Ghazals
Total 62 Ghazals

  آتا ہے صبح اٹھ کر تیری برابری کو کیا دن لگے ہیں دیکھو خورشید خاوری کو دل مارنے کا نسخہ پہونچا ہے عاشقوں تک کیا کوئی جانتا ہے اس کیمیا گری کو اس تند خو صنم سے ملنے لگا ہوں جب سے ہر کوئی جانتا ہے میری دلاوری کو اپنی فسوں گری سے اب ہم تو ہار بیٹھے باد صبا یہ کہنا اس دل ربا پری کو اب خواب میں ہم اس کی صورت کو ہیں ترستے اے آرزو ہوا کیا بختوں کی یاوری کو ٭٭٭ فلک نے رنج تیر آہ سے میرے زبس کھینچا لبوں تک دل سے...

پورا پڑھیں

  ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے دنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووے شمشیر کوئی تیز سی لینا مرے قاتل ایسی نہ لگانا کہ مرا کام نہ ہووے گر صبح کو میں چاک گریبان دکھاؤں اے زندہ دلاں حشر تلک شام نہ ہووے آتا ہے مری خاک پہ ہم راہ رقیباں یعنی مجھے تربت میں بھی آرام نہ ہووے جی دیتا ہے بوسہ کی توقع پہ فغاںؔ تو ٹک دیکھ لے سودا یہ ترا خام نہ ہووے ٭٭٭ ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا وہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کا اس ہستئ...

پورا پڑھیں

  تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے کہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہے لب شیریں چھپے نہیں رنگ پاں سیں نہاں منقار طوطی میں شکر ہے کیا ہے بے خبر دونوں جہاں سیں محبت کے نشے میں کیا اثر ہے ترا مکھ دیکھ آئینا ہوا ہے تحیر دل کوں میرے اس قدر ہے تخلص آبروؔ بر جا ہے میرا ہمیشہ اشک غم سیں چشم تر ہے ٭٭٭ آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے دل دوانہ ہو گیا ہے دیکھ یہ صبح بہار رسمسا پھولوں...

پورا پڑھیں

  نہ کوئی دوست اپنا ، یار اپنا ، مہرباں اپنا سناو¿ں کس کو غم اپنا ، الم اپنا ، فغاں اپنا نہ طاقت ہے اشارے کی ، نہ کہنے کی ، نہ سننے کی کہوں کیا میں ، سنوں کیا میں ، بتاو¿ں کیا بیاں اپنا بہت چاہا کہ آوے یا ر ، یا اس دل کو صبر آوے نہ یار آیا ، نہ صبر آیا ، دیا جی میں نداں اپنا قفس میں بند ہیں ، بے بال و پر ہیں ، سخت بے پر ہیں نہ گلشن دیکھ سکتے ہیں ، نہ اب وہ آشیاں اپنا ہوا...

پورا پڑھیں

    خیال چھوڑ کہ دنیا ہے خواب کی مانند تمام خوبی ہے اوسکی سراب کی مانند نہ کھو تو عمر کوں غفلت میں عیشِ دنییا سیں کہ روز و شب ہے یہ دھوکا سراب کے مانند اگر جو موجِ حوادث کی ہے خبر تجھ کوں نہ کھول چشمِ طرب کوں حباب کی مانند لیا ہے دل کے کبوتر کوں گھیر کر میرے تیری دو چشمِ سیہ نے عقاب کی مانند زبس کہ ہجر میں اوس گل بدن کے روتے ہیں نین سے جاری ہیں انجھواں گلاب کی مانند ٭٭٭ اگر نسیم ہو قاصد رواں کروں کاغذ وہ گل بدن...

پورا پڑھیں

  کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے وہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئے اے شوق نظارہ کیا کہئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں اے ذوق تصور کیا کیجے ہم صورت جاناں بھول گئے اب گل سے نظر ملتی ہی نہیں اب دل کی کلی کھلتی ہی نہیں اے فصل بہاراں رخصت ہو ہم لطف بہاراں بھول گئے سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے یہ اپنی وفا کا عالم ہے اب ان...

پورا پڑھیں

  اہلِ ایماں سوز کو کہتے ہیں کافر ہوگیا آہ یارب رازِ دل ان پر بھی ظاہر ہوگیا میں نے جانا تھا صحیفہ عشق کا ہے میرے نام واہ یہ دیوان بھی نقلِ دفاتر ہوگیا ناصحا بیزار دل سوزی سے تیری دور ہو دل کو کیا روتا ہے لے جی بھی مسافر ہوگیا درد سے محفوظ ہوں، درماں سے مجھ کو کام کیا بار خاطر تھا جو میرا یار شاطر ہوگیا کیا مسیحائی ہے تیرے لعل لب میں اے صنم بات کے کہتے ہی دیکھو سوز شاعر ہوگیا ———————   آنکھ پھڑکی ہے یار آتا ہے جان کو بھی قرار...

پورا پڑھیں

  نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا ہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزرا برہمن سر کو اپنے پیٹتا تھا دیر کے آگے خدا جانے تری صورت سے بت خانے پہ کیا گزرا مجھے زنجیر کر رکھا ہے ان شہری غزالوں نے نہیں معلوم میرے بعد ویرانے پہ کیا گزرا ہوئے ہیں چور میرے استخواں پتھر سے ٹکرا کے نہ پوچھا یہ کبھی تو نے کہ دیوانہ پہ کیا گزرا یقیںؔ کب یار میرے سوز دل کی داد کو پہنچے کہاں ہے شمع کو پروا کہ پروانہ پہ کیا گزرا یہ وہ آنسو ہیں...

پورا پڑھیں

  گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی کیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہ کافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی اے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لخت جگر بھی اے نالہ صد افسوس جواں مرنے پہ تیرے پایا نہ تنک دیکھنے تیں روئے اثر بھی کس ہستئ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار کچھ اپنے شب و روز کی ہے تج کو خبر بھی تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش رہتا ہے سدا چاک...

پورا پڑھیں

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیرؔ اور میں کہوں ان سے حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ 2 ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی آسماں کیسے...

پورا پڑھیں
1 2 3 4 5 7