Search

    زبیر رضوی جیسی متنوع شخصیت ذرا کم ہی پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جدید شعرا کی جھرمٹ کا روشن ترین ستارہ، ہندوستانی ڈراما کا ایک مستند نقاد اور محقق، اردو کی ادبی صحافت کا ایک رجحان ساز مدیر، فائن آرٹ کا مبصر اور اسپورٹس کامینٹیٹروغیرہ وغیرہ گویا ان کی شخصیت رنگوں کا ایک کولاژ تھی کہ جس کا ہر رنگ اپنی جگہ مجلا اور مکمل تھا۔ میر کے لفظوں میں کہیں تو :ــ’’پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ‘‘ زبیر صاحب کی طبیعت کا یہ تنوع جب ایک نکتے پر مرکوز ہوتا تو ’’ذہنِ جدید‘‘بن جاتا تھا۔ اس رسالے...

پورا پڑھیں

مجروح سلطانپوری(مرحوم) نے پروفیسر مغنی تبسم صاحب (مدیر شعروحکمت) کے اصرار پر اپنے پچاس اشعار منتخب کئے تھے ۔جو کسی وجہ سے شعرو حکمت میں شائع نہیں ہو پائے۔ہم قارئین ِ اردوچینل کی خدمت وہ انتخاب پیش کررہے ہیں۔ ادارہ 1 جنونِ دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے قد وگیسو سے اپنا سلسلہ دارو رسن تک ہے 2 ختم شورِ طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی دم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی 3 شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کا میں ہی اپنی منزل کا راہبر بھی راہی بھی 4 کہاں...

پورا پڑھیں

    آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے ایسی دہشت تھی فضاؤں میں کھلے پانی کی آنکھ جھپکی بھی نہیں ہاتھ سے پتوار گرے مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط یہ ستارے مرے گھر ٹوٹ کے بے کار گرے کیا ہوا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی تھی کیوں مجھے ڈھال بنانے کو یہ چھتنار گرے دیکھ کر اپنے در و بام لرز جاتا ہوں مرے ہم سایے میں...

پورا پڑھیں

خواجہ الطاف حسین حالیؔ نے اپنے یادگار’’مرثیۂ دہلی مرحوم‘‘ لکھتے وقت کہا تھا: چپّے چپّے پہ ہے یاں ، گوہریکتا تہ خاک دفن ہوگا نہ کہیں ، اتنا خزانہ ہرگز یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شمس الرحمن فاروقی ایک نا بغۂ روزگار یا Geniusہیں۔یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ عبقری ، نابغے اور جینیئس بنا نہیں کرتے بلکہ پیدا ہوتے ہیں اور یہ کام دستِ مشیّت میں ہوتا ہے۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ قسمت ، حالات ، ماحول اور ذاتی کوشش کو بھی بڑی حد تک اس میں دخل ہے۔ موضع کوریا پار ، ضلع اعظم...

پورا پڑھیں

  ناول کی کہانی مخصوص اللہ نامی ایک شخص سے شروع ہوتی ہے جوایک ماہر مصور اور شبیہ ساز(۱) تھا ۔آگے چل کر وہ نقاش(۲) اور قالین باف(۳) بھی بن گیا۔ اس کا قیام آج سے برسوں پہلے کشن گڑھ(راجپوتانہ ۔موجودہ راجستھان) کے ایک گاؤں ’’ہندل پروا‘‘ میں تھا ۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے مخصوص اللہ نے ایک لڑکی کی خیالی تصویر بنائی۔ اس تصویر میں حسن وجمال کا کوئی پہلو ایسانہ تھا جومخصوص اللہ نے باقی رکھا ہو۔تصویر تھی گویا ابھی بول پڑے گی۔ گاؤں اور آس پاس کے علا قوں کے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آئے۔تصویر مخصوص...

پورا پڑھیں

’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ شمس الرحمن فاروقی کا تخلیق کردہ ایک ایسا کوزہ ہے جس میں ناول نگار نے ہزاروں دریا سمو دیے ہیں ۔ اس شاہکار ادب پارے کو پڑھ کر اردو کے مشہور و معروف ادیب انتظار حسین نے فاروقی سے کہا تھا کہ’’ آپ آدمی ہیں کہ جن؟‘‘ یقینا مؤکل ، شمس الرحمن فاروقی کے تابع ہیں جن سے وہ جب چاہیں ، جیسا چاہیں کام لے لیتے ہیں۔ویسے تو اس ناول کی کہانی کو دراز تر کرنے میں درجنوں کردار ، مقامات ، واقعات اور حادثات سبھی شریک ہیں لیکن سب سے زیادہ نمایاں...

پورا پڑھیں

انجمن اسلام بین المدارس مقابلے برائے اساتذہ انجمن اسلام انتظامیہ کے زیرِ سرپرستی پری پرائمری، پرائمری، سکنڈری اسکولوں اور جونیئر کالجوں کے اساتذہ میں تخلیقی و تدریسی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کے فروغ کے لیے انجمن اسلام بین المدارس مقابلے برائے اساتذہ منعقد کیے گئے۔ یہ مقابلے انجمن اسلام اور بدر الدین طیب جی سیکنڈری اسکول کے احاطے میں بیک وقت منعقد کیے گئے۔ اردو، انگریزی، مراٹھی اور ہندی زبانوں میں خوش خطی و مضمون نویسی کے علاوہ مباحثہ، تدریسی لوازمات اور الفاظ کی تشکیل کے مقابلے ہوئے۔ ان مقابلوں میں سیکنڈری اسکولوں اور جونیئر کالجوں کے تقریباً تین سو...

پورا پڑھیں

  ادب کی ثروت مندی میں خواتین کی خدمات کا اعتراف ناگزیر ہے: پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی ممبئی،۲۱؍ستمبر: شعبۂ اردو ،ممبئی یونیورسٹی اور مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے باہمی اشتراک سے ’اردو ادب میں خواتین کا حصہ‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ قومی سمینار میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اردو کی معروف اسکالر اور شاعرہ پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی نے کہا کہ اردو ادب کو وقیع اور ثروت مند بنانے میں خواتین کی خدمات دو صورتوں میں نظر آتی ہیں ایک تو یہ کہ بحیثیت تخلیق کار انھوں نے نظم و نثر کے مختلف اصناف کو نئی تخلیقی جہتوں سے روشناس کیا اور...

پورا پڑھیں

  صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے   صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے میں ساعت سرشار میں لاکھوں دعائیں خوبصورت آرزوئیں پیش کرتا ہوں صبا ممنون ہے لیکن زباں ہے کچھ نہیں کہتی صبا اب روز و شب دیوار و در تن پر سجاتی ہے اب آنچل چھت کا سر پر اوڑھتی ہے لمس فرش مرمریں سے پاؤں کی تزئین کرتی ہے وہ کہساروں شگفتہ وادیوں جھرنوں چمکتے نیلگوں آکاش کے نغمے نہیں گاتی صبا اب لالہ و گل کی طرف شاید نہیں آتی صبا شبنم ادا تصویر پا بستہ در روزن میں آویزاں حسیں نازک بدن روشن منور ساحلوں پر...

پورا پڑھیں

  ایک مرتبہ کی بات ہے گیدڑ اور بھالو کی ملاقات گاﺅں کے میلے میںآسمانی جھولے میںہوئی ۔انھوں نے جھولے کا بھر پور مزہ لیا۔پوری رات انھوں نے شراب پینے ، قمار بازی اور لطیفہ گوئی میں صرف کر دی۔دوسرے دن صبح تک وہ دونوں بہت اچھے دوست بن گئے۔انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب سے وہ دونوں ساتھ ساتھ رہینگے، ساتھ کمائینگے اور ساتھ کھائینگے ۔ گیدڑ نے کہا ”میرے دوست ہم بھائی جیسے ہیں ہم الگ نہیں ہیں۔ ہم نے ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کا فیصلہ کیاہے کیوں نہ ہم ساتھ مل کر کھیتی باڑی شروع...

پورا پڑھیں