Bhusawal mein shaeri Nashist

Articles

*بھساول میں 'پرورش لوح و قلم' کے عنوان سے شاندار طرحی نشست کا کامیاب انعقاد

وسیم عقیل شاہ

*روایت سے انحراف کر کے معیاری شاعری کی توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی : احمد

بھساول 27 اکتوبر : عنیق فاؤنڈیشن بھساول اور خاندیش اردو رائٹرز فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ضلعی سطح پر ایک طرحی نشست کا انعقاد 27 اکتوبر کو بھساول کے عکاشہ فرنیچرز میں بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ کیا گیا ـ حافظ مشتاق ساحل نے تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا تو رئیس فیضپوری نے نعت رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محفل کو پر نور کر دیا ـ سلیم خان فیضپوری نے تحریک صدارت پیش کی اور تالیوں کی گونج میں احمد کلیم فیضپوری کی صدارت کی تائید کی گئی ـ خاندیش اردو رائٹرز فاؤنڈیشن کے روح رواں صغیر احمد نے اس تقریب کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ ہذا کی جانب سے یہ چوتھا ادبی جلسہ ہے جو حسب معمول علاقہ خاندیش میں اردو زبان و ادب کی اشاعت و ترویج کے مقاصد لیے ہوئے ہے ـ صغیر احمد کے مطابق ادارہ “خاندیش اردو رائٹرز فاؤنڈیشن” کا دائرہ کار پورے خاندیش پر محیط ہے لہٰذا ادارے کی جانب سے صرف جلگاؤں، بھساول ہی نہیں بلکہ خاندیش کے مختلف علاقوں میں بھی ادبی سرگرمیاں منعقد کی جاتی رہیں گی ـ بعد ازاں اس طرحی مصرع پر کہ *’رگوں میں خون نہ ہوتا تو مر گئے ہوتے ‘* رئیس فیضپوری ،شکیل حسرت، ساحر نصرت، ساعد جیلانی، حفیظ مینا نگری، رحیم رضا، ڈاکٹر قاضی رفیق راہی، شکیل انجم مینا نگری، اخلاق نظامی، وقار صدیقی، حافظ مشتاق ساحل، اقبال اثر، رفیق پٹوے اور اشراق راویری جیسے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا ـ بطور مبصر ڈاکٹر غیاث عثمانی، قیوم اثر اور شکیل میواتی نے خاندیش کے موجودہ شعری منظر نامے پر گفتگو کی اور پیش کیے گئے شعراء کے کلام کے معنی و ابعاد کی نئی پرتیں سامعین کے سامنے رکھیں ـ فنی اعتبار سے بھی تینوں ہی مبصرین نے اپنے خیالات کا اظہار نہایت ہی جامع اور پر تاثر انداز میں کیا ـ اپنے خطبہ صدارت میں احمد کلیم فیضپوری نے ادبی نشستوں کے متواتر انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور ایسی محفلوں کو وقت کی اشد ضرورت بتاتے ہوئے اس نشست کو یادگار نشست قرار دیا ـ علاوہ ازیں موصوف نے شاعری میں روایت کی اہمیت پر خاص زور دیا ـ آپ نے مزید کہا کہ بلا شبہ خاندیش نے اردو کو بہت اچھے شاعر دیے ہیں جن کے چند اشعار آج بھی زبان زد ہیں ـ اسی حوالے سے آپ نے خاندیش کے سابقہ نمائندہ شاعر ایمان بیاولی، قمر بھساولی، سیف بھساولی اور مرزا مصطفی آبادی کو خصوصیت سے یاد کیا ـ اس تقریب میں عبدالرشید قاسمی،مشتاق کریمی، حنیف خان اسماعیل عرف ملو سیٹھ، حاجی انصار اور ندیم مرزا کے علاوہ ضلع بھر سے ادب دوست سامعین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ـ رسم شکریہ عنیق فاؤنڈیشن کے صدر شکیل حسرت نے جبکہ نظامت کے فرائض مشہور ناظم مشاعرہ ہارون عثمانی نے بحسن و خوبی انجام دیے ـوے)