Drama “Allama Iqbal” ki Tareekhsaz Kamiyabi

Articles

ڈرامہ "علامہ اقبال"تاریخ ساز کامیابی سے ہمکنار

وسیم عقیل شاہ

۹ نومبر ، حکیم الامّت اور شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے یومِ پیدائش پر آئیڈیا گروپ نے شکنتلم اسٹوڈیو اندھیری میں قاضی مشتاق صاحب کا تحریر کردہ ڈرامہ  “علامہ اقبال”مجیب خان کی ہدایت میں کامیابی کے ساتھ اسٹیج پر پیش کیا۔ اس ڈرامے میں مشہور و معروف نوجوان شاعر ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے علامہ اقبال کا کردار ناظرین کے سامنے انتہائی شاندار طریقے سے پیش کیا اور عوام الناس سے داد و تحسین حاصل کی۔ڈرامہ  “علامہ اقبال”شاعرِ مشرق کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس ڈرامے میں علامہ اقبال کے بچپن سے لیکر انتقال تک کے واقعات انتہائی خوبصورتی اور ایمانداری کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ علامہ کا سفرِ انگلستان ، قیام ممبئی، انجمن کی عمارت دیکھ کر ممبئی کے مسلمانوں کی تعلیمی بیداری کے تئیں متاثر ہوجانا جیسے بے شمار واقعات پر مبنی یہ ڈرامہ ناظرین کی توجہ کا مرکز بنا۔ اسی طرح اس ڈرامے کے ذریعے یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی کہ علامہ کے والد کا ذریعۂ روزگار کیا تھا، والدہ نے کس طرح ان کی تربیت کی، آپ کے بھائی آپ کی تعلیم کے تعلق سے کس قدر فکرمند رہا کرتے تھے، مولانا میر حسن کی تربیت نے اقبال پر کیا نقوش چھوڑے، علامہ کی ذاتی زندگی کے حالات، استاد فتنہ کی فتنہ پروری، چودھری الفت علی کی سازشیں، سر کا خطاب، مولانا میر حسن کے لیے شمس العلما کے خطاب کی سفارش، سرزمینِ حجاز پر مسلمانوں کے چندے سے شفاخانہ تعمیر کرنے کی انگریز ی حکومت کی چالیںاور علامہ اقبال کی مخالفت، نظم شکوہٰ پر عوام کی جانب سے مخالفتیں اور اس کے جواب میں اقبال کی جانب نظم جواب شکوہٰ، علامہ کا انتقال اور تعزیتی قرارداد۔ ۹ نومبر ، حکیم الامّت اور شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے یومِ پیدائش پر آئیڈیا گروپ نے شکنتلم اسٹوڈیو اندھیری میں قاضی مشتاق صاحب کا تحریر کردہ ڈرامہ  “علامہ اقبال”مجیب خان کی ہدایت میں کامیابی کے ساتھ اسٹیج پر پیش کیا۔ اس ڈرامے میں مشہور و معروف نوجوان شاعر ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے علامہ اقبال کا کردار ناظرین کے سامنے انتہائی شاندار طریقے سے پیش کیا اور عوام الناس سے داد و تحسین حاصل کی۔ڈرامہ  “علامہ اقبال”شاعرِ مشرق کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس ڈرامے میں علامہ اقبال کے بچپن سے لیکر انتقال تک کے واقعات انتہائی خوبصورتی اور ایمانداری کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ علامہ کا سفرِ انگلستان ، قیام ممبئی، انجمن کی عمارت دیکھ کر ممبئی کے مسلمانوں کی تعلیمی بیداری کے تئیں متاثر ہوجانا جیسے بے شمار واقعات پر مبنی یہ ڈرامہ ناظرین کی توجہ کا مرکز بنا۔ اسی طرح اس ڈرامے کے ذریعے یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی کہ علامہ کے والد کا ذریعۂ روزگار کیا تھا، والدہ نے کس طرح ان کی تربیت کی، آپ کے بھائی آپ کی تعلیم کے تعلق سے کس قدر فکرمند رہا کرتے تھے، مولانا میر حسن کی تربیت نے اقبال پر کیا نقوش چھوڑے، علامہ کی ذاتی زندگی کے حالات، استاد فتنہ کی فتنہ پروری، چودھری الفت علی کی سازشیں، سر کا خطاب، مولانا میر حسن کے لیے شمس العلما کے خطاب کی سفارش، سرزمینِ حجاز پر مسلمانوں کے چندے سے شفاخانہ تعمیر کرنے کی انگریز ی حکومت کی چالیںاور علامہ اقبال کی مخالفت، نظم شکوہٰ پر عوام کی جانب سے مخالفتیں اور اس کے جواب میں اقبال کی جانب نظم جواب شکوہٰ، علامہ کا انتقال اور تعزیتی قرارداد۔  اس ڈرامہ میں ڈاکٹر ذاکر خان نے علامہ اقبال کی شاعری اور زندگی کے حقیقی واقعات انتہائی مہارت کے ساتھ ناظرین کے سامنے پیش کیا۔اسی طرح علامہ اقبال کے والد کا کردار، والدہ کا کردا،مولانا میرحسن، استاد فتنہ، انگریز آفیسر، چودھری الفت علی اور انعام اللہ جیسے کرداروں کو ادا کرنے والے اداکاران نے اس ڈارمے میں جان ڈال دی۔یقیناً یہ ڈرامہ علامہ اقبال کی حیات و شاعری پر مبنی ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ مجیب خان صاحب کا کمال یہ ہے کہ آپ نے اس ڈارمے کو ایسے اداکاران کے ساتھ اسٹیج پر پیش کیا جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔ اقبال کے مرکزی کردار کو چھوڑ کر باقی تمام اداکاران اردو سے نابلد ہیں لیکن پورے ڈرامے میں کہیں بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ غیر اردو داں طبقے کے اداکاران ایک خوبصورت اردو ڈرامہ پیش کررہے ہیں۔علامہ اقبال کی یومِ پیدائش اور یومِ اردو پر علامہ اقبال کے لیے اس سے بڑا خراجِ عقیدت اور کیا ہوسکتا ہے۔ علامہ اقبال کے مرکزی کردار کو ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے نبھایا جبکہ سلوچنا کڈوانی نے علامہ کی والدہ ، محمد شارق نے والد اور ونائیک سنگھ نے علامہ کے بچپن اور استاد فتنہ کا رول ادا کیا۔ اسی طرح ساحل کمارمولانا میر حسن اور انگریز ی حکومت کے کارندے انعام اللہ کے رول میں نظر آئے، ونئے کمار نے برٹش آفیسر کا کردار ادا کیا، اسیت پاترا الفت علی جاگیردار بنے، علقمہ نے الفت علی جاگیر دار کے نوکر کا کردار ادا کیا۔ مشہور فلمی میک اپ آرٹسٹ پرشانت چوہان نے میک اپ مین کے فرائض انجام دیے۔