Fictions
Total 71 Fictions

الیاس اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔ اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر غائب ہو گئے تھے۔ لوگ پہلے حیران ہوئے اور پھر خوشی منائی کہ بندر جو فصلیں برباد اور باغ خراب کرتے تھے نابود ہو گئے۔ پر اس شخص نے جو انہیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا کرتا تھا یہ کہا کہ...

پورا پڑھیں

میری بہنیں مسلسل میری ماں کے تعلق سے شکایتیں کرتی تھیں۔ ماں اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ وہ لوگوں کی شناخت کو بھی ایک دوسرے میں خلط ملط کردیا کرتی تھی۔ جب کبھی وہ مجھے بلاتی تب یہی کہا کرتی تھی کہ اب مجھے وہاں واپس نہیں جانا ہے۔ وہاں ، بچپن میں میرے لیے دعائیں کی جاتی تھیں۔ میرے گلے پر چاندی کا سکّہ رکھا جاتا تھا۔ بال بنانے والے برقی اُسترے پر تین نمبر گارڈ ہوا کرتا تھا۔ تب میرے آنکھوں میں بیماری ہوا کرتی تھی۔اُس خالی جگہ پر مجھے ہمیشہ گولی بنا دیا جاتا۔ میں عملی...

پورا پڑھیں

اِرم ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں انپڑھ غریب عورت ہوں۔ میرا کوئی نہیں ہے۔ میرے پوتے پوتیاں مجھ پر ہنستے ہیں۔ جو لوگ مجھے دیکھنے آتے ہیں مَیں اُن کی سرگوشیاں سنتی ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ اِس نے بہت جی لیا اب اِسے مرنے دیا جائے ،سکون خود بخود مل ہی جائے گا۔ میں خوش قسمت بھی ہوں اور انپڑھ بھی، بدقسمت بھی ہوں اور اکیلی بھی، ناخوش و ناراض بھی ہوں اور غصّے میں بھی ۔ اِرم اب تم کیا کروگی جب میری یہ تکلیف دہ زندگی دیکھو گی۔کیا تم اپنی اُس چھوٹی بندوق سے میری تکالیف کا خاتمہ کرسکتی ہو...

پورا پڑھیں

کہانی کا محلِ وقوع ایران، عراق اور ترکی کی سرحدیں ہیں جہاں ایک عراقی کرُد بطور اسمگلر اپنے شب و روز گزار رہا ہے۔ایک سابق فوجی سے زمینی سرنگوں کا نقشہ خرید لینے کے بعد یہ اسمگلر جنگ زدہ سرحدوں کی طرف نکل پڑتا ہے تاکہ وہاں سے عیش وآرام کے سازوسامان اپنے ملک میں لا سکے۔اپنے ہر سفر کے دوران وہ بارودی سرنگوں کو زمین سے اوپر لے آتا اور واپسی کے سفر میں انھیں دوبارہ دفن کردیا کرتاتھا۔وہ کسی کتاب کی طرح ویران زمین کا مشاہدہ کرتا اور وہاں واقع ہونے والی تمام تر تبدیلیوں پر توجہ دیتا۔سرحد...

پورا پڑھیں

میرا نام حسن طوفان ہے۔ میری اور جعفری مغولی کی پرورش پارٹی کے خیالات کے درمیان ہی ہوئی۔ جس دن ہمیں میموستا شآبوین نے بلوایا اور یہ خوشخبری دی کہ ہم دونوں کو قتل و غارت گری کرنے والے خفیہ محکمے کی ذمہّ داریاں دی جاری ہیں، ہم خلائوں میں اڑنے لگے۔ اگر میری یاداشت دھوکہ نہیں دے رہی ہے تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مغولی مجھ سے کئی گنا زیادہ خوش تھا۔ جب ہم میموستا کی دریائی گھوڑے جیسی مونچھ اور وحشی نظروں کے سامنے کھڑے تھے تب مغولی اپنے پتلے ہونٹ اور چوڑی ناک لیے کسی...

پورا پڑھیں

ساشا اپنی امی سے ضد کر رہا تھا کہ وہ اس کو پٹاخوں والی بندوق لے کر دیں۔ ’’تمہیں وہ کس لئے چاہئے؟‘‘ اس کی امی نے پوچھا ’’وہ تو بڑی خطرناک ہوتی ہے۔‘‘ ’’خطرناک کیسے ہوتی ہے؟‘‘ وہ اپنی ضد پر اڑا رہا، اس میں سے صرف پٹاخہ چلتا ہے، گولی تو باہر نہیں آتی ہے، اس سے کوئی مر تو نہیں سکتا۔‘‘ ’’تمہیں نہیں پتا کہ اس سے کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ اس کی امی نے جواب دیا ’’گولی اچھل کر باہر نکل سکتی ہے اور تمہاری آنکھ میں بھی لگ سکتی ہے۔‘‘ ’’وہ نہیں لگے گی۔‘‘ ساشا نے...

پورا پڑھیں

تیس سال کی عمر ہونے سے پہلے مجھے کوئی مشکل لاحق نہیں تھی۔۔۔! میں ایک عام انسان تھا، بزنس میں ڈپلوما حاصل کیا، سرکاری نوکری مل گئی، تنخواہ بھی معقول ہوگئی، ماہانہ پچیس پاؤنڈ تنخواہ تھی۔ اسٹیشن گراؤنڈ میں واقع ایک بڑی عمارت کی اعلی ترین منزل پر ایک چھوٹے سے فلیٹ میں سکونت پذیر تھا۔ زندگی میں زیادہ خواہشات نہیں تھیں، نہ میں کسی کو تنگ کرتا تھا نہ کوئی مجھے، نہ مجھے کسی کا احساس تھا نہ کسی کو میرا۔ ہاں، شادی کرنے کی سوچ رہا تھا۔۔۔!! پھر ایک دن میرا رفیقِ کار استاذ عبد العظیم ایک بہت...

پورا پڑھیں

صبح میں گلی کے دروازے میں کھڑی سبزی والے سے گوبھی کی قیمت پر جھگڑ رہی تھی۔ اوپر باورچی خانے میں دال چاول ابالنے کے لیے چڑھا دیئے تھے۔ ملازم سودا لینے کے لیے بازار جا چکا تھا۔ غسل خانے میں وقار صاحب چینی کی چمچی کے اوپر لگے ہوئے مدھم آئینے میں اپنی صورت دیکھتے ہوئے گنگنا رہے تھے اور شیو کرتے جاتے تھے۔ میں سبزی والے سے بحث کرنے کے ساتھ ساتھ سوچنے میں مصروف تھی کہ رات کے کھانے کے لیے کیا کیا تیار کیا جائے۔ اتنے میں سامنے ایک کار آن کر رکی۔ ایک لڑکی نے...

پورا پڑھیں

ہر تیسرے دن ‘ سہ پہر کے وقت ایک بے حد دُبلا پتلا بوڑھا، گھسے اور جگہ جگہ سے چمکتے ہوئے سیاہ کوٹ پتلون میں ملبوس‘ سیاہ گول ٹوپی اوڑھے، پتلی کمانی والی چھوٹے چھوٹے شیشوں کی عینک لگائے، ہاتھ میں چھڑی لیے برساتی میں داخل ہوتا اور چھڑی کو آہستہ آہستہ بجری پر کھٹکھٹاتا ۔ فقیرا باہر آکر باجی کو آواز دیتا۔ ’’بیٹا۔ چلیے۔ سائمن صاحب آگئے۔‘‘ بوڑھا باہر ہی سے باغ کی سڑک کا چکر کاٹ کر پہلو کے برآمدے میں پہنچتا۔ ایک کونے میں جاکر اور جیب میں سے میلا سا رومال نکال کر جھکتا، پھر آہستہ...

پورا پڑھیں

فارس روڈ سے آپ اس طرف گلی میں چلے جائیے جوسفید گلی کہلاتی ہے تو اس کے آخری سرے پر آپ کو چند ہوٹل ملیں گے۔ یوں تو بمبئی میں قدم قدم پر ہوٹل اور ریستوران ہوتے ہیں مگریہ ریستوران اس لحاظ سے بہت دلچسپ اور منفرد ہیں کہ یہ اس علاقے میں واقع ہیں جہاں بھانت بھانت کی لونڈیاں بستی ہیں۔ ایک زمانہ گزر چکا ہے۔ بس آپ یہی سمجھیے کہ بیس برس کے قریب، جب میں ان ریستورانوں میں چائے پیا کرتا تھا اور کھانا کھایا کرتا تھا۔ سفید گلی سے آگے نکل کر’’ پلے ہاؤس‘‘ آتا ہے۔...

پورا پڑھیں
1 2 3 8