Search

اردو ادب میں قلمکار خواتین کی پذیرائی جی کھول کر اور بانہیں پھیلا کر کی گئی ہے مگر اس کے لیے ان خواتین کا بے باک ہونا شرطِ اول ہے۔ عصمت لحاف سے باہر نکل کر ٹیڑھی لکیر پر چل پڑتی ہیں۔ رشید جہاں انگارے ہاتھوں میں لینے کا حوصلہ رکھتی ہیں وہیں انھی انگاروں سے فہمیدہ اور رضیہ سجاد ظہیر کے ساتھ ساتھ یکے از زیدیان اپنے سگریٹ سلگاتی ہیں اور ان کا ساتھ دینے میں تسلیمہ ’’لجا‘‘ محسوس نہیں کرتیں۔ کشور کشائی میں اک غیرت ناہید نے اپنی بری کتھا لکھنے میں کوئی عار نہیں سمجھا ، یا...

پورا پڑھیں

گزشتہ روز غالب اکیڈمی نئ دہلی میں حکیم عبدالحمید یاد گاری لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر پروفیسر قاضی جمال حسین نے اقبال اور دانش مغرب کے عنوان سے لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ آج دنیا مادہ پرستی میں گرفتار ہے ۔علامہ اقبال کا پورازور مادہ پرستی کے خلاف ہے ۔علامہ اقبال کی ساری کوشش اسی کے لیے ہے کہ کس طریقہ سے مادہ پرستی کو زر پرستی کو کیسے روکا جائے ۔وہ یوروپ گئے وہاں زندگی گزاری وہاں کے رنگ ڈھنگ کو دیکھا وہاں کے مفکرین سے ملے وہاں کی اچھائیوں کے ساتھ وہاں کی برائیوں پر بھی...

پورا پڑھیں

بہت عرصے کی بات ہے۔ ایک گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ یوں تو وہ ہر لحاظ سے خوش حال رہتا تھا کیونکہ اس کا کھیت وسیع تھا اور فصل ہمیشہ عمدہ ہوتی تھی لیکن بیوی کی وجہ سے اس کا ناک میں دم رہتا تھا۔ وہ بہت ہی ضدی اور ہٹ دھرم تھی اور ہمیشہ الٹی بات سوچتی تھی۔ اسی لیے گائوں کے سب ملنے جلنے والوں نے اس کا نام ” الٹی کھوپڑی“ رکھ دیا تھا۔ جب وہ گھر سے باہر نکلتی تو بچے اسی نام سے پکار کر اسے پکارتے اور جب وہ مارنے کے لیے...

پورا پڑھیں

ایک بار بدھاتا نے جو ہر کسی کے ماتھے پر چاہے وہ بچہ ہو یا بچی ، پیدائش کے وقت اس کی قسمت لکھ دیتا ہے ، کسی غریب برہمن کی قسمت میں کچھ عجیب سی تباہی لکھ دی۔ کبھی جی بھر کے نہ کھانا اس کا مقدر بن گیا۔ جب بھی وہ اپنا آدھا بھات کھا چکتا تو ہمیشہ ایسی کوئی نہ کوئی رکاوٹ آجاتی کہ وہ اور نہ کھاپاتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ اس کے پاس راجہ کے گھر سے بلاوا آیا۔ وہ بہت ہی خو ش ہوا اور اپنی بیوی سے بولا۔’’ میں تو بس اپنا...

پورا پڑھیں

بہت پرانے وقتوں کی یہ بات ہے کہ ایک بہت شاداب سے گاؤں میں دو میاں بیوی رہتے تھے جن کا کوئی بچہ نہ تھا۔ وہ ہر وقت خدا سے یہی دعا کرتے رہتے کہ خدا انہیں اولاد دے۔ ایک دن کیا ہوا کہ وہ عورت شوربے کی پیالی ہاتھ میں لیے جا رہی تھی کہ پیالی میں سے مٹر کا ایک دانہ اچھلا اور تندور میں جا گرا۔ تندور میں گرتے ہی وہ مٹر کا دانہ ایک خوبصورت اور نٹ کھٹ سی بچی بن گیا۔ اسی اثنا میں اس کی ایک پڑوسن جو ہر وقت اس کا دماغ کھاتی...

پورا پڑھیں