Sajid Rasheed aur Samaji Discourse

Articles

ساجد رشید اور سماجی ڈسکورس

پروفیسر گوپی چند نارنگ

ایک عہد کی episteme دوسرے عہد میں بدل جاتی ہے۔ episteme سے مراد ہے علمیاتی زمرہ یعنی کسی عہد کے مباحث، مسائل، توقعات، تعصبات، علمیاتی موقف وغیرہ۔ علمیاتی افق کوئی منجمد شے نہیں بلکہ انسانی سرگرمی کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوتا رہتا ہے اور ایک دور اپنی توقعات و تعصبات کے ساتھ دوسرے دور میں بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جدیدیت کے عہد کی episteme کی سب سے بڑی پہچان ideology سے بیزاری تھی اور آئیڈیولوجی سے مراد وہ سیاسی آمریت تھی جس کا نفاذ پارٹی کرتی تھی۔ اس episteme کے بدلنے کے بعد نہ صرف آئیڈیولوجی کی معمولہ اور متعینہ معنویت بدل گئی ہے بلکہ ادب، زبان اور ثقافت کے آئیڈیولوجی سے رشتے کی نوعیت بھی بدل گئی ہے۔ بقول ایگلٹن اب آئیڈیولوجی سے مراد فقط سیاسی تصورات اور اصول و ضوابط ہی نہیں بلکہ بشمول جمالیات، الٰہیات، عدلیات وہ تمام نظامات بھی ہیں جن کی رو سے فرد زندگی کا ذہنی تصور قائم کرتا ہے۔ اب متن کے ذریعے رونما ہونے والے معنی و تصورات دراصل اُس تصورِ حقیقت کی لسانی تشکیل ہوتے ہیں جنھیں زبان اور آئیڈیولوجی نے قائم کیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ادب آئیڈیولوجی کے مباحث کی جدلیاتی بازیافت ہوتا ہے، اس لیے کہ ادب آئیڈیولوجی سے متاثر بھی ہوتا ہے اور اس کو متاثر کرتا بھی ہے۔ غرض جدیدیت کی episteme نے ادب، آئیڈیولوجی، فرد کے بارے میں جو موقف اختیار کیا تھا وہ کالعدم ہوچکا ہے۔ ایک عہد کی episteme کے بدل جانے کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اس سے فاصلہ پیدا ہوجائے اور نیا عہد نئی episteme سے تخلیقی معاملہ کرنے لگے۔
ساجد رشید کا تعلق اردو افسانہ نگاروں کی اس کھیپ سے ہے جنھوں نے اپنی تخلیقی شناخت بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں بنائی ہے اور جن کا ذہن ختم صدی کے آخری عشروں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو شدت سے انگیز کرتا رہا ہے۔ ان کے تین مجموعے ’ریت گھڑی‘ (1990)، ’نخلستان میں کھلنے والی کھڑکی‘ اور ’ایک چھوٹا سا جہنم‘ (2004) منظرعام پر آچکے ہیں۔ پیدائش کے اعتبار سے ان کا تعلق یوپی کی قدامت پسند قصباتی فضا سے ہے لیکن پرورش کے اعتبار سے وہ ایک ایسی کمرشیل مہانگری میں رہتے ہیں، جہاں گلوبلائزیشن کے شدید دباؤ اور ادب، آرٹ، انسان اور آئیڈیولوجی کے بارے میں بدلتی ہوئی توقعات کو شدت سے محسوسکیا جاسکتا ہے۔ جہاں تیز رفتار تجارتی زندگی کی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی چکاچوند اور فلک بوس عمارتوں اور بے تحاشا ریل پیل کے پیچھے جھونپڑپٹیوں، چالوں اور کھولیوں کا وہ بھیانک سلسلہ ہے جس کی وجہ سے یہ شہر دنیا کا slum capital سمجھا جاتا ہے۔ انسان کی زندگی جو یوں تو ہر جگہ ارزاں ہوگئی ہے یہاں ایسی سطح پر ملتی ہے جس کا بیان لفظوں کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا۔ کارپوریٹ سیکٹر اور سلولائیڈ کی چمچماتی زندگی کے بیک ڈراپ میں انسانیت کا جو بے کراں سمندر دکھوں کا بوجھ ڈھوتے ہوئے رواں دواں ہے، اس کے درد کو محسوس کرنا آسان نہیں۔ یہاں قدم قدم پر بھیانک مسائل اور تضادات ملتے ہیں۔ ساجد رشید نے اپنی کہانیوں کا تانا بانا اِسی ماحول اور انہی مسائل سے بُنا ہوگا جن کی کوئی آسان تعبیر ممکن نہیں۔ بڑے شہروں کی زندگی کے تاریک پہلوؤں پر بڑے بڑے ناول اور شاہکار کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ سماجی ڈسکورس کے نام پر ہر طرح کا ہنگامی ادب بھی لکھا جاتا ہے۔ رومانوی سطحیت سے بچنا بھی آسان نہیں لیکن ساجد رشید جس طرح اس کمرشیل معاشرے کی Underbelly (زیر ناف) اور اُس کے مکروہ مسائل سے تخلیقی معاملہ کرتے ہیں، اس کا تقاضا ہے کہ اُسے غور سے دیکھا جائے۔
ساجد رشید کی ایسی کہانیوں میں ’اندھیری گلی‘، ’جنت میں محل‘، ’بادشاہ بیگم اور غلام‘ اور ’زندہ در گور‘ خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان سب کہانیوں میں protagonist کا تعلق کسی مثبت قدر سے نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہا ہے جہاں اس کی انفرادی اور اختیاری حیثیت زائل ہوچکی ہے۔ اور وہ حالات کے جبر اور تاریخ کے بہاؤ میں نہ صرف زندہ ہے بلکہ تضادات سے نباہ بھی کررہا ہے۔ ’اندھیری گلی‘ ایک بیوڑا ماسٹر کی کہانی ہے جس کی جوان بیٹی شیرین کو کالج کا ایک غنڈا برابر چھیڑتا ہے۔ گھر کا ماحول خاصا قدامت پسند ہے۔ میاں کے آنے پر بیوی تسبیح کو چوم کر کچھ پڑھتی ہوئی شوہر پر پھونکتی ہے اور پھر شیرین پر بھی اسی طرح پھونکتی ہے۔ ڈونگری میں رہنے والی صوم و صلوٰۃ کی پابند انیسہ سمجھتی ہے کہ گھر میں آیت کریمہ کا ورد کرانے سے شیرین محفوظ رہے گی اور اُس کو غنڈے سے نجات مل جائے گی۔ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ اعجاز ماسٹر یہ سمجھتا ہے کہ مذہب نہیں بلکہ پولس غنڈے کا واحد حل ہے۔ وہ پولس اسٹیشن جاکر شکایت درج کرواتا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ ڈونگری میں غنڈوں کی حکومت ہے اور پولس غنڈوں سے ملی ہوئی ہے۔ اتفاق سے ایک لڑکا جو برسوں پہلے اسکول میں اعجاز ماسٹر کا طالب علم رہا تھا وہ ایوب گھوڑا کے نام سے غنڈوں کا سرغنہ ہے۔ وہ ماسٹر کو پہچان لیتا ہے اور چاہتا ہے کہ ماسٹر کی مدد کرے۔ لیکن ماسٹر جسے قانون پر بھروسا ہے، غنڈے کا احسان نہیں لینا چاہتا۔ ادھر انیسہ کسی پہنچے ہوئے بزرگ کا گنڈا لاکر بیٹی کو پہناتی ہے اور سمجھتی ہے کہ آیت کریمہ کے ورد اور بزرگ کے دم کیے ہوئے گنڈے کے طفیل اس کی بیٹی ہر بلا سے محفوظ ہوجائے گی۔ ماسٹر کے بار بار رپورٹ کرنے کے باوجود پولس کچھ نہیں کرتی اور شیرین کی پریشانی جوں کی توں رہتی ہے۔ بالآخر ایوب گھوڑا اور اس کی غنڈہ گردی ہی کام آتی ہے اور غنڈے کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پولس شیرین کو چھیڑنے والے نوجوان کو پیٹتے ہوئے جیپ میں ڈال کر لے جاتی ہے :
’’اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو بیٹی۔‘‘ انیسہ نے شیرین کے سر پر ہاتھ پھیر کر پُراعتماد لہجے میں کہا اور شوہر کی طرف دیکھ کر فاتحانہ انداز میں مسکرائی۔ ’’ہماری عبادتوں اور پیر صاحب کے گنڈے کی برکتوں کے طفیل ہی وہ بدمعاش اس انجام کو پہنچا ہے۔ میری دعائیں اور منتیں کام آئیں — چلو بیٹی ہم ابھی اسی وقت پیر صاحب کے آستانے پر چل کر پھولوں کی چادر چڑھائیں گے‘‘۔
اس کہانی میں زندگی آئیڈیولوجی اور اقدار کی تین سطحوں پر ملتی ہے۔ قانون کے تحفظ کی سطح جس میں ماسٹر اعجاز یقین رکھتا ہے۔ خدا میں یقین اور مذہبی عقیدت کی سطح جس میں بیوی یقین رکھتی ہے۔ ڈونگری کی معاشرتی زندگی کی سچائی کی سطح جس پر غنڈوں کا قبضہ ہے اور پولس جن کے اشارے پر کام کرتی ہے۔ تینوں سطحوں پر آئیڈیولوجی لخت لخت ہے۔ گویا سماجی تشکیل واحدالمرکز نہیں، یہ پارہ پارہ ہوچکی ہے۔ ایک ہی گھر اور ایک ہی گلی میں زندگی مختلف سطحوں پر سانس لے رہی ہے لیکن ہر چیز ساتھ ساتھ موجود ہے اور نباہ بھی کررہی ہے۔ انسان مغالطوں میں زندہ ہے اور اپنے تعصبات سے اوپر اٹھنے کے لیے تیار نہیں اور معاشرے میں جرائم پیشہ لوگوں کو اقتدار حاصل ہے اور یہی وہ قوت ہے جو سماجی تشکیل کی شیرازہ بندی کرتی ہے۔ ’اندھیری گلی‘ اس لیے کہ معاشرہ اندھا ہوچکا ہے اور یہ محسوس کرنے کی صلاحیت کھوچکا ہے کہ کمرشیل معاشرے کی بھیانک دوڑ میں نہ قانون کے وہ معنی رہے ہیں اور نہ ایمان کے۔ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ پھر بھی سہارے سہارے ہیں اور زندگی کے قائم رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سہاروں کا بھرم قائم ہے۔
اس نوع کی ایک اور کہانی ’بادشاہ بیگم اور غلام‘ ہے۔ اس میں ڈرامائیت کہیں زیادہ ہے، بیانیہ کسا ہوا اور تناؤ سے بھرا ہوا ہے۔ ساجد رشید مہانگری نیم تاریک گنجان گلیوں اور کچی آبادیوں کی منظرکاری فنی چابکدستی سے کرتے ہیں۔ اشاریت اور رمزیت سے کام لیتے ہوئے وہ ہلکی سی سرّیت بھی پیدا کرتے ہیں جس سے بیانیہ میں بعض جگہ سرگوشی کا انداز پیدا ہوجاتا ہے :
’’شام کے باریک باریک خاکستری ذرے عمارتوں، لیمپ پوسٹوں اور درختوں کو ڈھک رہے تھے۔ وہ دونوں دبے پاؤں لمبے لمبے ڈگ بھرتے لیمپ پوسٹوں کے روشن ہونے سے قبل اپنا کام ختم کرلینا چاہتے تھے۔ آڑی ترچھی گنجان گلیوں سے گزر کر وہ ایک قدرے کشادہ گلی میں آگئے اور ایک ٹرانسفارمر کی آڑ میں کھڑے ہوکر گلی کی دوسری طرف ایک جوئے خانے کے باہر لکڑی کی ایک آرام کرسی پر بیٹھے ادھیڑ عمر کے پستہ قد آدمی پر نظریں مرکوز کردیں جس کی کرسی کے ایک پائے سے ایک بھورے رنگ کا قدآور ڈابر ہاؤنڈ کتا بندھا ہوا تھا۔ پستہ قد کے اُس آدمی کا رنگ اتنا کالا تھا کہ اُس کی بڑی بڑی آنکھیں گول چہرے پر بہت زیادہ نمایاں نظر آتی تھیں بالکل ڈابر ہاؤنڈ کی طرح۔ اُس نے سفید رنگ کی پوری آستین کی قمیض اور سفید رنگ کا پاجامہ پہن رکھا تھا۔ وہ بار بار ایک سفید تولیے سے اپنی گردن کا پسینہ پونچھ رہا تھا۔ دونوں ٹرانسفارمر کے پیچھے سانسیں روکے کھڑے تھے۔‘‘
وٹھل اور جبار قتل کے بعد ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں۔ دونوں کو ڈر ہے کہ اگر سرکاری وکیل نے بادشاہ کے کتے اور غلام کو کورٹ میں ثبوت کے طور پر کھڑا کردیا تو کیا ہوگا۔ جبار کہتا ہے :
’’دیکھ وٹھل غلام اپنے دھندے کا بھڑوا ہے جدھر وزن دیکھے گا اُدھر پے اُس کی وفاداری جھکے گی۔ اپنا اصلی ٹینشن تو وہ بیگم ہے، بادشاہ نے جس کو کچرے میں سے اٹھا کر رانی بنادیا‘‘۔
بیگم حیدرآباد سے بھاگ کر ممبئی آئی تھی اور گھروں میں صفائی کا کام کرتے کرتے چالیس سالہ بادشاہ کے دل کی بیگم بن بیٹھی۔ اس کا رنگ کندنی تھا اور جسم دھاردار۔ بادشاہ کے مارے جانے کے بعد غلام ٹھیکے کا بادشاہ بن چکا ہے۔ وٹھل اور جبار جیل سے نکل کر اُس گلی میں آتے ہیں جہاں بادشاہ کا گھر ہے اور جہاں اب اُس کی رانی غلام کے ساتھ رہتی ہے جو اب اُس کا بادشاہ ہے۔ ڈابر ہاؤنڈ کتا دونوں قاتلوں کو پہچان لیتا ہے اور بے قابو ہوکر بھونکنے لگتا ہے۔ غلام مارے ڈر کے گھگھیاتا ہے کہ وہ دھندے کا محض نگراں ہے :
’’بھائی اصل میں دھندہ آپ دونوں کا ہے آپ حکم کروگے تو دھندہ سنبھالوں گا‘‘۔
دونوں سوچتے ہیں کہ اگر اپنے کو بھی بادشاہ بننے کا ہے تو اس بادشاہ کو کم کرنا ہوگا۔ افسانہ نگار نے جرائم پیشہ افراد کی زبان سے جو فضاسازی کی ہے وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے :
’’تو سچ بولتا ہے۔ اپنے دھندے میں اور پولیٹکس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پولیٹکس میں بھی اپنے دھندے کی طرح کون کب وفاداری بدل دے کہہ نہیں سکتے۔‘‘
’’غلام کا وفاداری بدلنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن یہ بیگم۔۔۔‘‘ کہہ کر جبار نے نفرت سے ہونٹوں کو سکوڑ لیا۔ ’’اور غلام بھی بڑی حرامی چیز نکلا بادشاہ کے کتے اور عورت دونوں کو رکھ لیا۔‘‘
غلام اور بیگم دونوں انسان ہیں اور موقع پرستی کی اس دنیا میں جہاں طمع اور مفاد کی بالادستی ہے، انسان کو اپنی وفاداری بدلتے دیر نہیں لگتی۔ لیکن کتا تو جانور ہے۔ انسان کی وفاداری طاقت یا طمع کے آگے جھک سکتی ہے جانور کی نہیں۔ انسان اشرف المخلوقات ہے، سو وہ سودا کرسکتا ہے، جانور تو بیچارا جانور ہے۔ وٹھل بار بار ایک خواب دیکھتا ہے جس میں کتے کی بھونکار اس کو ڈرا دیتی ہے۔ بالآخر دونوں پستول میں گولیاں بھر کے کراس گلی جاتے ہیں، وہ نہ بیگم کو نشانہ بناتے ہیں نہ غلام کو، فقط کتے کو پستول کی گولیوں سے ٹھنڈا کردیتے ہیں۔ اس کے بعد جیسے ہی دونوں وین کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہیں، غلام ہاتھ جوڑے آکھڑا ہوتا ہے اور بیگم چپ چاپ پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر وین میں بیٹھ جاتی ہے۔
جرائم، قتل، اغوا، ڈکیتی، بلاتکار آج کی معاشرت میں روز کا معمول ہے۔ انسان بے حس ہو چکا ہے۔ صبح کو اخبار دیکھتے ہوئے روزمرہ کے معمول کے مطابق ہم کاغذ لپیٹ کے ہاتھ چائے کی پیالی کی طرف بڑھا دیتے ہیں۔ معاشرہ کِن کمرشیل قدروں کے ساتھ ترقی کررہا ہے۔ پولس اسٹیشن بھی ہے، چوکیاں بھی، پوسٹ بھی، نگرانی کرنے والے راؤنڈ بھی لیتے ہیں، حفاظت کے لیے نہیں ہفتہ وصولنے کے لیے۔ جرائم کے ہاتھ کس طرح کھلے ہوئے ہیں، یہ کہانی اس کا نہایت موثر نقشہ پیش کرتی ہے۔ مہانگری زیرناف کی یہ فقط ایک جھلک ہے کہ کس طرح جرائم کے اس گھناونے ماحول میں قانون اور جرائم دو ایسے نشانات ہیں جو اطمینان سے ایک دوسرے کی جگہ لے لیتے ہیں اور ان کا امتیاز مٹ جاتا ہے۔ کیا ایسا فقط اس لیے نہیں ہوتا کہ سیاسی طاقت کا ڈسکورس آئے دن یہ تسلیم کراتا ہے کہ اقتدار کے کھیل میں جرائم کی ملی بھگت جڑوں سے نہیں معاشرے کی اعلیٰ ترین سطحوں سے آتی ہے اور قانون یا سیاست کا کوئی تصور جرم سے ہٹ کر نہیں کیا جاسکتا۔
’جنت میں محل‘ اور ’چادر والا آدمی اور میں‘ ہرچندکہ اسی زندگی کے مکروہ روپ ہیں لیکن ان کی نوعیت نہ صرف مندرجہ بالا کہانی ’بادشاہ، بیگم اور غلام‘ سے الگ ہے بلکہ یہ کہانیاں باہم دیگر الگ الگ وضع کی بھی ہیں۔
’جنت میں محل‘ اس اعتبار سے ساجد رشید کے تازہ مجموعے کی کلیدی کہانی ہے کہ اس نوع کی کہانی موجودہ کارپوریٹ سیکٹر اور گلوبلائزیشن کے عہد میں ہی لکھی جاسکتی ہے۔ مشتاق کسی کمپنی میں ملازم ہے اور اس امید میں ہے کہ کمپنی کے اعلیٰ افسروں کو اس کا کام پسند آگیا تو ملازمت پکی ہوجائے گی۔ وہ صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے، درود شریف پڑھ کر دفتر جانا اس کا معمول ہے۔ مینجمنٹ کی جانب سے دی جانے والی پارٹیوں میں شرکت کرنا ملازمت کی مجبوری ہے۔ سوڈان سے بڑا ٹینڈر ملنے کی خوشی کو سیلی بریٹ کرنے کے لیے اوبرائے میں پارٹی رکھی جاتی ہے :
’’بیلے ڈانسر کی ناف میں تھرکتے چاند کو اپنے جام میں ڈبونے کی کوشش میں وہ خود ڈوبتا چلا گیا تھا۔ اسے افسوس زیادہ پینے کا نہیں بلکہ فجر کی نماز کے چھوٹ جانے کا تھا۔ فجر پڑھنا اسکول کے دنوں سے اس کا معمول تھا۔ اس کی تربیت ہی کچھ اس ڈھنگ سے ہوئی تھی کہ نماز نہیں تو ناشتہ بھی نہیں۔‘‘
سوڈان سے ایک بڑا پروجیکٹ ملنے کی خوشی میں سوڈانی مہمان کی تواضع کے لیے مشتاق سے کہا جاتا ہے کہ شیمپین کے علاوہ مینو میں کوئی فلپائنی لڑکی بھی ہونی چاہیے۔ ایسی فرمائشوں کی تکمیل کرنے والے قادر کو جب وہ فون ملاتا ہے تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ ہکلا رہا تھا۔ قادر قہقہہ مارکر کہتا ہے :
’’اومین بی فرینک وی بوتھ آران دی سیم بزنس‘‘
بعد میں جب سوڈانی مہمان کو بخوبی انٹرٹینمنٹ کرنے کے لیے کمپنی کے جنرل منیجر سے وہ اپنی تعریف سنتا ہے تو نوکری کے مستقل ہونے کے تصور سے اس کا رواں رواں جھوم اٹھتا ہے، گاؤں میں آبائی مکان کی مرمت، چھوٹی بہن کی شادی وغیرہ وغیرہ۔ مذہبی معمولات کی پابندی کے باوجود اب وہ اس کام کو پورے اعتماد سے کرنے لگتا ہے۔
ساجد رشید عموماً کہانی کا آغاز ایسی منظرکاری یا مکالمے سے کرتے ہیں جس میں تھیم یا مرکزی مسئلے کا وہ رخ سامنے آجائے جس کو وہ قائم کرنا چاہتے ہیں یا جس کے بل پر وہ سکے کو گھماکر حقیقت کے دوسرے رخ کو سامنے لاسکیں :
’’رکوع میں جھکتے ہی تیز ڈکار آئی اور رات کی شراب کا کڑوا ذائقہ منہ میں گھل گیا۔ معدے کی تیزابی رطوبت کی آمیزش کے بعد وہسکی کی ترشی قدرے تیز ہوگئی تھی۔ سجدے میں جاتے ہی مشتاق کی آنکھوں میں وہ سرخ ربن لہرانے لگا جو بھاری کولہوں اور پتلی نازک سی کمر سے بندھا ہوا تھا اور جس کی گانٹھ سے جھولتے دونوں سرے کمر کے ہر لوچ پر سانپ کی طرح لہرا لہرا جاتے تھے۔ ناف کی گہرائی کے اطراف میں پسینے کے باریک قطرے ہزاروں ننھے ننھے قمقموں کی طرح جلتے بجھتے دکھائی دے رہے تھے۔ سجدے میں اس کے منہ سے بے ساختہ سبحان ربّی الاعلیٰ کے بجائے سبحان اللہ، سبحان اللہ نکل گیا تھا ۔۔۔ اس نے لاحول پڑھ کر سلام پھیر کر جا نماز لپیٹ دی تھی۔‘‘
ابّو موتیا بند کی تشخیص کرانے کے لیے شہر آجاتے ہیں تو مشتاق کچن میں رکھی ہوئی بیئر اور وہسکی کی بوتلوں کو ٹھکانے لگا دیتا ہے۔ ابو کو فکر ہے کہ بڑے شہر میں آکر مشتاق نے کہیں نماز تو ترک نہیں کردی، وہ اسے امّی کی دی ہوئی یاسین شریف دیتے ہیں کہ اسے جیب میں رکھوگے تو شر سے محفوظ رہوگے۔ ابو گاؤں کی مسجد کی رسید بُک دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پچیس رسیدیں ہیں اپنے جاننے والوں سے پیسے جمع کرلینا۔ وہ سوچتا ہے کہ خدا کے گھر کی تعمیر میں حصہ لینا کتنا بڑا ثواب ہے۔
اس دوران آفس کی سالانہ میٹنگ میں کامرس منسٹری کا بنگالی سکریٹری بھی شریک ہوتا ہے۔ وی آئی پی گیسٹ کی مکمل انٹرٹینمنٹ کا انتظام کرنے کے بعد وہ رات گئے گھر پہنچتا ہے تو ابو گاؤں واپس جانے کی تیاری کرچکے ہیں۔ رات کی ندامت، فجر کی نماز چھوٹ جانے کا دُکھ، وہ مسجد کی رسیدوں کے پیسے ابو کو دیتا ہے تو ابو پھر کہتے ہیں :
’’نماز مت قضا کیا کرو بیٹا اور ہاں تمھاری امی نے تمھارے لیے یاسین شریف کی جو دفتی بھجوائی ہے اسے جیب میں رکھا کرو۔ تمام شر سے پاک رہوگے۔‘‘
کارپوریٹ سیکٹر کی ہوشربا ترقی سے معاشرتی زندگی میں انقلاب آگیا ہے اور معمولات میں جو تناقص پیدا ہوگیا ہے یہ کہانی اس کی ایک بین مثال ہے۔ والدین اور گھر کے لوگ الگ وضع کی زندگی جی رہے ہیں جو ایک دھڑے پر چلی جارہی ہے جس میں مذہبی شعائر کا سہارا ہے، وسائل کی کمی ہے لیکن کوئی شکوہ شکایت نہیں۔ مذہبی عقائد، آداب و اطوار اور ان کی پابندی بھی ایک طرح کی آئیڈیولوجی ہے جو یک گونہ طمانیت کا سرچشمہ ہے۔ دوسری طرف اقدار سے تہی کمرشیل زندگی ہے جہاں کامیابی کا واحد معیار دولت اور منافع ہے۔ دیکھا جائے تو باپ اور بیٹے کے درمیان کوئی جنریشن گیپ بھی نہیں۔ بیٹا بھی ان اقدار کو نباہنا چاہتا ہے جن کو نباہتا چلا آیا ہے لیکن کیریر کی کامیابی اپنی قیمت چاہتی ہے۔ دینی فرائض و وظائف شر سے پاک رکھنے کی ضمانت ہیں لیکن کیریر شر میں لپٹا ہوا ہے۔ مشتاق کی زندگی یکسر دوسری وضع پر آگئی ہے اور وہ نہ چاہنے کے باوجود کمرشیل زندگی کے بنیادی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے لگا ہے جہاں خود اپنے مذہبی و تہذیبی وجود سے اس کا فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔ ’جنت میں محل‘ بھلے ہی بن جائے لیکن دنیوی زندگی پُر از تناقض اور خالی از معنی ہوتی جاتی ہے۔ غور طلب ہے کہ موجودہ گلوبلائزڈ معاشرے میں کارپوریٹ کمرشیل زندگی کے نمو کرنے کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ ایک ڈسکورس دوسرے کو ردّ کرتا ہے لیکن بے دخل نہیں کرتا۔ زندگی میں تناقض ہے اور بظاہر دو الگ الگ دائرے ہیں لیکن ایک دائرہ دوسرے کی جگہ نہیں لیتا، یعنی تناقض کے باوجود ان میں ارتباط ہے اور دونوں ڈسکورس ایک ہی مربوط معاشرتی نظام کے اندر پہلو بہ پہلو زندہ ہیں، نہ صرف زندہ ہیں بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بھی ہیں، اور ایک کی معنویت دوسرے سے قائم ہے۔ گویا ہماری آج کی شہری معاشرتی زندگی بے تعلق بھی ہے اور تعلق بھی رکھتی ہے، بے حس بھی ہے اور اس بے حسی پر طنز کرنے والی حِس بھی رکھتی ہے۔ باوجود خواہش کے وہ اس سے نجات نہیں حاصل کرسکتی بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کے گلیمر کی طرف کھنچتی ہے۔
اسی نوع کی ایک اور عمدہ کہانی ’چادر والا آدمی اور میں‘ ہے جو کتھا ایوارڈ کی وجہ سے خاصی گردش میں رہی ہے۔ ممبئی کی ایک شناخت لوکل ٹرینوں اور ان میں سفر کرنے والی بے نام بھیڑ سے بھی ہے۔ ساجد رشید کی اکثر کہانیوں میں بیانیہ واقعہ نگاری کا حق ادا کرتا ہے۔ واقعات تواتر سے آتے ہیں اور خاص طرح کی ڈرامائیت کو راہ دیتے ہیں مگر اس کہانی میں کوئی بڑا واقعہ نہیں بلکہ دھیمی رفتار سے رونما ہوتے جانے والے ایک ہی واقعہ کے sustained بیانیہ کی کہانی ہے جو جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے قاری کے اشتیاق کو بھی انگیز کرتا جاتا ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے بھیشم ساہنی کی کہانی ’امرتسر آگیا‘ کا یاد آجانا ناگزیر ہے۔ ممبئی کی گرمیوں کی حبس زدہ شام میں مسافروں سے کھچاکھچ بھرے کمپارٹمنٹ میں کوئی آدمی چادر تانے سورہا ہے جبکہ کمپارٹمنٹ میں کئی آدمی کھڑے ہیں، بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے، ہر کوئی تعجب سے اُس آدمی کی طرف دیکھتا ہے جو چادر کے اندر اطمینان سے پاؤں پسارے چہرہ ڈھکے سورہا ہے۔ یہ آدمی معمّہ ہے لیکن کسی کو اسے چھیڑنے کی جرأت نہیں :
’’جی میں آیا کہ باپ کا گھر سمجھ کر سونے والے کی چادر کھینچ کر پھینک دوں اور اس کا گریبان پکڑ کر پوری قوت سے ایسے اٹھالوں جیسے خرگوش کو کان سے پکڑ کر اٹھاتے ہیں ۔۔۔پھر مجھے اخبار کی وہ خبر یاد آگئی کہ ویسٹرن لائن کی لوکل ٹرین میں ایک غنڈہ شراب کے نشے میں دھت، سیٹ پر لیٹا گالیاں بک رہا تھا ایک نوجوان جو اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ان کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا تھا ضبط نہ کرسکا اور اس نے اسے ڈانٹ دیا، شرابی نے اٹھ کر جیب میں سے چاقو نکالا اور اس نوجوان کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ عورت اور بچوں کی چیخیں نکل گئیں۔ دوسرے مسافر حیرت سے پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتے رہ گئے۔ نشے سے جھولتے اس آدمی کو کسی نے پکڑا اور نہ ہی کسی نے گاڑی کی زنجیر کھینچی۔‘‘
لوگ چڑھتے ہیں اترتے ہیں۔ چادر تان کر سونے والے کو حیرت سے دیکھتے ہیں مگر کوئی کچھ نہیں کہتا۔ دادر، مسجدبندر، بائی کلہ، سائن ایک کے بعد ایک آتے ہیں اور نکل جاتے ہیں۔ جیسے جیسے بیانیہ بڑھتا ہے چادر اوڑھ کر سونے والے کے بارے میں اشتیاق بھی بڑھتا جاتا ہے۔ کوئی شام کا اخبار پڑھ رہا ہے، کوئی گٹکھا کھا رہا ہے، کوئی راڈ کو پکڑے کھڑا ہے، کوئی دروازے میں لٹکا ہوا ہوا کھا رہا ہے۔ بالآخر ڈبے میں تین لوگ سوار ہوتے ہیں جن کی گفتگو سے لگتا ہے کہ انھوں نے ٹھرّا پی رکھا ہے جس کے نوشادر کی بو ڈبے میں پھیل جاتی ہے۔ وہ فحش گفتگو کررہے ہیں اور گالیاں بک رہے ہیں۔ ان میں سے رودراکھشس کی مالا والا خراٹے بھرنے والے کو جھنجھوڑنے اور گالیاں دینے لگتا ہے۔ اس پر بھی جب وہ نہیں جاگتا تو رودراکھشس والا ناگواری سے چادر سمیت سونے والے کو گھسیٹتا ہے۔ چادر کے نیچے سے ایک مدقوق چہرے والے نے نحیف مٹھیوں سے چادر کے سروں کو پکڑ رکھا تھا۔ شیو بڑھا ہوا، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، کرتہ نما بنڈی و بوسیدہ پاجامہ جیسا عام طور پر سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو پہنایا جاتا ہے، گریبان کھلا ہوا جس سے پنجر کی ہڈیاں جھانک رہی تھیں۔ رودراکھشس والا اور اس کے ساتھی اس نحیف و نزار بوڑھے کے ساتھ بدزبانی کرتے ہیں۔ بھیڑ میں انھیں روکنے والا کوئی نہیں، سوائے ایک کالے چشمے والے اندھے فقیر اور ساتھ کی بچی کے جن کو ان لوگوں کا دراز دستی کرنا اور مدقوق چہرے والے کو گالیاں دینا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ حتیٰ کہ رودراکھش والا اگلے پلیٹ فارم پر گاڑی رکتے ہی مدقوق آدمی کی گردن پکڑ کر اُسے اٹھا لیتا ہے اور اسے ڈبے سے باہر پھینک دیتا ہے۔ گاڑی چل دیتی ہے۔ پلیٹ فارم پر فقط کالے چشمے والا اندھا فقیر اور بچی ایک گٹھڑی کی طرح پڑے ایک آدمی پر جھکے ہوئے ہیں۔
گاڑیاں اور پلیٹ فارم بے ہنگم اور بے نام بھیڑ سے بھرے ہوئے ہیں۔ مہانگر گویا کوئی عفریت ہے اور یہ جم غفیر اس کے پیٹ کے غار سے نکلتا ہے اور پھر پیٹ میں سما جاتا ہے۔ ڈبے انسانوں سے کھچاکھچ بھرے ہوئے ہیں۔ اسٹیشن آتے ہیں جاتے ہیں، ایک کے بعد ایک لوگ چڑھتے ہیں اترتے ہیں لیکن مدقوق چہرے والے بے نام بے سہارا نیم اپاہج انسان سے کوئی ریلیٹ نہیں کرتا۔ یہ بے حسی اور بے تعلقی مہانگر کی بے ہنگم بھیڑ اور رواں دواں بھاگتی دوڑتی زندگی کی خاص پہچان ہے۔ انسانی جم غفیر کا ایک سیل ہے جو بھاگے چلا جارہا ہے۔ کسی کو کسی کی خبر نہیں۔ ٹھرّا پیے ہوئے نوجوان ایک دوسرے کی مجموعی طاقت سے بدمست ہیں، ریلیٹ وہ بھی نہیں کرتے، فقط دراز دستی کرتے ہیں۔ کوئی انھیں روکتا نہیں۔ یہ انسانی بے حسی اور بے تعلقی کی انتہائی مذموم سطح ہے جسے ہم آئے دن دیکھتے ہیں۔ وہ لوگ اس بوڑھے کو گٹھڑی بناکر اسٹیشن پر دھکیل دیتے ہیں، گویا وہ کوئی انسان نہیں کیچوا ہے جس کے جینے مرنے کا کوئی مصرف نہیں۔ ہزاروں لاکھوں دوڑتے بھاگتے جیتے جاگتے انسانوں کے سیلاب میں اگر اس بے آواز ہڈیوں کے ڈھانچ سے کوئی ریلیٹ کرتا بھی ہے تو وہ کالے چشمے والا اندھا فقیر یا اس کے ساتھ کی بچی ہے اور بس۔ بڑے واقعات یا بڑے کرداروں سے بڑی کہانی بنانا آسان ہے لیکن روٹین واقعہ سے کہانی بنانا اور انسانی دردمندی کے مردہ احساس کو جگا دینا آسان نہیں۔ مہانگر کی کمرشیل معاشرت کی برق رفتار دوڑ میں انسانی بے حسی کا یہ وہ منظرنامہ ہے جس کی اندوہناکی میں امیر غریب مرد عورتیں بوڑھے جوان سب شریک ہیں۔
مہانگر کی معاشرت کا ایک رخ وہ ہے جو پانچ ستارہ ہوٹلوں میں نظر آتا ہے، یا سمندر کنارے کی روشنی سے جھلملاتی سڑکوں پر کاروں کے نئے سے نئے ماڈلوں میں یا فیشن شوز، رقص گاہوں، کارپوریٹ پارٹیوں، یا بالی ووڈ کی ذہن کو سلانے حواس کو بیدار کرنے والی نیم عریاں سرگرمیوں میں نظر آتا ہے، تو ایک چہرہ وہ ہے جو لوکل ٹرینوں میں سفر کرنے والی بھاگم بھاگ، بے ہنگم انسانی بھیڑ میں دکھائی دیتا ہے، نیز ایک چہرہ وہ بھی ہے جو جھونپڑپٹیوں، کچی بستیوں، گندی نالیوں، چالوں اور کھولیوں میں بسنے والے ہزاروں لاکھوں لوگوں کی عفونت زدہ زندگیوں میں سانس لیتا ہے۔ جرائم کی موجِ تہ نشیں کہاں نہیں، لیکن یہاں کھلم کھلا دادا لوگوں کا راج ہے جو پولس کی نگرانی میں اپنا دھندہ چلاتے ہیں، تشدد کے بل پر متوازی حکومت چلاتے ہیں اور ہفتہ وصولی کرتے ہیں۔ پولس کے پاس فقط ڈنڈا ہے، ان کے پاس چاقو، پستولیں گولیاں سب کچھ ہیں۔ یہ پولس سے نہیں پولس ان سے ڈرتی ہے، سسٹم ہی ایسا ہے کہ مہانگر کے زیرناف میں نظم و نسق نہ نیتاؤں کا ہے نہ پولس کا فقط داداگری کرنے والوں کا ہے، راج ہے تو نیتاؤں کا نہ قانون کے محافظوں کا بلکہ انھیں غنڈوں، جرائم پیشہ دادا گیروں اور تسکری کرنے والوں کا ہے۔ مہانگر کے زیرناف کا کوئی ذکر پولس اور جرائم پیشہ داداؤں کے گٹھ جوڑ کے بغیر ممکن نہیں جس کی طرف کچھ اشارہ پہلے کیا جاچکا ہے۔ اسی قسم کی ایک اور کہانی ’مکڑیاں‘ ہے۔ اس کا پس منظر قصباتی ہے لیکن مرکزی مسئلہ پر مہانگر کی تجارتی ذہنیت کی طمع پیدا کرنے والی لعنت کا عکس ہے۔ بھیلی نام کی ایک گنوار قصباتی عورت ریزرو سیٹ پر چناؤ کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔ چمرٹولے کے چماروں اور پوروا مسلمانوں کی حمایت اس کو حاصل ہے لیکن دوارکا بابو اپنی ہل واہ بہو کو امیدوار بنانا چاہتے ہیں۔ بھیلی اور اس کے میاں جیاون اور چمرٹولے والوں کو الیکشن نہ لڑنے کی تنبیہہ کی جاتی ہے۔ وہ باز نہیں آتے تو رات میں حملہ کراکے بھیلی کا اجتماعی بلاتکار کیا جاتا ہے۔ یہ وہ سانحات ہیں جو آئے دن رونما ہوتے ہیں اور اخباروں کی سرخیاں بنتے ہیں۔ ان میں کوئی نئی بات نہیں۔ کہانی کا کمال اس منظرنامے میں نہیں بلکہ ایسا بیانیہ تشکیل دینے میں ہے جہاں بھیلی، اس کا شوہر جیاون، نند چھولا، جمائی بابا اور چمرٹولے کے لوگ گاؤں کے تھانے میں بلاتکار کی رپورٹ درج کرانے جاتے ہیں تو پہلے کانسٹیبل اس کے بعد تھانیدار کا جو غیرانسانی رویہ ہے، وہ گویا پورے سسٹم کے گلے سڑے ہونے کو واشگاف کرنے کی فن کارانہ کوشش ہے۔ کہانی کا کلائمکس اس ذلت آمیز منظرنامہ سے ہٹ کر ہے۔ پہلے اخباری رپورٹر آتا ہے۔ پھر ایک کے بعد ایک ٹی وی چینل والوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے ہیں، موبائل وین، ڈش اینٹینا اور جینس پہننے والی اسمارٹ اینکروں کا بے حیائی سے الٹے سیدھے سوالات پوچھنا، یہاں تک کہ بھیلی اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی ایک تجارتی commodity میں تبدیل ہوجاتی ہے اور بھیلی کا شوہر جیاون اور ٹی وی والے سب کے سب اس دھندے میں لگ جاتے ہیں۔ بھیلی کو لگتا ہے کہ وہ بلاتکار کا شکار مظلوم عورت نہیں بلکہ ایک بکاؤ مال بن چکی ہے اور ٹی وی چینل والے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لیے جیاون سے اس کا سودا کررہے ہیں۔ اس طرح برقیاتی میڈیا کی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والی کمرشیل ہوڑ کا یہ تکلیف دہ پہلو سامنے آتا ہے کہ کس طرح ایک حیوانی حملے کا المیہ پس پشت چلا جاتا ہے اور اجتماعی عصمت دری کا شکار قبائلی عورت فقط ایک بکنے والی چیز بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ مہانگری زندگی کے زیرناف کا وہ روپ ہے جو برقیاتی میڈیا کے رنگین پردے پر آئے دن دکھائی دیتا ہے۔ افسانہ کی کامیابی اس میں ہے کہ کس طرح آج کا کمرشیل سماج ایک ’تماشا سماج‘ ہے جو انسانی المیوں کو بھی تماشہ میں بدل دیتا ہے۔ اب ’گھٹنا‘ وہ نہیں ہے جو ’گھٹ‘ رہی ہے بلکہ حقیقت وہ ہے جو اسکرین پر دکھائی جارہی ہے۔ بیانیہ کو جو چیز موثر بناتی ہے وہ آخری حصے کی سفاکی اور دردمندی ہے جو تہ نشیں آئرنی اور دبے دبے طنز کے استعمال سے پیدا ہوئی ہے۔
جیسے کہ اوپر ہم نے دیکھا بعض کہانیوں کی فضاسازی ہرچندکہ قصباتی معاشرت کے کوائف سے کی گئی ہے، لیکن ان کا رخ بھی میٹرو پلس شہروں کی بدلتی ذہنیت کی طرف کھلا ہوا ہے۔ کچھ کہانیاں نفسیاتی مسائل کے گرد گھومتی ہیں اگرچہ ان کی تعداد کم ہے۔ ایسی کہانیوں میں ’گم شدہ عورت‘ اور ‘زرد دھوپ‘ خاص ہیں۔ یہ ان کہانیوں میں ہیں جہاں افسانہ نگار نے عورت مرد کے رشتے کی تہیں کھولی ہیں، لیکن دونوں کہانیوں میں مرد ضمیمہ ہے اور عورت متن۔ ’گم شدہ عورت‘ کی سریکھا اور جگدیش کے رشتے میں ہمواری ہے۔ سریکھا دوبار حاملہ ہوتی ہے لیکن حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ وہ چیک اپ کے لیے اسپتال میں داخل ہوتی ہے لیکن اچانک اپنے بستر سے غائب پائی جاتی ہے اور اس کی لاش اسپتال کے اسٹور روم سے ملتی ہے۔ پولس کی تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ موت سے قبل سریکھا کے ساتھ انٹرکورس کیا گیا۔ یعنی ریپ نہیں تھا۔ انسپکٹر جگدیش کو بتاتا ہے کہ اس کی پتنی سے ملنے والا شخص اس کے گاؤں کا تھا، وہ اسے بچپن سے جانتا تھا، لیکن جگدیش یقین کرنا نہیں چاہتا۔ وہ پولس سے پوچھتا ہے کہ کیا ملزم کا بیان بدلا نہیں جاسکتا، یعنی یہ کہ انٹرکورس نہیں سریکھا کا ریپ کیا گیا۔ سچائی معلوم ہوجانے کے بعد بھی جگدیش اپنے مائنڈ سیٹ سے باہر آنے کو تیار نہیں ہے۔ اُس کی نظر میں سریکھا کا ستی ساوتری کا جو امیج ہے وہ اس کو توڑنا نہیں چاہتا۔ انسانی رشتوں میں لاشعوری تہذیبی تصورات و توقعات کس قدر کارگر رہتی ہیں، کہانی اس گرہ کو پیش کرتی ہے۔
مرد اور عورت کے تہذیبی رویوں اور میلانات میں کبھی کبھی زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ یہ فرق پہلے سے چلا آتا ہو۔ وقت کے محور پر ان میں تبدیلی ہوسکتی ہے اور دونوں یا ایک بدل بھی سکتا ہے۔ تہذیبی رویے یا طبعی میلانات بدلتے بھی ہیں اور نہیں بھی، ’مردہ دھوپ‘ اس کی مثال ہے جس میں راوی کے پھوپھا نے کچھ پہلے اپنی بیوی کی لاش کو مٹی دی ہے۔ وہ دیسی دارو کے ٹھیکے پر شراب سے لبالب بھرے گلاس کے سامنے گنہ گار کی طرح بیٹھا ہوا ہے۔ پھوپھا نے جوانی ہی میں گھر بار چھوڑ دیا تھا اور دوسری عورت کے ساتھ رہنے لگا تھا۔ خاندان کے لوگ پھوپھا کی عیب جوئی میں لگے رہتے تھے لیکن جب کوئی اس کی مے نوشی اور مقروض ہونے کے بارے میں پھوپھی سے کچھ کہتا ہے تو ہرچندکہ پھوپھی کی زندگی ویران ہوگئی ہے وہ اپنے شوہر کا اُسی طرح دفاع کرتی ہے اور اس کے عیوب پر پردہ ڈالتی ہے۔ بلانوشی کی وجہ سے پھوپھا اپنی تہذیبی قدروں سے دور ہوتے گئے تھے لیکن پھوپھی اپنے تہذیبی رویوں میں مرتے دم تک راسخ رہیں۔ محبت اور نفرت کا یہ ملا جلا رویہ ایک پُر اسرار ارتباط کو بھی راہ دیتا ہے، یعنی انھوں نے پھوپھا کو گھر سے تو نکال دیامگرجب تک زندہ رہیںزندگی سے نہ نکال سکیں۔
’کالے سفید پروں والے کبوتر‘ قصباتی اور شہری زندگی کے تال میل اور تضاد کی کہانی ہے۔ ’مردہ دھوپ‘ میں عورت ٹوٹ جاتی ہے لیکن اپنے تہذیبی لاشعوری رویے کو نہیں بدل سکتی۔ جبکہ ’کالے سفید پروں والے کبوتر‘ میں حضرت پیر سید خواجہ جلال الدین خاکی جو دنیا ترک کرچکے تھے اور مال و متاع اور مادی آلائشوں سے اوپر اٹھ چکے تھے، وہ اپنے بھانجے کی مدد کرنے کے لیے شہر میں آتے ہیں کہ موروثی جائیداد میں دوسرے بھائی خیانت نہ کریں لیکن رفتہ رفتہ مال و دولت اور جائیداد کا اندازہ کرکے خود ان کی ذہنیت بدل جاتی ہے۔ کہانی کا مرکزی نکتہ طمع ہے کہ انسانی ذہنیت باوجود شعوری دعاوی کے کس طرح اندر ہی اندر بدلتی ہے اور کمزوریوں کو راہ دیتی ہے۔ یہ نفسیاتی موڑ کہانی کے آخر میں آتا ہے اور بیانیہ میں خوبصورتی دینی توقعات کے بدل جانے سے پیدا ہوتی ہے۔ کہانی کا بڑا حصہ راسخ العقیدگی کی فضا میں رچا ہوا ہے اور مذہبی توقعات سے لبریز ہے۔خانقاہ کا منظر دیکھیے :
’’سب کی نظریں خانقاہ کے دروازے پر جم گئی تھیں جہاں سفید تہمد اور کرتے میں ایک بزرگ کھڑے تھے جن کی داڑھی اور گردن کے لمبے بال جگہ جگہ سے سفید ہوگئے تھے۔ سر پر مہین سفید کپڑے کا ایک بڑا سا رومال رکھا ہوا تھا۔
حضرت پیر سید خواجہ جلال الدین خاکی کھجور کے خشک پتوں کی چٹائی پر گاؤ تکیے سے پشت لگاکر بیٹھ گئے۔ وہاں موجود تمام لوگ بھی بالکل میکانیکی انداز میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ قیمتی کپڑوں میں ملبوس عورتیں بنا کسی جھجک کے گندے کپڑے اور میلے جسم والی عورتوں کے ساتھ ننگے فرش پر بیٹھ گئیں۔ لوگ ایک ایک کرکے حضـرت کے سامنے جاکر عقیدت سے ہاتھ چومتے۔ دھیرے دھیرے کچھ کہتے ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو حضرت کے ہاتھوں پر سر رکھ کر رونے لگتے اور وہ آنکھیں بند کیے سنتے رہتے اور سب کو تقریباً ایک سا جواب دیتے ۔۔۔ ’’مصائب خدا کا امتحان ہیں ثابت قدم رہو۔‘‘
جو زیادہ دکھی اور پریشان دکھائی دیتا اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کچھ پڑھتے اور چہرے پر پھونک دیتے۔ ایسا شخص جب ان کے سامنے سے اٹھتا تو اس کے چہرے پر بشاشت ہوتی۔‘‘
کہانی کے آخر میں جب خواجہ جلال الدین خاکی کی ذہنیت بدلنے لگتی ہے تو بیانیہ چند رمزیہ جملوں کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے : ’’اقبال (راوی) کو محسوس ہوا جیسے کمرے میں شام کی سیاہی گناہ کی طرح پھیل گئی ہے۔ وہ اندھیرے میں حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ان کی آنکھوں میں مستقبل کے منصوبوں کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔‘‘ یہ جملے ضرب کی طرح واقع ہوتے ہیں اور قاری کے ذہن کو صدمہ سے آشنا کرتے ہیں۔
’ایک چھوٹا سا جہنم‘ بھی نفسیاتی نکتہ کے گرد گھومتی ہے، لیکن یہ قلب ماہیت کی نہیں بلکہ ذہنی کشمکش کو جھیلنے کی کہانی ہے کہ مرکزی کردار کس طرح لاشعوری تناؤ پر قابو رکھتے ہوئے اپنے ضمیر کے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔ ’ایک چھوٹا سا جہنم‘ اور زندہ در گور‘ دونوں میں مہانگر کے فسادات اور قتل و خون کی دہشت ناک پرچھائیاں ہیں، لیکن یہ فسادات کی کہانیاں نہیں۔ ’ایک چھوٹا سا جہنم‘ میں ڈاکٹر نائک کے بچپن کے دوست شہزاد اور اس کی بیوی سیما کا چہرہ بار بار ابھرتا ہے۔ شہزاد نے ایک ہندو لڑکی کو بغیر کلمہ پڑھائے رفیقۂ حیات بنا لیا تھا۔ فساد ہوا تو بلوائیوں نے حملہ کرکے سیما کی نظروں کے سامنے شہزاد کو قتل کردیا۔ نہیں کہا جاسکتا کہ شہزاد کو سیما کے رشتہ داروں نے قتل کرادیا یا شہزاد کے مسلمان دوستوں نے ہی اسے مروا دیا۔ مقتول شہزاد کا چہرہ ڈاکٹر نائک کے خیالات میں بار بار ابھرتا ہے جبکہ وہ ایک ایسے ایمرجنسی مریض کو دیکھ رہا ہے جو اتفاق سے لیڈر ہے اور جس کے ہلکے سے اشارے پر شہر میں فساد پھوٹ پڑتا ہے اور انسانی زندگی جانور سے بھی حقیر بنا دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر نائک سوچتا ہے کہ ایسے لوگوں ہی نے شہزاد کا قتل کیا ہے، کیوں نہ وہ اس کا مانیٹر بند کردے اور اسے مرنے دے کیونکہ ایسے لوگوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ آئی سی یو میں مریض مشینوں اور آکسیجن کی مدد سے زندہ ہے۔ ڈاکٹر نائک بار بار سوچتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنے دوست شہزاد کی موت کا بدلہ اس شخص سے لے سکتا ہے فقط ایک مشین کو سوئچ آف کرنے سے۔ لیکن بدلہ کی خواہش کے آگے وہ سر نہیں جھکاتا، اور ٹیک ریسٹ کہہ کر باہر نکل جاتا ہے۔ افسانہ نگار نے استعارتاً مہانگر کے جس لیڈر کی طرف اشارہ کیا ہے بیانیہ کو پڑھنے والا کوئی بھی حساس قاری اس کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ غورطلب ہے کہ شہزاد کے امیج کے بار بار ہانٹ کرنے کے باوجود ڈاکٹر زندگی کا ساتھ دیتا ہے موت کا نہیں۔
’زندہ در گور‘ میں بھی مہانگر کے فسادات کی فضا ہے۔ دیکھا جائے تو قتل و غارت اور نقضِ امن مہانگر کے معاشرتی زیرناف کا حصہ ہے۔ لیکن افسانہ نگار کا مسئلہ نہ اکثریتی ڈسکورس ہے نہ اقلیتی۔ یہ کہانی اہم اس لیے ہے کہ افسانہ نگار نے اس میں آئے دن رونما ہونے والے فسادات کو جو ایک پامال موضوع ہے، بالکل ایک نئی سطح پر لیا ہے اور بیانیہ کی تشکیل کرتے ہوئے ایک ایسا چبھتا ہوا سوال اٹھایا ہے جس کا جواب آسان نہیں۔ اس موضوع پر اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ اب کوئی کتنا زور مارے میلوڈرامہ کا خدشہ رہتا ہے۔ ساجد رشید اس سے بچ نکلے ہیں۔ بیانیہ نہایت کسا ہوا، مختصر اور امیج آفریں ہے، اسٹوری لائن ہر سطر کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور منظرنگاری اور مکالمہ سازی اتنی موثر ہے کہ ہر چیز آنکھوں کے سامنے رونما ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ مجید اور نورین اپنے بیٹے پپو اور دودھ پیتی بچی کے ساتھ ہاؤسنگ بورڈ کی دومنزلہ عمارت میں جہاں رہتے ہیں وہاں قریب ہی کھلے صحنوں پر پترے کی غیرقانونی کھولیاں بن گئی ہیں۔ کھولیوں کے بچے چھوٹی چھوٹی گلیوں میں شور مچاتے ہوئے کھیلتے رہتے ہیں۔ شام ہوتے ہی سگریٹ پان کی گمٹیوں اور چھوٹے چھوٹے چائے خانوں میں رونق ہوجاتی ہے۔ لیکن اب منظر دوسرا ہے۔ فساد پھوٹ چکا ہے۔ مجید کا دوست ہیمنت مجید کو بار بار فون کرکے کہتا ہے کہ سمے بہت خراب ہے۔ لوگوں پر دھرم اور ذات پات کا بھوت سوار ہے، تم کسی سرکشت جگہ پر چلے جاؤ۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں تمھاری فیملی کو اپنے گھر پر رکھ لیتا لیکن کیا کروں کل کے دنگے کے بعد سے ٹینشن بہت ہے۔ مجید اور نورین بار بار سوچتے ہیں کہاں جائیں، گھر چھوڑنا بھی نہیں چاہتے۔ اچانک دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ سامنے مسلح سات آٹھ نوجوان کھڑے ہیں۔ نورین پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے :
’’آج لفڑے کا چانس ہے۔ ایک دبلے پتلے نوجوان نے آگے بڑھ کر سرگوشی کے انداز میں کہا ہوشیار رہنا پانی اُبال کر رکھو اگر بہن چود حملہ کریں تو اوپر سے پانی ڈالنا ویسے ہم لوگ ان کی میت سلانے کے لیے کافی ہیں۔‘‘
اس بیچ ہیمنت دوبارہ فون کرتا ہے۔ کسی سرکشت مقام پر چلے جاؤ۔ بالآخر مارے خوف کے یہ نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ پپو اپنے طوطے کا پنجرہ بھی اٹھا لیتا ہے۔ پے بہ پے خطرات سے گزرتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہاں جائیں کس سے پناہ مانگیں۔ قانون کی پاسبانی کرنے والے تو حملہ آوروں سے بھی زیادہ وحشی ہیں۔ عورتوں کی چیخ پکار بچوں کے رونے کا شور مردوں کی للکار کی آوازیں بڑھتی جاتی ہیں۔ یہ ہانپتے کانپتے چلتے رہتے ہیں۔ آس پاس لوگ بدحواس بھاگتے ایک دوسرے سے ٹکراتے نظر آتے ہیں۔ آسمان پر روشنی کا بڑا سا ہالہ پھیل رہا ہے جیسے کہیں آگ لگی ہو، ایک جیپ کچھ فاصلے پر آکر رک جاتی ہے۔ پولس کی ٹوپی پہنے ہوئے ایک شخص نشیب میں پیشاب کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ چھپ جاتے ہیں۔ جہاں جہاں کوئی ٹیلی فون بوتھ نظر آتا ہے اپنے گھر کو فون کرتے ہیں گھنٹی بجتی ہے تو عافیت کا احساس ہوتا ہے کہ حملہ نہیں ہوا۔ بالآخر فون ڈیڈ ہوجاتا ہے تو خوف سے کانپنے لگتے ہیں۔ نورین اور پپو سے اب چلا نہیں جاتا۔ گود میں سوئی بچی اور پنجرے میں جھولتا طوطا بھی چیخنے لگتا ہے۔ آس پاس سے طرح طرح کا شور اٹھتا ہے جیسے کوئی کسی کو مار رہا ہو ذبح کررہا ہو زندہ جلا رہا ہو۔ بیانیہ کے یہ ٹکرے دیکھیے :
’’اچانک خاکستری اندھیرے میں سے ایک نوجوان نمودار ہوا۔ وہ انھیں کی طرف بے تحاشہ دوڑا چلا آرہا تھا۔ نصف چاند کے اجالے میں مجید نے دیکھا کہ اس کا منہ کسی تھکے ہوئے گھوڑے کی طرح کھلا ہوا ہے لیکن اس کی اُبلی پڑ رہی آنکھوں میں چاندنی کی نہیں موت کو مدمقابل دیکھ لینے کی وحشتناک چمک ہے۔ وہ ہانپتا ہوا ان کے قریب سے تیر کی طرح گذر کر مسجد والی گلی میں گھس گیا۔ نورین مڑ کر سکتے کے عالم میں یہ سب دیکھتی رہ گئی۔ بدحواس نوجوان جس سمت سے آیا تھا وہیں سے دس پندرہ لوگوں کا ایک غول گنڈا سہ، تلواریں اور گپتیاں لہراتا ہوا اس کے تعاقب میں شکاری کتوں جیسی وحشیانہ رفتار سے ایسے گذرا کہ ان کے دوڑتے قدموں کی آواز کے علاوہ دوسری کوئی آواز ہی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ مسلح نوجوانوں کا غول جب دوڑتا ہوا مسجد والی گلی میں غائب ہوگیا تو وہ تینوں زندگی کی سانسیں بچانے کے لیے ٹرک کے نیچے سے نکلے اور دوڑتے ہوئے سڑک پار کر کے قبرستان کی چہاردیواری سے لگ کر کھڑے ہوگئے۔‘‘
موت کی دہشت کو سامنے دیکھ کر یہ قبرستان کی دیوار سے دوسری طرف کود جاتے ہیں۔ نیم تاریکی میں دور تک شکستہ اور ٹوٹی پھوٹی قبریں بکھری ہوئی ہیں۔ برگد اور پیپل کے گھنے پیڑوں کی طرف بھیانک اندھیرا ہے۔ وہ قبرستان جو دن کے وقت بھی ڈراؤنا محسوس ہوتا تھا مجید اور نورین کو اس مصیبت کی گھڑی میں امن کی پناہ گاہ معلوم ہوتا ہے۔ انسانی بستی میں انسان ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہورہا ہے، ایسے میں قبرستان جہاں دن میں بھی موت کا سایہ لہراتا رہتا ہے، اس وقت امن و عافیت کا گہوارہ معلوم ہوتا ہے۔ گھر چھوڑ کر بھاگنے والے ان بے سہارا انسانوں کو یہاں انسان سے کوئی خطرہ نہیں۔ گویا انسان زندوں سے بھاگ رہا ہے اور مُردوں میں عافیت ڈھونڈھ رہا ہے۔ سوال زندگی کی بقا کا ہے کہ کیا زندگی کو انسانوں میں نہیں بلکہ مُردوں میں پناہ ملے گی؟
’راکھ‘ بھی ایک ایسی کہانی ہے جو ہرچندکہ ہندو مسلم تناظر میں لکھی گئی ہے، فرقہ وارانہ منافرت یا رواداری کی کہانی نہیں بلکہ بیک وقت دونوں کی ذہنیتوں کے ٹکراؤ کی کہانی ہے اور دونوں کے لاشعوری تہذیبی رویوں کے تضادات کو فنکارانہ مہارت سے بے نقاب کرتی ہے۔ آپسی رشتہ قائم کرنے والی دو روحوں کو والدین اور رشتہ داروں کے تہذیبی میلانات کی وجہ سے جس کربناک اذیت سے گزرنا پڑتا ہے کہانی ان کے جذباتی نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے ایک ایسا منظر پیش کرتی ہے جہاں دباؤ فقط ایک فرقہ کا ہی نہیں دونوں کا ہے۔ ہماری بیشتر کہانیوں میں یہ رخ یا وہ رخ پیش کیا جاتا ہے اور قاری کی نظر اس پر رہتی ہے کہ افسانہ نگار نے ڈنڈی کہاں ماری ہے۔ سارا زور اسی پر صرف ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ ذہنیت کی مذمت ہوسکے اور باہمی ہم آہنگی اور رواداری کو پیش منظر میں رکھا جائے۔ ’راکھ‘ کا بیانیہ قطعاً ایسے کسی بوجھ سے دبا ہوا نہیں۔ اس کی بڑی خوبی اس کی معنی آفرینی اور کسا ہوا ہونا ہے جس میں واقعات آگے پیچھے آتے ہیں، واردات تواتر سے رونما ہوتی ہے اور ہر واقعہ مائل بہ ارتکاز نظر آتا ہے۔ جمال اور شمع میں محبت ہوجانا کوئی انہونی بات نہیں۔ شمع کا اصلی نام شماکلکرنی تھا۔ جمال شما کے برہمن والدین سے کہتا ہے کہ وہ دھرم بدل لے گا اور ہندو بن جائے گا لیکن وہ سویکار نہیں کرتے۔ البتہ جب اپنی ماں سے گفتگو کرتا ہے تو وہ شرط رکھتی ہے کہ لڑکی مسلمان ہوجائے تو تمہارے ابو کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بہرحال شما کلکرنی مذہب بدل کر شمع جمال بن جاتی ہے۔ دونوں خوشی سے رہنے لگتے ہیں۔ شمع مراٹھی میں قرآن پڑھتی ہے لیکن اپنا منگل کے برت کا معمول بھی جاری رکھتی ہے اور جب تک جمال گھر نہیں آجاتا وہ اپنے پتی پرمیشور سے پہلے کھانا بھی نہیں کھاتی۔ شمع حاملہ ہوتی ہے لیکن کچھ ہی مدت بعد اسے یرقان ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر کو بلوایا جاتا ہے، یرقان اپنے آخری اسٹیج پر ہے، پیشتر اس کے کہ اسپتال لے جایا جائے شمع کا انتقال ہوجاتا ہے۔ میت گھر میں رکھی ہے۔ بیانیہ میں یہ منظر بار بار ابھرتا ہے۔ میت کو غسل کے بعد کفن پہناکر دیدار کے لیے رکھا گیا ہے۔ تلاوت کی آواز ماحول کو مزید سوگوار بنا رہی ہے۔ ابو پوچھتے ہیں کہ تدفین کب ہوگی جمال کہتا ہے کہ وہ شمع کو قبرستان نہیں شمشان لے جائے گا کیونکہ شمع نے اس کے مذہب سے متاثر ہوکر اپنا مذہب نہیں بدلا تھا بلکہ اس کو حاصل کرنے کے لیے اپنے مذہب کو بدلنے کی رسم ادا کی تھی۔ جمال داہ سنسکار کرکے شمع کی آتما کو سکون پہنچانا چاہتا ہے۔ ابو غصے کو برداشت نہیں کرسکتے اور امی کا ہاتھ کھینچتے ہوئے سیڑھیوں سے اتر جاتے ہیں۔ شمع کے برہمن ماں باپ نے تو شادی کے دن سے ہی منہ موڑ لیا تھا۔ دونوں طرف سے ٹھکرایا ہوا جمال کہانی کے آخر میں شمع کے والدین کے دروازے پر کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں چھوٹی سی کلسی ہے جس کے منہ پر سرخ کپڑا بندھا ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے تو فقط اتنا :
’’میں آپ کی بیٹی کو لوٹانے آیا ہوں۔‘‘
مہانگر میں آئے دن بین المذہبی شادیاں ہوتی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن تبدیلیٔ مذہب کے بعد بھی اس فرقے کے لیے یا اس فرقہ کے لیے قابل قبول نہ ہونا دونوں فرقوں کے سفاکانہ غیرانسانی رویوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسی صورت میں بالعموم یہ ہوتا ہے کہ لڑکی یا لڑکے کے تبدیل مذہب کے بعد اگر ایک فریق نہیں تو دوسرا فریق قبول کرلیتا ہے، لیکن یہاں دونوں طرف استرداد ہے۔ کہانی کار کی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی فرقے کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا بلکہ دونوں کے تہذیبی رویوں کے تضادات کو بطور واقعہ نشان زد کردیتا ہے۔ بیانیہ میں بین السطور آئرنی ironyکی ایک لہر چلتی ہے۔ میت سفید چادر میں لپٹی ہوئی رکھی ہے، اگربتیوں کا دھواں پھیل رہا ہے۔ مرنے والی نے مذہب بھی تبدیل کیا اور زندگی کو بھی ٹھکانے لگادیا لیکن اس کا ایثار و قربانی پھر بھی قابل قبول نہ ہوا۔ نہ ہی جمال کی پیش کش قبول ہوئی، نہ ہی داہ سنسکار کرنے کا اس کا فیصلہ قابل قبول ہوا۔ روح کی تہوں تک اترے ہوئے معاشرتی اور تہذیبی رویوں کے المناک تضاد کو کہانی کار نے جس طرح چند صفحوں کے بیانیہ میں ابھارا ہے اس سے بلاشبہ اس ڈسکورس کی ایک نئی جہت سامنے آتی ہے۔ یہاں بھی مہانگر کی تیز رفتار زندگی کی تبدیلیاں اور تقاضے بیک وقت قدامت پسندانہ تہذیبی رویوں کے ساتھ ساتھ موجود ہیں جو آج کے گلوبل معاشرے میں سماجی ڈسکورس کی خاص پہچان ہے۔
اوپر ہم نے ساجد رشید کے جہانِ معنی کی ایک جھلک دیکھی اور ان کی کچھ کہانیوں کے متن کے اندرون میں جھانکنے کی کوشش کی۔ اس دوران ان کی بعض بہترین کہانیوں سے بھی ہم نے ملاقات کی۔ تنقید جتنا معروضی عمل ہے اتنا موضوعی عمل بھی ہے۔ ضروری نہیں کہ سب پڑھنے والے ان کہانیوں کو اس طرح دیکھیں جیسے کہ ہم نے دیکھا ہے۔ کوئی دوسرا ان متون کو کسی اور طرح سے بھی پڑھ سکتا ہے۔ ساجد رشید کی جڑیں یوپی کے قصبات میں ہیں، ان کی سائیکی میں قصباتی آرکی ٹائپ بھی ابھرتے ہیں لیکن ان کے شعور نے metropolis ممبئی (مہانگر) کی تیزی سے بدلتی ہوئی کمرشیل فضا میں آنکھ کھولی جہاں برقیاتی ترقی کی تماشا سوسائٹی میں گلوبلائزیشن کی خیرہ کردینے والی ریل پیل و صارفیت نے انسان کو بے حس بنا دیا ہے۔ نیز جھونپڑ پٹیوں اور کھولیوں کی عفونت زدہ جرائم کی دنیا جہاں انسان کی زندگی کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر ہے۔ بڑے میٹروپلس کی پہچان فقط آبادیوں کی ریل پیل اور تضادات سے ہی نہیں ہوتی، وہ ایک جیتا جاگتا ثقافتی وجود بھی ہوتے ہیں۔ ایسے ہر شہر کی اپنی پہچان اور اپنا کردار ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ نمو کرتا ہے اور منقلب بھی ہوتا رہتا ہے۔ مہانگر کے تہذیبی اور سماجی مسائل کے بارے میں متعدد لوگوں نے لکھا ہے لیکن ساجد رشید کے افسانوں میں جس طرح آج کے میٹرو کا وجود ابھرتا ہے اور جس فن کارانہ سفاکی سے انھوں نے مہانگر کے زیرِناف اور دوسرے پہلوؤں کے بارے میں بیانیہ تشکیل دیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ ان کے زیادہ تر کردار حاشیے کے لوگ ہیں۔ جیسے کہ ہم نے اوپر دیکھا، ان کے یہاں دوسرے مسائل اور موضوعات پر کہانیاں بھی ہیں لیکن جس تخلیقی محویت اور رچاؤ سے انھوں نے آج کے مہانگری تضادات اور ان کے گھناونے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے وہ ان سے خاص ہے۔ اس نوع کے سماجی ڈسکورس میں نفسیاتی مسائل بھی ہیں۔ جرائم پیشہ داداگیری اور پولس کی بدکاریوں کے مرقعے بھی ہیں، مذہبی منافقت اور ریاکاری کے لاینحل تضادات بھی ہیں۔ وہ ان کی جیتی جاگتی پہچان کو پیش کرتے ہیں اور مہانگر کا وجود اور اس کا subaltern بین السطور میں سانس لیتا معلوم ہوتا ہے۔ ایسی کہانیوں میں میں ’زندہ در گور‘، ’راکھ‘، ’جنت میں محل‘، ’چادر والا آدمی اور میں‘، ’اندھیری گلی‘، اور ’بادشاہ بیگم اور غلام‘ کو ضرور شامل کروں گا، ہوسکتا ہے دوسروں کو دوسری کہانیاں پسند ہوں لیکن میرے نزدیک ان کے بیانیہ سے یہ بشارت ضرور ملتی ہے کہ ساجد رشید کا فن اب پختگی کی اس منزل میں ہے کہ ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اردو کو مہانگر کے سانس لیتے ہوئے سماجی اور ثقافتی وجود کے بارے میں ایسا ناول دیں جو اپنی مثال آپ ہو۔