آپ اینڈرائڈ سمارٹ فون کے بہت سے فیچرز سے واقف ہوں گے لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں عام صارف کو معلوم نہیں ہوتا، یا ان پر کبھی توجہ نہیں دی جاتی۔آئیے آج ہم کو ان خفیہ فیچرز سے متعلق بتاتے ہیں Do Not Disturb ’ڈوناٹ ڈسٹرب‘ ایک ایسا ہی فیچر ہے جسے ایکٹیویٹ کر کے آپ اپنے فون کو بتا سکتے ہیں کہ کس کی کال رسیو کرنی ہے۔اور کس کا میسج۔ آپ جسے چاہیں اور جب چاہیں خود کو ڈسٹرب کرنے سے روک سکتے ہیں۔ اس فیچر کو آن کرنے کے لئےآپ پہلے Settings میں جائیں، پھر Sound ، اور پھر Do Not Disturb کو سلیکٹ کریں۔ اس آپشن میں Priority Only Settings کو منتخب کریں۔ یہاں آپ منتخب کرسکتے ہیں کہ کون آپ کو کال کرسکتا ہے اور یہ بھی منتخب کرسکتے ہیں کہ کون آپ کو میسج کرسکتا ہے۔ Smart Lock ’سمارٹ لاک‘ کے فیچر کو استعمال کرتے ہوئے آپ اپنے موبائل فون کو کسی بھی جگہ آٹو میٹک طریقے سے ان لاک کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے آپ یعنی پہلے سیٹنگز، پھر سکیورٹی اور پھر سمارٹ لاک کا انتخاب کریں۔ یہاں آپ On body detection, Trusted Places, Trusted Devices, Trusted face, Voic میں سے کسی بھی آپشن کو منتخب کر سکتے ہیں۔ آپ Trusted Places کو منتخب کرکے ان جگہوں کے بارے میں بتاسکتے ہیں جہاں آپ کا فون خود کار طریقے سے ان لاک ہو جائے۔ Personalised ad ’پرسنلائزڈ ایڈ‘ کے آپشن کو استعمال کرنے کے لئےکو منتخب کریں۔ اب جو پاپ اپ ونڈو آپ کے سامنے آئے اس پر OK کلک کردیں۔ اب گوگل کی جانب سے آپ کو پرسنلائزڈ اشتہارات نہیں دکھائے جائیں گے۔ Instant Heart Rate اگر آپ اپنے موبائل فون کے ذریعے دل کی دھڑکن کی پیمائش کرنا چاہتے ہیں تو پلے سٹور سے انسٹنٹ ہارٹ ریٹ (Instant Heart Rate) ایپ کو انسٹال کرلیں۔ اب اس ایپ کو اوپن کریں اور اپنے فون کے کیمرے پر انگلی رکھیں۔ چند ہی سیکنڈ میں یہ ایپ آپ کے دل کی دھڑکن کیرفتار سکرین پر ظاہر کردے گی۔ Screen Magnifier کمزور بصارت والوں کے لئے سکرین میگنیفائر کا فیچر بے حد فائدہ مند ہے۔ اس کے لئے Settings>Accessibility میں جائیں اور Magnification Gestures کو منتخب کریں۔ اب آپ انگلی سے سکرین کے کسی بھی حصے پر تین بار ٹیپ کریں گے تو آپ کی مرضی کے مطابق اس کا سائز بڑا ہوجائے گا۔ Guest Mode اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اپنا فون کسی کو دیں اور وہ آپ کے پرائیویٹ ڈیٹا تک رسائی حاصل نہ کرسکے تو گیسٹ موڈ آن کرلیں۔اگر آپ فون کے اوپری حصے میں دی گئی نوٹیفکیشن بار کو نیچے کریں تو اپنے avatar کو منتخب کرنے پر تین آپشنز آپ کے سامنے آجائیں گے۔ اس میں سے ایڈ گیسٹ (Add Guest) کو منتخب کرنے سے آپ کا فون گیسٹ موڈ میں آجائے گا۔ اب کوئی اور شخص آپ کے موبائل کو استعمال کرے گا تو آپ کے میسجز اور ایپس تک رسائی حاصل نہیں کرسکے گا۔ Invert Colors اگر آپ اندھیرے میں اپنے فون کیسکرین پر کچھ پڑھنا چاہتے ہیں یہ فیچر بہت فائدہ مند ثابت ہوتا کیونکہ اس کے آن ہونے پر سکرین پر زیادہ دیر تک نظر جمانے کے باوجود آپ آنکھوں پر دباؤ محسوس نہیں کریں گے۔ اس کے لئے آپ کا انتخاب کریں اور اس آپشن کو آن کر لیں۔ یقیناً مذکورہ فیچرز سے آپ کی معلومات میں اضافہ ہوا ہوگا۔
اینڈرائیڈ فون میں موجود 8 خفیہ فیچرز
Articles
16 Performance of Mobile Phone Volume Buttons
Articles
موبائل فون کے والیم بٹن کے 16 کمالات
-
اسمارٹ فون کا والیم بٹن صرف آواز کو بڑھانے یا کم کرنے کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ اسے مزید کئی آپشنز کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، مثلاً اسکرین ٹرن آف، فلیش اور اسکرین کی روشنی (برائٹنس )بڑھانا،وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ والیم بٹن کو ایک سے زائد مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بس ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کرنی پڑے گی۔ پلے اسٹور نے فری ایپ ’’بٹن میپر‘‘ انسٹال کریں اور ضروری اجازت دینے کے بعد ایپ قابل استعمال ہوجائے گی۔ نئے اسکرین پیج کھلنے پر’گو‘ کا آپشن ہوگا جس پر کلک کرنے سے اگلے پیج پر رسائی مانگی جائے گی جسے آن کرنے پر والیم اپ اور والیم ڈاؤن کے آپشنز دیے جائیں گے۔ ملٹی پل فیچرز استعمال کرنے کے لیے جس بٹن کو آپ استعمال کرنا چاہتے ہیں اس کا انتخاب کریں۔ اس کے بعد تین آپشنز نظر آئیں گے جس میں سنگل ٹیپ، ڈبل ٹیپ اورلانگ پریس شامل ہیں۔ اس میں کسی ایک کا انتخاب کرنے پرنئے اسکرین پیج پر16 آپشنزدستیاب ہوں گے جسے والیم بٹن سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ کسی ایک آپشن کو منتخب کریں گے جیسے فلیش آپشن تو والیم بٹن دبانے سے فلیش آن ہوجائے گی۔ اسی طرح آپ پسندیدہ آپشنز کا انتخاب کرکے والیم بٹن سے اسے آن یا آف کرسکتے ہیں۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔
When Mobile phone restart is necessary
Articles
موبائل فون ری اسٹارٹ کرنا کب ضروری ہوتا ہے
-
بیشتر افراد اپنے اسمارٹ فون سست ہونے پر اسے ری اسٹارٹ کرتے ہیں اور اپنے موبائل میں درپیش مسئلے کو حل کرنے کے لئے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں۔
ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین نے لوگوں کو کئی ایسی تجاویز بتائی ہیں جن پر عمل کرکے ہم اپنے اسمارٹ فونز کی زندگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے پیسوں کی بھی بچت کرسکتے ہیں۔
اسمارٹ فونز کی حفاظت کے لئے آپ کو یہ معلوم ہونا بے حد ضروری ہے کہ اسمارٹ فون کو ری اسٹارٹ کرنا کتنا ضروری ہے اور اسے کب ری اسٹارٹ کرنا چاہئے؟
نئے آنے والے اسمارٹ فونز میں ری اسٹارٹ کرنے کا پیغام بھی موصول ہوتا ہے اور ایسا ہونا ضروری بھی ہے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون کا استعمال کرنے والے ہر فرد کو اپنے موبائل کو ہفتے میں ایک مرتبہ کم سے کم ایک منٹ تک بند کرنے کے بعد دوبارہ کھولنا چاہئے۔
ایک ہفتے کے دوران کم از کم ایک مرتبہ اسمارٹ فون کو بند کرکے کھولنا چاہئے، اس کے بے شمار فوائد ہیں، ایسا کرنے سے اسمارٹ فون کی میموری، بیٹری اور اس کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔
لاس اینجلس کے ٹیکنالوجی کنسلٹنٹ بوب موتامیدی کا کہنا ہے کہ ہمارے اسمارٹ فونز میں بے شمار ایپلیکیشن بیک گراؤنڈ پر چل رہی ہوتی ہیں اور اس سے فون کی بیٹری اور میموری اثرانداز ہوتی ہے، فون کو ری اسٹارٹ کرنے سے یہ تمام ایپلیکیشن بند ہوجاتی ہیں جس سے فون کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور وہ پہلے سے بہتر رفتار کے ساتھ کام کرنے لگتا ہے۔
Ali Sardar Jafri ki Manzil
Articles
علی سردار جعفری کی منزل ایک جائزہ
ڈاکٹر معزہ قاضی
!‘‘
ہندوستان میں تلک کو چھے سال کی قید پر مزدوروں کی ہڑتال، جلیان والا باغ کے حادثے کے بعد انگریزی حکومت کے خلاف ہڑتالیں ، دھرنے اور جلوس، ولایتی مال کا بائیکاٹ ، ہزاروں کی تعداد میں مزدوروں ، طالب علموں اور کارکنوں کی گرفتاریوں سے اردو ادب بھی متاثر ہو رہا تھا ۔ ۱۹۳۵ء میں سجاد ظہیر نے داکٹر محمد دین تاثیر ، ملک راج آنند ، ڈاکٹر جیوتی گھوش اور پرمود سین کے ساتھ مل کر ایک ادبی حلقہ کو وجود بخشا جس نے ہندوستانی ترقی پسند ادیبوں کی ایسو سی ایشن کے نام سے ایک انجمن تشکیل کی ۔ ۱۹۳۵ ء کے آخر میں سجاد ظہیر لندن سے ہندو ستان لوٹے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے نام سے باقاعدہ تنظیم قائم کی ۔
لکھنؤ میں منعقدہ پہلی کانفرنس میں ترقی پسند کانفرنس میں ترقی پسند مصنفین کا اعلان نامہ منظور کیا گیا جس کی چند سطریں حسب ذیل ہیں :
ہم اس انجمن کے ذریعے ہر اس جذبے کی ترجمانی کریں گے جو ہمارے وطن کو ایک نئی اور بہتر زندگی کی راہ دکھائے ۔ اس کام میں ہم اپنی اور غیر ملکیوں کی تہذیب اور تمدن سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان کا نیا ادب ہماری زندگی کے بنیادی مسائل کے اپنا موضوع بنائے۔ یہ بھوک ، افلاس ، سماجی پستی اور غلامی کے مسائل ہیں ۔ ہم ان تمام آثار کی مخالفت کریں گے جو ہمیں لاچاری ، پستی اور توہم پرستی کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ ۱ ؎
لہذا ادب برائے ادب کے بر خلاف ادب برائے زندگی کو اپنا مقصد بنا لیا گیا ۔ ترقی پسند تحریک سے پہلے اردو میں پریم چند کے زیر اثر اصلاحی اور حقیقت نگاری کے افسانے ملتے ہیں ۔ انھوں نے عام انسانی مسائل ، غربت اور افلاس کی زندگی اور معاشی استحصال کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہوئے انسانی نابرابری کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا۔پریم چند سے متاثر افسانہ نگاروں میں اعظم کریوی ، علی عباس حسینی ، سدرشن اور سہیل عظیم آبادی تھے ۔ پریم چند نے ترقی پسند تحریک کے پہلے جلسے میں اپنے صدارتی کلمات میں حسن کے معیار کو بدلنے کی جو بات کی تھی وہ ترقی پسند تحریک کا ایک بنیادی منشور بن گئی اور ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے سماج کے ان سلگتے ہوئے مسائل کو پیش کرنا شروع کیا ۔ اس میں پریم چند کا تتبع کرنے والوں میں کئی افسانہ نگار تھے ۔ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان افسانہ نگاروں نے نہ صرف پریم چند کے اثرات قبول کئے بلکہ اس میں وسعت پیدا کی ۔ کرشن چندر ، اوپیندر ناتھ اشک ، راجندر سنگھ بیدی ، عصمت چغتا ئی وغیرہ کا تعلق اسی توسیع شدہ حقیقت پسندانہ افسانے سے ہے ۔
عتیق احمد صاحب نے ان افسانہ نگاروں کے علاوہ جن ناموں کا ذکر کیا ہے ، ان میں سردار جعفری اور اخترالایمان کے نام نمایاں ہیں ۔ بقول عتیق صاحب :
اختر الایمان کے افسانے بھی تعداد میں اتنے ہی قلیل تھے جتنے کہ سردار جعفری کے ہے ۔ لیکن وہ صرف ساقی (دہلی) کے صفحات میں مقید ہو کر رہ گئے اور اب شاید تقسیم ہندوستان کے بعد کی نسل اخترالایمان کے اس ادبی پہلو سے بالعموم با خبر بھی نہیں ۔ ۲ ؎
علی سردار جعفری ایک ممتاز اور کثیرالجہات ادبی رہنما تھے جنھوں نے افسانوی دنیا میںخود کو ڈھالنے کی کوشش کی اور افسانے کو ہی ابتدا ء ً اپنا ذریعہ ٔ اظہار بنایا لیکن کوئی بھی فن ، اگر مزاج کے ہم آہنگ نہ ہو تو پروان نہیںچڑھتا ۔ جعفری صاحب نے بھی مروجہ روایت کے تحت افسانے لکھے تاہم انہیں یہ محسوس ہوا کہ ان کا مزاج اور ان کی ادبی تخلیقی صلاحیت افسانہ نگاری سے زیادہ شاعری سے ہم آہنگ ہے ، لہٰذا انھوں نے افسانہ نگاری کو خیرباد کہہ دیا اور شاعری کو اپنایا ۔سردار جعفری کی ادبی زندگی کا ابتدائی زمانہ ایک طرح سے کشمکش کا زمانہ محسوس ہوتا ہے ۔ کشمکش یعنی افسانہ یا شاعری ۔ اس کشمکش میں شاعری جیت گئی۔ جعفری صاحب نے بھی ایک انٹرویو میں رام لعل کے سو ال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھاکہ وہ اپنا شمار ناکام افسانہ نگاروں میں کرتے ہیں ۳؎ لیکن ان کے افسانے آج بھی توجہ طلب ہیں۔ انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ترقی پسند نظریات پر قائم کرتے ہوئے عام رواج کے تحت ایک ڈرامہ اور چند افسانے سپرد قلم کیے جو مجموعے کی شکل میں منزل کے نام سے حلقۂ ادب لکھنؤ کی جانب سے ۱۹۴۰ء یا ۱۹۴۱ ء میں شائع ہوا ۔ اس مجموعے منزل میں چھے نثر پارے ہیں جن میں سب سے پہلا نثر پارہ ان کا یک بابی ڈرامہ سپاہی کی موت ہے ۔ اس کا موضو ع بھی ان کے دوسرے ڈرامے یہ کس کا خون ہے سے ملتا جلتا ہے ۔ اس ڈرامے کے علاوہ منزل میں علی سردار جعفری کے پانچ افسانے ہیں جن کے نام منزل ، بارہ آنے ، پاپ ، مسجد کے زیر سایہ اور آدم زاد ہیں ۔
یک بابی ڈرامہ’ سپاہی کی موت‘ میں انھوں نے اکتوبر ۱۹۱۶ ء کی ایک شام کا منظر پیش کیا ہے جس میں فرانس کی مشرقی سرحد پر ایک چھوٹے سے اسکول کو فوجی اسپتال میں تبدیل کیا گیا ہے جہاں ایک ہندوستانی سپاہی ہندوستانی وارڈ میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انگریزی وارڈ میں نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہے ۔ اس کے سر پر لگی گولی نکالنے سے اس کی جان بچ سکتی ہے ۔ ایک فرانسیسی نرس سے وہ دھیمے دھیمے لہجے میں اپنی بیوی اور چھوٹے سے بیٹے کی باتیں کرتا ہے ۔ گاؤں کو یاد کرتا ہے ۔ اسے اس بات کی فکر ہے کہ اس کی بیوی سوچتی ہوگی کہ وہ اسے بھول گیا ۔ سپاہی آپریشن کے انتظار میں ہے ۔ گھر پہنچنے کی جلدی ہے ۔لیکن ڈاکٹر کے حکم پر نرس کو با دلِ نا خواستہ سپاہی کو صرف اس لیے زہر دینا پڑتا ہے کہ زخمی انگریز سارجنٹ کو انگریزی وارڈ میں جگہ مل سکے ۔جگہ ملنے کے بعد بھی سارجنٹ مو ت کی نیند سو جاتا ہے ۔
’ منزل‘ ایک اونچے جاگیردار خاندا ن کی پڑھی لکھی ، خوبصورت اور اپنے انقلابی خالہ زاد بھائی عظمت کے خیالات سے متا ثر لڑکی فاطمہ کی کہانی ہے ۔ عظمت انگریزوں کا دشمن اور کٹر کانگریسی ہے جس کی وجہ سے فاطمہ کے واالد نے اسے گھر سے نکال دیا ۔ عظمت کی انقلابی سوچ سے فاطمہ مکمل طور پر اتفاق کرتی ہے ۔اس کی شادی ضلع کے ڈپٹی کمشنر اشفاق سے ہوتی ہے ۔ بیٹے شفیق کو سنبھالنے والی عورت دلاری کو بچے کے سونے کے کڑے چرانے کے الزام میں سزا ہو جاتی ہے ۔ مسجد کے معاملے پر فائرنگ سے فاطمہ کو اشفاق کی درندگی کا احساس ہوتا ہے ۔ حالات سے باخبر ہونے پر فاطمہ کے انقلابی ذہن میں ہلچل شروع ہوتی ہے اور وہ بوڑھی ماما اور بچے کے ساتھ نکل پڑتی ہے جہاں وہ تینوں بندوق کی گولیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ صبح گھر پہنچ کر اشفاق کو پتہ چلتا ہے کہ رات ہی سے فاطمہ، بچے اور بوڑھی ماما کے ساتھ غائب ہے ۔ وہ معاملے کی تہہ تک پہنچتا ہے ۔ فاطمہ اسے زخمی حالت میں اسپتال میں ملتی ہے جبکہ بچے کی لاش کی خبر بھی مل جاتی ہے۔ فاطمہ کو چھے مہینے کی سزا خود اشفاق کو سنانی پڑتی ہے ۔اس وقت اسے خود سے نفرت محسوس ہوتی ہے ۔جیل میں دلاری فاطمہ کو پہچان لیتی ہے اور دیگر خواتین کے پوچھنے پر اس سے سوال کرتی ہے :
’’کیا صاحب نے تمھیں نہیں بچایا ؟‘‘
تو ان عورتوں کے کان کھڑے ہو گئے ۔
فاطمہ نے جواب دیا : ’’یہ ان کے اختیار سے باہر تھا ۔‘‘
سب عورتوں نے یک زبان ہو کر کہا : ’’ظلم تو حکومت کرتی ہے ۔ حاکم بے چارے کیا کریں ۔‘‘
فاطمہ نے تنک کے کہا : ’’پھر وہ حاکم بنتے ہی کیوں ہیں !‘‘
’آدم زاد‘ ایک ایسی بیاہتا جھناکا کی کہانی ہے جس کی شادی ہوئے آٹھ برس گزر چکے تھے ۔ شوہر کی صورت صرف ایک مرتبہ دیکھی تھی ۔ شادی کے فوراً بعد ہی اس کا شوہر گاؤں کے دیگر جوانوں کے ساتھ فوج میں شامل ہو کر میدان جنگ میں اترا اور انہیں کی طرح وہ بھی جنگ کے خاتمے کے بعد بھی لوٹ کر نہ آیا ۔ جھناکا کو نہ تو سسرال والوں نے پوچھا اور نہ ہی ماں باپ نے کہ خود ان ہی کے گزر بسر کے لالے پڑے ہوئے تھے ۔ ایسے میں لاپتہ شوہر کی بیوی کی دیہات میں کیا حیثیت ؟ اور جب اس نے ننھے سے وجود کو جنم دیاذہن میں سوالات کلبلانے لگے کہ بچے کو پانچ سیر دھان دینے وا لے چودھری کے لڑکے کے سر تھوپے یا گھسیٹے کے ، گیہوں نبانے کے بہانے گھر بلانے والے عیدو کے متھے تھوپے یا اس آدمی کے ، جو چودھری کے گھر آیا تھا اور ایک روپیہ دے گیا تھا ۔گاؤں والوں کو جب معلوم ہوا کہ جھناکا کو جلندھر نہیں تھا بلکہ بچے کی پیدائش کے آثار تھے تب عیدو ، فقیرا ، مولوی عنایت محمد ، پنڈت کیدار ناتھ اور چودھری سب ہی نے فیصلہ صادر کر دیا کہ وہ گاؤں میں نہیں رہ سکتی۔ جھناکا نے بھری پنچایت میں اپنا گھونگھٹ الٹ دیا اور :
جھناکا نے مغرور نگاہوں سے سارے مجمع کا دیکھا اور کہنے لگی
’’ چودھری یہاں کون ہے جو گنگا نہیں نہایا ! ‘‘
رخساروں پر خون کی ایک لہر دوڑ گئی۔ گھونگھٹ خود بخود چہرے پر آگیا ۔
جھناکا بچے کو گود میں لے کر چل دی۔
مجمع میںسے ہر شخص اسے اپنا بچہ سمجھ رہا تھا ۔
یک بابی ڈرامے ’سپاہی کی موت ‘ میں تعصب اور نسلی برتری کی ایک گھناونی تصویر نے عالم انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا لیکن اسی کے ساتھ ایک احساس بھی جنم لیتا ہے جو اس سپاہی کی بیوہ اور معصوم بچے کے درد سے آشنا ہے ۔ ’آدم زاد‘ میں جنگ کے ایسے اثرات جن میں گھروں کی عزت چند سیر چاول اور گیہوں کے لیے داؤ پر لگتی ہے اور پھر ایسے حالات میں جنم لینے والے بچے ، جنھیں دنیا میں لانے والے غیور مرد اپنانے سے گریز کرتے ہیں او ر ’منزل‘ میں حکومت سنبھالنے کی خاطر عوام سے جنگ کرنے اور انصاف کی گدے پر بیٹھ کر بے بس و لاچار اور نہتی عوام کو گولیوں سے بھون دینے اور زخمیوں کو جیلوں میں ٹھونسنے والے حاکم بھی معاشرے کی خرابیوں کے ذمہ دار اور جنگ کا ہی ایک حصہ ہوتے ہیں جبکہ جنگ خود معاشرے کی برائیوں کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔ کئی سپاہیوں کی بیواؤں اور ان کے بچوں کے دلوں میں بسا ہوا درد ، کئی بیویوں کے ٹوٹتے انتظاراور سرمایہ داروں ، حاکموں اور مردوں کے ہاتھوں عوام ، غریبو ں اور عورتوں کے استحصال کو جعفری صاحب نے اپنی شاعری کا بھی موضوع بنایا ۔ ان کی غزل کا شعر غریب عوام کی زندگی کی تصویر پیش کرتا ہے :
؎کتنی آشاؤں کی لاشیں سوکھتیں دل کے آنگن میں
کتنے سورج ڈوب گئے ہیں چہروں کے پیلے پن میں
’پاپ‘ اندرا کی کہانی ہے جو ماں کے مرنے کے بعداپنے سوتیلے باپ کے ساتھ زندگی گزارتی ہے ۔ وہ نہایت شریف اور خدمت گزار لڑکی ہے لیکن ایک رات نشے میں دھت سوتیلے باپ ہی کی ہوس کا شکار ہو کر ایک بچی کی ماں بن جاتی ہے ۔یہاں سے اس کی زندگی میں موڑ آجاتا ہے اور نوجوانوں کی دل لگی کا سامان بن جاتی ہے ۔اس کی ملاقات ایک مسلمان لڑکے سے ہوتی ہے ۔ اندرا پورا یقین ہو جاتا ہے کہ وہ اس سے شادی کرے گا ۔ حاملہ ہونے پر جب وہ شادی کی بات کرتی ہے تو وہ لڑکا مذہب کا فرق بتا کر اسے ٹالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لڑکے کا جواب سن کر اندرا حسرت بھری ، آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں سے کہتی ہے :
’’ تمھارا مذہب تمھیں میری جان بچانے سے روکتا ہے ، اچھا
یہ ایک جملہ اندرا کی بے بسی اور ڈھیر ہوتے ہوئے وجود کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے ۔
’مسجد کے زیر سایہ‘ ایک ایسی ماں کی کہانی ہے جو کہیں کام نہ ملنے پراپنے بھوکے بچے کو لیے گلیوں سڑکوں پربھیک مانگتی پھرتی ہے ۔ باورچیوں کی دکانوں ، ہوٹلوں سے گرم گرم کبابوں اور روٹیوں کی خو شبو سے بچہ اور بلک رہا تھا ۔ ٹریم سے کسی شخص نے ایک پیسہ زمین پر پھینکا اور سارے فقیر اس پر ٹوٹ پڑے ۔ کسی طرح ماں کے ہاتھ پیسہ لگا لیکن بچہ گود سے گر نے لگا ۔ بچے کو سنبھالنے لگی توایک فقیر پیسہ جھولی میں ڈال کر چل دیا ۔ بچہ نہ تو سنبھالا جائے ، نہ پھینکا جائے ۔آخر وہ دیوانہ وار مسجد کی سیڑھیو ں کی طرف دوڑی اور ایک خوا نچے سے پانی میں بھیگے ہوئے بڑے دونوں مٹھیوں میں بھر کر بھاگی ۔ کئی آدمی اس کے پیچھے دوڑے ۔ اس نے آدھے بڑے اپنے منہ میں بھر لیے اور آدھے بچے کی طرف اچھال دیے۔ لوگوں نے اس کی پٹائی یہ کہہ کہہ کرکی کہ :
’’گورنمنٹ کو اس کا انتظام کرنا چاہیے ۔‘‘
’’ اسمبلی میں اس کے متعلق قانون پاس کرنے کی ضرورت ہے ۔‘‘
’’جو بھیک مانگے اسے سزا ملنی چاہیے ۔‘‘
لیکن بچہ سارے ہنگامے سے دور مٹی سے بھرے بڑے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
افسانے’ بارہ آنے ‘ کا کباڑی رات کے وقت کباڑ خانے کے عقبی کمرے میں تاڑی خانہ اور اوپری کمرے میں قحبہ خانہ چلاتا ہے جہاں مزدوری نہ پانے والی فاقہ کش کسانوں اور گھروں کی بیٹیاں مجبوراً بارہ آنے میں جسم فروشی پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔ جمنا اس کہانی کاکردار ہے جسے رامی اپنے ساتھ اس قحبہ خانے پر لے آتی ہے ۔ آنسو بھری آنکھوں سے وہ رامی سے لوٹنے کی اجازت تو مانگتی ہے لیکن قرض کے بوجھ سے اپنے باپ کے جھکی ہوئی کمر اور ماں کے غمزدہ اور جھریوں بھرے چہرے ، بہن بھائی اور اپنے اس دیہات کے خیال سے جہاں آمدنی کی کوئی صورت نہیں ، اگلے دن آنے کا ارادہ کر لیتی ہے ، اس بات سے بے خبر کہ دو مزدور، ایک لنگڑا اور ایک کانا اس کے پیچھے آ رہے ہیں ۔
سردار جعفری نے ان تینوں افسانوں میں معاشرے کی خرابیوں اور اخلاقی مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اندرا نے سوال اٹھایا ہے مذہب پر لیکن اس سوال کے تیر کی نوک کا رخ مذہب سے زیادہ اس لڑکے کی جانب ہے جس نے ایک مجبور اور بے بس لڑکی کا استحصال کرتے وقت مذہب کو یاد نہ کیا لیکن اسے اپنانے کے لیے مذہب کا فرق یاد آیا ۔ مذہب کی تعلیمات کو اپنے شوق و ہوس میں تو بھول گیا لیکن اندراکو زندہ در گور کرتے وقت اسے مذہب یاد آ گیا ۔کیا یہی مذہب ہے ؟ مسجد علامت ہے سکون کی ، برابری کی ، زندگی کے متوازن اصولوں کی ۔ مسجد ، جہاں امیری غریبی ، محمود و ایاز اور بندہ و بندہ نواز کا فرق مٹ جاتا ہے ۔ عبادت ، ذریعہ ہے خدا تک پہنچنے کا اور خدا کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ۔ اسی مسجد کے زیر سایہ ایک بھوکے بچے کی ماں بڑے چرانے پر مجبور ہے ۔ایک طرف اس خدا کا گھر ہے جو مساوات ، بھوکے پیٹ کو بھرنے اور برہنہ تن کو ڈھانکنے کا حکم دیتا ہے اور دوسری طرف بچے کی بھوک ، جسے ماں دور کرنا چاہتی ہے ۔ سردار جعفری نے معاشرے کی ایسی کمزوری کی طرف اشارہ کیا ہے جس پربڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی باتیں ، فلاح و بہبودی ، نیکی ، غربا و مساکین کی مدد ، بہو بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کی باتیں ہی باتیں ہوتی ہیں جبکہ حقیقتاً سب بے معنی ہے ۔
سردار جعفری نے جہاں زندگی کے مختلف پہلوؤں اور معاشرے کی خامیوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہیں انھوں نے عورت کی پختگی اور سماج سے لڑنے کی ہمت کی بھی داد دی ہے ۔ پھر وہ’ آدم زاد ‘ کی جھناکا ہو جو زندگی کے طوفانوں سے لڑنا جانتی ہے اور چودھری کے لڑکے کو تڑخ کر جواب دیتی ہے کہ :
’’ بھیا چلوریا تھکت ہے ، ڈگریا ناہیں تھکتی ۔‘‘
یا’ منزل‘ کی فاطمہ جو ان حاکموں پر چوٹ کرتی ہے جو حکومت کے ہاتھوں مجبور ہو جاتے ہیں :
’’ اگر حکومت ظالم ہے تو حاکم کیوں بنتے ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ نہ صرف انگریزی حکومت کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہے بلکہ اس ظالم حکومت کے لیے اپنی خدمات پیش کرکے ظالم حاکم بننے پر طنز کرتی ہے ۔سردار جعفری نے اپنی تمثیلی نظم’ نئی دنیا کو سلام ‘ میں مریم کا پیکر بعد میں تراشاجبکہ پہلے ہی سے ان کے یہاں عورت کا تصور نہایت صاف ستھرا اور نکھراہوا سا رہا ہے ۔ان کی نظر میں عورت محض حسن و جوانی کا پیکر اور خلوت کی ساتھی نہیں بلکہ وہ نا انصافی کے خلاف احتجاج کی علامت بھی ہے ، چاہے وہ احتجاج کسی مرد کے خلاف ہو ، معا شرے کے خلاف ہو یاپھر حکومت کے خلاف ۔اسی تصور کو انھوں نے اپنے چند افسانوں کے پیکر میں ڈھالنے کی اولین کوشش کی ہے جو بعد میں ان کی نظموں میں مکمل وجود پا گیا اور وہ کہہ اٹھے کہ عورت :
ع تبسم نہیں صرف ، تلوار بھی ہے
بقول سردار جعفری ، انھوں نے ایشیائی افلاس کے بد ترین نمونے دیکھے ہیں ۔ دیہاتوں میں ایسی غربت دیکھی کہ لاکھوں آدمی چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار کھانا کھاتے ہیں ۔ ۱۹۳۳ء میں ان کی عمر بیس برس تھی ۔اتنی کم عمری میں انھوں نے سرمایہ داروں کو غریبوں کا استحصال اور حق تلفی کرتے دیکھا ۔ کسانوں کی پیٹھوں پر لدی اینٹیں ، پیڑوں پر بالوں سے لٹکی عورتیں ، کسان عورتوں کی کسی معمولی جرم کی پاداش میں برہنگی اور پتلی سوکھی ٹا نگیں اور برے سے پیٹ والے بیمار بچے دیکھے ۔ یہ تمام معاشرتی خرابیاں جن کی ذمہ دار جنگ بھی ہے اور یہی تمام باتیں انھیں پریشان کرتی رہیں ۔ ۴ ؎ ممبئی یونیورسٹی میں ۲۴،۲۵ دسمبر کو سردار جعفری کی فن اور شخصیت پر منعقدہ قومی سیمینار میں ڈاکٹر انور ظہیرانصاری ( بڑودہ ) نے کہا تھا :
’’ سردار جعفری نے یہ افسانے جس سن میں لکھے ہیں اس وقت ان کی عمرغالباً ۲۳ یا ۲۴ برس ہوگی ۔ اس عمر میں ان کی سوچ اور نظر کتنی گہری تھی ، اس کا اندازہ ان کے افسانوں سے ہوتا ہے ۔‘‘
سردار جعفری کی پیدائش ۱۹۱۳ ء کی ہے اور یہ افسانے ۱۹۳۶ء سے ۱۹۳۸ ء کے درمیان لکھے گئے ہیں ۔ اس لحاظ سے ان کی عمر ۲۳ برس ہوگی ۔ اس عمر میں اتنی گہری نظر اور اتنا وسیع مشاہدہ معمولی بات نہیں ہے جبکہ عمر کا یہ دور لا ابالی اور کھلنڈرے پن کا ہوتا ہے ۔بعد میں جب انھوں نے شاعری کو اپنا مطمح نظر بنایا تب انھوں نے اپنے اسی مشاہدے اور نظر کی گہرائی اور گیرائی کو اشعار کا نہایت خوبصورت جامہ پہنایا اور زخمی ماحول کی آسودہ منزل کے لیے صدا بلند کی :
؎ زخمی سرحد ، زخمی قومیں ، زخمی انساں ، زخمی ملک
حرف حق کی صلیب اٹھائے کوئی مسیح تو آئے اب
سردار جعفری کے ان افسانوں میں زندگی کے کئی رنگ دکھائی دیتے ہیں ۔ معاشرے کی خرابیاں تو ہیں ہی ، استحصال تو ہو رہا ہے لیکن کون کس کا استحصال کر رہا ہے ؟ کہیں حاکم رعایا کا تو کہیں مرد عورت کا اورکہیں احساس برتری کمزور و ناتواں کا ۔ان سب سے بڑھ کر کہیں تو خود عورت ، عورت کا استحصال کرتی ہے تو کہیں غریب خود غریب کا ۔استحصال تو کل بھی ہو رہا تھا ، آج بھی ہو رہا ہے لیکن ترقی پسند مصنفین کے اعلان نامے کے مطابق جس منزل کی بات سردار جعفری نے اپنے پیش لفظ میں کی ہے ، اگر وہاں تک پہنچ گئے تو شاید معاشرے میں کچھ سدھار دکھائی دے ۔ ان کا خواب انقلاب لانا ہے ، ان کا خواب اسی آسودہ منزل تک پہنچنا ہے ۔ بقول سردار جعفری :
’’ یہ افسانے ہندوستان کی اس تحریک کی پیداوار ہیں جس نے زندگی کا تصور بدل دیا ہے ۔اس لیے ان میں اس تلخی کا احساس باعث تعجب نہیں جو درمیانی طبقہ کی طبع نازک پر گراں گذرے گی ۔ مگر اس کو کیا کیا جائے کہ ہمارا موجودہ نظام زندگی کچھ ایسا ہی ہے ۔‘‘ ۵؎
علی سردار جعفری کے افسانے موجودہ نظام کے ناسوروں کا مداوا چاہتے ہیں۔ ان کا خواب ایک ایسی دنیا کا ہے جو اس نظام میں پل رہی قابل نفرت چیزوں سے پاک ہو اور اس خوشگوار دنیا تک پہنچنے کے لیے راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو روندنا ہے ۔ یہی ان کی منزل ہے جسے انھوں نے آنے والے انقلاب کے نام معنون کیا ہے ۔
٭٭٭
حواشی :
۱؎ سردار جعفری : ترقی پسند ادب ، مطبوعہ یونین پرنتنگ پریس ، ۱۹۵۰ء اور ۱۹۵۷ء ، دہلی ۔ ص ۲۴
۲؎ عتیق احمد : سردار جعفری کے افسانے ، افکار : سردار جعفری نمبر ، زیر اہتمام افکار فاؤنڈیشن ، نومبر دسمبر ۱۹۹۱ء ، کراچی ۔ ص ۵۵۸
۳؎ رام لعل : سردار جعفری سے گفتگو ، افکار : سردار جعفری نمبر ، زیر اہتمام افکار فاؤنڈیشن ، نومبر دسمبر ۱۹۹۱ء ، کراچی ۔ ص ۴۵
۴؎ سردار جعفری : خود نوشت ، افکار : سردار جعفری نمبر ، زیر اہتمام افکار فاؤنڈیشن ، نومبر دسمبر ۱۹۹۱ء ، کراچی ۔ ص ۶۴۴
۵؎ سردار جعفری : پیش لفظ ، منزل ، مطبوعہ حلقہ ادب لکھنؤ ۔ ص۵
Meer Anees by Mohammad Raza
Articles
میر انیس از دیدگاہ بزرگان
محمد رضا ایلیاؔ
میر،غالب،انیس،اقبال، جوش ،فراق اور فیض اردو شاعری کے اہم ترین نام ہیں۔ انیس نے مرثیہ کی صنف میں جس طرح اپنی خود ساختہ صلا حیت کا لو ہا منوایا ہے وہ مرتبہ دوسرے کسی اور شاعر کو نصیب نہیں ہوا۔
میرانیس نے اپنی شاعری کا آغاز غزل سے کیا تھا اور کم عمری ہی میںاپنی صلا حیت کا جوہر دکھا نے شروع کر دیئے تھے۔ لیکن والد کی ہدایت پر کہ’’ اپنی آخرت کیلئے کچھ کرو‘‘ انیس نے غزل کو خدا حافظ کہا اوراپنا سارا کلام صحن کی حوض میں پھینک دیا جو یقینا اردو شاعری پر ستم تھا۔ اسکے بعد انیس نے ساری شاعری اہلبیت علیہم السلام کیلئے وقف کردی اور پھر مڑ کر غزل کی طرف نہیں دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ انیس کے مرثیوں میں تغزل بدرجہ اتم موجود ہے اور اسی چیز نے انیس کے مرثیوں کو جلا بخشی ہے۔
میر انیس کی پیدائش کے حوالے سے دو روایات موجود ہیںپہلی یکم جنوری ۱۸۰۲ء کی اور دوسری ۱۸۰۳ء کی تاہم زیادہ تر محققین نے ۱۸۰۳ء ہی کو درست قرار دیا ہے۔ انیس کے سن وفات پر تمام محققین کا اتفاق ہے اور انکی وفات ۱۸۷۴ء میں بہتر تہتر برس کی عمر میں ہوئی۔ میر انیس اتر پردیش میںضلع فیض آباد کے محلہ ’’گلاب باڑی‘‘ میں پیدا ہوئے ۔ انیس کے والد میر خلیق اور دادا میر حسن( مثنوی سحر البیان اور بدر منیر کے خالق) اپنے عہد کے معروف شعرا میں شمار ہوتے تھے۔آپ کے مو رث اعلیٰ میر امامی شاہجہاں کے عہد میں ایران سے ہندوستان آئے تھے اور اپنے علم و فضل کی بدولت اعلیٰ منصب پر فائز رہے ۔ ان کی زبان فارسی تھی لیکن ہندوستانی اثرات کے سبب دو نسلوں کے بعد ان کی اولا د فصیح و بلیغ اردو زبان بولنے لگی ۔
مسعود حسن رضوی نے میر انیس کاخاکہ یوں کھینچا ہے :
’’میر انیس قدرے دراز قامت ، ٹھوس ، اور متناسب جسامت کے مالک تھے ، خوبصورت کتابی چہرہ ، بڑی بڑی آنکھیں ، صراحی دار گردن ، ذرا بڑی مو نچھیں اور با ریک داڑھی کہ جو دور سے تر شی ہوئی محسوس ہو ۔میر انیس کا یہ سراپا سامعین کو شعر کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کا بھی گر ویدہ بنا دیتا تھا ۔ انیس کا پسندہ لباس دو پلی ٹو پی ، لمبا گھیر دار کر تااور شکن دار پا جامہ تھے کہ یہی اس زمانے کے شرفاء اور ذی علم افراد کا لبا س ہوا کر تا تھا ۔ ‘‘
انیس کے بیٹے میر نفیس کے نواسے میر عارف کی ایک تحریری یاداشت سے پتہ چلتا ہے کہ۱۸۵۷ء کے بعد انیس نے محلہ سبزی منڈی چوک لکھنؤ کے عقب میں واقع رہائش گاہ میں۱۹۷ بند یعنی ایک ہزار ایک سو بیاسی مصرعوں کا یہ مرثیہ ’’ جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے ‘‘ایک ہی رات میں تحریر کیا اور گھر کے عشرے میں پڑھا جو انیس کے شاہکار مراثی میں سے ایک ہے۔
انیس نے اپنی آخری آرام گاہ کے لیے۲۳ جولائی۱۸۷۱ء کو ایک وسیع زمین گھر کے قریب ہی تدفین کی خاطر ۱۰۰ روپے میں خرید لی تھی۔ ۱۸۷۴ء میں ۲۴ رمضان المبا ک کو انیس بیمار ہوئے اور ابتدا میں ہونے والا بخار مرض الموت کا سبب بن گیا اور اس طرح یکم دسمبر۱۸۷۴ء کو بوقت مغرب یہ آفتاب شاعری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔غفران مآب کی امام بارگاہ میں محترم سید بندے علی نے ا نیس کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں سبزی منڈی چوک میں اپنے ہی گھر کے باغ میں سپرد خاک کیا گیا۔ زندگی کے آخری ایام میںایک سلام میر انیس کہہ رہے تھے مگر وہ پورا نہ ہو سکا اور ان کی روح معبود حقیقی سے جاملی وہ کلام مجھے محترم علی احمد دانش سے ایک ملاقات میں دستیاب ہوا جس کی اصل کا پی ان کے پاس ہے اس سلام کا فوٹو میں نے اپنے مو بائل سے لے لیا تھا اور میں شکر گزار ہوں محترم علی احمد دانش کا جو انہوں نے کلام کے علا وہ میر انیس کا قلم اور ان کی ٹوپی وغیرہ کی زیا رت کرائی اور بہت باتیں میر انیس کے متعلق بتائیں جو میرے لیے بہت زیا دہ کارگز ثابت ہوئیں ۔ وہ سلام ملاحظہ ہو
عمر بھر کے آشنا نا آشنا ہوجائیں گے
قبر تک پہنچا کے ہم کو سب جدا ہو جائیں گے
تا لحد دنیا میں ہے فقر و غنا کا امتیاز
قبر میں یکساں سب ہی شاہ و کدا ہو جائیں گے
پھیر کر منھ مجھ سے جس دم سب جدا ہو جائیں گے
میرے مونس خود علی مرتضیٰ ہوجائیں گے
کثرت عصیاں سے کیا ڈر ہے کہ خالق ہے رحیم
مرحلے آسان سب روز جزا ہوجائیں گے
رائیگاں کیا جائیں گے اشک غم سبط رسولؐ
کشت ایماں کے لیے وجہ بقا ہوجائیں گے
اکبر مہر کی صورت دیکھ کر کہتے تھے شاہ
یہ جواں ہوکر شبیہ مصطفی ہوجائیں گے
طے کروں گا دم میں بے خوف و خطر راہ صراط
ہادی و حامی علی مرتضیٰ ہوجائیں گے
اب نہ رؤ ائے سکینہ کہتی تھی زنداں میں ماں
پاس بابا کے چلیں گے جب رہا ہو جائیں
دستور زما نہ کے مطابق انیس نے بھی اپنی شا عری کا آغاز غزل سے کیا تھا ۔ ان کے والد میر خلیق مر ثیہ کی طرح غزل کے بھی استاد ما نے جا تے تھے فیض آباد میں جب تک رند اور رشک کے قیام کے باوجود ۔ میر انیس اپنی غزلوں پر اصلا ح اپنے والد ہی سے لیتے تھے ۔ پہلے حزیں تخلص تھا ۔شیخ امام بخش نا سخ کی فرمائش پر تبدیل کر کے انیس اختیار کیا ۔ انیس فارسی نظم و نثر لکھنے پر بھی قادر تھے عربی ، فارسی ، قرآن و حدیث و تاریخ کے علا وہ فنون شہسواری و سپہ گری کی تعلیم بھی نامی اور قابل فخر اسا تذہ میر نجف علی فیض آبادی ور مفتی حیدر عباس سے حا صل کی ۔
رفعت عبا س زیدی ۱۳؍ دسمبر ۲۰۰۹ کے عالمی اخبا ر میں یوں رقم طراز ہیں :
’’میر ببر علی انیس کے بارے میں میں صرف یہ کہوں گا کہ میں ان کا عا شق ہوں اور میرا اپنا نظریہ یہ ہے کہ انیس دنیا کے تمام شا عروں پر بھاری ہیں ۔ ان کے مر ثیے تو لا جواب ہیں ہی اور ان پہ کچھ لکھنا اتنی مختصر حیات میں ممکن نہیں لیکن میں آج ان کی غزلوں کے اشعار سے آپ کو با خبر کر نا چاہوں گا۔سب سے پہلے میں ان کی زندگی کا وہ پہلا شعر پیش کر رہاہوں جو انہوں نے آٹھ برس کی عمر میں اپنے والد کے دوست معروف شا عر شیخ امام بخش نا سخ کے سامنے سنا یا جس پر ناسخ ششد ر رہ گئے اور پیشنگوئی کر دی ۔ایک دن آئے گا کہ انیس کی زبان اور شا عری کی عالمگیر شہرت ہو گی یہ بچہ سلطنت شعر کابادشاہ بنے گا۔ ‘‘
وہ شعر ملا حظہ فر مائیں :
کھلا باعث یہ اس بیداد کے آنسو نکلنے کا
دھواں لگتا ہے آنکھوں میں کسی کے دل کے جلنے کا
محمد حسین آزاد انیس کی غزل گوئی کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ ابتدا میں انہیں بھی غزل کا شوق تھا ۔ ایک موقع پر کہیں مشا عرے میں گئے اور غزل پڑھی اور وہاں بڑی تعریف ہوئی شفیق باپ سن کر تو بہت با غ با غ ہوئے مگر ہو نہار فرزند سے پو چھا کل رات کو کہاں گئے تھے ۔ انہوں نے حال بیان کیا خلیق نے غز ل سنی اور فر مایا اب اس غزل کو سلام کرو اور اس شغل میں زور طبع صرف کرو جو دین و دنیا کا سر مایہ ہے ۔ سعادت مند بیٹے نے اس دن سے قطع نظر کی اور غزل مذکورہ کی طرح میں سلام کہا ۔‘‘ ( آب حیات ص ۵۱۹، محمد حسین آزاد )
شروع شروع میں میر انیس مرثیہ پڑھنے کے لیے ہر سال لکھنؤ آتے رہے مگر جنگ آزادی کی تباہی کے بعد وہ لکھنؤ چھوڑ کر کچھ عرصہ کاکوری میں مقیم رہے پھر امن و امان کے بعد لکھنؤ واپس تشریف لائے اور محلہ سبزی منڈی میں رہائش اختیار کی۔سن ۱۸۴۳ء میں انیسؔ چالیس برس کی عمر میں جب لکھنؤ آئے تھے تو مرزا دبیر کا طوطی بول رہاتھا ہر جگہ پر دبیر کے قصیدے پڑھے جاتے تھے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مر زا دبیر کو کلام کے سمجھنے کی صلاحیت کچھ خا ص لو گوں تک محدود تھی ۔ جیسے علما ء ، اسا تذہ ،، ادبا، طلاب یا وہ جو اردو ، فارسی اور عربی کا علم رکھتے ہوں ایک سادہ عام آدمی ان کے کلام کو سمجھ نہیں سکتا تھا کیوں کہ ان کی شا عری میں عر بی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں کے ملے جلے الفاظ پائے جاتے تھے ۔
وہیں اس ماحول میں انیس نے جن الفاظ کا اپنے کلام میں استعمال کیا وہ عام فہم تھے ۔ انیس نے پہلے لکھنؤکے ماحول کابھر پور جائزہ لیا اور انہوں نے اردو زبان و ادب کو عا م فہم مر ثیہ کی شکل میں ایک نایاب اور بیش بہا تحفہ دیا ۔ بعض لو گوں میں یہ مغالطہ پیدا ہو گیا ہے کہ انیس جب لکھنؤ آئے تو انہوں نے لکھنؤ کے زبان و ادب ، تہذیب و ثقافت (گہوارۂ اردو زبان و ادب )سے کسب فیض کیاجب کہ یہ بالکل غلط ہے میر انیس نے اپنے خاندان اور اپنے گھر کی زبان، طرز زندگی سب کچھ مر ثیہ کی شکل میں اہل لکھنؤ کوبطور تحفہ عطا کیا جس کی وجہ آج لکھنؤ پہنچانا جاتا ہے ۔ اہل لکھنؤ یہ فخر نہ کریں کہ لکھنؤ نے انیس کوشناخت دی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انیس نے لکھنؤ کوایک پہچان دی اور وہ سر مایہ جو وہ فیض آباد سے لائے تھے لکھنؤ کے سپرد کر دیا۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ انیس ۴۰ سال کی عمر کے بعد فیض آباد سے لکھنؤ وارد ہوئے تھے۔ ان تمام باتوںکا اعتراف کر تے ہوئے مولانا آزاد کچھ اس طرح بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ملا حظہ کیجئے
’’جس طرح انیس کا کلام لاجواب تھا اسی طرح ہی ان کا پڑھنا بھی بے مثال تھا ۔ ان کے گھرانے کی زبان اردو معلیٰ کے لحاظ سے تمام لکھنؤ میں سند تھی ۔ان کے ذریعہ ہماری نظم کو قوت اور زبان کو وسعت حاصل ہوئی ۔ انیس کا کہنا تھا کہ نہ لکھنؤ کا ان کی زبان سے کوئی تعلق ہے اور ان کی زبان کا لکھنؤ سے کوئی تعلق ہے ۔ (مر ثیہ میں جو زبان استعمال ہوئی ہے )یہ ان کے گھر کی زبان ہے ۔ ‘‘
نجم سبطین اپنے ایک مضمون ’’ شاعری اور کربلا ‘‘میں انیس کے معمولات کا ذکر کر تے ہوئے تحریر کر تے ہیں :
’’ انیس کا معمول تھا کہ شب بھر جا گتے اور مطالعہ و تصنیف میں مصروف رہتے تھے ۔ ان کے پاس دوہزار سے زائد قیمتی اور نایاب کتب کے ذخیرے موجود تھے ۔ نماز صبح پڑھ کر کچھ گھنٹے آرام کر تے تھے ۔ بعد دوپہر بیٹوں اور شا گروں کے کلام کی اصلا ح کر تے تھے ۔ محفل احباب میں عقائد اور علوم وعر فانیات پر گفتگو کرتے تھے ۔میر انیس کے نواسے میر سید علی کا بیان ہے کہ میر انیس کے متعلق آئینہ لے کر مشق مرثیہ خوانی کر نے روایت بالکل غلط ہے نہ کہ کمال ادائیگی دیکھ کر کچھ لوگوں نے از خود یہ سمجھ لیا تھا کہ آئینے کے رو برو مشق کر تے ہوں گے ۔ ‘‘
سعادت خاں نا صرمیر انیس کی غزل کے بارے میں اپنے خیالا ت کا یوں اظہار کرتے ہیں :
’’ عالم شباب میں چندے مشق غزل گوئی رہی ۔ ‘‘ ( تذکرہ خوش معرکہ زیبا ص ، ۳۰۵ ، سعادت خاں ناصر ۔)
آزاد کے مذکورہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پر وفیسر مسعود حسن رضوی ادیب لکھتے ہیں :
’’ اس جملے ( اب اس غزل کو سلام کر و) کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اس زمین میں سلام کہو اور دوسرے یہ کہ اب غزل گوئی ترک کرو۔ سعادت مند فرزند نے ان دونوں معنوں میں والد محترم کے حکم کی تعمیل کی یہ کسی نے نہیں لکھا کہ وہ کون سی غزل تھی لیکن میر انیس کی ایک غزل کے چند اشعار اور اس طرح میں ایک سلام ملتا ہے ۔ غزل کے اشعار حسب ذیل ہیں۔ ان سے اندازہ ہو تا ہے کہ شاید یہ وہی غزل ہو ۔ ‘‘
اشارے کیا نگہ ناز دلربا کے چلے
ستم کے تیر چلے نیچمے قضا کے چلے
پکار ے کہتی تھی حسرت سے لاش عاشق کی
صنم کدھر کو ہمیں خاک میں ملا کے چلے
مثال ماہیٔ بے آب موج تڑپا کی
حباب پھوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے
اس طرح میں سلام کے چو دہ اشعار ہیں ان میں سے چند ملا حظہ کیجئے
گنہ کا بو جھ جو گردن پہ ہم اٹھا کے چلے
خدا کے آگے خجا لت سے سر جھکا کے چلے
مقام یوں ہوا اس کار گاہ دنیا میں
کہ جیسے دن کو مسافر سرا میں آکے چلے
ملا جنہیں انہیں افتادگی سے اوج ملا
انہیں نے کھائی ہے ٹھوکر جو سر اٹھا کے چلے
ملی نہ پھولوں کی چادر تو اہل بیت کرام
مزار شاہ پہ لخت جگر چڑھا کے چلے
اس سلام کا مقطع بہت مشہور ہوا تھا :
انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے (۱)
(۱) انیسیات ص ۱۶۲،۱۶۳، پر وفیسر مسعود حسن رضوی ادیب ، اتر پر دیش اردو اکا دمی لکھنؤ ۱۹۸۱ء
ڈاکٹر نیر مسعود نے بھی اپنی کتاب میں ان ہی اشعار سے غزل اور سلام کا حوالہ دیا ہے جو انیس کی غزل گوئی ترک کرنے سے تعلق رکھتے ہیں قیاس بھی یہی کہتا ہے کہ یہی میر انیس کی آخری غزل ہو گی ۔ تاہم بقول ادیب صا حب :
’’ البتہ میر صا حب کے سلاموں میں ایسے بہت سے اشعار ملتے ہیں جو غزل کا باعث ہوسکتے ہیں ۔‘‘
(انیس ص ۴۲ ، پر وفیسر نیر مسعود رضوی ، قومی کا ؤنسل برائے فروغ اردو زبان دہلی ۔ ۲۰۰۲۔ )
ادیب صا حب کے آخری جملے سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ انیس کے بعض سلاموں میں تغزل کے اشعار شاید پہلے ان کی غزلوں کے اشعار رہے ہوں جنہیں بعد میں انہوں نے سلام کے پیکر میں ڈھال دیا ہو۔ اس خیال کے ابھرنے کا سبب یہ ہے کہ انیس کے کئی سلام اس زما نے کی غزلوں کی طرح نظر آتے ہیں ۔ ان غزلوں کے کئی اشعار سلام کے شعر معلوم ہوتے ہیں ۔ مثلاً
ہمراہ آہ سرد بہیں اشک گرم بھی
باراں کا لطف خوب ہے ٹھنڈی ہوا کے ساتھ
میر انیس کا ایک مشہور سلام ہے :
بین اے مجرئی قاسم کی دلہن کیا جا نے
بیا ہی اک شب کی رنڈاپے کا چلن کیا جانے
اسی زمین میں طالب علی عیشی کی غزل ہے ۔ اس غزل کا مقطع ہے
کیوں نہ کم ربتہ غزل اپنی سمجھو عیشی
نافع کی قدر کو آہوئے ختن کیا جانے
انیس کے مصرعے بھی عیشی کی غزل کے مصرعوں کے طرح اچھے تغزل کے نمونے ہیں ۔ مثلاً
چھد گیا کس کا جگر تیر فگن کیا جانے
مرغ بے بال بھلا سیر چمن کیا جانے
انیس کے زمانے میں شعر گوئی کے دو انداز عام تھے۔ ایک انداز تو وہی قدیمی تھا جس کی روش سے میر تقی میر کو ’’خدائے سخن‘‘ تسلیم کیا گیا تھا، لیکن اس انداز کو دہلوی شعرا سے منسوب کیا جاتا تھا۔یعنی تغزل میں داخلی افکار کی پیشکش جسے عرف عام میں فصاحت کہا جاتا ہے۔ دوسرا انداز وہ تھا جسے لکھنؤ میں ناسخ اور ان کے شاگردوں اور پیرو کار وں نے شہرت کے بام عروج پر پہنچایا تھا اور اس انداز میں الفاظ کی شعبدہ بازی اور صناعی کو زیادہ دخل حاصل تھا۔ انیس کے فن کو پوری طرح سمجھنے کے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ انیس کی شعری شخصیت اس دکھاوے کا رد عمل ہے جس شاعری کا اس زمانے میں لکھنؤ میں دور دورہ تھا۔ انیس کا رویہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ انیس صرف دعویٰ نہیں کرتے بلکہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔
یہ فصاحت یہ بلاغت یہ سلاست یہ کمال
معجزہ گر نہ اسے کہیے تو ہے سحر جمال
انیس کی غزلوں میں سلام کے اچھے اشعار کی نایابی اور سلاموں میں اچھے تغزل کے اشعار دیکھ کر یہ خیال ہو تاہے کہ میر انیس نے جب غزل چھو ڑ دی تو اچھے مصرعے یا اشعار اپنے سلاموں میں کھپا لیے ہوں گے ۔ لیکن اس خیال کی کوئی دوسری شہادت موجود نہیں ہے اور راقم کا خیال بس خیال ہی ہے ۔ میر انیس کی غزل گوئی چھوڑنے کی وجہ جو اوپر بیان کی گئی ہے یعنی والدمحترم کے حکم کی تعمیل لیکن اس کا اصل سبب بقول ادیب صا حب :
وہ غیر معمولی ملکہ شاعری تھا جس کا اظہار غالب نے یوں کیا ہے ۔
بہ قدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہئے وسعت مرے بیاں کے لیے
بعض غزل گو شا عروں کے سلسلے میں میر انیس کے چند جملے جو آزاد کے حوالے سے درج کیے جاتے ہیں ملا حظہ کیجئے ذوق کے بارے میں آزاد نے انیس کی رائے جاننا چاہی ۔
انیس کا جواب تھا :
’’ فر مایا کہ میاں سید میر کے بعد پھر دلی میں ایسا شاعر کون ہوا ہے ۔ ‘‘
(آب حیات ص نمبر ۵۴۸۔ محمد حسین آزا د)
آزادہی کا بیان ہے کہ انہوں نے میر انیس کے سامنے ذوق کا یہ مطلع پڑھا :
کوئی آوارہ تیر ے نیچے اے گردوں نہ ٹھہرے گا
مگر تو بھی اگر چاہے کہ میں ٹھہر وں نہ ٹھہرے گا
میر انیس نے یہ مصرعہ دو بارہ پڑھوا یا اور کہا
’’ صا حب کمال کی بات یہ ہے کہ لفظ جس مقام پر اس نے بٹھایا ہے اس طرح پڑھا جائے تو ٹھیک ہوتا ہے نہیں تو شعر رتبے سے گر جاتا ہے ۔‘‘
(آب حیات ص نمبر ۴۷۵ ۔ محمد حسین آزاد )
اس سلسلے میں چند واقعات کا ذکر سید امجد علی اشہری نے بھی کیا ہے جسے من و عن نقل کیا جاتا ہے ۔ ملاحظہ کیجئے
میر قربان علی سالک شاگر د مر زا غالب اپنی بیاض میں ۱۸۶۱ ء کی یادداشت لکھتے ہیں :
’’ دو مہینے سے لکھنؤ میں وارد ہوں دلی میں مر زا غالب اور استادذوق کی ہوائیں دیکھتا سنتا تھا مگر یہاں میر انیس اور مر زا دبیر کی معرکہ آرائی کا عالم نرالا ہے ۔ مر زا غالب کو یگانہ فن کے لفظ سے یاد کیا اور ذوق و مومن کی نسبت فرمایا ذوق شاہی دربار کے شاعر اور مومن اپنی طبیعت کے بادشاہ ہیں پھر حکیم مو من خاں کا یہ شعر پڑھا :
نہ کچھ شوخی چلی باد صبا کی
بگڑنے میں بھی زلف اس کی بنا کی
پڑھنے کے بعد ایک چپ سی لگ گئی جیسے کوئی حسین صور ت سامنے ہے اور ہوا اس کی زلف اڑا رہی ہے اور میر صا حب اس کو دیکھ کر کلام کے مزے لے رہے ہیں ۔ ایک روز فر مانے لگے دلی کا کچھ کلام سناؤ میں نے مرزا غالب کی یہ غزل پڑھی ۔
باز یچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تما شا میرے آگے
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے
پھر اپنی غزل پڑھی اس کا ایک شعر یہ ہے :
دنیا میں مجھے خاک اڑانے نے ڈبویا
ہر بار نکل آتا ہے دریا میرے آگے
اس شعر پر فرمایا خوب کہا ہے ۔ یہ کہہ کر فر ما نے لگے لکھنؤ والے ’’روکے ہے‘‘ ،’’کھینچے ہے‘‘ نہیں بولتے ہیں ۔ (حیات انیس ص ۲۵۵، ۲۵۶ ، امجد علی اشہری ۱۹۰۷ ء )
انیس نے ہر لفظ کو اس کے مقام استعمال پر رکھ دیا ۔انہوں نے لفظ کو بر محل اور بہتر محل پراستعما ل کیا ہے تب جاکے الفاظ اورزیا دہ با معنی ہو گئے ۔منظر نگاری میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ہے ۔ اہل زبان و ادب کو ان کے سامنے سر بہ سجو د ہو نا پڑے گا۔ انیس اردو ادب کو الفاظ کابر محل استعمال کر نا بتا گئے ۔ الطاف حسین حالیؔ انیسؔ کو فر دوسی کا ہم پلہ بتاتے ہیں :
’’الفاظ کو خوش سلیقگی اور شائستگی سے استعمال کرنے کو اگر معیار کمال قرار دیا جائے تو بھی میر انیس کو اردو شعرا ء میں سب سے برتر ماننا پڑیگا۔ میر انیس کے ہر نقطہ اور ہر محاورہ کے آگے ہر اہل زبان کو سر جھکا نا پڑتا ہے۔ اگر انیس چوتھی صدی ہجری میں ایران میں پیدا ہوتے اور اسی سوسائٹی میں پروان چڑھتے جس میں فردوسی پلا بڑھا تھا وہ ہرگز فردوسی سے پیچھے نہ رہتے۔ ‘‘
سید شریف الحسن شریف العلما کے ایک خط کا حوالہ سید مسعود حسن رضوی نے دیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’ سید شریف العلما اپنے خط مو رخہ ۱۶؍ ذی الحجہ ۱۲۸۷ ھ ؍ ۲۱؍ ما رچ ۱۸۷۱ء میں لکھتے ہیں کہ حیدر آباد میں ایک دن میر انیس نے میر تقی میر کے یہ دوشعر پڑھے ۔
تیری گلی میں ہم نہ چلیں اور صبا چلے
یو نہی خدا جو چاہے تو بندے کا کیا چلے (۱)
(۱) یہ شعر میر کا نہیں درد کا ہے ۔ ادیب ، انیسیات ص ۱۶۴ ۔
تھمتے تھمتے تھمیں گے آنسو
رونا ہے کچھ ہنسی نہیں ہے
اس مو قع پر شریف العلما کو سہوہوا ہے ۔ پہلا شعر میر تقی میر کا نہیں بلکہ خواجہ میر درد کا ہے ۔
اس طرح کا ایک اور واقعہ میر انیس کے ایک معتقد مولوی میر حامد علی نے میر انیس کے سامنے یہ شعر پڑھا
روشن ہے اس طرح دل ویراں میں داغ ایک
اجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ ایک
میر صاحب لیٹے تھے یہ سن کر اٹھ بیٹھے ایک اف کی اور فر مایا کہ اب میں بڑھا پے میں ایسے شعروں کی تاب نہیں لا سکتا اس سن میں ایسے تیر نہیں کھا سکتا پھر میر صا حب نے اس شعرکے سلسلے میں فرمایا کہ پرانے زما نے میں جب کسی بستی پر شاہی عتاب نازل ہوتا تھا تو وہ بستی ویران کر دی جاتی تھی اور اس میں کسی نمایاں مقام پر ایک چراغ جلا دیا جا تا تھا ۔‘‘ (انیسیات ص ۱۶۴، ۶۵۔ سید مسعود حسن رضوی ادیب ، اترپردیش اردو اکا دمی لکھنؤ ۱۹۸۱۔)
سید علی حیدر نظم طبا طبائی شرح دیوان غالب میں رقمطرا ز ہیں :
’’ میر انیس کے سامنے ایک صا حب نے یہ مصرع پڑھا
چیختے چیختے بلبل کی زباں سوکھ گئی
میر صاحب نے یہ مصرع لگایا
عرق گل ہے مناسب اسے دینا صیا د
اس کا چر چا لکھنؤ میں ہوا اکثر لوگوں نے طبع آزمائی کی ۔‘‘ (شرح دیوان غالب ۱۸۵ ، سید علی نظم حیدر طبا طبائی ۔)
غالب کے نزدیک مر ثیہ گوئی میں میر انیس اور دبیر جیسا کوئی نہ پیدا ہوا تھا نہ ہوگاکتنی دور اندیشی تھی غالب کے اندر یہ بات اس دور میں خوب سے خوب تر سمجھی اور پرکھی بھی جا تی ہے ۔ غالب چونکہ میر انیس سے پا نچ سال بڑے تھے ۔ پھر انہوں نے اس طرح کا اعتراف کیا ہے :
’’اردو زبان نے انیس اور دبیر سے مرثیہ گو پیدا نہیں کئے۔ ایسے مرثیہ گو نہ ہوئے ہیں نہ پیدا ہونگے۔ انیس کا مرتبہ نہایت بلند ہے‘‘ ؔ(یاد گارِ غالب۔واقعات انیس)۔
’’ میر انیس کے مقابلہ میں کسی اور کا مرثیہ کہنا میر انیس نہیں خود مرثیہ کا منہ چڑھانا ہے۔ آج لکھنؤ اور دلی میں میر انیس کی مرثیہ گوئی کو معجزہ کلام مانا جاتا ہے ۔‘‘(حیات انیس امجد اشہری )
غالب نے لکھنؤ کے مجتہد عباس صاحب کے کہنے پر ایک مرثیہ کہنا شروع کیا۔ لیکن تین بند کہنے کے بعد یہ کہہ کر قلم رکھدیا کہ مرثیہ کہنا میرے بس کی بات نہیں۔ غالب کے کلام میں انیس کی تشبیہات، تلمیحات اور استعارے موجود ہیں۔ یہ عظمتِ غالب کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غالب میں استفادہ کرنے کی صلاحیت عالم کی طرح بدرجہ اتم موجود تھی۔ میر انیس کے یہاں دوسرے شعراء کی قدر دانی غیر معمولی حد تک موجود تھی۔ میر انیس اور غالب ایک دوسرے کے کلام سے خوب واقف تھے اور ایک دوسرے کے دلدادہ تھے۔ میر انیس عمر میں غالب سے پانچ برس چھوٹے تھے اور انکا انتقال غالب سے پانچ سال بعد ہوا۔ غالب کے انتقال پر میر انیس کی ایک رباعی
گلزارِ جہاں سے باغِ جنت میں گئے
مرحوم ہوئے جوارِ رحمت میں گئے
مدّاحِ علی کا مقام اعلیٰ ہے
غالب اسد اللہ کی خدمت میں گئے
افضل حسین ثابت مصنف حیا ت دبیر نے اپنے خط بنام حامد علی بیر سٹر مورخہ ۱۶؍ اپریل ۱۹۱۲ ، میں میر انیس کا یہ مطلع نقل کیا ہے ۔
نہ روکا ہم کو پھولوں نے چلے خالی ہی گلشن سے
گلوں سے خار ہی بہتر کہ لپٹے آکے دامن سے (۱)
(۱) یادگار حامد ص ۱۸۴،افضل حسین ثابت )
یہ چند اشعار بھی بقول سید مسعود حسن رضوی، میر انیس سے منسوب کیے جاتے ہیں :
دل لے لیا ہے یار نے مٹھی میں بند ہے
کھلتا نہیں پسند ہے یا نا پسند ہے
جب مسیحا دشمن جان ہو تو ہو کیوں کر علاج
کون رہبر ہو سکے جب خضر بہکا نے لگے
رکھ کے منھ سو گیا ان آتشیں رخساروں پر
دل کو چین آیا تو نیند آگئی انگاروں پر
مبصرین کا خیال ہے کہ شیکسپیئر کے زمانہ میں وہ سہولتیں مہیا نہیں تھیں جو چار سو سال بعد برنارڈ شاء کے زمانہ میں عام تھیں اسلئے شیکسپیئر کے یہاں منظر کشی اس تفصیل کے ساتھ نظر نہیں آتی جو تفصیل برنارڈ شاء کے یہاں موجود ہے۔ اس کے برعکس انیس کی منظر کشی برنارڈ شاء سے بڑھ کر ہے۔ تینوں کے یہاں کردار خود بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مصنف بولتے ہوئے نظر نہیں آتے۔
میر انیس سے منسوب غزل کے اشعار کا بر محل استعمال دوسروں کے اشعار غزل میں لکھنوی اور دہلوی زبان کا فرق اچھے اشعار کی کھل کر تعریف اور مندرجہ روایات کے آئینہ میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ میر انیس میں غزل کہنے اور مزاج غزل سے منصفی کر نے کا پورا ہنر موجود تھا۔
خواجہ حیدر علی آتش کو اخلاقی شاعری کا بادشاہ کہا گیا ہے۔ وہ ایسی سچائیوں کا آئینہ بھی بنتے ہیں کہ سننے والوں نے انہیں خرزجاں بنایا ہے۔ آتش جب بھی کسی شخصیت پر تبصرہ کر تے ہیں تو محض سر سری طور پر نہیں بلکہ حقیقت بیانی سے کرتے ہیں ۔ جیسا کہ انہوں نے میر انیس کے بارے میں کہا:
’’کون بیوقوف کہتا ہے کہ تم محض مرثیہ گو ہو۔ واللہ باللہ تم شاعر گر ہو اور شاعری کا مقدس تاج تمہارے سر کے لئے موزوں بنایا گیا ہے۔خدا مبارک کرے بھئی اس میدان میں کوئی تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ انیس کے مرثیہ پر سیکڑوں غزلوں کے دیوان صدقے کئے جا سکتے ہیں۔‘‘(اساتذہ کے تاثرات ۔ ظفر جعفری )
شیکسپیئر اور جارج برنارڈ شا ء مفروضی اور افسانوی کرداروں پر اپنی خدا داد صلاحتو ں کو کام میں لاتے تھے۔انیس و دبیر اصلی کرداروں کی بات اور ان پر جو گزری ان تما م حالات اور واقعات کی منظر کشی کرتے تھے۔میر انیس حق پر جان قربان کرنے والوں کی بات کرتے تھے ۔میر انیس سورج تھے ان کا مقابلہ مغربی ڈرامہ نگاروں سے تقابل کر نا سر ا سر غلط ہے ۔ میر انیس یقینی طور پر ’’ الہامی شاعر‘‘ہیں اور انہوں نے یقینی طور پر ’’ تائید غیبی ‘‘ کی مدد سے صرف اور صرف ایک اصلی کردار اور اسکے خاندان کی مشکلات اور اسکی حق کی خاطر باطل سے لڑائی اور اپنی اور اپنے سارے خاندان کی قربانی کی منظر کشی کی۔کہاں انیس اور کہاں ہومر، ورجل ، شیکسپیئر اور برنارڈ شاء جنھوں نے دماغی قلابا زیاں کھا کر کئی خاندانوںپر اپنا قلم اٹھایا اور انکے افسانوں کی منظر کشی کی۔؟میر انیس کا مقام مندرجہ بالا تمام افسانہ نگاروں اور ڈرامہ نگاروں سے بر تر ہے۔ اور ’’ بین الاقوامی سطح ‘‘سے بالا تر ہے ۔اگر مشاہیر ادب انیس کا موازنہ فردوسی، ہومر یا شیکسپیئر سے نہ کرتے تو ابولکلام آزاد یہ کہتے ہوئے نظرنہ آتے ہیں :
’’دنیائے ادب کو اردو ادب کی جانب سے میر انیس کے مرثیے اور مرزا غالب کی غزلیں تحفہ تصور کی جائیں۔ ادبیبات اردو اور اردو زبان کو قصرگمنامی سے نکال کر مراثی انیس نے بین الاقوامی سطح پر پہنچا دیا۔‘‘
شمس العلما ء امداد امام اثرایسے شاعر ہیں جنہوںنے اردو تنقید کی زبوں حالی کا احساس دلایا۔ان کی تنقیدی تحریریں اردو میں انقلابی نوعیت پیدا کی ہیں۔ انہوں نے روایتی ادب سے اپنی بے چینی کا اظہار کیا۔ اثر اخلاقیاتی شاعری کو بہتر ین شاعری تسلیم کر تے ہیں۔ ان کے خیال میں شاعری کو اخلاق آموزی کا ایک بہتریں ذریعہ ہونا چاہے لیکن وہیں جب میر انیس کی شا عری کی بات آتی ہے تو یا تقابل کی بات آتی ہے تو امداد اثر کچھ اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہیں ؛
’’شعرائے نامی یعنی ہومر ورجل اور فردوسی میں ابو ا لشعرا ہومر ہی ہے۔ جس کے ساتھ انیس کا موازنہ صورت رکھتا ہے۔ ورنہ ورجل جو ہومر کا تتبع ہے انیس کا ہرگز ہم پایہ نہیں قرار دیا جا سکتا اور نہ انکی ہم پائیگی کا استحقاق فردوسی کو حاصل ہے۔ انیس کو فردوس ہند کہنا انیس کی ایک بڑی ناقدر شناسی ہے۔ راقم کی دانست میں انیس کی کریکٹر نگاری ہومر کی کریکٹر نگاری سے بڑھی معلوم ہوتی ہے۔ بلا شبہ و شک میر انیس وہ الہامی شاعر ہیں کہ تائیدغیبی بغیر انیس کا کمال کوئی بنی آدم پیدا نہیں کرسکتا۔ انیس کا موید من اللہ ہونا ایک امریقینی ہے۔‘‘
اگر ہم غور و خوص کریں تو معلوم ہو گا کہ انیس کی شاعری کے دو اہم عنا صر یہ ہیں کہ انھو ں نے مرثیے کو مقامی رنگ میں رنگ دیا۔جسکی وجہ سے مرثیہ فن کے اظہا ر کا ذریعہ بنا اور صرف ایک مسلک کا نمائندہ بن کر محدود نہیں رہ گیا۔دوسرا عنصر بھی شاید اسی کی تو سیع ہے ا و ر وہ یہ ہے کہ اگرچہ و اقعۂ کر بلا ایک مخصو ص دور میں پیش آیا مگر انیس کی شاعری نے اس واقعے کے تمام افراد کو زمان و مکان کی قیو د سے آزاد کر دیا۔غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے اکبر الہ آبادی کہتے ہیں :
’’ انیس کے کلام پر غور کرنا ذوق فہمی، نکتہ سنجی اور زبان شناسی کا فائدہ دیتا ہے۔‘‘
انیس سے پہلے مرثیہ صرف مذہبی و اعتقادی صنف نظم سمجھا جاتا تھا۔ اس میں کوئی نمایاں ادبی اہمیت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہ فخر انیس کا حصہ ہے کہ اردو زبان میں ایسے نئے اور پر مغز باب کاحسن کمال سے اضافہ کیاجس کا ثانی ملنا دشوار کن امر ہے ۔ مرثیے سے پیکری حیثیت سے جو قوت و اثر لطافت و تازگی، سلاست و روانی انیس نے پیدا کردی وہ اب تک متقدموں سے ممکن نہ ہوئی تھی۔انیس کے اوپر خدا وند کریم کا خاص کرم تھا ۔ ان کے اوپر الہام ہو تا تھا ۔ جب شعر کہتے تھے یا پڑھتے تھے تو گویا ایسا محسوس ہو تا تھا جیسے کوئی ان سے کہہ رہا ہو کہ اے انیس اب یہ اس طرح کا شعر کہو اب اس طرح کے شعر کہو انیس کو الہامی شا عر مانتے ہوئے ڈپٹی نظیر احمد کہتے ہیں ـ:ـ
’’ حق تعالیٰ نے ایک اردو شاعر انیس کو کیسی قدرت عطا فرمائی اور اس کے قلب پاک کو کیا نور بخشا ہے کہ وہ خاصان خدا کے ارواح پاک کی باتوں کو اس پاک وصاف طریقے سے نظم کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے بلکہ یقین ہوجاتا ہے کہ وہی ارواح پاک بول رہی ہیں اور یہ بات بغیر الہام کے غیر ممکن ہے۔ اسلئے میری رائے میں اور شعراء دنیا میں آکر اپنے کسب علوم سے نامور ہوتے گئے۔ لیکن میر انیس وہیں سے شاعر بناکر بھیجے گئے تھے اور مدارجِ اعلیٰ پر فائز ہوئے۔بہر عنوان مناظر کی نقاشی، میدانِ جنگ کی مصوری محبت کے علاوہ جرأت، ایثار، شرافت،انصاف، حق پسندی،حق گوئی جیسے بلند انسانی جذبوں کی مرقع کشی کے باب میں انیس کے مرثئے ایلیڈ،اینیڈ، رامائن،مہا بھارت اور شاہنامہ مقتدر اور مہتم بالشان لفظوں کے شاہکار میں جن سے اردو شاعری کا اخلاقی و تمدنی درجہ بہ مراتب بلند اور بہ منازل اہم ہوجاتا ہے۔ ‘‘(صحیفہ تاریخ اردو از سیّد محمد مخمور رضوی اکبرآبادی )
انیس نے جو سب سے اہم کام کیا وہ یہ ہے زبا ن اور تہذیب کا تحفظ جیسے کہ جوش اور نظیر کا نام انکی لفظیا ت کے حوالے سے بہت لیا جاتا ہے۔ انیس نے ایک مخصو ص تہذیب اور زبان،محاورے اور روزمرّہ کو اپنے مراثی کے ذریعے محظو ظ کرکے اردو ادب اور زبان کی ایک بہت بڑی خدمت کی ہے۔ یہ کام صرف مرثیے جیسی ہی صنفِ سخن کی بدولت ہی ممکن تھا۔ ہو سکتا ہے کوئی یہ بات کہے کہ غز ل نے بھی یہی کام کیا ہے یقیناکیا ہے مگر غزل میں اجمال ہوتا ا ور مرثیے میں تفصیل اور تفصیل مرثیے کا ایک مستحکم عنصر ہے۔
رام بابو سکسینہ رائے دہندگان میں اپنا نام کچھ اس انداز میں درج کر تے ہیں :
’’ انیس کی شاعری جذبات حقیقی کا آئینہ تھی اور جس نیچرل شاعری کا آغاز حالی اور آزاد کے زمانے سے ہوا، اس کی داغ بیل انیس نے ڈالی تھی انیس نے مرثیہ کو ایک کامل حربہ کی صورت میں چھوڑا جس کا استعمال حالی نے نہایت کامیابی سے کیا۔‘‘
پروفیسر آل احمد سرور فرماتے ہیں کہ،
’’ انیس کی شاعرانہ عظمت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ انیس نے سلاموں اور مرثیوں میں وہ شاعری کی ہے جن میں بقول حالی حیرت انگیز جلوئوں کی کثرت ہے جن میں زبان پرفتح ہے جو شاعر کی قادر الکلامی جذبے کی ہر لہر اور فن کی ہر موج کی عکاسی کر سکتی ہے۔ جس میں رزم کی ساری ہماہمی اور بزم کی ساری رنگینی لہجے کا اْتار چڑھائو اور فطرت کا ہر نقش نظرآتا ہے ان کا یہ دعویٰ کس طرح بیجا نہیں ۔‘‘(غبار خا طر ، وہاب اعجا ز خان)
میرانیس کے ہاں مرثیوں میں قصیدے کی شان و شوکت، غزل کا تغزل ، مثنوی کا تسلسل ، واقعہ اور منظر نگاری اور رباعی کی بلاغت سب کچھ موجود ہے۔ میر انیس نے روز مرہ کی زبان کو استعمال کیا ہے ۔ الفاظ بر محل کی ان کی خو بیوں میں شامل ہے ۔ چاہئے وہ جزیا ت نگاری ہو یامنظر نگاری ہر ایک میں اساتدانہ مہارت نظر آتی ہے ۔ جیسا کہ مولانا شبلی انیس کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’ ان کا کلام صیح و بلیغ ہے۔ زبان صحیح اور روز مرہ بڑی خوبی سے استعمال کیا ہے۔ انتخاب الفاظ مضمون اور موضوع کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ جزئیات نگاری میں اْستادانہ مہارت ، جذبا ت کے بیان کا خاص سلیقہ ، منظر نگاری اور مظاہر قدرت کے بیان میں زور تشبیہات اور استعارات میں جدت اور ندرت ہے۔‘‘
اے دیار لفظ و معنی کے، رئیس ابن رئیس
اے امینِ کربلا، باطل فگار و حق نویس
ناظم کرسی نشین و شاعر یزداں جلیس
عظمتِ آل محمّد کے مؤرخ، اے انیس
تیری ہر موجِ نفس، روح الامیں کی جان ہے
تو مری اردو زباں کا، بولتا قرآن ہے
جوش ملیح آبادی
حواشی وحوالہ جات
(۱) انیسیات ، مسعود حسن رضوی
(۲)ایک مضمون ۔رفعت عبا س زیدی ۱۳؍ دسمبر ۲۰۰۹ کے عالمی اخبا ر بلا گ
(۳) آب حیات ص ۵۱۹، محمد حسین آزاد
(۴) نجم سبطین اپنے ایک مضمون ’’ شاعری اور کربلا ‘‘
(۵) تذکرہ خوش معرکہ زیبا ص ، ۳۰۵ ، سعادت خاں ناصر ۔
(۶)انیسیات ص ۱۶۲،۱۶۳، پر وفیسر مسعود حسن رضوی ادیب ، اتر پر دیش اردو اکا دمی لکھنؤ ۱۹۸۱ء
(۷)انیس ص ۴۲ ، پر وفیسر نیر مسعود رضوی ، قومی کا ؤنسل برائے فروغ اردو زبان دہلی ۔ ۲۰۰۲۔
(۸)آب حیات ص نمبر ۵۴۸۔ محمد حسین آزا د
(۹) میر قربان علی سالک شاگر د مر زا غالب اپنی بیاض ، ۱۸۶۱ ء
(۱۰)حیات انیس ص ۲۵۵، ۲۵۶ ، امجد علی اشہری ۱۹۰۷ ء
(۱۱)سید شریف الحسن شریف العلما کا ایک خط
(۱۲)سید علی حیدر نظم طبا طبائی شرح دیوان غالب
(۱۳)حیات انیس امجد اشہری
(۱۴)یاد گارِ غالب۔واقعات انیس
(۱۵)یادگار حامد ص ۱۸۴،افضل حسین ثابت
(۱۶)اساتذہ کے تاثرات ۔ ظفر جعفری
(۱۷)صحیفہ تاریخ اردو از سیّد محمد مخمور رضوی اکبرآبادی
(۱۸)غبار خا طر ، وہاب اعجا ز خان
(۱۹)حیات انیس ص ۲۵۵، ۲۵۶ ، امجد علی اشہری ۱۹۰۷ ء
(۲۰) ایک ملا قات احمد علی دانش کے ساتھ
مضمون نگار سے رابطہ
محلہ پورہ رانی ،نزد،ا قراء پبلک اسکول، قصبہ مبارک پور ،ضلع اعظم گڑھ
9369521135
Fan E Reportaz Nigari
Articles
فن رپو رتاژنگاری :ایک مطالعہ
محمدرضا (ایلیاؔ)
تحریر کی وسا طت سے پیش آمدہ واقعات و حا د ثات کوعلمی و فنی کمالات سے قارئین کے دل و دماغ میں اتار دینے کے ہنر کو رپورتاژکہتے ہیں ۔ حقیقت پر مبنی رپورتاژنگاری کو پر کشش الفاظ ، نرالے انداز ،انو کھے طرز میں تحریر کرنا اس کی بنیادی اوراساسی اصولوں میں شمار کیا جا تا ہے ۔ان سب باتوں کے لیے لازمی ہے کہ ماضی کے تذکرے کامطالعہ کرنے کے بعدا س میں حالا ت حا ضرہ کی بول چال اور محاورات کو حسن و خوبی کے ساتھ شامل کر لیا جائے ۔ اگر رپورتاژ کے مفہوم کو وصی اللہ کھو کھر کی مرتب کر دہ قاموس ’’ جہانگیر اردو لغت‘‘ کے توسط سے سمجھنے کی کو شش کریں تو وہ تحریر کرتے ہیں کہ
’’ چشم دید واقعات کا ایسا بیان جو حقیقت کو مسخ کیے بغیر پر تخیل ادب کی تعریف میں آسکے ۔‘‘ اسے رپورتاژ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ دراصل لفظ رپورتاژ فرانسیسی زبان کے لفظ ’’Rapportage‘‘ کی تارید ہے جس کے معنی خفیہ رپورٹ کے ہیں ۔(۱)
وہیں دوسری طرف ہم اگر’’ آن لائن اردو لغات‘‘ ملا حظہ کریں تو اس میں رپورتاژ کا تذکرہ مندرجہ ذیل الفاظ میں ملتا ہے :
’’ رپو رتاژ سب سے پہلے ۱۹۶۳ میں ’’ جدید کے دو تنقید ی جا ئز ہ ‘‘ میں مستعمل ملتا ہے ۔ انگریزی زبان ’’Reportage‘‘ سے اردو میں تصرف کے ساتھ داخل ہوا ۔ عربی رسم الخط میں بطور اسم مستعمل ہے ۔ رپو رتاژ اسم معرفہ ۔ مذکر ہے ۔ (۲)
لا نگ مین یونیورسل ڈکشنری میں لا نگ نے رپورتاژ کی تعریف یوں کی ہے ۔
’’خبرنگاری کا عمل۔ ایسی تحریر جس کا مقصد سانحہ کی حقیقی تصویر پیش کر نا ہو ۔ ‘‘(۳)
ڈیوڈگرامبس نے لٹریری کمپینئن ڈکشنری میں رپورتاژ کا مطلب کچھ اس طرح لکھاہے :
’’ایسی خبر نویسی یا حالات حاضرہ کی اصل رپورٹنگ جو براہ راست مشاہدے ؍ دستاویزی حیثیت ، حادثات یا حالات ، خبرنویسی یا نیو ز اسٹوری پر مبنی ہو ۔ ‘‘(۴)
علی سر دا ر جعفری ’’رپو رتاژ ‘‘کے بارے میں اپنے تاثرات کااس انداز میں اظہار کر تے ہیں:
’’یہ صنف ادب رپورتاڑ بالکل نئی ہے۔ لیکن بے انتہا اہم ہے۔ یہ صحافت اور افسانہ کی درمیانی کڑی ہے۔ اور اس سے ہمارے ادب کو بے انتہا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ رپورتاڑ ہمارے مقاصد کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے ذریعہ سے ہم بڑے بڑے کام لے سکتے ہیں ‘‘۔۵
کتاب ’انتخاب سجاد حیدر یلدرم‘کی مرتبہ ثریا حسین رپورتاژکی وضاحت کر تی ہوئی تحریر کرتی ہیں ـ:
’’ رپورتاژ ایک فرانسیسی لفظ ہے اور چند سال سے اردومیں مستعمل ہو چکا ہے ۔ رپورتاژ میں رپو رٹر بیرونی حقائق کے ساتھ ساتھ ادبی رنگ میںاپنے ذاتی تاثرات کو بھی پیش کر تا ہے جب کہ رپورٹ یا سفر نامہ محض حقائق پر مشتمل ہو تا ہے ۔(۶)
جس وقت ؍ زمانے میںقلمکار تحریر کر رہا ہے اس وقت کی بولی جانے والی زبان کا بھی استعمال اچھی رپورتاژ نگاری کے لیے ضروری ہے ۔ لیکن جو ہم زبان استعمال کریں وہ عام فہم ہو نے کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے الفاظ کے ساتھ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ واقعات اور حادثات میں متروک الفاظ و کلمات کا بکثرت استعمال کریں ۔غیر مستعمل الفاظ سے پر ہیز کرتے ہوئے مستعمل اور ایسے جدید الفاظ کی مدد سے تزئین کا ری کریں جو گزرے ہوئے وقت کی عکا سی کرتاہو ۔
رپو رٹر کو اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ سامنے کی بات نیز سطحی باتوں کے ذریعہ فوراً نتیجہ اخذکر لیتا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں سچائی جب اس کے برعکس ہوتی ہے تو رپو رٹر س معذرت کر کے بات کو ختم کر دیتے ہیں ۔ اب تو عام سی بات ہو گئی ہے کہ تازہ رپورٹ کے مطابق یوں ہے وغیرہ وغیرہ ۔ مگر رپورتاژنگار کا صرف یہ کام نہیں ہے کہ وہ واقعات و حادثات کو سطحی نظر سے دیکھ کر فیصلہ کر دے بلکہ گزرے ہوئے واقعات ، لمحات کی تہہ تک جائے اور ہر ہر نکات کو عمدہ طریقہ سے تحقیق کر کے تجزیہ کرے۔ یہ بات بھی ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ جو تجزیہ ہم کر رہے ہیں اس کو سادگی کے پیراہن میںبالکل نہ پرو ئیں بلکہ اچھے ، پر لطف اوردل کو موہ لینے والے انداز میں پیش کریں۔ بات کی تہہ تک جانے کے بعد ہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے جیسے کہ رنگ لا تی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد ۔ ’حنا ‘رپورٹر کے مثل ہے اور گھسنے کے بعد جو رنگ آتا ہے وہ رپو رتاژ ہے ۔
جملے کی ہیرا پھیری سے ،تخیلات کی تبدیلی سے بہت کچھ بدل جا تا ہے ۔ایک واقعہ ، ایک ہی منظر کو الگ الگ انداز میں پیش کر کے اپنی تحریر کے رنگ دو بلا بنا سکتے ہیں ۔ ہاں توآپ متوجہ ہیں ! دیکھئے یہ وہ عجیب منظر !
۰ خونخوار شیر ہرن کا شکارنہیں کر سکتا ۔یہ اس کی عاجزی کی علا مت ہے ۔
۰ چالاک ہرن نے برق رفتاری سے اپنی تیز رفتار چوکڑی کی مدد سے شیر کو مات دے دی ۔
۰ شیر نے صحیح وقت کا انتخاب نہیں کیا ۔ جس کا فائدہ ہرن کو جیون دان کی شکل میں ملا ۔
۰ شیراپنے لنچ کے لیے دوڑ رہاتھا اس لیے ہا ر گیا ۔ ہرن اپنی زندگی کے لیے بھاگ رہا تھا اس لیے وہ جیت گیا ۔
۰ ہرن کی زندگی کے سامنے شیر کی بھوک نے دم توڑ دیا ۔
یہاںاگر غورکیا جائے تو واقعہ ایک ہے مگر بیان اوررپورٹر کا انداز بالکل مختلف اور برعکس ہے ۔ مختلف رپورتاژوں نے واقعات کی صداقت کو نظریات ، تخیلات کے ذریعہ اپنے اپنے دلچسپ انداز میں پیش کر کے قارئین ، ناظرین کو با ندھے رکھا ۔اب عوام کے اوپر منحصر ہے کہ کس کو کس انداز میں پسند کر تا ہے ۔
ڈاکٹر احتشام حسین کے نزدیک صنف رپور تاژ ادب کا حصہ تو ہے مگر اس کی شکل و صورت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے ۔ تاجور سامری کی رپورتاژ ’’ جب بندھن ٹوٹے‘‘ کے تعارف میں لکھتے ہیں :
’’رپو رتاژ کو ہم واقعات کی ادبی اور محاکا تی رپو رٹ کہہ سکتے ہیں ۔ادب کی شکل نہ تو واضح ہے اور نہ اتنی پرانی کہ اس کے حدود تعین کیے جائیں گے ۔ ‘‘(۷)
لکھنؤکی تاریخ ،واقعات ، حادثات، بلندی اور تنزلی کے مناظر کو بہت سے لوگوں نے قلمبند کیا مگر بعض کو شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھا جا تا ہے نیز کچھ خاص تحریر ایسی ہیں جن کو مکمل پڑھے بغیر سکون نہیں ملتا، کچھ تو ایسی ہیں جن میں بوریت کا احساس ہو نے لگتا ہے جب کہ وہ عمدہ اور تحقیقی ہوتیں ہیں ۔ تاریخ لکھنؤ میں ’’ گزشتہ لکھنؤ‘‘ کے حوالے مر زا جعفر حسین نے لکھا اور ان کا انداز کچھ اور ہے ۔ یہی تاریخ لکھنؤاور اجڑتا ہوا اودھ کو’’ یادوں کی برات‘‘ میں جو ش ملیح آباد ی کی تحریر کا مطالعہ کریں تو ان کا انداز بالکل دلکش ہے۔ زیادہ تر لو گوں کو پسند بھی آتا ہے کیونکہ انہوں نے تحریر کو نوک جھونک ،نرالے انداز کے ساتھ لکھا ہے ۔ یہی حال رپورتاژکا ہے ہمیں اس انداز میں لکھنا چاہئے کہ رپورتاژ مکمل ہوجائے تشنگی بھی باقی رہے نتیجہ تصور کی منزل میں نہ ہو بلکہ تصدیق ہو جائے۔
ڈاکٹرخلیق انجم ’’اردو میں رپورتاژنگاری ‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
’’اردومیں با قاعدہ رپورتاژنگاری کا ارتقاترقی پسند مصنفین کے ہاتھوں ہوا ۔ سجادظہیر نے ’روشنائی ‘میں لکھاترقی پسند مصنفین کے ان جلسوں کی تفصیلی روداد اور ان کی فضا کو حمید اختر بڑی خوبی کے ساتھ قلم بند کر تے تھے ۔ ہر جلسہ میں وہ بحیثیت سکریٹری انجمن کے گزشتہ ہفتے کی روداد پڑھتے تھے ۔ عام طور سے سکریٹری کی رپورٹ ایک خشک اور رسمی سی چیز ہوتی ہے لیکن حمید اختر نے ان رپورٹوں میں بھی ادبی رنگ پیدا کر دیا اور اس طرح غالباً وہ ایک نئی ادبی صنف کے مو جد سمجھے جا سکتے ہیں ۔‘‘(۸)
رپورتاژ کو حا دثات، گزرے ہوئے واقعات کا ثمرہ کہا جا تا ہے ۔ اس کا مطلب یوں سمجھ لیجئے کہ حیات انسانی کے ہر پہلو واقعہ ، حا دثہ اور رنج و غم خو شی و فرحت کو آنکھوں دیکھا حال کی اس طرح منظر کشی کر نا کہ جذبات کی پوری طرح سے ترجمانی ہوجائے ۔ منظر یا ما حول کا نقشہ دلکش انداز میںاجا گر ہو جائے ۔رپو رتاژ کے لیے یہ لا زمی ہے کہ فروعی اطلاعات کو چھو ڑتے ہوئے اصول اطلا عات کو لفظ بہ لفظ ،ہو بہو یعنی جس طرح ، جس شکل میں ، جس وقت ، جس ساعت ، جس لمحہ میں دیکھئے اس کو بعینہ بیان کرے تبھی صحیح معنی میں رپو رتاژ کا حق ادا ہو گا۔ یا یوں کہا جائے تو کوئی مبا لغہ آرائی نہیں ہو گی کہ رو نما ہو نے والے واقعہ و حادثہ میں شمہ بھر بھی تبدیلی کے بغیر بیان کر دے ۔
شرر نے اجتما ع کی اس رودادکے بارے میں لکھا جو ۹؍ مئی بروز یک شنبہ ۱۸۸۷ ء کو قیصر باغ لکھنؤ کے تاریخی میدان میں انجمن دار السلام کی جانب سے منعقد ہوا تھا ۔ جس میں شرر کے مطابق بیس سے پچیس ہزار لو گوں نے شرکت کی ۔ انہوں نے آنکھوں دیکھے مناظرزمانہ حال میں لکھا۔ ایک اقتبا س ملا حظہ ہو :
’’ان پر شوق آنکھوں نے کیا دیکھا ، ایسا کچھ دیکھا کہ آنکھوں کو تمنا رہ گئی ، نہیں دیکھا ، نہیں دیکھ رہی ہیں ۔ ہم ایک وجد کے عالم میں جھوم رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان خطیبوں کی معجز بیانیاں دلوںمیں آگ لگائے دیتی ہیں ۔ ایک طرف جناب منشی امتیاز احمد صا حب جوش و خروش کے ساتھ تقریر کر رہے ہیں ، غصے میں ابھر نے والے خون کی طرح اسلامی جو ش رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے اور بے ساختہ وجد میں آکر مسلمانوں کے پر جوش ہجوم سے سبحان اللہ ، جزاک اللہ ۔ اللہ اکبر کے نعرے بلند ہو رہے ہیں ۔ دوسری جانب مر زا محمد ہا دی رسوا صا حب اپنی عالمانہ تقریر سے ایک بہت بڑی جما عت کو اسلام کا جان فروش خادم بنائے دیتے ہیں ۔ ‘‘(۹)
رپورتاژ نگار وںکو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہر گز ہر گز یہ نہ دیکھے کہ اس کی رپورتاژنگاری سے عوام یا زما نہ یا آئندہ وقت میں اس کے اثرات کیا مر تب ہوں گے ۔ ہمت مر داں مدد خدا کے اصول پر چلتے ہوئے حق بیانی اور علمی لیا قت ، فنی صلاحیت ، تحریر ی مہا رت ، قلمی قوت سے گزشتہ مناظر کو رقم کر دے ۔ رپو رتاژ کے لیے سب سے عمدہ اور حالات حا ضرہ میں بخوبی سمجھی جانے والی مثال کمنٹری ہے ۔ تمام شا ئقین ریڈیو ؍ٹی وی پر بر سوں سے سنتے چلے آر ہے ہیں ۔ کرکٹ میں دلچسپی رکھنے والا ہر انسان کمنٹری کو سنتا ہے مگر کبھی آپ نے غور کیا کہ کمنٹری کو ہم انتی غور سے کیوں سنتے ہیں ؟اس کی طرف ہمارا رجحان اتنا زیا دہ کیوں ہے ؟ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ کمانٹیٹر ایسے انداز میں اور موجودہ وقت کے کچھ طنز و مزاح کے ساتھ ، تاریخ میں اس سے متعلق گزرے ہوئے واقعات کو شامل کر تے ہوئے کمنٹری کر تا ہے یہ اس کی حسن بیانی ہے ۔جبکہ اگر آپ غور کریں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ کھلاڑی تو اپنے سادہ انداز میں کھیل رہا ہے اس طرح کا کچھ مظاہر ہ نہیں کر رہاہے مگر کمانٹیٹر کھلاڑیوںکے حرکات و سکنات کو پر لطف انداز میں پیش کر تا ہے اور سامعین اور ناظرین خوشی سے جھوم جا تے ہیں ۔ رپور تاژنگاری کے فن کو سمجھنے کے لیے کمنٹری بہترین مثال ہے ۔
ترقی پسندوں نے رپورتاژکے فن کو بہت دلچسپ بنا کر پیش کیا اور اس فن کو ایک با قاعدہ صنف کی حیثیت دی گئی ۔جنہوں نے رپورتاژ لکھے ان کی با قاعدہ طور پر ماہنا مہ رسالے ؍ جریدے میںاشاعت ہوئی بعدمیں جو طویل رپو رتاژ تھے وہ کتابی شکل میں منظر عام پر آگئے ۔ اس بات کی تائید میں ہم عبدالعزیز کی کتاب کو بطور ثبو ت پیش کر سکتے ہیں ۔ اس کے مقدمے میں کچھ یوں تحریر ہے :
’’ سید سجاد ظہیر ، کر شن چند ، ابراہیم جلیس ، تاجور سامری ، عادل رشید ،فکر تونسوی ، جمنا داس اختر ، انور عظیم ، پرکاش پنڈت ، عصمت چغتائی ، خواجہ احمد عبا س، شاہد احمد دہلوی ، قرۃ العین حید ر اور نئے لوگوں میں قاضی عبد الستار ، سید ضمیر حسن دہلوی نے اہم مختصر ،طویل رپورتاژ لکھے جو مختلف رسائل مثلاً ’’شاہراہ‘‘ ، ماہنامہ ’’کتاب ‘‘ وغیرہ میں شایع ہوئے ۔طویل رپورتاژ مثلاً ’’ پو دے ‘‘ ، ’’ خزاں کے پھول ‘‘ ، ’’ جب بندھن ٹو ٹے ‘‘ ، ’’ ستمبر کا چاند ‘‘ وغیرہ علیحدہ کتابی صورت میں سامنے آئے ۔ ‘‘(۱۰)
قرۃ العین حیدر کے رپو رتاژ ’’ ستمبر کا چاند ‘‘ کا مطالعہ کیا جائے تو اک بات اور واضح ہو جاتی ہے کہ میدان جنگ کے مختلف واقعات اور اس کی ہولنا کیاں ، اقتدار کی عروجیت و شکست کے ہی مناظر نہیں پیش کیے ہیں ، بلکہ جنگ کے اختتام پر کیا اثرات مر تب ہو تے ہیں اس میں موجود ہیں۔ اس کے علا وہ دیگر متعدد مو ضوعات ہیں جس پر رپو رتاژ لکھے گئے ہیں مثلاًخشک سالی ، آسمانی آفات ، زلزلہ ، وبائی بیماری وغیرہ وغیرہ میں جو تباہ کاریاں وجود میں آتی ہیں ان پر بھی رپورتاژ لکھے گئے اور لکھے جا رہے ہیں ۔
با مقصد رپو رتاژ نگار کی خوبی یہ ہو تی ہے کہ زما ن و مکان کا تعین اس انداز میں پیش کیا جائے کہ جو حقیقت بعض کی نظر وں میںنہیں تھی وہ سب پر عیاں ہو جائے ۔ رپو رتاژنگار رپو رتاژ لکھنے کا سبب ہی یہی ہو تا ہے کہ وہ اپنی نظروں کے سامنے گزرئی ہوئی صداقت کو دوسرے تک پہنچا سکے جو اس کے متلا شی ہیں ۔ یعنی عینی شاہدخیالوں میں اس مقام تک پہنچ چکا ہو تا ہے جہاں وہ واقعہ یا سانحہ رو نما ہوچکا ہو تا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بعض لو گوںکا خیال ہے کہ تاریخی تر تیب بھی رپورتاژ کے لیے ضروری نہیں ہے ۔ اسی سلسلے میں کشمیری لال ذاکر ’’ یہ صبح زندہ رہے گی ‘‘ میں رقمطراز ہیں :
’’ میں روزنامچہ یا تاریخ نہیں لکھ رہا ہوں کہ تاریخ وار اپنی روداد تحریر کروں ، میں تو صرف ایک رپورتاژ لکھ رہا ہوں ۔ اس میں تاریخوں کی اتنی اہمیت نہیںہے، جنتی شخصیات کی اور میر ے تاثر ات کی ہے ۔ لہٰذا تاریخوں پر میری توجہ کم رہے گی ۔(۱۱)
مگر سچ تو یہ ہے کہ جب کسی شخص کو کوئی اطلاع مو صول ہو تی ہے تو اس کے ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے اور اسے وہ تلا ش کر نے کی پو ری کو شش کرنے میں مصروف ہو جا تا ہے کہ یہ واقعہ یا سانحہ کب اور کس جگہ رو نما ہوا ہو گا۔ قاری کے مطالعہ میں تیزی آجا تی ہے اور وہ بے چین سا رہتا ہے جب تک اسے زمان اور مکان کا پتا نہ مل جائے ۔ اگر اسے اطمینان بخش جواب مل جا تا ہے وہ پر سکون حا لت میںواپس آجا تا ہے ۔ اگر اسے وہ چیز دستیاب نہیں ہو تی تو وہ عالم تصور میں چلا جا تا ہے ۔ اسے قصہ یا کہانی سے تشبیہ دینے لگتاہے ٹھیک اسی وقت رپو رتاژ کا مقصد پامال ہو جا تا ہے ۔ جب سجا د ظہیر کا رپو رتاژ جسے ’’ یا دیں ‘‘ کے نام سے جا نا جا تا ہے اور اس کو اردو کا پہلا رپو رتاژ مانا جا تاہے ۔ اس کا آغاز ہی تاریخ سے ہو تا ہے ملا حظہ ہو۔
’’ ۱۹۳۵ ء عجب سال تھا ۔ میں اس زما نے میں لندن میں اپنی طالب علمی کے آخری دن گزار رہا تھا ۔ ‘‘(۱۲)
جبکہ ثریا حسین رپورتاژکی وضاحت کر تی ہوئی تحریر کرتی ہیں ـ:
’’چندسال قبل ایک اردو روزنامے میں شعبہ اردو کے ڈاکٹر رفیق حسین نے لکھا تھا کہ اگرچہ کر شن چند ر کے ’’پو دے ‘‘ کو اردو کا پہلا نا ول رپورتاژ کہا جاتا ہے لیکن یلدرم کے ’’ سفر بغداد ‘‘ کو جو ۱۹۰۴ء میں شایع ہوا ، اردو کا اولین رپورتاژ کہنا زیا دہ صحیح ہو گا ۔ زیا رت قاہرہ و قسطنطنیہ ۱۹۱۱ ء یلدرم کا دوسرا رپورتاژ تھا ۔‘‘ (۱۳)
اس کے علا وہ اگر آپ اظہار اثر کومطالعہ میں لائیں تویہ بھی تاریخ کو اہمیت دیتے ہوئے قاری کو بھر وسہ دلا نے اور ان کے اعتماد کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنے رپورتاژ ’’ تر قی پسند مصنفین کی کل ہند کا نفر نس ‘‘ کی ابتدا کر تے ہوئے کچھ اس انداز میں مصروف تحریر ہیں :
’’ اور آخر ہندوستان کی دلہن دلی کا دل ۱۷؍ اپریل ۱۹۷۶ کو جگمگا اٹھا ۔ دلی کا یہ دل جدید و قدیم تہذیبوں کا گنگا جمنی سنگم ، بستی نظام الدین کا علا قہ ہے ۔ ‘‘(۱۴)
رپور تاژ نگار کوکسی بھی رپورتاژرقم کر نے سے پہلے صرف قوت سامعہ پر نور ایقان نہیں کر نا چاہئے بلکہ بصیرت پر اعتماد کرنے کے لیے نفسیاتی بصیرت کی مدد لینی چاہئے ۔کیونکہ موجودہ وقت میں برقی رو کے ذریعے جو آواز فضا میں گونجتی ہے اس کو سننے کے لیے ایک خاص قسم کا آواز گیر آلہ ہو تا ہے ۔ ہمارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سما عت پر نہیں بصارت سے کام لینا چاہئے ۔ جیساکہ طلعت گل اپنی کتاب ’’ اردو میں پورتاژ کی روایت ‘‘ میں تحریر کر تی ہیں :
’’ رپو رتاژ نگار اپنے کانوں پر بھر وسہ نہیں کر تا ۔ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور دل سے محسوس کرتا ہے کچھ لو گوں کا خیال ہے کہ آنکھوں سے دیکھنے کے علا وہ سنے سنائے واقعات و حادثات پر بھی رپورتاژ لکھا جا سکتا ہے ۔یہ درست نہیں کیونکہ رپورتاژمیں مصنف کا موضوع سے براہ راست تعلق بنیا دی حیثیت رکھتا ہے اور رپو رتاژ کا بیان مستند مانا جا تا ہے ۔ ‘‘(۱۵)
محققین کے مطابق رویت حقیقتاًنظروں سے نہیں عقل سے ہوتی ہے ۔ حواس خمسہ میںبصارت بھی شامل ہے جو بعض دفعہ دھو کادے جا تی ہے ۔ مثلاً اگر کسی بلند مقام یا پہاڑ کی اونچائی سے کسی انسان کو دیکھیں تو وہ ما چس کی ڈبیا کے ما نند نظر آئے گا تو کیا رپو رتاژ نگار اس کو بعینہ رقم کر دے جب کہ اس نے خو داپنی آنکھوں سے دیکھا اور دل نے محسوس کیا ہے ۔ جی نہیں بلکہ یہاں پر عقل سے کام لینا پڑے گا۔ یا یوں کہا جائے تو زیا دہ بہتر ہو گا کہ یہاں پرعقلی بصارت کی ضرورت ہے ۔
٭٭٭٭٭
حوالہ جات
۱……جہانگراردو لغت ، وصی اللہ کھو کھر ،ص۸۰۹
۲……http://urdulughat.info/words/3304
۳……Longman universial Dictionary 1982, Page -826
۴……Literacy Companion Dictionary By Savid Grambs 1984 Words about words- Page 313
۵……علی سردار جعفری۔ پیش لفظ۔ خزاں کے پھول۔ از عادل رشید۔ص ۱۱
۶…… انتخاب سجاد حیدر یلدرم ۔مرتبہ ثریا حسین ۔ ص ۲۰
۷……تارجور سامری ، جب بندھن ٹوٹے ۔ تعارف احتشام حسین ص۵
۸……مقدمہ ۔ اردومیں رپو رتاژ نگاری۔ ص،۷
۹…… دلگداز۔ اپریل ۱۸۸۸۔ ص ۵۹
۱۰……اردومیں رپورتاژنگاری ،عبد العزیز ، ص ۸
۱۱…… یہ صبح زندہ رہے گی ، کشمیری لال ذاکر ؔ ص ،۲۲
۱۲……یا دیں ۔ سجا د ظہیر ۔
۱۳…… انتخاب سجاد حیدر ۔ ص ۲۰
۱۴…… تر قی پسند مصنفین کی کل ہند کا نفر نس ۔ اظہار اثر
۱۵…… اردو میں رپو رتاژ کی روایت ۔طلعت گل ص ۲۷۔ اپریل ۱۹۹۲
مضمون نگار سے رابطہ کریں
پورہ رانی ، نزد اقرا پبلک اسکول ،مبارک پور ، اعظم گڑھ
رابطہ نمبر 9369521135=
ای میل : sameersm141@gmail.com
Kab Hum Aap Paraye Hain by Shams Wadood
Articles
کب ہم آپ پرائے ہیں؟
شمس ودود
ہندوستانی زبان، ہندوستانی تہذیب اور یہ لب ولہجہ عصرحاضر کے دانشوروں کو ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا ہے، لیکن اب بھی اس کے افق سے کچھ ستارے جو اپنی روشنی سے یہ اعلان کرتے ہیں۔ اعلان ہی نہیں بلکہ سناٹے میں نقارے کے مانند گونج اٹھتے ہیں اور ہماری بصارت خیرہ ہو اٹھتی ہے۔ تاریخ نے چونکہ ہمیں بھاری بھرکم اژدر نما پیش کیا ہے۔ لہذا اس بھاری بھرکم وجود کے ساتھ متحرک ہونے پر ہمیں گامزن کئے بغیر نہیں رہتا۔
میری مراد آلوک یادو سے ہے، جن کا شعری مجموعہ اسی کے نام منظرعام پر آچکا ہے اور ہر قاری کو چندھیائے بغیر نہیں رہتا۔ علی سردار جعفری اردو (ہندوستانی) زبان کو ناگری رسم الخط میں تبدیل کرتے کرتے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ ان سے پہلے پریم چند دونوں زبانوں اور ان کے رسم الخط یعنی اردو۔۔۔نستعلیقی رسم الخط اور ہندی۔۔۔ ناگری رسم الخط میں قاری سے روبرو ہوئے، نیز دیگر اشخاص نے بھی ایسی کوششیں کیں جو کبھی مثبت رہیں اور کبھی منفی، لیکن ہم جسے ہندوستانی لب و لہجہ کہہ رہے ہیں یا کہتے اور سمجھتے آئے ہیں، اس کے وجود پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ اور آج حالت یہ ہے کہ زیر نظر شعری مجموعہ ہندی(ناگری) رسم الخط سے نستعلیقی رسم الخط میں منتقل ہوکر بھی اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں کہیں خالص ہندی کے کچھ الفاظ شعر کو سمجھنے میں کچھ دشواریاں پیدا کرتے ہیں، لیکن وہ بھی ہماری کم نظری ہی کو ثابت کرتے ہے۔ (ہماری سے مراد میں اور جو لوگ اپنے آپ کو اس فریم میں فٹ پاتے ہیں۔ بقیہ حضرات اس زمرے میں نہیں آتے ہیں(
برسوں سے تسلیم شدہ وحشی صنف غزل میں واقعی وحشیانہ پن کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ جبھی تو اس صنف کو برتنے اور اس صنف میں شاعری کرنے والے کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی اردوداں خانوادے ہی سے تعلق رکھے، بلکہ اس صنف کو صرف لب و لہجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر وہ شخص (شاعر) چاہے جس خطہ ارض کا باسی ہو، غزل اسے اپنائے بغیر نہیں رہتی۔
غزل کہنے کیلئے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں سے تقریبا تمام آلوک یادو کے یہاں پائی جاتی ہیں۔ خواہ ردیف و قافیہ کا انتخاب ہو یا ہر شعر ایک مکمل واقعہ، بیان کی ندرت ہو یا شعریت و نغمگی۔۔۔ ہر وہ چیز ان کی غزلوں میں موجود ہے، جسے ملاکر غزل کا قالب ڈھلتا ہے۔ روایتوں کے ذریعے قاری تک اپنا پیغام پہنچانا ہو یا مٹتی تہذیب کی عکاسی ہو ۔۔۔ آلوک یادو انہیں اس طرح بیان کر جاتے ہیں کہ بندہ سانس روک کر اس جگہ ٹھہر کے غور کرنے پہ مجبور ہوجائے۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں:۔
پھر اسے بے وفا کہہ دیا ؍ ہائے ہم نے یہ کیا کہہ دیا
ہر ستم اس کا نعمت سمجھ ؍ یار کو جب خدا کہہ دیا۔
ہوائیں ساونی جو پڑھ سکو تم ؍ انہیں پہ آنسووں نے خط لکھے ہیں۔
جئے ہیں درد اور آنسو پئے ہیں ؍ کہاں روتا، ترا کاندھا نہیں تھا۔
نہ ہوتی عشق میں حاصل جو لذت غم بھی ؍ تو کرتا کیا یہ مرا قلب زار، سمجھا کرو۔
بے خطا ہوکے بھی مانگی ہے معافی ہم نے؍ اپنے رشتے کو اسی طرح بچائے رکھا۔
جس کے ہونے کی دعا مانگی خدا سے ہم نے؍ دربدر ہم کو وہی لخت جگر کرتا ہے۔
سراپا ترا،کیا قیامت نہیں ہے؍ ادھر حشر سی دل کی حالت نہیں ہے۔
کھا کر قسم تمہاری نشیلی نگاہ کی؍ ہر روز توبہ کرتے رہے مئے کشی سے ہم۔
اس کی ہرچیزمری، عشق کیآغاز میں تھی؍ لیکن آج اس نے مری جاں بھی پرائی لکھ دی۔
پیار کا دونوں پہ آخر جرم ثابت ہوگیا؍ یہ فرشتے آج جنت سے نکالے جائیں گے۔
خفا خفا سے ہیں آخر جناب ناصح کیوں؟؍ کسی نے کردیا کیا آج ذکر حق پھر سے؟
جڑیں چاہتی ہیں ٹھہرنے کو مٹی؍ ہتھیلی پہ سرسوں اگائیں گے کیسے؟
یہ اس کا ہم، پیار میں ڈھل جائے تو اچھا؍ رسی تو جلی، بل بھی نکل جائے تو اچھا۔
مندرجہ بالا اشعار میں جابجاان روایتوں کا ذکر ملتا ہے جو اس معاشرے میں پل کر جوان ہوئیں یا پھر شاعری میں ان کا ذکر بھی ہوتا ریا ہے۔ انسان کے حقیقی ضزبوں کی عکاسی بھی، اور تجربے کی بھٹی میں تپے خیالات بھی، محبت کی باتیں بھی اور رشتوں کی حقیقت بھی، الغرض قاری کو اپنے ذوق کے مطابق یا ہم ایسے طالب علم کو اپنے ذوق کے مطابق چیزیں ان غزلوں میں دستیاب ہیں۔
عام طور پر چھوٹی بحر میں شاعری کرنا لیکھ سے ذرا ہٹ کے اور مشکل تصور کیا جاتا ہے، لیکن آلوک یادو کا یہ امتیاز ہے کہ وہ چھوٹی بحر میں اچھی شاعری کرتے ہیں اور اپنی بات بھی مکمل کہتے ہیں، جس میں کہیں پر بھی کجی محسوس نہیں ہوتی۔؎
آپ سے ہر خوشی ہوگئی ؍ سرجھکا، بندگی ہوگئی۔
غزلوں میں محبوب کے عارض و گیسو، لب و رخسار کے ذکر پہ ہی تنقید کا ایک نیا باب اور ادب میں نئے طرز اظہار کا در کھلا تھا۔ جہاں سے نظم اور جدید اردو تنقید کا آغاز ہوتا ہے۔ اس تفصیل سے قطع نظر۔۔۔ آلوک یادو نے بعض روایتوں اور اساطیر الاولین کو ایسی چوٹ دی ہے کہ دانتوں تلے انگلیاں چلی جائیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں۔
دینے والے نے اتنا دیا ؍ حسرتوں میں کمی ہوگئی۔
ترے ان لبوں کو میں تشبیہ کیا دوں ؍ کہ پھولوں میں ایسی نزاکت نہیں ہے۔
مذکورہ بالا اشعار میں پہلا شعر غالب کے اس شعر کا رد محسوس ہوتا ہے۔؎
ہزاروں خواہشیں ایسی، کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے۔
پھر دوسرا اور تیسرا شعر میر کے مشہور شعر ؎ نازکی اس کے لب کی کیا کہیئے ؍ پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے۔ یا کلاسیکی شاعری اور ان کی روایتوں کی کاٹ ہے، جن پہ ناقدوں نے ایک زمانے تک بحث کیا ہے۔ یہاں کسی کو کم تر یا برتر دکھانا ہرگز نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ ہر زمانے کی اپنی ضرورتیں اور روایتیں ہوتی ہیں۔ سو گردش ایام کے بقدر شاعری بھی اپنا رخ تبدیل کرتی ہے۔ ہر دور کے اپنے تقاضے، اپنے استعارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ضروریات زندگی تبدیل نہیں ہوتی ہے، لیکن کسی حد تک ان کی نوعیت ضرور بدل جاتی ہے۔
بحر، وزن اور قافیہ و ردیف کی آمیزش اور لفظوں کی ہیرا پھیری سے شاعری تو ہوسکتی ہے، لیکن ایک ایک شعر میں عمر بھر کا تجربہ بیان کرجانے کا فن ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا۔ اگلے زمانے میں کسی انسان کو اس وقت تک تجربہ کار تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، جب تک کہ اس کے بالوں میں سفیدی، ہاتھوں میں لرزش اور کمر میں خم نہ آجائے۔ لیکن اس دور میں بڑھاپے کا تجربہ بیان کرنے والے ایسے نوجوان موجود ہیں کہ کبھی کبھی تو ان میں اور ان کی شاعری میں کوئی مناسبت ہی نظر نہیں آتی۔ پھر بھی ان کی بات تسلیم کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا ہے۔ شاید اس لئے کہ جب فن کامل ہو، تو فن کار کی عمر نہیں پوچھی جاتی۔؎
جب کسی نے سر بزم دیکھا نہیں ؍ کسمساتی رہیں کانچ کی چوڑیاں۔
زندگی بھر کسی کی زمیں پہ سجے ؍ پھول تھے ہم کہیں کے، کہیں پہ سجے
ٹھوکروں میں رہے، سنگ تھے جب تلک ؍ خاک بن کر کسی کی جبیں پر سجے۔
جب بھی چھونے چلا، عکس دھندھلا گیا ؍ جیسے ہو جھیل میں چاند سی زندگی۔
آنکھ سے آنسو چرا لے گیا لیکن وہ شخص ؍ بے گہر سیپ یہیں چھوڑ گیا ہے صاحب۔
بنا کر پاوں کی بیڑی کو گھنگھرو، زندگانی؍کرے گی رقص جب تک درد سا زندہ رہے گا۔
وہ پیاس اپنی بڑھانا چاہتا ہے ؍ لب دریا پھر آنا چاہتا ہے۔
اس دور کی ہر اک چیز انوکھی ہے، یہاں ہر شخص اپنا رہبر بھی ہے اور رہزن بھی، روایتیں اور قدریں سب بدل گئیں۔ جہالت کتابوں میں سمائی ہے۔ درندے رحم کررہے ہیں، انسان درندگی پہ آمادہ ہے۔ ہر جگہ، ہر رشتے اور ہر تعلق کے معنی ہونے چاہئے۔ اس ماحول میں شاعر اپنا طرز نہ بدلے تو اور کیا کرے۔؎
کر لیں گے خود تلاش،کہ منزل ہے کس طرف؍ اکتا گئے ہیں یار،تری رہبری سے ہم۔
جرم تھا عشق،سزا ملنی تھی تاعمر کی قید؍ فیصلے میں مرے حاکم نے جدائی لکھ دی۔
جان دینے میں سربلندی ہے ؍ جان کا مول سر بھی ہوتے ہیں۔
مندرجہ بالا اشعار میں شاعر ہر بار بنے بنائے سانچے کو توڑتا ہے۔ احساسات و خیالات کا رقص اور تجربے کی الٹ موجود ہے۔ بے مثل اور ہر وہ کام جو شاید کبھی نہ ہوا ہو، ان کا ذکر بلکہ ایک آپ بیتی کی شکل میں نظر آتا ہے جو جگ بیتی بھی ہے۔
آلوک یادو کا ایک رنگ ایسا بھی ہے جو میر و غالب اور قدیم شعری روایات کی تردید کرتا ہے۔ اس کے علاوہ طنز کا ایسا اچھوتا اور نادر تجربہ پیش کرتے ہیں کہ قاری نہ چاہتے ہوئے بھی ان اشعار کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اس میں ایک انوکھاپن یہ بھی ہے کہ وہاں جمود نہیں بلکہ حرکت ہوتی ہے اور تخیلات کا قافلہ تھمتا نہیں بلکہ اس کے سارے کل پرزے متحرک نظر آتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں۔؎
میں دل کی بات کرتا تھا تمہیں دنیا کی چاہت تھی؍ تومجھ کوچھوڑکربھی تم، نہ ہو پائے زمانے کے۔
خفا خفا سے ہیں آخر جناب ناصح کیوں؟ ؍ کسی نے کر دیا کیا آج ذکر حق پھر سے۔
کسی سے روٹھ گئے یا کسی کا دل توڑا ؍ جبیں آگیا کیوں آپ کی عرق پھر سے۔
پھول سے جسم، بوجھ بستوں کا ؍ کیا ہے تعلیم، تربیت کیا ہے؟
جہاں ایک طرف اردو داں طبقے کو آلوک یادو کے ہندی زبان کے الفاظ پہ اعتراض ہو سکتا ہے، اور یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ زبان بوجھل ہو رہی ہے، لیکن اپنی ہی کہی ہوئی بات پھر نہ دہراتے ہوئے اخیر میں بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ مندرجہ بالا چار اشعار تین مختلف غزلوں کے ہیں، جو زبان کی سطح پہ اعلی نمونے میں شامل کئے جانے کے قابل ہیں۔ اسلئے جہاں ہندی الفاظ کا استعمال ہے، وہیں اردو زبان کی شگفتگی بھی پائی جاتی ہے، اور اس طرح ایک توازن قائم ہوجاتا ہے جوکم از کم میری نظر میں ہی سہی ہندوستانی لب و لہجہ کی عکاسی ضرور کرتے ہے، اور یہی وہ آمیزش ہے جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ؎
کب ہم آپ پرائے ہیں؟
ایک ہی ماں کے جائے ہیں
I am Bombay by Haider Shamsi
Articles
میں شہرِممبئی ہوں ذرا دیکھ مجھے بھی!
حیدر شمسی
حیدر شمسی
میں شہرِبمبئی ہوں۔ میرا شمار دنیا کے مشہور ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ لوگ مجھے الگ الگ ناموں سے جانتے ہیں۔کوئی مجھے پیار سے بمبئی کہتا ہے تو کوئی بامبے کہہ کر پکارتا ہے۔میں سات بڑے اور چند چھوٹے چھوٹے جزائرکا مجموعہ ہوں ۔ فلمی دنیا میں میری ایک الگ شناخت ہے۔ دنیا مجھے فلم سٹی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ فلمی گیتوں میں میرا نام متعدد جگہ سننے میں آتا ہے۔ یہ ہے بمبئی یہ ہے بمبئی میری جان،ای ہے بمبئی نگریا تو دیکھ ببوا، بمبئی سے آیا میرا دوست اور بمبئی ہم کو جم گئی چند مثالیں ہیں۔1996ء تک میرا نام بامبے رہا پھر ممبا دیوی کے حوالے سے ممبئی ہوا۔ کئی دہائیوں سے میں نے اپنے قدم صحافت میں بھی جمائے ہیں۔ مجھ سے منسوب ممبئی ٹائمزاور ممبئی میرر ایسے اخبارات ہیں جو عالمی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔ میں سال کے بارہ مہینے سیاحوں کو اپنی آغوش میں لئے رہتی ہوں جس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ سمندر نے مجھے تین طرف سے گھیر رکھا ہے۔یہاں کا ساحلِ سمندر چوپارٹی مشہور تفریح گاہ ہے جہاں کی پانی پوری کو لوگ برسوں نہیں بھول پاتے۔پانی پوری کھاتے کھاتے انگلیوں کا دانتوں کے درمیان دب جانا لوگوں کو ہمیشہ پانی پوری کی یاد دلاتا رہتاہے۔
میں دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہوں ۔اسی لیے لوگ مجھے عروس البلاد کے نام سے بھی پکارتے ہیںتاہم بمبئی کے لوگوں کی تیز رفتارزندگیوں نے ان کے دلوں سے میری خوبصورتی کے نشانات مٹا دیے ہیں۔میں سیّاحوں کے لیے جنت یاخوابوں کا شہر ہوںلیکن اہل بمبئی کیلئے بس ایک مصروف ترین جگہ ۔میرے ہر ساحل پر شام الگ الگ منظر پیش کرتی ہے ۔یہ منظر لوگوںکے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑ جاتاہے ۔جس نے مجھے ایک بار قریب سے دیکھ لیاتووہ بار بارمجھ سے ملنے کا متمنی ہوتا ہے۔ میں شہر ہوں دن میں خواب دیکھنے والوں کا، فلمی ادا کاروں کا، مزدوروں کا،مچھواروں کا اور کروڑ پتی تاجروں کا۔میں سب کو اپنے دامن میں پناہ دیتی ہو ۔یہاـںکوئی بھوکا نہیں سوتا ۔ لوگوں کا سفر فٹ پاتھ سے شروع ہوتا ہے اور ترقیوں کے ثریا تک جا پہنچتا ہے۔یہاں لوگ فٹ پاتھ پر اخبار بچھا کر سونے میں ذرا سی بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔میری گود میں بسنے والوں کا سب سے بڑا سرمایہ اُن کے سر پر چھت ہے۔ کسی زمانے میں جب کوئی مجھ سے جدا ہو کر وطن کو لوٹتا تھا تو گاؤں والے اسے اس طرح گھیر لیتے تھے گویاوہ کسی دوسرے سیّارے کی مخلوق ہے۔ لوگ میرے بارے میں بڑے تجسّس سے پوچھتے تھے جیسے میں دنیا کاآٹھواں عجوبہ ہوں۔
۱۵۳۴ء سے ۱۶۶۱ء تک پرتگالیوں نے مجھ پر راج کیا۔ انھوں نے مجھے بومبے کی جگہ پرتگالی میں Bombaimنام دیا۔پرتگالی بنیادی طور پر اپنے رومن کیتھولک دھرم کی تبلیغ کرنا چاہتے تھے لہٰذا عیسائی راہبوں اور عیسائی تنظیموں نے کئی کیتھولک چرچ یہاں قائم کیے۔۱۵۳۴ء میں انھوں نے ماہم میںسینٹ مائیکل چرچ قائم کیا جو آج تک موجود ہے اور اسے یہاں کا سب قدیم چرچ مانا جاتا ہے۔۱۶۶۲ء میںبرگنزاکی شادیـ ـ’کنگ چارلس دوم‘سے ہوئی۔ برگنزاکے والدین نے اسے کافی جہیز دیا جس میں میں بھی شامل تھی۔چارلس دوم کو مجھ پر حکومت کرنے میں کوئی دقت نہیں تھی لیکن اس زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میںکافی عروج پر تھی لہٰذا ایسٹ انڈیانے مجھے چارلس دوم سے کرایہ پر لے لیا ۔
۱۸۵۷ء میں جان ولسن نے میرے نام سے’بمبئی یونیورسٹی ‘قائم کی ۔ پھر اس کے بعد سے لوگوں نے اپنی تعلیمی لیاقت بتانے سے پہلے میرا نام لیناشروع کردیا کہ صاحب میںبمبئی یونیورسٹی سے بی۔ اے ہوں ، ایم۔ اے ہوں،پی ۔ایچ۔ڈی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ میراشمار دنیا کے چند ایسے اہم شہروں میں ہوتا ہے جہاںہمہ وقت طیاروں کی آمدورفت جاری رہتی ہے ۔یہاں۲؍ ایئر پورٹ ہیں۔ ایک نیشنل ایئر پورٹ جسے ڈومیسٹک ایئر پورٹ کہا جاتا ہے اوردوسرا انٹر نیشنل ائیر پورٹ جسے چھتر پتی شیواجی انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے نام سے جا نا جاتا ہے ۔میری بولی بھی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے جس کا استعمال فلمی ڈائیلاگ میں بھی کیا جاتا رہا ہے۔یہ بمبیّا لینگویج (بمبییا ہندی/اردو)کے نام سے جانی جاتی ہے جس کا استعمال عام طور پر بازاروں میں ، لوکل ٹرینوںمیں، ہوٹلوں میں، بسوں میں ہوتاہے۔یہ بولی نوجوانوں میں کافی مقبول ہے۔ اس میں الفاظ کافی کم ہیں۔ ویسے اس بولی کو مہذب نہیں سمجھا جاتالیکن چونکہ اس سے ممبئی کی شناخت ہوتی ہے اس لئے لوگ بولتے ہیں ۔چند جملے اور الفاظ بطور مثال حاضر خدمت ہیں۔
۱۔ وَٹ لے اِدھر سے ۔ یا سومڑی میں وَٹ لے ۔ (کسی سے چھٹکارا پانے کے لیے)
۲۔ دیڑھ شانے۔ (اوور اسمارٹ بولنے کے لیے بطور طنز )
۳۔ کدھر جا ریلا ہے؟ (کہاں جا رہا ہے ؟)
۴۔ بس کیا یار۔ (کیا یہی دوستی ہے!)
۵۔ لوچا ہوگیا۔ (گڑ بڑی ہوگئی)
۶۔ پتلی گلی سے نکل لے۔ (خاموشی سے چلا جا)
۷۔ چل ہوا آنے دے۔ (میرے راستے سے ہٹ جا / میرے کام میں مداخلت مت کر)
۸۔ ہول دے رہا ہے کیا؟ (ڈرا رہا ہے کیا؟)
۹۔ ہری پتّی۔ ایک بیلو۔ ( سو کی نوٹ)
۱۰۔ بول بچّن ۔ (بڑی بڑی باتیں جس میں کوئی دم نہ ہو)
۱۱۔ ٹائم کھوٹی مت کر۔ (وقت برباد مت کر)
۱۲۔ بنٹائے۔ (دوست)
میرے علاقوں کے نام بھی بڑے نرالے ہیں ۔آیئے میں آپ کو ان کی سیر کراؤں۔ بن پانی کا ’دھوبی تلائو‘ دیکھئے۔بھنڈی کا دور دور تک پتہ نہیں لیکن آپ میرا مشہور بازار’بھنڈی بازار گھومئے۔بن چونے کی بھٹّی ’چونا بھٹّی‘ دیکھئے ،دور دور تک کہیں ٹانکی کا پتہ نہیں پر’دو ٹانکی ‘ دیکھئے۔بن چرچ کا ’چرچ گیٹ ‘دیکھئے۔
میری لوکل ٹرینوں میں سفر کرنا جوئے شیٖر لانے کے مترادف ہے۔یہ لوکل ٹرینیں میرے دل کی دھڑکن ہیں۔ یہ صبح ۴؍ بجے سے رات ۲؍ بجے تک چلتی ہیں ۔مگر نہ تو یہ تھکتی ہیں اور نہ تھکان کا شکوہ کرتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جس نے بمبئی کی لوکل ٹرین میں سفر نہیں کیا اس نے بمبئی دیکھی ہی نہیں۔اس میں الگ الگ ڈبے ہوتے ہیں۔فرسٹ کلاس ، سیکنڈ کلا س اور عورتوں کے لیے مخصوص کلاس ۔ کچھ ڈبوں میں معذوروں اور بزرگوں کیلئے بھی جگہ مختص ہوتی ہے۔یہ ٹرینیںصرف چند سیکنڈکے لیے ہر اسٹیشن پہ رکتی ہیں۔
۲۴؍ اپریل۱۹۷۳ء میںدادر(بمبئی ) کے نرمل نرسنگ ہوم میں ایک بچے نے جنم لیا ۔ وہ بچہ رمیش تینڈولکر (مراٹھی ناولسٹ )کا لخت جگر ہے اور میری آنکھوں کا تارا ۔ اس نے چھوٹی سی عمر میں بلّا سنبھالا ۔ نہ صرف میرا بلکہ ہندوستان کا نام روشن کر دیا ۔اسے آپ سچن تینڈولکر کے نام سے جانتے ہیں ۔ سچن نے ۱۹۸۹ء میںپہلا انٹرنیشنل میچ پاکستان کے خلاف کراچی میں کھیلا ۔ان کی عمر جب ۱۶ ؍ سال کی تھی۔ یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو چھلک آئے۔ میرا سر فخر سے اونچا ہوگیا کہ میں نے ہندوستان کو ایک بہترین کرکٹر دیا۔
کئی فلمی اداکاروں کی جائے پیدائش میں ہی ہوں ۔ان میں سے ایک نام مینا کماری کا ہے جنہیں ’ملکہ جذبات ‘کہا جاتاتھا۔ مینا کماری کا اصل نام ماہ جبیں بانو تھا ۔وہ ایک بہترین ادا کارہ اور شاعرہ تھیں ۔ ان کی پیدائش ۱؍ اگست۱۹۳۳ء میںدادر (بمبئی )میں ہوئی۔ مشہور ادا کارہ مدھو بالا مینا کماری کی فین تھیں وہ کہتی تھیں کہ ’’مینا کماری کی آوازدوسری ہیروئین کی بہ نسبت کافی پُر کشش ہے ۔‘‘۳۱؍ مارچ ۱۹۷۲ء میںوہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں تا ہم اپنی با کمال ادا کاری کی بدولت وہ آج تک لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
حیدر شمسی،گوونڈی، ممبئی ۔موبائیل : 09773473150
Half Month in Mumbai by Imran Akif
Articles
ممبئی میں آدھا مہینہ
عمران عاکف خان
عمران عاکف خان
تمھارے شہر کی مٹی لگی ہے پیروں میں
ہمارے شہر کے رستے خوشی سے پاگل ہیں
دوپہر کا ایک وقت ۔میرے کمرے کی کنڈی کھٹکنے لگی۔
’’جی آجائے ،کون؟‘‘
’’سر ڈاک!!‘‘
دروازہ کھلا اور میسنجر ایک بند لفافہ مجھے د ے کر ریسوینگ شیٹس پر سائن لینے لگا۔میں نے سائن کر کے لفافہ چاک کیا تو اس میں ساہتیہ اکادمی ،نئی دہلی کا ایک لیٹر تھا۔بیڈ پر آکر اسے میں اوپر سے نیچے تک پڑھنے لگا۔اس کا لب لبا ب یہ تھا کہ ساہتیہ اکادمی،نئی دہلی نے مجھے ریسرچ اسکالرس کے لیے دیے جانے والے ٹراول گرانٹ Travel Grantکے لیے منتخب کیا ہے۔اب مجھے اکادمی پہنچ کر اس بات کی تصدیق کرانی ہے کہ میں اس گرانٹ اور ٹراو ل کے لیے راضی ہوں یا۔۔۔
میں تو راضی تھا۔مقررہ تاریخ میں اکادمی پہنچا اور ضروری تفصیلات متعدد شیٹس میں فُل فِل کر کے چلا آیا۔مجھ سے جب پوچھا گیا کہ میں کس شہر جانا چاہوں گا تو میں نے کلکتہ اور ممبئی کا نام بطور آپشن پیش کیا ۔’’ممبئی مناسب رہے گا‘‘——– فیصلہ ہوا اور پھر 26نومبر 2018کی ایک صبح جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریلوے کاؤنٹر سے نئی دہلی۔ممبئی راجدھانی کا ریٹرن ٹکٹ لیا۔ٹکٹ 10جنوری2019(روانگی) اور 25جنوری 2019(واپسی) کی دروں کا تھا۔
دنوں کا کارواں گزرتا ہی ہے۔اپنے ساتھ دکھوں ،غموں،خوشیوں،مسرتوں ،افراد،علمی ادبی خزانوں بلکہ سب کچھ لیتا ہوا گیا۔پھر ممبئی روانگی کا وقت آیا۔ شام4:00 کا وقت، نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کا پلٹ فارم نمبر۔3،راجدھانی ایکس پریس ممبئی سفر کے لیے حوصلے جمع کررہی تھی ۔میں اپنی نشست ،A4 13 LBپر بیٹھ گیا۔ٹرالی بیگ سیٹ کے نیچے رکھا اور پیٹھ والا بیگ ہنگرز میں لٹکاکر کچھ ضروری چینجز کیے ،اس کے بعد پر و فیسر ظفر احمد صدیقی کی کتاب ’’افکارو شخصیات ‘‘ کھول کر پڑھنے لگا۔کمپارٹمنٹ کا عملہ ’’ریل نیر Rail Neer ‘‘ پانی کی بوتل اور کچھ اسٹاٹر ٹائپ کی چیزوں سے مسافروں کی تواضع کرتا گیا۔جن میںگھی میں تلے پاپ کورن popcornاور sunfistکمپنی کے بسکٹ تھے۔دن کا ابھی کچھ وقت باقی تھا اور ٹرین چلنے میں بھی دس منٹ باقی تھے۔ وقت مقررہ پرایک ہلکا سا جھٹکا ہو ا اور نہایت بے آواز ی اور خراماں روی سے راجدھانی ایکسپریس چل پڑی۔ابھی مشکل سے 100-150میٹر چلی ہوگی کہ محاذی پلیٹ فارمس سے کلکتہ راجدھانی ایکسپریس اور تراوندپورم راجدھانی ایکسپریس کسی بل کھاتے نانگ کی مانند نکلتی چلی گئیں۔ان کی رفتار نسبتاً تیز بھی تھی اور انداز بھی ۔شیواجی برج تک آتے آتے کلکتہ راجدھانی کسی ڈرے سہمے بچے کی مانند ایک سائڈ ہو ئی ہی تھی کہ پلول ۔غازی آباد لوکل EMUماحول میں ارتعاش مچاتی چلی گئی۔اس کی پوں پاں،اس کی کھٹ کھٹ،اس کی سٹک سٹک ،اس کی ٹنٹناہٹ اور جارحانہ انداز سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی سے لڑنے جارہی ہے یا کہیں سے لڑبھڑ کر آئی ہے۔اب تِلَک برج آگیا تھا۔ممبئی راجدھانی کی چال بھی تیز ہو گئی ۔تاہم ابھی برق رفتاری چھوڑیے،ہوا رافتاری بھی نہ آئی تھی ۔پرگتی میدان،پاؤر اسٹیشن،راجیو گاندھی اسٹیڈیم اور پھر حضرت نظام الدین،یہاں کم رفتاری مزید کم ہوئی ،اوکھلا،تغلق آباد،بدرپور ،فرید آباد ٹاؤن،فرید آباد اولڈ۔یہ سب اسٹیشن اور ان کے نام آسانی سے دیکھے پڑھے جارہے تھے۔پھر پتا نہیں کیا ہوا ،راجدھانی کو غصہ آگیا۔اس نے پورے بدن کو جھرجھرایا اور سرپٹ دوڑنے لگی۔اب تو بجلی،ہوا،نگاہ سب کی رفتار اس کے سامنے فیل تھی۔بلبھ گڑھ اور ہوڈل کب گزرگئے پتا ہی نہ چلا۔ہاں بس گیہوں کے ہرے بھر ے کھیت حد نگاہ تک پھیلے نظر آرہے تھے۔گندم کی اس قدر پیداوار سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس سال ہریانہ کے کسان گندم کی کاشت میں تمام ریاستوں سے بازی لے جائیں گے۔گو ابھی فصل روئیدگی کے مرحلے سے گزررہی تھی مگر اس کا جوش و جذبہ اور اٹھان کسانوں کے دلوں میں امنگوں،آشاؤں اور یقین کو ضرور بڑھا رہی ہوگی۔پلول گزرا،کوسی نکلی،چھاتئی پار ہوا ۔مغرب کی اذان ہورہی تھی کہ متھرا کے مندروں کے گھنٹے اور سنکھ راجدھانی کی شیشہ پلائی دیوار وں سے ٹکرارہے تھے۔جگہ جگہ عقیدت مند ہاتھوں میں کلس اور مورتیں اٹھائے قصیدے گاتے ہوئے ریلیاں نکال رہے تھے۔(ان کا روز کا معمول ہے اور عبادت کا ایک طریقہ بھی) جنم استھان کے آس پاس کے مندروں اور ان میں پوجا پاٹ کا نظارہ قابل دید تھا۔ ایک جگہ ہلکی سی جھلک پڑی کہ ایک عقیدت مند آگ منہ لے کر چھلانگیں لگا رہا ہے۔(یہ عمل، مراد یا منت پوری ہونے پر کیا جاتا ہے)متھرا اسٹیشن پر ٹرین کی رفتار کچھ دھیمی ہوئی مگر پھر اسے غصہ آیا اور کھٹ کھٹ ،پوں پاں،پیں،ہٹو رے ،ہٹو رے ،جیسی آوازیں آنے لگیں۔
شام اندھیروں کے عفریت کے قبضے میں آکر کہیں سسکیاں لے رہی تھی۔ کاینات پر اندھیرے پوری طرح قابض ہوگئے ۔اب کسی کی کیا مجال کہ ان سے مقابلہ کرے۔کہیں کہیں بجلی کے دم پر جلنے والی اسٹریٹ لائٹس،چوراہوں کی فوکس لائٹس اور گھروں میں جلتے CFL بلب یا آکاشیاںظلمات گزیدہ رات میں ٹمٹماتے چراغوں کی مانند لگ رہی تھیں۔سردی بڑھنے لگی۔راجدھانی کا ہوٹ اے سیA/c خراب تھا اس لیے کولڈاے سیA/c اندر سے جمائے دے رہا تھا۔مگر کمپارٹمنٹ کے عملے کی جانب سے ملنے والی سلیپنگ چادریں،تکیے اور کمبلوں نے مسافروں کو اس سے نجات دلائی۔اب تک عملہ صرف چائے/کافی پر ہی ٹرخا رہا تھا کہ اب ڈنر کا آرڈ لینے آگیا۔عملے کے افراد کا طریقہ بھی انو کھا تھا۔پہلے سیٹ کنفرم کرنے کے بعد ویج،نان ویج کی تصدیق کی پھر ۔’’اوکے باس/سر ‘‘کہتے ہوئے چلے گئے۔تھوڑی دیر بعد متعلقہ کھانا آیا۔ کھانا کیا تھا ؟بس تھا ۔کھایا گیا اور پھر پردے کھینچ دیے گئے۔مین لائٹس آف اور ڈیم لائٹس آن ہو گئیں۔ٹرین اسی طرح رواں دواں،سفر اسی طرح قطع زن اور ماحول اپنی ہی انا اور سرمستی میں مغرور مغرور۔کمپارٹمنٹ میں اب خراٹوں کا شور یا کبھی کبھی کسی کمسن بچے کے رونے کی آواز۔کچھ لوگ سپنے بھی دیکھ رہے ہوں گے اور کچھ بے خوابی کی تکلیف سے کرارہ رہے ہوں گے۔
ایک جگہ ٹرین رُکی،پتا چلا کہ بڑودہ آگیا۔’’ارے کوٹا اور رتلام کب گزرگئے؟‘‘ کچھ سرگوشیاں ہوئیں۔(حالاں کہ راجدھانی کی رفتارکے متعلق سب ہی جانتے ہیں مگر فطرت کا کیا کریں،انسان گھبراجاتا ہے اور ہونی پر مشکل سے یقین کرتا ہے،جسے کیے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں ہوتا)راجدھانی پھر چل پڑی ۔اب اس کی اگلی منزل سورت تھی۔سورت ریاست کا گجرات کا ایک خوب صورت شہر اور کپڑے ،سونے چاندی کی مصنوعات کے لیے مشہور و معروف ۔ تاریخ گجرات کے مطابق ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی پہلی کمپنی ،اسی شہر میں کھولی تھی۔یہ شہر ساحل لوکھات پر بسا ہے۔یہاں سے بہتی تاپتی ندی شہر کو دوحصوں میں تقسیم کرتی ہوئی بحر ہند میں جاگرتی ہے۔تاپتی کے داہنے کنارے پر شہر راندھیر آباد ہے۔اب وہ سورت کا محلہ بن چکا ہے تاہم ایک زمانے میں علاحدہ ہوا کرتا تھا۔راندھیر مدرسوں،مسجدوں،خانقاہوں اور پرشکوہ مکانات و بلاد کا کا شہر ہے۔چاروں طرف سے خوب صورت قدرتی نظاروں سے گھرا،اندرونی صفائی اور پاکیزگی سے دمکتا ہوا اور گلیوں میں سکون و سادگی کے نمونے پیش کرتا ہوا بہت خوب لگتا ہے۔جب ہلکی ہلکی گرمیاں ہوں،تاپتی کے ساحل پراُگے کھجوروں کے درختوں کے سائے میں خودرؤ گھاس پر بیٹھیے تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت تھم سا گیا ہے۔جیسے ماحول کی دیوی ہلکے ہلکے مسکرارہی ہے،کائنات جیسے رقص کرنے کو بے تاب ہے۔
اماں اٹھو،پاپا اٹھو سورت آگیا‘‘ایک نوعمر لڑکی کی آواز نے چونکا دیا۔وہ آوارگی نہیں تھی،اس لیے میں نے پوچھا بھی نہیں۔بس سحر تھا جو ٹوٹ گیا تھا ۔لڑکی کے والد ین ہڑبڑا کر اٹھے او رجلدی جلدی سامان سمیٹا ۔اس جلدی کے باوجود بھی جب وہ آخری سامان کھینچ رہے تھے،راج دھانی رینگ پڑی تھی ۔جلدی میں اور جلدی کا منظر دیکھنے کو ملا۔سیکنڈوں میں ہی ریل فاسٹ ہو گئی ۔اب اس کی منزل بوری ولی تھی اور پھر ممبئی سینٹرل۔صبح کے سوا آٹھ بج رہے تھے جب راجدھانی ایکس پریس ،ممبئی سینٹر ل کے پلیٹ فارم نمر ۔4پر پہنچی۔یہی اس کا آخری اسٹوپ تھا ۔اب اسے شام کو ہی ریٹرن ہونا تھا اس کیے اس طرح لمبی لمبی ہو گئی جیسے دن بھر کا تھکا ماندہ مزدور یا کسان گھر آتے ہی لمبا لمبا ہوجاتا ہے اور اس کے گھر والے کچھ دیر کے لیے پریشان سے ہوجاتے ہیں پھر انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ یہ تو روٹین کا حصہ ہے۔تمام مسافر نہایت اطمینان سے کمپارٹمنٹس سے نکل رہے تھے۔ایک ایک سامان اور چیز دیکھ رہے تھے۔اب کوئی جلد بازی یا حیرانی نہیں تھی۔میں نے بھی سامان اٹھایا اور ممبئی سینٹر ل اسٹیشن کی عمارت سے نکل کر متعدد دروازوں والے مشرقی گیٹ کی جانب چل پڑا جو ملٹی پرپس ہے۔یعنی داخلہ و خارجہ ،پارسل بکنگ اور ریسوینگ کا کام اسی سے لیا جارہا تھا۔
اسٹیشن کی عمارت کے بالکل سامنے ممبئی میٹرول ریل کارپوریشن MMRTCکے قد آدم نیلے نیلے بورڈس لگے تھے ۔جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ میٹروکا کام جاری و ساری ہے۔اسٹیشن کے سامنے کا کشادہ راستہ ایک تنگ سڑک بن کر رہ گیا تھا جس سے خلقت اژدہام کی صورت آجا رہی تھی۔ میں بھی اسی بھیڑ کا حصہ بنے دھیرے دھیرے سامان گھسیٹتا ہوا ایک چوراہے پر آکھڑا ہوا ۔پیدل چلنے والے ہر عمر و جنس کے افراد سینکڑوں کی تعداد میں ایک طرف جارہے تھے اور ایک طرف سے آرہے تھے۔ان کی بھانت بھانت کی بولیاں،لنگو اور تلفظ کے نئے نئے انداز سننے کے قابل تھے۔کاش یہ لفظ بولتے بھی ہوتے تو میںضرور وہ آوازیں ان میں شامل کرتا اور اپنے قارئین کو سناتا۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ شہر چاہے ممبئی ہو کراچی،ڈھاکہ ہو یا کاٹھمنڈو،لندن ہو یا نیو یارک یا کوئی اور ٹیکسی والوں میں ایک قدر مشترک ہے۔کسی کو اگر دیکھا کہ سامان لیے کھڑا ہے تو نفسیاتی/فطری طور یہ بات ان کے ذہن میں آئے گی کہ یہ ہماری جستجو میں ہے۔ اورکچھ سوچے سمجھے بغیر فوراً پہنچیں گے اور پھر اپنے دھندے کی بات۔مجھے بھی اس حالت میں دیکھ کرکئی ٹیکسی ڈرائیوروں نے آآکر پوچھا:
’’باس کہاں جانا مانگتا!‘‘
’’کہا ں جانے کا؟‘‘
’’ہمارا ٹیکسی میں آؤ!‘‘
(بھوج پوری،مراٹھی،گجراتی،راجستھانی کتنی ہی زبانوں میں یہ سوال کیے جاتے تھے اور جواب بھی ان میں ہی دیا جاتا ۔)
مجھے دراصل اپنے ایک میزبان کا انتظار تھا ۔اس لیے میں نے انھیں اپنے طور پر منع کردیا ۔وہ بڑبڑاتے جاتے رہے۔ پھرتقریباً آدھے گھنٹے کے بعد میں ان ہی ٹیکسیوں میں سے ایک میں سامان لا دکر محمد علی روڈ کے قریب واقع کولسا اسٹریٹ جارہا تھا جہاں کسی مینار کی طرح کھڑی32منزلہ عمارت ’’ریپڈ ہائٹس‘‘ کا فلورنمبر 9میری منزل تھا۔آدھے گھنٹے بعد جب مجھے ٹیکسی نے کولسا انٹر پر چھوڑا تو وہاں مولوی محمد فیروز قاسمی نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنے ساتھ مذکورہ فلورپر لے گئے۔دن اب صبح کی مدت سے باہر نکل چکا تھا۔گھڑی کی سوئیاں گیارہ بجا رہی رہیں تھیں ۔شاید اتنی ہی سیکنڈ بھی ہوں گی،میں نے دیکھا نہیں۔
مولانا فیروز صاحب مجھے ناشتہ کرانے لے گئے،موصوف نے بھی ابھی تک نہیں کیا تھا۔قریب ہی واقع ایک ہوٹل میں قیمہ پراٹھا،آملیٹ اور چائے ۔کیا شاندار ناشتہ تھا او رپر تکلف بھی۔اس کے بعد نماز جمعہ کی تیاریاں ہونے لگیں ۔نماز جمعہ پڑھنے کا ارادہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم امدادیہ واقع بھنڈی بازار میں تھا ۔ مولانا نازش ہماقاسمی(نعیم اختر) اور دیگر غائبانہ احباب سے ملاقات بھی متوقع تھی۔چند ضروری کام کر نے کے بعد میں اور مولوی فیروز احمد قاسمی نماز کے لیے پیدل ہی چل پڑے۔محمد علی روڈ پر آکر سامنے ایک مینارہ مسجد تھی ۔اسی کی ملگیوں میں مشہور زمانہ’ سلیمان عثمان مٹھائی والے‘ فرم کی دکانیں تھیں اور سامنے ’زمزم سوئیٹس‘ کی دکانیں تھیں ۔ان کے طفیل چند اور مٹھائی والے بھی اپنی مٹھاس بیچنے کی کوششو ںمیں مصروف ہیں ۔ایک گلی سے گزرکر دوسری گلی سے ہوتے ہوئے ہم لوگ دارالعلوم امدادیہ کے درجہ ششم کی کلاس میں روم پہنچے اور وہیں نماز ادا کی۔نماز کے بعد مولوی فیروز قاسمی تو اپنے کام سے چلے گئے اور مولانا نازش ہماقاسمی کے ہاتھ میں میرا ہاتھ تھا۔وہ اپنے دوستوں اور احباب سے تعارف کراتے ہوئے مجھے کئی گلیوں سے گزار کر ’میمن ٹائمز ‘کے آفس لے گئے ۔یہیں دوپہر کا کھانا کھایا گیاجو بریانی اور چپاتی و سالن پر مشتمل تھا۔اس کے بعد آفس کا کام شروع ہو گیا اور میں گیسٹ ویٹنگ لابی میں بیٹھ گیا۔آفس کے اونر اور دنیا بھر میں مشہورofficer فرم کے مالک عالی جناب اقبال میمن صاحب تشریف لائے۔مولانا قاسمی نے ان سے میرا تعار ف کرایا :
’’سر یہ عمران ہے ،میرا دوست،جے این یو سے آیا ہے!‘‘
’’اوہ جے این یو ،کنہیا،شہلا رشید ،وہی جے این یو نا‘‘
’’جی‘‘
اس کے بعد انھوں نے اپنے سامنے والی ریورس چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اردلی کو ’بہت اچھی‘ گرین ٹی لانے کا آرڈ پلیس کیا۔اس کے بعد وہ مجھ سے ممبئی آنے کا سبب،میرا موجودہ مشغلہ اور پی ایچ ڈی وغیرہ کے متعلق باتیں کرنے لگے۔اسی دوران میں چائے آگئی ۔باتیں بھی ہوتی رہیں ۔جن میں تعلیم،سماج،سیاست،کچھ فکریں،کچھ لمحے،کچھ کچھ اور کچھ نہ کچھ تھا۔پھر جب میں نے دیکھا کہ اب باتیں تقریباً ختم ہو چلی ہیں اور یوں ہی تکمے لگ رہے ہیں تو ان سے رخصت کی اجازت چاہی۔انھوں نے ایک لمحے سوچے بغیر اجازت دے دی۔میں پھر لابی میں آگیا۔چوں کہ آج دیر شام تک مجھے مولانا قاسمی کے ساتھ ہی رہنا تھا۔
مولانا نازش ہماقاسمی ایک اچھے اور ملٹی ٹیلنٹ قسم کے صحافی ہیں ۔ممبئی اردو نیوز سے وابستہ ہیں اور اس کے کئی مخصوص صفحات کو اپنی قلمی و فکری صلاحیتوں سے سجائے رکھتے ہیں۔فیس بک پر ان کا سلسلہ ’’منکوووول‘‘ حالات حاضرہ پر اس قدر پھبتی کستا ہے کہ بس کہنے ہی کیا!ان کا ایک سلسلہ ’’ہاں میں ۔۔۔۔ہوں‘‘ بھی ہے ۔(خالی جگہ میں کسی شخص،عہدے،کتاب،واقعے کا نام ہوتا ہے)
مولانا قاسمی نے’ میمن ٹائمز‘ میں اپنا کام ختم کیا اور پھر ہم دونوں ’میمن ٹائمز‘ ٹاور سے اتر کر پھر ان ہی گلیوں سے گزرنے لگے۔ایک جگہ چائے پی پھر مین روڈ یعنی محمد علی روڈ پر آگئے ۔یہاں سے ہمیں ناگپاڑہ جانا تھا ۔جو تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا مگر ہم نے یہ راستہ پیدل ہی پار کرنے کا من بنایا کیوں کہ محمد علی روڈ ایک مشہور ترین علاقہ ہے ۔یہیں مکتبہ جامعہ،ممبئی لٹریری ہاؤس، مج گاؤں ہاؤس،لیڈر پریس کے کمپاؤنڈ میں ماضی کے ادبا و شعرا کے ابتدائی نقوش کا گواہ دوکمروں کا گھر ، یعنی ظ۔ انصاری ثم باقر مہدی کا گھر،قومی آواز ،ممبئی ایڈیشن کا دفتر اور کئی تاریخی عمارات و مقامات واقع ہیں۔ہم لوگ ایم اے روڈ کے فٹ پاتھ سے گزررہے تھے تو چاندتارے چھاپ ہرے ہرے جھنڈے ہوا میں لہرا لہرا کر عجیب سے مسرت آگیں ماحول بنا رہے تھے۔
مکتبہ جامعہ ،پرنسس بلڈنگ،بھنڈی بازار ،ممبئی :
میں کیاکہوں مکتبہ جامعہ کی ممبئی کے ادبی حلقوں اور ادیبوں میں کیا اہمیت ہے۔آپ ندافاضلی کی کتاب’’دیواروں کے بیچ‘‘ کے الفاظ میں پڑھیے۔انھوں نے جو اور جیسا لکھا ہے،برسوں کے بعد میں نے اس مرکز کو ایسا ہی پایا۔ندا کے الفاظ ہیں:
بمبئی کے بھنڈی بازار کے علاقے میں مکتبہ جامعہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں بمبئی کے سارے زمینی فاصلے سمٹ کر ایک کتابوں کی دکان بن جاتے ہیں ۔یہاں چھوٹے بڑے ہر شاعر سے ملاقات ہوجاتی۔اس کے جنرل مینیجر شاہد علی خاں ہیں۔(شاہد علی خاں اب مکتبہ جامعہ کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا ذاتی ادارہ ’نئی کتاب پبلشرز،نئی دہلی اور سہ ماہی رسالے ’نئی کتاب‘ نئی دہلی،کے مدیر اعلا ہیں)ادیبی کے اختلافات سے دور صبح سے شام تک ان کی مسکراہٹ سب کے لیے یکساں ہوتی ہے۔
ندا آگے بھی بہت کچھ کہتے گئے ہیں اور یادوں کا ایک سیل رواں بہتا گیا ہے۔مکتبہ جامعہ کی رونقیں اب بھی وہی ہیں۔سرشام وہاں ادیب ا ب بھی جمع ہوتے ہیں اور ۔مگر اب جنرل مینیجر شاہد علی خاں نہیں کوئی اور ہیں اور جو بھی ہیں،وہ مکتبہ جامعہ کی ان ہی قدروں کے پاسبان اور امین ہیں ۔میری ایک شاندار ادبی شام بھی سہ ماہی ’’نیاورق ‘‘ کے مدیر شاداب رشید،افسانہ نگار اشتیاق سعید اور ناول نویس و مترجم عبدالباری ایم۔کے ۔کے ساتھ یہیں گزری تھی ۔چائے،باتیں ،علم،ادب،فن،فکر،ادب لطیف ،ادب جلیل ،کتنی ہی باتیں ہیں جو آج بھی ذہن تازہ میں موجود ہیں ۔
ندا فاضلی نے ’دیواروں کے بیچ میں‘‘ یہاں ایک مکان کا ذکر کیا ہے جو بوہروں کے مذہبی پیشوا سید برہان الدین نے ظ۔ انصاری کو دیا تھا پھر کسی طرح سے یہ باقرمہدی کے قبضے میں آگیا۔اس مکان کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا احوال سطور زیریں میں پڑھیے:
اس کمرے کی بمبئی میں ایک طویل ادبی تاریخ ہے۔آج کے کئی کھاتے پیتے ادیب اپنے اسٹرگل کے دنوں میں اسی کمرہ کی چھت کے ذریعے بمبئی کے کھلے آسمان سے نبردآزما رہے ہیں۔جاں نثار نے صفیہ اختر کے خطوط کا مسودہ’’زیرلب ‘‘کے نام سے یہیں ترتیب دیا ہے۔ان کی خوب صورت نظم ’’آخری ملاقات‘‘اسی کمرہ میں ان کے تیز بخار کی دین ہے۔اختر الایمان کی شاعری سے باقر مہدی کی دلچسپی یہیں کی دیواروں سے ان کے خاموش مکالموں کا رد عمل ہے۔اسد بھوپالی کے کئی کامیاب فلمی گیتوں کے مکھڑوں نے یہیں جنم لیا ہے۔راجندربیدی کے افسانوں،ظ۔انصاری کے جملوں کی انفرادی لٹک،مجروح کی غزلوں اور سردارو کیفی کی نظموں سے محظوظ ہونے کے بعداب یہ کمرہ نئے اسٹرگلوں کاسامع بنا ہوا ہے۔
’’جمعیۃ علما ہند ،مہاراشٹر ا(م) کا دفتر بھی یہیں واقع ہے۔‘‘مولانا قاسمی نے چلتے چلتے بتایا۔
’’واہ بہت خوب!‘‘ میرے منہ سے نکلا ہی تھا کہ دفتر آگیا اور مولانا قاسمی گلاس ڈورکھول کر داخل ہو گئے ۔میں نے بھی ان کی تقلید کی۔نماز عصر کی جماعت بالکل تیار تھی۔وضوتک کے لیے تھوڑی سی مہلت ملی پھر نماز قائم ہوگئی۔بعد نماز دفتر کے ارکان سے ملاقات ہوئی اور ملاقات کا لازمہ چائے بھی پی گئی۔یہاں سے بیس منٹ بعد ہم لوگ ’’ممبئی اردو نیوز‘‘ کے آفس واقع ناگپاڑہ اسٹیشن چل پڑے۔
ممبئی اردو نیوز کا دفتر:
ناگپاڑہ کے بلاسس روڈ پر واقع ’اوزون بزنس سنٹر‘ نزد مہارشٹر کالج کے گیارہویں فلور پر جب آپ لفٹ سے نکلیں گے تو پہلی نظر ’’ممبئی اردو نیوز‘‘ کے جگمگاتے سائن بورڈ پرپڑے گی ۔اس کے بعدناک کی سیدھ میں اخبار کا پرشکوہ اور اعلا و نایاب فرنیچر سے سجا دھجا ،جدید ٹیکنالوجی اور اعلا صحافتی قدروں سے لیس دفتر ، اس کا عملہ ،مدیران اور مخصوص صفحات کے ذمے داران نہایت شائستگی سے بیٹھے لیلائے صحافت کی زلفیں سنوارنے میں مصروف ملیں گے ۔ملک اور حکومت کی رگ جاں کو تقویت پہنچاتے صحافی ایسے لگتے تھے جیسے وہ وطن کی رگوں میں روح بھی پھونک رہے ہوں ۔پھونک ہی رہے تھے۔
’’ممبئی اردو نیوز‘‘ میں یوں تو کئی ایسے حضرات ہیں جو ملنسار بھی ہیں اور خورد نواز بھی تاہم ڈاکٹر شکیل رشید کا ایک اپنا ہی مقام اور انداز ہے۔میں نے کئی گھنٹے ان کے پاس بیٹھ کر گزارے ۔علمی و فکری باتوں کے علاوہ صحافت و سماج بھی ہمارا موضوع گفتگو رہا اور پھر جب آفس سے چھٹی کے بعدمولانا نازش ہماقاسمی کے ساتھ مرزا غالب چوک پر واقع ایک فوڈنگ ہوٹل میں کھانا کھا کر ۔میں محمد علی روڈ آگیا اور وہ اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب چل دیے۔
’ریپڈ ہائٹس‘ پہنچ کر جیسے ہی موبائل کا فیس بک اپلی کیشن کھولا تو ٹائم لائن پر ’’ماہنامہ تریاق ‘‘ کے سالنامے کا سرنامہ وائر ل ہوتاہوا ملا ۔اس کے زیریں کمنٹ باکس میں کمنٹس کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ناظرین اپنی اپنی پسند کے کمنٹس کررہے تھے۔ایک میں نے بھی کیا۔پھر خیال آیا کہ مدیر رسالہ میر صاحب حسن سے بات کروں اور انھیں بتاؤں کہ میں ممبئی آیا ہوں۔جیسے ہی ان کو بتایا انھوں نے پرتپاک ریپلائی۔اس کے بعد فونک ٹاکس ہونے لگیں۔خیر خیریت کے بعد انھوں نے کیادوسرے دن اپنے آفس واقع ایم۔کے ہائٹس، کرلا ملاقات کے لیے مدعو کیا۔انھوں نے مجھے ٹرین ،پلیٹ فارم نمبر اور روٹ کے متعلق سمجھا کر بتایا تھا کہ ان دنوں معروف افسانہ نگار اور سابق آئی اے ایس آفیسر،پرتپال سنگھ بے تاب بھی ممبئی آئے ہوئے ہیں ،ان سے بھی کل ملاقات متوقع ہے لہٰذا آفس سے ان کے گھر واقع ورسوا ،ملاقات کے لیے چلنا ہے۔ وہیں سے فلم رائٹر اور افسانہ نگار و شاعر مراق مرزا سے بھی ملاقات کے لیے چلنا ہے۔رات میں ہی آنے والے پورے دن کا شیڈول طے ہو گیا ۔پھر ملاقات تک کے رخصت کی اجازت لے دے کر دونوں جانب سے فون کٹ گئے۔
میرا پہلا لوکل ٹرین کا سفر،ماہنامہ تریاق کا آفس اور کرلا :
دوسرے دن پوچھتا پوچھاتا او ربتانے والوں کے مطابق لیفٹ رائٹ ’مارتا‘ ہوا ،مسجد بند رر یلوے اسٹیشن کی طرف چلا تو عجیب سا ہی منظر دیکھنے کو ملا ۔دورسے ہی ایک ہجوم چلا آرہا تھا۔ہجوم میں شامل افراد کی بدحواسی سے پتا چل رہا تھا کہ یہ حالیہ گزرنے والی ٹرینوں کے مسافر ہیں ۔ہجوم ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی جلوس،ریلی،اجتماع یا ست سنگ سے چھوٹ کر آیا ہے۔ میں اسی ہجوم سے ٹکراتا ہوا مسجد بندر اسٹیشن پہنچا اور کاؤنٹر سے کرلا کا ٹکٹ لے کر پلیٹ فارم نمبر ۔3سے مشہور زمانہ ’ممبئی لوکل‘ ٹرین پکڑی۔صبح کا وقت اور جلد بازی ،صبح کا وقت اور ممئی کی لوکل،صبح کا وقت اور ممبئی۔ان تینوں کا مجموعہ ہے’’بھیڑ‘‘ ——–مسجد بندرسے کرلا تک ہر اسٹیشن پر یہی نظارادیکھنے کو ملا۔ممبئی لوکل کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہر اسٹیشن آنے سے پہلے کمپیوٹرائزڈ وائس میں مراٹھی،ہندی اور انگلش میں اس کا اعلان کیا جاتا ہے ،اسی طرح اسکرین پر بھی مذکور ہ زبانوں میں نام رول ہوتے رہتے ہیں۔اس سے نئے مسافر کو اپنے اسٹیشن پر اترنے میں دقت نہیں ہوتی،ہاں یہ بات الگ ہے کہ وہ دروازوں پر لٹکی،جھٹکی اور ٹھسا ٹھس کھڑی بھیڑ کی وجہ سے اتر ہی نہ پائے اور اگر کسی طرح اتر بھی سکے تو پِس کر ہی رہ جائے۔خدا کا شکر ہے کہ میں اس کولہو سے صحیح سلامت نکل کر کرلا اسٹیشن پر اتر گیا اور پھر باہر آکر پیدل ہی ایم ۔کے ہائٹس کی جانب چل پڑا۔
ماہنامہ تریاق اپنی عمر کے آٹھویں برس میں داخل ہو چکاہے۔اس کے مدیر اعلا ضمیر کاظمی اور مدیر و معانین میں میرصاحب حسن ،حنیف قمر،سید فیض الحسن اور دیگر علم و ادب کا ستھرا ذوق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔یہاں میر صاحب حسن اور حنیف قمر سے ملاقات ہوئی۔بہت سی باتیں ہوئیں اور دوپہر کا کھانا بھی ساتھ ہی کھایا گیا۔وہاں سے ہم لوگ پرتپال سنگھ بے تاب کے مکان پر پہنچے ۔ یہاں سردار جی نے قہوے اور سوئٹس سے مہمانوں کی ضیافت کی ۔تعارف،رسمی گفت و شنید اور ایک دوسرے کے عادی ہوجانے کے بعد حنیف قمر نے ماہنامہ تریاق کے آئندہ شمارے کے لیے سردارجی کا ادبی انٹرویو لیا ۔باتیں ادب سے لے کر ادب تک تھیں ۔کچھ شکوے تھے اور کچھ مشورے ،کچھ جدو جہد کی نصیحتیں تھیں اور کچھ اہل زبانان و سرکاروں کی، زبان اردو کے تئیں سرد مہری کے قدیم فسانے ۔انٹرویو کے بعد ورسوا سوسائٹی کو آس پاس سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ساحل سمند ر پر کھجور اور تاڑ کے اونچے اونچے درختوں کے درمیان وہ سوسائٹی ایک خوشگوار تاثر ابھاررہی تھے۔ شوخ و چنچل ہواؤں نے تو اونچے درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر فسوں زار سماں بنا دیا تھا۔وہ دن کا وقت تھا اس لیے اچھا لگ رہا تھا۔رات میں ممکن ہے سرسراتی ہوا ،ہیبتیں طاری کردیتی ہو ۔ورسوا سوسائٹی کے راستے میں آنے والے بہت سے مکانوں اور فلیٹس کے مکینوں کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ یہاں فلمی دنیا میں آنے والے اسٹرگلرافراد رہتے ہیں ۔ان میں سے کچھ تو منزل مراد پاجاتے ہیں اور کچھ تلاش منزل میں ہی سرگرداں رہتے ہیں۔
سردارجی سے رخصت کے بعد اب اگلی منزل مراق مرزا کا گھر تھا ۔وہ علاقہ کس قدر سنسان اور اداس تھا۔ممکن ہے فلیٹس کے اندر جنتیں آباد ہوں ،مگر باہر تو ———میں نے جب اس عالم و کیف کا ذکر میر صاحب حسن سے کیا تو انھوں نے ’پروین بابی ‘ کی المناک موت اور آخری وقت کا قصہ سنا کر ان مکانوں او رمکینوں کی اصلیت کا ایک آئینہ دکھا دیا۔ویسے ایک جانب ممبئی کی بھیڑ اور رہنے سہنے کی تنگی،مکانوں کا ایک دوسرے سے چپک کر کھڑا ہونا ،دوسری جانب ورسوا ،باندرہ اور کچھ دیگر علاقوں کی بے انتہا کشادگی اور آدم و آدم زاد کی نایافتگی ،بہت سے سارے سوال کھڑے کرتی ہے۔مراق مرزا سے تقریباًدو گھنٹے ملاقات رہی ۔اس ملاقات میں شعر،ادب،فکشن اور دیگر اصناف ادب کے بعد پھر ممبئی کے ادبی ماحول اور ادیبوں کی سرگرمیوں پر تان ٹوٹی ۔میں سنا کیا،وہ کہتے رہے۔بلکہ ہم سب مہمان سنا کیے،ہم سب کہتے رہے۔تقریباً آٹھ بجے شب رخصت کی اجازت ملی۔اب ہم تینوں کو الگ الگ جانا تھا لہٰذا ایک بہت اچھا فیصلہ کیا گیا کہ ممبئی میٹرو ریل کے ذریعے کسی ایسی جگہ اترا جائے جہاں سے میرا اسٹیشن قریب ہو ۔اس طرح مجھے ممبئی میٹرو ریل میں سوارہونے کا موقع ملا تھا نیزدلّی میٹرو ریل اور ممبئی میٹروریل کا تقابل کرنے کا بھی۔جو میں نے کیا بھی اور دلّی میٹرو کو بوجوہ ممبئی میٹرو سے اچھا پایا۔’’بھیڑ!‘‘ یہ تو خیر ممبئی کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ اس کے جسم و جاں میں بسا ایک مستقل عنصر ہے۔پلیٹ فارمس اور اسٹیشنوں کی تعمیر میں استعمال شدہ میٹریل او ردیگر حفاظتی اسباب کا نقص نمایاں تھا ۔میں نے کئی چیزیں ممبئی میٹرومیں ایسی محسوس کی جو ناقابل رقم بھی ہیں اور آئندہ کے لیے چوکنّا رکھنے والی بھی۔ہم لوگ تقریبا 10اسٹیشن پار کر کے یاری روڈ اسٹیشن پر اترے ۔وہاں سے حنیف قمر ہم سے جد ا ہو گئے ۔میں اور میرصاحب حسن آٹو کے ذریعے کرلا پہنچے ۔درمیان میں ممبئی کی انتظامی صورت حالی،پانی،سیلاب،بارش،عام طرز رہائش اور بہت سی باتیں میں نے ان پوچھیں جن سے میر ی معلومات میں بھی اضافہ ہوا اور آنے والے دنوں میں ممبئی میں گزارنے جانے والے ایام میں مصلحت ،آگاہی اورخردمندی کے اسباب بھی مہیا ہوئے۔
رات کے پونے دس بج رہے تھے جب میں مسجد بندر اسٹیشن پہنچا۔اب نہ بھیڑ تھی اور نہ گہماگہمی کا عالم ۔بس چند بھٹکے ہوئے لوگ تھے ۔ممبئی پوری طرح جاگ رہی تھی۔سڑکوں پر جشن کا سا ماحول تھا ،ہاں فٹ پاتھ سونے پڑے تھے اور ان کی سنسناہٹ کا موقع اٹھا کر چند دھاڑی مزدوراینٹوں کا مصنوعی چولہا بنا کر لکڑیوں سے کھا نا بنا رہے تھے۔کوئی ان میں آٹا گوندھ رہا تھا تو کوئی سبزی کاٹ رہا تھا اور کوئی برتن صاف کررہا تھا۔خلق خدا ان کے پاس سے ،ان کے حال سے بے خبر گزرتی جارہی تھی۔
کرلا کا سنسار ہوٹل:
20جنوری کو جب کرلا میں ،مشاہیر ادب کے ساتھ ایک محفل میں شریک ہوا تو چائے ایک محفل میں معروف محقق و مضمون نگار سید احمد قادری اور مجھے افسانہ نگار اشتیاق سعید نے اسٹیشن کے قریب واقع ’’سنسار‘‘ہوٹل کے متعلق بتایا کہ ’’سنسار ہوٹل‘‘ اور ممبئی کے ادب و ادیبوں کے مابین گہرا اور تاریخی رشتہ ہے۔ایک زمانہ تھا جب یہاں سردارجعفری، نقش لائل پوری،ندا فاضلی، صبا فاضلی،مہدی باقر،کیفی اعظمی ،راجندر سنگھ بیدی وغیرہ ادبا و شعرا جمع ہوتے تھے اور گھنٹوں اس کی مخصوص نشست پر بیٹھے رہتے ۔اس ہوٹل کا مالک ایک سدن(ساؤتھ انڈین شخص) تھا۔ گو وہ اردو زبان و ادب سے نابلد تھا مگران ادیبوں کے علمی و دابی مباحثوں،شعرووسخن اور نئی تخلیقات پر تجزیاتی گفتگو سے کہیں نہ کہیں اس کے ذہن و دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ یہ ضرور بڑے لوگ ہیں اور کسی نیک مشن میں مصروف ہیں ۔لہٰذا ان کے لیے ہوٹل میں نہایت سلوک سے پیش آیا جائے اور ان کے لیے ’’ادھار‘‘ کا رواج بھی شروع ہونا چاہیے۔وہ اس نے کیا اور اس کا ہوٹل آج لفظوں میں تحریر ہورہا ہے۔
ممبئی میں تیسرا دن:
آج اتوار تھا اور صبح اپنی تمام جولانیوں سمیت نمود ارہو رہی ۔جیسے جیسے سورج عمودی سمت میں پرواز کرتاجارہا تھا، ممبئی جاگتی اور متحرک ہوتی جارہی تھی۔کل شام اور رات کے کچھ پہروں تک تھمنے والی گردی اب پھر سے سراٹھا رہی تھی۔گو سڑکوں پر آفیسرز کی گاڑیاں اور بھیڑ تو نہیں تھی مگر اب اس خلا کو سڑکوں پر سنڈے بازار لگانے والے اور ان کی سیر کرنے والے بھررہے تھے۔سیلس ورکرس کی آوازیں،وہی آوازیں جو دہلی،لاہور،کراچی اور ڈھاکہ کے اس طرح کے بازاروں میں مختلف ٹونس،جملوں،فقروں اور اندازوں سے لگائی جاتی ہیں۔عورتوں کو خاص طور سے لبھانے کی کوششیں اور انھیں لال ،پیلے،ہرے،گلابی،چمپئی ،ہر طرح کے باغ دکھانے کے انداز۔تاہم اتنا ضرور تھا کہ مہنگی سے مہنگی چیز بھی بارگننگ کے بعد اونے پونے میں بلکہ کوڑیوں کے بھاؤ مل رہی تھی۔اب یہ مت پوچھیے کہ ان سامانوں کے چلن کی مدت کیا رہی ہوگی اور انھوں نے کب تک اپنے خریدنے والے کا ساتھ دیا ہوگا۔
میں ایک کرانہ مارکیٹ میں چلا گیا۔گاؤں کی عورتیں کھیتوں کی دالیں،دوتین طرح کے ثابت چنے، موم پھلیاں،تیل،تیلہن،کچھ ہاتھ سے بنے کپڑے،ناریل ،گیہوں کی کچی بالیں ،گرم مصالحے ،سوکھی لال مرچیں ،ہری مرچیں،کچھ مدت تک سلامت رہنے والی سبزیاں،آٹا اور ثابت اناج وغیرہ تو وہاں تھا ہی،مراٹھا عورتوں کا ڈیل ڈول ،بڑی بڑی آنکھیں اور ان میں نمایاں کیچڑ،دوپٹہ آدھے سر تک کسا ہوا ،لکڑی کے پٹروں پر ان کا بیٹھنا اور ان سے سامان خریدنے والوں سے تیزتیز آواز میں ان کا بولنا،کہیں مردوں کا بھی ان کی نقلیں کرنا یہ سب اس پر مستزاد تھا۔میں دورتک یہ سب دیکھتا چلا گیا ۔پھر ان ہی قدموں واپس آگیا۔آتے وقت میرے ہاتھ میں بھی کچھ شاپرس تھے۔اس کے بعد میں نے وہ پورادن اپنے کمرے میں ہی گزارا۔شام کو جب موسم خوشگوار ہو گیا تو میں پھر ممبئی کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کے لیے نکل گیا۔صبح کا لگنے والا بازار اب تک شباب کی منزلوں سے بھی آگے نکل گیا تھا ۔لنک روڈ،سردار ولبھ بھائی پٹیل مارگ،حضرت علی علیہ السلام چوک،محمد علی روڈ،نل بازار کی گلیاں اس طرح بھری ہوئی تھیں جس طرح کھیت کی نالیاں زوردار فصل سے بھری بھری نظر آتی ہیں۔وہ تو بلڈنگیں اور مکان ہی بلند بلند تھے ورنہ وہ تو انسانوں کی اس بھیڑ میں دب ہی جاتے۔آتے جاتے لوگ،ٹریفک کا اژدہام،برقع پوش انڈونیشن اور مقامی ہر عمر کی خواتین ،بچوں کو گود میں اٹھائے شوہر اور بڑے بیٹے،اگر آج رجب علی بیگ سرور زندہ ہوتے تو وہ ممبئی کی اس بھیڑ کو دیکھ کر الٹ پلٹ ہی ہوجاتے۔انھیں اس وقت سمجھ میں آتا کہ اصل بھیڑ کیا ہوتی ہے اور دھکا مکی کا حقیقی مطلب کیا ہے۔ان کی سانس پھنس پھنس جاتی اور وہ چند دنوں میں ہی دمے کے مریض ہوجاتے۔
ممبئی میں جہاں میرا قیام تھا ،وہ ڈونگری کے قریب کھڑک کا علا قہ اور اس کی بھی گلی ’’ٹن ٹن پورہ‘‘ تھا —– –یہیں پر چھوٹے اور بڑے لال دروازے کے پاس ایک درگاہ ہے۔جسے عبد الرحمان شاہ کی درگاہ بتایا جاتا ہے۔ان ہی دنوں بزرگ موصوف کا‘ عرس شریف‘ تھا۔جس کے لیے مین روڈ سے لے کر چھوٹے بڑے لال دروازے اور کھڑک پولیس چوکی کے تمام علاقے کو رنگ برنگی برقی پھلجھڑیوں اور قمقموں سے سجا دیا گیاتھا۔عرس کی تقریبات کا سلسلہ تقریباً چھے روزرہتا ہے ،ان چھے دنوں میں ہر دن کوئی نہ کوئی تقریب ہوتی ہے اور سرِشام ہی پورا ایریا روشنیوں سے جگمگا اٹھتا ہے۔عقیدت مند اپنے اپنے طو رپر یہ تقریب مناتے ہیں۔چھوٹے لال دروازے پر دونوں جانب لوہے شیر کھڑے کر دیے جاتے ہیں اور ان کے بالکل محاذ میں پانچ پانچ فٹ کے مصنوعی فوار ے پانی برساتے رہتے ہیں۔گلیوں میں عقیدت مند شبیہ گنبد خضرا لے کر جدید ترین ڈی جے ساؤنڈ اور جھنکار کی آواز پر ترانے،منقبتیں اور مدحیں بجاتے گاتے نکلتے ہیں۔پورا علاقہ شور سے بھر جاتا ہے ،نیند و چین الگ خراب ہوتا ہے۔
ایک شام جب میں اپنے دن بھر کے کاموں سے فارغ ہوکر اور لوکل کے دھکوں سے آزاد ہوکر’ سٹی ہائٹ ‘ بلڈنگ کے سامنے سے گزررہا تھا،ایک ہنگام میری راہ میں حائل ہوگیا۔شاہ صاحب کے عراس عقیدت مند پوری گلی روکے ،آئیشر اور فورس کے ٹرکس پر ڈی جے ساؤنڈس لگا کر چل رہے تھے۔ایک منقبت خواں open challenge کررہا تھا ۔ہاتھ ہلا ہلا کر دعوت دے رہا تھا کہ ہے کوئی اس سے اچھا گانے والا،حالاں کہ اس سے اچھا پھٹے بانس بھی گالیتے۔مگر بھیا،جس کی چونّی چل گئی ،چل گئی۔اس کی تو کھوٹی اٹھنّی چل رہی تھی ۔
عرس ختم ہونے کے بعد ایک دل دوز منظر دیکھا۔وہی شبیہ گنبد خضرا ،جسے چوم چوم کر اور جس سے لپٹ لپٹ کر عقید ت مند کہہ رہے تھے:
ہم گنبد حضرا کے کبوتر،ہماری فدا ہے جاں اس پر
اور
گنبد خضرا ہماری آبرو،ہماری آرزو
ہم طلب گاراس کے،وہ ہے ہماری جستجو
وہی شبیہ گنبد خضرا گلی کے کوڑے دان میں پڑی تھی۔اس کے آس پاس گھروں کے کوڑے سے بھرے شاپرز اورتھیلیاں پڑی ہوئی تھیں ،دوسری گندگیاں الگ تھیں۔اب میں اس بے حرمتی پر افسوس جتا کر ہیروگیری نہیں کروں گا ،چوں کہ اس پر افسوس کرنا میرا ایمان اور فرض تھا،محبت رسول اور عقیدت محمدی کا تقاضا تھا،جو میں نے کیابھی۔شکر ہے کہ دودن کے بعد شبیہ کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
انجمن اسلام ،ممبئی
ممبئی عظمیٰ میں میرا چوتھا دن اور انجمن اسلام کریمی لائبریری و انجمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لائبریری کی سیر ،شمیم طارق صاحب سے ایک یادگار ملاقات ——–اب آگے۔۔۔
انجمن اسلام ممبئی،ممبئی کی مسلم امہ کا ایک اپنا ادارہ ،ایک اپنا ٹرسٹ اور ایک اپنا مقام وشعار۔جس کے زیر اہتمام میں ممبئی بھر میں اردواسکول،ٹیکنکل اسکول،سائنس اسکول اور متعدد ادارے مصروف عمل ہیں ۔اسی طرح دو لائبریریاں ،انجمن اسلام کریمی لائبریری،اور انجمن اسلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لائبریری بھی باحثین اور محققین کے لیے ایک بے مثال ذخیرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ انجمن اسلام کا کیمپس سکرٹریٹ ایریے میں عین چھترپتی شیواجی ٹرمینل کے بالکل سامنے دادابھائی نوروجی روڈ پر واقع ہے۔اس کی عمارت انگریزی طرزو عہد کی یاد گار اور اسی کی طرح کی مضبوطی لیے بلند وجود و سراپے کے ساتھ کھڑی ہے ۔ تاریخ کے جھرونکوں میں جھانکیں تو پتا چلتا ہے کہ انجمن کا سنگ بنیاد بہادر گورنر بمبئی کے ہاتھوں31مارچ 1890میں،میں رکھا گیا اور اس کا افتتاح لارڈ ہاریس بہادر گورنر بمبئی کے ہاتھوں 1893میں عمل میں آیا۔انجمن کی مکمل تاریخ اس کے صدر دروازے دائیں جانب نصب پتھر سے معلوم ہوتی ہے۔جس کی عبارت یہ ہے:
الحمدللّٰہ والمنۃ
کہ این عمارت کہ مدرسہ مبارکہ انجمن اسلام است دراین زمان دولت اعلٰحضرت پادشاہا انکلستان و قیصر ہندوستان ملکۂ معظمہ الشان وکتوریہ مساعی انجمن اسلام و اعانت اہل اسلام بنا شدہ سرکار عظمت مداردارالحکومۃ مسبی علاوہ بر بخشش یک قطعہ زمین کران کہ بھاکہ این عمارت برآن قائمست بہ مبلغ سی و ہشت ہزار روپیہ امداد فرمودہ سنک اساسشن بتاریخ نہم شعبان ۱۳۷۰ھ ہزارو سیصد و ہفت ہجری مطابق بتاریخ سی و یکم مارچ۱۸۹۰ء ہزارو ہشتصدونود عیسوی بدست نوّاب مستطاب لاردری بہادر گورنرنھادہ شدہ و پس ازاختتام تعمیر رسم افتتاحش بتاریخ دہم و ماہ شعبان ۱۳۱۰ہزارو سیصد دہ ہجری مطابق بتاریخ بیست و ہفتم فپروری ۱۸۹۳ء ہزارو ہشتصد و نودسہ عیسوی بدست نوّاب حشتماب لارد ھاریس بہادر گورنربمبئی بسمت وقوع پذیر رفتہ معماریش بعھدہ کفایت کارپرواز ان پبلک ورکس دپارتمنت مفوِّض بودہ و بر مبلغ یک لک و سی دنہ ہزار روپیہ بانجام رسیدہ خداوند بیزوال از حوادث لیل و نھار نکاہش داردو آنراوسیلہو جبر حال و ترقی مسلمانان کرداند
امین اللّٰھم آمین
صدر انجمن بدرالدین طیب جے
پیشکاران عبداللہ مھر علی دھرمے
فحقلے شیخ احمد
انجمن اسلام کے سامنے سے گزرنے والا دادابھائی نوروجی روڈ نہایت صاف ستھرا روڈ ہے۔روڈ کا ڈیوائڈر بہت اچھی باغبانی اور خصوصی توجہ دہی کا مظہر ہے۔یہ روڈ حج ہاؤس کے آگے سے سید مخدوم ماہمی پل اور محمد علی روڈ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور ایک طرف سے منترالیہ(سکٹریٹ)سے ہوتے ہوئے گیٹ آف انڈیا اور وکٹوریہ کی جانب نکل جاتا ہے۔اس روڈ پر انجمن اسلام کے علاوہ دوسری تاریخی عمارات بھی موجود ہیں۔
جمعرات،ایک چھٹی اور ایلی فنٹا کی سیر:
ممبئی میں میرے سحر،شام اور شب یوں ہی گزررہے تھے کہ میرے ایک دیرینہ دوست شاداب علی زیدی کا فون آیا کہ عمران جمعرات کو خالی رکھیے،اس دن میری چھٹی ہے،کہیں گھومیں گے،یا تم جہاں کہو ——– جب انھوں نے عمران پر یہ ذمے داری ڈالی تو الہڑ اور سرپھرے عمران نے اپنی چلاتے ہوئے’ ایلی فنٹا‘ کی سیر کرنے کا کہہ دیا۔جسے انھوں نے منظور کرلیا۔جمعرات آئی اور ہم دونوں دوپہر کا کھانا کھا کر گیٹ وے آف انڈیا پہنچے۔وہاں سے انجن اسٹیمر کا 200روپے کا ٹکٹ لیا اور اسٹیمر کے اوپر والے پورشن میں پہنچ گئے۔تقریباً سوا گھنٹے کا سمندر ی سفر ہم دونوں نے کھڑے کھڑے ہی طے کیا ۔کیوں کہ تمام نشستوں پر پہلے ہی قبضہ ہوچکا تھا۔جیسے ہی اسٹیمر نے ساحل ممبئی کو خیر آباد کہا اور کچھ ہی دور چلا کہ کبوتر کے جثے اور شکل وہیئت کے سفید رنگ کے پرندے کیاؤں کیاؤں کی آوازیں نکالتے ہوئے اسٹیمر کے اوپر منڈرانے لگے۔سیاح انھیں چپس ،موم پھلی کے دانے،مکئی کے دانے اور جانے کیا کیا کھلانے لگے۔طریقہ یہ تھا کہ ان چیزوں کو پانی کی طرف اچھالا جاتا اور اڑتے پرندے چشم زدن میں اسے کسی لیجنڈری کیچ کیپر کی طرح کیچ کرتے ۔مجھ سمیت ہر ایک اُن کی اس ادا پر انگشت بدنداں تھا۔میں نے بھی اپنا چپس پاکٹ کھولا اور انگلیوں کے آخری سرے پر چپس اٹکا کر اوپر کیا،دوتین پرندے جھپٹے ،مگر ان میں سے کامیاب ایک ہی ہوپایا۔میرے دیکھا دیکھی اب دوسرے بھی ایسا ہی کررہے تھے۔پلٹ کر جھپٹنے اور جھپٹ کر پلٹنے نیز لہو گرم رکھنے کے بہانے کی تعبیر اس وقت سامنے موجود تھی۔یہ کھیل تماشا جاری رہا اور ہمارا اسٹیمر ایلی فنٹا پہنچ کر لنکر انداز ہوگیا۔
ایلی فنٹا سمندر کے بیچوں بیچ ہندوستانی سرحد میں واقع ایک پہاڑی جزیرہ ہے۔قدیم زمانوں میں اسے بدھسٹوں نے اپنی عبادت کے لیے آباد کیاتھا۔پھر انگریزی عہد میں یہاں یونین جیک لہرایا گیا اور موجودہ دنوں میں اسے ہندوستانی سیاح آآکر دیکھتے ہیں۔اسٹیمر سے اتر نے کے بعدپہاڑ پر پیدل بھی جاتے ہیں اورٹوائے ٹرین کی سہولت بھی موجود ہے۔کئی مقامات پر ٹکٹس لے کر ہم دونوں پانچ سو سیڑھیاں چڑھ کر پہاڑیوں پر چڑھتے چلے گئے ۔سیڑھوں کے دونوں کناروں پر ہنڈ کرافٹ اور آرٹی فیشیئل مصنوعات کی دکانیں لگی ہوئی ہیں ۔جن کی وجہ سے راستہ تنگ سا ہوگیا ہے۔پورا پہاڑ سوکھے درختوںاور جھاڑیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔یہ کتنا عجیب واقعہ ہے کہ سمندر کے بیچوں بیچ رہنے کے باوجود پہاڑ پر کے درخت پانی مانگ رہے تھے۔ان کے ہاتھ اور منہ اوپر اٹھے ہوئے تھے جیسے آسمان کے خدا سے پانی مانگ رہے ہوں ۔ ان کے ساتھ ساتھ ان پر بسنے والی مخلوق بھی پیاسی تھی ،اچھلتے کودتے بندر بھی پیاسے تھے اور سیاحوں سے بوتلیں چھین چھین پر پانی پی رہے تھے۔ ایک بندر نے ہمارے سامنے ہی ایک عورت سے بوتل چھینی اور پاس کے درخت پر جاکر اوک(چُلّو) سے پانی پینے لگا(بندر کبھی منہ لگا کر کوئی چیز نہیں کھاتا،وہ ہمیشہ ہر چیز ہاتھ سے کھاتا ہے) مگر اس عمل میں پانی اس کے پیٹ میں کم اور زمین پر زیادہ گررہا تھا۔اس وقت ایک محاورہ بناکہ’’بندرکیا جانے پانی کیسے پیا جاتا ہے‘‘ —– —
پہاڑ کے درختوں اورمخلوق کی طرح پانی تو ہم لوگ بھی مانگ رہے تھے۔ایک دوکان دار سے بوتل لی ،اس نے 20 روپے کی بوتل 50میں دی۔اس وقت سمجھ میں آیا کہ موقع کا فائدہ کیسے اٹھایا جاتا ہے اور مافیا گیری کیا چیز ہوتی ہے۔حلق تو سوکھ ہی رہے تھے ،لہٰذا اس کی مکار آنکھوں اور لٹیرے ہاتھوں کی نذر سو روپے کا نوٹ کر نا ہی پڑا۔ہم لوگ تقریباً تین گھنٹے وہاں رہے اور جب تھکے ہارے دوبارہ اسٹیمر سے گیٹ آف انڈیا کی جانب بڑھ رہے تھے،افق مغرب سورج کو اپنی آنکھ میں پوری طرح اتار چکا تھااور کاینات نے سیاہ سیاہ چادر اوڑھ لی تھی ۔تاہم شہر جگمگا رہا تھا اورسڑکیں روشنیوں میں نہا رہی تھیں۔اب ہم لوگ تھے اور ممبئی کی سڑکیں اور ٹیکسیاں ۔ان میں سے ایک ٹیکسی لے کر ہم لوگ بھنڈی بازار آگئے ۔یہاں سے ہم دونوں کے راستے الگ ہوتے تھے لہٰذا کسی آئندہ اگلی طویل ملاقات کا وعدہ کرکے ہم لوگ سلام اور ہینڈ شیک کرکے جدا ہوگئے ۔
18جنوری 2019 —– ماٹونگا میں ایک شام
ممبئی ،جو اقوام عالم اور بالخصوص ہندوستانی قوموں کا صدیوں سے مسکن رہا ہے۔یہ کہنے اور بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ممبئی میں کتنی قومیں آئیں اور کب کب ؟اس لیے کہ اس کا پتا ہمیں ممبئی کے علاقوں میں بسنے والے افراد اور انسانوں سے ہوجاتا ہے ۔وہ کہاں سے آئے اور کب؟ یہ تو بہت معمولی سا سوال اور بات ہے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ انھوں نے یہاں آکر بھی اپنی شناخت،سنسکرتی،اقدار اور شعار نہیںبدلے نیز وہ ان پر سختی سے کاربندبھی ہیں اور مقامی ماحول کے ساتھ اپنے کلچر کو شامل کرکے انھوں نے ہم آہنگی کے تصور کو نیا عنوان بخشاہے۔
ماٹونگا ،ممبئی کا ایک ایسا ہی علاقہ ہے جس میں دوردراز تک ساؤتھ انڈین آباد ہیں ۔ان کا تعلق کرناٹکا،آندھرا اور ماضی کی میسور،ارکاٹ وغیرہ ریاستوں سے ہے۔یہاںمیرے آنے کا سبب یہ تھا کہ یہاں کے ’’میسو رہال‘‘ میں لیجنڈری افسانہ نگار سعادت حسن منٹوکی برسی پر ایک پروگرام ’’منٹو :ایک سیاہ حاشیہ‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا ۔جس کے آرگنائزرس میں اسلم پرویز(ممبئی) شاداب رشید (مدیر :سہ ماہی نیاورق) اور ان کے رفقا تھے۔پروگرام سے قبل حسب روایت ہال کی دیوارو ںپر چاروں طرف منٹو اور ان کے افسانچوں کے مجموعے’’سیاہ حاشیے‘‘ پر مبنی پینٹنگس آویزاں کردی گئی تھیں۔جنھوں نے مذکورہ پروگرام کی وقعت و معنویت دوچند کردی۔
میسور ایسو سی ایشن ،ممبئی کا’’میسور ہال‘‘اردو اسٹیج ڈراموں کے لیے معروف ہے۔گویہاں دوسری زبانوں کے پروگرام اور مختلف ایونٹس بھی ہوتی ہیں تاہم اردو ڈراموں،پلیز ، ڈاکیومنٹریزاور بائیو پکس کے لیے اس نے خصوصی مقام حاصل کر لیا ہے۔سہ منزلہ عمارت پر مشتمل ’میسو رہال‘ کا محل وقوع ماٹونگا(مشرق) کے ماٹونگا سرکل سے جانب مغرب ہے۔یہ پورا علاقہ ماٹونگا اسٹیشن سے ہی جنوبی ہندوستان کا خطہ محسوس ہونے لگتا ہے ۔اسی طرح کے مکانات،رہن سہن،لباس و پوشاک،تہذیب و کلچر،بولی ٹھولی،مارکیٹس ،موسم و ہوا ،عام مناظر،سب ایسے ہی ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم ساؤتھ کے کسی شہر میں گھوم رہے ہیں ۔سڑکوں کی دونوںجانب گل مہر کے پیڑ لگے ہیں جن پر اس وقت کونپلیں کھل رہی تھیں اور جب ایک ماہ بعد میں یہ سطور لکھ رہا ہوں،ان کا عالم شوق دیکھنے کے قابل ہوگا۔وہ رنگ برنگے اور شوخ رنگ پھولوں سے لدے پھندے ہوں گے اور ناظرین و شائقین کی پردید آنکھوں کے لیے باعث تسکین بنے ہوں گے۔
بھاگ دوڑوالی ممبئی کے افراد ثقافتی،ادبی و تہذیبی پروگرامس کو بہت شوق سے دیکھتے ہیں اور اگلی ایونٹ تک گزشتہ ایونٹ کی تمام باتیں یاد رکھتے ہوئے آپس میں ڈسکشن بھی کرتے رہے ہیں تاکہ وہ خوب صورت یادیں اور لمحات وقت کے تیز رفتار اور بے سمت دھارے کی نذر ہوکر ان کے ذہنوں سے محو نہ ہو جائیں ۔
میسور ہال اوڈی (آڈیٹوریم) میں ایک ہزار افرا دکے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔شائقین و ناظرین میں اعلا و متوسط افراد کے علاوہ کالج و یونیورسٹیز کے طلبا و طالبات بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں ۔
دو دن ناسک میں
اہیونت گڑھ کی بلندو بالا پہاڑیوں سے جب دائیں جانب نیچے اترتے ہیں تو اس کے دامن میں ذرا دور ایک ایسے آباد اور خوش حال شہر کو پاتے ہیں جس کا شمار ہندوستان کے ٹاپ ٹین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بھی شہر ناسک متعدد خوبیوں کا مالک ہے۔
اسی نہایت برق رفتاری سے ترقی کرتے اور خوب صورت ضلع ناسک کے مستقر (ہیڈکوارٹر) ’شہر ناسک‘ کا ذکر ہے اوربیاں میرا۔ شہر مذکور کوحالیہ دنوں حکومت ہند نے ڈیموسٹک ایئر پورٹ کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ جس کے بعد ریلوے اور سڑک کے علاوہ ملک کے دیگر خطوں سے اس کا فضائی رابطہ بھی ہوگیا۔نیشنل ہائی وے نمبر۔3آگرہ ٹو ممبئی پر ،ممبئی سے 153کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر ناسک(ناشک روڈ) پانڈؤں کی گپھاؤں ،بدھسٹوں کے مذہبی مقامات اور ہندومت کی قدیم روایات اورآستھاؤں،پرفضا مقامات پر واقع پر شکوہ منادر اور ان کی برکتوں سے مالا مال ہے۔جنگلوں میں کیسلس ،ریزورٹس ،،فارم ہاؤسز، کی رعنائی وزیبائی کے علاوہ قدرت نے بھی اسے اپنی نعمتوں کی خصوصی توجہات سے مالا مال کیا ہے اور دریائے گوداوری کا میٹھا پانی، اسے نصیب کیاہے۔متعدد نہروں اور ندیوں کے کنارے آباد یہ شہر چاروں طرف سے پہاڑیوں اور سرسبزو شاداب میدانی علاقوں کا آئینہ نما بنا ہوا ہے۔اس شہر سے میرا رشتہ یہ ہے کہ یہاں میری روحانی ماں ،معروف شاعرہ رئیسہ خمار آرزو رہتی ہیں۔مادر محترم سے میری ملاقات فیس بک کے ذریعے ہوئی تھی جو ہوتے ہوتے یہاں تک پہنچی کہ میں آج ناسک میں اپنے گزرے دو دنوں کا حال لکھ رہا ہوں ۔یہ دودن میںنے مادر محترم کی رہائش گاہ پر ہی گزارے تھے۔یہ دودن میرے لیے دوقرن (دو صدیوں) کے برابر ہیں۔
میں دس بجے ناشک روڈ اسٹیشن پر اترا ،وہاں سے شیئرنگ آٹو سے دوارکا پہنچا ۔جیسے ہی ایک مخصوص مقام پر اترا،مادرمہربان اسکوٹی لیے منتظر ملیں۔وہاں سے ہم دونوں رہائش گاہ پہنچے۔اب دوپہر ہونے والی تھی اور لنچ کا بھی وقت تھا ۔لہٰذا کچھ دیر بعد چینجگ،فریشنیس اور چنداں آرام کے بعد لنچ کیا گیا۔بعد ازاں ہم لوگ پانڈوؤں کی غاریںدیکھنے کے لیے چل پڑے۔اونچے پہاڑ پر قدیم زمانوں کی بنی ہوئی یہ غاریں محکمۂ آثار قدیمہ ہند کے زیر اہتمام ہیں۔پانچ سو سیڑھیوں کی مسافت طے کرنے کے بعد جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو شہر ناسک ہمارے سامنے تھال میں سجے پھولوں کی مانند نظر آرہا تھا۔ہمارے پیچھے پہاڑ تھا اور سامنے دونوں اطراف میں پھیلے میدانی علاقے تھے۔ان کی بھوری بھوری ریت اور ان پر اگے درخت و چھوٹے چھوٹے پودے کاینات کی رعنائی و صفااور افروزی کا نشان بنے ہوئے تھے۔
پہاڑوں کی بلندیوں سے اترنے کے بعد میدان میں بدھ پرنما کا مٹھ تھا ۔جس کے چاروں طرف فوارے دار گارڈنس اور پھول دارچمن بندیاں تھیں ۔مٹھ کے گنبد میں آوازیں گونجتی ہیں ۔مٹھ میں بیچوں بیچ بدھ کی پر شوکت سنہرے رنگ کی مورت نصب ہے ،اس کے سامنے عقیدت مند خواتین و مرد دوزانو ہوکر بیٹھے تھے ۔ہم لوگ وہاں چند ساعات ہی رہے ۔یہاں سے ہم گنگا پورڈیم کی طرف گئے جو دریائے کاویر ی کے اوپر بنا ہے اور اس کا شمار ہندوستان کے چند اہم ترین ڈیمس میں ہوتا ہے۔یہاں پہنچے تو دریاکے کنارے حسب معمول و اندازہ مندر بنے ہوئے تھے۔جن کے چڑھاؤں کی مالائیں اتار کر دریا میں ہی پھینکی جارہی تھیں۔اس مقام پر دریا میں پانی بہت کم تھا بس پتھر ہی پتھرنظر آرہے تھے۔حالاں کہ بقول مادر محترم ،ہم لوگ جہاں کھڑے تھے،وہاں طغیانی کے دنوں میںبیس بیس فٹ کی بلندی سے پانی گزرتا ہے۔انھوں نے کچھ ماہ قبل ایسی ہی طغیانی کی ویڈیو بھی دکھا ئی جسے دیکھ کر بالکل بھی اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ یہ اسی جگہ کی ہے جہاں اب نہایت آرام اور بے خوفی سے ہم سیر کررہے ہیں۔یہاں بھی ہم چند ساعات رہ کر پھر آگے بڑھے تو ایک مقام پر بوٹنگ کلب کا سائن بورڈ نظر آیا۔مادر محترم نے اسکوٹی ادھر موو کی اورچنگی بانوں کو انٹری فیس دے کر ہم لوگ گوداوری کے گھاٹ پر آگئے ۔یہاں اسکوٹر بوٹنگ کے بعد چپّو بوٹنگ
بھی کی گئی ۔گہرے گہرے اور میٹھے پانیوں میں اس وقت کا سیر کرنا کتنا اچھا لگ رہا تھا۔شام سرمئی آنچل کی طرح کاینات پر پھیل چکی تھی اور ماحول و موسم خوشگوار ہوتا جارہا تھا ۔اس کے بعد ہماری اگلی منزل ایک ایسا مقام تھا جہاں درگاہ اور مندر ایک ساتھ بنے ہوئے ہیں تاہم درگاہ، مندر سے بالائی حصے میں واقع ہے۔لیکن ان کا راستہ ایک ہی ہے۔یہ ایک فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا منظر تھا ،جسے میں تو دیکھا کیا۔
اب تک دن کا اجالا رات کے سیاہ دھبوں سے داغ دار ہو چکا تھا ،اس کا مطلب یہ تھا کہ اب ہمیں گھر چلنا چاہیے ۔لہٰذا وقت کا اشارہ سمجھ کر ہم لوگ ان ہی راستوں سے واپس گھرآنے لگے۔شہر میں شام جوان ہورہی تھی اور ناسک کے کالج کی روڈ کی رونقیں بڑھتی جارہی تھیں۔کالج روڈ،شہر کا وسطی علاقہ اور خوب صورت بھی ہے ،یہاں ریستوراں،کافی ہاؤسز،کیفے ،اسنیکس اسٹال،ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر ،نوکر پیشہ افراد کی رہائشیں اور بھی بہت کچھ دیکھنے کوہے۔یہاں کے ایک معروف و صاف ستھرے کیفے میں مادر محترم نے مجھے کافی پلائی جو’ واقعی ‘بہت اچھی تھی۔ کافی آنے سے پہلے میں نے نظریں گھما گھما کر اس پورے منظر کو اپنی آنکھوں اور ذہن و دماغ کے گوشوں میں بسایا ،ان کے متعلق یافت و دریافت بھی ہوتی رہی۔
اب شام پوری طرح گھر چکی تھی ،شہر کی سڑکیں اور ماڈرن علاقے روشنیوں سے جگمگا اٹھے تھے اور گھر واپس آنے والے صبح کے نکلے افراد ہجوم در ہجوم گھروں کو واپس ہو رہے تھے لہٰذا اسموتھ ٹریفک لازمی تھا ۔مادر محترم نے رہائش گاہ پر مجھے سرپرائز دینے کے لیے ایک شعر ی نشست کا انعقاد کیا جس کے متعلق مجھے کچھ علم نہیں تھا اور نہ ہی تیاری، مگر میں نے عین وقت پر شاہد آفرید کی طرح شاٹس کھیلے اورایونٹ کی کامیابی میں پوری حصے داری نبھائی۔تقریباً تین گھنٹے تک چلنے والی یہ نشست بہت ہی خوب تھی۔رات گزرتی اور گہری ہوتی جارہی تھی ۔جس کے بعد روشن روشن صبح نمودار ہونے کے لیے جانے کب سے بے تاب تھی، مگر اسے ابھی کچھ اور گھنٹے انتظار کرنا تھا اور ظلمات بھری رات کو قطع کرناتھا۔قانون قدرت کے مطابق سحر طلوع ہوئی اور رات کی پرتیں چھٹیں ،سورج عمودی سمتوں میں پرواز کرتا ہی چلا گیا اور خلق خدا اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہوگئی۔اب دن تھا لہٰذا ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد ناشتہ کیا گیا اور دوپہر کا کھانا کہیں باہر کھانے کا پلان بنا کر میں اور مادر محترم لانگ ڈرائنگ پر چل پڑے۔اسکوٹی شہر سے نکلتے ہی سرپٹ دوڑنے لگی ۔کشادہ دو رویہ شاہراہ ،دور تک پھیلے کھیت اور سڑک کے دونوں طرف بنے فارم ہاؤسز،ریزورٹس ،ٹرانزٹ ہاؤسز،مندر،گئوشالائیں،نکیتن وغیرہ قائم ہیں جن سے وہ سنسان سڑک، آباد ہوگئی ہے۔تاہم وہاں ایک طرح کی سنسنی پھر بھی باقی ہے۔
چالیس کلومیٹر چل کر اب اسکوٹی کا منہ اس پہاڑ کی جانب موڑدیا گیا جس کی سب سے اونچی چوٹی پرمکتی دھام مندر واقع ہے ۔یہ مندر سطح زمین سے تقریبا بیس کلومیٹر کی بلندی پر عقیدت مندوں کی عقیدتوں کا مرکز بنا ہوا ہے ۔وہاں تک پہنچنے کے لیے ون وے ٹائپ سڑک بنی ہے جو بلندیوں پر جاتے جاتے ٹوٹ پھوٹ کر باعث تکلیف و آزار بنی ہوئی ہے۔جب راستہ بہت زیادہ خراب آنے لگا تو عافیت اسی میں سمجھی گئی کہ اب واپس ہوا جائے، لہٰذا ایسا ہی کیا گیا اور اب ہم اسی راستے سے واپس آرہے تھے ۔سہ پہر تک ہم لوگ ناسک کے مسلم اکثریتی محلے میں تھے ۔جہاں دن کا کھانا کھانے کا پلان تھا ۔یہاں شان داراور اعلا فرنیچر سے لیس’ ہوٹل جہاں گیر ‘ میں کھانا کھایا گیا ۔ناسک کا مسلم اکثریتی محلہ ایشیا کے عام مسلم محلوں کی طرح ہی ہے۔جگہ جگہ دیواروں پرمختلف مذہبی پروگراموں اور عرس کے پوسٹرس چسپاں تھے۔گلیوں میں چاندتاروں کی اور مسلم سیاسی پارٹیوں کی چھوٹی چھوٹی جھنڈیوں کی جھالریں کٹی پھٹی حالت میں لٹکی ہوئی تھیں۔کہیں کہیں کوڑا کچرا بھی تھا اور راستے تنگ تنگ سے ،ان پر جگہ جگہ ٹھیلے اور ٹھیلوں پر دودوتین تین دن پرانے سامان،پھل فروٹ وغیرہ۔کھانا کھانے کے بعد ہم قریبی راستے سے گھر واپس آگئے۔چوں کہ آج مجھے ممبئی واپس بھی جانا تھا ،اس لیے ہر کام میں جلدی ہی کی جارہی تھی ۔گھر پہنچنے کے بعد مادرمحترم نے ایک شاندار چائے بنائی جو ہم دونوں نے فلیٹ کی بالکنی میں بیٹھ کر پی۔بالکنی سے شہر اور قومی شاہراہ کا منظر بہت ہی نمایاں نظر آرہا تھا ۔کتنا پیارا لگ رہا تھا وہ فضائی منظر جب شہرکے راستوں اور قومی شاہراہ پر چلنے پھرنے والی گاڑیاں ایسی لگ رہی تھیں جیسے کسی انڈسٹری کی مشین میں خام سامان آٹومیٹک دھیرے دھیرے سرکتا ہے۔اونچے ٹاوروں پر کلرڈ اشتہارات دور تک پھیلے ہوئے تھے۔آسمان بھی صاف تھا ،ہاں! بادلوں کے چند آوارہ ٹکڑے ضرور کہیں کہیں نظر آرہے تھے۔شام جیسے جیسے گھِر رہی تھی،ہوا میں خنکی بھی تیز ہوتی جارہی تھی ،لہٰذا چائے ختم کرنے ،دیرتک باتیں کرنے اور نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے بعد اب ہال میں ہی آنا مناسب سمجھا۔پھر تھوڑی دیر بعد میں اپنا سامان سمیٹ رہا تھا ۔سامان سمیٹنے کے پونے گھنٹے بعد مادر محترم نے مجھے شہر کی ایک معزز شخصیت جناب آصف کمانڈو سے ملایا اور اس کے بعد دوارکا آٹو اسٹینڈسے ماؤں اور بزرگوں کی طرح سر پر ہاتھ پھیر کر سی آف کیا۔میں ان کی دعائیں،دودن کی محبتیں،ہزار برسوں کی نوازشیں لے کر ناشک روڈ اسٹیشن پہنچا اور وہاں سے ’الہ آباد۔ممبئی‘ٹرین میں سوار ہو کر بارہ بجے کے قریب ممبئی پہنچ گیا۔
ممبئی یونیورسٹی کیمپس میں ایک پورادن:
23جنوری کی صبح ہوئی ،جو تمام صبحوں کی مانند تھی مگر اس صبح میں میرے لیے خاص بات یہ رہی کہ اس دن میں نے ایک بار پھر ممبئی یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا اور جن اساتذہ سے پہلی وزٹ میں ملاقات نہ ہوسکی،ان سب سے اس بار ملاقات کا عزم کیا۔راستہ وہی تھا۔مسجد بندر ٹو کرلا اسٹیشن،وہی لوکل ٹرین اور وہی اس کی بھیڑ،وہ گہماگہمی اور وہی سب کچھ ۔یہ میں ہی جانتا ہوں کہ کیسے کیسے کرلا اسٹیشن پر اترا ،بلکہ کچھ دیر تک تو مجھے لگا بھی نہیں کہ میں اتر گیا ہوں ،مگر واقعی میں اتر گیا تھا ۔اگژٹ وے سے باہر آیا ۔اب تک’’بیسٹ ‘‘ ورکر س کی دس دن تک جاری رہنے والی ہڑتال،سی ۔ایم فڑنویس کی یقین دہانی کے بعدختم ہوچکی تھی۔میرا بہت من کرتا تھا کہ ممبئی کی بسوں میں بیٹھوں،اس سے بھی زیادہ مجھے ڈبل ڈیکر میں بیٹھنے کا شوق تھا ۔اللہ پاک کا شکرو احسان کہ مجھے یہ موقع مل گیا۔میں کرلا سے ممبئی یونیورسٹی،ودّیا نگری اسی سے گیا اور اسی سے آیا۔
کیمپس میں داخل ہوا تو انٹری گیٹ پر درخت کی منڈیر پر بیٹھے گاندھی جی کے تین بندروں سے ملاقات ہوئی جو اسی طرح بیٹھے تھے (ایک منہ بند کیے ہوئے،ایک آنکھ بند کیے ہوئے ،ایک کانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے) گاندھی کے بندروں سے بائیں جانب سے اردو ڈیپارٹمنٹ کا راستہ جاتا ہے ،جو ودیا نگری ریسیڈینس اور گرین شیڈ سے ہوتے ہوئے ’فیروز شاہ مہتا بھون‘ کے فرسٹ فلور پر واقع ہے۔
میں ڈیپارٹمنٹ کی گیلری میں بیٹھا ہوا تھا اور دوپہر کا وقت ڈھلتا جارہا تھا ۔ڈاکٹر قمر صدیقی تشریف لائے ۔ڈاکٹر قمر صدیقی جو ایک بہترین شاعر اور اس سے بھی زیادہ بہترین ایڈیٹر ،محقق و ناقد ہیں ۔ان کی ادارت میں برسوں سے جاری ’ماہنامہ اردو چینل‘ اہل علم و نظر اور اصحاب فکر کا پسندیدہ رسالہ ہے ۔اس سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ہے کہ وہ سال کے تمام دن فیس بک کے 40 ،وہاٹس ایپ کے 250 گروپس اور انسٹاگرام کے کتنے ہی فالوروز کو پی ڈی ایف کتابوں کا تحفہ پیش کرتے رہتے ہیں ۔ان کے خزانے میں پانچ سے سو زائد نایاب و نادر کتب کی پی ڈی ایف موجود ہیں جو اپنے وجود اور علمیت کا بیان آپ خودہیں۔
ڈاکٹر قمر صدیقی صاحب سے ابھی گفتگو اور بات چیت جارہی تھی کہ شعبے کے دوسرے اساتذہ تشریف لائے جن میں ڈاکٹر رشید اشرف خان(ساہتیہ اکادمی،یوا انعام یافتہ) ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر اور ڈاکٹر محمد زبیرکے نام مجھے یاد ہیں ۔ابھی ان سے بھی سلام اور تعارف ہورہا تھا کہ صدر شعبۂ اردو ،پرو فیسر صاحب علی ڈاکٹر اسلم پرویز (وائس چانسلر اردو یونیورسٹی،حیدرآباد) کے ساتھ ڈیپارٹمنٹ میں تشریف لائے۔ڈاکٹر قمر صدیقی نے ،جو اب تک مجھ سے مانوس ہوچکے تھے،انھیں میرے بارے میں بتایا۔وہ بہت خوش ہوئے اور کچھ دیر بیٹھے رہنے کے لیے کہہ کر وی سی صاحب کو سی آف کرنے ،ممبئی ائیر پورٹ چلے گئے۔اس دوران میں ڈاکٹر قمر صدیقی چندرفقا کے ساتھ مجھے کھانا کھلانے لے گئے ۔ہم لوگوں نے کھانا کیمپس کےICSSR گیسٹ ہاؤس میں ہی کھایا۔کھانا بہت پر تکلف اور نیازمندی کا نمونہ تھا ۔کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ پھر ڈیپارٹمنٹ آگئے۔شام پھر گھررہی تھی اور اندھیرے دن کی مملکت کی جانب اس طرح بڑھ رہے تھے جیسے طاقت ور دشمن فوجیں کسی پر امن و خوش حال چھوٹی سی ریاست کی جانب بڑھتی ہیں ۔مگر ہم لوگ اندر چیمبر میں تھے ۔کیا پتا تھا کہ باہر کیا ہوا۔صدر شعبہ صاحب ایک بار پھر آئے اور آنے والے دنوں کے لیے ڈیپارٹمنٹ اور اساتذہ کی ذمے داریاں تقسیم کرنے اورکچھ ہدایات دینے لگے۔میں وہاں بیٹھا سب کچھ دیکھا کیا اور سنا کیا۔
ساڑھے آٹھ بجے کا عمل تھا جب میں ڈیپارٹمنٹ آف اردو ،یونیورسٹی آف ممبئی،یا ممبئی ودّیا پیٹھ کے کالینا کیمپس سے نکل رہا تھا ۔جیسے ہی بس اسٹینڈ پر آیا ، دس منٹ بعد ایک ڈبل ڈیکر بس کرلا جانے والی ملی جو ایک روح فرسا جام سے نکلتے ہوئے کرلا اسٹیشن پہنچی ۔اسٹیشن اور ٹرینوں میں اب بھی وہی بھیڑ کا عالم تھا ، تاہم صبح سے تو کچھ کچھ کم ہی تھا۔میں اپنے مقررہ اسٹیشن پر پہنچا اور پھر دن بھر کی تھکان اتارنے کے لیے کمرے میں سوگیا۔رات بہتی ہی جارہی ہوگی۔
الوداع ممبئی،تجھے اللہ رکھے۔۔۔!
اب ممبئی سے میرے چل چلاؤ کے دن تھے لہٰذا کچھ ضروری شاپنگ کرنے کے بعد میں بکھرے سامان کو سمیٹنے لگا ۔پھر ایک دن اور گزار کر جمعے کے روز ہوٹل سے چیک آؤٹ کردیا۔نماز جمعہ مولانا فیروز قاسمی کے ساتھ’ نل بازار‘ کی ایک شافعی مسلک مسجد میں ادا کی اور پھر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد سب دوستوں اور چاہنے والوں سے رخصت لے کر ممبئی سینٹر ل اسٹیشن آگیا جہاں دہلی کی جانب کوچ کرنے والی راجدھانی ایکس پریس تمام حوصلوں اور جذبوں کے ساتھ کھڑی ہوئی مسافروں کا انتظارکررہی تھی،بلکہ مسافروں کا کیوں،اپنے وقت مقرر ہ کا انتظار کررہی تھی ۔چنانچہ جیسے ہی وقت مقررہ کا آخرسکنڈ ہوا،وہ ایک جھٹکے سے ساتھ پلیٹ فارم نمبر 4کو الواداع کہنے لگی۔دادر کے بعد اس کی اسپیڈ کچھ تیز ہوگئی اور ’بوری ولی‘ آتے آتے ریل ہوا سے باتیں کرنے لگی۔یہاں اس کا اسٹوپ تھا،جو چند منٹو ں(دو یا تین،نا کہ نومنٹ)کا تھا ۔یہاں سے سورت،بڑودہ،رتلام،کوٹہ ہوتے ہوئے جب صبح کو متھرا ،کوسی،پلول کے جنگلوں سے گزررہی تھی تو وہی کھیت تھے،وہی ان کے گیہوں اور وہی ہریالی، وہی کہرا آلود موسم بھی ،صبح کا سورج دبکا چھپکا سا نکل رہا تھا۔ممبئی میں تو کچھ اور ہی رُت تھی اور یہاں سردیاں عروج پر ۔خیر 8:15کا وقت تھا جب راجدھانی ایکس پریس نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک پر لمبے لمبے سانس کھینچ رہی تھی ۔مسافر اتررہے تھے اور قلیوں کی وہی راویتی آوازیں آرہی تھیں۔اب دہلی تھی ،جس کی میں نس نس سے واقف ہوں اور و ہ میری،اور میں۔
ممبئی کا سفر کیسا رہا ؟کیسے گزرا وہ آدھا مہینہ اور کیوں کر؟ ان تین مختصر سوالوں کا جواب ہے یہ سفر نامہ ’ممبئی میں آدھا مہینہ ———‘
حوالے:
(1) فاضلی ندا،دیواروں کے بیچ ،نئی دہلی،معیار پبلی کیشنز،نومبر 1992 ،ص:148
(2) فاضلی ندا،دیواروں کے بیچ،نئی دہلی،معیار پبلی کیشنز،نومبر 1992 ص:148، ص:151-52
مضمون نگار کا ایک میل ایڈرس:
imranakifkhan@gmail.com
Patras ke Mazameen
Articles
مرید پور کا پیر
پطرس بخاری
مرید پور کا پیر
پطرس بخاری
اکثر لوگوں کو اس بات تعجب ہوتا ہے کہ میں اپنے وطن کا ذکر کبھی نہیں کرتا۔ بعض اس بات پر بھی حیران ہیں کہ میں اب کبھی اپنے وطن کو نہیں جاتا۔ جب کبھی لوگ مجھ سے اس کی وجہ پوچھتے ہیں تو میں ہمیشہ بات کو ٹال دیتا ہوں۔ اس سے لوگوں کو طرح طرح کے شبہات ہونے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے وہاں اس پر ایک مقدمہ بن گیا تھا اس کی وجہ سے روپوش ہے۔ کوئی کہتا ہے وہاں کہیں ملازم تھا، غبن کا الزام لگا، ہجرت کرتے ہی بنی۔ کوئی کہتا ہے والد اس کی بدعنوانیوں کی وجہ سے گھر میں نہیں گھسنے دیتے۔ غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ آج میں ان سب غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے والا ہوں۔ خدا آپ پڑھنے والوں کو انصاف کی توفیق دے۔
قصہ میرے بھتیجے سے شروع ہوتا ہے۔ میرا بھتیجا دیکھنے میں عام بھتیجوں سے مختلف نہیں۔ میری تمام خوبیاں اس میں موجود ہیں اور اس کے علاوہ نئی پود سے تعلق رکھنے کے باعث اس میں بعض فالتو اوصاف نظر آتے ہیں۔ لیکن ایک صفت تو اس میں ایسی ہے کہ آج تک ہمارے خاندان میں اس شدت کے ساتھ کبھی رونما نہیں ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ بڑوں کی عزت کرتا ہے۔ اور میں تو اس کے نزدیک بس علم و فن کا ایک دیوتا ہوں۔ یہ خبط اس کے دماغ میں کیوں سمایا ہے؟ اس کی وجہ میں یہی بتا سکتا ہوں کہ نہایت اعلیٰ سے اعلیٰ خاندانوں میں بھی کبھی کبھی ایسا دیکھنے میں آ جاتا ہے۔ میں شائستہ سے شائستہ دو زمانوں کے فرزندوں کو بعض وقت بزرگوں کا اس قدر احترام کرتے دیکھا، کہ ان پر پنچ ذات کا دھوکا ہونے لگتا ہے۔
ایک سال میں کانگریس کے جلسے میں چلا گیا۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ کانگریس کا جلسہ میرے پاس چلا آیا۔ مطلب یہ کہ جس شہر میں، میں موجود تھا وہیں کانگریس والوں نے بھی اپنا سالانہ اجلاس منعقد کرنے کی ٹھان لی۔ میں پہلے بھی اکثر جگہ اعلان کر چکا ہوں، اور اب میں ببانگ دہل یہ کہنے کو تیار ہوں کہ اس میں میرا ذرا بھی قصور نہ تھا۔ بعض لوگوں کو یہ شک ہے کہ میں نے محض اپنی تسکین نخوت کے لیے کانگریس کا جلسہ اپنے پاس ہی کرا لیا لیکن یہ محض حاسدوں کی بدطینتی ہے۔ بھانڈوں کو میں نے اکثر شہر میں بلوایا ہے۔ دو ایک مرتبہ بعض تھیٹروں کو بھی دعوت دی ہے لیکن کانگریس کے مقابلے میں میرا رویہ ہمیشہ ایک گمنام شہری کا سا رہا ہے۔ بس اس سے زیادہ میں اس موضوع پر کچھ نہ کہوں گا۔
جب کانگریس کا سالانہ جلسہ بغل میں ہو رہا ہو تو کون ایسا متقی ہو گا جو وہاں جانے سے گریز کرے، زمانہ بھی تعطیلات اور فرصت کا تھا چنانچہ میں نے مشغلۂ بیکاری کے طور پر اس جلسے کی ایک ایک تقریری سنی۔ دن بھر تو جلسے میں رہتا۔ رات کو گھر آ کر اس دن کے مختصر سے حالات اپنے بھتیجے کو لکھ بھیجتا تاکہ سند رہے اور وقت ضرورت کام آئے۔
بعد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ بھتیجے صاحب میرے ہر خط کو بےحد ادب و احترام کے ساتھ کھولتے، بلکہ بعض بعض باتوں سے تہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس افتتاحی تقریب سے پیشتر وہ باقاعدہ وضو بھی کر لیتے۔ خط کو خود پڑھتے پھر دوستوں کو سناتے۔ پھر اخباروں کے ایجنٹ کی دکان پر مقامی لال بجھکڑوں کے حلقے میں اس کو خوب بڑھا چڑھا کر دہراتے پھر مقامی اخبار کے بےحد مقامی ایڈیٹر کے حوالے کر دیتے جو اس کو بڑے اہتمام کے ساتھ چھاپ دیتا۔ اس اخبار کا نام”مرید پور گزٹ” ہے۔ اس کا مکمل فائل کسی کے پاس موجود نہیں، دو مہینے تک جاری رہا۔ پھر بعض مالی مشکلات کی وجہ سے بند ہو گیا۔ ایڈیٹر صاحب کا حلیہ حسب ذیل ہے۔ رنگ گندمی، گفتگو فلسفیانہ، شکل سے چور معلوم ہوتے ہیں۔ کسی صاحب کو ان کا پتہ معلوم ہو تو مرید پور کی خلافت کمیٹی کو اطلاع پہنچا دیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔ نیز کوئی صاحب ان کو ہرگز ہرگز کوئی چندہ نہ دیں ورنہ خلافت کمیٹی ذمہ دار نہ ہو گی۔
یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اس اخبار نے میرے ان خطوط کے بل پر ا یک کانگریس نمبر بھی نکال مارا۔ جو اتنی بڑی تعداد میں چھپا کہ اس کے اوراق اب تک بعض پنساریوں کی دکانوں پر نظر آتے ہیں۔ بہرحال مرید پور کے بچے بچے نے میری قابلیت، انشاء پردازی، صحیح الدماغی اور جوش قومی کی داد دی۔ میری اجازت اور میرے علم کے بغیر مجھ کو مرید پور کا قومی لیڈر قرار دیا گیا۔ ایک دو شاعروں نے مجھ پر نظمیں بھی لکھیں۔ جو وقتاً فوقتاً مرید پور گزٹ میں چھپتی رہیں۔
میں اپنی اس عزت افزائی سے محض بے خبر تھا۔ سچ ہے خدا جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے، مجھے معلوم تھا کہ میں اپنے بھتیجے کو محض چند خطوط لکھ کر اپنے ہم وطنوں کے دل میں اس قدر گھر کر لیا ہے۔ اور کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ معمولی سا انسان جو ہر روز چپ چاپ سر نیچا کئے بازاروں میں سے گزر جاتا ہے مرید پور میں پوجا جاتا ہے۔ میں وہ خطوط لکھنے کے بعد کانگریس اور اس کے تمام متعلقات کو قطعاً فراموش کر چکا تھا۔ مرید پور گزٹ کا میں خریدار نہ تھا۔ بھتیجے نے میری بزرگی کے رعب کی وجہ سے بھی برسبیل تذکرہ اتنا بھی نہ لکھ بھیجا کہ آپ لیڈر ہو گئے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے یوں کہتا تو برسوں تک اس کی بات میری سمجھ میں نہ آتی بہرحال مجھے کچھ تو معلوم ہوتا کہ میں ترقی کر کے کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہوں۔
کچھ عرصے بعد خون کی خرابی کی وجہ سے ملک میں جا بجا جلسے نکل آئے جس کسی کو ایک میز، ایک کرسی اور گلدان میسر آیا اسی نے جلسے کا اعلان کر دیا۔ جلسوں کے اس موسم میں ایک دن مرید پور کی انجمن نوجوانان ہند کی طرف سے میرے نام اس مضمون کا ایک حظ موصول ہوا کہ آپ کے شہر کے لوگ آپ کے دیدار کے منتظر ہیں۔ ہر کہ دمہ آپ کے روئے انور کو دیکھنے اور آپ کے پاکیزہ خیالات سے مستفید ہونے کے لیے بےتاب ہیں۔ مانا ملک بھر کو آپ کی ذات با برکات کی از حد ضرورت ہے۔ لیکن وطن کا حق سب سے زیادہ ہے۔ کیونکہ “خار وطن از سنبل و ریحان خوشتر۔۔۔” اسی طرح کی تین چار براہین قطعہ کے بعد مجھ سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ آپ یہاں آ کر لوگوں کو ہندو مسلم اتحاد کی تلقین کریں۔
خط پڑھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ لیکن جب ٹھنڈے دل سے اس بات پر غور کیا تو رفتہ رفتہ باشندگان مرید پور کی مردم شناسی کا قائل ہو گیا۔
میں ایک کمزور انسان ہوں اور پھر لیڈری کا نشہ ایک لمحے ہی میں چڑھ جاتا ہے۔ اس لمحے کے اندر مجھے اپنا وطن بہت ہی پیارا معلوم ہونے لگا۔ اہل وطن کی بےحسی پر بڑا ترس آیا۔ ایک آواز نے کہا کہ ان بیچاروں کی بہبودی اور رہنمائی کا ذمہ دار تو ہی ہے۔ تجھے خدا نے تدبر کی قوت بخشی ہے۔ ہزارہا انسان تیرے منتظر ہیں۔ اُٹھ کہ سینکڑوں لوگ تیرے لیے ماحضر لئے بیٹھے ہو گے۔ چنانچہ میں نے مرید پور کی دعوت قبول کر لی۔ اور لیڈرانہ انداز میں بذریعہ تار اطلاع دی، کہ پندرہ دن کے بعد فلاں ٹرین سے مرید پور پہنچ جاؤں گا، اسٹیشن پر کوئی شخص نہ آئے۔ ہر ایک شخص کو چاہئے کہ اپنے اپنے کام میں مصروف رہے۔ ہندوستان کو اس وقت عمل کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد جلسے کے دن تک میں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنی ہونے والی تقریر کی تیاری میں صرف کر دیا، طرح طرح کے فقرے دماغ میں صبح و شام پھرتے رہے۔
“ہند اور مسلم بھائی بھائی ہیں۔”
“ہندو مسلم شیر و شکر ہیں۔”
“ہندوستان کی گاڑی کے دو پہیے۔ اے میرے دوستو! ہندو اور مسلمان ہی تو ہیں۔”
“جن قوموں نے اتفاق کی رسی کو مضبوط پکڑا، وہ اس وقت تہذیب کے نصف النہار پر ہیں۔ جنہوں نے نفاق اور پھوٹ کی طرف رجوع کیا۔ تاریخ نے اس کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔”
بچپن کے زمانے میں کسی درسی کتاب میں “سنا ہے کہ دو بیل رہتے تھے اک جا” والا واقعہ پڑھا تھا۔ اسے نکال کر نئے سرے سے پڑھا اور اس کی تمام تفصیلات کو نوٹ کر لیا۔ پھر یاد آیا، کہ ایک اور کہانی بھی پڑھی تھی، جس میں ایک شخص مرتے وقت اپنے تمام لڑکوں کو بلا کر لکڑیوں کا ا یک گٹھا ان کے سامنے رکھ دیتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ اس گٹھے کو توڑو۔ وہ توڑ نہیں سکے۔ پھر اس گٹھے کو کھول کر ایک ایک لکڑی ان سب کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ جسے وہ آسانی سے توڑ لیتے ہیں۔ اس طرح وہ اتفاق کا سبق اپنی اولاد کے ذہن نشین کرتا ہے۔ اس کہانی کو بھی لکھ لیا، تقریر کا آغاز سوچا۔ سو کچھ اس طرح کی تمہید مناسب معلوم ہوئی کہ:
“پیارے ہم وطنو!”
گھٹا سر پہ ادبار کی چھا رہی ہے
فلاکت سماں اپنا دکھلا رہی ہے
نحوست پس و پیش منڈلا رہی ہے
یہ چاروں طرف سے ندا آ رہی ہے
کہ کل کون تھے آج کیا ہو گئے تم
ابھی جاگتے تھے ابھی سو گئے تم
ہندوستان کے جس مایۂ ناز شاعر یعنی الطاف حسین حالی پانی پتی نے آج سے کئی برس پیشتر یہ اشعار قلمبند کئے تھے۔ اس کو کیا معلوم تھا، کہ جوں جوں زمانے گزرتا جائے گا، اس کے المناک الفاظ روزبروز صحیح تر ہوتے جائیں گے۔ آج ہندوستان کی یہ حالت ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
اس کے بعد سوچا کہ ہندوستان کی حالت کا ایک دردناک نقشہ کھینچوں گا، افلاس، غربت، بغض وغیرہ کی طرف اشارہ کروں گا اور پھر پوچھوں گا، کہ اس کی وجہ آخر کیا ہے؟ ان تمام وجوہ کو دہراؤں گا، جو لوگ اکثر بیان کرتے ہیں۔ مثلاً غیرملکی حکومت، آب و ہوا، مغربی تہذیب۔ لیکن ان سب کو باری باری غلط قرار دوں گا، اور پھر اصل وجہ بتاؤں گا کہ اصل وجہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا نفاق ہے، آخر میں اتحاد کی نصیحت کروں گا اور تقریر کو اس شعر پر ختم کروں گا کہ:
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
دس بارہ دن اچھی طرح غور کر لینے کے بعد میں نے اس تقریر کا ایک خاکہ سا بنایا۔ اور اس کو ایک کاغذ پر نوٹ کیا، تاکہ جلسے میں اسے اپنے سامنے رکھ سکوں۔ وہ خاکہ کچھ اس طرح کا تھا،
(۱) تمہید اشعار حالی۔ (بلند اور دردناک آواز سے پڑھو۔)
(۲) ہندوستان کی موجودہ حالت۔
(الف) افلاس
(ب) بغض
(ج) قومی رہنماؤں کی خود غرضی
(۳) اس کی وجہ۔
کیا غیرملکی حکومت ہے؟ نہیں۔
کیا آب و ہوا ہے؟ نہیں۔
کیا مغربی تہذیب ہے؟ نہیں۔
تو پھر کیا ہے؟ (وقفہ، جس کے دوران میں مسکراتے ہوئے تمام حاضرین جلسہ پر ایک نظر ڈالو۔)
(۴) پھر بتاؤ، کہ وجہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا نفاق ہے۔ (نعروں کے لیے وقفہ۔)
اس کا نقشہ کھینچو۔ فسادات وغیرہ کا ذکر رقت انگیز آواز میں کرو۔
(اس کے بعد شاید پھر چند نعرے بلند ہوں، ان کے لیے ذرا ٹھہر جاؤ۔)
(۵) خاتمہ۔ عام نصائح۔ خصوصیات اتحاد کی تلقین، شعر
(اس کے بعد انکسار کے انداز میں جا کر اپنی کرسی پر بیٹھ جاؤ۔ اور لوگوں کی داد کے جواب میں ایک ایک لمحے کے بعد حاضرین کو سلام کرتے رہو۔)
اس خاکے کو تیار کر چکنے کے بعد جلسے کے دن تک ہر روز اس پر نظر ڈالتا رہا اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بعد معرکہ آرا فقروں کی مشق کرتا رہا۔ نمبر ۳ کے بعد کی مسکراہٹ کی خاص مشق بہم پہنچائی۔ کھڑے ہو کر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں گھومنے کی عادت ڈالی تاکہ تقریر کے دوران میں آواز سب تک پہنچ سکے اور سب اطمینان کے ساتھ ایک ایک لفظ سن سکیں۔
مرید پور کا سفر آٹھ گھنٹے کا تھا۔ رستے میں سانگا کے اسٹیشن پر گاڑی بدلنی پڑتی تھی۔ انجمن نوجوان ہند کے بعض جوشیلے ارکان وہاں استقبال کو آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے ہار پہنائے۔ اور کچھ پھل وغیرہ کھانے کو دئے۔ سانگا سے مرید پور تک ان کے ساتھ اہم سیاسی مسائل پر بحث کرتا رہا۔ جب گاڑی مرید پور پہنچی تو اسٹیشن کے باہر کم از کم تین ہزار آدمیوں کا ہجوم تھا۔ جو متواتر نعرے لگا رہا تھا۔ میرے ساتھ جو والنٹیئر تھے، انہوں نے کہا، “سر باہر نکالئے، لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔” میں نے حکم کی تعمیل کی۔ ہار میرے گلے میں تھے۔ ایک سنگترہ میرے ہاتھ میں تھا، مجھے دیکھا تو لوگ اور بھی جوش کے ساتھ نعرہ زن ہوئے۔ بمشکل تمام باہر نکلا۔ موٹر پر مجھے سوار کرایا گیا۔ اور جلوس جلسہ گاہ کی طرف پایا۔
جلسہ گاہ میں داخل ہوئے، تو ہجوم پانچ چھ ہزار تک پہنچ چکا تھا۔ جو ایک آواز ہو کر میرا نام لے لے کر نعرے لگاتا رہا تھا۔ دائیں بائیں، سرخ سرخ جھنڈیوں پر مجھ خاکسار کی تعریف میں چند کلمات بھی درج تھے۔ “مثلاً ہندوستان کی نجات تمہیں سے ہے۔” “مرید پور کے فرزند خوش آمدید۔” “ہندوستان کو اس وقت عمل کی ضرورت ہے۔”
مجھ کو اسٹیج پر بٹھایا گیا ہے۔ صدر جلسہ نے لوگوں کے سامنے مجھے سے دوبارہ مصافحہ کیا اور میرے ہاتھ کو بوسہ دیا اور پھر اپنی تعارفی تقریر یوں شروع کی:
“حضرات! ہندوستان کے جس نامی اور بلند پایہ لیڈر کو آج جلسے میں تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔۔۔”
تقریر کا لفظ سن کر میں نے اپنی تقریر کے تمہیدی فقروں کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس وقت ذہن اس قدر مختلف تاثرات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا، کہ نوٹ دیکھنے کی ضرورت پڑی۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو نوٹ ندارد۔ ہاتھ پاؤں میں یک لخت ایک خفیف سی خنکی محسوس ہوئی۔ دل کو سنبھالا کہ ٹھہرو، ابھی اور کئی جیبیں ہیں گھبراؤ نہیں رعشے کے عالم میں سب جیبیں دیکھ ڈالیں۔ لیکن کاغذ کہیں نہ ملا۔تمام ہال آنکھوں کے سامنے چکر کھانے لگا، دل نے زور زور سے دھڑکنا شروع کیا، ہونٹ خشک ہوتے محسوس ہوئے۔ دس بارہ دفعہ جیبوں کو ٹٹولا۔ لیکن کچھ بھی ہاتھ نہ آیا جی چاہا کہ زور زور سے رونا شروع کر دوں۔ بےبسی کے عالم میں ہونٹ کاٹنے لگے، صدر جلسہ اپنی تقریر برابر کر رہے تھے۔
مرید پور کا شہر ان پر جتنا بھی فخر کرے کم ہے ہر صدی اور ہر ملک میں صرف چند ہی آدمی ایسے پیدا ہوتے ہیں، جن کی ذات نوع انسان کے لیے۔۔۔”
خدایا اب میں کیا کروں گا؟ ایک تو ہندوستان کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس سے پہلے یہ بتانا ہے، کہ ہم کتنے نالائق ہیں۔ نالائق کا لفظ تو غیر موزوں ہو گا، جاہل کہنا چاہئے، یہ ٹھیک نہیں، غیر مہذب۔
“ان کی اعلیٰ سیاست دانی، ان کا قومی جوش اور مخلصانہ ہمدردی سے کون واقف نہیں۔ یہ سب باتیں تو خیر آپ جانتے ہیں، لیکن تقریر کرنے میں جو ملکہ ان کو حاصل ہے۔۔۔”
ہاں وہ تقریر کا ہے سے شروع ہوتی ہے؟ ہندو مسلم اتحاد پر تقریر چند نصیحتیں ضرور کرنی ہیں، لیکن وہ تو آخر میں ہیں، وہ بیچ میں مسکرانا کہاں تھا؟
“میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، کہ آپ کے دل ہلا دیں گے، اور آپ کو خون کے آنسو رلائیں گے۔۔۔”
صدر جلسہ کی آواز نعروں میں ڈوب گئیں۔ دنیا میری آنکھوں کے سامنے تاریک ہو رہی تھی۔ اتنے میں صدر نے مجھ سے کچھ کہا مجھے الفاظ بالکل سنائی نہ دئے۔ اتنا محسوس ہوا کہ تقریر کا وقت سر پر آن پہنچا ہے۔ اور مجھے اپنی نشست پر سے اٹھنا ہے۔چنانچہ ایک نامعلوم طاقت کے زیر اثر اٹھا۔ کچھ لڑکھڑایا، پھر سنبھل گیا۔ میرا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ ہال میں شور تھا، میں بیہوشی سے ذرا ہی دور تھا۔ اور نعروں کی گونج ان لہروں کے شور کی طرح سنائی دے رہی تھی جو ڈوبتے ہوئے انسان کے سر پر سے گزر رہی ہوں۔ تقریر شروع کہاں سے ہوتی ہے؟ لیڈروں کی خود غرضی بھی بیان کرنی ہے۔ اور کیا کہنا ہے؟ ایک کہانی بھی تھی بگلے اور لومڑی کی کہانی۔ نہیں ٹھیک ہے دو بیل۔۔۔”
اتنے میں ہال میں سناٹا چھا گیا۔ لوگ سب میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور سہارے کے لیے میز کو پکڑ لیا میرا دوسرا ہاتھ بھی کانپ رہا تھا، وہ بھی میں نے میز پر رکھ دیا۔ اس وقت ایسا معلوم ہو رہا تھا، جیسے میز بھاگنے کو ہے۔ اور میں اسے روکے کھڑا ہوں۔ میں نے آنکھیں کھولیں اور مسکرانے کی کوشش کی، گلا خشک تھا، بصد مشکل میں نے یہ کہا۔
“پیارے ہم وطنو!”
آواز خلاف توقع بہت ہی باریک اور منحنی سی نکلی۔ ایک دو شخص ہنس دئے۔ میں نے گلے کو صاف کیا تو اور کچھ لوگ ہنس پڑے۔ میں نے جی کڑا کر کے زور سے بولنا شروع کیا۔ پھیپھڑوں پر یک لخت جو یوں زور ڈالا تو آواز بہت ہی بلند نکل آئی، اس پر بہت سے لوگ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ ہنسی تھمی، تو میں نے کہا۔
“پیارے ہم وطنو!”
اس کے بعد ذرا دم لیا، اور پھر کہا، کہ:
“پیارے ہم وطنو!”
کچھ نہ آیا، کہ اس کے بعد کیا کہنا ہے۔ سینکڑوں باتیں دماغ میں چکر لگا رہی تھیں، لیکن زبان تک ایک نہ آتی تھی۔
“پیارے ہم وطنو!”
اب کے لوگوں کی ہنسی سے میں بھنا گیا۔ اپنی توہین پر بڑا غصہ آیا۔ ارادہ کیا، کہ اس دفعہ جو منہ میں آیا کہہ دوں گا، ایک دفعہ تقریر شروع کر دوں، تو پھر کوئی مشکل نہیں رہے گی۔
“پیارے ہم وطنو! بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہندوستان کی آب و ہوا خراب یعنی ایسی ہے، کہ ہندوستان میں بہت سے نقص ہیں۔۔۔ سمجھے آپ؟ (وقفہ۔۔۔) نقص ہیں۔ لیکن یہ بات یعنی امر جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے گویا چنداں صحیح نہیں۔” (قہقہہ)
حواس معطل ہو رہے تھے، سمجھ میں نہ آتا تھا، کہ آخر تقریر کا سلسلہ کیا تھا۔ یک لخت بیلوں کی کہانی یاد آئی، اور راستہ کچھ صاف ہوتا دکھائی دیا۔
“ہاں تو بات دراصل یہ ہے، کہ ایک جگہ دو بیل اکٹھے رہتے تھے، جو باوجود آب و ہوا اور غیر ملکی حکومت کے۔” (زور کا قہقہہ)
یہاں تک پہنچ کر محسوس کیا، کہ کلام کچھ بے ربط سا ہو رہا ہے۔ میں نے کہا، چلو وہ لکڑی کے گٹھے کی کہانی شروع کر دیں۔
“مثلاً آپ لکڑیوں کے ایک گٹھے کو لیجئے لکڑیاں اکثر مہنگی ملتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں افلاس بہت ہے۔ گویا چونکہ اکثر لوگ غریب ہیں، اس لئے گویا لکڑیوں کا گٹھا یعنی آپ دیکھئے نا۔ کہ اگر۔” (بلند اور طویل قہقہہ)
“حضرات! اگر آپ نے عقل سے کام نہ لیا تو آپ کی قوم فنا ہو جائے گی۔ نحوست منڈلا رہی ہے۔ (قہقہے اور شور و غوغا۔۔۔ اسے باہر نکالو۔ ہم نہیں سنتے ہیں۔)
شیخ سعدی نے کہا ہے۔ کہ:
چو از قوم یکے بیدانشی کرد
(آواز آئی کیا بکتا ہے۔) خیر اس بات کو جانے دیجئے۔ بہرحال اس بات میں تو کسی کو شبہ نہیں ہو سکتا۔ کہ:
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے دل پکار میں چلاؤ ہائے گل
اس شعر نے دوران خون کو تیز کر دیا، ساتھ ہی لوگوں کا شور بھی بہت زیادہ ہو گیا۔ چنانچہ میں بڑے جوش سے بولنے لگا:
“جو قومیں اس وقت بیداری کے آسمان پر چڑھی ہوئی ہیں، ان کی زندگیاں لوگوں کے لیے شاہراہ ہیں۔ اور ان کی حکومتیں چار دانگ عالم کی بنیادیں ہلا رہی ہیں۔ (لوگوں کا شور اور ہنسی اور بھی بڑھتی گئی۔) آپ کے لیڈروں کے کانوں پر خود غرضی کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے، کہ زندگی کے وہ تمام شعبے ۔۔۔”
لیکن لوگوں کا غوغا اور قہقہے اتنے بلند ہو گئے کہ میں اپنی آواز بھی نہ سن سکتا تھا۔ اکثر لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اور گلا پھاڑ پھاڑ کر کچھ کہہ رہے تھے۔ میں سر سے پاؤں تک کانپ رہا تھا۔ ہجوم میں سے کسی شخص نے بارش کے پہلے قطرے کی طرح ہمت کر کے سگریٹ کی ایک خالی ڈبیا مجھ پر پھینک دی۔ اس کے بعد چار پانچ کاغذ کی گولیاں میرے اردگرد اسٹیج پر آگیں، لیکن میں نے اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھا۔
“حضرات! تم یاد رکھو۔ تم تباہ ہو جاؤ گے! تم دو بیل ہو۔۔۔”
لیکن جب بوچھاڑ بڑھتی ہی گئی ، تو میں نے اس نامعقول مجمع سے کنارہ کشی ہی مناسب سمجھی۔ اسٹیج سے پھلانگا، اور زقند بھر کے دروازے میں باہر کا رخ کیا، ہجوم بھی میرے پیچھے لپکا۔ میں نے مڑ کر پیچھے نہ دیکھا۔ بلکہ سیدھا بھاگتا گیا۔ وقتاً فوقتاً بعض نامناسب کلمے میرے کانوں تک پہنچ رہے تھے۔ ان کو سن کر میں نے اپنی رفتار اور بھی تیز کر دی۔ اور سیدھا اسٹیشن کا رخ کیا، ایک ٹرین پلیٹ فارم پر کھڑی تھی میں بے تحاشہ اس میں گھس گیا، ایک لمحے کے بعد وہ ٹرین وہاں سے چل دی۔
اُس دن کے بعد آج تک نہ مرید پور نے مجھے مدعو کیا ہے۔ نہ مجھے خود وہاں جانے کی خواہش پیدا ہوئی ہے۔
