Articles
Total 190 Articles

جوش ؔکی شاعری پر گفتگو کے سلسلے میں ناقدین کے یہاں معتدل رجحان کے بجائے عموماً ایسی شدت پسندی نظر آتی ہے جو شاعر کے فنکارانہ خدوخال کو نمایاں کرنے کے برعکس اس میں پیچیدگی اور الجھائو پیدا کردیتی ہے۔اردو ناقدین کا یہ رویہ کبھی جوشؔ کو فن کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا دیتا ہے اور کبھی اس قدر کمتردرجے کا شاعر بنا دیتا ہے جو فکرو فن کی نزاکتوں اور تقاضوں سے نا بلد نظر آتا ہے۔ اردو ادب میں جوش ؔکی حیثیت متنازعہ فیہ شاعر کی رہی ہے۔جوش ؔکے فن کا تجزیہ کرتے وقت ارباب ِ ادب نے...

پورا پڑھیں

بیسویں صدی کے اردو مرثیہ کو نئی تخلیقی جہتوں سے آشنا کرنے والوں میں جوشؔ کا نام نمایاں طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے باوجود جوشؔ شناسی کے ذیل میں ارباب ادب جوشؔ کی مرثیہ نگاری سے بہت کم واقف ہیں۔ جوشؔ اردو شاعری کے ایوان میں شاعر انقلاب و شاعر شباب کی حیثیت سے ایک بلند و بالا ستون کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ بحیثیت مرثیہ نگار جوش ؔ ایک عہد ساز اور منفرد مقام کے حامل ہیں۔ جوشؔ کی شاعری کی اس جہت سے ناواقفیت کا سبب عموماً...

پورا پڑھیں

اُردو ادب سے وابستگی کے بعد عصمت چغتائی  کے افسانوں سے نصابی سا ربط رہا ۔ بہت زیادہ غور و فکر کا موقعہ نہ مل سکا،  کچھ نصابی مجبوریاں اور کچھ ادب سے انٹرٹینمنٹ کا کام لینے کا رویہ آڑے رہا،  اس دوران ڈاکٹر فرزانہ کوکب جو ہماری ٹیچر ہی نہیں  کڑکتی دھوپ میں  سایہِ مہرباں کا سا درجہ رکھتی ہیں سے عقیدت محبت اور خلوص کا تعلق  رہا ۔ لیکن ادب اور خاص طور  پر عصمت چغتائی کے فن کے حوالے سے وہ اِدراک و شعور نصیب نہ ہو سکا جو ان کے پی ایچ ڈی کے تھیسسز عصمت...

پورا پڑھیں

(انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ،اسلام آباد کے زیر اہتمام نوجوانوں قلم کاروں کی منعقدہ ورکشاب سے خطاب 2008) عزیر طالبات!!!! سب سے پہلے تو میں اس خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جو مجھے یہاں آ کر اور یہ جان کر ہو ئی کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی جیسے ملک کے نہایت اعلیٰ اور مقتدر ادارے میں آپ جیسے طلباء موجود ہیں جو افسانہ لکھنا اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔شاہد آپ کو معلوم ہو کہ میں نے اپنی ویب سائٹ پر نوجوانوں افسانہ نگاروں کو کسی معاوضے کے بغیر فنی اور تکنیکی مشورے دینے کا اعلان...

پورا پڑھیں

نظم طباطبائی کی شرحِ دیوانِ اردوے غالب ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۹۰۰ء میں پہلی بار شایع ہوئی۔ اس سے پہلے دیوانِ غالب کی جس قدر شرحیں لکھی گئی تھیں وہ جزوی شروح تھیں۔ طباطبائی پہلے شخص ہیں جنھوں نے غالبؔ کے متداول دیوان کی مکمل شرح لکھی ہے۔ اس اولیت کے علاوہ کئی اور پہلوئوں کے لحاظ سے بھی یہ شرح اہمیت کی حامل ہے۔ ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے مصنف عربی و فارسی کے متبحر عالم اور ان دونوں زبانوں کی شعری روایت اور اصولِ نقد سے پوری طرح واقف تھے۔ اس کے ساتھ ہی...

پورا پڑھیں

بیسویں صدی کے اوائل میں کائناتِ اردو ادب میں ایسے کئی روشن ستارے نمودار ہوئے جو اپنی وسعتوں میں ایک پوری کہکشاں سمیٹے ہوئے تھے ان میں اقبال کے ساتھ ساتھ فانی بدایونی، جلال لکھنوی، ریاض خیر آبادی، مضطر خیرآبادی، عزیز لکھنوی، اکبرالہ آبادی، برج نرائن چکبست، حسرت موہانی، آغا شاعر قزلباش، بے خود دہلوی، صفی لکھنوی، جلیل مانکپوری، نوح ناروی، احسن مارہروی، وحشت کلکتوی، شاد عظیم آبادی، ظفر علی خان، تاجور نجیب آبادی، آرزو لکھنوی، جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، جگر مرادآبادی، برجموہن دتاتریہ کیفی، نیاز فتح پوری، یاس یگانہ چنگیزی، ماہرالقادری اور ایسے ہی کئی لافانی نام کہ...

پورا پڑھیں

مولانا آزاد کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ایک طرف وہ سیاسی رہنما ہیں ، دوسری طرف مفکر، تیسری طرف اسلامیات کے بہترین عالم، چوتھی طرف ایک عظیم صحافی ۔بظاہر مولانا کی شخصیت کے یہ تمام پہلو الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن بغور جائزہ لینے سے یہ علم ہوتا ہے کہ مولانا اور پرنور سورج میں کوئی فرق نہیں جس سے کروڑوں کرنیں نکل کر دنیا کو ضیا بار کرتی ہیں۔یہ تمام پہلو مولانا جیسے عظیم مفکر کے عملی اور علمی اظہار ہیں جو ہمیں الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن یہ سب ایک ہی دھاگے میں پروئے قیمتی ہیرے...

پورا پڑھیں

مولانا آزاد (رحمۃ اللہ علیہ) محض سیاست داں ہوتے تو ممکن تھا حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ، لیکن شدید احساسات کے انسان تھے ، اپنے دور کے سب سے بڑے ادیب، ایک عصری خطیب، ایک عظیم مفکر اور عالم متجر، ان لوگوں میں سے نہیں تھے ، جو اپنے لئے سوچتے ہیں ، وہ انسان کے مستقبل پر سوچتے تھے ، انہیں غلام ہندوستان نے پیدا کیا اور آزاد ہندوستان کیلئے جی رہے تھے ، ایک عمر آزادی کی جدوجہد میں بسر کی اور جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کا نقشہ ان کی منشا کے مطابق نہ تھا،...

پورا پڑھیں

مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی حیثیت تو اپنے مقام پر مسلم ہے لیکن ان کے مقام علمی کا  کوئی  بھی انکار نہیں کرتا۔ ایک بڑا طبقہ انھیں امام الہند کے نام سے بھی یاد کرتا ہے۔ مشرب کے لحاظ سے ان کو جدید رجحانات رکھنے والا اہل حدیث کہا جاسکتاہے۔ برصغیر میں اور بھی ایسے اکابر گزرے ہیں جن کو اس فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے جن میں مولانا جعفر شاہ پھلواروی اورمولانا محمد حنیف ندوی شامل ہیں لیکن شاید ان سب میں مولانا ابوالکلام آزاد کا مرتبہ زیادہ بلند ہے۔ ترجمان القرآن کے نام سے ان کے تفسیری...

پورا پڑھیں

امام الہندمولانا ابو الکلام آزاد ملک و قوم کی وہ عظیم ہستی ہیں، جن کا نام تاریخِ ہند اور تاریخِ ادب اردو میں محبِ قوم و زبان کی حیثیت سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔مولانا ابو الکلام آزادکا اصلی نام ’احمد‘، تاریخی نام ’محی الدین‘ ،کنیت ’ابوالکلام‘اورتخلص’ آزادؔ‘تھا۔ ان کی ولادت 11نومبر 1888ء کو مکہ مکرمہ کے محلہ ’قدوہ‘ میں ہوئی۔مولانا کا مادری وطن مدینہ منورہ اور آبائی وطن دہلی ہے۔ عرب ماں نے عرب ماحول میں اپنے لختِ جگر کی پرورش کی اور اس طرح اُنھیں مادری زبان عربی اور اجداد کی زبان اردو کا عطیہ من جانب اللہ...

پورا پڑھیں
1 2 3 19