Maulana Abulkalam Azad ka Swanahi Khaka by Haseeb Ahmad Haseeb

Articles

مولانا ابو الکلام آزاد رح کا سوانحی خاکہ اور تفسیری منہج

حسیب احمد حسیب

بر صغیر پاک و ہند کے اہل علم کی ایک طویل فہرست ہے کہ جو مروجہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کا بھی خاص درک رکھتے تھے اور انہوں نے علوم دینیہ کے حوالے سے جدید انداز میں کام بھی کیا گو کہ ایسے احباب کی تفردات بھی بے شمار ہیں لیکن انکے علمی کام سے انکار بھی ممکن نہیں .
اسی فہرست کا ایک درخشندہ ستارہ مولانا ابو الکلام آزاد رح بھی تھے لیکن افسوس کے آپ کے علمی کمالات آپ کی سیاسی فکر کے پیچھے پوشیدہ ہو گئے اور خاص کر پاکستان کی سیاسی فضاء اور تقسیم کے قضیے کے تناظر میں مولانا آزاد رح کی علمی حیثیت کے ساتھ جو تعصب برتا گیا وہ انتہائی قابل افسوس ہے اسی حوالے سے مولانا اصلاحی مرحوم رح کو ایک تحریر بھی لکھنا پڑی .
مولانا پر بے جا تنقید
پاکستان اور ہندوستان کے متعدد مخلصین نے ہمیں کراچی کے ایک معاصر کے ایک مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے جو معاصر مذکور کی مارچ کی اشاعت میں ’’پردہ اٹھنے کے بعد‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ پورا مضمون نہایت ہی توہین آمیز اور حد درجہ دل آزار ہے۔ یہ معاصر مولانا مرحوم کے متعلق اسی قسم کا ایک دل آزار مضمون اس سے پہلے بھی شائع کر چکا ہے۔ مولانا آزاد معاصر مذکور کی نظر میں جیسے کچھ بھی ہوں، لیکن اب وہ اپنے رب کے پاس جا پہنچے! وفات پا جانے والوں سے متعلق ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یہ ہے کہ اگر ان کی کچھ بھلائیاں ہمارے علم میں ہوں تو ان کا ذکر کریں، ورنہ کم از کم ان کی لغزشوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں۔ جو لوگ مولانا کے وفات پا چکنے کے بعد ان کا پردہ اٹھانے کی سعی میں سرگرم ہیں، ان کے سینے ہمارے نزدیک خوف خدا سے بالکل خالی ہیں۔ وہ اپنے اس رویہ سے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کر رہے ہیں کہ وہ اسی دنیا میں ان کے پردے چاک کرے۔
مولانا آزاد مکہ میں نہیں پیدا ہوئے کھیم کرن میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ کوئی بڑے عالم نہیں تھے، بلکہ مسجد کو رہن رکھنے والے اور بدعتی آدمی تھے۔ سوال یہ ہے کہ ان تحقیقات سے اقامت دین کے اس نصب العین کو کیا تقویت پہنچ رہی ہے جس کے یہ حضرات کل تک علم اٹھائے پھر رہے تھے! مولانا آزاد میں جو بڑائیاں اور خوبیاں تھیں، وہ یہ نہیں تھیں کہ وہ بہت بڑے باپ کے بیٹے یا کسی بہت بڑی درس گاہ سے نسبت رکھنے والے تھے، بلکہ یہ ساری خوبیاں ان کی ذاتی خوبیاں تھیں اور وہ اتنی شان دار تھیں کہ ان کے بدتر سے بدتر حاسد بھی ان کا انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ مولانا آزاد نے دوسروں کی نسبت سے خود شرف حاصل نہیں کیا، بلکہ اپنی نسبت سے دوسروں کو شرف بخشا۔
مولانا کی عربی دانی کی بحث بھی ایک غیر ضروری اور غیر مفید بحث ہے۔ اور اگر یہ بحث کچھ مفید بھی ہے تو بہرحال ان لوگوں کے اٹھانے کی نہیں ہے جو خود عربی، فارسی، انگریزی، ہر چیز سے بے بہرہ ہیں۔
مولانا پر یہ طنز بھی ہمارے نزدیک ابھی قبل ازوقت ہے کہ ’بھارت میں گائے کے ذبیحہ کی ممانعت سے لے کر توہین رسول تک کے اندوہناک واقعات رونما ہو گئے، مگر حزب اللہ کے موسس امام الاحرار مولانا محی الدین المکنی بابی الکلام الدہلوی دم سادھے بیٹھے رہے!‘
مولانا پر یہ طنز اس وقت موزوں رہے گا جب یہ حضرات بھارت کے کفرستان میں نہیں، بلکہ پاکستان کے اسلامستان میں، جو سو فی صد مسلمانوں کا ملک ہے اور اسلام ہی کے نام پر حاصل کیا گیا ہے، کچھ کر کے دکھا سکیں۔ ابھی تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ جن حضرات کو اپنے ناخن تدبیر کی جولانیوں پر بڑا ناز تھا، رشتہ میں ایک ہی گرہ پڑ جانے سے، وہ اس طرح چکرا گئے ہیں کہ گرہ کھولنے کے بجاے سر کھجانے میں مصروف ہیں :
اس بے بسی میں یارو، کچھ بن پڑے تو جانیں
جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
بہرحال، مولانا مرحوم کے متعلق اس طرح کی بحثیں جو لوگ چھیڑ رہے ہیں، ان کے ظرف کے متعلق کوئی اچھی راے نہیں قائم کی جا سکتی۔ مولانا آزاد ان حضرات کے نزدیک واقدی کی طرح کذاب ہیں۔ لیکن ان کی یہی ایک خوبی ان حضرات کی تمام خوبیوں پر بھاری ہے کہ ان کی ذات پر جب بھی اس قسم کے شریفانہ حملے کیے گئے تو انھوں نے ان کا نوٹس نہیں لیا، بلکہ اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اپنے اس قسم کے کرم فرماؤں کے ساتھ ان کی مشکلات میں انھوں نے نہایت اچھا سلوک کیا۔ ان کی طبیعت میں بڑی بلندی تھی اور اس بلندی کی وجہ سے وہ لوگوں کی حاسدانہ باتوں کی کبھی پروا نہیں کرتے تھے۔ پھر یہ بات بھی تھی کہ ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عظمت و شہرت عطا فرما دی تھی کہ ان کو اپنی شہرت و عظمت کی تعمیر کے لیے دوسروں کی شہرت پر حملہ کرنے کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی۔
مولانا آزاد جیسے لوگوں پر اگر کسی کو بحث کرنی ہو تو ان کے افکار و نظریات پر کرے۔ اس لیے کہ اس طرح کے لوگوں کے افکار و نظریات سے ہزاروں انسانوں کی زندگیاں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ مولانا آزاد کے بعض افکار و نظریات سے ہمیں بھی اختلاف ہوا ہے اور ہم نے اپنے اس اختلاف کا اپنی تحریروں میں اظہار بھی کیا ہے، لیکن اس اختلاف کے باوجود ہماری نظروں میں ا ن کی عزت و عظمت کبھی کم نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے اور ان کی ذات پر اس قسم کے ’شریفانہ‘ حملے کرنے والوں کو توفیق دے کہ یہ اپنے زبان و قلم کی صلاحیتیں کسی مفید مقصد کے لیے استعمال کریں اور دوسروں کا پردہ اٹھانے کے بجاے اپنا پردہ قائم رکھنے کی کوشش کریں!
معاصر موصوف نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مولانا مرحوم کے سارے تربیت یافتہ ملحد اور بے دین ہیں اور اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ مولانا بھی ایک ملحد و بے دین تھے۔ یہ نکتہ اگر صحیح ہے تو کیا یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اسی نکتہ کی روشنی میں ان بزرگوں کے متعلق کیا راے قائم کی جائے جن کے فیض تربیت کا یہ مظاہرہ معاصر موصوف نے کیا ہے اور جن کو اپنے صفحات میں وہ ہم رتبۂ ابن تیمیہ و شاہ ولی اللہ قرار دیتا رہا ہے۔
(مقالات اصلاحی ۲/ ۴۰۸، بہ حوالہ ماہنامہ میثاق لاہور۔ اپریل ۱۹۶۰ء)
مولانا آزاد سوانحی خاکہ
ابوالکلام محی الدین احمد آزاد : (پیدائش 11 نومبر 1888ء – وفات 22 فروری 1958ء)
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا ان کے والد بزرگوار محمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ مولانا 1888ء میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپنمکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہر(مصر) چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔
مولانا بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگرس کے ہمنوا تھے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم کے بعد جب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وقار کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو مولانا آگے بڑھے اور اس کے وقار کو ٹھیس پہنچانے سے بچا لیا۔ آپ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔ 22 فروری 1958ء کو انتقال ہوا۔
مولانا کی سیاسی فکر
فروری ۱۹۲۰ء ؁ مین بنگال کی صوبائی خلافت کانفرس کے صدر کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے خطبۂ صدارت میں مسلۂ خلافت کی شرعی حیثیت بر بحث کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’اسلام کا قانون شرعی یہ ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہونا چاہئے ۔ خلیفہ سے مقصود ایسا خود مختار مسلمان بادشاہ اور صاحب حکومت و مملکت ہے جو مسلمانوں اور ان کی آبادیوں کی حفاظت اور شریعت کے اجراء و نفاذ کی پوری قدرت رکھتا ہو۔ اور دشمنوں سے مقابلہ کے لئے پوری طرح طاقتور ہو۔ صدیوں سے اسلامی خلافت کا منصب سلاطین عثمانیہ کو حاصل ہے اور اس وقت ازروئے شرع تمام مسلمانانِ عالم کے خلیفہ و امام وہی ہیں۔ پس ان کی اطاعت اور اعانت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اسلام کا حکم شرعی ہے کہ جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے محفوظ رکھا جائے اس میں عراق کا ایک حصہ بغداد بھی داخل ہے۔ پس اگر کوئی غیر مسلم حکومت اس پر قابض ہونا چاہے یا اس کو خلیفہ اسلام کی حکومت سے نکال کر اپنے زیر اثر لانا چاہے تو یہ صرف ایک اسلامی ملک سے نکل جانے کا مسئلہ نہ ہوگا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مخصوص سنگین حالت پیدا ہو جائے گی۔ یعنی اسلام کی مرکزی زمین پر کفر چھا جائے گا۔ پس ایسی حالت میں تمام مسلمانِ عالم کا اولین فرض ہوگا کہ وہ اس قبضہ کو ہٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ اسلام کے مقامامت مقدسہ میں بیت المقدس اسی طرح محترم ہے جس طرح حرمین شریف اسکے لئے لاکھوں مسلمان اپنی جان کی قربانیاں او یورپ کے آٹھ صلیبی جہادوں کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ پس تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس مقام کو دوبارہ غیر مسلموں کے قبضے میں نہ جانے دیں۔ خاص طور سے مسیحی حکومتوں کے قبضہ واقتدار میں۔ اور اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کے خلاف دفاع کرنا صرف وہاں کی مسلمان آبادی ہی کا فرض نہ ہوگا بلکہ بیک وقت وبیک دفعہ تمام مسلمانانِ عالم کا فرض ہوگا‘‘
مولانا ابوالکلام آزاد نے ائمہ کے اقوال کی روشنی میں نظامِ خلافت کی تعریف کی ہے:
”مسلمانوں کی ایسی حکومت جو ارکانِ اسلام کو قائم رکھے، جہاد کا سلسلہ و نظام درست کرے، اسلامی ملکوں کو دشمنوں کے حملہ سے بچائے اور ان کاموں کے لیے فوجی قوت کی ترتیب اور لڑائی کا سامان وغیرہ جوکچھ مطلوب ہو، اُس کاانتظام کرے، مختصر یہ کہ اسلام کا خلیفہ وہ حکمران ہوسکتاہے جواسلام و ملت کے لیے دفاع و جہاد کی خدمت انجام دے سکے۔”12
مسئلہ خلافت: ص126
ابوالکلام آزاد تحریر کرتے ہیں :
”عثمانی ترک نہ تو عرب پرقانع ہوئے نہ ایران و عراق پر، نہ شام و فلسطین کی حکومت اُن کو خوش کرسکی، نہ وسط ایشیاکی بلکہ تمام مشرق سے بے پروا ہوکر یورپ کی طرف بڑھے۔ اُس کے عین قلب (قسطنطنیہ) کو مسخر کرلیا اور اور اس کی اندورنی آبادیوں تک میں سمندر کی موجوں کی طرح در آئے حتیٰ کہ دارالحکومت آسٹریا کی دیوار اُن کے جولانِ قدم کی ترکتازیوں سے بارہا گرتے گرتے بچ گئی۔ ترکوں کا یہ وہ جرم ہے جو یورپ کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں کاکوئی موجودہ حکمران خاندان اس جرم (فتح یورپ) میں اُن کا شریک نہیں ہے۔ اس لیے ہرحکمران مسلمان اچھا تھا جو یورپ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا مگر یہ ترک وحشی و خونخوار ہے اس لیے کہ یورپ کا طلسم سطوت اُس کی شمشیر بے پناہ سے ٹوٹ گیا۔”13
مسئلہ خلافت، ص116
مولانا کا تصور قومیت
مولانا نے رام گڑھ کے کانگریس کے ایک اہم اجلاس میں جو وقیع خطبہ دیا تھا آئیے ذرا اس کے ایک پیراگراف پر نظر ڈالتے ہیں:
”میں مسلمان ہو ں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کے تیرہ سو برس کی شان دارر وایتیں میرے وِرثے میں آئی ہیں ، میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم ،اسلام کی تاریخ ،اسلام کے علوم و فنون،اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں،بہ حیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی خاص ہستی رکھتاہوں اور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے ،لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتاہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا،اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی،بلکہ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے ،میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں،میں ہندوستان کی ایک ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں،میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے ،میں اس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل فیکٹر ہوں ،میں اس دعوے سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔ ہم تو اپنے ساتھ کچھ ذخیرے لائے تھے ،اور یہ سر زمین بھی ذخیروں سے مالا مال تھی، ہم نے اپنی دولت اس کے حوالے کردی اور اس نے اپنے خزانوں کے دروازے ہم پر کھول دیے ،ہم نے اسے اسلام کے ذخیرے کی وہ سب سے زیادہ قیمتی چیز دے دی جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی،ہم نے اسے جمہوریت اور انسانی مساوات کا پیام پہنچادیا۔“
ترجمان القرآن
انتساب
غالباً دسمبر ١٩١٨ کا واقعہ ہے کہ میں رانچی میں نظر بند تھا، عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلا تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص پیچھے آ رہا ہے، مڑ کر دیکھا تو ایک شخص کل اوڑھے کھڑا تھا۔
آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
ہاں جناب! میں بہت دور سے آیا ہوں۔
کہاں سے؟
سرحد پار سے۔۔
یہاں کب پہنچے؟
آج شام کو پہنچا میں بہت غریب آدمی ہوں، قندھار سے پیدل چل کر کوئٹہ پہنچا، وہاں چند ہم وطن سوداگر مل گئے تھے، انہوں نے نوکر رکھ لیا اور آگرہ پہنچا دیا۔ آگرے سے یہاں تک پیدل چل کر آیا ہوں۔
افسوس تم نے اتنی مصیبت کیوں برداشت کی؟
اس لیے کہ آپ سے قرآن کے بعض مقامات سمجھ لوں۔ میں نے الہلال اور البلاغ کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے۔ یہ شخص چند دنوں تک ٹھہرا اور پھر یکایک واپس چلا گیا۔ وہ چلتے وقت اس لیے نہیں ملا کہ اسے اندیشہ تھاکہ میں اسے واپسی کے مصارف کے لیے روپیہ دوں گا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بار مجھ پر ڈالے۔ اس نے واپسی میں بھی مسافت کا بڑا حصہ پیدل طے کیا ہوگا۔
مجھے اس کا نام یاد نہیں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، لیکن اگر میرے حافظے نے کوتاہی نہ کی ہوتی تو میں یہ کتاب اس کے نام سے منسوب کرتا۔
١٢ ستمبر سنہ ١٩٣١ء کلکتہ
آغا شورش کاشمیری “ابوالکلام آزاد” جو مولانا کی سوانح عمری ہے کہ صفحہ نمبر 482 میں رقمطراز ہیں
“مولانا محمد علی جوہر سے تو راقم شخصی نیاز نہیں رہا کہ ان کی رحلت کے وقت راقم ساتویں یا آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا لیکن مولانا ظفر علی خاں سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، خیبر سے مانڈلے تک ان کے ساتھ شریکِ سفر رہا۔ ہندوستان کی سیاست اور مختلف شخصیتوں کے بارے میں جب بھی اُن سے بات چیت ہوتی تو ان نجی محفلوں میں قلم و زبان کی تیزی سے پرہیز کرتے۔ ان کے تبصرے نہایت نپے تُلے اور لگے بندھے ہوتے۔ کئی دفعہ مولانا آزادؒ کا ذکر آیا تو ان کے متعلق نہایت وقیع رائے ظاہر کی۔ ایک دفعہ کہیں سفر پر جا رہے تھے عملہ نے اصرار کیا تو جاتے جاتے ایک طویل نظم بالبداہت ارشاد فرمائی، مطلع تھا
؎
مجھے بھی انتساب ہے ادب کے اس مقام سے
ملی ہوئی ہے جس کی حد قدم گہ نظام سے
دسواں یا گیارھواں شعر تھا؎
جہاں اجتہاد میں سلف کی راہ گم ہوئی
ہے تجھ کو جستجو تو پوچھ ابوالکلام سے
راقم ہمراہ تھا۔ استفسار کیا۔
“مولانا ابوالکلام آزاد کے متعلق آپ نے جو شعر کہا ہے وہ محض قافیہ کی بندش ہے یا فی الواقعہ آپ ایسا ہی سمجھتے ہیں”:
فرمایا:
“جو کچھ میں کہا ، وہ لفظاََ ہی نہیں منعاََ بھی درست ہے”
عرض کیا”
“کیا مولانا ابوالکلام تفسیرِ قرآن میں اسلاف کے پیرو اور اس عہد کے مجتہد ہیں”؟
فرمایا:
“بالکل، اللہ تعالیٰ نے قرآن فہمی کے باب میں انہیں خاص ملکہ عطا کیا ہے ، وہ زمانہ کی فکری تحریکوں کو بخوبی سمجھتے اور قرآن کو ہر زمانے کی پچیدگیوں کا حل قرار دے کر انسانی معاشرے کو اس کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں ۔ وہ قرآن کی ابدی دعوت پر نظامِ کائنات کی اساس رکھتے ہیں۔ ان پر بفضلِ ایزدی علم القرآن کے اس طرح کھلے ہیں کہ ان کے لیے کوئی سی راہ مسدود و منقطع نہیں۔ اُن کی آواز قرآن کی آواز ہے۔”
راقم:”مولانا کے ترجمہ و تفسیر میں بڑی خوبی کیا ہے؟ اور کونسا پہلو ہے جو دوسرے تراجم او تفاسیر کے مقابلے میں منفرد ہے؟”
مولانا:
“اُن کے ترجمہ و تفسیر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قرآن ہی کی زبان میں خطاب کرتے ہیں معلوم ہوتا ہے ان کے الفاظ الوہیت اور نبوت کا جامہ پہنے ہوئے ہیں اور یہ صرف اللہ کی دین ہے۔ دوسرے تراجم جو اب تک ہندوستان میں ہوئے ہیں وہ قرآن کے الفاظ میں لغوی ترجمہ ہیں، ان میں قرآن کے شکوہ کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔ عربی الفاظ کا ترجمہ اردو الفاظ میں کیا گیا ہے ، مطالب کی طاقت و پہنائی اوجھل ہو گئی ہے۔ آزادؔ کی تفسیر محض مقامی و محض اسلامی نہیں، بین الاقوامی و بین الملی ہے۔ وہ الہیاتی زبان میں کائنات کو خطاب کرتے ہیں۔”
راقم: “ادب میں اُن کا مقام کیا ہے؟”
مولانا:
“فی الواقعہ وہ ایک سحر طراز ادیب ہیں، ان کا قلم تلوار ہے، وہ قرنِ اول کے غزوات کی چہرہ کشائی کرتے، اور عصرِ حاضر کی رزم گاہوں میں مسلمانوں کی فتح مندیاں ڈھونڈتے ہیں۔
ان کا اسلوبِ بیان بے مثال ہے آدمی ان کے الفاظ سے مسحور ہوتا اور مطالب میں ڈوب جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ نکتہ آفرینی کے اعتبار سے اس وقت ہندوستان بھر میں اپنی نظیر نہیں رکھتے ۔ قلم کی نزاکت اور قلم کی طاقت مبدء فیاض نے ان کے لیے ارزاں کر دی ہے”
راقم: اُن کی زبان عوام کے لیے مشکل ہے:؟
مولانا:
“کوئی زبان مشکل نہیں ہوتی، سوال ہمارے علم کا ہے کہ ہم کس حد تک اس سے بہرہ یاب ہیں۔ ان کی زبان قرآن کی زبان ہے، جو قرآن نہیں جانتے یا اس کی زبان سے نا بلد ہیں ان کے لیے ان کی زبان فی الواقعہ مشکل ہے، ورنہ وہ آبشار کی طرح بہتی ہوئی اور چاندی کی طرح کھلی ہوئی زبان لکھتے ہیں، وہ ہمارے عظیم ماضی کی زبان و بیان کے وارث ہیں۔”
راقم:
“اُن کے عوام سے کٹ کے رہنے کی وجہ کیا ہے؟
“ہر طبیعت کا ایک اسلوب ہوتا ہے ان کی طبیعت عوام گریز واقع ہوئی ہے”
۔
مولانا لکھتے ہیں ۔
‘ خدا کی سچائی ، اس کی ساری باتوں کی طرح ، اس کی عالمگیر بخشش ہے ۔ وہ نہ تو کسی خاص زمانے سے وابستہ کی جاسکتی ہے ، نہ کسی خاص نسل و قوم سے ، اور نہ کسی خاص مذہبی گروہ بندی سے ۔تم نے اپنے لیے طرح طرح کی قومیتیں اور اور جغرافیائی اور نسلی حد بندیاں بنالی ہیں ، لیکن تم خدا کی سچائی کے لیے کوئی ایسا امتیاز نہیں گھڑ سکتے ، اس کی نہ تو کوئی قومیت ہے ، نہ نسل ہے ، نہ جغرافیائی حد بندی ،نہ جماعتی حلقہ بندی ۔وہ خدا کے سورج کی طرح ہر جگہ چمکتی اورنوع انسانی کے ہر فرد کو روشنی بخشتی ہے ۔ اگر تم خدا کی سچائی کی ڈھونڈھ میں ہو تو اسے کسی ایک ہی گوشے میں نہ ڈھونڈھو ۔ وہ ہر جگہ نمودار ہوئی ہے اور ہر عہد میں اپنا ظہور رکھتی ہے ۔ تمہیں زمانوں کا ،قوموں کا ، وطنوں کا ، زبانوں کا اور طرح طرح کی گروہ بندیوں کا پرستار نہیں ہونا چاہیے۔صرف خدا کا اور اس کی عالمگیر سچائی کا پرستار ہونا چاہیے اس کی سچائی جہاں کہیں بھی آئی ہو اور جس بھیس میں بھی آئی ہو ، تمہاری متاع ہے اور تم اس کے وارث ہو ۔
(ترجمان القرآن جلد اول ص 411 )۔
مالک رام ترجمان القرآن میں پیش کیے گئے ترجمہ پر اپنی کتاب ‘ کچھ ابوالکلام کے بارے میں ‘ میں اپنے خیالات کا یوں اظہار کرتے ہیں :
‘ یہ ترجمہ ادبی لحاظ سے بھی اتنا حسین اور برجستہ ہے کہ اسے ادبی تخلیق کا درجہ دیا جانا چاہیے تھا ۔افسوس کہ اس پہلو سے کوئی توجہ نہیں کی گئی ۔ مثال کے طور پر صرف سورہ فاتحہ کا ترجمہ ملاحظہ ہو :
اللہ کے نام سے جو الرحمان الرحیم ہے ۔
ہر طرح کی ستائش اللہ ہی کے لیے جوتمام کائنات خلقت کا پروردگار ہے ۔ جورحمت والاہے ، اور جس کی رحمت تمام مخلوقات کو اپنی بخششوں سے مالا مال کررہی ہے ، جو اس دن کا مالک ہے ، جس دن کاموں کابدلہ لوگوں کے حصے میں آئیگا۔ (خدایا!) ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور صرف تو ہی ہے ، جس سے (اپنی ساری احتیاجوں میں ) مدد مانگتے ہیں ۔ (خدایا !) ہم پر سعادت کی سیدھی راہ کھول دے ، وہ راہ جو ان لوگوں کی راہ ہوئی جن پر تونے انعام کیا ۔ ان کی نہیں جو پھٹکارے گئے ۔ اور نہ ان کی جو راہ سے بھٹک گئے ۔
اس پر ترجمہ کا گمان ہی نہیں ہوتا ۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی مصنف نے اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کے لیے اسے اصل میں لکھا ہی اس طرح ہو ۔'(ص83 )
ترجمان القرآن کی تحریر کا مقصود
مولانا ابوالکلام آزاد (م ۱۹۵۸ء) نے جب قرآن مجید کو اپنے غوروفکر کا موضوع بنایا تو ان کے پیش نظر تین طرح کے کام تھے:
۱۔ مقدمۂ تفسیر، البصائر
۲۔ البیان فی مقاصد القرآن
۳۔ ترجمان القرآن
مقدمۂ تفسیر کے تحت مولانا قرآن حکیم کے مقاصد و مطالب پر اصول و مباحث کا مجموعہ مرتب کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے کم از کم بارہ ابواب، نہ صرف لکھے جا چکے تھے، بلکہ چھپ بھی گئے تھے۔ ان بارہ ابواب کے صفحات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔۲؂ مولانا نے ’’تذکرہ‘‘ میں ایک مقام پر لکھا ہے:
’’شرح حقیقت تحریف شریعت علی الخصوص فتنتین عظمتین یونانیت و عجمیت کے لیے مقدمہ تفسیر باب بست ویکم اور تفسیر فاتحہ الکتاب کو دیکھنا چاہیے۔‘‘(ابوالکلام آزاد، تذکرہ۱۹۵)
’’البیان‘‘ کے نام سے مولانا آزاد قرآن مجید کی ایک مکمل تفسیر لکھنا چاہتے تھے۔ ’’البلاغ‘‘ میں جب اس کا اشتہار شائع ہوا تو اس کے الفاظ یہ تھے:
’’اس تفسیر کے متعلق صرف اس قدر ظاہر کر دینا کافی ہے کہ قرآن حکیم کے حقائق و معارف اور اس کی محیط الکل معلمانہ دعوت کا موجودہ دور جس قلم کے فیضان سے پیدا ہوا ہے، یہ اسی قلم سے نکلی ہوئی مفصل اور مکمل تفسیر القرآن ہے۔‘‘۳؂
مولانا نے ایک اور مقام پر بھی ’’البیان‘‘ اور ’’البصائر‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ ’’تذکرہ‘‘ میں سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۳۵ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’یہ مقام منجملہ روح الروح معارف کتاب و سنت، وحقیقت الحقائق قرآن و شریعت کے ہے جس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔ تفسیر البیان میں ایک سے زیادہ مواقع پر اس کی تشریح و توضیح ملے گی اور اس سے بھی زیادہ مقدمہ تفسیر موسوم بہ ’’البصائر‘‘ میں بہ عنوان حقیقت ایمان و کفر۔‘‘(ابوالکلام آزاد، تذکرہ ۷۶۔۱۷۵)
مولانا نے ہفتے کے سات دنوں کی تقسیم اس طرح کر رکھی تھی کہ تین دن ’’البلاغ‘‘ کی تدوین و ادارت کے لیے وقف تھے، دو دن ترجمے کے لیے اور دو دن تفسیر کے لیے۔ اپنی گرفتاری کے باعث مولانا جس طرح اپنے مسودات سے محروم ہوئے، اس کی تفصیل انھوں نے ’’ترجمان القرآن‘‘ کے دیباچے میں بیان کر دی ہے۔ اسی وجہ سے یہ شاہکار مکمل صورت میں ہمارے سامنے نہ آسکے۔
خدمت قرآن کے حوالے سے جو چیز مولانا کا تعارف بنی، وہ ’’ترجمان القرآن‘‘ ہے۔ مولانا نے اپنے الفاظ میں ’’ترجمان القرآن‘‘کا تعارف کراتے ہوئے ’’البیان‘‘ اور ’’البصائر‘‘ سے اس کا فرق واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ترجمان القرآن کی ترتیب سے مقصود یہ تھا کہ قرآن کے عام مطالعہ و تعلیم کے لیے ایک درمیانی ضخامت کی کتاب مہیا ہو جائے، مجرد ترجمے سے وضاحت میں زیادہ، مطول تفاسیر سے مقدار میں کم۔ چنانچہ اس غرض سے یہ اسلوب اختیار کیا گیا کہ پہلے ترجمہ میں زیادہ سے زیادہ وضاحت کی کوشش کی جائے پھر جابجا نوٹ بڑھا دیے جائیں۔ اس سے زیادہ بحث و تفصیل کو دخل نہ دیا جائے۔ باقی رہا اصول اور تفسیری مباحث کا معاملہ تو اس کے لیے دو الگ الگ کتابیں ’’مقدمہ‘‘ اور ’’البیان‘‘ زیر ترتیب ہیں۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
تاہم جیسے جیسے یہ کام آگے بڑھا اور مولانا کی سیاسی سرگرمیاں ان کے علمی کاموں میں حائل ہوتی گئیں، اس کام کا نقشہ بھی تبدیل ہوتا گیا۔ ’’البیان‘‘ جب سامنے نہ آ سکی تو ’’ترجمان القرآن‘‘ ہی میں بعض مقامات پر اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلی جلد میں جن مقامات پر محض مختصر حواشی لکھے گئے تھے، دوسری جلد میں انھی مقامات کی تفصیل بیان کر دی گئی۔ اس ترمیم کے باوجود مولانا کے نزدیک ’’ترجمان القرآن‘‘ کا اصل امتیاز اس کا ترجمہ ہے، مولانا لکھتے ہیں:
’’ترجمان القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس کی تمام خصوصیات کا اصل محل اس کا ترجمہ اور ترجمہ کا اسلوب ہے۔ اگر اس پر نظر رہے گی تو پوری کتاب پر نظر رہے گی۔ وہ اوجھل ہو گئی تو پوری کتاب نظر سے اوجھل ہو جائے گی۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
ترجمے کے بعد ’’ترجمان القرآن‘‘ کی دوسری خوبی، مولانا کے نزدیک اس کے نوٹ ہیں۔ ’’ان کی ہر سطرتفسیر کا ایک پورا صفحہ، بلکہ بعض حالتوں میں ایک پورے مقالے کی قائم مقام ہے۔‘‘
’’ترجمان القرآن‘‘ کی وجہ تالیف خود مؤلف کے الفاظ میں یہ ہے:
’’ترجمان القرآن تفسیری مباحث کے ردوکد میں نہیں پڑتا صرف یہ کرتا ہے کہ اپنے پیش نظر اصول و قواعد کے ماتحت قرآن کے تمام مطالب ایک مرتب و منظم شکل میں پیش کر دے۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ ہر سورت کے ساتھ مطالب کی ایک فہرست دی گئی ہے جس سے اس کے مضامین کا اجمالی تعارف ہو جاتا ہے۔
مولانا آزاد چونکہ ایک صاحب طرز ادیب تھے، اس بنا پر’’ ترجمان القرآن‘‘ ان کے انشا کا بھرپور مظہر ہے، تاہم جہاں تک اصول تفسیر کا تعلق ہے تو وہ ائمۂ تفسیر ہی کی تتبع کرتے نظر آتے ہیں اور بہت کم کوئی ایسی راے قائم کرتے ہیں جو اسلاف کی راے کے برخلاف ہو۔ مولانا کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کو اپنے عہد میں ایک زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا ہے جو مسلمانوں کے لیے واحد راہنما ہو سکتی ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ’’ترجمان القرآن‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’مصنف ترجمان القرآن کی یہ دیدہ وری داد کے قابل ہے کہ انھوں نے وقت کی روح کو پہچانا اور اس فتنۂ فرنگ کے عہد میں اسی طرزوروش کی پیروی کی جس کو ابن تیمیہ اور ابن قیم نے پسند کیا تھا اور جس طرح انھوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تباہی کا راز فلسفۂ یونان کی دماغی پیروی کو قرار دیا، اسی طرح اس عہد کے مسلمانوں کی بربادی کا سبب ترجمان القرآن کے مصنف نے فلسفۂ یونان و فرنگ کی ذہنی غلامی کو قرار دیا اور نسخۂ علاج وہی تجویز کیا کہ کلام الٰہی کو رسول کی زبان و اصطلاح اور فطرت کی عقل و فلسفہ سے سمجھنا چاہیے۔‘‘(ابوسلمان شاہجہانپوری، ابوالکلام آزاد(بحیثیت مفسر و محدث)۲۱۔۲۲)
ترجمان القرآن کے نمایاں اوصاف
تفسیر سوره فاتحہ
مولانا کی ترجمان القرآن کا خاصہ سوره فاتحہ کی مفصل تفسیر ہے کہ جو ٢٠٣ صفحات کی ضخیم جلد پر مشتمل ہے مولانا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے تحت لکھتے ہیں ہدایت کے چار درجات ہیں
١. وجدانی ہدایت
٢. حواسی ہدایت
٣. عقلی ہدایت
٤. وحی الہی سے مستنبط ہدایت
اور پھر اس بحث میں پہلی تین ہدایتوں کو ناکافی قرار دے کر وحی الہی کی فوقیت کو مظبوط دلائل سے ثابت کرتے ہیں (٧٢)
خلافت کی بحث
مولانا کی خاص بحث مسلمانوں میں احیائی روح کو بیدار کرنا ہے اور اس حوالے سے خلافت کی بحث انکی تفسیر قرآنی میں جا باجہ ملتی ہے مولانا جہاد کی تعریف کرتے ہوے اس کے دو درجات متعیّن فرماتے ہیں
١. اقدامی جہاد
٢. دفاعی جہاد
اقدامی جہاد کو مولانا فرض کفایہ قرار دیتے ہیں (١٠٤)
اور دفاعی جہاد انکے نزدیک فرض عین ہے (١٠٥)
خلافت میں قرشیت کی شرط
علماء امت کا موقف خلافت میں قرشیت لازم ہونے کا ہے
ائمہ قریش میں سے ہوں گے جب تک کہ وہ تین باتوں پر عمل کرتے رہیں گے ۔ حکم کریں تو عدل کے ساتھ، جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں، جب عہد کریں تو وفا کریں۔ پھر جو ان میں سے ایسا نہ کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور انسانوں کی لعنت: مسند احمد، مسند ابو داؤد
مات قریش کے معاملے میں علمائے امت کا مسلک:
“اور وہ سب (مکتبہ ہائے فکر)اس بات کے قائل ہیں کہ امامت کے لیے قریشی النسل ہونا لازمی ہے: الفارق بین الفرق از عبدالقاہر بغدادی (429ہجری)
“اہل سنت اور تمام شیعہ اور بعض معتزلہ اور جمہور مرجئیہ کا مذہب یہ ہے کہ امات جائز نہیں ہے مگر خصوصیت کے ساتھ قریش میں۔ ۔ ۔ ۔ اور تمام خوارج اور جمہور معتزلہ اور بعض مرجئہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ منصب ہو اس شخس کے لیے جائز ہے جو کتاب و سنت پر قائم ہو خواہ وہ قریشی ہو یا عام عرب یا کوئی غلام زادہ ۔: الفصل فی املل و انحل از (452ہجری)ابن خرم
تمام امت اس امر پر متفق ہے کہ امامت قریش کے سوا کسی کے لیے درست نہیںہے” عبدالکریم شہرستانی (548 ہجری)
ضروری ہے کہ امام قریش میں سے ہوں اور ان کے سوا کسی دوسرے کو امام بنانا جائز نہیں: امام نسفی (537 ہجری)
امامت کے لیے قرشیت کا شرط ہونا تمام علما کا مذہب ہے اور علما نے اسکو اجماعی مسائل میں شمار کیا ہے” قاضی عیاض (544 ہجری)
مولانا آزاد اور سید مودودی رح نے اس مسلے سے اختلاف کیا ہے مولانا اپنی معروف کتاب ” مسلہ خلافت”
میں بھی “ شرط قرشیت “ کے عنوان کے تحت اس سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں .
ذولقرنین کی تاریخی تحقیق :-
مولانا نے جدید جغرافیائی تحقیق اور تاریخی حوالوں سے ذولقرنین کی حقیقت کو واضح کیا ہے اور انکے بعد کے زیادہ تر مفسرین نے اس مسلے میں انہی کا اتباع کیا ہے .
مولانا کی تحقیق کے مطابق ذولقرنین فارس کا شہنشاہ ” سائرس ” ہے
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)
دوسری جانب مولانا یاجوج و ماجوج کے حوالے سے پڑی گرد کو بھی صاف کرتے ہیں اور منطقی دلائل سے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ یاجوج ماجوج در اصل قدیم کاکیشین منگول قبائل ہیں .
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)
ناسخ منسوخ کی بحث اور مولانا آزاد کا علمی استدلال : –
ناسخ و منسوخ ایک ایسا مسلہ ہے کہ جس پر متعدد مستشرقین اور دور جدید میں انکے پیروکاروں کی جانب سے تنقید آتی رہی ہے مولانا نے اس مسلے کو اتنی خوبی سے صاف کیا ہے کہ کسی ابہام و اشکال کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی .
مولانا تفسیری نوٹ میں اس کی تشریح یوں کرتے ہیں …
ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت کا ظہور یوں ہوا کہ یا تو ” نسخ ” کی حالت طاری ہوئی یا ” نسیان ”
” نسخ ” یہ ہے کہ یب بات پہلے سے موجود تھی لیکن موقوف ہو گئی اور اس کی جگہ دوسری بات آ گئی ،
” نسیان ” کے معنی بھول جانے کے ہیں ،
پس بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ پچھلی شہریت کسی نہ کسی شک میں موجود تھی لیکن احوال و ظروف بدل گئے تھے یا اس کے پیروؤں کی عمل کی روح معدوم ہو گئی اسلیے ضروری ہوا کہ نئی شریعت ظہور میں آئے –
بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ امتداد وقت سے پچھلی تعلیم بلکل فراموش ہو گئی اور اصلیت میں سے کچھ باقی نہ رہا پس لا محالہ تجدید ہدایت ناگزیر ہوئی سنت الہی یہ ہے کہ نسخ شریعت ہو نسیان شریعت ہر نئی تعلیم پچھلی ے بہتر ہوتی ہے یا کم از کم اسی مانند ہوتی ہے ایسا نہیں ہوتا کہ کمتر ہو کیونکہ اصل تکمیل و ارتقاء ہے ناکہ تنزل و تشکل
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)

مولانا کے افکار پر اعتراضات

١، سید مودودی رح کا اعتراض :-

۰۳ مارچ ۲۶۹۱ ء کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے مریم جمیلہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھا:
”۰۲۹۱ ء ۔ ا۲۹۱ ء کے زمانے تک مولانا ابوالکلام آزاد احیائے اسلام اور تحریک خلافت کے پرجوش حمایتیوں میں شامل تھے مگر اس کے بعد مولانا اپنے اس موقف کے متضاد قول فعل کی تکرار کرتے ہیں ۔ اس یک لخت تبدیلی پر بعض افراد کو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی ابوالکلام ہیں ،ایسے لوگ آنکھیں ملتے ہوئے انہیں دیکھتے کہ یہ وہی ابوالکلام ہیں یا کوئی بالکل نئی شخصیت ! اب ابوالکلام سو فی صد ایک ہندوستانی قوم پرست کا روپ اختیار کرلیتے ہیں جو ہندوﺅں مسلمانوں کو ایک قوم کی شکل دینا چاہتا ہے۔ اب ابوالکلام بعض ہندو فلسفیوں کے پیش کردہ ”وحدت ادیان“ اور ڈارون کے نظریہ ارتقاءکو پوری طرح اپنی فکر کا حصہ بنالیتے ہیں ۔ ابوالکلام کے ان افکار تازہ کا نقش ان کی تفسیر قرآن میں صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ “

مولانا یوسف بنوری رح کا اعتراض :-

سوره فاتحہ کے متعلق ان کی تفسیر خوب مفصل و مبسوط شایع ہوئی میں نے بھی اس کو خوب شوق سے لیا اور پڑھنا شروع کیا اور سوره فاتحہ کی مکمل تفسیر پڑھی اور پھر مختلف آیات کی تفسیر دیکھی تب اس شدت اشتیاق کی لو جو میرے دل میں جل رہی تھی وہ بجھ گئی اور میں انگشت بدنداں رہ گیا اور افسوس کرتا یہ سوچنے لگا کہ اگر یہ تفسیر نہ طبع ہوتی تو زیادہ بہتر تھا اسلئے کہ اس کے مطالعے سے قبل ان کی قدر و منزلت میرے قلب میں جاگزیں تھی اس مطالعے سے میں نے بھانپ لیا کہ خواہشات اور محض عقل کی کارفرمائی ان کو مختلف وادیوں میں لے گئی ہے اور اس اوہام پرستی نے موصوف کو کہیں کا نہ چھوڑا اور میں نے جانچ لیا کہ اس خود رائی اور اعجاب نے موصوف کو تقلید سے بے بہرہ کیا اور اور آخر صراط مستقیم سے ورے ورے شاہراہ باطل پہ گامزن کر دیا –

وكلّ يدّعي وصلا بليلى
وليلى لا تقرّ لهم بذاك

اصول تفسیر و علوم القرآن ، مصنف مولانا یوسف بنوری رح ، مکتبہ البینات ، صفحہ : ١١٢

مولانا کے حوالے سے تحریر کا اختتام علامہ شورش کاشمیری کے ان اشعار کے ساتھ جو انھوں نے 10 مارچ 1858 مولانا آزاد کے مزار پر لکھے تھے:
کئی دماغوں کا ایک انساں میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے زباں سے زور بیاں گیا ہے
اتر گئے منزلوں کے چہرے، امیر کیا؟ کارواں گیا ہے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکستہ دل، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم خواص پہنچے عوام پہنچے
تیری لحد پہ ہو رب کی رحمت،تیری لحد کو سلام پہنچے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے


بشکریہ اردو ویب ڈاٹ آرگ

Maulana Abulkalam Azad aur Unnki Khud Aitmadi by Noor us Sabah

Articles

مولانا ابوالکلام اور ان کی قوت ارادی از نور الصباح

نور الصباح

مولانا ابولکلام آزاد ایک عظیم المرتبت اور جلیل القدر شخصیت کے ساتھ ساتھ مفسر، محدث، انشاء پرداز، ادیب، تاریخ داں، سیاست داں،قومی و ملی رہنما،ماہر تعلیم اور مجاہد آزادی بھی تھے ۔مختلف ادیبوں نے ان کی ایک ایک خوبیوں کا جائزہ لیا ہے۔کسی کو وہ ادیب وانشاء پرداز نظر آئے،کسی نے ان کو تاریخی پس منظر میں دیکھا ،کسی نے سیاسی حلقوں میں،کسی نے ان کو آزادی کاعظیم مجاہد بتایا ، کسی نے ان کو قومی وملی رہنما کا درجہ دیا ، کسی نے ان کو تعلیمی نظریہ ساز کے پردے میں پیش کیا تو کسی نے ان کو مفسرو محدث کے روپ میں پیش کیا۔مگر ان کی اتنی ساری خوبیوں کی وجہ کیا تھی؟اس پر اب تک خامہ فرسائی نہیں کی گئی جب کہ وہ بھی ایک انسان ہی تھے ،جس طرح اللہ نے عام انسانوں کو عقل و فراست اور ذہانت سے نوازا اسی طرح انھیں بھی ،جس طرح عام انسانوں کی زندگیاں مشکلات سے دوچار ہوتی ہیں اسی طرح ان کی بھی زندگی نشیب وفراز اور کشمکش کا مجموعہ تھی بلکہ انھیں اسیری کے درمیان ایسی ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جو شاید ہی کسی ادیب نے کیا ہو ،پھر بھی انھوں نے ہمت و حوصلہ نہیں ہارا ور اپنی قوت ارادی کے عمدہ استعمال سے اپنا ایک الگ راستہ بنایا اپنے کام میں منہمک رہے جو ’’غبارخاطر‘‘ کی شکل میں ایک حسین گلستاں کے طور پر دنیائے ادب میں نمودار ہوا۔
ان کو اتنے اعلیٰ وارفع مقام تک پہنچانے میں ان کی قوت ارادی،قوت استقلال،عزم مصمم،ہمت وحوصلہ اور جہد مسلسل ہے جس نے زنداں میں بھی ان کو اپنے فیصلے پر قائم رکھا اور ان کی قوت ارادی کو پابند سلاسل ہونے سے بچائے رکھا۔ انھوں نے غبارخاطر جیسی کتاب لکھ کر فلسفہ زندگی،جہد مسلسل،قوت ارادی، مذہب، عقیدہ، تحقیق، خوشی، تفکر و تدبر جیسی چیزوں سے پردہ اٹھایا اور عوام کو اس سے آشنا کیا کہ انسان کس طرح اپنے فیصلہ پر قائم رہ کر زندگی کی مشکلات سے گزر کر اپنی خوشیوں کو حیات بخش سکتا ہے،لیکن اس کے ساتھ اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ قوت ارادی کے لیے قوت متخیلہ ضروری ہے اور قوت متخیلہ کے لیے خودشناسی ضروری ہے اور خودشناسی کے لیے خود آگہی کا ہونا لازمی ہے۔ یہ ساری چیزیں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں جو انسان کو متحرک رکھنے پر قادر ہیں ۔یہی ساری چیزیں مولانا ابوالکلام کے اندر بدرجہ اتم موجود تھیں جو انھیں ہمیشہ متحرک و مصروف رکھتی تھیں۔
مولانا کی قوت ارادی کا عالم یہ تھا کہ وہ قید خانے کی زندگی میں بھی فرحت و انبساط کے اوقات تلاش کرلیتے تھے۔ان کے صعوبت بھرے لمحات بھی شگفتہ مزاجی و خندہ روی کے قالب میں اس طرح ڈھل گئے تھے گویا وہ کوئی ساعت محصور نہ ہوبلکہ روح پرور گھڑی ہوکہ نیلگوں آسماں اور خورشید جہاں تاب کی درخشندگی سے لطف اندوز ہورہے ہوں۔وہ ایک ادنیٰ سے کام میں بھی خوشیوں کو تلاش کرلیتے تھے ۔وہ زندگی کو چینی وفرانسیسی زاویہ نگاہ سے دیکھتے تھے کہ:۔
’’خوش رہنا محض ایک طبعی احتیاج نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے‘‘
(غبارخاطر،ص:۱۲۷)
گویا زندگی محض اپنی نہیں ہے بلکہ دوسروں کی امانت ہے اگر کوئی ایک انسان رنجیدہ ہوگا تو اس سے دوسروں کی مسکراہٹ بھی غائب ہوجائے گی اور یہ معاشرتی طور پر ایک غیر اخلاقی چیز ہے کہ ہم اپنے رنج و الم سے دوسروں کی خوشیوں کو کافور کریں۔کیوں کہ زندگی ایک آئینہ خانہ کے مانند ہوتی ہے جس میں ہر فرد کے ہزاروں،سیکڑوں چہرے نظر آتے ہیں،اگر کوئی ایک چہرہ بھی رنجیدہ خاطر ہوگیا تو سارے چہرے غبار آلود ہوجائیں گے جس طرح مضراب کے تار کو انگلیاں جب چھیڑتی ہیں تو اس کی جھنجھناہٹ کا وقفہ تا دیر قائم رہتا ہے بالکل اسی طرح کسی ایک شخص کی مغمومیت سے پورے افراد خانہ پر غمزدہ آثار کے سائے پڑ جائیں گے تو یہ ایک طرح سے اخلاقی ذمہ داری ہوئی کہ ہم اپنی وجہ سے کسی کو رنج نہ دیں بلکہ ہرحال میں خوش رہنے کی کوشش کریں اور مولانا آزاد بھی اسی نظریہ پر عمل کرتے تھے کیوں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اس بات سے واقف نہیں ہے کہ ہماری غم یا خوشی کی ساعتیں کتنی دیر تک ہمارے ساتھ رہیں گی اس لیے ہمیں چھوٹی سے چھوٹی خوشیوں سے خوش ہونا چاہیے ،کیوں کہ ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ خوشی کا یہ موج ترنم کب تک قائم رہے گا اور غم کے سیلاب کس وقت آدبوچیں گے۔وہ فرماتے ہیں:۔
’’ہماری زندگی ایک آئینہ خانہ ہے،یہاں ہرچہرے کاعکس بیک وقت سینکڑوں آئینوں میں پڑنے لگتا ہے۔اگر ایک چہرے پر غبار آجائے توسینکڑوں چہرے غبار آلود ہوجائیں گے۔ہم میں سے ہرفرد کی زندگی محض ایک انفرادی واقعہ نہیں ہے۔وہ پورے مجموعہ کاحادثہ ہے۔‘‘
(غبارخاطر،ص:۱۲۷)
مولانا اپنی ذہانت،قابلیت اورعزم مصمم کی بدولت مشکل سے مشکل ترین راہ میں بھی زندگی کو جینے کا سلیقہ سیکھ لیے تھے۔اورہمیشہ ہر حال میں خوشی اور فرحت وانبساط کے لباس میں ملبوس رہتے ، ان خوشیوں سے ان کامقصدعوام کو،اپنے اطرا ف وجوانب اور عزیزواقارب کی مسکراہٹ کو قائم رکھنا تھا ،کیوں کہ اس میں اعلیٰ اخلاق کی صفات پوشیدہ تھیں۔وہ اپنی خوشیوں کو اپنے قرب وجوار میں نہیں بلکہ باطن میں تلاش کرتے تھے،اس طرح وہ اپنے دل کو ہمیشہ متحرک اور زندہ رکھتے تھے۔ایسا کرنے کے لیے وہ خود کو لغوباتوں اور لہولعب کی چیزوں میں مصروف نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ اس طرح سے اپنے قلب و روح کو امید سے زندہ اور کام سے تابندہ رکھتے تھے،اس کے لیے وہ کسی ایک چیز پر قانع ہوکر خلوت نشینی اختیار نہیں کرلیتے تھے بلکہ اضطراب کو ترجیح دیتے تھے اور کوئی ایسا مقصد حیات تلاش کرتے تھے کہ وہ بلائے جاں ہو جو انھیں ہمیشہ مضطرب رکھے اور اس کے تعاقب میں انھیں دیوانہ وار دوڑنا پڑے۔ان کے نزدیک اگر زندگی میں اضطراب شامل نہ ہو محض سکون ہی سکون ہو تو ایسی زندگی کو یکسانیت کے زمرے میں شمار کرکے موت سے تعبیر کی جاسکتی ہے۔اگراپنے وجودکی عدم وجودیت کا خوف ہو تو اس کے لیے ہمیں مشکلوں اور زندگی کی تلخیوں سے گھبرا کر ناامید نہیں ہونا چاہیے بلکہ دنیا کو کارزار حیات اور اپنے وجود کو ایک جنگجو سپاہی سمجھ کر معرکہ آرائی کے لیے تیار رہنا چاہیے اگر وہ مقابلہ کی مشکلات کے خوف سے پیچھے ہٹ جائے تو کسی چیز کو پانے کی جستجو ہی باقی نہیں رہ جائے گی۔اور اگر کسی چیز کو حاصل کرلینے کے بعد اسے کھودینے کے اندیشہ سے گوشہ نشینی اختیار کرلے تو وہ اس وقت تک ان خوشیوں سے حقیقی طور پر لطف اندوز نہیں ہوسکتا جب تک کہ اسے کچھ کھونے کا بھی احساس نہ ہو۔کیوں کہ کسی بھی انسان کو اگر اپنی زندگی کا وہ مقصد حاصل ہوگیا جس کی اسے خواہش تھی اور وہ اسی پر قانع ہو کر بیٹھ گیا تو پھر دنیاکی نظروں سے پوشیدہ ہوجائے گا،لہٰذا کسی بھی انسان کو کچھ کھوئے جانے کے خوف کے بنا اور کسی چیز کو پانے کی جستجومیں ہر میدان میں کامیابی کا علم نصب کرنا چاہیے ایسا کرنے کے لئے ہمت وحوصلہ اوراضطراری کیفیت کے ساتھ ساتھ صبرواستقلال بھی ضروری ہے۔اس ضمن میں ان کی گرفتاری کے وقت کی کیفیت کومدنظررکھا جائے تو اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی دلنشیں سفرپر اپنے محبوب کی ہمراہی میں ہوں:۔
’’کار باہر نکلی تو صبح مسکرا رہی تھی۔سامنے دیکھا توسمندر اچھل اچھل کر ناچ رہا تھا۔نسیم صبح کے جھونکے احاطہ کی روشنی میں پھرتے ہوئے ملے۔یہ پھولوں کی خوشبو چن چن کر جمع کررہے تھے۔اورسمندر کو بھیج رہے تھے کہ اپنی ٹھوکروں سے فضا میں پھیلاتا رہے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۵۶)
یہ سکون واطمینان کے آثاران کی قوت ارادی اور خودشناسی کی وجہ سے تھے کیوں کہ انھوں نے زندگی کا مقصد پالیا تھا،وہ کسی ایک ہی مقصد فکر تک محدود نہیں ہونا چاہتے تھے،بلکہ وہ ہر میدان میں طبع آزمائی کرتے اور خود کو حالات سے مقابلہ آرائی کے لیے تیار بھی رکھتے،وہ تمام مشکلات کو بآسانی ضبط کرلیتے تھے،وہ حواس پر قابو رکھتے اور اپنے گردوپیش سے ہی جینے کا ہنر فراہم کرلیتے تھے ،وہ ہمیشہ اپنے دل کی دنیا کو آباد رکھتے اور مختلف حالات و تبدیلیوں کے لیے خود کو اس طرح تیاررکھتے کہ خارجی ماحول کا انتشار اگرچہ ان کے اعصاب پر اثرانداز ہوتا مگر داخلی دنیا کو اس سے محفوظ رکھتے۔وہ ہمیشہ معتدل راستہ اپناتے تھے ،کبھی بھی تذبذب کا شکار نہ ہوئے نہ تو کبھی اپنے قائم کردہ فیصلہ پر متشکک ہوئے اور نہ ہی اپنے وضع کردہ اصولوں سے کبھی بدعملی برتی،وہ لوگوں کو جن اصولوں پر عمل کی تلقین کرتے تھے بذات خود وہ اس پر عمل کرتے تھے،نہ تو انھوں نے خود کو کبھی تقدیرکے حوالے کیا بلکہ تقدیر پر بھروسہ کرناان کے نزدیک کم ہمتی کا نام تھاجسے عوام کی دماغی لغات تقدیر کا نام دے کر اپنی زندگی کے تئیں غوروفکر اور کسی بھی نئے راستے کی جستجو سے رخ موڑ کرمنظر سے ہی روپوش ہوجاتی ہے،ایسی زندگی ان کے نزدیک تعطل اور فرار کی زندگی ہے بلکہ وہ اندھیرے میں بھی سورج کی شعاعوں کو تلاش کرلیتے تھے اور ظلمت کو دور کرنے کے خواہاں رہتے تھے،جیسا کہ انھوں نے اکتوبر۱۹۴۷ کے اپنے ایک خطبہ میں عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے:۔
’’عزیزوں!تبدیلیوں کے ساتھ چلو یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیر کے لیے تیار نہ تھے،بلکہ اب تیار ہوجاؤ ،ستارے ٹوٹ گئے،لیکن سورج تو چمک رہاہے،اس سے کرنیں مانگ لواور اندھیری راہوں میں بچھادو جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے‘‘(مولانا ابولکلام آزاد ایک تجزیاتی مطالعہ، مر تب مفتی عطاء الرحمن قاسمی ، ص:۴۸۹)
گویا وہ مشکل حالات کے لئے ہمیشہ تیار رہتے کبھی بھی ان حالات کو خود پر طاری نہیں کیا اور نہ ہی گوشہ نشینی اختیار کی بلکہ اپنی ذہانت و فراست سے اس سے نبردآزماہوتے اور مسئلے کا حل تلاش کرلیتے کیوں کہ ان کے نزدیک خوشی و غم ایک احساس کا نام تھاجو حیاتیات انسانی کے اندر موجود ہے اگر انسانی زندگی مسائل کے بوجھ تلے رنج والم کی زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو وہ زندگی زخمی زخمی ہوجائے گی اور اگر مسائل کے حل کے لئے جدوجہد اور مسلسل سرگرم عمل رہے تو خوشیاں اس کے قدموں تلے ہوں گی اور ایسی لطیف زندگی کے علاوہ کوئی بھی چیز لذیذ نہیں ہوسکتی ۔اس ضمن میں انھوں نے عربی کا ایک مقولہ رقم کیا ہے’’حمضوامجالسکم‘‘کہ اپنی مجلسوں کا ذائقہ بدلتے رہو،گویا ایک چیز کے ختم ہوجانے سے تقدیر پر صبر کرکے بیٹھنا نہیں چاہئے بلکہ تلخیوں کا گھونٹ پی کردوسری راہ گزرمیں طبع آزمائی کرنی چاہیے تبھی زندگی کے اصل لطف سے بھی ہم واقف ہوسکتے ہیں۔اس کے پس پردہ اگر حالات حاضرہ کا مشاہدہ کیا جائے تو موجودہ نسل پریشان حال اور تباہ کن دہانے پر پہنچ کر اپنی زندگی اور والدین و بھائی بہن جیسے قریبی رشتوں سے بیزارمعیشت کے پیچھے سرگرداں ہے ایسی معیشت جو اسے خود اپنی بھی زندگی سے بیزار کر رہی اور ایسے علم کے پیچھے سراسیمگی کا شکار ہے جو اسے دین ودنیا سے تو خود سے بھی بیزار کرکے مایوسی و رنجیدگی کے گڈھے میں پہنچا رہا ہے ،مولاناآزاد علم و معیشت کے تئیں مقصدیت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ان کے نزدیک ایسے علم کے لیے صرف ڈگری تک محدود ہونا ہی علم نہیں تھا بلکہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی واضح مقصد ہوناچاہیے۔اب اس سلسلے میں انتہائی غوروفکر کی ضرورت ہے کہ وہ مقصد کیا ہے؟اورکیسا ہونا چاہیے؟سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا زندگی کامقصد محض عمدہ تعلیم،اچھی ملازمت کا حصول اور معیار زندگی کومعراج کمال کی تکمیل کی پیہم سعی کے علاوہ کچھ نہیں ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو ایام گزشتہ سے گردش کرتا ہوا موجودہ عہد کی نسلوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث ٹھہرا،اور اس مسئلہ لاینحل کے لئے تمام دانشوران علم وفن سرگرداں نظر آتے ہیں جس کے جواب پر مذاہب عالم کی تمام بنیادی تعلیمات کی تعمیرات بھی مبنی ہیں۔یہی فلسفہ زندگی مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مفکر و مدبر کے لیے بھی ایک للکار بن کر ابھرا،انھوں نے فلسفہ زندگی کی گرہوں کو سلجھانے کے لیے مقصد زندگی کو اہم بتایا اور وہ مقصد محض ایک ہی نکتہ نظر تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں وسعت،پھیلاؤ اور کشادگی ہونی چاہیے جو مختلف علوم وفنون کے لبادے میں وقتا فوقتا ظاہرہوتے رہیں جو ہمیشہ زندگی کو متحرک رکھے اور اپنی تکمیلت کے لیے ہمیشہ مضطرب بھی رکھے جو ایسا انگارہ ہو کہ کبھی بجھنے کا نام نہ لے،جو شورش ومستی کے جذبات سے لبریز ہو،جو ہنگامہ خیز ہو،جس کی تکمیل کے لیے قلب وروح سیمابی کیفیت کا حامل اور مائل اضطراب ہو۔وہ فرماتے ہیں:۔
’’ایک ایسا بلائے جاں مقصد،جس کے پیچھے انھیں دیوانہ وار دوڑنا پڑے۔جودوڑنے والوں کو ہمیشہ نزدیک بھی دکھائی دے اور ہمیشہ دور بھی ہوتارہے۔نزدیک اتنا کہ جب چاہیں ہاتھ بڑھاکر پکڑ لیں اور دور اتنا کہ اس کی گرد راہ کا بھی سراغ نہ پاسکیں۔‘‘
(غبارخاطر،ص:۸۳)
درج بالا اقتباس سے مولانا آزاد کا فلسفہ زندگی سامنے آتا ہے جو مقصدیت سے مملوہو،جوتحریک کا منبع اورمسلسل حرکت وعمل اور جہدمسلسل کا خزینہ ہو۔ان کے نظریہ کے مطابق کسی چیز کو حاصل کرلینے کے بعد اسی پر قناعت نہیں کرنا چاہیے بلکہ کوئی نہ کوئی مقصد حیات کا ہدف ہونا چاہیے بصورت دیگر حالت سکون کی زندگی موت کے زمرے میں شمار ہونے لگے گی،کیوں کہ زندگی مسلسل جہد عمل کا نام ہے اور دنیا امتحان گاہ ہے جواس امتحان گاہ میں کامیابی کے منازل طے کرکے کہیں ٹھہر گیا تو پھر اس امتحان گاہ سے خارج ہوگیاگویا وہ کالعدم ہوگیا۔میدان زیست میں کسی بھی کامیابی یا ناکامی کے بعد ہمیشہ ایک نئی جستجو اور نئے عزم کے ساتھ قدم آگے بڑھانا چاہیے،زندگی کا مدعا یہ ہے کہ وہ مقصدی اوراضطراری ہو ورنہ مقصد ختم تو زندگی ختم۔زندگی ایک ایسے دریا کے مانند ہے جس کے اندر اسی وقت تک تموج رہتا ہے جب تک لہریں طغیانیوں کی زد میں ہوتی ہیں ورنہ ایک خاموش اور کبھی نہ ختم ہونے والے سناٹے کی دبیز چادروں میں لپٹا ہوتا ہے۔ زندگی کو موت سے تعبیر کرنے کی مثال فارسی کے ایک شعر میں پیش کی ہے:۔
موجیم کہ آسودگی ماعدم ماست
مازندہ از انیم کہ آرام نہ گیریم
(ترجمہ:ہم توسمندر کی لہروں کی طرح ہیں جن کا سکون ان کی موت سے وابستہ ہے ہم اس لیے زندہ ہیں کہ ہمیں کوئی آرام حاصل نہ ہو)
مولانا آزاد ایسی بلند پرواز تخیل کے مالک تھے کہ وہ تصور میں ہی مستقبل کے نشیب وفراز اور معاشرتی حسن وقبح کو دیکھ لیتے تھے ان کا ذہن اتنا فکر رسا تھا کہ دبیز فولادی چادر میں بھی سوراخ کرکے مقصدیت کی تہوں تک پہنچ جاتا تھا مگر اس کے لیے وہ اپنے ذہن کو سکون کی چادر اور دل کو موت کے کفن سے محفوظ رکھتے ہوئے ہمیشہ خاردار راہوں کا انتخاب کرتے تھے تاکہ آیندہ آنے والی دشواریوں کا آسانی کے ساتھ سامنا کرنے کا امکان ہوسکے۔وہ ہمیشہ سنگلاخ راستوں کے ہی مسافر رہے۔فرماتے ہیں:۔
’’کوئی اپنا دامن پھولوں سے بھرنا چاہتا ہے،کوئی کانٹوں سے،اور دونوں میں کوئی بھی پسند نہیں کرے گا کہ تہی دامن رہے۔جب لوگ کامجوئیوں اور خوش وقتیوں سے پھول چن رہے تھے،تو ہمارے حصے میں تمناؤں اور حسرتوں کے کانٹے آئے انھوں نے پھول چن لیے اور کانٹے چھوڑ دیے۔ہم نے کانٹے چن لیے اور پھول چھوڑ دیے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۸۴)
مولانا آزاد فطری طور پر متحرک تھے ۔وہ خودکار اور خودمختارتھے ۔وہ خود غوروفکر کرتے اس کے بعد منصوبہ بناتے اور اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے،ان کے نزدیک زندگی کی مختلف شاخیں تھیں وہ کسی نہ کسی شاخ کو اپنا آشیانہ بنا لیتے اور اس کی جڑوں کو مستحکم بنانے کی کوشش کرتے جس کے لیے وہ مسلسل جدوجہداور قوت استقامت کو خاطر نشاں رکھتے۔وہ کسی نہ کسی کام میں مستغرق رہتے ۔ان کی خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے کسی بھی کام کو کل پر نہیں ٹالا۔ان کا یہ طرز عمل عوام کے لیے سبق آموز ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو قوت ارادی اور ہمت وحوصلہ بخشنے والا ہے کہ انسان چاہے کتنی ہی مشکلات میں محصور ہو مگر اسے ہمت وحوصلہ نہیں ہارنا چاہیے کیوں کہ اس طرح وہ مایوسیوں و ناامیدیوں کے درمیان پھنس کر تنہائی اختیار کرلیتاہے ،اس طرح افسردگی کی چادر میں لپٹ کر بیٹھ جانے سے دنیا کی نظروں میں ہمارا وجود ہی ختم ہوجائے گا اور ہم ایک خاک پریشاں کے علاوہ کچھ بھی نہیں رہ جائیں گے،جس طرح کسی درخت سے کٹی ہوئی ٹہنی پر کسی بھی موسم کا اثر نہیں ہوتا نہ تو موسم بہار ہی اس میں روح ڈال سکتا ہے ،نہ تو موسم خزاں کا ہی اس پر کچھ اثر ہوگا،حتیٰ کہ تمام موسم اس کے لیے سرد ہوں گے ،وہ موسم بہار کی شادابی اور موسم سرما کی تبدیلی سے محروم ہوگی،گلستاں میں جب رنگ برنگ پھول اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ کھلتے ہیں تو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں،وہ ہر ایک کی دل کا سرور،آنکھوں کی ٹھنڈک اور جسم کی تراوت کا سامان بن جاتے ہیں،اور مالی بھی اس کی بقا کے لیے ہمیشہ نگہبانی کے لیے معمور ہوتا ہے ،لیکن جیسے ہی موسم خزاں کی آمد آمد ہوتی ہے وہی نگہبان گلچیں بن جاتا ہے ،ان پھولوں کو ڈالیوں سے جبراجدا کردیا جاتا ہے ،ان مرقع حسن اور رعنائی کے پیکر کو توڑ مروڑ کر گھانس کے تودہ کے مانند نذر آتش کرنے کے لیے بے سروسامان پھینک دیا جاتا ہے۔بالکل اس طرح انسانی زندگی بھی ہے ،اگر اس کا دل زندہ ہے تو امیدوبیم کے چراغ روشن ہوتے رہیں گے ،اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہمیشہ متحرک اور دنیا کی نظروں میں سرسبزوشاداب رہے گا،ورنہ وہ بھی انھیں پھولوں کے مانند معاشرے سے کسی عضومعطل کی طرح کانٹ کر پھینک دیا جائے گا۔جس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں جو لوگوں کے لیے ایک بوجھ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔مولانا ابوالکلام کی چند سطریں ملاحظہ ہوں:۔
’’انسانی زندگی کا بھی بعینہ یہی حال ہوا۔سعی وعمل کا جو درخت پھل پھول لاتا ہے اس کی رکھوالی کی جاتی ہے۔جو بیکار ہوتا ہے اسے چھانٹ دیا جاتا ہے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۳۴۶)
گویا ان کے نزدیک زندگی کا حقیقی مقصد یہ تھا کہ ہمارے پاس زندہ رہنے کی کوئی وجہ ہو،کوئی واضح نصب العین ہو،اور ہماری تمام تر کوششوں کا صرف ایک ہی مرکز ہو،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کرنا ممکن ہے ؟ کیا اس کی تکمیلیت کی جاسکتی ہے؟تو اس کا جواب ہاں میں ہی ہے۔کیوں کہ اللہ نے تمام انسان کو قوت فیصلہ،ذہانت اور قوت استدلال سے نوازا ہے،اگر ہر انسان اپنی ذہانت کو عمدہ طریقے سے استعمال میں لاکر ہمت وحوصلہ کے ساتھ سنگلاخ راستوں اور خاردار راہوں کی پرواہ کیے بغیر اسی کے پیچھے مسلسل لگا رہے تو اس کا مقصد پورا ہوسکتا ہے علاوہ ازیں وہ کٹی ہوئی شاخ کے مانند بیکار ہوکر رہ جائے گا جس کا ذکر قرآن میں بھی ہوا ہے’’فاماالزبد فیذہب جفاء واماماینفع الناس فیمکث فی الارض‘‘(کہ جوچیز نافع ہوتی ہے وہ باقی رکھی جاتی ہے۔جو بیکار ہوگئی وہ چھانٹ دی جاتی ہے)لہٰذا مولانا آزاد اپنی خلوت نشینی میں بھی اپنے دل وذہن کو کسی نہ کسی مقصد حیات سے روشن و متحرک رکھتے تھے اور کسی بھی صعوبت کی پرواہ کئے بغیر اس کی تکمیل کے لیے مسلسل عمل متحرک رہتے تھے،اس ضمن میں ان کی اس عادت کو پیش کرنا ضروری ہے جو بچپن سے ہی ان کی فطرت کا خاصہ بن گئی تھی ،وہ ہمیشہ صبح کو تین بجے اٹھتے اور اپنا نیا سبق یاد کرتے اس عادت کو انھوں نے اپنی زندگی کا معمول بنالیا تھا،اس سحر خیزی کی عادت انھیں ان کے والد مولانا محمد خیرالدین سے ورثے میں ملی تھی ۔یہ عادت انھیں گیارہ سال کی عمر سے ایسی لگی کہ اگر والدین اور بہنیں ان کی صحت کے خیال سے انھیں جگاتے نہیں تھے تو وہ پورے دن پشیمان رہتے تھے ۔وہ چپکے سے دوسرے دن اٹھتے اور شمع دان روشن کرکے اپنا سبق یاد کرتے،کیوں کہ صبح کے وقت سارا عالم محو خواب ہوتا ہے اور ساری چیزیں خاموشیوں کے پردے میں پوشیدہ ہوتی ہیں ،اسی عادت کو انھوں نے ہمیشہ برقرار رکھا حتیٰ کہ قلعہ احمد نگر کی اسیری کے درمیان بھی اس عادت کو قائم رکھا کیوں کہ ان کے نزدیک حال تھا ہی نہیں بلکہ وہ ماضی اور مستقبل پر ہی یقین رکھتے تھے اور اپنی اسی طبعی فطرت کے لئے ہمیشہ سرگرداں رہتے تھے اس کی ایک مثال زنداں خانہ کے ایک صبح کی ہے جب وہ صبح کے تین بجے سوکر اٹھے تو ان کے قلم میں روشنائی نہیں تھی ،یہاں اپنے حال کو ماضی میں تبدیل نہ کرنے کے لیے ان کی ترکیب مرکب کی صناعی دیکھی جاسکتی ہے:۔
’’صبح کے ساڑھے تین بجے ہیں۔اس وقت لکھنے کے لیے قلم اٹھایا تو معلوم ہوا سیاہی ختم ہورہی ہے۔
ساتھ ہی خیال آیا کہ سیاہی کی شیشی خالی ہوچکی ہے۔نئی شیشی منگوانی تھی مگر منگوانا بھول گیا۔میں نے سوچاتھوڑا پانی کیوں نہ ڈال دوں؟یکایک چائے دانی پر نظر پڑی۔میں نے تھوڑی سی چائے فنجان میں اونڈیلی اور قلم کا من اس میں ڈبو کر پچکاری چلادی پھر اسے اچھی طرح ہلادیا۔کہ روشنائی کی دھوؤن پوری طرح نکل آئے اور اب دیکھئے روشنائی کی جگہ چائے کے تندوتیز عرق سے اپنے نفسہائے سرد صفحہ قرطاس پر نقش کررہاہوں۔‘‘(غبار خاطر،ص:۱۷۱)
مولانا کو صبح میں اٹھنے کے ساتھ ساتھ چائے کابھی ذوق تھا جب تک وہ لکھتے رہتے چائے کی چسکی لیتے رہتے تھے جس کو انھوں نے اپنی ذہانت سے روشنائی بنانے کی ترکیب میں استعمال کیا ۔انھوں نے اپنے قائم کردہ اصولوں کو کبھی بھی ملتوی نہیں کیا ہمیشہ اس پر عمل پیرا رہے ،نہ تو بھی انھوں نے اپنے اس روح پرور وقت کو کھویا ،بلکہ وہ اس عالم تنہائی اور خلوت سے اسقدر لطف اندوز ہوتے کہ ان کے تخیل کی پرواز نجانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتی،وہی تنہائی ان کی جولانی فطرت کو ہوا دیتی اور یہ ہوا بادسموم کے مانند اتنی گرم ہوتی کہ اس سے چنگاریاں پھوٹنے لگتیں اور یہ چنگاریاں ان کی فطرت کی پہنائیوں میں اس طرح پیوست ہوجاتیں کہ اوقات شب وروز میں سے کسی بھی وقت ماند نہ پڑتیں اورمسلسل انھیں قوت محرکہ عطا کرتی رہتیں۔
اسی طرح ان کی فن موسیقی کا عالم تھا کہ صرف ایک شوق نے ان کو اس فن کا ماہر بنادیا جب کہ وہ اس کی مصطلحات سے بالکل ہی نابلد تھے ۔قصہ فن موسیقی یہ ہے کہ کتاب بینی کا شوق انھیں ایک کتب فروش خدابخش کی لائبریری تک کھینچ کر لے جاتا اسی شوق جنوں میں ان کے ہاتھ فقیراللہ سیف خاں کی راگ درپن کا ایک خوشخط نسخہ لگ گیا جس کو دیکھ کرعالیہ کے پرنسپل مسٹر ڈینسن راس نے ان سے کہا کہ ہندوستان کا فن موسیقی انتہائی مشکل فن ہے۔تمہیں اس کے مطالب سمجھ میں نہیں آئیں گے تو مولانا کتاب لی اور کہا کہ ’’جو کتاب بھی لکھی جاتی ہے وہ اس لیے لکھی جاتی ہے کہ لوگ اسے پڑھیں اور سمجھیں ۔میں بھی اسے پڑھوں گا تو سمجھ لوں گا‘‘ یہ ان کی خود اعتمادی تھی کہ انھوں نے وہ کتاب لی اور ان کی طلبی مبارزت کو قبول کیا۔اس کے لئے انھیں مختلف گلیوں کی خاک چھاننی پڑی،کیوں کہ یہ کتاب ان کے لیے واقعی چیلینج سے مملو ثابت ہوئی ۔زمانہ طالب علمی سے ہی وہ کتاب فہمی کے اتنے خوگر ہوئے تھے کہ وہ کسی بھی کتاب کو پڑھتے اس کے مطالب کی تہہ تک پہنچ جاتے،مگر موسیقی کا فن اتنا مشکل طلب واقع ہوا کہ ان کے مطالب نے انھیں الجھنوں ودشواریوں میں مبتلا کردیا ،ان کو سمجھنے کے لیے انھوں نے اپنے خاندانی مذہبی حالات کے مخالف میستا خاں سے تعاون حاصل کیا جس کاخاندانی پیشہ ہی موسیقی تھا ،آگرہ کے سفر میں تاج محل کی چھت پر رات کی چاندنی میں مضراب کے تاروں پر ان کی انگلیوں کاپیچ وخم پورے ماحول کو رقص و سرود کے سانچے میں ڈھال دیتا۔اسی اثنا میں لکھنؤ میں کرسچین کالج کے سامنے کرایہ کے ایک مکان میں ایک ٹوٹی ہوئی چھت پر علم ہیئت کے شوق میں ساری رات گزار دیتے۔مصر کے سفر میں ایک رقاصہ سے اس غرض سے رسم وراہ بڑھائی کہ اس سے عربی موسقی کے کمالات سنیں،اس کے لیے انھیں ان کوچہ و بازار میں قدم رکھنا پڑا پھر بھی اپنے مقصد سے نہیں ہٹے بلکہ جس میدا ن میں بھی قدم رکھا اس کو کمال تک پہنچا دیا،وہ خود فرماتے ہیں:۔
’’میری عمر سترہ برس سے زیادہ نہ ہوگی۔لیکن اس وقت بھی طبیعت کی افتاد یہی تھی کہ جس میدان میں قدم اٹھائیے،پوری طرح اٹھایئے اور جہاں تک راہ ملے بڑھتے ہی جائیے۔کوئی کام بھی ہو،لیکن طبیعت کبھی اس پر راضی نہیں ہوئی کہ ادھورا کرکے چھوڑ دیا جائے جس کوچہ میں بھی قدم اٹھایا۔اسے پوری طرح چھان کر چھوڑا۔ثواب کے کام بھی کئے تو وہ بھی پوری طرح کئے۔گناہ کے کام کئے تو انھیں بھی ادھورا نہ چھوڑا۔طبیعت کا تقاضا ہمیشہ یہی رہا کہ جہاں کہیں جایئے ناقصوں اور خام کاروں کی طرح نہ جایئے رسم و راہ رکھیئے تو راہ کے کاملوں سے رکھیئے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۳۵۸۔۳۵۷)
اسی طرح انھوں نے اپنے موروثی مذہب پر قناعت نہ کرکے مذہب،فلسفہ اور سائنس کے دروازے بھی کھٹکھٹائے ،جبکہ اس میں بھی بہت سی مشکلات سامنے آئیں اور کچھ ایسے اختلافات سامنے آئے کہ جس نے انھیں متحیر اور متشکک کرنے کے ساتھ ساتھ لرزانی اورمتذبذبانہ کیفیت میں بھی مبتلا کیا مگر پھر بھی وہ اس راستے سے واپس نہیں آئے اور نہ ہی خود کو ملحد و منکر کی جماعت میں شامل کیا بلکہ اپنی قوت ارادی،محنت شاقہ،قوت حوصلہ اور قوت استقامت سے ایسے مذہب سے واقفیت ہوئی جو حقیقت سے منسلک تھا اور جس کو ناتجربہ کا ر،ناقص العلم مذہب کے پرستاروں نے غلط طریقے سے نشر کر رکھا تھا۔مولانا آزاداس حقیقی مذہب کے علوم کی پیاس میں اس سفر پر نکل پڑے اور سیراب ہوکر واپس ہوئے ۔علمااور مذہب کے تئیں وہ اس نتیجے پر پہنچے:۔
’’علم عالم محسوسات سے سروکار رکھتا ہے۔مذہب ماوراء محسوسات کی خبر دیتا ہے۔دونوں میں دائروں کا تعددہوا۔مگر تعارض نہیں ہوا۔جو کچھ محسوسات سے ماوراء ہے ہم اسے محسوسات سے معارض سمجھ لیتے ہیں اور یہیں سے ہمارے دیدہ کج اندیش کی ساری درماندگیاں شروع ہوجاتی ہیں۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۸۰)
مذکورہ بالا اقتباس ان کی سیمابی فطرت اور تلاش و جستجو کا شاہد ہے کہ وہ مذہب کی غلط ترویج و اشاعت پر عمل پیرا نہ ہوکر اس کی حقیقت کے پیچھے سرگرداں رہے اور علم و مذہب کی باریکیوں،غلط عقائد اور نزاعی مذہب کی گرہوں کو کھولا اور دونوں کے فرق کو واضح کرکے ان دونوں کو مختلف شکلوں کا رنگ دیا اور تاحیات اس پر کاربند رہے۔اسی طرح ’’چڑیا چڑے‘‘ کی کہانی پر ایک مضمون لکھ کر ان کی قوت ارادی کو پیش کرکے عوام کو اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ اگر کسی کے ارتقاء کی راہیں مسدود کرنے کی کوششیں کی جائیں تو انھیں مسدود راہوں کا سہارا لے کراپنی بلندی کی معراج بنالینی چاہیے۔قلعہ احمد نگر کے قیدیوں کو جو کمرے دیے گئے تھے وہ شہتیروں کے بنے ہوئے تھے چونکہ اس کی عمارت انتہائی قدیم تھی اس لیے چڑیوں نے جا بجا اس میں گھونسلے بنا رکھے تھے۔مولانا آزاد کے کمرے کے ایک گوشے میں چڑیوں نے اپنے آشیانے کی کچھ یوں تعمیر کی کہ ان کا لکھنا پڑھنا دشوار ہوگیا،جس کی وجہ سے مولانا آزاد اور چڑیوں کے درمیان معرکہ آریاں شروع ہوگئیں پھر بھی ان ننھے حملہ آوروں نے میدان کارزار کو پیٹھ نہیں دکھائی ،آخر کار مولانا نے ایک ترکیب نکالی اور بانس کے ذریعہ ان لوگوں کا بھگا دیا پھر وہی بانس اسی گھونسلے کے دہانے پر رکھ دیا ،پندرہ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ان چڑیوں کی چہچہاہٹ کی باد صرصر کی طرح فضامیں گونجنے لگی ،یہاں تک کہ اسی ہتھیار کو ان لوگوں نے اپناآلہ بنا رکھا ہے جس کے خوف سے میدان کو چھوڑنا پڑا تھا۔فرماتے ہیں:۔
’’تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو کمرہ میں قدم رکھتے ہی ٹھٹھک کے رہ گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سارا کمرہ پھر حریف کے قبضہ میں ہے اور اس اطمینان و فراغت سے اپنے کاموں میں مشغول ہیں۔جیسے کوئی حادثہ پیش آیا ہی نہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ جس ہتھیار کی ہیبت پر اس درجہ بھروسہ کیا گیا تھا وہی حریفوں کی کامجوئیوں کا ایک نیا آلہ ثابت ہوا۔بانس کا سرا جو بالکل گھونسلے سے لگا ہوا تھا ۔گھونسلے میں جانے کے لئے اب دہلیز کا کام دینے لگاہے۔تنکے چن چن کر لاتے ہیں اور اس نوتعمیر دہلیز پر بیٹھ کر بہ اطمینان تمام گھونسلے میں بچھاتے جاتے ہیں ساتھ ہی چوں چوں بھی کرتے جاتے ہیں۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۳۰۵۔۳۰۴)
درج بالا اقتباس سے انھوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ تو ایک نازک سے پرندے تھے جنھوں نے اپنی قوت ارادی سے اپنے مقصد کی تکمیل کی جن کے پاس ایک چھوٹی سی چونچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں محض ارادے کی پختگی نے ان کو اپنے مقصد پر حاوی رکھا تو انسانوں کو تو اللہ نے فہم و فراست کے ساتھ ساتھ اور بھی چیزوں سے نوازا ہے جس کو وہ اپنے کام میں لا سکتا ہے ۔مگر اس کے لئے شرط ہے کہ اس کے اندر ایک پختہ عزم،ولولہ اور جوش ہو تو وہ کمرہ تو کیا پوری دنیا کو فتح کرسکتا ہے۔حکیم اشمیدس کا مقولہ اس بات پر صادق آتا ہے کہ’’مجھے فضا میں کھڑے ہونے کی جگہ دے دو۔میں کرہ ارض کو اس کی جگہ سے ہٹا دوں گا‘‘مولانا آزاد نے جس قوت ارادی کا مظاہرہ کیا ہے وہ بدرجہ اتم ان کی اندر موجود تھی ۔وہ انتہائی صبروتحمل اور استقامت کے ساتھ جنون کی حد تک اپنے کام میں منہمک رہتے ۔وہ اپنے کام کو اس طرح انجام دیتے گویا وہ کوئی کام نہیں بلکہ ان کی محبوبہ ہو اور وہ اس کے عشق میں اسقدر گرفتار ہوں کہ اس سے آزادی کی کوئی بھی صورت نظر نہ آتی ہو ۔وہ کسی بھی کام کے لیے قدم اٹھاتے اس کو انجام تک پہنچاتے چاہے اس میں کتنی ہی دشواریاں ہوں ،نہ تو اس سے تغافل برتتے اور نہ ہی ان دشواریوں کا شکوہ کرتے۔


نورالصباح شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کی ہونہار ریسرچ اسکالر ہیں

Iqbal ka Paighaam By Abdul Hai

Articles

اقبال کا پیغام

عبدالحی

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

اقبال کی مشہور و معروف نظم ’خضر راہ‘ سے لیا گیا یہ مصرع اپنے آپ میں گہرے اور وسیع مفاہیم رکھتا ہے۔ یہ مصرع اور اس طرح کے سینکڑوں مصرعے اقبال کی نظموں ، غزلوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ شاعر اور حضرت خضر کے درمیان ہونے والے مکالمے پر مشتمل یہ نظم ہمیں زندگی میں جدو جہد کرنے اور کوشش کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ہمیں دوسروں کے بھروسے نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنی دنیا خود پیدا کرنی چاہیے، اگر ہمیں کامیابی حاصل کرنی ہے تو قوت عمل سے کام لینا ہوگا۔
آل احمد سرور نے اسی نظم کے حوالے سے کہا تھا کہ اقبال کا فن پہلی دفعہ اپنی بلندی پر نظر آتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ وہ اس نظم کو اردو شاعری کا عہد نامہ جدید کہتے ہیں وہیں مسعود حسین خاں نے اسے اردو شاعری کی حیات آفریں اور مثبت آواز سے تعبیر کیا ہے اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اقبال کا یہی انداز سخن ہے جس کے بارے میں سجاد انصاری نے لکھا تھا کہ اگر قرآن اردو میں نازل ہوتا تو اقبال کی نظم یا ابوالکلام کی نثر کا پیرایہ اختیار کرتا۔حالانکہ کلیم الدین احمد کو اسی نظم میں ڈھیر ساری کمیاں بھی نظر آئیں لیکن عبدالمغنی نے اپنی کتاب میں کلیم الدین احمد کی اس تنقید کا مفصل اور بھرپور جواب دیا ہے۔
اقبال کے اولین شعری مجموعے ’بانگ درا‘ میں آٹھ طویل نظمیں ہیں جن میں ’خضر راہ‘ ایک ہے۔ ( دیگر نظمیں یہ ہیں تصویر درد، گورستان شاہی، شکوہ، جواب شکوہ، شمع اور شاعر، والدہ مرحومہ کی یاد میں، طلوع اسلام)
ان تمام نظموں میں اقبال قوم و ملت کو سنوارنے اور انھیں سیدھی راہ پر لانے کی کوشش میں زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں، جس طرح کے استعارے اور تشبیہات انھوں نے استعمال کیے ہیں انھیں پڑھ کر کسی بھی شخص کے خون میں روانی پیدا ہو جائے گی۔
علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ ساری دنیا میں پھیلے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو قرآن پاک اور احادیث نبوی کی تعلیمات دی ہیں۔ اقبال کا کمال فن یہ ہے کہ وہ ایک مصرعے میں ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جس پر پوری کتاب بھی کم پڑ جائے۔ علامہ قبال بر صغیر ہی نہیں بلکہ دنیا میں پیدا ہونے والے اہم مفکرین میں سے ایک ہیں۔ ان کے تمام فکری اور علمی موضوعات کا احاطہ کسی ایک شخص کے بس کی بات نہیں۔ اقبال کی شاعری اور ان کی فکر کے حوالے سے مختلف شخصیات نے اپنے اپنے انداز میں اقبال کو سمجھنے کی کوشش کی ہے لیکن کوئی بھی اقبال کی فکر کو مکمل طور پر سمجھنے اور اس کی تفہیم کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
اقبال کی فکر کی صحیح اور حقیقی تفہیم تب ہی ممکن ہے جب اقبال کی شاعری کو پڑھنے والے مشرق و مغرب کے مختلف علوم و فنون سے آشنا ہوں کیوں کہ اقبال کی شاعری میں ان علوم و فنون کا جا بجا ذکر ملتا ہے۔ اقبال جب کوئی شعر کہتے ہیں تو وہ محض ایک شعر نہیں ہوتا بلکہ ایک جہان معنی اس کے پس منظر میں موجود رہتا ہے۔ ان کی شاعری اوران کی فکر کا محور قرآن و حدیث ہوتے ہیں۔ وہ بھلے ہی دنیا کے کسی فلسفی، شاعر، مفکر کا حوالہ دیں لیکن قرآن و حدیث ہی ان کے پیش نظر رہتے ہیں۔ اقبال یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا کی دیگر اقوام نے جس طرح ترقی حاصل کی ہے اسی طرح مسلم قوم بھی عروج کی نئی داستان رقم کرے۔ اس لیے اقبال دوسری تہذیبوں اور مذاہب کی تعلیمات دیتے ہوئے نہیں گھبراتے کیوں کہ حضور اکرم ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ تمھیں اچھائی اور نیکی جہاں سے ملے حاصل کرو۔
انسانی زندگی حرکت و عمل کا دوسرا نام ہے۔ ہمارا مذہب اسلام بھی حرکت و عمل کی دعوت دیتا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اسلام کی اس بنیادی روح کو سمجھتے ہوئے ملت اسلامیہ کو حرکت و عمل کی دعوت دی۔ اسلامی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جب بھی ملت اسلامیہ نے اپنے زور بازو اور خدا سے بھروسہ توڑا ہے اسے نقصانات و ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاتاریوں کا حملہ ہو یا پھر مغربی ممالک کی پیش قدمی۔ تاتاریوں کے حملے نے اسلام کی مرکزی اکائی کو ختم کر دیا۔ مسلمانوں کے کتب خانوں کو ان کی کتابوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لیکن اس کے بعد بھی مسلمانوں میں وہ بنیادی تعلیمات موجود تھیں جس نے روم ،مصر اور اندلس کو فتح کرایا تھا۔ ان حملوں سے ایک سبق لیتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں نے ایک ہو کر پھر سے اسلام کا پرچم بلند کیا لیکن 18ویں صدی تک آتے آتے اسلام کی یہ اکائی بھی دم توڑ گئی کیوں کہ مغربی معاشرہ، صنعتی و سرمایہ دارانہ انقلاب اور سائنسی رویوں نے ایک ساتھ مل کر عالم اسلام کو دنیا کے مختلف حصوں میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور اس میں اسے کامیابی ملی۔ تاتاریوں نے ظلم و بربیت کا ننگا ناچ تو کیا لیکن وہ اسلام کی روح کو نقصان نہ پہنچا سکے لیکن مغربی معاشرے نے وہ کام کر دیا جو تاتاریوں کی تلوار نہ کر سکی۔ ان تمام صورتحال نے مسلمانوں کو مایوسی اور نا امیدی کی گہری دلدل میں دھکیل دیا۔ اس صورتحال سے مسلمانوں کو باہر نکالنے میں اردو ادب کے حوالے سے پہلا نام سر سید احمد خاں کا آتا ہے۔ انھوں نے مغربی تہذیب و تمدن کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور مسلمانوں کو پھر سے ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کا آغاز کیا۔ سر سید کی ان کوششوں کا ذکر یہاں بے محل ہوگا۔ مختصر یہ کہ سر سید نے مغربی تہذیب کی یلغار سے نکلنے کی یہ صورت بتائی کہ مسلمانوں کو جدید تعلیم اور سائنس کی طرف راغب کیا جائے اور اس کوشش میں وہ مذہب کو بھی سائنسی کے تناظر میں دیکھنے لگے جس سے مسلمانوں میں خلفشار پیدا ہوا اور خود ان پر کفر کے فتوے لگے۔
بیسویں صدی پوری دنیا میں نئے ہنگامے اور نئے انقلابات لے کر آئی۔ دنیا کے سیاسی نقشے میں کئی ردو بدل ہوئے اور دنیا نے پہلی جنگ عظیم کا سامنا کیا۔ ہندوستان بھی نئی تبدیلیوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ ان تبدیلیوں اور نفسا نفسی کے عالم میں اقبال وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے ان رویوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کی بے بسی اور گمراہی کو دور کرنے کی کوشش کی اور فلسفہ خودی ، عشق و عقل، مرد مومن ،حرکت و عمل جیسے تصورات پیش کیے اور قرآن و احادیث کی روشنی میں مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل تلاش کیا اور ایک نئی تعبیر پیش کی۔پہلی جنگ عظیم کے بعد ہندوستان میں رولٹ ایکٹ،گاندھی جی کی عدم تعاون کی تحریک، جنرل ڈائر کا مارشل لا اور قتل عام جیسے واقعات سے ملک میں افراتفری کا ماحول تھا اور ایسے وقت میں ہی اقبال نے یہ نظم تحریر کی اور ہمیں خواب خرگوش سے جگانے کی کوشش کی۔خضر راہ کے حوالے سے راشد حمید لکھتے ہیں :
علامہ اقبال نے اپنے تخلیقی رویوں کا اظہار شاعری کے ذریعے کیا اور ابتداً وہ مروج اصول و ضوابط کے مطابق شعر کہتے رہے لیکن بہت جلد وہ اس سلسلے کو خدا حافظ کہہ آئے اور نئے رنگ اور نئی تخلیقی اپج کے ساتھ سامنے آئے۔ خضر راہ علامہ اقبال کے انقلاب آفریں فلسفے کا بنیادی نکتہ ہے۔ انھوں نے اس نظم میں اسلام کے حرکی کردار پر گفتگو کی۔ علامہ اقبال اس حوالے سے غور و فکر کرنے اور نتائج نکالنے میں یوں کامیاب او ر کامگار ٹھہرے کہ انھوں نے تاریخ کا جو تہذیبی مطالعہ کر رکھا تھا اور اسلام کے جس تصور تاریخ سے وہ آگاہ تھے، اس کے پس منظر میں انھوں نے ایک نیا زاویۂ نگاہ وضع کیا اور اس کی تدوین اور ترتیب و تہذیب کی بنا پر وہ کچھ ایسے نئے رویے سامنے لائے کہ جن کے مسلم امہ پر نہایت دور رس اثرات مرتب ہوئے۔(بحوالہ : اقبال کا تصور تاریخ۔ راشد حمید)
اسلامی تعلیمات گواہ ہیں کہ اس مذہب میں کس قدر رواداری اور وسعت ہے۔ تعصب اور تنگ نظری کی اسلام میں کبھی کوئی گنجائش نہیں۔یہاں تک کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پر بھی لعن طعن کی سخت ممانعت کی گئی ہے لیکن خود اسلام کے پیروکار ہی اپنے دینی بھائیوں سے تعصب رکھنے لگے تو اقبال کو شکوہ کرنا پڑا۔
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلماں بھی ہو
اور جب مسلمان ذاتی مفادات میں اس قدر محو ہو جاتے ہیں مطالب قرآن کو بھی ذاتی مفاد کے رنگ میں ڈھال لیا تو اقبال کہتے ہیں ۔
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
بیسویں صدی میں جہاں دنیا ترقی کے نئے ذینے چڑھ رہی تھی، وہیں مذہب اسلام میں نئے قصے سر اٹھا رہے تھے۔ ہر کوئی اپنی فکر کو صحیح ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔ مذہب جیسے ذاتی جاگیر بن کر رہ گیا تھا۔ ان حالات میں اقبال فرماتے ہیں۔
تعصب چھوڑناداں دہر کے آئینہ خانے میں
یہ تصویر بھی ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نے
اقبال ایک بالغ نظر شاعر ہیں۔ انھوں نے نہ صرف مشرق کی تعلیمات اور فلسفے کو پڑھا ہے بلکہ فلسفہ مغرب بھی ان کے دل و دماغ میں بھی ہوا ہے۔ وہ علم کو مضامین یا علاقائیت سے پرے سمجھتے ہیں اور جہاں اس سے انھیں کچھ بھی حاصل ہوتا ہے وہ لے لیتے ہیں۔ وہ تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ فلسفہ ان کے حافظے میں ہے۔ اقتصادیات سے انھیں گہرا شغف ہے۔ دنیا کے نئے رجحانات و ریوں سے بھی واقفیت ہے، جمہوریت، اشتراکیت، شہنشاہیت غرض ہر طرز حکومت سے وہ آشنا ہیں۔ یہی نہیں قدیم ہندوستانی ، چینی، یونانی، فلسفہ و نظریات سے بھی واقف ہیں۔ انھوں نے دنیا کی مختلف اقوام کا مشاہدہ کر کے جو نتائج بر آمد کیے ہیں اسے شاعری کے سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری صرف غزل، قصیدہ یا مرثیہ نہیں ہے بلکہ انسان کے دکھوں کا مداوا کرنے کا ایک حل ہے، انسان کی آزادی خوشی اور طمانیت ان کی شاعری کا مقصد ہے۔ اقبال اپنے علم، تجربے اور تدبر کی مدد سے ایک راہ عمل ترتیب دیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ انسان کی تمام پریشانیوں کا حل اس کے عمل میں پنہاں ہے۔ اگر انسان سچے دل سے کوشش کرے تو منزل مقصود کو پا سکتا ہے۔ بس اسے اپنے عمل کے تئیں خود اعتماد رہنا ہوگا۔ اپنے زور بازو پر یقین کامل رکھنا ہوگا اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھنا ہوگا۔پھر چاہے پہاڑ ہوں یا بحر ظلمات سبھی جگہ فتح و کامرانی ہمارے قدم چومے گی۔ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں :
’’اقبال کو اس بات پر بھی یقین ہے کہ جب تک اس جہان نو کی امامت و قیادت مرد مومن کے ہاتھوں میں نہیں آتی اس وقت تک یہ انسانیت ان فرنگی مقامروں کے ہاتھوں ہلاکت و بربادی سے دو چار ہوتی ہی رہے گی۔ ضرورت ہے کہ مرد مومن اٹھے اور ایک جہان نو کے بانی کی حیثیت سے موجودہ بیمار انسانیت کے دکھوں کا مداوا بن کر اٹھے ایک نئی زندگی اور توانائی عطا کرے۔‘‘( نقوش اقبال۔ علی میاں ندوی، ص۔132)
خضر راہ کے اس مصرع کے حوالے سے علامہ قبال کا یہ پیغام ہے کہ اگر انسان فنا ہو جانا چاہے تو بے لگام زندگی گزارے اور اگر انسان چاہتا ہے کہ باقی رہے تو اصول اورقاعدے کے تحت زندگی بسر کرے۔ اسی میں انسان کی بھلائی ہے۔ زندگی کا دوسرا نام عمل ہے اور اگر انسان کو زندہ رہنا ہے تو اسے اپنی دنیا آپ پیدا کرنی ہوگی اور اس دنیا کے لیے عمل ضروری ہے۔ اور عمل ہی انسان کو حیات بخشتا ہے۔میں اپنے اس مضمون کا اختتام عزیز احمد کے ان جملوں پر کرتا ہوں۔
اقبال کا سارا کلام پڑھنے کے بعد ایک سیدھی سادی بات جو ایک عام آدمی کی سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کو پہچانے اور ان سے کام لے۔ خدا اور اس کے رسول ؐ سے عشق رکھے۔ اسلامی تعلیمات کی حرکی روح کو سمجھے اور اس پر عمل کرے تو وہ حقیقت میں خدا کا جانشین بن سکتا ہے اور اپنی تقدیر کا آپ مالک بن سکتا ہے۔ (عزیز احمد)، کلیات اقبال، اقبال اکادمی۔

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے
***

Iqbal: Azamat E Insani ka Hudi Khwan by Dr. Jamal Rizvi

Articles

اقبال: عظمتِ انسانی کا حُدی خواں

ڈاکٹر جمال رضوی

علامہ اقبال کا شمار ان برگزیدہ شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے انسانی معاشرے کو کئی سطحوں پر متاثر کیا ہے ۔ اقبال کے سلسلے میں ایک بدیہی حقیقت یہ بھی ہے کہ ان کے افکار و خیالات کی معنویت کو کسی مخصوص عہد یا حالات کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔یہ ضرور ہے کہ اقبال کی شاعری کی نمود میں بعض مخصوص حالات و واقعات سے اثر پذیری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے تاہم اقبال نے ان مخصوص حالات و واقعات کی شعری تعبیر کچھ اس انداز میں کی ہے کہ ہردور کا انسانی سماج اس سے استفادہ کر سکتا ہے ۔اردو ادب میں اقبال کی شناخت ایک ایسے شاعر کے طور پر ہے جو حیات و کائنات کے متعلق ایک واضح فکری نظام کے تحت شعر کے تخلیقی مراحل کو طے کرتا ہے۔اس نظام فکر کی بنیاد بلاشبہ وہ اسلامی تعلیمات ہیں جن سے اقبال کو عبد و معبود شناسی کا ایسا ادراک حاصل ہوا جس نے انھیں اس روئے زمین کی زیب وزین کے امین حضرت انسان کی عظمت و رفعت کی آگہی عطا کی۔اقبال کی شاعری کا کل سرمایہ ان کی فکر و نظر کے ارتقا کی روداد ہے۔ اس روداد میں کئی ایسے مراحل آتے ہیں جو بعض امور میں اقبال کے زاویۂ نظر سے اختلاف کی گنجائش پیدا کرتے ہیں لیکن اس کے باوصف اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ ان کی شاعری میں سماجی و سیاسی انسلاکات کی متغیر کیفیت کے باوجود عظمت انسانی کی نقش گری کا رجحان ہر دور میں تقریباً یکساں نظر آتا ہے۔
اقبال کی ۶۱؍سالہ زندگی(پیدائش ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء۔وفات ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء)میں مذہب، ادب اور سیاست کے مثلث نے انھیں فکری بالیدگی عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ۶۱؍ سال کا یہ دورانیہ نہ صرف بر صغیر کی تاریخ بلکہ اسلامی تاریخ میں ایسے تغیرپذیر حالات کا مظہر ہے جس کے سبب اقبال کے افکار و نظریات میں تبدیلی کا وہ عمل نظر آتا ہے جو ان کی فکر کی ہمہ گیریت کو ایک مخصوص سیاسی و سماجی دائرے سے آزاد کر کے اسے عرص�ۂ کائنات پر محیط کر دیتا ہے۔یورپ کے سفر سے قبل اقبال کی شاعری کا انداز اور اس سفر سے واپسی کے بعد ان کی شاعری کے موضوعات اور ایک حد تک طرز بیان میں تبدیلی کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔اقبال کی شاعری میں اس تبدیلی پر بعض ارباب نقد و نظر اس لیے معترض ہیں کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں جیسی نظم کا خالق اپنی فکر کو ایک مخصوص دائرے میں اس قدر محصور کر لیتا ہے کہ اسے اسلام اور مسلمان کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا۔ اعتراض کرنے والوں کے نزدیک یہ اقبال کی فکر کی محدودیت کی علامت ہے جبکہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کے اندر ایسی فکری پختگی پیدا ہونی چاہیے جو ترانۂ ہندی سے بھی بہتر نظم کی تخلیق کا سبب بنتی۔اقبال نے اپنے افکار و نظریات میں پیداہوئی اس تبدیلی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سبب کی وضاحت بھی کی ہے ۔ انھوں نے بیسویں صدی کے عالمی انسانی معاشرہ میں رائج وطن پرستی اور قوم پرستی کے اس تصور کو اس کا سبب قرار دیا ہے جو جغرافیائی حدود کا اس قدر پابند ہے کہ اس کے باہر کی دنیا سے اسے کوئی سروکار نہیں۔جب ان کی فکر نوع انساں کی عظمت کے نشانات تلاش کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے تو اقوام عالم کے مابین مختلف قسم کے امتیازات کی ایسی سنگین شکل نظر آتی ہے جو اس عظمت کو پاش پاش کر دینے کے درپے ہے۔حیات اقبال سے وابستہ اس دور کی ایک دلچسپ سچائی یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں دنیامیں امن و آشتی کے قیام کی پائیداری کو یقینی بنانے کی جس قدر کوشش ہو رہی تھی جنگ اور غارت گری کا عفریت اسی قدر انسانی معاشرہ کو اپنے مہیب سایہ میں لے رہا تھا۔گزرتے وقت کے ساتھ یہ سایہ دراز ہوتا جارہا تھاجس کا ایک بڑا سبب مختلف قسم کے امتیازات کے سبب انسانی برادری کے درمیان تفریق و انتشار کی وہ کیفیت تھی جسے نام نہاد ترقی پذیر دنیا کے فرمانروا سیاست اور سماج اور بعض اوقات مذہب کی وہ ترقی یافتہ صورت قرار دے رہے تھے جو انسانی ارتقا کے سفر کی ضامن ہے۔ قومیت اور وطنیت کا یہ تصور حب جاہ کے خواہاں افراد کے لیے وہ نسخۂ کیمیا تھا جو ان کی خواہش کی تکمیل کی راہ کو قدرے آسان بنا دیتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ اتحاد انسانی کے لیے ایسا خطرہ ہے جس سے انسانی عظمت کے زائل ہونے کا اندیشہ قوی ہو جاتا ہے۔ان حالات میں اقبال عظمت انسانی کی بقا کے لیے اسلام کے اس نظام حیات کی تائید کو ضروری قرار دیتے ہیں جو حریت و مساوات کی راہ میں رنگ و نسل کے امتیازات سے ماورا نوع انساں کو ایک مرکز اتحاد پر مجتمع کرنے کا ذریعہ ہے ۔ اپنے اس نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:
’’ اسلام ایک قدم ہے نو ع انسانی کے اتحاد کی طرف۔ یہ ایک سوشل نظام ہے جو حریت و مساوات کے ستونوں پر کھڑا ہے ۔پس جو کچھ
میں اسلام کے متعلق لکھتا ہوں اس سے میری غرض محض خدمتِ بنی نوع ہے اور کچھ نہیں اور میرے نزدیک عملی نقطۂ خیال سے صرف
اسلام ہی Humanitarian Ideal کو Acheive کرنے کا ایک کارگر ذریعہ ہے۔ باقی ذرائع محض فلسفہ ہیں۔ خوشنما
ضرور ہیں مگر ناقابل عمل۔‘‘ (مکتوب بنام سید محمد سعید الدین جعفری مشمولہ خطوط اقبال صفحہ ۱۶۶؍ مرتبہ رفیع الدین باشمی)
اقبال کے خط کا یہ اقتباس شاعری میں ان کے فکری سروکار کو واضح کرتا ہے۔ وہ اسلامی تعلیمات کی اساس پر استوار اپنے فکری نظام کو نوع انساں کے درمیان اتحاد کا ایک وسیلہ قرار دیتے ہیں اور اس کے ذریعہ ہی وہ عظمت انسانی کے اس تصور کو آشکار کرنے کی سعی کرتے ہیں جوخلقت کائنات کا سبب ہے۔اقبال کی شاعری میں موضوعی سطح پر اس طرز فکر میں ان کے اس خاندانی پس منظر کو نظر اندا ز نہیں کیا جا سکتا جو ان کی ذہنی تربیت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔اقبال کی شخصیت کا مطالعہ اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اسلامی تعلیمات سے رچے بسے گھریلو ماحول سے باہر نکل کر جب وہ تعلیمی مراحل بتدریج طے کرتے ہیں تو یہاں ایک بالکل مختلف بلکہ گھریلو ماحول سے متضاد صورتحال ان کے سامنے ہوتی ہے۔مابعد الطبعیات فلسفے کا ارتقا کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے باوصف وہ مذہب کے تئیں اپنے پختہ افکار میں کسی قسم کی تشکیک میں مبتلا نہیں ہوئے۔مذہب اور فلسفہ کے درمیان تفاوتِ توجیہی یقینی امر ہے۔ اگر چہ دونوں حیات و کائنات کے اسرار ہائے سربستہ کی گرہ کشائی کا کام انجام دیتے ہیں تاہم عملی و عقلی استنباط دونوں کے مابین ایک واضح فرق قایم کرتا ہے۔اقبال کے افکار میں مذہب اور فلسفہ سے استفادہ کی وہ شکل نظر آتی ہے جو حیات و کائنات کی ماہیت و افادیت کو دریافت کرنے کی ایسی راہ روشن کرتی ہے جو انسانی عظمت کے پرنور چراغوں سے منور ہے۔وہ کائنات کی خلقت کے سبب کا سراغ پانے کی سعی کے عمل میں ان حقائق سے واقف ہوتے ہیں جو انھیں نوع انساں کی تخلیق کے راز سے متعارف کراتی ہے۔
عطا ہوئی ہے تجھے روز وشب کی بیتابی
خبر نہیں کہ تو خاکی ہے یا کہ سیمابی
سنا ہے خاک سے تیری نمو د ہے لیکن
تری سر شت میں ہے کوکبی و مہتابی
جمال اپنا اگر خواب میں بھی تو دیکھے
ہزار ہوش سے خوشتر تری شکر خوابی
گراں بہا ہے ترا گریۂ سحر گاہی
اسی سے ہے ترے نخل کہن کی شادابی
تری نوا سے ہے بے پردہ زندگی کا ضمیر
کہ تیرے ساز کی فطرت نے کی ہے مضرابی (نظم ’ فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں‘)
اس روئے زمین پر ورودِ آدم کے پس منظر میں لکھی گئی اس مختصر سی نظم میں اقبال نے انسانی عظمت کو اس انداز سے نمایاں کیا ہے کہ جنت سے اخراج اس کی فضیلت کا سبب ٹھہرتا ہے۔ اقبال عالم بے کاخ و کو سے عالم رنگ و بو میں آدم کی آمد کو کن فیکون کا حاصل تسلیم کرتے ہوئے نوع انسان سے اس بھرم کے باقی رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں جو تخلیق کائنات کے اہم مقصد کی بنیاد ہے۔اقبال کی شاعری اسی نظام فکر کی ترجمان ہے جو اس بنیاد کے مستحکم کرنے کی تدبیر سے آشنا کرتی ہے اور اس کا مدار عرفانِ ذات کا وہ اہم نکتہ ہے جو نوع انساں کو دنیا و مافیہا کے ان اسرار و رموز کو دریافت کرنے پر آمادہ کرتا ہے جن سے خود اسے اپنی حقیقت و رفعت کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔لیکن اس مقام تک رسائی کچھ ایسی آسان بھی نہیں کہ مدتوں ایک عمل پیہم کے بعد اس کے آثار ہویدا ہوتے ہیں۔ اس مقام تک پہنچنے کی خواہش کی تکمیل میں کئی ایسے مراحل بھی آتے ہیں جو دلسوزی اور جاں سوزی کی سخت و دشوار گزار راہوں سے ہو کر گزرتے ہیں۔ ان راہوں پرثبات قدم سے ہی عظمت انسانی کے امکان روشن ہوتے ہیں لیکن تاریخ انسانی میں کئی ایسے ابواب بھی نظر آتے ہیں جبکہ نوع انساں کے قدموں کی لغزش نہ صرف منزل سے اس کی محرومی کا سبب بنی بلکہ اس کی کوتاہیِ عزم و عمل نے اس راہ کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیا۔اقبال اس سفر کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے انسان کے قلب و نظر کو حقیقت یزدانی کے نور سے معمور ہونے پر اصرا ر کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ ان برگزیدہ و بابرکت شخصیات کے کردار و عمل کو منبعِ فیضان قرار دیتے ہیں جنھوں نے اپنی حیات ارضی کو اس عظیم مقصد کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس مقام پر وہ اسلام کے عہد رفتہ کی درخشاں تاریخ کے صفحات پر ثبت ان جلیل القدر نا موں کے حوالے سے اپنے افکار کی ترجمانی کرتے ہیں جن کی زندگی حیات ارضی کی کامیابی و کامرانی کی ایک روشن مثلا ل ہے۔
اقبال نے شاعری میں اپنی فکری جہت کی وضاحت کرتے ہوئے بارہا یہ کہاہے کہ قرآن و احادیث ہی میری شاعری کے موضوعات کا ماخذہے اور میں ان کے حوالے سے ہی عصر حاضر کے مسائل و معاملات کا تجزیہ کرتا ہوں۔بیسویں صدی میں مادی ترقی کے ہوش ربا مظاہر سے مبہوت انسانی معاشرہ میں اس طرز فکر کو اگر اقبال کی قدامت پسندی اور ماضی پرستی سے تعبیر کیا گیا تو یہ کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔چونکہ اقبال نے اپنے مافی الضمیر کی ترجمانی کے لیے ادب کو بطور وسیلہ اختیار کیا تھا لہٰذا اس ضمن میں اس دور کی ادبی صورتحال کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔اس زمانے کا ادبی منظرنامہ تخلیق ادب کے نظریاتی و اصولی مباحث میں دوباہم متضاد رویہ سے عبارت ہے۔ایک ادب برائے زندگی کا قائل اور دوسرا ادب برائے ادب کا گرویدہ ۔ان حالات میں گرچہ معاصر سیاسی و سماجی حالات کے سبب ادب اور زندگی کے ربط باہم کو مستحکم بنانے کی شعوری کوشش اہل ادب کے یہاں نظر آتی ہے تاہم اس کوشش میں کئی سارے ایسے قدیم معاشرتی تصورات شکست و ریخت سے دوچار ہوئے جو ماقبل انسانی و سماجی اخلاقیات کی اساس تھے۔ اس کے علاوہ اہل ادب کے نزدیک مذہبی اقدار کی نوعیت اور اس کی افادیت کے تصورات پر بھی مادی ترقی کی سحر انگیزی اثر انداز ہوئی۔ اپنے گرد و اطراف میں افکار و افعال کی اس قدرے پیچیدہ صورتحال کے درمیان اقبال نے اپنے لیے ایسی شاہراہ کا انتخاب کیا جس نے دنیا و عقبیٰ کے متعلق ان کی فکر کوایک واضح سمت عطا کی۔ان کی شاعری میں فکر و فلسفہ کے مرکب سے جو قصر تعمیر ہوتا ہے اس کے ہر ستون پر عظمت انسانی کے چراغ روشن نظر آتے ہیں۔شاعری میں اپنے منفرد طرز بیان اور موضوعات کی تخصیص کے متعلق انھوں نے لکھا ہے :
’’ الفاظ کے انتخاب میں لکھنے والا (شاعر)اپنی حسِّ موسیقیت سے کام لیتا ہے اور مضامین کے انتخاب میں اپنے فطری
جذبات کی پیروی پر مجبور ہوتا ہے۔ اس امر میں کسی دوسرے شخص کے مشورے پر خواہ وہ کتنا ہی نیک مشورہ کیوں نہ ہو ، عمل
نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (مکتوب بنام سید محمد سعید الدین جعفری مشمولہ خطوط اقبال صفحہ ۱۶۵؍ مرتبہ رفیع الدین باشمی)
(خطوط اقبال)
اقبال کے اس بیان سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ انھوں نے شاعری میں جن موضوعات کو برتا ہے ان سے اقبال کا رابطہ صرف خارجی سطح پر ہی نہیں ہے بلکہ وہ موضوعات بجائے خود ان کی شخصیت کی تعمیرو تشکیل میں جزو لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کی شاعری کا خاص وصف غور وفکر کی راہوں کو روشن کرنا ہے ۔ انسانی معاشرہ میں شاعری کے اس افادی پہلو پر ان کی بھر پور نگاہ تھی اسی لیے وہ شاعر کو محض تخیلات کا پابند تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے بلکہ ان کے نزدیک شاعر کا منصب اس قدر بلند و ارفع ہے جو اپنے کلام سے خوابیدہ سماج میں بیداری کی رمق پیدا کر سکتا ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں جابجا شاعر کی ذات سے منسوب اس قدر کا اظہار کیا ہے ۔ ان کے اس موقف کی وضاحت درج ذیل اس مختصر سی نظم سے ہو جاتی ہے جس کا عنوان ہی شاعر ہے ؂
قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم
منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم
محفلِ نظمِ حکومت چہرۂ زیبائے قوم
شاعرِ رنگیں نوا ہے دیدۂ بینائے قوم
مبتلائے درد کوئی عضو ہو ، روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
شاعر کی شخصیت کے لیے آنکھ کی یہ تمثیل معنویت کی کئی جہتوں کی حامل ہے ۔یہ جہات انسانی زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں تاہم اس کا محور و مرکز عظمت انسانی کے وہ مظاہر ہیں جو گردش ایام کے اثرات سے محفوظ رہتے ہوئے تا ابد کے لیے جاودانی حاصل کر لیتے ہیں۔اقبال کے یہاں انسان کامل کے تصور کے ڈانڈے انہی مظاہر سے ملتے ہیں۔ یہ تصور ہی اقبال کواس مشت خاک میں تسخیر کائنات کاولولہ و جوش دکھاتا ہے اور وہ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں ؂
منظر چمنستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا
محرومِ عمل نرگس، مجبورِ تماشا ہے
رفتار کی لذت کا احساس نہیں اس کو
فطرت ہی صنوبر کی محرومِ تمنا ہے
تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں
انسان کی ہر قوت، سرگرمِ تقاضا ہے
اس ذرہ کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہردم
یہ ذرہ نہیں، شاید سمٹا ہوا صحرا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
یہ ہستی دانا ہے ، بینا ہے توانا ہے (نظم ’انسان‘)
چمنستاں کی ہیئت کو بدل ڈالنے کی توفیق اسی صورت میں اس مشت خاک کا مقدر بنتی ہے جبکہ وہ اپنی ذات میں پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مصروف عمل رہے۔اقبال کی شاعری میں انسانی عظمت کا تصور ان کے نظام فکر کی اس فلسفیانہ تعبیر سے وابستہ ہے جس میں عمل پیہم اور یقین محکم کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کے نزدیک اگر انسان عمل کی قوت اور یقین کی دولت سے محروم ہے تو وہ زندگی کے ان تقاضوں کی تکمیل نہیں کر سکتا جن سے کامیابی و کامرانی کے راستے ہموار ہوتے ہیں۔اقبال انسان کی حیات ارضی کی کامیابی کا دار و مدار اس کے مسلسل سرگرم عمل رہنے میں دیکھتے ہیں اور اس کے لیے وہ اپنی شاعری میں ان حوالوں سے بھی کام لیتے ہیں جو عقائد کی رو سے گرچہ ان کی فکر سے متضاد نظر آتے ہیں تاہم جہد و عمل کے ذریعہ حصول مقصد کا ایک مثالی نمونہ ہیں۔ فکر اقبال کا یہ اجتہادی انداز ابلیس کے کردار کو بھی ایک علامت کے طور پر پیش کر کے نوع انساں کو اس سے جہد و عمل کی تحریک حاصل کرنے کا پیغام دیتا ہے۔اس کردار کے ذریعہ وہ تقدیر پر قانع رہنے کے بجائے تدبیر کے میدان میں زور آزمائی کی تلقین کرتے ہیں۔وہ بارگاہِ یزدی سے ابلیس کے نکالے جانے کو اس کی درماندگی کے بجائے اس کی بلند حوصلگی قرار دیتے ہیں اور اس جراتِ بیباکانہ کو اس کے اندر پوشیدہ جہد و عمل کی قوت کو بروئے کار لانے کا وسیلہ تسلیم کرتے ہیں۔اقبال نے اپنی کئی نظموں میں ابلیس کے کردار کے اس پہلو کو نمایاں کیا ہے ۔ اس سلسلے کی ان کی نظم ’ مکالم�ۂ جبریل و ابلیس‘ ایک شاہکار ہے۔ اس نظم میں انھوں نے جہد و عمل کی قوت سے سرشار ابلیس کو اپنے مقصد کی حصول یابی میں اس قدر سرگرم عمل دکھایا ہے کہ وہ ہر مشکل اور خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اپنے مقصد سے رو گردانی اسے کسی طوربھی قبول نہیں حتیٰ کہ وہ اپنے قدرے آسودہ و لذت بخش ماضی سے بھی اپنے حال کو بہتر قرار دیتا ہے۔اس نظم کے ذریعہ اقبال اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسائل و مشکلات سے نبر د آزمائی میں ہی شخصیت کے جوہر نمایاں ہوتے ہیں۔موضوع کی اس انفرادیت کے علاوہ اس نظم کا اسلوب بھی اقبال کے کمال شاعری کا بین ثبوت ہے۔جبریل و ابلیس کے مکالموں سے اس نظم کے تار و پود کچھ اس انداز میں بنے گیے ہیں کہ اس کا آہنگ براہ راست دل پر اثر انداز ہوتا ہے۔اس نظم کا آخری اقتباس جو ابلیس کے مکالمے کی صورت میں ہے اس میں اقبال نے شورشِ ابلیس کو دنیا کی حرکت و عمل کا سبب قرار دیا ہے گرچہ اس کا مقصد نیک نہ ہو تاہم یہ ابلیس کو ہمہ وقت آمادۂ عمل رکھتا ہے ۔ اس نظم کے ذریعہ اقبال نے عزم و عمل کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہوئے اس لطیف پہلو کی جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ اگر دل جہد و عمل کی قوت سے تہی ہو تو کسی نیک مقصد سے وابستگی بھی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔وہ جہد و عمل کی اس قوت کے نمو پانے کے لیے طوفانِ حوادث سے مقابلہ آرائی کو ضروری قرار دیتے ہیں ؂
ہے مری جرات سے مشت خاک میں ذوق نمو
میرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار و پو
دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزمِ خیر و شر
کون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے؟ میں کہ تو؟
خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست وپا
میرے طوفاں یم بہ یم، دریا بہ دریا ، جو بہ جو
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو
میں کھٹکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ہو، اللہ ہو،اللہ ہو
اقبال نے اس نظم کے علاوہ اپنی دیگر تخلیقات میں بھی ابلیس کے کردار کو جہد و عمل کا ایک استعارہ بنا کر پیش کیا ہے۔وہ اس کردار کے ذریعہ نہ صرف نوع انساں کے دلوں میں جذبۂ عمل کی حرارت پیدا کرنے کے خواہاں ہیں بلکہ عصر حاضر کی انسانی تہذیب کی اس مصنوعی چکا چوند پر بھی طنزکرتے ہیں جو بنامِ ارتقا انسانوں کے طرز حیات میں ان مضرت رساں عوامل کی آمیزش کرتی ہے جن سے شیرازۂ حیات کے منتشر ہو جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘ میں اقبال نے عہد نو کے انسانی معاشرے میں مذہب و سیاست پر مادہ پرستی کی اس ملمع کاری کو ہدف بنایا ہے جو در حقیقت ابلیسی منصوبے کو بتدریج کامیابی سے ہمکنار کرتی نظر آتی ہے۔اقبال کی یہ نظم خصوصی طور پر ان کے سیاسی شعور کی پختگی کا ثبوت فراہم کرتی ہے ۔ انھوں نے اس نظم میں ابلیس کے مشیروں کی تعدا د کا جو تعین کیا ہے وہ گرچہ ان کی شعری ضرورت کا تقاضا رہا ہو لیکن اس پہلو کو اگر دوسری عالمی جنگ کے بعد بین الاقوامی سیاست کے بدلے ہوئے رنگ و آہنگ کے پس منظر میں دیکھا جائے تو اس کی معنویت دو چند ہو جاتی ہے۔
اقبال از آدم تا ایندم انسانی تاریخ کو ارتقا کا ایک ایسا سلسلہ قرار دیتے ہیں جو بطن گیتی و افلاک میں پوشیدہ ان اسرار نہانی کی گرہ کشائی کرتا ہے جن کے ذریعہ وہ اپنی عظمت و سربلندی کی سبیل کرتا ہے لیکن اس مرتبہ تک پہنچنے کے لیے وہ راز ہستی سے شناسائی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔عظمت انسانی کے متعلق فکر اقبال کی موثر ترجمانی کے طور پر ان کی نظم سرگزشت آدم کو پیش کیا جا سکتا ہے ؂
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے
بھلایا قصۂ پیمانِ اولیں میں نے
لگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میں
پیا شعور کا جب جام آتشیں میں نے
رہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کو
دکھایا اوجِ خیال فلک نشیں میں نے
ملا مزاج تغیر پسند کچھ ایسا
کیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نے
نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھی
کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نے
کبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچا
چھپایا نور ازل زیر آستیں میں نے
کبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا
کیا فلک کو سفر چھوڑ کر زمیں میں نے
کبھی میں غار حرا میں چھیا رہا برسوں
دیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نے
سنایا ہند میں آکر سرود ربانی
پسند کی کبھی یوناں کی سرزمیں میں نے
دیار ہند نے جس دم مری صدانہ سنی
بسایا خط�ۂ جاپان و ملک چیں میں نے
بنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالم
خلافِ معن�ئ تعلیمِ اہل دیں میں نے
لہو سے لال کیا سیکڑوں زمینوں کو
جہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نے
سمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کی
اسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نے
ڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریں
سکھایا مسئل�ۂ گردش زمیں میں نے
کشش کا راز ہویدا کیا زمانے پر
لگا کے آئین�ۂ عقل دور بیں میں نے
کیا اسیر شعاعوں کو ، برق مضطر کو
بنا دی غیرت جنت یہ سرزمیں میں نے
مگر خبر نہ ملی آہ راز ہستی کی
کیا خرد سے جہاں کو تہِ نگیں میں نے
ہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخر
توپایا خان�ۂ دل میں اسے مکیں میں نے
اس نظم میں دور قدیم سے عصر حاضر تک کی انسانی تاریخ کے ہر وہ اہم حوالے آگیے ہیں جو انسانی تہذیب و ثقافت، مذہب و معاشرت کے مختلف مراحل کی وہ روداد بیان کرتے ہیں جن سے انسانی سفر ارتقا کی داستان مرتب ہوتی ہے۔یہ طرز فکر اقبال کی شاعری میں عمومی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ مختلف النوع موضوعات کے حوالے سے عظمت انسانی کی ترجمانی کا ایسا پہلو دریافت کر لیتے ہیں جو ان کے تصور حیات کی تائید کرتے ہوئے انسانی فضیلت کے نقوش اجاگر کرتا ہے۔اقبال نے ان نقوش کی درخشندگی و تابندگی کے لیے ان اقدار حیات کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے جن سے معاشرہ میں محبت ، اخوت اور اتحاد و یگانگت کی روایت کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔اقبال کا سرمایۂ کلام اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ اس روئے زمین پر آمد آدم کو اس عظیم مقصد کی تعبیر تصور کرتے تھے جو اس دنیا کی زینت و زیبائش سے وابستہ ہے۔یہ ضرور ہے کہ وہ اس زینت و زیبائش کے لیے کارزار حیات کے ان دشوار گزار مرحلوں سے گزرنے کو بھی لازمی قرار دیتے ہیں جن سے خود شناسی و خداشناسی تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں خودی کے جس تصور کی ترجمانی کی ہے وہ دراصل ان دشوار گزار مرحلوں سے سرخرو گزرنے میں نوع انساں کی معاونت کرتا ہے اور اس سے حوصلہ و تقویت حاصل کرنے کے بعد انسان کی عظمت و رفعت اوجِ ثریا سے ہمکنار نظر آتی ہے۔اقبال نے انسانی تہذیب و تمدن کا جو تصور اپنی شاعری میں پیش کیا ہے اس میں ان عارضی مفاہمتوں اور سیاسی مصلحتوں کا گزر نہیں جو بنام ارتقا انسانوں کے ذریعہ انسانوں کے ہی استحصال کو روا رکھنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ان کے نزدیک جدید دنیا کے مسائل کی ایک وجہ وہ نام نہاد تہذیبی ارتقا کا مفروضہ ہے جس نے نوع انساں کے افکار و افعال میں انتشار و خلفشار برپا کر دیا ہے اور اس اضطراب آمیز کیفیت کو اس مادی ترقی نے دو چند کرد یا ہے جس کے سبب انسانی اخلاقیات سے صالح عناصر عنقا ہوتے جا رہے ہیں۔ اقبال کی انسان شناسی ان کے اس مخصوص نظام فکر کی مرہون ہے جس کی اساس اسلام کی انسانیت نواز تعلیمات ہیں۔اقبال کی شاعرانہ عظمت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دور کے مسائل و معاملات پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ہی آئندہ کے انسانی سماج کو درپیش ممکنہ مسائل سے کماحقہ واقفیت رکھتے تھے۔چونکہ ان کی شخصیت شاعر اور مفکر کے مرکب سے تعمیر ہوئی تھی لہٰذا ان کی فکر میں ایسی آفافیت و ہمہ گیریت کا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔
عظمت انسانی کے بنیادی موضوع کی ترجمانی میں اقبال نے جن دیگر ضمنی موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے ان کی سیاسی ، معاشرتی اور معاشی تعبیر میں ان کے نقطۂ نظر سے اختلاف کے امکان کو سر دست مسترد نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ امکان اس وقت مزید قوی ہو جاتا ہے جبکہ معاصر انسانی معاشرہ میں جدید تعلیمی افکار کے سبب مذہبی اقدار پر انسانی ذہن کی اس یلغار سے متاثر ہو کر کلام اقبال کا مطالعہ کیا جائے جو کہ مذہبی تعلیمات و احکامات کو انسانی ارتقا کے لیے غیر مفید تصور کرتا ہے۔اس کے باوجود کلام اقبال کی مقبولیت کا ایک بڑا راز یہ ہے کہ ہر مکتب فکر سے وابستہ افراد کو اس میں اپنی تسکین قلب کا سامان ملتا ہے اور اگر نظریاتی سطح پر اختلاف کے باوصف اقبال کی شاعری اپنے اندر ایسی جاذبیت و تاثیر رکھتی ہے تو اس کا واحد سبب یہ ہے کہ اس میں عظمت انسانی کی ترجمانی انتہائی دل پذیر اور موثر انداز میں کی گئی ہے۔
*****

Allama Iqbal aur Hubbulwatni by Dr. Ahmad Ali Johar

Articles

علامہ اقبال اور حب الوطنی

ڈاکٹر احمد علی جوہر

علامہ اقبال دنیا کے نابغہ روزگار شاعر ہیں۔ ان کا کلام شعری جمالیات کا مرقع ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دلوں کی آواز ہے۔ اس عظیم المرتبت شاعر کی پیدائش بروز جمعہ، ۹/نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں ہوئی۔ علامہ اقبال کے مورث اعلی کشمیری برہمن تھے جو علم و دانش میں یگانہ عصر تھے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا۔ والدہ مذہبی اور خداترس خاتون تھیں اور والد غیرمعمولی صوفی بزرگ تھے۔ اس طرح تصوف اور شریعت دونوں نے اقبال کی ابتدائی زندگی میں ان کی کردارسازی میں اہم رول ادا کیا تھا۔
علامہ اقبال نے ابتدائی تعلیم مولانا میرحسن صاحب کی درسگاہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ اسکاچ مشن ہائی اسکول سیالکوٹ میں داخل کرائے گئے جہاں انھوں نے ایف۔اے تک کی تعلیم مکمل کی۔ علامہ اقبال نے ۱۸۹۷ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن اور ۱۸۹۹ء میں ایم۔اے امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اس کالج میں پروفیسر تھامس آرنلڈ نے انھیں فلسفہ پڑھایا جن سے وہ بے حد متاثر ہوئے۔ ایم۔اے کے بعد کچھ دنوں تک علامہ اقبال نے اورینٹل کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج لاہور میں عربی اور فلسفہ کے شعبہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
۱۹۰۵ء میں علامہ اقبال اعلی تعلیم کے حصول کے لیے یورپ کے سفر پہ روانہ ہوئے۔ یورپ میں انھوں نے ٹرینٹی کالج سے فلسفہ کی ڈگری، کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری اور جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ ٹرینٹی کالج میں علامہ اقبال کے استاد پروفیسر آرنلڈ، پروفیسر میکٹگرٹ، پروفیسر براؤن اور پروفیسر نکلسن تھے۔ ان اساتذہ نے انھیں کافی متاثر کیا۔ ۱۹۰۸ء میں علامہ اقبال اپنے وطن ہندوستان واپس آئے۔ ۱۹۳۴ء تک وہ وکالت سے منسلک رہے۔ ۱۹۲۳ء میں انگریز حکومت نے ان کو’سر‘ کا خطاب عطا کیا۔ ۱۹۲۶ء میں وہ پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۹۳۵ء میں پنجاب یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ دنیا کے اس عظیم شاعر نے بروز جمعرات، ۲۱/اپریل ۱۹۳۸ء کو اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔
علامہ اقبال ایک بڑے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بلند پایہ سماجی مفکر و دانشور اور فلسفی تھے۔ ان کی فلسفیانہ اور سماجی شخصیت کی تعمیر میں اسلامی تاریخ و تہذیب اور مشرقی و مغربی علوم و فنون کے مطالعہ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ علامہ اقبال مشرق و مغرب دونوں سے متاثر تھے۔ مولانا جلال الدین رومیؔ کی متصوفانہ شخصیت اور ان کی فکر و نظر نے ان کے ذہن و قلب کو شدید طور پر متاثر کیا تھا۔ رومیؔ کے علاوہ جن اسلامی مفکروں، درویشوں اور علماء و حکماء سے علامہ اقبال متاثر ہوئے تھے، ان میں بابا طاہر عریاں، محی الدین ابن عربی، ابن طفیل، فخرالدین رازی، امام غزالی، محمود وشستری، ابن خلدون، شاہ ولی اللہ، شیخ احمد سرہندی، مجدد الف ثانی، قاضی ابوبکر باقلانی، علی پاشا، حلیم ثابت، ابن مسکویہ اور البیرونی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ علامہ اقبال کو اپنے ہم عصر مغربی فلسفیوں میں برگساں، ولیم جیمس، نطشے، گوئٹے، میکٹگرٹ، ہالڈن، شوپنہار، آئنسٹائن، وہائٹ ہیڈ اور برٹرنڈ رسل کے نظریات و تصورات نے بھی بے حد متاثر کیا تھا۔ علامہ اقبال کے سیاسی تصورات پر قدیم یونانی مفکرین اور جدید مغربی مفکرین علی الخصوص ارسطو، ہابس، لاک اور روسو کے اثرات کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے سماجی تصورات کی رو ابن خلدون کے فکری دھاروں سے مل جاتی ہے۔
علامہ اقبال ایسے شاعر ہیں جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں بقول اقبالؔ :
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
علامہ اقبال کی شاعری کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ہر بزم و انجمن کو اپنی جانب متوجہ کیا اور بچے، بوڑھے، مرد و عورت، غرض ہر طبقے کو متاثر کیا۔ آج بھی ان کا کلام زبان زدِ خواص و عوام ہے۔ علامہ اقبال اعلی اخلاقی قدروں اور انسانی عظمتوں کے شاعر ہیں۔ ان کی شاعری کے گوناگوں پہلو ہیں۔ ان متنوع پہلوؤں میں ان کی شاعری کا ایک تابناک پہلو ان کی حب الوطنی ہے۔ علامہ اقبال ایک سچّے اور پکّے محبّ وطن شاعر تھے۔ وہ مذہبی رواداری کے پُرزور حامی اور ہندوستانی فلاسفروں اور سنتوں کے مدح خواں تھے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے شروعاتی دور میں چند بہت ہی متاثرکن اور جذبہ حب الوطنی سے بھرپور نظمیں لکھیں۔ ایسی نظموں میں ’’ہمالہ‘‘، ’’ترانہ ہندی‘‘، ’’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘‘، اور ’’نیاشوالہ‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ نظم’’ہمالہ‘‘ میں شاعر علامہ اقبال نے ہندوستان کی قدیم تہذیب، اس کے دلفریب مناظر اور اس کی عظمت رفتہ کا گن گایا ہے۔
اے ہمالہ!اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
’’ترانہ ہندی‘‘ علامہ اقبال کی وطن پرستانہ شاعری کا اعلی ترین نمونہ ہے۔ اس نظم سے مادرِ وطن سے ان کی شدید محبت کا بہت ہی پرتاثیر اظہار ہوتا ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمار
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا
اس نظم میں علامہ اقبال نے مذہبی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کا نغمہ یوں گایا ہے۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا
مہاتما گاندھی نے ایک خط میں ’’ترانہ ہندی‘‘ کی تعریف اس طرح کی تھی۔
’’جب ان (اقبال) کی مشہور نظم ’ہندوستاں ہمارا‘ پڑھی تو میرا دل بھر آیا اور بڑودا جیل میں تو سینکڑوں بار میں نے اس نظم کو گایا ہوگا۔ اس نظم کے الفاظ مجھے بہت ہی میٹھے لگے اور یہ خط لکھتا ہوں تب بھی وہ نظم میرے کانوں میں گونج رہی ہے‘‘۔
ایک موقع پر مہاتما گاندھی نے ’’ترانہ ہندی‘‘ کی زبان کو ہندوستان کی قومی زبان کا نمونہ قرار دیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں۔
’’کون ایسا ہندوستانی دل ہے جو اقبالؔ کا ’ہندوستاں ہمارا‘ سن کر دھڑکنے نہیں لگتا اور اگر کوئی ایسا دل ہے تو میں اسے اس کی بدنصیبی سمجھوں گا۔ اقبالؔ کے اس ترانے کی زبان ہندی یا ہندوستانی ہے؟ یا اردو ہے؟ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ہندوستان کی قومی زبان نہیں ہے‘‘۔
’’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘‘ علامہ اقبال کی ایسی نظم ہے جس میں حب وطن کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ اس میں علامہ اقبال نے ملک کی وحدت اور یکجہتی کا گیت گایا ہے۔
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سُنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
اس نظم میں علامہ اقبال نے اپنے وطن ہندوستان کے اوصاف اور اس کی عظمت کو بڑے دلآویز انداز میں نمایاں کیا ہے۔ حب الوطنی کے حوالے سے ’’نیاشوالہ‘‘ علامہ اقبال کی انتہائی معروف اور موثر نظم ہے جس میں حب وطن کے جذبہ کا اظہار بہت ہی پُرتاثیر انداز میں ہوا ہے۔ اس نظم میں علامہ اقبال ہندوؤں اور مسلمانوں، دونوں کی آپسی رنجش اور مذہبی اختلافات کو تج کر، باہمی اتحاد و اتفاق اور یگانگت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔
سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو بُرا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہوگئے پُرانے
اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بُتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے
دراصل جب ہندوستان کی آزادی کی تحریک چل رہی تھی تو انگریز ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی اختلافات پیدا کرکے انھیں آپس میں لڑا رہے تھے۔ ہندوستانیوں کے یہ آپسی جھگڑے حصولِ آزادی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہورہے تھے جس سے علامہ اقبال بے حد متردد تھے۔ اس دیر و حرم کے جھگڑوں سے تنگ آکر علامہ اقبال ایک ایسے شوالے کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے جس میں دیروحرم کا کوئی امتیاز باقی نہ ہو۔
تنگ آکے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے
سونی پڑی ہوئی ہے مدّت سے دل کی بستی
آ، اک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں
اس نظم میں علامہ اقبال وطن کی محبت میں اس درجہ سرشار نظر آتے ہیں کہ انہیں خاکِ وطن کا ہر ذرہ دیوتا نظر آتا ہے۔
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاکِ وطن کا مجھ کو، ہر ذرہ دیوتا ہے
اس نظم کا خلوص اور اس کا جوش آج بھی اردو زبان میں وطنی شاعری کا بلند ترین نقطہ ہے۔ اس نظم کے بارے میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:
’’شاعری کے اعتبار سے یہ نظم اقبالؔ کے دورِ وطن پرستی کا بہترین نمونہ ہے۔ …. شاعر نے وطن کی عظمت کا نقش دلوں پر قائم کرنے کے لیے اپنی تمام شاعرانہ قوتوں کو صرف کردیا ہے۔ اکثر ناقدین اقبالؔ کا خیال ہے کہ ہندو مسلم اتحاد پر یہ اقبالؔ کی بہترین نظم ہے‘‘۔ (۱)
علامہ اقبال کے حب وطن کے شدیدجذبہ کو ’’بچوں کی دعا‘‘، ’’صدائے درد‘‘ اور ’’تصویر درد‘‘ جیسی نظموں میں بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ نظم ’’بچوں کی دعا‘‘ میں علامہ اقبال نے اپنے وطن ہندوستان کے سجنے سنورنے اور اس میں پھول کی طرح سے زندگی گزارنے کی تمنا کی ہے۔
ہو مرے دم سے یوں ہی مرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
نظم ’’صدائے درد’’ میں علامہ اقبال اپنے وطن عزیزمیں رونما ہونے والے مسلسل فرقہ وارانہ اختلافات پر مضطرب و بے چین ہیں۔
جل رہا ہوں، کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے، اے محیطِ آبِ گنگا تو مجھے
نظم ’’تصویرِ درد‘‘ دراصل وطن ہندوستان کے درد و غم کی تصویر ہے۔ اس نظم میں وطن کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے عناصر جیسے ہندوستانی قوموں کے درمیان باہمی نفاق و آویزش،افتراق و انتشار، تنگ نظری و تنگ دلی اور بدگمانی کا تذکرہ بڑا ہی غمناک ہے۔ اس نظم میں علامہ اقبال نے اپنے وقت میں وطن کی موجودہ صورت حال کی اندوہناک تصویر اس دردناک انداز میں پیش کی تھی۔
رُلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے ترا فسانہ سب فسانوں میں
اور حال کے آئینے میں مستقبل کے اندیشے کی پیشین گوئی اس طرح کی تھی۔
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
ان دونوں نظموں کے ذریعے علامہ اقبال اہل وطن کو فرقہ پرستی، تعصب و تنگ نظری اور شقاوت و سنگ دلی سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور قومی اتحاد اور باہمی محبت پر زور دیتے ہیں۔ علامہ اقبال چاہتے ہیں کہ اہلِ وطن اپنی عظمتوں کے شناسا ہوں، فکر میں بلندی پیدا کریں، ذہنی پستی کے قعر سے نکلیں اور اعلیٰ انسانی اقدار کے حامل ہوں۔ علامہ اقبال کی یہ ابتدائی نظمیں حب الوطنی کے جذبہ سے لبریز ہیں۔ مولانا صلاح الدین احمد علامہ اقبال کے ابتدائی دور کی شاعری کے تعلق سے رقم طراز ہیں:
’’ جب ہم اقبالؔ کی ابتدائی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو قدرت اور عورت کے حسن کی پرستش کے بعد جو جذبہ سب سے پہلے نظر آتا ہے وہ وطن کی پرستش ہے‘‘۔
علامہ اقبال نے اپنی ان نظموں کے ذریعے جذبۂ حب الوطنی کو فروغ دیا جس سے آزادی کی قومی جدوجہد کو بڑی تقویت حاصل ہوئی۔ علامہ اقبال نے کبھی وطن کی محبت کے جذبے کو فراموش نہیں کیا۔ ان کے دورِ آخر کے کلام میں بھی حب الوطنی کا گہرا رنگ موجود ہے۔ ’’جاویدنامہ‘‘ ۱۹۳۲ء میں شائع ہواہے۔ اس میں بھی جذبۂ حب الوطنی کا خوبصورت اظہار ملتا ہے۔ اس نظم میں علامہ اقبال نے ہندوستانی سنت وشوامتر کو بڑے احترام سے یاد کیا ہے۔ اس میں انھوں نے ہندوستان کی روح کا خوبصورت روپ بھی بیان کیا ہے لیکن اس کی غلامی پر آنسو بھی بہایا ہے۔ اس نالہ و شیون علامہ اقبال کے قوت جگر کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ ’ضربِ کلیم‘ میں دو نظمیں ’’گلہ‘‘ اور ’’شعاعِ امید‘‘ ہیں۔ دیکھئے ان میں وطن کی محبت کے لئے علامہ اقبال کا دل کس طرح دھڑک رہا ہے۔
معلوم کسے ہند کی تقدیر کہ اب تک
بیچارہ کسی تاج کا تابندہ نگیں ہے
جاں بھی گروِ غیر، بدن بھی گروِ غیر
افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے، نہ مکیں ہے
چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضا کو
جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردانِ گراں خواب
’ارمغانِ حجاز‘ میں بھی وطن کی محبت اور اس کو آزاد دیکھنے کی خواہش کا اظہار موجود ہے۔
شبِ ہندی غلاماں را سحر نیست
بایں خاک آفتابے را گذر نیست
(ہندی غلاموں کی شب تاریک سحر آشنا نہیں ہے، گویا اس سرزمین پر آفتاب کا گذر ہی نہیں ہوتا۔ وطن کی غلامی سے علامہ اقبال کس قدر نالاں ہیں، یہ شعر اسی باطنی کرب کی عکاسی کرتا ہے۔ علامہ اقبال کو اپنے وطن سے اس قدر گہرا لگاؤ اور شدید محبت ہے کہ انھوں نے یہاں کی مقدس و برگزیدہ ہستیوں کو بڑی عقیدت و محبت سے یاد کیا ہے۔ دیکھئے انھوں نے ’رام‘ کو کس جوشِ عقیدت سے یاد کیا ہے۔
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند
گرونانک کو یوں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے
ان کے علاوہ علامہ اقبال نے سوامی رام تیرتھ، شنکرآچاریہ، بھرتری ہری، شیو، گوتم بدھ اور عارفِ ہندی کا تذکرہ بڑے احترام اور عقیدت و محبت سے کیا ہے جو علامہ اقبال کے وطن سے گہری محبت کی دلیل ہے۔ معروف شاعر علی سردار جعفری علامہ اقبال کی حب الوطنی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اقبال کے یہاں حب الوطنی ایمان کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کی شاعری میں سامراج دشمنی کی لَے شعلہ نوائی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ہندوستان کی آزادی کا جذبہ خونِ بہار کی طرح ان کے اشعار میں رواں دواں ہے‘‘۔ (۲)
علامہ اقبال کے اشعار میں حب الوطنی کے جذبے کا اظہار بہت ہی خوبصورت اور موثر انداز میں ہوا ہے۔ علامہ اقبال کے کلام میں حب الوطنی کا جذبہ جس طرح پایا جاتا ہے، اس معاملہ میں ہندوستان کے بہت ہی کم شاعر ان کے مقابل نظر آتے ہیں۔ علامہ اقبال کا کلام آج بھی ہمیں انسانیت اور حب الوطنی کے مقدس جذبے کا درس دیتا ہے اور ہمارے جذبہ حب وطن کو تحریک دیتا ہے۔
***
(۱) پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرحِ بانگِ درا، ص:۳۱۹۔
(۲) علی سردار جعفری، اقبال شناسی، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی، ۱۹۷۶ء، ص:۱۱

Iqbal ki Ghazal Goey ki Chan Infaradi Pahloo by Roshni Khan

Articles

اقبال کی غزل گوئی کے چند انفرادی پہلو

روشنی خان

اردوغزل پر حالی کی سخت ترین تنقید کے باوجود اس صنف کا نہ تو مملکت شعر سے دیس نکالا ہوسکا اور نہ ہی شائقین ادب کے درمیان اس کی مقبولیت میں کمی آئی۔اردو کی شعری روایت میں بارہا ہدف ملامت بننے کے باوجود یہ صنف آج بھی نہ صرف اپنی جلوہ سامانی سے ایوان شاعری کو درخشندگی عطا کر رہی ہے بلکہ بعض حیثیتوں سے یہ دنیا کی ان زبانوں کی شاعری کے مابین امتیازی شان کی حامل ہے جن کا حوالہ دینے کا رواج اردو تنقید میں ایک فیشن کے طور پر رائج ہو چکا ہے۔اردو غزل کا تخلیقی سفر جن مراحل سے گزر کر عصر حاضر تک پہنچا ہے اس میں ایک طبقہ ان شعرا کا ہے جو غزل کے روایتی مضمون کے اسیر رہے اور فکر و خیال کی سطح پر کسی جدت کو برتنے سے اجتناب کرتے رہے۔ایسے شاعروں کو بجا طور پر حالی کی زبان میں اسلاف کے چبائے ہوئے نوالوں کی جگالی کرنے والے شعرا کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی غزل کی دنیا میں ایسے شاعر بھی نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اس صنف کو موضوع و معنی کے نئے جہانوں سے متعارف کرایا۔ اقبال کا شمار بھی اردو کے ایسے غزل گو شعرا میں ہوتا ہے جن کی غزلیں اسلوب بیان اور مضمون کی تازہ کاری کی نمایاں مثال ہیں۔ اقبال کی مشق سخن کا آغاز غزل کے ذریعہ ہوا اور ان کی شاعری کا تدریجی ارتقا اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ ابتدا میں روایتی طرز کو اختیار کرنے والا یہ شاعر غزل کو وہ نیا آہنگ عطا کرتا ہے جو آج تک صرف اس سے ہی مخصوص ہے۔ اقبال کی ابتدائی دور کی غزلوں میں زبان اور مضمون پر اردو غزل کے اس روایتی انداز کا پرتو صاف نظر آتا ہے جسے امیر اور داغ نے اپنے دور میں مقبولیت عطا کی تھی۔بانگ درا میں شامل بیشتر غزلوں میں شاعری کے اسی رنگ کو دیکھا جا سکتا ہے تاہم اس کے بعد بال جبریل کی اشاعت ہوئی تو اہل نقد و نظر نے یہ تسلیم کیا کہ اقبال نے غزل کو نئے تخلیقی امکانات سے روشناس کرنے میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اس طور سے استعمال کیا ہے کہ غزل کو عرض مدعا کی تنگ دامانی کے الزام سے بری کر دیا۔
اقبال کی شاعرانہ عظمت جن حوالوں سے ترتیب پاتی ہے ان میں ایک حوالہ اردو غزل کو نئی تخلیقی جہت عطا کرنے کا بھی ہے۔وہ شاعری کو حیات و کائنات کے متعلق ایک خاص نصب العین کے اظہار کا وسیلہ سمجھتے ہیں اور اس اظہار میں اس سلیقہ مندی کو ملحوظ رکھنے کی کوشش پر بھی خاص توجہ رہی جس کے بغیر شاعری کو فنی اعتبار و وقار حاصل نہیں ہوپاتا۔اپنے اس تخلیقی رویہ کا اظہار انھوں نے کچھ اس طور سے کیا ہے
فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرف تمنا جسے کہہ نہ سکے روبرو
اقبال شاعری میں برہنہ گفتاری کو مستحسن نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس فن سے وابستہ ان تقاضوں کی تکمیل بھی ان کے پیش نظر تھی جو شاعری کو فن کا مرتبہ عطا کرتی ہے۔ بانگ درا کی غزلوں میں واردات قلب و نظر کی ترجمانی جس روایتی پیرائے میں ہوئی اس میں معاصر شعری ماحول سے اثر پذیری کا انداز نمایاں ہے لیکن اس کے بعد کی غزل کا ارتقائی سفر جن منزلوں سے ہمکنار ہوا وہ ان کی ریاضت فن کا ثبوت فراہم کرتا ہے ۔ ان کی شاعری اور شخصیت کا سرسری مطالعہ بھی اس حقیقت کو واضح کر دیتا ہے کہ وہ زندگی میں تقلید و جمود کی بجائے اجتہاد اور حرکت و عمل کو ترجیح دیتے تھے اور اس سلسلہ میں ان کا مطمح نظر خوب سے خوب تر کی تلاش کے رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔ انھوں نے بڑے واضح طور پر کہا کہ :
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی
رستہ بھی ڈھونڈ، خضر کا سودابھی چھوڑ دے
اس شعر کو اگر اردو غزل کے تخلیقی مزاج کے سیاق میں دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ تقلید کو خود کشی کے مترادف قرار دے کر اگر ایسے اجتہادی اقدام کیے جائیں جو غزل کی تہذیب سے یکسر مختلف ہوں تو شاعر غزل کے فارم میں جو کچھ بھی پیش کرے گا وہ سب کا سب فنی معیار پر پورا اترے، اس کا دعویٰ بہرحال نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کے ساتھ بھی کسی حد تک یہ معاملہ ضرور ہا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب اہل زبان نے ان کی غزلوں میں زبان کے استعمال پر اعتراض کیے تو انھوں نے بڑی انکساری سے یہ اعتراف کر لیا کہ وہ شاعری سے زیادہ اپنے اس پیغام کی ترسیل کو فوقیت دیتے ہیں جو خواب آلود ذہنوں میں بیداری کی رمق پیدا کر سکے۔جب شاعری کسی بڑے مقصد کے تحت تخلیقی شاہراہ پر محو سفر ہوتی ہے تو اس طرح کے مراحل کا درپیش آنا فطری بات ہے۔لیکن اقبال کے فراہم کردہ اس جواز کی بنیاد پر ان کی غزلوں کو فنی معیار سے یکسر خارج بھی نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اگر ایک طرف وہ اپنے پیغام کی ترسیل سے کوئی مفاہمت کرنے کو تیار نہ تھے تو دوسری جانب انھوں نے غزل میں برہنہ گفتاری سے بھی حتیٰ الامکان گریز کیا ہے۔انھوں نے اردو غزل کی روایتی زبان کو نئے معنوی جہات سے روشناس کیا اور بعض فرسودہ موضوعات کو بالکل نئے انداز میں نظم کر کے غزل کے تخلیقی کینوس کو وسعت عطا کی۔
بانگ درا کے بعد بال جبریل کی غزلوں میں اقبال کا وہ اجتہادی رنگ پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوا جس نے اردو غزل کے روایتی حصار کو توڑ کر اس کے لیے نئے تخلیقی امکانات کے آثار پیدا کیے۔اقبال کی غزل گوئی کے اس ارتقائی سفر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی نے لکھا ہے:
’’اقبال کی غزل نے جس ذائقے کا احساس دلایا تھا بال جبریل کی غزلوں تک پہنچتے پہنچتے ایک واضح شکل اختیار کر لیتا ہے چنانچہ اس
دور کی غزلیں ان کی نظم کے مزاج سے زیادہ قریب ہیں ۔ یہ دور اقبال کے فکری اور تخلیقی تنوع کا دور ہے کہ اب اقبال اپنی ادبی روایت
کے امکانات کی تسخیر کے بعد بہ ذات خود شعر کی ایک نئی روایت کا سرچشمہ بن چکے تھے۔‘‘
(اقبال اور عصر حاضر کا خرابہ ، شمیم حنفی صفحہ ۹۹؍ غالب اکیڈمی نئی دہلی، ۲۰۱۰ء)
پروفیسر شمیم حنفی نے اقبال کی غزل گوئی کے حوالے سے جس تخلیقی رویہ کی طرف اشارہ کیا ہے اس کا اعتراف کم و بیش ہر شارح ادب نے کیا ہے۔اقبال کے یہاں شعر کی اس نئی روایت کا معاملہ کچھ ایسا بھی نہیں ہے کہ انھوں نے غزل کی تہذیب کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا ہو اور اس صنف کو برتنے میں ان فنی لوازم کا لحاظ ہی نہ رکھا ہو جو غزل کو غزل بناتے ہیں۔انھوں نے اپنے مخصوص پیغام کے اظہار کے لیے غزل کا فارم اختیار کرتے ہوئے اس کے فنکارانہ لوازم کی پاسداری کو بھی ملحوظ رکھا۔ غزل کے تخلیقی مزاج میں رمز و ایما کی کارفرمائی نہ صرف یہ کہ شعر کو صوتی حسن عطا کرتی ہے بلکہ فکری سطح پر کئی جہات سے ہمکنار کرتی ہے۔اقبال کی غزلوں میں بھی اس فنی رویہ کو بہ آسانی دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس التزام کے ساتھ کہ مضمون کی جدت بھی آشکار ہو اور غزل کے فنی تقاضوں کی تکمیل پر بھی کوئی حرف نہ آئے۔ انھوں نے غزل کی روایتی لفظیات کو معنی و مفہوم کا نیا پیکر عطا کیا اس لیے ان کی غزلوں میں استعمال ہونے والی زبان کو روایتی پس منظر میں دیکھنے سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ ان کے یہاں بھی بیشتر وہی باتیں دہرائی گئی ہیں جن کو اسلاف بارہا غزل میں بیان کر چکے ہیں۔اس سلسلے کی سب سے نمایاں مثال عشق کے مضمون کو برتنے کے حوالے سے دی جا سکتی ہے ۔ اقبال کی غزلوں میں جس عشق کا بیان ہے وہ ماقبل شعرا کے اس عشق سے یکسر مختلف ہے جو انسان کو محرومی و یاسیت کی فضاوں کا اسیر بنا دیتا ہے اور وہ کارزار حیات میں نبرد آزما ہونے کی بجائے گوشہ نشینی کو اپنا شیوہ بنا لیتا ہے۔انھوں نے اردو غزل کے روایتی عشق کے تصور کو نئے رنگ میں پیش کیا ہے اور اسے زندگی کی کامرانی و فتح مندی کا موثر وسیلہ قرار دیا بلکہ اس سے بھی آگے یہ تسخیر کائنات کا جوش و ولولہ پیدا کرنے میں ایک اہم محرک کے طور پر اقبال کی غزلوں میں نظر آتا ہے۔ اقبال کے نظام فکر میں عشق کی عقل پر جو فوقیت نظر آتی ہے وہ اس کی واضح دلیل ہے کہ جب جذب�ۂ عشق سے سرشار انسان زندگی کی راہوں پر گامزن ہوتا ہے تو کامیابی و کامرانی کا ایک لامتناہی سلسلہ اس کا استقبال کرتا ہے۔بال جبریل کی غزلوں میں جس عشق کی ترجمانی کی گئی ہے وہ دراصل یہی عشق ہے جو انسان کو بے خطر آتش نمرود میں کود پڑنے کی تحریک و ترغیب عطا کرتا ہے:
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز دم بہ دم
آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق
شاخ گل میں جس طرح باد سحر گاہی کا نم
عشق کی ایک جست نے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
عشق کے تصور کو نئے معنی و مفہوم سے روشناس کرانے میں اقبال نے تاریخ و تہذیب کے ان حوالوں سے استفادہ کیا ہے جو انسانی فضیلت کا نشان امتیاز ہیں۔ اقبال کی غزلوں میں عشق کو جو مرکزی مقام حاصل ہے وہ ایسی انسانی فضیلت کے اظہار کا وسیلہ ہے جس کی بنا پر وہ مسجود ملائک رہا ہے۔اس عشق سے بہرہ ور ہونے کے بعد حیات کو وہ جاودانی حاصل ہوتی ہے کہ جسے وقت کی گردش بھی مضمحل نہیں پاتی۔
عشق کے علاوہ خودی کا تصور بھی اقبال کے شعری نظام میں اہمیت کا حامل ہے۔اقبال سے قبل اردو شاعری میں اس تصور کوبیشتر منفی معنوں میں استعمال کیا گیا اور بیشتر شاعروں نے خود ی کو تکبر و انانیت کا ہم معنی قراردیا لیکن اقبال نے اسے زندگی کی ایسی مثبت قدر کے طور پر پیش کیا ہے جو انسانی صفات کو جلا بخشتی ہے اور جس کے بغیر زندگی کا کارواں منزل مقصود تک پہنچنے میں سرخرو نہیں ہو پاتا۔اقبال نے خودی کو ایک باقاعدہ فلسف�ۂ حیات کے طور پر اپنی شاعری میں برتا ہے اور ان کی غزلوں میں اس قبیل کے اشعار جا بجا نظر آتے ہیں جن میں اس فلسفہ کی ترجمانی مختلف حوالوں اور سیاق کے ساتھ ہوتی ہے:
حیات کیا ہے؟ خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناں گوں
اقبال نے خودی کے اس فلسفہ کے ذریعہ وحد ت الوجود کے اس نظریہ کی تردید کی جو انسان کو تقدیر کا محکوم بناتا ہے جس کے سبب بے عملی اور مسائل حیات کے روبرو سپر اندازی کا رویہ اس کی شخصیت کا جزو بن جاتا ہے۔اقبال کی غزلوں میں خودی کا تصور اس حرکی قوت کا استعارہ ہے جو مشت خاک کو آسمانوں کی سیر کرنے اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔اگر چہ اس تصور کی بسیط ترجمانی بیشتر ان کی نظموں میں ہوئی ہے لیکن غزلوں میں بھی اکثر ایسے اشعار نظر آتے ہیں جن میں اس تصور کو انسانی فضیلت کے سیاق میں پیش کیا گیا ہے۔اقبال کی خودی کا تصور تو اس قدر بلند و بالا ہے کہ جس نے آدم کو فرشتوں سے بھی آگے لے جا کر خدا کے روبرو سوال و جواب کے لائق بنادیا۔جنت سے نکالے جانے کے واقعے کو سزا نہیں بلکہ جزا تصور کرتے ہوئے خدا کو بھی انتظار کراتا ہے لیکن یہ گفتگو اور لہجے کی بیباکی غیر مہذب یاطبیعت پر گراں نہیں گزرتی۔مثلاً:
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر
تونے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سین�ۂ کائنات میں
ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومت عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں
اقبال کی غزلوں میں مضامین کی جدت و ندرت ان کے اس نظام فکر کو آشکار کرتی ہے جس میں حیات و کائنات کے متعلق ایک واضح تصور ملتا ہے اور اس تصور میں اگر کوئی چیز شرف و فضیلت کی حامل ہے تو وہ عظمت انسانی ہے ۔ایسا نہیں کہ اقبال سے قبل اردو غزل کا دامن اس قسم کے موضوع سے یکسر خالی رہا ہو لیکن جن شعرا کے یہاں اس قسم کے موضوعات ملتے ہیں ان کے یہاں حیات و کائنات کے متعلق ایسا واضح فکری نظام اکثر مفقود رہا ہے۔اردو غزل کے طرز بیان کو کسی حد تک کلاسیکی شعری روایت سے مربوط رکھتے ہوئے اقبال نے موضوعی اعتبار سے اس کے خزینہ میں جو اضافہ کیا وہ ان کی فنکارانہ انفرادیت کو واضح کرتا ہے۔
اقبال کی شاعری حیات و کائنات کا احاطہ کرتی ہے جس میں ایسی ہمہ گیری ہے جو حب الوطنی کے جذبات سے ہم وطنوں کو گرماتی ہے تو فلسف�ۂ خودی دے کر ایک مردہ قوم میں نئی جان پھونکنے اور عقل و منطق کے ساتھ ساتھ عشق کی رہنمائی میں زندگی کا راز تلاش کرتی ہے ۔ان کی شاعری حرکت و عمل اور سخت کوشی کا درس دیتے ہوئے بنی نوع انسان اور ان پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے جو حیات انسانی کا محور ہیں۔
*****
روشنی خان شعبہ اردو، ممبئی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

Allama Iqbal ki Nazm “Shua E Ummed” Aik Mutala by Dr. Mohd. Zubair

Articles

علامہ اقبال ؔ کی نظم’’شعاعِ امید ‘‘

ڈاکٹرمحمد زبیر

علامہ اقبال ؔ اپنے عہد کے ایک عظیم شاعر، بلندپایہ فلسفی ، ممتازمفکراوربے مثل مدبّرہیں۔ ان کا شمارجدید اردو نظم کے اہم شعرا میں ہوتا ہے ۔ ان کی شاعری میں فکرکی وحدت بھی ہے اور بلا کی ہمہ گیری بھی ۔ اقبال کی طبیعت بچپن ہی سے شعرگوئی کی طرف مائل تھی لہٰذا سید میر حسن کی سرپرستی اور صحبت نے ان کے دل میں شعرکہنے کا شوق پیدا کیا۔ ۱۸۹۴ء میں داغ دہلوی کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوئے اور۱۸۹۶ء میں انھوں نے اس رشتے کا ذکر فخر کے ساتھ کیا ہے :
مجھے بھی فخر ہے شاگردیِ داغِ سخنداں کا
ادبی دنیا میں اقبال کی شناخت ایک قدآور شاعر، ماہر فن اور عظیم فلسفی کی حیثیت سے ہے ۔ان کے فلسفہ اور فکروفن پر جس قدر اظہارِخیال کیا گیا ہے ایسی نظیر بمشکل ملے گی۔ آج بھی فکرِاقبال ،نقادوں اور دانشوروں کے لیے نہ صرف ایک اہم موضوع ہے بلکہ سرمایۂ ادب بھی ہے اور ذخیر�ۂ انمول بھی۔ اقبال اپنے فن اور فکرکے اعتبارسے تمام انسانیت کے سچے ہمدرد اور قوم وملت کے پاسبا ں تھے ۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کئی اہم سال جرمنی میں صَرف کیے اور وہیں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ چونکہ وہ شاعر تھے لہٰذا یہ فطری بات تھی کہ جرمن ادبیات ان کے اوپر اثرانداز ہوتے خصوصاً جرمن شاعری ،چنانچہ اقبال جرمن ادب سے اپنا دامن نہیں بچاسکے ۔ اہم بات یہ تھی کہ وہاں مشرقی تحریک، ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل کرچکی تھی، حافظؔ ،سعدیؔ ، رومیؔ اوردیگرایرانی شعراکے خیالات اورادبی روایات جرمن ادبیات پر اثر انداز ہوئے اوران کی پیروی بھی ہوئی۔ بایں سبب جرمن شاعری کایہ رجحان اقبال کے لیے بالخصوص بڑاپرکشش تھا لہٰذا انھوں نے اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔گوئٹے کی شاعری سے وہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ بقول یوسف حسین خاں:
’’اقبال کو فارسی اوراردوکاجو ورثہ ملا اسے اس نے اپنے جذب دروں سے کچھ سے کچھ بنادیا اس نے زندگی کے توانا اورمتحرک تصورات کو نئے قالب میں ڈھال کراپنی شاعری کی صورت گری کی۔ وہ فارسی اوراردو کی روایات کے علاوہ مغربی علم وحکمت سے بھی متاثرہوا ۔چونکہ اس کاذہن فعّال اورتخلیقی تھا،اس نے مغربی افکارپرمشرقی روحانیت کاغازہ بڑی چابک دستی سے مل دیا۔اس طرح اس نے جو مرکب بنایااس میں چونکہ خود اس کے خونِ جگرکی آمیزش تھی اس لیے ہم اسے اس کی مخصوص روحانی تخلیق کہہ سکتے ہیں۔‘‘(اقبال کافن :یوسف حسین خاں،ص ۲۵۔۲۶)
علامہ اقبال ؔ ایک پیامی شاعرہیں وہ بھٹکے ہوئے راہی کو اس کی منزل کاپتہ دیناچاہتے ہیں یہی سبب ہے کہ انہوں نے فنِ شاعری کو وسیلۂ اظہار بنایا۔ اقبالؔ نے اپنے دل کی آواز کوزیادہ اہمیت دی اوراسے اپنی شاعری کے ذریعے بروئے کار لاتے ہوئے اپنی قوم کو جھنجھوڑنے کا کام کیاہے اور درسِ عمل کا پیغام بھی دیاہے۔ انھوں نے شاعری کومحض حصولِ مسرت کاذریعہ نہیں سمجھابلکہ زندگی کو بہتربنانے اورسنوارنے کا وسیلہ بھی قرار دیا ہے۔رجائیت اقبال کی شاعری کا ایک اہم پہلوہے لہٰذا امید کا دامن اپنے ہاتھ سے کبھی نہیں چھوڑتے اورنہ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ اردو شعروادب میں اپنی فنی بصیرت سے جو جواہر ریزے بخشے ہیں ان میں ان کی نظموں کا اہم حصہ ہے۔ ان کی نمائندہ نظموں میں ’’شعاعِ امید‘‘کا بھی شمار ہوتاہے جو موضوع ، ہیئت اور معنوی اعتبارسے کئی اختصاص کی حامل ہے۔اس نظم میں اقبال ؔ نے ترکیب بندہیئت کاانتخاب کیاہے اوربحر بھی مترنم استعمال کی ہے ۔لفظوں کے انتخاب و تکرار سے موسیقیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ نورالحسن نقوی ’شعاعِ امید‘ کے فنی محاسن پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طرازہیں :
’’فن کار شاعری کے فن میں کامل دستگاہ رکھتاہو تو اس کے قلم سے چھوکرفلسفہ وپیغام بھی مکمل شعر بن جاتاہے۔ اقبال کی نظم’’شعاعِ امید‘‘ اس کازندہ ثبوت ہے ۔ یہ ایک چھوٹی سی دل آویز نظم ہے ۔ اس کی دل کشی کا راز یہ ہے کہ رمزیت واشاریت ، احساس کی شدت ، تخیل کی بلند پروازی ، پیرایۂ بیان کی دل آویزی اوران کے سوا بھی جتنے فنی وسائل ممکن ہیں شاعرنے ان سب کو انتہائی سلیقے کے ساتھ استعمال کیاہے ، خیال کیساہی اچھوتا کیوں نہ ہوقاری کی توجہ کو صرف ایک بارجذب کرسکتاہے اورشعاعِ امیدکامرکزی خیال ایسااچھوتابھی نہیں لیکن اس نظم کوجتنی بارپڑھیے اتنی بارپہلے سے سوالطف حاصل ہوتاہے۔‘‘
(اقبال شاعرومفکر: نورالحسن نقوی ، ص :۲۳۱)
اقبال کی نظم’’ شعاعِ امید‘‘کی تجزیاتی قرأت کے ذریعے اس کے اصل فکری سرچشموں تک رسائی کی کوشش کی جاسکتی ہے ۔ ’’شعاعِ امید ‘‘ میں جس نوع کے خیالات کا اظہار کیاگیا ہے اس کا جزوی اظہار ان کی دوسری نظموں جیسے ’’ساقی نامہ ‘‘ اور ’’شاہین‘‘ وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ البتہ ’’شعاعِ امید‘‘ کا کینوس زیادہ وسیع، متنوع اورہمہ گیرہونے کے ساتھ ساتھ حیات بخش بھی ہے ۔تکنیک کا تنوع بھی اس نظم میں جابجا نظر آتاہے۔ ’’شعاعِ امید‘‘میں اقبال نے جن کرداروں کو اپنے پیام کا وسیلہ بنایا ہے ان میں سب سے اہم کردار ایک شوخ اورسیماب صفت کرن ہے۔ اقبال نے سورج اوراس کی شعاعوں کی زبان سے جو پیغام ادا کرایا ہے وہ اچھوتا اور لا فانی ہے۔ ’’شعاعِ امید ‘‘ ایک اہم موضوع ہے اقبال سے پہلے بھی شعرانے اس موضوع کو برتاہے۔اقبال کا اختصاص یہ ہے کہ ان کی نظم میں استعارے اور تشبیہیں حسب حال اور توانا ہیں۔اس نظم میں کل تین بند ہیں ، پہلااوردوسرا بندچار چار اشعار اور تیسرا بند نو اشعار پر مشتمل ہے۔ ’’شعاعِ امید‘‘ شاعرکاپیامِ امید ہے جس میں تمثیلی پیرایۂ اظہار اختیار کیا گیا ہے۔
سورج دنیا کے عجیب وغریب چکر کو دیکھ کر اب مایوس ہوچکاہے وہ دنیا میں جتنا زیادہ اجالا پھیلانے کی کوشش کرتاہے اس کا اندھیرا اتناہی بڑھتاجارہا ہے۔ وہ اپنی شعاعوں سے مخاطب ہے کہ ایک زمانے سے تم گردآلود فضاؤں میں دنیا کو منور کرنے کی خاطر اپنا گھربار چھوڑ کر دربدر کی ٹھوکریں کھاتی پھررہی ہو، تمھاری کوششیں سب بے سود ہیں ۔نہ ریت کے ذروں میں پہلی سی چمک ہے اورنہ گل ولالہ میں پہلی سی دل آویزی وکشش باقی ہے۔ آخر کار سورج ناامید ہوکراپنی شعاعوں کو حکم دیتا ہے کہ اس تاریک دنیا کے ویرانے درو بام سے لوٹ آؤ اور پھرسے میرے پرنور سینے میں سماجاؤ۔
سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام
دنیاہے عجب چیز! کبھی صبح، کبھی شام
مدت سے تم آوارہ ہوپہنائے فضا میں
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہریِ ایام
نے ریت کے ذروں پہ چمکنے میں ہے راحت
نے مثلِ صبا طوفِ گل و لالہ میں آرام
پھر میرے تجلّی کدۂ دل میں سماجاؤ
چھوڑو چمنستان و بیابان و در و بام
دوسرے بند میں شعاعیں سورج کے حکم کوبجالاتی ہیں اور دنیا کوچھوڑ کر اپنے بچھڑے ہوئے آقاسے ہم آغوش ہوجاتی ہیں۔تمام شعاعیں یک زبان ہوکرمغرب ومشرق کی شکایت کرتی ہیں اورکہتی ہیں کہ مغرب میں اجالاممکن نہیں کیونکہ مشینوں کے دھوئیں یعنی صنعت کاری اورمادہ پرستی سے ان کے دل مردہ اورزنگ آلود ہوچکے ہیں ۔ مشرقی ممالک پر بھی اس کے اثرات صاف نظرآرہے ہیں، مشرقی قوم بھی فرنگیوں کے طرح بے عملی اوربے راہ روی کاشکار ہے جس سے ان کے اندر مایوسی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔مغربی اور مشرقی عوام کے حالات اور کردارسے بیزار شعاعیں سورج سے کہتی ہیں کہ اب ہمارا دنیا میں چمکنا بے سود اور بے معنی ہے، لہٰذا ہمیں اپنے پاس بلالو اور اپنے سینے میں چھپالو۔
آفاق کے ہرگوشے سے اٹھتی ہیں شعاعیں
بچھڑے ہوئے خورشید سے ہوتی ہیں ہم آغوش
اک شورہے مغر ب میں اجالا نہیں ممکن
افرنگ مشینوں کے دھوئیں سے ہے سیہ پوش
مشرق نہیں گو لذتِ نظارہ سے محروم
لیکن صفتِ عالمِ لاہوت ہے خاموش
پھرہم کواسی سینۂ روشن میں چھپالے
اے مہرِ جہاں تاب نہ کر ہم کو فراموش
تیسرے بند میں شاعرنے ایک ایسی شوخ کرن کا ذکر کیاہے جو سورج کے پاس لوٹنا نہیں چاہتی۔امید کی یہ شوخ کرن ابھی مایوس نہیں ہے اور وہ آرام کرنابھی نہیں جانتی ہے، وہ چاہتی ہے کہ اسے اپنی ذمے داری پوری کرنے کاموقع دیاجائے۔ ساری کرنیں ناامید و نامراد ہوکر اپنے مرکزکی طرف لوٹ جاتی ہیں مگریہ شوخ کرن اپنے ہاتھوں سے امید کا دامن نہیں چھوڑتی ۔ وہ مشرقی ممالک خصوصاً ہندوستان کو اپنے نور سے منور کرنا چاہتی ہے ۔یہ شوخ کرن کوئی اور نہیں خود علامہ اقبال کی ذات ہے۔ علامہ اقبال شاعری کے ذریعے اپنی قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنا چاہتے ہیں ۔چنانچہ یہ شوخ کرن سرزمینِ ہند کو کسی صورت میں چھوڑنے کو تیار نہیں ، وہ ہندوستان کی تاریک فضاؤں کوروشن اور گہری نیند سوئے ہوئے ہندوستانیوں کو بیدار کرنے کاعزم کرتی ہے۔اس کے بعد ’’شعاعِ امید‘‘ خاکِ ہند کی عظمت کا ذکر کرتی ہے اور اپنی امیدوں کا مرکز قرار دیتی ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جسے اقبال نے اپنے آنسوؤں سے سیراب کیاہے ،اسی خاکِ ہند نے چاندستاروں کوروشنی بخشی ہے اور یہاں کے کنکرپتھر، موتیوں سے بیش قیمت ہیں ۔ اس سرزمین پربڑے بڑے شاعر، علما اور مفکرین نے جنم لیاہے، مگراب یہاں خاموشی ہے ، یہ خاموشی اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ ہندوستانی قوم ہندو اور مسلمان دونوں ہی خوابِ غفلت کا شکار ہیں ۔ برہمن بت خانے کے دروازے پر سورہا ہے اور مسلمان اپنی تقدیراور قسمت پر آنسو بہارہا ہے۔یہاں یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ علامہ اقبالؔ نے صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کو ہی مخاطب کیاہے د راصل انھوں نے ساری انسانیت کو مخاطب کیا ہے اور قومیت و وطن کے نام پر انسانیت کو تقسیم کرنے کی مخالفت کی ہے ۔ آخری شعر میں شاعر سورج کی شوخ کرن کی زبان سے یہ پیغام دیتا ہے کہ مشرق اور مغرب میں کوئی امتیاز نہیں ، فطرت یہاں کی تاریکی ختم کرکے ساری دنیا میں روشنی پھیلاناچاہتی ہے، یعنی دنیاکے تمام آلام ومصائب اورہرطرح کی خرابیوں کودور کرکے خوشیاں بھردیناچاہتی ہے۔
اک شوخ کرن ، شوخ مثالِ نگہ حور
آرام سے فارغ صفتِ جوہرِ سیماب
بولی کہ مجھے رخصتِ تنویر عطا ہو
جب تک نہ ہومشرق کاہراک ذرہ جہاں تاب
چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضاکو
جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردانِ گراں خواب
خاور کی امیدوں کا یہی خاک ہے مرکز
اقبالؔ کے اشکوں سے یہ خاک ہے سیراب
چشم مہ و پرویں ہے اسی خاک سے روشن
یہ خاک کہ ہے جس کا خزف ریزہ در ناب
اس خاک سے اٹھے ہیں وہ غواصِ معانی
جن کے لیے ہربحرِ پر آشوب ہے پایاب
جس سازکے نغموں سے حرارت تھی دلوں میں
محفل کا وہی سازہے بیگانۂ مضراب
بت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے برہمن
تقدیر کو روتا ہے مسلماں تہ محراب
مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذرکر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
علامہ اقبال اپنی نظم’’شعاعِ امید ‘‘ کے ذریعہ اپنی قوم وملت کو اس امر کی جانب راغب کرناچاہتے ہیں کہ انسان کو کبھی ناامید اور مایوس نہیں ہوناچاہیئے کیونکہ مذہب اسلام میں ناامیدی کفر ہے اورانسان جیسی امید رکھتاہے اسی کے مطابق فیصلے بھی صادرہوتے ہیں ۔ اقبال گہری بصیرت کے مالک تھے ، ان کے فکروعمل کا کوئی گوشہ مخفی نہ تھا، انھوں نے بڑی جرأت کے ساتھ اسلامی تصوف کی ترجمانی کی اورمغربی تہذیب کی خرابیوں اوراس کے انجام کی نشان دہی بھی کی۔
’’شعاعِ امید ‘‘ اقبال کی ایک مشہور نظم ہے ۔اس نظم کو اگر ہم اقبال کا فنی اور فکری شاہکار کہیں توبے جانہ ہوگا۔ اس میں اقبال بحیثیت شاعر، فنکار اور مفکر اپنے فن کے عروج پر ہیں۔یہ نظم تصویرکشی ، منظرنگاری ، محاکات اور وطن پرستی کے گہرے جذبات سے نہ صرف معمور ہے بلکہ اس میں شاعر کی قادرالکلامی ، فن پر کامل دستگاہ ، جزئیات نگاری پر فنکارانہ دسترس اوراس کے دل وروح کے سوزوگدازبھی اجاگر ہوئے ہیں۔اس لحاظ سے اگر غورکریں تو اس نظم میں میرانیسؔ جیسی منظرنگاری بھی ہے ، میرؔ جیسی جذبات نگاری بھی اور غالبؔ جیسی معنی آفرینی بھی۔ان پہلوؤں کے پیش نظر اگر ہم اقبال کے کلام کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کے یہاں استاذشعرا کی تمام خوبیاں یک جا ہوگئی ہیں ۔
ناقدین ادب نے علامہ اقبال کی نظم ’’شعاعِ امید‘‘کی نہ صرف سراہناکی ہیں بلکہ اس کے مختلف اجزا اور اس کی خصوصیات کی وضاحت بھی کی ہیں ۔ کلیم الدین احمد اقبال کی شاعری کے زیادہ قائل نہی مگر انہیں بھی اعتراف ہے کہ’’ شعاعِ امید‘‘ ایک کامیاب تخلیقی تجربہ ہے ۔ نظم کی تعریف کرتے ہوئے لکھاہے:
’’کیسی حسین وپاکیزہ نظم ہے ! یہاں ارتقائے خیال ہے ، اشعار میں ربط وتسلسل ہے ۔ خیالات میں ابتدا ، عروج اور پھر انتہا بھی ہے ۔ یہ صحیح معنوں میں نظم ہے ، غزل نے نظم کابھیس نہیں بدلاہے ۔ خیالات میں تخیل کارنگ ہے ، طرزِ ادا سادہ اور پاکیزہ ہے ۔ باربار پڑھنے سے اس کی دل کشی میں کمی نہیں ، اضافہ ہوتاہے ۔ کاش اقبال اس قسم کی نظمیں اور لکھتے۔‘‘(بحوالہ: اقبال شاعرومفکر، ص ۲۳۹)
اقبال کی نظم’شعاعِ امید ‘‘کاشمار ان کی بہترین نظموں میں ہوتاہے ۔ اس کے الفاظ اور آہنگ نے اسے ایسا دلکش بنا دیاہے کہ باربار پڑھنے کو جی چاہتا ہے ۔نظم کا ربط وتسلسل شروع سے آخر تک برقرار رہتا ہے اور اشعار صوری اورمعنوی ہر دو اعتبارسے آپس میں اس طرح مربوط وپیوست ہیں کہ ذرابھی اِدھراُدھرکرنے کی گنجائش نہیں پائی جاتی ۔ روانی اورسلاست ایسی کہ اکثراشعار فوراً یاد ہوجاتے ہیں۔ ایسامعلوم ہوتاہے کہ سورج اور اس کی شعاعوں کی گفتگو بالکل فطری ہے ۔سادگی، جوش،اصلیت اورنغمگی ایسی کہ کوئی پڑھے تو خود بخود گنگنانے لگے۔
***
ڈاکٹر محمد زبیر نے ممبئی میں اردو تحقیق کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ نوجوان لکھنے والوں میں توجہ سے پڑھے جاتے ہیں۔

Iqbal Aur Nawjawan by Dr. Zakir Khan Zakir

Articles

اقبال اور نوجوان

ڈاکٹر ذاکر خان

 

حکیمِ مشرق اور نبّاضِ ملت علامہ اقبال کی تفہیم مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے مختلف طریقے سے کی ہے۔ جگنو پکڑتے ہوئے بچے اقبال کی شاعری میں ایک ایسی شخصیت سے روشناس ہوتے ہیں جو ان کے لیے سرور ہی سرور ہے کیف ہی کیف ہے۔ حوصلہ مند نوجوان کلامِ اقبال میں اس شاہین کو تلاش کرتے ہیں جس کی نظریں ہمیشہ اپنے مقصد پر ہوتی ہیں۔ اہلِ تصوف اقبال کی شاعری میں عشقِ حقیقی کے پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔ اہلِ مدرسہ کے یہاں کلامِ اقبال عشقِ رسول اور معرفتِ خداوندی کی علامت ہے۔ اہلِ علم ودانش علامہ اقبال کی شاعری میں اپنے مزاج کے مطابق پہلو تراش کر ان کے فلسفے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیتے ہیں۔
یوں توعلامہ اقبال نے ہر عمر کے شخص کو اپنی شخصیت اور شاعری کا اسیر بنایا ہے لیکن خودی، تلقینِ حرکت و عمل، خیالِ شاہین و عقاب اور طائرِ لاہوتی جیسی اصطلاحیں بطورِ خاص نوجوانوں کے لیے استعمال کی ہیں۔
اقبال نے آل انڈیا مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس 21مارچ 1932، میں خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کے بارے میں کہا تھا کہ
“میں ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں خواتین اور لڑکوں کے ثقافتی ادارے تشکیل دینے کی تجویز پیش کرتا ہوں جن کا سیاست سے تعلق نہ ہو”
ان کا بڑا مقصد نوجوانوں کی خوابیدہ روحانی صلاحیتوں کو بیدار کرنا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوانوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ اسلام نے انسانی ثقافتی اور مذہبی تاریخ میں کیا کارنامے انجام دیے اور مستقبل میں مزید کیا امکانات ہو سکتے ہیں۔ اقبال کے تصور کے مطابق وہی نئی نسل اور نوجوان کامیابی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں جو اپنے اسلاف کی میراث کی حفاظت کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان اپنے زورِ بازو پر انحصار کرتے ہوئے اپنے مستقبل کی راہیں خود طے کریں ۔ نوجوانوں کی تن آسانی، عیش و عشرت، مغرب کی اندھی تقلید انہیں کچوکے لگاتی رہتی تھی۔ مغربیت کے بڑھتے اثرات کا اندازہ اقبال بہت پہلے ہی لگا چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نوجوانوں میں خودی بیدار کرنے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان اپنے آپ کو پہچانیں اور یہ جان لیں کہ وہ کائنات کا کتنا اہم جزو ہے۔ ان کہ یہاں ، یاس و حسرت، محرومی و ناامیدی اور بزدلی و کم ہمتی کا کوئی وجود نہیں۔ وہ یقیں محکم، عمل پیہم ، ثابت قدمی، اولعزمی، بلند حوصلگی، بلند پروازی پر یقین رکھتے تھے۔ اپنی نظم “ایک نوجوان کے نام”میں وہ کہتے ہیں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
امید مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اقبال نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے اوصاف کو اور اپنی خودی کو نہ صرف پہچانیں بلکہ اس کی مکمل نشو نما بھی کرتے رہیں ۔ لفظ خودی سے اقبال کی مراد تکبر یا غرور نہیں ہے بلکہ ان کے یہاں خودی نام ہے احساس کی بیداری کا، جذبۂ خودداری کا، اپنی ذات و صفات کے ادراک کا، عرفانِ نفس کا، خود شناسی کا، خود بینی کا، خود آگاہی کا خدا آگاہی کا، اور لا الہ الا اللہ کے راز۔ وہ کہتے ہیں کہ توحید خودی کی تلوار کو آب دار بناتی ہے اور خودی توحید کی محافظ ہے۔ نظم ساقی نامہ میں اقبال فرماتے ہیں کہ
یہ موجِ نفس کیا ہے تلوار ہے
خودی کیا ہے تلوار کی دھار ہے
خودی کیا ہے رازِ درونِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئ کائنات
خودی جلوہ بدمست و خلوت پسند
سمندر ہے اک بوند پانی میں بند
اندھیرے اجالے میں ہے تابناک
من و تو میں پیدا من و تو سے پاک
اسی نظم میں اقبال نیرنگئ زمانہ میں الجھے ہوئے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا اور اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں یہاں کی ہر چیز فانی ہے ثبات صرف خدا کی ذات کو ہے جس کے قبضۂ قدرت میں ہماری جانیں ہیں۔ دنیاوی زندگی ،دائمی زندگی کے لیے صرف اور صرف ایک تربیت گاہ ہے۔یہ ہماری منزل نہیں بلکہ خودی تک پہنچنے اور اس سے روشناس ہونے کا ایک ذریعہ ہے ۔ اقبال کے مطابق دنیاوی زندگی وہ فرصت ہے جس میں خودی کو عمل کے لا انتہا مواقع میسر آتے ہیں۔ اس میں موت اس کا پہلا امتحان ہے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ اسے اپنے اعمال و افعال کی شیرازہ بندی میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔ لہذا خودی کی فنا اور بقا کا انحصار عمل پر موقوف ہے۔ خودی کو باقی رکھنے کے بعد ہی بلاامتیاز ہم من و تو کا احترام کر سکیں گے کیوں کہ بقائے دوام کے حصول کا انحصار ہماری مسلسل جدو جہد پر ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں
خودی کی یہ ہے منزلِ اوّلیں
مسافر یہ تیرا نشیمن نہیں
تری آگ اس خاک داں سے نہیں
جہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیں
بڑھے جا یہ کوہِ گراں توڑ کر
طلسمِ زمان و مکاں توڑ کر
علامہ اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان خودی کے راز کو پاکر مثلِ شاہین اپنے مقصد پر نظر رکھیں۔انقلاب آفرین ہستی وہ ہوتی ہے جو زمانے کو نئی سوچ دے ، پرانے الفاظ اور خیالات کو مفاہیم کے نئے جہان عطا کرے۔ اقبال سے قبل بھی ہمیں دیگر زبانوں کے شعری سرمائے میں مختلف پرندوں کا ذکر ملتا ہے۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے پرندے کا انتخاب کیا جو آسمانوں پر نظریں رکھنے کے باوجود اپنے اندر درویشی کی صفت رکھتا ہے۔اقبال کے یہاں شاہین وہی اہمیت ہے جو کیٹس کے یہاں بلبل اور شیلے کے یہاں سکائی لارک کی ہے۔ایک لحاظ سے شاہین کی حیثیت ان سب سے بھی بالاتر ہے۔ اقبال جمال سے زیادہ جلال پسند کرتے ہیں۔ انہیں ایسے پرندوں میں کوئی دلچسپی نہیں جو صرف جمالیاتی اہمیت رکھتے ہوں یا جو حرکت کے بجائے سکون کے پیامبر ہوں۔آپ کے یہاں شاہین ایک مسلم نوجوان کی علامت ہے۔اس لیے وہ نوجوانوں کو اس شاہین کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں جو کبھی مردار نہیں کھاتا۔ انہیں ایک ایسے شاہین کی تلاش ہے جو بلند پروازہو۔ ایک ایسا شاہین جو کبھی باز ، کبھی عقاب، کبھی طائرِ لاہوتی بن آسمان کی وسعتوں کو مسخر کردے۔ایک ایسا شاہین جس کی پرواز آسمان کی وسعتوں کو چیر دے۔ ایک ایسا شاہین جو مشرق سے مغرب تک آسمانوں پر اپنی بادشاہت قائم کردے۔ ایک ایسا شاہین جو اپنے لیے جہانِ تازہ تلاش کرے، افکارِ تازہ کی نمو کرے۔
اقبال کے نزدیک شاہین کے علاوہ کوئی پرندہ نوجوانوں کے لیے قابلِ تقلید نہیں ہے۔ بالِ جبرئیل کی نظم ” شاہین” میں اقبال یو ں گویا ہوتے ہیں کہ
خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں ہوں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورب یہ پچھم چکوروں کی دنیا
میرا نیلگوں آسماں بے کرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
علامہ اقبال کا یہ کارنامہ یقیناً یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے ایک ایسے انسان یا نوجوان کا آئیڈیل ہمارے سامنے پیش کیا جو بقول ظ انصاری مستقبل کی ترقی یافتہ دنیا بنانے اور سجانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ ایسے ہی نوجوان کو اقبال نے کہیں شاہین، کہیں طائرِ لاہوتی، کہیں مردِ مومن اور کہیں ایسا مسلمان کہا ہے جس کی خودی صورتِ فولاد ہے۔ جو بیک وقت شعلہ بھی ہے اور شبنم بھی۔ اسی نوجوان کو حرکت و عمل کا درس دے کر اقبال برسہا برس کے سکوت، جمود اور خاموشی کو توڑنا چاہتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو مغرب اور مغرب زدہ تہذیب سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔ حرکت و عمل کے ذریعے صدیوں کی زخم خوردہ انسانیت کے تنِ مردہ میں روح پھونکنا چاہتے تھے۔وہ عوام الناس کو ظلمت و الحاد کے گڑھوں سے اوپر اٹھا کر ان کے ہاتھوں میں ایمان و یقین کی مشعلیں دینا چاہتے تھے۔ اقبال کے نزدیک کائنات اپنے ہونے کا اظہار مسلسل تبدیلیوں کی صورت میں کرتی ہے۔ یہاں کسی شے، کسی منظر، کسی احساس، کسی قوم اور کسی بھی معاشرتی صورت حال کو قرار نہیں ہے۔ وہ ’’مرغ و ماہی ‘‘ ہوں یا ’’ ماہ و انجم‘‘ یہاں کی ہر شے’’ راہی‘‘ اور ہر چیز’’ مسافر‘‘ ہے۔اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
علامہ اقبال کے فلسفے اور شاعری کا بیشتر حصہ حرکت و تغیر کی اصلیت کو واضح کرتا ہے۔ وہ کائنات کے اصول یعنی حرکت و تغیر کو نوجوانوں کے حق میں ہمیشہ نیک شگون قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک حرکت زندگی کی پہچان اور سکون یا جمود موت کی شناخت ہے۔ شاید اسی لئے ہمارے روائتی انداز فکر میں بھی حرکت کو برکت کہا جاتا ہے۔ علامہ نے اس نکتے کی وضاحت بڑے موثر اور بھر پور انداز سے کی ہے۔ مثلاً وہ خضر کی زبانی بندہ مزدور کو یہ پیغام دلواتے ہیں۔
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
اس شعر میں علامہ بزم جہاں کے نئے انداز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ نیا انداز وہ معاشرتی، سیاسی اور معاشی حالات ہیں جو ہمارے اطراف میں پھیلے ہوئے ہیں۔ علامہ ہمیں ان حالات کا صحیح شعور اوروقوف پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔اقبال اس دنیاوی زندگی کو مکمل حقیقت تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے۔وہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نوجوان کے اپنے عمل میں مضمر امکانات کو بروئے کار لانے پر زیادہ زور دیتے ہیں ۔ اقبال اپنی تمام تر امنگیں اور آرزوئیں نوجوانوں سے وابستہ کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایسے طبقے کو ہدف بناتے ہیں جس میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ اقبال کا نوجوان مصلحتوں کے دائرے میں زندگی گزارنے کو غلامی تصور کرتا ہے،بقول اقبال
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی
زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی
قلزم ہستی سے ابھرا ہے تو مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی
علامہ اقبال کی شاعری ،ان کا فلسفہ اور اس میں پوشیدہ رموز آج نہ صرف اہلِ اردو یا اہلِ مشرق کے لیے مینارۂ نور ہیں بلکہ دنیا بھر میں دیگر زبانوں کی یونیورسٹیاں بھی اقبال کے فن سے فیضیاب ہو رہی ہیں۔ اقبال کسی ایک خطے ،کسی ایک علاقے یا کسی ایک سرزمین کے شاعر نہیں ہیں بلکہ ان کی حیثیت آفاقی ہے کائناتی ہے۔ شاعرِ مشرق جیسا خطاب بھی اقبال کے بہت معمولی نظر آتا ہے کیوں کہ وہ تو شاعرِ ہستی ہیں، شاعرِ گیتی ہیں۔
***
ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نوجوان شاعر، مترجم اور ابھرتے ہوئے نقاد اور نور الاسلام ہائی جونیئر کالج ، گوونڈی میں انگریزی کے استاد ہیں۔

Allama Iqbal ki Aalmi Maqboliat by Dr. Syed Ahmad Qadri

Articles

علّامہ اقبالؔ کی عالمی مقبولیت از ڈاکٹر سید احمد قادری

ڈاکٹر سید احمد قادری

اگرکوئی علّامہ اقبال ؔ کے متعلق کوئی یہ کہتا ہے کہ’’ وہ فلسفہ کے امام ہیں ، اقتصادیات پر ان کی گہری نگاہ ہے ، علم الاقوام بھی ان کے ذہن و دماغ میں رچا بسا ہوا ہے وہ دنیا کے نئے رجحانات و تصورات سے بھی واقف ہیں ۔ وہ قیصریت کے بھی ادا شناس ہیں ،اور فسطائیت کے رموز بھی جانتے ہیں ،وہ جمہوریت کے اسرار کے بھی ماہر ہیں اور اشتراکیت کی گہرائیوں میں غوطے لگا چکے ہیں ۔ غرض کہ دنیا کی کوئی تحریک ، کوئی رجحان ، کوئی تصور ایسا نہیں ہے جس سے اقبالؔ واقف نہ ہوں جس کا اقبالؔ نے مطالعہ نہ کیا ہو ، جس کے محرکات پر اقبالؔ کی نظر نہ ہو ۔ وہ بیرونی اور مقامی نظریات جدید اور قدیم کو بھی جانتے ہیں اور انہیں پرکھ چکے ہیں‘‘ تو غلط نہیں کہتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ان جملہ خصوصیات کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ اقبالؔ کی شاعری اس قدر مقبول ہوئی کہ دور حاضر میں مشکل سے کسی شاعر کو یہ فخر حاصل ہے۔ان کا کلام نہ صرف ہندو پاک بلکہ ایران ، افغانستان ، امریکہ ،انگلستان ، جرمن، فرانس ، روس، عرب وغیرہ جیسے ممالک میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرکوئی علّامہ اقبال ؔ کے متعلق کوئی یہ کہتا ہے کہ’’ وہ فلسفہ کے امام ہیں ، اقتصادیات پر ان کی گہری نگاہ ہے ، علم الاقوام بھی ان کے ذہن و دماغ میں رچا بسا ہوا ہے وہ دنیا کے نئے رجحانات و تصورات سے بھی واقف ہیں ۔ وہ قیصریت کے بھی ادا شناس ہیں ،اور فسطائیت کے رموز بھی جانتے ہیں ،وہ جمہوریت کے اسرار کے بھی ماہر ہیں اور اشتراکیت کی گہرائیوں میں غوطے لگا چکے ہیں ۔ غرض کہ دنیا کی کوئی تحریک ، کوئی رجحان ، کوئی تصور ایسا نہیں ہے جس سے اقبالؔ واقف نہ ہوں جس کا اقبالؔ نے مطالعہ نہ کیا ہو ، جس کے محرکات پر اقبالؔ کی نظر نہ ہو ۔ وہ بیرونی اور مقامی نظریات جدید اور قدیم کو بھی جانتے ہیں اور انہیں پرکھ چکے ہیں‘‘ تو غلط نہیں کہتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ان جملہ خصوصیات کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ اقبالؔ کی شاعری اس قدر مقبول ہوئی کہ دور حاضر میں مشکل سے کسی شاعر کو یہ فخر حاصل ہے۔ان کا کلام نہ صرف ہندو پاک بلکہ ایران ، افغانستان ، امریکہ ،انگلستان ، جرمن، فرانس ، روس، عرب وغیرہ جیسے ممالک میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اقبالؔ کی شخصیت اور ان کی شاعری کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کی بڑی بڑی ہستیوں مثلاً جسٹس امیر علی ، شمس العلماء مولوی سید علی بلگرامی ، سر شیخ عبدالقادر ، مولانا غلام رسول مہر ، نواب بھوپال حمید اللہ خاں ، سیٹھ محمد جمال ، سر محمد اسمٰعیل ، مہاراجہ کشن پرشاد ، سر اکبر حیدری ، نظام حیدر آباد، ڈاکٹر عبداللہ چغتائی ، سر سید احمد خاں کے پوتے سر راس مسعود ، سر سکندر حیات ، لالہ لالجپت رائے ، ڈاکٹر لمعہ حیدر آبادی ،ہز ایکسی لنسی گورنر پنجاب ، سرندر سنگھ مجیٹھا ، منوہر لال چودھری ، سر چھوٹو رام ، میاں عبدالحی ، جسٹس عبدالرشید ، جسٹس دین محمد، جسٹس بخشی ، ٹیک چند ، جے ڈی پینی ، رابندر ناتھ ٹیگور، سبھاش چندر بوس ، مولانا ابوالکلام آزاد، محمد علی جناح ، مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو وغیرہ نے اقبالؔ کی عظمت کا صدق دل سے اعتراف کیا ہے ۔اس بات پر ان تمام حضرات کو فخر تھا کہ اقبال ؔ بھی ان کی طرح ہندوستانی ہیں ۔ اقبالؔ کی قدرومنزلت کا اندازہ ان کے انتقال کے بعد چند تعزیتی پیغامات سے بھی ہوتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں۔
رابندر ناتھ ٹیگور لکھتے ہیں:
’’ ہمارے ادب میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے جس کے پُر ہونے میں ایک جان لیوا زخم مندمل ہونے کی مانند بہت عرصہ لگے گا ۔ ہندوستان جس کی آج دنیا میں کوئی وقعت نہیں ہے ایسے شاعر کی وفات سے اور بھی قلّاش ہوگیا ہے جس کی شاعری عالمگیر اور آفاقی شہرت کی حامل تھی۔‘‘مولانا ابوالکلام آزاد کہتے ہیں:
’’ یہ سوچ کے ناقابل بیان صدمہ دل پہ گزرتا ہے کہ اب اقبال ؔہم میں موجود نہیں رہے ۔جدید ہندوستان اردو کا ان سے بڑا شاعر پیدا نہیں کر سکے گا ۔ ان کی فارسی شاعری بھی جدید فارسی ادب میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔ ان کی وفات سے تنہا ہندوستان کو نہیں بلکہ پورے مشرق کو نقصان پہونچا ہے ، ذاتی طور پر مجھے اس بات کا انتہائی قلق ہے کہ میرا ایک دیرینہ دوست مجھ سے بچھڑ گیا۔‘‘نیتا جی سبھاش چندر بوس نے کہا تھا :
’’ سر محمد اقبالؔ کی رحلت کے یہ معنی ہیں کہ ہندوستانی ادب کے آسمان پر جو ستارے روشن تھے ان میں سے درخشاں ستارہ ٹوٹ گیا ۔ صف اوّل کے شاعر اور نقاد ہونے کے علاوہ سر محمد اقبالؔ ایک منفرد کردار کے بھی حامل تھے ۔ ان کی رحلت سے ہم سب کو جو عظیم نقصان پہونچا ہے اسے شدت کے ساتھ سارے ملک میں محسوس کیا جائے گا۔
محمد علی جناح نے اقبالؔ کی عظمت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا تھا :
’’اگر میں ہندوستان میں اسلامی حکومت کو قائم ہوتا دیکھنے کے لئے زندہ ر ہوں اور اس وقت مجھ سے کہا جائے کہ ایک طرف اس اسلامی حکومت کے رئیس اعلیٰ کا عہدہ ہے اور دوسری طرف اقبالؔ کی تصنیفات تو میں تصنیفات کو ترجیح دوں گا۔‘‘مہاتما گاندھی لکھتے ہیں:
’’ ڈاکٹر اقبال کے بارے میں کیا لکھوں ۔میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ جب ان کی مشہور نظم ’’ ہندوستان ہمارا ‘‘ پڑھی تو میرا دل بھر آیا۔ بڑودہ جیل میں تو سینکڑوں بار اس نظم کو گایا ہوگا ۔ اس نظم کے الفاظ مجھے بہت ہی میٹھے لگے اور یہ خط لکھتا ہوں تب بھی وہ نظم میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔‘‘
یہ غیر منقسم ہندوستان کی چند اہم شخصیات کے تعزیتی پیغامات کے اقتباسات ہیں ۔ ممکن ہے کچھ لوگ یہ کہہ کر در گزر کردیں کہ ہندوستانیوں کو ہندوستانی شاعر سے انسیت و محبت تو ہوگی ہی ۔ لیکن میں اس سے قبل بھی عرض کرچکا ہوں کہ اقبال کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف دنیا کے بہت سارے ممالک نے کیا ہے ۔ ان میں ازہر یونیورسیٹی قاہرہ کے شیخ الجامعہ ، مصر کے ڈاکٹر محمد حسنین ہیکل ، محمد علی پاشا ، شہزادہ ولی عہد مانگرول ، روم کے ڈاکٹر اسکارپا پروفیسر جنٹلی ، ڈاکٹر نکلسن، مسولینی ، اٹلی کے پرنس کیتانی بیرن ، فلسطین کے مفتی اعظم امین الحسینی ، پیرس کے میگ نون برگساں ، اسپین کے پروفیسر آسین ، افغانستان کے نادر شاہ سردار صلاح الدین سلجوقی وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ان حضرات اور ان کے علاوہ دیگر عالموں ، مدبروں ، فلسفیوں ، مفکروں ، شاعروں ، ادیبوں اور ناقدین نے وقتاً فوقتاً اقبالؔ کی پر بہار شخصیت اور ان کی پُر اثر شاعری سے متاثر ہوکر اس کا اعتراف صدق دل سے کیا ہے ۔ اس سلسلے میں چند شخصیتوں کے خیالات اس طرح ہیں ۔ اقبالؔ کے فلسفہ کے استاد پروفیسر تھامس آرنلڈ فرماتے ہیں:
’’ایسا شاگرد استاد کو محقق اور محقق کو محقق تر بنا سکتا ہے۔‘‘  روم کے ڈاکٹر اسکارپا کہتے ہیں:
’’ایسے اچھوتے نادر اور پُر از حقائق خیالات کا آدمی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
اقبالؔ جب قاہرہ پہونچے تو ان کے قیام کے دوران مصر کے مشہور بزرگ سید محمد قاضی ابوالعزائم اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ ان سے ملنے آئے ، اس موقع پر علّامہ اقبالؔ نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا ’’ آپ نے کیوں تکلیف کی میں خود آپ کی زیارت کے لئے آپ کے پاس چلا آتا‘‘ اقبالؔ کی اس بات پر قاضی صاحب فرمانے لگے: ’’ خواجہ دوجہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ جس نے دین سے تمسک حاصل کیا ہوتو اس کی زیارت کے لیے جاؤگے تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘
مسولینی نے خاص طور پر ڈاکٹر اسکارپا کے ذریعہ اقبالؔ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی جسے اقبال نے قبول کرلیا تھا ۔ اور 27؍ نومبر1933ء کو ملاقات کے دوران اقبال کی زبان سے ایک پیغام سنا تو وہ انگشت بدنداں رہ گیااور کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوگیا۔ اور میز پر ہاتھ پٹکتا ہوا چلّانے لگا۔
“What an excellent idea :  What an excellent idea”
دنیا کے مشہور فلسفی اور مفکر ’’برگساں‘‘ نے جب اقبالؔ کی زبانی یہ حدیث سنی کہ ’’لا تسبرّالدھر انّ الدھر ھو اللہ۔‘‘(زمانے کو برا مت کہو کہ زمانہ خود خدا ہے )تو وہ جو گٹھیا کا مریض تھا اور کرسی کے بغیر اِدھراُدھر ہل ڈُل نہیں سکتا تھا ، کرسی چھوڑ کر آگے بڑھا اور علّامہ اقبال سے پوچھنے لگا:
’’کیا یہ واقعی حدیث ہے۔‘‘
یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ برگساں اپنی بیماری کی وجہ کر بالکل گوشہ نشیں ہوگیا تھا اور کسی سے ملتا جلتا نہیں تھا ۔لیکن اقبال سے ملنے کے لئے ،اس نے خاص طور اہتمام کیا۔
یہ تمام باتیں ایسی ہیں ،جو علاّمہ اقبالؔ کی بین الاقوامی شہرت و مقبولیت کا مظہر ہیں ۔لیکن باوجود اس کے اردو کے معروف ناقد کلیم الدین احمد کا اقبال کے متعلق یہ خیال ہے کہ_ ’’اقبال کا علمی ادب میں کوئی مقام نہیں۔‘‘
اور ان کے بعد اسی ہندوستان کے مشہور شاعر فراق ؔگورکھپوری فرماتے ہیں کہ _
’’اخلاقی یا روحانی حیثیت سے اثر انداز ہونے والی شخصیت کی فہرستوں میں بھی ڈھونڈنے سے ڈاکٹر اقبال کا نام نہیں ملے گا۔‘‘ مگر اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ’’دنیا کے بڑے بڑے شاعروں کے یہاں جو خوبیاں ہیں ، وہ اقبال کے یہاں بھی موجود ہیں ۔‘‘ لیکن کلیم الدین احمد کے اس خیال کو کہ_’’اقبال کا عالمی ادب میں کوئی مقام نہیں‘‘تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسی بات ہوتی تو اقبال کے کلام کا عرب کے ڈاکٹر عبدالوہاب عزائم ، عراق کے امیر نورالدین ، شام کے عمیر الامیری ، مصر کے صادی شعلان،  یمن کے ابین زہیری وغیرہ اپنے اپنے ملک کی ترقی یافتہ زبانوں میں ترجمہ نہیں کرتے یا پھر دنیا کی بڑی زبانوں میںاقبال پر کتابیںنہ لکھی جاتیں۔ بقول ڈاکٹر عالم خوندیری :
’’ ان کی (اقبالؔ کی) پہلی قابلِ ذکر اور معرکۃ الآراء شعری فکری تخلیق ’’اسرار خودی‘‘ منظر عام پر آئی تو اس نے اپنے دور کے سب سے زیادہ مستند اور عظیم مغربی مستشرق کو اس حد تک متاثر کیا کہ انھوں نے اس کی اشاعت کے دو برس بعد اس کا انگریزی ترجمہ شائع کردیا۔‘‘
نکلسن فرماتے ہیں  :
’’ اقبالؔ صرف اپنے عصر کی آواز نہیں بلکہ اپنے دور سے آگے بھی ہیں اور ساتھ ہی اپنے زمانے میں بر سر جنگ بھی۔‘‘
اس کے بعد نکلسن کے شاگرد اور جانشیں آرتھر آربیری نے اقبالؔ کی چند شعری تخلیقات کا انگریزی میں ترجمہ کیا ،جو 1947ء میں شائع ہوا اور بعد ازاں آرتھرآر بیری نے ’’رموز زبور عجم ‘‘ و ’’ شکوہ اور جواب شکوہ‘‘ اور ’’جاوید نامہ‘‘ کے انگریزی ترجمے دنیا کے سامنے پیش کئے ۔ پھر براؤن نے بھی فارسی ادب پر کتاب لکھی ۔ ’’بوزانی‘‘ نے جاوید نامہ کو اطالوی قالب میں ڈھالا ۔ اور اقبالؔ اور دانتے کا موازنہ بھی کیا ۔یورپ کی دوسری اہم زبان دلندیزی میں بھی’’جاوید نامہ‘‘ کا نثری ترجمہ MEYEVOVITCHنے کیا ۔انہوںنے اقبالؔ کے خطبات کا بھی فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا ۔MEYEVOVITCHکے علاوہ LUCECLALIDEنے بھی اقبالؔ کو روشناس کرایا ۔ اور فرانسیسی ترجمے کا پیش لفظ مشہور و ممتاز مستشرق ’’مسینون ‘‘ نے لکھا ۔
بون یونیورسیٹی کے ماہر اسلامیات پروفیسر اناماری شِمل نے اقبالؔ کی بعض تخلیقات کا ترجمہ جرمن زبان میں کیا ۔اقبالؔ پر پروفیسر شِمل کی  بہترین تصنیف Gabriels Wingہے۔ان زبانوں کے علاوہ مشرقی یورپ اور سوویت یونین کی زبانوں میں بھی مثلاً چیک زبان میں چیک عالم ’’یان مارک‘‘ اور روسی زبان میں روسی عالم ’’انی کیار‘‘ نے بھی اقبالؔ کی تخلیقات کا ترجمہ کیا ، یہ سارے حقائق  علّامہ اقبالؔ کی عالمی شہرت ، عظمت اور مقبولیت کے واضح ثبوت ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭مضمون نگار اردو کے معروف نثر نگار ہیں۔ ان کا پتہ  ۷نیو کریم گنج، گیا (بہار )انڈیا

Kalam E Iqbal Mein Aurat aur Maan by M. Aslam Ghazi

Articles

کلام اقبال میں عورت اور ماں

محمد اسلم غازی

علامہ اقبال دنیا کے نابغۂ روزگار شاعر ہیں جن کا کلام شعری جمالیات کا اعلیٰ ترین مرقع ہونے کے علاوہ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دل کی آواز بھی ہے۔ ان کے کلام نے بین الاقوامی سطح پر ایک مردہ قوم کے لیے صور اسرافیل کا کام کیا ہے۔ اقبالؒ کی شاعری کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے آیات قرآنی اور آیات انفس و آفاق کی مدد سے اعلیٰ اقدار پر مشتمل پیغام کو شعری سانچے میں ڈھال کر پیش کیا۔ قرآنی آیات کا تو وصف ہی خیروصلاح کی طرف رہنمائی اور ہدایت ہے۔ علامہ اقبال نے ان سے حسب ضرورت استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ قدرتی مناظر، موسم، نباتات ، حیوانات، جمادات، چرند، پرند، پھل، پھول، درخت، باغ، کھیت، زمین، پہاڑ، ندی، سمندر، ہوا، بجلی، آسمان،انسان، اس کا جسم، دل و دماغ، انسانی تعلقات، احساسات و جذبات کی مدد سے انہوں نے جس طرح اپنا پیغام عام کیا ہے وہ صرف انہی کا حصہ ہے۔  علامہ اقبال دنیا کے نابغۂ روزگار شاعر ہیں جن کا کلام شعری جمالیات کا اعلیٰ ترین مرقع ہونے کے علاوہ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دل کی آواز بھی ہے۔ ان کے کلام نے بین الاقوامی سطح پر ایک مردہ قوم کے لیے صور اسرافیل کا کام کیا ہے۔ اقبالؒ کی شاعری کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے آیات قرآنی اور آیات انفس و آفاق کی مدد سے اعلیٰ اقدار پر مشتمل پیغام کو شعری سانچے میں ڈھال کر پیش کیا۔ قرآنی آیات کا تو وصف ہی خیروصلاح کی طرف رہنمائی اور ہدایت ہے۔ علامہ اقبال نے ان سے حسب ضرورت استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ قدرتی مناظر، موسم، نباتات ، حیوانات، جمادات، چرند، پرند، پھل، پھول، درخت، باغ، کھیت، زمین، پہاڑ، ندی، سمندر، ہوا، بجلی، آسمان،انسان، اس کا جسم، دل و دماغ، انسانی تعلقات، احساسات و جذبات کی مدد سے انہوں نے جس طرح اپنا پیغام عام کیا ہے وہ صرف انہی کا حصہ ہے۔  علامہ اقبال نے ملت اسلامیہ کو اپنے کھوئے ہوئے مرتبہ و وقار کو حاصل کرنے کے لیے اسلام و قرآن سے مکمل وابستگی کا پیغام دیا ہے۔ یہ پیغام کہیں مجمل ہے اور کہیں مفصل۔ انہوں نے زندگی کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لے کر مسلمانوں کی کمزوریاں اجاگر کی ہیں اور ان کے تدارک کے طریقے بتائے ہیں۔ زندگی کی اعلیٰ حقیقتوں میں ’’ماں‘‘ اہم ترین مرتبہ رکھتی ہے۔ چنانچہ یہ ممکن نہ تھا کہ اقبالؒ اس اہم پہلو کو نظر انداز کردیتے۔ انہوں نے امت کی زبوں حالی دور کرنے کے لیے’’امومت صالحہ‘‘ پر بہت زور دیا ہے۔ یعنی ملت کو ایسی نیک مائوں کی اشد ضرورت ہے جو نیک ، تعلیم یافتہ، باپردہ، ذمہ دار اور اپنے بچوں، خاوند اور خاندان سے محبت کرنے والی ہوں۔ ان کے مجموعہ کلام ’’ضرب کلیم‘‘ میں ’’عورت‘‘ اور اس سے متعلق موضوعات پر 9؍عدد مختصر نظمیں ہیں جو ان کے اس پیغام کو واضح کرتی ہیں کہ عورت کی تعلیم ضروری ہے لیکن شمع محفل بننے کی بجائے اسے ایک ذمہ دار گھریلو خاتون بننا چاہیے۔ جس کی گود میں نئی نسلیں پروان چڑھیں۔ انہوں نے خالی گود عورتوں اور بے روزگار مردوں کو مغربی تہذیب کے بد ثمرات میں شمار کیا ہے۔ ماں اور اس سے متعلق موضوع پر اقبال کے مجموعۂ کلام ’’بانگ درا‘‘میں دو نظمیں ملتی ہیں (1) ماں کا خواب (2) والدہ مرحومہ کی یاد میں۔(1) ماں کا خواب ایک ماخوذ نظم ہے جس کے بارے میں پتہ نہیں چلتا کہ یہ کہاں سے ماخوذ ہے؟ یہ بچوں کے لیے ہے۔ اس کی زبان اتنی سادہ اور آسان ہے کہ کلام اقبال کے مشہور شارح پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے اس کی تشریح و توضیح کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ نظم بڑوں کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ خصوصاً ’’مائوں‘‘ کے لیے تو اس میں بڑا سبق ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اس نظم کے ذریعہ بھی ایک پیغام دیا ہے۔ اس نظم میں معٰنی کے دو پہلو ہیں: (الف) یہ اُن مائوں کے لیے ہے جو اپنے ان لڑکوں کو بھی سینے سے لگائے رکھنا چاہتی ہیں جو قرآن کی زبان میں باپ کے ساتھ بھاگ دوڑ کرنے کی عمر کو پہونچ جاتے ہیں۔(سورۃ الصّٰفّٰت:آیت۱۰۲) یہ نظم بتاتی ہے کہ ایسے بچے ترقی کی دوڑ میں دوسروں کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی مائوں کی بے جا محبت اور غیر ضروری احتیاط کی وجہ سے بیرونی دنیا سے ناواقف محض رہ جاتے ہیں۔ (ب) اس نظم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مائوں کو اپنے بچوں کے انتقال پر بہت رونے اور نوحہ و ماتم کرنے کی بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات نوحہ و ماتم سے منع کرتی ہیں لیکن خاموشی سے آنسو بہانے سے منع نہیں کرتیں۔ آنحضورؐ کے فرزند ابراہیمؓ صغر سنی میں وفات پاگئے تھے۔ تدفین کے وقت آپؐ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ کسی نے کہا ’’یا رسول اللہؐ آپ بھی رورہے ہیں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’آنکھیں روتی ہیں لیکن دل اللہ کی مشیت پر راضی ہے۔ ‘‘ مسلمانوں میں یہ خیال عام ہے کہ میت پر نوحہ اور ماتم کرنے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اسی خیال کو استعاراتی انداز میں نظم کیا ہے کہ بچے کی جدائی پر ماں کے رونے اور نوحہ و ماتم کرنے سے دوسری دنیا میں بچے کے ہاتھ میں جو چراغ ہے وہ بجھ جاتا ہے۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ اعزہ یا کسی کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی نوحہ کوئی کرے اور اس کا عذاب میت کو ہو یہ قرآنی اصول کے خلاف ہے۔ (2) نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ علامہ اقبالؒ نے اپنی والدہ کی موت سے متاثر ہوکر کہی تھی۔ اس نظم میں بھی انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھاکر اسلامی فلسفۂ موت و حیات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صبروتحمل کے اعلیٰ جذبات کی تلقین کی ہے۔ تیرہ(۱۳) بندوں پر مشتمل یہ نظم ارتقائی مراحل سے گذرتی ہے۔  پہلے بند میں کائنات کا پا بند تقدیر ہونے کی وجہ سے اس کو مجبور محض بتایا ہے۔ صرف انسان ہی نہیں، کائنات کا ذرّہ ذرّہ ، آسمان، سورج، چاند ، ستارے غرض کائنات کی ہر تخلیق Programmed ہے۔ اُن کی اپنی کوئی مرضی نہیں بلکہ وہ مقدر کا لکھا پورا کرتے ہیں۔  دوسرے بند میں کہا گیا ہے کہ انسان کو جب اپنی بے بسی کا ادراک ہوجاتا ہے تو پھر اسے زندگی کی رعنائیاں بے کار لگتی ہیں۔ وہ تقدیر سے سمجھوتا کرلیتاہے۔ اُس کا دل پتھر ہوجاتا ہے۔ علم و حکمت اُس کی گریہ وزاری پر روک لگاتی ہیں۔ نہ حیران ہوتا ہے، نہ ہنسی آتی ہے اور نہ ہی گریہ وزاری کرتا ہے۔  تیسرے بند میں اقبالؒ اس بے بسی سے آزاد ہونے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ والدہ کی یاد نے ماضی و حال کے فاصلے ختم کر کے انہیں عہدِ طفلی تک پہنچا دیا۔ یہاں سے تدریجاً اس نظم کو کلائمیکس Climax کی طرف لے جاتے ہیں۔ ناامیدی سے امید کی طرف قاری کو اپنے ساتھ لے جانے میں اقبالؒ کو ملکہ حاصل ہے۔ چوتھے بند میں کہتے ہیں کہ میرے چرچے ہر طرف ہیں۔ میرے کلام کی قدردانی ایک عالم میں ہے۔ مگر ماں کی یاد آتے ہی یہ ساری حیثیتیں ختم ہوجاتی ہیں اور یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ماں کی تربیت نے انہیں عروج بخشا۔ پانچویں بند میں ماں کی یاد میں زندگی کے مختلف ادوار تازہ ہوجاتے ہیں۔  چھٹے بند میں فرماتے ہیں کہ دنیا گویا ماتم کدہ ہے۔ موت جیسے ہوا کی طرح مسلسل بہہ رہی ہے۔زندگی اپنے اندر کس قدر آلام و مصائب لیے بیٹھی ہے غریب کا گھر ہو کہ محلات شاہی، موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں۔ کائنات میں موت ہی موت کا دور دورہ ہے۔  ساتویں بند میں اقبال اسلام کا فلسفۂ حیات بیان کرتے ہیں۔ انسان ہمیشہ زندہ و جاوید رہتا ہے۔ موت اس کے جسم کو آتی ہے روح کو نہیں۔  ؎  جاوداں پیہم رواں ہردم جواں ہے زندگی  یہ زندگی امتحان کا دور ہے جو ختم ہوجائے گا تو اس کے بعد دائمی زندگی بہرحال شروع ہوگی۔ زندگی کا انجام خاک میں مل جانا نہیں ہے۔ یہ ایسا گوہر ہے جو ٹوٹ کر بکھر نہیں جائے گا۔  آٹھویں بند میں کہتے ہیں کہ قدرت کو خود زندگی اس قدر محبوب ہے کہ اُس نے ہر تخلیق میں زندگی کے تحفظ کا ذوق پیدا کردیا ہے۔ اصل میں خوب سے خوب تر کی جستجو ہے جو فطرت کو عمل فنا پر مجبور کرتی ہے۔ مٹانا، بنانا، بنا کر پھر مٹادینا اور پھر خوب تر بنانا۔ آخرت کی زندگی مکمل ترین زندگی ہوگی۔  نویں بند میں انسان کی عظمت کا بیان کرتے ہیں۔ عظیم الشان کائنات اور اجرام فلکی جن کی زندگی لامحدود ہے اور انسان کا یہ عالم ہے کہ وہ ان پر کمندیں پھینک رہا ہے۔ یہ آسمان تو انسانی آرزوئوں اور تمنائوں کے مقابلے میں صرف ایک نقطہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے انسان کی عظمت فرشتوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ اصل میں انسان ہی اس کائنات کی جان ہے۔ اگر وہ نہ ہوتو زندگی کا یہ ساز بے کار ہے۔  دسویں بند میں موت پر فتح پاتی ہوئی زندگی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اس مضمون کو نقطہ عروج پر لے جاتے ہیں۔ کیسے موت کے پردے سے زندگی جنم لیتی ہے؟ بیج کو زمین میں دفن کرنا گویا اس کی موت ہے مگر مٹی کے اندر بیج میں دبی ہوئی زندگی اپنے نمو کے لیے بیتاب رہتی ہے۔ جس کی فطرت میں خودنمائی اور خودافزائی ہے وہ خود کو آشکار کرکے رہے گا۔ یعنی موت تجدید زندگی ہے۔ یہ پیغام ہے بیداری و شعور کا اور ایک دوسری ابدی زندگی کا۔  گیارہویں بند میں والدہ مرحومہ کی فرقت سے ان کے دل پر کسی حد تک پھر غمگینی طاری ہوتی ہے اور موت کو لادوا کہتے ہیں۔ موت سے جو زخم لگ جاتے ہیں اُن کو وقت کے مرہم سے شفا نہیں ہوتی۔سکون کی حالت سے انسان محروم ہی رہتا ہے۔ وہ ہمیشہ مضطرب رہتا ہے کیوں کہ اُس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہے۔ لیکن دل میں یہ احساس بھی رہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد فنا نہیں ہوجاتا۔ اس لیے اسے کچھ تسلّی ہوجاتی ہے۔  بارہویں بند میں اقبال حیات دائمی کے فسلفے کو مزید آگے بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر صبح طلوع ہونے والا سورج مردہ کائنات کو زندگی بخشتا ہے۔ پھول کھلتے ہیں، بلبل نغمہ سرا ہوتی ہے۔ ہر نئی صبح نئی زندگی کا پیام لے کر آتی ہے اور کائنات کو دلہن بنا دیتی ہے۔ خوشیاں ہی خوشیاں چاروں طرف ہوتی ہیں۔ اس بند میں انسان کے لیے یہ پیغام ہے کہ آئین کائنات یہی ہے کہ ہر شام کی صبح ہوتی ہے۔ توکیا انسان کے تاریک مرقد کی صبح نہیں ہوگی؟  آخری بند میں والدہ کی یاد پھر سے اقبالؒ کے دل و دماغ پر چھا جاتی ہے جس سے چاروں طرف کا ماحول روشن (سیمیں) ہوجاتا ہے۔ ان یادوں کو انہوں نے مختلف کیفیتوں سے تشبیہ دی ہے جیسے کعبہ میں دُعائوں کا تسلسل وغیرہ۔ آخرت کو زندگی کی اصل جولان گاہ قرار دیا ہے۔ اگر دنیا کی زندگی میں کچھ نہ کریں تو آخرت کی کھیتی میں ہمارے پلّے کوئی فصل نہیں آئے گی۔ آخر میں والدہ کی پاک و صاف زندگی کو یاد کرکے دُعائیہ شعر پر نظم کا اختتام کیا ہے۔  نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ ان کی ایک اور نظم ’’خضر راہ‘‘ کی طرح ایک موضوع کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کرکے اُن کا احاطہ کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے اور بتدریج انسان کو مایوسی سے چھٹکارا دلا کر ایک روشن مستقبل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔