Injeel , Injil Urdu Translation

Articles

انجیل کا اردو ترجمہ

مولانا محمد حلیم انصاری

Adab un Nabi

Articles

آداب النبی

مفتی محمد شفیع

Kucha E Badnam ki Masjid by Naguib Mahfouz

Articles

کوچۂ بدنام کی مسجد

نجیب محفوظ


عصر کے درس کا وقت قریب ہوچلا تھا، لیکن مسجد میں صرف ایک ہی سامع تھا ۔ امامِ مسجد شیخ عبد ربہ کےلیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ جب سے اس مسجد میں آئے تھے ، صرف ایک ہی سامع ان کے درس میں حاضر ہوتا تھا۔ یہ سامع چچا حسنین تھے جو گنے کا جوس بیچتے تھے۔ مسجد کے مؤذن اور خادم بھی درس میں شامل ہوجاتےتھے تاکہ درس کااحترام برقرار رہے اور امام صاحب کی دلجوئی بھی ہوجائے۔ شیخ عبد ربہ کو بجا طور پر یہ اچھا نہیں لگتا تھا ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ اس کے عادی ہوگئے تھے۔ وہ دن ان کی زندگی کا بد بخت ترین دن تھا جب ان کی منتقلی کوچۂ بدنام کی اس مسجد میں طے پائی تھی۔ اس دن وہ سخت غضبناک ہوئے تھے اور اس منتقلی کو رکوانے یا تبدیل کرانے کی پوری کوشش کی تھی۔ لیکن آخر کار مجبورا انہیں یہ منتقلی تسلیم کرنی پڑی۔ رقیبوں نے کھِلّی اڑائی، تو دوستوں نے مزا لیا۔ اسے اپنے درس کے لیے سامع کہاں ملیں گے؟ مسجد دو اڈوں کے سنگم پر واقع تھی۔ ایک طرف طوائفوں کا کوٹھا تھا، تو دوسری طرف دلالوں اور نشیڑیوں کا جمگٹھا۔ ایسا لگتا تھا کہ پورے محلے میں سوائے چچا حسنین کے کوئی بھی نیک یا سنجیدہ آدمی نہیں تھا۔ ان کی نظر جب بھی اِس کوٹھے یا اُس اڈے پر پڑتی تو وہ سہم سے جاتے۔ گویا کہ انہیں ڈرتھا کہ کہیں شرم وحیا باختگی کے جراثیم ان کےسانس لینے کے ساتھ ہی ان کے سینے میں نہ گھس جائیں۔ اس کےباوجود ، وہ پابندی کے ساتھ درس دیتے رہے اور چچا حسنین پابندی کے ساتھ درس سننے آتے رہے ، یہاں تک کہ امام صاحب نے ایک دن چچا حسنین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا:
– اتنی محنت کررہے ہیں آپ ! اتنی محنت کے ساتھ تو آپ جلد ہی خود امام ومرجع بن جائیں گے!
بوڑھے چچا شرماکر ہنسے اور بولے!
– اللہ کے علم کی کوئی حد نہیں ہے۔۔
آج کا درس نفس کی پاکیزگی پر تھا۔ امام صاحب کہہ رہے تھے کہ نفس کی پاکیزگی پر ہی اخلاص کی بنیاد ہے، یہ لوگوں کے درمیان اچھےبرتاؤ اور تعلقات کی ضامن ہے، یہ سب سے اچھی چیز ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے دن کی شروعات کرتا ہے ، چچا حسنین نے اپنی عادت کے مطابق کمال توجہ کے ساتھ درس سنا ۔ وہ بہت کم ہی سوال کرتے تھے، صرف کبھی کبھی کسی آیت کے معنی اور کسی فریضہ کے بارے میں پوچھ لیاکرتے تھے۔
سنگینیٔ اتفاق دیکھو کہ عصر کے وقت ہی کوٹھے میں چہل پہل شروع ہوجاتی تھی۔ پورا کوٹھا مسجد کے سامنے والی کھڑکی سے دکھائی دیتا تھا، ایک تنگ پٹی کی شکل میں ، کہیں کہیں ٹیڑھا میڑھا تھا، لیکن دور تک چلا گیا تھا، اس کے دونوں کناروں پر بوسیدہ گھروں اور قہوہ خانوں کے دروازے تھے۔ ایک عجیب قسم کا شہوت انگیز منظرتھا۔
عصر کے وقت، کوٹھے میں تیاری کی لہر دوڑ جاتی ہے، ایسا لگتا کہ کوٹھا ابھی نیند سے بیدار ہوکر چلنا ہی چاہتا ہے۔ زمین پر پانی کا چھڑکاؤ ہوتاہے، دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور ان پر عجیب وغریب قسم کے دستک دئے جاتےہیں ۔ قہوہ خانوں کی کرسیاں ترتیب سے لگادی جاتی ہیں، کھڑکیوں میں عورتیں بن سنور کر کھڑی ہوجاتی ہیں اور بات چیت کرتی ہیں ۔ فضا میں حیا سوز ہنسی گونج جاتی ہے، راہداری میں خوشبو جلادی جاتی ہے، اسی دوران کسی عورت کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے ، لیکن بائی فوراً ہی اسے چپ کراتی ہے مبادا مرنے والی کے ساتھ ان کی روزی بھی نہ چلی جائے۔
ایک دوسری عورت ہسٹیریائی انداز میں ہنستی ہے اپنی اس سہیلی کو یادکرکے جو اس کے بغل میں بیٹھے بیٹھے ہی مرگئی تھی۔
فحش اور سوقیانہ گانوں کی مشق کرتی ہوئی کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں ، کوٹھے کے آخری حصہ میں چہل پہل شروع ہوتی ہے، جو کرسیاں ترتیب دینے کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔ کوٹھے کی مالکن نکلتی ہے اور پہلے گھر کے دروازے کے سامنے بیٹھ جاتی ہے، پہلا فانوس جلا دیاجاتا ہے اور سب جان لیتے ہیں کہ عنقریب ہی کوٹھا آباد ہوجائے گا۔
ایک دن شیخ عبدہ کو کال آیا ، انہیں مذہبی امور کے نگرانِ اعلی سے ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا، ان سے یہ بھی کہا گیا کہ تمام اماموں کو بلایا گیا ہے۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی ، خاص طور پر موجودہ حالات کو دیکھ کر تویہ بالکل بھی کوئی انہونی بات نہیں تھی۔ اس کے باوجود شیخ عبدہ فکرمند ہوگئے اور لوگوں سے اس بلاوے کے اسباب کے تعلق سے پوچھ تاچھ کی۔ نگرانِ اعلی کی با اثر شخصیت دیکھتے ہوئے ان کا پوچھ تاچھ کرنا بجا تھا۔ یہ نگرانِ اعلی ایک بہت بڑے عہدیدار کا قریبی تھا، یہ عہدیدار لوگوں کے درمیان بری شہرت کا مالک تھا، اس کی پہچان ایک ایسے عہدیدار کے طور پر تھی جو کنگ میکر کی حیثیت رکھتا تھااور تمام قومی مقدسات کے ساتھ کھلواڑ کرتاتھا۔ عنقریب ہی وہ سب ہی اس کے سامنے بربادی کے نمائندوں کے طور پر کھڑے ہوں گے اور ادنی سی لغزش سرزد ہوتے ہی غصہ کی آندھی انہیں لےاڑے گی۔
بہر حال شیخ نے بسم اللہ کیا اور بہترین انداز میں میٹنگ کے لیے تیار ہوئے۔ کالے رنگ کا جبہ زیب تن کیا، نیا سا کاخان پہنا، عمامہ سرپر رکھا اور اللہ پر بھروسہ کرکے چل نکلے۔ نگرانِ اعلی کےدفتر کے سامنے شدید ازدحام تھا، شیخ عبدہ کے مطابق بالکل حشر کے دن جیسی بھیڑ تھی۔ تمام امام میٹنگ کے تعلق سے چہ میگوئیاں کررہے تھے۔ اسی دوران بڑا دروازہ کھلا اور انہیں داخل ہونے کو کہا گیا۔ سب امام فوراً ہی کشادہ کمرہ میں داخل ہوئے یہاں تک کہ کمرہ کھچاکھچ بھر گیا۔ نگرانِ اعلی ان کی جانب پروقار اور بارعب لہجہ میں متوجہ ہوا۔ کچھ اماموں نے اس کی تعریف میں مدحیہ شاعری کہی جسے اس نے ایسے سنا جیسے کہ وہ اسے پسند نہ ہوں ، اس دوران اس کے ہونٹوں پر ایک پراسرار مسکراہٹ دراز تھی۔ پھر سناٹا چھا گیا، اس نے حاضرین پر ایک نگاہ دوڑائی اور انہیں مختصر سا سلام کیا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اسے یقین ہے کہ وہ اس کی امیدوں پر کھرا اتریں گے، پھر اس نے اپنے سرکے اوپر لٹکی ہوئی تصویر کی جانب اشارہ کرکے کہا:
-اِن کے اور اِن کے خاندان کے تئیں ہمارا فرض ہی اس میٹنگ کا سبب ہے۔
بہت سارے حاضرین کی پیشانیاں شکن آلود ہوگئیں ۔ نگرانِ اعلی کی نگاہیں بدستور ان کے چہرے پر مرکوز تھیں ، اس نے کہا:
– آپ لوگ اِن کے ساتھ جس مضبوط رشتہ سے بندھے ہوئے ہیں ، اسے کہنے کی ضرورت نہیں ہے، آپسی محبت کی ایک تاریخ رہی ہے۔
دل کی سوزش کم کرنے کے لیے لوگوں نے خوش مزاجی کے ساتھ تائید کی ۔۔اس نے مزید کہا:
– یہ حالیہ بحران جس سے ملک دوچار ہے، آپ لوگوں سے پرخلوص عمل کا تقاضا کرتاہے۔
دلوں کے نہاں خانوں میں اضطراب بڑھ گیا:
لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں ! دجالوں اور شر انگیزوں کو بے نقاب کردیں تاکہ حقدار کا حق پختہ ہوجائے۔
نگرانِ اعلی اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا اور ٹہلتے ہوئے پوچھا کہ کوئی سوال ہے؟ موجودین پر خاموشی طاری ہوگئی یہاں تک کہ ایک بے خوف امام کھڑا ہوا اور کہا کہ جناب نگرانِ اعلی نے ہمارے دل کی بات کہہ دی ہے ، اگر ہدایات کی خلاف ورزی کا خوف نہ ہوتا تو وہ خودہی بڑھ کر یہ فرض نبھاتے۔ نگرانِ اعلی کے بات شروع کرتے ہی شیخ عبد ربہ کی پریشانی ختم ہوگئی تھی انہیں فورا ہی معلوم ہوگیا تھا کہ انہیں کسی قسم کے محاسبہ یا تفتیش کے لیے نہیں بلایا گیا ہے بلکہ اس مرتبہ حکومت ان کی تائید حاصل کرنے کی کوشاں ہے ۔ کسے معلوم ہے ، ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد ان کی حالت کی بہتری کے لیے اقدامات کئےجائیں اور ان کی تنخواہوں اور بھتوں میں اضافہ کیا جائے۔ لیکن جلد ہی وہ پھر پریشان ہوگئے جیسے صاف ستھرے ریتیلے ساحل پر پھیلی ہوئی موج تھوڑی دیر بعد ہی جھاگ میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ انہیں بخوبی پتہ چل گیا تھا کہ حکومت ان سے کیا چاہتی ہے؟
عنقریب ہی انہیں جمعہ کے خطبہ میں وہ سب کہنا پڑ ےگا جو ان کے ضمیر کے خلاف اور لوگوں کی شدید ناراضگی کا باعث ہوگا۔انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ انہیں جیسے بہت سے ہیں جو ان کے جذبات میں ساجھی ہیں او ر اسی بحران کے شکار ہیں۔ لیکن ایسا لگتاتھا کہ سب کے لیے بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ نئے فکر میں غلطاں وپیچاں مسجد لوٹ آئے۔
٭ ٭ ٭

یہ کہانی آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
علاقہ کا مشہور غنڈہ شلضم اپنے گینگ کے ساتھ مسجد سے کچھ ہی دوری پر واقع شراب خانہ ’’ اھلا وسھلا‘‘ میں بیٹھا ہواتھا، وہ انتہائی غضبناک تھا اور شراب کے ہر پیگ کے ساتھ اس کا غصہ مزید بھڑک جاتا ۔ وہ گرجدار آوازمیں بولا:
-یہ پاگل لڑکی ’’نبویۃ‘‘ اس حسان نامی لونڈے سے محبت کرتی ہے، مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
ایک ساتھی نے اس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کہا:
– ہوسکتا ہے کہ صرف گاہک ہو ، صرف گاہک نہ کم ، نہ زیادہ !
شلضم نےاپنا فولادی ہاتھ میز پر پٹخا، میز پر رکھے ہوئے برتن اور مونگ پھلی کے ٹکڑے اِدھر اُدھر بکھر گئے، وہ وحشتناک آواز میں چیخا:
– نہیں ۔۔ وہ لیتا ہے ، دیتا کچھ نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں ، میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میرا خنجر ہی اس کا کام تمام کرے گا، وہ پھوٹی کوڑی بھی نہیں دیتا لیکن مختلف شکلوں میں خوب تحفے وصول کرتاہے!
چہروں پر نفرت و حقارت چھاگئی، خمار آلودنگاہوں نے تابعداری کا اعلان کیا ، وہ بولا:
-وہ لونڈا عموما اس وقت آتا ہے جب وہ ناگن ناچتی ہے، اس کے آنے کا انتظار کرو، پھر کسی طرح بھڑجاؤ، باقی لوگ۔۔۔
انہوں نے باقی ماندہ پیگ چڑھایا، ان کی آنکھوں سے انکے برے ارادے منعکس ہورہے تھے۔
٭ ٭ ٭
نماز عشاء کے بعد ، شیخ عبد ربہ نے اپنے دو ہم جماعت اماموں سے ملاقات کی، ایک کا نام خالد اور دوسرے کا نام مبارک تھا۔ وہ دونوں اس کے پہلو میں منہ لٹکائے ہوئے بیٹھے تھے۔انہوں نے کہا کہ کچھ اماموں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اس پروپیگنڈہ کا حصہ بننے سے منع کردیا تھا۔ خالد نے شکایت بھر ے انداز میں کہا:
-عبادت گاہیں سیاسی دھینگا مشتیوں اور ڈکٹیٹروں کی تائید کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں !
شیخ عبد ربہ کو لگا کہ ان کا دوست ان کے زخم پر نمک چھڑک رہا ہے اور انہوں نے سوال کیا:
-کیا بھوکے مرنا چاہتے ہو؟
ایک بوجھل سناٹا پسر گیا شیخ نے اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور ان دونوں کے سامنے اپنی ناک بچانے کے لیے یہ ظاہر کیا کہ وہ اطمینان کے ساتھ یہ کام کریں گے، وہ گویا ہوئے:
-جسے کچھ لوگ دھینگا مشتی سمجھتے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ وہی عین حق ہو۔
شیخ کو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے دیکھ کر خالد دنگ رہ گیا اور بات چیت کرنے سے کترانے لگا، رہا مبارک ، تو اس نے غصہ کے ساتھ کہا:
-ہم ایک اسلامی اصول کو قتل کردیں گے ، جس کا نام امر بالمعروف والنھی عن المنکر ہے۔
عبد ربہ اس پر غصہ ہوگئے، وہ اندر ہی اندر اپنے ضمیر پر بھی غصہ تھے جو انہیں اذیتیں دے رہا تھا۔ وہ بولے:
– بلکہ ہم ایک اسلامی اصول کو زندہ کریں گے جس کا نام ہے ۔ اللہ ، اس کے رسول اور أولی الأمر کی اطاعت کی دعوت دینا۔
مبارک نے اس پر سخت نفرت بھرے انداز میں سوال کیا:
-کیا تم اِنہیں أولی الأمر سمجھتے ہو؟!
عبد ربہ نے چیلنج بھر ے انداز میں اسی سے سوال کیا:
-یہ بتا خطبہ دینے سے انکار کردے گا؟
مبارک ناراض ہوکر اٹھ کھڑا ہوا، پھر وہاں سے چلا گیا، تھوڑی دیر میں خالد بھی وہاں سے چلاگیا۔ شیخ نے دونوں کو کوسا اور بغاوت پر آمادہ اپنے دل کو بھی برا بھلا کہا۔
٭ ٭ ٭
آدھی رات سے تھوڑا پہلے، داہنی طرف سے ساتویں کوٹھے کا صحن نشیڑیوں سے بھر گیا ۔ وہ ایک ریتیلی زمین کے ارد گرد دائرہ کی شکل میں لگی لکڑی کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ اس ریتیلی زمین پر روشنی کا فوکس تھا ۔ نبویۃ گلابی رنگ کا سلیپنگ ڈریس پہنے ناچ رہی تھی۔ تالیاں بج رہی تھیں ، خمار آلود زبانوں سے وحشیانہ چیخیں بلند ہورہی تھیں اور شلضم کی نگاہیں کوٹھے کے دروازے پر مرکوز تھیں۔ اچانک حسان ترتیب سے سنوارے ہوئے بالوں اور دمکتے چہرے کے ساتھ داخل ہوا۔ شلضم کی دہکتی نگاہوں نے اس کا تعاقب کیا ۔ حسان کھڑا نبویۃ کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ اس کو اس کی آمد کا پتہ چل گیا۔ نبویۃ نے دراز مسکراہٹ ، رقص کناں پیٹ کی الھڑ حرکت اور آنکھوں کے اشارے سے اپنے محبوب کو خوش آمدید کہا۔
حسان اکڑ کر آگے بڑھتاہے اور ایک خالی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ شلضم کا خون کھول اٹھتا ہے اور وہ سیٹی کی ہلکی سی آواز نکالتا ہے۔ اس کے گینگ کے دولڑکے آپس ہی میں بھِڑ جاتےہیں، دوسرے لوگ بیچ بچاؤ کے لیے آتے ہیں، لڑائی مزید سخت ہوجاتی ہے یہاں تک کہ نشہ میں دھت لوگ دروازے کی طرف بھاگنے لگتےہیں ایک کرسی فانوس پر آکر لگتی ہے ، فانوس ٹوٹ جاتا ہے اور چاروں طرف سخت تاریکی پھیل جاتی ہے۔ پیروں کی دھمک کے ساتھ چیخ کی آواز خلط ملط ہوجاتی ہے ۔ آوازیں بلند ہوجاتی ہیں ، کسی عورت کی چیخ فضا میں بلند ہوتی ہے، اس کے فورا بعد کوئی آدمی بری طرح کراہتا ہے ۔ جلد ہی غبار آلود صحن لوگوں سے خالی ہوجاتاہے، وہاں باقی بچتی ہیں تو دو لاشیں جو پڑی پڑی خاموش تاریکی کو آبادکئے ہوتی ہیں۔
اگلا دن جمعہ کا تھا ۔ نماز کے وقت دیگر دنوں کے برعکس مسجد نمازیوں سے بھر گئی ، کیونکہ جمعہ کی نماز کے لیے دور دراز علاقوں جیسے خازند ار اور عتبۃ سے بھی لوگ آتے تھے ۔ قرآن کی تلاوت کی گئی ، پھر شیخ عبد ربہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، ایسا لگا کہ سیاسی خطبہ سن کر نمازیوں کو دھچکا لگا ، انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ انہیں یہ سب سننے کو مل سکتا ہے، اطاعت اور وفاداری کے وجوب پر مقفع مسجع عبارتیں سن کر وہ شک اور شدید غضب کے شکار ہوگئے۔ جیسے ہی خطبہ میں ان لوگوں کو برا بھلا کہاگیا ’’جوقوم کو دھوکہ دیتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے لوگوں کو بغاوت پر ابھارتے ہیں ‘‘، مسجد میں واویلا مچ گیا ، چاروں طرف احتجاج و ناراضگی کی صدا بلند ہوئی، کچھ لوگوں نے بآواز بلند اعتراض کیا ، کچھ دوسرے لوگوں نے امام کو گالیاں دیں، اسی وقت نمازیوں کے درمیان موجود جاسوس اٹھے اور احتجاج وغصہ کے طوفانی شور وشرابہ کے درمیان بہت زیادہ مخالفت کرنے والوں کو کھینچ کر باہر لے گئے۔
بہت سے لوگ مسجد چھوڑکر چلے گئے۔ لیکن امام نے باقی لوگوں کو نماز کے لیے بلایا، بڑی غمناک اور رنجور نماز تھی۔
٭ ٭ ٭
اسی دوران ، بائیں جانب سے دوسرے کوٹھے کے ایک کمرہ میں ایک طوائف اور ایک گاہک موجود تھے، طوائف بیڈ کے کنارے نیم برہنہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پیالہ تھا جو آدھا پانی سے بھر اہوا تھا اور اس میں کھیر ا تھا، وہ وہی کھیرا کھا رہی تھی۔ بستر کے سامنے ایک کرسی پر گاہک بیٹھا ہوا تھا، وہ اپنی جیکٹ نکال رہا تھا اور برانڈی کی چسکیاں لے رہا تھا۔ اس کی نگاہوں نے سرسری طور پر کمرے کا جائزہ لیا، پھر آکر طوائف پر ٹھہر گئیں، اس نے جام اس کے ہونٹوں سے قریب کیا، اس نے ایک گھونٹ پی، اس نے جام پھر اس کے ہونٹوں سے لگایا، مسجد سے آنے والی تلاوت کی آواز ان کے کانوں پر پڑی، اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی نادیدہ مسکراہٹ مرتسم ہوگئی ، اس نے اس کی طرف دیکھا اور غصہ سے بڑ بڑایا:
-یہ لوگ اس جگہ مسجد کیوں بناتے ہیں؟ پوری دنیا میں انہیں کوئی اور جگہ نہیں ملی ؟
طوائف نے بغیر کھیرا کھانا بند کئےہوئے کہا :
– یہ جگہ بھی دوسری جگہوں کی طرح ہی ہے۔
اس نے دوپیگ چڑھائی اور تیز نگاہوں سے اس کے چہرہ کو ٹٹولتے ہوئے کہا:
– کیا تو اللہ سے نہیں ڈرتی؟
-ہمارا رب ہمیں معاف کردے گا۔۔۔
اس کے حلق سے ایک طوفانی قہقہہ بلند ہوا، اس نے کھیرا طوائف کے ہاتھوں سےلے کر اپنے منہ میں ٹھونس لیا، اس لمحہ امام عبد ربہ اپنا خطبہ دے رہے تھے، وہ سر جھکائے ان کی باتیں سنتا رہا، پھر استہزائیہ انداز میں مسکرا کر بولا:
-منافق !۔۔ سنو تو یہ منافق کیا کہہ رہا ہے!
اس نے اپنی نگاہیں کمرہ میں دوڑائیں ۔ اس کی نظر سعد زغلول کی ایک تصویر پر آکر رک گئی جو پرانی ہونے کی وجہ سے دھند لاگئی تھی ، اس نے تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا:
– انہیں پہچانتی ہو؟
-انہیں کون نہیں پہچانے گا؟
اس نے جام میں بچی کھچی شراب اپنے پیٹ میں انڈیل لی اور بوجھل زبان میں کہا :
– طوائف محب وطن اور شیخ منافق!
اس نے کراہتے ہوئے کہا:
-ہائے رے قسمت ! وہ دولفظ بول کر خزانہ لوٹ لیتا ہے اور ہمیں دو آنہ اس وقت تک نہیں ملتاجب تک کہ ہم اپنے پورے جسم کا پسینہ نہ بہادیں۔۔
اس نے مزید چٹکی لیتے ہوئے کہا:
– یہاں بہت سے عزت دار لوگ ہیں جو تمہاری اس بات سے ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں رکھتے، لیکن ایسا کہنے کی ہمت کون جٹائے ؟
-نبویۃ کے قاتل کے بارے میں سب کو معلوم ہے ، لیکن اس کے خلاف گواہی دینے کی ہمت کون جٹائے ؟
اس نے اپنا سر افسوس کے ساتھ ہلایا اور بولا:
– نبویۃ!۔۔۔۔ بیچاری ! ۔۔۔۔ اس کا قاتل کون ہے؟
-شلضم ، اللہ اسے واصل جہنم کرے۔۔۔
-اے ساتر، اے رب، رب اس کا گواہ ہے، اچھا ہے کہ اس ملک میں صرف ہم ہی گناہ گار نہیں ہیں۔۔۔
اس نے اسے ڈانٹ کر کہا:
-لیکن تم بات کرنے میں وقت برباد کردیتے ہو۔۔!
٭ ٭ ٭

یہ کہانی آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
شیخ عبد ربہ نے مسجد میں وقوع پذیر ہونے والے حادثہ کا استعمال اپنے مفاد کے لیے کرنے کا عزم کیا ، انہوں نےوزارت کو ایک شکایت نامہ بھیجا جس میں انہوں نے لکھا کہ انہیں اپنے قوم پرست خطبہ کی وجہ سے پریشانیوں اور دست درازیوں کا سامنا ہے۔ انہوں نےاس واقعہ کوبطور خاص ان کی دفاع کے لیے پولیس والوں کی دخل اندازی اور حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کے معاملہ کو بعض اخباروں میں مبالغہ آمیز شکل میں شائع کروانے کی کوشش کی ، انہیں قوی امید تھی کہ وزارت ان کی حالت بہتر کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ لیکن عصر کے وقت انہیں ایک نئی صورتحال کا سامنا تھا ۔ عصر کے درس کے وقت آج کوئی سامع نہیں تھا، انہوں نے دروازہ سے جوس کی دکان کی طرف نظر دوڑائی ، جوس والا اپنے کام میں منہمک تھا ، انہیں لگا کہ وہ درس بھول گیا ہے، وہ دروازے کے قریب آئے اور اس کا نام لےکر پکارا:
– چچا حسنین ، درس۔
چچا حسنین نےآواز پر بلا ارادہ اپنا سر گھمایا ، لیکن جلد ہی سختی کے ساتھ نفی میں سر ہلاتے ہوئے رخ پھیر لیا۔شیخ عبد ربہ خجل ہوگئے ، اسے پکارنے پر پچھتائے اور اسے کوستے ہوئے لوٹ گئے۔
فجر کی اذان کا وقت تھا ، رات کا سناٹا پسرا ہواتھا، ہوا میں ٹھنڈک تھی اور چاند آب وتاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ مؤذن اذان گاہ پر چڑھا اور فضا میں ’’اللہ اکبر ‘‘ کی آواز بلند ہوگئی ۔ ابھی وہ اذان کے کلمات دہرانا چاہتا ہی تھا کہ فضا میں بمباری شروع ہونے کا خوفناک الارم بلند ہوا، اس کا دل بڑے زور سے دھڑکا اس نے اللہ کی پناہ مانگی ، اپنے اعصاب پر قابو پایا اور دوبارہ اذان کےکلمات جاری رکھنے کوتیار ہوا۔ الارم بند ہوگیا تھا۔ بمباری کا الارم تقریباً ہر رات کا معمول بن گیا تھاجو صحیح سلامت گزر جاتاتھا۔ یہ اس وقت سے جاری تھا جب سے اٹلی نے اتحادیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیاتھا۔ وہ پوری قوت کے ساتھ بولا : لا إلہ الااللہ اور اس میں غنائیت لانے کی کوشش کی۔ اچانک ایک خوفناک دھماکہ ہوا جس سے زمین دہل گئی۔ اس کی آواز اس کے حلق میں پھنس کر رہ گئی۔ وہ جہاں تھا وہیں ساکت و جامد کھڑا رہ گیا۔ اس کے پہلولرز رہے تھے اور اس کی آنکھیں دور افق پر ٹھہری ہوئی تھیں جہاں سرخ شعلہ دکھائی دے رہاتھا۔ وہ دروازے کی جانب بھاگا اور لرزتے قدموں سے سیڑھیاں اترنے لگا۔ وہ مسجد کے فرش پر پہونچتے ہی امام اور خادم کی جانب بھاگا اور لرزاں آواز میں کہا:
-پھر سے حملہ ہوا ہے۔۔کیا کریں؟
امام نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا:
-پناہ گاہ دور ہے۔ اب تک لوگوں سے بھر چکی ہوگی۔ مسجد کی عمارت بہت مضبوط ہے ، فی الحال یہی سب سے بہتر پناہ گاہ ہے۔
وہ سب ایک کونے میں بیٹھ گئے اور تلاوت کرنے لگے۔ باہر کی طرف سے مختلف آوازیں آنے لگیں ۔۔۔ تیز قدموں کی چاپ ، چیخ وپکار، فکرمند تبصرے، دروازوں کے کھلنے اور بند ہونے کی آوازیں۔ ایک بار پھر زمین یکے بعد دیگرے بمباری سے دہل اٹھی، اعصاب پر خوف سوار ہوگیا اور دلوں پر لرزہ طاری ہوگیا۔ مسجد کا خادم چلایا:
-بال بچے گھر میں ہیں ، گھر پراناہے، امام صاحب!
امام نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا:
– اللہ موجود ہے ۔۔۔اپنی جگہ سے ہلنا مت۔۔
لوگوں کی ایک بھیڑ مسجد میں آئی ، کچھ لوگوں نے کہا:
– یہ محفوظ جگہ ہے۔۔
ایک کھردری آواز آئی:
– یہ حقیقی حملہ لگتاہے ، بیتی راتوں سے الگ۔۔
امام آواز سن کردل گرفتہ ہوگیا۔ یہ جانور نما آدمی ، اس کا یہاں پایا جانا کسی بری خبر کا پیش خیمہ لگتا ہے ۔ کچھ اور لوگ آئے ، اب کی بار پہلے سے زیادہ تھے۔ کچھ زنانہ آوازیں آئیں جن سے امام کے کان نا مانوس نہیں تھے۔ ایک آواز آئی:
-میرا سارا نشہ ہرن ہوگیا ہے۔۔
امام ہتھے سے اکھڑ گیا اور پوری قوت کے ساتھ چلایا :
– پناہ گاہ جاؤ ، اللہ کے گھروں کا احترام کرو، سب نکلو یہاں سے۔
ایک آدمی چیخا :
-چپ رہئے جناب ۔
ایک تمسخر آمیز ہنسی کی آواز آئی پھر شدید دھماکہ کی آواز سماعتوں سے ٹکرائی ۔ مسجد چیخ کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ امام پر رعب طاری ہوگیا اور وہ گویا بموں کو مخاطب کرتے ہوئے جنونی انداز میں چیخا:
-نکل جاؤ یہاں سے ۔اللہ کے گھروں کو گندا مت کرو۔
ایک عورت بولی:
– شرم کرو۔
امام پھر چیخا :
– نکل جاؤ، تم پر اللہ کی لعنت ہو۔
عورت نے ترکی بہ ترکی جواب دیا:
– یہ اللہ کا گھر ہے ، تیرے باپ کا نہیں !
ایک کھر دری آواز آئی :
-چپ ہوجائیں ، جناب! ورنہ میں آپ کی سانس کی ڈور کاٹ دوں گا۔
سخت تبصرے ہونے لگے ، تمسخر آمیز الفاظ کا تبادلہ ہونے لگا۔ مؤذن نے امام کے کان میں کہا:
– خدا کے لیے چپ ہوجائیں۔
عبد ربہ نے رک رک کر کہا گویا انہیں بولنے میں پریشانی ہورہی تھی۔
-تم چاہتے ہو کہ مسجد میں یہ لوگ رکیں؟
مؤذن نے گڑ بڑاتے ہوئے کہا:
-ان کے پاس اس کے سوا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ بھول گئے آپ کہ محلہ پرانا ہے، گھروں پر مکےبھی برسادیں تو گر جائیں گے، بم کی بات ہی چھوڑ دیں ۔
امام نے اپنے ایک ہاتھ سے دوسری ہتھیلی پر مکا مارا اور کہا:
– میرا دل ان بدمعاشوں کے ساتھ ایک ہی جگہ اکٹھا ہونے پر مطمئن نہیں ہے۔ان کے ایک ہی جگہ پر اکٹھا ہونے میں ضرور اللہ کا کوئی حکم پوشیدہ ہے۔
ایک بم اورپھٹا ، ان سب کو لگا کہ بم میدانِ خازندار میں پھٹا ہے۔ مسجد کے صحن میں ایک بجلی چمکی جس کی روشنی میں لرزتے سائے دکھائی دئے، پھر تاریکی چھاگئی۔ حلق سے پریشان آوازیں نکلیں ۔ عورتوں نے ہاہا کار کی اور شیخ عبد ربہ کی بھی چیخ نکل گئی ۔ شیخ عبد ربہ سر اسیمہ ہوکر مسجد کے دروازہ کی جانب سرپٹ بھاگے۔ مسجد کا خادم ان کے پیچھے انہیں روکنے کے لیے دوڑا ، لیکن انہوں نے اسے پوری قوت کے ساتھ دھکیل دیا اور کہا:
– مرنے سے پہلے تم دونوں بھی میرے پیچھے ہو لو۔۔۔
وہ دروازے سے لرزتی ہوئی آواز میں یہ کہتے ہوئے نکل گئے:
-ان سب کے ایک ہی جگہ پر اکٹھا ہونے میں ضرو ر اللہ کا کوئی حکم پوشیدہ ہے۔
اور دوڑتے ہوئے سخت تاریکی کا حصہ بن گئے۔ اس کے بعد بمباری دس منٹ تک جاری رہی اور اس دوران چار بم گرے ۔ شہر پر مزید پندرہ منٹ تک سکوت طاری رہا پھر بمباری بند ہونے کا الارم بجا۔
دھیرے دھیرے رات کی تاریکی چھٹتی گئی ۔۔۔ پھر صبح نجات کے آثار نمودار ہوئے۔
لیکن شیخ عبد ربہ کی لاش سورج نکلنے پر ہی مل پائی۔
٭ ٭ ٭

اردو چینل ڈاٹ اِن کے لیے نجیب محفوظ کی اس کہانی کا ترجمہ جناب شمس الرب نے عربی سے کیا ہے۔ جملہ حقوق بحقِ مترجم محفوظ ہیں
جناب شمس الرب شعبہ عربی ، مہاراشٹر کالج ، ممبئی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے اردو چینل کے لیے فلسطینی افسانوں کا ترجمہ کیا تھا جو اردو دنیا میں بہت مقبول ہوا تھا۔ شمس الرب عربی ، اردو اور انگریزی زبان پر اچھی قدرت رکھتے ہیں۔

Second Life A Short Story by Searl. S. Buck

Articles

دوسری زندگی

پرل ایس بک

پیر کی صبح ڈریک فاریسٹر معمول سے بھی زیادہ بے دلی کے ساتھ سوکر اٹھا۔سنیچر اور اتوار کے روز اس کے ایجنٹ کا دفتر بند رہتا تھا،اس لیے دودنوں تک وہ نہ تو کوئی سوال کرسکا اور نہ ہی جواب سن سکا۔سوال ہمیشہ وہی رہتاور جواب بھی۔’’کچھ پتہ چلا نِک؟‘‘
’’نہیں ڈریک،سوری،اب تک تونہیں۔میں نے چارہ تو کئی جگہ رکھاہے،تمہیں بتایا ہی تھا، مگر کوئی مچھلی نہیں پھنسی۔‘‘
’’نہیں پھنسی؟‘‘اگلے دو جملے بھی ہمیشہ وہی رہے۔
’’شکریہ نِک۔اگر تھوڑی سی بھی امید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
’’مجھے پتہ ہے اولڈ مین۔میں پانچ منٹ میں تمہارے دروازے پر رہوں گا۔‘‘اگلے الفاظ جھجھکتے ہوئے بولے بھی جاسکتے تھے ،نہیں بھی۔’’کیا میں تمہیں بتادوں میں کہاں رہوں گا؟‘‘
’’نہیں،نہیں،ابھی ایسا موقع نہیں ملاہے اولڈمین۔‘‘وہ ایک تیسرے درجے کی عمارت میں اپنے ایک کمرے کے فلیٹ سے کہیں باہر نہیں جاتاتھا۔بس کبھی گھومنے یا کسی سستے سے ریستوراں میں کھانا کھانے باہر جاتا تھا۔وہ ختم ہوچکا تھا، بالکل ختم،شروعات کی امید بجھ چکی تھی۔وہ سارے کردار جو اس نے نبھائے تھے،آخری ڈرامے میں قریب قریب ہیروتک،اسے کہیں نہیں پہنچاسکے۔وہ ا بھی عمر دراز نہیں تھا۔مشکل سے پینتالیس کا، لیکن کامیابی کی سنہرا موقع کبھی نہیں آیا۔اسے جو مواقع ملے تھے اس نے اس سے فائدہ تو اٹھایا،مگر وہ بطورِ ہیرو پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ ڈرامہ نگار اس کی عمر کے کرداروں میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔ وہ جوان، مضبوط،طاقتور کرداروں کو لے کر ڈرامے قلمبندکررہے تھے۔وہ ایسا نہیں تھا اور ہوبھی نہیں سکتا تھا۔وہ اپنے وقت کے باہر پیداہوا تھا،اپنے وقت سے بہت پہلے یا بہت بعد میں۔پرانی دنیا کی تہذیب ختم ہوچکی تھی اور نئی امریکی تہذیب کی ابتداء نہیں ہوئی تھی۔وہ یہی سب کچھ سوچ کر خود کو بری کرتا تھا۔اس کے لے کوئی جگہ نہیں تھی۔
خوش قسمتی سے اس نے شادی نہیں کی تھی،وہ اور سارہ انتظار کرنے پر راضی ہوگئے تھے۔ پھر سارہ نے کسی اور سے شادی کرلی جسے وہ نہیں جانتا تھا۔وہ اسے کوئی الزام نہیں دیتا۔پانچ سال بے حد طویل وقت ہوتا ہے اور اس کے بعدبھی سارہ کو کیا ملتا؟برسوں پہلے تھا یہ سب،بارہ برس، تین مہینے، دو دن پہلے۔اس نے سارہ کی تصویر بھی اخبارات میں نہیں دیکھی تھی،اس کے شوہر کے انتقال کے بعد، دوسال، چار مہینے،چھ دن۔اس نے اسے کوئی چٹھی بھی نہیں لکھی۔
وہ بے دلی سے اٹھااور اخبار لینے کے لیے دروازے تک آیا۔فی الوقت یہی لمحات اس کے لیے آرام کے ہوتے تھے جب وہ اخبار لے کراپنے گرم بستر میں گھس جاتا تھا۔آج اس کا بستر خاص آرام دہ تھا۔ٹھنڈی بسنتی ہوا آرہی تھی۔کھڑکی بند کرتے ہوئے اس نے دیکھا بارش ہورہی تھی۔ کم از کم اس کے پاس اس کمرے،اس بستر کاتوسہاراتھااور وہ اتنا ہوشیار توتھا کہ بھوکوں مرنے کی نوبت نہ آئے۔ایک وقت کھانا اور کرایہ طے تھا۔اس طرح احتیاط میں کوئی خوشی تو نہیں تھی مگر خراب موسم میں باہر نکلنے کی کوئی مجبوری بھی نہیں تھی۔اس نے بتی کی طرف والی دیوار کے پاس اخبار پھیلایااور تھیٹروالاصفحہ پلٹ کر اسے غور سے پڑھا۔کوئی خبر نہیں تھی۔اس موسم کے سبھی ناٹک جم چکے تھے اور اب گرمی کے تھیٹر میں ہی کچھ توقعات تھی۔اسے اس بارے میں نِک پرزور دے کر بات کرنا ہوگی۔نِک لاپرواہ ہوتا جارہا تھا، دوستی اور پرانی کامیابی کے روابط ڈھیلے پڑتے جارہے تھے۔پھربھی و ہ کسی اورایجنٹ کے پاس جانے کی ہمت نہیں جُٹا سکتاتھا،اگر کوئی اور اسے لے لیگاتب بھی۔نِک کم از کم اسے جانتا تو تھا۔اسے یہ نہیں بتانا پڑتا کہ وہ کیا کام کرسکتا ہے۔
اسی پل پلستر کی ہوئی دیوار پر پہلے سے بے ترتیب بتی گر پڑی۔اس نے غصے میں اخبار پھینک دیا اور پھر سمیٹنے اٹھاہی تھاکہ پھیلے ہوئے صفحات سے اسے اپنانام جھانکتا نظر آیا۔
’’ڈریک فاریسٹر اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔‘‘
یہ آخری صفحے پر ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی تھی۔وہ اسے کھڑکی کے پاس لے گیا اور اپنی ہی موت کی خبر پڑھنے لگا۔’’ڈریک فاریسٹر،اداکار اپنے بستر پر مردہ پائے گئے۔انہیں لفٹ مین نے دیکھا جو اخبار پہنچانے آیا تھا۔مسٹر فاریسٹر نے ابتدا میں مشہور براڈوے ڈراموں میں کام کیاتھا۔ انہیں ہالی ووڈ سے بھی کئی باربلاوا آیا،مگر انہوں نے اسٹیج کوہی فوقیت دی اور ہالی ووڈ کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔حالیہ برسوں میں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔‘‘اخبار اس کے ہاتھ سے گرپڑا۔وہ نِک کو فون کرنے دوڑا۔اس خبر کی تردید کرنا ضرور تھا۔ نِک کو پریس میں خبرکرنی ہوگی،وہ اخبار والے کو نوٹس بھیجے گا۔ادھر سے ہلکی سی آواز آئی،’’نکولس جین سین ایجنسی۔‘‘
’’اوہ،ہاں!‘‘اس نے ہمیشہ کی طرح پریشانی میں ہکلاتے ہوئے کہا،’’کیا مسٹر جین سن ہیں؟‘‘
’’مسٹر جین سن آج نہیں آئیں گے۔‘‘
’’اوہ،کیا آپ کو پتہ ہے کہ وہ کہاں ہوں گے؟‘‘
’’وہ یہاں نہیں ہیں۔وہ ایک اہم کلائنٹ کے ساتھ ویک اینڈ منانے گئے ہیں۔‘‘
’’اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘وہ ہچکچایا۔اس ٹھنڈی آواز کے آگے کیا کہا جائے،یہ نہ سمجھ پاتے ہوئے اس نے فون رکھ دیا۔ایک پل بعد وہ بستر میں تھااور اس نے آنکھوں تک چارد اوڑھ لی تھی۔ اخبار زمین پر گرپڑااور تنہائی میں ڈوب گیا۔کسے فکر تھی کہ یہ خبر سچ ہے یا نہیں؟طویل عرصے سے کسی نے اس کی کھوج خبر نہیں لی۔ اس کی بہن کی برسوں سے کوئی خبر نہیں تھی۔وہ شادی کے لیے ٹیکساس میں بس گئی تھی۔اس کے والدین بیس سال قبل ہی چل بسے تھے۔خدا کا شکر ہے تب یہ بھرم تھا کہ ان کا بیٹا بہت نامی گرامی انسان بننے والاہے۔تھیٹرسماجی زندگی تباہ کردیتا ہے۔اس کے باہر آپ کی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ اس لیے رشتہ دار، دوست احباب ایک ایک کرکے چھوٹ گئے۔وہ مر ہی تو گیا تھا۔
یہ مُردوں سی زندگی گزارنا بھی عجیب سا احساس پیدا کرتا تھا۔حالانکہ وہ اپنے کمرے میں زندہ تھا،سانس لے رہاتھا،مگر وہ مرچکا تھا۔اس کا ڈرامائی دماغ کام کررہا تھا۔اس نے کہانیاں پڑھی تھیں۔اس موضوع پر ایک ڈرامہ بھی دیکھا تھا جب ایک شخص کے مرنے کا اعلان کردیا گیا مگر اس نے ایک نئی اور مکمل آزادزندگی شروع کی تھی،سارے قرض معاف ہوگئے تھے۔ساری ناکامیاں دور ہوگئی تھیں۔وہ بھی چاہے تو اپنی آزادی کا خیر مقدم کرسکتا ہے،وہ بالکل نیا کچھ کرسکتا ہے۔نیا نام رکھ کر سب جان پہچان والوں سے دور جاسکتاہے۔اس نے خود کو دنیا بھر میں گھومتے دیکھا، ہر شہر میں ایک الگ انسان کی طرح،لندن،پیرس،وینس یا شکاگو اور سان فرانسسکو۔کوئی مشکل درپیش نہیں تھی۔ وہ تھیٹر کے علاوہ اور کچھ نہیں کرنا چاہتاتھا۔چاہے وہ کچھ بھی کرے،خاتمہ یہی ہوگا،اکیلے کمرے میں، ایجنٹ کام کھوجنے کی کوشش میں لگا ہوا۔اور کیا کوئی ایجنٹ بنا کسی پہچان والے آدمی کے لیے کام تلاش کرے گا؟کم از کم ڈریک فاریسٹر کبھی کچھ تھاتو!ایک یاد توتھی۔طویل عرصے سے وہ رویا نہیں تھا مگر آج اسے رونا آگیا۔چند آنسوئوں کے قطرے گرے وہ بھی خود کے لیے نہیں بلکہ اس جیسے ہر کسی شخص کے لیے۔وہ اکیلاتو نہیں ایسی حالت میں۔خود کو بھرم میں رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔اس کے پاس تھوڑاسا ہنر تھا،تھوڑی سی صلاحیت،اچھا بدن اور خوبصورتی۔ہاں،وہ خوبصورت تھا،اب بھی ہے۔یہ سب چیزیں مل کر اسے اوسط سے کچھ اوپر لے آئے تھے۔مگر یہ کافی نہیں تھااور اس سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے اتناکافی نہیں ہوگا۔
بہتر ہے کہ مرہی جائوں؟یہ آسان ہوگا۔اس نے اس بارے میں سوچاتھا۔ایک اکیلے اور ناکام شخص کی طرح۔کبھی اس طرح کا قدم اٹھانے کے بارے میں طے نہیں کیاتھا۔ مگر پھر بھی امکان تھا۔روزانہ رات کو نیند کی گولیاں نگلتے وقت وہ سوچتا کہ موت اس کی ہتھیلیوں پر ہے۔سفید سفید چھوٹی گولیاں دیکھتے ہوئے وہ اپنی معمولی صلاحیت کے ساتھ سوچتا۔اگر وہ چاہے تو ایسا کرسکتا ہے۔
اب کسی اور نے اس کے لیے یہ سب کردیا تھا۔اس کے ہم نام شخص نے۔اس نے اخبار اٹھایا اور دوبارہ پڑھا۔اس کی موت کا کوئی سبب نہیں دیاگیاتھا۔بس خبر دی گئی تھی اس کی کچھ کامیابیوں اور آہستہ آہستہ اسٹیج سے دور ہونے کی وضاحت کی گئی تھی،یہ سب قابلِ افتخارلگ رہا تھا۔اگر ابھی وہ سچ مچ مرگیاتو اس کے اثرات ختم ہوجائیں گے۔یہ گندہ سا کمرہ،نِک کے پیچھے مسلسل لگے رہنا،پھٹی پرانی قمیض اور پاجامے،یہ سب چھوٹی چھوٹی اور بیکار باتیں جو وہ زندہ رہ کر تو چھپاسکتا تھا مگر موت کے بعد یہ سب کچھ ظاہر ہوجائے گا۔اسے تو شکر گزار ہونا چاہیے کہ کوئی اس کی جگہ اتنی اچھی طرح مرگیا ہے۔ انہوں نے پتہ صحیح دیا تھا،یہی عمارت،یہی سڑک۔
اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل گئی۔اور اچانک اسے بھوک کا احساس ہوا۔ وہ اٹھے گا، کافی اورٹوسٹ بنائے گااورنِک کو کبھی فون نہیں کرے گا۔وہ یہاں سے چلا جائے گا،کبھی مغربی سمت نکل جائے گا۔پھریوں ہی ہالی ووڈ میں کوئی کام تلاش کرلے گا،سیٹ کے آس پاس۔دیکھ بھال کرنے والے کا کام بھی۔کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔کیوں کہ اس کا نام مرچکاتھا۔
بستر کے پاس کی میز پر وہ کافی پی رہا تھا کہ فون بج اٹھا۔وہ اٹھا اور کریڈل کان سے لگایا۔ ایک اجنبی آواز،کسی خاتون نے کہا،’’کون بول رہا ہے،پلیز؟‘‘اپنانام اس کی زبان تک آیا،لیکن اس نے قدرے توقف کے بعد کہا،’’آپ کو کون چاہیے؟‘‘
’’میں نے ابھی ابھی اخبار میں دیکھا۔میں ڈریک فاریسٹر کو جانتی تھی،چند سال پہلے۔ ہم نے ایک ڈرامے میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔وہ بہترین اداکار تھا،میں اکثر سوچتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوراب وہ نہیں رہا۔‘‘وہ ہچکچایا اور پھر اسی بھاری آواز میں بول اٹھا،’’سوری میڈم،آپ کے پاس غلط نمبر ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون رکھ دیااور بستر پر بیٹھ گیا۔لیکن یہ حیرت انگیز تھاواقعی۔وہ خالی دیوار کو گھورتا آواز کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہوا بیٹھارہا۔لیکن آواز یاد نہیں کرپایا۔چلو کسی نے تو یاد رکھا۔اسے خوشی ہوئی اور اس نے بارش کا حال دیکھنے کے لیے کھڑکی سے باہر دیکھا۔موسم خوشگوار ہونے پر وہ گھومنے نکل جاتا۔مگر اب بھی بارش ہورہی تھی۔وہ واپس بستر میں داخل ہواہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔وہ پھر اٹھااور دروازہ کھولا۔عمارت کا پہریدار پھولوں کا چھوٹا سا باکس لیے کھڑاتھا۔
’’اوہ،شکریہ۔‘‘ڈریک نے کہا۔’’ایک منٹ رکو۔‘‘اس نے کرسی پر رکھی پینٹ کی جیب سے ایک ڈائم نکالا اور اسے دیا۔’’شکریہ۔‘‘پہریدار نے کہا۔
دروازہ بند کرکے اس نے باکس کھولا۔سفید گلاب اور اسنیپ ڈریگن تھے، ہرے فرن کے ساتھ۔کارڈ پر تحریرتھا،بہترین وفات کی یاد میں،اور نیچے سات نام درج تھے۔اسے وہ لوگ یاد تھے۔ ’دریڈسرکل‘ڈرامے میں ان لوگوں نے چھوٹے چھوٹے کردار ادا کیے تھے۔اس سال یہ ڈرامہ ہٹ ثابت ہوا تھا۔یہ تھریلرتھااور وہ قتل کی گئی ہیروئن کاشوہر بنا تھا۔مگر اس ڈرامے کا ہیرو عاشق تھا،شوہر نہیں۔پھر بھی اچھا چلا تھاڈرامہ اور اس نے وہ پیسے سارہ سے شادی کرنے کے لیے جمع کیے تھے۔لیکن اسی سال سارہ نے ہیریسن بیچ سے شادی کرلی تھی۔اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اگر وہ کامیاب ہوتا تو اس نے بھی کسی سے شادی کرلی ہوتی۔
اس نے پھولوں کو ٹن کی ٹوکری میں ڈالا اور پانی بھرکر کھڑکی میں رکھ دیا۔اس نے پھر سونے کی بجائے باہر جانے کا فیصلہ کیا۔یہ اپریل تھااور آسمان صاف ہورہا تھا۔اس نے شاور لیااور سلیقے سے کپڑے زیب تن کیے۔جب تک سڑک پر آیا بادل چھٹ رہے تھے اور نیلاآسمان بیچ بیچ سے جھانک رہا تھا۔وہ ہمیشہ کی طرح چھ بلاک گھومااور چونکہ کوئی اسے نام سے نہیں جانتا تھا،اس لیے کوئی حیرت زدہ بھی نہیں ہوا۔اس نے ایک ڈرامے سے متعلق میگزین خریدا۔اور سوچا کہ پارک میں بیٹھنے کے لیے موسم ٹھنڈا ہے یا نہیں۔اس نے محسوس کیا کہ موسم زیادہ سر دہے اس لیے وہ واپس کمرے میں چلا آیا۔نِک کوفون نہیں کرنے سے اس کے پاس کام نہیں تھا مگر اس نے فون نہ کرنے کا ارادہ کرلیا۔جب وقت آئے گا سوچا جائے گا کہ کہاں جاناہے،یا پھر وہ کہیں نہیں جائے گا۔جب وہ کمرے میں آیاتو دروازے میں ایک لفافہ اٹکاہواتھا۔یہ نِک کا تار تھا،’’خدا کے لیے مجھے فون کرو۔گھنٹوں سے تمہیں فون کررہا ہوں۔شہر کے لیے پہلی ہی ٹرین سے لوٹ آیا ہوں۔‘‘
وہ بیٹھ گیا۔ہیٹ اب بھی اس کے سر پر تھا۔اس کا کیا مطلب تھا،نِک کو اس کے مرنے کا یقین تھا یانہیں؟شاید اس نے خبر دیکھی ہواور بھروسہ نہ کیا ہو۔یا پھرنِک کو لگا کہ اس کے ساتھ کوئی رہتا ہوگا۔اس نے نِک کو کبھی اپنے رہنے کے ڈھنگ کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔نِک کو لگتا تھا کہ اس کی کوئی محبوبہ اس کے ساتھ رہتی ہے۔اسی نے تار بغل میں پھولوں کے گلدان کے پاس رکھ دیااور باہر چلاگیا۔پارک کی بینچ پر اس نے پورا میگزین پڑھ ڈالا۔پھر وہ دوسرے لوگوں کو دیکھتا ،کچھ سوچتا بیٹھارہا۔کچھ لوگوں کو اس نے پہچانا۔اسے لگا کہ وہ لوگ بھی اسے پہچان رہے ہوں گے۔لیکن ان کی کبھی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔دوپہر کاوقت ہورہا تھااور اس نے کسی آٹومیٹ میںکھانا کھانے کا ارادہ کیا۔پھر واپس جاکر کمرے میں سونا۔وہ اپنے ہی احساسات کی بے ترتیبی سے تھک گیا تھا۔مرجانا بھی ایک قسم کا تجربہ ہے،وہ مسکرایا۔
پرانی عمارت میں داخل ہوتے وقت پہریدار باہر نکلا،’’آپ کی سالگرہ وغیرہ ہے کیا؟‘‘ اس نے کہا۔’’آپ باہر تھے تو دوگل دستے اورتین تارآئے ہیں۔‘‘
’’آج میری برسی ہے۔‘‘ڈریک نے کہااور دوسرا ڈائم نکال کر پہریدار کودیا۔گل دستے اٹھائے ہوئے اس نے تار جیب میں رکھے اور اوپر چڑھ گیا۔یہ سب عجیب ساہوتا جارہا تھا، اس کا کمرہ پھولوں سے بھرگیااور اتنے تار۔یہ تو واپس تھیٹرکے ڈریسنگ روم میں ہونے جیسا تھا۔موت کی خبر پڑھ کر وہ خوش ہی ہوا تھا۔اس نے خود کو پوری طرح بھلادیاگیاسمجھاتھا۔اسے معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے۔اس نے پھولوں کو گلدان میں رکھ دیا۔پیلے گلاب اور سفیدا سائریا۔اس کے پہلے ڈرامے کے ہدایت کارکی طرف سے۔تار اس کے دوسرے ڈراموں کے اداکاروں نے روانہ کیے تھے اور ایک تار نِک کے آفس میں کام کرنے والی لڑکی کا تھا۔ڈریک کو معلوم تھا کہ وہ اس کے خواب دیکھتی ہے مگر اِن دنوں وہ سارہ کی بے وفائی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔کارڈ ہاتھ سے لکھا تھا ،’پیاری و خوشنمایادیں‘لوئیس۔وہ اسے ہمیشہ مِس سلورسٹین پکارا کرتاتھا۔
کمرہ اچھا لگنے لگاتھا۔اس نے بستر نہیں بجھایا۔اکثر وہ اسے ایسے ہی چھوڑدیتا تھا اور واپس لیٹ جاتا تھا۔مگر آج اس نے اچھی طرح بستر سمیٹا۔ایک پرانے رومال سے میز،الماری اور کھڑکی جھاڑی۔کچھ سوچنے کے بعد اس نے پیلے گلاب اور اسپائریانکال کر ایک دودھ کی بوتل میں الماری پر رکھ دیئے۔
پھر فون بجنے لگااور اتنا بجا کہ یا تو اسے باہر جانا پڑتا یا اٹھانا پڑتا۔اس نے اطمینان سے فون اٹھایاآواز بدل کربولا،’’ہیلو‘‘مگر یہ نِک نہیں تھا،یہ کسی خاتون کی آواز تھی جو بے حد نرم و سریلی تھی۔’’ہیلو،کیا ڈریک فاریسٹر یہیں رہتے تھے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘اس نے جواب دیا۔پھر اس نے آواز پہچان لی ۔اس کا دل بری طرح دھڑکا۔ یہ سارہ تھی۔اس کی آواز آج تک سنی ان سنی آوازو ں میں سب سے پیاری تھی۔
’’میں نے ابھی ابھی یہ دکھ بھری خبرپڑھی۔‘‘سریلی آواز آئی۔’’کیا آپ بتاسکتے ہیں اس کی سروسیس کہاں ہوں گی؟میں اسے برسوں پہلے جانتی تھی۔میں اسے بہت پیار کرتی تھی۔ اب بھی کرتی ہوں،مگر اب میں اسے کبھی نہیں بتاسکوں گی۔‘‘
وہ کچھ کہہ نہیں سکا۔کہتا بھی کیا؟پھر بے وقوفوں کی طرح چند الفاظ اس کے منہ سے نکلے، ’’آپ نے اسے بتایاکیوں نہیں؟‘‘
ادھر سارہ حیرت زدہ تھی،’’کیاآپ اس کے دوست ہیں؟‘‘
’’ایک طرح سے دوست ہی ہوں۔اس نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا تھا۔‘‘
’’اوہ،سچ مچ! تو وہ مجھے بھولا نہیں تھا؟‘‘
’’کبھی نہیں۔‘‘
وہ ان واقعات سے حیرت زدہ تھا۔کیایہ نیا جال تھاجس میں وہ خود ہی پھنستا جارہا تھا۔
’’اوہ،کیا آپ آکر مجھے اس کے بارے میں بتائیں گے۔‘‘اس نے درخواست کی۔
’’آپ کہاں ہیں؟‘‘
سارہ نے کافی دوردراز سڑک کا نمبر بتایا۔جہاں وہ تھا وہاں سے بڑی دوری پر۔’’مجھے پتہ نہیں کب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘اس نے شروع کیا۔
’’نہیں،آپ ابھی آئیے۔‘‘سارہ نے پھر درخواست کی،’’مجھے اس کے بارے میں سب کچھ جاننے کا تجسس ہے۔تب میں آپ کو بتاسکوں گی کہ کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دراصل میں نے اسے کھودیا۔جب میرے شوہر نہیں رہے تو مجھے پتہ نہیں چلا،میں اسے کہاں تلاش کروں؟اخباروں میں بھی اس کا نام نہیں آتاتھا۔آج میں نے خبر پڑھی تو مجھے لگا کہ میں ہمیشہ سے اسے تلاش کرنا چاہتی تھی۔مجھے لگتا ہے میں بس سوچتی رہ گئی۔‘‘
’’میں آئوں گا۔‘‘اس نے وعد ہ کیا۔اس نے فون رکھ دیا۔پتہ نہیں یہ وعدہ پورا کرے گا یا توڑدے گا۔مگر اسے اب سارہ کا ٹھکانہ مل گیا تھا تو آج نہیں توکل،اسے معلوم تھا کہ وہ اس کی دہلیز پر کھڑاہوگا۔گھنٹی بجاتے ہوئے،اپنی شناخت کا انتظار کرتے ہوئے۔وہ دوبارہ زندہ ہوگیاتھا۔
فون پھر بج اٹھااور پھر سے سارہ کے ہونے کی امید میں اس نے فون کا ریسیور اٹھالیا اور پکڑاگیا،’’ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘اس نے بڑی بے تابی سے کہا۔
یہ نِک تھا،حیران پریشان۔’’یہ کیا بے وقوفوں سی حرکت ہے۔کہاں ہو تم صبح سے؟ مجھے معلوم ہے تم زندہ ہو؟‘‘
’’تمہیں کیسے معلوم تھا؟‘‘اس نے جاننا چاہا۔اسے کچھ برا لگا۔کیانِک کو لگا کہ اس میں اتنی ہمت نہیں،’’تھوڑی دیر کے لیے مجھے لگایہ سب سچ ہے،جھوٹے کہیں کے!‘‘نِک نے کہا،’’پھر میں نے خبر دوبارہ پڑھی اور دیکھا کہ وہ تم نہیں ہو۔وہ تمہیں پینسٹھ سال کا بتا رہے تھے۔تم نے دیکھا نہیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ڈریک نے کہا۔
’’تمہیں کبھی تاریخیں یاد نہیں رہتیں۔‘‘نِک نے جلدی سے کہا،’’انہوں نے تمہاری تاریخ پیدائش ۱۸۸۷ء؁ لکھی ہے۔مجھے معلوم تھا کہ یہ سچ نہیں ہے۔میں نے تمہارے لیے اتنی تشہیر کا کام کیا ہے۔اخبار اسے کل درست کردے گا۔میں صبح سے ہی بے حدمصروف رہا ہوں۔لگتا ہے ورجینیا میں کوئی اور تمہارا ہم نام بھی تھا۔اخبار والوں نے سب خلط ملط کردیا ہے۔اس سے سب گڑ بڑ ہوگئی ہے۔خیر اس سے تمہیں فائدہ ہی ہوا ہے۔تمہیں ایک کردار مل گیا ہے۔‘‘
’’کردار؟‘‘
’’ہاں،اچھا خاصہ کردار۔ویسے کوئی اسٹار والا رول تو نہیں ہے مگر ڈرامہ اچھا ہے۔’سا ئوتھ سائڈ آف دمون‘پہلے گرمیوں میں پھر براڈوے۔پروڈیوسر نے کہا کہ وہ تمہیں جانتا تھا۔اس نے مجھے فون کیا تھا اور کہا کہ اگر اسے اتاپتہ معلوم ہوتا تو وہ تمہیں ضرور کام دیتا۔میں نے اس سے کہا کہ مجھے کچھ وقت دو۔تم سیدھے یہاں چلے آئو،ڈریک!اور میں کنٹریکٹ تیار رکھوں گا۔ ہم سب کچھ درست کرلیں گے۔اب میں پھر چیزوں پر دھول جمنے نہیں دوں گا۔‘‘
ڈریک طے نہیں کرپارہا تھا۔وہ ایک ساتھ دو جگہوں پر نہیں جاسکتا تھا۔یا تو وہ پہلے سارہ کے پاس جاتا یا نِک کے پاس۔اس کاڈرامائی تخئیل پھر سے زندہ ہوگیاتھا۔اس نے خود کو سارہ کے ہال میں یا پھر دیوان خانے میں انتظار کرتے ہوئے دیکھا۔پھر سیڑھیوں سے اترتی ہوئی سارہ، ہمیشہ سے ہی خوبصورت۔وہ بالکل خاموش کھڑارہے گا۔انتظار کرتے ہوئے،پھر وہ چلائے گی،’’اوہ، ڈریک ڈارلنگ۔لیکن یہ سب کیسے؟‘‘
’’کوئی اور مرا ہے سارہ،میں نہیں۔‘‘
اس نے بوسہ لینے کے لیے آنکھیں موندیں اور نازک لب یاد کیے۔سارہ بے حد نازک تھی۔ شہد بھرے لب تھے اس کے۔
’’اے،تم سوگئے ہوکیا؟‘‘نِک اس کے کان میں چلایا۔
’’میں ابھی نہیں آسکتا نِک۔مجھے بہت ضروری کام ہے۔‘‘
’’کیا کام ہے؟‘‘نِک نے چیختے ہوئے کہا۔’’کنٹریکٹ سے زیادہ کیا ضروری ہے؟‘‘
’’ہے کام،بے حد ضروری۔‘‘ڈریک نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا،’’لیکن کنٹریکٹ بنا کر رکھونِک۔میں وہاں آئوں گا کسی بھی وقت۔آج،کل یا کسی اور دن۔‘‘اس نے فون رکھ دیا اور کھویا سا کھڑارہا۔وہ آج وہاں جائے گا۔جب وہ اور سارہ صوفے پر بیٹھ جائیں گے اور ایک دوسر ے کا بوسہ لیں گے۔کھانا کھائیں گے اور ایک دوسرے کو جب ساری باتیں بتادیں گے تب وہ گھڑی کی جانب دیکھے گا اور چلائے گا۔
’’اوہ خدا،ڈارلنگ،مجھے آج کسی سے ملنا ہے۔میں بھول ہی گیاتھا۔ تمہاری وجہ سے میں سب کچھ بھول جائوں گا۔‘‘
’’کوئی ڈرامہ ہے ڈریک؟‘‘
’’ہاں،سائوتھ سائڈ آف دَ مون۔نیا ہے،اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’جلدی آنا۔‘‘وہ یہی کہے گی۔’’مجھے تم پر فخر ہے ڈریک۔‘‘یہی کہے گی وہ۔
’’میں جلدی آجائوں گا۔‘‘وہ وعدہ کرے گا۔’’ہم ساتھ ہی کھانا کھائیں گے۔اچھا؟ پھر ہم بیٹھ کر کچھ سوچیں گے۔‘‘
’’میں تمہارا انتظار کروں گی۔‘‘یہی کہے گی وہ ،اپنی میٹھی آواز میں۔یہ آواز پہلے سے بھی زیادہ شہد بھری تھی۔وہ تیار ہونے کے لیے کمرے میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا۔اس کے پاس ایک نئی قمیض تھی۔وہ ہمیشہ ایک نئی قمیض رکھتا تھا۔کیا پتہ کسی ہدایت کار سے اسے ملاقات کرنی پڑے۔ پھراس نے شاور لیااور داڑھی بنائی۔پھر نئی قمیض اور اچھا سا سوٹ۔وہ ہمیشہ ایک اچھا سا سوٹ رکھتا تھا۔پھر اس نے کچھ سوچا۔اس کے لیے کچھ لے جانا چاہیے۔اس نے کمرے کے چاروں طرف دیکھا۔ شاید کوئی کام کی چیز ،کتاب یا کچھ اورتلاش کرنے لگا تاکہ بطورِ نشانی دی جاسکے۔پھر وہ چٹکی بجاتے ہوئے بولا، ’’ پھو ل اورکیا؟‘‘اس نے سارے پھول سمیٹے۔ایک باکس نکالا۔سارے پھول اس میں ڈالے اور بڑی احتیاط سے ڈوری باندھی۔پھر اس نے الماری کھولی اور گھڑی نکالی پتلی بید کی چھڑی جس کے اوپر نقلی ہاتھی دانت کی نقاشی تھی۔یہ چھڑی اس نے اس ڈرامے کے لیے خریدی تھی جس میں وہ شوہر بنا تھا۔
شیشے کے پاس رکتے ہوئے اس نے ایسا شخص دیکھا جسے اس نے ایک طویل عرصے سے نہیں دیکھاتھا،درازقد،دبلا پتلا شخص۔جس کا زرد چہرہ زندگی سے معمور تھا،چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔جس کی گہری آنکھیں چمک رہی تھیں۔معصوم سا شخص۔وہ اپنا عکس دیکھ کر مسکرایا۔اس دوسرے جنم پر بے حدخوش۔وہ جس قدر پہلے مرچکا تھا اس کے مقابلے یہ برا نہیں تھا۔’نیک خواہشات ‘ اس نے خوشی و انبساط سے دمکتے چہرے سے کہااور ہیٹ سر پر رکھتے ہوئے اسے ذرا ترچھا کیااور کمرے سے باہرنکل گیا۔
٭٭٭

پرل ایس بک 1882میں امریکہ میں پیدا ہوئیں اور1972میں انتقال فرمایا۔وہ امریکہ کی پہلی مصنفہ ہیں جنہیں’’دَ گڈ ارتھ‘‘کے لیے 1938میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ بچپن سے ہی انہیں ادب سے لگائو تھا۔ان کی زندگی کا بڑا حصہ چین میں بیتاتھا۔کیوں کہ ان کے والدین مشنری سے وابستہ تھے اور چین میں رہتے تھے۔ان کی شادی جان لاسنگ بک سے ہوئی تھی۔ان کی تخلیقات میں چینی کسانوں کی زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ان کی تصانیف میں سنس،دَبنگ ریوولیو شنِسٹ،دَمدر،دِزپرائڈ ہرٹ،دَ پیئریاٹ،اَدر گاڈز وغیرہ شامل ہیں۔

٭٭٭
پرل ایس بک کی اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے اردو چینل ڈاٹ اِن کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔
کاپی رائٹ بحقِ مترجم محفوظ ہیں

 

Khoya Hua Jazeerah by Qayyum Khalid

Articles

کھویا ہوا جزیرہ

Murderer A Short Story by Jean Paul Sartre

Articles

قاتل

ژاں پال سارتر

لندن کی عدالت میں کل ایک غیر معمولی مقدمہ پیش ہونے والا ہے۔ مجرم کے جرم کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں اور ساتھ ہی وہ مقدمہ جیت جائے گا، اس میں بھی شبہ نہیں۔ مختصراً یہ کہ اس غیر معمولی واردات کا خلاصہ اس طرح ہے۔
۲۰؍مئی کی بات ہے۔ لندن کے مشہور معروف ڈاکٹر ہیلیڈن جو کہ پھیپھڑوں کے ماہر ہیں۔کے دو بڑے ہال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہر مریض کے ہاتھ میں ایک کارڈ ہے۔ جس پر نمبر لکھا ہوا ہے۔ بھیڑ تو ہر روز ایسی ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ سینکڑوں تپِ دق کے مریضوں کو اس مرض سے ڈاکٹر ہیلیڈن ہِل نے شفا یاب کیا ہے۔
ہال کے چاروں طرف شیشے کی کھڑکیوں اوردروازے پر چینی رشیم کا لہراتا ہوا پردہ ہے۔ اندرونی دیوار سے لگے ہوئے بڑے بڑے جاپانی گملے ہیں جن میں مختلف ممالک میں پیدا ہونے والے رنگ برنگی موسمی پھولوں کے بڑے بڑے پودے قرینے سے لگے ہوئے ہیں اور ان سب کے درمیان میں ایک بڑی سی میز کے سامنے ابھی ڈاکٹر ہیلیڈن ہل آکر بیٹھے ہیں۔ چہرہ اطمینان و سکون سے دمک رہا ہے۔ آنکھوں میں زندگی کی چمک ہے۔ سامنے ان کا اسسٹنٹ بیٹھا ہے۔ جو آنے والے مریضوں کا مختصر تعارف ڈاکٹر کے حکم کے مطابق شارٹ ہینڈ میں تحریر کردیتا ہے۔ داخلی دروازے پر ، زینے کے اوپر ، ڈاکٹر کا اردلی لال مخمل کی وردی زیب تن کیے ، چمکدار پٹہ، بلے والی ٹوپی اور دائیں ہاتھ کی دونوں انگلیوں میںسونے کی انگوٹھیاں پہنے کھڑا ہے۔ اس کی دونوں کلائیوں میں سے ایک میں عیسیٰ مسیح اور دوسری کلائی میں ایک برہنہ پری گدے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر کے بولنے کے ساتھ ہی کمزور تپ دق کے مریضوں کو جن کا ٹیسٹ ہوچکا ہے۔ اپنے مضبوط وتوانا ہاتھوں کا سہارادے کر باہر لے جانااور وہاں سے ایک خاص قسم کی ریسٹ چیئر پر بٹھا کر لفٹ کی مدد سے انھیں نیچے پہنچا دینااس کی ڈیوٹی ہے۔
مریض آتے ہیں۔ کمزور ، لاغر ، خوفزدہ ، آنکھیں اور سینہ اندر کو دھنسا ہوا اور ایک ہاتھ میں اتارے ہوئے کپڑے لیے۔ ان کے آتے ہی ڈاکٹر ہِل ، پلے کی میٹر اور چھوٹی نلی کے ذریعے ان کی چھاتی اور پیٹھ کامعائنہ کرتے ہیں۔ ٹھک ، ٹھک ، ٹھک ۔۔۔۔۔سانس لیجئے ۔ ہاں ! ذرا اور زور سے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے دو سکنڈ بعد ہی نسخہ تحریر کرتے ہیں اور چند سکینڈ ہی میں لکھ لیتے ہیں۔ ہاں، اس کے بعد کس کا نمبر ہے؟ گذشتہ تین برسوں سے یہی عمل جاری ہے۔ اسی طرح ہر روز صبح نو بجے سے بارہ بجے تک تپِ دِق کے مریضوں کا قافلہ ایک ایک کرکے آتا ہے اور اپنی اپنی زندگی و موت کا نسخہ لیے لوٹ جاتا ہے ۔ پھر آتا ہے ، پھر لوٹ جاتا ہے۔
اس عمل کے چلتے ہوئے ایک روز بیس مئی کو ٹھیک نو بجے ایک مریض ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوا۔ دراز قد ، نیم برہنہ اور دیکھنے میں ہڈّیوں کا چلتا پھرتا ڈھانچہ۔ اس کی آنکھوں کی پُتلیاں بے جان سی نظر آرہی تھیں۔ گال دھنس کر اندر چلے گئے تھے اور سینہ کھلا ہوا تھا، جیسے چمڑے سے ڈھکا ہوا ہڈّیوں کا پنجر۔ گوشت سے عاری اس کے بائیں بازو کی چمڑی نیلی پڑگئی تھی۔ وہ لمبے لمبے پائوں سے کانپتے ہوئے آیا، گملے میں لگے ہوئے ایک جاپانی پھولدار پودے کی مضبوط شاخ کو پکڑ کر کھڑا ہوگیا اور زور زور سے کھانسنے لگا۔ کھانسنے کے ساتھ ہی ساتھ اس کا سینہ اٹھنے بیٹھنے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اب مرا یا تب مرا۔ کھانسی کا دورہ پل بھر کو رُکا تو اردلی نے اسے لاکر ڈاکٹر کے سامنے بٹھادیا۔
حسبِ معمول مختصراً جانچ کرکے ڈاکٹر نے ناامیدی کے لہجے میں کہا۔’’ نا ۔۔۔۔۔۔۔۔نا ! کوئی امید نہیں ہے۔ پورا بایاں پھیپھڑا بے کار ہوچکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور، دائیں کی بھی وہی حالت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
مریض نے تشکیک اور خوفزدہ ہوکر لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔’’ ڈاکٹر ، کوئی امید۔۔۔۔۔۔۔؟ ‘‘ اس کے لہجے سے لگ رہا تھا جیسے اسے اس دنیا میں ابھی بہت کچھ کرنا ہے اور صرف زندہ رہنے سے ہی وہ ممکن ہے۔
ان کے بعد کس کا نمبر ہے؟ یہ سنتے ہی اردلی آکر مریض کو لے جانے والا ہی تھا کہ مریض کے خوفزدہ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے ڈاکٹر نے اپنی پیشانی کو دائیں ہاتھ سے سہلایا ، پھر مٹھی بنا کر ٹھہوکا دیتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔’’ زندہ رہنے کی بڑی چاہ ہے۔۔۔۔۔۔ کیا آپ بہت دولت مند ہیں؟‘‘
یہ کہانی آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
مریض کی جان میں جان آئی۔ اس نے اپنی دھنسی ہوئی آنکھوں کو بڑی کوشش کے بعد پھیلایا اور رُندھے ہوئے لہجے میں کہا’’ہاں ، ڈاکٹر میں کروڑ پتی ہوں۔ دولت کی کوئی کمی نہیں ہے۔‘‘
’’تب تو آپ ایک کام کیجئے۔۔۔۔۔۔ ‘‘ ڈاکٹر نے کرسی سے ذرا اٹھنے کا تاثر دیتے ہوئے کہا۔’’ آپ اسی ایمبولینس گاڑی سے سیدھااسٹیشن چلے جائیے۔ وہاں سے گیارہ بجے والی ایکسپریس سے ’ڈوور‘جائیے اور وہاں سے بذریعہ جہاز ’کیلیس‘ پھر ’مارسائی‘۔ وہاں سے گرم سلیپنگ کار میں ’نائیس ‘جائیے ۔ بس وہیں آپ رہیے اور چھ مہینے تک روٹی، شراب ، گوشت وغیرہ کچھ نہیں صرف ’واٹر کریش‘ لیجئے۔ ایک دن کے گیپ سے چمچہ بھر برساتی پانی میں دوچار بوند آیوڈین ملاکر پیاکیجئے۔ دیکھئے واٹر کریش کے سوا کچھ نہیں۔ اچھی طرح سے اسے چھان کر۔۔۔۔۔ ہاں، میں آپ کو زیادہ پُرامید تو نہیں کرسکتا، صرف ایک موقع سمجھ لیجئے۔ اس مفروضی طریقۂ علاج کے بارے میں ، میں نے بہت سُنا ہے۔ مگر اس سے اچھا ہونا ، بیماری سے نجات پانا مجھے نا ممکن ہی لگتا ہے۔ پھر بھی آپ سے کہہ رہا ہوں، جاکر دیکھئے۔ آگے قسمت ، اگر اچھے ہوگئے تو ٹھیک ہے نہیں تو اور کیا۔۔۔۔۔۔۔ آزمائیے۔ دنیا میں کئی بار ناممکن بھی ممکن ہوجاتا ہے۔ اچھا ، اب دوسرا نمبر کس کا ہے؟ ‘‘
مریض کو امید کی کرن نظر آئی۔ ڈاکٹر کا بار بار شکریہ اداکرتے ہوئے وہ اردلی کے ساتھ باہر چلاگیا۔ اس واقعہ کے چھ ماہ بعد دسمبر کی تیسری تاریخ کو ٹھیک نو بجے قیمتی فر کالباس زیب تن کیے ہوئے ایک قوی الحبثہ آدمی بنا نمبر کارڈ لیے سیدھے ڈاکٹر ہِل کے کمرے میں حاضر ہوا۔ بھرے بازو،بڑی بڑی بھوری آنکھیں، چوڑی چکلی چھاتی اور مضبوط قدم ۔ لگتا تھا، پریوں کی کہانیوں کا کوئی راکشش آپہنچا ہو۔
ڈاکٹر صاحب ابھی ابھی آکر کمرے میں بیٹھے تھے اور لبادہ نما کالا اونی کوٹ پہنے ہوئے تھے۔ صبح کی ہلکی گلابی سردی سے ان کا بدن کپکپاتا ہوا نظر آرہا تھا۔ اس دراز قد آدمی نے آتے ہی اپنی مضبوط بانہوں میں کسی بچّے کی طرح ڈاکٹر کو اٹھا لیااور بھیگی ہوئی پلکوں کے ساتھ بغل گیر ہوکر انھیں آرام کرسی پر بٹھادیا۔ ڈاکٹر ہِل کی حالت اس وقت بالکل عجیب سی ہورہی تھی۔ ایسا لگ رہاتھا کہ ان کی سانس ہی اُکھڑ جائے گی۔
اس دراز قد آدمی نے ڈاکٹر کو اپنی جانب حیرت و استعجاب سے دیکھتے ہوئے پایا تو اس نے اونچی آواز میں درخواست کی ۔’’ کتنا چاہیے آپ کو؟ بیس لاکھ ؟ تیس لاکھ؟‘‘
ڈاکٹر خاموش ہی رہے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ آدمی کہتا رہا۔’’ میں آپ کی ہی وجہ سے آج سانس لے رہا ہوں۔ آج آپ ہی کی وجہ سے میں دوبارہ اس قابل ہوا ہوں کہ اس دنیا کی ساری خوشیاں اپنے دامن میں سمیٹ سکوں۔ ڈاکٹر، میں اپنی زندگی کے لیے آپ کا قرض دار ہوں۔ آپ نے مجھے نئی زندگی عطاکی ہے۔۔۔۔۔کہئے ۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ بلا جھجھک مانگیئے ۔ میرے پاس دولت کی کمی نہیں۔۔۔۔۔۔ اپنا سب کچھ دے کر بھی میں آپ کا احسان نہیں چکا سکتا۔ پھر بھی جو ہوسکے، وہ کرنے کے لیے میرا دل بے چین ہے۔ ڈاکٹر حکم دیجئے۔ آپ جو بھی چاہیں؟‘‘
چند لمحوں کے بعد خود پر قابو پاتے پاتے ڈاکٹر نے اردلی کی جانب مخاطب ہوکر کہا۔’’ یہ کون پاگل آپہنچا ہے؟ اسے باہر نکالو۔‘‘
’’ارے ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ، نہیں۔۔۔۔۔‘‘ کہہ کر اس آدمی نے کسی بے پناہ طاقتور آدمی کی طرح اس قدر زور سے میز پر مکّا مارا کہ اردلی اپنی جگہ پر ہی ٹھہر گیا اور خوفزدہ ہوکراسے دیکھنے لگا۔
اس نے پھر سے کہنا شروع کیا۔ ’’ڈاکٹر، آپ نے مجھے اب تک شاید پہچانا نہیں ہے؟ میں جھوٹ نہیں بولتا۔ دراصل آپ میری زندگی کے محافظ ہیں۔ آپ ہی نے مجھے موت کے منہ سے باہر نکالا ہے۔ میں وہی آدمی ہوں، جسے آپ نے ’نائیس ‘بھیجا تھا اور صرف ’واٹر کریش‘ استعمال کرنے کا حکم دیاتھا۔ میں وہی بد قسمت ہڈّیوں کا ڈھانچا ہوں جسے آپ نے کہاتھا کہ دونوں پھیپھڑے بے کار ہوچکے ہیں۔ ’نائیس‘ میں واٹر کریش اور صرف واٹر کریش کے سہارے میںاتنے دن رہا ہوں۔ اسی کے سبب آج مجھے آپ اس روپ میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب آپ کے سُجھائے ہوئے طریقۂ علاج کا اثر ہے اور یقین نہ ہوتو یہ دیکھئے۔
یہ کہہ کر اس نے اپنے سینے پر زور زور سے مکّے مارنا شروع کردیا۔ یقینی طور سے اِن مکّوں کی برسات سے کسی کی بھی حالت غیر ہوسکتی تھی، مگر اس کے چوڑے چکلے سینے پر جیسے کوئی اثر ہی نہیں ہوا۔ کچھ لمحوں تک ڈاکٹر حیرت سے دیکھتے رہے۔ پھر اس کی طرف دھیان سے دیکھ کر اچانک تعجب سے کھڑے ہوتے ہوئے بولے۔’’ کیا آپ سچ مچ وہی کروڑ پتی ہیں، جسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ہاں ، ڈاکٹر! میں وہی ۔۔۔۔۔۔ وہی ہوں۔‘‘ اس نے بلند آواز سے کہا۔ ’’ کل ہی میں جہاز سے اترا۔ اترتے ہی سب سے پہلے آپ کے ایک قدِّ آدم مجسمے کا آرڈر دے آیا اور اب ویسٹ مِنسٹر میں آپ کی قبر کا انتظام کررہا ہو۔‘‘
یہ کہانی آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
اتنا کہہ کر وہ تپاک سے ایک بڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس کے بیٹھنے سے صوفے کے اسپرنگ چرمرائے کچھ منٹ تک ڈاکٹر اس کی طرف تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھ کر کچھ تلاش کرتے رہے، پھر سیکریٹری اور اردلی کو حکم دیا ۔ وہ دونوں باہر چلے گئے۔ ڈاکٹر اُس آدمی کی طرف اداس نظروں سے دیکھتے رہے اور فوراً سنجیدگی سے انھوں نے اپنی نظر گڑاتے ہوئے کہا۔’’آپ کے چہرے پر ایک مکھی بیٹھی ہے، اسے اُڑادوں؟‘‘
اتنا کہہ کر ڈاکٹر جھکے اور اپنی جیب سے ریوالور نکالی اور مسلسل تین فائر کردیئے۔ لمحہ بھر میں ہی سر سے خون کا فوارہ ابل پڑا اور وہ آدمی وہیں صوفے پر ڈھیر ہوگیا۔ کچھ دیراُس نے ہاتھ پیر جھٹکے اور پھر ساکت ہوگیا۔ ڈاکٹر یہ سب بڑے تجسس سے دیکھتے رہے۔ ان کے چہرے پر کئی تاثرات ابھرے اور مٹ گئے۔ مگر تجسس قائم رہا۔ اس کے فوراً بعدانھوں نے اپنا سب سے تیز نشتر نکالا اور اس کا سینہ چیر ڈلا اور پھیپھڑے نکال کر اپنی میز پر رکھ کر بیٹھ گئے۔
تھوڑی دیر بعد جب پولیس ، ڈاکٹر کو اپنے ساتھ چلنے کا وارنٹ لے کر آئی ، اُس وقت وہ اپنی تجربہ گاہ میں خون سے لتھڑے ہوئے پھیپھڑوں پر ’واٹر کریش‘ کے اثرات کا تجربہ کررہے تھے۔
پولیس انسپکٹر نے جب ان کے پاس جاکر اپنے ساتھ چلنے کی درخواست کی تو ڈاکٹر نے خاموشی سے اٹھ کر اسے دیکھا اور کہا ۔’’ میں نے اس آدمی کاقتل جان بوجھ کر کیا ہے کیونکہ بنا اس کا سینہ چیرکر دیکھے یہ جاننا ناممکن تھا کہ تپِ دِق جیسے مرض سے جو پھیپھڑے بالکل ناکارہ ہوگئے تھے وہ دوبارہ کس طرح بہتر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے میں بلا خوف و خطر یہ اقرار کرتا ہوں کہ دنیا اور بنی نوع انسان کے مفاد کی خاطر ، ایک عظیم فرض کی ادائیگی کے لیے میں نے ایک معمولی انسانی جان کو قربان کرنا بہتر سمجھا ، اور اسے مارڈالا۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ڈاکٹر ہِل ذاتی ضمانت پر حوالات سے رہائی حاصل کرچکے ہیں، کیونکہ ان کی رہائی انسانیت کے لیے سود مند ہے۔ اس مقدمے کی پیشی کل عدالت میں ہوگی۔ جلد ہی اس مقدمے کی دھوم یورپ اور ساری دنیا میں مچ جائے گی۔
جہاں تک ہمارا یقین ہے، اس چھوٹے سے جرم کے لیے اس انسانیت نواز عظیم ڈاکٹر ہِل کو نیوگیٹ کے پھانسی کے تختے پر چڑھنا نہیں ہوگا۔ آنے والے کل کی خاطر انسان سے بے پناہ محبت کرنے والے اور اس کی خاطر آج ایک حقیر سے آدمی کا قتل کرنے والے ، ڈاکٹر ہِل کو زندہ رکھنے کے لیے اس دنیا کے عظیم سائنس داں اپنی جانب سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

٭٭٭

ژاں پال سارتر : فرانسیسی ادب میں ژاں پال سارتر کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ نمائندہ فکشن اور ڈراما نگار مانے جاتے ہیں۔ 21؍ جون 1908ء کو پیرس میں پیدا ہوئے۔ ان کی تخلیقات کے اثرات بیسویں صدی کے ادب پر گہرے مرتب ہوئے۔ جب وہ ’سوربان‘ میں تحقیق کررہے تھے تب ان کا رابطہ سیمون دی بوار سے ہوا ۔ وہ دونوں تاحیات ہم سفر بن کرجیتے رہے۔
سارتر نے کئی ڈرامے تحریر کیے۔ جن کے دوررس اثرات سماج و معاشرے پر ہوئے۔ 1964ء میں سارتر کو نوبل انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔ مگر انھوں نے یہ کہہ کر اسے قبول کرنے سے انکار کردیا کہ اس کی قیمت ان کی نظر میں ایک بورا آلو سے زیادہ نہیں ہے۔ 15؍ اپریل 1980ء کو پیرس میں ہی سارتر کا انتقال ہوا۔

٭٭٭
سارتر کی اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے اردو چینل ڈاٹ اِن کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔
کاپی رائٹ بحقِ مترجم محفوظ ہیں

Aaj ka Qata

Articles

آج کا قطعہ

عبید اعظم اعظمی

نہ تو رنج ہے نہ امنگ ہے نہ سکون ہے نہ تناؤ ہے
یہ قیام کیسا قیام ہے یہ پڑاؤ کیسا پڑاؤ ہے
نئی صبح سے نئی رات سے مرا خواہشاتِ حیات سے
نہ بگاڑ جیسا بگاڑ ہے نہ بناؤ جیسا بناؤ ہے
عبید اعظم اعظمی

Three Dolls A Persian Folk Tale

Articles

فارسی لوک کہانی ’تین گڑیاں‘

انگریزی سے ترجمہ: حیدر شمسی

فارس کا سلطان بڑا دانا مشہور تھا۔ اسے مسئلے سلجھانے کرنے، پہلیاں بجھانے اور معمّے حل کرنے کابھی شوق تھا ۔ ایک دن اسے کسی کا بھیجا ہوا تحفہ ملا۔ بھیجنے والا سلطان کے لیے اجنبی تھا ۔سلطان نے تحفے کو کھولا اُس میں سے ایک ڈبہ نکلا ۔ڈبے کے اندر لکڑی کی تین خوبصورت گڑیاں نظر آئیں جنہیں بڑے سلیقے سے تراشاگیا تھا ۔اس نے ایک ایک کر کے تینوں گڑیوں کو اٹھایا اور ہر ایک کی کاریگری کی خوب تعریف کی ۔ اس کا دھیان ڈبہ پر گیا جہاں ایک جملہ تحریر تھا: ’’ ان تینوں گڑیوں کے درمیان فرق بتائیے۔‘‘ ان تینوں گڑیوں کے درمیان فرق بتانا سلطان کے لیے ایک چیلنج تھا ۔اس نے پہلی گڑیا کو اٹھایا اور اس کا مشاہدہ کرنے لگا ۔گڑیا کا چہرہ خوبصورت تھا اوروہ ریشم کے چمکیلے کپڑوں میں ملبوس تھی ۔ پھر اس نے دوسری گڑیا کو اٹھا یا ۔ وہ بھی پہلی گڑیا جیسی ہی تھی اور تیسری بھی ویسی ہی تھی ۔
پھر سلطان نے گڑیا کا نئے سرے سے مشاہدہ کرنا شروع کیا ۔ وہ سب ظاہراََ یکساں تھیں ۔لیکن سلطان نے سوچا شاید تینوں میں سے آنے والی بو یکساں نہ ہو۔چنانچہ اس نے تینوں گڑیوں کو باری باری سونگھا ۔تینوں میں سے صندل کی خوشبو آرہی تھی جس سے اس کے نتھنے معطّر ہوگئے۔صندل کی لکڑی سے انھیں بڑی نفاست سے بنایا گیا تھا۔اس نے سوچا شاید یہ اندر سے کھوکھلی ہوں ۔ انھیں کان کے پاس لے جا کر ہلانا شروع کیا لیکن تینوں گڑیاں ٹھوس تھیں اور تینوں ہم وزن بھی تھیں۔سلطان نے دربار بلایا۔دربار میں سلطان بڑا ہی متذبذب نظر آرہا تھا ۔ لوگ اسے دیکھ کر حیران تھے ۔ اس نے دربار کے سامنے اعلان کیا کہ جو تم میں سے جو دانا ہو وہ آگے آئے ،جس نے اپنی زندگی کا بیش تر حصّہ لائبریریوں میں صرف کیا ہووہ بھی آگے آئے۔
ایک اسکالر اور ایک قصّہ گوآگے آئے ۔سب سے پہلے اسکالر نے گڑیوں کا مشاہدہ کرنا شروع کیا ۔اس نے انھیں سونگھا ، ان کا وزن کیا اور انھیں ہلا جلاکر دیکھا لیکن وہ کسی طور بھی کوئی فرق نہ پاسکا ۔وہ دروازے کے پاس گیا اور الگ الگ زاویوں سے انھیں دیکھنا شروع کیا ۔ پھر اس نے گڑیوں کو ہاتھ میں اٹھایا اور ان پر جادو ٹونے کی طرح ہاتھ ہلانے لگا۔ہاں!ہاں ! تھوڑی دیر بعد وہ خود اپنے فعل سے اکتا گیااورانھیں میز پر رکھ کر وہاں سے ہٹ گیا۔
بہر کیف اسکالر گڑیوں میں امتیاز نہ کر سکا ۔ اس نے قصّہ گو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا’’کیا تم گڑیوں کے درمیانی فرق کی شناخت کر سکتے ہو!‘‘
قصّہ گو نے پہلی گڑیا اٹھائی اور بڑی احتیاط سے اس گڑیا کا مشاہدہ کرنا شروع کیا ۔پھر اچانک اسے نہ جانے کیا خیال آیا۔ وہ آگے کی طرف بڑھا اور سلطان کی داڑھی کا ایک بال نوچ لیا ۔ اس بال کو اس نے گڑیا کے کان میں ڈالا ۔وہ بال گڑیاکے کان میں چلا گیا اور غائب ہو گیا ۔قصّہ گو نے کہا’’ یہ گڑیا اسکالر کی طرح ہے جو سب کچھ سنتا ہے اور اپنے اندر رکھ لیتا ہے ۔‘‘ اس سے پہلے کے سلطان اسے روکتا پھر قصّہ گو نے آگے بڑھ کراس کی داڑھی کا دوسرا بال نوچ لیا ۔اس نے دوسری گڑیا کے کان میں بال ڈالا۔دھیرے دھیرے بال اس کے کان میں چلا گیا اور دوسرے کان سے نکلا۔سلطان یہ منظر دیکھ کرحیران رہ گیا۔
’’کیوں‘‘ قصّہ گو نے کہا ’’یہ گڑیا احمق جیسی ہے جو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا ہے ۔‘‘
اس سے پہلے کے سلطان اسے روک پاتا ۔اس نے سلطان کی ٹھوڑی سے تیسرا بال توڑ لیا۔پھر اس نے داڑھی کے بال کو تیسری گڑیا کے کان میں ڈالا۔بال اندر چلا گیا ۔سلطان غور سے دیکھنے لگا کہ اس بار بال کہاں سے باہر آئے گا ۔ بال گڑیاکے منھ سے باہر آیا ۔ لیکن جب بال باہر آیا تو وہ کافی مڑا ہو اتھا۔
’’کیوں‘‘قصّہ گو نے کہا ’’یہ گڑیا قصّہ گو کی طرح ہے ۔وہ جو کچھ سنتا ہے اسے وہ تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ دوبارہ سنا دیتا ہے ۔ ہر قصّہ گو کہانی میں تھوڑی سی تبدیلی اس لیے کرتا ہے تا کہ وہ اس کااپنا شاہکارلگے۔‘‘

Aaj ka Qata

Articles

آج کا قطعہ

ہوش نہیں ہے  ہوش کا ، ہوش سے پھر بھی کام لے
یا تو تجھے میں تھام لوں ، یا تو مجھے تُو تھام لے
رسمِ تعلقات کے دو ہی بڑے اصول ہیں
یا تو مجھے سلام کر یا تومرا سلام لے
عبید اعظم اعظمی

Aaj Ka Qata

Articles

آج کا قطعہ

عبید اعظم اعظمی

رسوائیوں کے ‘ان کی’ نہ امکاں ہوں پیش پیش
مسجد ہٹے تو صاحبِ ایماں ہوں پیش پیش
کوشش یہ کر رہے ہیں مسلسل ‘ذہین لوگ’
مندر بنے اور اس میں مسلماں ہوں پیش پیش