Ghazals
Total 17 Ghazals

    تم گئے ساتھ اجالوں کا بھی جھوٹا ٹھہرا روز و شب اپنا مقدر ہی اندھیرا ٹھہرا   یاد کرتے نہیں اتنا تو دلِ خانہ خراب بھولا بھٹکا کوئی دو روز اگر آ ٹھہرا   کوئی الزام نسیمِ سحری پر نہ گیا  پھول ہنسنے پر سزاوار اکیلا ٹھہرا   پتیاں رہ گئیں ‘ بُو لے اُڑی آوارہ صبا قافلہ موجِ صبا کا بس اتنا ٹھہرا   روز نظروں سے گذرتے ہیں ہزاروں چہرے سامنے دل کے مگر ایک ہی چہرہ ٹھہرا   وقت بھی سعیِ مداوائے الم کر نہ سکا جب سے تم بچھڑے ہو خود وقت ہے ٹھہرا...

پورا پڑھیں

  غزلیں مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا میں رقص کرتا رہا ساری عمر وحشت میں ہزار حلقۂ زنجیرِ بام و در میں رہا ترے فراق کی قیمت ہمارے پاس نہ تھی ترے وصال کا سودا ہمارے سر میں رہا یہ آگ ساتھ نہ ہوتی تو راکھ ہوجاتے عجیب رنگ ترے نام سے ہنر میں رہا اب ایک وادیِ نسیاں میں چھُپتا جاتا ہے وہ ایک سایہ کہ یادوں کی رہگزر میں رہا ———- ریت کی صورت جاں پیاسی تھی آنکھ ہماری نم نہ ہوئی تیری درد گساری...

پورا پڑھیں

    سوتے سوتے چونک پڑے ہم، خواب میں ہم نے کیا دیکھا جو خود ہم کو ڈھونڈھ رہا ہو، ایسا اک رستا دیکھا دور سے اک پرچھائیں دیکھی اپنے سے ملتی جلتی پاس سے اپنے چہرے میں بھی اور کوئی چہرا دیکھا سونا لینے جب نکلے تو ہر ہر ڈھیر میں مٹی تھی جب مٹی کی کھوج میں نکلے، سونا ہی سونا دیکھا سوکھی دھرتی سن لیتی ہے پانی کی آوازوں کو پیاسی آنکھیں بول اٹھتی ہیں ہم نے اک دریا دیکھا چاندی کے سے جن کے بدن تھے، سورج جیسے مکھڑے تھے کچھ اندھی گلیوں میں ہم نے...

پورا پڑھیں

      ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے کس نے عذابِ جاں سہا، کون عذابِ جاں میں ہے لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے آدم و ذاتِ کبریا کرب میں ہیں جدا جدا کیا کہوں ان کا ماجرا جو بھی ہے امتحاں میں ہے شاخ سے اڑ گیا پرند ہے دلِ شام درد مند صحن میں ہے ملال سا حزن سا آسماں میں ہے خود میں بھی بے اماں ہوں میں، تجھ میں بھی بے اماں ہوں میں کون...

پورا پڑھیں

احمد مشتاق غزلیں وہ لڑکپن کے دن وہ پیار کی دھوپ چھائوں لگتی تھی رہگذار کی دھوپ وہ کھلی کھڑکیاں مکانوں کی دو پہر میں وہ کوے یار کی دھوپ کنج سورج مکھی کے پھولوں کے ٹھنڈی ٹھنڈی وہ سبزہ زار کی دھوپ یہ بھی اک منظر زمینی ہے خوف کے سائے گیر و دار کی دھوپ برف چاروں طرف ہے اور دل میں گل آئندہ اور بہار کی دھوپ ————– شامِ غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں کب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیں دل سے بہتے ہوئے پانی کی صدا گذری تھی کب دھندلکا...

پورا پڑھیں

انتخابِ کلام عرفان جعفری غزلیں ہوئی جو ہم پہ عنایت سنبھال رکھی ہے بڑے جتن سے یہ تہمت سنبھال رکھی ہے ہمیں غریب نہ سمجھو بہت امیر ہیں ہم تمہارے درد کی دولت سنبھال رکھی ہے کوئی ملال نہ شکوہ دعائیں سب کے لیے یہ خاندانی روایت سنبھال رکھی ہے مرا یہ جسم تو ہے سرکشی پہ آمادہ فصیلِ جاں نے بغاوت سنبھال رکھی ہے تری کشش ترے گیسو ترے لب و رخسار ہمیں نے ایسی قیامت سنبھال رکھی ہے کبھی جو سرد سا موسم بہت ستائے تو ترے بدن کی حرارت سنبھال رکھی ہے ٭٭٭ ہری فصل کیسے جھلس...

پورا پڑھیں

انتخابِ کلام خواجہ میر درد مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کے رقم کا حقّا کہ خدا وند ہے تو لوح و قلم کا اُس مسندِ عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے کیا تاب گزر ہووے تعقل کے قدم کا بستے ہیں ترے سائے میں سب شیخ و برہمن آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دیرو حرم کا ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب سے اور دل میں بھروسا ہے تو ہے تیرے کرم کا مانند حباب آنکھ تو اے درد کھلی تھی کھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا ٭٭٭ اگر یوں...

پورا پڑھیں

انتخابِ کلام شاہد لطیف غزلیں یہ جو ربط رو بہ زوال ہے ، یہ سوال ہے مجھے اس کا کتنا ملال ہے ؟ یہ سوال ہے یہ جو سر پہ میرے وبال ہے ، یہ سوال ہے یہ جو گرد و پیش کا حال ہے ، یہ سوال ہے مجھے کیا غرض مرے دشمنوں کا ہدف ہے کیا مرے پاس کون سی ڈھال ہے ؟ یہ سوال ہے مرے سارے خواب ہیں معتبر ، میں ہوں در بہ در یہ عروج ہے کہ زوال ہے ؟ یہ سوال ہے مرے ہاتھ شل ، مرے پائوں شل ، مری عقل گم...

پورا پڑھیں

انتخابِ کلام شہریار غزلیں شمع دل ، شمع تمنا نہ جلا مان بھی جا تیز آندھی ہے مخالف ہے ہوا مان بھی جا ایسی دنیا میں جنوں ، ایسے زمانے میں وفا اس طرح خود کو تماشا نہ بنا مان بھی جا کب تلک ساتھ ترا دیں گے یہ دھندلے سائے دیکھ نادان نہ بن میرا کہا مان بھی جا زندگی میں ابھی خوشیاں بھی ہیں رعنائی بھی زندگی سے ابھی دامن نہ چھڑا مان بھی جا شہر پھر شہر ہے یاں جی تو بہل جاتاہے شہرسے بھاگ کے صحراکو نہ جا مان بھی جا پھر نہ کچھ ہوگا اگر...

پورا پڑھیں

انتخابِ کلام یگانہ چنگیزی غزلیں ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا؟ ہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیا؟ نہ جانے سہوِ قلم ہے کہ شاہکارِ قلم بلائے حسن نے فتنے اٹھائے ہیں کیاکیا؟ نگاہ ڈالی دی جس پر، وہ ہوگیا اندھا نظر نے رنگِ تصرّف دکھائے ہیں کیا کیا؟ پیامِ مرگ سے کیا کم ہے مژدۂ ناگاہ اسیر چونکتے ہیں تلملائے ہیں کیاکیا؟ پہاڑ کاٹنے والے ، زمیں سے ہار گئے اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا؟ بلند ہو کے کُھلے تجھ پہ زور پستی کا بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیاکیا؟...

پورا پڑھیں
1 2