Ghazals
Total 63 Ghazals

  ستمبر 1914ء اردو کے نامور اور منفرد لب ولہجہ کے شاعرو ادیب رئیس امروہوی صاحب کی تاریخ پیدائش ہے۔ رئیس امروہوی کا اصل نام سید محمد مہدی تھا اور وہ امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد علامہ سید شفیق حسن ایلیا بھی ایک خوش گو شاعر اور عالم انسان تھے۔ رئیس امروہوی کی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے ہوا۔ قیام پاکستان سے قبل وہ امروہہ اور مراد آباد سے نکلنے والے کئی رسالوں سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور روزنامہ جنگ کراچی سے بطور قطعہ نگار اور...

پورا پڑھیں

1 نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں ہم اُن میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں شروعِ راہِ محبت، ارے معاذ اللہ یہ حال ہے کہ قدم ڈگمگائے جاتے ہیں یہ نازِ حسن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کر نظر ملاتے نہیں، مسکرائے جاتے ہیں مرے جنون تمنا کا کچھ خیال نہیں لجائے جاتے ہیں، دامن چھڑائے جاتے ہیں جو دل سے اُٹھتے ہیں شعلے وہ رنگ بن بن کر تمام منظر فطرت پہ چھائے جاتے ہیں میں اپنی آہ کے صدقے کہ میری آہ میں بھی تری نگاہ کے انداز پائے جاتے ہیں رواں رواں...

پورا پڑھیں

  دلوں میں درد بھرتا آنکھ میں گوہر بناتا ہوں جنہیں مائیں پہنتی ہیں میں وہ زیور بناتا ہوں غنیم وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں پرانی کشتیاں ہیں میرے ملاحوں کی قسمت میں میں ان کے بادباں سیتا ہوں اور لنگر بناتا ہوں یہ دھرتی میری ماں ہے اس کی عزت مجھ کو پیاری ہے میں اِس کا سر چھپانے کے لیے چادر بناتا ہوں یہ سوچا ہے کہ اب خانہ بدوشی کر کے دیکھوں گا کوئی آفت ہی آ تی ہے اگر میں گھر بناتا ہوں...

پورا پڑھیں

1 زیر و بم سے سازِ خلقت کے جہاں بنتا گیا یہ زمیں بنتی گئی یہ آسماں بنتا گیا داستانِ جور بے حد خوں سے لکھتا ہی رہا قطرہ قطرہ اشکِ غم کا بے کراں بنتا گیا عشقِ تنہا سے ہوئیں آباد کتنی منزلیں اک مسافر کارواں در کارواں بنتا گیا میں ترے جس غم کو اپنا جانتا تھا وہ بھی تو زیبِ عنوانِ حدیثِ دیگراں بنتا گیا بات نکلے بات سے جیسے وہ تھا تیرا بیاں نام تیرا داستاں در داستاں بنتا گیا ہم کو ہے معلوم سب رودادِ علمِ و فلسفہ ہاں ہر ایمان و یقیں وہم و...

پورا پڑھیں

  1 تم نہ مانو مگر حقیقت ہے عشق انسان کی ضرورت ہے کچھ تو دل مبتلائے وحشت ہے کچھ تری یاد بھی قیَامت ہے میرے محبوب مجھ سے جھوٹ نہ بول جھوٹ صورت گِر صداقت ہے جی رہا ہوں اس اعتماد کے سَاتھ زندگی کو مری ضرورت ہے حُسن ہی حُسن جلوے ہی جَلوے صرف احساس کی ضرورت ہے اُس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا اب در و بام سے ندامت ہے اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو زندگی کتنی خوبصورت ہے راستہ کٹ ہی جائے گا قابل شوقِ منزل اگر سَلامت ہے 2 حیرتوں کے...

پورا پڑھیں

کسی بے کس کو اے بیداد گر مارا تو کیا مارا​​ جو آپ ہی مر رہا ہو اس کو گر مارا تو کیا مارا​ نہ مارا آپ کو جو خاک ہو اکسیر بن جاتا ​ اگر پارے کو اے اکسیر گر ! مارا تو کیا مار ​ بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا ​ نہنگ و اژدہا و شیر نر مارا تو کیا مارا​ خطا تو دل کی تھی قابل ، بہت سی مار کھانے کی ​ تری زلفوں نے مشکیں باندھ کر مارا تو کیا مارا​ نہیں وہ قول کا سچا ، ہمیشہ قول دے دے...

پورا پڑھیں

    تم گئے ساتھ اجالوں کا بھی جھوٹا ٹھہرا روز و شب اپنا مقدر ہی اندھیرا ٹھہرا   یاد کرتے نہیں اتنا تو دلِ خانہ خراب بھولا بھٹکا کوئی دو روز اگر آ ٹھہرا   کوئی الزام نسیمِ سحری پر نہ گیا  پھول ہنسنے پر سزاوار اکیلا ٹھہرا   پتیاں رہ گئیں ‘ بُو لے اُڑی آوارہ صبا قافلہ موجِ صبا کا بس اتنا ٹھہرا   روز نظروں سے گذرتے ہیں ہزاروں چہرے سامنے دل کے مگر ایک ہی چہرہ ٹھہرا   وقت بھی سعیِ مداوائے الم کر نہ سکا جب سے تم بچھڑے ہو خود وقت ہے ٹھہرا...

پورا پڑھیں

  غزلیں مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا میں رقص کرتا رہا ساری عمر وحشت میں ہزار حلقۂ زنجیرِ بام و در میں رہا ترے فراق کی قیمت ہمارے پاس نہ تھی ترے وصال کا سودا ہمارے سر میں رہا یہ آگ ساتھ نہ ہوتی تو راکھ ہوجاتے عجیب رنگ ترے نام سے ہنر میں رہا اب ایک وادیِ نسیاں میں چھُپتا جاتا ہے وہ ایک سایہ کہ یادوں کی رہگزر میں رہا ———- ریت کی صورت جاں پیاسی تھی آنکھ ہماری نم نہ ہوئی تیری درد گساری...

پورا پڑھیں

    سوتے سوتے چونک پڑے ہم، خواب میں ہم نے کیا دیکھا جو خود ہم کو ڈھونڈھ رہا ہو، ایسا اک رستا دیکھا دور سے اک پرچھائیں دیکھی اپنے سے ملتی جلتی پاس سے اپنے چہرے میں بھی اور کوئی چہرا دیکھا سونا لینے جب نکلے تو ہر ہر ڈھیر میں مٹی تھی جب مٹی کی کھوج میں نکلے، سونا ہی سونا دیکھا سوکھی دھرتی سن لیتی ہے پانی کی آوازوں کو پیاسی آنکھیں بول اٹھتی ہیں ہم نے اک دریا دیکھا چاندی کے سے جن کے بدن تھے، سورج جیسے مکھڑے تھے کچھ اندھی گلیوں میں ہم نے...

پورا پڑھیں

    ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے کس نے عذابِ جاں سہا، کون عذابِ جاں میں ہے لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے آدم و ذاتِ کبریا کرب میں ہیں جدا جدا کیا کہوں ان کا ماجرا جو بھی ہے امتحاں میں ہے شاخ سے اڑ گیا پرند ہے دلِ شام درد مند صحن میں ہے ملال سا حزن سا آسماں میں ہے خود میں بھی بے اماں ہوں میں، تجھ میں بھی بے اماں ہوں میں کون سہے...

پورا پڑھیں
1 3 4 5 6 7