Search

جو تقریب ٹلتی آ رہی تھی، طے پا گئی تھی۔ تاریخ بھی سب کو سوٹ کر گئی تھی۔ پاکستان والے خالو اور خالہ بھی آ گئے تھے اور عرب والے ماموں ممانی بھی۔ مہمانوں سے گھر بھر گیا تھا۔بھرا ہوا گھر جگمگا رہا تھا۔ در و دیوار پر نئے رنگ و روغن روشن تھے۔ چھتیں چمکے لیے کاغذ کے پھول پتوں سے گلشن بن گئی تھیں۔ کمروں کے فرش آئینہ ہو گئے تھے۔ آنگن میں چمچماتی ہوئی چاندنی تن گئی تھی۔ چاندنی کے نیچے صاف ستھری جازم بچھ چکی تھی۔باہر کے برآمدے میں بڑی بڑی دیگیں چڑھ چکی تھیں۔ باس...

پورا پڑھیں

وہ ایک ماہر سنگ تراش تھاا ´ور اپنی صناعانہ صفتوں سے معمور انگلیوں سے جب بھی کوئی بت تراشتا تو ایسا لگتا کہ یہ مورت بس ابھی بول پڑیگی اور اس خوبی کا راز صرف یہ تھا کہ وہ مجسمہ سازی کرتے وقت اپنی روح کا کچھ حصہ اس مجسمہ میں منتقل کر دیتا تھا ۔ وہ روح جو کہ بہت پاکیزہ تھی اور سنگ تراش کے جسم پر قبا کی مانند لپٹی ہوئی تھی۔یہی وجہ تھی کہ ہر کوئی اس کے ہنر کے فسوں میں گرفتار ہو جاتا ۔اس کے مجسموں کو دیکھنے اور خریدنے کے لیے دور دور...

پورا پڑھیں

’’کیا نام تھا اس کا ؟ اُف بالکل یاد نہیں آ رہا ہے۔‘‘ کیدار ناتھ نے اپنے اوپر سے لحاف ہٹا کر پھینک دیا اور اٹھ کر بیٹھ گئے۔’’ یہ کیا ہو گیا ہے مجھے ، ساری رات بیت گئی نیند ہی نہیں آ رہی ہے۔ ہو گا کچھ نام وام نہیں یاد آتا تو کیا کروں ، لیکن نام تو یاد آنا ہی چاہئے۔آخر وہ میری بیوی تھی ، میری دھرم پتنی۔‘‘انھوں نے پیشانی پہ ہاتھ رکھا۔پچھتر سالہ کیدار ناتھ کے ماتھے کی بے شمار جھریاں بوڑھی ہتھیلی کے نیچے دب کر پھڑپھڑنے لگیں۔’’ سر لا کی ماں ……….’’...

پورا پڑھیں

بہت عجیب بات ہو گئی……….فلموں کے سینیر رأیٹر ساحل صاحب اچانک لاک ڈاؤن سے گھبرا کر،بڑبڑاتے ہوے کپڑے پہننے لگےتو نوجوان نوکر نے حیرت سے پوچھا” صاحب کہاں جا رہے ہیں؟؟ باہر سب بند ہے.”ساحل صاحب نےایک موٹی گالی دے کر کہا ” جوہو جا رہا ہوں , میری نئ فلم کی پارٹی ملنے آرہی ہے”“ارے صاحب! لاک ڈاؤن ہے, باہر سب بند ہے. جانے کا کوئی سادھن نہیں ہےاور ایسے میں کون سی پارٹی آےگی, سب گھروں میں بند ہیں”“چپ بے……” ایک اور موٹی گالی ان کی زبان نے ایسے ُاگلی جیسے سنّاٹے میں زِپ سے کوئ بائیک نکلتی...

پورا پڑھیں

گونگے نے بڑی بے چینی سے پہلو بدلا۔دوسروں نے شاید اس کی بے چینی محسوس نہیں کی یا اس کی بے چینی شاید قابل توجہ ہی نہیں تھی۔ جو بھی ہو مگر وہاں موجود لوگوں پر اس کی بےتابی کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔ معاملہ ہی اتنا اہم تھا کہ اس کے سامنے ایک گونگے کی بے چینی کیا معنی رکھتی۔جنوری کی انتہائی سرد رات، تقریباً 9 بجے کا عمل، محلے کے بیچوں بیچ “ماشاءاللہ” ہوٹل میں بالکل کنارے، ایک گول میز پر جس کے چاروں طرف آٹھ دس کرسیاں ۔۔۔ ایک پر پھدو مستری، دوسری پر جلیل خان...

پورا پڑھیں

ممبئی اپنی رنگارنگیوں کی وجہ سے عالم میں انتخاب شہر ہے۔ لیکن جن سڑکوں پر پیدل چلتے ہوئے کبھی کھوے سے کھوا چھِلتا تھا، اب انھی سڑکوں پر ہو کا عالم ہے۔ ہر طرف سناٹا پسرا ہوا ہے۔ تھوڑی بہت ہلچل اگر کہیں نظر آتی ہے تو وہ مضافاتی علاقوں اور جھگی جھونپڑیوں میں۔ اسی ممبئی شہر کے علاقے وِلے پارلے کے مشرق میں آدھا کلومیٹر پیدل چلیں تو بائیں جانب لکشمی چال ہے۔ یہ چال نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی گلیوں کا ایسا جال ہے کہ اگر کوئی نیا بندہ ایک مرتبہ کسی ایک گلی میں گھس جائے تو گھنٹوں...

پورا پڑھیں

لگتا ہے اب ہم کہیں پہنچ رہے ہیں انجنیئر نے بلند آواز سے کہا۔کوئلہ اوزار اشیائے خوردنوش اور مسافروں سے بھری ہوئی ٹرین اس نئے علاقہ میں پہنچی جہاں کل ہی ریل کی پٹریاں بچھائی گئی تھیں۔اس وسیع و عریض علاقے میں چاروں طرف ہریالی تھی جس پر سورج کی سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔دور آسمان کو چھوتے ہوئے پیڑوں سے بھرے پہاڑ نیلے کہرے میں نہا رہے تھے۔ہرے بھرے میدانی علاقے میں کوئلہ، راکھ، کاغذ، اور لوہا اتارا جارہاتھا جس سے شور و غل ہو رہا تھا۔جنگلی کتے اور سانڈ یہ سب دیکھ رہے تھے۔آرا مشین کی آواز دور...

پورا پڑھیں