Search

میں نے یوپی کا شہر گورکھپور نہیں دیکھا، ضرورت بھی نہیں پڑی۔ فراق گورکھپوری صاحب، مجنوں گورکھپوری صاحب اور پھر شمشاد نبی ساقی فاروقی سے مل لیا، ان صاحبان کا لکھا ہوا پڑھتا رہتا ہوں….یوں سمجھئے شہر گورکھپور میں جتنا کچھ دیکھنے اور جاننے لائق ہوگا، حسین اور دل آویز ہوگا، تقریباً سبھی دیکھ لیا۔ شہروں میں اور ہوتا بھی کیا ہے؟ جی ہاں! ساقی گورکھپور میں پیدا ہوا تھا۔ ڈھاکے میں اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ ایم اے انگریزی میں پڑھ رہا تھا تو لندن روانہ ہوگیا اور لندن یونیورسٹی میں انگریزی...

پورا پڑھیں

مزاح نگار کو ہمارے یہاں عام طور پر درجہ ¿ دوم کا فن کار اور مزاح نگاری کو درجہ ¿ دوم کی چیز سمجھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہماری زبان یا ہمارے ملک میں مزاح کی صلاحیت نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اردو زبان اور اس کے بولنے والوں میں مزاح کی صلاحیت عام جدید ہندوستانی زبانوں اور اس کے بولنے والوں سے کچھ زیادہ ہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری زبان جن عناصر سے مرکب ہے، یعنی سنسکرت اور فارسی ، دونوں میں اعلیٰ مزاح کی روایت بہت قدیم اور...

پورا پڑھیں

مسلمانوں میں سائنس کے زوال کا ذمہ دار عموماً امام غزالی کی تعلیمات کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ امام غزالی کی تعلیمات کو بہت سادہ لفظوں میں یوں بیان کیا جاسکتاہے: فلسفیانہ حقائق اور الٰہیاتی حقائق کے مابین تطابق نہیں ہوسکتا ، اور جہاں فلسفیانہ حقائق اور الٰہیاتی حقائق کے درمیان تصادم یا تضاد نظر آئے ، وہاں فلسفیانہ حقائق کو پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ اللہ نے انسان کو عقل دی ہے ، اگر وہ اس کا صحیح استعمال کرے تو اس پر وہی الہٰی اور پیام رسالت پناہی کی سچائی کھل جائے گی اور وہ روحانی بلندی یعنی حقانی حاصل...

پورا پڑھیں

مجھے سب سے زیادہ چڑ ھ ان لوگو ں سے ہے جو خود کو یا کسی اورکو ”اردو نواز“کہتے ہیں۔بھلا بتائیے اردو ہم کو نوازتی ہے کہ ہم اردو کو نوازتے ہیں؟یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ اردو جیسی خوبصورت ،طاقتوراورتوانگر زبان ہم کوملی۔اگر ہم صحیح اردو لکھ سکیں تو یہ ہماری سعادت ہے۔افسوس کہ ہم میں سے اکثر کوصحیح زبان لکھنے کا سلیقہ نہیں،اچھی زبان تو اور بات ہے ۔ ”اردو نوازوں“کے بعد مجھے سب سے زیادہ چڑھ ان لوگوں سے ہے جو خود کو اردو کا حامی اور ہمدرد بتاتے ہیں،لیکن اس کے بارے میں معذرت آمیز اور...

پورا پڑھیں

کبیر کی تعلیمات کا بنیادی مقصد زندگی کی سچائیوں کا ادراک حاصل کرنا تھا۔ وہ بنیادی طور شاعر نہیں تھے بلکہ انھیں ایک سماجی مصلح یا زیادہ سے زیادہ صوفی یا سنت کہا جاسکتا ہے۔ البتہ اپنے افکار و خیالات کی ترویج کے لیے انھوں نے شاعری کو ذریعہ بنایا۔ چونکہ وہ بھگتی اور صوفیانہ افکار سے متاثر تھے لہٰذا ان کا کلام بھی بھگتی اور صوفیانہ رنگ سے مملو ہے۔اسی بھگتی اور تصوف کے رنگ کی وجہ سے کبیر کی تعلیمات زندگی کی فہم اور ادراک کا حوالہ بن گئیں۔زندگی کے سارے روشن و تاریک پہلو ان کی شاعری...

پورا پڑھیں

اردو افسانے کے آغاز اور اولیت کو لے کر خاصے اختلافات رہے ہیں۔ حالانکہ اردو افسانے کا سفر کچھ ایسا طویل بھی نہیں ہے کہ یہ تحقیق کے لیے کوئی بہت بڑا چیلنج ہو۔لیکن اردو افسانے کے ساتھ معاملہ یہ ہوا کہ ہمارے زیادہ تر محققین کولسانی کھکھیڑیں سلجھانے اور قدیم ترین متون کی تدوین و ترتیب نے اتنی فرصت ہی نہیں دی کہ وہ اس سمت بھی توجہ کرتے یا شاید افسانہ (یاتخلیقی ادب) ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا۔ خیر اس صورتِ حال کے مدنظر اردو افسانے کی روداد لکھنے کی ذمہ داری محققین کے بجائے...

پورا پڑھیں

اگر یہ کہاجائے کہ کرۂ ارض ایک چھوٹی سی جگہ ہے اور یہ چھوٹی سی جگہ بھی اب مسلسل سمٹ رہی ہے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ گلوبل ولیج کی سوچ تو سٹیلائیٹ دور کے شروعات کی بات تھی۔ اب انسان 3Gاور4Gکے اس دور میں سائبر اسپیس کا سند باد بن چکا ہے۔ بہت پہلے بل گیٹس نے کہا تھا کہ : ’’انٹر نیٹ ایک تلاطم خیز لہر ہے جو اس لہر میں تیرنا سیکھنے سے احتراز کریں گے ، اس میں ڈوب جائیں گے۔‘‘ بل گیٹس کی بات خواہ غلط ہو یا صحیح حقیقت یہ ہے کہ آج...

پورا پڑھیں

بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اردو میں یکے بعد دیگرے کئی ناول لکھے گئے۔ ان میں کچھ مقبول ہوئے توکچھ کو قبولیت کا شرف حاصل نہ ہوسکا۔کچھ ناولوں پر دیر تک گفتگو ہوئی مثلاً جوگندرپال کا ناول ”خوب رو“ ، مظہر الزماں خاں کا ناول ”آخری داستان گو“ ، حسین الحق کا ناول ”فُرات“، غضنفر کا ناول ”پانی“ ، علی امام نقوی کا ناول” تین بتّی کے راما“ اور سیّد محمد اشرف کا ناول ”نمبر دار کا نیلا“ وغیرہ ۔یوں تو مذکورہ بالا تمام ناول اہمیت کے حامل ہیں تاہم اشرف کا ناول ”نمبردار کا نیلا“اپنے موضوع ، ٹریٹمنٹ...

پورا پڑھیں

نجیب محفوظ نے اپنی ادبی زندگی کا آغازمعروف عربی جریدے ’المجلہ الجدید‘، مصر سے شروع کیا تھا۔ اس میں شائع ہونے والی تحریریں ترقی پسند نظریات سے نجیب کی وابستگی کا اعلان نامہ تھیں۔اگرچہ ابتدائی دورمیں شائع ہونے والی ان کی تین سلسلہ وار کہانیاں فرعونوں کی تاریخ کے پس منظر میں تحریر کی گئی تھیں تاہم اُن کہانیوں میں بھی مارکسی اثرات کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب نجیب محفوظ نے اعلان کیا تھا کہ وہ سائنس، سوشلزم اور برداشت میں یقین کرنا سیکھ رہے ہیں۔ بعد ازاں نجیب سر رئیلسٹ فکشن نگاری کی طرف ملتفت...

پورا پڑھیں

مولانا شبلی نعمانی دارالمصنفےن کے تخئےل کے خالق تھے اس تخےل کو حقےقت کا عملی جامہ پہنانے والوں مےں مولانا حمےدالدےن فراہی ،مولاناسےد سلےمان ندوی،مولانا عبدالسلام ندوی،اور مولانا مسعود علی ندوی،جےسی قدآور شخصےتےں کارفرما تھےں۔ےہ شخصےتےں دارالمصنفےن کے اصل معماروں مےں سے ہےں لےکن اس کے علمی و ادبی و عملی کارنامے اس کی تاسےس سے آج تک مختلف رفقا کی انتھک کوششوں کا نتےجہ ہےں۔رفقا مےں وہ شخصےتےں زےادہ اہم ہےں جنہوں نے اس ادارہ سے عمر بھر کا پےمان وفا باندھا۔ان کی خدمات امر ہےں۔بعض رفقا تربےت پاکر اور مختصر عرصہ تک ےہاں تک مقےم رہ کر رخصت...

پورا پڑھیں