Fictions
Total 82 Fictions

 آج ہی کی طرح وہ بھی ایک منحوس دن تھا ـ جب وہ اپنے بابو کا ہاتھ تھامے دوسرے گاؤں میں لگے میلے گئی ہوئی تھی ـ اسے اچھی طرح یاد ہے کھلونوں کی بے شمار دکانیں دیکھ کر وہ خوشی سے اچھل پڑی تھی ـ رنگ برنگ غبارے بڑے پیارے لگ رہے تھے ـ حلوائی کی دکان جہاں گرما گرم جلیبی اور امرتی بن رہی تھی، کافی بھیڑ تھی ـ اسکے بغل میں جوس کی دکان تھی ـ اس کے بعد ایک چپل کی دکان جہاں ایک عورت دکاندار سے الجھ گئی تھی اور راہ چلتے لوگ انہیں دیکھتے...

پورا پڑھیں

کہتے ہیں عشق اور مشک چھپانے سے بھی نہیں چھپتے..نجانے کتنی ہی نسلیں گزر گئیں جنھوں نے یہ مقولہ پڑھا یا سنا مگر مشک کو اپنے  ماتھے کی آنکھوں سے نہ دیکھ سکے…..اسلئے میں سوچتا ہوں کہ عشق اور سیاست چھپانے سے نہیں چھپتے اس طرح کرلیا جائے تو کیسا رہے گا؟ .کیونکہ مشک دیکھا ہی نہیں تو سونگھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.. بھلے سے عشق اور مشک میں جو بہناپا لگتا ہے وہ عشق اور سیاست میں سوتناپا (سوتن پن) محسوس ہو….خیر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا.. اب گدھے اورزعفران یا بندر اور ادرک میں کیا...

پورا پڑھیں

  “امّاں اِی ہم سے نہ ہوے” بھاگمتی نے اپنا میلا کچیلا گھاگرا کمر میں اُڑس کر منہ بناتے ہوئے کہا۔ دھونکنی کے پاس گھنٹوں کالے دھوئیں اور تیز بُو کے درمیان بیٹھے رہنے سے اُسکا دماغ بھی انگارے پر رکھے تانبے کی طرح تپ رہا تھا۔ گردن کے پاس سے کمر تک رنگین کترنوں سے سِلی گئی کانچلی اُس پر ٹنکی چمکیلی ٹِکلیاں اور موتی کام پھیکے پڑنے بعد بھی کپڑے پر ایسے جمے ہوئے تھے جیسے وہ اُس کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہتے ہوں۔ بھاگمتی کے مرجھائے جواب سے اماں ٹھٹک گئیں۔ بھٹّی کی تپن سے جُھلستا ان...

پورا پڑھیں

  میں مسجد کی سیڑھیوں سے نیچے اترہی رہا تھا کہ ایک بوڑھی عورت کو دیکھ کر کچھ ٹھٹک سا گیا۔وہ عورت یہ دیکھتے ہی میرے پاس آگئی اور اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہنے لگی ،میں بہت بھوکی ہوں۔میں نے اس کی باتیں بے دھیانی میں سنیں اور جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے یہ خیال آیا کہ سارے پیسے تو مسجد میں دے دیے ، میں نے کہا ..پیسے نہیں ہیں..یہ باتیں کہتے ہوئے میری نظریں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں ،میں جب سے رکا تھااسے دیکھے جا رہا تھا،اس نے اس طرح دیکھنے پر فوراً کہا’میرے بیٹوں نے...

پورا پڑھیں

کیا یہی انصاف ہے اور انصاف کی مجھے امید بھی کیوں کرنی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔انصاف ۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی کس سے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں غلطی تو میری ہی ہے ۔۔میں نے اپنے باپ دادا کا کہا نہ مانا ۔۔۔۔۔۔باپ دادا ہی کیوں ۔۔۔ان سے بھی عظیم ہستیوں کے قول پر توجہ نہیں دی ۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ اس عظیم دوست کی بات بھی نہیں سنی جو سب کچھ کرنے پر قادر ہے ۔ تو۔۔ ۔ ۔۔۔ پھر تو یہ ہونا ہی تھا ۔۔ لیکن کیا یہی میرا قصور ہے ؟ سوچتے سوچتے مسلم کا گلا رندھ گیا ۔۔۔۔اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ۔تبھی دروازہ...

پورا پڑھیں

رٹائر مینٹ کے بعد  والد صاحب خود کو مصروف رکھنے کے لئے چھوٹا موٹا کاروبار کیا کرتے تھے..جو موسم کی مناسبت سے تبدیل ہوتا رہتا تھا… نومبر. دسمبر کا مہینہ چل رہا تھا سردی اپنے عروج پر تھی… اس کی مناسبت سے سردی کے لوازمات کی تجارت کا کام جاری تھا … میں بھی وقتاً فوقتاً دکان پر ڈیوٹی دیا کرتا تھا…  دکان پر طرح طرح کے گاہکوں سے سابقہ پڑتا .. کوئی گاہک خوب مول بھاؤ کرنے کے بعد بھی سامان نہ خریدتا تو کوئی بغیر کسی لیت و لعل کے فوراً اپنی ضرورت کا سامان لے کر روانہ...

پورا پڑھیں

ٹرین محل نما بڑے سے اسٹیشن پر آکر رکی؛ مسافر تیزی سے اپنی اپنی بوگیوں سے نکلے، اورنکلتے ہی بھیڑ کا روپ دھار کر اسٹیشن کے باہری دروازے سے ہجوم در ہجوم ٹیکسی، بس اور آٹورکشا میں سوار ہوکرشہر کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے اس بے چہرہ بھیڑ میں وہ بھی تھا – رنگ گندمی اتنا گہرا کہ جلد سے خون کی لالی صاف جھلک رہی تھی، شباہت ایسی کہ مانو مغربی کہانی کا کوئی کردار ہو،ساتھ میں دو کیمرے جس میں سے ایک اس کے گلے میں جھول رہا تھا جس سے وہ مناظر کو تصویر کرنے کا...

پورا پڑھیں

“ٹیکسی……” اس کے کانوں سے ایک آواز ٹکرائی اور اس کے پیر کا دباؤ بریک پر بڑھ گیا، اس نے ٹیکسی روکی اور ونڈو سے باہر جھانکتے ہوئے پوچھا… “کہاں جانا ہے؟ “ وہ تین نوجوان تھے، اسے دیکھتے ہی پہلے ان کے چہرے پر حیرت کے آثار نظر آئے اور پھر زیرِ لب مسکراہٹ… کیوں… کیونکہ اس کا نام شردّھا تھا اور وہ ایک عورت تھی.. دن بھر میں اس طرح کے دسیوں واقعات ہوتے تھے اور اب وہ ان نظروں اور چہروں کی عادی ہو چکی تھی – اس نے ان تینوں کو گلیکسی سنیما کے باہر اتارا...

پورا پڑھیں

راعین پہلی ایسی آئی اے ایس آفیسر تھی جو اتنی کم عمر میں ملک کے چیف سکریٹری ہوم کے عہدے پر فائز تھی ۔ اس نے ۲۲ سال کی عمر میں آئی اے ایس کا امتحان ٹاپ کیا تھا۔راعین چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ اکلوتی ہونے کی وجہ سے سب کی چہیتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ سب پر اس کا خوب رعب چلتا تھا۔ وہ بہت بولڈ آفیسر تھی۔اس کی شبیہ ایک ایمان دار بیوروکریٹ کی تھی۔کسی بھی غلط کام کو اس نے منظوری نہیں دی اسی لیے اس کے ہم منصبوں کے ساتھ ساتھ حکومت بھی...

پورا پڑھیں

     رحمت علی اپنی بوسیدہ سی چپلیں ہاتھ میں لیے بڑے دروازے سے مسجد کے صحن میں داخل ہوئے۔ پسینے میں شرابور، بے حال سے وضو خانے کے قریب پہنچے اور اپنی بے ترتیب سانسوں کو درست کرنے لگے۔سامنے حوض کے وسط میں خوب صورت فوارہ چھوٹ رہا تھا اور حوض کے پانی میں ہلکی ہلکی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ حوض کے قریب پہنچتے ہی انھیں ٹھنڈی ہوا کے لطیف جھونکو ں نے بحال کردیا۔ سلیقہ مند قطرے چھن چھناتے ہوئے پانی کے اس محدود ذخیرے میں پڑرہے تھے۔ رحمت علی کا جی چاہا کہ سورج کی گرمی سے...

پورا پڑھیں
1 2 3 9