100 Rupees A Short Story

Articles

مختصر افسانہ: ”سو روپیہ“

شاہدحسین (اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور )

شہر کے سب سے مہنگے مال کے سامنے نو بیاہتاشردھا اور شہرون کی چم چماتی گاڑی رکی۔شہرون آج شردھا کو ایک سرپرائز گفٹ دینے والا تھا۔اس لیے شردھا کو گاڑی میں بیٹھ کے اندازے لگانے تھےکہ سرپرائز کیا ہو گا۔گاڑی کے رکتے ہی ایک نو دس سال کی لڑکی نے جو شکل سے کوئی بھکارن نہ لگتی تھی ۔لباس بھی اچھا خاصا تھا لیکن میلا ہو چکا تھا۔بال کچھ سلجھے اور کچھ بکھرے کھچڑی نما تھے۔چہرے کی پیلاہٹ کسی اچانک آدھمکنے والی آفت کی داستاں سنا رہی تھی۔ وہ آگے بڑھی امید کی ایک چمک اس کی آنکھوں میں تھی وہ شہرون (جو گاڑی سے باہر نکل چکا تھا )کے پاس آئی ”صاحب اپنے اور بھائی کے لیے کھانا لینا ہے سو روپے کی مدد کردیں “شہرون جو بیگم کی محبت میں سر شار تھا اسے نظر انداز کرتے ہوۓ آگے بڑھا تو وہ اس کے پیچھے پیچھے کوئی دس قدم بھاگی پھر رک کے واپس پلٹی تو شردھا کو وہ مایوسی کا وہ مینار لگی جس کی ساری شمعیں گل ہو چکی ہوں اور گرنے کو تیار ہو۔اور پھر ایسا ہی ہوا کہ وہ تھکن سے چور ان کی گاڑی کی اوٹ میں بیٹھ گئی۔شردھاابھی یہ سب کچھ دیکھ ہی رہی تھی کہ گاڑی کے پارکنگ لان میں ایک ڈوم نے اپنا سازینہ رکھا اس کے ساتھی بھی شامل ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں لوگوں کا جم غفیر وارد ہو گیا۔۔ڈھولک کی تاپ پہ ایک ڈومنی نے ناچنا شروع کر دیا۔شردھا نے سن رکھا تھا کہ آج کل یہ پیشہ ور لوگ ناچنے گانے کا کام بیچ چوراہوں پہ ہی کرنے لگے ہیں مگر اس وقت اور یوں اچانک یہ سب ہو جائے گا یہ اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔وہ گاڑی سے باہر نکل آئی۔تو وہ لڑکی جو گاڑی کے ٹائر سے لگ کے بیٹھی تھی وہ بھی ڈر کے مارے اٹھ کے کھڑی ہو گئ ۔موسیقی اور رقص کا حسین سنگم اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔جیسے جیسے جیالوں کی فرمائش بڑھتی جاتی ویسے ویسے نوٹوں کی برسات میں رقاصہ کے کپڑے کم ہوتے جاتےاور اس کےبدن کی تھرتھراہٹ بڑھتی جاتی۔من چلے اس کی برہنہ کمر میں ہاتھ ڈالتے تو وہ بجلی کی سی مچل کے نکل جاتی کہ جیسے مچھلی بہ لبِ تالاب پھسل کے گم ہو جائے۔ ہائے۔۔ہائے  کی آواز گونجتی اور پھر پاس بلانے کو نوٹ دکھائے جاتے۔اسی وقت شردھا کی نظر سیڑھیوں سے اترتے ہوئے شہرون پہ پڑی جس نےاُسے گاڑی سے باہر کھڑے اس ناچتے گاتےطائفہ سے محظوظ ہوتے دیکھ لیا تھا۔اس نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا اور جیب میں ہاتھ ڈال کے اس ناچنے والی کی طرف سو سو کی ایک گڈی ایسے ہوا میں  اڑا دی جیسے اپنی دلہن کا صدقہ اتار رہا ہو۔ڈومنی کو نیا تماش بیں ملا تو اسے اپنی برہنہ کمر کے اور نظارے دکھانے لگی۔شہرون نے شردھا کی طرف دیکھتے ہوئے چند اور نوٹ پھینکے اور اس کی طرف بڑھ آیا۔شردھا واپس گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔شہرون لمبے ڈگ بھرتے ہوۓ سٹیرنگ سائیڈ پہ آ بیٹھا۔اس نے ایک خوبصورت ڈبہ اسے تھمانے کو ہاتھ آگے کیا ہی تھا کہ گاڑی کے شیشہ پہ دستک ہوئی۔شہرون نے شیشہ نیچے کیا تو شردھا کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئ۔اس کا جی کرے کہ ابھی کے ابھی زمیں پھٹ جائے اور وہ اس میں غرق ہو جائے۔شہرون آنکھیں پھاڑے باہر کی طرف دیکھ رہا تھا اور  ”وہی لڑکی اپنی قمیص اتار کے کھڑی سو روپے کا سوال کر رہی تھی“