔ دو ایک دن میں ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ حامد کا دست پناہ تو فاتح رہے گا۔ ہمیشہ صلح کی شرطیں طے ہونے لگیں۔

محسن نے کہا، “ذرا اپنا چمٹا دو۔ ہم بھی تو دیکھیں۔ تم چاہو تو ہمارا وکیل دیکھ لو حامد! ہمیں اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ فیاض طبع فاتح ہے۔ دست پناہ باری باری سے محمود، محسن، نور اور سمیع سب کے ہاتھوں میں گیا اور ان کے کھلونے باری باری حامد کے ہاتھ میں آئے۔ کتنے خوبصورت کھلونے ہیں، معلوم ہوتا ہے بولا ہی چاہتے ہیں۔ مگر ان کھلونوں کے لئے انہیں دُعا کون دے گا؟ کون کون ان کھلونوں کو دیکھ کر اتنا خوش ہو گا جتنا اماں جان دست پناہ کو دیکھ کر ہوں گی۔ اسے اپنے طرزِ عمل پر مطلق پچھتاوا نہیں ہے۔ پھر اب دست پناہ تو ہے اور سب کا بادشاہ۔ راستے میں محمود نے ایک پیسے کی ککڑیاں لیں۔ اس میں حامد کو بھی خراج ملا حالانکہ وہ انکار کرتا رہا۔ محسن اور سمیع نے ایک ایک پیسے کے فالسے لئے، حامد کو خراج ملا۔ یہ سب رستم ہند کی برکت تھی۔

گیارہ بجے سارے گاؤں میں چہل پہل ہو گئی۔ میلے والے آ گئے۔ محسن کی چھوٹی بہن نے دوڑ کر بہشتی اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور مارے خوشی جو اچھلی تو میاں بہشتی نیچے آ رہے اور عالمِ جاودانی کو سدھارے۔ اس پر بھائی بہن میں مار پیٹ ہوئی۔ دونوں خوب روئے۔ ان کی اماں جان یہ کہرام سن کر اور بگڑیں۔ دونوں کو اوپر سے دو دو چانٹے رسید کئے۔ میاں نوری کے وکیل صاحب کا حشر اس سے بھی بدتر ہوا۔ وکیل زمین پر یا طاق پرتو نہیں بیٹھ سکتا۔ اس کی پوزیشن کا لحاظ تو کرنا ہی ہو گا۔ دیوار میں دو کھونٹیاں گاڑی گئیں۔ ان پر چیڑ کا ایک پرانا پڑا رکھا گیا۔ پڑے پر سرخ رنگ کا ایک چیتھڑا بچھا دیا گیا جو منزلۂ قالین کا تھا۔ وکیل صاحب عالم بالا پہ جلوہ افروز ہوئے۔ یہیں سے قانونی بحث کریں گے۔ نوری ایک پنکھا لے کر جھلنے لگی۔ معلوم نہیں پنکھے کی ہوا سے یا پنکھے کی چوٹ سے وکیل صاحب عالم بالا سے دُنیائے فانی میں آ رہے۔ اور ان کی مجسمۂ خاکی کے پرزے ہوئے۔ پھر بڑے زور کا ماتم ہوا اور وکیل صاحب کی میت پارسی دستور کے مطابق کوڑے پر پھینک دی گئی تاکہ بے کار نہ جا کر زاغ و زغن کے کام آ جائے۔

اب رہے میاں محمود کے سپاہی۔ وہ محترم اور ذی رُعب ہستی ہے اپنے پیروں چلنے کی ذلت اسے گوارا نہیں۔ محمود نے اپنی بکری کا بچہ پکڑا اور اس پر سپاہی کو سوار کیا۔ محمود کی بہن ایک ہاتھ سے سپاہی کو پکڑے ہوئے تھی اور محمود بکری کے بچہ کا کان پکڑ کر اسے دروازے پر چلا رہا تھا اور اس کے دونوں بھائی سپاہی کی طرف سے “تھونے والے داگتے لہو” پکارتے چلتے تھے۔ معلوم نہیں کیا ہوا، میاں سپاہی اپنے گھوڑے کی پیٹھ سے گر پڑے اور اپنی بندوق لئے زمین پر آ رہے۔ ایک ٹانگ مضروب ہو گئی۔ مگر کوئی مضائقہ نہیں، محمود ہوشیار ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر نگم اور بھاٹیہ اس کی شاگردی کر سکتے ہیں اور یہ ٹوٹی ٹانگ آناً فاناً میں جوڑ د ے گا۔ صرف گولر کا دودھ چاہئے۔ گولر کا دودھ آتا ہے۔ ٹانگ جوڑی جاتی ہے لیکن جوں ہی کھڑا ہوتا ہے، ٹانگ پھر الگ ہو جاتی ہے۔ عملِ جراحی ناکام ہو جاتا ہے۔ تب محمود اس کی دوسری ٹانگ بھی توڑ دیتا ہے۔ اب وہ آرام سے ایک جگہ بیٹھ سکتا ہے۔ ایک ٹانگ سے تو نہ چل سکتا تھا نہ بیٹھ سکتا تھا۔ اب وہ گوشہ میں بیٹھ کر ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلے گا۔

اب میاں حامد کا قصہ سنئے۔ امینہ اس کی آواز سنتے ہی دوڑی اور اسے گود میں اُٹھا کر پیار کرنے لگی۔ دفعتاً اس کے ہاتھ میں چمٹا دیکھ کر چونک پڑی۔

“یہ دست پناہ کہاں تھا بیٹا؟”

“میں نے مول لیا ہے، تین پیسے میں۔”

امینہ نے چھاتی پیٹ لی۔ “یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے کہ دوپہر ہو گئی۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ لایا کیا یہ دست پناہ۔ سارے میلے میں تجھے اور کوئی چیز نہ ملی۔”

حامد نے خطاوارانہ انداز سے کہا، “تمہاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں کہ نہیں؟”

امینہ کا غصہ فوراً شفقت میں تبدیل ہو گیا۔ اور شفقت بھی وہ نہیں جو منہ پر بیان ہوتی ہے اور اپنی ساری تاثیر لفظوں میں منتشر کر دیتی ہے۔ یہ بے زبان شفقت تھی۔ دردِ التجا میں ڈوبی ہوئی۔ اُف کتنی نفس کشی ہے۔ کتنی جانسوزی ہے۔ غریب نے اپنے طفلانہ اشتیاق کو روکنے کے لئے کتنا ضبط کیا۔ جب دوسرے لڑکے کھلونے لے رہے ہوں گے، مٹھائیاں کھا رہے ہوں گے، اس کا دل کتنا لہراتا ہو گا۔ اتنا ضبط اس سے ہوا۔ کیونکہ اپنی بوڑھی ماں کی یاد اسے وہاں بھی رہی۔ میرا لال میری کتنی فکر رکھتا ہے۔ اس کے دل میں ایک ایسا جذبہ پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں دُنیا کی بادشاہت آ جائے اور وہ اسے حامد کے اوپر نثار کر دے۔

اور تب بڑی دلچسپ بات ہوئی۔ بڑھیا امینہ ننھی سی امینہ بن گئی۔ وہ رونے لگی۔ دامن پھیلا کر حامد کو دُعائیں دیتی جاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو کی بڑی بڑی بوندیں گراتی جاتی تھی۔ حامد اس کا راز کیا سمجھتا اور نہ شاید ہمارے بعض ناظرین ہی سمجھ سکیں گے۔


Intekhab e Kalam Ahmad Mushtaq

Articles

انتخابِ کلام احمد مشتاق

احمد مشتاق

احمد مشتاق

غزلیں

وہ لڑکپن کے دن وہ پیار کی دھوپ
چھائوں لگتی تھی رہگذار کی دھوپ

وہ کھلی کھڑکیاں مکانوں کی
دو پہر میں وہ کوے یار کی دھوپ

کنج سورج مکھی کے پھولوں کے
ٹھنڈی ٹھنڈی وہ سبزہ زار کی دھوپ

یہ بھی اک منظر زمینی ہے
خوف کے سائے گیر و دار کی دھوپ

برف چاروں طرف ہے اور دل میں
گل آئندہ اور بہار کی دھوپ

————–

شامِ غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں
کب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیں

دل سے بہتے ہوئے پانی کی صدا گذری تھی
کب دھندلکا ہوا کب شام ڈھلی یاد نہیں

ٹھنڈے موسم میں پکارا کوئی ہم آتے ہیں
جس میں ہم کھیل رہے تھے وہ گلی یاد نہیں

ان مضافات میں چھپ چھپ کے ہوا چلتی ہے
کیسے کھلتی تھی محبت کی کلی یاد نہیں

جسم و جاں ڈوب گئے خواب فراموشی میں
اب کوئی بات بری ہو کہ بھلی یاد نہیں

———————

دہلیز پہ چاندنی کھڑی ہے
یہ رات کی کونسی گھڑی ہے

جگ بیت گئے مگر وہی شام
اب تک مری یاد میں گڑی ہے

کچھ بھی نہ ستم گروں نے چھوڑا
ہر چیز ملی دلی پڑی ہے

اس زلف سے سلسلہ ہمارا
زنجیر کی آخری کڑی ہے

میں گاوِ زمانہ و زمیں ہوں
دنیا مرے سینگ پر کھڑی ہے

XXX

اسی جزیرۂ جنت نشان ہی میں رہے
ہم اس جہان کے تھے اس جہان ہی میں رہے

زمینیوں کے تھے اپنے مہہ و نجوم بہت
جو آسمان کے تھے آسمان ہی میں رہے

نئی جگہ میں تو سب کچھ سما نہ سکتا تھا
وہ صبح و شام پرانے مکان ہی میں رہے

نہ جانے کون کشش تھی ہوا کی گلیوں میں
کہ نو نیاز پرندے اُڑان ہی میں رہے

جو چار حرف بمشکل زباں تک آئے تھے
تمام عمر امید بیان ہی میں رہے

XXX

بدن نزار ہوا دل ہوا نڈھال مرا
اس آرزو نے تو بھر کس دیا نکال مرا

پلٹ کے بھی نہیں دیکھا پکار بھی نہ سنی
رہا جواب سے محروم ہر سوال مرا

جہاں اٹھانے ہیں سو رنج ایک یہ بھی سہی
سنبھال خود کو مرے دل نہ کر خیال مرا

وہ زلف باد صبا بھی تھی جس کی باج گزار
اسی کے قرض میں جکڑا ہے بال بال مرا

خزاں میں بھی وہی رونق ہے جو بہار میں تھی
نہیں نشاط سے کم مرتبہ ملال مرا

XXX

منہ سوئے فلک ہے بھونکتا ہوں
آوازِ سگانِ بے نوا ہوں

یاروں کو ضیافتیں مبارک
میں ایسی غذا پہ تھوکتا ہوں

پروانہ بھی آپ شمع بھی آپ
اور بزم سے دور جل رہا ہوں

مجھ سے نہ الجھ ہوائے دنیا
میں دل کی زمین سے اُگا ہوں

دنیا سے بھی ہے دلی تعلق
دل کا بھی مزاج آشنا ہوں

ہاتھوں پہ اٹھائے چاند کی لاش
تاروں کے غروب تک گیا ہوں

ہیں ابروِ ہوا گواہ میرے
سورج کے پڑوس میں رہا ہوں

صحرائے طلب کے ساربانو
خوابوں سے لدا ہوا کھڑا ہوں

بس موجِ خیال یار تھم جا
ساحل کے قریب آگیا ہوں

XXX

لفظوں کے سراب سے نکل جا
کاغذ کے عذاب سے نکل جا

افسانۂ حسن ختم پر ہے
افسونِ شباب سے نکل جا

میں دل کی طرف پلٹ رہا ہوں
دنیا مرے خواب سے نکل جا

مت ریجھ فریب کار دل پر
اس شہرِ خراب سے نکل جا

اے رمز شناس مہر و مہتاب
اس آب و تراب کے نکل جا

XXX

دل میں کہیں سراغِ نشاط و الم نہیں
گو شور بھی بہت ہے خموشی بھی کم نہیں

جو اک سوال تھا مرے لب پر کہاں گیا
مجھ کو تر ے جواب نہ دینے کا غم نہیں

اپنائیت تو وہ کہ محبت بھی ہو نثار
بے گانگی تو یہ کہ مروّت بہم نہیں
میلے لگے ہوئے تھے اسی دل کے آس پاس
اب دور دور تک کوئی نقش قدم نہیں

XXX

مرے اندر کوئی شئے مائل فریاد رہتی ہے
مقیّد ہے مگر ہر بند سے آزاد رہتی ہے

جہاں دل تھا کبھی سایا نظر آتا ہے اب دل کا
جہاں آنسو رہے اب آنسووں کی یاد رہتی ہے

مرے نا کام دل اک عمر ہوتی ہے تمنا کی
نہ پھر وہ شوق رہتا ہے نہ استعداد رہتی ہے

XXX

کیا شب ہجر تھی سویر لگی
چاند کو ڈوبنے میں دیر لگی

XXX

 

Story of Pen by Achariya Atre

Articles

قلم کی لکھی کہانی

اچاریہ اَترے

قلم کی لکھی کہانی

مصنف: اچاریہ اَترے
مراٹھی سے ترجمہ : پروفیسر صاحب علی

میز پر چاندی کے شمع دان میں ایک موم بتی رکھی ہوئی تھی۔بہت خوبصورت موم بتی تھی وہ۔ اس کا رنگ گلابی تھا، اس کا قد لمبا اور نازک تھا۔ اس کے گاو دم  پرکجلائی ہوئی سیاہ بتی خوب زیب دیتی تھی۔
اسے لگتا تھا سارے کمرے میں اس سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں۔
سامنے دیوار پر لگے ہوئے آئینے میں اسے اپنا چہرہ دکھائی دیتا۔ گھنٹوں وہ اپنا روپ نہارتی رہتی۔
اس کے قریب ہی کانچ کی ایک خوبصورت سی دوات اور ایک منقش قلم رکھا ہوا تھا۔ لیکن ان سے وہ موم بتی کبھی بات تک نہ کرتی۔ سارا وقت اپنی اکڑ میں رہتی۔ قریب کی کھڑکی سے دھوپ کمرے میں آتی۔ دھوپ کو دیکھ کر
کانچ کی دوات اور چاندی کے قلم کو بڑی خوشی ہوتی۔ ان کے چہرے خوشی

سے چمکنے لگتے۔ اس بات پر موم بتی کو اُن پر بہت غصہ آتا۔ ’’سورج کو دیکھ کر تمھیں اتنی خوشی کیوں ہوتی ہے، میری سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘
ایک بار اس نے چڑ کر کہا۔ ’’ایسا کون سا بڑا راجا ہے وہ!‘‘ کہے بغیر اس سے رہا نہ جاتا۔

’’راجا ہی ہے وہ‘‘ دوات بولتی۔ ’’اس کے جتنا بڑا راجا دنیا میں کوئی دوسرا
ہے ہی کون؟‘‘
’’واہ رے راجا‘‘ موم بتی نے کہا ’’ایک چھوٹا سا بادل بھی اسے ڈھانک سکتاہے۔ کبھی آرام نہیں کرسکتا، کبھی دیر سے نہیں آسکتا۔ ایک نوکر کی طرح
سارے کام مقررہ وقت پر ہی کرنے پڑتے ہیں اسے۔ اور رات میں منہ کالا
کرکے رفو چکّر ہوجاتا ہے۔ پھر اس کا کام مجھے کرنا پڑتا ہے۔ میں ایک دن
اسے اپنے آگے گردن جھکانے پر مجبور کردوں گی۔‘‘دوات اور قلم نے کچھ نہیں کہا۔ اور وہ جواب دیتے بھی تو کیا دیتے؟ ایک دن نوکر کمرہ صاف کرنے آیا تو اس نے میز کو اٹھا کر کھڑکی کے قریب رکھ دیا۔ اس وجہ سے باہر سے آنے والی سورج کی دھوپ پوری میز پر چھا گئی۔ موم بتی کا دھوپ میں بیٹھنے کا یہ پہلا ہی موقع تھا۔
تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اسے کچھ عجیب سا لگنے لگا۔ اسے محسوس ہوا کہ
اسے چکر سا آرہا ہے۔
قریب ہی دوات اور قلم خوشی سے چمک رہے تھے۔
موم بتی کا سرخ چہرہ دیکھ کر دوات نے کہا ’ ’کیوں بھئی؟ تمھارا چہرہ ایسا
کیوں نظر آرہا ہے؟ لگتا ہے تمھیں گرمی لگ رہی ہے۔ ذرا ٹھہرو، ابھی کوئی
بادل آکر سورج کو ڈھانک لے گا اور تھوڑی ٹھنڈک محسوس ہوگی۔‘‘’’تم سے کسی نے کچھ پوچھا؟‘‘ موم بتی نے کہا ’’بی اماں میں اتنی نازک نہیں۔ پوچھ رہی ہو گرمی تو نہیں ہورہی؟ مجھے کچھ نہیں ہورہا ہے۔ سورج میرا کیا بگاڑ لے گا؟‘‘دھوپ تیز ہونے لگی۔ اب موم بتی سے اس کی تپش سہن نہیں ہورہی تھی۔ اسے سچ مچ چکر آنے لگا اور ایک لخت اس نے اپنی گردن نیچے ڈال دی۔
دوات کو ٹھونگا لگاتے ہوئے قلم نے کہا ’’یہ دیکھو!  موم بتی کو کیا
ہوگیاہے؟‘‘ ’’ہاں سچ مچ! یا خدا اس کی کیا حالت ہوگئی ہے، مجھے لگ ہی رہا تھا کہ ایسا کچھ ہوگا۔‘‘ ’’ایسا لگ رہا ہے سورج کو نمسکار کر رہی ہے۔‘‘ قلم من ہی من ہنس کر بُدبُدایا۔
تھوڑی ہی دیر میں نوکر اندر آیا۔ اس نے ایک نظر ڈال کر موم بتی کو دیکھا اور
اسے اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔
’’ختم ہوگئی بے چاری کی زندگی‘‘ دوات نے کہا۔
’’اب میں اس پر کہانی لکھوں گا‘‘ قلم نے بڑھ کر کہا
قلم نے کہانی لکھی
وہی کہانی ہے یہ۔

Urdu Nazm and Zafar Gorakhpuri by K.H. Aqib

Articles

جدید اردو نظم میں ظفر ؔ گورکھپوری کا مقام

خان حسنین عاقبؔ

جدید اردو نظم میں ظفر ؔ گورکھپوری کا مقام

 

ما قبل ِ آزادی نیز ما بعد ِ آزادی ، دونوں ادوار میں شمالی ہند نے اردو ادب و شعر کی سر پرستی کی ہے۔ ما قبل ِ آزادی شمالی ہند میں سیاسی استحکام اور حکمرانوں کا ادبی ذوق اس کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ ما بعد ِ آزادی ، دو تین دہا ئیوں تک تو معاملہ ٹھیک ٹھاک اور حسبِ سابق رہا لیکن گذشتہ تین چار دہا ئیوں سے ریاستی حکومتوں کی دورُخی پا لیسیوں نے اکثر جگہوں سے اردو کو عملاً ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن اردو شعر و ادب اپنی رفتار سے ترقی کر تا رہا۔ خصوصا ً غزل نے نت نئے گوشوں کو تلاش کیا۔ لیکن آج مجھے بات نظم پر کرنی ہے اسلئے غزل کا ذکر نہیں کروں گا۔ اگر میں براہ ِ راست بات کروں اور کسی رسمی تمہید سے کام نہ لوں تومجھے کہنا یہ ہے کہ اردو نظم نے اپنی ابتدا سے لے کر اب تک جتنا بھی فاصلہ طے کیا ہے، اور یہ آج جہاں آکر کھڑی ہے، اس مقام سے آگے بھی کئی مقام آ نے ابھی باقی ہیں کہ زمانہ تغیرات سے عبارت ہے۔ لیکن آج تک یہ جہاں آن کھڑی ہوئی ہے، اس میں جن جن شعرا نے اپنا الگ راستہ بنا یا ہے ان میں ظفر ؔ گورکھپوری کا نام ابتدائی فہرست میں رکھا جائے گا۔ ظفر گورکھپوری، زبیرؔ رضوی، محمد علوی، ندا فاضلی وغیرہم ہمارے عہد کے ایسے نمائندہ بزرگ شعراء ہیں )جنہیں مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے )جو اردو شعر و ادب میں نظم کی نئی روشوں (جدتوں) اور تازہ کار لہجوں کے امین ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے جدید اردو نظم کی دلداری کی اور اس کی عکا سی بھی کی ہے۔
اگر ادب و شعر کو مقصدیت سے نتھی کر دیا جائے تو بقول ِ افلا طون، ’’ادب برائے زندگی اور جمالیات خاص طور پر اخلاقیات اور فلسفہ کے ماتحت ہے۔‘‘ اسی بات کو مغربی نقاد وِنٹرس (Winters) نے کہا تھا۔ “poetry is a statement in words about a human experience.” یعنی شاعری نام ہے انسانی تجربات کو الفاظ میں بیان کر نے کا۔ غالب ؔ بھی کہا ں پیچھے رہنے والے ہیں ۔ انہوں نے کہا ؎
ما نہ بودیم بدیں مر تبہ راضی غالبؔ
شعر خود خواہش ِ آں کرد کہ گر دد فنِ ما۔
ظفرؔ کی شاعری مندرجہ بالا ضابطوں کی پابند شاعری ہے۔ نئے عہد نے زندگی کو جتنے پہلوؤں سے بر تا ہے، ان سے کئی گنا زیادہ موضوعات شاعری کے دامن میں آن گرے ہیں۔ اکثر شعراء نے موضوعات پر ہاتھ ڈالا ہے لیکن ظفر ؔ نے جس خوش سلیقگی سے ان مو ضوعات کے جدید نظم کے حوالوں کے ساتھ اپنی فکر اور اظہار کا محور بنایا ہے، وہ بے مثل ہے۔ ان کے یہاں موضوعات کا تنوع اور اسلو بیاتی اور محاکاتی رنگا رنگی اپنی ضو فشانی اور اپنا وجود منوانے پر تُلی نظر آتی ہیں۔ ظفرؔ کی نظم گوئی کا آغاز ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند نظم کے زیر ِ اثر ہوا لیکن انہوں نے میرا جی اور ن۔م۔راشد جیسے نظم گویوں کے قبیلے کی رکنیت سے از خود انکار کیااور صرف ’خود کے لئے کہی گئی ‘ مبہم اور ادق الفہم نظموں کی تقلید سے پر ہیز کیا۔ انہوں نے اصطلاحی جماعت بندیوں اور جدیدیت اور ما بعد ِ جدیدیت وغیرہ جیسے از کار رفتہ مفروضات سے بھی دانستہ اجتناب برتتے ہوئے زمانے کو اپنے شعور اور احساس کی آنکھوں سے دیکھا اور پرکھا ہے۔اسلام میں عقیدتاً اور رسما ً ، بہ ہر دو طور، ہر کام اللہ کی حمد و ثناء اور دعا کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ظفر ؔ اپنے انفرادی لہجے میں دعا کر تے ہیں جو ان کی ایک نظم کا عنوان ہے۔
خدائے بر تر و بالا
ترا ممنون ہوں۔ کیا کیا عطا کیں نعمتیں تونے
مری اوقات سے بھی کچھ زیادہ دے دیا مجھ کو
مگر
میں ایسا خود غرض ،نا شکر و نا فرماں
کہ سب کچھ پاکے بھی نا مطمئن ٹہرا
مرے لالچ نے
مٹی ، دھوپ، پانی
ثمر، دریا، ہوائیں، پیڑ
سب کو قتل کر ڈالا۔
شاعر کا لہجہ اسے کہاں لے جارہا ہے۔ اس کا تخاطب تو لازماً خدا ہے، لیکن شاعر اپنی بات ، اپنے ذاتی مفاد کی بات نہیں کر رہا ہے، بلکہ وہ سماجی سروکار کی بات کر رہا ہے جو ایک شاعر کا سب سے مقدس فریضہ ہوتا ہے۔بنی نوع انسان کی نمائندگی کر تے ہوئے شاعر اعتراف کر رہا ہے کہ وہ اس ماحولیاتی عدم توازن کا مجرم ہے جسے اس کی غرض مندی نے بگاڑدیا ہے۔ وہ توضیح کر تا ہے۔
مرے الفاظ مصنوعی ہیں سارے
میں ہر پہچان اپنی کھو چکا ہوں
نہ چہرہ ہے، نہ آنکھیں
دماغ اکثر یہ مجھ سے پوچھتا ہے
کیا حقیقت میں وہی ہوں میں؟
فرشتوں نے جسے سجدے کئے تھے
نہیں۔۔ میں وہ نہیں ہوں۔
اور پھر آخر ِ میں وہ اللہ سے دعا مانگتا ہے۔
خدائے بر تر و بالا
مرے تاریک ۔ خالی۔۔ خود گزیدہ
سرد سینے کو
عطا کر آگ
اس کو درد کی خوشبو سے بھر دے
مجھے پھر اشرف المخلوق کر دے۔
یہی شاعر کی فکری جہت ہوتی ہے جسے وہ اپنے عقیدے تک بھی کھینچ لاتا ہے۔ یہ اس کا عالمی کر ب ہے جو دعا کے توسط سے اس کے قلم سے نکل کر کاغذ پر بہہ نکلتا ہے۔ اور پھر شاعر اپنے لئے کیا مانگ رہا ہے؟ کچھ نہیں۔اگر کچھ مانگ رہا ہے تو انسان کا انسان ہونا۔ جو مشکل ہے۔ آج ایک جانور کا انسان ہونا آسان نظر آتا ہے لیکن ایک انسان کا انسان ہونا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ یہی کرب ظفر ؔ سے یہ دعا کر واتا ہے جس پر تمام علم کے انسان آمین کہنے سے نہیں ہچلچائیں گے۔ یہی ایک جدید طرزِ اظہار کا خاصہ ہو تا ہے۔ ظفر ؔ کا دکھ بھی کو ئی انفرادی اور ذاتی دکھ نہیں ہے۔ اس کا تصور اسے کہاں کہاں کی سیر کرواتا ہے۔ ایک نظم ’’ تری بے چین آنکھوں کے پرے‘‘ کا یہ حصہ دیکھئے۔
’’دکانیں ، لال ٹینیں، اونگھتے سائے، ڈبل روٹی
سلگتے گوشت کی خوشبو
دھنسا ہوا چہرہ، مہینے بھر کی داڑھی
پھٹی جیبوں کی میلی سی قمیصیں
سنیما گھر کے آگے پوسٹر پر قہقہوں کی
دھول بر ساتا ہوا پاگل
کنارِ آب ننھی مچھلیاں کھاتا ہوا بگلا
محاذ ِ جنگ پر مارے گئے فوجی کی محبوبہ
میں کیا بتلاؤں، تیری گول سی سپنوں بھری
بے چین آنکھوں کے پرے
کیا کیا دیکھتا ہوں۔‘‘
یہ ایسی شاعری ہے جو کسی طور اپنے ماحول، اپنے اِرد گِرد سے بے خبر نہیں رہتی۔ شاعر جب اپنے مخاطب کی بے چین آنکھوں کے پرے جھانکتا ہے تو اسے اپنے تجربات یاد آجاتے ہیں۔ اسے اپنے مشاہدات کے درشن ہوتے ہیں۔ وہ اُن بے چین آنکھوں کی جمالیاتی تشریح کر نے کے بجائے ان کے پرے نکل جاتا ہے، اور اسے اپنا دکانوں کے سامنے سے گزرنا یاد آجاتاہے جہاں اس نے لال ٹینوں کی روشنی میں کچھ اونگھتے سائے دیکھے تھے۔ سلگتے گوشت کی خوشبو، دھنسا ہوا چہرہ اور مہینے بھر کی داڑھی، یہ علامات معاشی احتیاج کی نشاندہی کر تی ہیں۔ کنار ِ آب ننھی مچھلیاں، اور ان مچھلیوں کو اپنی غذا بناتا ہوا ایک بگلا، یہ محض ایک خوبصورت فطری منظر نہیں ہے بلکہ سر مایہ دارانہ نظام کا اعلامیہ ہے۔یہاں اس بات کا اعادہ غیر ضروری نہیں معلوم ہوتا کہ جدید اردو نظم کی ہیئت اور اسلوب مغرب سے بر آمد کر دہ ہیں۔ اس لئے اردومیں اسے لسانی تاثر کی originalityکے ساتھ برتنا کمال ہے۔ ظفر ؔ کی شاعری کا اختصاص یہی ہے کہ وہ ظاہری محاکات کے حوالوں سے اپنے ما فی الضمیر کی ادائیگی پر قادر ہیں۔ ’اسٹیٹس سمبل‘ ظفر ؔ کی ایسی ہی نظم ہے جو معاشرتی منافقت hypocricy کی عمدہ عکاسی کر تی ہے۔ اس نظم کا اختتامیہ بے حد چونکا دینے والا ہے۔
’’کلب، ڈنر اور ڈانس کی رسیا
صارف کلچر کی مخلوق
ننھی شبنم، ننھے بیج سے
اک بار یہ پوچھے
سر کیسے اونچا ہوتا ہے
عزت کیسے ملتی ہے
کیا شئے ہے اسٹیٹس سمبل؟
اب کوئی بتا ئے کہ یہ ننھی شبنم ، ننھے بیج کے استعارے کس کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور شاعر ان استعاروں کے ذریعے کس سے مخاطب ہو رہا ہے اور وہ کن معاشرتی اکا ئیوں پر طنز کر رہا ہے۔ یہی ظفرؔ کی نظموں کا خاصہ ہے۔ ان کے تخیل نے یک لخت شہری زندگی کی منافقانہ رَوِشوں کی جانب سے اپنی فکر کے عدسہ Lenseکا رُخ فطرت کی طرف موڑتے ہوئے ننھی شبنم اور ننھے بیج کی جانب کر دیا اور نئے سر مایہ دارانہ رویوں کی دھجیاں بکھیر دیں۔ بقول فریدوں مشیریؔ ؎
در کجای ٔ ایں فضائے تنگ ، بے آواز من کبوتر ہائے شعرم را دہم پر واز
ظفر کی شاعری اس لحاظ سے بھی منفرد کہلائے جانے کی مستحق ہے کہ یہ اپنے فوری ماحول سے متاثر ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ چاہے وہ ماحول مکانی لحاظ سے قریب ہو یا بعید۔ یعنی مقامی ہو یا عالمی۔ اور کمال تو یہ ہے کہ ہر صورت میں شاعر اس ماحول کے خلاف مزاحمت کر تا دکھائی دیتا ہے، وہ بھی ایسی مزاحمت جیسی فلسطینی لوگ اسرائیلی غاصبوں کے خلاف کر تے ہیں۔ اور شاعر اسے اپنا فرض تصور کر تا ہے۔ ظفر ؔ کی نظم ’ٹکراؤ‘ کا اختتامیہ دیکھئے۔
’’ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
پھر لڑیں گے
تو جگ مگ شہر
میں سادہ سا شہری۔۔ دیہاتی سا کچھ
اگر مجھ کو ہرا پائے ، ہرا دینا
ابھی تک تو ہرا پایا نہیں ہے
مجھے اپنا بنا پایا نہیں ہے۔ ‘‘
نظم کا یہ حصہ صاف بتاتا ہے کہ شاعر بہ آسانی ’ سَرِ تسلیم خم ‘کرنے کا یعنی submission کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ ایک عظییم آبادی والے ، چو بیس گھنٹے مصروف رہنے والے شہر کا حصہ بن تو گیا ہے لیکن واقعتا وہ ایسے ہی علیحدہ ہے جیسے ہندوستان کے جغرافیائی نقشے میں سری لنکا۔ لیکن اسے فخر ہے کہ وہ اپنی جڑوں اور اپنی اقدار سے اب بھی مر بوط ہے۔ مزاحمتی رویے کی ایک اور مثال ، ایک اور منظر ، نظم ’بہت کمزور ہو تم‘ میں دکھائی دیتا ہے۔
میں بارش ہوں
مری بوندیں خدا کی پھیلی پھیلی اس زمیں پر
کہیں بھی ٹوٹ سکتی ہیں
تمہارا کیا ہے؟
تم کون ہو؟
ہوا کو ، پانیوں کو کاٹنے والے
زمین و آسماں کو بانٹنے والے
مجھے زنجیر پہناؤ گے
مجھ کو روک پاؤ گے؟
بہت کمزور ہو تم
ہار جاؤ گے!
ایسے احتجاجی اور مزاحمتی رویوں کا آغازشعر و ادب میں ، نیز خصو صا ً جدید نظم میں مغرب کے زیر ِ اثر ہوا۔ گو ، ان رویوں کا آغاز ترقی یافتہ ممالک سے ہوا لیکن ترقی پذیر مما لک میں کو ئی ملک ایسا نہیں رہا جو ان رویوں سے براہِ راست متا ثر نہ ہوا ہو۔ چاہے وہ افریقہ کی aparthied تحریک ہو یا ایشیاء میں ترقی پسند تحریک۔ کلاسیکیت کی دیوانی فارسی شاعری بھی اس سے دامن نہ بچاسکی۔ احمد شاملو کی جدید نظم کے تئیں وابستگی ملا حظے کی شئے ہے۔
’’درخت ِ تناور
امسال
چہ میوہ خواہد داد
تا پرندگاں را
بہ قفس نیاز نہ ماند؟؟
(نظم ، ’’تا بستان‘‘ مجموعہ ۔ ابراہیم و آتش۔ احمد شاملو)
ظفر ؔ نے اپنی مندرجہ بالا نظم ’بہت کمزور ہو تم‘ میں شاعرانہ تعلی سے کام لیتے ہوئے خود کو بارش کے استعارے کے ساتھ پیش کیا ہے لیکن مقصدیت کے لحاظ سے آخر ِ کار، ما حول میں موجود انسانی وسائل کی کِرم خوردہ ذہنیت کے خلاف اس کے احتجاج اور مزاحمت کا عندیہ بہت واضح ہے۔ان کے یہاں معاشرتی عدم توازن، مزاحمت اور احتجاج کی لے َ تیز ضرور ہے لیکن یہ بھی ہے کہ ظفر ؔ کی شاعری میں زمانی اعتبار سے حال کا بیان زیادہ ہے اور ان کی تمثیلات، استعارے اور محاکات نسبتا ً وا ضح ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ’بے حا صل‘ کا یہ ٹکڑا دیکھئے۔
’’۔۔۔
بھول بھال کر گلی تمہاری
کانکریٹ کی پکی اور
تپتی سڑک پر ہانپ رہا ہوں
اور ابھی کتنا چلنا ہے؟
اِدھر اُدھر سے دھوپ اُٹھاکر
اپنے سفر کی لمبائی میں ناپ رہا ہوں
وقت کے ساتھ سفر کا شوق!‘‘
ظفر ؔ کے یہاں نئی تہذیب کی عیاریاں ان کے جمالیاتی شعور romantic sense کا پیچھا نہیں چھو ڑ تیں۔اس نظم میں وہ معشوق کی گلی بھول کر اپنے سفر کو نئی تہذیب اور نئی ضروریات سے ہم آہنگ کر تے ہیںاور عشق کے کیف آور تصور سے نکل کر موجودہ زمانے کی تلخ سچائیوں کی رزم گاہ میں آن پہنچتے ہیںاور پھر کانکریٹ کی پکی اور تپتی ہوئی سڑک ، دھوپ کی شدت اور سفر کی مسافت کا توشہ دان ساتھ رکھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ظفر ؔ کو ایک جانب شہری زندگی کی ہماہمی سے شکایت ہے وہیں وہ پرانی صحت مند اقدار کی گم گشتگی کا نوحہ بھی کر رہے ہیں۔جب ہم ان کی شاعری کے دروازے پر اس حوالے سے دستک دیتے ہیں تو ان کی واقعاتی اور موضوعاتی نظمیں بے حد خوش سلیقگی سے ہمارا استقبال کر تی ہیں۔ اس خصوص میں ان کی نظم ’مرے چراغوں کو دفن کردو‘ ایسے قبیل کی نظم ہے جو ماضی اور حال دونوں زمانوں کی اقدار کا تقابل کر تی ہے۔
’’ اصول ، اونچے وِچار
حق گوئی
اور دیانت
چراغ کیا کیا
دئے تھے دادا نے باپ کو
باپ نے یہ ورثہ مجھے تھمایا
اور اب بڑھاپے میں، میں نے چاہا
کہ سارا وِرثہ ، چراغ سارے میں
اپنے بچوں کو سونپ دوں
مر سکوں، سُکوں سے ۔۔۔۔‘‘
یہاں تک شاعر کا ایقان اپنی اگلی نسل پر قائم نظر آتا ہے لیکن جیسے جیسے نظم proceed کر تی ہے، یہ ایقان ، کامل بے اعتباری اور حسرت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
’’بہت چالاک ہیں میرے بچے
وہ مجھ سے یہ کہہ رہے ہیں’ڈیڈی‘
یہ ساری چیزیں، یہ ٹمٹماتے چراغ سارے
بہت پرانے ہیں
اب ان سے کیا روشنی ملے گی؟
۔۔۔۔۔
کچھ اور ہے آج کی یہ دنیا
یہ وہ نہیں ہے کہ جس میں کھولی تھیں تم نے آنکھیں۔۔۔‘‘
یہ نظم نہیں ہے ، ظفرؔ کا شخصی کرب ہے۔ یہ ایسی کوفت کا اظہار ہے جو شاعر کو مسلسل اضطراب میں رکھتی ہے اور اس کرب و گھٹن سے تنگ آکر آخر ِ کار ’ سرِ تسلیم خم ہے‘ کی بے چارگی بھری و مصلحت آمیز کیفیت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ وہ اپنے ایقان کو submit کر دیتا ہے اور کہہ اٹھتا ہے کہ
’تو میرے بچو !
نئے زمانے میں جینے والو!
بلند دیواروں ، اونچی چھتوں کے نیچے، نئے کھلونوں کے ساتھ
مصنوعی زندگی راس آئے تم کو
مرے چراغوں کو میرے ہمراہ دفن کردو
اندھیری دنیا تمہیں مبارک !!!
ہر شاعر کے نزدیک ماضی کی ایک الگ اہمیت اور افادیت ہوتی ہے۔ اس ماضی کو انگریزی میں nostalgia کہتے ہیں جو شاعر کا سر مایۂ شعر ہوتا ہے۔ پھر یہ ظفر ؔ کا ساتھ کیسے چھوڑ دیتا؟ ان کی نظم ’چھوٹا ہوا ہاتھ‘ ملا حظہ کیجئے۔
’’تمہارا ہاتھ تھا بابا !
تھی میرے ہاتھ میں انگلی تمہاری
تمہارے اونچے کاندھوں سے ڈھلک کر
تمہاری صاف ستھری بے شکن چادر کا کونا
مجھے رہ رہ کے چھوتا تھا
کہ مجھ سے راستے کی گرد نہ آکر لپٹ جائے
تمہارا ساتھ تھا با با !
خدا منھ سے تمہارے بولتا تھا
سچ بولو
کہ سچ سورج ہے باطن کا
محبت ایک دولت ہے۔ ۔۔‘‘
اور اکثر شاعروں کے ساتھ مصیبت یہ ہوتی ہے کہ شام ہوتے ہی یا پھر تنہائی کی چادر پھیلتے ہی ان کا یہ nostalgia عود کر آتا ہے اور انہیں ماضی کے گلیاروں کی سیر کر واتا ہے جِسے وہ اپنے رجحان کے مطابق اپنی شاعری میں نظم کر تے ہیں۔بقول فِراقؔ ؎
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
میں نے اوپر جس نظم کا حوالہ درج کیا ہے ، اس میںظفر ؔ کو کسی محبوبہ یا اپنی محبت کے بجائے ایک مشفق اور مربی کر دار کی یاد آتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب شاعر کا خیال ، اس کا تخیل محترم ہوجاتا ہے اور اس کی ہر بات شخصِ مذکور کی کر دار سازی کر رہی ہوتی ہے۔اپنے بچپن کا بیان، بابا کا والہانہ ذکر اور پھر ان کی اعلی اقدار پر مبنی نصیحت ، اس نظم کے مبادیاتی اجزاء ہیں۔
یو ں کہا جائے تو کیا غلط ہوگا کہ ظفر ؔ زندگی کی صدا قتوں کی شاعر ہیں؟ وہ بے معنی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔ اپنی اسی عنوان کی نظم ’زندگی با معنی ہے‘ میں وہ یہی پیغام دیتے ہیں۔
’ہاتھ نہ آئے ستارہ
ہاتھ نہ آئے جزیرہ
لیکن ان کے پانے ، ان کو چھونے ، ان کے پاس جانے کا
جو اک سنگھرش ہے
وہ زندہ رہنا چاہئے
اک اسی سنگھرش سے
زندگی میں کچھ نہ کچھ مفہوم ہے
زندگی با معنی ہے۔‘
ظفر ؔ کی نظم بے سمت اور بے رُخ خیالات اور موضوعات کے ہمراہ نہیں چلتی۔ وہ بڑی دیدہ ریزی کے ساتھ اپنے خیالات کو خلق کر تے ہیں۔اور پھر انہی خیالات کے آٹے سے شعر کی روٹی تیار کر تے ہیں۔ ہم نے اکیسویں صدی میں داخل ہونے کو اپنا بڑا کار نامہ سمجھ لیا ہے۔ لیکن ظفرؔ اس اکیسویں صدی کی حقیقت سے خوب واقف ہیں۔ اس لئے وہ اس اکیسویں صدی سے مخا طب ہو کر کہہ اٹھتے ہیں۔
میں نہیں کہتا تو مری خاطر
آسماں اک نیا فراہم کر
جی سکوں میں زمیں پہ عزت سے
ایسی آب و ہو ا فراہم کر
یعنی شاعر کا ادراک اس واقعے سے اچھی طرح واقف ہے کہ اکیسویں صدی میں کو ئی اگر ایسی ہوا ، ایسا ماحول ہی فراہم کر دے کہ انسان، بلکہ بنی نوع انسان عزت سے اپنی بچی کھچی سانسیں لے کر اپنا رخت ِ سفر باندھ سکے، تو یہی غنیمت ہے۔ لیکن وقت جیسے جیسے آگے بڑھتا جارہا ہے ، یہ امید ، نا امیدی میں بدلتی جارہی ہے۔
ظفر ؔ کی نظموں میں طرزِ اظہار کی خوبصورتی ، ترسیل و ابلاغ کی منزلوں سے گزرتے ہوئے محاکات کی جدت و ندرت کے نئے پہلو وا ہوتے ہیں۔ میں ان کی نظموں سے کچھ حوالے دے رہا ہوں۔ آپ مکمل نظمیں پڑھے بغیر بھی ان کا مزہ تو لے سکیں گے لیکن اگر مکمل متن پڑھیں گے تو یہ سہ آتشہ ہو جائے گا۔
’ میں اپنی سرخ صبحوں
سبز شاموں
سانولی راتوں کی لاشوں پر کھڑا ہوں
۔۔۔۔۔
ہنسے کوئی تو اس کے شوخ غنچے میرے ہونٹوں میں
چمک اٹھیں
۔۔۔
سرد سینے کو عطا کر آگ
اس کو درد سے بھر دے
مجھے پھر اشرف المخلوق کردے
( نظم : دُعا)
تو میرے ساتھ ہے لیکن
میں تیرے پاس ابھی آیا نہیں ہوں
میں زندہ ذہن ہوں
سایہ نہیں ہوں
( نظم : تری بے چین آنکھوں کے پرے)
کہ یہ دھیان کی سیڑھیاں ٹوٹ جائیں گی سب
چاندنی آگ کی جھیل بن جائے گی
اور میں۔۔۔۔کرب کی کالی دیوار میں
چُن دیا جاؤں گا
(نظم : کرب کی کالی دیوار)
پُل ، مینار، سفینہ، پانی
سب ڈوبیں گے ساتھ
کاش کہ لمبے ہو جاتے
تیری یادوں کے ہاتھ۔۔۔
(نظم : غر قابی سے پہلے)
وہ آس کے پاؤں میں بجلی کی جو پازیب تھی
گھٹا کا آنکھ میں جو سُر مہ تھا
ماتھے پر تھا جھومر چاند کا
کہاں کھو آئی دنیا؟
یہ دنیا خوبصورت تھی
یہ بد صورت ہوئی کیسے، خدایا؟
(نظم : یہ دنیا خوبصورت تھی)
ہوا سا وقت اُڑا جارہا تھا اور منظر
دُھنی کپاس کی مانند ٹوٹ کر بکھرا
(نظم : دوڑ)
وہ دیواریںجو آندھی اور بارش سے کبھی محفوظ رہنے کے لئے
میں نے بنائی تھیں
انہیں خود توڑ دیتا ہوں
کسی ویرانے میں
اپنے خدا کو میں اکیلا چھوڑ دیتا ہوں۔
(نظم : جب کوئی نیا موسم)
غرض ظفر ؔ کی نظموں میں لفظیات، علامات، لہجہ اور جدید تشبیہات و استعارات کی تناظر میں بھی تنوع اور وارفتگی پائی جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔