Articles
Total 98 Articles

حالی نے خود اپنے بارے میں کیا خوب بات کہی ہے مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اس سے بے خبر شہر میں کھولی ہے حالی نے دکاں سب سے الگ یہ شاعرانہ تعلی نہیں ہے صاف اور کھلی حقیقت ہے ۔ اس دور میں حالی کے نایاب مال سے گاہک بے خبر تھے اور اس کی قدر و قیمت سے پوری طرح واقف نہیں تھے ، لیکن آج ادب کے بازار میں ان ہی کا مال انمول ہے ۔ اس دور کے بہت سے کھرے سکے کھوٹے ثابت ہوچکے ہیں اور حالی کے سکے کو بہت جلد کھرا مان...

پورا پڑھیں

اردو ادب میں قلمکار خواتین کی پذیرائی جی کھول کر اور بانہیں پھیلا کر کی گئی ہے مگر اس کے لیے ان خواتین کا بے باک ہونا شرطِ اول ہے۔ عصمت لحاف سے باہر نکل کر ٹیڑھی لکیر پر چل پڑتی ہیں۔ رشید جہاں انگارے ہاتھوں میں لینے کا حوصلہ رکھتی ہیں وہیں انھی انگاروں سے فہمیدہ اور رضیہ سجاد ظہیر کے ساتھ ساتھ یکے از زیدیان اپنے سگریٹ سلگاتی ہیں اور ان کا ساتھ دینے میں تسلیمہ ’’لجا‘‘ محسوس نہیں کرتیں۔ کشور کشائی میں اک غیرت ناہید نے اپنی بری کتھا لکھنے میں کوئی عار نہیں سمجھا ، یا...

پورا پڑھیں

ادب اور سماج کا رشتہ کاغذ کے دو رخوں کی طرح کہا جاتاہے۔ ادب کے اندر سماجی رویّے تو سماج کا عکس ہوتے ہی ہیں غیر سماجی روّیے بھی درحقیقت سماج ہی کے کسی عمل کا ردِّ عمل ہوتے ہیں۔ ادبی سماجیات کو عموماً دو الگ الگ faculties میں تقسیم کر کے ان کے ایک دوسرے پر اثرات کا نام دیا جاتا ہے۔ ادب کوئی faculty نہیں بلکہ تمام faculties میں موجود ایک رویّہ ہے جو چیزوں کو ان کے وجود سے الگ کر کے دیکھنے کی اہلیّت رکھتا ہے ادب اپنی domain میں اپنا صرف تجزیہ (جذباتی اخلاص) رکھتا...

پورا پڑھیں

تاریخ کی اواراق گرداری کرنے پر ہندوستان کے تناظر میں بہت سی شخصیات ابھرتی ہیں جنھوں نے وطن مالوف کے لیے گراں قدر خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں جن کو نظرانداز و فراموش کردینا وطن عزیز کا بڑا خسارہ ہے۔ ان شخصیات میں بابائے قوم مہاتما گاندھی، اسیر مالٹا مولانا محمود حسن، اسیر کالا پانی علامہ فضل حق خیرآبادی، عظیم داعی مفکر و مجاہد آزادی مولانا حسین احمد مدنی، عظیم مجاہد آزادی بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی، مولانا حفظ الرحمن، مولانا محمد علی جوہر، سردار پٹیل، نیتاجی سبھاش چندر بوس ہیں۔ اور بھی شخصیات ہیں صفحات کی تنگ...

پورا پڑھیں

میرا  ہرگز یہ منصب نہیں کہ میں ادبی تحقیق کے موضوع پر لب کشائی کروں، اور وہ بھی محققین کے مجمعے میں، جو اس کام میں مصروف ہیں اور شاید پہلے بھی تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔  بیشک اہم اور بزرگ محققین کی کمی کے باعث قرعۂ فال مجھ دیوانے کے نام پڑ گیا ہے۔لہٰذا چند باتیں اپنی محدود استعداد کے مطابق عرض کرتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ کہ اردو میں جو تحقیق آج کل ہورہی ہے، یا تحقیق کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں جس زمانے میں یونیورسٹی کا طالب...

پورا پڑھیں

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر نظم حسرتؔ میں کچھ مزا نہ رہا اس شعر کو پڑھ کر ہی بیسویں صدی کے مایہ ناز انشاپرداز، صحافی اور سیاست داں ــــمحی الدین ابولکلام آزاد کے اسلوب تحریر اور طرز نگارش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔مولانا آزاد جہاں ہندوستا نی سیاست میں صف اول کے لوگوں میں قیادت کے منصب پر فاــئزتھے وہیں نثر نگاری ،خطابت اور انشاپردازی میں بھی اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے ۔ نثر کے باب میں ان کی شناخت منفرد اسلوب اور طرز تحریر کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا رشید احمد صدیقی جیسے ادیب اور ناقد...

پورا پڑھیں

ہر دور میں وقت اور حالات کے مد نظر دانشورانہ فکر کے حامل افراد پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی عمل ہے لہٰذا کسی بھی دور میں دانشورانہ فکر کے حامل افراد کا موجود ہونا اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ ان افراد کی سوسائٹی کے تئیں سپردگی اور وابستگی کا جذبہ۔مولانا ابو الکلام آزاد کی دانشورانہ فہم و فراست کی عظمت کا راز یہی ہے کہ ان کا سارا علم و تدبر سماج کے لیے وقف تھا۔ مولانا آزاد مکہ معظمہ کے محلہ دارالسلام میں 1888ء میں پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی عمر میں ایک رسالہ ’لسان الصدق‘...

پورا پڑھیں

شمس الرحمن فاروقی کے درج ذیل نتائج، افکار اور تجاویز نہ صرف شعرا کے لیے کیمیا اثر ہیں بلکہ شعر و ادب کے ہر سنجیدہ طالب عالم کے لیے بھی یہ رہنما اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔ فاروقی صاحب کی یہ تحریر ان کی مشہور تصنیف “تنقیدی افکار” سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ اصل فہرست طویل ہے جسے سلسلہ وار پڑھنے کی تلقین صاحب کتاب نے کی ہے لیکن تنگیِ صفحات اور طلبہ کی ضرورتوں کے مد نظر ، میں اس کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔ 1۔ موزوں، ناموزوں سے بہتر ہے۔ (الف)چونکہ نثری نظم میں موزونیت ہوتی ہے، اس...

پورا پڑھیں

غیر زبانوں کے جو لفظ کسی زبان میں پوری طرح کھپ جاتے ہیں، انھیں ‘‘دخیل’’ کہا جاتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ صرف اور نحو کے اعتبار سے دخیل لفظ اور غیر دخیل لفظ میں کوئی فرق نہیں۔جب کوئی لفظ ہماری زبان میں آگیا تو وہ ہمارا ہوگیا اور ہم اس کے ساتھ وہی سلوک روا رکھیں گے جو اپنی زبان کے اصلی لفظوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں، یعنی اسے اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق اپنے رنگ میں ڈھال لیں گے اور اس پر اپنے قواعد جاری کریں گے۔ لہٰذا یہ بالکل ممکن ہے کہ کسی دخیل لفظ...

پورا پڑھیں

چچی ایک دو بار نہیں بیسیوں مرتبہ چچا چھکن سے کہہ چکی ہیں کہ” باہر تمھارا جو جی چاہے کیا کرو مگر خدا کے لیے گھر کے کسی کام میں دخل نہ دیا کرو۔آپ بھی ہلکان ہوتے ہو ،دوسروں کو بھی ہلکان کرتے ہو۔سارے گھر میں ایک ہڑ بڑ ی سی پڑ جاتی ہے، میرا دم الجھنے لگتا ہے اور پھر تمھارے کام میں ،میں نے نقصان کے سوا کبھی فائدہ ہوتے بھی تو نہیں دیکھا۔تو ایسا ہاتھ بٹانا بھلا میرے کس کام کا؟“ چچا اس قدر ناشناسی سے کھج جاتے ہیں۔ چڑ کر کہتے بھی ہیں۔”بھلا صاحب کان ہوئے...

پورا پڑھیں
1 2 3 10