Fictions
Total 106 Fictions

ملک میں کرفیو نافذ ہوکر پندرہ دن مکمل ہو چکے تھے ۔کورونا نامی معمولی جرثومے کے خوف نے پوری دنیا کو اپنے گھیرے میں لےرکھا تھا ۔ حکومتوں کے پاس اب تک اس کا کوئی مناسب علاج موجود نہیں تھا اسلئے حکومتیں صرف احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کو اپنے گھروں میں قید رہنے کی سختی بنام تلقین کر رہی تھیں۔غذائی اجناس اور ضروریات زندگی کی خریداری کے لئے روزانہ صبح دو گھنٹے کرفیو میں راحت دی جاتی ۔ آج بھی کرفیو میں دو گھنٹے کی راحت ملی تو سب لوگ اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل پڑے...

پورا پڑھیں

رات کا پچھلا پہر تھا … میرے سامنے نئے افسانے کا ادھورا مسودہ پڑا ہوا تھا ، میں بالوں میں انگلیاں دیئے ہوئے مسلسل مرکزی کردار کے اختتام کے بارے میں سوچ رہا تھا ، بیوی کی بے حیائی، بے وفائی، دوسرے مردوں سے کھلے عام معاشقہ، مرکزی کردار کی بے روزگاری، بے بسی، بیوی کا اچھی تنخواہ پر کام کرنا، گھر میں آفس کے لوگوں کو کام کے بہانے سے لانا اور بے حیائی کرنا… مرکزی کردار کو کیا کرنا چاہیے؟؟ طلاق دے کر دوسری لڑکی تلاش کر لے؟؟ مگر اس سے بھی شاید دل دریدہ زخموں کا مداوا...

پورا پڑھیں

فساد میں رنڈیاں بھی لوٹی گئی تھیں…. برحمبوہن کو نسیم جان کا سنگھار دان ہاتھ لگا تھا۔ سنگھار دان کا فریم ہاتھی دانت کا تھا۔ جس میں قد آدم شیشہ جڑا ہوا تھا اور برجمبو ہن کی لڑکیاں باری باری سے شیشے میں اپنا عکس دیکھا کرتی تھیں۔ فریم میں جگہ جگہ تیل، ناخن پالش اور لپ اسٹک کے دھبے تھے جس سے اس کا رنگ مٹ میلا ہو گیا تھااور برجمبوہن حیران تھا کہ ان دنوں اس کی بیٹیوں کے لھچن…. یہ لچھن پہلے نہیں تھے…. پہلے بھی وہ بالکنی میں کھڑی رہتی تھیں لیکن انداز یہ نہیں ہوتا...

پورا پڑھیں

چھت مسلسل چھلنی ہو رہی تھی گو یا کسی جنگ میں دشمن کی گولیوں کے نشانے پہ ہو اور اس میں مسلسل چھید ہو رہے ہوں۔ ان سوراخوں سے پا نی کے تیز رفتار قطرے خون کی دھاریوں کی ما نند چل رہے تھے۔ بارش تھی کی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ دسمبر کی اس با رش نے خون رگوں میں جما دیا تھا۔رضیہ اور اللہ دتہ اپنے بچوں کو مثل پرندوں کی اپنے پروں میں چھپائے بیٹھے تھے۔جیسے شکاری سامنے موجود ہو اور شکار اپنے بچاؤ کی آخری کوشش کر رہا ہو۔ اس قاتل موسم میں کچے...

پورا پڑھیں

کیا تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ ہم دونوں خود اپنے ساتھ فریب کر رہے ہیں؟ آخر اس خود فریبی میں مبتلا ہو کر ہم کس حقیقت سے فرار چاہ رہے ہیں۔ زندگی فرار کانام تو نہیں ہے؟ زندگی تو خود سپردگی کا نام ہے۔ تو پھر اپنے آپ کو چھلنے کی یہ خواہش اپنے ہی ساتھ کی جانے والی سازش تو نہیں؟ اب دیکھو نا۔۔۔ بیس سال پرانا لمحہ تمہاری چھت پر زندگی کی صورت نظر آیا۔ یہ تم تھی۔ مجھے لگا وہی بیس سال والی وہ لڑکی ہے ،جو مجھے دیکھنے اور خود کو دکھانے کی تمنا میں دھوپ...

پورا پڑھیں

صبح آنکھ کھُلتی. ..تو بس اِسی فِکر کےساتھکہ گیارہ بجے سے پہلے آفس پہنچنا ہےیعنی وقت کے مقابلے انسان کی وہی دوڑ… جو صدیوں سے چل رہی ہے… زندگی کی سڑک پروقت ہمیشہ آگے بھاگتا نظر آتا ہے … اورانسان تو بس، پیچھے سے لپکتا ہوا آ کر… وقت کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کرتا ہے … میَں بھی اِسی کوشش میں صبح بِستر سے نکلتا… آنکھوں کے فریم میں …پہلی تصویر فیڈ اِن ہوتی،بیوی کی… ڈرتے ڈرتےاُس کے چہرے پر زوم اِن کرتا…اندازہ لگانے کی کوشش کرتا… کہ آج آفس جا سکتا ہوں…یااُسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی...

پورا پڑھیں

جو تقریب ٹلتی آ رہی تھی، طے پا گئی تھی۔ تاریخ بھی سب کو سوٹ کر گئی تھی۔ پاکستان والے خالو اور خالہ بھی آ گئے تھے اور عرب والے ماموں ممانی بھی۔ مہمانوں سے گھر بھر گیا تھا۔بھرا ہوا گھر جگمگا رہا تھا۔ در و دیوار پر نئے رنگ و روغن روشن تھے۔ چھتیں چمکے لیے کاغذ کے پھول پتوں سے گلشن بن گئی تھیں۔ کمروں کے فرش آئینہ ہو گئے تھے۔ آنگن میں چمچماتی ہوئی چاندنی تن گئی تھی۔ چاندنی کے نیچے صاف ستھری جازم بچھ چکی تھی۔باہر کے برآمدے میں بڑی بڑی دیگیں چڑھ چکی تھیں۔ باس...

پورا پڑھیں

وہ ایک ماہر سنگ تراش تھاا ´ور اپنی صناعانہ صفتوں سے معمور انگلیوں سے جب بھی کوئی بت تراشتا تو ایسا لگتا کہ یہ مورت بس ابھی بول پڑیگی اور اس خوبی کا راز صرف یہ تھا کہ وہ مجسمہ سازی کرتے وقت اپنی روح کا کچھ حصہ اس مجسمہ میں منتقل کر دیتا تھا ۔ وہ روح جو کہ بہت پاکیزہ تھی اور سنگ تراش کے جسم پر قبا کی مانند لپٹی ہوئی تھی۔یہی وجہ تھی کہ ہر کوئی اس کے ہنر کے فسوں میں گرفتار ہو جاتا ۔اس کے مجسموں کو دیکھنے اور خریدنے کے لیے دور دور...

پورا پڑھیں

’’کیا نام تھا اس کا ؟ اُف بالکل یاد نہیں آ رہا ہے۔‘‘ کیدار ناتھ نے اپنے اوپر سے لحاف ہٹا کر پھینک دیا اور اٹھ کر بیٹھ گئے۔’’ یہ کیا ہو گیا ہے مجھے ، ساری رات بیت گئی نیند ہی نہیں آ رہی ہے۔ ہو گا کچھ نام وام نہیں یاد آتا تو کیا کروں ، لیکن نام تو یاد آنا ہی چاہئے۔آخر وہ میری بیوی تھی ، میری دھرم پتنی۔‘‘انھوں نے پیشانی پہ ہاتھ رکھا۔پچھتر سالہ کیدار ناتھ کے ماتھے کی بے شمار جھریاں بوڑھی ہتھیلی کے نیچے دب کر پھڑپھڑنے لگیں۔’’ سر لا کی ماں ……….’’...

پورا پڑھیں

بہت عجیب بات ہو گئی……….فلموں کے سینیر رأیٹر ساحل صاحب اچانک لاک ڈاؤن سے گھبرا کر،بڑبڑاتے ہوے کپڑے پہننے لگےتو نوجوان نوکر نے حیرت سے پوچھا” صاحب کہاں جا رہے ہیں؟؟ باہر سب بند ہے.”ساحل صاحب نےایک موٹی گالی دے کر کہا ” جوہو جا رہا ہوں , میری نئ فلم کی پارٹی ملنے آرہی ہے”“ارے صاحب! لاک ڈاؤن ہے, باہر سب بند ہے. جانے کا کوئی سادھن نہیں ہےاور ایسے میں کون سی پارٹی آےگی, سب گھروں میں بند ہیں”“چپ بے……” ایک اور موٹی گالی ان کی زبان نے ایسے ُاگلی جیسے سنّاٹے میں زِپ سے کوئ بائیک نکلتی...

پورا پڑھیں
1 2 3 11