Two day National Seminar in BHU

Articles

دو روزہ قومی سیمیناربعنوان ’’ نذیر بنارسی: حیات اور کارنامے‘‘

پریس ریلیز

شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی کے زیر اہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے تعاون سے دو روزہ قومی سیمینار کا انعقادبتاریخ۲۹-۲۸؍ نومبر 2018 کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ بنارس کا شمار قدیم و ترین مذہبی شہروں میں ہوتا ہے ، زمانۂ قدیم سے یہ شہر علم و ادب کا مرکز رہا ہے۔ سنسکرت اور ہندی کے علاوہ اردو شعر و ادب کے فروغ میں یہاں کے قلم کاروں اور دانشوروں نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ۔ یوں تو سرزمیں بنارس  سے اردو ادب میں کئی شخصیتں ابھریں لیکن جو شہرت نذیر بنارسی کو ملی وہ کسی کو نصیب نہ ہو سکی۔ نذیر بنیادی طور پر زمینی حقیقتوں کے شاعر ہیں جن کے یہاں قومی یکجہتی اور حب الوطنی کا جذبہ ایک قدر اعلی کی حیثیت رکھتا ہے۔  شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی کے زیر اہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے تعاون سے دو روزہ قومی سیمینار کا انعقادبتاریخ۲۹-۲۸؍ نومبر ۲۰۱۸؁ء کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ بنارس کا شمار قدیم و ترین مذہبی شہروں میں ہوتا ہے ، زمانۂ قدیم سے یہ شہر علم و ادب کا مرکز رہا ہے۔ سنسکرت اور ہندی کے علاوہ اردو شعر و ادب کے فروغ میں یہاں کے قلم کاروں اور دانشوروں نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ۔ یوں تو سرزمیں بنارس  سے اردو ادب میں کئی شخصیتں ابھریں لیکن جو شہرت نذیر بنارسی کو ملی وہ کسی کو نصیب نہ ہو سکی۔ نذیر بنیادی طور پر زمینی حقیقتوں کے شاعر ہیں جن کے یہاں قومی یکجہتی اور حب الوطنی کا جذبہ ایک قدر اعلی کی حیثیت رکھتا ہے۔  متذکرہ خیالات کا اظہار، صدر شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی آفتاب احمد آفاقی نے نمائندہ سے’ نذیر بنارسی حیات اور کارنامے‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے دو روزہ قومی سیمینار کی اہمیت کی بابت گفتگو کے دوران کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب شعبۂ اردو کے زیر اہتمام اس شہر کے ممتاز شاعر اور ملک گیر پیمانے پر مشاعروں میں اپنی آواز اور کلام کی دھاک بیٹھانے والے نذیر بنارسی کی شخصیت اور فن پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے تعاون سے دو روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ نذیر بنارسی کی اہمیت موجودہ دور میں اس لحاظ سے بے حد اہم ہے کہ انھوں نے اپنی تخلیقی نگارشات کے وسیلے سے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کو نہ صرف فروغ دیا ہے بلکہ وہ زندگی بھر ملک میں امن و شانتی ، اخوت و محبت ، بھائی چارا اور جنگ آزادی کے شہداء اور مجاہدین کو خراج عقدیت پیش کرتے رہے۔ نذیر بنارسی کے شعری مجموعوں مثلاًگنگ وجمن ، جواہر سے لال تک، غلامی سے آزادی تک، اور راشٹر کی امانت راشٹر کے حوالے میں شامل نظموں کے مطالعے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نذیر کی جملہ تخلیقات سے گنگا جمنی تہذیب ، انسانیت اور وطن دوستی کی خوشبو پھیلتی ہے۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ انھوں نے جو کار ہائے نمایا انجام دیے ہیں اس سے نئی نسل کو واقف کرایا جائے تاکہ نذیر کی عظمت کا احساس لوگوں کے دلوں میں پیدا ہواور ان  کے فن و شخصیت کی افہام و تفہیم کی نئی راہیں وا ہو سکیں۔