Fictions
Total 36 Fictions

  چا چھکن کبھی کبھار کوئی کام اپنے ذمے کیا لے لیتے ہیں، گھر بھر کو تگنی کا ناچ نچا دیتے ہیں۔ ’آ بے لونڈے، جا بے لونڈے، یہ کیجو، وہ دیجو‘، گھر بازار ایک ہو جاتا ہے۔ دور کیوں جاؤ، پرسوں پرلے روز کا ذکر ہے، دکان سے تصویر کا چوکھٹا لگ کر آیا۔ اس وقت تو دیوان خانے میں رکھ دی گئی، کل شام کہیں چچی کی نظر اس پر پڑی، بولیں ’چھٹن کے ابا تصویر کب سے رکھی ہوئی ہے، خیر سے بچوں کا گھر ٹھہرا، کہیں ٹوٹ پھوٹ گئی تو بیٹھے بٹھائے روپے دو روپے کا...

پورا پڑھیں

  ناول کی کہانی مخصوص اللہ نامی ایک شخص سے شروع ہوتی ہے جوایک ماہر مصور اور شبیہ ساز(۱) تھا ۔آگے چل کر وہ نقاش(۲) اور قالین باف(۳) بھی بن گیا۔ اس کا قیام آج سے برسوں پہلے کشن گڑھ(راجپوتانہ ۔موجودہ راجستھان) کے ایک گاؤں ’’ہندل پروا‘‘ میں تھا ۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے مخصوص اللہ نے ایک لڑکی کی خیالی تصویر بنائی۔ اس تصویر میں حسن وجمال کا کوئی پہلو ایسانہ تھا جومخصوص اللہ نے باقی رکھا ہو۔تصویر تھی گویا ابھی بول پڑے گی۔ گاؤں اور آس پاس کے علا قوں کے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آئے۔تصویر مخصوص...

پورا پڑھیں

  ایک مرتبہ کی بات ہے گیدڑ اور بھالو کی ملاقات گاﺅں کے میلے میںآسمانی جھولے میںہوئی ۔انھوں نے جھولے کا بھر پور مزہ لیا۔پوری رات انھوں نے شراب پینے ، قمار بازی اور لطیفہ گوئی میں صرف کر دی۔دوسرے دن صبح تک وہ دونوں بہت اچھے دوست بن گئے۔انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب سے وہ دونوں ساتھ ساتھ رہینگے، ساتھ کمائینگے اور ساتھ کھائینگے ۔ گیدڑ نے کہا ”میرے دوست ہم بھائی جیسے ہیں ہم الگ نہیں ہیں۔ ہم نے ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کا فیصلہ کیاہے کیوں نہ ہم ساتھ مل کر کھیتی باڑی شروع...

پورا پڑھیں

  ٰٓ ایک شہزادے کو اپنے نائی کی باتیں بہت پسند تھیں۔ہر صبح نائی اس کی داڑھی بنانے آیا کرتا تھااور داڑھی بناتے وقت وہ مختلف قسم کی باتیں کرتا تھا۔ جو کچھ وہ شہر والوں کے منہ سے سنتا آکر کہہ دیتا ۔ لیکن نائی کو شاہی پادری بالکل بھی پسند نہیں تھا جسے دربار کا ہر شخص عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا تھا ۔یہ بات نائی کو بہت نا خوشگوار گزرتی تھی جسے وہ برداشت نہیں کرسکتا تھا ۔ایک دن اس نے پادری سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک منصوبہ بنایا ۔ ایک دن صبح جب...

پورا پڑھیں

  ایک مرتبہ کی بات ہے ایک آدمی کا گزر پٹن سلطنت (موجودہ للت پور)سے ہوا۔ وہاں وہ رگھو نام کے آدمی کو دیکھ کر بہت حیران ہو اجو تیل نکالنے والی میل میں جانوروں کی طرح پہئے کو گول گول گھما رہا تھا۔ مسافر نے پوچھا ” تم کب تک اسے یوں ہی گھماتے رہو گے؟“ رگھو نے جواب دیا ۔” فکر مت کرومیر ے دوست کل سب بدل جائے گا!“ کچھ دنوں بعد مسافرکا دوبارہ اسی جگہ سے گزر ہوا۔اس بار وہ پہلے سے اور زیادہ حیران ہوگیا وہی رگھو جسے تیل کی میل میں جانوروں کی طرح...

پورا پڑھیں

  میں‌نے سوال کیا “آپ کافی کیوں ‌پیتے ہیں؟“ انھوں نے جواب دیا “آپ کیوں‌ نہیں پیتے؟“ “مجھے اس میں‌ سگار کی سی بو آتی ہے۔“ “اگر آپ کا اشارہ اس کی سوندھی سوندھی خوشبو کی طرف ہے تو یہ آپ کی قوتٍ شامہ کی کوتاہی ہے۔“ گو کہ ان کا اشارہ صریحاً میری ناک کی طرف تھا، تاہم رفعٍ شر کی خاطر میں‌نے کہا “تھوڑی دیر کے لیے یہ مان لیتا ہوں کہ کافی میں سے واقعی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ مگر یہ کہاں کی منطق ہے کہ جو چیز ناک کو پسند ہو وہ حلق میں انڈیل...

پورا پڑھیں

ایک فرانسیسی مفکرّکہتاہےکہ موسیقی میں مجھےجوبات پسندہےوہ دراصل وہ حسین خواتین ہیں جواپنی ننھی ننھی ہتھیلیوں پرٹھوڑیاں رکھ کر اسے سنتی ہیں ۔ یہ قول میں نےاپنی بریّت میں اس لیےنقل نہیں کیاکہ میں جوقوّالی سےبیزارہوں تواس کی اصل وجہ وہ بزرگ ہیں جومحفلِ سماع کورونق بخشتےہیں۔اورنہ میرایہ دعویٰ کہ میں نےپیانواورپلنگ کےدرمیان کوئی ثقافتی رشتہ دریافت کرلیاہے۔ حالانکہ میں جانتاہوں کہ پہلی باربان کی کھّری چارپائی کی چرچراہٹ اورادوان کاتناؤ دیکھ کربعض نوواردسیّاح اسےسارنگی کےقبیل کاایشیائی سازسمجھتےہیں۔ کہنایہ تھاکہ میرےنزدیک چارپائی کی دِلکشی کاسبب وہ خوش باش لوگ ہیں جو اس پراُٹھتےبیٹھتےاورلیٹتےہیں۔اس کےمطالعہ سےشخصی اورقومی مزاج کےپرکھنےمیں مددملتی ہے۔...

پورا پڑھیں

  اوروں کا حال معلوم نہیں، لیکن اپنا تو یہ نقشہ رہا کہ کھیلنےکھانےکےدن پانی پت کی لڑائیوں کے سن یاد کرنے، اور جوانی دیوانی نیپولین کی جنگوں کی تاریخیں رٹنے میں کٹی۔ اس کا قلق تمام عمر رہے گا کہ جو راتیں سکھوں کی لڑائیوں کے سن حفظ کرنے میں گزریں،وہ ان کےلطیفوں کی نذر ہو جاتیں تو زندگی سنور جاتی۔ محمود غزنوی لائق صد احترام سہی، لیکن ایک زمانے میں ہمیں اس سے بھی یہ شکایت رہی کہ سترہ حملوں کی بجائےاگر وہ جی کڑا کر کے ایک ہی بھرپور حملہ کر دیتا تو آنے والی نسلوں کی...

پورا پڑھیں

  جوگندر پال 5 ستمبر 1925ء کو سیالکوٹ، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ تقسیم ہند کے وقت بھارت آگئے۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی تاہم ان کی ابتدائی اور وسطانوی تعلیم اردو ذریعہ تعلیم سے مکمل ہوئی اور یہی ان کے ادبی اظہار خیال کی زبان بنی۔ جوگندر نے ایم اے انگریزی ادب میں کیے اور پیشہ درس وتدریس سے جڑگئے۔ وہ مہاراشٹر کے ایک پوسٹ گریجویٹ کالج کے پرنسپل کے طور پر وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔ جوگندر کی تخلیقات میں دھرتی کا کال (1961ء)، میں کیوں سقیم؟ (1962ء)، کھودو بابا کا مقبرہ (1994ء)، پرندے...

پورا پڑھیں

  ’’ ہتھ لائیاں کملان نی لاجونتی دے بوٹے …‘‘ (یہ چھوئی موئی کے پودے ہیں ری، ہاتھ بھی لگاؤ کمھلا جاتے ہیں) —— ایک پنجابی گیت بٹوارہ ہوا اور بے شمار زخمی لوگوں نے اُٹھ کر اپنے بدن پر سے خون پونچھ ڈالا اور پھر سب مل کر ان کی طرف متوجہ ہوگئے جن کے بدن صحیح و سالم تھے، لیکن دل زخمی …… گلی گلی، محلّے محلّے میں ’’پھر بساؤ‘‘ کمیٹیاں بن گئی تھیں اور شروع شروع میں بڑی تندہی کے ساتھ ’’کاروبار میں بساؤ‘‘ ، ’’زمین پر بساؤ‘‘ اور ’’گھروں میں بساؤ‘‘ پروگرام شروع کردیا گیا تھا۔...

پورا پڑھیں
1 2 3 4