Articles
Total 205 Articles

معین احسن جذبی ؔسے متعلق بطور تمہید جو دو چار قسم کے حقائق بیان کیے جا سکتے ہیں ، ان سے شعر و ادب کا ہر سنجیدہ طالب علم واقف ہے ۔ مثال کے طور پریہ کہ جذبی کی نوجوانی کا زمانہ کم و بیش وہی تھا  جو جنگ ِ آزادی کے شباب کا دور تھا ۔ اسی طرح وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے با قاعدہ ممبر یا عہدے دارنہ رہے ہوں، لیکن ان کا حلقہ وہی تھا جن سے فیض، مخدوم، سردار جعفری ، جاں نثار اختر اور مجاز وغیرہ وابستہ تھے ۔ جذبی نے بھی اپنے ساتھیوں...

پورا پڑھیں

جذبیؔ اپنے ہم عصراردو شعرا میں سب سے کم سخن ، کم گو اور کم آمیز شاعر ہیں۔ وہ ہمیشہ ہی سب سے الگ نظر آئے ۔ دنیاوی اعتبار سے اپنی کم آمیزی کی وجہ سے جتنے بھی نقصان ہو سکتے تھے وہ انھوں نے برداشت کیے لیکن کبھی شکایت نہیں کی ، سوائے ا یک طنزیہ قصیدے کے ۔ سب میں رہنے کے با وجود وہ کبھی کھلے نہیں ۔ کم ایسے دروںبیں ہوں گے جوخود سے بھی نہیں کھلتے۔ ان کے یہاں احتیاط کی ایک عجیب تہذیب ہے ۔ یہ تہذیب ان کی زندگی اور شاعری دونوں پر...

پورا پڑھیں

گذشتہ نصف صدی کی اردو شاعری کی تاریخ پر جن لوگوں کا نقش ثبت ہو چکا ہے ، ان میں جذبیؔ صاحب کا نام نمایاں ہے ۔ میری عمر کے لوگوں کے کان جب شاعری کے آہنگ سے آشنا ہو ئے تو وہ جذبیؔ اور مجاز کا عہد تھا ۔ رسالوں اور مشاعروں نے ان کی مقبولیت کو عروج تک پہنچا دیا تھا ۔ فیض، اخترالایمان، سردار جعفری، کیفی ابھی اتنے نمایاں نہیں تھے گو کہ ان سے بھی اہلِ ذوق واقف تھے ۔ کسی عہد کو کسی شاعر کے نام سے منسوب کرنا ، بڑی ذمہ داری اپنے سر...

پورا پڑھیں

  لکھ دیجیے گا یہ میری لوح مزار پر انسانیت کے درد کو انسان  لے گیا زندگی کی کتاب کا ہر صفحہ اپنے چہرے پر مختلف نقوش رکھتا ہے۔ کتاب زیست کے بعض‌ صفحات کے نقوش اس قدر جاذب ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ صفحات پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ سن 2018 کے ستمبر کی بات ہے۔ ایک دن میں مہاراشٹر کالج میں اپنے کلاس روم میں تھا۔ پروفیسر اظفر صاحب کا اردو کا لکچر تھا۔ سر نے کلاس سے روانہ ہوتے وقت ہم لوگوں سے کہا کہ گھر جانے سے قبل ایک بار آپ سب لوگ آڈیٹوریم...

پورا پڑھیں

  دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم لغو ہے آئینۂ فرق جنون و تمکیں نقشِ معنی ہمہ خمیازۂ عرضِ صورت سخنِ حق ہمہ پیمانۂ ذوقِ تحسیں لاف دانش غلط و نفعِ عبادت معلوم دُردِ یک ساغرِ غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں مثلِ مضمونِ وفا باد بدست تسلیم صورتِ نقش قدم خاک بہ فرق تمکیں عشق بے ربطیِ شیرازۂ اجزاے حواس وصل...

پورا پڑھیں

جوش ؔکی شاعری پر گفتگو کے سلسلے میں ناقدین کے یہاں معتدل رجحان کے بجائے عموماً ایسی شدت پسندی نظر آتی ہے جو شاعر کے فنکارانہ خدوخال کو نمایاں کرنے کے برعکس اس میں پیچیدگی اور الجھائو پیدا کردیتی ہے۔اردو ناقدین کا یہ رویہ کبھی جوشؔ کو فن کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا دیتا ہے اور کبھی اس قدر کمتردرجے کا شاعر بنا دیتا ہے جو فکرو فن کی نزاکتوں اور تقاضوں سے نا بلد نظر آتا ہے۔ اردو ادب میں جوش ؔکی حیثیت متنازعہ فیہ شاعر کی رہی ہے۔جوش ؔکے فن کا تجزیہ کرتے وقت ارباب ِ ادب نے...

پورا پڑھیں

بیسویں صدی کے اردو مرثیہ کو نئی تخلیقی جہتوں سے آشنا کرنے والوں میں جوشؔ کا نام نمایاں طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے باوجود جوشؔ شناسی کے ذیل میں ارباب ادب جوشؔ کی مرثیہ نگاری سے بہت کم واقف ہیں۔ جوشؔ اردو شاعری کے ایوان میں شاعر انقلاب و شاعر شباب کی حیثیت سے ایک بلند و بالا ستون کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ بحیثیت مرثیہ نگار جوش ؔ ایک عہد ساز اور منفرد مقام کے حامل ہیں۔ جوشؔ کی شاعری کی اس جہت سے ناواقفیت کا سبب عموماً...

پورا پڑھیں

اُردو ادب سے وابستگی کے بعد عصمت چغتائی  کے افسانوں سے نصابی سا ربط رہا ۔ بہت زیادہ غور و فکر کا موقعہ نہ مل سکا،  کچھ نصابی مجبوریاں اور کچھ ادب سے انٹرٹینمنٹ کا کام لینے کا رویہ آڑے رہا،  اس دوران ڈاکٹر فرزانہ کوکب جو ہماری ٹیچر ہی نہیں  کڑکتی دھوپ میں  سایہِ مہرباں کا سا درجہ رکھتی ہیں سے عقیدت محبت اور خلوص کا تعلق  رہا ۔ لیکن ادب اور خاص طور  پر عصمت چغتائی کے فن کے حوالے سے وہ اِدراک و شعور نصیب نہ ہو سکا جو ان کے پی ایچ ڈی کے تھیسسز عصمت...

پورا پڑھیں

(انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ،اسلام آباد کے زیر اہتمام نوجوانوں قلم کاروں کی منعقدہ ورکشاب سے خطاب 2008) عزیر طالبات!!!! سب سے پہلے تو میں اس خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جو مجھے یہاں آ کر اور یہ جان کر ہو ئی کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی جیسے ملک کے نہایت اعلیٰ اور مقتدر ادارے میں آپ جیسے طلباء موجود ہیں جو افسانہ لکھنا اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔شاہد آپ کو معلوم ہو کہ میں نے اپنی ویب سائٹ پر نوجوانوں افسانہ نگاروں کو کسی معاوضے کے بغیر فنی اور تکنیکی مشورے دینے کا اعلان...

پورا پڑھیں

نظم طباطبائی کی شرحِ دیوانِ اردوے غالب ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۹۰۰ء میں پہلی بار شایع ہوئی۔ اس سے پہلے دیوانِ غالب کی جس قدر شرحیں لکھی گئی تھیں وہ جزوی شروح تھیں۔ طباطبائی پہلے شخص ہیں جنھوں نے غالبؔ کے متداول دیوان کی مکمل شرح لکھی ہے۔ اس اولیت کے علاوہ کئی اور پہلوئوں کے لحاظ سے بھی یہ شرح اہمیت کی حامل ہے۔ ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے مصنف عربی و فارسی کے متبحر عالم اور ان دونوں زبانوں کی شعری روایت اور اصولِ نقد سے پوری طرح واقف تھے۔ اس کے ساتھ ہی...

پورا پڑھیں
1 2 3 4 21