Search

”ہم زندگی کا احترام اُس وقت تک نہیں کرسکتے، جب تک کہ ”ہم جنس“ کا احترام کرنا نہ سیکھیں۔“ (ڈاکٹر ہیولاک ایلس) مشرق اور مغرب، ہر دو اطراف کے مذہبی مفکرین کا خیال ہے کہ مرد ازل سے صاحبِ فہم و فراست ہے اور عورت ناقص العقل۔ حقوقِ نسواں کی عالمی تحاریک کے زیرِ اثر”برابری کا درجہ“ مل پائے گا یا نہیں، کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ہمارا قدیم ماضی اور ماضی قریب تو کم از کم اِس بات کی گواہی نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں عورت کو زندگی کرنے کے مساویانہ حقوق نہ ملنے کے سبب جملہ تہذیبی نشوونما اور...

پورا پڑھیں

 آج ہی کی طرح وہ بھی ایک منحوس دن تھا ـ جب وہ اپنے بابو کا ہاتھ تھامے دوسرے گاؤں میں لگے میلے گئی ہوئی تھی ـ اسے اچھی طرح یاد ہے کھلونوں کی بے شمار دکانیں دیکھ کر وہ خوشی سے اچھل پڑی تھی ـ رنگ برنگ غبارے بڑے پیارے لگ رہے تھے ـ حلوائی کی دکان جہاں گرما گرم جلیبی اور امرتی بن رہی تھی، کافی بھیڑ تھی ـ اسکے بغل میں جوس کی دکان تھی ـ اس کے بعد ایک چپل کی دکان جہاں ایک عورت دکاندار سے الجھ گئی تھی اور راہ چلتے لوگ انہیں دیکھتے...

پورا پڑھیں

کہتے ہیں عشق اور مشک چھپانے سے بھی نہیں چھپتے..نجانے کتنی ہی نسلیں گزر گئیں جنھوں نے یہ مقولہ پڑھا یا سنا مگر مشک کو اپنے  ماتھے کی آنکھوں سے نہ دیکھ سکے…..اسلئے میں سوچتا ہوں کہ عشق اور سیاست چھپانے سے نہیں چھپتے اس طرح کرلیا جائے تو کیسا رہے گا؟ .کیونکہ مشک دیکھا ہی نہیں تو سونگھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.. بھلے سے عشق اور مشک میں جو بہناپا لگتا ہے وہ عشق اور سیاست میں سوتناپا (سوتن پن) محسوس ہو….خیر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا.. اب گدھے اورزعفران یا بندر اور ادرک میں کیا...

پورا پڑھیں

  “امّاں اِی ہم سے نہ ہوے” بھاگمتی نے اپنا میلا کچیلا گھاگرا کمر میں اُڑس کر منہ بناتے ہوئے کہا۔ دھونکنی کے پاس گھنٹوں کالے دھوئیں اور تیز بُو کے درمیان بیٹھے رہنے سے اُسکا دماغ بھی انگارے پر رکھے تانبے کی طرح تپ رہا تھا۔ گردن کے پاس سے کمر تک رنگین کترنوں سے سِلی گئی کانچلی اُس پر ٹنکی چمکیلی ٹِکلیاں اور موتی کام پھیکے پڑنے بعد بھی کپڑے پر ایسے جمے ہوئے تھے جیسے وہ اُس کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہتے ہوں۔ بھاگمتی کے مرجھائے جواب سے اماں ٹھٹک گئیں۔ بھٹّی کی تپن سے جُھلستا ان...

پورا پڑھیں