Ghazals
Total 63 Ghazals

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیرؔ اور میں کہوں ان سے حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ 2 ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی آسماں کیسے...

پورا پڑھیں

  میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو دن ایک ستم ,ایک ستم رات کرو ہو وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو ہم کو جو ملا ہے وہ تمہیں سے تو ملا ہے ہم اور بھلا دیں تمہیں کیا بات کرو ہو یوں تو کبھی منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی...

پورا پڑھیں

  کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو جہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا کہاں چراغ جلائیں کہاں گلاب رکھیں چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکاں نہیں ملتا یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیں زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا چراغ جلتے ہیں بینائی بجھنے لگتی ہے خود اپنے گھر میں ہی گھر کا نشاں نہیں ملتا कभी किसी को मुकम्मल जहाँ नहीं मिलता कहीं ज़मीन कहीं आसमाँ नहीं मिलता तमाम शहर में ऐसा नहीं ख़ुलूस न हो...

پورا پڑھیں

مجروح سلطانپوری(مرحوم) نے پروفیسر مغنی تبسم صاحب (مدیر شعروحکمت) کے اصرار پر اپنے پچاس اشعار منتخب کئے تھے ۔جو کسی وجہ سے شعرو حکمت میں شائع نہیں ہو پائے۔ہم قارئین ِ اردوچینل کی خدمت وہ انتخاب پیش کررہے ہیں۔ ادارہ 1 جنونِ دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے قد وگیسو سے اپنا سلسلہ دارو رسن تک ہے 2 ختم شورِ طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی دم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی 3 شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کا میں ہی اپنی منزل کا راہبر بھی راہی بھی 4 کہاں...

پورا پڑھیں

    آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے ایسی دہشت تھی فضاؤں میں کھلے پانی کی آنکھ جھپکی بھی نہیں ہاتھ سے پتوار گرے مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط یہ ستارے مرے گھر ٹوٹ کے بے کار گرے کیا ہوا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی تھی کیوں مجھے ڈھال بنانے کو یہ چھتنار گرے دیکھ کر اپنے در و بام لرز جاتا ہوں مرے ہم سایے میں...

پورا پڑھیں

  صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے   صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے میں ساعت سرشار میں لاکھوں دعائیں خوبصورت آرزوئیں پیش کرتا ہوں صبا ممنون ہے لیکن زباں ہے کچھ نہیں کہتی صبا اب روز و شب دیوار و در تن پر سجاتی ہے اب آنچل چھت کا سر پر اوڑھتی ہے لمس فرش مرمریں سے پاؤں کی تزئین کرتی ہے وہ کہساروں شگفتہ وادیوں جھرنوں چمکتے نیلگوں آکاش کے نغمے نہیں گاتی صبا اب لالہ و گل کی طرف شاید نہیں آتی صبا شبنم ادا تصویر پا بستہ در روزن میں آویزاں حسیں نازک بدن روشن منور ساحلوں پر...

پورا پڑھیں

اصلی نام محمد حیدر خان تھا اورتخلص خمار۔ 19 ستمبر 1919 کو بارہ بنکی (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ نام کے ساتھ بارہ بنکوی اسی مناسبت سے تھا۔ 19 فروری 1999 کو بارہ بنکی میں انتقال کر گئے۔ 1 نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے ترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے ارے او جفاؤں پہ چپ رہنے والو خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے مرے راہبر مجھ...

پورا پڑھیں

  نوح ناروی : (18 ستمبر، 1879ء – 10 اکتوبر، 1962ء ) –  مشہور کہنہ مشق شاعر، داغ دہلوی کے جانشین تھے۔ ان کی ولادت  ریاست اترپردیش ، رائے بریلی ضلع، سلون تحصیل کے بھوانی پور گاؤں میں ہوئی، جو ان کا نانہال تھا۔ نانا کا نام شیخ علم الہدیٰ صاحب تھا اور آپ یہیں پیدا ہوئے۔ تعلیم مختلف حضرات سے پائی جن میں اہم نام حافظ قدرت علی صاحب و مولوی یوسف علی صاحب ۔ بعد ازاں حاجی عبدالرحمن صاحب جائسی کے پاس تعلیم حاصل کی۔ فارسی اور عربی تعلیم کے لئے میر نجف علی صاحب استاذ رہے۔ آپ کو...

پورا پڑھیں

  گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں کانٹوں پہ چلے لیکن ہونے نہ دیا ظاہر تلووں کا لہو دھویا چھپ چھپ کے اکیلے میں اے داور محشر لے دیکھ آئے تری دنیا ہم خود کو بھی کھو بیٹھے وہ بھیڑ تھی میلے میں خوشبو کی تجارت نے دیوار کھڑی کر دی آنگن کی چنبیلی میں بازار کے بیلے میں 2 تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے تمہیں بھلانے میں...

پورا پڑھیں

  1 خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میری ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوں آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا مختصر قصۂ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا زندگی بھی تو پشیماں ہے یہاں لا کے مجھے ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا...

پورا پڑھیں
1 2 3 4 5 6 7