Search

1 پیہم موجِ امکانی میں اگلا پاؤں نئے پانی میں صفِ شفق سے مرے بستر تک ساتوں رنگ فراوانی میں بدن، وصال آہنگ ہَوا سا قبا، عجیب پریشانی میں کیا سالم پہچان ہے اُس کی وہ کہ نہیں اپنے ثانی میں ٹوک کے جانے کیا کہتا وہ اُس نے سُنا سب بے دھیانی میں یاد تری، جیسے کہ سرِ شام دُھند اُتر جائے پانی میں خود سے کبھی مِل لیتا ہوں میں سنّاٹے میں، ویرانی میں آخر سوچا دیکھ ہی لیجے کیا کرتا ہے وہ من مانی میں ایک دِیا آکاش میں بانی ایک چراغ سا پیشانی میں *** 2...

پورا پڑھیں

تاریخ کی اواراق گرداری کرنے پر ہندوستان کے تناظر میں بہت سی شخصیات ابھرتی ہیں جنھوں نے وطن مالوف کے لیے گراں قدر خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں جن کو نظرانداز و فراموش کردینا وطن عزیز کا بڑا خسارہ ہے۔ ان شخصیات میں بابائے قوم مہاتما گاندھی، اسیر مالٹا مولانا محمود حسن، اسیر کالا پانی علامہ فضل حق خیرآبادی، عظیم داعی مفکر و مجاہد آزادی مولانا حسین احمد مدنی، عظیم مجاہد آزادی بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی، مولانا حفظ الرحمن، مولانا محمد علی جوہر، سردار پٹیل، نیتاجی سبھاش چندر بوس ہیں۔ اور بھی شخصیات ہیں صفحات کی تنگ...

پورا پڑھیں

میرا  ہرگز یہ منصب نہیں کہ میں ادبی تحقیق کے موضوع پر لب کشائی کروں، اور وہ بھی محققین کے مجمعے میں، جو اس کام میں مصروف ہیں اور شاید پہلے بھی تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔  بیشک اہم اور بزرگ محققین کی کمی کے باعث قرعۂ فال مجھ دیوانے کے نام پڑ گیا ہے۔لہٰذا چند باتیں اپنی محدود استعداد کے مطابق عرض کرتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ کہ اردو میں جو تحقیق آج کل ہورہی ہے، یا تحقیق کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں جس زمانے میں یونیورسٹی کا طالب...

پورا پڑھیں

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر نظم حسرتؔ میں کچھ مزا نہ رہا اس شعر کو پڑھ کر ہی بیسویں صدی کے مایہ ناز انشاپرداز، صحافی اور سیاست داں ــــمحی الدین ابولکلام آزاد کے اسلوب تحریر اور طرز نگارش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔مولانا آزاد جہاں ہندوستا نی سیاست میں صف اول کے لوگوں میں قیادت کے منصب پر فاــئزتھے وہیں نثر نگاری ،خطابت اور انشاپردازی میں بھی اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے ۔ نثر کے باب میں ان کی شناخت منفرد اسلوب اور طرز تحریر کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا رشید احمد صدیقی جیسے ادیب اور ناقد...

پورا پڑھیں

ہر دور میں وقت اور حالات کے مد نظر دانشورانہ فکر کے حامل افراد پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی عمل ہے لہٰذا کسی بھی دور میں دانشورانہ فکر کے حامل افراد کا موجود ہونا اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ ان افراد کی سوسائٹی کے تئیں سپردگی اور وابستگی کا جذبہ۔مولانا ابو الکلام آزاد کی دانشورانہ فہم و فراست کی عظمت کا راز یہی ہے کہ ان کا سارا علم و تدبر سماج کے لیے وقف تھا۔ مولانا آزاد مکہ معظمہ کے محلہ دارالسلام میں 1888ء میں پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی عمر میں ایک رسالہ ’لسان الصدق‘...

پورا پڑھیں

شمس الرحمن فاروقی کے درج ذیل نتائج، افکار اور تجاویز نہ صرف شعرا کے لیے کیمیا اثر ہیں بلکہ شعر و ادب کے ہر سنجیدہ طالب عالم کے لیے بھی یہ رہنما اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔ فاروقی صاحب کی یہ تحریر ان کی مشہور تصنیف “تنقیدی افکار” سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ اصل فہرست طویل ہے جسے سلسلہ وار پڑھنے کی تلقین صاحب کتاب نے کی ہے لیکن تنگیِ صفحات اور طلبہ کی ضرورتوں کے مد نظر ، میں اس کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔ 1۔ موزوں، ناموزوں سے بہتر ہے۔ (الف)چونکہ نثری نظم میں موزونیت ہوتی ہے، اس...

پورا پڑھیں

غیر زبانوں کے جو لفظ کسی زبان میں پوری طرح کھپ جاتے ہیں، انھیں ‘‘دخیل’’ کہا جاتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ صرف اور نحو کے اعتبار سے دخیل لفظ اور غیر دخیل لفظ میں کوئی فرق نہیں۔جب کوئی لفظ ہماری زبان میں آگیا تو وہ ہمارا ہوگیا اور ہم اس کے ساتھ وہی سلوک روا رکھیں گے جو اپنی زبان کے اصلی لفظوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں، یعنی اسے اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق اپنے رنگ میں ڈھال لیں گے اور اس پر اپنے قواعد جاری کریں گے۔ لہٰذا یہ بالکل ممکن ہے کہ کسی دخیل لفظ...

پورا پڑھیں

چچی ایک دو بار نہیں بیسیوں مرتبہ چچا چھکن سے کہہ چکی ہیں کہ” باہر تمھارا جو جی چاہے کیا کرو مگر خدا کے لیے گھر کے کسی کام میں دخل نہ دیا کرو۔آپ بھی ہلکان ہوتے ہو ،دوسروں کو بھی ہلکان کرتے ہو۔سارے گھر میں ایک ہڑ بڑ ی سی پڑ جاتی ہے، میرا دم الجھنے لگتا ہے اور پھر تمھارے کام میں ،میں نے نقصان کے سوا کبھی فائدہ ہوتے بھی تو نہیں دیکھا۔تو ایسا ہاتھ بٹانا بھلا میرے کس کام کا؟“ چچا اس قدر ناشناسی سے کھج جاتے ہیں۔ چڑ کر کہتے بھی ہیں۔”بھلا صاحب کان ہوئے...

پورا پڑھیں

مترجم قاسم ندیم آج میں آپ کو اپنی ماں کے بارے میں بتاﺅں گا۔چین کی پرانی تہذیب نے ماں کو بڑی اہمیت دی ہے۔جب چین کے گاﺅں دیہاتوں سے فوج ،جوان لڑکوں کو زبردستی پکڑ کر لے جاتی تھی، تب وہ کسی اور کو نہیں، ماں کو پکارتے تھے۔یا نگسی ندی کے کنارے ہمارا گاﺅں تھا۔گھر ایسے تھے جیسے وہ بنائے نہ گئے ہوں صرف ان کاڈھیر لگادیا گیاہو۔ہمارا گھر جیسا بھی تھا گاﺅں کا سب سے اچھا گھر تھا۔کیوں کہ ہم کھاتے پیتے لوگ تھے۔ہمارے پاس کم ازکم بیس ایکڑ زمین تھی۔ میرے والد کی دھاک صرف زمین کی...

پورا پڑھیں

رات کے پون بجے جب شبی نے مجھے کسی درزی کی دکان پر چلنے پر اصرار کیا تو میں حیران ہو کر بولی ’’مگر اس وقت؟‘‘ ’’ہاں ہاں اسی وقت روحی… عید کی مصروفیت کی وجہ سے آج کل دن کے وقت درزی نہیں ملتا۔ تم جلدی سے اپنی کار نکالو۔‘‘ شبی نے اصرار کیا۔ ’’اچھا…‘‘ میں بادل نخواستہ مان گئی اور گیراج سے اپنی کار باہر نکال لائی۔ شبی گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں اپنے کپڑوں کا بنڈل ہاتھ میں لیے کار میں میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد کار چلاتے چلاتے میں نے پوچھا ’’میں...

پورا پڑھیں