Articles
Total 198 Articles

مولاناابوالکلام آزاد بلاشبہ نابغہ ¿ روزگار تھے۔ ان کی غیرمعمولی ذہانت و ذکاوت، مسحورکن خطابت، بے مثال انشاپردازی، اس کے ساتھ ہی دانش وری اور سیاسی بصیرت کو اب مسلّمات کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی وسعت ِمطالعہ، قوتِ حافظہ اور جامعیت بھی عجیب و غریب تھی۔ اسلامیات، شعروادب، تاریخ و جغرافیہ اور طب جیسے متنوع اور مختلف الجہات علوم و فنون سے وہ نہ صرف واقف تھے، بلکہ ان کی جزئےات بھی اکثر و بیشتر انھیں مستحضر رہتی تھیں۔ اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں پر انھیں کامل عبور تھا۔ انگریزی کتابوں کے مطالعے میں بھی انھیں کوئی زحمت...

پورا پڑھیں

عرفان صدیقی اترپردیش کے تاریخی شہر بدایوںمیں۸جنوری۹۳۹۱ءکوپیداہوئے تھے۔معروف فکشن نگارسیدمحمداشرف کے مضمون ” عرفان صدیقی کی شاعری میں سوانحی اشارے“ کے درج ذیل اقتباس سے ضلع بداےوںکی ادبی وتاریخی اہمیت واضح ہوجاتی ہے: ”بداےوں،فردفریدپیانظام الدین اولیاکابدایوں،صوبے دارالتمش کابداےوں،مورخ عبدالقادر بداےونی کابداےوں،سلطان العارفین اورشاہ ولایت جیسے تاجدارانِ ولایت کابداےوں،شاہ فضل رسول اور حضرت تاج الفحول جیسے بادشاہانِ علم و معرفت کا بدایوں، فانی ، شکیل، آل احمد سرور، اداجعفری ، جیلانی بانواور اسعد بدایونی جیسے اصحاب قلم کا بدایوں اور عرفان صدیقی کا بدایوں۔ امیر خسرو اس محترم شہر کی خاک کو اپنے پیر مرشد کی نسبت سے سرمہ¿ چشم کے...

پورا پڑھیں

آلِ احمد سرور ہمارے ان معدودے چند ادیبوں میں ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی کے لمحہ ¿ آخر تک شعر و ادب سے گہرا سروکار رکّھا اور اپنی تحریرو ںکے ذریعہ اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔ آزاد، حالی، شبلی، امداد امام اثر اور عبدالرحمان بجنوری وغیرہ کی وساطت سے اردو تذکرہ اور تنقید کی جو روایت ان تک پہنچی تھی اس کی توسیع کا فریضہ انھوں نے اس انداز سے انجام دیا کہ مغربی تنقیدی معیاروں سے واقفیت کے باوجود اپنے معتدل مزاج اور متوازن طبیعت کے باعث مشرقی اندازِ نقد و نظر کو بالقصد ہمیشہ اپنی ترجیحات میں شامل...

پورا پڑھیں

موت ایک ایسا عام فہم لفظ ہے جس کے تصور سے ہر انسان واقفیت رکھتا ہے۔ دن رات کے مشاہدات موت کے بے شمار مناظر پیش کرتے رہتے ہیں۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اپنے عزا و اقربا کے وداعِ دائمی کے وقت موجود نہ رہاہو۔ حیرت کی بات ہے کہ جو چیز اس قدر ہمہ گیر اور دن رات کے معمولات میں شامل ہے اس کے تصور سے انسان گھبراہٹ اور پریشانی محسوس کرتاہے۔ ہم یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ موت ناگزیر ہے اور حیاتِ ابدی ممکن نہیں لیکن ہمارا دل و دماغ موت...

پورا پڑھیں

انسانی فتوحات مےں رسمِ خط کی اےجاد وارتقا اےک عظےم الشان کارنامہ ہے جس کی مدد سے انسان نے اپنے قلبی احساسات اور ذہنی افکار کے بحرنا پےدا کنارکو کوزہ مےں بند کرلےا ہے اور فن طباعت کی اےجاد نے تو سونے پر سہاگے کا کام کےا، چنانچہ جملہ علوم وفنون صفحہ ¿ قرطاس مےں سمٹ کر آگئے اور ہزاروں سال قدےم علمی سرماےہ ہر کس و ناکس کے لیے مفےد اور مستحضر ہوگےا۔ فن طباعت کا مولد ومنشا غےر اختلافی ہے اس کی اےجاد کا سہرا چےنےوں کے سر ہے۔ کےونکہ وہاں بدھ مت کی تروےج کے لیے مذہبی...

پورا پڑھیں

لکھنؤ کے پہلے دنوں کی یاد نواب نوازش علی اللہ کو پیارے ہوئے تو ان کی اکلوتی لڑکی کی عمر زیادہ سے زیادہ آٹھ برس تھی۔ اکہرے جسم کی ، بڑی دُبلی پتلی ، نازک ، پتلے پتلے نقشوں والی۔ گڑیا سی۔ نام اس کا فرخندہ تھا۔ اُس کو اپنے والد کی موت کا دُکھ ہوا۔ مگر عمر ایسی تھی کہ بہت جلد بھول گئی۔ لیکن اُس کو اپنے دُکھ کا شدید احساس اُس وقت ہوا جب اُس کو میٹھا برس لگا اور اُس کی ماں نے اُس کا باہر آنا جانا قطعی طور پر بند کر دیا اور اس...

پورا پڑھیں

شاباش بھائی نصیر شاباش ! چھوٹی بہن مرکے چھوٹی۔بڑی بہن کو جیتے جی چھوڑا۔ غضب خدا کا تین تین چار چار مہینے گزر جائیں اور تم کو دو حروف لکھنے کی توفیق نہ ہو ۔ حفیظ کے نکاح میں ۔ وہ بھی چچی جان کی زبانی معلوم ہوا کہ ملتان کی بدلی ہوگئی ۔ و ہ دن اور آ ج کا دن خیر صلّاح کیسی یہ بھی خبر نہیں کہ لاہور میں ہو یا ملتان میں نصیر میاں ! بہن بھائیوں کا رشتہ تو بڑی محبت کا ہوتاہے ۔ ایسی کون سی پانچ سات بہنیں بیٹھیں ہیں جو دل بھر گیا ۔ دور کیوں جاﺅ بھائی سلیم ہی کو دیکھ لو ایک چھوڑدو بہنیں ساتھ ہیں اور کس طرح؟گھربار کی مختار ۔ اندر باہر کی مالک سیاہ کریں ، چاہے سفید ۔ نہ بھائی کی اتنی مجال کہ دم مارسکے ، نہ بھاﺅج کی اتنی طاقت کہ ہوں کر سکے ۔ کسی کو دیکھ کر تو سیکھاکرو ۔ ایک وہ بھائی بہنوں کوآنکھوں پر بٹھایا ، بھانجا بھانجی کی شادیاں کیں ۔ بھانجوں کو پڑھا لکھاکر نوکرکرایا ۔ ایک تم بھائی ہو کس کا بھانجہ اور کیسی بہن ۔ چاہے کوئی مرے یا جیئے تمہاری بلا سے ۔ خدا کا شکرہے ، میں تو تمہاری روپیہ پیسہ کی بھوکی نہیں خالی محبت اور میٹھی زبان کی خواستگار ہوں ۔ جو کہیں خدانخواستہ تمہارے در پر آکر پڑتی تو کُتّے کے ٹھیکرے میں پانی پلوادیتے آخر میں بھی سنوں خطاقصور وجہ سبب۔ کچھ تو بتاﺅ ایسی لاپروائی بھی کس کام کی ، اچھے سے غرض نہ بُرے سے مطلب ۔ بہن کے تم نہیں بھائی کے تم نہیں ۔ صادقہ مرتے مرگئی اور تمہاری صورت دیکھنی نصیب نہ ہوئی ۔ امّا رہیں نہیں ، ابّا اُدھر چلے گئے ، میں اس قابل نہیں ، بڑے بھائی اس لائق نہیں ۔ اب تمہارا دلّی میں کون بیٹھا ہے جس کو خط لکھو۔ تم تو خدا سے چاہتے تھے کہ کوئی موقعہ ملے تو ایک سرے سے سب کو عاق کردوں۔ ابّا کا حج کو جانا اور اونگتے کوٹھیلتے کا بہانہ ہوگیا ۔ بہن اور بھائی ماموں اور ممانی سب کو بالائے طاق رکھا۔ چچا لاپرواہ چچی خطا وار ۔ بھائی خود غرض ، بہن گنہگار ، غرض کنبے کا کنبہ اور خاندان کا خاندان چھوٹے اور بڑے ، بڈھے اور جوان ، مرد اور عورت ،بوڑھا اور بچہ ایک بھی اچھا نہیں ۔ محبت نہیں مروّت ہی سہی ۔ بال بچوں کا ساتھ رکھنا گناہ نہیں ہے‘ دنیا جہان میں ہوتی آئی ہے مگر یہ اندھیرا کہیں نہیں دیکھا کہ الگ گھر کرتے ہی سب کو دھتا بتائی ۔ امّا کا مرنا ہماری تو مٹی پلید ہوئی مگر تم کو عید ہوگئی ۔ شفقت محبت پہلے ہی رخصت ہوچکی تھی ۔ جو کچھ تھوڑا بہت لحاظ تھا وہ بھی گیا گزرا ہوا۔ اللہ تم کو ہمیشہ خوش وخرم رکھے۔ الٰہی تمہارے بچوں کی ہزاری عمر ہو ۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھواب سے دوراگلے برس ذرا ظہیر کو بخار ہوگیا تھا ۔ کیسے گھبرائے گھبرائے پھرتے تھے ۔ تم کو آٹھ برس کے بچے کی یہ کچھ مامتا تھی ۔امّا کو تمہاری کتنی ہوگی ؟ نصیر میاں دنیا کے جھگڑے تو ہمیشہ ہی رہیں گے ۔ بال بچے شادی بیاہ سب ہی کچھ ہوگا ۔ اب امّاں تمہاری صورت دیکھنے نہیں آئیں گی ۔

پورا پڑھیں

بیسویں صدی تاریخ کی سب سے زیادہ پُر تشدد صدی تھی۔اکیسویں صدی کے شانوں پر اسی روایت کا بوجھ ہے۔جسمانی تشدد سے قطع نظر ،بیسویں صدی نے انسان کو تشدد کے نت نئے راستوں پر لگا دیا۔تہذیبی ،لسانی ،سیاسی ،جذباتی تشدد کے کیسے کیسے مظہر اس صدی کی تہہ سے نمودار ہوئے۔حد تو یہ ہے کہ اس صدی کی اجتماعی زندگی کے عام اسالیب تک تشدد کی گرفت سے بچ نہ سکے ۔اس عہد کی رفتار، اس کی آواز،اس کے آہنگ اور فکر ، ہر سطح پر تشدد کے آثار نمایاں ہیں۔میلان کنڈیرا کا خیال ہے کہ یہ صدی دھیمے...

پورا پڑھیں
1 18 19 20