Fictions
Total 64 Fictions

صبح میں گلی کے دروازے میں کھڑی سبزی والے سے گوبھی کی قیمت پر جھگڑ رہی تھی۔ اوپر باورچی خانے میں دال چاول ابالنے کے لیے چڑھا دیئے تھے۔ ملازم سودا لینے کے لیے بازار جا چکا تھا۔ غسل خانے میں وقار صاحب چینی کی چمچی کے اوپر لگے ہوئے مدھم آئینے میں اپنی صورت دیکھتے ہوئے گنگنا رہے تھے اور شیو کرتے جاتے تھے۔ میں سبزی والے سے بحث کرنے کے ساتھ ساتھ سوچنے میں مصروف تھی کہ رات کے کھانے کے لیے کیا کیا تیار کیا جائے۔ اتنے میں سامنے ایک کار آن کر رکی۔ ایک لڑکی نے...

پورا پڑھیں

ہر تیسرے دن ‘ سہ پہر کے وقت ایک بے حد دُبلا پتلا بوڑھا، گھسے اور جگہ جگہ سے چمکتے ہوئے سیاہ کوٹ پتلون میں ملبوس‘ سیاہ گول ٹوپی اوڑھے، پتلی کمانی والی چھوٹے چھوٹے شیشوں کی عینک لگائے، ہاتھ میں چھڑی لیے برساتی میں داخل ہوتا اور چھڑی کو آہستہ آہستہ بجری پر کھٹکھٹاتا ۔ فقیرا باہر آکر باجی کو آواز دیتا۔ ’’بیٹا۔ چلیے۔ سائمن صاحب آگئے۔‘‘ بوڑھا باہر ہی سے باغ کی سڑک کا چکر کاٹ کر پہلو کے برآمدے میں پہنچتا۔ ایک کونے میں جاکر اور جیب میں سے میلا سا رومال نکال کر جھکتا، پھر آہستہ...

پورا پڑھیں

فارس روڈ سے آپ اس طرف گلی میں چلے جائیے جوسفید گلی کہلاتی ہے تو اس کے آخری سرے پر آپ کو چند ہوٹل ملیں گے۔ یوں تو بمبئی میں قدم قدم پر ہوٹل اور ریستوران ہوتے ہیں مگریہ ریستوران اس لحاظ سے بہت دلچسپ اور منفرد ہیں کہ یہ اس علاقے میں واقع ہیں جہاں بھانت بھانت کی لونڈیاں بستی ہیں۔ ایک زمانہ گزر چکا ہے۔ بس آپ یہی سمجھیے کہ بیس برس کے قریب، جب میں ان ریستورانوں میں چائے پیا کرتا تھا اور کھانا کھایا کرتا تھا۔ سفید گلی سے آگے نکل کر’’ پلے ہاؤس‘‘ آتا ہے۔...

پورا پڑھیں

عصر کے درس کا وقت قریب ہوچلا تھا، لیکن مسجد میں صرف ایک ہی سامع تھا ۔ امامِ مسجد شیخ عبد ربہ کےلیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ جب سے اس مسجد میں آئے تھے ، صرف ایک ہی سامع ان کے درس میں حاضر ہوتا تھا۔ یہ سامع چچا حسنین تھے جو گنے کا جوس بیچتے تھے۔ مسجد کے مؤذن اور خادم بھی درس میں شامل ہوجاتےتھے تاکہ درس کااحترام برقرار رہے اور امام صاحب کی دلجوئی بھی ہوجائے۔ شیخ عبد ربہ کو بجا طور پر یہ اچھا نہیں لگتا تھا ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ...

پورا پڑھیں

پیر کی صبح ڈریک فاریسٹر معمول سے بھی زیادہ بے دلی کے ساتھ سوکر اٹھا۔سنیچر اور اتوار کے روز اس کے ایجنٹ کا دفتر بند رہتا تھا،اس لیے دودنوں تک وہ نہ تو کوئی سوال کرسکا اور نہ ہی جواب سن سکا۔سوال ہمیشہ وہی رہتاور جواب بھی۔’’کچھ پتہ چلا نِک؟‘‘ ’’نہیں ڈریک،سوری،اب تک تونہیں۔میں نے چارہ تو کئی جگہ رکھاہے،تمہیں بتایا ہی تھا، مگر کوئی مچھلی نہیں پھنسی۔‘‘ ’’نہیں پھنسی؟‘‘اگلے دو جملے بھی ہمیشہ وہی رہے۔ ’’شکریہ نِک۔اگر تھوڑی سی بھی امید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘ ’’مجھے پتہ ہے اولڈ مین۔میں پانچ منٹ میں تمہارے دروازے پر رہوں گا۔‘‘اگلے الفاظ جھجھکتے ہوئے بولے بھی...

پورا پڑھیں

لندن کی عدالت میں کل ایک غیر معمولی مقدمہ پیش ہونے والا ہے۔ مجرم کے جرم کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں اور ساتھ ہی وہ مقدمہ جیت جائے گا، اس میں بھی شبہ نہیں۔ مختصراً یہ کہ اس غیر معمولی واردات کا خلاصہ اس طرح ہے۔ ۲۰؍مئی کی بات ہے۔ لندن کے مشہور معروف ڈاکٹر ہیلیڈن جو کہ پھیپھڑوں کے ماہر ہیں۔کے دو بڑے ہال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہر مریض کے ہاتھ میں ایک کارڈ ہے۔ جس پر نمبر لکھا ہوا ہے۔ بھیڑ تو ہر روز ایسی ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ سینکڑوں تپِ دق کے...

پورا پڑھیں

فارس کا سلطان بڑا دانا مشہور تھا۔ اسے مسئلے سلجھانے کرنے، پہلیاں بجھانے اور معمّے حل کرنے کابھی شوق تھا ۔ ایک دن اسے کسی کا بھیجا ہوا تحفہ ملا۔ بھیجنے والا سلطان کے لیے اجنبی تھا ۔سلطان نے تحفے کو کھولا اُس میں سے ایک ڈبہ نکلا ۔ڈبے کے اندر لکڑی کی تین خوبصورت گڑیاں نظر آئیں جنہیں بڑے سلیقے سے تراشاگیا تھا ۔اس نے ایک ایک کر کے تینوں گڑیوں کو اٹھایا اور ہر ایک کی کاریگری کی خوب تعریف کی ۔ اس کا دھیان ڈبہ پر گیا جہاں ایک جملہ تحریر تھا: ’’ ان تینوں گڑیوں کے...

پورا پڑھیں

​جاپان میں کسی جگہ ایک میاں بیوی بڑی خوش حال زندگی بسر کررہے تھے، لیکن بدقسمتی سے ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ایک روز وہ عبادت گاہ میں گئے اور گڑگڑا کر دعا کی۔ ’’اے اللہ، اپنی رحمتوں سے ہمیں ایک بچہ عطا فرما، چاہیے انگلی کے ایک پور کے برابر ہو۔‘‘ کچھ عرصے بعد ان کے ہاں ایک خوب صورت لڑکا پیدا ہوا۔ لیکن اس کا قد بالغ انسان کی اُنگلی سے بھی کم تھا، اس کے باوجود اس کے والدین نے اسے ناز و نعم سے پالا جیسے وہ ان کی آنکھ کا تارا ہو۔ لڑکا انتہائی ذہین...

پورا پڑھیں

بہت عرصے کی بات ہے۔ ایک گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ یوں تو وہ ہر لحاظ سے خوش حال رہتا تھا کیونکہ اس کا کھیت وسیع تھا اور فصل ہمیشہ عمدہ ہوتی تھی لیکن بیوی کی وجہ سے اس کا ناک میں دم رہتا تھا۔ وہ بہت ہی ضدی اور ہٹ دھرم تھی اور ہمیشہ الٹی بات سوچتی تھی۔ اسی لیے گائوں کے سب ملنے جلنے والوں نے اس کا نام ” الٹی کھوپڑی“ رکھ دیا تھا۔ جب وہ گھر سے باہر نکلتی تو بچے اسی نام سے پکار کر اسے پکارتے اور جب وہ مارنے کے لیے...

پورا پڑھیں

ایک بار بدھاتا نے جو ہر کسی کے ماتھے پر چاہے وہ بچہ ہو یا بچی ، پیدائش کے وقت اس کی قسمت لکھ دیتا ہے ، کسی غریب برہمن کی قسمت میں کچھ عجیب سی تباہی لکھ دی۔ کبھی جی بھر کے نہ کھانا اس کا مقدر بن گیا۔ جب بھی وہ اپنا آدھا بھات کھا چکتا تو ہمیشہ ایسی کوئی نہ کوئی رکاوٹ آجاتی کہ وہ اور نہ کھاپاتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ اس کے پاس راجہ کے گھر سے بلاوا آیا۔ وہ بہت ہی خو ش ہوا اور اپنی بیوی سے بولا۔’’ میں تو بس اپنا...

پورا پڑھیں
1 2 3 7