Feminism in Urdu Literature

Articles

ادب کی ثروت مندی میں خواتین کی خدمات کا اعتراف ناگزیر ہے

اردو ادب میں خواتین کا حصہ

 

ادب کی ثروت مندی میں خواتین کی خدمات کا اعتراف ناگزیر ہے: پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی

ممبئی،۲۱؍ستمبر: شعبۂ اردو ،ممبئی یونیورسٹی اور مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے باہمی اشتراک سے ’اردو ادب میں خواتین کا حصہ‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ قومی سمینار میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اردو کی معروف اسکالر اور شاعرہ پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی نے کہا کہ اردو ادب کو وقیع اور ثروت مند بنانے میں خواتین کی خدمات دو صورتوں میں نظر آتی ہیں ایک تو یہ کہ بحیثیت تخلیق کار انھوں نے نظم و نثر کے مختلف اصناف کو نئی تخلیقی جہتوں سے روشناس کیا اور دوسرے یہ کہ شعر و ادب میں ان کے مسائل و معاملات کو موضوع بنا کر ایسے ادب پارے تخلیق کیے گیے جن میں خواتین کی خانگی نیز سماجی زندگی کا عکس تہذیبی روایت، معاشی مسائل اور جذباتی تصادم کے آئینہ میں نظر آتا ہے۔انھوں نے کہا کہ تخلیقیت کو کسی صنفی دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا یہی سبب ہے کہ عہد قدیم سے ہی اردو ادب میں شاعرات اور نثر نگار خواتین کی روایت نظر آتی ہے جنھوں نے اپنے معاصر حالات کے تناظر میں طبقۂ نسواں سے وابستہ مسائل کی ترجمانی کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ بیسویں صدی میں اس کی لے کچھ زیادہ تیز رہی ہے جس میں کچھ تو ترقی پسند تحریک کے اثرات شامل رہے اور کچھ سماجی و معاشی سطح پر حقوق نسواں کے لیے چلائی جانے والی عالمگیرتحریکوں کا اثر بھی رہا۔پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی نے کہا کہ عورت کے بغیر ادب کی تخلیق کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتااور اس اعتبار سے خواتین کی خدمات کے اعتراف کے طور پر شعبہ ٔ اردو ،ممبئی یونیورسٹی کی جانب سے قومی سمینار کا انعقاد ایک بہترین اور کار آمد ادبی پہل ہے۔تھیئٹر اور فلموں کی دنیا کی معروف و ممتاز شخصیت نادرہ ظہیر ببر نے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ یہ زمانہ سماج میں حقوق نسواں کے تحفظ اور سماجی و تہذیبی سطح پر ان کی خدمات کے اعتراف کا زمانہ ہے اور یہ سمینار اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ا نھوں نے کہا کہ گر چہ عالمی سطح پرعورت آج بھی بعض ان مسائل کا شکا ر ہے جو ان کے شخصیت کے ارتقا کے لیے مضر ہیں لیکن اس صنف نازک کے اندر اتنی جرات بہر حال پیدا ہو گئی ہے کہ وہ حق و صداقت کی حمایت اور اپنے مسائل کے تصفیہ کے لیے مردوں کے شانہ بہ شانہ چل رہی ہے۔نادرہ ببر نے کہا کہ خواتین کو یہ حوصلہ عطا کرنے میں ان ادبی تخلیقات کا اہم رول ہے جن میں ان کے مسائل کی ترجمانی کی گئی ہے ۔نادرہ ببر نے کہا کہ اس مرد اساس معاشرہ میں بیجا ظلم و جور کے خلاف احتجاج اور بغاوت کا جذبہ پیدا کرنے میں اردو کی خواتین قلمکاروں کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔انھوں نے اپنے والدین سجاد ظہیر اور رضیہ سجاد ظہیر سے وابستہ یادوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ سماج میں مساوات اور اتحاد کا مقصد اس مشن میں عورت کی شمولیت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا اور مجھے امید ہے کہ سمینار کے مختلف اجلاس میں مقالے پڑھے جائیں گے ان میں ان نکات پر بھی گفتگو ہو گی۔
افتتاحی اجلاس کا آغاز پروفیسر صاحب علی کے استقبالیہ کلمات کے ساتھ ہوا۔انھوں نے اس قومی سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس طرز کے پروگرام تحقیق و تنقید میں نئے مباحث قایم کرنے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔انھوں نے انیسویں صدی سے لے کر عصر حاضر تک خواتین قلمکاروں کامختصر مگر معلوماتی تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ شاعری، فکشن، نان فکشن، تحقیق و تنقید کے شعبوں میں خواتین قلمکاروں نے نمایاں خدمات انجام دی ہیںاور ان خدمات کی پذیرائی بھی ہوتی رہی ہے تاہم بعض خواتین قلمکاروں کی کاوشیں پردۂ خفا میں ہیں جن کو سامنے لانا ایک اہم ادبی کام ہوگا۔پروفیسر صاحب علی نے زیب النسا، مہ لقا بائی چندا،نذر سجاد حیدر،رشیدۃالنسا، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، صفیہ اختر، صالحہ عابد حسین،ممتاز شیریں، پروفیسر سیدہ جعفر، زاہدہ زیدی، پروین شاکر، رفیعہ شبنم عابدی، زاہدہ حنا، کشور ناہید ، ترنم ریاض اور دیگر کئی خواتین قلمکاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا اردو کا تخلیقی اور غیر تخلیقی ادبی سرمایہ خواتین کی خدمات کے اعتراف کے بغیر ناقص ٹھہرتا ہے۔انھوں نے شہر اور بیرون شہر سے تشریف لانے والی خواتین مقالہ نگاروں، معزز مہمانان اور سامعین کا شکریہ اد ا کرتے ہوئے کہا کہ اس سمینار کی کامیابی کا تصور ان تمام کی شراکت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔اعظم کیمپس پونہ کے روح رواں اور مسلمانوں  کی تعلیمی اور تہذیبی بہبودی کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والے منور پیر بھائی نے بھی اس اجلاس میں اپنے خیالات کااظہار کیا اور کہا کہ دنیا کی ہر بڑی زبان کے ادب میں خواتین کی خدمات کے نقوش ونشان نظر آتے ہیں اور اردو ادب بھی اس سے الگ نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ممبئی یونیورسٹی کا شعبہ ٔ اردو اپنی علمی و ادبی فعالیت کے لیے بین الاقوامی شناخت حاصل کر چکا ہے اور اس کے لیے پروفیسر صاحب علی اور ان کے رفقائے کار مبارک باد کے مستحق ہیں۔
افتتاحی اجلاس کے بعد پر تکلف ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا جس کے بعد مقالہ خوانی کے تین اجلاس ہوئے جن کی صدارت بالترتیب پروفیسر رفعت النسا بیگم (میسور)، ڈاکٹر افسر فاروقی اور ڈاکٹر مسرت صاحب علی ( ممبئی) نے کی ۔ ان اجلاس میں محترمہ ڈاکٹرممتاز منور پیر بھائی(پونہ)، ڈاکٹر صادقہ نواب سحر (کھپولی)،ڈاکٹر شرف النہار ( اورنگ آباد)،ڈاکٹر ناظمہ انصاری ( احمد آباد) ڈاکٹر انیسہ چوراڈ والا(پونہ)،سمیہ باغبان(سولا پور) محترمہ رونق رئیس( بھیونڈی) اور ممبئی سے ڈاکٹر شاداب سید(رضوی کالج) ، ڈاکٹر سکینہ خان( صدر شعبہ ٔ فارسی ، ممبئی یونیورسٹی)نے سیمنار کے مرکزی موضوع کے حوالے سے اردو ادب میں خواتین کی خدمات پر مختلف عنوانات کے تحت مقالے پیش کیے۔اس سمینارکو کامیاب بنانے میں مہاراشٹر اردو اکیڈمی کے اراکین فرید خان، فاروق سید، رفیق شیخ ،قمر النسا سعیدنےمخلصانہ تعاون پیش کیا۔ شہر کی مقتدر ادبی شخصیات ڈاکٹر ریحانہ احمد، فیروزہ بانو، اسلم پرویز، شاہد ندیم، فیروز اشرف،ڈاکٹر جمشید احمد ندوی (صدر شعبۂ عربی، ممبئی یونیورسٹی)جناب عبید اعظم اعظمی، جناب اظفر خان، ریاض رحیم ،ڈاکٹر ذاکر خان کے علاوہ شعبہ ٔ اردو کے اساتذہ ڈاکٹر عبداللہ امیتاز، ڈاکٹر جمال رضوی، ڈاکٹر قمر صدیقی، ڈاکٹر مزمل سرکھوت، ڈاکٹر رشید اشرف خان اور شعبہ ٔ اردو کے طلبا نے کثیر تعداد میں شرکت کر سمینار کو کامیاب بنایا۔