Ghazals
Total 63 Ghazals

احمد مشتاق غزلیں وہ لڑکپن کے دن وہ پیار کی دھوپ چھائوں لگتی تھی رہگذار کی دھوپ وہ کھلی کھڑکیاں مکانوں کی دو پہر میں وہ کوے یار کی دھوپ کنج سورج مکھی کے پھولوں کے ٹھنڈی ٹھنڈی وہ سبزہ زار کی دھوپ یہ بھی اک منظر زمینی ہے خوف کے سائے گیر و دار کی دھوپ برف چاروں طرف ہے اور دل میں گل آئندہ اور بہار کی دھوپ ————– شامِ غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں کب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیں دل سے بہتے ہوئے پانی کی صدا گذری تھی کب دھندلکا...

پورا پڑھیں

انتخابِ کلام عرفان جعفری غزلیں ہوئی جو ہم پہ عنایت سنبھال رکھی ہے بڑے جتن سے یہ تہمت سنبھال رکھی ہے ہمیں غریب نہ سمجھو بہت امیر ہیں ہم تمہارے درد کی دولت سنبھال رکھی ہے کوئی ملال نہ شکوہ دعائیں سب کے لیے یہ خاندانی روایت سنبھال رکھی ہے مرا یہ جسم تو ہے سرکشی پہ آمادہ فصیلِ جاں نے بغاوت سنبھال رکھی ہے تری کشش ترے گیسو ترے لب و رخسار ہمیں نے ایسی قیامت سنبھال رکھی ہے کبھی جو سرد سا موسم بہت ستائے تو ترے بدن کی حرارت سنبھال رکھی ہے ٭٭٭ ہری فصل کیسے جھلس...

پورا پڑھیں

انتخابِ کلام خواجہ میر درد مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کے رقم کا حقّا کہ خدا وند ہے تو لوح و قلم کا اُس مسندِ عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے کیا تاب گزر ہووے تعقل کے قدم کا بستے ہیں ترے سائے میں سب شیخ و برہمن آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دیرو حرم کا ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب سے اور دل میں بھروسا ہے تو ہے تیرے کرم کا مانند حباب آنکھ تو اے درد کھلی تھی کھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا ٭٭٭ اگر یوں...

پورا پڑھیں

انتخابِ کلام شاہد لطیف غزلیں یہ جو ربط رو بہ زوال ہے ، یہ سوال ہے مجھے اس کا کتنا ملال ہے ؟ یہ سوال ہے یہ جو سر پہ میرے وبال ہے ، یہ سوال ہے یہ جو گرد و پیش کا حال ہے ، یہ سوال ہے مجھے کیا غرض مرے دشمنوں کا ہدف ہے کیا مرے پاس کون سی ڈھال ہے ؟ یہ سوال ہے مرے سارے خواب ہیں معتبر ، میں ہوں در بہ در یہ عروج ہے کہ زوال ہے ؟ یہ سوال ہے مرے ہاتھ شل ، مرے پائوں شل ، مری عقل گم...

پورا پڑھیں

انتخابِ کلام شہریار غزلیں شمع دل ، شمع تمنا نہ جلا مان بھی جا تیز آندھی ہے مخالف ہے ہوا مان بھی جا ایسی دنیا میں جنوں ، ایسے زمانے میں وفا اس طرح خود کو تماشا نہ بنا مان بھی جا کب تلک ساتھ ترا دیں گے یہ دھندلے سائے دیکھ نادان نہ بن میرا کہا مان بھی جا زندگی میں ابھی خوشیاں بھی ہیں رعنائی بھی زندگی سے ابھی دامن نہ چھڑا مان بھی جا شہر پھر شہر ہے یاں جی تو بہل جاتاہے شہرسے بھاگ کے صحراکو نہ جا مان بھی جا پھر نہ کچھ ہوگا اگر...

پورا پڑھیں

انتخابِ کلام یگانہ چنگیزی غزلیں ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا؟ ہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیا؟ نہ جانے سہوِ قلم ہے کہ شاہکارِ قلم بلائے حسن نے فتنے اٹھائے ہیں کیاکیا؟ نگاہ ڈالی دی جس پر، وہ ہوگیا اندھا نظر نے رنگِ تصرّف دکھائے ہیں کیا کیا؟ پیامِ مرگ سے کیا کم ہے مژدۂ ناگاہ اسیر چونکتے ہیں تلملائے ہیں کیاکیا؟ پہاڑ کاٹنے والے ، زمیں سے ہار گئے اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا؟ بلند ہو کے کُھلے تجھ پہ زور پستی کا بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیاکیا؟...

پورا پڑھیں

(۱) بد دعا اس نے مجھے دی تھی دعا دی میں نے اس نے دیوار اٹھائی تھی گرا دی میں نے خانۂ خواب سے نکلا تھا مگر وحشت میں پھر سے زنجیرِ درِ خواب ہلا دی میں نے شہر سے میرے تعلق کا سبب پوچھا گیا سادگی میں تری تصویر بنا دی میں نے چاندنی آئے اسے نور میں نہلا ڈالے پھر دریچے میں کوئی یاد سجا دی میں نے اس نے سیلاب کی تصویر بنا بھیجی تھی اسی کاغذ سے مگر ناؤ بنا دی میں نے ٭٭٭ (۲) پھیلتا خموشی میں نقطۂ صدا پایا اک سفید صفحے سے لفظ...

پورا پڑھیں

(۱) ہر شب تارِ خزاں صبح بہاراں کردیں خارِ بے جاں کو بھی رشک چمنستاں کردیں کر کے رنگیں در و دیوار لہو سے اپنے ہم اگر چاہیں تو زنداں کو گُلستاں کردیں عیش میں اپنے نہ ہو جن کو غریبوں کا خیال اُن کے ہر عیش کا شیرازہ پریشاں کردیں چیخ چیخ اُٹھتے ہیں جس درد کی بیتابی سے دلِ مظلوم کے اس درد کا درماں کردیں کر کے باطل کے خدائوں کی خدائی نابود دوستو آئو علاجِ غمِ دوراں کردیں ہر طرف بغض و عداوت کی گھٹا چھائی ہے دہر میں شمعِ محبت کو فروزاں کردیں ہے اخوّت...

پورا پڑھیں

ارتضیٰ نشاط کی غزلیں 1 مجھے چند باتیں بتا دی گئیں سمجھ میں نہ آئیں تو لادی گئیں مسائل کی تہہ تک نہ پہنچا گیا مصائب کی فصلیں اُگا دی گئیں بڑا شور گونجا ، بڑا شر اُٹھا رگیں دکھ رہی تھیں ہلا دی گئیں سہولت سے مہمان کھیلیں شکار درختوں پہ چڑیاں سجا دی گئیں سفر واپسی کا بھی ہے ناگزیر تو پابندیاں کیوں لگا دی گئیں کڑی دھوپ میں دوپہر کی نشاط درختوں کی شاخیں جلا دی گیں ——— 2 کیا رات کوئی کاٹ سکے رات کی طرح گھر میں بھرے ہیں لوگ حوالات کی طرح یہ زندگی...

پورا پڑھیں

داغ دہلوی کی کچھ غزلیں  ​(۱) خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میں  سنسان گھر یہ کیوں نہ ہومہمان تو گیا کیا آئے راحت آئی جو کنج مزار میں وہ ولولہ وہ شوق وہ ارمان تو گیا  دیکھا ہے بتکدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھ  ایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیں لیکن اسے...

پورا پڑھیں
1 4 5 6 7