Allama Iqbal by Qazi Jamal Husain

Articles

علامہ اقبال مغرب کے نہیں مادہ پرستی کے مخالف تھے

پروفیسر قاضی جمال حسین

گزشتہ روز غالب اکیڈمی نئ دہلی میں حکیم عبدالحمید یاد گاری لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر پروفیسر قاضی جمال حسین نے اقبال اور دانش مغرب کے عنوان سے لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ آج دنیا مادہ پرستی میں گرفتار ہے ۔علامہ اقبال کا پورازور مادہ پرستی کے خلاف ہے ۔علامہ اقبال کی ساری کوشش اسی کے لیے ہے کہ کس طریقہ سے مادہ پرستی کو زر پرستی کو کیسے روکا جائے ۔وہ یوروپ گئے وہاں زندگی گزاری وہاں کے رنگ ڈھنگ کو دیکھا وہاں کے مفکرین سے ملے وہاں کی اچھائیوں کے ساتھ وہاں کی برائیوں پر بھی نظر ڈالی ۔علامہ اقبال کا کائناتی وژن تھا۔وہ مغربی تعلیم کے خلاف نہیں تھے لارڈ میکالے کے نظریۂ تعلیم کے خلاف تھے ۔تعلیم کا مقصد حصولِ زر نہیں تسکینِ روح ہونا چاہیے ۔آج تعلیم کے لئے ان مضامین کا انتخاب کیا جاتا ہے جن سے زیادہ پیسہ حاصل کیا جا سکے۔علامہ اقبال ترقی کے خلاف نہیں تھے۔مغرب کی شاطرانہ چالوں کے خلاف تھے ۔انہوں نے کہا کہ اقبال انسان کے اندر پیاس پیدا کرنا چاہتے تھے۔کھوئ ہوئ چیزوں کی یاد دلانا چاہتے تھے۔آرزو پیدا کرنا چاہتے تھے۔انھوں نے مغرب ساتھ ہی ساتھ مشرق کی بھی مخالفت کی ۔وہ رجعت پسندی کے خلاف تھے تن آسانی کے خلاف تھے۔ان کی شاعری انسان کو متحرک کرتی ہے ۔پروفیسر قاضی جمال نے اقبال کی فارسی اور اردو نظموں اور غزلوں کے حوالے بھی پیشِ کئے ۔انھوں نے کہا کہ اقبال کی شاعری کی معنویت ہے اس لیے ان کی ضرورت ہمیشہ رہےگی ۔ان کی شاعری ہمت طاقت پیدا کرنے کی شاعری ہے ۔ان کی شاعری کی بنیاد نفس کی پاکیزگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کی شاعری اور حکیم عبدالحمید کی شخصیت کا مشترک پہلو متحرک ہونا ہے ۔
اس موقع پر پروفیسر شریف حسین قاسمی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حکیم صاحب کے کام جو دہلی میں ہیں وہ سب کے سامنے ہیں دہلی سے باہر برہان پور میں بھی طبیہ کالج اور اسپتال قائم کیا ۔پروفیسرشمیم حنفی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہاکہ مغرب کا مسئلہ بہت الجھا ہوا ہے بہت سی چیزوں کو ذہن سے نکالنے کا جی چاہتا ہے مغرب کا سب کچھ اچھا نہیں ہے۔ہمیں اپنا محاسبہ کرنےکی ضرورت ہے اقبال کے یہاں مشرق سے و مغرب کا امتزاج ہے ۔ آخر میں عقیل احمد نے شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں اساتذہ ،طلباء اور شائقینِ علم و ادب موجود تھے جن میں پروفیسر وہاج الدين علوی،پروفیسر جینا بڑے ،جی آر کنول ،حناآفرین،حکیم خالد صدیقی،انورخاں غوری،سہیل انور،ظہیربرنی،نگار عظیم ،چشمہ فاروقی،جاوید نسیم،پروفیسر معظم ،محمد خلیل کے اسمائے گرامی شامل ہیں ۔
—————————————————-