Search

اردو ممبئی یونی ورسٹی میں ایم۔اے فائنل کے طلبا کی استقبالیہ تقریب9؍دسمبر 2020 بروزبدھ کو ایم- اے فائنل کے طلبا نے ایک پرتکلف تقریب کا اہتمام کیا۔ اس سال لاک ڈاؤن کے سبب آن لائن سالانہ امتحان دینے والے ، شعبۂ اردو ممبئی یونی ورسٹی کے طلبا کی امتیازی نمبروں سے کامیابی پرطلبا اور اساتذہ میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لاک ڈاؤن میں کلاسیں اور لائبریریاںبند ہونے کے سبب جامعات کے طلبا کوبڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکچر نہ ہونا اور کتابوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اعلیٰ جماعت کے طالب علموں میں ایک طرح کی...

پورا پڑھیں

After You  Sonet Obaid Azam Azmi For how long (I’ve to) disregard the intensity of painFor how long the tear is to be retained on the eyelashesFor how long no pity be felt on eyes bereft of colourFor how far the borrowed spirit be kept as companion How intense be the passion of expression if desire is arousedHow much be the freshness of aroma, what colour of flowersHow much be the melody in environment, what manner be of zephyrWhat course be of the day, what pace be of the night In case there are ideas and dreams what should be...

پورا پڑھیں

امت مسلمہ کے تمام محدثیں، مفسرین، علما اور فقہا نے بالاتفاق اور علی الإعلان اس بات کا اظہار کیا ہے کہ  اصح الکتب بعدِ کتابِ اللہ الصحیح البخاری  اسی بخاری شریف کی پہلی حدیث موضوعِ کا احاطہ کرنے میں معاون و مددگار ہے۔ اللہ کے رسولؐ کا ارشاد ہے کہ           اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی جانب ہے تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ ہی کی جانب...

پورا پڑھیں

مخدوم محی الدین کا دوسرا مجموعہئ کلام”گل تر“ ۱۶۹۱ء میں شائع ہوا۔اس مجموعے کے عنوان گل تر سے ظاہر ہے کہ یہ سرخ سویرا سے مختلف ہے اور اس میں انقلابی شاعری کے بعد رومانی کیفیات کا اظہار بھی ملتا ہے۔ جیسا کہ اس دور کے دوسرے شعراء کے یہاں انقلاب اوررومان کا امتزاج نظر آتا ہے۔اس مجموعے کے تعلق سے خود مخدوم نے لکھا ہے کہ ان کے دیرینہ قارئین جب گل تر پڑھیں گے تو غالباً انہیں فوراً اس کی مختلف نوعیت کا احساس ہوگاور ان کا ذہن نئے کلام کا سرخ سویراکے جانے بوجھے اشعار سے موازنہ...

پورا پڑھیں

مخدوم نے تین ڈرامے لکھے تھے ”ہوش کے ناخن، مرشد اورپھول بن، ہوش کے ناخن“ جارج برنارڈشا کے ڈرامے وڈورس ہاؤزز سے ماخوذ ہے۔ان کا دوسرا ڈرامہ مرشد ان کا طبع زاد ڈرامہ ہے۔داؤد اشرف نے لکھا ہے:”یہ مخدوم کا لکھا ہوا ایک طبع زاد ایک ایکٹ کا ڈرامہ ہے جو مرشد ساگر ٹاکیج کے اسٹیج پر پیش کیا گیا جس میں مرشد کا رول مخدوم نے ادا کیا تھا۔ حضورنظم، ریزیڈنٹ مہاراجہ کشن پرساد اور شاہی خاندان کے چند افراد خلاف پروگرام اچانک عین وقت پر تھیٹر پہنچ گئے۔“۲؎یہ مخدوم کا آخری ڈرامہ تھا، پھول بن چیخوف کے ڈرامہ...

پورا پڑھیں