Articles
Total 278 Articles

رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان سے ابھرنے والی دوایسی آوازیں تھیں جن کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ ایک طرف برطانیہ کا نوآبادیاتی غلبہ مضبوط ہورہا تھا تو دوسری طرف ہندوستانی عوام میں اس نوآبادیاتی غلبے کے خلاف بیداری بھی پیدا ہورہی تھی۔ کشمکش کے اس دور میں ہندوستان کے دو بڑے اذہان ،رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال نے ہندوستانی قوم کی رہنمائی کی۔ دونوں نے اس پیغمبری دور میں اپنے قلم کے ذریعے وطنیت سے لبریز نغمے لکھ...

پورا پڑھیں

مجاز کے چھوٹے سے شعری مجموعے کا ایک وصف ایسا بھی ہے جس کی طرف ابھی تک اردوکے علمی و ادبی معاشرے نے توجہ نہیں کی ہے۔ یہ مقالہ اس وصف کے حوالے سے مجاز کی باز تفہیم کی ایک سعیِ عاجز ہے۔ مجاز کے چھوٹے سے شعری مجموعے کا ایک وصف ایسا بھی ہے جس کی طرف ابھی تک اردوکے علمی و ادبی معاشرے نے توجہ نہیں کی ہے۔ یہ مقالہ اس وصف کے حوالے سے مجاز کی باز تفہیم کی ایک سعیِ عاجز ہے۔ جدید اردو شاعری کی روایت میں شاید ہی کسی کے یہاں Confessional Poetryکی اتنی...

پورا پڑھیں

کسی تخلیق کار کی ہمہ گیر عوامی مقبولیت اور ادبی حلقوں میں اس کی پذیرائی ناقد کو اس امر کا مکلّف نہیں بناتی کہ وہ مذکورہ فنکار کی تخلیقات کے مابہ الامتیاز عناصر بشمول موضوع ، اسلوب ،ہیئت ،ڈکشن اور فنی طریقۂ کارکے معروضی اور تجزیاتی مطالعے سے گریز کرکے محض موضوع کی Paraphrasingاور بعض غیر قطعی نیز پیش پا افتادہ تنقیدی اصطلاحات کا بے محابا استعمال کرکے اپنے تنقیدی فریضے سے عہدہ بر آہوجائے ۔مقام افسوس ہے کہ اردو کے بیش تر ناقدین نے عہد حاضر کے ایک مقبول شاعر مجاز کی شاعری کی تعیین قدر کے سلسلے میں...

پورا پڑھیں

  میں اپنی گفتگوکا آغاز ’حیات جاوید ‘ میں شامل خواجہ الطاف حسین حالی کے دیباچے کے ایک اقتباس سے کرنا چا ہو ں گا جس پر میں نے اپنی اور آپ کی سہولت کی خاطر نمبر ڈال کر اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے ۔سر سید کی لائف یا سیرت کے لکھنے کی غایت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہو ئے حالی فرماتے ہیں: میں اپنی گفتگوکا آغاز ’حیات جاوید ‘ میں شامل خواجہ الطاف حسین حالی کے دیباچے کے ایک اقتباس سے کرنا چا ہو ں گا جس پر میں نے اپنی اور آپ کی سہولت کی خاطر نمبر...

پورا پڑھیں

مقصود بستوی: نداؔ صاحب ! میں آپ سے جاننا چاہوں گا کہ نثر اور شاعری میں کیا رشتہ ہے۔ کیا یہ ایک دوسرے کو رد کرتی ہیں۔ ان میں باہمی داخلی جنگ ہے۔ اور یہ اپنی بقا کے لیے دوسری صنف کو کمزور کرنا ضروری سمجھتی ہیں؟ ندا فاضلی:شاعری کی طرح نثر بھی کئی رنگ روپ کی ہوتی ہے۔’صحافتی نثر‘، ’تنقیدی نثر‘،’ تجارتی نثر‘، ’تخلیقی نثر‘ ۔ میرے یہاں جو نثر ہے اس کا رشتہ میرے انھیں تجربہ و مشاہدہ اورسوچ کے زاویوں سے ہے جو وزن ، قافیہ اور ردیف کی پابندیوں میں شاعری میں ڈھل جاتے ہیں اور...

پورا پڑھیں

مدینہ منور کی شہری ریاست دس برس کے قلیل عرصہ میں ارتقاء کی مختلف منزلیں طے کر کے ایک عظیم اسلامی ریاست بن گئی ، جس کے حدودِ حکمرانی شمال میں عراق وشام کی سر حدوں سے لے کر جنوب میں یمن وحضر موت تک ، اور مغرب میں بحرِ قلزم سے لے کر مشرق میں خلیج فارس و سلطنتِ ایران تک وسیع ہوگئیں اور علمی طور سے پورے جزیزہ نمائے عرب پراسلام کی حکمرانی قائم ہوگئی ۔ اگر چہ شروع میں اسلامی ریاست کانظم ونسق عرب قبائلی روایات پر قائم واستوار تھا تا ہم جلد ہی وہ ایک ملک...

پورا پڑھیں

جس وقت تحریکِ آزادی شباب پرتھی اس وقت بمبئی ذریعۂ معاش کا اہم مرکزتھا۔ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے بمبئی میں داخل ہورہے تھے جس میں ایک بڑا طبقہ ادیبوں کا بھی تھا۔ پریم چند سے لے کر کرشن چندر، منٹو، بیدی، عصمت اور خواجہ احمدعباس جیسے اعلا پایہ کے ادیبوں نے ممبئی کی ادبی محفل کو رونق بخشی۔یہ شہر اس وقت جدید افسانہ کا مرکز تھا۔ جب یہاں کے ادیبوں نے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی تو ادبی دنیا میں ایک انقلاب آگیا۔ اس تحریک نے جہاں دبے کچلے افراد کی زندگی اور ان...

پورا پڑھیں

مختار احمد (م۔ ناگ) نے مغربی وِدربھ کے ضلع ناگپور کے ایک غریب اور کثیر عیال ہیڈ کانسٹیبل کے یہاں جنم لیا تھا۔ اُس کے والد نے ایمان داری میں گزر بسرکی تھی اور وہ اپنے خاندان کو غریبی کی ظلمت سے نہ نکال سکے تھے۔ پہلی کلاس ہی میں مختار احمد نے چار سال لگا دیے تھے، اس لیے کہ ہر سال کسی نہ کسی سبب سے اُس کے والد کا تبادلہ ہو جانے کی وجہ سے وہ امتحان ہی نہیں دے پاتا تھا۔ اُس نے لکھا ہے کہ ’پولیس کالونی میں کوئی گھریلو تقریب ہوتی تو ہمارے کپڑے،...

پورا پڑھیں

ایک عہد کی episteme دوسرے عہد میں بدل جاتی ہے۔ episteme سے مراد ہے علمیاتی زمرہ یعنی کسی عہد کے مباحث، مسائل، توقعات، تعصبات، علمیاتی موقف وغیرہ۔ علمیاتی افق کوئی منجمد شے نہیں بلکہ انسانی سرگرمی کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوتا رہتا ہے اور ایک دور اپنی توقعات و تعصبات کے ساتھ دوسرے دور میں بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جدیدیت کے عہد کی episteme کی سب سے بڑی پہچان ideology سے بیزاری تھی اور آئیڈیولوجی سے مراد وہ سیاسی آمریت تھی جس کا نفاذ پارٹی کرتی تھی۔ اس episteme کے بدلنے کے بعد نہ صرف آئیڈیولوجی...

پورا پڑھیں

مقدر حمید کا پہلا افسانوی مجموعہ ’زربیل‘ ۸۹ کے اواخر میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ جس میں ڈیڑھ درجن کہانیاں شامل ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا تعلق آٹھویں دہائی میں سامنے آنے والے افسانہ نگاروں میں کیا جاسکتا ہے۔ اردو فکشن کا باشعور قاری اس حقیقت سے واقف ہے کہ آٹھویں دہائی تک آتے آتے اردو افسانہ دو اہم ادبی رجحانات سے گزر چکا تھا جنھیں ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کے رجحان سے پہچانا جاتا ہے۔ ان دونوں رجحانات کی اپنی اپنی خصوصیات تھیں جن پر برسوں بحثیں ہوئی ہیں اور دفتر کے...

پورا پڑھیں
1 10 11 12 13 14 28