Search

ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں اشکوں کی زباں میں کہتے ہیں آہوں میں اشارا کرتے ہیں کیا تجھ کو پتا کیا تجھ کو خبر دن رات خیالوں میں اپنے اے کاکل گیتی ہم تجھ کو جس طرح سنوارا کرتے ہیں اے موج بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارا کرتے ہیں کیا جانیے کب یہ پاپ کٹے کیا جانیے وہ دن کب آئے جس دن کے لیے ہم اے جذبیؔ کیا کچھ نہ گوارا کرتے ہیں   ۲ مرنے کی دعائیں...

پورا پڑھیں