Maharashtra mein Urdu Afsana 1960 ke Ba’ad

Articles

مہاراشٹر میں اردو افسانہ ۱۹۶۰ کے بعد

ڈاکٹر عبداللہ امتیازاحمد

جس وقت تحریکِ آزادی شباب پرتھی اس وقت بمبئی ذریعۂ معاش کا اہم مرکزتھا۔ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے بمبئی میں داخل ہورہے تھے جس میں ایک بڑا طبقہ ادیبوں کا بھی تھا۔ پریم چند سے لے کر کرشن چندر، منٹو، بیدی، عصمت اور خواجہ احمدعباس جیسے اعلا پایہ کے ادیبوں نے ممبئی کی ادبی محفل کو رونق بخشی۔یہ شہر اس وقت جدید افسانہ کا مرکز تھا۔ جب یہاں کے ادیبوں نے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی تو ادبی دنیا میں ایک انقلاب آگیا۔ اس تحریک نے جہاں دبے کچلے افراد کی زندگی اور ان کے مسائل کو موضوع بنایاوہیں دوسری طرف ظالموں اور سرمایہ داروں کے ظلم وبربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ ترقی پسند تحریک کا دوراردو افسانہ نگاری کا عہدزریں کہا جاسکتا ہے۔ اس وقت ہندوستان مختلف مسائل سے دوچار تھا۔ عدم مساوات اور معاشی بحران کا مسئلہ ابھی حل بھی نہیں ہوا تھا کہ ملک کی تقسیم کا سانحہ پیش آیا، تقسیم ہند کے سانحے اور اس کے ردعمل کے طور پر رونما ہونے والے فسادات نے لوگوں کو ذہنی کرب میں مبتلا کردیا۔ اس دوران انسانیت کو شرمسارکردینے والے حادثات اور ہجرت کے کرب نے لوگوں کو بے حس بنادیا جس نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو صلب کردیا۔ جہاں ان مسائل کی وجہ سے اردو افسانے کے موضوعات کو وسعت حاصل ہوئی وہیں موضوعات کی یکسانیت نے اکتاہٹ پیدا کردی اور مقلدین کی بھرمار نے ادب کو نعرہ بنادیا جس کی وجہ سے اس تحریک کا زور ،روز بروز ختم ہوتا چلاگیا۔
۱۹۶۰ کے بعداردو افسانے میں تجربات اور ردوقبول کے دور کا آغاز ہوا۔ ان تجربات نے جہاں اردو افسانے کو مروجہ اسلوب سے باہر نکالا وہیں اردو افسانے کو نئے معنی و مفاہیم بھی عطا کیے۔ جدیدیت کی یہ تحریک ادب کے ساتھ ساتھ اسلوب اور موضوعات میں بھی شعوری طور پر تبدیلی کی خواہش مند تھی۔ چنانچہ اظہار خیال کے لیے نئے اسلوب کی تشکیل کا عمل شروع ہوا اور یہیں سے اسلوب کی سطح پر تجربات کے دور کا آغاز ہوا۔ موضوعات میں انفرادیت اور نئے پن کی جستجو نے انھیں اجتماعی موضوعات سے دورکردیا ۔ کبھی افسانے میں کردار کو، کبھی کہانی کو ردکیا گیا۔ افسانہ نگار اپنی بات اشاروں ، کنایوں ، تشبیہات و استعارات میں بیان کرنے لگا۔ حقیقت نگاری کا اسلوب علامتی اور تمثیلی پیرایہ بیان اختیار کرتا چلاگیا۔ اسی دور میں قاری تلازمۂ خیال ، خود کلامی، شعور کی روکی تکنیک اور آپ بیتی جیسے جدید اسلوب سے متعارف ہوا۔
۱۹۷۰ کے بعد اردو افسانہ نگاری کا اہم مرکز مہاراشٹر رہا۔ ۱۹۷۰ کے بعد افسانہ نگاروں کی نسل جوگیندر پال، سریندرپرکاش، رام لال، اقبال متین، رتن سنگھ، اقبال مجید اور جیلانی بانو جیسے قدآور افسانہ نگاروں پر مشتمل ہے۔ سریندر پرکاش اور جوگیندرپال نے جب مہاراشٹرا کی سرزمین پر قدم رکھا تو دونوں نے جدیدیت کا پرزور استقبال کیا اور یہیں سے اردوافسانے میں ایک نئے دورکا آغازہوا۔ جوگیندرپال اور سریندرپرکاش نے جدیدیت کے زیراثر بے شمار افسانے تحریر کیے دونوں کا ویژن اور افسانوں کا کینوس بے حد وسیع ہے۔ سریندر پرکاش کے افسانوں میں ’’جپّی ژاں‘‘، دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘، ’’ساحل پر لیٹی عورت‘‘اور ’’سرنگ‘‘ وغیرہ کا شمار ان کے کامیاب افسانوں میں ہوتا ہے۔ دوسری طرف جوگیندر پال نے ’’نوزائدہ‘‘،’’ پیچھے‘‘، ’’گھر‘‘، ’’مقامات‘‘، اور ’’پرندوں کا جھنڈ‘‘ جیسے لافانی افسانے تخلیق کیے۔ مہاراشٹرا میں جدیدیت کی اس تحریک کوآگے بڑھانے میں رفعت نواز،الیاس فرحت، ابراہیم اختر، سریندر کمارمہرا، محمود شکیل اور رشیدانور وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا جو اس وقت افسانے کے فن پر طبع آزمائی کررہے تھے اور ان کے افسانے اس دور میں متواتر رسائل میں شائع ہورہے تھے۔ ترقی پسند تحریک کی مانند علامتی اور تمثیلی افسانوں کی یہ دنیا رفتہ رفتہ یکسانیت کا شکار ہوتی چلی گئی۔ موضوعات میں دہشت گردی ، عدم تحفظ، فرد کی تنہائی، انتظامیہ کی بے حسی اور ایک نامعلوم مستقبل کی نشاندہی باقی رہ گئی تھی ۔ بیشتر افسانہ نگار انھیں موضوعات کے اردگرد چکر لگارہے تھے۔
۱۹۸۰ کے بعد کے مہاراشٹر کے افسانہ نگاروں کے لیے یہ دور لمحۂ فکریہ تھاکہ کیا کریں اور کیا نہ کریں ، افسانے کی کس روش کواختیار کریں ایک طرف جہاں ترقی پسند تحریک کے واضح نقوش تھے وہیں دوسری طرف جدیدیت کی تحریک باہیں کھولے دروازے پردستک دے رہی تھی۔ جدیدیت کی تحریک کے زیراثر اردوافسانے میں مختلف سطحوں پر زبردست تجربے کیے گئے اس میں کچھ کامیاب بھی ہوئے اور کچھ ناکام بھی مگر ان تجربوں سے افسانہ نگاروں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ اس دور میں بہت سے افسانے ایسے لکھے گئے جو کہانی پن سے یکسر خالی تھے یعنی افسانے کے روایتی اجزا ئے ترکیبی سے انحراف کیا گیا اور اسے افسانے کے لیے غیر ضروری قرار دیتے ہوئے علامتی پیرایہ بیان اختیار کیا گیا ، چاہے قاری کی رسائی ان تک ہویا نہ ہو۔ اس پیرایہ بیان میں بھی وہ افسانہ نگار جو افسانے کے فن سے واقف تھے کامیاب افسانے تحریر کیے، مگر ۱۹۸۰ء؁ کے بعد کی افسانہ نگاروں کی یہ نسل ہر طرح کی پابندیوں سے آزاد ہوکر نئی راہ کی متلاشی تھی چناچہ انھوں نے ایسے افسانوں کی تخلیق پر زوردیاجس میں کہانی پن، پلاٹ اور ماجراکے ساتھ ساتھ علامت اور استعارہ بھی حسب ضرورت شامل ہو مگر کہیں سے بھی آورد والی کیفیت نہ پیدا ہونے پائے افسانے میں تجسس کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری کے فن کو بھی ملحوظ رکھا جائے جس کی وجہ سے افسانہ کامیابی کی کسوٹی پر کھرا اترتاہے۔ مذکورہ بالا اصولوں کو سامنے رکھ کر ۱۹۸۰ء؁ کے بعد مہاراشٹرا میں لکھے گئے افسانوں میں سلام بن رزاق کا افسانہ’’آخری کنگورہ‘‘، نورالحسنین کا ’’فقط بیان تک‘‘اور’’سبزۂ نوررستہ کا نوحہ‘‘ ، مشتاق مومن کا ’’ترنت شور مچائیے اور انعام پائیے‘‘، ساجد رشید کا ’’سونے کے دانت‘‘، انور خان کا ’’حق‘‘، ’’گڑھی میں اترتی شام‘‘ اور ’’فنکاری‘‘،انورقمر کا’’فضول کاغذات میں ملے تین خط‘‘، احمدعثمانی کا ’’اپنی مٹی‘‘ اور اشتیاق سعید کا افسانہ ’’ہل جوتا‘‘ وغیرہ مہاراشٹر ا کے نئے افسانوں میں اولیت کے حامل ہیں۔
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں مہاراشٹر کے افسانہ نگاروں نے موضوعات کی یکسانیت اور مروجہ افسانوی اسلوب کے خلاف آواز بلند کی اور اس کہانی کی تلاش میں سرگرداں ہوگئے جس میں دل کے دھڑکنے کی صدا واضح طور پر سنی جاسکے اور کہانی روح کی تسکین کا ذریعہ بن سکے جس میں شہری زندگی کے مسائل اور زندگی بسر کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ان کی آرزوئیں اور تمنائیں انگڑائیاں لے رہی ہوں اور معاشرے کے ایک ایک پہلو کو اجاگر کرسکے جہاں کہانی اسلوب کے پردے میں نہ چھپ جائے۔ اس احساس کے زیرِ اثر مہاراشٹرکی اردوافسانہ نگاری نے اپنا رخ بدلا جوکہ نہ تو اپنے پیش رو افسانہ نگاروں کے مشابہ تھا اور نہ ہی بالکلیہ جدیدیت کا منحرف جس کے نتیجے میں ایک ایسے افسانے کا چہرہ سامنے آیا جسے ناقدین نے ’’نئے افسانے‘‘ کے نام سے منسوب کیا۔ جوکہ افسانہ نگاروں کے فطری تقاضوں کو اپنے بھیتر پوری طرح سموئے ہوئے تھا۔ اس دور کے افسانہ نگاروں نے جہاں ایک طرف کہانی پن کے انحراف کو رد کیا وہیںدوسری طرف علامتی افسانوں کی بامعنویت گیرائی اور گہرائی کوبھی اپنے افسانوں میں جگہ دی۔ اس نئے افسانے کی کامیابی کاسہرا سلام بن رزاق کے سرہے۔ مگران کے شانہ بشانہ مہاراشٹرا کے دوسرے افسانہ نگاروں نے بھی اسے ترقی دینے میں اہم کرداراداکیا۔ آج مہاراشٹر میں اردو افسانے کی یہ مستحکم بنیاد انھیں افسانہ نگاروں کی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ عصر حاضر کے مہاراشٹرکے افسانہ نگاروںمیں سلام بن رزاق، انورقمر، ساجدرشید، انور خان، نورالحسنین، حمید سہروردی،مقدرحمید، سید محمداشرف، معین الدین جنابڑے، مین را، بانوسرتاج،احمد عثمان، ایم مبین، عارف خورشید، مشتاق مومن، قاضی مشتاق ،محمودایوبی، علی امام نقوی،مظہرسلیم، اشتیاق سعید، رحمن عباس، مشتاق رضا، عظیم راہی، م۔ناگ، طارق کولہاپوری اور براق مرزاوغیرہ کا نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے۔ اس میں کچھ ایسے افسانہ نگاربھی شامل ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیںجن کے قلم اب خاموش پڑچکے ہیں۔ توکچھ ایسے بھی ہیں جن کے افسانے مسلسل ہمارے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جن سے مستقبل میں امیدیں وابستہ ہیں، مہاراشٹر میں اردو افسانہ نگاروں کا یہ کارواں آج بھی رواں دواں ہے۔
اگر مہاراشٹر میں اردو افسانہ نگاری کا مجموعی طور پر جائزہ لیں تو اس بات کا بخوبی طور پر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کے افسانہ نگاروں نے اپنے اطراف واکناف میں رونما ہونے والے واقعات وحادثات کی مکمل عکاسی اپنے افسانوں میں کی ہے۔جس میں معمولی افراد بھی ہیں اور درمیانی طبقہ کے لوگ بھی ۔ لٹے پٹے نواب بھی ہیں تو دوسری طرف سرمایہ دار،زمیندار، جاگیر دار، کسان، مزدوراور وہ افراد بھی ہیں جو بظاہر ہمارے سماج کا حصہ ہیں لیکن ہماری فکر کا حصہ نہیں بن پاتے۔ مہاراشٹر کے عصری افسانوں میں ہندومیتھا لوجی، حکایات اور روایتوں سے خوب استفادہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی بے حسی، بدنظمی، بدعنوانی اور عدم تحفظ جیسے مسائل مہاراشٹرکے اردو افسانہ نگاروں کا محبوب موضوع رہا ہے۔ یہاں کے افسانہ نگاروں نے قومی ، ملکی اور بین الاقوامی مسائل کو پیش کرکے معاشرے کو اس کا اصلی چہرہ دکھانے کی بہترین کوشش کی ہے۔ الغرض مہاراشٹر میں لکھا جانے والا افسانہ اردو افسانے کے ارتقا ئی سفر میں پوری طرح شامل تھا اور موجودہ عہد میں اردو افسانے کی نمائندگی کررہاہے۔
مہاراشٹر میں اردو افسانے کے عصری منظرنامے کی وضاحت کے لیے ۱۹۸۰ء؁ کے بعد مہاراشٹرمیں اردو افسانے کی سمت ورفتار پر تفصیلی گفتگو اشد ضروری ہے اس لیے یہاں مہاراشٹر کے نمائندہ افسانہ نگاروں اور ان کے افسانوں کا انفرادی طور پر جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ مہاراشٹر میں اردو افسانہ نگاری کا کوئی بھی باب تشنہ نہ رہ جائے اور موجودہ دور کے افسانوں کے موضوعات ومسائل کی روشنی میں ان کے معیار ومرتبے کا تعین کیا جاسکے۔
ساجد رشید کا شمار مہاراشٹر کے نمائندہ افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے حالانکہ وہ اب اس دارفانی سے رخصت ہوچکے ہیں مگر ان کے افسانے اور ان کا فن ہمارے درمیان آج بھی زندہ ہے۔ ساجدرشید ایک زندہ دل انسان تھے اس لیے وہ اپنے ماحول سے پوری طرح باخبر تھے۔ سماجی برائیوں اور مسائل کو بہت بے باکی کے ساتھ اپنے افسانوں میں جگہ دی اور ان پر جم کر وار کیا۔ آج کا دور بے مروتی اور بے حسی کا دور ہے لالچ، ہوس، حرص، خودغرضی اور موقع پرستی کو خوبیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ چاروں طرف افراتفری کا عالم ہے کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ۔ جہاں صنعتی انقلاب نے لوگوں کی ترقی کے درواکیے وہیں اعلا قدریں اور روایتیں آخری سانسیں لے رہی ہیںجس کی وجہ سے آج کا فرد تنہائی اور گھٹن کا شکار ہے اس کی خوب صورت مثال ساجد رشید کے افسانے’’اوپرسے گرتا اندھیرا‘‘ کے طور پر پیش کیا جاسکتی ہے، جس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بظاہر انسان نے بہت ترقی کرلی ہے مگر انسان انسان سے دور ہوتا چلا جارہا ہے۔ ان کے افسانے ’’شام کے پرندے‘‘ اور ’’نفرتوں کے آرپار‘‘ وہ افسانے ہیں جس میں خاندانی روایتوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی کہانی بہت موثر انداز میں بیان کی گئی ہے۔ افسانہ ’’برف گھر‘‘، ’’دوپہر‘‘ ، ڈاکو‘‘،’’سونے کے دانت‘‘ اور ’’کرما‘‘ وغیرہ ساجد رشید کے سماجی وسیاسی شعور پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ساجد رشید جہاں ایک طرف بدلتی قدروں کا نقشہ کھینچتے ہیں وہیں دوسری طرف شہری زندگی کے مسائل کی بے باک ترجمانی بھی کرتے ہیں۔’’چادروالا آدمی اور میں‘‘،’’اندھی سیڑھیاں‘‘،’’ایک گمشدہ عورت اور اندھیری گلی‘‘ اس کی واضح مثال ہیں۔
سلام بن رزاق کا شمار صرف مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ اردو ادب کے اعلاپایہ کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے اور عصر حاضر کے افسانہ نگاروں میں ان کا نام اولیت کا حامل ہے۔ بقول نورالحسنین’’نئے افسانے کی امامت کا تاج بلا شبہ سلام بن رزاق کے سر ہے‘‘۔ سلام بن رزاق کے افسانوں کا موضوع انسانی رشتے، ان رشتوں کا احترام، استحصال، سیاسی جبریت، انسان کی سماجی بندشوں ، ان کی لاچاری، مجبوری، بے بسی اور ان سے آزادہونے کی تڑپ وغیرہ ان کا پسندیدہ موضوع ہے‘‘۔ سلام بن رزاق متوسط طبقہ کے افسانہ نگار ہیں۔ وہ انسان کے ظاہرو باطن دونوں پہلوؤں کو کھنگالتے ہیں۔ ’’بیت‘‘، ’’پٹا‘‘ ، ’’ایک اورشرون کمار‘‘، اور’’ البم‘‘ وغیرہ ان کے اسی قبیل کے افسانے ہیں۔ سلام بن رزاق جب معاشرے پر نگاہ ڈالتے ہیں تو انھیں چاپلوسی، مکاری، تنگ نظری، مذہبی جنون، مصلحت کوشی اور خود غرضی چاروں طرف نظر آتی ہے اور انسان کی فطری خوبیاں انھیں کہیں نظر نہیں آتیں۔ ان کے افسانے ’’مکھوٹے‘‘ ،’’اس دن کی بات‘‘، ’’دوچراغ‘‘،’’یک لویہ‘‘،’’تصویر‘‘ اور ’’زندگی افسانہ نہیں‘‘ وغیرہ مختلف سماجی مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ’’یک لویہ‘‘اور ’’زندگی افسانہ نہیں‘‘ میں مذہب کے پس پردہ ہونے والے استحصال کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ ان کا فن مسلسل ارتقا کی منزلیں طے کرتا رہا۔ دہشت گردی کے نام پر پولس کی یک طرفہ کاروائی کے خلاف ان کا افسانہ ’’آخری کنگورہ‘‘ بہت اہمیت کا حامل ہے۔
سید محمداشرف کا شمار بھی ۱۹۸۰کے بعد کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے حالانکہ ان کا تعلق براہ راست مہاراشٹرسے نہیں ہے لیکن انھوں نے مہاراشٹرکے ہم عصر افسانہ نگاروں کے ساتھ مل کر کامیاب افسانے تحریر کیے ۔ سید محمد اشرف کے بیشتر افسانوں میں انسانوں کے ساتھ جانوروں کا بھی ذکر ہوا ہے ۔ انھیں انسانی جبلتوں میں جانوروں کی خصوصیات نظرآتی ہیں جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی نئی’’پنچ تنتر‘‘ لکھنے کی تیاری کررہے ہیں۔ چاہے افسانہ ’’لکڑبگھارویا‘‘ہویا’’لکڑ بگھا چپ ہوگیا‘‘ ان افسانوں کے ذریعے انھوں نے انسانی فطرت اور خود غرضیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا لافانی افسانہ’’روگ‘‘بظاہر پاگل ہاتھی کومارنے کی کہانی ہے اس افسانے کے ذریعے خوف اور انسانوں پر خوف کے تاثرات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ افسانہ ’’چمک‘‘، ’’بادصبا کاانتظار‘‘ اور ’’تلاش رنگِ رائیگاں‘‘ کو ان کی خصوصیات کی بنیاد پر اردو ادب میں بہت شہرت حاصل ہوئی۔ سید محمد اشرف نے ممبئی کے ماحول میں افسانہ ’’دعا‘‘ تحریر کیا جس میں انھوں نے استحصال اور احتجاج کے امتزاج کی خوب صورت تصویر پیش کی ہے۔ سید محمد اشرف نے اپنے افسانوں کے لیے جن موضوعات کا انتخاب کیا ہے اس میں ہجرتوں کا کرب ، عدم تحفظ کا مسئلہ، انسانی رویے، عیاری، ریاکاری اور خود غرضی شامل ہیں۔ سید محمد اشرف کے افسانے جذباتیت سے لبریزہوتے ہیں۔
مہاراشٹر کے ہم عصر افسانہ نگاروں میں انور خان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کے افسانوں میں زندگی کے کھوکھلے پن اور انسانی رویوں پر گہرا طنز دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے افسانوں کے موضوعات میں نسلی امتیازات، تنہائی کا کرب ، عمروں کا تضاد، بے چارگی اور انسان کی مجبوری اور بے بسی شامل ہے۔ وہ اپنے افسانوں کا مواد کسی بڑے واقعات سے اخذ نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے گردوپیش میں رونما ہونے والے چھوٹے بڑے واقعات وحادثات سے موضوع کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسلوبیاتی سطح پر ان کے افسانوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے حصے میںان کے طویل افسانے سادہ بیانیہ اسلوب پرمشتمل ہیں دوسرے حصے کے افسانے مختصر اور فلمی منظر نامے کی تکنیک سے آراستہ ہیں۔ ان کا افسانہ ’’کتاب دارکاخواب‘‘ اعلاپایہ کی تکنیک کا لافانی افسانہ ہے۔ آثار قدیمہ کے حوالے سے ایک زبردست تجربہ ہے جس میں قاری اپنے آپ کو کتاب دار کے ساتھ ساکت محسوس کرنے لگتا ہے۔ افسانہ ’’لمس‘‘ بہ ظاہر ایک کمرے کی کہانی ہے جس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گھر کی بے جان چیزیں انسانی لمس کی محتاج ہیں اور ان کو چھونے سے اس میںکسی قدر جان پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کا شاہکار افسانہ ’’کنوؤں سے ڈھکا آسمان‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں انھوں نے آگ کو زندگی کی علامت کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ ایک تہہ دار افسانہ ہے جس میں آج کے دور میں زندگی بسر کرنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے اس پہلو ؤں کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ افسانہ ’’صداؤں سے بنا آدمی‘‘،’’اور کبھی‘‘،’’سیاہ‘‘،’’سفید‘‘اور ’’شکستگی‘‘ وغیرہ کا شمار بھی ان کے کامیاب افسانوں میں ہوتا ہے۔ انور خان اپنے افسانوں میں سماج کے ایسے افراد کو پیش کرتے ہیں جوزندگی کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کا افسانہ ’’فنکاری‘‘ ان لوگوں کی کہانی ہے جو انتظامیہ کے خلاف آواز تو بلند کرتے ہیں مگر مانگیں پوری ہونے پر اسی انتظامیہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انور خان کے دوسرے افسانوں میں ’’یادبسیرے ‘‘، ’’اکیلی بستیاں‘‘ اور’’شام رنگ‘‘وغیرہ کے مطالعہ سے ان کے فن کی عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
انور قمر کا شمار اردو ادب کے Genius افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں میں روایت اور جدت کا حسین ترین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے وسیع مطالعہ کی بنیاد پر ان کے افسانوں کے موضوعات میں ندرت دکھائی دیتی ہے۔ وہ ایسے اچھوتے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جن پر دوسرے افسانہ نگاروں کی نظرنہیں پڑتی۔ ان کے افسانوں کا محور ومرکز کمزور طبقات کی زبوں حالی، محرومی، اخلاقی زوال کے باعث پیدا ہونے والی خلا اور استحصال وغیرہ ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں معنوی تہداری نظرآتی ہے۔ ان کے افسانوں میں ’’قیدی‘‘، ’’ہاتھیوں کی باڑ‘‘،’’چاندنی کے سپرد‘‘،’’کابلی والا کی واپسی‘‘اور’’چوپال میں سنایا ہوا قصہ‘‘ وغیرہ کا شمار ان کے نمائندہ افسانوں میں ہوتا ہے۔ بنیادی طورپر انور قمر شہری زندگی کے افسانہ نگار ہیں۔ افسانہ ’’ڈر‘‘ اور ’’چوراہے پر ٹنگا ہوا آدمی‘‘ میں آج کے دور میں شہری زندگی میں انسان کی ناقدری کے المیے کو پیش کیا گیا ہے۔ ان کا افسانہ ’’فضول کاغذات میں ملے تین خط‘‘ کو اردو ادب میں بہت سراہا گیا جس میں انھوں نے تقسیم ہند کے دوران ہجرت کے کرب کو موضوع بنایا۔
مقدر حمید کے افسانے گہرے تجربات پر مشتمل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے افسانوں میں ایک نئی تازگی اور انوکھا پن نظرآتا ہے۔ ان کا افسانہ ’’محفوظ راستوں کی تلاش‘‘ ایسے افراد کی کہانی ہے جو کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں لیکن انھیں اس بات کا علم نہیں کہ یہاں کے باسی اس خوف کی وجہ سے پہلے ہی یہاں سے ہجرت کر چکے ہیں۔ افسانہ ’’زربیل‘‘ میں دولت کے پجاریوں کی عبرت ناک کہانی بیان کی گئی ہے۔ افسانہ ’’فریم سے باہر کی تصویر‘‘ میں مردوں کی بے راہ روی اور دوسری عورتوں سے آسودگی حاصل کرنے کے برے نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تو افسانہ ’’تھوڑی سی فضائی‘‘ میں دولت کے نشے میں انسان کی بے ضمیری کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مقدرحمید کے افسانوں میں سماج کی حیرت ناک اور عبرت ناک تصویر دیکھنے کو ملتی ہے۔
مشتاق مومن کے افسانوں میں صنعتی انقلاب اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کی جیتی جاگتی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے جس میں مذہب سے دوری، اقتدار کا زوال ، مذہبی استحصال ، خود غرضی، لالچ، حرص وہوس، مفاد پرستی اور ذمہ داریوں کا کرب وغیرہ کے مسائل پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔ اپنے افسانے’’ آسیب ‘‘، ’’کریم لگا بسکٹ‘‘ اور ’’چیونٹیاں‘‘ وغیرہ میں متذکرہ بالا مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کا شاہکار افسانہ ’’رت جگوں کا زوال‘‘ میں عصری جبریت اور سیاسی داؤ پیچ کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ افسانہ ’’دوساجن‘‘ میں دوسری شادی کی ضرورتوں اور جنسی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے تو افسانہ’’ مرد گزیدہ‘‘ میں دودھ کے رشتے کی دردناک تصویر پیش کی گئی ہے۔ الغرض ان کے افسانوں میں سماجی رشتوں کی ٹوٹتی بکھرتی کڑیوں کی جانب واضح طور پر اشارہ کیا گیا ہے۔
م۔ناگ کے افسانوں کے کردار بھولے بھالے معصوم انسان ہیں ۔ ان کی زبان بہت دلچسپ ہوتی ہے۔ ان کے افسانوں میں ’’ڈاکو طے کریں گے‘‘،’’اسکول‘‘،’’کٹی ہوئی ناک‘‘،’’کمپیوٹر‘‘،’’عینک والا آدمی اور اس کی بیوی‘‘،’’ژراف‘‘،’’گھوڑسوار‘‘،’’تیرتھ‘‘ اور’’ چاند میرے آجا ‘‘ وغیرہ کا شمار ان کے کامیاب افسانوں میں ہوتا ہے۔ جس کے ذریعہ انھوں نے سماجی کھوکھلے پن کو بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
احمد عثمانی کے افسانے سماجی حقیقت نگاری کی بہترین مثال ہیں۔ جو انسانی رشتے ،رویے، گھٹن، بے روزگاری، معاشی اور معاشرتی حالات کا جبر اور اس سے نجات پانے کی جدوجہد اور ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان کے افسانوں کا محور ہیں۔ ان کے افسانوں میں ’’کوکھ جلی‘‘جس میں اولاد کی خواہش اور سماجی نفرتوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ افسانہ ’’ بھنور‘‘نفسانی خواہشات کے غلام انسان کی کہانی ہے ۔ افسانہ’’موسموں کا اسیر‘‘ میں ان افراد کی کہانی بیان کی گئی ہے جو خوش حال زندگی کی تمنا لیے شہر کا رخ کرتے ہیںمگر یہاں فٹ پاتھ پر زندگی بسر کرنے کے لیے مجبور ہیں ۔ افسانہ ’’کفارہ‘‘ میں ضمیری اور بے ضمیری کے درمیان جنگ لڑتے نوجوان کی کہانی ہے۔ افسانہ ’’اپنی مٹی‘‘ ایسے افراد کی کہانی ہے جوجوش میں آکر ہجرت تو کرلیتے ہیں مگر زندگی بھر اپنی زمین سے دوری کے کرب سے آزاد نہیں ہو پاتے اور مسلسل اپنی واپسی کا خواب دیکھتے رہتے ہیں ۔
معین الدین جنا بڑے کا شمار بھی ۱۹۸۰ء؁ کے بعد کے مہاراشٹرکے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ بقول معین الدین جنابڑے’’زندگی کہانی میں ڈھلتی ہے اور زندگی کہانی کا حصہ بن کر نئی کہانی کو جنم دیتی ہے ۔ زندگی آگے بڑھتی رہتی ہے اور کہانی جنم لیتی رہتی ہے ‘‘جنا بڑے کے اس قول سے کہانی کے متعلق ان کے نظریات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہی صورت حال ان کی کہانیوں میں بھی نظرآتی ہے۔ ان کے افسانے زندگی کے کسی موڑ سے اٹھتے ہیں اور پھر ان کے کردار کئی کہانیوں کو جنم دیتے چلے جاتے ہیں جس سے افسانے میں تہہ داری بڑھتی چلی جاتی ہے اور قاری تجسس کی آخری منزلوں پر اڑان بھرنے لگتا ہے پھر رفتہ رفتہ کہانی کی معنوی سطحیں کھلنے لگتی ہیں۔افسانہ ’’رنگ ماسٹر‘‘،’’گرجاگھر‘‘اور ’’بھول بھلیاں‘‘وغیرہ اپنے عصری ماحول کے باوجود کہیں نہ کہیں روایت کا حصہ معلوم ہوتے ہیں مطلب یہ کہ ان کے افسانے قاری کو ایسی خیالی دنیا کی سیر کرواتے ہیں جہاں ماضی کی حکایتیں بھی ہیں اور ندی، دریا، جھرنے،پہاڑ،پرفضا مقامات اورگھاٹ سے وابستہ موت کی طرف لے جانے والی کہانیاں بھی ہیں۔
عارف خورشید کے افسانوں میں انسان کی فطری بے چینیاں واضح طور پر نظرآتی ہیں اور کردار کے تصادم سے پیدا ہونے والے مسائل ، سیاسی جبریت اور عصری مسائل سبھی کچھ ان کے افسانوں میں موجود ہے۔ مگر عارف خورشید بنیادی طور پر استحصال کے خلاف آواز بلند کرنے والے افسانہ نگار ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں عورت کی لاچاری ، بے بسی اور مجبوری کے ساتھ ساتھ مردوں کے ہاتھوںعورتوں کا ہونے والا استحصال کی بالکل فطری تصویر پیش کی گئی ہے۔وہ خواہ افسانہ ــ’’سنگی احاطہ دل ‘‘ کی مر حومہ بیوی ہو یاافسانہ ’’احساس کا زخمی مجسمہ‘‘ کی سازیہ یا پھر ’’گناہ کی کیل‘‘کی بے نام محبوبہ یا’’ اڑائی ہوئی کلّی‘‘کی بیوی ہو الغرض ان کے افسانوں میں عورتوں کے استحصال کی درد ناک تصویر دیکھنے کو ملتی ہے ۔
مہاراشٹرکے عصر حاضر کے افسانہ نگاروں میں قاضی مشتاق احمد کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا انداز بیان بالکل سیدھا سادہ ہے اور الفاظ کے تراش و خراش سے اپنے کو دور رکھا۔ علامتوں ، تشبیہات اور استعارات جیسے لوازمات سے ان کا افسانہ پاک ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں کے پلاٹ عام انسانی زندگی سے مستعار ہیں یعنی ان کے افسانوں کی وہی دنیا ہے جس میں ہم اور آپ زندگی بسر کررہے ہیں اسی لیے ان کے کردارہمیں بے حد متاثر کرتے ہیں اور قاری کہانی سے جڑتا چلا جاتا ہے۔ ان کے افسانوں میں معاشرے کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی گئی ہے۔جس کی وجہ سے ان کی کہانیاں سماجی حقیقت نگاری کا بہترین نمونہ ہیں ۔ ان کے افسانوں میں ’’ویلکم قیامت‘‘ ’’انسان کی قسمت‘‘ ’’آہستہ آہستہ ‘‘ ’’اپنے غم‘‘اور ’’سونا اگلنے والی زمین ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ ان افسانوں میں نیا پن بھی ہے اور کرداروں میں آپ اپنی زندگی جینے کی صلاحیت بھی موجود ہے ان کے افسانے نئی کہانی کے فنی لوازمات کو پوری طرح اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
محمود ایوبی کی افسانہ نگاری کا دور بیسویںصدی کی آٹھویں دہائی سے شروع ہوتا ہے ان کے افسانوں کی برجستہ زبان اور مکالمے قاری کو محو حیرت کردیتے ہیںانہوںنے اپنے افسانوں میںسماجی مسائل کو اسی انداز سے پیش کیا ہے کہ جہاں افسانہ حقیقت نگاروں کاروپ لے لیتا ہے ، محمود ایوبی کے افسانوں میں’’چیخ ‘‘،’’بن باس‘‘، ’’آتنک‘‘ اور’’ سیوک ‘‘وغیرہ میں فرسودہ روایات اور سیاسی جبر کے خلاف آواز بلند کی گئی ہے۔ کچھ سال پہلے شائع ہونے والا ان کا افسانہ’’ندیا بہے دھیرے دھیرے‘‘ کے ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی ہوئی جس میں انھوں نے بڑھتی عمر میں بیوی کی اہمیت اور ضرورت کے نفسیاتی پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔
بانو سرتاج کے افسانوں کا مرکز عورت ہے جس میں انھوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ عورت چاہے بے اختیار ہو چاہے بااختیار، ناخواندہ ہو یا تعلیم یافتہ، دولت مند ہو یا غریب، انھوں نے ہمیشہ عورت کو مرد کا کھلونا پایا اور کبھی کبھی تو عورت کو عورت کا استحصال کرتے ہوئے دیکھا۔ ان کے افسانوں میں ’’گھرے سمندر کا سفر‘‘، ’’عورت‘‘،’’بجوکا‘‘،’’تیسرے راستے کا مسافر‘‘،’’ایکلا چلو رے‘‘ اور ’’ماں ‘‘ وغیرہ کانام قابل ذکر ہے۔ جس میں انھوں نے عورت کے مختلف رویوں اورمسائل کی دردناک تصویر پیش کی ہے۔
۱۹۸۰کے بعد مہاراشٹر کے افسانہ نگاروں میں نورالحسنین کا شمار اعلا پایہ کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے جدیدیت سے آنکھیں چار کیں اور علامتی اور تفصیلی افسانے لکھے مگر کہانی پن کی ڈور ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے۔ ان کے علامتی اور تفصیلی افسانوں میں ’’بازی گر‘‘،’’رنگوں کے اسیر‘‘،’’اللہ پانی دے‘‘،’’شناخت‘‘ اور ’’دلدل‘‘ کی ادبی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ افسانہ بازی گر میں انھوں نے ملک کے دو بڑے مذہبی طبقوں کے مابین تصادم اور دونوں طبقوں کے مذہبی ٹھیکہ داروں اور سیاسی رہنماؤں کی بازی گری کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ دونوں طبقوں کے لوگ کس طرح ان کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ ان کاافسانہ ’’رنگوں کے اسیر‘‘ ملک کی صحیح قیادت کے فقدان کا نوحہ ہے۔ ’’اللہ پانی دے‘‘ ملک میں اپنے عدم تحفظ کے مسئلے پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ افسانہ’’شناخت‘‘ ملک میں مسلمانوں کی زبوں حالی کی دردناک تصویر پیش کرتا ہے۔ افسانہ’’ دلدل‘‘ تقسیم ہند کے المیہ کی روداد ہے۔ انھوں نے افسانوں کے ذریعے جدیدیت اور روایت کی بکھرتی کڑیوںکو جوڑنے اور کہانی پن کی واپسی کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ’’گود بھری‘‘،’’جب باغ کا دروازہ کھلا‘‘ ،’’وصیت‘‘،’’ایک زندہ کہانی‘‘ ،’’گڑھی میں اترتی شام‘‘،’’ تقلیت‘‘،’’پچھلے پہر کی خوشبو‘‘،’’روح میں لپٹی ہوئی آگ‘‘،’’ دھوپ میں جلتا گاؤں‘‘ اور ’’ایکشن‘‘ وغیرہ ان کے کامیاب افسانوں کی دلیل ہیں جس کے ذریعے انھوں نے مختلف سماجی و سیاسی مسائل کی طرف ہماری توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔ بقول سلام بن رزاق’’ان کے پاس مطالعاتی وصف ہے جو قاری کو باندھے رکھتا ہے ‘‘تو جاویدناصر کہتے ہیں’’نورالحسنین کا فن متنوع موضوعات سے عبار ت ہے۔
معین الدین عثمانی زندگی کے معمولی سے معمولی واقعات اور احساسات کو اپنے افسانے میں اسی طرح شامل کرتے ہیں کہ قاری ان کے افسانوں کے مطالعہ کے بعد ایک گہری سوچ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ان کا افسانہ قاری پر بھرپور تاثر چھوڑتا ہے۔ افسانہ ’’یادوں کے سلسلے‘‘ایک بچی کی مرض الموت اور داغ مفارقت کی کہانی ہے۔ بچی کی فرمائش اس کی زبان سے ادا ہونے والے کلمات ایک باپ کے دل ودماغ کو تار تار کردیتے ہیں جو بھیتر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ ان کے دیگر افسانوں میں افسانہ ’’خلیج ‘‘ میں جنریشن گیپ کی وجہ سے دومتضاد نظریات کے تصادم کو پیش کیا گیا ہے۔ افسانہ ’’وہ بات‘‘ اور ’’نمائش‘‘فرد کی ظاہری اور باطنی زندگی کی عکاسی کرتا ہے ’’بوجھ‘‘ اور ’’ریت کی دیوار‘‘ میں ازدواجی زندگی کے خانگی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
مظہر سلیم کا شمار بھی عصرحاضر کے کامیاب افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ سماج کے دبے کچلے پسماندہ اور غریب عوام کی آواز واضح طور پر ان کے افسانوں میں سنی جا سکتی ہے۔ ان کے افسانوں میں کہیں بغاوت تو کہیں احتجاج ، کہیں مصلحت کوشی تو کہیں سمجھوتہ نظر آتا ہے۔ ان کے افسانے ’’درندہ‘‘،’’واگھ مارے نے خود کشی نہیں کی‘‘میں احتجاج اور سمجھوتا کا حسین ترین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے افسانوں کا انجام قاری کو چونکا دینے والا ہوتا ہے۔ جس کا تاثر قاری پر دیرتک قائم رہتا ہے۔
مہاراشٹر کے عصرحاضر کے افسانہ نگاروں میں عظیم راہی کے افسانوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ عظیم راہی بنیادی طور پر مڈل کلاس کی نمائندگی کرتے ہیں جوکہ برصغیر کی ایک بڑی آبادی پر مشتمل ہے وہ اپنے کرداروں کے خارج اور باطن پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ ان کے افسانے’’ کسی درجہ میں‘‘ مسلمانوں کی زبوں حالی، ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور مسلمانوں کو کس طرح نشانہ بنایا جارہاہے اس کی پوری تفصیل ہے۔
ایم۔مبین کے افسانوں کا محور و مرکزشہر ممبئی ہے۔ اسی لیے ان کے افسانوں میں شہری زندگی میں روزمرہ کے مسائل ، عدم تحفظ کا مسئلہ، رہائش کا مسئلہ اور تہذیبی تصادم وغیرہ کی تصویر واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے جہاں رہائش ایک خواب کی مانند ہے اور تہذیبی تصادم کی وجہ سے ایک نیا معاشرہ جنم لے رہاہے۔ بچوں کی پرورش وپرداخت اور تربیت کی خاطر علامتوں کی منتقلی ضرور ہوتی ہے مگر یہ مسئلہ ہر جگہ یکساں نظر آتا ہے ان کے تمام افسانوں میں ان کے نظریات کا عکس واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ افسانہ ’’ٹوٹی چھت کا مکان‘‘، ’’حوادث‘‘، ’’اذان‘‘، ’’قاتلوں کے درمیان ‘‘وغیرہ اسی قبیل کے افسانے ہیں جس میں شہری زندگی کے مسائل کی جھلک صاف طور پر نظر آتی ہے۔
سلطان سبحانی کی افسانہ نگاری کا دور ترقی پسند تحریک کے آخری پڑاؤ سے شروع ہوتا ہے جوبعدمیں جدیدیت کے ہم رکاب ہوئے اور پھرنئے افسانہ کے قافلے میں شامل ہوگئے۔ان کی افسانہ نگاری کی ابتدا رومانی افسانوں سے ہوئی مگر جلد ہی اس راستے کو خیرباد کہا اور جدیدیت کی صف میں شامل ہوگئے۔ مگر آخری دور میں نئے افسانوں سے وابستہ ہوکر کئی کامیاب افسانے تحریر کیے۔ ان افسانوں میں ’’چابک دست امام‘‘،’’دھنی ہوئی زمین‘‘ اور ’’جنگل اے جنگل‘‘ شامل ہے۔ اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں کی طرح ان کے پاس بھی پاور فل بیانیہ ہے۔ وہیں دوسری طرف اپنے افسانوں میں موضوعات کے برتنے کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں ۔ افسانہ ’’گل فروش‘‘،’’مسمار شدہ عمارت‘‘،’’ مینی پلانٹ‘‘،’’مردکی خوشبو‘‘، ’’چھاتا‘‘ اور ’’برگدپر بسا ہوا گاؤں ‘‘ جیسے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں عصری ماحول کے حالات کے جبر کوواضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
حمید سہروردی کا شمار بھی مہاراشٹر کے صفِ اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کا اسلوب قاری کو قدر نامانوس اور اجنبی سا لگتا ہے بقول نورالحسنین’’ وہ زبان کی ندرتوں اور زبان کی بندشوں کے بجائے متن سے پھوٹنے والی روشنی میں اپنا سفر طے کرتے ہیں‘‘۔ ان کے افسانوں کی پیش کش کا ڈرامائی انداز قاری کو بہت متاثر کرتا ہے جس کے ذریعے وہ اہم سماجی مسائل کی جیتی جاگتی تصویر پل بھر میں ہمارے سامنے پیش کردیتے ہیں ۔ ان کے افسانوں میں پیش آنے والی تشبیہات، استعارات اور شعری اصطلاحات وغیرہ قاری کی فکرو فہم کا امتحان لیتے ہیں ۔ ان کے افسانوں میں ’’کہانی در کہانی ‘‘،’’ کھوئے راستوںکی شب ‘‘، ’’گپھائیں‘‘، ’’لمحہ لمحہ درد‘‘، ’’خالی لمحوں کا سفر‘‘،’’روشن لمحوں کی سوغات‘‘،’’ساجو کی چاندنی‘‘ اور’’ زمین کی گم شدگی‘‘ وغیرہ وہ افسانے ہیں جنھیں اردو ادب میں بہت شہرت حاصل ہوئی۔ افسانہ ’’کہانی درکہانی‘‘ اقدار کے زوال کا نوحہ ہے’’کھوئے راستوں کی شب‘‘ میں عہد حاضر کی بے حسی ، خودغرضی،قتل وخون اور زندہ رہنے کی جدجہد کو موضوع بنایا گیا ہے۔ افسانہ’’گپھائیں‘‘ تاریخ کی روشنی میں انسانی جبلتوں کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔حمید سہروردی کے افسانوں پر جدیدیت کے نقوش آج بھی واضح طور سے دیکھے جاسکتے ہیں۔
علی امام نقوی کا شمار مہاراشٹرکے نمائندہ افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔بقول نورالحسنین’’ان کے پاس خوب صورت زبان ، ماجرے کی کیفیت اور معاشرے کی بولی ٹھولی بالکل اس طرح آتی ہیں جیسے منظر پر کسی نے کیمرہ لگا دیا ہو۔ بیانیہ پر ان کی حاکمانہ گرفت افسانے کو حقیقت میں تبدیل کردیتی ہے‘‘۔ فسادات کے موضوع پر اردو ادب کے بیشتر افسانہ نگاروں نے طبع آزمائی کی ہے مگر اس موضوع پر جب علی امام نقوی قلم اٹھاتے ہیں توان کی جدت اور فکر کی بالیدگی اسے بالکل اچھوتی کہانی میں تبدیل کردیتی ہے۔ افسانہ’’ ڈونگرواڑی کے گدھ‘‘ اور ’’۱۳؍ اگست ۱۹۸۰‘‘ وغیرہ فسادات کے موضوع پر لکھے گئے افسانے ہیں جنھیں قاری پڑھتا ہے اور تجسس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ان کے افسانے ’’ڈونگر واڑی کا گدھ‘‘ کی خوبی یہ ہے کہ اس میںکہیں بھی براہ راست فسادات کا ذکر نہیں ہے لیکن انجام اس قدر چونکا دینے والا ہے کہ قاری انجام سے آغاز کی طرف واپس آجاتا ہے۔ افسانہ ’’۱۳؍ اگست ۱۹۸۰‘‘ فسادات کے دوران گھر کے باسی گھر میں قبرستان کی ہولناکیوں سے گزرتے ہیں۔ دردوغم کی شدت، مجبوری بے بسی اور کرفیو کی فضا وغیرہ فسادات کا ایسا نقشہ کھینچتے ہیں جو روح کو گرمادیتے ہیں۔ علی امام نقوی کے کرداروں میں غریب نادار بھی ہیں اور اعلا طبقہ کے افراد بھی اور درمیانی طبقہ کی ذہنی الجھنیں بھی ہیں جیسے افسانہ ’’بنگالی ہائوس کی منی‘‘، ’’ساتھی‘‘،’ ’مباہلہ‘‘، ’’مسیحائی‘‘، ’’باوجی‘‘،’’میراث‘‘،’’محور‘‘ اور ’’مرگ گزیدہ‘‘ وغیرہ میں ان کے افسانوں کی خصوصیات صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار مہاراشٹرکے اعلا پایہ کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔
رحمان عباس کا شمار مہاراشٹر کے نئی نسل کے نمائندہ افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ افسانہ نگاری کے جدید فن سے پوری طرح واقف ہیں اس لیے ان کے افسانوں کے مطالعہ کے وقت قاری کی دل چسپی شروع سے آخر تک برقرار رہتی ہے۔ ان کے افسانہ نگاری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے افسانے مرتوں اور سمجھوتوں سے یکسر خالی ہیں ۔ وہ اپنی بات کو بہت بے باکی سے کہہ جاتے ہیں۔ اور سماجی برائیوں پر گہرا وار کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں میںشامل ہیں۔
نئے افسانہ نگاروں میں اشتیاق سعید کا نام قابل ذکر ہے ان کے افسانوی مجموعے ’’ہل جوتا‘‘کی وجہ سے اردو ادب میں بہت شہرت حاصل ہوئی۔ وہ دیہی اور شہری زندگی کے مسائل کو ایک ساتھ موضوع بناتے ہیں ۔ ان کے کئی افسانے دیہی اور شہری زندگی کا بہترین نمونہ ہیں۔ انھیں افسانہ نگاری کے فن پر گہری دسترس ہے اور مستقبل میں ان سے بہترین افسانہ نگاری کی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کے افسانوں میں ’’بجوکا‘‘،’’ہل جوتا‘‘، ’’حاضرغائب‘‘، ’’ بھوک کشمیر کو بنگال بنادیتی ہے‘‘،’’فرنگی‘‘،’’بہ رضائے صنم‘‘،’’پُتروَدھو‘‘،’’تشنہ آزاد‘‘، ’’ماں‘‘ اور’’تاخیر‘‘وغیرہ شامل ہیں۔
مہاراشٹر کے دیگر ہم عصر افسانہ نگاروں میں اقبال نیازی کا نام بھی شامل ہے جنھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا تھا۔ ان کے افسانوں میں’’ اسپیڈ بریکر‘‘،’’طے شدہ‘‘،’’ابوخاں کی نئی بکری‘‘ اور ’’دستک‘‘ جیسے افسانے شامل ہیں۔ مگر انھوں نے بہت جلد افسانہ نگاری کو ترک کرکے ڈرامہ نگاری میں اپنی شناخت قائم کی ۔ بنیادی طور پر ان کا شمار مہاراشٹر کے کامیاب ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ عبدالعزیز خاں مسلسل افسانہ لکھ رہے ہیں ۔ مشتاق رضا نے بھی شروع میں کچھ اچھے افسانے لکھے مگر بہت جلد مزاح نگار بن گئے۔ طارق کولہا پوری نے بھی کئی بہترین افسانے لکھے۔ فیروزہ فیاض نے بھی شروع میں کچھ اچھے افسانے لکھے مگر ادھر کافی دنوں سے ان کا قلم خاموش ہے۔ مہاراشٹر کے ہم عصر افسانہ نگاروں میں مقصود اظہر کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے نئے لکھنے والوں میں انھیں منفرد مقام حاصل ہے۔ ان کی فکر میں گہرائی و گیرائی ہے۔ ان کے افسانوں میں ’’کُشتن‘‘،’’پیپرویٹ‘‘ اور’’ گھر آنگن‘‘ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔