Fictions
Total 76 Fictions

ٹرین محل نما بڑے سے اسٹیشن پر آکر رکی؛ مسافر تیزی سے اپنی اپنی بوگیوں سے نکلے، اورنکلتے ہی بھیڑ کا روپ دھار کر اسٹیشن کے باہری دروازے سے ہجوم در ہجوم ٹیکسی، بس اور آٹورکشا میں سوار ہوکرشہر کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے اس بے چہرہ بھیڑ میں وہ بھی تھا – رنگ گندمی اتنا گہرا کہ جلد سے خون کی لالی صاف جھلک رہی تھی، شباہت ایسی کہ مانو مغربی کہانی کا کوئی کردار ہو،ساتھ میں دو کیمرے جس میں سے ایک اس کے گلے میں جھول رہا تھا جس سے وہ مناظر کو تصویر کرنے کا...

پورا پڑھیں

“ٹیکسی……” اس کے کانوں سے ایک آواز ٹکرائی اور اس کے پیر کا دباؤ بریک پر بڑھ گیا، اس نے ٹیکسی روکی اور ونڈو سے باہر جھانکتے ہوئے پوچھا… “کہاں جانا ہے؟ “ وہ تین نوجوان تھے، اسے دیکھتے ہی پہلے ان کے چہرے پر حیرت کے آثار نظر آئے اور پھر زیرِ لب مسکراہٹ… کیوں… کیونکہ اس کا نام شردّھا تھا اور وہ ایک عورت تھی.. دن بھر میں اس طرح کے دسیوں واقعات ہوتے تھے اور اب وہ ان نظروں اور چہروں کی عادی ہو چکی تھی – اس نے ان تینوں کو گلیکسی سنیما کے باہر اتارا...

پورا پڑھیں

راعین پہلی ایسی آئی اے ایس آفیسر تھی جو اتنی کم عمر میں ملک کے چیف سکریٹری ہوم کے عہدے پر فائز تھی ۔ اس نے ۲۲ سال کی عمر میں آئی اے ایس کا امتحان ٹاپ کیا تھا۔راعین چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ اکلوتی ہونے کی وجہ سے سب کی چہیتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ سب پر اس کا خوب رعب چلتا تھا۔ وہ بہت بولڈ آفیسر تھی۔اس کی شبیہ ایک ایمان دار بیوروکریٹ کی تھی۔کسی بھی غلط کام کو اس نے منظوری نہیں دی اسی لیے اس کے ہم منصبوں کے ساتھ ساتھ حکومت بھی...

پورا پڑھیں

     رحمت علی اپنی بوسیدہ سی چپلیں ہاتھ میں لیے بڑے دروازے سے مسجد کے صحن میں داخل ہوئے۔ پسینے میں شرابور، بے حال سے وضو خانے کے قریب پہنچے اور اپنی بے ترتیب سانسوں کو درست کرنے لگے۔سامنے حوض کے وسط میں خوب صورت فوارہ چھوٹ رہا تھا اور حوض کے پانی میں ہلکی ہلکی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ حوض کے قریب پہنچتے ہی انھیں ٹھنڈی ہوا کے لطیف جھونکو ں نے بحال کردیا۔ سلیقہ مند قطرے چھن چھناتے ہوئے پانی کے اس محدود ذخیرے میں پڑرہے تھے۔ رحمت علی کا جی چاہا کہ سورج کی گرمی سے...

پورا پڑھیں

        اس کے پاؤں میں پڑے چھالے پھوٹنے لگے تھے، جن سے رسنے والا پانی پسینے سے مل کر شدید جلن پیدا کر رہا تھا ۔ اس پر دھوپ کی تمازت اسے الگ بے حال کیے ہوئے تھی ۔ اب ایک قدم بھی آگے بڑھانا اس کے لیے محال تھا، لیکن اس کا عزم ہی تھا جو اسے گھسیٹتے ہوئے جلوس کے ساتھ ساتھ لیے چل رہا تھا۔          سفر کی سرد وگرم صعبتوں اور مشقتوں کو برداشت کرتا ہوا، لوگوں کی ہمدردیاں اور دعائیں لیتا ہوا ہزاروں کسانوں کا یہ جلوس سیکڑوں میل...

پورا پڑھیں

الیاس اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔ اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر غائب ہو گئے تھے۔ لوگ پہلے حیران ہوئے اور پھر خوشی منائی کہ بندر جو فصلیں برباد اور باغ خراب کرتے تھے نابود ہو گئے۔ پر اس شخص نے جو انہیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا کرتا تھا یہ کہا کہ...

پورا پڑھیں

میری بہنیں مسلسل میری ماں کے تعلق سے شکایتیں کرتی تھیں۔ ماں اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ وہ لوگوں کی شناخت کو بھی ایک دوسرے میں خلط ملط کردیا کرتی تھی۔ جب کبھی وہ مجھے بلاتی تب یہی کہا کرتی تھی کہ اب مجھے وہاں واپس نہیں جانا ہے۔ وہاں ، بچپن میں میرے لیے دعائیں کی جاتی تھیں۔ میرے گلے پر چاندی کا سکّہ رکھا جاتا تھا۔ بال بنانے والے برقی اُسترے پر تین نمبر گارڈ ہوا کرتا تھا۔ تب میرے آنکھوں میں بیماری ہوا کرتی تھی۔اُس خالی جگہ پر مجھے ہمیشہ گولی بنا دیا جاتا۔ میں عملی...

پورا پڑھیں

اِرم ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں انپڑھ غریب عورت ہوں۔ میرا کوئی نہیں ہے۔ میرے پوتے پوتیاں مجھ پر ہنستے ہیں۔ جو لوگ مجھے دیکھنے آتے ہیں مَیں اُن کی سرگوشیاں سنتی ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ اِس نے بہت جی لیا اب اِسے مرنے دیا جائے ،سکون خود بخود مل ہی جائے گا۔ میں خوش قسمت بھی ہوں اور انپڑھ بھی، بدقسمت بھی ہوں اور اکیلی بھی، ناخوش و ناراض بھی ہوں اور غصّے میں بھی ۔ اِرم اب تم کیا کروگی جب میری یہ تکلیف دہ زندگی دیکھو گی۔کیا تم اپنی اُس چھوٹی بندوق سے میری تکالیف کا خاتمہ کرسکتی ہو...

پورا پڑھیں

کہانی کا محلِ وقوع ایران، عراق اور ترکی کی سرحدیں ہیں جہاں ایک عراقی کرُد بطور اسمگلر اپنے شب و روز گزار رہا ہے۔ایک سابق فوجی سے زمینی سرنگوں کا نقشہ خرید لینے کے بعد یہ اسمگلر جنگ زدہ سرحدوں کی طرف نکل پڑتا ہے تاکہ وہاں سے عیش وآرام کے سازوسامان اپنے ملک میں لا سکے۔اپنے ہر سفر کے دوران وہ بارودی سرنگوں کو زمین سے اوپر لے آتا اور واپسی کے سفر میں انھیں دوبارہ دفن کردیا کرتاتھا۔وہ کسی کتاب کی طرح ویران زمین کا مشاہدہ کرتا اور وہاں واقع ہونے والی تمام تر تبدیلیوں پر توجہ دیتا۔سرحد...

پورا پڑھیں

میرا نام حسن طوفان ہے۔ میری اور جعفری مغولی کی پرورش پارٹی کے خیالات کے درمیان ہی ہوئی۔ جس دن ہمیں میموستا شآبوین نے بلوایا اور یہ خوشخبری دی کہ ہم دونوں کو قتل و غارت گری کرنے والے خفیہ محکمے کی ذمہّ داریاں دی جاری ہیں، ہم خلائوں میں اڑنے لگے۔ اگر میری یاداشت دھوکہ نہیں دے رہی ہے تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مغولی مجھ سے کئی گنا زیادہ خوش تھا۔ جب ہم میموستا کی دریائی گھوڑے جیسی مونچھ اور وحشی نظروں کے سامنے کھڑے تھے تب مغولی اپنے پتلے ہونٹ اور چوڑی ناک لیے کسی...

پورا پڑھیں
1 2 3 8