Literary & Linguistic Relation Between Arabic & Urdu

Articles

عربی اور اردو کے لسانی و ادبی روابط

پروفیسر یونس اگاسکر

 

بر صغیر کے اردو بولنے ، پڑھنے او ر لکھنے والوں کی اکثریت کی اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے وابستگی کے سبب عربی زبان ان کے دلوں میں الفت و احترام کے جذبات کو موجزن کر دیتی ہے مگر اسے سیکھنے اور اس پر عبور حاصل کر لینے کے لیے جن عملی و ذہنی رکاوٹوں سے دو چار ہو نا پڑتا ہے ان کی وجہ سے اردو والے عموماً عربی سے پناہ مانگتے ہیں ۔ عربی کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں کہہ سکتا ہوں کہ عربی کے لیے طلبہ کے دلوں میں استکراہ پیدا کرنے میں اس زبان کا اردو سے مختلف گرامر اور خصوصاً اس کی تدریس کا روایتی بلکہ دقیانوسی طریقہ ایک بڑا سبب بنتا ہے ۔ طالب علم کو گردانیں اور صیغے ذہن نشین کرانے میں اساتذہ جو سختی کرتے ہیں ، وہ طلبہ کے چمن ذہن و قلب آبیاری کی کرنے کے بہ جائے اس میں بادِ سموم پھیلانے کا کام کرتی ہے ۔ لیکن بے چارے اساتذہ بھی کیا کریں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ Shereiz no royal road in arobicاس کے باوجود جب ہم اردو زبان کے لسانی رگ و ریشے او رادبی و روپ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں عربی زبان ، اردو کے خون میں گردش کرتی نظر آتی ہے اور جس طرح انسان اپنے اند رخون کی گردش کو محسوس نہیں کر سکتا، اسی طرح ایک عام اردو والااپنی زبان میں شامل عربی کے الفاظ کو نہیں پکڑ سکتا جب تک کہ وہ اچھی نبض شناسی نہ سیکھ لے ۔
اردو زبان میں روز مرہ بات چیت ہو کہ علمی گفتگو ، سائنسی و تکنیکی تحقیق و تدقیق ہو کہ ادبی و شعری تنقید و تخلیق ، تذکر ہ ہو یا تجزیہ ، تعارف ہو یا تبصرہ عربی سے استعانت کے بغیرنوالہ توڑنا مشکل ہو تا ہے ۔ اردو تحریرو تقریر میں عربی کی مانوس اصطلاحات و تعبیرات یا معروف تراکیب کو تو ہم ان کی خصوصی و امتیازی حیثیت کے سبب بڑی آسانی سے پہچان لیتے ہیں ، لیکن بہت سے لفاظ و تراکیب اتنی خاموشی سے ہماری زبان میں سرایت کر گئی ہیں کہ ان کی نشان دہی کرنا بھی آسان نہیں ہو تا ۔
مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی جھجھک نہیں محسوس ہوتی کہ ہندی کے مقابلے میں اگر اردو کی الگ شناخت فارسی سے زیادہ عربی عناصر کے سبب قایم ہوتی ہے ۔ عربی کے لسانی عناصر سے مملو تحریر کو خواہ اردو رسمِ خط میں لکھا جائے خواہ دیو ناگری لپی میں ، وہ فوراً بول پڑے گی کہ میں اردو ہوں ۔ خیر اردو ہندی کا ٹنٹا کھڑا کیے بغیر میں اس وقت ایسی تین مثالیں دینا چاہوں گا جن سے بآسانی پتا چل سکے گا کہ تمام پڑھے لکھے اردو دانوں کی تحریر و تقریر خواہ وہ عمومی ہو یا اختصاصی ، عربی کے لسانی و ادبی عناصر سے مملو ہوتی ہے ۔ یاد رہے یہ مثالیں منفرد نہیں ہیں اور اس طرح کی مثالیں کسی بھی اخبار یا رسالے سے اخذ کی جا سکتی ہیں ۔ میں نے یہ مثالیں ممبئی سے شایع ہونے والے ایک رسالے ’ اردو چینل کے تازہ شمارے سے اخذ کی ہیں جو دو روز قبل ہی مجھے موصول ہوا ہے ۔ سب سے پہلے میں مرحوم رشید حسن خاں کے ایک انٹرویو کے چند جملے پیش کروں گا ۔ ملاحظہ فرمائیں :
” ہمارے ہاں شرح نگاری کی جو قدیم روایت تھی ، اس میں کسی بھی شرح نگار نے یہ نہیں کہا کہ ایک شعر کا ایک ہی مفہوم ہوتا ہے ۔ ہمیشہ مانا گیا ایک شعر کے متعدد مفاہیم ہو سکتے ہیں لیکن وہ مفاہیم بر آمدانھیں الفاظ سے ہوں گے ، خارج سے نہیں آئیں گے اور الفاظ جن مفاہیم سے مناسبت نہ رکھتے ہوں ان کو شاعر سے منسوب نہیں کیا جا سکتااور نہ شعر سے “
اس ٹکڑے میں ’ شرح نگاری‘ کی ترکیب میں فارسی شامل ہے اور دو لفظ فارسی کے آزادانہ طور پر استعمال ہوئے ہیں ’ ہمیشہ ‘ اور ’ بر آمد‘ ۔ ان کے علاوہ باقی سارے الفاظ ( ہندی کے افعال و حروف سے قطع نظر) عربی کے ہیں ۔اب ایک اور اقتباس ملاحظہ فرمائیں جس مین قاضی محمد عدیل عباسی کے بارے میں صرف یہ اطلاع دی گئی ہے کہ انھوں نے دور طالبعلمی ہی سے تحریک آزاد ی میں حصہ لینا شروع کردیا تھا ۔
1920ءمیں بی اے پاس کیا ۔ پھر قانون کی تعلیم حاصل کر نے کے لیے ا لٰہ آباد گئے ۔ الٰہ آباد یونیورسٹی کے اسکول آف لا میں داخلہ لیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ترک موالات کی تحریک زوروں پر تھی ۔ قاضی صاحب اس تحریک سے بہت متاثر ہوئے اور جلد ہی یونی ورسٹی کو خیر آباد کہہ کر تحریک آزادی سے جڑ گئے ۔ تحریک ترکِ موالات کی حمایت میں ملک کے مختلف حصوں میں جلسے ہوتے ۔ ان جلسوں میں قاضی صاحب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور تقریریں کرتے تھے ۔“
اس تحریر میں بھی صرف دو لفظوں میں فارسی کا اثر ملتا ہے ” زوروں “ اور ” خیر آباد “۔ باقی سارے الفاظ ( ہندی کے افعال و حروف سے قطع نظر ) عربی کے ہیں ۔ یعنی ایک سیدھی سادی معلوماتی تحریر میں بھی بنیادی الفاظ عربی سے ماخوذ ہیں جن کی مدد کے بغیر مصنف کا قلم آگے نہیں بڑھ سکتا ۔
اب میں تیسری مثال ایک ایسی تحریر کی دینا چاہوں گا جس میں ادب میں مستعمل اصطلاحات کی مدد سے ایک ادبی تھیوری سے متعلق کسی اردو ناقد کی پیش کردہ وضاحت کا تعارف پیش کیا گیا ہے :
” مصنف کا موقف بھی یہی ہے کہ ساسیور اور دریدا کی اس لسانی تھیوری کا نہ صرف تفصیلی مطالعہ کیا جائے بلکہ توضیحات او ر دلائل کے ساتھ اردو ادب کے تخلیقی متون پر بھی اس کا اطلاق کیا جائے جن کی نشانیاں ہمیں بڑے ناقد کے یہاں ملنے لگی تھیں ۔ ان مباحث سے پرے کی مذکورہ محتویات دیگر نظریہ ساز قبول کریں گے بھی یا نہیں ، ان کا سراغ لگانا اور صراحت کے ساتھ بیان کرنا،ایک دقت طلب مرحلہ تھا ۔“
اس اقتباس میں بھی ” نشانیاں “ ’ سراغ“ اور ” نظریہ ساز“ ان تینوں لفظوں اور ہندی کے افعال و حروف سے صرف نظر کریں تو تقریباً بیس لفظ یا ترکیبیں عربی سے ماخوذ ہیں ۔
ان تین مثالوں کا مزید تجزیہ کیے بغیر بھی یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اردو سے عربی کا لسانی و ادبی رشتہ بہت گہرا اور قریبی ہے اور اس پر گفتگو کے لیے ایک سیمنار کا انعقاد نہایت موزوں اقدام ہے ۔ یہاں البتہ ایک خطرے کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ عربی دنیا کی عظیم ترین زبانوں میں سے ایک ہونے او ر اردو پر اسے کئی اعتبار سے فوقیت حاصل ہونے کے سبب شرکائے مذاکرہ مرعوبیت کا شکارہ نہ ہو جائیں اور اردو کو ایک آزاد اور خود مختار زبان سمجھنے کے بہ جائے اسے عربی کی دست نگر اور خوشہ چیں کے طور پر نہ پیش کرنے لگیں ۔ ان کو ایسے میں انشاءاللہ خاں انشاکی یہ با ت یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی لفظ خواہ عربی کا ہو، فارسی کا ہو یا ترکی کا، جب اردو میں آگیا تو اردو کا ہو گیا ۔ اب تلفظ ،معنی اور محل استعمال کے اعتبار سے وہ اردو کے چلن اور قاعدے کا پابند ہو گا ۔ انشا کے اس قول میں صرف لفظ املا کا اضافہ کر دیا جائے تو بات اور بھی مکمل ہو جائے گی ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عربی کے علماو اساتذہ اردو والوں کے تلفظات ، عربی الفاظ کے معانی و محلّ ِاستعمال اور ان کے املا پر تضحیک آمیز انداز میں اعتراض کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انھیں جاہل ٹھہرانے میں بھی کمی نہیں کرتے ۔ ایسے ہی دو تین عربی داں علما نے ’ قاموس الاغلاط“ کے نام سے ایک چھوٹی سی فرہنگ مرتب کی تھی اور اردو کے بیش تر اہل ِ قلم کی تحریروں سے مثالیں دے کر الفاظ کو ان کے اصلی عربی معنی ، محاورے اور تلفظ کے مطابق استعمال نہ کرنے پر انھیں اعتراض بلکہ استہزا کا نشانہ بنایا تھا ۔ ایسا ہی ایک لفظ ” مشکور “ ہے ۔ جسے شاکر یا متشکر سے بدلنے کا مشورہ اردو والوں کو گذشتہ ایک صدی سے دیا جا رہا ہے جب کہ یہ لفظ شبلی اور حالی تک کی تحریروں میں ’شکر گذار ‘کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور مولانا سید سلیمان ندوی جیسے عربی کے جید عالم نے ’ مقالاتِ سلیمانی‘ میں مشکور کی جگہ شاکر یا متشکر بولنے اور لکھنے کا مشورہ دینے والوں کے سلسلے میں اردو والوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ شکریے کے ساتھ یہ مشورہ انھیں کو لوٹا دیں ۔ میرا جی چاہتا ہے کہ کوئی صاحب اپنے مقالے میں اردو میں مستعمل ایسے تمام نہیں تو بیش تر الفاظ کو جو ’ معنی ، ’ تلفظ‘ املا اور محلِّ استعمال کے اعتبار سے قطعاً اردو کے ہو گئے ہیں ، زیر بحث لائیں اور معترضین کے ساتھ اردو کے عام قارئین کے ذہنی جالوں کو بھی صاف کریں ۔
بر صغیر میں اسلامی و مشرقی علوم و فنون خصوصاً تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، طب یونانی کے علاوہ فن تعمیر ، علم ہندسہ ، نقاشی،خطّاطی وغیرہ سے اردو والوں کو خاص جڑاو¿ اور لگاو¿رہا ہے ۔ چنانچہ ان شعبوں سے متعلق وہ تمام اصطلاحات و اظہارات جو عربی سے ماخوذ ہیں ، اردو میں بھی مستعمل ہیں ۔ ان مستعار عناصر کے سبب اردو کا رشتہ عربی سے کتنا گہرا اور پر معنی ہو گیا ہے ، اس پرتحقیقی و تنقیدی نگاہ ڈالنا بھی مفید ہو گا اور مجھے یقین ہے کہ شرکائے مذاکرہ میں سے کسی نہ کسی نے اس پر توجہ کی ہو گی ۔
اردو اور عربی کے درمیان لسانی و ادبی رشتے کی جڑوں کے تلاش میں تراجم کا جائزہ لینا بھی کار آمد ہو سکتا ہے ۔ صرف قرآن کے ہی تراجم کا لسانی و ادبی تجزیہ کیا جائے تو اردو کے اسلوبیاتی ارتقا کی تاریخ کا ایک مختلف باب وا ہوسکتا ہے۔ قرآن کے متعدد تراجم کا تقابلی جائزہ بھی نہایت سنجیدگی اور ارتکاز کا تقاضا کرتا ہے اور اس سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے اردو کے ساتھ عربی پر بھی غیر معمولی عبور کی ضرور ت ہے ۔ ممکن ہے اس مجلس میں موجود علما میں کوئی عربی داں صاحب نظر اسکالر اس پہلو کو بھی لائق توجہ سمجھیں اور سیمنار کے بنیادی مو ضوع کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں ۔
عربی سے اردو تراجم کی دنیا تو اتنی وسیع ہے کہ صرف اسی موضوع پر ایک سہ روزہ سیمنار منعقد ہو سکتا ہے اور اس کے بعد بھی شاید تشنگی باقی رہے ۔معزز سامعین ! میں نے قصداًاپنی تقریر میں محض بنیادی موضوع کے بعض پہلوو¿ں کی نشان دہی کو ملحوظ رکھا ہے۔ ممکن ہے اس سے آپ کی تشنگی رفع نہ ہوئی ہو اور آپ نے مجھ سے جو توقع وابستہ کی ہو وہ بھی پوری نہ ہوئی ہو ۔ لیکن آپ خاطر جمع رکھیں ۔ میرے بعد صدر محترم کے خطبہ¿ صدارت اور سیمنار میں شریک اہل علم کے مقالات سے آپ کے ذوق و جستجو کی سیرابی یقینا ہوگی اور آپ کے ساتھ یہ ناقص العلم بھی یہاں سے فیض یاب ہو کے چلے گا ۔
٭٭٭