Ghazals
Total 60 Ghazals

  کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا باعث رشک ہے تنہا رویٔ رہ رو شوق ہم سفر کوئی نہیں دورئ منزل کے سوا ہم نے دنیا کی ہر اک شے سے اٹھایا دل کو لیکن ایک شوخ کے ہنگامۂ محفل کے سوا تیغ منصف ہو جہاں دار و رسن ہوں شاہد بے گنہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا جانے کس رنگ سے آئی ہے گلستاں میں بہار کوئی نغمہ ہی نہیں شور سلاسل کے سوا 2 میں جہاں تم کو بلاتا ہوں وہاں تک...

پورا پڑھیں

1 ہَوا چلی تھی کُچھ ایسی، بِکھر گئے ہوتے رَگوں میں خُون نہ ہوتا تو مر گئے ہوتے یہ سرد رات، یہ آوارگی، یہ نیند کا بَوجھ ہم اپنے شہر میں ہوتے، تو گھر گئے ہوتے نئے شعوُر کو جِن کا شِکار ہونا تھا وہ حادثے بھی ہَمَیں پر گُزر گئے ہوتے ہمی نے رَوک لِئے سر یہ تیشۂ اِلزام وگرنہ شہر میں کِس کِس کے سر گئے ہوتے ہمی نے زخمِ دل و جاں چُھپا لیے، ورنہ نہ جانے کتنوں کے چہرے اُتر گئے ہوتے سکون ِ دِل کو نہ اِس طرح بھی ترستے ہم تِرے کَرَم سے سے...

پورا پڑھیں

تاج محل تاج، تیرے لئے اک مظہرِ اُلفت ہی سہی تُجھ کو اس وادئ رنگیں‌سے عقیدت ہی سہی میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟ ثبت جس راہ پہ ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟ مری محبوب پسِ پردہِ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کے مقابر سے بہلنے والی مُردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان...

پورا پڑھیں

۱ یہ کیسی آگ برستی ہے آسمانوں سے پرندے لوٹ کے آنے لگے اڑانوں سے کوئی تو ڈھونڈ کے مجھ کو کہیں سے لے آئے کہ خود کو دیکھا نہیں ہے بہت زمانوں سے پلک جھپکتے میں میرے اڑان بھرتے ہی ہزاروں تیر نکل آئیں گے کمانوں سے ہوئی ہیں دیر و حرم میں یہ سازشیں کیسی دھواں سا اٹھنے لگا شہر کے مکانوں سے شکار کرنا تھا جن کو شکار کر کے گئے شکاریو اتر آؤ تم اب مچانوں سے روایتوں کو کہاں تک اٹھائے گھومو گے یہ بوجھ اتار دو پاشیؔ تم اپنے شانوں سے ۲ لوگ جب...

پورا پڑھیں

کمال بے خبری کو خبر سمجھتے ہیں تری نگاہ کو جو معتبر سمجھتے ہیں فروغ طور کی یوں تو ہزار تاویلیں ہم اک چراغ سر رہ گزر سمجھتے ہیں لب نگار کو زحمت نہ دو خدا کے لیے ہم اہل شوق زبان نظر سمجھتے ہیں جناب شیخ سمجھتے ہیں خوب رندوں کو جناب شیخ کو ہم بھی مگر سمجھتے ہیں وہ خاک سمجھیں گے راز گل و سمن تاباںؔ جو رنگ و بو کو فریب نظر سمجھتے ہیں   گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئے بہار آئی تو گلشن میں دام بھی آئے ہمیں نہ کر سکے تجدید...

پورا پڑھیں

آج بازار میں پا بہ جولاں چلو چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں آج بازار میں پا بہ جولاں چلو دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو حاکم شہر بھی مجمع عام بھی تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی صبح ناشاد بھی روز ناکام بھی ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو...

پورا پڑھیں

  وقت یہ کیسا آن پڑا ہے خطرے میں ایمان پڑا ہے بھوکا ننگا مر رہنے کو سارا ہندوستان پڑا ہے اک کونے میں ہم رہتے ہیں دوسرے میں مہمان پڑا ہے کون سے ہم اللہ والے ہیں پیچھے کیوں شیطان پڑا ہے ٭٭٭ ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں سب اپنے اپنے خوابوں میں کھوئے ہوئے سے ہیں میں شام کے حصار میں جکڑا ہوا سا ہوں منظر مرے لہو میں ڈبوئے ہوئے سے ہیں محسوس ہو رہا ہے یہ پھولوں کو دیکھ کر جیسے تمام رات کے روئے ہوئے سے ہیں اک ڈور ہی ہے...

پورا پڑھیں

اختر مسلمی کا نام عبید اللہ اور آبائی وطن پھریہا (اعظم گڈھ) تھا۔ یکم جنوری 1928 کو اعظم گڈھ کے مردم خیز گاﺅں مسلم پٹی میں آپ کی ولادت ہوئی اسی نسبت سے خود کو مسلمی لکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد حافظ عطاءاللہ صاحب سے حاصل کی، بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے انھوں نے 1938میں اپنے علاقہ کی مشہور دینی درسگاہ مدرسة الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڈھ میں داخلہ لیا اور 11 سال کی عمر میں حفظ قرآن مکمل کیا۔ اختر مسلمی کی شاعری کی ابتدا بہت کم عمر میں ہوگئی تھی. 12 برس کی عمر میں وہ...

پورا پڑھیں

1 دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیب دشمناں ہوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا پکارتی ہیں فرصتیں کہاں گئیں وہ صحبتیں زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں اب آئنے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی وہ لہر...

پورا پڑھیں

شکست زنداں کا خواب کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں دیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانی سینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیں تقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریں آنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کا تخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریں کیا ان کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو...

پورا پڑھیں
1 2 3 6