Half Month in Mumbai by Imran Akif

Articles

ممبئی میں آدھا مہینہ

عمران عاکف خان


عمران عاکف خان

تمھارے شہر کی مٹی لگی ہے پیروں میں
ہمارے شہر کے رستے خوشی سے پاگل ہیں
دوپہر کا ایک وقت ۔میرے کمرے کی کنڈی کھٹکنے لگی۔
’’جی آجائے ،کون؟‘‘
’’سر ڈاک!!‘‘
دروازہ کھلا اور میسنجر ایک بند لفافہ مجھے د ے کر ریسوینگ شیٹس پر سائن لینے لگا۔میں نے سائن کر کے لفافہ چاک کیا تو اس میں ساہتیہ اکادمی ،نئی دہلی کا ایک لیٹر تھا۔بیڈ پر آکر اسے میں اوپر سے نیچے تک پڑھنے لگا۔اس کا لب لبا ب یہ تھا کہ ساہتیہ اکادمی،نئی دہلی نے مجھے ریسرچ اسکالرس کے لیے دیے جانے والے ٹراول گرانٹ Travel Grantکے لیے منتخب کیا ہے۔اب مجھے اکادمی پہنچ کر اس بات کی تصدیق کرانی ہے کہ میں اس گرانٹ اور ٹراو ل کے لیے راضی ہوں یا۔۔۔
میں تو راضی تھا۔مقررہ تاریخ میں اکادمی پہنچا اور ضروری تفصیلات متعدد شیٹس میں فُل فِل کر کے چلا آیا۔مجھ سے جب پوچھا گیا کہ میں کس شہر جانا چاہوں گا تو میں نے کلکتہ اور ممبئی کا نام بطور آپشن پیش کیا ۔’’ممبئی مناسب رہے گا‘‘——– فیصلہ ہوا اور پھر 26نومبر 2018کی ایک صبح جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریلوے کاؤنٹر سے نئی دہلی۔ممبئی راجدھانی کا ریٹرن ٹکٹ لیا۔ٹکٹ 10جنوری2019(روانگی) اور 25جنوری 2019(واپسی) کی دروں کا تھا۔
دنوں کا کارواں گزرتا ہی ہے۔اپنے ساتھ دکھوں ،غموں،خوشیوں،مسرتوں ،افراد،علمی ادبی خزانوں بلکہ سب کچھ لیتا ہوا گیا۔پھر ممبئی روانگی کا وقت آیا۔ شام4:00 کا وقت، نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کا پلٹ فارم نمبر۔3،راجدھانی ایکس پریس ممبئی سفر کے لیے حوصلے جمع کررہی تھی ۔میں اپنی نشست ،A4 13 LBپر بیٹھ گیا۔ٹرالی بیگ سیٹ کے نیچے رکھا اور پیٹھ والا بیگ ہنگرز میں لٹکاکر کچھ ضروری چینجز کیے ،اس کے بعد پر و فیسر ظفر احمد صدیقی کی کتاب ’’افکارو شخصیات ‘‘ کھول کر پڑھنے لگا۔کمپارٹمنٹ کا عملہ ’’ریل نیر Rail Neer ‘‘ پانی کی بوتل اور کچھ اسٹاٹر ٹائپ کی چیزوں سے مسافروں کی تواضع کرتا گیا۔جن میںگھی میں تلے پاپ کورن popcornاور sunfistکمپنی کے بسکٹ تھے۔دن کا ابھی کچھ وقت باقی تھا اور ٹرین چلنے میں بھی دس منٹ باقی تھے۔ وقت مقررہ پرایک ہلکا سا جھٹکا ہو ا اور نہایت بے آواز ی اور خراماں روی سے راجدھانی ایکسپریس چل پڑی۔ابھی مشکل سے 100-150میٹر چلی ہوگی کہ محاذی پلیٹ فارمس سے کلکتہ راجدھانی ایکسپریس اور تراوندپورم راجدھانی ایکسپریس کسی بل کھاتے نانگ کی مانند نکلتی چلی گئیں۔ان کی رفتار نسبتاً تیز بھی تھی اور انداز بھی ۔شیواجی برج تک آتے آتے کلکتہ راجدھانی کسی ڈرے سہمے بچے کی مانند ایک سائڈ ہو ئی ہی تھی کہ پلول ۔غازی آباد لوکل EMUماحول میں ارتعاش مچاتی چلی گئی۔اس کی پوں پاں،اس کی کھٹ کھٹ،اس کی سٹک سٹک ،اس کی ٹنٹناہٹ اور جارحانہ انداز سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی سے لڑنے جارہی ہے یا کہیں سے لڑبھڑ کر آئی ہے۔اب تِلَک برج آگیا تھا۔ممبئی راجدھانی کی چال بھی تیز ہو گئی ۔تاہم ابھی برق رفتاری چھوڑیے،ہوا رافتاری بھی نہ آئی تھی ۔پرگتی میدان،پاؤر اسٹیشن،راجیو گاندھی اسٹیڈیم اور پھر حضرت نظام الدین،یہاں کم رفتاری مزید کم ہوئی ،اوکھلا،تغلق آباد،بدرپور ،فرید آباد ٹاؤن،فرید آباد اولڈ۔یہ سب اسٹیشن اور ان کے نام آسانی سے دیکھے پڑھے جارہے تھے۔پھر پتا نہیں کیا ہوا ،راجدھانی کو غصہ آگیا۔اس نے پورے بدن کو جھرجھرایا اور سرپٹ دوڑنے لگی۔اب تو بجلی،ہوا،نگاہ سب کی رفتار اس کے سامنے فیل تھی۔بلبھ گڑھ اور ہوڈل کب گزرگئے پتا ہی نہ چلا۔ہاں بس گیہوں کے ہرے بھر ے کھیت حد نگاہ تک پھیلے نظر آرہے تھے۔گندم کی اس قدر پیداوار سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس سال ہریانہ کے کسان گندم کی کاشت میں تمام ریاستوں سے بازی لے جائیں گے۔گو ابھی فصل روئیدگی کے مرحلے سے گزررہی تھی مگر اس کا جوش و جذبہ اور اٹھان کسانوں کے دلوں میں امنگوں،آشاؤں اور یقین کو ضرور بڑھا رہی ہوگی۔پلول گزرا،کوسی نکلی،چھاتئی پار ہوا ۔مغرب کی اذان ہورہی تھی کہ متھرا کے مندروں کے گھنٹے اور سنکھ راجدھانی کی شیشہ پلائی دیوار وں سے ٹکرارہے تھے۔جگہ جگہ عقیدت مند ہاتھوں میں کلس اور مورتیں اٹھائے قصیدے گاتے ہوئے ریلیاں نکال رہے تھے۔(ان کا روز کا معمول ہے اور عبادت کا ایک طریقہ بھی) جنم استھان کے آس پاس کے مندروں اور ان میں پوجا پاٹ کا نظارہ قابل دید تھا۔ ایک جگہ ہلکی سی جھلک پڑی کہ ایک عقیدت مند آگ منہ لے کر چھلانگیں لگا رہا ہے۔(یہ عمل، مراد یا منت پوری ہونے پر کیا جاتا ہے)متھرا اسٹیشن پر ٹرین کی رفتار کچھ دھیمی ہوئی مگر پھر اسے غصہ آیا اور کھٹ کھٹ ،پوں پاں،پیں،ہٹو رے ،ہٹو رے ،جیسی آوازیں آنے لگیں۔
شام اندھیروں کے عفریت کے قبضے میں آکر کہیں سسکیاں لے رہی تھی۔ کاینات پر اندھیرے پوری طرح قابض ہوگئے ۔اب کسی کی کیا مجال کہ ان سے مقابلہ کرے۔کہیں کہیں بجلی کے دم پر جلنے والی اسٹریٹ لائٹس،چوراہوں کی فوکس لائٹس اور گھروں میں جلتے CFL بلب یا آکاشیاںظلمات گزیدہ رات میں ٹمٹماتے چراغوں کی مانند لگ رہی تھیں۔سردی بڑھنے لگی۔راجدھانی کا ہوٹ اے سیA/c خراب تھا اس لیے کولڈاے سیA/c اندر سے جمائے دے رہا تھا۔مگر کمپارٹمنٹ کے عملے کی جانب سے ملنے والی سلیپنگ چادریں،تکیے اور کمبلوں نے مسافروں کو اس سے نجات دلائی۔اب تک عملہ صرف چائے/کافی پر ہی ٹرخا رہا تھا کہ اب ڈنر کا آرڈ لینے آگیا۔عملے کے افراد کا طریقہ بھی انو کھا تھا۔پہلے سیٹ کنفرم کرنے کے بعد ویج،نان ویج کی تصدیق کی پھر ۔’’اوکے باس/سر ‘‘کہتے ہوئے چلے گئے۔تھوڑی دیر بعد متعلقہ کھانا آیا۔ کھانا کیا تھا ؟بس تھا ۔کھایا گیا اور پھر پردے کھینچ دیے گئے۔مین لائٹس آف اور ڈیم لائٹس آن ہو گئیں۔ٹرین اسی طرح رواں دواں،سفر اسی طرح قطع زن اور ماحول اپنی ہی انا اور سرمستی میں مغرور مغرور۔کمپارٹمنٹ میں اب خراٹوں کا شور یا کبھی کبھی کسی کمسن بچے کے رونے کی آواز۔کچھ لوگ سپنے بھی دیکھ رہے ہوں گے اور کچھ بے خوابی کی تکلیف سے کرارہ رہے ہوں گے۔
ایک جگہ ٹرین رُکی،پتا چلا کہ بڑودہ آگیا۔’’ارے کوٹا اور رتلام کب گزرگئے؟‘‘ کچھ سرگوشیاں ہوئیں۔(حالاں کہ راجدھانی کی رفتارکے متعلق سب ہی جانتے ہیں مگر فطرت کا کیا کریں،انسان گھبراجاتا ہے اور ہونی پر مشکل سے یقین کرتا ہے،جسے کیے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں ہوتا)راجدھانی پھر چل پڑی ۔اب اس کی اگلی منزل سورت تھی۔سورت ریاست کا گجرات کا ایک خوب صورت شہر اور کپڑے ،سونے چاندی کی مصنوعات کے لیے مشہور و معروف ۔ تاریخ گجرات کے مطابق ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی پہلی کمپنی ،اسی شہر میں کھولی تھی۔یہ شہر ساحل لوکھات پر بسا ہے۔یہاں سے بہتی تاپتی ندی شہر کو دوحصوں میں تقسیم کرتی ہوئی بحر ہند میں جاگرتی ہے۔تاپتی کے داہنے کنارے پر شہر راندھیر آباد ہے۔اب وہ سورت کا محلہ بن چکا ہے تاہم ایک زمانے میں علاحدہ ہوا کرتا تھا۔راندھیر مدرسوں،مسجدوں،خانقاہوں اور پرشکوہ مکانات و بلاد کا کا شہر ہے۔چاروں طرف سے خوب صورت قدرتی نظاروں سے گھرا،اندرونی صفائی اور پاکیزگی سے دمکتا ہوا اور گلیوں میں سکون و سادگی کے نمونے پیش کرتا ہوا بہت خوب لگتا ہے۔جب ہلکی ہلکی گرمیاں ہوں،تاپتی کے ساحل پراُگے کھجوروں کے درختوں کے سائے میں خودرؤ گھاس پر بیٹھیے تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت تھم سا گیا ہے۔جیسے ماحول کی دیوی ہلکے ہلکے مسکرارہی ہے،کائنات جیسے رقص کرنے کو بے تاب ہے۔
اماں اٹھو،پاپا اٹھو سورت آگیا‘‘ایک نوعمر لڑکی کی آواز نے چونکا دیا۔وہ آوارگی نہیں تھی،اس لیے میں نے پوچھا بھی نہیں۔بس سحر تھا جو ٹوٹ گیا تھا ۔لڑکی کے والد ین ہڑبڑا کر اٹھے او رجلدی جلدی سامان سمیٹا ۔اس جلدی کے باوجود بھی جب وہ آخری سامان کھینچ رہے تھے،راج دھانی رینگ پڑی تھی ۔جلدی میں اور جلدی کا منظر دیکھنے کو ملا۔سیکنڈوں میں ہی ریل فاسٹ ہو گئی ۔اب اس کی منزل بوری ولی تھی اور پھر ممبئی سینٹرل۔صبح کے سوا آٹھ بج رہے تھے جب راجدھانی ایکس پریس ،ممبئی سینٹر ل کے پلیٹ فارم نمر ۔4پر پہنچی۔یہی اس کا آخری اسٹوپ تھا ۔اب اسے شام کو ہی ریٹرن ہونا تھا اس کیے اس طرح لمبی لمبی ہو گئی جیسے دن بھر کا تھکا ماندہ مزدور یا کسان گھر آتے ہی لمبا لمبا ہوجاتا ہے اور اس کے گھر والے کچھ دیر کے لیے پریشان سے ہوجاتے ہیں پھر انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ یہ تو روٹین کا حصہ ہے۔تمام مسافر نہایت اطمینان سے کمپارٹمنٹس سے نکل رہے تھے۔ایک ایک سامان اور چیز دیکھ رہے تھے۔اب کوئی جلد بازی یا حیرانی نہیں تھی۔میں نے بھی سامان اٹھایا اور ممبئی سینٹر ل اسٹیشن کی عمارت سے نکل کر متعدد دروازوں والے مشرقی گیٹ کی جانب چل پڑا جو ملٹی پرپس ہے۔یعنی داخلہ و خارجہ ،پارسل بکنگ اور ریسوینگ کا کام اسی سے لیا جارہا تھا۔
اسٹیشن کی عمارت کے بالکل سامنے ممبئی میٹرول ریل کارپوریشن MMRTCکے قد آدم نیلے نیلے بورڈس لگے تھے ۔جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ میٹروکا کام جاری و ساری ہے۔اسٹیشن کے سامنے کا کشادہ راستہ ایک تنگ سڑک بن کر رہ گیا تھا جس سے خلقت اژدہام کی صورت آجا رہی تھی۔ میں بھی اسی بھیڑ کا حصہ بنے دھیرے دھیرے سامان گھسیٹتا ہوا ایک چوراہے پر آکھڑا ہوا ۔پیدل چلنے والے ہر عمر و جنس کے افراد سینکڑوں کی تعداد میں ایک طرف جارہے تھے اور ایک طرف سے آرہے تھے۔ان کی بھانت بھانت کی بولیاں،لنگو اور تلفظ کے نئے نئے انداز سننے کے قابل تھے۔کاش یہ لفظ بولتے بھی ہوتے تو میںضرور وہ آوازیں ان میں شامل کرتا اور اپنے قارئین کو سناتا۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ شہر چاہے ممبئی ہو کراچی،ڈھاکہ ہو یا کاٹھمنڈو،لندن ہو یا نیو یارک یا کوئی اور ٹیکسی والوں میں ایک قدر مشترک ہے۔کسی کو اگر دیکھا کہ سامان لیے کھڑا ہے تو نفسیاتی/فطری طور یہ بات ان کے ذہن میں آئے گی کہ یہ ہماری جستجو میں ہے۔ اورکچھ سوچے سمجھے بغیر فوراً پہنچیں گے اور پھر اپنے دھندے کی بات۔مجھے بھی اس حالت میں دیکھ کرکئی ٹیکسی ڈرائیوروں نے آآکر پوچھا:
’’باس کہاں جانا مانگتا!‘‘
’’کہا ں جانے کا؟‘‘
’’ہمارا ٹیکسی میں آؤ!‘‘
(بھوج پوری،مراٹھی،گجراتی،راجستھانی کتنی ہی زبانوں میں یہ سوال کیے جاتے تھے اور جواب بھی ان میں ہی دیا جاتا ۔)
مجھے دراصل اپنے ایک میزبان کا انتظار تھا ۔اس لیے میں نے انھیں اپنے طور پر منع کردیا ۔وہ بڑبڑاتے جاتے رہے۔ پھرتقریباً آدھے گھنٹے کے بعد میں ان ہی ٹیکسیوں میں سے ایک میں سامان لا دکر محمد علی روڈ کے قریب واقع کولسا اسٹریٹ جارہا تھا جہاں کسی مینار کی طرح کھڑی32منزلہ عمارت ’’ریپڈ ہائٹس‘‘ کا فلورنمبر 9میری منزل تھا۔آدھے گھنٹے بعد جب مجھے ٹیکسی نے کولسا انٹر پر چھوڑا تو وہاں مولوی محمد فیروز قاسمی نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنے ساتھ مذکورہ فلورپر لے گئے۔دن اب صبح کی مدت سے باہر نکل چکا تھا۔گھڑی کی سوئیاں گیارہ بجا رہی رہیں تھیں ۔شاید اتنی ہی سیکنڈ بھی ہوں گی،میں نے دیکھا نہیں۔
مولانا فیروز صاحب مجھے ناشتہ کرانے لے گئے،موصوف نے بھی ابھی تک نہیں کیا تھا۔قریب ہی واقع ایک ہوٹل میں قیمہ پراٹھا،آملیٹ اور چائے ۔کیا شاندار ناشتہ تھا او رپر تکلف بھی۔اس کے بعد نماز جمعہ کی تیاریاں ہونے لگیں ۔نماز جمعہ پڑھنے کا ارادہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم امدادیہ واقع بھنڈی بازار میں تھا ۔ مولانا نازش ہماقاسمی(نعیم اختر) اور دیگر غائبانہ احباب سے ملاقات بھی متوقع تھی۔چند ضروری کام کر نے کے بعد میں اور مولوی فیروز احمد قاسمی نماز کے لیے پیدل ہی چل پڑے۔محمد علی روڈ پر آکر سامنے ایک مینارہ مسجد تھی ۔اسی کی ملگیوں میں مشہور زمانہ’ سلیمان عثمان مٹھائی والے‘ فرم کی دکانیں تھیں اور سامنے ’زمزم سوئیٹس‘ کی دکانیں تھیں ۔ان کے طفیل چند اور مٹھائی والے بھی اپنی مٹھاس بیچنے کی کوششو ںمیں مصروف ہیں ۔ایک گلی سے گزرکر دوسری گلی سے ہوتے ہوئے ہم لوگ دارالعلوم امدادیہ کے درجہ ششم کی کلاس میں روم پہنچے اور وہیں نماز ادا کی۔نماز کے بعد مولوی فیروز قاسمی تو اپنے کام سے چلے گئے اور مولانا نازش ہماقاسمی کے ہاتھ میں میرا ہاتھ تھا۔وہ اپنے دوستوں اور احباب سے تعارف کراتے ہوئے مجھے کئی گلیوں سے گزار کر ’میمن ٹائمز ‘کے آفس لے گئے ۔یہیں دوپہر کا کھانا کھایا گیاجو بریانی اور چپاتی و سالن پر مشتمل تھا۔اس کے بعد آفس کا کام شروع ہو گیا اور میں گیسٹ ویٹنگ لابی میں بیٹھ گیا۔آفس کے اونر اور دنیا بھر میں مشہورofficer فرم کے مالک عالی جناب اقبال میمن صاحب تشریف لائے۔مولانا قاسمی نے ان سے میرا تعار ف کرایا :
’’سر یہ عمران ہے ،میرا دوست،جے این یو سے آیا ہے!‘‘
’’اوہ جے این یو ،کنہیا،شہلا رشید ،وہی جے این یو نا‘‘
’’جی‘‘
اس کے بعد انھوں نے اپنے سامنے والی ریورس چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اردلی کو ’بہت اچھی‘ گرین ٹی لانے کا آرڈ پلیس کیا۔اس کے بعد وہ مجھ سے ممبئی آنے کا سبب،میرا موجودہ مشغلہ اور پی ایچ ڈی وغیرہ کے متعلق باتیں کرنے لگے۔اسی دوران میں چائے آگئی ۔باتیں بھی ہوتی رہیں ۔جن میں تعلیم،سماج،سیاست،کچھ فکریں،کچھ لمحے،کچھ کچھ اور کچھ نہ کچھ تھا۔پھر جب میں نے دیکھا کہ اب باتیں تقریباً ختم ہو چلی ہیں اور یوں ہی تکمے لگ رہے ہیں تو ان سے رخصت کی اجازت چاہی۔انھوں نے ایک لمحے سوچے بغیر اجازت دے دی۔میں پھر لابی میں آگیا۔چوں کہ آج دیر شام تک مجھے مولانا قاسمی کے ساتھ ہی رہنا تھا۔
مولانا نازش ہماقاسمی ایک اچھے اور ملٹی ٹیلنٹ قسم کے صحافی ہیں ۔ممبئی اردو نیوز سے وابستہ ہیں اور اس کے کئی مخصوص صفحات کو اپنی قلمی و فکری صلاحیتوں سے سجائے رکھتے ہیں۔فیس بک پر ان کا سلسلہ ’’منکوووول‘‘ حالات حاضرہ پر اس قدر پھبتی کستا ہے کہ بس کہنے ہی کیا!ان کا ایک سلسلہ ’’ہاں میں ۔۔۔۔ہوں‘‘ بھی ہے ۔(خالی جگہ میں کسی شخص،عہدے،کتاب،واقعے کا نام ہوتا ہے)
مولانا قاسمی نے’ میمن ٹائمز‘ میں اپنا کام ختم کیا اور پھر ہم دونوں ’میمن ٹائمز‘ ٹاور سے اتر کر پھر ان ہی گلیوں سے گزرنے لگے۔ایک جگہ چائے پی پھر مین روڈ یعنی محمد علی روڈ پر آگئے ۔یہاں سے ہمیں ناگپاڑہ جانا تھا ۔جو تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا مگر ہم نے یہ راستہ پیدل ہی پار کرنے کا من بنایا کیوں کہ محمد علی روڈ ایک مشہور ترین علاقہ ہے ۔یہیں مکتبہ جامعہ،ممبئی لٹریری ہاؤس، مج گاؤں ہاؤس،لیڈر پریس کے کمپاؤنڈ میں ماضی کے ادبا و شعرا کے ابتدائی نقوش کا گواہ دوکمروں کا گھر ، یعنی ظ۔ انصاری ثم باقر مہدی کا گھر،قومی آواز ،ممبئی ایڈیشن کا دفتر اور کئی تاریخی عمارات و مقامات واقع ہیں۔ہم لوگ ایم اے روڈ کے فٹ پاتھ سے گزررہے تھے تو چاندتارے چھاپ ہرے ہرے جھنڈے ہوا میں لہرا لہرا کر عجیب سے مسرت آگیں ماحول بنا رہے تھے۔
مکتبہ جامعہ ،پرنسس بلڈنگ،بھنڈی بازار ،ممبئی :
میں کیاکہوں مکتبہ جامعہ کی ممبئی کے ادبی حلقوں اور ادیبوں میں کیا اہمیت ہے۔آپ ندافاضلی کی کتاب’’دیواروں کے بیچ‘‘ کے الفاظ میں پڑھیے۔انھوں نے جو اور جیسا لکھا ہے،برسوں کے بعد میں نے اس مرکز کو ایسا ہی پایا۔ندا کے الفاظ ہیں:
بمبئی کے بھنڈی بازار کے علاقے میں مکتبہ جامعہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں بمبئی کے سارے زمینی فاصلے سمٹ کر ایک کتابوں کی دکان بن جاتے ہیں ۔یہاں چھوٹے بڑے ہر شاعر سے ملاقات ہوجاتی۔اس کے جنرل مینیجر شاہد علی خاں ہیں۔(شاہد علی خاں اب مکتبہ جامعہ کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا ذاتی ادارہ ’نئی کتاب پبلشرز،نئی دہلی اور سہ ماہی رسالے ’نئی کتاب‘ نئی دہلی،کے مدیر اعلا ہیں)ادیبی کے اختلافات سے دور صبح سے شام تک ان کی مسکراہٹ سب کے لیے یکساں ہوتی ہے۔
ندا آگے بھی بہت کچھ کہتے گئے ہیں اور یادوں کا ایک سیل رواں بہتا گیا ہے۔مکتبہ جامعہ کی رونقیں اب بھی وہی ہیں۔سرشام وہاں ادیب ا ب بھی جمع ہوتے ہیں اور ۔مگر اب جنرل مینیجر شاہد علی خاں نہیں کوئی اور ہیں اور جو بھی ہیں،وہ مکتبہ جامعہ کی ان ہی قدروں کے پاسبان اور امین ہیں ۔میری ایک شاندار ادبی شام بھی سہ ماہی ’’نیاورق ‘‘ کے مدیر شاداب رشید،افسانہ نگار اشتیاق سعید اور ناول نویس و مترجم عبدالباری ایم۔کے ۔کے ساتھ یہیں گزری تھی ۔چائے،باتیں ،علم،ادب،فن،فکر،ادب لطیف ،ادب جلیل ،کتنی ہی باتیں ہیں جو آج بھی ذہن تازہ میں موجود ہیں ۔
ندا فاضلی نے ’دیواروں کے بیچ میں‘‘ یہاں ایک مکان کا ذکر کیا ہے جو بوہروں کے مذہبی پیشوا سید برہان الدین نے ظ۔ انصاری کو دیا تھا پھر کسی طرح سے یہ باقرمہدی کے قبضے میں آگیا۔اس مکان کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا احوال سطور زیریں میں پڑھیے:
اس کمرے کی بمبئی میں ایک طویل ادبی تاریخ ہے۔آج کے کئی کھاتے پیتے ادیب اپنے اسٹرگل کے دنوں میں اسی کمرہ کی چھت کے ذریعے بمبئی کے کھلے آسمان سے نبردآزما رہے ہیں۔جاں نثار نے صفیہ اختر کے خطوط کا مسودہ’’زیرلب ‘‘کے نام سے یہیں ترتیب دیا ہے۔ان کی خوب صورت نظم ’’آخری ملاقات‘‘اسی کمرہ میں ان کے تیز بخار کی دین ہے۔اختر الایمان کی شاعری سے باقر مہدی کی دلچسپی یہیں کی دیواروں سے ان کے خاموش مکالموں کا رد عمل ہے۔اسد بھوپالی کے کئی کامیاب فلمی گیتوں کے مکھڑوں نے یہیں جنم لیا ہے۔راجندربیدی کے افسانوں،ظ۔انصاری کے جملوں کی انفرادی لٹک،مجروح کی غزلوں اور سردارو کیفی کی نظموں سے محظوظ ہونے کے بعداب یہ کمرہ نئے اسٹرگلوں کاسامع بنا ہوا ہے۔
’’جمعیۃ علما ہند ،مہاراشٹر ا(م) کا دفتر بھی یہیں واقع ہے۔‘‘مولانا قاسمی نے چلتے چلتے بتایا۔
’’واہ بہت خوب!‘‘ میرے منہ سے نکلا ہی تھا کہ دفتر آگیا اور مولانا قاسمی گلاس ڈورکھول کر داخل ہو گئے ۔میں نے بھی ان کی تقلید کی۔نماز عصر کی جماعت بالکل تیار تھی۔وضوتک کے لیے تھوڑی سی مہلت ملی پھر نماز قائم ہوگئی۔بعد نماز دفتر کے ارکان سے ملاقات ہوئی اور ملاقات کا لازمہ چائے بھی پی گئی۔یہاں سے بیس منٹ بعد ہم لوگ ’’ممبئی اردو نیوز‘‘ کے آفس واقع ناگپاڑہ اسٹیشن چل پڑے۔
ممبئی اردو نیوز کا دفتر:
ناگپاڑہ کے بلاسس روڈ پر واقع ’اوزون بزنس سنٹر‘ نزد مہارشٹر کالج کے گیارہویں فلور پر جب آپ لفٹ سے نکلیں گے تو پہلی نظر ’’ممبئی اردو نیوز‘‘ کے جگمگاتے سائن بورڈ پرپڑے گی ۔اس کے بعدناک کی سیدھ میں اخبار کا پرشکوہ اور اعلا و نایاب فرنیچر سے سجا دھجا ،جدید ٹیکنالوجی اور اعلا صحافتی قدروں سے لیس دفتر ، اس کا عملہ ،مدیران اور مخصوص صفحات کے ذمے داران نہایت شائستگی سے بیٹھے لیلائے صحافت کی زلفیں سنوارنے میں مصروف ملیں گے ۔ملک اور حکومت کی رگ جاں کو تقویت پہنچاتے صحافی ایسے لگتے تھے جیسے وہ وطن کی رگوں میں روح بھی پھونک رہے ہوں ۔پھونک ہی رہے تھے۔
’’ممبئی اردو نیوز‘‘ میں یوں تو کئی ایسے حضرات ہیں جو ملنسار بھی ہیں اور خورد نواز بھی تاہم ڈاکٹر شکیل رشید کا ایک اپنا ہی مقام اور انداز ہے۔میں نے کئی گھنٹے ان کے پاس بیٹھ کر گزارے ۔علمی و فکری باتوں کے علاوہ صحافت و سماج بھی ہمارا موضوع گفتگو رہا اور پھر جب آفس سے چھٹی کے بعدمولانا نازش ہماقاسمی کے ساتھ مرزا غالب چوک پر واقع ایک فوڈنگ ہوٹل میں کھانا کھا کر ۔میں محمد علی روڈ آگیا اور وہ اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب چل دیے۔
’ریپڈ ہائٹس‘ پہنچ کر جیسے ہی موبائل کا فیس بک اپلی کیشن کھولا تو ٹائم لائن پر ’’ماہنامہ تریاق ‘‘ کے سالنامے کا سرنامہ وائر ل ہوتاہوا ملا ۔اس کے زیریں کمنٹ باکس میں کمنٹس کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ناظرین اپنی اپنی پسند کے کمنٹس کررہے تھے۔ایک میں نے بھی کیا۔پھر خیال آیا کہ مدیر رسالہ میر صاحب حسن سے بات کروں اور انھیں بتاؤں کہ میں ممبئی آیا ہوں۔جیسے ہی ان کو بتایا انھوں نے پرتپاک ریپلائی۔اس کے بعد فونک ٹاکس ہونے لگیں۔خیر خیریت کے بعد انھوں نے کیادوسرے دن اپنے آفس واقع ایم۔کے ہائٹس، کرلا ملاقات کے لیے مدعو کیا۔انھوں نے مجھے ٹرین ،پلیٹ فارم نمبر اور روٹ کے متعلق سمجھا کر بتایا تھا کہ ان دنوں معروف افسانہ نگار اور سابق آئی اے ایس آفیسر،پرتپال سنگھ بے تاب بھی ممبئی آئے ہوئے ہیں ،ان سے بھی کل ملاقات متوقع ہے لہٰذا آفس سے ان کے گھر واقع ورسوا ،ملاقات کے لیے چلنا ہے۔ وہیں سے فلم رائٹر اور افسانہ نگار و شاعر مراق مرزا سے بھی ملاقات کے لیے چلنا ہے۔رات میں ہی آنے والے پورے دن کا شیڈول طے ہو گیا ۔پھر ملاقات تک کے رخصت کی اجازت لے دے کر دونوں جانب سے فون کٹ گئے۔
میرا پہلا لوکل ٹرین کا سفر،ماہنامہ تریاق کا آفس اور کرلا :
دوسرے دن پوچھتا پوچھاتا او ربتانے والوں کے مطابق لیفٹ رائٹ ’مارتا‘ ہوا ،مسجد بند رر یلوے اسٹیشن کی طرف چلا تو عجیب سا ہی منظر دیکھنے کو ملا ۔دورسے ہی ایک ہجوم چلا آرہا تھا۔ہجوم میں شامل افراد کی بدحواسی سے پتا چل رہا تھا کہ یہ حالیہ گزرنے والی ٹرینوں کے مسافر ہیں ۔ہجوم ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی جلوس،ریلی،اجتماع یا ست سنگ سے چھوٹ کر آیا ہے۔ میں اسی ہجوم سے ٹکراتا ہوا مسجد بندر اسٹیشن پہنچا اور کاؤنٹر سے کرلا کا ٹکٹ لے کر پلیٹ فارم نمبر ۔3سے مشہور زمانہ ’ممبئی لوکل‘ ٹرین پکڑی۔صبح کا وقت اور جلد بازی ،صبح کا وقت اور ممئی کی لوکل،صبح کا وقت اور ممبئی۔ان تینوں کا مجموعہ ہے’’بھیڑ‘‘ ——–مسجد بندرسے کرلا تک ہر اسٹیشن پر یہی نظارادیکھنے کو ملا۔ممبئی لوکل کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہر اسٹیشن آنے سے پہلے کمپیوٹرائزڈ وائس میں مراٹھی،ہندی اور انگلش میں اس کا اعلان کیا جاتا ہے ،اسی طرح اسکرین پر بھی مذکور ہ زبانوں میں نام رول ہوتے رہتے ہیں۔اس سے نئے مسافر کو اپنے اسٹیشن پر اترنے میں دقت نہیں ہوتی،ہاں یہ بات الگ ہے کہ وہ دروازوں پر لٹکی،جھٹکی اور ٹھسا ٹھس کھڑی بھیڑ کی وجہ سے اتر ہی نہ پائے اور اگر کسی طرح اتر بھی سکے تو پِس کر ہی رہ جائے۔خدا کا شکر ہے کہ میں اس کولہو سے صحیح سلامت نکل کر کرلا اسٹیشن پر اتر گیا اور پھر باہر آکر پیدل ہی ایم ۔کے ہائٹس کی جانب چل پڑا۔
ماہنامہ تریاق اپنی عمر کے آٹھویں برس میں داخل ہو چکاہے۔اس کے مدیر اعلا ضمیر کاظمی اور مدیر و معانین میں میرصاحب حسن ،حنیف قمر،سید فیض الحسن اور دیگر علم و ادب کا ستھرا ذوق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔یہاں میر صاحب حسن اور حنیف قمر سے ملاقات ہوئی۔بہت سی باتیں ہوئیں اور دوپہر کا کھانا بھی ساتھ ہی کھایا گیا۔وہاں سے ہم لوگ پرتپال سنگھ بے تاب کے مکان پر پہنچے ۔ یہاں سردار جی نے قہوے اور سوئٹس سے مہمانوں کی ضیافت کی ۔تعارف،رسمی گفت و شنید اور ایک دوسرے کے عادی ہوجانے کے بعد حنیف قمر نے ماہنامہ تریاق کے آئندہ شمارے کے لیے سردارجی کا ادبی انٹرویو لیا ۔باتیں ادب سے لے کر ادب تک تھیں ۔کچھ شکوے تھے اور کچھ مشورے ،کچھ جدو جہد کی نصیحتیں تھیں اور کچھ اہل زبانان و سرکاروں کی، زبان اردو کے تئیں سرد مہری کے قدیم فسانے ۔انٹرویو کے بعد ورسوا سوسائٹی کو آس پاس سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ساحل سمند ر پر کھجور اور تاڑ کے اونچے اونچے درختوں کے درمیان وہ سوسائٹی ایک خوشگوار تاثر ابھاررہی تھے۔ شوخ و چنچل ہواؤں نے تو اونچے درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر فسوں زار سماں بنا دیا تھا۔وہ دن کا وقت تھا اس لیے اچھا لگ رہا تھا۔رات میں ممکن ہے سرسراتی ہوا ،ہیبتیں طاری کردیتی ہو ۔ورسوا سوسائٹی کے راستے میں آنے والے بہت سے مکانوں اور فلیٹس کے مکینوں کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ یہاں فلمی دنیا میں آنے والے اسٹرگلرافراد رہتے ہیں ۔ان میں سے کچھ تو منزل مراد پاجاتے ہیں اور کچھ تلاش منزل میں ہی سرگرداں رہتے ہیں۔
سردارجی سے رخصت کے بعد اب اگلی منزل مراق مرزا کا گھر تھا ۔وہ علاقہ کس قدر سنسان اور اداس تھا۔ممکن ہے فلیٹس کے اندر جنتیں آباد ہوں ،مگر باہر تو ———میں نے جب اس عالم و کیف کا ذکر میر صاحب حسن سے کیا تو انھوں نے ’پروین بابی ‘ کی المناک موت اور آخری وقت کا قصہ سنا کر ان مکانوں او رمکینوں کی اصلیت کا ایک آئینہ دکھا دیا۔ویسے ایک جانب ممبئی کی بھیڑ اور رہنے سہنے کی تنگی،مکانوں کا ایک دوسرے سے چپک کر کھڑا ہونا ،دوسری جانب ورسوا ،باندرہ اور کچھ دیگر علاقوں کی بے انتہا کشادگی اور آدم و آدم زاد کی نایافتگی ،بہت سے سارے سوال کھڑے کرتی ہے۔مراق مرزا سے تقریباًدو گھنٹے ملاقات رہی ۔اس ملاقات میں شعر،ادب،فکشن اور دیگر اصناف ادب کے بعد پھر ممبئی کے ادبی ماحول اور ادیبوں کی سرگرمیوں پر تان ٹوٹی ۔میں سنا کیا،وہ کہتے رہے۔بلکہ ہم سب مہمان سنا کیے،ہم سب کہتے رہے۔تقریباً آٹھ بجے شب رخصت کی اجازت ملی۔اب ہم تینوں کو الگ الگ جانا تھا لہٰذا ایک بہت اچھا فیصلہ کیا گیا کہ ممبئی میٹرو ریل کے ذریعے کسی ایسی جگہ اترا جائے جہاں سے میرا اسٹیشن قریب ہو ۔اس طرح مجھے ممبئی میٹرو ریل میں سوارہونے کا موقع ملا تھا نیزدلّی میٹرو ریل اور ممبئی میٹروریل کا تقابل کرنے کا بھی۔جو میں نے کیا بھی اور دلّی میٹرو کو بوجوہ ممبئی میٹرو سے اچھا پایا۔’’بھیڑ!‘‘ یہ تو خیر ممبئی کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ اس کے جسم و جاں میں بسا ایک مستقل عنصر ہے۔پلیٹ فارمس اور اسٹیشنوں کی تعمیر میں استعمال شدہ میٹریل او ردیگر حفاظتی اسباب کا نقص نمایاں تھا ۔میں نے کئی چیزیں ممبئی میٹرومیں ایسی محسوس کی جو ناقابل رقم بھی ہیں اور آئندہ کے لیے چوکنّا رکھنے والی بھی۔ہم لوگ تقریبا 10اسٹیشن پار کر کے یاری روڈ اسٹیشن پر اترے ۔وہاں سے حنیف قمر ہم سے جد ا ہو گئے ۔میں اور میرصاحب حسن آٹو کے ذریعے کرلا پہنچے ۔درمیان میں ممبئی کی انتظامی صورت حالی،پانی،سیلاب،بارش،عام طرز رہائش اور بہت سی باتیں میں نے ان پوچھیں جن سے میر ی معلومات میں بھی اضافہ ہوا اور آنے والے دنوں میں ممبئی میں گزارنے جانے والے ایام میں مصلحت ،آگاہی اورخردمندی کے اسباب بھی مہیا ہوئے۔
رات کے پونے دس بج رہے تھے جب میں مسجد بندر اسٹیشن پہنچا۔اب نہ بھیڑ تھی اور نہ گہماگہمی کا عالم ۔بس چند بھٹکے ہوئے لوگ تھے ۔ممبئی پوری طرح جاگ رہی تھی۔سڑکوں پر جشن کا سا ماحول تھا ،ہاں فٹ پاتھ سونے پڑے تھے اور ان کی سنسناہٹ کا موقع اٹھا کر چند دھاڑی مزدوراینٹوں کا مصنوعی چولہا بنا کر لکڑیوں سے کھا نا بنا رہے تھے۔کوئی ان میں آٹا گوندھ رہا تھا تو کوئی سبزی کاٹ رہا تھا اور کوئی برتن صاف کررہا تھا۔خلق خدا ان کے پاس سے ،ان کے حال سے بے خبر گزرتی جارہی تھی۔
کرلا کا سنسار ہوٹل:
20جنوری کو جب کرلا میں ،مشاہیر ادب کے ساتھ ایک محفل میں شریک ہوا تو چائے ایک محفل میں معروف محقق و مضمون نگار سید احمد قادری اور مجھے افسانہ نگار اشتیاق سعید نے اسٹیشن کے قریب واقع ’’سنسار‘‘ہوٹل کے متعلق بتایا کہ ’’سنسار ہوٹل‘‘ اور ممبئی کے ادب و ادیبوں کے مابین گہرا اور تاریخی رشتہ ہے۔ایک زمانہ تھا جب یہاں سردارجعفری، نقش لائل پوری،ندا فاضلی، صبا فاضلی،مہدی باقر،کیفی اعظمی ،راجندر سنگھ بیدی وغیرہ ادبا و شعرا جمع ہوتے تھے اور گھنٹوں اس کی مخصوص نشست پر بیٹھے رہتے ۔اس ہوٹل کا مالک ایک سدن(ساؤتھ انڈین شخص) تھا۔ گو وہ اردو زبان و ادب سے نابلد تھا مگران ادیبوں کے علمی و دابی مباحثوں،شعرووسخن اور نئی تخلیقات پر تجزیاتی گفتگو سے کہیں نہ کہیں اس کے ذہن و دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ یہ ضرور بڑے لوگ ہیں اور کسی نیک مشن میں مصروف ہیں ۔لہٰذا ان کے لیے ہوٹل میں نہایت سلوک سے پیش آیا جائے اور ان کے لیے ’’ادھار‘‘ کا رواج بھی شروع ہونا چاہیے۔وہ اس نے کیا اور اس کا ہوٹل آج لفظوں میں تحریر ہورہا ہے۔
ممبئی میں تیسرا دن:
آج اتوار تھا اور صبح اپنی تمام جولانیوں سمیت نمود ارہو رہی ۔جیسے جیسے سورج عمودی سمت میں پرواز کرتاجارہا تھا، ممبئی جاگتی اور متحرک ہوتی جارہی تھی۔کل شام اور رات کے کچھ پہروں تک تھمنے والی گردی اب پھر سے سراٹھا رہی تھی۔گو سڑکوں پر آفیسرز کی گاڑیاں اور بھیڑ تو نہیں تھی مگر اب اس خلا کو سڑکوں پر سنڈے بازار لگانے والے اور ان کی سیر کرنے والے بھررہے تھے۔سیلس ورکرس کی آوازیں،وہی آوازیں جو دہلی،لاہور،کراچی اور ڈھاکہ کے اس طرح کے بازاروں میں مختلف ٹونس،جملوں،فقروں اور اندازوں سے لگائی جاتی ہیں۔عورتوں کو خاص طور سے لبھانے کی کوششیں اور انھیں لال ،پیلے،ہرے،گلابی،چمپئی ،ہر طرح کے باغ دکھانے کے انداز۔تاہم اتنا ضرور تھا کہ مہنگی سے مہنگی چیز بھی بارگننگ کے بعد اونے پونے میں بلکہ کوڑیوں کے بھاؤ مل رہی تھی۔اب یہ مت پوچھیے کہ ان سامانوں کے چلن کی مدت کیا رہی ہوگی اور انھوں نے کب تک اپنے خریدنے والے کا ساتھ دیا ہوگا۔
میں ایک کرانہ مارکیٹ میں چلا گیا۔گاؤں کی عورتیں کھیتوں کی دالیں،دوتین طرح کے ثابت چنے، موم پھلیاں،تیل،تیلہن،کچھ ہاتھ سے بنے کپڑے،ناریل ،گیہوں کی کچی بالیں ،گرم مصالحے ،سوکھی لال مرچیں ،ہری مرچیں،کچھ مدت تک سلامت رہنے والی سبزیاں،آٹا اور ثابت اناج وغیرہ تو وہاں تھا ہی،مراٹھا عورتوں کا ڈیل ڈول ،بڑی بڑی آنکھیں اور ان میں نمایاں کیچڑ،دوپٹہ آدھے سر تک کسا ہوا ،لکڑی کے پٹروں پر ان کا بیٹھنا اور ان سے سامان خریدنے والوں سے تیزتیز آواز میں ان کا بولنا،کہیں مردوں کا بھی ان کی نقلیں کرنا یہ سب اس پر مستزاد تھا۔میں دورتک یہ سب دیکھتا چلا گیا ۔پھر ان ہی قدموں واپس آگیا۔آتے وقت میرے ہاتھ میں بھی کچھ شاپرس تھے۔اس کے بعد میں نے وہ پورادن اپنے کمرے میں ہی گزارا۔شام کو جب موسم خوشگوار ہو گیا تو میں پھر ممبئی کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کے لیے نکل گیا۔صبح کا لگنے والا بازار اب تک شباب کی منزلوں سے بھی آگے نکل گیا تھا ۔لنک روڈ،سردار ولبھ بھائی پٹیل مارگ،حضرت علی علیہ السلام چوک،محمد علی روڈ،نل بازار کی گلیاں اس طرح بھری ہوئی تھیں جس طرح کھیت کی نالیاں زوردار فصل سے بھری بھری نظر آتی ہیں۔وہ تو بلڈنگیں اور مکان ہی بلند بلند تھے ورنہ وہ تو انسانوں کی اس بھیڑ میں دب ہی جاتے۔آتے جاتے لوگ،ٹریفک کا اژدہام،برقع پوش انڈونیشن اور مقامی ہر عمر کی خواتین ،بچوں کو گود میں اٹھائے شوہر اور بڑے بیٹے،اگر آج رجب علی بیگ سرور زندہ ہوتے تو وہ ممبئی کی اس بھیڑ کو دیکھ کر الٹ پلٹ ہی ہوجاتے۔انھیں اس وقت سمجھ میں آتا کہ اصل بھیڑ کیا ہوتی ہے اور دھکا مکی کا حقیقی مطلب کیا ہے۔ان کی سانس پھنس پھنس جاتی اور وہ چند دنوں میں ہی دمے کے مریض ہوجاتے۔
ممبئی میں جہاں میرا قیام تھا ،وہ ڈونگری کے قریب کھڑک کا علا قہ اور اس کی بھی گلی ’’ٹن ٹن پورہ‘‘ تھا —– –یہیں پر چھوٹے اور بڑے لال دروازے کے پاس ایک درگاہ ہے۔جسے عبد الرحمان شاہ کی درگاہ بتایا جاتا ہے۔ان ہی دنوں بزرگ موصوف کا‘ عرس شریف‘ تھا۔جس کے لیے مین روڈ سے لے کر چھوٹے بڑے لال دروازے اور کھڑک پولیس چوکی کے تمام علاقے کو رنگ برنگی برقی پھلجھڑیوں اور قمقموں سے سجا دیا گیاتھا۔عرس کی تقریبات کا سلسلہ تقریباً چھے روزرہتا ہے ،ان چھے دنوں میں ہر دن کوئی نہ کوئی تقریب ہوتی ہے اور سرِشام ہی پورا ایریا روشنیوں سے جگمگا اٹھتا ہے۔عقیدت مند اپنے اپنے طو رپر یہ تقریب مناتے ہیں۔چھوٹے لال دروازے پر دونوں جانب لوہے شیر کھڑے کر دیے جاتے ہیں اور ان کے بالکل محاذ میں پانچ پانچ فٹ کے مصنوعی فوار ے پانی برساتے رہتے ہیں۔گلیوں میں عقیدت مند شبیہ گنبد خضرا لے کر جدید ترین ڈی جے ساؤنڈ اور جھنکار کی آواز پر ترانے،منقبتیں اور مدحیں بجاتے گاتے نکلتے ہیں۔پورا علاقہ شور سے بھر جاتا ہے ،نیند و چین الگ خراب ہوتا ہے۔
ایک شام جب میں اپنے دن بھر کے کاموں سے فارغ ہوکر اور لوکل کے دھکوں سے آزاد ہوکر’ سٹی ہائٹ ‘ بلڈنگ کے سامنے سے گزررہا تھا،ایک ہنگام میری راہ میں حائل ہوگیا۔شاہ صاحب کے عراس عقیدت مند پوری گلی روکے ،آئیشر اور فورس کے ٹرکس پر ڈی جے ساؤنڈس لگا کر چل رہے تھے۔ایک منقبت خواں open challenge کررہا تھا ۔ہاتھ ہلا ہلا کر دعوت دے رہا تھا کہ ہے کوئی اس سے اچھا گانے والا،حالاں کہ اس سے اچھا پھٹے بانس بھی گالیتے۔مگر بھیا،جس کی چونّی چل گئی ،چل گئی۔اس کی تو کھوٹی اٹھنّی چل رہی تھی ۔
عرس ختم ہونے کے بعد ایک دل دوز منظر دیکھا۔وہی شبیہ گنبد خضرا ،جسے چوم چوم کر اور جس سے لپٹ لپٹ کر عقید ت مند کہہ رہے تھے:
ہم گنبد حضرا کے کبوتر،ہماری فدا ہے جاں اس پر
اور
گنبد خضرا ہماری آبرو،ہماری آرزو
ہم طلب گاراس کے،وہ ہے ہماری جستجو
وہی شبیہ گنبد خضرا گلی کے کوڑے دان میں پڑی تھی۔اس کے آس پاس گھروں کے کوڑے سے بھرے شاپرز اورتھیلیاں پڑی ہوئی تھیں ،دوسری گندگیاں الگ تھیں۔اب میں اس بے حرمتی پر افسوس جتا کر ہیروگیری نہیں کروں گا ،چوں کہ اس پر افسوس کرنا میرا ایمان اور فرض تھا،محبت رسول اور عقیدت محمدی کا تقاضا تھا،جو میں نے کیابھی۔شکر ہے کہ دودن کے بعد شبیہ کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
انجمن اسلام ،ممبئی
ممبئی عظمیٰ میں میرا چوتھا دن اور انجمن اسلام کریمی لائبریری و انجمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لائبریری کی سیر ،شمیم طارق صاحب سے ایک یادگار ملاقات ——–اب آگے۔۔۔
انجمن اسلام ممبئی،ممبئی کی مسلم امہ کا ایک اپنا ادارہ ،ایک اپنا ٹرسٹ اور ایک اپنا مقام وشعار۔جس کے زیر اہتمام میں ممبئی بھر میں اردواسکول،ٹیکنکل اسکول،سائنس اسکول اور متعدد ادارے مصروف عمل ہیں ۔اسی طرح دو لائبریریاں ،انجمن اسلام کریمی لائبریری،اور انجمن اسلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لائبریری بھی باحثین اور محققین کے لیے ایک بے مثال ذخیرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ انجمن اسلام کا کیمپس سکرٹریٹ ایریے میں عین چھترپتی شیواجی ٹرمینل کے بالکل سامنے دادابھائی نوروجی روڈ پر واقع ہے۔اس کی عمارت انگریزی طرزو عہد کی یاد گار اور اسی کی طرح کی مضبوطی لیے بلند وجود و سراپے کے ساتھ کھڑی ہے ۔ تاریخ کے جھرونکوں میں جھانکیں تو پتا چلتا ہے کہ انجمن کا سنگ بنیاد بہادر گورنر بمبئی کے ہاتھوں31مارچ 1890میں،میں رکھا گیا اور اس کا افتتاح لارڈ ہاریس بہادر گورنر بمبئی کے ہاتھوں 1893میں عمل میں آیا۔انجمن کی مکمل تاریخ اس کے صدر دروازے دائیں جانب نصب پتھر سے معلوم ہوتی ہے۔جس کی عبارت یہ ہے:
الحمدللّٰہ والمنۃ
کہ این عمارت کہ مدرسہ مبارکہ انجمن اسلام است دراین زمان دولت اعلٰحضرت پادشاہا انکلستان و قیصر ہندوستان ملکۂ معظمہ الشان وکتوریہ مساعی انجمن اسلام و اعانت اہل اسلام بنا شدہ سرکار عظمت مداردارالحکومۃ مسبی علاوہ بر بخشش یک قطعہ زمین کران کہ بھاکہ این عمارت برآن قائمست بہ مبلغ سی و ہشت ہزار روپیہ امداد فرمودہ سنک اساسشن بتاریخ نہم شعبان ۱۳۷۰؁ھ ہزارو سیصد و ہفت ہجری مطابق بتاریخ سی و یکم مارچ۱۸۹۰؁ء ہزارو ہشتصدونود عیسوی بدست نوّاب مستطاب لاردری بہادر گورنرنھادہ شدہ و پس ازاختتام تعمیر رسم افتتاحش بتاریخ دہم و ماہ شعبان ۱۳۱۰؁ہزارو سیصد دہ ہجری مطابق بتاریخ بیست و ہفتم فپروری ۱۸۹۳؁ء ہزارو ہشتصد و نودسہ عیسوی بدست نوّاب حشتماب لارد ھاریس بہادر گورنربمبئی بسمت وقوع پذیر رفتہ معماریش بعھدہ کفایت کارپرواز ان پبلک ورکس دپارتمنت مفوِّض بودہ و بر مبلغ یک لک و سی دنہ ہزار روپیہ بانجام رسیدہ خداوند بیزوال از حوادث لیل و نھار نکاہش داردو آنراوسیلہو جبر حال و ترقی مسلمانان کرداند
امین اللّٰھم آمین
صدر انجمن بدرالدین طیب جے
پیشکاران عبداللہ مھر علی دھرمے
فحقلے شیخ احمد
انجمن اسلام کے سامنے سے گزرنے والا دادابھائی نوروجی روڈ نہایت صاف ستھرا روڈ ہے۔روڈ کا ڈیوائڈر بہت اچھی باغبانی اور خصوصی توجہ دہی کا مظہر ہے۔یہ روڈ حج ہاؤس کے آگے سے سید مخدوم ماہمی پل اور محمد علی روڈ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور ایک طرف سے منترالیہ(سکٹریٹ)سے ہوتے ہوئے گیٹ آف انڈیا اور وکٹوریہ کی جانب نکل جاتا ہے۔اس روڈ پر انجمن اسلام کے علاوہ دوسری تاریخی عمارات بھی موجود ہیں۔
جمعرات،ایک چھٹی اور ایلی فنٹا کی سیر:
ممبئی میں میرے سحر،شام اور شب یوں ہی گزررہے تھے کہ میرے ایک دیرینہ دوست شاداب علی زیدی کا فون آیا کہ عمران جمعرات کو خالی رکھیے،اس دن میری چھٹی ہے،کہیں گھومیں گے،یا تم جہاں کہو ——– جب انھوں نے عمران پر یہ ذمے داری ڈالی تو الہڑ اور سرپھرے عمران نے اپنی چلاتے ہوئے’ ایلی فنٹا‘ کی سیر کرنے کا کہہ دیا۔جسے انھوں نے منظور کرلیا۔جمعرات آئی اور ہم دونوں دوپہر کا کھانا کھا کر گیٹ وے آف انڈیا پہنچے۔وہاں سے انجن اسٹیمر کا 200روپے کا ٹکٹ لیا اور اسٹیمر کے اوپر والے پورشن میں پہنچ گئے۔تقریباً سوا گھنٹے کا سمندر ی سفر ہم دونوں نے کھڑے کھڑے ہی طے کیا ۔کیوں کہ تمام نشستوں پر پہلے ہی قبضہ ہوچکا تھا۔جیسے ہی اسٹیمر نے ساحل ممبئی کو خیر آباد کہا اور کچھ ہی دور چلا کہ کبوتر کے جثے اور شکل وہیئت کے سفید رنگ کے پرندے کیاؤں کیاؤں کی آوازیں نکالتے ہوئے اسٹیمر کے اوپر منڈرانے لگے۔سیاح انھیں چپس ،موم پھلی کے دانے،مکئی کے دانے اور جانے کیا کیا کھلانے لگے۔طریقہ یہ تھا کہ ان چیزوں کو پانی کی طرف اچھالا جاتا اور اڑتے پرندے چشم زدن میں اسے کسی لیجنڈری کیچ کیپر کی طرح کیچ کرتے ۔مجھ سمیت ہر ایک اُن کی اس ادا پر انگشت بدنداں تھا۔میں نے بھی اپنا چپس پاکٹ کھولا اور انگلیوں کے آخری سرے پر چپس اٹکا کر اوپر کیا،دوتین پرندے جھپٹے ،مگر ان میں سے کامیاب ایک ہی ہوپایا۔میرے دیکھا دیکھی اب دوسرے بھی ایسا ہی کررہے تھے۔پلٹ کر جھپٹنے اور جھپٹ کر پلٹنے نیز لہو گرم رکھنے کے بہانے کی تعبیر اس وقت سامنے موجود تھی۔یہ کھیل تماشا جاری رہا اور ہمارا اسٹیمر ایلی فنٹا پہنچ کر لنکر انداز ہوگیا۔
ایلی فنٹا سمندر کے بیچوں بیچ ہندوستانی سرحد میں واقع ایک پہاڑی جزیرہ ہے۔قدیم زمانوں میں اسے بدھسٹوں نے اپنی عبادت کے لیے آباد کیاتھا۔پھر انگریزی عہد میں یہاں یونین جیک لہرایا گیا اور موجودہ دنوں میں اسے ہندوستانی سیاح آآکر دیکھتے ہیں۔اسٹیمر سے اتر نے کے بعدپہاڑ پر پیدل بھی جاتے ہیں اورٹوائے ٹرین کی سہولت بھی موجود ہے۔کئی مقامات پر ٹکٹس لے کر ہم دونوں پانچ سو سیڑھیاں چڑھ کر پہاڑیوں پر چڑھتے چلے گئے ۔سیڑھوں کے دونوں کناروں پر ہنڈ کرافٹ اور آرٹی فیشیئل مصنوعات کی دکانیں لگی ہوئی ہیں ۔جن کی وجہ سے راستہ تنگ سا ہوگیا ہے۔پورا پہاڑ سوکھے درختوںاور جھاڑیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔یہ کتنا عجیب واقعہ ہے کہ سمندر کے بیچوں بیچ رہنے کے باوجود پہاڑ پر کے درخت پانی مانگ رہے تھے۔ان کے ہاتھ اور منہ اوپر اٹھے ہوئے تھے جیسے آسمان کے خدا سے پانی مانگ رہے ہوں ۔ ان کے ساتھ ساتھ ان پر بسنے والی مخلوق بھی پیاسی تھی ،اچھلتے کودتے بندر بھی پیاسے تھے اور سیاحوں سے بوتلیں چھین چھین پر پانی پی رہے تھے۔ ایک بندر نے ہمارے سامنے ہی ایک عورت سے بوتل چھینی اور پاس کے درخت پر جاکر اوک(چُلّو) سے پانی پینے لگا(بندر کبھی منہ لگا کر کوئی چیز نہیں کھاتا،وہ ہمیشہ ہر چیز ہاتھ سے کھاتا ہے) مگر اس عمل میں پانی اس کے پیٹ میں کم اور زمین پر زیادہ گررہا تھا۔اس وقت ایک محاورہ بناکہ’’بندرکیا جانے پانی کیسے پیا جاتا ہے‘‘ —– —
پہاڑ کے درختوں اورمخلوق کی طرح پانی تو ہم لوگ بھی مانگ رہے تھے۔ایک دوکان دار سے بوتل لی ،اس نے 20 روپے کی بوتل 50میں دی۔اس وقت سمجھ میں آیا کہ موقع کا فائدہ کیسے اٹھایا جاتا ہے اور مافیا گیری کیا چیز ہوتی ہے۔حلق تو سوکھ ہی رہے تھے ،لہٰذا اس کی مکار آنکھوں اور لٹیرے ہاتھوں کی نذر سو روپے کا نوٹ کر نا ہی پڑا۔ہم لوگ تقریباً تین گھنٹے وہاں رہے اور جب تھکے ہارے دوبارہ اسٹیمر سے گیٹ آف انڈیا کی جانب بڑھ رہے تھے،افق مغرب سورج کو اپنی آنکھ میں پوری طرح اتار چکا تھااور کاینات نے سیاہ سیاہ چادر اوڑھ لی تھی ۔تاہم شہر جگمگا رہا تھا اورسڑکیں روشنیوں میں نہا رہی تھیں۔اب ہم لوگ تھے اور ممبئی کی سڑکیں اور ٹیکسیاں ۔ان میں سے ایک ٹیکسی لے کر ہم لوگ بھنڈی بازار آگئے ۔یہاں سے ہم دونوں کے راستے الگ ہوتے تھے لہٰذا کسی آئندہ اگلی طویل ملاقات کا وعدہ کرکے ہم لوگ سلام اور ہینڈ شیک کرکے جدا ہوگئے ۔

18جنوری 2019 —– ماٹونگا میں ایک شام
ممبئی ،جو اقوام عالم اور بالخصوص ہندوستانی قوموں کا صدیوں سے مسکن رہا ہے۔یہ کہنے اور بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ممبئی میں کتنی قومیں آئیں اور کب کب ؟اس لیے کہ اس کا پتا ہمیں ممبئی کے علاقوں میں بسنے والے افراد اور انسانوں سے ہوجاتا ہے ۔وہ کہاں سے آئے اور کب؟ یہ تو بہت معمولی سا سوال اور بات ہے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ انھوں نے یہاں آکر بھی اپنی شناخت،سنسکرتی،اقدار اور شعار نہیںبدلے نیز وہ ان پر سختی سے کاربندبھی ہیں اور مقامی ماحول کے ساتھ اپنے کلچر کو شامل کرکے انھوں نے ہم آہنگی کے تصور کو نیا عنوان بخشاہے۔
ماٹونگا ،ممبئی کا ایک ایسا ہی علاقہ ہے جس میں دوردراز تک ساؤتھ انڈین آباد ہیں ۔ان کا تعلق کرناٹکا،آندھرا اور ماضی کی میسور،ارکاٹ وغیرہ ریاستوں سے ہے۔یہاںمیرے آنے کا سبب یہ تھا کہ یہاں کے ’’میسو رہال‘‘ میں لیجنڈری افسانہ نگار سعادت حسن منٹوکی برسی پر ایک پروگرام ’’منٹو :ایک سیاہ حاشیہ‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا ۔جس کے آرگنائزرس میں اسلم پرویز(ممبئی) شاداب رشید (مدیر :سہ ماہی نیاورق) اور ان کے رفقا تھے۔پروگرام سے قبل حسب روایت ہال کی دیوارو ںپر چاروں طرف منٹو اور ان کے افسانچوں کے مجموعے’’سیاہ حاشیے‘‘ پر مبنی پینٹنگس آویزاں کردی گئی تھیں۔جنھوں نے مذکورہ پروگرام کی وقعت و معنویت دوچند کردی۔
میسور ایسو سی ایشن ،ممبئی کا’’میسور ہال‘‘اردو اسٹیج ڈراموں کے لیے معروف ہے۔گویہاں دوسری زبانوں کے پروگرام اور مختلف ایونٹس بھی ہوتی ہیں تاہم اردو ڈراموں،پلیز ، ڈاکیومنٹریزاور بائیو پکس کے لیے اس نے خصوصی مقام حاصل کر لیا ہے۔سہ منزلہ عمارت پر مشتمل ’میسو رہال‘ کا محل وقوع ماٹونگا(مشرق) کے ماٹونگا سرکل سے جانب مغرب ہے۔یہ پورا علاقہ ماٹونگا اسٹیشن سے ہی جنوبی ہندوستان کا خطہ محسوس ہونے لگتا ہے ۔اسی طرح کے مکانات،رہن سہن،لباس و پوشاک،تہذیب و کلچر،بولی ٹھولی،مارکیٹس ،موسم و ہوا ،عام مناظر،سب ایسے ہی ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم ساؤتھ کے کسی شہر میں گھوم رہے ہیں ۔سڑکوں کی دونوںجانب گل مہر کے پیڑ لگے ہیں جن پر اس وقت کونپلیں کھل رہی تھیں اور جب ایک ماہ بعد میں یہ سطور لکھ رہا ہوں،ان کا عالم شوق دیکھنے کے قابل ہوگا۔وہ رنگ برنگے اور شوخ رنگ پھولوں سے لدے پھندے ہوں گے اور ناظرین و شائقین کی پردید آنکھوں کے لیے باعث تسکین بنے ہوں گے۔
بھاگ دوڑوالی ممبئی کے افراد ثقافتی،ادبی و تہذیبی پروگرامس کو بہت شوق سے دیکھتے ہیں اور اگلی ایونٹ تک گزشتہ ایونٹ کی تمام باتیں یاد رکھتے ہوئے آپس میں ڈسکشن بھی کرتے رہے ہیں تاکہ وہ خوب صورت یادیں اور لمحات وقت کے تیز رفتار اور بے سمت دھارے کی نذر ہوکر ان کے ذہنوں سے محو نہ ہو جائیں ۔
میسور ہال اوڈی (آڈیٹوریم) میں ایک ہزار افرا دکے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔شائقین و ناظرین میں اعلا و متوسط افراد کے علاوہ کالج و یونیورسٹیز کے طلبا و طالبات بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں ۔
دو دن ناسک میں
اہیونت گڑھ کی بلندو بالا پہاڑیوں سے جب دائیں جانب نیچے اترتے ہیں تو اس کے دامن میں ذرا دور ایک ایسے آباد اور خوش حال شہر کو پاتے ہیں جس کا شمار ہندوستان کے ٹاپ ٹین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بھی شہر ناسک متعدد خوبیوں کا مالک ہے۔
اسی نہایت برق رفتاری سے ترقی کرتے اور خوب صورت ضلع ناسک کے مستقر (ہیڈکوارٹر) ’شہر ناسک‘ کا ذکر ہے اوربیاں میرا۔ شہر مذکور کوحالیہ دنوں حکومت ہند نے ڈیموسٹک ایئر پورٹ کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ جس کے بعد ریلوے اور سڑک کے علاوہ ملک کے دیگر خطوں سے اس کا فضائی رابطہ بھی ہوگیا۔نیشنل ہائی وے نمبر۔3آگرہ ٹو ممبئی پر ،ممبئی سے 153کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر ناسک(ناشک روڈ) پانڈؤں کی گپھاؤں ،بدھسٹوں کے مذہبی مقامات اور ہندومت کی قدیم روایات اورآستھاؤں،پرفضا مقامات پر واقع پر شکوہ منادر اور ان کی برکتوں سے مالا مال ہے۔جنگلوں میں کیسلس ،ریزورٹس ،،فارم ہاؤسز، کی رعنائی وزیبائی کے علاوہ قدرت نے بھی اسے اپنی نعمتوں کی خصوصی توجہات سے مالا مال کیا ہے اور دریائے گوداوری کا میٹھا پانی، اسے نصیب کیاہے۔متعدد نہروں اور ندیوں کے کنارے آباد یہ شہر چاروں طرف سے پہاڑیوں اور سرسبزو شاداب میدانی علاقوں کا آئینہ نما بنا ہوا ہے۔اس شہر سے میرا رشتہ یہ ہے کہ یہاں میری روحانی ماں ،معروف شاعرہ رئیسہ خمار آرزو رہتی ہیں۔مادر محترم سے میری ملاقات فیس بک کے ذریعے ہوئی تھی جو ہوتے ہوتے یہاں تک پہنچی کہ میں آج ناسک میں اپنے گزرے دو دنوں کا حال لکھ رہا ہوں ۔یہ دودن میںنے مادر محترم کی رہائش گاہ پر ہی گزارے تھے۔یہ دودن میرے لیے دوقرن (دو صدیوں) کے برابر ہیں۔
میں دس بجے ناشک روڈ اسٹیشن پر اترا ،وہاں سے شیئرنگ آٹو سے دوارکا پہنچا ۔جیسے ہی ایک مخصوص مقام پر اترا،مادرمہربان اسکوٹی لیے منتظر ملیں۔وہاں سے ہم دونوں رہائش گاہ پہنچے۔اب دوپہر ہونے والی تھی اور لنچ کا بھی وقت تھا ۔لہٰذا کچھ دیر بعد چینجگ،فریشنیس اور چنداں آرام کے بعد لنچ کیا گیا۔بعد ازاں ہم لوگ پانڈوؤں کی غاریںدیکھنے کے لیے چل پڑے۔اونچے پہاڑ پر قدیم زمانوں کی بنی ہوئی یہ غاریں محکمۂ آثار قدیمہ ہند کے زیر اہتمام ہیں۔پانچ سو سیڑھیوں کی مسافت طے کرنے کے بعد جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو شہر ناسک ہمارے سامنے تھال میں سجے پھولوں کی مانند نظر آرہا تھا۔ہمارے پیچھے پہاڑ تھا اور سامنے دونوں اطراف میں پھیلے میدانی علاقے تھے۔ان کی بھوری بھوری ریت اور ان پر اگے درخت و چھوٹے چھوٹے پودے کاینات کی رعنائی و صفااور افروزی کا نشان بنے ہوئے تھے۔
پہاڑوں کی بلندیوں سے اترنے کے بعد میدان میں بدھ پرنما کا مٹھ تھا ۔جس کے چاروں طرف فوارے دار گارڈنس اور پھول دارچمن بندیاں تھیں ۔مٹھ کے گنبد میں آوازیں گونجتی ہیں ۔مٹھ میں بیچوں بیچ بدھ کی پر شوکت سنہرے رنگ کی مورت نصب ہے ،اس کے سامنے عقیدت مند خواتین و مرد دوزانو ہوکر بیٹھے تھے ۔ہم لوگ وہاں چند ساعات ہی رہے ۔یہاں سے ہم گنگا پورڈیم کی طرف گئے جو دریائے کاویر ی کے اوپر بنا ہے اور اس کا شمار ہندوستان کے چند اہم ترین ڈیمس میں ہوتا ہے۔یہاں پہنچے تو دریاکے کنارے حسب معمول و اندازہ مندر بنے ہوئے تھے۔جن کے چڑھاؤں کی مالائیں اتار کر دریا میں ہی پھینکی جارہی تھیں۔اس مقام پر دریا میں پانی بہت کم تھا بس پتھر ہی پتھرنظر آرہے تھے۔حالاں کہ بقول مادر محترم ،ہم لوگ جہاں کھڑے تھے،وہاں طغیانی کے دنوں میںبیس بیس فٹ کی بلندی سے پانی گزرتا ہے۔انھوں نے کچھ ماہ قبل ایسی ہی طغیانی کی ویڈیو بھی دکھا ئی جسے دیکھ کر بالکل بھی اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ یہ اسی جگہ کی ہے جہاں اب نہایت آرام اور بے خوفی سے ہم سیر کررہے ہیں۔یہاں بھی ہم چند ساعات رہ کر پھر آگے بڑھے تو ایک مقام پر بوٹنگ کلب کا سائن بورڈ نظر آیا۔مادر محترم نے اسکوٹی ادھر موو کی اورچنگی بانوں کو انٹری فیس دے کر ہم لوگ گوداوری کے گھاٹ پر آگئے ۔یہاں اسکوٹر بوٹنگ کے بعد چپّو بوٹنگ
بھی کی گئی ۔گہرے گہرے اور میٹھے پانیوں میں اس وقت کا سیر کرنا کتنا اچھا لگ رہا تھا۔شام سرمئی آنچل کی طرح کاینات پر پھیل چکی تھی اور ماحول و موسم خوشگوار ہوتا جارہا تھا ۔اس کے بعد ہماری اگلی منزل ایک ایسا مقام تھا جہاں درگاہ اور مندر ایک ساتھ بنے ہوئے ہیں تاہم درگاہ، مندر سے بالائی حصے میں واقع ہے۔لیکن ان کا راستہ ایک ہی ہے۔یہ ایک فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا منظر تھا ،جسے میں تو دیکھا کیا۔
اب تک دن کا اجالا رات کے سیاہ دھبوں سے داغ دار ہو چکا تھا ،اس کا مطلب یہ تھا کہ اب ہمیں گھر چلنا چاہیے ۔لہٰذا وقت کا اشارہ سمجھ کر ہم لوگ ان ہی راستوں سے واپس گھرآنے لگے۔شہر میں شام جوان ہورہی تھی اور ناسک کے کالج کی روڈ کی رونقیں بڑھتی جارہی تھیں۔کالج روڈ،شہر کا وسطی علاقہ اور خوب صورت بھی ہے ،یہاں ریستوراں،کافی ہاؤسز،کیفے ،اسنیکس اسٹال،ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر ،نوکر پیشہ افراد کی رہائشیں اور بھی بہت کچھ دیکھنے کوہے۔یہاں کے ایک معروف و صاف ستھرے کیفے میں مادر محترم نے مجھے کافی پلائی جو’ واقعی ‘بہت اچھی تھی۔ کافی آنے سے پہلے میں نے نظریں گھما گھما کر اس پورے منظر کو اپنی آنکھوں اور ذہن و دماغ کے گوشوں میں بسایا ،ان کے متعلق یافت و دریافت بھی ہوتی رہی۔
اب شام پوری طرح گھر چکی تھی ،شہر کی سڑکیں اور ماڈرن علاقے روشنیوں سے جگمگا اٹھے تھے اور گھر واپس آنے والے صبح کے نکلے افراد ہجوم در ہجوم گھروں کو واپس ہو رہے تھے لہٰذا اسموتھ ٹریفک لازمی تھا ۔مادر محترم نے رہائش گاہ پر مجھے سرپرائز دینے کے لیے ایک شعر ی نشست کا انعقاد کیا جس کے متعلق مجھے کچھ علم نہیں تھا اور نہ ہی تیاری، مگر میں نے عین وقت پر شاہد آفرید کی طرح شاٹس کھیلے اورایونٹ کی کامیابی میں پوری حصے داری نبھائی۔تقریباً تین گھنٹے تک چلنے والی یہ نشست بہت ہی خوب تھی۔رات گزرتی اور گہری ہوتی جارہی تھی ۔جس کے بعد روشن روشن صبح نمودار ہونے کے لیے جانے کب سے بے تاب تھی، مگر اسے ابھی کچھ اور گھنٹے انتظار کرنا تھا اور ظلمات بھری رات کو قطع کرناتھا۔قانون قدرت کے مطابق سحر طلوع ہوئی اور رات کی پرتیں چھٹیں ،سورج عمودی سمتوں میں پرواز کرتا ہی چلا گیا اور خلق خدا اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہوگئی۔اب دن تھا لہٰذا ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد ناشتہ کیا گیا اور دوپہر کا کھانا کہیں باہر کھانے کا پلان بنا کر میں اور مادر محترم لانگ ڈرائنگ پر چل پڑے۔اسکوٹی شہر سے نکلتے ہی سرپٹ دوڑنے لگی ۔کشادہ دو رویہ شاہراہ ،دور تک پھیلے کھیت اور سڑک کے دونوں طرف بنے فارم ہاؤسز،ریزورٹس ،ٹرانزٹ ہاؤسز،مندر،گئوشالائیں،نکیتن وغیرہ قائم ہیں جن سے وہ سنسان سڑک، آباد ہوگئی ہے۔تاہم وہاں ایک طرح کی سنسنی پھر بھی باقی ہے۔
چالیس کلومیٹر چل کر اب اسکوٹی کا منہ اس پہاڑ کی جانب موڑدیا گیا جس کی سب سے اونچی چوٹی پرمکتی دھام مندر واقع ہے ۔یہ مندر سطح زمین سے تقریبا بیس کلومیٹر کی بلندی پر عقیدت مندوں کی عقیدتوں کا مرکز بنا ہوا ہے ۔وہاں تک پہنچنے کے لیے ون وے ٹائپ سڑک بنی ہے جو بلندیوں پر جاتے جاتے ٹوٹ پھوٹ کر باعث تکلیف و آزار بنی ہوئی ہے۔جب راستہ بہت زیادہ خراب آنے لگا تو عافیت اسی میں سمجھی گئی کہ اب واپس ہوا جائے، لہٰذا ایسا ہی کیا گیا اور اب ہم اسی راستے سے واپس آرہے تھے ۔سہ پہر تک ہم لوگ ناسک کے مسلم اکثریتی محلے میں تھے ۔جہاں دن کا کھانا کھانے کا پلان تھا ۔یہاں شان داراور اعلا فرنیچر سے لیس’ ہوٹل جہاں گیر ‘ میں کھانا کھایا گیا ۔ناسک کا مسلم اکثریتی محلہ ایشیا کے عام مسلم محلوں کی طرح ہی ہے۔جگہ جگہ دیواروں پرمختلف مذہبی پروگراموں اور عرس کے پوسٹرس چسپاں تھے۔گلیوں میں چاندتاروں کی اور مسلم سیاسی پارٹیوں کی چھوٹی چھوٹی جھنڈیوں کی جھالریں کٹی پھٹی حالت میں لٹکی ہوئی تھیں۔کہیں کہیں کوڑا کچرا بھی تھا اور راستے تنگ تنگ سے ،ان پر جگہ جگہ ٹھیلے اور ٹھیلوں پر دودوتین تین دن پرانے سامان،پھل فروٹ وغیرہ۔کھانا کھانے کے بعد ہم قریبی راستے سے گھر واپس آگئے۔چوں کہ آج مجھے ممبئی واپس بھی جانا تھا ،اس لیے ہر کام میں جلدی ہی کی جارہی تھی ۔گھر پہنچنے کے بعد مادرمحترم نے ایک شاندار چائے بنائی جو ہم دونوں نے فلیٹ کی بالکنی میں بیٹھ کر پی۔بالکنی سے شہر اور قومی شاہراہ کا منظر بہت ہی نمایاں نظر آرہا تھا ۔کتنا پیارا لگ رہا تھا وہ فضائی منظر جب شہرکے راستوں اور قومی شاہراہ پر چلنے پھرنے والی گاڑیاں ایسی لگ رہی تھیں جیسے کسی انڈسٹری کی مشین میں خام سامان آٹومیٹک دھیرے دھیرے سرکتا ہے۔اونچے ٹاوروں پر کلرڈ اشتہارات دور تک پھیلے ہوئے تھے۔آسمان بھی صاف تھا ،ہاں! بادلوں کے چند آوارہ ٹکڑے ضرور کہیں کہیں نظر آرہے تھے۔شام جیسے جیسے گھِر رہی تھی،ہوا میں خنکی بھی تیز ہوتی جارہی تھی ،لہٰذا چائے ختم کرنے ،دیرتک باتیں کرنے اور نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے بعد اب ہال میں ہی آنا مناسب سمجھا۔پھر تھوڑی دیر بعد میں اپنا سامان سمیٹ رہا تھا ۔سامان سمیٹنے کے پونے گھنٹے بعد مادر محترم نے مجھے شہر کی ایک معزز شخصیت جناب آصف کمانڈو سے ملایا اور اس کے بعد دوارکا آٹو اسٹینڈسے ماؤں اور بزرگوں کی طرح سر پر ہاتھ پھیر کر سی آف کیا۔میں ان کی دعائیں،دودن کی محبتیں،ہزار برسوں کی نوازشیں لے کر ناشک روڈ اسٹیشن پہنچا اور وہاں سے ’الہ آباد۔ممبئی‘ٹرین میں سوار ہو کر بارہ بجے کے قریب ممبئی پہنچ گیا۔
ممبئی یونیورسٹی کیمپس میں ایک پورادن:
23جنوری کی صبح ہوئی ،جو تمام صبحوں کی مانند تھی مگر اس صبح میں میرے لیے خاص بات یہ رہی کہ اس دن میں نے ایک بار پھر ممبئی یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا اور جن اساتذہ سے پہلی وزٹ میں ملاقات نہ ہوسکی،ان سب سے اس بار ملاقات کا عزم کیا۔راستہ وہی تھا۔مسجد بندر ٹو کرلا اسٹیشن،وہی لوکل ٹرین اور وہی اس کی بھیڑ،وہ گہماگہمی اور وہی سب کچھ ۔یہ میں ہی جانتا ہوں کہ کیسے کیسے کرلا اسٹیشن پر اترا ،بلکہ کچھ دیر تک تو مجھے لگا بھی نہیں کہ میں اتر گیا ہوں ،مگر واقعی میں اتر گیا تھا ۔اگژٹ وے سے باہر آیا ۔اب تک’’بیسٹ ‘‘ ورکر س کی دس دن تک جاری رہنے والی ہڑتال،سی ۔ایم فڑنویس کی یقین دہانی کے بعدختم ہوچکی تھی۔میرا بہت من کرتا تھا کہ ممبئی کی بسوں میں بیٹھوں،اس سے بھی زیادہ مجھے ڈبل ڈیکر میں بیٹھنے کا شوق تھا ۔اللہ پاک کا شکرو احسان کہ مجھے یہ موقع مل گیا۔میں کرلا سے ممبئی یونیورسٹی،ودّیا نگری اسی سے گیا اور اسی سے آیا۔
کیمپس میں داخل ہوا تو انٹری گیٹ پر درخت کی منڈیر پر بیٹھے گاندھی جی کے تین بندروں سے ملاقات ہوئی جو اسی طرح بیٹھے تھے (ایک منہ بند کیے ہوئے،ایک آنکھ بند کیے ہوئے ،ایک کانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے) گاندھی کے بندروں سے بائیں جانب سے اردو ڈیپارٹمنٹ کا راستہ جاتا ہے ،جو ودیا نگری ریسیڈینس اور گرین شیڈ سے ہوتے ہوئے ’فیروز شاہ مہتا بھون‘ کے فرسٹ فلور پر واقع ہے۔
میں ڈیپارٹمنٹ کی گیلری میں بیٹھا ہوا تھا اور دوپہر کا وقت ڈھلتا جارہا تھا ۔ڈاکٹر قمر صدیقی تشریف لائے ۔ڈاکٹر قمر صدیقی جو ایک بہترین شاعر اور اس سے بھی زیادہ بہترین ایڈیٹر ،محقق و ناقد ہیں ۔ان کی ادارت میں برسوں سے جاری ’ماہنامہ اردو چینل‘ اہل علم و نظر اور اصحاب فکر کا پسندیدہ رسالہ ہے ۔اس سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ہے کہ وہ سال کے تمام دن فیس بک کے 40 ،وہاٹس ایپ کے 250 گروپس اور انسٹاگرام کے کتنے ہی فالوروز کو پی ڈی ایف کتابوں کا تحفہ پیش کرتے رہتے ہیں ۔ان کے خزانے میں پانچ سے سو زائد نایاب و نادر کتب کی پی ڈی ایف موجود ہیں جو اپنے وجود اور علمیت کا بیان آپ خودہیں۔
ڈاکٹر قمر صدیقی صاحب سے ابھی گفتگو اور بات چیت جارہی تھی کہ شعبے کے دوسرے اساتذہ تشریف لائے جن میں ڈاکٹر رشید اشرف خان(ساہتیہ اکادمی،یوا انعام یافتہ) ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر اور ڈاکٹر محمد زبیرکے نام مجھے یاد ہیں ۔ابھی ان سے بھی سلام اور تعارف ہورہا تھا کہ صدر شعبۂ اردو ،پرو فیسر صاحب علی ڈاکٹر اسلم پرویز (وائس چانسلر اردو یونیورسٹی،حیدرآباد) کے ساتھ ڈیپارٹمنٹ میں تشریف لائے۔ڈاکٹر قمر صدیقی نے ،جو اب تک مجھ سے مانوس ہوچکے تھے،انھیں میرے بارے میں بتایا۔وہ بہت خوش ہوئے اور کچھ دیر بیٹھے رہنے کے لیے کہہ کر وی سی صاحب کو سی آف کرنے ،ممبئی ائیر پورٹ چلے گئے۔اس دوران میں ڈاکٹر قمر صدیقی چندرفقا کے ساتھ مجھے کھانا کھلانے لے گئے ۔ہم لوگوں نے کھانا کیمپس کےICSSR گیسٹ ہاؤس میں ہی کھایا۔کھانا بہت پر تکلف اور نیازمندی کا نمونہ تھا ۔کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ پھر ڈیپارٹمنٹ آگئے۔شام پھر گھررہی تھی اور اندھیرے دن کی مملکت کی جانب اس طرح بڑھ رہے تھے جیسے طاقت ور دشمن فوجیں کسی پر امن و خوش حال چھوٹی سی ریاست کی جانب بڑھتی ہیں ۔مگر ہم لوگ اندر چیمبر میں تھے ۔کیا پتا تھا کہ باہر کیا ہوا۔صدر شعبہ صاحب ایک بار پھر آئے اور آنے والے دنوں کے لیے ڈیپارٹمنٹ اور اساتذہ کی ذمے داریاں تقسیم کرنے اورکچھ ہدایات دینے لگے۔میں وہاں بیٹھا سب کچھ دیکھا کیا اور سنا کیا۔
ساڑھے آٹھ بجے کا عمل تھا جب میں ڈیپارٹمنٹ آف اردو ،یونیورسٹی آف ممبئی،یا ممبئی ودّیا پیٹھ کے کالینا کیمپس سے نکل رہا تھا ۔جیسے ہی بس اسٹینڈ پر آیا ، دس منٹ بعد ایک ڈبل ڈیکر بس کرلا جانے والی ملی جو ایک روح فرسا جام سے نکلتے ہوئے کرلا اسٹیشن پہنچی ۔اسٹیشن اور ٹرینوں میں اب بھی وہی بھیڑ کا عالم تھا ، تاہم صبح سے تو کچھ کچھ کم ہی تھا۔میں اپنے مقررہ اسٹیشن پر پہنچا اور پھر دن بھر کی تھکان اتارنے کے لیے کمرے میں سوگیا۔رات بہتی ہی جارہی ہوگی۔
الوداع ممبئی،تجھے اللہ رکھے۔۔۔!
اب ممبئی سے میرے چل چلاؤ کے دن تھے لہٰذا کچھ ضروری شاپنگ کرنے کے بعد میں بکھرے سامان کو سمیٹنے لگا ۔پھر ایک دن اور گزار کر جمعے کے روز ہوٹل سے چیک آؤٹ کردیا۔نماز جمعہ مولانا فیروز قاسمی کے ساتھ’ نل بازار‘ کی ایک شافعی مسلک مسجد میں ادا کی اور پھر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد سب دوستوں اور چاہنے والوں سے رخصت لے کر ممبئی سینٹر ل اسٹیشن آگیا جہاں دہلی کی جانب کوچ کرنے والی راجدھانی ایکس پریس تمام حوصلوں اور جذبوں کے ساتھ کھڑی ہوئی مسافروں کا انتظارکررہی تھی،بلکہ مسافروں کا کیوں،اپنے وقت مقرر ہ کا انتظار کررہی تھی ۔چنانچہ جیسے ہی وقت مقررہ کا آخرسکنڈ ہوا،وہ ایک جھٹکے سے ساتھ پلیٹ فارم نمبر 4کو الواداع کہنے لگی۔دادر کے بعد اس کی اسپیڈ کچھ تیز ہوگئی اور ’بوری ولی‘ آتے آتے ریل ہوا سے باتیں کرنے لگی۔یہاں اس کا اسٹوپ تھا،جو چند منٹو ں(دو یا تین،نا کہ نومنٹ)کا تھا ۔یہاں سے سورت،بڑودہ،رتلام،کوٹہ ہوتے ہوئے جب صبح کو متھرا ،کوسی،پلول کے جنگلوں سے گزررہی تھی تو وہی کھیت تھے،وہی ان کے گیہوں اور وہی ہریالی، وہی کہرا آلود موسم بھی ،صبح کا سورج دبکا چھپکا سا نکل رہا تھا۔ممبئی میں تو کچھ اور ہی رُت تھی اور یہاں سردیاں عروج پر ۔خیر 8:15کا وقت تھا جب راجدھانی ایکس پریس نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک پر لمبے لمبے سانس کھینچ رہی تھی ۔مسافر اتررہے تھے اور قلیوں کی وہی راویتی آوازیں آرہی تھیں۔اب دہلی تھی ،جس کی میں نس نس سے واقف ہوں اور و ہ میری،اور میں۔
ممبئی کا سفر کیسا رہا ؟کیسے گزرا وہ آدھا مہینہ اور کیوں کر؟ ان تین مختصر سوالوں کا جواب ہے یہ سفر نامہ ’ممبئی میں آدھا مہینہ ———‘
حوالے:
(1) فاضلی ندا،دیواروں کے بیچ ،نئی دہلی،معیار پبلی کیشنز،نومبر 1992 ،ص:148
(2) فاضلی ندا،دیواروں کے بیچ،نئی دہلی،معیار پبلی کیشنز،نومبر 1992 ص:148، ص:151-52

مضمون نگار کا ایک میل ایڈرس:
imranakifkhan@gmail.com