Search

    ان دنوں وہ ادھر نہیں آتا اپنا جینا نظر نہیں آتا گھر بہ گھر تو پڑا پھرے ہے تو آہ کیوں میرے گھر نہیں آتا قاصد اس بے وفا سے یوں کہنا لکھ تو کچھ بھیج گر نہیں آتا گو کہ رہتا ہے یہ جرس نالاں میرے نالوں سے پر نہیں آتا یار راتوں کو تیرے کوچے میں کب یہ خستہ جگر نہیں آتا کس لئے جوشش اتنی نالہ کشی کچھ اثر تو نظر نہیں آتا ٭٭٭ حال اب تنگ ہے زمانے کا رنگ بے رنگ ہے زمانے کا نہیں کوتاہ اس کا دست طلب یہ گدا ننگ...

پورا پڑھیں

    عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا نپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہوا خطا سے اس کی نہیں نام کو غبار ملال میں رو رو ڈالا ہے سب دل سے دھو ہوا سو ہوا ہنسے ہے دل میں یہ نا دردمند سب سن سن تو دکھ کو عشق کے اے دل نہ رو ہوا سو ہوا ستم گرو جو تمہیں رحم کی ہو کچھ توفیق ستم کی اپنے تلافی کرو ہوا سو ہوا تو کون ہے کہ ہو ملنے سے غیر کے مانع دل اس کو ہاتھ سے اپنے نہ کھو...

پورا پڑھیں

  زندگی شکل خواب کی سی ہے موج گویا سراب کی سی ہے کہہ صبا وہ کھلی ہے زلف کہاں تجھ میں بو مشک ناب کی سی ہے گھر میں آنے سے اس پری رو کے روشنی ماہتاب کی سی ہے کیوں نہ دیوانہ اس بدن کا ہوں جس میں خوشبو گلاب کی سی ہے کچھ نہ کچھ رات شغل میں گزری آج صورت حجاب کی سی ہے کیوں چھپاتا ہے شب کی بے خوابی بو دہن میں شراب کی سی ہے میری نظروں میں تیرے بن ساغر شکل چشم پر آب کی سی ہے میرا ہم سایہ سوچتا تھا...

پورا پڑھیں

  آتا ہے صبح اٹھ کر تیری برابری کو کیا دن لگے ہیں دیکھو خورشید خاوری کو دل مارنے کا نسخہ پہونچا ہے عاشقوں تک کیا کوئی جانتا ہے اس کیمیا گری کو اس تند خو صنم سے ملنے لگا ہوں جب سے ہر کوئی جانتا ہے میری دلاوری کو اپنی فسوں گری سے اب ہم تو ہار بیٹھے باد صبا یہ کہنا اس دل ربا پری کو اب خواب میں ہم اس کی صورت کو ہیں ترستے اے آرزو ہوا کیا بختوں کی یاوری کو ٭٭٭ فلک نے رنج تیر آہ سے میرے زبس کھینچا لبوں تک دل سے...

پورا پڑھیں

  ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے دنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووے شمشیر کوئی تیز سی لینا مرے قاتل ایسی نہ لگانا کہ مرا کام نہ ہووے گر صبح کو میں چاک گریبان دکھاؤں اے زندہ دلاں حشر تلک شام نہ ہووے آتا ہے مری خاک پہ ہم راہ رقیباں یعنی مجھے تربت میں بھی آرام نہ ہووے جی دیتا ہے بوسہ کی توقع پہ فغاںؔ تو ٹک دیکھ لے سودا یہ ترا خام نہ ہووے ٭٭٭ ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا وہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کا اس ہستئ...

پورا پڑھیں

  تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے کہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہے لب شیریں چھپے نہیں رنگ پاں سیں نہاں منقار طوطی میں شکر ہے کیا ہے بے خبر دونوں جہاں سیں محبت کے نشے میں کیا اثر ہے ترا مکھ دیکھ آئینا ہوا ہے تحیر دل کوں میرے اس قدر ہے تخلص آبروؔ بر جا ہے میرا ہمیشہ اشک غم سیں چشم تر ہے ٭٭٭ آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے دل دوانہ ہو گیا ہے دیکھ یہ صبح بہار رسمسا پھولوں...

پورا پڑھیں

  نہ کوئی دوست اپنا ، یار اپنا ، مہرباں اپنا سناو¿ں کس کو غم اپنا ، الم اپنا ، فغاں اپنا نہ طاقت ہے اشارے کی ، نہ کہنے کی ، نہ سننے کی کہوں کیا میں ، سنوں کیا میں ، بتاو¿ں کیا بیاں اپنا بہت چاہا کہ آوے یا ر ، یا اس دل کو صبر آوے نہ یار آیا ، نہ صبر آیا ، دیا جی میں نداں اپنا قفس میں بند ہیں ، بے بال و پر ہیں ، سخت بے پر ہیں نہ گلشن دیکھ سکتے ہیں ، نہ اب وہ آشیاں اپنا ہوا...

پورا پڑھیں

    خیال چھوڑ کہ دنیا ہے خواب کی مانند تمام خوبی ہے اوسکی سراب کی مانند نہ کھو تو عمر کوں غفلت میں عیشِ دنییا سیں کہ روز و شب ہے یہ دھوکا سراب کے مانند اگر جو موجِ حوادث کی ہے خبر تجھ کوں نہ کھول چشمِ طرب کوں حباب کی مانند لیا ہے دل کے کبوتر کوں گھیر کر میرے تیری دو چشمِ سیہ نے عقاب کی مانند زبس کہ ہجر میں اوس گل بدن کے روتے ہیں نین سے جاری ہیں انجھواں گلاب کی مانند ٭٭٭ اگر نسیم ہو قاصد رواں کروں کاغذ وہ گل بدن...

پورا پڑھیں

    دنیا کی ہر قدیم و جدید زبان کا شعری و نثری ادب اور آرٹ کے سبھی اسکول تذکرۂ حسن وجمال سے بھرے پڑے ہیں ۔زبان خواہ ادب کی ہو یا رنگ ونور کی موسیقی کی ہو یا رقص وسرود کی ، بہر حال کسی نہ کسی شکل و صورت میں نمائش و اظہار حسن وجمال سے عاری نہیں ہے۔اس نمائش واظہار کے طریقے اور مظاہر گونا گوں ہیں۔شرط یہ ہے کہ دیکھنے والی آنکھیں ، سننے والے کان، محسوس کرنے والادل اور سمجھنے والا دماغ ہو۔ ’’جمالیات‘‘ نسبتاََ ایک قدرے جدید اصطلاح ِ ادب سمجھی جاتی ہے لیکن...

پورا پڑھیں

  کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے وہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئے اے شوق نظارہ کیا کہئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں اے ذوق تصور کیا کیجے ہم صورت جاناں بھول گئے اب گل سے نظر ملتی ہی نہیں اب دل کی کلی کھلتی ہی نہیں اے فصل بہاراں رخصت ہو ہم لطف بہاراں بھول گئے سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے یہ اپنی وفا کا عالم ہے اب ان...

پورا پڑھیں