Articles
Total 198 Articles

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے اقبال کی مشہور و معروف نظم ’خضر راہ‘ سے لیا گیا یہ مصرع اپنے آپ میں گہرے اور وسیع مفاہیم رکھتا ہے۔ یہ مصرع اور اس طرح کے سینکڑوں مصرعے اقبال کی نظموں ، غزلوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ شاعر اور حضرت خضر کے درمیان ہونے والے مکالمے پر مشتمل یہ نظم ہمیں زندگی میں جدو جہد کرنے اور کوشش کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ہمیں دوسروں کے بھروسے نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنی دنیا خود پیدا کرنی چاہیے، اگر ہمیں کامیابی حاصل کرنی ہے تو قوت عمل سے کام لینا...

پورا پڑھیں

علامہ اقبال کا شمار ان برگزیدہ شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے انسانی معاشرے کو کئی سطحوں پر متاثر کیا ہے ۔ اقبال کے سلسلے میں ایک بدیہی حقیقت یہ بھی ہے کہ ان کے افکار و خیالات کی معنویت کو کسی مخصوص عہد یا حالات کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔یہ ضرور ہے کہ اقبال کی شاعری کی نمود میں بعض مخصوص حالات و واقعات سے اثر پذیری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے تاہم اقبال نے ان مخصوص حالات و واقعات کی شعری تعبیر کچھ اس انداز میں کی ہے کہ ہردور کا انسانی سماج اس سے استفادہ کر...

پورا پڑھیں

علامہ اقبال دنیا کے نابغہ روزگار شاعر ہیں۔ ان کا کلام شعری جمالیات کا مرقع ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دلوں کی آواز ہے۔ اس عظیم المرتبت شاعر کی پیدائش بروز جمعہ، ۹/نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں ہوئی۔ علامہ اقبال کے مورث اعلی کشمیری برہمن تھے جو علم و دانش میں یگانہ عصر تھے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا۔ والدہ مذہبی اور خداترس خاتون تھیں اور والد غیرمعمولی صوفی بزرگ تھے۔ اس طرح تصوف اور شریعت دونوں نے اقبال کی ابتدائی زندگی میں ان کی...

پورا پڑھیں

اردوغزل پر حالی کی سخت ترین تنقید کے باوجود اس صنف کا نہ تو مملکت شعر سے دیس نکالا ہوسکا اور نہ ہی شائقین ادب کے درمیان اس کی مقبولیت میں کمی آئی۔اردو کی شعری روایت میں بارہا ہدف ملامت بننے کے باوجود یہ صنف آج بھی نہ صرف اپنی جلوہ سامانی سے ایوان شاعری کو درخشندگی عطا کر رہی ہے بلکہ بعض حیثیتوں سے یہ دنیا کی ان زبانوں کی شاعری کے مابین امتیازی شان کی حامل ہے جن کا حوالہ دینے کا رواج اردو تنقید میں ایک فیشن کے طور پر رائج ہو چکا ہے۔اردو غزل کا تخلیقی...

پورا پڑھیں

علامہ اقبال ؔ اپنے عہد کے ایک عظیم شاعر، بلندپایہ فلسفی ، ممتازمفکراوربے مثل مدبّرہیں۔ ان کا شمارجدید اردو نظم کے اہم شعرا میں ہوتا ہے ۔ ان کی شاعری میں فکرکی وحدت بھی ہے اور بلا کی ہمہ گیری بھی ۔ اقبال کی طبیعت بچپن ہی سے شعرگوئی کی طرف مائل تھی لہٰذا سید میر حسن کی سرپرستی اور صحبت نے ان کے دل میں شعرکہنے کا شوق پیدا کیا۔ ۱۸۹۴ء میں داغ دہلوی کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوئے اور۱۸۹۶ء میں انھوں نے اس رشتے کا ذکر فخر کے ساتھ کیا ہے : مجھے بھی فخر ہے شاگردیِ...

پورا پڑھیں

  حکیمِ مشرق اور نبّاضِ ملت علامہ اقبال کی تفہیم مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے مختلف طریقے سے کی ہے۔ جگنو پکڑتے ہوئے بچے اقبال کی شاعری میں ایک ایسی شخصیت سے روشناس ہوتے ہیں جو ان کے لیے سرور ہی سرور ہے کیف ہی کیف ہے۔ حوصلہ مند نوجوان کلامِ اقبال میں اس شاہین کو تلاش کرتے ہیں جس کی نظریں ہمیشہ اپنے مقصد پر ہوتی ہیں۔ اہلِ تصوف اقبال کی شاعری میں عشقِ حقیقی کے پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔ اہلِ مدرسہ کے یہاں کلامِ اقبال عشقِ رسول اور معرفتِ خداوندی کی علامت ہے۔ اہلِ علم ودانش علامہ...

پورا پڑھیں

اگرکوئی علّامہ اقبال ؔ کے متعلق کوئی یہ کہتا ہے کہ’’ وہ فلسفہ کے امام ہیں ، اقتصادیات پر ان کی گہری نگاہ ہے ، علم الاقوام بھی ان کے ذہن و دماغ میں رچا بسا ہوا ہے وہ دنیا کے نئے رجحانات و تصورات سے بھی واقف ہیں ۔ وہ قیصریت کے بھی ادا شناس ہیں ،اور فسطائیت کے رموز بھی جانتے ہیں ،وہ جمہوریت کے اسرار کے بھی ماہر ہیں اور اشتراکیت کی گہرائیوں میں غوطے لگا چکے ہیں ۔ غرض کہ دنیا کی کوئی تحریک ، کوئی رجحان ، کوئی تصور ایسا نہیں ہے جس سے اقبالؔ...

پورا پڑھیں

علامہ اقبال دنیا کے نابغۂ روزگار شاعر ہیں جن کا کلام شعری جمالیات کا اعلیٰ ترین مرقع ہونے کے علاوہ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دل کی آواز بھی ہے۔ ان کے کلام نے بین الاقوامی سطح پر ایک مردہ قوم کے لیے صور اسرافیل کا کام کیا ہے۔ اقبالؒ کی شاعری کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے آیات قرآنی اور آیات انفس و آفاق کی مدد سے اعلیٰ اقدار پر مشتمل پیغام کو شعری سانچے میں ڈھال کر پیش کیا۔ قرآنی آیات کا تو وصف ہی خیروصلاح کی طرف رہنمائی اور ہدایت ہے۔ علامہ اقبال...

پورا پڑھیں

علا مہ اقبال کے کچھ اشعار پڑھنے کے بعد نہ جانے کیوں ان کے الہامی ہونے کا گمان گذرتا ہے مثلاً جب وہ کہتے ہیں کہ ’’سنا ہے میں نے یہ قدسیوں سے‘‘ تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی ہے جو ان کے کانوں میں کچھ بول رہا ہے اور جو کچھ وہ سن رہے ہیں ہم سے بول رہے ہیں ۔علامہ اقبال خود اپنے بارے میں فرمایا تھا ۔میں نے کبھی اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھا۔ فن شاعری سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ہاں بعض مقاصد رکھتا ہوں جن کے بیان کیلئے حالات و روایات کی...

پورا پڑھیں

اقبال نے اپنی شاعری کی بنیاد جن افکار پر رکھی ہے، ان کے پیش نظر زمان ومکان کی سرحدیں، قلب و نظر کی تنگ دامانی کا مظہر معلوم ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے علامہ اقبال وطنیت کے موجودہ نئے تصور کو، امت مسلمہ کے حق میں زہر ہلاہل تصور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسلام نے عالمگیر انسانی برادری کا جو تصور پیش کیا ہے اسی میں امت مسلمہ کی بقا اور استحکام کا راز پوشیدہ ہے۔ حریت ، اخوت اور مساوات کا تصور، اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ امت مسلم کی شوکت اور سربلندی کی بنیاد، توحید،...

پورا پڑھیں
1 2 3 4 5 20