“In The Country of Butterflies” A Short Story by Pearl S. Buck

Articles

تتلیوں کے دیس میں

پرل۔ایس۔بک

مترجم قاسم ندیم

آج میں آپ کو اپنی ماں کے بارے میں بتاﺅں گا۔چین کی پرانی تہذیب نے ماں کو بڑی اہمیت دی ہے۔جب چین کے گاﺅں دیہاتوں سے فوج ،جوان لڑکوں کو زبردستی پکڑ کر لے جاتی تھی، تب وہ کسی اور کو نہیں، ماں کو پکارتے تھے۔یا نگسی ندی کے کنارے ہمارا گاﺅں تھا۔گھر ایسے تھے جیسے وہ بنائے نہ گئے ہوں صرف ان کاڈھیر لگادیا گیاہو۔ہمارا گھر جیسا بھی تھا گاﺅں کا سب سے اچھا گھر تھا۔کیوں کہ ہم کھاتے پیتے لوگ تھے۔ہمارے پاس کم ازکم بیس ایکڑ زمین تھی۔ میرے والد کی دھاک صرف زمین کی وجہ سے نہیں تھی،بلکہ ان کی بہت ہی خوبصورت داشتہ کے سبب بھی تھی، جو میری ماں تھی۔
میرا ایک بڑا بھائی بھی تھاجو پانچ سا ل کی عمر میں ہی مرگیاتھا۔میری پیدائش اس کے بعد ہوئی ۔مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوتا تھا کہ میری ماں مجھ سے زیادہ اسے پیار کرتی تھی۔شاید اس لیے کہ وہ بیٹا اس کی جوانی کا خواب تھا اور میری پیدائش کے وقت میری ماں کی عمر ڈھل چکی تھی۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجھ سے بالکل بے خبر تھی،بلکہ وہ ہمیشہ میرے زمیندار باپ کو تاکید کرتی تھی وہ میرا بھی اتنا ہی خیال رکھے،جتنا کہ وہ اپنے قانونی بچوں کا رکھتا ہے۔اس لیے میں اپنی ماں کا احسان مند ہوں۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔نئے خیالا ت کے لوگوں نے میرے باپ کو حراست میں لے لیا۔ صرف اس لیے کہ وہ زمیندار تھا۔ زمینداروں پر کسانوں نے الزامات لگائے تھے۔وہ بھول گئے تھے کہ میرا باپ ان کے آڑ ے وقتوں میں مدد کرتا تھا۔فصل کی کٹائی کے موقع پر وہ اپنا حصہ چھوڑدیتا تھا،ان کے لڑائی جھگڑے نپٹاتا تھا اور اپنی جیب سے بھی ان کی مدد کرتا تھا۔لیکن شاید ان کی زیادہ غلطی نہیں تھی،کیوں کہ اگر وہ الزام عائد نہ کرتے تو نئے خیالات کے لوگوں کے ہاتھوں سے خود سزاپاتے۔
سبھی زمینداروں کو مرجانا چاہیے تاکہ نئے سماج کی بنیاد مضبوط ہوسکے۔ہمارے اپنے باغیچے میں ہی ایک اونچے پیڑ کے ساتھ میرے والد کو الٹا باندھ دیاگیاتھااورا س کی جیتے جی کھال اتاری گئی تھی۔ہمیں زبردستی سامنے کھڑاکرکے سب دکھایا گیاتھا۔
پھر میری سوتیلی ماں اور اس کے بچوں کو کہاں روانہ کردیاگیا،مجھے پتہ نہیں چلا۔ میں، میری بیوی اور میری ماں ایک کمرے میں بند کردیئے گئے۔اس کمرے میں جہاں پہلے ہمارا چوکیدار رہتا تھا۔ مجھے ایک کوآپریٹیو دکان میں بہی کھاتا سنبھالنے کاکام دیاگیا ،کیوں کہ میں کچھ پڑھا لکھا تھا۔ اس کے علاوہ ندی کے کنارے بنیادوں کی کھدائی کے لیے بھی مجھے کئی گھنٹے کام کرناپڑتا تھا۔ہمیں بتایا گیا کہ وہاں ایک پُل تعمیر ہوگا۔کنارے کی مٹی ایسی تھی کہ گرمی میں سوکھ کر پتھر بن گئی تھی۔ میری بیوی کو بھی اس کام کے لیے میرے ساتھ لگادیاگیاتھا۔ہم جب رات کوگھر لوٹتے تھے تو ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کی طاقت بھی ہمارے بدن میں نہ ہوتی۔
ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ روٹی کا تھا۔میری بوڑھی ماں سارا دن گھر میں رہتی۔ میرے باپ کی بھیانک موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس کا دماغی توازن بگڑگیاتھا۔اس لیے وہ کوئی کام کرنے کے قابل نہیں تھی۔اسی لیے اسے راشن نہیں ملتا تھا۔میں اورمیری بیوی اپنا راشن اس کے ساتھ بانٹ لیتے تھے۔
اس لیے تینوں ہی ہر روز بھوکے رہتے تھے۔یہ راشن کا بھیدصرف ہمیں ہی پتہ تھا۔مگر ماں ہر روز حیرت کرتی کہ گھر میں پیٹ بھر کھانے کو کیوں نہیں ملتا۔پہلے اس کے کھانے میں ہر روز سور کا گوشت اور مچھلی ہوتی تھی۔اب اسے حیرت تھی کہ ہم گوشت کیوں نہیں پکاتے۔راشن کے مطابق ہمیں ایک بار مہینے میں گوشت ملتا۔وہ بھی اتنا کم کہ صرف ایک انسان کھاسکے، اس لیے ہم ماں کو کھلادیتے۔
ہمیں پوری مزدوری کبھی نہیں ملتی تھی۔بتایا جاتا تھا کہ اس کا کچھ حصہ ہمارے نام جمع ہورہا ہے۔ مگر وہ حصہ کیوں اور کہاں جمع ہوتاتھا،ہمیں کچھ نہیں پتہ تھا۔ہم سب صرف یہ جانتے تھے کہ ہمیں انسان کے روپ میں نہیں بلکہ ایک عظیم ہجوم کے روپ میں زندہ رہنا ہے۔میں بہت چاق و چوبند رہتا تھا لیکن ماں کئی بار ہمیں مشکل میں ڈال دیتی تھی۔
ایک بار تو بہت بڑی مشکل کھڑی ہوگئی۔بات یہ ہوئی کہ میں اورمیری بیوی کام پر گئے ہوئے تھے ،ہماری غیر موجودگی میں ہمارے گھر کسی جاسوس کو بھیجا گیا۔بیچاری ماں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ بہت دنوں کے بعد کوئی گھر میں آیاتھا۔
ماں نے اپنی عادت کے مطابق اس کا خیرمقدم کیا۔اس کے لیے چائے بنائی تو پورے چار گرام چائے کی پتی خرچ کردی۔میری بیوی نے کچھ چاول سنبھال کررکھے تھے(ہماری پوری ایک دن کی خوراک)مگر ماں نے اس کا پلاﺅ بناکر مہمان کو کھلادیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم پر جمع خوری کا الزام لگایاگیاکمیون کے کامگار آئے اور ہمارے برتن اٹھاکر لے گئے۔ہم سے کہاگیا کہ گھر میں کھانے کے بجائے ہم مشترکہ رسوئی گھر میں کھانا کھائیں۔ میری بیوی کو وہاں روٹی پکانے پر معمورکردیاگیا۔لیکن میری ماں چونکہ کوئی کام نہیں کرتی تھی، اس لیے اس کے کھانے کے لیے کوئی رسید نہیں ملی تھی۔
یہ بہت بڑامسئلہ تھا۔میں کمانڈر سے ملا۔لیکن اس نے کہا کہ میری ماں کو اس حالت میں کھانے کی اجازت نہیں مل سکتی۔میں نے اسے بتایا کہ میری ماں کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔اس لیے وہ کوئی کام نہیں کرسکتی۔
تب کمانڈر نے اسے بچوں کی ایک نرسری میں کچھ دیکھ بھال کرنے کا مشورہ دیا۔ میں نے ماں کواس کام پر بھیج دیا۔کھانے کی اجازت مل گئی۔لیکن عجیب مصیبتیں شروع ہوگئیں۔یہ شاید نہ ہوتیں، اگر وہ نرسری ہمارے ہی پرانے مکان میں نہ بنتی۔ماں کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ پھر بھی بیٹھے بیٹھے اسے یوں محسوس ہوتا جیسے اس نے یہ مکان کبھی نہ کبھی دیکھا ہے۔
مکان کی شکل بدل چکی تھی۔باغیچہ تباہ ہوچکاتھا۔پہلے اس میں پارٹی کا ہیڈکوارٹرتھا پھر ٹوکریوں کا کارخانہ شروع کردیا گیا۔فوجیوں کے بیرک بھی بنائے گئے تھے اور اب وہاں نرسری شروع کی گئی تھی۔ماں کی دماغی حالت نے،تصور میں اس کا نیا روپ اپنالیاتھا۔چوں کہ زمیندار کی بیوی ہونے کی بجائے وہ اس کی داشتہ تھی۔اس لیے اسے بہتر جگہ نہیں دی گئی تھی۔نرسری کے سارے بچے زمینداروں کے بچے تھے۔ایک دن اس نے نرسری کی دیکھ بھال کے لیے تعینات عورت سے کہہ دیا کہ اس کے ساتھ نوکروں جیسا برتاﺅ نہ کیا جائے۔وہ مالکن ہے اور وہ باہر باغیچے میں کرسی لگاکر بیٹھے گی۔
اس عورت کے مزاج میں پختگی نہیں تھی۔بات بہت آگے تک بڑھ جاتی،مگر میں نے کسی طرح اس کی منتیں کرکے اسے اطمینان دلایا۔بات آئی گئی ہوگئی۔لیکن کچھ ہی دن بیتے تھے کہ نرسری میں پانچ سال کا ایک پیارا سا بچہ لایا گیا۔
میری ماں نے جیسے ہی اسے دیکھا،اسے لگاکہ یہ وہی بچہ ہے جو پانچ سال پہلے اس کے پاس سے  کھوگیاتھا۔میری ماں کو اس بچے سے پیار ہوگیا۔
وہ بہت بڑا جرم تھا،کیوں کہ ہمیں تعلیم دی گئی تھی کہ ہم بچوں سے پیارنہ کریں۔پیار ومحبت سے بچے کمزور ہوجاتے ہیں اور اس کے احساس میں وہ ایک انسان کا تصور کرتے ہیں جوا نہیں پیارکرتا ہے۔
انہیں کسی ایک انسان کے بارے میں نہیں بلکہ ایک ہجوم کے بارے میں سوچنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ چھوٹے بچے جب ماں کو بہت یاد کرتے تھے تو انہیں سنبھالنا بہت مشکل ہوجاتا تھا۔اس کا ایک ہی علاج اپنایا جاتا کہ ان سے بہت زیادہ کام کروایا جائے۔جھاڑو لگانے کا،کوڑاکرکٹ پھینکنے کا،گھاس کھودنے کا مگر وہ بچہ بہت ہی کمزور تھا۔ہر وقت روتا رہتا۔ایسے بچوں کے لیے کام کا بوجھ بڑھایاجاتا تھا۔
جب اسے بھاری کام سے لگایا جاتا تو ماں سے دیکھا نہ جاتا۔ماں اس کے سارے کام کردیتی۔اس لیے ماں کو دھمکیاں دی جانے لگیں کہ اسے نرسری کے کام سے ہٹاکر کسی دوسرے مقام پر بھیج دیاجائے گا، لیکن ماں وہاں سے کہیں جانے کے لیے تیار نہیں تھی۔وہ بچے کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں کرسکتی تھی۔بہت سمجھانے پر وہ دن میں بچے سے دور رہتی،مگر رات ہوتے ہی بچے کو سینے سے لگالیتی۔ ماں نے بچے کو اپنا بیٹا سمجھ لیاتھا۔
ماں ایک دن فرش صاف کررہی تھی کہ اس کی یادداشت لوٹ آئی۔ زمینداری کے دنوں میں کچھ ہیرے اس کے پاس تھے،جو اس نے افراتفری کے دنوں میں ایک کمرے میں دبا دیئے تھے۔ اب اس کمرے کا فرش دھوتے ہوئے جیسے نیند میں چلتی ہوئی،وہ اس کونے کوکھودنے لگی جہاں ہیرے دبائے گئے تھے۔ہیروں کا کیا ہوا؟اس نے کہاں پھینکے ،مجھے کچھ پتہ نہیں۔ان میں ایک چاندی کی تتلی بھی تھی،جس پر مینا کاری کاکام کیا گیاتھا۔جس میں چھوٹے چھوٹے ہیرے جڑے ہوئے تھے۔ یہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اس دن جب میری ماں کو عدالت میں پیش کیاگیا۔
شروع میں ماں نے اس تتلی کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا،اسے کہیں چھپادیا ۔ اگلے دن ماں کے لاڈلے اس بچے کے ہاتھ میں چوٹ لگ گئی۔بچے کو گھاس کھودنے کے لیے ایک تیز کھرپی دی گئی تھی۔
وہی بچے کے ہاتھ میں لگ گئی تھی۔اسے ہسپتال لے جایاگیا تو ماں بھی کسی طرح وہاں پہنچ گئی۔ بچہ کسی بھی چیز سے بہل نہیں رہا تھا۔ماں نے اسے اٹھایااور ایک کونے میں لے گئی۔اسے بہلانے کے لیے اس نے وہ تتلی نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دی۔بچہ اس دن بہل گیا۔بعد میں وہ ماں سے تتلی مانگ لیتا اور کھیلتا رہتا۔
ایک دن بچے نے وہ تتلی اپنے ایک ہم عمر لڑکے کو دکھادی۔اس لڑکے نے نرسری کی آفیسر کو اس کی خبر دی۔
ایسی کوئی خبر دینے والے بچوں کو شکر کی ایک چٹکی انعام کے طور پر دی جاتی تھی۔ بات آگے تک پہنچ گئی۔ بچے کی بہت پٹائی ہوئی اوراسے بتایاگیا کہ کسی بچے کے پاس ایسی چیز کاہونا،جو سب کے پاس نہ ہو، جرم ہے۔
ماں کو گرفتار کرلیا گیا۔ایسے جرم کی سزا موت ہونی چاہیے تھی،مگر کمیون نے ترس کھاکر صرف یہ سزا سنائی کہ اگلے دن ماں کو سرعام بے عزت کیاجائے گا۔
اگلے دن بھیڑ میں میں بھی تھا۔مجھے ضرور ہونا چاہیے تھا۔ماں کو مجمع میں لایا گیا۔اس کے ہاتھ پیٹھ کے پیچھے بندھے ہوئے تھے۔پھر ہمیں حکم دیاگیا کہ وہ جس وقت ہمارے سامنے سے گزاری جائے،ہر ایک آدمی اسے تھپڑ مارے اور یہ کہے کہ وہ سب سے زیادہ خراب عورت ہے۔ ایک ساتھ مکے اور تھپڑ برس پڑے۔ماں زمین پر گرپڑی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ اب اسے لاتوں سے مارنے کا وقت آگیاتھا۔
میری باری بھی آئی میرے پیر کپکپانے یا نہ اٹھانے کا جرم کرنے کا حق نہیں رکھتے تھے۔
میری بیوی اس گناہ سے یہ کہہ کربچ گئی کہ روٹی پکانے کے لیے اس کا اجتماعی رسوئی گھر میں رہنا ضروری تھا۔سب کو رات کا کھانا کھلا کر وہ چھپتی چھپاتی نرسری میں گئی تب تک ماں کو ادھ مری حالت میں پہنچا دیاگیاتھا۔اس دن اس بچے کو بھی مارمارکر انہوں نے زخمی کردیاتھا۔ماں نے وہاں پہنچتے ہی اس بچے کو آنچل میں بھرلیاپھر ایک چٹائی پر لیٹ کرکراہتے ہوئے بچے سے باتیں کرتی رہی۔
میری بیوی کے کانوں میں اس کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ پڑتے رہے۔وہ بچے سے کہہ رہی تھی،”آج میں اپنے بیٹے کے لیے پرائی ہوگئی۔ماں کا رشتہ ختم ہوگیااس نے مجھے لات ماری تو چھوٹا ہے ،تو کچھ نہیں سمجھتاچل ہم کہیں دور چلیں یہاں سے!“
بچہ کراہتے ہوئے اس چاندی کی تتلی کے بارے میں پوچھتا تھا۔
ماں اس سے کہہ رہی تھی،”چل!ہم ندی کے کنارے کی طرف چلیں۔وہاں جنگل میں ہم تتلیاں تلاش کریں گے۔“
میری بیوی نے دیکھا کہ ماں بچے کو لے کر گرتی پڑتی چل دی۔ وہ اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔اس نے دیکھا کہ بچہ میری ماں کی گردن سے لپٹا ہوا تھا۔
سامنے ندی تھی۔ماں چلتی جارہی تھی۔
پانی اس کے ٹخنوں تک گھٹنوں تک ہوتا ہوا اس کے کندھوں تک آگیا تھا اور پھر سر سے اونچاہوگیاتھا۔
میری بیوی دوڑکر اسے بچاسکتی تھی،لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔اس نے میرے علاوہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔اس دن مجھے احساس ہوا کہ جتنا میں سمجھتا ہوں اس سے کہیں زیادہ میری بیوی رحم دل ہے !!
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

————————————————————————————-
پرل ایس بک 1882ءمیں امریکہ میں پیدا ہوئیں اور 1973ءمیں انتقال فرمایا۔وہ امریکہ کی پہلی مصنفہ ہیں جنہیں”دَ گڈ ارتھ“کے لیے 1938ءمیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ بچپن سے ہی انہیں ادب سے لگاﺅ تھا۔ان کی زندگی کا بڑا حصہ چین میں بیتاتھا۔کیوں کہ ان کے والدین مشنری سے وابستہ تھے اور چین میں رہتے تھے۔ان کی شادی جان لاسنگ بک سے ہوئی تھی۔ان کی تخلیقات میں چینی کسانوں کی زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ان کی تصانیف میں سنس،دَبنگ ریوولیو شنِسٹ،دَمدر،دِزپرائڈ ہرٹ،دَ پیئریاٹ،اَدر گاڈز وغیرہ شامل ہیں۔