Search

ماں کا آج انتقال ہوگیا یا شاید کل ہواہو،کہہ نہیں سکتا۔اولڈایج ہوم سے ٹیلی گرام آیا اس میں لکھا تھا ،”آپ کی والدہ چل بسیں،آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی۔اس دکھ کی گھڑی میں آپ سے گہری ہمدردی ہے۔“اس سے کچھ پتہ نہیں چلتا ،ہوسکتا ہے یہ کل ہواہو۔ اولڈ ایج ہوم مورنگو میں ہے۔الجیئرس سے تقریباً پچاس میل دور،دو بجے کی بس سے میں رات سے قبل پہنچ جاﺅں گا،پھر رات وہاں گزارسکتاہوں۔تابوت کے پاس رَت جگے کی رسم کے لیےپھر کل شام تک واپس،میں نے اپنے مالک سے دو دن کی چھٹی کی بات کرلی ہے۔ ظاہر...

پورا پڑھیں

مس ایمیلی گریرسن کی آخری رسومات کے موقع پر شہر کے تقریباً سبھی لوگ آئے ۔مرد حضرات فوت ہونے والی ایمیلی کا آخری دیدار کرنے کی غرض سے اور خواتین اس کے مکان کو اندر سے دیکھنے کا تجسس لے کر۔دس برس سے مکان کی دیکھ بھال کرنے والا صرف ایک نوکرتھا۔وہ مالی کا کام بھی کرتا اور باورچی کا بھی۔ وہ ایک بڑا ساچوکون مکان تھا،جس پر ایک بار رنگ وروغن چڑھایاگیاتھا۔ساتویں دہائی میں سب سے بہترین ڈیزائن کا انتخاب کرکے اسے تعمیر کیا گیاتھا۔اس پر ایک بڑا سا گنبد ،پچی کاری اور منقش بالکونیاں تھیں۔وہ مکان ساتویں دہائی...

پورا پڑھیں

میں اسے تب سے جانتا تھا،جب میں بہت چھوٹا تھا۔وہ میرے ابو کے جوتے بناتا تھا۔ چھوٹی سی ایک گلی میں دو دکانیں ملاکر انھیں ایک دکان میں کردیا گیا تھا۔مگر اب وہ دکان نہیں رہی،اس کی جگہ ایک بے حد جدید طرز کی دکان تیار ہوگئی ہے۔ اس کی کاریگری میں کچھ خاص بات تھی۔شاہی خاندان کے لیے تیار کیے گئے کسی بھی جوتے کی جوڑی پر کوئی نشان نہیں ہوتاتھاسوائے ان کے اپنے جرمن نام کے’’گیسلربردرس‘‘ اور کھڑکی پر جوتوں کی صرف چند جوڑیاں رکھی رہتیں۔مجھے یاد ہے کھڑکی پر ایک ہی طرح کی جوڑیوں کو باربار دیکھنا...

پورا پڑھیں

  دوستو: ابھی بھی گاؤں کے موسم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دن میں وہی جون ماہ والی گرمی سورج میں وہی تمازت ہوا میں وہی حرارت لیکن شام ڈھلے سرمئی شام کے بیچ سورج کے ڈوبنے کا دلفریب انداز نہر کے پانی کا زردی مائل ہوجانا اور درخت پر انگارے جیسی شعاعیں بکھیرنا یہ خوبصورتی صرف گاؤں کو ہی میسر ہو سکتی ہے ۔ اس لئے یہ مقولہ عام ہے کہ دیہات کو خدا نے بنایا ہے اور شہر کو انسان نے میرا تعلق جس علاقے سے ہے یہ علاقہ مردم خیز ہے یہاں کے لوگوں کا اکثر پیشہ...

پورا پڑھیں

آسمان ان گنت سیاہ بھجنگ کووں سے ڈھکا تھا۔ وہ لوگ آگ کے گرد بیٹھے تھے۔ان کے اطراف میں بےشمار عمارتیں تھیں جن کی کھڑکیاں اور دروازے بند تھے۔ ’’بڑی سردی ہے، ‘‘ ایک نے کہا۔ ’’اور ہوا بھی ایسی تیز،‘‘ دوسرے نے کہا۔ ’’جیسے رامپوری چاقو ہڈیوں میں اتر رہا ہو،‘‘ تیسرے نے بات پوری کی۔ ’’سنتے ہیں دن بھی نکلنے کا نہیں،‘‘ چوتھے آدمی نے کہا۔ ’’یہ تم سے کس نے کہا؟‘‘ پہلا آدمی پریشان ہو کر بولا۔ ’’شہر میں ایسی افواہیں ہیں،‘‘ وہ آدمی بولا۔ ’’بھلا ایسا ہو سکتا ہے؟‘‘ دوسرے آدمی نے کہا۔ ’’ایسا نہیں ہو...

پورا پڑھیں

    جو راہِ ملاقات تھی سو جان گئے ہم اے خضر تصور ترے قربان گئے ہم جمعیت حسن آپ کی سب پر ہوئی ظاہر جس بزم میں با حال پریشان گئے ہم اس گھر کے تصور میں جوں ہی بند کیں آنکھیں صد شکر کہ بے منتِ دربان گئے ہم کل واقف کار اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات جرات کے جو گھر رات کو مہمان گئے ہم کیا جانیے کم بخت نے کیا ہم پہ کیا سحر جو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم ٭٭٭ ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیں...

پورا پڑھیں

    تجھ سے مل کر دل میں رہ جاتی ہے ارمانوں کی بات یاد رہتی ہے کسی ساحل پہ طوفانوں کی بات وہ تو کہئے آج بھی زنجیر میں جھنکار ہے ورنہ کس کو یاد رہ جاتی ہے دیوانوں کی بات کیا نہ تھی تم کو خبر اے کج کلاہانِ بہار بوئے گل کے ساتھ ہی پھیلے گی زندانوں کی بات خیر ہو میرے جنوں کی کھل گئے صدہا گلاب ورنہ کوئی پوچھتا ہی کیا بیابانوں کی بات کیا کبھی ہوتی کسی کی تو مگر اے زندگی زہر پی کر ہم نے رکھ لی تیرے دیوانوں کی بات رشتہ¿...

پورا پڑھیں

parvez45@gmail.com کہنے کی ضرورت نہیں بمبئی جسے اب ممبئی کہا جاتا ہے،محض جغرافیائی حد وں میں بندھے ہوئے زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں۔ ساڑھے تین ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا،بیس ملین سے زائد آبادی والا،سات جزیروں سے بنا ،پانی پر تیرتا یہ شہراردو فکشن کی ثروت مند روایت کا امین رہا ہے۔ ایک زمانے میں اردو افسانے کی گلیکسی ممبئی کے آسمان تلے موجود تھی۔راجندر سنگھ بیدی،کرشن چندر،سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی ،قرۃالعین حیدر، خواجہ احمد عباس ،مہندر ناتھ سے لے کر سریندرپرکاش ، محافظ حیدر ،واجدہ تبسم،جیتندر بلّو،ساگر سرحدی جیسے لکھنے والوں کے لیے ممبئی شہر...

پورا پڑھیں