Masnavi Mauzzaye Mashooq by Shah Mubarak Aabroo
Articles
Language and Border Short Story by Sheerko Fateh
Articles
سرحد اور زبان
شیرکو فتح

کہانی کا محلِ وقوع ایران، عراق اور ترکی کی سرحدیں ہیں جہاں ایک عراقی کرُد بطور اسمگلر اپنے شب و روز گزار رہا ہے۔ایک سابق فوجی سے زمینی سرنگوں کا نقشہ خرید لینے کے بعد یہ اسمگلر جنگ زدہ سرحدوں کی طرف نکل پڑتا ہے تاکہ وہاں سے عیش وآرام کے سازوسامان اپنے ملک میں لا سکے۔اپنے ہر سفر کے دوران وہ بارودی سرنگوں کو زمین سے اوپر لے آتا اور واپسی کے سفر میں انھیں دوبارہ دفن کردیا کرتاتھا۔وہ کسی کتاب کی طرح ویران زمین کا مشاہدہ کرتا اور وہاں واقع ہونے والی تمام تر تبدیلیوں پر توجہ دیتا۔سرحد پر اُس کا ہر سفر زندگی سے موت کے سفر کی طرح ہوتا۔
اسمگلر ڈھلوان سے نیچے اترا اور بارودی سرنگوں کی طرف جانے لگا۔وہ پوری توجہ کے ساتھ گن گن کر اپنے قدم رکھ رہا تھا۔گلِ بہار اپنی پوری تروتازگی کے ساتھ کِھلا ہوا تھا۔ ہوائوں نے گھاس کی پتّیوں کو سیدھا کر رکھا تھا۔گھاس کی یہ پتیاں پورے میدان میں اُگی ہوئی تھیں اور اپنے آپ کو پتھروں بھری اُس چراگاہ میں چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں جو عمودی شکل میں پہاڑوں تک جاتی تھی۔اُس کے پیچھے ایک بڑا سا ٹیلہ اور ایک راہداری تھی۔شاید بارودی سرنگوں کو صاف کرنے والے یہاں ابھی نہیں آئے تھے۔یہاں نہ کسی قسم کی روکاوٹیں تھیں اور نہ ہی وارننگ بورڈ۔
اسمگلر چراگاہ کے کنارے پر پہنچ کر رک گیا۔پھر کچھ دور دوسری جانب چلنے کے بعد وہ پیچھے ہوا،تاکہ اندر جانے کے لیے صحیح مقام کا انتخاب کر سکے۔وہاں موجود پتھروں کی جگہیں اور محلِ وقوع اُس کے لیے کسی سراغ سے کم نہیں تھے۔اُسے جلد ہی اُس مقام کا پتہ چل گیا جس کی اُسے تلاش تھی۔چراگاہ اب بھی ویسی تھی۔آہنی سلاخ اٹھا کر اُس نے ایک مرتبہ اور اپنے اطراف میں نظر ڈالی۔
ڈھلوان کے اوپر سے بھورے نیلے رنگ کا ایک ٹیلہ نمودار ہو رہا تھا۔اُس کے اوپر سطح مرتفع کسی منبر یا چبوترے کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔دو بدنصیب اور تقریباً عریاں درختوں کی شاخیں گھاٹی میں لٹکتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔اُس نے راتوں میں آنے والی آوازوں کے بارے میں سوچا پھر یہ محسوس کیا کہ جب وہ اپنے گھر سے جدا ہوا تھا تب شاید اُس نے کوئی چیز اپنے پیچھے چھوڑ دی تھی۔
اپنی پشت پر لدے ہوئے بیگ کو برابر کرتے ہوئے اُس نے چراگاہ پر رینگنا شروع کیا۔دور سے یہاں گھنی ہریالی محسوس ہوتی تھی جبکہ گھاس کی پتیوں نے زمین کے کچھ ہی حصے کو ادھر اُدھرسے ڈھانپ رکھا تھا۔اِسی وجہ سے یہ قطعۂ زمین اُس کے لیے تکلیف دہ بن چکا تھا۔یہ حصہ جیسا نظر آتا تھا اِس کے برعکس یہ اُن تمام بارودی سرنگوں کے لیے مثالی بھی تھاجنھیں ایک کے اوپر ایک تین پرتوں میں رکھا جاتا ہے۔اِس کا ابھاراور نوکیلا حصہ اوپر کی جانب تھا تاکہ مٹی پربارودی سرنگوں کی پکڑ مضبوط رہ سکے۔اسی ترکیب کی بنا پر یہ بارودی سرنگیں بمشکل انسانی پنجوں سے بڑی تھیں اور دیکھنے میں کھلونے کی طرح نظر آتی تھیں۔
بارودی سرنگوں کو کھودنے کے بعد ،اسمگلر کوہمہ وقت اِس حالت کی سنگینی کا احساس رہتا۔جب اُس نے اُس سرنگ پر لکھے ہوئے الفاظ کی اُس جگہ شناخت کی جہاں انسانی قدم سرنگ کی سب سے اوپر والی پرت یا ڈسک پر پڑتے ہیں۔ ان تحریروں میں کوئی دلکشی نہیں تھی اور یہ محض لفظی علامتیں تھیں۔انھیں مٹی سے ڈھکے ہوئے بھورے ہرے رنگ کے حصّے پر کنندہ کیا گیا تھا اور یہ پڑھنے کے لیے بھی نہیں تھیں۔ انھیں اِس طرح سے کنندہ کیا گیا تھا کہ یہ دھماکے کی صورت میں زخم اور درد کا پیغام دیتے ہوئے غائب ہوجائیں۔یہ کنندہ تحریریں شاید دھماکہ ہونے سے پہلے کی الٹی گنتی تھیں۔
اسمگلر نے گھٹنوں کے بل ہوتے ہوئے اپنے سر کو زمین کے قریب کیا۔
اپنی ہیٹ سے چھُو کر اُس نے اپنے سامنے ایک نشان زدہ راستہ دیکھا جو آگے جانے کے بعد تنگ ہوجاتا ہے۔اُن سنگریزوں نے اُس کی مدد کی جنھیں جگہ یاد رکھنے کے لیے ایک خاص مقام پر رکھ دیا گیاتھا۔لیکن اب اُن مقامات کے ہرسینٹی میٹر کو اُسے اپنی یاداشت میں لانا تھا۔ایک مرتبہ وہ اُن سے ٹکرایا بھی لیکن فوراً رک گیا اور اپنے کوٹ کی جیب سے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالااور اُس کی مدد سے سامنے کی جگہ کا موازنہ کرنے لگا۔ سنگریزوں کا مقام اور کاغذ پر بنی ہوئی ڈرائنگ اُسے یکساں نظر آنے لگی۔اُس نے کاغذ کے اُس ٹکڑے کو موڑ کر واپس رکھ دیا۔اُس کے بعد اُس نے اپنی ہیٹ ہٹا لی اور اپنی ہتھیلی کے پچھلے حصّے سے اپنی پیشانی صاف کرنے لگا۔پھر اُس کے بعد اُس نے اپنے کوٹ کی جیب سے رومال تلاش کیا اور اپنے چہرے کو صاف کیا۔اس کے بعد اُس نے رومال کو اپنے سر پر اس طرح سے رکھا کہ اُس کی پیشانی بھی چھپ گئی۔پھر اپنی ہیٹ کی مدد سے اُسے اور محفوظ کرلیا۔
پوری توجہ کے ساتھ وہ آگے جھکا اور اپنی کہنیوں کو زمین پرآرام سے رکھ دیا۔اب وہ اپنے اطراف کے ہر سینٹی میٹر کا دوبارہ مشاہدہ کر رہا تھا۔اُس نے جب یہ سوچا کہ وہ صحیح جگہ پر ہے تب اُس نے کچھ لمحوں کے لیے ایک مرتبہ اور اپنی آنکھیں بند کرلی۔ اُس کے بعد اس نے آہنی سلاخ کومخصوص زاویے پر ایک ایک ملی میٹرتک کھینچنے کی کوشش کی۔پسینہ اُس کی کنپٹی سے بہہ رہا تھا۔ وہ باریک سے باریک مزاحمتوں کو روکنے کے لیے تیار تھا اگرچہ وہاں کی مٹی اِس کا سبب نہیں تھی۔مزاحمت کو محسوس کرنے کا کام اُس نے اپنی انگلیوں سے اِس طرح سے شروع کیا جیسے کہ وہ اُس کی شدّت کو اور بڑھا رہا ہو۔ آہنی سلاخ کو دوبارہ اسی راستے پر رکھ دیا گیا۔وہ ایک خاص زاویے پر سطح سے بالکل قریب پڑی ہوئی تھی ۔ اگر اِس طرح سے آہنی سلاخ اوپر آجائے تب یہ بارودی سرنگ کے اُس کنارے سے مَس ہو سکتی ہے جہاں سرنگ کا ابھار ہے۔ اب اُسے یقین ہو گیا کہ سلاخ کی نوک کسی چیز سے مَس ہوئی ہے۔دوبارہ رکتے ہوئے ایک لمحہ توقف کے بعد اسمگلر نے اپنے اوزار کو زمین سے باہر نکالااور اپنے سامنے رکھا۔اب اُس نے باریک سوراخ کو کھودنا شروع کیااور اپنی انگلیوں سے مٹی کے ڈھیر کو کنارے لگانے لگا۔باریک سوراخ نے مخروطی روشن دان کی شکل اختیار کر لی تھی۔بارودی سرنگ کا کمزور حصّہ کسی تباہ شدہ عمارت کی طرح گرنے لگا۔آہستہ آہستہ صاف کرنے پر سرنگ واضح نظر آنے لگی۔اسمگلر نے اپنے سر کو جھکاتے ہوئے دوسری ڈسک پر سے ریت ہٹائی۔وہ چاہتا تھا کہ پھونک کر پوری مٹی صاف کردے لیکن وہ اوپر سے زور نہیں لگا سکتا تھا اور کسی بھی حال میں کوئی خطرہ اپنے سر نہیں لینا چاہتا تھا۔نیچے کی ڈسک کو مکمل طور پر کھول دینے کے بعداُس نے اپنے جسم کا اوپری حصّہ اوپر اٹھایا اور اپنے شانوں کو بالکل سیدھا کر لیا۔اب نیچے نظر کرکے اُس نے اپنے مقصد کی طرف دیکھا۔ اُسے اپنا مقصد صاف نظر آرہا تھا۔اس کی حالت قابلِ رحم ہوچکی تھی مگر اسی کے ساتھ ساتھ وہ اپنی جیت پر خوش بھی تھا۔ یہ جیت کسی جال سے بچ نکلنے اور خود پر منحصر ہونے کے احساس پر مبنی تھی۔ وہ گہری سانسیں لینے لگا،پھر اپنی سانسوں کو روک لیا۔ اب وہ اپنی کہنیوں کے سہارے زمین پر آرام نہیں کر رہا تھا بلکہ آگے کی جانب جھک کر اُس نے اپنی دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو ڈسک کے نچلے سرے تک پہنچا دیا تاکہ وہ بارودی سرنگ کو چاروں جانب سے اوپر اٹھا سکے۔جب اُس نے بارودی سرنگ کو آہستہ سے زمین سے اوپر اٹھایاتب اُسے معمولی سا ٹیڑھا کیا جس کی وجہ سے ڈسک پر موجود باقی کی مٹی بھی نیچے گر گئی۔اب اُس نے بارودی سرنگ کو اپنے پیر سے تیس سینٹی میٹر دور نہ نظر آنے والی ایک پگڈندی پر رکھ دیااور اِس بات کو یقینی بنایا کہ گھاس اُسے چھو نہ سکے۔اُس نے نمک سے بھرا ہوا کاغذی بیگ نکالا اور اُس مخروطی روشن دان میں کچھ نمک انڈیل دیاتاکہ واپسی کے سفر میں وہ اِس سوراخ کا آسانی کے ساتھ پتہ لگا سکے۔ اگر ہوا نمک کو ادھر اُدھر پھیلا بھی دیتی ہے تب بھی وہ بآسانی اُس کی شناخت کر سکتا ہے۔یہ نشانی صرف اُسی شخص کو دیکھائی دے سکتی تھی جو اپنے سر کو زمین کی جانب جھکا لے۔
آگے بڑھنے سے پہلے اُس نے کاغذ کے ٹکڑے پر ایک مرتبہ اور نظر ڈالی۔بارودی سرنگوں کی خاص جگہوں کے علاوہ بھی اُسے کچھ چھپی ہوئی سرنگوں کا پتہ چلاجن سے اُس کا سامنا ہو سکتا تھا۔ایسی زیادہ تر سرنگیں بالکل ہموار تھیں۔لیکن اُس کے راستے میں تین جگہوں پرایسا نظر آتا تھا جیسے وہاں تیل پھیلا ہوا ہو۔ سلینڈر مٹی میں سیدھے رکھے ہوئے تھے۔اُس کے بالکل اوپر ایک انٹینا تھا جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ اُسے چھونے پر وہ دھماکے کا ٹریگر ثابت ہوگا۔اِس طرح کی سرنگ کو اچھلتی ہوئی سرنگیں کہا جاتا ہے۔ اِس لیے کہ اِس طرح کی سرنگیں حرکت میں آنے پر پہلے ایک میٹر اوپرہوا میں اچھلتی ہیں تاکہ اِس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اُس کا آہنی حصّہ کسی بھی شخص کے پیٹ کو پھاڑ سکے۔یہ سرنگ اسمگلر کے لیے ایک چھوٹا فائدہ اور دوبڑے نقصان کا باعث تھی۔وہ زمین کھودے بغیر اپنے نقشے کے مطابق ان کا اندازہ کر سکتا تھا۔ اگرچہ دوسری سرنگوں کی بہ نسبت یہ سرنگ کافی وزنی تھی اور انٹینا کے سبب بہت زیادہ احتیاط کے بعد ہی اُسے وہاں سے نکال کر زمین پر رکھا جا سکتا تھا۔
اچھلتی ہوئی سرنگوں تک پہنچنے سے پہلے اُس نے دو ہموار سرنگوں کوکھودا۔بہت زیادہ تھک جانے کے بعد اُس نے اپنی سرگرمی کو اتنا آہستہ کرلیا کہ جھپکتی ہوئی پلکیں بھی اُسے چونکا سکیں۔اُس نے کجروی کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھا تاکہ وہ اپنی توجہ کو ایک خاص نقطے پر مرکوز کرسکے۔ دوپہر ہوچکی تھی چراگاہوں سے ہلکی ہوائوں کا گزر جاری تھا۔کچھ لمحوں کے لیے اسمگلر نے سوچا کہ شاید وہ کوئی اور ہے جو گھٹنوں کے بل اس بیکار زمین پر کھڑا ہو۔اگرچہ وہ وہاں سے نہ صرف گائوں کی ہر سمت کا مشاہدہ کر سکتا تھابلکہ دندانے دار چٹانوں اور نوکیلی چوٹیوں کو بھی دیکھ سکتا تھا لیکن زمین کی وسعت اور پھیلائو کے تعلق اُس کے یہاں کسی قسم کے جذبات نہیں تھے۔اُس نے بہتی ہوئی سرد ہوائوں کے جھونکے محسوس کیے۔اُس نے کچھ دھیمی دھیمی آوازیں محسوس کیں ایسا لگتا تھا جیسے یہ آوازیں کسی کمرے کے اندر سے آرہی ہوں۔
ایک مرتبہ پھر سے اُس نے اپنا سر زمین پر جھکا دیا۔گھاس کی پتیوں کی کھرکھراہٹ نے اُسے الجھن میں مبتلا کردیا۔اُس نے کچھ چونٹیوں ، سفید سنگریزوں اور مکڑیوں کے چمکتے ہوئے عارضی جالوں کو دیکھا۔انٹینا حکم کی تعمیل کرنے کے لیے بالکل تیار تھا۔اسمگلر اور قریب ہوا اور گھاس کو کنارے کیا۔اُس نے کدال لے کر اپنے اطراف کے سلینڈر کھودنا شروع کیا۔جب تک اُس کی نظر انٹینا پر ہے تب تک اُسے کوئی خاص احتیاط کی ضرورت نہیں ہے۔
اتنا کرنے بعد اُس نے اپنے آپ کو بالکل سیدھا کیا اور گہری سانسیں لینے لگا۔اُس نے اپنے ہاتھوں سے اُس راستے کا پتہ لگا لیا جہاں سے وہ بارودی سرنگ باہر نکال سکتا تھا اور اُس جگہ کا بھی تصور کرلیا جہاں اُسے رکھنا تھا۔یہ جگہ نالیوں کے درمیان کسی پناہگاہ کی مانند نظر آرہی تھی اور واپسی کے سفر پر اُسے اِس جگہ کا اندازہ کرنا بھی آسان تھا۔اُس نے اپنے ہاتھوں کو اُس سوراخ میں ڈالا اور وہاں موجود بارودی سرنگ کو اپنی انگلیوں سے پکڑ کر باہر نکالا۔لیکن اُس نے اِس بات کا دھیان رکھا کہ اوپر نکالتے وقت انٹینا کسی چیز سے ٹکرا نہ سکے۔اپنے منصوبے کے مطابق اب اسمگلر نے بارودی سرنگ سے اپنے ہاتھ ہٹالیے۔اُس نے سلینڈر کو خود کے متعین کردہ مقام پر رکھااور اُسے آہستہ سے مٹی میں دبانے لگا تاکہ وہ زمین پر صحیح طورسے کھڑا رہ سکے۔اب وہ کھڑا ہوا اور اپنے ہاتھ سلینڈر سے ہٹالیے۔
سرنگ کافی طویل تھی اور اُس کا ایک تہائی حصّہ زمین میں دبا ہوا تھا۔اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اِس علاقے کا نگہبان اپنی دوربین سے اِن تمام حالات کا اندازہ کرلے۔لہٰذا اُس نے ایک گڑھا کھودااور اُس میں جھکتے ہوئے بارودی سلینڈر کو نیچے رکھ دیا۔زیادہ تر سلینڈر اب زمین میں چھپائے جاچکے تھے صرف انھیں قریب ہی سے دیکھا جا سکتا تھا۔اُس نے دوبارہ سوراخ پر نشانات لگائے اور آگے کی جانب رینگنے لگا۔
سرنگوں کی سرزمین سے گزرتے ہوئے اُسے شام ہوگئی۔ہر سرنگ کو کھودنے کے بعد وہ سورج کا مشاہدہ کرتا رہا تھا۔آخری سرنگ چٹان سے تیس سینٹی میٹر کی دوری پر واقع تھی۔جہاں کچھ فاصلوں پر گھاس اگی ہوئی تھی۔یہ دیکھ کر اُسے کچھ اطمینان ہوا کہ اُس نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔اب وہ سخت زمین کی طرف آہستہ آہستہ چلنے لگااِس وجہ سے اُس کے اندر اپنی حفاظت کا احساس بھی پیدا ہوا۔اب وہ اپنے راستے کی طرف پیچھے دیکھنے لگا۔کھود کر دوبارہ منتقل کی گئی سرنگیں ناقابلِ دید ہوچکی تھیں۔وہ آخری سرنگ بھی نظر نہیں آرہی تھی جسے اُس نے زمین میں صرف ٹیڑھا کردیا تھا۔
اسمگلر کھڑا ہوا اُس نے اپنا کوٹ اور پینٹ صاف کیا۔ یہ کام وہ ہمیشہ احتیاط سے کیا کرتا تھا۔سرحد کے حفاظتی دستے سے تال میل قایم کرلینا اُس کے سفر آخری حصّہ تھا۔
اب اُسے سرحدی نگہبانوں کا سامنا کرنا تھا۔اگرچہ کے وہ لوگ اُس کے منتظر تھے لیکن وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ(اسمگلر) کب آئے گا۔جو کوئی بھی وہاں ڈیوٹی پر تھا اُس نے مطالبہ کیا کہ وہ داخلہ فیس ادا کرے۔جس شہر میں وہ جانا چاہتا تھا وہ شہر پہاڑوں سے تین کیلو میٹر کی دوری پر واقع تھا۔اُس نے سرحدی اسٹیشن سے اُس شہر کی طرف دیکھا۔پہلی نظر میں اُسے محسوس ہوا کہ وادیوں اور بل کھاتے ہوئے راستوں سے گذر کر یہ ایک ایسا شہر ہے جسے مکمّل طور پر نظرانداز کردیا گیا ہو۔جب کہ حقیقت یہ تھی کہ سرحد کے دوسرے جانب وہ ایک گنجان آبادی والا شہر تھا۔اُس جگہ سے قریب جہاں وہ ہمیشہ جایا کرتا تھا بالکل قریب قریب کچھ دیہات آباد تھے۔ جب اُس کے پاس کافی وقت ہوتا تب وہ کم از کم ایک دیہات ضرور دیکھ لیا کرتا تھا۔جہاں کسی اور جگہ کی بہ نسبت شراب کچھ زیادہ ہی سستی ہوا کرتی تھی۔لیکن اِس وقت وہ صرف ایک چھوٹے شہر میں جانا چاہتا تھا۔
اُس کی خواہش تھی کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے وہ واپس آجائے۔عام طور پر وہ بیرونی ممالک میں دن،رات اور دوسرے دن کی دوپہر ہی گزارا کرتا تھا۔کیوں کہ دوپہر کے بعد سرنگوں سے بھری سرزمین سے گزرنے میں اُسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔اِس لیے بھی کہ اُسے کھودی گئی سرنگوں کو دوبارہ دفن کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا تھا اور وہ شہر واپس ہونے سے پہلے باہر رات بھی گزارنا نہیں چاہتا تھا۔ وہاں سے گزرتے وقت اُس نے گشت کرنے والے محافظوں کے بارے میں سوچاکہ وہ لوگ سرنگوں کی جانب جانے والے راستوں پر خاص توجہ دیتے ہیں۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچے جو اُس کے اطمینانِ قلب کو مجروح کرے۔
اُس نے سرحد کی جانب چلنا شروع کیا اور اِس بات پر توجہ دینی شروع کی کہ اب آگے کیا ہوسکتا ہے۔وہ اپنے آرڈر لے جا رہا تھا اور اُسے اپنی پشت پر لدے ہوئے بوجھ کا احساس بھی تھا۔
صبح صادق کے وقت وہ سرحد کے اسٹیشن پر پہنچ گیا۔چٹان کے شگاف میں ایک کنٹینر کو بیرک بنایاگیا تھا۔بھوری خاکی اور دور تک پھیلی ہوئی پتھریلی زمین کے درمیان راستہ کسی نہر کی طرح نظر آرہا تھا۔بیرک اُس کی راہ کے سیدھے زاویے پر رکھا ہوا تھا۔اسمگلر جب اُس کے قریب پہنچا تب اُسے وہاں کوئی نظر نہیں آیا۔وہاں روکاوٹیں نہیں تھیںاور بیرک کی سمت بھی ایسا کوئی نشان نہیں تھا جس سے سرحدوں کا اندازہ کیا جا سکے۔کنٹینر کی جانب کا چھوٹا دروازہ کھلا ہوا تھا۔لیکن چھوٹی سیڑھیوں سے بھی اتر کر اُس کے سامنے کوئی نہیں آیا۔کوئی اندر اُس کا منتظر تھا۔ اسمگلر دانستہ طور پر اندر داخل ہوا اور سیڑھیوں کے قریب پہنچنے سے پہلے بآوازبلند دعائیہ کلمات ادا کیے۔ اُس کی یہی عادت تھی کہ وہ سرحدی محافظوں کے سامنے بالکل چاپلوسی اور خوش مزاجی کے ساتھ آیا کرتا تھا اور غیر رسمی طریقے سے انھیں متاثر کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اگرچہ کہ یہ ممکن تھا لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ ہوسکتا ہے کبھی کوئی ایسا شخص وہاں پر ہو جو اُسے نہ جانتا ہو یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی اعلیٰ افسر وہاں موجود ہو۔
وہ بیرک میں داخل ہوا اور چار سرحدی محافظوں پر نظر ڈالی۔ وہ لکڑی کے ایک بوسیدہ ٹیبل کے اطراف کھانا کھاتے ہوئے بیٹھے تھے۔ بندوقیں دیوار پر جھکی ہوئی تھیں۔اسمگلر کو فوراً اپنا ریڈ ہائوس کا تکلیف دہ سفر یاد آگیا۔ اگرچہ اگلے ہی لمحے وہ سرد مہری کے ساتھ اُن کے سامنے پہنچ گیا۔ایک شخص نے اُسے کرسی پیش کی۔ اسمگلر اُن کے ساتھ شامل ہوگیا اور آس پاس سگریٹ تقسیم کرنے لگا۔ جنھیں وہ ایسے موقعوں کے لیے اپنے ساتھ لایا کرتا تھا۔چاروں سرحدی محافظ اپنا کھانا روک کر بالکل اُس طرح سے خوشی خوشی سگریٹ پینے لگے جسے اُن کے جیب میں سگریٹ موجود ہی نہ ہو۔
اسمگلر بحالتِ مجبوری اُن لوگوں کے ساتھ باتیں کرنے لگا ۔اُس کی حالت کسی ایسے بِن بلائے مہمان کی سی تھی جو کسی طور اپنی خفگی چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔زبان اُس کے لیے مسئلہ تھی اور تقریباً تمام سرحدی محافظوں کا بھی یہی حال تھا۔وہ کچھ قابلِ فہم جملے ادا کرتے تھے اور اسمگلر امید وبیم کی حالت میں اُن کا جواب اپنے تاثرات یا ہائو بھائو سے دیتا تھا۔اکثر سرحدی محافظین ملک کے دور دراز کے حصّوں سے آتے تھے اسی بنا پر مقامی لوگوں کی بہ نسبت اُن سے بات کرنا زیادہ مشکل ہوا کرتا تھا۔اِس لیے کہ مقامی لوگ جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی یہیں رہتے آئے تھے۔ وہ دونوں زبانیں جانتے تھے۔ لہٰذا انھیں کبھی یوں بھی محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے ہی ملک میں غاصب فوجوں کے ارکان ہوں۔ اسمگلر کو کم از کم اتنے الفاظ تو یاد ہی تھے کہ وہ عام سی گفتگو جاری رکھ سکے۔شروعات ہی سے اُس نے اس بات کا اندازہ لگالیا تھا کہ اُس کی بات چیت کی صلاحیت بلاواسطہ اُس پر واجب الادا روپیوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔عام طور پر سرحدوں کے محافظ اجنبیوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرتے ہیں اوربے پرواہ ہوکر ٹیکس میں بھی کسی قسم کی رعایت نہیں کرتے۔یہ ایک فطری تقاضہ ہے۔
اُن میں سے ایک بہت زیادہ باتیں کررہا تھا اور وہی اِس گروپ میں سب سے زیادہ اہم بھی تھا۔ وہ اسمگلر کے سامنے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اور اپنے سگریٹ کے ہر کش کے ساتھا اپنی مونچھوں کو تائو بھی دیتا جا رہا تھا۔ اُس نے باہر کی خبروں کے تعلق سے پوچھا۔
اسمگلر نے مختصراً سوچا اور پھر حکومت کی کہانی پر آخری ضرب لگائی اور یہ اعلان کیا کہ اب درجہ حرارت 40ڈگری سیلسیس ہونے والا ہے۔وہ تمام لوگ حیرت زدہ ہوگئے انھیں یہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ جانی پہچانی کہانی نہ ہو کر کوئی لطیفہ ہو۔اِس بات پر وہ جتنا ہنس سکتے تھے اُس سے زیادہ انھوں نے اِس پر بحث کی۔
اب برف پگھل چکی تھی اور بیرک ایسی جگہ میں تبدیل ہوگیا تھا جہاں روایتی قوانین کی گنجائش نہیں تھی۔ اُن میں سے ایک شخص کھڑا ہوا ، اپنے جانے کے لیے راہ بنائی اور وہ واپس اسمگلر کے لیے ایک پلیٹ لے آیا۔ اب بات چیت کچھ خاص اہم نہیں رہ گئی تھی۔اب اسمگلر کو مہمان سمجھا جانے لگا تھا اور چائے ختم ہونے تک یہی ماحول برقرار رہا۔
٭٭٭
شیرکو فتح کی پیدائش 1964ء میں مشرقی برلِن میں ہوئی۔شیرکو فتح کی والدہ کا تعلّق جرمنی اور والد کا تعلّق عراق کے کرد علاقے سے تھا۔فتح نے اپنے بچپن کا بیشتر حصّہ عراق میں گزارا۔آج بھی اُن کے خاندان کے بہت سارے لوگ وہاں رہتے ہیں۔1975ء میں وہ اور اُن کے والدین مغربی جرمنی میں آباد ہو گئے۔فتح نے مغربی جرمنی میں فلسفہ اور فنِ تاریخ کی بڑھائی کی اور یہیں فتح نے فلسفیانہ فنِ تفسیر پر اپنی تھیسِس مکمّل کی۔
٭٭٭
معروف کردی فکشن نگار شیر کوفتح کا افسانہ ’سر حد اور زبان ‘کا ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ افسانہ انھوں نے اردو چینل کے لیے ترجمہ کیا ہے اور اردو چینل کے شمارہ ۳۳ میں شامل ہے۔
Beginning of Jafar Magholi and Hasan Toofan
Articles
جعفری مغولی اور حسن طوفان کی شروعات
بختیار علی

میرا نام حسن طوفان ہے۔ میری اور جعفری مغولی کی پرورش پارٹی کے خیالات کے درمیان ہی ہوئی۔ جس دن ہمیں میموستا شآبوین نے بلوایا اور یہ خوشخبری دی کہ ہم دونوں کو قتل و غارت گری کرنے والے خفیہ محکمے کی ذمہّ داریاں دی جاری ہیں، ہم خلائوں میں اڑنے لگے۔ اگر میری یاداشت دھوکہ نہیں دے رہی ہے تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مغولی مجھ سے کئی گنا زیادہ خوش تھا۔ جب ہم میموستا کی دریائی گھوڑے جیسی مونچھ اور وحشی نظروں کے سامنے کھڑے تھے تب مغولی اپنے پتلے ہونٹ اور چوڑی ناک لیے کسی مجسّمے کی طرح اس قدر خاموش تھا جیسے وہ اپنے کمانڈر کے حکم کا منتظر ہو۔ اُس کا گندہ شطرنجی مفلر اُس کی گردن کے اطراف لپٹا ہوا تھا۔ اُس کے ظاہری خد وخال دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی چوہا غیر فطری طورپر بہت زیادہ بڑا ہو گیا ہواور دو پیروں پر کھڑا ہو۔وہ بے انتہا خوش تھا یوں لگتا تھا گویا اُسے شاہِ روم کا تاج پہنا دیا گیا ہو۔
جعفری مغولی کہا کرتا تھا کہ وہ قتل کرنے کے لیے ہی پیدا ہوا ہے۔اُسے یقین تھا کہ قتل و غارت گری والے شعبے میں ہمارا داخلہ ہمیں اعلیٰ عہدوںتک لے جائے گا۔ اُس نے تب سوچا اور وہ اب بھی سوچتا ہے کہ وہ لوگ جو قتل و غارت گری میں ماہر و مشاق نہیں ہوتے اور جو اپنی راہوں کی رکاوٹیں پھلانگ کر آگے نہ بڑھ پائیں انھیں مخروطی مینار کے نیچے اُس وقت تک کھڑا ہونا پڑتا ہے جب تک وہ سڑ کر مر نہ جائیں۔ ہم کند ذہن لوگ تھے، ہمارے اور اُن ذہین لوگوں کے درمیان کوئی بھی قدر مشترک نہیں تھی جنھوں نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اعلیٰ عہدوں تک ترقی حاصل کی تھی اور طاقتور ترین شخصیت کا روپ دھار لیا تھا۔ ہمارے پاس ہماری بیوقوفی اور بندوق کے علاوہ کوئی سرمایہ نہیں تھا۔ دو بے قیمت سرمائے جنھیں شاذونادر ہی اہمیت دی جاتی ہوگی۔ میں نے ہمیشہ یہ خیال کیا تھا کہ کوئی بیوقوف جس کے ہاتھ میں بندوق ہو وہ بھی ترقی کرتا ہوا اِس ملک کا صدر بن سکتا ہے اور میں اکثر و بیشتر ہی اپنے اِس خیال پر کھرا اترا ہوں۔
مغولی اور میں دونوں ہی بیوقوف تھے لیکن ہم جانتے تھے کہ ہماری بیوقوفی کا ہمیں کس طرح فائدہ اٹھانا ہے۔ ایک مقامی شخص سے ایک بھیڑ کے بچّے پر بحث و تکرار کرتے ہوئے ہم دونوں دوست بن گئے تھے۔ اُس شخص کی کئی خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ ہم دونوں بھی نوجوان تھے۔ ہم دونوں بھی وہاں اُس شخص کی شوخ وچنچل لڑکیوں کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ جب ہم دونوں کو پتہ چلا کہ وہاں جانے کا ہمارا مقصد ایک ہی تھاتب بالکل دو، رازداروں کی طرح ہم دوست بن گئے۔
ہمارے تعلقات کافی پرانے ہیں ۔جن دنوں ہم قتل وغارت گری والے شعبے میں کام کرتے تھے، اُس شعبے کا نام کرد زبان میں ’’قتل غارت گری ‘‘والا شعبہ میں نے خود رکھا تھا۔ جبکہ جعفری مغولی اِس شعبے کو وحشیانہ انداز میں Finishing off Sports Clubکہا کرتا تھا۔ جب ہم پارٹی کیڈر صابر ترانو کے پاس بطور نوآموز رضاکار کام کیا کرتے تھے۔ وہ خفیہ جدو جہد کرنے والا ایک لیڈر اور اسّی کی دہائی کا باضابطہ سیاستداں تھا۔ اُس نے اپنے ہم خیال لوگوں کا ایک گروپ بنایا ہوا تھا۔ مجھے یہ کہنے دیجیے کہ وہ اپنے وقت کے انقلابی تشدد کاموجد تھا۔ ایک ایسا وقت یا دور جسے میں سیاہ دور کہتا ہوں مگر میرے ساتھی اُسی دور کو زندگی سے بھرپور دور کہتے ہیں۔ اُس زمانے میں قتل و غارت گری کے لیے بہت سارے گروہ سرگرم تھے مگر اُس کے گروہ کی طرح عقلیت پسند کوئی گروہ نہیں تھا۔
ترانو ایک کمزور شخص تھا جو عینک لگایا کرتا تھا جس کے چہرے پر جھرّیاں تھیں۔ اُس نے اپنی زندگی میں نہ کبھی کسی چیونٹی کو مارا تھا اور نہ کبھی کسی مرغ کا قتل کیا تھا۔ لیکن وہ اپنے آپ کو انقلاب کا نظریہ ساز کہا کرتا تھا۔ اس کی زیادہ تر باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ مجھے اُس کی یہ بات یاد ہے، وہ کہا کرتا تھا کہ ہماری یہ زندگی ، ہماری یہ دنیا اپنے اختتام پر ہے۔ اِس کا مکمّل انحصار خاموشی پر ہے۔ اُس وقت کے سیاستدانوں میں دو قسم کے نظریات تھے۔ ایک کو میں داغدار اسکول کہا کرتا تھا اِس لیے بھی کہ اُن کی سیاسی تشہیر کا اختتام ہمیشہ مخالفین کی بے عزّتی پر ہوا کرتا تھا۔ دوسرا نظریہ جو بہت زیادہ خطرناک اور باعزت بھی تھا ،اُسے میں خاموش قتل کا طریقۂ کار کہا کرتا تھا۔ یہ پراسرار حالات میں خاموشی کے ساتھ اپنے مخالفین کا صفایا کیا کرتے تھے۔ اِس طرح سے کئی سوالات بغیر جواب کے ختم ہوجایا کرتے تھے۔ بے شمار کہانیوں کا کمزور اختتام ہوجایا کرتا تھا اور کئی راز بغیر وضاحت کے رہ جاتے تھے۔ وہ اس طرح کے حالات پیدا کردیتے تھے کہ قتل ایک راز بن کر رہ جاتا اور یقین کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہو جاتا تھا۔ میں اپنے آپ کو اُس دور کا تخلیق کار سمجھتا تھا۔میں نے اپنی سیاسی تعلیم کے کچھ سال ترانو کی نگرانی میں گذارے جو خاموش سیاست کا ایک اہم لیڈر تھا۔مغولی اور میں اُس کے لیے کام کیا کرتے تھے۔ ہم فسطائیت پسندوں کو نیست نابود کرنے کا کام کرتے تھے اور مزدوروں اور باغیوں پر ہونے والے مظالم کو شمار کیا کرتے تھے۔ پارٹی میں ترانو کے کچھ مخالفین کے مفقودالخبر ہونے کے پیچھے بھی ہمارا ہی ہاتھ تھا۔ ہم نے ترانو کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کے بیشمار لیڈران کو قتل کیا تھا اور یہ پورا کام ہم نے مکمّل خاموشی میں کیا۔
قومی جدوجہد میں کئی سال گذارنے کے باوجود بھی ترانو کی ٹیلر کی دکان تھی۔ وہ کسی معصوم کی طرح اپنی سلائی مشین پر جھکا ہوتا۔ اُس کی آنکھوں کی کمزور روشنی دیکھ کراُس کے مہمان، گاہک اور وہاں سے گذرنے والے اُس پر ترس کھاتے اُس سے ہمدردی ظاہر کرتے۔ وہ اتنا کمزور اور ناتواں انسان تھا کہ کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اِس خونی اور پیچیدہ آپریشن کے پیچھے اِس کمزور مخلوق کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ دبلا پتلا اور بیمار نظر آتا تھا۔ اگر تم کبھی اُسے دیکھو تب تمھارا دل بھی اُس کے لیے رونے لگ جائے گا اور تم خود بھی افسوس کرو گے کہ یہ کتنا بدنصیب شخص ہے۔ اپنی رذیل اور ذلیل قسمت ہی کی وجہ سے وہ بہت ہی مشکل دنوں میں بھی جاسوسوں کی نظروں سے محفوظ رہا۔
مجھے یہ کہنا چاہیے کہ ہمارے رہنما اور استاد صابر ترانو بھی مغولی سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ جعفری مغولی کا قتل کرنے کا اپنا ایک الگ ہی انداز تھا۔ وہ اپنے شکار کے بالکل قریب چلا جاتا وہ اُن سے باتیں کرتا اُن کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا پھر اُس کے بعد اُن پر بندوق تان دیا کرتا اور انہیں قتل کردیتا تھا۔ وہ اپنی بندوق ہمیشہ اپنی جیب میں رکھا کرتا تھا۔ اُ س کے علاوہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا تھا جو ہمیشہ اپنی بندوق اپنی جیب میں رکھتا ہو۔ وہ اپنے شکار کے قریب پہنچنے کا بہانہ ڈھونڈتا اور بالکل قریب سے انہیںپیٹ میں گولی ماردیا کرتا تھا۔ جیسے ہی اُس کا شکار زمین پر گرتا اور چیخنے چلّانے کے لیے اپنا منہ کھولتا تب وہ دوسری گولی اُس کے منہ میں داغ دیا کرتا۔ مغولی کا انداز مجھ سے بالکل مختلف تھا۔ میں اپنے طاقتور اور کبھی نہ لرزنے والے ہاتھوں سے نشانہ لیا کرتا تھا اور پندرہ بیس میٹر دور سے اپنے شکار کے سینے میں گولی مارا کرتا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی اپنے کسی شکار پر سینے کے علاوہ کہیں اور گولی چلائی ہو۔ میرا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوا۔
قتل کا فن یہ نہیں کہ شکار کے کسی بھی نظر آنے والے حصّے پر گولی مار دی جائے۔ یہ تو ایک بزدل اور نہ اہل قاتل کی علامت ہے۔ قتل یعنی اپنے شکار کو سینے میں مارنا اور سینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
مغولی اور میرے اندازِ قتل کے علاوہ بھی کئی لوگ تھے۔ مثال کے طور پر شِبر جو صرف اور صرف پیشانی پر نشانہ لگایا کرتا تھا۔ وہ لوگ جو ستّر کی دہائی کے اخیر میں اور نوّے کی دہائی کے وسط میں پیشانی پر گولی مارے جانے کی وجہ سے قتل ہوئے وہ سب کے سب ہی شِبر مصطفی کے شکار بنے تھے۔ تقسیم اپنے شکار پر سیدھے سر سے پیر کے انگوٹھے کی جانب گولی چلایا کرتا تھا۔ بیزنگ یا سی ایو اپنے شکار کوپچاس سے کم گولیوں کی سزائیں کبھی نہیں دیتا تھا اور انہیں چھلنی کردیا کرتا تھا۔ فرائے تُنچی پیچھے سے گولی مارا کرتا تھا۔ عام طور پر وہ اپنے شکار کی گردن کے منکے پر یا شانوں پر گولیاں مارا کرتا تھا۔
تقریباً ہم پچاس لوگ اِس میدان میں کام کر رہے تھے۔ ہمارا کام ہی ایک دوسرے کو صاف کرنا تھا ،چاہے وہ پارٹی کا مخالف ہو یا ملک کا دشمن۔ ہم میں سے ہر ایک کا اپنا ایک الگ راستہ تھا ۔ ہم ایک بااختیار کیڈر کے خاص مقصد کے لیے کام کر رہے تھے۔ مغولی اور میں اکثر ایک ساتھ کام کیا کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ چمڑے کے بڑے دستانے پہنا کرتا تھا۔ اُس کا دھمکی آمیز اظہار اس کی نرم نازک اور خوشگوار آواز کے برعکس ہوا کرتا تھا۔ یہی چیز اُسے اپنے دشمن کے قریب لے جاتی تھی اور وہ اُن سے باتیں بھی کیا کرتا تھا۔ جب کبھی تم اس کی نرم اور موسیقی سے پُر آواز سنو گے تب تمھارے تمام شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے اور تم بھی دوبارہ اُس پر یقین کر لو گے۔ کبھی کبھی وہ بالکل خاموش ہوجاتا اور جب کبھی میںاُس کی طرف دیکھتا تب مجھے بھی یقین نہیں ہوتا کہ سوجے ہوئے چہرے، ابلتی ہوئی آنکھیں اور ٹیڑھے ہونٹوں سے اتنی سحر انگیز آواز نکلتی ہوگی۔
ہم یکے بعد دیگرے اپنے شکار کو قتل کیا کرتے تھے۔ میں تمام قاتلوں میں سب سے تیز تھا۔ جیسے ہی میرا شکار نمودار ہوتا میں فوراً(چاہے پھر وہ مرد ہو یا عورت)اُس کے سینے کو دیکھتا اور وقت برباد کیے بغیر پلک جھپکتے ہی اپنا کام پورا کر جاتا۔ میری یاداشت اچھی ہے اور مجھے یہ یاد نہیں آتا کہ کبھی میںاپنے شکار کو دیکھ کر چونکا ہوں یا انہیں کبھی کسی قسم کا شبہ ہونے دیا ہوں۔میرے نزدیک سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ ہم اپنے شکار کو موت کے تعلق سے سوچنے کی اجازت دے دیں۔ ان مختصر سانسوں(لمحات) میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ نہ سیاست ، نہ نفرت اور نہ ہی بدلے کے جذبات۔صرف ایک ہی چیز شکار سے جوڑے رکھتی ہے اور وہ ہے موت۔میرے لیے سب سے اہم بات یہی ہوتی تھی کہ شکار خوفزدہ ہوئے بغیر مر جائے۔ موت اور موت کے یقین کے درمیان اُسے بالکل بھی وقفہ نہ ملے۔ مغولی مجھ سے مختلف تھا وہ تیتر اور انسان مارنے میں کوئی فرق نہیں کرتا تھا۔اس کا خیال تھا جس طرح تیتر اپنی موت پر دوستوں کو یاد کرتے ہیں اِسی طرح ایک پرلطف گیت کے ساتھ ہمیں بھی اپنے شکار کوموت تک لانا چاہیے اور جب دونوں جانب یہ پتہ چل جائے کہ ایک ایسے طوفان کا سامنا ہے جس میں ایک جانب قاتلوں کا مکمل اختیار ہے اور دوسری جانب شکار ہے تب دونوں اپنی قسمت کو مکمل طور پر قبول کر لیتے ہیں اور وہ اِس کھیل کا اختتام ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔
بغاوت کے ایک سال بعد تک میں قتل و غارت گری کے محکمے کا ایک ممبر تھا۔ ایک روز انھوں نے ہمیں عورتوں کی ایک لمبی لسٹ تھما دی ۔ جنھیں ہمیں یکے بعد دیگرے اٹھانا(قتل کرنا) تھا۔ میں نے ابھی تک کسی عورت کا قتل نہیں کیا تھا۔ ایک شام انھوں نے مجھے ایک خوبصورت عورت کو قتل کرنے کے لیے بھیجا جو اپنے بالکل نوجوان شوہر کے ساتھ ایک غلیظ گھر میں رہتی تھی۔ پارٹی میں کئی سال کے تجربات نے مجھے یہ سکھا دیا تھا کہ میں اپنے شکار کے بارے میں زیادہ جاننے کی کوشش نہ کروں۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ میں پرتجسس نہیں تھا لیکن تجربات نے مجھے یہ سکھادیا تھا کہ شکار کے بارے میں جاننے سے صرف سر درد ہی ہوتا ہے۔ شکار کے تعلق سے بہت زیادہ معلومات ہاتھوں میں کپکپی طاری کردیتی ہے۔ ہچکچانے پر مجبور کردیتی ہے اور پھر ہم اپنا شکار نہیں کرپاتے۔ میں جانتا تھا کہ اگر میں اسے قتل نہیں کروں گا تب بھی مغولی ، تُنچی یا فاضل قندیل میں سے کوئی ایک یہ کام کردے گا۔ ہمارے پاس ایسے کئی لوگ تھے جو کہانیوں کی گہرائی تک جانا چاہتے تھے، وہ قتل و غارت گری کی وجوہات جاننا چاہتے تھے۔ وہ خود فیصلہ کر کے احساسِ جرم سے پرے قتل کرنا چاہتے تھے۔ اُن میں سے بہت سارے لوگوں نے تاریک راتوں میں دوغلے اور مشتبہ حادثات میں اپنی جانیں گنوا دی تھیں۔ اگر کسی روز تم قاتل بن جائو تب اپنے شکار کے تعلق سے زیادہ معلومات لینے کی کوشش نہ کرو۔ شکار کے تعلق سے زائد معلومات کام کو مشکل بنا دیتی ہے اور اِس کے نتائج اور بھی بھیانک ہوتے ہیں۔
ایک دن میں اُس خوبصورت خاتون کو قتل کرنے کے لیے گیا۔ میرا پورا جسم اس طرح کانپ رہا تھاجیسے میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کا قتل نہ کیا ہو۔میں نے اسے غور سے دیکھا، وہ ایک لمبی رعب دار اور خوبصورت خاتون تھی۔ جب میں نے اُس کے گھر میں قدم رکھاتب وہ نائلون کی رسّی پر دھلے ہوئے کپڑے لٹکا رہی تھی۔ اُس نے پتلا کرُد ڈریس پہنا ہوا تھا۔ میں آسانی کے ساتھ اُس کے نیچے چھپی ہوئی کالی پٹی دیکھ سکتا تھا۔ میں اپنی زندگی میںکبھی عملی طورپر کسی عورت کے خیال میں محو نہیں ہوا تھا۔اگرچہ اس طرح کسی خاتون کو مارنا مجھے مناسب نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ اپنے ہاتھوں میں خالی پیالہ لیے سیڑھیوں پر بیٹھا رو رہا ہے۔ جیسے ہی میں نے اپنی پستول باہر نکالی اور اُس پر نشانہ لگایا تب چراغ بجھنے یا دل دھڑکنے سے بھی مختصر لمحے کے لیے اپنی زندگی میں پہلی بار میں ہچکچایا ۔ میں اپنی پستول نیچے کر کے پارٹی کے حکم کی تعمیل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ شاید میں اُسے قتل نہ بھی کرتا لیکن بدقسمتی سے اُس کا شوہر کمرے سے باہر آگیا اور اُس نے میرے ہاتھوں میں پستول دیکھ لی۔ اُس آدمی کا خوفزدہ وجود، گلے میں پھنسی ہوئی چیخ اور چہرے پر بکھری ہوئی وحشت نے میری کمزوری کو باہر نکال دیا ۔میں نے فوراًٹریگر دبایا اور اُس خوبصورت عورت کے دل میں گولی اتار دی۔خون کے چھینٹے چاروں طرف پھیل گئے۔ اگرچہ کہ میں دس میٹر کی دوری پر تھا، میں بھی شرابور ہو گیا۔ عورت نیچے گر گئی اور میں حیرت و یاس کی تصویر بنا اسی جگہ منجمد ہو گیا۔
اس دن سے پہلے کبھی مجھ پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں گرا تھا۔ مغولی ہمیشہ اپنے آپ کو خون میں رنگ دیا کرتا تھا۔ وہ اپنے رومال کو خون میں بھگو کر بطور یادگار اپنے پاس رکھا کرتا تھا۔ لیکن میں ہمیشہ اپنے شکار سے اتنا فاصلہ بنائے رکھتا تھا کہ خون کے چھینٹے مجھ تک اڑنے نہ پائیں۔ میں فوراًوہ جگہ چھوڑدیا کرتا تھا۔ آندھی کی طرح فرار ہو کر غائب ہوجاتا تھا۔ میں اتنا تیز دوڑتا تھا کہ مجھے طوفان کہا جاتا تھا۔ لیکن اُس دن یوں لگتا تھا جیسے میں کسی سحر کی گرفت میں ہوں اور کسی نے میرے پیر پکڑلیے ہیں۔ میں بہت دیر تک وہاں سے ہلا بھی نہیں۔ گولیوں کی آواز بہرہ کردینے کی حد تک تیز تھی۔ بارود کی بُو سے پورا احاطہ بھر چکا تھا۔ میں نے اُس کے شوہر کو دیکھا جو روتے ہوئے میری جانب بڑھ رہا تھا۔ میں نے سیڑھیوں کے پاس اسے چیختے ہوئے دیکھا۔ دھیرے دھیرے میں اُس عورت کے قریب گیا۔ وہ اپنے ہی خون میں تر تھی اور اپنی آخری سانسیں گن رہی تھی۔ میں نے اس کی بڑی ہری ہری آنکھیں دیکھیں۔ اس کی خالی اور بے سوال نگاہیں مجھ پر مرکوز تھیں۔ خون میں شرابور میں وہاں سے نکل گیا۔ گیٹ کے باہر میں نے مغولی کو دیکھا ۔ جب اُس نے مجھے دوسری جانب کھینچا تب میں چیخ رہا تھا۔
وہ میرا پارٹی کے لیے کام کرنے کا آخری دن تھا۔ اسی شام میں نے ہر چیز چھوڑدی اور یہ کھیل کھیلنا بند کردیا۔ میرے جانے کے بعد مغولی، تُنچی، دنسازاور حاجی کوتر نے ہر کام کیا۔ ایک سال سے کم وقفے میں انھوں نے پورے ملک میں بیشمار عورتوں کو قتل کیا۔ یہ جعفری مغولی سے میری پہلی جدائی تھی۔ اُس کے بعد میں نے تیرہ سالوں تک اُسے نہیں دیکھا۔لیکن جب میں نے اُسے دوبارہ دیکھا تب میں نے محسوس کیا کہ دنیا مکمل طور پر بدل چکی ہے، وقت اپنی گردش پر لوٹ چکا ہے لیکن مغولی میں ذرّہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئی۔
٭٭٭
معروف کرد فکشن نگار بختیار علی کا افسانہ ’جعفر مغولی اور حسن طوفان کی شروعات‘ کا ترجمہ معروف مترجم ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے اردو چینل کے لیے انگریزی سے اردو میں کیا تھا۔ یہ ترجمہ رسالہ اردو چینل کے شمارہ نمبر ۳۳ میں شامل ہے۔
Taraqqi Pasand Tahreek Aur Mumbai by Prof. Saheb Ali
Articles
ترقی پسند تحریک اور ممبئی
پروفیسر صاحب علی
Shazarat E Marifat
Articles
شذرات ِ معرفت
ابو صالح لقمان ندوی
Shibli aur Muandeen E Shibli by Shameem Tariq
Articles
شبلی اور معاندین شبلی
شمیم طارق

(لفظوں کی تہذیب کے حوالے سے)
علم اور علمی شخصیتوں کی تاریخ کے علاوہ شبلی نے جن موضوعات پر داد تحقیق دی ہے ان کا سب سے موزوں عنوان ’’ شعر و ادب کی تنقید ‘‘ ہے اور شعر و ادب کی تنقید خاص طور سے ’’ شعر العجم ‘‘ اور ’’ موازنۂ انیس و دبیر ‘‘ کی نکتہ سنجی و نکتہ آفرینی سے اردو میں تنقیدی اور تقابلی مطالعے اور موازنے کی روایت کو اعتبار و استحکام حاصل ہونے کے ساتھ خود شبلی کی علمی فکری وراثت کو بھی امتیاز حاصل ہوا ہے۔ وہ امتیاز یہ ہے کہ وقت کے ساتھ جہاں ان کے ذہن و ظرف کی وسعت، منتخب کیے ہوئے موضوعات کی اہمیت، ارتباط لفظ و معنی کی لطافت اور اسلوب نگارش کی ندرت کا اعتراف بڑھتا جارہا ہے، حتیٰ کہ مرزا خلیل احمد بیگ کے بقول یہاں تک کہا جانے لگا ہے کہ
’’ آج جدید لسانیات اور اسلوبیات کی روشنی میں اسلوب کی تشکیل و توضیح کا جو کام جاری ہے اس کی جڑیں بلاشبہ ’’ شعر العجم ‘‘ میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ ‘‘ ۱؎
وہیں معاندین شبلی کی کم از کم ان تحریروں کا بھرم ٹوٹ رہا ہے جو شبلی کی اجلی شبیہ کو داغدار کرنے کے لیے لکھی گئی تھیں۔ صرف لفظوں کی تہذیب یا ان کے محل استعمال کے حوالے سے بھی یہ واضح کرنا مشکل نہیں ہے کہ شبلی کی تحریروں میں شاید ہی کہیں کوئی ایسا لفظ استعمال ہوا ہو جس کے محل استعمال کے بارے میں کوئی سوال اٹھایا جاسکے۔ لیکن معاندین شبلی کی تحریروں میں ایسے الفاظ کی شناخت بہت آسان ہے جو اپنے استعمال کرنے والوں کی بدنیتی کے ساتھ بے خبری و بے بصری کا بھی رونا رو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلی مثال مولوی عبدالحق کی ہے جنھوں نے محمد امین زبیری کے ترتیب دیے ہوئے شبلی کے خطوط کے مجموعے ’’خطوط شبلی ‘‘ کے مقدمے میں لکھا ہے کہ
’’ مولٰنا شبلی کی تصانیف کو ابھی سے لونی لگنی شروع ہوگئی ہے۔ زمانہ کے ہاتھوں کوئی نہیں بچ سکتا۔ ‘‘ ۲؎
’’لونی لگنے ‘‘ کا مطلب وہ شور، کھار یا نمکین مٹی کا لگنا ہے جو دیواروں سے جھڑتی ہے اور کتاب میں لگنے کے بعد اس کو پڑھے جانے کے لائق نہیں چھوڑتی۔ لونی ان ہی کتابوں کو لگتی ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اس لیے شبلی کی تصانیف کو لونی لگنے کے طعنے کے پس منظر میں یہ سوال ہر شخص پوچھ سکتا ہے کہ جس کی کتاب ’’ المامون ‘‘ پر سر سید احمد خاں نے ۱۸۸۷ء میں یعنی جب شبلی کی عمر ۲۹،۳۰ سال تھی، مقدمہ لکھ کر ان کی مورخانہ بصیرت اور سادہ و شگفتہ طرزِ تحریر کی تحسین کی ہو، حالی نے جس کی دانشوری کی یہ کہہ کر داد دی ہو کہ
ادب اور مشرقی تاریخ کا ہو دیکھنا مخزن
تو شبلی سا وحید عصر و یکتائے زمن دیکھیں
جس کی کتاب ’’ شعر العجم ‘‘ کو پروفیسر برائون کی کتاب ’’ تاریخ ادبیات ایران ‘‘ کا ماخذ بننے کا شرف حاصل ہوا ہو، عالم خوند میری کے بقول جو ہماری تہذیبی میراث کا حصہ ہو اور جس کے ایک وارث ابوالکلام آزاد ہوں اور دوسرے علامہ اقبال، عالم اسلام میں جس کی تصانیف میں دلچسپی کا اظہار اور ان کے ترجمے کی ضرورت پر اصرار، جس کی زندگی ہی میں کیا جانے لگا ہو اور آج جن کے تراجم انگریزی، عربی، فارسی، پشتو، ترکی اور ہندوستان کی کئی علاقائی زبانوں میں کیے جاچکے ہوں، اس کی تصانیف کے بارے میں یہ کہنا کہ ان کو لونی لگنا شروع ہوگئی ہے، لونی لگنے کے مفہوم سے ناآشنائی اور اس لفظ کے محل استعمال سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ شبلی کی تصانیف کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے لکھا گیا مولوی عبدالحق کا یہ جملہ ان ہی کے ایک خطبے کی ان سطور کی روشنی میں ناقابل اعتناء ہے کہ
’’ لفظ ایک بڑی قوت ہے اس کا برمحل استعمال خیالات میں قوت پیدا کرتا ہے جو اس گر سے واقف نہیں اور لفظ کے سبھی برمحل استعمال کو نہیں جانتا اس کا بیان اکثر ناقص، ادھورا اور بے جان ہوتا ہے۔ ‘‘
دوسری مثال ڈاکٹر وحید قریشی کی ہے جنھوں نے اپنی کتاب ’’ شبلی کی حیات معاشقہ ‘‘ میں نفسیاتی جائزے کے نام پر شبلی کے بارے میں بعض ایسی باتیں لکھی ہیں جن سے ان کے ذہن کی کجی کے ساتھ مطالعے کی کمی کا بھی اظہار ہوتا ہے مثلاً انھوں نے لکھا ہے کہ
’’ ۔۔۔۔۔ ان کی نرگسیت ان کے دینوی مشاغل، علمی مشاغل، شاعری اور عورتوں کے عشق، لڑکوں کے عشق سب میں کارفرما نظر آتی ہے۔ ‘‘ ۳؎
یا یہ کہ
’’ ۔۔۔۔۔ حسن و عشق کی رنگینیوں میں تلاش کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔ جس کے تین مرکز تھے ابوالکلام کی ذات، عطیہ بیگم اور تیسرے مدراس کی کوئی ہستی۔ ‘‘ ۴؎
مندرجہ بالا دونوں اقتباسات کا حقائق کی روشنی میں تجزیہ کرنے سے یہ حقیقت مخفی نہیں رہتی کہ وحید قریشی نے ’’ نرگسیت ‘‘ کی اصطلاح سنی تو ضرور تھی مگر اس کے حقیقی مفہوم سے واقف نہیں تھے۔
اردو میں جس انگریزی لفظ کا ترجمہ ’’ نرگسیت ‘‘ کیا جاتا ہے وہ Narcissism ہے اور اس سے مراد خود پسندی، خود ستائی، جذبۂ محبوبیت، خود لذتی اور وہ ذہنی نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی ذات ہی کو سب کچھ سمجھتا اور اسی میں محو رہتا ہے۔ یہ مفہوم یونانی اساطیر سے ماخوذ ہے جس کے مطابق یونان میں ’’نرگس ‘‘ نام کا ایک شخص گذرا ہے جو اپنے حسن پر اتنا نازاں تھا کہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ ’’ ریکو ‘‘ نام کی ایک پری اس پر فریفتہ ہوگئی لیکن ’’ نرگس ‘‘ نے اس کو ٹھکرا دیا۔ ’’ ریکو ‘‘ یہ صدمہ برداشت نہ کرسکی اور گھل گھل کر مرگئی۔ اس کی زندگی ختم ہوگئی لیکن چونکہ اس کی موت اذیتناک کرب کا نتیجہ تھی اس لیے مرنے کے بعد بھی اس کی چیخ فضا میں گونجتی رہی۔ انتقام کی دیوی کو ’’ ریکو ‘‘ پر رحم آیا اور اس نے ’’ نرگس ‘‘ کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ سزا کے طور پر ’’ نرگس ‘‘ کو پانی کے ایک چشمے کے کنارے کھڑا کردیا گیا جس میں وہ اپنا عکس دیکھتا رہا اور بالآخر اپنے آپ پر عاشق ہوگیا۔ یہی عشق اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا اور وہ بھی گھل گھل کر مرگیا۔ جس جگہ وہ دفن ہوا وہاں ایک پھول کھلا اور اس پھول کو ’’ نرگس ‘‘ کا نام دے دیا گیا۔
علم نفسیات کی اصطلاح کے طور پر اس لفظ کو جن لوگوں نے استعمال کیا ان میں Alfred Binet کا نام بہت اہم ہے جس نے ۱۸۸۷ء میں Narcissism یعنی نرگسیت کی اصطلاح استعمال کی۔ ۱۸۹۸ء میں Havelock Ellis نے Narcissus Like Self Absorption جیسے جملے کے ذریعہ نرگسیت کے اصطلاحی مفہوم میں وسعت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ۱۸۹۹ء میں Paul Nacke نے اس لفظ کا استعمال ان مردوں کے لیے کیا جو دوسروں یا جنس مخالف کے جسم کے بجائے خود اپنے جسم سے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں اور ۱۹۱۴ء میں یعنی جس سال شبلی کا انتقال ہوا فرائڈ کا مضمون On Narcissism شائع ہوا جس میں اس نے نفسیاتی اعتبار سے اس لفظ یا اصطلاح کو وسیع تر مفہوم عطا کرتے ہوئے اس کو پرائمری اور سیکنڈری Narcissm میں تقسیم کرکے نتیجہ یہ اخذ کیا کہ نرگسیت کی ابتدائی شکل یہ ہے کہ انسان تمام تر جنسی قوتوں کو اپنے اندر مرکوز کرلے جبکہ اس کے بعد کی یا ترقی یافتہ نرگسیت یہ ہے کہ انسان جنسی تلذذ کی تمام صورتیں خود اپنی ذات میں تلاش کرے۔ فرائڈ کے شارحین کے لفظوں میں
Primary narcissism is a natural and necessary investment of one’s sexual energy in oneself, a sexual version of ordinary self-interest. Whereas secondary narcissism is a defensive reaction of withdrawing one’s sexual interest from other people and focusing it exclusively on oneself.
فرائڈ کے برعکس Karen Horney نے نرگسیت کو ذات سے برگشتگی کا اظہار قرار دیا ہے۔ اس کی نظر میں ایسا شخص ظلم، نمائش اور عریانیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔
اس لفظ یا اصطلاح کا استعمال ایسی ذہنی بیماری کے لیے بھی کیا جاتا ہے جس کا خاصہ Lack Of Empathy ہے۔ ان مفاہیم کی روشنی میں شبلی کی شخصیت میں کوئی ایسی علت یا علامت نظر نہیں آتی جس کے سبب ان پر نرگسیت کا الزام عائد کیا جاسکے۔ انھوں نے نہ تو اپنی ذات سے برگشتگی کا اظہار کیا نہ ہی ان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنسی تلذذ کی صورتیں وہ اپنی ذات میں تلاش کرتے تھے۔ وہ کسی طرح کی ذہنی بیماری اور خود پسندی میں بھی مبتلا نہیں تھے۔ خود پسندی میں مبتلا ہوتے تو بڑوں، چھوٹوں اور ہم عمر ادبیوں شاعروں کی مدح و ستائش نہ کرتے۔ اس لیے یہی کہا جاسکتا ہے اور یہی سچ بھی ہے کہ شبلی اپنی نو عمری میں اپنی عمر سے چالیس سال بڑے سرسید کی طرف متوجہ ہوئے، ادھیڑ عمر میں اپنی عمر سے ۳۰ سال چھوٹی عطیہ میں دلچسپی لی یا ابوالکلام آزاد ان کی توجہ کا مرکز بنے جو عمر میں ان سے ۳۱ سال چھوٹے تھے تو اس کی وجہ علمی شخصیتوں میں ان کی دلچسپی اور ان کی قدر دانی تھی۔ اس قدر دانی میں جمالیاتی احساس یا حسن پسندی کے جذبے کی فروانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شبلی حسن و نفاست اور جوہر قابل کے دلدادہ تھے اور جہاں کہیں کوئی جوہر قابل دکھائی دیتا تھا اس پر فدا ہوجاتے تھے، ایم مہدی حسن کے بقول
’’ مولانا (شبلی) ادبی حیثیت سے اس کا (حسن کا) نہایت صحیح مذاق رکھتے تھے۔ عالمانہ سنجیدگی کے ساتھ ان کی حکیمانہ شوخیاں سرمایۂ ادب ہوتی تھیں۔ ‘‘ ۵؎
لیکن جمالیاتی احساس یا کسی علمی شخصیت کے تصورات و نگارشات یا جوہر ذاتی میں جلوئہ حسن دیکھنے کی شبلی کی وضع کو نرگسیت سے تعبیر کرنا کور ذوقی اور نرگسیت کے مفہوم سے ناآشنائی ہے۔ سید شہاب الدین وسنوی نے اپنی کتاب ’’ شبلی، معاندانہ تنقید کی روشنی ‘‘ میں نرگسیت کی تفہیم میں دیڑھ صفحہ صرف کیا ہے مگر اس میں ایک جملہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے Men who were sexually excited by their own bodies rather than someone’s else’s کے مفہوم کی وضاحت ہوتی ہو۔ اس مفہوم سے واقفیت کے بغیر وحید قریشی کے اس الزام کی تردید نہیں ہوسکتی جو انھوں نے عطیہ اور ابوالکلام کا نام لے کر شبلی پر عائد کیا ہے۔ یہاں اس لفظ کی تفہیم کی کوشش اس لیے کی گئی ہے کہ اس تفہیم سے وحید قریشی کے الزام کی لغویت پوری طرح واضح ہوجائے۔
تیسری مثال پروفیسر ظہور الدین کے ایک مضمون کے اس جملے میں ہے کہ
’’ ۔۔۔۔۔ شبلی نے شعر العجم کی اس (پہلی) جلد کی تالیف کے دوران سب سے زیادہ استفادہ لٹریری ہسٹری سے کیا۔ بسا اوقات تو انھوں نے برائون کے دلائل کے محض ترجمہ کرنے پر ہی اکتفا کیا ۔۔۔۔۔ ‘‘ ۶؎
اس قسم کی کچھ باتیں ناصر عباس نیر نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھی ہیں اور ان تحریروں کے سبب شبلی کے کسی مضمون سے استفادہ کرنے، ترجمہ کرنے یا سرقہ کرنے کے مفاہیم ایک دوسرے میں خلط ملط ہوگئے ہیں۔ شبلی انگریزی کے اسکالر نہیں تھے۔ ان کے کسی مداح نے بھی ان کے انگریزی داں ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ ایسی صورت میں ان پر یہ الزام کیسے عائد کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے کسی انگریزی تحریر کا سرقہ یا ترجمہ کیا۔ انگریزی تحریروں کے اردو، عربی، فارسی ترجموں سے ان کے استفادہ کرنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ ضروری بھی تھا کہ اس کے بغیر اس موضوع کا حق نہیں ادا کیا جاسکتا تھا جس پر شبلی لکھ رہے تھے اس لیے شبلی پر ترجمہ یا سرقہ کرنے کا الزام بھی صحیح نہیں ہے۔ انھوں نے کئی مصنفین کی اصل یا ترجمہ کی ہوئی تحریروں کو پیش کرنے کے بعد اپنا تنقیدی نقطۂ نظر پیش کیا ہے اور تنقیدی نقطہ نظر کا اصل جوہر یا دوسرے لفظوں میں ادب کی اعلیٰ قدروں سے ان کی وابستگی، نکتہ سنجی و نکتہ آفرینی اور تربیت یافتہ ادبی مذاق سے آگہی اس وقت سامنے آئی ہے جب شبلی نے کسی تخلیق کار یا اس کے تخلیقی شاہکار کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ فردوسی اور عمر خیام وغیرہ پر ان کی تنقیدی نگارشات اور جملے اس کی دلیل ہیں۔ اس لیے شبلی پر ترجمہ یا سرقہ کرنے کا الزام اسی صورت میں قابل اعتناء ہوسکتا تھا جب ان کے تنقیدی جائزے یا اخذ کیے ہوئے نتیجے میں کسی اور کی تحریر کی نشاندہی کی جاتی۔ پروفیسر ظہور الدین اور ناصر عباس نیر کی کئی تحریریں استفادہ، ترجمہ اور سرقہ جیسے لفظوں میں حد فاصل قائم رکھنے میں ناکام رہنے کے علاوہ اس لیے بھی ناقابل اعتناء ہیں کہ ان میں شبلی کے مآخذ اور دلائل پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، اخذ کیے ہوئے نتائج پر نہیں۔
شبلی کی علمی فکری وراثت میں ان کا اسلوب نگارش بھی شامل ہے جس میں لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے معنوی مناسبت کے علاوہ صوتی مناسبت کا بھی التزام ہے۔ وہ اس حد تک لفظوں کے احترام کے قائل تھے کہ لفظوں کے اصراف سے ہی نہیں ان کے بے جا استعمال سے بھی گریز کرتے تھے۔ وہ فلسفیانہ موضوعات پر مضمون لکھ رہے ہوں یا علمی اور ادبی موضوعات پر، لفظوں کی اس تہذیب سے ان کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا جو جمالیاتی احساس اور علمی وقار سے عبارت ہے اور جس میں لطافت، متانت، سلاست اور لفظ کی کفایت کے ساتھ وضاحت، صراحت، قطعیت اور جامعیت بھی ہے۔ مثال کے طور پر پیش ہے ’’ شعر العجم ‘‘ سے ایک مختصر اقتباس :
’’ اس عالم میں شاعر کی تاریخ زندگی عجیب دلچسپیوں سے بھری ہوتی ہے۔ بلبل نے اسی عالم میں اس سے زمزمہ سنجی کی تعلیم پائی ہے۔ پروانے اس کے ساتھ کے کھیلے ہیں۔ شمع سے رات بھر وہ سوز دل کہتا رہا۔ نسیم سحری کو اکثر اس نے قاصد بنا کر محبوب کے یہاں بھیجا ہے۔ بارہا اس نے غنچہ کی عین اس وقت پردہ دری کی جب وہ معشوق کا تبسم چرا رہا تھا۔ واقعات عالم پر جب وہ عبرت کی نظر ڈالتا ہے تو ایک ایک ذرہ ناصح بن کر اس کو اخلاق اور موعظت کی تعلیم دیتا ہے۔ اس عالم میں وہ گور غریباں میں جا نکلتا ہے تو بوسیدہ ہڈیاں اعلانیہ اس سے خطاب کرتی ہیں۔ عالم شوق میں وہ پھول ہاتھ میں اٹھا لیتا ہے تو اس کو صاف معشوق کی خوشبو آتی ہے۔ ‘‘ ۷؎
شبلی کی اس نثر میں زمزمہ سنجی، شمع، پروانہ، سوز دل، نسیم سحری، معشوق کا تبسم، بوسیدہ ہڈیاں جیسے الفاظ اور تراکیب میں ارتباط لفظ و معنی کے ساتھ ارتباطِ صوت و حرف کی بھی خوبصورت مثالیں موجود ہیں اور ان کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ تراکیب و الفاظ بنے ہی تھے اس موقع و مقام کے لیے جہاں شبلی نے انہیں استعمال کیا ہے۔ معاندین شبلی کی تحریروں، خاص طور سے شبلی کی شخصیت کو داغدار یا ان کی علمی حیثیت کو ٹھیس پہنچانے کے لیے لکھی گئی تحریروں میں لفظ و معنی کے ارتباط اور الفاظ و تراکیب کے استعمال کی وہ تہذیب جو شبلی کی علمی فکری وراثت کے علاوہ اردو نثر کی بھی روح ہے، نہ صرف یہ کہ موجود نہیں ہے بلکہ اس میں استعمال کیے ہوئے بعض لفظ ’’ اسقاطِ لفظ ‘‘ کی مثال بن گئے ہیں۔
حواشی
۱ٍ۔ ڈاکٹر مرزا خلیل احمد بیگ, شبلی کا تصور لفظ و معنی , مشمولہ شبلی کی علمی و ادبی خدمات, نئی دہلی ۱۹۹۴ء, ص ۱۰۰
۲۔ مولوی محمد امین زبیری, خطوطِ شبلی, لاہور, ص ۳۶
۳۔ وحید قریشی, شبلی کی حیاتِ معاشقہ, لاہور , ص ۳۲
۴۔ وحید قریشی, شبلی کی حیاتِ معاشقہ, لاہور, ص ۴۱
۵۔ مہدی بیگم, مکاتیب مہدی, ص ۷
۶۔ پروفیسر ظہور الدین, شبلی : شعر العجم جلد اول کی روشنی میں, مشمولہ شبلی کی علمی و ادبی خدمات, نئی دہلی , ص ۱۱۲
۷۔ شبلی نعمانی, شعر العجم
Koza E Fikr by Safeer Siddiqui
Articles
کوزہِ فکر ( شعری مجموعہ)
سفیر صدیقی
Gadhey ki Sarguzisht
Articles
گدھے کی سرگزشت
کرشن چندر
Tazkara E Hindu Shoara E Bihar
Articles
تذکرہ ہندو شعرائے بہار
Selected Poetry of Akhtar Muslami
Articles
اختر مسلمی کا منتخبہ کلام
اختر مسلمی

اختر مسلمی کا نام عبید اللہ اور آبائی وطن پھریہا (اعظم گڈھ) تھا۔ یکم جنوری 1928 کو اعظم گڈھ کے مردم خیز گاﺅں مسلم پٹی میں آپ کی ولادت ہوئی اسی نسبت سے خود کو مسلمی لکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد حافظ عطاءاللہ صاحب سے حاصل کی، بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے انھوں نے 1938میں اپنے علاقہ کی مشہور دینی درسگاہ مدرسة الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڈھ میں داخلہ لیا اور 11 سال کی عمر میں حفظ قرآن مکمل کیا۔ اختر مسلمی کی شاعری کی ابتدا بہت کم عمر میں ہوگئی تھی. 12 برس کی عمر میں وہ باقاعدہ شعر کہنے لگے تھے۔ مشاعروں میں اختر مسلمی کی شرکت، مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی تھی۔ اختر مسلمی کے دو شعری مجموعے ”موجِ نسیم“ (1961) اور ”موجِ صبا“ (1981) ان کی زندگی میں شائع ہوگئے تھے جب کہ تیسرا شعری مجموعہ ”جام و سنداں“ ان کی وفات کے بعد ”کلیات اختر مسلمی“ میں شامل کردیا گیا ہے جس کا پہلا ایڈیشن 2013 میں شائع ہوا۔ کلیات اختر مسلمی کا دوسرا ایڈیشن بھی 2017 میں منظرِ عام پر آچکا ہے۔ اختر مسلمی نے مادرِ علمی مدرسة الاصلاح کا ترانہ بھی لکھا جو کلیات اختر مسلمی میں اصلاحی ترانہ کے عنوان سے شامل ہے۔ 25 اپریل 1989ءکو یہ آفتاب علم و دانش ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔
٭٭٭
آلودہِ غبار ہے آئینہِ حیات
اے گردشِ زمانہ کوئی تازہ واردات
ذرّوں پہ خندہ زن ہو نہ خورشید کائنات
ہے اس کو کب ثبات جو ان کو نہیں ثبات
پی جاﺅ اس کو گھول کے جامِ شراب میں
حد سے گزر گئی ہو اگر تلخیِ حیات
گھبرا کے مر تو جائیں غمِ زندگی سے ہم
مر کر بھی زندگی سے نہ پائیں اگر نجات
انساں کے دل کا حال بھی کتنا عجیب ہے
مانے تو ایک بات نہ مانے تو لاکھ بات
رنگتے ہیں لوگ اس کو فسانہ کے رنگ میں
لاتا ہے کون لب پہ محبت کے واقعات
اختر زباں سے بھی نہ کرو اس سے عرضِ حال
چہرے سے جو سمجھ نہ سکے دل کی کیفیات
٭٭٭
اے دلِ بے خبر ابھی کیا ہے
جانتا بھی ہے عاشقی کیا ہے
سبب جورِ بے رُخی کیا ہے
کچھ کہو وجہِ برہمی کیا ہے
جانے والا چلا گیا اب تو
نگہِ شوق دیکھتی کیا ہے
یاد مونس ہے غم گُسار ہے دل
شامِ فرقت میں بے کسی کیا ہے
جی رہا ہوں ترے بغیر مگر
اِک مصیبت ہے زندگی کیا ہے
جُز ترے کیا طلب کروں تجھ سے
مجھ کو تیرے سوا کمی کیا ہے
پَرتوِ حُسن روئے دوست ہے یہ
ماہ و انجم میں روشنی کیا ہے
دوستی میرے بخت سے ہے تجھے
مجھ سے اے نیند دشمنی کیا ہے
اپنے بس ہی کی جب نہیں اختر
ہائے ایسی بھی زندگی کیا ہے
٭٭٭
ازل سے سر مشق جور پیہم خَدنگ آفات کا نشانہ
میں سر سے پا تک ہوں نالہِ غم سناﺅں کیا عیش کا ترانہ
سنا تو میں نے بھی ہے کہ دامِ قفس کو ٹوٹے ہوا زمانہ
تمیز لیکن نہ کرسکا میں کہ یہ قفس ہے کہ آشیانہ
عجیب الجھن میں تو نے ڈالا مجھے بھی اے گردشِ زمانہ
سکون ملتا نہیں قفس میں نہ راس آتا ہے آشیانہ
اگر ارادے میں پختگی ہے تو پھیر دوں گا رُخِ زمانہ
جہاں پہ یورش ہے بجلیوں کی وہیں بناﺅں گا آشیانہ
مصیبتوں کے گِلے عَبث ہیں فضول ہے شکوہِ زمانہ
جو مجھ سے پوچھو تو میں کہوں گا کہ ہے یہ عبرت کا تازیانہ
اسیر زنداں تھے جیسے پہلے وہی ہیں حالات اب بھی لیکن
ہے فرق اتنا کہ ہم سمجھنے لگے قفس ہی کو آشیانہ
نہ مجھ کو پروا خِزاں کی ہوتی نہ خوف صیّاد و برق ہوتا
بدل لے اے کاش کوئی اپنے قفس سے میرا یہ آشیانہ
وفا تو میری سرِشت میں ہے وفا پرستی شعار میرا
جفائیں تم اپنی دیکھو پہلے، وفائیں میری پھر آزمانہ
ہے میرا ذوق سجود اب بے نیاز دیر و حرم سے اختر
جبیں جہاں خم کروں گا ہوگا وہیں نمودار آستانہ
٭٭٭
کون ہے جو چمن میں پریشاں نہیں
باغباں پھر بھی خوش ہے پشیماں نہیں
دیکھتے ہو گلستاں میں جو روشنی
بجلیاں ہیں یہ شمعیں فروزاں نہیں
دیکھیے اس کی بے رَہ روی دیکھیے
جیسے کشتی کا کوئی نگہباں نہیں
ہم بنا کر نشیمن خطاوار ہیں!
پھونک کر گلستاں تم پشیماں نہیں
خوف طوفاں سے لرزاں ہو ساحل پہ تم
گھِر کے موجوں میں بھی میں ہراساں نہیں
جب گریباں تھا دستِ جنوں ہی نہ تھا
آج دستِ جنوں ہے گریباں نہیں
اس قدر بڑھ گئی ظلمتِ شامِ غم
آسماں پر ستارے درخشاں نہیں
کیسی اختر چمن میں بہار آگئی
بلبلیں نالہ زن ہیں غزل خواں نہیں
٭٭٭
آئینِ جفا ان کا سمجھے تھے نہ ہم پہلے
ہوتا ہے ستم پیچھے کرتے ہیں کرم پہلے
کیوں سیرِ گلستاں پر ہے چیں بجبیں کوئی
زنداں میں بھی رکّھا تھا میں نے ہی قدم پہلے
آباد رہیں دونوں بُت خانہ بھی کعبہ بھی
یہ بات نہ تھی تم میں اے شیخِ حرم پہلے
ہنستے ہیں گلستاں میں پھر جاکے کہیں غنچے
کرتی ہے دُعا شبنم بادیدہِ نم پہلے
ہوتی نہ اگر کُلفت کیا لطف تھا راحت میں
رہتی ہے مسرّت بھی منّت کشِ غم پہلے
کوشاں ہیں نکلنے کو یوں جاں بھی تمنّا بھی
وہ کہتی ہے ہم پہلے یہ کہتی ہے ہم پہلے
ہے نورِ حقیقت کا جویا تو مگر زاہد
اس راہ میں ملتے ہیں انوارِ صنم پہلے
برہم انھیں کرنے کی مجرم مری آنکھیں ہیں
کچھ کہہ نہ سکا اُن سے یہ ہوگئیں نم پہلے
بخشا ہے محبت نے کچھ رنگِ اثر شاید
تھا تم میں کہاں اختر یہ زورِ قلم پہلے
٭٭٭
لذّتِ درد ابھی تک دلِ نخچیر میں ہے!
ہائے کیا چیز نہاں تیرے سرِ تیر میں ہے
ناز ہے اپنی اسیری پہ دلِ ناداں کو!
جانے کیا بات تیری زلفِ گرہ گیر میں ہے
التفات آنکھوں میں چہرے پہ مروّت کی ضیا
تجھ میں وہ بات نہیں جو تری تصویر میں ہے
کیا کروں لے کے مسیحا نفسوں کے احساں
مجھ کو معلوم ہے جو کچھ مری تقدیر میں ہے
جورِ اغیار نہیں اپنوں کی بیداد تو ہے
آج بھی پاﺅں مرا حلقہ¿ زنجیر میں ہے
دیکھ صیّاد ترا عیش نہ برہم ہو جائے
اتنی تاثیر ابھی نالہِ شب گیر میں ہے
دل لیا جان بھی لی اور بھی کچھ باقی ہے
کیوں ترا ہاتھ ابھی قبضہِ شمشیر میں ہے
ایک دھوکا ہے غمِ دل کا مداویٰ اختر
نا مرادی ہی ازل سے مری تقدیر میں ہے
٭٭٭
یہ ہوائیں ٹھنڈی ٹھنڈی یہ سکون بخش سائے
رہِ عشق کے مسافر تجھے نیند آ نہ جائے
یہ چمن، یہ تم، یہ موسم، یہ حسیں گُلوں کے سائے
میرا عہد پارسائی کہیں پھر نہ ٹوٹ جائے
جسے لذّتِ اسیری ہی ازل سے راس آئے
ترے دامِ زلف پُرخم سے کہاں نکل کے جائے
مرا دل پناہ دے گا مرے دل میں سر چھپائے
ترا تیر چشمِ ساقی جو کہیں اماں نہ پائے
یہ کرم نُما نگاہیں یہ وفا نُما تبسُّم!
کوئی جیسے ہلکے ہلکے مرے دل کو گد گدائے
مرے دل پہ ہاتھ رکھ کر مجھے دینے والے تسکیں
کہیں دل کی دھڑکنوں سے تجھے چوٹ آنہ جائے
یہ خلش، یہ سوزِ پنہاں، یہ جگر کے داغ تاباں
تمھیں منصفی سے کہہ دو کوئی کیسے مُسکرائے
شبِ غم نکل پڑا تھا مرے دل سے ایک نالہ
مجھے ڈر ہے ان کو یا رب کوئی آنچ آ نہ جائے
مری شاعری سے رغبت کبھی بے سبب نہیں ہے
اسے کیا پڑی ہے اختر مرا شعر گنگنائے
٭٭٭
لوگ یوں رازِ تعلق پاگئے
تذکرہ میرا تھا تم شرما گئے
پُرسشِ غم آپ یوں فرما گئے
جام میرے ضبط کا چھلکا گئے
کیا ستم ہے آئے بیٹھے چل دیے
تم تو آکر اور بھی تڑپا گئے
کیا خبر تھی سنگ دل نکلو گے تم
ہم تو اس صورت سے دھوکا کھا گئے
ان کی زلفیں ہی نہ سلجھیں اور ہم
داستانِ زندگی دہرا گئے
اس نے دیکھا مجھ کو اس انداز سے
کچھ جبینوں پر کئی بل آگئے
ہم کو سودا عشق کا مہنگا نہیں
کھوئے کچھ اس راہ میں کچھ پاگئے
٭٭٭
کہاں جائیں چھوڑ کے ہم اُسے کوئی اور اس کے سوا بھی ہے
وہی دردِ دل بھی ہے دوستو وہی دردِ دل کی دوا بھی ہے
مری کشتی لاکھ بھنور میں ہے نہ کروں گا میں تری منَّتیں
یہ پتا نہیں تجھے ناخدا میرے ساتھ میرا خدا بھی ہے
یہ ادا بھی اس کی عجیب ہے کہ بڑھا کے حوصلہ¿ نظر
مجھے اذنِ دید دیا بھی ہے مرے دیکھنے پہ خفا بھی ہے
مری سمت محفل غیر میں وہ ادائے ناز سے دیکھنا
جو خطائے عشق کی ہے سزا تو میری وفا کا صلہ بھی ہے
جو ہجومِ غم سے ہے آنکھ نم تو لبوں پہ نالے ہیں دم بدم
اسے کس طرح سے چھپائیں ہم کہیں رازِ عشق چھپا بھی ہے
یہ بجا کہ اخترِ مسلمی ہے زمانے بھر سے برا مگر
اسے دیکھیے جو خلوص سے تو بھلوں میں ایک بھلا بھی ہے
٭٭٭
گل ولالہ ہیں نہ طیور ہیں سبھی اس چمن سے چلے گئے
ہوئے کس عذاب میں مبتلا کہ یہ خود وطن سے چلے گئے
وہ نیاز ہے، نہ وہ ناز ہے، نہ وہ سوز ہے، نہ وہ ساز ہے
یہ بتا کہ اہلِ وفا کہاں تری انجمن سے چلے گئے
نہ جفا تھی میرے لیے جفا نہ ستم کو میں نے ستم کہا
جو گماں تھے تیری اداﺅں پر مرے حسنِ ظن سے چلے گئے
نہ وہ رنگ ہے، نہ وہ نور ہے، نہ وہ دل کشی کا سرور ہے
یہ نہ جانے کس لیے روٹھ کر گل و یاسمن سے چلے گئے
ترے غم کے ساتھ چلی گئی نہ رہی وہ رونقِ زندگی
سبھی عکس حسنِ خیال کے مرے فکر و فن سے چلے گئے
کہو اُس سے اخترِ مسلمی نہ رہے گی پھر یہ ہما ہمی
جو خدا نہ خواستہ ہم کبھی تری انجمن سے چلے گئے
٭٭٭
