Search

یہ بات ۱۹۳۷ء کی ہے۔ میں ان دنوں لاہور میں تھا۔ ایک دن میرے جی میں آئی کہ چلو علامہ اقبال سے مل آئیں۔ اس زمانے میں میرے پاس ہلکے بادامی سفید (Off White) رنگ کی ایمبسیڈر (Ambassador)تھی۔ میں اسی میں بیٹھ کر علامہ صاحب کی قیام گاہ کو چلا۔ ان کی کوٹھی کا نمبر اور وہاں تک پہنچنے کا صحیح راستہ مجھے ٹھیک سے نہ معلوم تھا، لیکن میکلوڈ روڈ، جہاں وہ رہتے تھے ، اس کی جاے وقوع سے میں اچھی طرح واقف تھا۔ لہٰذا کسی خاص مشکل کے بغیر میں علامہ کے بنگلے تک پہنچ گیا۔ سڑک...

پورا پڑھیں

دوپہر میں سوتے سوتے اچانک طالب صاحب کی آنکھ کھلی تو ان پر دیر تک اسی خواب کا تصرف رہا جو انھوں نے سوتے میں دیکھا تھا- اس خواب میں ان کے ماضی کے کئ حسین در وا ہو گئے تھے- جب اس خواب کا تصرف کچھ کم ہوا تو وہ اپنی پرانی چیزوں میں کچھ تلاش کرنے لگے- آج برسوں بعد انھوں نے الماری کے اس خانے کو کھولا تھا- اس میں ان کی کئ یادگار چیزیں، مثلا” تعلیمی اسناد، دوستوں کے دیے ہو‎ۓ کچھ تحفے، داغ فرقت دے چکی بیوی کی کچھ تصویریں اور ایک معشوق کے چند...

پورا پڑھیں

گلی میں کھیل رہے بچوں کے شور اور از خود ورق الٹنے والے البم کی موسیقی نے آپس میں مل کر بابو کھوجی رام پرایک عجیب کیفیت طاری کردی تھی۔ ان کی بوڑھی آنکھوں میں یادوں کے جگنو چمک رہے تھے۔ ان جگنوؤں کی جلتی بجھتی روشنی میں وہ ٹھہرٹھہر کر،ماضی کے اندھیرے میں ٹٹولتے ہوئے کافی دور تک نکل آئے تھے اور اب ان کی عمر اپنے اس پوتے جتنی ہوگئی تھی جو باہر گلی میں اپنے ہم سِنوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ ساٹھ باسٹھ برس کا فاصلہ جب مٹ گیا تو انہوں نے اپنی آنکھوں...

پورا پڑھیں

وہ اسپتال سے چیک اپ کروانے کے بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ راجدھانی چوک کے قریب غیر متوقع ٹریفک جام سے آمدو رفت کا سلسلہ درہم برہم ہوچکاتھا۔گاڑیوں کے کالے دھوئیں کی زہر آلود ہ فضاسے ماحول دھند زدہ ہوگیا تھا۔افراتفری کے عالم میں لوگوں کا گاڑیوں سے اترنا چڑھنا جاری تھا۔پْرانتشار کیفیت میں حساس طبیعت لوگوں نے دھندلے ماحول کی انفکشن سے احتیاط برتنے کے لئے منہ پر ماسک لگارکھے تھے۔نصف النہار کی شدید گرمی سے بس میں سوارسبھی مسافرپسینے سے شرابور ہورہے تھے۔ انہیں اپنا آپ دہکتے تندور میں تڑپتے ہوئے کبوتر کی طرح محسوس ہورہا تھا۔اْس نے...

پورا پڑھیں

” چل جلدی کر! یہ بلوریاں لے، دیکھ برابر لگنا چاہئے ورنہ میں سب لے لوں گی۔” سر پر قاعدے سے دوپٹہ اوڑھے ہوئے وہ گویا ہوئی۔ ” ارے ہٹ! بڑی آئی سب لینے والی! ایک دھکا لگاؤں گا نا، دیکھ جا کر کہاں گرے گی ،بڑا خود کو طُرّم خان سمجھتی ہے” ثاقب نے جھٹکے سے اس کے دوپٹے کو کھینچا اور وہ گرتے گرتے بچی۔ ” خبردار ! دوپٹے کو ہاتھ نہ لگانا۔” نوخیز لڑکی کی طرح شرماتے ہوئے اس نے کہا : ” امی مرحومہ کہتی تھیں دوپٹہ لڑکیوں کے سر کا تاج ہوتا ہے۔” اور دوسرے...

پورا پڑھیں

اس وقت بندو کا ٹھیلہ تو ٹھیلہ، خود بندو ایسا بے جان کاٹھ کا گھوڑا بن کر رہ گیا ہے جو اپنے آپ نہ ہل سکتا ہے نہ ڈول سکتا ہے، نہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے، بندو کی ہی وجہ سے اندھیر دیو کے تنگ بازار میں راستہ قریب قریب بند ہوکر رہ گیا ہے۔ ضرورت سےزیادہ بوجھ سےلدا ہوا بندو کا ٹھیلہ سڑک پر چڑھائی ہونے کی وجہ سے رک سا گیا ہے۔رہ رہ کر اگر چلتا بھی ہے تو جوں کی رفتار سے رینگتا ہے، اور پھر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس کے پیچھے کاریں، ٹرک، بسیں،...

پورا پڑھیں

   بوڑھی بہاراں؛ بیاسی سال کی ہوچکی تھی۔زندگی  کی بیاسی بہاریں دیکھنے کے بعد بھی اس کے حواس خمسہ میں ضعف کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔البتہ لاٹھی ٹیکنے کی عادی تھی اور کہا کرتی تھی کہ آدمی شہر کا ہو یا دیہات کا اسے گھر سے باہر جاتے وقت ہاتھ میں لاٹھی ضرور رکھنی چاہیے۔کیونکہ کیا معلوم کب کہاں کوئی بندر؛کتا؛بھینسہ؛بیل؛گھوڑا یا کوئی اور جانور حملہ آور ہوجائے۔اس کے چہرے کی جھریوں کی جھالر یہ عیاں کررہی تھی کہ وہ زندگی کے کئی نشیب وفراز دیکھ چکی ہے۔دو بیٹے اور دو بیٹیوں کی ماں تھی۔اس کا   رفیق حیات اپنا...

پورا پڑھیں

ابھی چند ہی دن ہوئے تھے مجھے مع فیملی اس علاقے میں شفٹ ہوا تھا مگر پہچان زیادہ تر لوگوں سے ہوگئی تھی شاید اس میں اہم کردار میرے پیشے کا تھا ۔ ہر کوئی صحافی سے ملنا پسند کررہا تھا ۔میں جہاں رہتا تھا وہ علاقہ Re-development میں چلا گیا تھا اب دو یا تین سال مجھے کرائے کے مکان میں رہنا تھا ۔کرایہ مجھے اچھا مل رہا تھا اس لئے میں نے سوچا کیوں نہ کچھ رقم بچائی جائے اس لئے ایسے علاقے میں کرایہ کا مکان تلاش کیا جو سستا تھا اور ساتھ ہی آفس سے قریب۔...

پورا پڑھیں