Search

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیرؔ اور میں کہوں ان سے حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ 2 ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی آسماں کیسے...

پورا پڑھیں

  میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو دن ایک ستم ,ایک ستم رات کرو ہو وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو ہم کو جو ملا ہے وہ تمہیں سے تو ملا ہے ہم اور بھلا دیں تمہیں کیا بات کرو ہو یوں تو کبھی منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی...

پورا پڑھیں

ذاکر:نِدا صاحب کشمیر کے ساتھ آپ کے بڑے دیرینہ مراسم رہے ہیں، آپ شاید فاضلی سادات میں سے ہیں اور وہ بھی کشمیری فاضلی،آپ کو شاید علم ہوگا کہ برج ناراین چکبستؔ،اقبالؔ، منٹوؔ،کرشن چندر، مہندر ناتھ ، سہگل،ملکہ پکھراج، اُستاد بسم اﷲ خان، راما نند ساگر، جیون ، راج کمار بھی ایسے ہی کسی خاموش تعلق سے کشمیری رہے ہیں،بہرحال آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟ ندا فاضلی:کچھ سال قبل ایک سیرئیل آیا تھا جس کا نام سیلاب تھا اور اُس کے ڈائریکٹر روی رائے تھے۔اُس میں ایک ٹائٹل گیت بھی تھا جس کا ایک شعر یوں تھا کہ وقت...

پورا پڑھیں

  کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو جہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا کہاں چراغ جلائیں کہاں گلاب رکھیں چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکاں نہیں ملتا یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیں زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا چراغ جلتے ہیں بینائی بجھنے لگتی ہے خود اپنے گھر میں ہی گھر کا نشاں نہیں ملتا कभी किसी को मुकम्मल जहाँ नहीं मिलता कहीं ज़मीन कहीं आसमाँ नहीं मिलता तमाम शहर में ऐसा नहीं ख़ुलूस न हो...

پورا پڑھیں

  ہم عالمی بستی کے لوگ ہیں۔ گلوبل ولیج بن گئی ہے دنیا ہماری۔ بڑی بحث تھی اس موضوع پر ، بڑا شور تھا گلوبلائزیشن پر ، مگر اب نہیں ہے۔ اب ہم گلوبلائزیشن کے ساتھ جینا سیکھ رہے ہیں۔ پہلے ڈر رہے تھے ، اب تربیت لے رہے ہیں۔ گلوبلائزیشن والے کہتے ہیں کہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کمال ہے کہ دنیا سب کے لیے ایک جیسی ہوگئی ہے۔ تبدیلی ٹیکنالوجی کے ساتھ آئی ہے، معاشی بھی اور اخلاقی بھی۔ کلوننگ، کمپیوٹر، سیٹیلائٹ اور بہت سی ٹیکنالوجی لے کے آئی ہے مابعد جدیدیت ۔ گلوبلائزیشن بھی اسی کا نتیجہ...

پورا پڑھیں

بمبئی بچپن سے میرے خوابوں میں بسا ہوا تھا۔ یہ خواب میرے ساتھ جوان ہوا اور میں نگینہ سے نکل کر اور دو سال دہلی کے دفتروں کی خاک چھان کر بالآخر اپنے بچپن کے خوابوں کے شہر بمبئی پہنچ گیا۔ اسٹیشن کی بھیڑ کو چیرتا ہوا جب میں باہر نکلا تو بوری بندر پر انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھ کر آنکھیں کھلی رہ گئیں ۔میں نے جیب سے پتے کا پرچہ نکال کر وکٹوریہ والے سے کہا کہ کھڑک پر زینب چیمبرس چلو ۔ وکٹوریہ میں بیٹھتے ہی دہلی اور بمبئی کا فرق واضح ہوگیا۔ وکٹوریہ کرافورڈ...

پورا پڑھیں

  میں ضلع بستی کے ایک دور افتادہ گائوں میں ، جو میرا مولد و مسکن بھی ہے، گرمی کی چھٹیاں گزار رہا تھا۔۔۔۔۔چھٹیاں کیا گزار رہا تھا اپنے مستقبل کے عنوانات طے کر رہا تھا کہ یکایک پہلی اپریل کو محلے کا ایک طالب علم دوڑتا ہوا آیا اور اس نے ریڈیو کی وہ خبر دہرائی جو خواجہ صاحب کی شدید علالت سے متعلق تھی ۔ میں ابھی چند ماہ پہلے تک خواجہ صاحب کے ساتھ ممبئی میں رہ چکا تھا، جب خواجہ صاحب کے عزم اور ان کی قوت ارادی کا تصور کیا تو خبر کچھ مبالغہ آمیز...

پورا پڑھیں

    زبیر رضوی جیسی متنوع شخصیت ذرا کم ہی پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جدید شعرا کی جھرمٹ کا روشن ترین ستارہ، ہندوستانی ڈراما کا ایک مستند نقاد اور محقق، اردو کی ادبی صحافت کا ایک رجحان ساز مدیر، فائن آرٹ کا مبصر اور اسپورٹس کامینٹیٹروغیرہ وغیرہ گویا ان کی شخصیت رنگوں کا ایک کولاژ تھی کہ جس کا ہر رنگ اپنی جگہ مجلا اور مکمل تھا۔ میر کے لفظوں میں کہیں تو :ــ’’پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ‘‘ زبیر صاحب کی طبیعت کا یہ تنوع جب ایک نکتے پر مرکوز ہوتا تو ’’ذہنِ جدید‘‘بن جاتا تھا۔ اس رسالے...

پورا پڑھیں

مجروح سلطانپوری(مرحوم) نے پروفیسر مغنی تبسم صاحب (مدیر شعروحکمت) کے اصرار پر اپنے پچاس اشعار منتخب کئے تھے ۔جو کسی وجہ سے شعرو حکمت میں شائع نہیں ہو پائے۔ہم قارئین ِ اردوچینل کی خدمت وہ انتخاب پیش کررہے ہیں۔ ادارہ 1 جنونِ دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے قد وگیسو سے اپنا سلسلہ دارو رسن تک ہے 2 ختم شورِ طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی دم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی 3 شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کا میں ہی اپنی منزل کا راہبر بھی راہی بھی 4 کہاں...

پورا پڑھیں

    آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے ایسی دہشت تھی فضاؤں میں کھلے پانی کی آنکھ جھپکی بھی نہیں ہاتھ سے پتوار گرے مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط یہ ستارے مرے گھر ٹوٹ کے بے کار گرے کیا ہوا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی تھی کیوں مجھے ڈھال بنانے کو یہ چھتنار گرے دیکھ کر اپنے در و بام لرز جاتا ہوں مرے ہم سایے میں...

پورا پڑھیں