Articles
Total 205 Articles

اردوغزل پر حالی کی سخت ترین تنقید کے باوجود اس صنف کا نہ تو مملکت شعر سے دیس نکالا ہوسکا اور نہ ہی شائقین ادب کے درمیان اس کی مقبولیت میں کمی آئی۔اردو کی شعری روایت میں بارہا ہدف ملامت بننے کے باوجود یہ صنف آج بھی نہ صرف اپنی جلوہ سامانی سے ایوان شاعری کو درخشندگی عطا کر رہی ہے بلکہ بعض حیثیتوں سے یہ دنیا کی ان زبانوں کی شاعری کے مابین امتیازی شان کی حامل ہے جن کا حوالہ دینے کا رواج اردو تنقید میں ایک فیشن کے طور پر رائج ہو چکا ہے۔اردو غزل کا تخلیقی...

پورا پڑھیں

علامہ اقبال ؔ اپنے عہد کے ایک عظیم شاعر، بلندپایہ فلسفی ، ممتازمفکراوربے مثل مدبّرہیں۔ ان کا شمارجدید اردو نظم کے اہم شعرا میں ہوتا ہے ۔ ان کی شاعری میں فکرکی وحدت بھی ہے اور بلا کی ہمہ گیری بھی ۔ اقبال کی طبیعت بچپن ہی سے شعرگوئی کی طرف مائل تھی لہٰذا سید میر حسن کی سرپرستی اور صحبت نے ان کے دل میں شعرکہنے کا شوق پیدا کیا۔ ۱۸۹۴ء میں داغ دہلوی کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوئے اور۱۸۹۶ء میں انھوں نے اس رشتے کا ذکر فخر کے ساتھ کیا ہے : مجھے بھی فخر ہے شاگردیِ...

پورا پڑھیں

  حکیمِ مشرق اور نبّاضِ ملت علامہ اقبال کی تفہیم مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے مختلف طریقے سے کی ہے۔ جگنو پکڑتے ہوئے بچے اقبال کی شاعری میں ایک ایسی شخصیت سے روشناس ہوتے ہیں جو ان کے لیے سرور ہی سرور ہے کیف ہی کیف ہے۔ حوصلہ مند نوجوان کلامِ اقبال میں اس شاہین کو تلاش کرتے ہیں جس کی نظریں ہمیشہ اپنے مقصد پر ہوتی ہیں۔ اہلِ تصوف اقبال کی شاعری میں عشقِ حقیقی کے پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔ اہلِ مدرسہ کے یہاں کلامِ اقبال عشقِ رسول اور معرفتِ خداوندی کی علامت ہے۔ اہلِ علم ودانش علامہ...

پورا پڑھیں

اگرکوئی علّامہ اقبال ؔ کے متعلق کوئی یہ کہتا ہے کہ’’ وہ فلسفہ کے امام ہیں ، اقتصادیات پر ان کی گہری نگاہ ہے ، علم الاقوام بھی ان کے ذہن و دماغ میں رچا بسا ہوا ہے وہ دنیا کے نئے رجحانات و تصورات سے بھی واقف ہیں ۔ وہ قیصریت کے بھی ادا شناس ہیں ،اور فسطائیت کے رموز بھی جانتے ہیں ،وہ جمہوریت کے اسرار کے بھی ماہر ہیں اور اشتراکیت کی گہرائیوں میں غوطے لگا چکے ہیں ۔ غرض کہ دنیا کی کوئی تحریک ، کوئی رجحان ، کوئی تصور ایسا نہیں ہے جس سے اقبالؔ...

پورا پڑھیں

علامہ اقبال دنیا کے نابغۂ روزگار شاعر ہیں جن کا کلام شعری جمالیات کا اعلیٰ ترین مرقع ہونے کے علاوہ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دل کی آواز بھی ہے۔ ان کے کلام نے بین الاقوامی سطح پر ایک مردہ قوم کے لیے صور اسرافیل کا کام کیا ہے۔ اقبالؒ کی شاعری کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے آیات قرآنی اور آیات انفس و آفاق کی مدد سے اعلیٰ اقدار پر مشتمل پیغام کو شعری سانچے میں ڈھال کر پیش کیا۔ قرآنی آیات کا تو وصف ہی خیروصلاح کی طرف رہنمائی اور ہدایت ہے۔ علامہ اقبال...

پورا پڑھیں

علا مہ اقبال کے کچھ اشعار پڑھنے کے بعد نہ جانے کیوں ان کے الہامی ہونے کا گمان گذرتا ہے مثلاً جب وہ کہتے ہیں کہ ’’سنا ہے میں نے یہ قدسیوں سے‘‘ تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی ہے جو ان کے کانوں میں کچھ بول رہا ہے اور جو کچھ وہ سن رہے ہیں ہم سے بول رہے ہیں ۔علامہ اقبال خود اپنے بارے میں فرمایا تھا ۔میں نے کبھی اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھا۔ فن شاعری سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ہاں بعض مقاصد رکھتا ہوں جن کے بیان کیلئے حالات و روایات کی...

پورا پڑھیں

اقبال نے اپنی شاعری کی بنیاد جن افکار پر رکھی ہے، ان کے پیش نظر زمان ومکان کی سرحدیں، قلب و نظر کی تنگ دامانی کا مظہر معلوم ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے علامہ اقبال وطنیت کے موجودہ نئے تصور کو، امت مسلمہ کے حق میں زہر ہلاہل تصور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسلام نے عالمگیر انسانی برادری کا جو تصور پیش کیا ہے اسی میں امت مسلمہ کی بقا اور استحکام کا راز پوشیدہ ہے۔ حریت ، اخوت اور مساوات کا تصور، اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ امت مسلم کی شوکت اور سربلندی کی بنیاد، توحید،...

پورا پڑھیں

مولانا صلاح الدین احمد نے تحریر کیا ہے کہ ’’ اقبال کا فکر و فلسفہ تاریخی عوامل کی پیداوار ہے۔‘‘ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اقبال کے فکر و فلسفہ کے ان تاریخی عوامل کا نقطۂ آغاز کیا ہے؟ مولانا صلاح الدین احمد نے تحریر کیا ہے کہ ’’ اقبال کا فکر و فلسفہ تاریخی عوامل کی پیداوار ہے۔‘‘ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اقبال کے فکر و فلسفہ کے ان تاریخی عوامل کا نقطۂ آغاز کیا ہے؟ بادی النظر میں اقبال کے فکر پر بیک وقت مشرقی و مغربی مفکرین کے اثرات صاف محسوس کیے...

پورا پڑھیں

*روایت سے انحراف کر کے معیاری شاعری کی توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی : احمد بھساول 27 اکتوبر : عنیق فاؤنڈیشن بھساول اور خاندیش اردو رائٹرز فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ضلعی سطح پر ایک طرحی نشست کا انعقاد 27 اکتوبر کو بھساول کے عکاشہ فرنیچرز میں بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ کیا گیا ـ حافظ مشتاق ساحل نے تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا تو رئیس فیضپوری نے نعت رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محفل کو پر نور کر دیا ـ سلیم خان فیضپوری نے تحریک صدارت پیش کی اور تالیوں...

پورا پڑھیں

رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان سے ابھرنے والی دوایسی آوازیں تھیں جن کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ ایک طرف برطانیہ کا نوآبادیاتی غلبہ مضبوط ہورہا تھا تو دوسری طرف ہندوستانی عوام میں اس نوآبادیاتی غلبے کے خلاف بیداری بھی پیدا ہورہی تھی۔ کشمکش کے اس دور میں ہندوستان کے دو بڑے اذہان ،رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال نے ہندوستانی قوم کی رہنمائی کی۔ دونوں نے اس پیغمبری دور میں اپنے قلم کے ذریعے وطنیت سے لبریز نغمے لکھ...

پورا پڑھیں
1 2 3 4 5 6 21