Search

حالی نے خود اپنے بارے میں کیا خوب بات کہی ہے مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اس سے بے خبر شہر میں کھولی ہے حالی نے دکاں سب سے الگ یہ شاعرانہ تعلی نہیں ہے صاف اور کھلی حقیقت ہے ۔ اس دور میں حالی کے نایاب مال سے گاہک بے خبر تھے اور اس کی قدر و قیمت سے پوری طرح واقف نہیں تھے ، لیکن آج ادب کے بازار میں ان ہی کا مال انمول ہے ۔ اس دور کے بہت سے کھرے سکے کھوٹے ثابت ہوچکے ہیں اور حالی کے سکے کو بہت جلد کھرا مان...

پورا پڑھیں

✨”شام آفاق بنام اعتبار “✨ ( گوونڈی میں شعری و اعزازی نشست ) گوونڈی 8 دسمبر 17 : شعبہ درس و تدریس بی ایم سی کے سرگرم معلم اور معمار کے اہم رکن مقصود آفاق کو ان کے شعری مجموعہ “اعتبار” کے لیے امسال مہاراشٹر اردو ساہتہ اکیڈمی کے ذریعے انعام سے نوازا گیا ہے ـ لہذا اس سلسلے میں معمار فاؤنڈیشن، ممبئی نے موصوف شاعر کے اعزاز میں ایک شعری و اعزازی نشست کا اہتمام بعنوان “شام آفاق بنام اعتبار “، گوونڈی (ممبئی ) میں کیا ـ عرفان سر تلاوت کلام پاک سے اس بزم آغاز کیا، وسیم شیخ...

پورا پڑھیں

1 دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیب دشمناں ہوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا پکارتی ہیں فرصتیں کہاں گئیں وہ صحبتیں زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں اب آئنے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی وہ لہر...

پورا پڑھیں

صبح میں گلی کے دروازے میں کھڑی سبزی والے سے گوبھی کی قیمت پر جھگڑ رہی تھی۔ اوپر باورچی خانے میں دال چاول ابالنے کے لیے چڑھا دیئے تھے۔ ملازم سودا لینے کے لیے بازار جا چکا تھا۔ غسل خانے میں وقار صاحب چینی کی چمچی کے اوپر لگے ہوئے مدھم آئینے میں اپنی صورت دیکھتے ہوئے گنگنا رہے تھے اور شیو کرتے جاتے تھے۔ میں سبزی والے سے بحث کرنے کے ساتھ ساتھ سوچنے میں مصروف تھی کہ رات کے کھانے کے لیے کیا کیا تیار کیا جائے۔ اتنے میں سامنے ایک کار آن کر رکی۔ ایک لڑکی نے...

پورا پڑھیں

ہر تیسرے دن ‘ سہ پہر کے وقت ایک بے حد دُبلا پتلا بوڑھا، گھسے اور جگہ جگہ سے چمکتے ہوئے سیاہ کوٹ پتلون میں ملبوس‘ سیاہ گول ٹوپی اوڑھے، پتلی کمانی والی چھوٹے چھوٹے شیشوں کی عینک لگائے، ہاتھ میں چھڑی لیے برساتی میں داخل ہوتا اور چھڑی کو آہستہ آہستہ بجری پر کھٹکھٹاتا ۔ فقیرا باہر آکر باجی کو آواز دیتا۔ ’’بیٹا۔ چلیے۔ سائمن صاحب آگئے۔‘‘ بوڑھا باہر ہی سے باغ کی سڑک کا چکر کاٹ کر پہلو کے برآمدے میں پہنچتا۔ ایک کونے میں جاکر اور جیب میں سے میلا سا رومال نکال کر جھکتا، پھر آہستہ...

پورا پڑھیں

فارس روڈ سے آپ اس طرف گلی میں چلے جائیے جوسفید گلی کہلاتی ہے تو اس کے آخری سرے پر آپ کو چند ہوٹل ملیں گے۔ یوں تو بمبئی میں قدم قدم پر ہوٹل اور ریستوران ہوتے ہیں مگریہ ریستوران اس لحاظ سے بہت دلچسپ اور منفرد ہیں کہ یہ اس علاقے میں واقع ہیں جہاں بھانت بھانت کی لونڈیاں بستی ہیں۔ ایک زمانہ گزر چکا ہے۔ بس آپ یہی سمجھیے کہ بیس برس کے قریب، جب میں ان ریستورانوں میں چائے پیا کرتا تھا اور کھانا کھایا کرتا تھا۔ سفید گلی سے آگے نکل کر’’ پلے ہاؤس‘‘ آتا ہے۔...

پورا پڑھیں

شکست زنداں کا خواب کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں دیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانی سینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیں تقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریں آنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کا تخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریں کیا ان کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو...

پورا پڑھیں