Articles
Total 163 Articles

  میں اپنی گفتگوکا آغاز ’حیات جاوید ‘ میں شامل خواجہ الطاف حسین حالی کے دیباچے کے ایک اقتباس سے کرنا چا ہو ں گا جس پر میں نے اپنی اور آپ کی سہولت کی خاطر نمبر ڈال کر اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے ۔سر سید کی لائف یا سیرت کے لکھنے کی غایت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہو ئے حالی فرماتے ہیں: میں اپنی گفتگوکا آغاز ’حیات جاوید ‘ میں شامل خواجہ الطاف حسین حالی کے دیباچے کے ایک اقتباس سے کرنا چا ہو ں گا جس پر میں نے اپنی اور آپ کی سہولت کی خاطر نمبر...

پورا پڑھیں

مقصود بستوی: نداؔ صاحب ! میں آپ سے جاننا چاہوں گا کہ نثر اور شاعری میں کیا رشتہ ہے۔ کیا یہ ایک دوسرے کو رد کرتی ہیں۔ ان میں باہمی داخلی جنگ ہے۔ اور یہ اپنی بقا کے لیے دوسری صنف کو کمزور کرنا ضروری سمجھتی ہیں؟ ندا فاضلی:شاعری کی طرح نثر بھی کئی رنگ روپ کی ہوتی ہے۔’صحافتی نثر‘، ’تنقیدی نثر‘،’ تجارتی نثر‘، ’تخلیقی نثر‘ ۔ میرے یہاں جو نثر ہے اس کا رشتہ میرے انھیں تجربہ و مشاہدہ اورسوچ کے زاویوں سے ہے جو وزن ، قافیہ اور ردیف کی پابندیوں میں شاعری میں ڈھل جاتے ہیں اور...

پورا پڑھیں

مدینہ منور کی شہری ریاست دس برس کے قلیل عرصہ میں ارتقاء کی مختلف منزلیں طے کر کے ایک عظیم اسلامی ریاست بن گئی ، جس کے حدودِ حکمرانی شمال میں عراق وشام کی سر حدوں سے لے کر جنوب میں یمن وحضر موت تک ، اور مغرب میں بحرِ قلزم سے لے کر مشرق میں خلیج فارس و سلطنتِ ایران تک وسیع ہوگئیں اور علمی طور سے پورے جزیزہ نمائے عرب پراسلام کی حکمرانی قائم ہوگئی ۔ اگر چہ شروع میں اسلامی ریاست کانظم ونسق عرب قبائلی روایات پر قائم واستوار تھا تا ہم جلد ہی وہ ایک ملک...

پورا پڑھیں

جس وقت تحریکِ آزادی شباب پرتھی اس وقت بمبئی ذریعۂ معاش کا اہم مرکزتھا۔ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے بمبئی میں داخل ہورہے تھے جس میں ایک بڑا طبقہ ادیبوں کا بھی تھا۔ پریم چند سے لے کر کرشن چندر، منٹو، بیدی، عصمت اور خواجہ احمدعباس جیسے اعلا پایہ کے ادیبوں نے ممبئی کی ادبی محفل کو رونق بخشی۔یہ شہر اس وقت جدید افسانہ کا مرکز تھا۔ جب یہاں کے ادیبوں نے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی تو ادبی دنیا میں ایک انقلاب آگیا۔ اس تحریک نے جہاں دبے کچلے افراد کی زندگی اور ان...

پورا پڑھیں

مختار احمد (م۔ ناگ) نے مغربی وِدربھ کے ضلع ناگپور کے ایک غریب اور کثیر عیال ہیڈ کانسٹیبل کے یہاں جنم لیا تھا۔ اُس کے والد نے ایمان داری میں گزر بسرکی تھی اور وہ اپنے خاندان کو غریبی کی ظلمت سے نہ نکال سکے تھے۔ پہلی کلاس ہی میں مختار احمد نے چار سال لگا دیے تھے، اس لیے کہ ہر سال کسی نہ کسی سبب سے اُس کے والد کا تبادلہ ہو جانے کی وجہ سے وہ امتحان ہی نہیں دے پاتا تھا۔ اُس نے لکھا ہے کہ ’پولیس کالونی میں کوئی گھریلو تقریب ہوتی تو ہمارے کپڑے،...

پورا پڑھیں

ایک عہد کی episteme دوسرے عہد میں بدل جاتی ہے۔ episteme سے مراد ہے علمیاتی زمرہ یعنی کسی عہد کے مباحث، مسائل، توقعات، تعصبات، علمیاتی موقف وغیرہ۔ علمیاتی افق کوئی منجمد شے نہیں بلکہ انسانی سرگرمی کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوتا رہتا ہے اور ایک دور اپنی توقعات و تعصبات کے ساتھ دوسرے دور میں بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جدیدیت کے عہد کی episteme کی سب سے بڑی پہچان ideology سے بیزاری تھی اور آئیڈیولوجی سے مراد وہ سیاسی آمریت تھی جس کا نفاذ پارٹی کرتی تھی۔ اس episteme کے بدلنے کے بعد نہ صرف آئیڈیولوجی...

پورا پڑھیں

مقدر حمید کا پہلا افسانوی مجموعہ ’زربیل‘ ۸۹ کے اواخر میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ جس میں ڈیڑھ درجن کہانیاں شامل ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا تعلق آٹھویں دہائی میں سامنے آنے والے افسانہ نگاروں میں کیا جاسکتا ہے۔ اردو فکشن کا باشعور قاری اس حقیقت سے واقف ہے کہ آٹھویں دہائی تک آتے آتے اردو افسانہ دو اہم ادبی رجحانات سے گزر چکا تھا جنھیں ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کے رجحان سے پہچانا جاتا ہے۔ ان دونوں رجحانات کی اپنی اپنی خصوصیات تھیں جن پر برسوں بحثیں ہوئی ہیں اور دفتر کے...

پورا پڑھیں

بنکروں کی بستی اور ہندوستان کا مانچسٹر کہلانے والا شہر بھیونڈی کے واجد محلہ میں پیدا ہونے والے مشتاق مومن اپنے افسانوں کے خوبصورب اسلوب سے پہچانے جاتے ہیں ۔انھوں نےاپنی تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے ممبئی کا رُخ کیا اور اسماعیل یوسف کالج ، جوگیشوری ممبئی میں داخلہ لیا ۔یہیں سے ان کی ادبی سرگرمیاں شروع ہوئیں ۔ حالانکہ۱۹۸۴ء میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ رت جگوں کا زوال ‘‘ منظر عام پر آیا لیکن ان کے افسانے رسائل و جرائد میں پہلے سے شائع ہورہے تھے اور مشتاق مومن کا شمار ۱۹۷۰ کے بعد کے...

پورا پڑھیں

علی امام نقوی کے افسانوں کا فنی تجزیہ کیا جائے تو جو عناصر خاص طور پر متوجہ کرتے ہیں ان میں واقعہ کی فنی بُنت کاری، فضاکی تخلیق اور کردار نگاری کے ساتھ مکالمہ سازی ہے۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ جس موضوع کو چھوتے ہیں اسے محدود نہیں رکھتے یعنی وقوع کو صرف واقعہ کی طرح بیان نہیں کردیتے بلکہ اس میں ایک اکائی پیدا کر دیتے ہیں جس سے خیال اور واقعہ مل کر افسانہ بنتا ہے۔ اس بنا پر افسانے میں ایک ایسی فضا پیدا ہوتی ہے جس میں کردار خود بخود فطری طریقے سے...

پورا پڑھیں

انور قمر ، بیسویں صدی کے سترویں اور اپنی عمر کے انتیسویں برس میں بطور افسانہ نگار ادبی دنیا سے متعارف ہوئے۔ان کا پہلا افسانہ بعنوان ’نروان‘۱۹۷۰ء میں رسالہ ’تحریک‘ میں شائع ہواتھا۔ اس کے آٹھ برس بعدان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’چاندنی کے سپرد‘ ۱۹۷۸ء میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد ۲۰۰۸ء تک مزید تین افسانوی مجموعے شائع ہوئے، ’چوپال میں سنا ہوا قصہ‘ ۱۹۸۴ء میں ، ’کلر بلائنڈ‘ ۱۹۹۰ء میں اور ’جہاز پر کیا ہوا‘ ۲۰۰۸ء میں۔ان چار مجموعوں میں تقریباً ۶۰؍ افسانے شامل ہیں جن کا موضوعاتی تنوع افسانہ نگار کی قوت مشاہدہ کی پختگی اور...

پورا پڑھیں
1 2 3 17