Search

غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا​ میری طرف بھی غمزہءغماز دیکھنا​ اڑتے ہی رنگ رخ مرا نظروں سے تھا نہاں​ اس مرغِ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا​ دشنامِ یار طبعِ حزیں پر گراں نہیں​ اے ہم نفس ، نزاکتِ آواز دیکھنا​ دیکھ اپنا حال زار منجم ہوا رقیب​ تھا سازگار طالعِ ناساز دیکھنا​ بد کام کا مآل برا ہے جزا کے دن​ حالِ سپہر تفرقہ انداز دیکھنا​ مت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدم​ پامال ہو نہ جائے سر افراز دیکھنا​ کشتہ ہوں اس کی چشمِ فسوں گر کا اے مسیح​ کرنا سمجھ کے دعویء اعجاز دیکھنا​ میری...

پورا پڑھیں

منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں دل ہوا ہے چراغ مفلس کا تھے برے مغبچوں کے تیور لیک شیخ میخانے سے بھلا کھسکا داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا بحر کم ظرف ہے بسان حباب کاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا فیض اے ابر چشم تر سے اٹھا آج دامن وسیع ہے اس کا تاب کس کو جو حال میرؔ سنے حال ہی اور کچھ ہے مجلس کا ————- جنوں نے تماشا بنایا ہمیں رہا دیکھ...

پورا پڑھیں

لکھنا آج کے زمانے میں انتظار حسین میں سوچتا ہوں کہ ہم غالب سے کتنے مختلف زمانے میں جی رہے ہیں۔ اس شخص کا پیشہ آبا سپہ گری تھا۔ شاعری کو اس نے ذریعہ¿ عزت نہیں سمجھا۔ غالب کی عزت غالب کی شاعری تھی۔ شاعری اس کے لیے کسی دوسری عزت کا ذریعہ نہ بن سکی۔ اب شاعری ہمارے لیے ذریعہ¿ عزت ہے مگر خود شاعری عزت کی چیز نہیں رہی اور میں سوچتا ہوں کہ خازن تو لوگ غالب کے زمانے میں بھی بنتے ہوں گے اور اس پر خوش ہوتے ہوں گے۔ عہدوں اور مراتب اور ہاتھی اور...

پورا پڑھیں

ریاض خیرآبادی کی خمریہ شاعری پروفیسر صاحب علی یہ بات پورے وثوق اور بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اگر ریاض خیرآبادی کی منفرد رنگ سخن میں شرابور ممتاز شاعری نہ ہوتی تو اردو شاعری کا ایک مکمل و دل نشین باب غائب ہوجاتا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاض تکلفاََ شاعر ہرگز نہ بنے تھے بلکہ وہ پیدائشی شاعر تھے۔ باوجودیہ کہ انھوں نے تلمیذ غلام ہمدانی مصحفی امروہوی یعنی تدبیر الدولہ ، مدبر الملک، بہادر جنگ منشی سید مظفر علی اسیر امیٹھوی (۱۸۰۱تا ۱۸۸۲) اور منشی امیر احمد مینائی (۱۸۲۹ تا ۱۹۰۰) سے استفادہ کیا...

پورا پڑھیں

اسلام ایک ایسا نو ر تھا جس کی کرنیں عرب کی سر زمینِ حجازسے پھوٹیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے عالم کو منورکرگئیں اور آج تقریباََ ڈیڑھ ہزار سال کی مدت کے درمیان دنیا کے ہرمکتبۂ فکر کے علما اور شعرا نے سیرتِ نبوی کو اپنا موضوع بنایا اور ہزاروں کی تعداد میں اپنی یا د گار تحریریں نظم ونثر کے پیرائے میں چھوڑی ہیں۔ اس تاریخی حقیقت سے کوئی صاحب علم انکار نہیں کر سکتاکہ جس طرح مختلف دنیوی علوم کو سمجھنے کے لیے مشکل کتابوں کی لغتِ اصطلاحات ،تراجم ، تفسیر یا زندہ استاذ کی مدد درکار ہوتی...

پورا پڑھیں

میں اپنی گفتگو کا آغاز مجروح سلطان پوری کے اس خیال سے کرنا چاہتا ہوں جس کا ظہار انھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعۂ کلام ’’ غزل‘‘ میں کیا تھا۔ مجروح نے لکھا ہے : ’’ میرے نزدیک شاعری کی پہلی اور آخری شرط یہ ہے کہ وہ سامع اور قاری کے خیالات اور جذبات کی رفیق ہو،ا س کے بغیر نہ تو اسے قبول عام کی سند مل سکتی ہے اور نہ اسے معتبر کہا جاسکتا ہے ۔ ایک بات اور کہ وہ اعلیٰ سے اوسط درجے کے اذہان کے لیے سہل الحصول ہوــ‘‘ مجروح سلطان پوری کی اس...

پورا پڑھیں

آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے ہم نے سب تیاریاں کرلی ہیں مرنے کے لیے محتاط اور مستند ذرائع کے مطابق یہ کنور اخلاق محمد خاںشہر یا رؔ کا آخری شعر ہے جو انھوں نے اپنی موت سے چند روز پہلے کہا تھا۔ شہر یار کی ولادت ۱۷؍جون ۱۹۳۶کو ان کے آبائی وطن آنولہ ضلع بریلی اترپردیش میں ہوئی تھی۔ان کے آبا واجداد راجپوت تھے ، پرتھوی راج چوہان کے زمانے میں ان کے بزرگ مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ شہریار کے والد کا نام کنور ابو محمد خاں تھا اور والدہ بسم اللہ بیگم تھیں۔کنور ابو...

پورا پڑھیں

زیر مطالعہ عنوان گفتگو یعنی ’’ تصوف اور سائنس‘‘ بظاہر مفکر یگانہ مہد ی افادی کے الفاظ میں ’’ گول چیز میں چوکھنٹی ‘‘ کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔یعنی دو متضاد چیزوں کا یکجا ہونا یا بقول امام الہند مولانا ابولکلام آزادعلمی اصطلاح میں ’’اجتماع النقیضین‘‘ ۔ تصوف کا موضوع خالص روحانیت ہے جب کہ سائنس کا نقطۂ پرکار مادیت ہے۔ اگر ہم اپنے زاویۂ نظر کو عالی ظرفی ، وسیع النظری اور باریک بینی سے اپنی نگاہوں کے سامنے لائیں اور قدرے عمیق نظر سے دیکھیں تو ہم بھی شاید اس عالم طلائی کی خیالی دنیا کا جلوہ دیکھ...

پورا پڑھیں

One of the most famous Turkish Islamic scholars of the last century was Said Nursi. Nursi, who had a great influence on Turkish people, wrote over 50 books and spent most of his life behind bars. Today, his teachings are admired by Turkey’s young generation and millions of Muslims all over the world. Nursi was born in 1877 in eastern Turkey. Bediuzzaman displayed an extraordinary intelligence and ability to learn from an early age, completing the normal course of religious school education by the age of fourteen, when he obtained his diploma. He became famous for both his excellent memory...

پورا پڑھیں