Ghazals
Total 36 Ghazals

  اہلِ ایماں سوز کو کہتے ہیں کافر ہوگیا آہ یارب رازِ دل ان پر بھی ظاہر ہوگیا میں نے جانا تھا صحیفہ عشق کا ہے میرے نام واہ یہ دیوان بھی نقلِ دفاتر ہوگیا ناصحا بیزار دل سوزی سے تیری دور ہو دل کو کیا روتا ہے لے جی بھی مسافر ہوگیا درد سے محفوظ ہوں، درماں سے مجھ کو کام کیا بار خاطر تھا جو میرا یار شاطر ہوگیا کیا مسیحائی ہے تیرے لعل لب میں اے صنم بات کے کہتے ہی دیکھو سوز شاعر ہوگیا ———————   آنکھ پھڑکی ہے یار آتا ہے جان کو بھی قرار...

پورا پڑھیں

  نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا ہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزرا برہمن سر کو اپنے پیٹتا تھا دیر کے آگے خدا جانے تری صورت سے بت خانے پہ کیا گزرا مجھے زنجیر کر رکھا ہے ان شہری غزالوں نے نہیں معلوم میرے بعد ویرانے پہ کیا گزرا ہوئے ہیں چور میرے استخواں پتھر سے ٹکرا کے نہ پوچھا یہ کبھی تو نے کہ دیوانہ پہ کیا گزرا یقیںؔ کب یار میرے سوز دل کی داد کو پہنچے کہاں ہے شمع کو پروا کہ پروانہ پہ کیا گزرا یہ وہ آنسو ہیں...

پورا پڑھیں

  گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی کیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہ کافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی اے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لخت جگر بھی اے نالہ صد افسوس جواں مرنے پہ تیرے پایا نہ تنک دیکھنے تیں روئے اثر بھی کس ہستئ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار کچھ اپنے شب و روز کی ہے تج کو خبر بھی تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش رہتا ہے سدا چاک...

پورا پڑھیں

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیرؔ اور میں کہوں ان سے حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ 2 ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی آسماں کیسے...

پورا پڑھیں

  میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو دن ایک ستم ,ایک ستم رات کرو ہو وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو ہم کو جو ملا ہے وہ تمہیں سے تو ملا ہے ہم اور بھلا دیں تمہیں کیا بات کرو ہو یوں تو کبھی منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی...

پورا پڑھیں

  کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو جہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا کہاں چراغ جلائیں کہاں گلاب رکھیں چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکاں نہیں ملتا یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیں زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا چراغ جلتے ہیں بینائی بجھنے لگتی ہے خود اپنے گھر میں ہی گھر کا نشاں نہیں ملتا कभी किसी को मुकम्मल जहाँ नहीं मिलता कहीं ज़मीन कहीं आसमाँ नहीं मिलता तमाम शहर में ऐसा नहीं ख़ुलूस न हो...

پورا پڑھیں

مجروح سلطانپوری(مرحوم) نے پروفیسر مغنی تبسم صاحب (مدیر شعروحکمت) کے اصرار پر اپنے پچاس اشعار منتخب کئے تھے ۔جو کسی وجہ سے شعرو حکمت میں شائع نہیں ہو پائے۔ہم قارئین ِ اردوچینل کی خدمت وہ انتخاب پیش کررہے ہیں۔ ادارہ 1 جنونِ دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے قد وگیسو سے اپنا سلسلہ دارو رسن تک ہے 2 ختم شورِ طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی دم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی 3 شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کا میں ہی اپنی منزل کا راہبر بھی راہی بھی 4 کہاں...

پورا پڑھیں

    آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے ایسی دہشت تھی فضاؤں میں کھلے پانی کی آنکھ جھپکی بھی نہیں ہاتھ سے پتوار گرے مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط یہ ستارے مرے گھر ٹوٹ کے بے کار گرے کیا ہوا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی تھی کیوں مجھے ڈھال بنانے کو یہ چھتنار گرے دیکھ کر اپنے در و بام لرز جاتا ہوں مرے ہم سایے میں...

پورا پڑھیں

  صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے   صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے میں ساعت سرشار میں لاکھوں دعائیں خوبصورت آرزوئیں پیش کرتا ہوں صبا ممنون ہے لیکن زباں ہے کچھ نہیں کہتی صبا اب روز و شب دیوار و در تن پر سجاتی ہے اب آنچل چھت کا سر پر اوڑھتی ہے لمس فرش مرمریں سے پاؤں کی تزئین کرتی ہے وہ کہساروں شگفتہ وادیوں جھرنوں چمکتے نیلگوں آکاش کے نغمے نہیں گاتی صبا اب لالہ و گل کی طرف شاید نہیں آتی صبا شبنم ادا تصویر پا بستہ در روزن میں آویزاں حسیں نازک بدن روشن منور ساحلوں پر...

پورا پڑھیں

اصلی نام محمد حیدر خان تھا اورتخلص خمار۔ 19 ستمبر 1919 کو بارہ بنکی (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ نام کے ساتھ بارہ بنکوی اسی مناسبت سے تھا۔ 19 فروری 1999 کو بارہ بنکی میں انتقال کر گئے۔ 1 نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے ترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے ارے او جفاؤں پہ چپ رہنے والو خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے مرے راہبر مجھ...

پورا پڑھیں
1 2 3 4