Articles
Total 103 Articles

طاہر مسعود: ڈاکٹر صاحب! آج آپ جس مقام پر ہیں، اس کے پیچھے آپ کا مطالعہ ، محنت اور ڈسپلن کارفرما ہے۔آپ اپنے بارے میں ہمیں تفصیل سے بتائیں۔ اپنے زمانۂ طالب علمی کے بارے میں ، ان موضوعات اور ان ادیبوں کے بارے میں جنھیں آپ نے پڑھا۔ ان دوستوں اور شہروں کے متعلق جن کے ساتھ اور جہاں آپ رہے اور ہاں ان اساتذہ کے بارے میں بھی جنھوں نے آپ کی ذہنی تعمیر میں حصہ لیا؟ جمیل جالبی:آپ کے اس سوال کا جواب دینے کے لیے مجھے اپنے ماضی میں بہت دور تک جھانکنا پڑے گا۔ میں...

پورا پڑھیں

ندیم احمد:جمالیاتی قدروں کے علاوہ کیا ادب اور آرٹ کی تاریخ میں کسی ایسی قدر کا تصور ممکن ہے جو کلاسیکی اور جدید ادب کی تحریک یا فنکاری پر حاوی نہ ہو، لیکن بہت بڑی حد تک اس میں تخلیقی روح بند ہو؟ شمس الرحمن فاروقی: کسی بھی قدر کو، فن کی قدر کو یہ ممکن نہیں ہے اسے ہم کسی بھی ادبی اصول کی روشنی میں دیکھے بغیر یہ طے کرلیں کہ اس کے اندرتخلیق کی روح بند ہے۔ خود تخلیق کی روح کا فقرہ نہایت گمراہ کن ہے اور میرے خیال میں تخلیق کی روح کا بندہونا اور...

پورا پڑھیں

فرحان حنیف: علوی صاحب! اپنے بارے میں کچھ بتائیں۔ میں نے سنا ہے ، آپ کا تعلق کسی روحانی خانوادے سے بھی ہے۔ محمدعلوی: ہاں۔ آپ نے بالکل ٹھیک سنا ہے۔ احمد آباد میں نہرو پل کے مشرقی سرے پر واقع خان پور سیّد واڑے میں حضرت شاہ وجیہہ الدین علوی الحسینی الگجراتی ۔ؒ ۔۔کا مزار آج بھی مرجع الخلائق ہے۔ آپ اپنے وقت کے ایک بڑے عالم اور خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ میرا تعلق آپؒ کے گدّی نشینوں کے خاندان سے ہے اور میرے بڑے بھائی سیّد احمد علوی درگاہ شریف کے حالیہ سجادہ نشین ہیں۔ میرے والد صاحب...

پورا پڑھیں

(لفظوں کی تہذیب کے حوالے سے) علم اور علمی شخصیتوں کی تاریخ کے علاوہ شبلی نے جن موضوعات پر داد تحقیق دی ہے ان کا سب سے موزوں عنوان ’’ شعر و ادب کی تنقید ‘‘ ہے اور شعر و ادب کی تنقید خاص طور سے ’’ شعر العجم ‘‘ اور ’’ موازنۂ انیس و دبیر ‘‘ کی نکتہ سنجی و نکتہ آفرینی سے اردو میں تنقیدی اور تقابلی مطالعے اور موازنے کی روایت کو اعتبار و استحکام حاصل ہونے کے ساتھ خود شبلی کی علمی فکری وراثت کو بھی امتیاز حاصل ہوا ہے۔ وہ امتیاز یہ ہے کہ وقت...

پورا پڑھیں

  قریش نگر ، بنٹر بھون میں منعقد ایک جلسے میں گذشتہ دنوں ایک صاحب نے ہر دلعزیز ایم۔ ایل ۔اے جناب نواب ملک کے سامنے قریش نگر کی محرومیوں کا ذکر کیا ، غالباً موصوف مقامی ایم۔ ایل۔ اے کے سامنے علاقے کے مسائل پیش کرنا چاہتے تھے۔ مجھے یہ شکوہ پسند نہ آیا، جوابِ شکوہ کے طور پر میں نے اپنی تقریر میں اداروں اور شخصیات کے حوالے سے قریش نگر کی اُن خوبیوں کا ذکر کیا جس سے نئی نسل واقف نہ تھی۔ جب میں نے قریش نگر کے جغرافیائی ، تاریخی، سیاسی ، سماجی اور ثقافتی...

پورا پڑھیں

حالی نے خود اپنے بارے میں کیا خوب بات کہی ہے مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اس سے بے خبر شہر میں کھولی ہے حالی نے دکاں سب سے الگ یہ شاعرانہ تعلی نہیں ہے صاف اور کھلی حقیقت ہے ۔ اس دور میں حالی کے نایاب مال سے گاہک بے خبر تھے اور اس کی قدر و قیمت سے پوری طرح واقف نہیں تھے ، لیکن آج ادب کے بازار میں ان ہی کا مال انمول ہے ۔ اس دور کے بہت سے کھرے سکے کھوٹے ثابت ہوچکے ہیں اور حالی کے سکے کو بہت جلد کھرا مان...

پورا پڑھیں

اردو ادب میں قلمکار خواتین کی پذیرائی جی کھول کر اور بانہیں پھیلا کر کی گئی ہے مگر اس کے لیے ان خواتین کا بے باک ہونا شرطِ اول ہے۔ عصمت لحاف سے باہر نکل کر ٹیڑھی لکیر پر چل پڑتی ہیں۔ رشید جہاں انگارے ہاتھوں میں لینے کا حوصلہ رکھتی ہیں وہیں انھی انگاروں سے فہمیدہ اور رضیہ سجاد ظہیر کے ساتھ ساتھ یکے از زیدیان اپنے سگریٹ سلگاتی ہیں اور ان کا ساتھ دینے میں تسلیمہ ’’لجا‘‘ محسوس نہیں کرتیں۔ کشور کشائی میں اک غیرت ناہید نے اپنی بری کتھا لکھنے میں کوئی عار نہیں سمجھا ، یا...

پورا پڑھیں

ادب اور سماج کا رشتہ کاغذ کے دو رخوں کی طرح کہا جاتاہے۔ ادب کے اندر سماجی رویّے تو سماج کا عکس ہوتے ہی ہیں غیر سماجی روّیے بھی درحقیقت سماج ہی کے کسی عمل کا ردِّ عمل ہوتے ہیں۔ ادبی سماجیات کو عموماً دو الگ الگ faculties میں تقسیم کر کے ان کے ایک دوسرے پر اثرات کا نام دیا جاتا ہے۔ ادب کوئی faculty نہیں بلکہ تمام faculties میں موجود ایک رویّہ ہے جو چیزوں کو ان کے وجود سے الگ کر کے دیکھنے کی اہلیّت رکھتا ہے ادب اپنی domain میں اپنا صرف تجزیہ (جذباتی اخلاص) رکھتا...

پورا پڑھیں

تاریخ کی اواراق گرداری کرنے پر ہندوستان کے تناظر میں بہت سی شخصیات ابھرتی ہیں جنھوں نے وطن مالوف کے لیے گراں قدر خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں جن کو نظرانداز و فراموش کردینا وطن عزیز کا بڑا خسارہ ہے۔ ان شخصیات میں بابائے قوم مہاتما گاندھی، اسیر مالٹا مولانا محمود حسن، اسیر کالا پانی علامہ فضل حق خیرآبادی، عظیم داعی مفکر و مجاہد آزادی مولانا حسین احمد مدنی، عظیم مجاہد آزادی بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی، مولانا حفظ الرحمن، مولانا محمد علی جوہر، سردار پٹیل، نیتاجی سبھاش چندر بوس ہیں۔ اور بھی شخصیات ہیں صفحات کی تنگ...

پورا پڑھیں

میرا  ہرگز یہ منصب نہیں کہ میں ادبی تحقیق کے موضوع پر لب کشائی کروں، اور وہ بھی محققین کے مجمعے میں، جو اس کام میں مصروف ہیں اور شاید پہلے بھی تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔  بیشک اہم اور بزرگ محققین کی کمی کے باعث قرعۂ فال مجھ دیوانے کے نام پڑ گیا ہے۔لہٰذا چند باتیں اپنی محدود استعداد کے مطابق عرض کرتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ کہ اردو میں جو تحقیق آج کل ہورہی ہے، یا تحقیق کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں جس زمانے میں یونیورسٹی کا طالب...

پورا پڑھیں
1 2 3 11