Search

انجمن اسلام بین المدارس مقابلے برائے اساتذہ انجمن اسلام انتظامیہ کے زیرِ سرپرستی پری پرائمری، پرائمری، سکنڈری اسکولوں اور جونیئر کالجوں کے اساتذہ میں تخلیقی و تدریسی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کے فروغ کے لیے انجمن اسلام بین المدارس مقابلے برائے اساتذہ منعقد کیے گئے۔ یہ مقابلے انجمن اسلام اور بدر الدین طیب جی سیکنڈری اسکول کے احاطے میں بیک وقت منعقد کیے گئے۔ اردو، انگریزی، مراٹھی اور ہندی زبانوں میں خوش خطی و مضمون نویسی کے علاوہ مباحثہ، تدریسی لوازمات اور الفاظ کی تشکیل کے مقابلے ہوئے۔ ان مقابلوں میں سیکنڈری اسکولوں اور جونیئر کالجوں کے تقریباً تین سو...

پورا پڑھیں

  ادب کی ثروت مندی میں خواتین کی خدمات کا اعتراف ناگزیر ہے: پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی ممبئی،۲۱؍ستمبر: شعبۂ اردو ،ممبئی یونیورسٹی اور مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے باہمی اشتراک سے ’اردو ادب میں خواتین کا حصہ‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ قومی سمینار میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اردو کی معروف اسکالر اور شاعرہ پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی نے کہا کہ اردو ادب کو وقیع اور ثروت مند بنانے میں خواتین کی خدمات دو صورتوں میں نظر آتی ہیں ایک تو یہ کہ بحیثیت تخلیق کار انھوں نے نظم و نثر کے مختلف اصناف کو نئی تخلیقی جہتوں سے روشناس کیا اور...

پورا پڑھیں

  صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے   صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے میں ساعت سرشار میں لاکھوں دعائیں خوبصورت آرزوئیں پیش کرتا ہوں صبا ممنون ہے لیکن زباں ہے کچھ نہیں کہتی صبا اب روز و شب دیوار و در تن پر سجاتی ہے اب آنچل چھت کا سر پر اوڑھتی ہے لمس فرش مرمریں سے پاؤں کی تزئین کرتی ہے وہ کہساروں شگفتہ وادیوں جھرنوں چمکتے نیلگوں آکاش کے نغمے نہیں گاتی صبا اب لالہ و گل کی طرف شاید نہیں آتی صبا شبنم ادا تصویر پا بستہ در روزن میں آویزاں حسیں نازک بدن روشن منور ساحلوں پر...

پورا پڑھیں

  ایک مرتبہ کی بات ہے گیدڑ اور بھالو کی ملاقات گاﺅں کے میلے میںآسمانی جھولے میںہوئی ۔انھوں نے جھولے کا بھر پور مزہ لیا۔پوری رات انھوں نے شراب پینے ، قمار بازی اور لطیفہ گوئی میں صرف کر دی۔دوسرے دن صبح تک وہ دونوں بہت اچھے دوست بن گئے۔انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب سے وہ دونوں ساتھ ساتھ رہینگے، ساتھ کمائینگے اور ساتھ کھائینگے ۔ گیدڑ نے کہا ”میرے دوست ہم بھائی جیسے ہیں ہم الگ نہیں ہیں۔ ہم نے ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کا فیصلہ کیاہے کیوں نہ ہم ساتھ مل کر کھیتی باڑی شروع...

پورا پڑھیں

ٰٓ ایک شہزادے کو اپنے نائی کی باتیں بہت پسند تھیں۔ہر صبح نائی اس کی داڑھی بنانے آیا کرتا تھااور داڑھی بناتے وقت وہ مختلف قسم کی باتیں کرتا تھا۔ جو کچھ وہ شہر والوں کے منہ سے سنتا آکر کہہ دیتا ۔ لیکن نائی کو شاہی پادری بالکل بھی پسند نہیں تھا جسے دربار کا ہر شخص عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا تھا ۔یہ بات نائی کو بہت نا خوشگوار گزرتی تھی جسے وہ برداشت نہیں کرسکتا تھا ۔لہٰذا  اس نے پادری سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک منصوبہ بنایا ۔ ایک دن صبح جب وہ شہزادے...

پورا پڑھیں

  ایک مرتبہ کی بات ہے ایک آدمی کا گزر پٹن سلطنت (موجودہ للت پور)سے ہوا۔ وہاں وہ رگھو نام کے آدمی کو دیکھ کر بہت حیران ہو اجو تیل نکالنے والی میل میں جانوروں کی طرح پہئے کو گول گول گھما رہا تھا۔ مسافر نے پوچھا ” تم کب تک اسے یوں ہی گھماتے رہو گے؟“ رگھو نے جواب دیا ۔” فکر مت کرومیر ے دوست کل سب بدل جائے گا!“ کچھ دنوں بعد مسافرکا دوبارہ اسی جگہ سے گزر ہوا۔اس بار وہ پہلے سے اور زیادہ حیران ہوگیا وہی رگھو جسے تیل کی میل میں جانوروں کی طرح...

پورا پڑھیں

اصلی نام محمد حیدر خان تھا اورتخلص خمار۔ 19 ستمبر 1919 کو بارہ بنکی (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ نام کے ساتھ بارہ بنکوی اسی مناسبت سے تھا۔ 19 فروری 1999 کو بارہ بنکی میں انتقال کر گئے۔ 1 نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے ترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے ارے او جفاؤں پہ چپ رہنے والو خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے مرے راہبر مجھ...

پورا پڑھیں

  نوح ناروی : (18 ستمبر، 1879ء – 10 اکتوبر، 1962ء ) –  مشہور کہنہ مشق شاعر، داغ دہلوی کے جانشین تھے۔ ان کی ولادت  ریاست اترپردیش ، رائے بریلی ضلع، سلون تحصیل کے بھوانی پور گاؤں میں ہوئی، جو ان کا نانہال تھا۔ نانا کا نام شیخ علم الہدیٰ صاحب تھا اور آپ یہیں پیدا ہوئے۔ تعلیم مختلف حضرات سے پائی جن میں اہم نام حافظ قدرت علی صاحب و مولوی یوسف علی صاحب ۔ بعد ازاں حاجی عبدالرحمن صاحب جائسی کے پاس تعلیم حاصل کی۔ فارسی اور عربی تعلیم کے لئے میر نجف علی صاحب استاذ رہے۔ آپ کو...

پورا پڑھیں

کلیم الدین احمد(1907ئ-1983ئ)کی تنقیدی تحریر کا باضابطہ آغاز1939ء میں گل نغمہ کے مقدمہ سے ہوا۔اسی مقدمہ میں ان کی زبان قلم سے رسوائے زمانہ جملہ غزل نیم وحشی صنف شاعری ہے  منظر عام پر آیا۔ اس بیان کی کلیدی وجہ یہ بتائی گئی کہ غزل میں ربط،اتفاق اورتکمیل کا فقدان ہے ،جس کے باعث تہذیب یافتہ ذہن کو لطف اور نہ تربیت یافتہ تخیل کو سرور حاصل ہے ۔ گل نغمہ کے تقریباً ایک سال بعد ان کی دوسری مشہور کتاباردو شاعری پر ایک نظر1940ء میں مشتہر ہوئی۔یہ کتاب در اصل شاعری کے مختلف اصناف کی تنقید پر مبنی ہے...

پورا پڑھیں

  گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں کانٹوں پہ چلے لیکن ہونے نہ دیا ظاہر تلووں کا لہو دھویا چھپ چھپ کے اکیلے میں اے داور محشر لے دیکھ آئے تری دنیا ہم خود کو بھی کھو بیٹھے وہ بھیڑ تھی میلے میں خوشبو کی تجارت نے دیوار کھڑی کر دی آنگن کی چنبیلی میں بازار کے بیلے میں 2 تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے تمہیں بھلانے میں...

پورا پڑھیں