Research makes the Evolution of Language and Literature

Articles

تحقیق زبان و ادب کے ارتقا کی راہ ہموار کرتی ہے

تصویر میں دائیں سے قاضی مشتاق احمد، پروفیسر نسیم احمد اور پروفیسر صاحب علی

ممبئی،۱۵؍نومبر: شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی کی اردو ریسرچ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ ادبی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے بنارس ہندو یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ ٔ اردو پروفیسر نسیم احمد نے کہا کہ تحقیق کا عمل گرچہ محنت طلب ہے لیکن زبان و ادب کے ارتقا کے لیے اس عمل سے گزرنا لازمی ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ تحقیق کے ذریعہ ادب کے تخلیقی رجحانات و میلانات کے مابین امتیازات کی نشاندہی ہوتی ہے اور کسی ادیب و شاعر تخلیقی محرکات و فنی اوصاف دریافت کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔پروفیسر نسیم احمد نے شعبہ ٔ اردو ممبئی یونیورسٹی کی علمی وا دبی سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ صدر شعبہ پروفیسر صاحب علی کی سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کے ذریعہ نہ صرف تدریسی سطح پر اردو زبان وادب کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی بلکہ شعبہ کی جانب سے منعقد ہونے والی علمی وادبی تقریبات نے اس زبان کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔انھوں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحت ہونے والی تحقیق پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت کم یونیورسٹیوں میں ایسے وقیع اور اہم موضوعات پر تحقیقی کام ہورہا ہے جو زبان و ادب کے ارتقا میں معاون ہو سکے اور اس لحاظ سے ممبئی یونیورسٹی کا شعبہ ٔ اردو اپنی علاحدہ شناخت رکھتا ہے ۔
اس تقریب میں اردو کے معروف فکشن نگار قاضی مشتاق احمد نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اور اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اردو ریسرچ ایسوسی ایشن کے ذریعہ منعقد ہونے والی ادبی تقاریب طلبہ کے اندر ذوق علم کو بڑھاوا دیں گی اور ساتھ ہی ادب کی تفہیم کے عمل کو بھی ان کے لیے آسان بنائیں گی ۔انھوں نے ایسویسی ایشن کی فعالیت کے لیے پروفیسر صاحب علی اور شعبہ کے سبھی اساتذہ اور طلبہ کو مبارک باد دی اور کہا کہ اردو کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم علمی و عملی طور پر سرگرم رہیں اور اس زبان میں شائع ہونے والے اخبارات ، رسائل اور کتابوں کو خرید کر پڑھنے کا طریقہ اختیار کریں ۔تقریب کے آغاز میں پروفیسر صاحب علی نے مہمانان کا استقبال کیا اور ایسوسی ایشن کے قیام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد طلبہ کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جو ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشے اور ان کے اندر زبان و ادب کی تفہیم کے شعور کو پختگی عطا کر ے۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وقتاً فوقتاً ایسی ادبی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں پی ایچ ڈی یا ایم فل کا کوئی طالب علم زبان و ادب سے متعلق کسی موضوع پر تحقیقی مقالہ پیش کرتا ہے اور تقریب کے شرکا اس پر اپنے خیالات و تاثرات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایم فل کے طالب علم ندیم احمد انصاری نے پاکستان کی مشہور ادبی و مذہبی شخصیت تقی عثمانی کی نثری و شعری خدمات پر تحقیقی مقالہ پیش کیا ۔اس مقالے میں تقی عثمانی کی ہمہ جہت شخصیت کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی شاعری اور سفرناموں پر خصوصی اظہار خیا ل کیا گیا تھا ۔ پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر عبداللہ امتیاز نے شرکا اور مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر جمال رضوی، ڈاکٹر قمر صدیقی، ڈاکٹر مزمل سرکھوت، محترمہ روشنی خان کے علاوہ ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبا نے شرکت کی۔