A’sr E Hazir Mein Sir Syed ke Afkaar ki Ma’niuet

Articles

عصر حاضر میں افکار سر سید کی معنویت

پروفیسریو نس اگاسکر

 

میں اپنی گفتگوکا آغاز ’حیات جاوید ‘ میں شامل خواجہ الطاف حسین حالی کے دیباچے کے ایک اقتباس سے کرنا چا ہو ں گا جس پر میں نے اپنی اور آپ کی سہولت کی خاطر نمبر ڈال کر اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے ۔سر سید کی لائف یا سیرت کے لکھنے کی غایت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہو ئے حالی فرماتے ہیں: میں اپنی گفتگوکا آغاز ’حیات جاوید ‘ میں شامل خواجہ الطاف حسین حالی کے دیباچے کے ایک اقتباس سے کرنا چا ہو ں گا جس پر میں نے اپنی اور آپ کی سہولت کی خاطر نمبر ڈال کر اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے ۔سر سید کی لائف یا سیرت کے لکھنے کی غایت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہو ئے حالی فرماتے ہیں:   {۱}   اس بزرگ کی لائف ہم کونصیحت کرتی ہے کہ زمانے کی مخالفت کو خدا کی  مخالفت سمجھ کر اس کے ساتھ مو افقت پیدا کر و تاکہ دنیا میں آرام سے اور عزت سے زندگی بسر کرو ۔{۲} جب تم میں عمدہ حاکم بننے کی لیاقت باقی نہ رہے تو عمدہ رعیت بننے میں کوشش       کرو تا کہ دونوں عمدگیوں سے ہاتھ نہ دھو بیٹھو۔(وہ بتاتی ہے کہ کوئی قوم محکوم        ہونے کی حالت میں کیوں کر قومی عزت حاصل کر سکتی ہے۔){۳} وہ جس طرح ہم کو آزادیِ رائے کی تعلیم دیتی ہے ،اسی کی طرح یہ بھی سکھاتی         ہے ہم کیوں کر اپنی آزادی کو قائم رکھ سکتے ہیں ۔ِ{۴} وہ ہم کو سبق دیتی ہے کہ قوم کی خیر خواہی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ        بہت سے کام ان کی عقل اور عادات اور مرضی کے خلاف نہ کیے جائیں اور ان        کی مخالفت کو صبر و استقلا ل کے ساتھ بر داشت نہ کیا جائے ۔{۵} وہ ہم کو تعصبات سے متنفر کرتی ہے ،غیر قوموں کے ساتھ حسن معاشرت سکھاتی        ہے ،دوستوں کے ساتھ خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان، عیسائی ہوں یا یہودی        خلوص اور سچائی سے ملنا سکھاتی ہے ۔ {۶} وہ ہم کو ہدایت کرتی ہے کہ جیسا دل میں سمجھو ویسا ہی زبان سے کہو اور جو کچھ کہو        اس کو کر دکھائو ۔{  ۷}وہ بآواز بلند کہتی ہے کہ وقت کی قدر کرو ،ڈیوٹی کا خیال رکھو ،ایک لمحہ بے کار نہ          رہو اور کام کرتے کرتے مر جائو ۔ ہمارے موجودہ حالات اور طرز فکر و عمل کے تناظرمیں ہم حالی کی بیان کردہ ان اچھی باتوں پر غور کریں تو ہمارا دل فوراً گواہی دے گا کہ سر سید کی حیات اور ان کے خیالات کی معنویت ہمارے دور میں نہ صرف بر قرار ہے بلکہ مزید اجاگر ہو گئی ہے ۔ سر سید نے جب ہوش کی آنکھیں کھولیں تو ایک شاندار حکومت کا سورج جس نے طبقۂ اشرافیہ کے گھرانوں میں روشنی اور گرمی کے ساتھ توانائی پیدا کی تھی ، غروب ہو چکا تھا اور صرف دھند لکا باقی تھا ۔ اس دور حکومت کی پروان چڑھائی ہوئی ہندوستانی مسلم تہذیب کے ایوانوں میں بھی فانوس خیال کی گردش کا ساسماں تھا ،در ودیوار روشن تو تھے مگر ان پر رقص کرتے ہوئے مناظر اتنی تیزی سے بدل رہے تھے کہ سر چکرانے لگتے تھے ۔ایسے میں ۱۸۵۷ ء کی قیامت صغرا نے سب کچھ تہ وبالا کر دیا ۔ ’’زمانہ با تو نہ ساز دتو بازمانہ بساز‘‘ کا سبق پڑھنے والوں کے ہوش و حواس بھی پر زن ہو گئے ۔پرانی بساط کے الٹ جانے کے بعد نئی بساط بچھی تو پتہ چلا کہ نہ صرف مہرے بدل گئے ہیں بلکہ چالیں بھی نئی چلی جا رہی ہیں۔ سر سید ان بدلے ہوئے حالات کے عینی مشاہدین اور ان سے متاثربھی تھے مگر انھوں نے شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپا کر جینے کی بجائے آندھی میں بھی اپنا راستہ تلاش کرنے کی تدبیر کی۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ابتدا میں آندھی کی مخالف سمت میں بھی چلے تھے۔ ان کی ابتدائی قلمی کا وشات میں ان کی ماضی پرستی و احیا پسندی کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد میں رواداری کی کمی جھلکتی ہے ۔مثلاََ سلاطین تموریہ کے تذکرے ’جام جم ‘اور’’آئین اکبری ‘‘کی تر تیب و تصحیح کے ذریعے وہ ماضی کی باز آفرینی کے طالب نظر آتے ہیں۔ اسی طرح رسالہ راہ سنت و ردّبدعت اور شیعی عقائد کی تر دید میں شاہ عبدالعزیز دہلوی کے’’ تحفۂ اثناعشریہ‘‘کے ایک باب کا کیا ہوا ان کا ترجمہ ’تحفہ حسن‘ ان کی بے لچک و ہابیت کے غماز ہیں۔لیکن انھوں نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ وہ حاکم ازل کی سلطنت کو کوئین و کٹوریہ کی حکومت سے بھی محدود سمجھ رہے ہیں جس میں مذہب و ملت اور فرقے و طبقے کے لوگوں کو اپنے عقیدے اور رسم ورواج کے مطابق چلنے کی آزادی میسّرہے۔ اور جب وہ انگلستان کے سفر سے واپس لوٹے تو انگریزی تہذیب و تمدن اور طرز حکومت و معاشرت کے مطالعے و مشاہدے نے ان کی سوچ کی دنیا ہی بدل ڈالی ۔ انھیں یقین ہو گیا کہ محض ایک سچا مسلمان ہو نے کے بجائے ایک اچھا شہری بننا ضروری ہے ۔اور اس کے لیے انگریزوں کے لائے ہوئے طرز حکومت ،نظام تعلیم اور حسن معاشرت کی تقلید لازمی ہے لیکن اپنی شناخت کو باقی رکھنے اور اپنی اجتماعیت کی حفاظت کرنے کے لیے اپنی تہذیب و مذہبی روایات کی پاس داری بھی ضروری ہے۔ سر سید نے زمانے کی مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے حالات کو بھی موافق بنانے میں تن من دھن کی بازی لگا دی لیکن دنیا میں آرام سے رہنے اورعزت سے زندگی بسر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی قومی شناخت اور قومی مفادات کے تحفظ کی بھی جان توڑ کوشش کی ۔ معاف کیجیے ، میں نے آرام سے رہنے کی بات محض حالی کے اتباع میں کہی ہے ، ورنہ سر سید کی قسمت میں آرام کہاں تھا ۔حالی کا اقتباس تو آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں اب خود سر سید کی گواہی بھی سماعت فرمائیے۔ اپنے مضمون ’’امید کی خوشی‘‘ میں خود کو اپنا ہی غیر تصور کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ وہ قومی بھلائی کا پیاسا اپنی قوم کی بھلائی کی فکرکرتاہے دن رات اپنے دل کو جلاتا ہے، ہر وقت بھلائی کی تدبیر یں ڈھونڈتا ہے (اور) ان کی تلاش میں دور دراز کا سفر اختیار کرتا ہے۔ یگانوں بیگانوں سے ملتا ہے ۔جن کی بھلائی چاہتا ہے انھیں کو دشمن پاتا ہے ۔شہری وحشتی بتاتے ہیں، دوست آشنا دیوانہ کہتے ہیں، عالم فاضل کفر کے فتووںکا ڈر دکھاتے ہیں ۔بھائی بند عزیز اقارب سمجھاتے ہیں اور پھر یہ شعر پڑھ کر چپ ہو جاتے ہیں :  وہ بھلا کس کی بات مانے ہیںبھائی سید تو کچھ دِوانے ہیں  ہو سکتا ہے ہمارے عہد کے اکاّدکا ّ دیوانوں میں سر سید کی مذکورہ خصوصیات پیدا ہو جائیں مگر ان کی سی ہمہ جہت و ہمہ صفت شخصیت کا ورود مسعود اب ممکن نہیں ہے۔ ہندوستان کی انیسویں صدی کسی اعتبار سے قحط الرجال کی صدی نہیں تھی اس کے باوجود سر سید کو جتنے محاذوں پر قومی، تہذیبی ،علمی ، سیاسی ،مذہبی ،اخلاقی ، اصلاحی اور تعلیمی جنگ لڑنی پڑی ، اس کی مثال ہمارے ملک کی تاریخ میں تو نہیں ملے گی ۔ پروفیسر آرنلڈ نے سر سید کی وفات کے بعد لاہور میں منعقدہ تعزیتی جلسے میں سر سید کی مختلف النوع شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا :’’تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوگا کہ دنیا میں بڑے آدمی تو اکثر گزرے ہیںلیکن ان میں بہت کم ایسے نکلیں گے جن میں یہ حیرت انگیز اوصاف اور لیاقتیں مجتمع ہوں ۔وہ(سر سید) ایک ہی وقت میں اسلام کا محقق ،علم کا حامی ، قوم کا سوشل ر فارمر ، پولیٹیشن،مصنف اور مضمون نگار تھا ۔ اس کا اثراس سوچنے والے عالم کا سانہ تھا جو گوشۂ تنہائی میں بیٹھا اپنی تحریروں سے لوگوں کے دلوں کو اکسائے بلکہ وہ اعلانیہ دنیا کے سامنے لوگوں کا رہبر بن کر آیا ۔اس لیے آیا کہ جس بات کو سچ اور صحیح سمجھے، اگر اس کی دنیا مخالف ہو تو بھی ساری دنیا سے لڑنے کے لیے ہر وقت آمادہ اور تیار رہے۔‘‘(برگ گل سر سید نمبر) پروفیسر آرنلڈ کی بات کو ڈاکٹر سید عبداﷲ نے تہذیب الاخلاق کی اہمیت کے حوالے سے قدرے تفصیل اور وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے ۔’’ تہذیب الاخلاق کے مشتہرہ مقاصد کا دائرہ بہت وسیع تھا۔مثلاً فرد کے اخلاق کی اصلاح ،قومی اصلاح و تکمیل ،تہذیب و شائستگی اور قومی عزت کا احساس پیدا کرنا ،قوم کو جدید تر قیاتِ علمی کی طرف راغب کرنا ،علمی نقطۂ نظرکی اصلاح ، دینی زاویۂ نگاہ کی اصلاح ، ادب و انشا کے لیے ذوق صحیح کا پیدا کرنا ،اردو کو قومی حِسیات اور اجتماعی افکار کا ترجمان بنانا اور با لآ خر (بہ قول مولانا حالی) قوم میں زندہ دلی پیدا کرنا۔‘‘(بر گ گل ،سر سید نمبر ۱۹۵۵ء)  سر سید کی خدمات کا جب بھی ذ کر ہوتا ہے ،ان کی تعلیمی سر گرمیوں ، مسلمانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کی کاوشوں ،اخلاقی خرابیوں اور سماجی برائیوں کو دور کرنے کی کوششوں اور اردو کو جدید دور کے تقاضوں کی تکمیل کے لایق بنانے کی تدبیروں کو نمایاں طور پر بیان کیا جاتا ہے لیکن ان کی ایک نہایت اہم خدمت یعنی مسلمانوں کے علمی نقطۂ نظر اور دینی زاویۂ نگاہ کی اصلاح میں کی گئی ان کی مساعی کو بہ نظر تعمق نہیں دیکھا جا تا ۔ سر سید کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ مسلمانوں کی دنیوی علوم سے دلچسپی میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں دنیوی ترقی کی رفتارمیں تیزی اس وقت ممکن ہے جب انھیں اسلام کی عظمت رفتہ کی باز آفرینی کے تصور سے باز رکھا جائے۔سر سید نوجوانی میں وہابی اور اہل حدیث تھے مگر آگے چل کر انھیں یہ احساس ہو گیا کہ ان عقائد کے تحت وہ مذہب کی حرکی قوت سے منحرف ہو گئے ہیں اور مذہب کو ایک جاطرز حیات بنا کر اس کے فطری ارتقامیں مانع ہو رہے ہیں۔  سر سید کے نہایت معرکہ آرا مضمون ’’آزادیِ رائے ‘‘کے حوالے سے ان کی تعقل پسندی اور حق پر ستی پر گفتگو کی جائے تو عصر حاضر کے لیے ان کے افکار کی معنومیت کو اجاگر کرنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے ۔سر سید نے ابتدا ہی میں اس حقیقت کا اعلان کیا ہے کہ ہر انسان کو آزادی ِرائے کا پورا حق ہے اور کسی رائے کی صحت یا غلطی کا دارو مدار ماننے والوں کی قلت یا کثرت پر نہیں ،قوت استدلال پر ہے ۔یعنی ایک تنہا آدمی کی رائے بھی اجتماعی رائے کے مقابلے میں صحیح و درست ہو سکتی ہے۔  محض کسی مذہبی خوف یا قوم و برادری کے اندیشے یا بد نامی یا حکومت کی تعذیر کے ڈر سے آزادی ِرائے کا استعمال نہ کرنا ،فرد و قوم بلکہ پوری انسانیت کے لیے مضرت رساں ثابت ہو سکتا ہے ۔آزادیِ راے میں مزاحم ہونے والے افراد اگر وہ کسی مذہبی گروہ سے وابستہ ہوں ،اپنی نادانی سے ساری دنیا پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے مذہب کو مخالفوں کے اعتراضوں سے نہایت اندیشہ ہے ۔ ایسے میں ان کی رائے یا مذہبی عقیدہ درست بھی ہو تو اس کو صحیح ثابت کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔ اپنے ہی عقیدے یا مذہب کو جس میں وہ پیدا ہوا ہے ،محض جمہور کے کہنے پر صحیح سمجھنے والا شخص اپنی کو ئی رائے نہیں رکھتا ۔ایسے میں جن وجوہات سے مسلم خاندان میں پیدا ہونے والا شخص بڑا مقدس مسلمان ہوتا ہے انھی وجوہات سے عیسائی یا بت پرست خاندان یا ملک میں پیدا ہونے والا اچھا عیسائی یا بت پرست ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کسی کا مسلمان ، عیسائی یا ہندو پیدا ہونا ایک اتفاقی امر ہے جس کی بنیاد پر تعصب برتنا کسی طور مناسب نہیں۔ سر سید کے نزدیک جس شخص کو اپنی رائے پر کسی قدر بھروسہ کیے جانے یا اسے عام لوگوں کے ذریعے تسلیم کیے جانے کی خواہش ہے اسے اپنی رائے کو عام مباحثے کے لیے پیش کرنا چاہیے ۔اس لیے کہ جن اعتقاد وں کو ہم نہایت جائز و درست سمجھتے ہوں ان کی درستی کی کوئی سند اور بنیاد بجز اس کے نہیں ہو سکتی کہ تمام دنیا کو اختیار دیا جائے کہ وہ ان کو بے بنیاد ثابت کرے۔  آگے چل کر انھوں نے مسلمانوں کی اس روش پر افسوس کیا ہے کہ وہ قدما کی طرح دلائل و براہین اور بحث و حجت سے عقائدو اعمال کو درست ثابت کرنے کی بجائے ،جھوٹے غرور اور بے جا استغناسے کام لیتے ہیں یا عقیدے یا مسلے کے بر خلاف کوئی دلیل سننے کے بجائے اپنے گروہ کے لوگوں کو کفر کے فتووں کے ڈراورا سے جہنم میں جانے کی چھوٹی دہشت دکھا کے ان عقائد یا مسائل پر غوریا بحث کرنے سے باز رکھتے ہیں۔         مضمون کے آخری حصّے میں سر سید نے اپنی گفتگو کا رخ مسلمانوں میں تجسّس و تحقیق کی کمی کی طرف موڑ دیا ہے اور علمی جستجو کے نام پر محض کتاب میں کیا لکھا ہے یہ جاننے یا کس نے کیا کہا ہے اور آیا کہا بھی ہے کہ نہیں یہ معلوم کرنے پر اکتفا کرنے کی روش کو نا پسند یدہ قرار دیا ہے۔ انھیں کے الفاظ میں’’ اس طریقے اور عادت نے آزادیِ رائے کو کھو دیا اور اس سیرت کو جس سے غلطی میں پڑنے سے حفاظت تھی، توڑ دیا ان کے تمام علم و فضل غارت ہو گئے ۔ان کے باپ دادا کی کمائی جس سے توقع تھی کہ ان کی اولاد فائدہ اٹھاوے گی سب ڈوب گئی۔ ‘‘ عصر حاضر میں مسلمانوں کے عقائد و طرز حیات میں پیدا ہونے والے جمود پر نظر ڈالیں اور ان کی ترجیحات میں کار جہاں کو اخیر میں رکھتے ہوئے دنیا کی جگہ محض عقبیٰ کو سنوارنے اور چند مخصوص عقائد و رسوم کی پا بندی کو انسان اور کا ینات کی تخلیق کا مقصد و منتہاسمجھنے کی روش کو نظر میں رکھیں تو سر سید کے مذکورہ بالا خیالات کی معنویت کو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی ۔