Articles
Total 198 Articles

جمالیات فلسفہ کی ایک شاخ ہے جسے یونانی لفظ (Aisthetikes)سے اخذ کرکے انگریزی زبان میں(Aesthetics)بنالیا گیا ۔ فارسی میں اسے زیبائی شناسی اور ہندی میں رس سدّھانت یا رس شاستر کہتے ہیں۔ ’’جمال ‘‘ بذات خود عربی زبان کا لفظ ہے ۔عام طور پر یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ ’’جمال‘‘ اور ’’حسن‘‘ ایک دوسرے کے مترادف یا ہم معنی الفاظ ہیں۔بے شک کسی حد تک ان میں مماثلت پائی جاتی ہے لیکن مفہوم کے اعتبار سے وہ لازمی طور پر ہم معنی نہیں ہیں ۔ مثلاََ فارسی زبان کا یہ شعر: جمالیات فلسفہ کی ایک شاخ ہے جسے یونانی...

پورا پڑھیں

معین احسن جذبی کا شعری کینواس مختلف رنگوں سے مزّین ہے اور اِن میں احساس کی تازگی اور جذبے کی شدت کا رنگ سب سے گہرا ہے۔ یہی جذبات و احساسات کی شدت انھیں اپنے دیگر ترقی پسند معاصر شعرا سے منفرد کرتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جذبی کا شعری رویہ 1936ء میں ترقی پسند تحریک کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہی مستحکم ہوچکا تھا۔ وہ اپنی مشہور غزل ’’ مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں، جینے کی تمنا کون کرے‘‘1933ء میں نہ صرف لکھ چکے تھے بلکہ اس غزل کے حوالے سے اُن کی شناخت بھی قائم ہوچکی تھی۔...

پورا پڑھیں

جذبی کا پورا کلام توجہ سے پڑھنے کے بعد قاری آسانی سے یہ رائے قائم کرلیتا ہے کہ شاعر کسی مخصوص سیاسی نظریے کا نہ تو پابند ہے نہ ہی اپنی جانبداریوں کے حق میں ،فن کے تقاضوں سے مفاہمت پر آمادہ ہے۔جذبی کی شاعری میں کوئی خیال ‘اس طور پر نظم ہوتا ہے کہ شاعری کا منصب مجروح نہ ہو اور بیش تر صورتوں میں خیال ،شعر کے پیکر میں ڈھل کر قاری کی اپنی واردات بن جاتا ہے ۔ترقی پسند تصورات کو نظم کرنے میں بھی جذبی نے خیال کی‘شعری وسائل سے ہم آہنگی کو نظر انداز نہیں...

پورا پڑھیں

معین احسن جذبی ؔسے متعلق بطور تمہید جو دو چار قسم کے حقائق بیان کیے جا سکتے ہیں ، ان سے شعر و ادب کا ہر سنجیدہ طالب علم واقف ہے ۔ مثال کے طور پریہ کہ جذبی کی نوجوانی کا زمانہ کم و بیش وہی تھا  جو جنگ ِ آزادی کے شباب کا دور تھا ۔ اسی طرح وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے با قاعدہ ممبر یا عہدے دارنہ رہے ہوں، لیکن ان کا حلقہ وہی تھا جن سے فیض، مخدوم، سردار جعفری ، جاں نثار اختر اور مجاز وغیرہ وابستہ تھے ۔ جذبی نے بھی اپنے ساتھیوں...

پورا پڑھیں

جذبیؔ اپنے ہم عصراردو شعرا میں سب سے کم سخن ، کم گو اور کم آمیز شاعر ہیں۔ وہ ہمیشہ ہی سب سے الگ نظر آئے ۔ دنیاوی اعتبار سے اپنی کم آمیزی کی وجہ سے جتنے بھی نقصان ہو سکتے تھے وہ انھوں نے برداشت کیے لیکن کبھی شکایت نہیں کی ، سوائے ا یک طنزیہ قصیدے کے ۔ سب میں رہنے کے با وجود وہ کبھی کھلے نہیں ۔ کم ایسے دروںبیں ہوں گے جوخود سے بھی نہیں کھلتے۔ ان کے یہاں احتیاط کی ایک عجیب تہذیب ہے ۔ یہ تہذیب ان کی زندگی اور شاعری دونوں پر...

پورا پڑھیں

گذشتہ نصف صدی کی اردو شاعری کی تاریخ پر جن لوگوں کا نقش ثبت ہو چکا ہے ، ان میں جذبیؔ صاحب کا نام نمایاں ہے ۔ میری عمر کے لوگوں کے کان جب شاعری کے آہنگ سے آشنا ہو ئے تو وہ جذبیؔ اور مجاز کا عہد تھا ۔ رسالوں اور مشاعروں نے ان کی مقبولیت کو عروج تک پہنچا دیا تھا ۔ فیض، اخترالایمان، سردار جعفری، کیفی ابھی اتنے نمایاں نہیں تھے گو کہ ان سے بھی اہلِ ذوق واقف تھے ۔ کسی عہد کو کسی شاعر کے نام سے منسوب کرنا ، بڑی ذمہ داری اپنے سر...

پورا پڑھیں

  لکھ دیجیے گا یہ میری لوح مزار پر انسانیت کے درد کو انسان  لے گیا زندگی کی کتاب کا ہر صفحہ اپنے چہرے پر مختلف نقوش رکھتا ہے۔ کتاب زیست کے بعض‌ صفحات کے نقوش اس قدر جاذب ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ صفحات پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ سن 2018 کے ستمبر کی بات ہے۔ ایک دن میں مہاراشٹر کالج میں اپنے کلاس روم میں تھا۔ پروفیسر اظفر صاحب کا اردو کا لکچر تھا۔ سر نے کلاس سے روانہ ہوتے وقت ہم لوگوں سے کہا کہ گھر جانے سے قبل ایک بار آپ سب لوگ آڈیٹوریم...

پورا پڑھیں

  دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم لغو ہے آئینۂ فرق جنون و تمکیں نقشِ معنی ہمہ خمیازۂ عرضِ صورت سخنِ حق ہمہ پیمانۂ ذوقِ تحسیں لاف دانش غلط و نفعِ عبادت معلوم دُردِ یک ساغرِ غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں مثلِ مضمونِ وفا باد بدست تسلیم صورتِ نقش قدم خاک بہ فرق تمکیں عشق بے ربطیِ شیرازۂ اجزاے حواس وصل...

پورا پڑھیں

جوش ؔکی شاعری پر گفتگو کے سلسلے میں ناقدین کے یہاں معتدل رجحان کے بجائے عموماً ایسی شدت پسندی نظر آتی ہے جو شاعر کے فنکارانہ خدوخال کو نمایاں کرنے کے برعکس اس میں پیچیدگی اور الجھائو پیدا کردیتی ہے۔اردو ناقدین کا یہ رویہ کبھی جوشؔ کو فن کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا دیتا ہے اور کبھی اس قدر کمتردرجے کا شاعر بنا دیتا ہے جو فکرو فن کی نزاکتوں اور تقاضوں سے نا بلد نظر آتا ہے۔ اردو ادب میں جوش ؔکی حیثیت متنازعہ فیہ شاعر کی رہی ہے۔جوش ؔکے فن کا تجزیہ کرتے وقت ارباب ِ ادب نے...

پورا پڑھیں

بیسویں صدی کے اردو مرثیہ کو نئی تخلیقی جہتوں سے آشنا کرنے والوں میں جوشؔ کا نام نمایاں طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے باوجود جوشؔ شناسی کے ذیل میں ارباب ادب جوشؔ کی مرثیہ نگاری سے بہت کم واقف ہیں۔ جوشؔ اردو شاعری کے ایوان میں شاعر انقلاب و شاعر شباب کی حیثیت سے ایک بلند و بالا ستون کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ بحیثیت مرثیہ نگار جوش ؔ ایک عہد ساز اور منفرد مقام کے حامل ہیں۔ جوشؔ کی شاعری کی اس جہت سے ناواقفیت کا سبب عموماً...

پورا پڑھیں
1 2 3 20