Search

شعلۂ عشق بجھانا بھی نہیں چاہتا ہے وہ مگر خود کو جلانا بھی نہیں چاہتا ہے   اس کو منظور نہیں ہے مری گمراہی بھی اور مجھے راہ پہ لانا بھی نہیں چاہتا ہے   جب سے جانا ہے کہ میں جان سمجھتا ہوں اسے وہ ہرن چھوڑ کے جانا بھی نہیں چاہتا ہے   سیر بھی جسم کے صحرا کی خوش آتی ہے مگر دیر تک خاک اڑانا بھی نہیں چاہتا ہے   کیسے اس شخص سے تعبیر پہ اصرار کریں جو ہمیں خواب دکھانا بھی نہیں چاہتا ہے   اپنے کس کام میں لائے گا بتاتا بھی نہیں...

پورا پڑھیں

1 غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا قفس لے اڑوں میں، ہوا اب جو سنکے مدد اتنی اے بال و پرواز دینا نہ خاموش رہنا مرے ہم صفیرو جب آواز دوں ، تم بھی آواز دینا کوئی سیکھ لے دل کی بے تابیوں کو ہر انجام میں رنگِ آغاز دینا دلیلِ گراں باریِ سنگِ غم سے صفی ٹوٹ کر دل کا آواز دینا   2 جگہ پیدا دلوں میں کی بتوں نے بے وفا ہو کر خدا کو بھی ہوئی یہ بات کب حاصل خدا ہو کر یہ چشمِ فتنہ گر کے نیچی...

پورا پڑھیں

  دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم لغو ہے آئینۂ فرق جنون و تمکیں نقشِ معنی ہمہ خمیازۂ عرضِ صورت سخنِ حق ہمہ پیمانۂ ذوقِ تحسیں لاف دانش غلط و نفعِ عبادت معلوم دُردِ یک ساغرِ غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں مثلِ مضمونِ وفا باد بدست تسلیم صورتِ نقش قدم خاک بہ فرق تمکیں عشق بے ربطیِ شیرازۂ اجزاے حواس وصل...

پورا پڑھیں