Search

اس وقت بندو کا ٹھیلہ تو ٹھیلہ، خود بندو ایسا بے جان کاٹھ کا گھوڑا بن کر رہ گیا ہے جو اپنے آپ نہ ہل سکتا ہے نہ ڈول سکتا ہے، نہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے، بندو کی ہی وجہ سے اندھیر دیو کے تنگ بازار میں راستہ قریب قریب بند ہوکر رہ گیا ہے۔ ضرورت سےزیادہ بوجھ سےلدا ہوا بندو کا ٹھیلہ سڑک پر چڑھائی ہونے کی وجہ سے رک سا گیا ہے۔رہ رہ کر اگر چلتا بھی ہے تو جوں کی رفتار سے رینگتا ہے، اور پھر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس کے پیچھے کاریں، ٹرک، بسیں،...

پورا پڑھیں

   بوڑھی بہاراں؛ بیاسی سال کی ہوچکی تھی۔زندگی  کی بیاسی بہاریں دیکھنے کے بعد بھی اس کے حواس خمسہ میں ضعف کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔البتہ لاٹھی ٹیکنے کی عادی تھی اور کہا کرتی تھی کہ آدمی شہر کا ہو یا دیہات کا اسے گھر سے باہر جاتے وقت ہاتھ میں لاٹھی ضرور رکھنی چاہیے۔کیونکہ کیا معلوم کب کہاں کوئی بندر؛کتا؛بھینسہ؛بیل؛گھوڑا یا کوئی اور جانور حملہ آور ہوجائے۔اس کے چہرے کی جھریوں کی جھالر یہ عیاں کررہی تھی کہ وہ زندگی کے کئی نشیب وفراز دیکھ چکی ہے۔دو بیٹے اور دو بیٹیوں کی ماں تھی۔اس کا   رفیق حیات اپنا...

پورا پڑھیں

ابھی چند ہی دن ہوئے تھے مجھے مع فیملی اس علاقے میں شفٹ ہوا تھا مگر پہچان زیادہ تر لوگوں سے ہوگئی تھی شاید اس میں اہم کردار میرے پیشے کا تھا ۔ ہر کوئی صحافی سے ملنا پسند کررہا تھا ۔میں جہاں رہتا تھا وہ علاقہ Re-development میں چلا گیا تھا اب دو یا تین سال مجھے کرائے کے مکان میں رہنا تھا ۔کرایہ مجھے اچھا مل رہا تھا اس لئے میں نے سوچا کیوں نہ کچھ رقم بچائی جائے اس لئے ایسے علاقے میں کرایہ کا مکان تلاش کیا جو سستا تھا اور ساتھ ہی آفس سے قریب۔...

پورا پڑھیں

موٹرویسل گاندھی (Motor Vessel Gandhi) نام کا جہاز صوبہ گجرات کی مشہور بندرگاہ کانڈلہ سے، صبح سات بجے صوبہ بنگال کے تاریخی شہر کلکتہ کی جانب روانہ ہوا تھا۔ بحیرۂ عرب کی موجوں میں ہلکا سا تلاطم تھا، ذرا تیز ہوا بہہ رہی تھی، اکادکا سمندر پرندے جہاز کا طواف کرتے اب بھی دیکھے جاسکتے تھے۔ گیارہ بج چکے تھے، کپتان عرش الرحمن اور چیف آفیسر بمل دت کے درمیان دبے دبے سے غصے کے ساتھ بحث ہورہی تھی۔ بمل دت کہہ رہا تھا، ’’سر، کیا آپ نے شنڈلرزلسٹ (Schindler’s List) نہیں دیکھی؟‘‘ کپتان نے جہاز کی چرخی کو کسی...

پورا پڑھیں

کورونا کے غم کی لہر کو لاک ڈاون نے خوشی میں بدل دیا ۔ جمال کے گھر میں اس کی بیوی جمیلہ کے سوا ہر کوئی خوشی سے پھولا نہیں سمارہا تھا۔ جمال کے والد کمال صاحب اس لیے خوش تھے کہ پہلی بھر سارے گھر کے لوگ ایک ساتھ جمع تھے ۔ کوئی کہیں آجانہیں رہا تھا ۔ اپنے آپ میں مست لوگ کم ازکم گھر کے اندر تو تھے ۔ اپنی بہو ، بیٹے اور پوتوں و پوتیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر ان کو بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ کمال صاحب کی اہلیہ افسری بیگم کو...

پورا پڑھیں

وہ اسٹوری ٹیلر کے نام سے اس قدر مشہور ہو چکی تھی کہ لوگ اس کا اصل نام تک نہیں جانتے تھے۔کبھی کبھی اس کے فن اور شخصیت پر کوئی مضمون شائع ہوتا تو اس کا اصل نام سامنے آجاتا تھا ورنہ وہ زمانے کے لئے اسٹوری ٹیلر ہی تھی۔ دنیا کے بہت سے ملکوں کے بڑے بڑے شہروں میں اس نے اپنے شو کئے تھے۔وہ کئی زبانوں پر عبور رکھتی تھی،اس نے کہانی سنانے کے فن کو بلندیاں عطا کی تھیں۔وہ شاندار قصّہ گو تھی۔اس کی تخلیق کردہ کہانیاں بے حد دلچسپ اور نرالی ہوتی تھیں۔ اس نے اپنی...

پورا پڑھیں

سمرین جب آفس سے گھر پہنچی تو تھک کر چور ہوچکی تھی۔ آفس میں آج کام زیادہ ہی تھا۔ جس نے تھکان پیدا کردی تھی۔وہ گھر میں داخل ہوکر پرس ایک طرف پھینکا اور بستر پر گر پڑی۔ اس میں ذرّہ برابر قوت نہیں تھی کہ وہ فریش ہوکر اپنے لیے ایک کپ چائے بنائے۔ پلنگ پر لیٹتے ہی خوابوں کی دنیا میں پہنچ کر خوابوں کے سمندر میں غوطے کھانے لگی۔ اسے اس بات کا بھی خیال نہ رہا کہ ناصر کے آنے کا وقت ہوگیا ہے۔ ابھی رات کا کھانا بنانا بھی باقی ہے۔ دوپہر کا کھانا تو...

پورا پڑھیں

بوڑھے نے بڑی احتیاط سے ہونٹوں کے ایک کونے میں بیڑی دبائی اور پھر سے وہی قصہ چھیڑا۔ یہ قصہ سناتے وقت بوڑھے پر ایک اضطرابی کیفیت چھا جاتی تھی۔ ’’چاردوست تھے۔ چاروں نے بھگوان وشو کرما سے پرارتھنا کی۔ اے بھگوان! ہمیں کوئی انوکھا فن سکھلادے۔ بھگوان وشوکرمانے ان کی پرارتھنا سوئیکار کرلی۔ انھیں بارہ برس تک سکھاتے رہے۔ وہ بھی پورے جی جان سے سیکھتے رہے ۔ پہلے نے ہڈیاں جوڑ جوڑ کر ڈھانچہ بنانا سیکھا۔ دوسرے نے اس پر ماس جمانا سیکھا، تیسرے نے اس پر چمڑے کا غلاف چڑھانا سیکھا۔‘‘ حسب عادت بوڑھے نے کئی باریہ...

پورا پڑھیں

ہدّوُ نے پیپل کے پتوں کے بڑے بڑے جھنکاڑرکشےسے اتارے، کثیف کرتے کی جیب سے چند مڑےتڑےنوٹ اورکچھ‌ریزگاری بر آمد کی، احتیاط سے گن کررکشے والے کا کرایہ ادا کیا، بقیہ رقم واپس رکھی، پھر بڑی محنت سے موٹی موٹی ڈالیاں کھینچ کر انہیں احاطے کے اندر لائے۔ہاتھی نے کسل مندی سے سونڈدائیں‌بائیں جھلائی، پھر قدرے تکلف کے سا تھ بھاری بھر کم پاؤ‌ں آگے بڑھائے۔’’ ارے بیٹا رک‘ اس سے قبل کہ لوگ تیرا حصہ کھا جائیں یہ لے لے۔‘‘  ہدّ‌و نےبڑی محبت سے ہاتھی کو مخاطب کیا اور کندھے پر لٹکےانگوچھے کے سرے پر بندھی پوٹلی کھولی‌۔پوٹلی میں...

پورا پڑھیں