Fictions
Total 86 Fictions

گنگاجمنی اینٹوں سے چنا ہوا مکان پوری طرف خوف و ہراس اور گہرے دکھ میں ڈوبا ہوا ہے۔ صحن میں دستی نل کی ہودی سے قدرے ہٹ کر ایک ادھیڑ عمر خاتون دوپٹے کو کمر پر لپیٹنے کے بعد اس کے دونوں سروں میں گرہ لگا رہی ہے۔ گرہ لگانے کے بعد خالی خالی نظروں سے اس نے مقابل کھڑی بڑی بیٹی کو دیکھا وہ اپنی شلوار کو نیفے میں اُڑاس کر اونچا کر رہی تھی۔ادھیڑ عمر عورت نے جھک کر چوڑی دار پائجامے کو ٹخنوں سے اوپر چڑھایا۔ قریب پڑے پھاوڑے کے دستے کو پکڑ تے ہوئے اس نے...

پورا پڑھیں

بھارت ٹرانسپورٹ کے مالک کھر بندہ صاحب میرٹھ ، بمبئی لائن پہ ٹرک چلانے والے ایمان دارجفا کش ڈرائیور افتخار کے گھر رسمی طور سے اس کی عیادت کرنے گئے تھے۔ پر اُسے دیکھتے ہی ان پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ، دو تین مہینے پہلے ، جب افتخار مال بھر کے بمبئی گیا تھا تو کیسا ہٹّاکٹّاتھا۔ بھارت ٹرانسپورٹ کے مالک کھر بندہ صاحب میرٹھ ، بمبئی لائن پہ ٹرک چلانے والے ایمان دارجفا کش ڈرائیور افتخار کے گھر رسمی طور سے اس کی عیادت کرنے گئے تھے۔ پر اُسے دیکھتے ہی ان پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ...

پورا پڑھیں

آگ کے شعلوں سے بستی روشن ہوئی تو اس نے معنی خیز انداز میں اپنے جوان بیٹوں کے چہروں پر موجود پریشانیوں کے سائے کچھ بڑھتے ہوئے دیکھے۔ کنکھیوں سے بچوںکے باپ ہزار سنگھ کے چہرے پر نظر ڈالی جو کسی گہرے تفکر میں ڈوبا ہوا تھا، دوسرے ہی پل میں اس کی نگاہوں کا زاویہ تبدیل ہو کر سولہ برس کی بیٹی کے چہرے کو اپنے حصار میں لے آیا۔وہ مکان کے سب سے پو تر حصے میں گروجی کی بیڑ کے سامنے ہاتھ جوڑے من ہی من میں سب کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی ۔ سب...

پورا پڑھیں

ندی بہت بڑی تھی۔ کسی زمانے میں اس کا پاٹ کافی چوڑا رہا ہوگا۔ مگر اب تو بے چاری سوکھ ساکھ کر اپنے آپ میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ ایک زمانہ تھا جب اس کے دونوں کناروں پر تاڑ اور ناریل کے آسمان گیر درخت اگے ہوئے تھے جن کے گھنے سائے ندی کے گہرے، شانت اور شفاف پانی میں یوں ایستادہ نظر آتے جیسے کسی پر جلال بادشاہ کے دربار میں مصاحب سرنیوڑ ھائے کھڑے ہوں۔ مگر اب درختوں کی ساری شادابی لُٹ چکی تھی اور ان کے ٹُنڈ مُنڈ خشک صورت تنے کسی قحط زدہ علاقے کے...

پورا پڑھیں

 آج ہی کی طرح وہ بھی ایک منحوس دن تھا ـ جب وہ اپنے بابو کا ہاتھ تھامے دوسرے گاؤں میں لگے میلے گئی ہوئی تھی ـ اسے اچھی طرح یاد ہے کھلونوں کی بے شمار دکانیں دیکھ کر وہ خوشی سے اچھل پڑی تھی ـ رنگ برنگ غبارے بڑے پیارے لگ رہے تھے ـ حلوائی کی دکان جہاں گرما گرم جلیبی اور امرتی بن رہی تھی، کافی بھیڑ تھی ـ اسکے بغل میں جوس کی دکان تھی ـ اس کے بعد ایک چپل کی دکان جہاں ایک عورت دکاندار سے الجھ گئی تھی اور راہ چلتے لوگ انہیں دیکھتے...

پورا پڑھیں

کہتے ہیں عشق اور مشک چھپانے سے بھی نہیں چھپتے..نجانے کتنی ہی نسلیں گزر گئیں جنھوں نے یہ مقولہ پڑھا یا سنا مگر مشک کو اپنے  ماتھے کی آنکھوں سے نہ دیکھ سکے…..اسلئے میں سوچتا ہوں کہ عشق اور سیاست چھپانے سے نہیں چھپتے اس طرح کرلیا جائے تو کیسا رہے گا؟ .کیونکہ مشک دیکھا ہی نہیں تو سونگھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.. بھلے سے عشق اور مشک میں جو بہناپا لگتا ہے وہ عشق اور سیاست میں سوتناپا (سوتن پن) محسوس ہو….خیر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا.. اب گدھے اورزعفران یا بندر اور ادرک میں کیا...

پورا پڑھیں

  “امّاں اِی ہم سے نہ ہوے” بھاگمتی نے اپنا میلا کچیلا گھاگرا کمر میں اُڑس کر منہ بناتے ہوئے کہا۔ دھونکنی کے پاس گھنٹوں کالے دھوئیں اور تیز بُو کے درمیان بیٹھے رہنے سے اُسکا دماغ بھی انگارے پر رکھے تانبے کی طرح تپ رہا تھا۔ گردن کے پاس سے کمر تک رنگین کترنوں سے سِلی گئی کانچلی اُس پر ٹنکی چمکیلی ٹِکلیاں اور موتی کام پھیکے پڑنے بعد بھی کپڑے پر ایسے جمے ہوئے تھے جیسے وہ اُس کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہتے ہوں۔ بھاگمتی کے مرجھائے جواب سے اماں ٹھٹک گئیں۔ بھٹّی کی تپن سے جُھلستا ان...

پورا پڑھیں

  میں مسجد کی سیڑھیوں سے نیچے اترہی رہا تھا کہ ایک بوڑھی عورت کو دیکھ کر کچھ ٹھٹک سا گیا۔وہ عورت یہ دیکھتے ہی میرے پاس آگئی اور اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہنے لگی ،میں بہت بھوکی ہوں۔میں نے اس کی باتیں بے دھیانی میں سنیں اور جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے یہ خیال آیا کہ سارے پیسے تو مسجد میں دے دیے ، میں نے کہا ..پیسے نہیں ہیں..یہ باتیں کہتے ہوئے میری نظریں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں ،میں جب سے رکا تھااسے دیکھے جا رہا تھا،اس نے اس طرح دیکھنے پر فوراً کہا’میرے بیٹوں نے...

پورا پڑھیں

کیا یہی انصاف ہے اور انصاف کی مجھے امید بھی کیوں کرنی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔انصاف ۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی کس سے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں غلطی تو میری ہی ہے ۔۔میں نے اپنے باپ دادا کا کہا نہ مانا ۔۔۔۔۔۔باپ دادا ہی کیوں ۔۔۔ان سے بھی عظیم ہستیوں کے قول پر توجہ نہیں دی ۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ اس عظیم دوست کی بات بھی نہیں سنی جو سب کچھ کرنے پر قادر ہے ۔ تو۔۔ ۔ ۔۔۔ پھر تو یہ ہونا ہی تھا ۔۔ لیکن کیا یہی میرا قصور ہے ؟ سوچتے سوچتے مسلم کا گلا رندھ گیا ۔۔۔۔اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ۔تبھی دروازہ...

پورا پڑھیں

رٹائر مینٹ کے بعد  والد صاحب خود کو مصروف رکھنے کے لئے چھوٹا موٹا کاروبار کیا کرتے تھے..جو موسم کی مناسبت سے تبدیل ہوتا رہتا تھا… نومبر. دسمبر کا مہینہ چل رہا تھا سردی اپنے عروج پر تھی… اس کی مناسبت سے سردی کے لوازمات کی تجارت کا کام جاری تھا … میں بھی وقتاً فوقتاً دکان پر ڈیوٹی دیا کرتا تھا…  دکان پر طرح طرح کے گاہکوں سے سابقہ پڑتا .. کوئی گاہک خوب مول بھاؤ کرنے کے بعد بھی سامان نہ خریدتا تو کوئی بغیر کسی لیت و لعل کے فوراً اپنی ضرورت کا سامان لے کر روانہ...

پورا پڑھیں
1 2 3 9