Articles
Total 114 Articles

شیشے کے گھر میں سیڑھیاں، بنانا اور پھر ان سیڑھیوں پر اس کی آخری چھت تک پہنچنا کیا ایک مسئلہ نہیں ہے؟ یہ فرض کرلیا گیاہے کہ فنکار کو اس کی فن کاری کی دادملنی ہی چاہیے۔ لیکن کیافن کی تخلیق کے پیچھے داد خواہی کا جذبہ کلبلارہا ہوتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس مفروضے سے فن کی قدروقیمت کم ہوتی ہے۔ بڑے فن کی یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ قاری،سامع یا ناظر کو فنکار کے تجربے میں شامل ہونے کی تحریک دے۔ اگر ایسا مان لیا جائے تو پھر دادا ملنے یا نہ ملنے سے کوئی فرق...

پورا پڑھیں

میں معافی چاہوں گا کہ اس مضمون کو لکھنے کے لیے مجھے اپنی ذات سے ہوکر گزرنا پڑرہا ہے۔ آپ اس لیے بھی درگذر کریں گے کہ اتنی بڑی مخلوق کی میں بھی اکائی ہوں ایک،لہٰذا سب کو سمجھنے کے لیے میری نزدیک یہ ضروری ہے کہ پہلے میں اپنے آپ سے سمجھ لوں۔ افسانوی تجربہ کیا ہے؟ مجھے افسانہ سازی کی لت کیسے پڑھی؟ اگر یہ مجھے اور میرے کچھ دوستوں کو پڑی، تو باقی دوسروں کو کیوں نہیں پڑی؟ کیوں نہیں میں کسی فرنانڈس کی طرح گرجے کے سامنے بیٹھا موم بتیاں بیچتا؟ فن کسی شخص میں سوتے...

پورا پڑھیں

میری عادت ہے جب نظم ہو جاتی ہے اسے رکھ دیتا ہوں اور اتنے دن رکھا رہنے دیتا ہوں کہ نظم ذہن سے محو ہوجائے ۔نظر ثانی کرتے وقت اکثر اوقات نظم کا اچھا برا سامنے آجاتا ہے پھر بھی یہ کوئی قاعدہ یا کلیہ نہیں۔میں نے یہ عادت اس لیے اختیار کی کہ شاعری پر کبھی کسی سے اصلاح نہیں لی تھی نہ کوئی مشورہ کیا تھا۔جس طرح کا مزاج تھا اس میں استادی شاگردی والا ڈھرّہ چل بھی نہیں سکتا تھا ۔شاعری شروع کی تھی لونڈے پن میں۔رکان تھی مصرع موزوں کرنے کی مگر جب کچھ دوستوں اور...

پورا پڑھیں

بیسویں صدی کی ابتدائی دھائیوں میں برصغیر کے اہم ادبی مراکز سے ادبی جرائد کی اشاعت کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔اِن ادبی جرائد نے بر صغیر کے ادبی معاشرہ کی علمی اور فکری بنیادیں استوار کیں اور اُن کو استحکام بخشا۔اپنے عہد کا شعور اپنے اندر سمیٹے ہوئے یہ ادبی رسائل ہمارا عظیم اثاثہ ہیں۔آج کے کئی معروف ادیبوں کی ابتدائی تحریروں اور علمی و فکری تحریکوں کے بھی یہ جرائدامین ہیں۔پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی دہلوی نے اپنے ایک مضمون ’’اردو کا اولین رسالہ‘‘میں ’’ محب ہند‘‘دہلی کو اردو زبان کا اولین ادبی جریدہ قرار دیا ہے۔اس کا اجرا...

پورا پڑھیں

خواجہ احمد عباس افسانہ نگار تھے، ناول نویس تھے،ڈرامہ نگار تھے ، صحافی تھے، کالم نگار تھے،فلم ساز تھے اورخاکہ نگار بھی۔انھوں نے سفر نامے لکھے،آپ بیتی لکھی ، ڈراموں میں ایکٹنگ کی اور اردو، ہندی اورا نگریزی میں بہت سارے مضامین تحریر کیے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی ہر ایک حیثیت ایک دوسرے پر فوقیت رکھتی ہے ، سو اُن کا تقابل مختلف اصناف کے ماہرین یا ان کے معاصرین سے نہیں بلکہ خود ان کی ہی شخصیت کی مختلف جہات کاایک دوسرے سے کرنا چاہیے۔ ان کی اس ہمہ گیر خوبی کو عام لوگ اور ناقدین...

پورا پڑھیں

تاریخ و ادب اور تحقیق و تنقید کا رشتہ آپس میں بڑا گہرا اور مربوط ہے ۔ ایک کے بغیر دوسرے کی بنیاد نہیں پڑتی۔ زمانے کی ہوا و حوادث سے ٹکراتے ہوئے روزانہ زندگی میں رونما ہونے والے واقعات سے متاثر ہو کر تاریخ پہلے جنم لیتی ہے ،پھر اس تاریخ سے رشتہ جوڑ کر شعر و ادب اپنے عہد کا عکاس ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ مورخین اور ادبا ہی تاریخ کو الفاظ کا جامہ پہناتے آئے ہیں ۔ اس سلسلے میں شعرا و ادبا غمِ جاناں اور غمِ دوراں کی ترجمانی نثر و نظم کے پیرائے...

پورا پڑھیں

حالی نے ’مقدمۂ شعر و شاعری‘ میں ’شاعری کے لیے کیا کیا شرطیں ضروری ہیں‘ کے زیر عنوان سب سے پہلے تخیل کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ جس شاعر میں قوت متخیلہ اعلا درجے کی ہوگی، اس کی شاعری اعلا درجے کی ہوگی۔ اپنی قوتِ متخیلہ کے زور پر شاعر جو نتیجے نکالتا ہے، وہ منطق کے قاعدوں پر منطبق نہیں ہوتے لیکن جب دل اپنی معمولی حالت سے قدرے بلند ہو جاتا ہے تو وہ بالکل درست معلوم ہوتے ہیں۔ اپنی بات میں تیقن پیدا کرنے کے لیے حالی نے فیضی کے درجِ ذیل فارسی شعر...

پورا پڑھیں

ڈاکٹر انیس صدیقی کا شمار کرناٹک کے ان معدودے چند اردو قلم کاروں میں ہوتا ہے جن کی پہچان ادبی حلقوں میں ہے بھی اور نہیں بھی ۔ یہ ان قلم کاروں میں سے نہیں ہیں جو ہر دوسرے ہفتہ اپنی تخلیقات کے ساتھ کسی نہ کسی اخبار کے ادبی صفحات کی زینت بڑھاتے ہیں اورنہ رسائل کی رونق بڑھاتے ہیں۔ ان کا شماران نام نہاد ، کثیر جہات قلم کاروں میں بھی نہیں ہوتا جنھوں نے نظم و نثر کی کم کم ہی اصناف کو اپنی طبع آزمائی سے محفوظ رکھا ہے۔ سمیناری لکھاریوں کی فہرست میں بھی ڈاکٹر...

پورا پڑھیں

ڈاکٹرقاسم امام : عادل منصوری صاحب سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ آپ نے جو ماڈرن یا سر ریلسٹک شاعری کی ہے تو کیا یہ سب کچھ آپ کے ذہن میں پہلے سے تھا یعنی یہ کہ آپ کا تخلیقی تجربہ اسی طرح کا اظہار چاہتا تھا یا پھر آپ نے جدیدیت سے متاثر ہوکر اس اندازِ بیان کو اختیار کیا؟ عادل منصوری: ’ماڈرن ‘ یا ’سرریلسٹ‘ وغیرہ قسم کے نام شاید تخلیق کاروں نے نہیں دیئے۔ پینٹنگ کے ذریعہ اس بات کو موثر طریقے سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ’لینڈ سکیپ‘ اور ’پورٹریٹ‘پینٹنگ غالباً...

پورا پڑھیں

ڈاکٹرصاحب علی:پروفیسرشمیم حنفی صاحب! اردو زبا ن وادب میں آپ کا شمار ایک اچھے تخلیق کار اور سنجیدہ تنقید نگار میں ہوتا ہے۔ ہم آپ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اردو کی موجودہ ادبی صورتِ حال کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ پروفیسرشمیم حنفی: صاحب علی صاحب ! اصل میں ادب کی موجودہ صورت حال کا تعلق انسانی صورت حال سے ہوتا ہے۔ اب حقیقت یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں انسانی صورتِ حال کا جو نقشہ ہے وہ پریشان کن اور ہولناک ہے۔ آج دہشت ، خوف ، نفرت، اجتماعی اموات اور تہذیبی زوال کا ماحول...

پورا پڑھیں
1 2 3 12