Jashn E Wirst E Urdu 2018 organized by Delhi Urdu Academy

Articles

جشن وراثت اردو میں فنکاروں کا رنگا رنگ تہذیبی وثقافتی مظاہرہ

پریس ریلیز

نئی دہلی۔11؍نومبر
دہلی ہمیشہ ہی سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ یہ سلسہ اب بھی اسی آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم ہے۔دہلی جہاں اپنی دوسری وجوہات سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے ، وہیں اردو اکامی،دہلی اپنے تہذیبی وثقافتی اور علمی پروگرام کی وجہ سے پوری اردو دنیا میں معروف ہے۔ جشن وراثت اردو اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس جشن میں جہاں فنکاروں نے اپنے فن سے ناظرین و سامعین کو محظوظ کیا، وہیں نئے اور پرانے فنکاروں کو ایک ایسا اسٹیج فراہم ہوا، جہاں وہ اپنے فن کا مظاہرہ کر سکیں۔
جشن وراثت اردو کے دوسرے دن اکادمی کے وائس چیئر مین پروفیسر شہپر رسول نے سامعین و ناظرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ دہلی سرکار کی یہ کوشش ہے کہ شہر دہلی کی سماجی اور تہذیبی وراثت کا تحفظ اور فروغ ہوتا رہے ۔ اسی لیے اکادمی کی جانب سے جشن وراثت اردو کا انعقاد پچھلے کئی برسوں سے عمل میں آرہا ہے۔اس جشن میں اردو کے فروغ اور ترقی کے لیے مختلف قسم کے اسٹال بھی لگائے گئے ہیں، تاکہ اردو زبان وادب کے تمام پہلوؤں کی ترجمانی ممکن ہوسکے۔
صبح دس بجے اس پروگرام کے دوسرے دن کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے اسکولی طلبا کے لیے امنگ پینٹنگ مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مقابلے کو تین زمروں(سینئر سیکنڈری، مڈل اسکول اور پرائمری زمرہ)میں منقسم کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں دہلی کے مختلف اسکولوں سے ایک سو پچاس سے زائد طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔ جج کے فرائض سیمیں مرتضی اورشاہ فیض الحسن(فائن آرٹس، جامعہ ملیہ اسلامیہ)نے انجام دیے ۔ نتیجے کے اعلان سے پہلے جج صاحبان نے آرٹس کے اہم نکات کی طرف اشارہ کیا۔ اس مقابلے میں شریک طلبہ و طالبات کی پینٹنگ پر اطمینان کا اظہار کیا۔سینئر سیکنڈری زمرے سے کل چودہ طلبہ و طالبات کو انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ جن میں جویریہ جاوید اور ضویا عالم کو پہلا انعام دیا گیا، جبکہ زارا احمد، یسریٰ اور جیوتی کو دوسرے انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ تیسرے انعام کے لیے اقصی، فوزیہ ، قاسم مہدی اور زینب کو منتخب کیا گیا۔ اس کے علاوہ کل پانچ طلبہ و طالبات(رحمت، اریبہ، سامعہ گلزار،سیدہ سمیرہ اور نورین فیض) کو حوصلہ افزائی کا انعام دیا گیا۔ مڈل زمرے میں پہلے انعام کا مستحق مدیحہ کو قرار دیا گیا، جبکہ دوسرا انعام عاتکہ سلطانہ، چشتیہ نازاور تیسرا انعام طوبی، کومل اور شفا کو دیا گیا۔اس زمرے سے حوصلہ افزائی کا انعام مہک، بشری شمس، گل افشاں، محمد عاطف، حماد حسن اور ہبہ کو دیا گیا جب کہ اور پرائمری زمرے میں پہلا انعام انورہ ناز کو، دوسرا انعا م شاہین پروین، صاحبہ فاطمہ اور تیسرا انعام حسن خالد، محمد افنان، رمشا رضا کودیا گیا۔ حوصلہ افزائی انعام اقرا، محمد ریحان، طرفیہ علی، محمد مصیب اور ارمان ملک کو دیا گیا۔
اس انعامی مقابلے کے بعدقصہ’’قصہ بلی کی تک بندی کا‘‘ کا پروگرام منعقد کیا گیا۔ جسے ٹیلنٹ گروپ نے پیش کیا۔ اس گروپ میں ننھے ننھے بچوں نے ناظرین کو خوب محظوظ کیا۔ محفل قوالی نظامی چشتی برادرس(دہلی)نے پیش کی۔ سامعین نے اپنی فرمائش سے اس محفل کو اور بھی چار چاند لگایا۔ محفل غزل کے تحت شہاب خان نے متعدد کلاسیکل غزلیں پیش کیں۔ داستان گوئی کے تحت ونگس کلچرل سوسائٹی، دہلی نے ’’ٹوپی کی داستان ‘‘ پیش کی۔ انڈین اوپیرا فیوژن کے تحت صوفی گلوکار کابکی کھنہ نے امیر خسرو کے کلام کے ساتھ ساتھ داستان بھی پیش کیں۔ صوفی محفل میں اندرا نائک نے اپنے فن کا جوہر دکھایا۔ منور معصوم نے قوالی سے اتوارکی شام کو اور بھی پر نور بنا دیا۔ اس موقع پر ادب وثقافت سے دلچسپی رکھنے والے کثیر تعداد میں موجود تھے۔
آج کے تمام پروگراموں کی نظامت کے فرائض ریشما فاروقی اور اطہر سعید نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔آخر میں شکریہ کی رسم اکادمی کے اسسٹنٹ سکریٹری مستحسن احمد نے ادا کی۔
۱۔ ۰۱؍نومبر کومعروف غزل گلوکار سریش واڈیکر غزل پیش کرتے ہوئے۔
۲۔ اسکول کے طلبا و طالبات پینٹنگ کرتے ہوئے۔
۳۔ ٹیلنٹ گروپ کے بچے قصہ گوئی کرتے ہوئے۔
۴۔ نظامی برادرس قوالی پیش کرتے ہوئے۔
۵۔ شہاب خان غزل پیش کرتے ہوئے۔
۶۔ وِنگ کلچر سوسائٹی کے ارکان ٹوپی کی داستان پیش کرتے ہوئے۔
۷۔ کابکی کھنہ انڈین اوپیرا پیش کرتے ہوئے۔
۸۔ معروف گلوکار اندرا نائک صوفیانہ کلام پیش کرتے ہوئے۔
۹۔ سامعین/ناظرین کا جم غفیر