The Ideology or Manifestation is not necessary: Saba Ikram

Articles

نظریئے یا منشور ضروری نہیں

صبا اکرام

اختر سعیدی: وہ کیا محرکات تھے جنھوں نے آپ کو ادب کی طرف راغب کیا؟
صبا اکرام: میرے آبائی وطن ہزاری باغ میں میرا ایک ہندو دوست تربھون تھا جو ’’تیرشت‘‘ تخلص کرتا تھا اور ہندی میں کویتائیں لکھتا تھا۔ دو ایک بار وہ مجھے اپنے ہمراہ کوی سمیلن میں لے گیا ، لہٰذا مجھ میں بھی شعر کہنے کی خواہش جاگی ، اور میں نے ایک غزل کہہ ڈالی۔ اسے اپنے یہاں کے ایک سینئر شاعر قمر امروہوی (قمر احمد صدیقی) کو دکھایا تو انھوں نے اس کی نوک پلک درست کردی۔ وہ غزل بہار سے نکلنے والے رسالے ’’شاخِ گل‘‘ میں شائع ہوگئی۔ پھر تو شعر کہنے کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ آج تک جاری ہے۔
اختر سعیدی: آپ بنیادی طور پر شاعر ہیں ، نثر کی طرف آنے کے اسباب کیا ہیں؟
صبا اکرام: 60کی دہائی کے اوائل میں جب میں نے شاعری شروع کی ، اس کے تھوڑے دنوں بعد ہی ’’شب خون‘‘ الہ آباد سے نکلنے لگا، ڈاکٹر وزیر آغا کے رسالے ’’اوراق‘‘ کا اجراء بھی اسی زمانے میں ہوا۔ اس کے ساتھ ہی جدیدیت کے چرچے بھی ہونے لگے اور بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس میں شرکت نثر کے ذریعے ہی ممکن تھی، لہٰذا اُس دور کے بیشتر لکھنے والوں کی طرح مجھے بھی گاہے بگاہے رسالوں کے صفحات پر اپنے خیالات کے اظہار کے لیے نثر کا سہارا لینا پڑا۔ ویسے باضابطہ طور پر نثر لکھنے کی جانب اُس وقت راغب ہوا ، جب ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’اوراق‘‘ کے لیے جدید افسانے پر سلسلہ وار مضامین لکھنے کا مشورہ دیا۔ ان مضامین کا مجموعہ حال ہی میں ’’جدید افسانہ چند صورتیں‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آیا ہے۔
اختر سعیدی:جدیدیت سے متاثر ہونے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
صبا اکرام:در اصل میں نے جب لکھنا شروع کیا تو ہر طرف جدیدیت کی باتیں ہونے لگی تھیں ۔ ہمارے شہر میں تو خیر کوئی اور نہ تھا، مگر قریب ہی رانچی میں پرکاش فکری ، وہاب دانش، اختر یوسف، شاہد احمد شعیب، صدیق مجیبی وغیرہ جیسے اہم جدید شعراء سامنے آچکے تھے۔ پٹنہ پہنچا تو وہاں جدید شاعروں اور افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں موجود تھی، جس میں وہاب اشرفی ، ظفر اوگانوی، علیم اللہ حالی، ظہیر صدیقی، نور الہدیٰ سیّد ، ارمان نجمی، شکیب ایاز اور اسلم آزاد وغیرہ شامل تھے ، لہٰذا میرا اس مرکزی دھارے میں شامل ہوجانا ایک فطری عمل تھا۔
اختر سعیدی:آ پ کا نظریۂ جدیدیت کیا ہے؟
صبا اکرام:جدیدیت سے میری مراد وہ جدیدیت یا ’’جدید‘‘ ہرگز نہیں ، جسے آزاد اور حالی نے مقصدی اور اصلاحی ادب کی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا تھا۔ میں تو اس جدیدیت کا ماننے والا ہوں ، جسے اس کے بنیادی معماروں ، یعنی ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی نے ادب میں رواج دیا ۔ وہ جدیدیت کسی نظریے یا منشور کو ضروری نہیں سمجھتی اور آزاد روی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گذشتہ دنوں جب ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی کراچی آئے تو آپ کے انٹرویو اور دیگر کئی جگہوں پر سوالات کے جواب میں انھوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ جدیدیت کوئی تحریک نہیں ، بلکہ ایک ’’رویہ‘‘ ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا اسے اگر ایک تحریک کہتے ہیں تو اس سے مراد ایک خالص ادبی تحریک ہے ، جس میں بقول ان کے وسعت اور کشادگی اور تخلیقی سطح اور تہذیبی نکھار کے ساتھ سماجی شعور بھی شامل ہے۔
اختر سعیدی:جدید فکشن پر تنقید لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
صبا اکرام:جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ ڈاکٹر وزیر آغا نے اس طرف آنے کا مشورہ دیا ، مگر یہ بھی سچ ہے کہ جیسے بہت سارے کام آدمی دوسروں کے بہکاوے میں آکرکر بیٹھتا ہے ، تو مجھے بھی اس جانب دھکیلنے والوں میں میرے فکشن گروپ کے دوست یعنی مرحوم شہزاد منظر ، علی حیدر ملک اور اے۔ خیام تھے۔ اُس زمانے میں ہمارے دوست ممتاز احمد خان بھی پابندی سے فکشن گروپ کی نشستوں میں شریک ہوتے تھے۔ اُن سے کہا گیا کہ ناول کی تنقید کا شعبہ خالی ہے، تم اِدھر آجائو۔ سو وہ بھی آج تک ناول کی تنقید میں لگے ہوئے ہیں۔
اختر سعیدی:کہاجاتا ہے کہ جدید افسانہ موضوعات کے اعتبار سے اب تکرار کا شکار ہے؟ کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں؟
صبا اکرام:نہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے تو جدید افسانے نے اپنے موضوعات کا دائرہ اتنا وسیع کیا ہے کہ افغانستان ، فلسطین اور عراق کے حوالے سے بھی موضوعات خوبصورتی سے اس کے دامن میں سمٹ آئے ہیں اور تازگی کی خوشبو بکھیرتے ہیں۔ کراچی کی حد تک دیکھئے تو شہر آشوب کو جس فنکارانہ انداز میں اے۔ خیام ، نجم الحسن رضوی، شمشاد احمد ، مبین مرزا، شمیم منظر نے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے ، وہ بھی موضوعاتی اعتبار سے تازگی کا احساس دلاتے ہیں۔
اختر سعیدی:آپ کی نظر میں جدیدیت کے حوالے سے کون سے نقاد اہم ہیں؟
صبا اکرام:اس حوالے سے میں ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی کو بہت اہم سمجھتا ہوں۔ یہ دونوں اپنے ملکوں میں جدیدیت کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔
اختر سعیدی:جدیدیت اور ترقی پسندی میں بنیادی فرق کیا ہے؟
صبا اکرام:ترقی پسندی ایک خاص نظریے اور مقصد یعنی ہندوستان کو انگریزی سامراج کے چنگل سے آزاد کرانے اور ادب میں اشتراکی سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے ایک مضبوط تحریک کی صورت میں سامنے آئی تھی، جبکہ جدیدیت کسی منشور کے بغیر آزادانہ طور پر ذات اور کائنات کو سمجھنے کی کوشش کا نام ہے۔ جدیدیت ارد گرد کے ماحول میں کھو جانے کی بجائے روح کی گہرائیوں میں اترتی ہے۔
اختر سعیدی:کراچی میں جدید افسانے کی صورتِ حال کیا ہے؟
صبا اکرام:کراچی میں تو جدید افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں موجود ہے، جس میں اسد محمد خان، زاہدہ حنا، محمود واجد، علی حیدر ملک، اے۔ خیام، احمد ہمیش، شمشاد احمد، فردوس حیدر، احمد زین الدین، آصف فرّخی اور مبین مرزا جیسے جانے پہچانے کہانی کار شامل ہیں۔ اب تو کراچی میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والے افسانہ نگاروں کی بھی پوری کھیپ سامنے آچکی ہے، جس میں آصف ملک، شہناز شورو، نسیم انجم، آفاق سمیع اور امین الدین جیسے ذہین اور باصلاحیت لکھنے والے شامل ہیں۔
ہاجرہ مسرور گوکہ کافی عرصے سے خاموش ہیں ، مگر ان کی شہر میں موجودگی بھی نئے افسانہ نگاروں کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ اب تو خیر سے ڈاکٹر انور سجاد بھی کراچی میں رہنے لگے ہیں۔ وہ اردو افسانے میں علامت نگاری اور تجریدیت کے بانیوں میں سے ہیں۔
اختر سعیدی:کیا یہ درست ہے کہ علامت نگاری نے قاری کو اردو افسانے سے دور کیا؟
صبا اکرام:بھئی ، اردو افسانے میں علامت نگاری کے نمونے تو بہت پہلے کرشن چندر، احمد علی اور ممتاز شیریں کے یہاں سامنے آچکے تھے۔ دراصل نقصان علامت نگاری سے نہیں ، بلکہ نا پختہ کار اور جعلی علامت نگاروں سے پہنچا ہے۔
اختر سعیدی:آپ نثری نظم کابانی کسے سمجھتے ہیں ۔ اردو میں اس کے کیا امکانات ہیں؟
صبا اکرام:میں نثری نظم کے موضوع پر اپنے ایک مضمون میں جو ’شب خون‘‘ میں شائع ہوچکا ہے، یہ کہہ چکاہوں کہ اس کے نمونے یوں تو کسی اور حوالے سے اردو میں سامنے آتے رہے ہیں، مگر پہلی بار اس کو اِسی نام سے احمد ہمیش نے پیش کیا۔ یہ نظمیں ’’شب خون‘‘ میں ہی شائع ہوئی تھیں۔ویسے پاکستان میں اس کو تحریک کی شکل دینے میں قمر جمیل پیش پیش تھے۔ وہ افضال احمد سیّد ، عذرا عباس، انور سین راے، ذی شان ساحل جیسے نثری نظم لکھنے والوں کو سامنے لائے۔
اختر سعیدی:اردو ادب کا ایک دور اقبال کے ساتھ، دوسرا دور فیض کے ساتھ ختم ہوا۔ شاعری کے موجودہ دور کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟
صبا اکرام:شاعری کے اعتبار سے موجودہ دور کسی ایک نام سے نہیں ، بلکہ کئی ناموں سے پہچانا جائے گا۔ جن میں سرِ فہرست نظم کے حوالے سے وزیر آغا اور غزل کے حوالے سے ظفر اقبال، جون ایلیا اور عرفان صدیقی کے نام ہوں گے۔
اختر سعیدی:مجموعی اعتبار سے کراچی کی ادبی صورتِ حال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
صبا اکرام:ایسا لگتا ہے کہ یہ شہر ادبی اعتبار سے کنگال ہوتا جارہا ہے۔ مجنوں گورکھپوری گئے، اختر حسین رائے پوری اور ممتاز حسین بھی چلے گئے۔ سلیم احمد اور شمیم احمد بھی رخصت ہوئے، قمر جمیل ، محمد خالد اختر اور جون ایلیا بھی انتقال کرگئے۔تحقیق اور تنقید کے حوالے سے بڑے ناموں میں ہمارے درمیان اب ڈاکٹر جمیل جالبی اور ڈاکٹر محمد علی صدیقی کی موجودگی تقویت کا باعث ہے۔
اختر سعیدی:کیا اردو تنقید کے حوالے سے آپ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی فرق دیکھتے ہیں؟
صبا اکرام:مشرقی شعریات کی جانب بھارت میں جھکائو نظر آتا ہے، جبکہ ہمارے یہاں مغربی تنقیدی اصولوں اور نئے علوم سے استفادے کا رجحان زیادہ ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا مغرب میں نئی تنقید ی تھیوری کے حوالے سے اکثر اپنے مضامین میں بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ نئے علوم سے اردو کو متعارف کرانے والوں میں ڈاکٹر محمد علی صدیقی کا نام بھی اہم ہے۔
بھارت میں ساختیات اور پس ساختیات اور پھر مابعد جدیدیت کا بڑا چرچا رہا ہے۔ اسے تحریک بنانے کی کوشش میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ پیش پیش رہے۔ کراچی میں اس حوالے سے کچھ سرگرمیاں رہی ہیں اور خاص طور سے ڈاکٹر فہیم اعظمی نے اپنے ماہنامے ’’صریر‘‘ میں اس پر خود بھی لکھا اور دوسروں سے بھی مضامین لکھوائے۔ ضمیر علی بدایونی اور رئوف نیازی نے تو اس موضوع پر پوری کتاب لکھی۔
قمر جمیل نے بھی ’’ دریافت‘‘ میں اس پر مضامین شائع کیے۔ ویسے ساختیات اور پس ساختیات کو بطور علم سمجھنے سمجھانے میں ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر انور سدید بھی پنجاب میں پیش پیش رہے۔ آغا صاحب کی کتاب اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔ پنجاب میں ان کے علاوہ کسی نے بھی اس موضوع کی طرف دھیان نہیں دیا۔ ڈاکٹر فہیم اعظمی کے انتقال کے بعد ’’صریر‘‘ بھی بند ہوچکا ہے اور اس کے ساتھ ہی کراچی میں اس پر بحث مباحثے بھی ختم ہوگئے۔ بھارت میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور ان کے کچھ ساتھی اسے تحریک بنانے کی کوششوں میں اب تک لگے ہوئے ہیں، مگر کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
اختر سعیدی:ایک زمانے میں شکایت تھی کہ اردو کے نقاد غزل کی زلفوں کے اسیر ہوگئے ہیں اور افسانے کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اب کیا صورتِ حال ہے؟
صبا اکرام:گذشتہ دو تین دہائیوں کے دوران تو خاصے لوگ فکشن کی تنقید کی جانب راغب ہوئے۔ ہمارے ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی نے ایک پوری کتاب ’’افسانے کی حمایت میں ‘ کے عنوان سے لکھی۔ پھر مہدی جعفر اور وارث علوی نے بھی وہاں افسانے پر کئی کتابیں لکھ ڈالیں۔ یہاں شہزاد منظر فکشن کے نقادکی حیثیت سے سب سے نمایاں رہے۔ انھوں نے ’’جدید اردو افسانہ‘‘ ، ’’علامتی افسانے کے ابلاغ کا مسئلہ‘‘ اور ’’اردو افسانے کے پچاس سال‘‘ جیسی اہم کتابیں لکھیں۔ جن کے مطالعے کے بغیر اردو افسانے ، بالخصوص جدید افسانے کو سمجھنا مشکل ہے۔ یوں تو پاکستان میں افسانے کی تنقید ڈاکٹر انور سدید ، ڈاکٹر انوار احمد، علی حیدر ملک، رشید امجد، مرزا حامد بیگ اور سلیم آغا قزلباش نے بھی لکھی ہے ، مگر شہزاد منظر کی پہچان ہی ایک فکشن کے نقاد کی تھی۔ یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ ابھی حال میں شہزاد منظر پر پی ایچ ڈی کی ڈگری علامہ اقبال یونیورسٹی سے اسد فیض کو ملی ہے۔ ہزاری باغ (بھارت) میں ڈاکٹر جلیل اشرف کی نگرانی میں شہزاد منظر پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تکمیل کے قریب ہے۔

———————————————————————