Search

زیر مطالعہ عنوان گفتگو یعنی ’’ تصوف اور سائنس‘‘ بظاہر مفکر یگانہ مہد ی افادی کے الفاظ میں ’’ گول چیز میں چوکھنٹی ‘‘ کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔یعنی دو متضاد چیزوں کا یکجا ہونا یا بقول امام الہند مولانا ابولکلام آزادعلمی اصطلاح میں ’’اجتماع النقیضین‘‘ ۔ تصوف کا موضوع خالص روحانیت ہے جب کہ سائنس کا نقطۂ پرکار مادیت ہے۔ اگر ہم اپنے زاویۂ نظر کو عالی ظرفی ، وسیع النظری اور باریک بینی سے اپنی نگاہوں کے سامنے لائیں اور قدرے عمیق نظر سے دیکھیں تو ہم بھی شاید اس عالم طلائی کی خیالی دنیا کا جلوہ دیکھ...

پورا پڑھیں

One of the most famous Turkish Islamic scholars of the last century was Said Nursi. Nursi, who had a great influence on Turkish people, wrote over 50 books and spent most of his life behind bars. Today, his teachings are admired by Turkey’s young generation and millions of Muslims all over the world. Nursi was born in 1877 in eastern Turkey. Bediuzzaman displayed an extraordinary intelligence and ability to learn from an early age, completing the normal course of religious school education by the age of fourteen, when he obtained his diploma. He became famous for both his excellent memory...

پورا پڑھیں

Brief history of ghazal Though Ghazal has the historical baggage of clashes and conflicts on its back, No other form of any literature of the world is as popular as ghazal, because it has been continuously written in five different languages of the world viz. Arabic Persian, Turkish, Hebrew and Urdu. All those poets who have tried this genre, gained prominence in their respective societies It was said that During the early Islamic era (622-661), there were no substantial changes in poetic practice. The pre-Islamic tradition continued more or less as it was, except that the writing of shorter poems...

پورا پڑھیں

The fundamental source of doctrinal teachings in Islam is based on the infallible revelation (wahy) of Allah, subhanahu wa ta’ala, revealed to the last Messenger and Seal of the Prophets, Muhammad ibn ‘Abd Allah ibn Abd alMuttalib, salla Allahu ‘alayhi wa sallam (S), as codified in Islam’s sacred text, al-Qur’an al Karim. For simplicity, the Qur’an can be thought of as the Law and the Constitution, which sets out the fundamental blueprint and the theological foundation of the faith (Islam) and the Muslim way of life (Din). The second source of Islamic tenets and ordinances is based on the Prophetic...

پورا پڑھیں

بیسویں صدی تاریخ کی سب سے زیادہ پُر تشدد صدی تھی۔اکیسویں صدی کے شانوں پر اسی روایت کا بوجھ ہے۔جسمانی تشدد سے قطع نظر ،بیسویں صدی نے انسان کو تشدد کے نت نئے راستوں پر لگا دیا۔تہذیبی ،لسانی ،سیاسی ،جذباتی تشدد کے کیسے کیسے مظہر اس صدی کی تہہ سے نمودار ہوئے۔حد تو یہ ہے کہ اس صدی کی اجتماعی زندگی کے عام اسالیب تک تشدد کی گرفت سے بچ نہ سکے ۔اس عہد کی رفتار، اس کی آواز،اس کے آہنگ اور فکر ، ہر سطح پر تشدد کے آثار نمایاں ہیں۔میلان کنڈیرا کا خیال ہے کہ یہ صدی دھیمے...

پورا پڑھیں

Said Nursi is the most influential Islamic scholar in modern Turkish history by his intellectual contribution pertaining to his spectacular and very dynamic view point in education, peace and harmony.Throughout his epoch making lifetime (1876-1960), he strived hard to disseminate the Islamic ideology and values by taking down a lot of books and delivering historic speech in front of a wider audience. Although he was imprisoned, starved and tortured by the secular government of Turkey for more or less twenty five years for his writing about Islam encouraging its practice, which was declared to be a crime against state, Nursi...

پورا پڑھیں

Positive action does not mean, as some people imagine, the passive and inactive way of life. Basically, positive action and attitude is all about deriving a solution from the core of the problem, finding a way where there is apparently no way and having a larger ground of thought where common person is stuck with narrow one. In short, positive attitude leads a person to self-control, calmness and hope, and a person with positive attitude keeps working for a better solution and brighter future always. In the Islamic tradition, so many Muslims down through the centuries have reflected and commented...

پورا پڑھیں

کہنے کو بہت کچھ تھا، کہنے کو بہت کچھ ہے۔ ہر دور کی اپنی ایک مخصوص پہچان ہوتی ہے۔ ایک مزاج جو اس دور کی شناخت بن جاتا ہے۔ کسی بھی مخصوص دور کے مزاج کا اندازہ صرف اُس عہد سے متعلق لکھی گئی تاریخی کتابوں سے نہیں لگایا جاسکتا بلکہ ہر دور کے سچے احساسات اور واقعات کو سمجھنے کے لیے سوانحی خود نوشت کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ اردو ادب میں سوانح نگاری کی روایت طویل ہے۔ عبدالمجید سالک کی ’’سرگزشت‘‘ ، سر اختر رضا علی کے ’’اعمال نامہ‘‘ ، جوش ملیح آبادی کی ’’یادوں کی برات‘‘ ،...

پورا پڑھیں

ہماری چند لوگوں سے بات چیت میں یہ عجیب سا انکشاف ہوا کہ اردو والے ہوکر بھی اردو زبان جس رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اس کا وہ نام نہیں جانتے۔ ہمیں حیرت ہوئی۔ کچھ لوگوں نے سادہ طور پر یہ ضرور کہا کہ اسے ’’اردو‘‘ میں یا پھر ’’کتابت‘‘ میں لکھا جاتا ہے۔ ہمیں اس عدم توجہی پر رونا بھی آیا۔ اصل میں بہت سے تہذیبی و ثقافتی عوامل کے زیرِ اثر ہم لوگ اتنی دور تک سفر کرچکے ہیں کہ اردو کی اپنی روایات ہم سے میلوں پیچھے چھوٹ گئی ہیں۔ اسی میں خوش خطی بھی شامل...

پورا پڑھیں

ہندوستان کی سرزمین ہمیشہ سے مذہبی اورروحانی عظمت کی حامل رہی ہے ۔ یہاں مختلف مذاہب کے رشی منی اورصوفی سنتوں نے تصوف اوربھکتی کی تعلیمات کو عام کرنے میں اہم کرداراداکیاہے ۔ہندودھرم کے رشی منی اورسنت نے عبادت وریاضت کے علاوہ نفس کشی میں سرگرم عمل رہے۔بدھ دھرم اورسکھ مذہب کی اشاعت اور تعلیمات بھی ہندوستان ہی سے شروع ہوئیں ۔ مسلمان صوفی اوربزرگان دین نے بھی اسی دیارِ ہند کو اپنی رشدوہدایت ، اخلاص ومحبت کی تعلیم وترویج کے لیے پسندکیا۔ مذہب ِ اسلام جنوبی ہندوستان میں پہلے پہل ملابار کے ساحلی علاقوں میں پھیلا۔ اِنھیں ابتدائی ایام...

پورا پڑھیں