Articles
Total 205 Articles

مجھے سب سے زیادہ چڑ ھ ان لوگو ں سے ہے جو خود کو یا کسی اورکو ”اردو نواز“کہتے ہیں۔بھلا بتائیے اردو ہم کو نوازتی ہے کہ ہم اردو کو نوازتے ہیں؟یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ اردو جیسی خوبصورت ،طاقتوراورتوانگر زبان ہم کوملی۔اگر ہم صحیح اردو لکھ سکیں تو یہ ہماری سعادت ہے۔افسوس کہ ہم میں سے اکثر کوصحیح زبان لکھنے کا سلیقہ نہیں،اچھی زبان تو اور بات ہے ۔ ”اردو نوازوں“کے بعد مجھے سب سے زیادہ چڑھ ان لوگوں سے ہے جو خود کو اردو کا حامی اور ہمدرد بتاتے ہیں،لیکن اس کے بارے میں معذرت آمیز اور...

پورا پڑھیں

کبیر کی تعلیمات کا بنیادی مقصد زندگی کی سچائیوں کا ادراک حاصل کرنا تھا۔ وہ بنیادی طور شاعر نہیں تھے بلکہ انھیں ایک سماجی مصلح یا زیادہ سے زیادہ صوفی یا سنت کہا جاسکتا ہے۔ البتہ اپنے افکار و خیالات کی ترویج کے لیے انھوں نے شاعری کو ذریعہ بنایا۔ چونکہ وہ بھگتی اور صوفیانہ افکار سے متاثر تھے لہٰذا ان کا کلام بھی بھگتی اور صوفیانہ رنگ سے مملو ہے۔اسی بھگتی اور تصوف کے رنگ کی وجہ سے کبیر کی تعلیمات زندگی کی فہم اور ادراک کا حوالہ بن گئیں۔زندگی کے سارے روشن و تاریک پہلو ان کی شاعری...

پورا پڑھیں

اردو افسانے کے آغاز اور اولیت کو لے کر خاصے اختلافات رہے ہیں۔ حالانکہ اردو افسانے کا سفر کچھ ایسا طویل بھی نہیں ہے کہ یہ تحقیق کے لیے کوئی بہت بڑا چیلنج ہو۔لیکن اردو افسانے کے ساتھ معاملہ یہ ہوا کہ ہمارے زیادہ تر محققین کولسانی کھکھیڑیں سلجھانے اور قدیم ترین متون کی تدوین و ترتیب نے اتنی فرصت ہی نہیں دی کہ وہ اس سمت بھی توجہ کرتے یا شاید افسانہ (یاتخلیقی ادب) ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا۔ خیر اس صورتِ حال کے مدنظر اردو افسانے کی روداد لکھنے کی ذمہ داری محققین کے بجائے...

پورا پڑھیں

اگر یہ کہاجائے کہ کرۂ ارض ایک چھوٹی سی جگہ ہے اور یہ چھوٹی سی جگہ بھی اب مسلسل سمٹ رہی ہے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ گلوبل ولیج کی سوچ تو سٹیلائیٹ دور کے شروعات کی بات تھی۔ اب انسان 3Gاور4Gکے اس دور میں سائبر اسپیس کا سند باد بن چکا ہے۔ بہت پہلے بل گیٹس نے کہا تھا کہ : ’’انٹر نیٹ ایک تلاطم خیز لہر ہے جو اس لہر میں تیرنا سیکھنے سے احتراز کریں گے ، اس میں ڈوب جائیں گے۔‘‘ بل گیٹس کی بات خواہ غلط ہو یا صحیح حقیقت یہ ہے کہ آج...

پورا پڑھیں

بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اردو میں یکے بعد دیگرے کئی ناول لکھے گئے۔ ان میں کچھ مقبول ہوئے توکچھ کو قبولیت کا شرف حاصل نہ ہوسکا۔کچھ ناولوں پر دیر تک گفتگو ہوئی مثلاً جوگندرپال کا ناول ”خوب رو“ ، مظہر الزماں خاں کا ناول ”آخری داستان گو“ ، حسین الحق کا ناول ”فُرات“، غضنفر کا ناول ”پانی“ ، علی امام نقوی کا ناول” تین بتّی کے راما“ اور سیّد محمد اشرف کا ناول ”نمبر دار کا نیلا“ وغیرہ ۔یوں تو مذکورہ بالا تمام ناول اہمیت کے حامل ہیں تاہم اشرف کا ناول ”نمبردار کا نیلا“اپنے موضوع ، ٹریٹمنٹ...

پورا پڑھیں

نجیب محفوظ نے اپنی ادبی زندگی کا آغازمعروف عربی جریدے ’المجلہ الجدید‘، مصر سے شروع کیا تھا۔ اس میں شائع ہونے والی تحریریں ترقی پسند نظریات سے نجیب کی وابستگی کا اعلان نامہ تھیں۔اگرچہ ابتدائی دورمیں شائع ہونے والی ان کی تین سلسلہ وار کہانیاں فرعونوں کی تاریخ کے پس منظر میں تحریر کی گئی تھیں تاہم اُن کہانیوں میں بھی مارکسی اثرات کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب نجیب محفوظ نے اعلان کیا تھا کہ وہ سائنس، سوشلزم اور برداشت میں یقین کرنا سیکھ رہے ہیں۔ بعد ازاں نجیب سر رئیلسٹ فکشن نگاری کی طرف ملتفت...

پورا پڑھیں

مولانا شبلی نعمانی دارالمصنفےن کے تخئےل کے خالق تھے اس تخےل کو حقےقت کا عملی جامہ پہنانے والوں مےں مولانا حمےدالدےن فراہی ،مولاناسےد سلےمان ندوی،مولانا عبدالسلام ندوی،اور مولانا مسعود علی ندوی،جےسی قدآور شخصےتےں کارفرما تھےں۔ےہ شخصےتےں دارالمصنفےن کے اصل معماروں مےں سے ہےں لےکن اس کے علمی و ادبی و عملی کارنامے اس کی تاسےس سے آج تک مختلف رفقا کی انتھک کوششوں کا نتےجہ ہےں۔رفقا مےں وہ شخصےتےں زےادہ اہم ہےں جنہوں نے اس ادارہ سے عمر بھر کا پےمان وفا باندھا۔ان کی خدمات امر ہےں۔بعض رفقا تربےت پاکر اور مختصر عرصہ تک ےہاں تک مقےم رہ کر رخصت...

پورا پڑھیں

مولاناابوالکلام آزاد بلاشبہ نابغہ ¿ روزگار تھے۔ ان کی غیرمعمولی ذہانت و ذکاوت، مسحورکن خطابت، بے مثال انشاپردازی، اس کے ساتھ ہی دانش وری اور سیاسی بصیرت کو اب مسلّمات کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی وسعت ِمطالعہ، قوتِ حافظہ اور جامعیت بھی عجیب و غریب تھی۔ اسلامیات، شعروادب، تاریخ و جغرافیہ اور طب جیسے متنوع اور مختلف الجہات علوم و فنون سے وہ نہ صرف واقف تھے، بلکہ ان کی جزئےات بھی اکثر و بیشتر انھیں مستحضر رہتی تھیں۔ اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں پر انھیں کامل عبور تھا۔ انگریزی کتابوں کے مطالعے میں بھی انھیں کوئی زحمت...

پورا پڑھیں

عرفان صدیقی اترپردیش کے تاریخی شہر بدایوںمیں۸جنوری۹۳۹۱ءکوپیداہوئے تھے۔معروف فکشن نگارسیدمحمداشرف کے مضمون ” عرفان صدیقی کی شاعری میں سوانحی اشارے“ کے درج ذیل اقتباس سے ضلع بداےوںکی ادبی وتاریخی اہمیت واضح ہوجاتی ہے: ”بداےوں،فردفریدپیانظام الدین اولیاکابدایوں،صوبے دارالتمش کابداےوں،مورخ عبدالقادر بداےونی کابداےوں،سلطان العارفین اورشاہ ولایت جیسے تاجدارانِ ولایت کابداےوں،شاہ فضل رسول اور حضرت تاج الفحول جیسے بادشاہانِ علم و معرفت کا بدایوں، فانی ، شکیل، آل احمد سرور، اداجعفری ، جیلانی بانواور اسعد بدایونی جیسے اصحاب قلم کا بدایوں اور عرفان صدیقی کا بدایوں۔ امیر خسرو اس محترم شہر کی خاک کو اپنے پیر مرشد کی نسبت سے سرمہ¿ چشم کے...

پورا پڑھیں

آلِ احمد سرور ہمارے ان معدودے چند ادیبوں میں ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی کے لمحہ ¿ آخر تک شعر و ادب سے گہرا سروکار رکّھا اور اپنی تحریرو ںکے ذریعہ اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔ آزاد، حالی، شبلی، امداد امام اثر اور عبدالرحمان بجنوری وغیرہ کی وساطت سے اردو تذکرہ اور تنقید کی جو روایت ان تک پہنچی تھی اس کی توسیع کا فریضہ انھوں نے اس انداز سے انجام دیا کہ مغربی تنقیدی معیاروں سے واقفیت کے باوجود اپنے معتدل مزاج اور متوازن طبیعت کے باعث مشرقی اندازِ نقد و نظر کو بالقصد ہمیشہ اپنی ترجیحات میں شامل...

پورا پڑھیں
1 18 19 20 21