Ghazals
Total 62 Ghazals

منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں دل ہوا ہے چراغ مفلس کا تھے برے مغبچوں کے تیور لیک شیخ میخانے سے بھلا کھسکا داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا بحر کم ظرف ہے بسان حباب کاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا فیض اے ابر چشم تر سے اٹھا آج دامن وسیع ہے اس کا تاب کس کو جو حال میرؔ سنے حال ہی اور کچھ ہے مجلس کا ————- جنوں نے تماشا بنایا ہمیں رہا دیکھ...

پورا پڑھیں

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

پورا پڑھیں
1 5 6 7