Articles
Total 205 Articles

میر،غالب،انیس،اقبال، جوش ،فراق اور فیض اردو شاعری کے اہم ترین نام ہیں۔ انیس نے مرثیہ کی صنف میں جس طرح اپنی خود ساختہ صلا حیت کا لو ہا منوایا ہے وہ مرتبہ دوسرے کسی اور شاعر کو نصیب نہیں ہوا۔ میرانیس نے اپنی شاعری کا آغاز غزل سے کیا تھا اور کم عمری ہی میںاپنی صلا حیت کا جوہر دکھا نے شروع کر دیئے تھے۔ لیکن والد کی ہدایت پر کہ’’ اپنی آخرت کیلئے کچھ کرو‘‘ انیس نے غزل کو خدا حافظ کہا اوراپنا سارا کلام صحن کی حوض میں پھینک دیا جو یقینا اردو شاعری پر ستم تھا۔ اسکے...

پورا پڑھیں

تحریر کی وسا طت سے پیش آمدہ واقعات و حا د ثات کوعلمی و فنی کمالات سے قارئین کے دل و دماغ میں اتار دینے کے ہنر کو رپورتاژکہتے ہیں ۔ حقیقت پر مبنی رپورتاژنگاری کو پر کشش الفاظ ، نرالے انداز ،انو کھے طرز میں تحریر کرنا اس کی بنیادی اوراساسی اصولوں میں شمار کیا جا تا ہے ۔ان سب باتوں کے لیے لازمی ہے کہ ماضی کے تذکرے کامطالعہ کرنے کے بعدا س میں حالا ت حا ضرہ کی بول چال اور محاورات کو حسن و خوبی کے ساتھ شامل کر لیا جائے ۔ اگر رپورتاژ کے مفہوم...

پورا پڑھیں

ہندوستانی زبان، ہندوستانی تہذیب اور یہ لب ولہجہ عصرحاضر کے دانشوروں کو ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا ہے، لیکن اب بھی اس کے افق سے کچھ ستارے جو اپنی روشنی سے یہ اعلان کرتے ہیں۔ اعلان ہی نہیں بلکہ سناٹے میں نقارے کے مانند گونج اٹھتے ہیں اور ہماری بصارت خیرہ ہو اٹھتی ہے۔ تاریخ نے چونکہ ہمیں بھاری بھرکم اژدر نما پیش کیا ہے۔ لہذا اس بھاری بھرکم وجود کے ساتھ متحرک ہونے پر ہمیں گامزن کئے بغیر نہیں رہتا۔ میری مراد آلوک یادو سے ہے، جن کا شعری مجموعہ اسی کے نام منظرعام پر آچکا ہے اور ہر...

پورا پڑھیں

حیدر شمسی میں شہرِبمبئی ہوں۔ میرا شمار دنیا کے مشہور ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ لوگ مجھے الگ الگ ناموں سے جانتے ہیں۔کوئی مجھے پیار سے بمبئی کہتا ہے تو کوئی بامبے کہہ کر پکارتا ہے۔میں سات بڑے اور چند چھوٹے چھوٹے جزائرکا مجموعہ ہوں ۔ فلمی دنیا میں میری ایک الگ شناخت ہے۔ دنیا مجھے فلم سٹی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ فلمی گیتوں میں میرا نام متعدد جگہ سننے میں آتا ہے۔ یہ ہے بمبئی یہ ہے بمبئی میری جان،ای ہے بمبئی نگریا تو دیکھ ببوا، بمبئی سے آیا میرا دوست اور بمبئی ہم کو جم...

پورا پڑھیں

عمران عاکف خان تمھارے شہر کی مٹی لگی ہے پیروں میں ہمارے شہر کے رستے خوشی سے پاگل ہیں دوپہر کا ایک وقت ۔میرے کمرے کی کنڈی کھٹکنے لگی۔ ’’جی آجائے ،کون؟‘‘ ’’سر ڈاک!!‘‘ دروازہ کھلا اور میسنجر ایک بند لفافہ مجھے د ے کر ریسوینگ شیٹس پر سائن لینے لگا۔میں نے سائن کر کے لفافہ چاک کیا تو اس میں ساہتیہ اکادمی ،نئی دہلی کا ایک لیٹر تھا۔بیڈ پر آکر اسے میں اوپر سے نیچے تک پڑھنے لگا۔اس کا لب لبا ب یہ تھا کہ ساہتیہ اکادمی،نئی دہلی نے مجھے ریسرچ اسکالرس کے لیے دیے جانے والے ٹراول گرانٹ...

پورا پڑھیں

مرید پور کا پیر پطرس بخاری اکثر لوگوں کو اس بات تعجب ہوتا ہے کہ میں اپنے وطن کا ذکر کبھی نہیں کرتا۔ بعض اس بات پر بھی حیران ہیں کہ میں اب کبھی اپنے وطن کو نہیں جاتا۔ جب کبھی لوگ مجھ سے اس کی وجہ پوچھتے ہیں تو میں ہمیشہ بات کو ٹال دیتا ہوں۔ اس سے لوگوں کو طرح طرح کے شبہات ہونے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے وہاں اس پر ایک مقدمہ بن گیا تھا اس کی وجہ سے روپوش ہے۔ کوئی کہتا ہے وہاں کہیں ملازم تھا، غبن کا الزام لگا، ہجرت کرتے ہی بنی۔...

پورا پڑھیں

رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی جنگ آزادی کے ایک عظیم مجاہد تھے۔ وہ غیر منقسم ہندوستان کے ان سیاسی رہنماؤں میں سے ایک تھے جن کے نام انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ ان کا شمار مولانا ابوالکلام آزاد, شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی, مفتی اعظم حضرت علامہ کفایت اللہ, حکیم اجمل خاں, ڈاکٹر انصاری, نقیب انقلاب سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی وغیرہ کے ممتاز رفیقوں میں ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت جدوجہد آزادی کی نمایاں ترین شخصیت تھی جن سے جدوجہد آزادی کی نمایاں اور شان دار روایات...

پورا پڑھیں

جمالیات فلسفہ کی ایک شاخ ہے جسے یونانی لفظ (Aisthetikes)سے اخذ کرکے انگریزی زبان میں(Aesthetics)بنالیا گیا ۔ فارسی میں اسے زیبائی شناسی اور ہندی میں رس سدّھانت یا رس شاستر کہتے ہیں۔ ’’جمال ‘‘ بذات خود عربی زبان کا لفظ ہے ۔عام طور پر یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ ’’جمال‘‘ اور ’’حسن‘‘ ایک دوسرے کے مترادف یا ہم معنی الفاظ ہیں۔بے شک کسی حد تک ان میں مماثلت پائی جاتی ہے لیکن مفہوم کے اعتبار سے وہ لازمی طور پر ہم معنی نہیں ہیں ۔ مثلاََ فارسی زبان کا یہ شعر: جمالیات فلسفہ کی ایک شاخ ہے جسے یونانی...

پورا پڑھیں

معین احسن جذبی کا شعری کینواس مختلف رنگوں سے مزّین ہے اور اِن میں احساس کی تازگی اور جذبے کی شدت کا رنگ سب سے گہرا ہے۔ یہی جذبات و احساسات کی شدت انھیں اپنے دیگر ترقی پسند معاصر شعرا سے منفرد کرتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جذبی کا شعری رویہ 1936ء میں ترقی پسند تحریک کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہی مستحکم ہوچکا تھا۔ وہ اپنی مشہور غزل ’’ مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں، جینے کی تمنا کون کرے‘‘1933ء میں نہ صرف لکھ چکے تھے بلکہ اس غزل کے حوالے سے اُن کی شناخت بھی قائم ہوچکی تھی۔...

پورا پڑھیں

جذبی کا پورا کلام توجہ سے پڑھنے کے بعد قاری آسانی سے یہ رائے قائم کرلیتا ہے کہ شاعر کسی مخصوص سیاسی نظریے کا نہ تو پابند ہے نہ ہی اپنی جانبداریوں کے حق میں ،فن کے تقاضوں سے مفاہمت پر آمادہ ہے۔جذبی کی شاعری میں کوئی خیال ‘اس طور پر نظم ہوتا ہے کہ شاعری کا منصب مجروح نہ ہو اور بیش تر صورتوں میں خیال ،شعر کے پیکر میں ڈھل کر قاری کی اپنی واردات بن جاتا ہے ۔ترقی پسند تصورات کو نظم کرنے میں بھی جذبی نے خیال کی‘شعری وسائل سے ہم آہنگی کو نظر انداز نہیں...

پورا پڑھیں
1 2 3 21